VisualDhikr|Collections

Sahih Muslim

The Book of Commentary on the Qur'an

Book 56 · 39 hadith

Sahih Muslim 56:1sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ‏{‏ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ يُغْفَرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ‏}‏ فَبَدَّلُوا فَدَخَلُوا الْبَابَ يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ وَقَالُوا حَبَّةٌ فِي شَعَرَةٍ"‏ ‏.‏

Hammim b. Munabbih reported:This is what Abu Huraira reported to us from Allah's Messenger (ﷺ) and in this connection he narrated some of the ahadith and Allah's Messenger (ﷺ) said: It was said to people of Israel: Enter this land saying Hitta (Remove Thou from us the burden of our sins), whereupon We would forgive you your sins, but they twisted (this statement) and entered the gate dragging upon their breech and said: The" grain in the ear

معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انھوں نے کئی احادیث ذکر کیں ، ان میں سے ( ایک حدیث ) یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بنی اسرائیل سے کہا گیا : ( شہر کے ) دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے جاؤ اور کہو : حطۃ ( ہمیں بخش دے ) دہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے ، انھوں نے ( اس کے ) الٹ کیا ، چنانچہ وہ اپنے چوتڑوں کے بل گھسیٹتے ہوئے دروازے سے داخل ہوئے اور انھوں نے ( حطہ کے بجائے ) " ہمیں بالی میں دانہ چاہیے " کہا ۔

Sahih Muslim 56:2sahih

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ، حُمَيْدٍ - قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ، مَالِكٍ أَنَّ اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْىَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ وَأَكْثَرُ مَا كَانَ الْوَحْىُ يَوْمَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Anas b. Malik reported that Allah, the Exalted and Glorious, sent revelation to Allah's Messenger (ﷺ) just before his death in quick succession until he left for his heavenly home, and the day when he died, he received the revelation profusely

ابن شہاب سے روایت ہے ، کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے آپ کی وفات تک لگاتار وہی نازل فرمائی اور جس دن آپ کی وفات ہوئی اس دن سب سے زیادہ وحی آئی ۔

Sahih Muslim 56:3sahih

حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ، بْنِ شِهَابٍ أَنَّ الْيَهُودَ، قَالُوا لِعُمَرَ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ آيَةً لَوْ أُنْزِلَتْ فِينَا لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي لأَعْلَمُ حَيْثُ أُنْزِلَتْ وَأَىَّ يَوْمٍ أُنْزِلَتْ وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَيْثُ أُنْزِلَتْ أُنْزِلَتْ بِعَرَفَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ أَشُكُّ كَانَ يَوْمَ جُمُعَةٍ أَمْ لاَ ‏.‏ يَعْنِي ‏{‏ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي‏}‏

Tariq b. Shihab reported that a Jew said to'Umar:You recite a verse which, if it had been revealed in relation to us, we would have taken that day as the day of rejoicing. Thereupon 'Umar said: I know where it was revealed and on the day when it was revealed and where Allah's Messenger (ﷺ) had been at that time when it was revealed. It was revealed on the day of 'Arafa (ninth of Dhu'l Hijjah) and Allah's Messenger (ﷺ) had been staying in 'Arafat. Sufyan said: I doubt, whether it was Friday or not (and the verse referred to) is this:" Today I have perfected your religion for you and completed My favours upon you" (v)

سفیان نے قیس بن مسلم سے اور انھوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی کہ یہودیوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : آپ لوگ ( مسلمان ) ایک ایسی آیت پڑھتے ہیں کہ اگر وہ آیت ہمارے ہاں نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں جانتا ہوں ، وہ آیت کس جگہ اور کس دن نازل ہوئی تھی اور جس وقت وہ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تھے ۔ یہ آیت عرفہ ( کے مقام ) پر نازل ہوئی تھی اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں تھے ۔ سفیان نے کہا مجھے شک ہے کہ ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بھی کہا تھا ) جمعہ کادن تھا یا نہیں؟ان کی مراد اس آیت سے تھی؛ " آج میں تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی ۔

Sahih Muslim 56:4sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ، اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ قَالَتِ الْيَهُودُ لِعُمَرَ لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ يَهُودَ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا‏}‏ نَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا ‏.‏ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ فَقَدْ عَلِمْتُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ وَالسَّاعَةَ وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ نَزَلَتْ نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمْعٍ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَرَفَاتٍ ‏.‏

Tariq b. Shihab reported that a Jew said to 'Umar:If this verse were revealed in relation to the Jews (i e. "This day I have perfected your religion for you and have completed My favours for you and have chosen for you al-Islam as religion") we would have taken the day of rejoicing on which this verse was revealed. Thereupon 'Umar said: I know the day on which it was revealed and the hour when it was revealed and where Allah's Messenger (ﷺ) had been when it was revealed. It was revealed on the night of Friday and we were in 'Arafat with Allah's Messenger (ﷺ) at that time

عبداللہ بن ادریس نے اپنے والد سے ، انھوں نے قیس بن مسلم سے اور انھوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی ، کہا : یہود نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : اگر یہ آیت ہم یہودیوں کی جماعت پر نازل ہوتی؛ " آج میں نے تمہارا لیےتمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام کردیا اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا ۔ " ہمیں پتہ ہوتا کہ وہ کس دن نازل ہوئی ہےتو ہم اس دن کوعید قرار دیتے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں وہ دن اور وہ گھڑی جس میں یہ آیت اتر ی تھی ، اور اس کے نزول کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس جگہ تھے ( سب کچھ ) جانتا ہوں ۔ یہ ( آیت ) مزدلفہ کی رات ( آنے والی تھی ، تب ) اتری تھی ، اور ( اس وقت ) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ عرفات میں تھے ۔

Sahih Muslim 56:5sahih

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ، بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا نَزَلَتْ مَعْشَرَ الْيَهُودِ لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا ‏.‏ قَالَ وَأَىُّ آيَةٍ قَالَ ‏{‏ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا‏}‏ فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي لأَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ ‏.‏

Tariq b. Shihab reported that a Jew came to 'Umar and said:Commander of the Faithful, there is a verse in your Book, which you recite. Had it been revealed in connection with the Jews, we would have taken it as the day of rejoicing. Thereupon he said: Which verse do you mean? He replied:" This day I have perfected your religion for you and I have completed My favours upon you and I have chosen al-Islam as religion for you." Umar said, I know the day when it was revealed and the place where it was revealed. It was revealed to Allah's Messenger (ﷺ) at 'Arafat on Friday

ابو عمیس نے قیس بن مسلم سے اور انھوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی ، کہا : یہودیوں میں سے ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا : امیر المومنین!آپ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے ، آپ اسے پڑھتے ہیں ، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس دن وعید قرار دیتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : وہ کون سی آیت ہے؟اس نے کہا : " آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کرلیا ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : میں دو دن بھی جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی وہ جگہ بھی جہاں یہ نازل ہوئی ، یہ ( آیت ) عرفات میں جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی ۔

Sahih Muslim 56:6sahih

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ - قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا وَقَالَ، حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا - ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ، ‏{‏ وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ، تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ‏}‏ قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا تُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلاَّ أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ هَذِهِ الآيَةِ فِيهِنَّ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللاَّتِي لاَ تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ‏}‏ ‏.‏ قَالَتْ وَالَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ الآيَةُ الأُولَى الَّتِي قَالَ اللَّهُ فِيهَا ‏{‏ وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ‏}‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَقَوْلُ اللَّهِ فِي الآيَةِ الأُخْرَى ‏{‏ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ‏}‏ رَغْبَةَ أَحَدِكُمْ عَنِ الْيَتِيمَةِ الَّتِي تَكُونُ فِي حَجْرِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلاَّ بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ ‏.‏

Urwa b. Zubair reported that he asked 'A'isha about the words of Allah:" If you fear that you will not be able to maintain equity amongst the orphan girls, then marry (those) you like from amongst the women two, three or four." She said: O, the son of my sister, the orphan girl is one who is under the patronage of her guardian and she shares with him in his property and her property and beauty fascinate him and her guardian makes up his mind to marry her without giving her due share of the wedding money and is not prepared (to pay so much amount) which anyone else is prepared to pay and so Allah has forbidden to marry these girls but in case when equity is observed as regards the wedding money and they are prepared to pay them the full amount of the wedding money and Allah commanded to marry other women besides them according to the liking of their heart. 'Urwa reported that 'A'isha said that people began to seek verdict from Allah's Messenger (ﷺ) after the revelation of this verse about them (orphan girls) and Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse:" They asked thee verdict about women; say: Allah gives verdict to you in regard to them and what is recited to you in the Book about orphan woman, whom you give not what is ordained for them while you like to marry them" (iv. 126). She said: The wording of Allah" what is recited to you" in the Book means the first verse, i. e." if you fear that you may not be able to observe equity in case of an orphan woman, marry what you like in case of woman" (iv. 3). 'A'isha said: (And as for this verse [iv. 126], i. e. and you intend" to marry one of them from amongst the orphan girls" it pertains to one who is in charge (of orphans) having small amount of wealth and less beauty and they have been forbidden that they should marry what they like of her wealth and beauty out of the orphan girls, but with equity, because of their disliking for them

یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اللہ عزوجل نے فرمان : "" اگر تمھیں خدشہ ہوکہ تم یتیم لڑکیوں کے معاملے میں انصاف نہیں کر پاؤ گے تو ان عورتوں میں سے ، جو تمھیں اچھی لگیں دو ، دو ، تین ، تین چار ، چار سے نکاح کرلو "" کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا : میرے بھانجے!یہ اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنے ولی کی کفالت میں ہوتی ہے اس کے ( موروثی ) مال میں اسکے ساتھ شریک ہوتی ہے تو اس کے ولی ( چچازاد وغیرہ ) کو اس کا مال اور جمال دونوں پسند ہوتے ہیں اور اس کا ولی چاہتا ہے کہ اس کے مہر میں انصاف کیے بغیر اس سے شادی کرلےاور وہ بھی اسے اتنا مہر دے جتنا کوئی دوسرااسے دے گا ، چنانچہ ان ( لوگوں ) کو اس با ت سے روک دیا گیا کہ وہ ان کے ساتھ شادی کریں الا یہ کہ وہ ( مہر میں ) ان سے انصاف کریں اور مہرمیں جو سب سے اونچا طریقہ ( رائج ) ہے اس کی پابندی کریں اور ( اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے تو ) انھیں حکم دیا گیا کہ ان ( یتیم لڑکیوں ) سے سوا جو عورتیں انھیں اچھی لگیں ان سے شادی کرلیں ۔ عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : پھر لوگوں نے اس آیت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( عورتوں کے حوالے سے مزید ) دریافت کیا تو اللہ عزوجل نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : "" اور یہ آپ سے عورتوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ۔ کہیے : اللہ تمھیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے اور جو کچھ تم پر کتاب میں پڑھاجاتا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہےجنھیں تم وہ نہیں دیتے جو ان کے لیے فرض کیا گیا ہے اور رغبت رکھتے ہو کہ ان سے نکاح کرلو ۔ "" ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : جس بات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ وہ کتاب میں تلاوت کی جاتی ہے ، وہ وہی پہلی آیت ہے جس میں اللہ فرماتا ہے : "" اگر تمھیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہیں کرپاؤ گےتو ( دوسری ) جو عورتیں تمھیں اچھی لگیں ان سے نکاح کرو ۔ "" حضر ت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اور بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ کے فرمان : "" اور تم ان کے نکاح سے رغبت کرتے ہو ۔ "" ( کا مطلب ہے کہ ) جب تم میں سے کسی کی سرپرستی میں رہنے والی لڑکی مال اور جمال میں کم ہوتو اس سے ( شادی کرنے سے ) روگردانی کرنا ، چنانچہ ان سے ( نکاح کی ) رغبت نہ ہونے کی بناء پر ان کو منع کیا گیا کہ وہ جن ( یتیم لڑکیوں ) کے مال اورجمال میں رغبت رکھتے ہیں ان سے بھی شادی نہ کریں الا یہ کہ ( مہر میں ) انصاف سے کام لیں ۔

Sahih Muslim 56:7sahih

وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ، ‏{‏وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ، تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى‏}‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَزَادَ فِي آخِرِهِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ إِذَا كُنَّ قَلِيلاَتِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ ‏.‏

Urwa reported that he asked 'A'isha about the words of Allah:" If you fear that you will not be able to observe equity in case of orphan girls" ; the rest of the hadith is the same but with a slight variation of wording

صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے عروہ نے بتایاکہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اللہ تبارک وتعالیٰ کے فرمان؛ " اور تمھیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کرپاؤگے " کے بارے میں پوچھا ، پھر زہری سے یونس کی روایت کردہ حدیث کے مطابق بیان کیا اور اس کے آخر میں مزید کہا : " اگر وہ مال اور جمال میں کم ہوتو تمہارے ان سے اعراض کرنے کی بنا پر ۔

Sahih Muslim 56:8sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي قَوْلِهِ ‏{‏ وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى‏}‏ قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْيَتِيمَةُ وَهُوَ وَلِيُّهَا وَوَارِثُهَا وَلَهَا مَالٌ وَلَيْسَ لَهَا أَحَدٌ يُخَاصِمُ دُونَهَا فَلاَ يُنْكِحُهَا لِمَالِهَا فَيَضُرُّ بِهَا وَيُسِيءُ صُحْبَتَهَا فَقَالَ ‏{‏ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ‏}‏ يَقُولُ مَا أَحْلَلْتُ لَكُمْ وَدَعْ هَذِهِ الَّتِي تَضُرُّ بِهَا ‏.‏

(A'isha said that as for the words of Allah:" If you fear that you would not be able to observe equity in case of orphan girls)," it was revealed in reference to a person who had an orphan girl (as his ward) and he was her guardian, and her heir, and she possessed property, but there was none to contend on her behalf except her ownself. And he (her guardian) did not give her in marriage because of her property and he tortured her and ill-treated her, it was in relation to her that (Allah said: )" If you fear that you would not be able to observe equity in case of orphan girls, then marry whom you like among women," i. e. whatever I have made lawful for you and leave her whom you are putting to torture

ابو اسامہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان : " اگر تمھیں خدشہ ہوکہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں عدل نہیں کر پاؤگے ۔ " کے متعلق روایت کی ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : یہ ( آیت ) ایسے آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس کے پاس کوئی یتیم لڑکی ہو وہ اس کا ولی اور وارث ہو ۔ اس لڑکی کا مال ( میں بھی حق ) ہواس ( لڑکی کے مفاد ) کے لیے کو ئی شخص جھگڑا کرنے والا بھی نہ ہوتو وہ آدمی اس لڑکی کے مال کی بناپر اس کی کہیں اور شادی نہ کرےاور اسے نقصان پہنچائے ۔ اور اس سے برا سلوک کرے تو اس ( اللہ ) نے فرمایا : " اگر تمھیں اندیشہ ہے کہ تم یتیم لڑکیوں کے معاملے میں انصاف نہ کرپاؤگے تو ( دوسری ) جو عورتیں تمھیں اچھی لگیں انھیں سے نکاح کرو ۔ " وہ ( اللہ ) فرماتا ہے ۔ ( دوسری عورتوں سے نکاح کرلو ) جو میں نے تمھارےلیے ( نکاح کے طریق پر ) حلال کی ہیں اور اس ( لڑکی ) کو چھوڑدوجس کو تم نقصان پہنچارہے ہو ۔

Sahih Muslim 56:9sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي قَوْلِهِ ‏{‏ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللاَّتِي لاَ تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ‏}‏ قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِي الْيَتِيمَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَتَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا وَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا غَيْرَهُ فَيَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ فَيَعْضِلُهَا فَلاَ يَتَزَوَّجُهَا وَلاَ يُزَوِّجُهَا غَيْرَهُ ‏.‏

A'isha said in connection with His words (those of Allah):" What is recited to you in the Book about orphan women whom you give not what is ordained for them, while you like to marry them," these were revealed in connection with an orphan girl who was in the charge of the person and she shared with him in his property and he was reluctant to marry her himself and was also unwilling to marry her to someone else (fearing) that (that person) would share in his property (as the husband of that girl), preventing her to marry, neither marrying her himself nor marrying her to another person

عبدہ بن سلیمان نے ہشام سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان : " جو کتاب میں ان یتیم عورتوں کے بارے میں تلاوت کی جاتی ہے جن کو تم دو ( مہر ) نہیں دیتے جوان کے حق میں فرض ہے اوران کے نکاح سے رغبت کرتے ہو ۔ کے بارے میں روایت بیان کی ۔ ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : یہ ایسی یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی جو کسی آدمی کے پاس ہوتی ، اس کے مال میں اس کے ساتھ شریک ہوتی اور وہ اس سے ( شادی کرنے سے ) کنارہ کشی کرتا ہے اور اس بات کو بھی ناپسند کرتا ہے کہ کسی اور کے ساتھ اس کی شادی کرے اور اس ( شخص ) کو اپنے مال میں شریک کرے تو وہ اسے ویسے ہی بٹھا ئے رکھتا ہے نہ خود اس سے شادی کرتاہے اورنہ کسی اور سے اس کی شادی کرتا ہے ۔

Sahih Muslim 56:10sahih

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي قَوْلِهِ ‏{‏ ويَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ‏}‏ الآيَةَ قَالَتْ هِيَ الْيَتِيمَةُ الَّتِي تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ لَعَلَّهَا أَنْ تَكُونَ قَدْ شَرِكَتْهُ فِي مَالِهِ حَتَّى فِي الْعَذْقِ فَيَرْغَبُ يَعْنِي أَنْ يَنْكِحَهَا وَيَكْرَهُ أَنْ يُنْكِحَهَا رَجُلاً فَيَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ فَيَعْضِلُهَا ‏.‏

Hisham reported that 'A'isha said in connection with the words of Allah:" They ask thee the religious verdict about women, say: Allah gives you the verdict about them" (iv. 126), that these relate to an orphan girl who is in charge of the person and she shares with him in his property (as a heir) even in the date-palm trees and he is reluctant to give her hand in marriage to any other person lest he (her husband) should partake of his property, and thus keep her in a lingering state

ابو اسامہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد سے خبر دی انھوں نے اس عزوجل کے فرمان : " اور یہ لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہیے اللہ تمھیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے ۔ " مکمل آیت کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : یہ ایسی یتیم لڑکی ( کے بارے میں ) ہے جوکسی آدمی کے پاس ہوتی ہے شاید وہ ایسی بھی ہوتی ہے کہ وہ اس کے مال میں حتیٰ کہ کھجور کے درختوں میں بھی اس کے ساتھ شریک ہوتی ہے وہ خود بھی اس سے روگردانی کرتا یعنی اس سے شادی کرنے سے اور کسی اور کے ساتھ اس کی شادی کر کے اس ( شخص ) کو اپنے مال میں شریک کرنے کو بھی پسند نہیں کرتا تو وہ اسے ویسے ہی رہنے دیتا ہے ۔

Sahih Muslim 56:11sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي قَوْلِهِ ‏{‏ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ‏}‏ قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِي وَالِي مَالِ الْيَتِيمِ الَّذِي يَقُومُ عَلَيْهِ وَيُصْلِحُهُ إِذَا كَانَ مُحْتَاجًا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ ‏.‏

Hisham reported on the authority of his father that 'A'isha said in connection with His (Allah's) words:" And whoever is poor let him take reasonably (out of it)" that it was revealed in connection with the custodian of the property of an orphan, who is in charge of her and looks after her; In case he is poor, he is allowed to eat out of that

عبد ہ بن سلیمان نے ہشام ( بن عروہ ) سے انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس عزوجل کے فرمان : " اور جو فقیر ہو وہ دستور کے مطابق کھالے " کے متعلق روایت کی ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : " یہ آیت یتیم کے مال کے ایسے متولی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اس کی نگہداشت کرتا ہے اور اس کو سنوارتا ( بڑھاتا ) ہے کہ اگر وہ ضرورت مند ہے تو اس میں سے ( خودبھی ) کھاسکتا ہے ۔

Sahih Muslim 56:12sahih

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏ وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ‏}‏ قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِي وَلِيِّ الْيَتِيمِ أَنْ يُصِيبَ مِنْ مَالِهِ إِذَا كَانَ مُحْتَاجًا بِقَدْرِ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ ‏.‏

A'isha reported in connection with the words of Allah, the Exalted:" He who is rich should abstain, and he who is poor may reasonably eat (out of it)" that this was revealed in relation to the guardian of an orphan who is poor; he may get out of that what is reasonable keeping in view his own status of solvency

ابو اسامہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس عزوجل کے فرمان : " اور جو شخص غنی ہو وہ اجتناب کرے اور جو شخص ضرورت مند ہو ۔ وہ عرف اور رواج کے مطابق کھالے " کے متعلق روایت کی ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : یہ ( آیت ) یتیم کے سر پرست کے متعلق نازل ہوئی کہ جب وہ محتاج ہو تو اس کے امل میں سے معروف طریقے سے اتنا لے سکتا ہے جتنا اپنا مال ( استعمال کرتا تھا ۔)

Sahih Muslim 56:13sahih

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏

This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters

ابن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔

Sahih Muslim 56:14sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ‏}‏ قَالَتْ كَانَ ذَلِكَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ ‏.‏

A'isha reported that these words of Allah:" When they came upon you from above you and from below you and when the eyes turned dull and the hearts rose up to the throats" (xxxiii. 10) pertain to the day of Ditch

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس ( اللہ ) عزوجل کے فرمان : " جب کافرتم پر چڑھ آئے تمھارے اوپر کی جانب سے اور تمھارے نیچے کی طرف سے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل منہ کو آنے لگے " کے متعلق روایت کی ، ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : " یہ خندق کے روزہوا تھا ۔

Sahih Muslim 56:15sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، ‏{‏ وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا‏}‏ الآيَةَ قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِي الْمَرْأَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَتَطُولُ صُحْبَتُهَا فَيُرِيدُ طَلاَقَهَا فَتَقُولُ لاَ تُطَلِّقْنِي وَأَمْسِكْنِي وَأَنْتَ فِي حِلٍّ مِنِّي ‏.‏ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏.‏

A'isha said in connection with the verse:" And if a woman has reason to fear ill-treatment from her husband or that he might turn away from her" (iv. 128) that it was revealed in case of a woman who had long association with a person (as his wife) and now he intends to divorce her and she says: Do not divorce me, but retain me (as wife in your house) and you are permitted to live with another wife. It is in this context that this verse was revealed

عبد ہ بن سلیمان نے کہا : ہمیں ہشام ( ابن عروہ ) نے اپنے والدسے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ( آیت ) : " اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی طرف سےبے رغبتی یاروگردانی کا اندیشہ محسوس کرے " مکمل آیت کے بارے میں روایت کی ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : یہ آیت اس عورت کے متعلق نازل ہوئی تھی ۔ جو کسی مردکے نکاح میں ہو ۔ اس کی صحبت میں لمبا عرصہ بیت کیا ہو وہ اسے طلاق دینا چاہے تو وہ ( عورت ) کہے مجھے طلاق نہ دواپنے پاس رکھو ۔ تم میری طرف سے ( میرے واجبات سے ) بری الذمہ ہو ، چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی ۔

Sahih Muslim 56:16sahih

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا‏}‏ قَالَتْ نَزَلَتْ فِي الْمَرْأَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَلَعَلَّهُ أَنْ لاَ يَسْتَكْثِرَ مِنْهَا وَتَكُونُ لَهَا صُحْبَةٌ وَوَلَدٌ فَتَكْرَهُ أَنْ يُفَارِقَهَا فَتَقُولُ لَهُ أَنْتَ فِي حِلٍّ مِنْ شَأْنِي ‏.‏

A'isha said in connection with these words of Allah, the Exalted and Glorious:" And if a woman has reason to fear ill-treatment from her husband or that he might turn away from her" that it was revealed in case of a woman who lived with a person and perhaps he does not want to prolong (his relationship with her) whereas she has had sexual relationship with him (and as a result thereof) she got a child from him and she does not like that she should be divorced, so she says to him: I permit you to live with the other wife

ابو اسامہ نے کہا : ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس ( اللہ ) عزوجل کے فرمان : " اگر کوئی عورت اپنے خاوندکی طرف سے بے رغبتی یاروگردانی کا اندیشہ محسوس کرنے کے متعلق روایت کی ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : " یہ ( آیت ) اس عورت کے متعلق نازل ہو ئی جو ( مدت سے ) کسی مرد کے ہاں ہو ۔ ( اسے اندیشہ ہو ) کہ شاید اب وہ اس سے ( اپنے تعلق کو ) زیادہ نہ کرے گا ۔ اور اس عورت ) کو اس کا ساتھ میسرہو اور اولاد ہو اور یہ نہ چاہے کہ وہ ( مرد ) سے چھوڑدے تو اس سے کہہ دے کہ تم میرے معاملے میں ( حقوق زوجیت سے ) بری الذمہ ہو ۔

Sahih Muslim 56:17sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي أُمِرُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا، لأَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَبُّوهُمْ ‏.‏

Urwa reported on the authority of his father that 'A'isha said to him:O, the son of my sister, the Muslims were commanded to seek forgiveness for the Companions of Allah's Apostle (ﷺ) but they reviled them

ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا بھانجے !لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے لیے استغفار کریں تو انھوں نےان کو برا کہنا شروع کر دیا ۔

Sahih Muslim 56:18sahih

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏

This hadith has been transmitted on the authority of Abu Usama with the same chain of narrators

ابو اسامہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔

Sahih Muslim 56:19sahih

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي هَذِهِ الآيَةِ ‏{‏ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ‏}‏ فَرَحَلْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ آخِرَ مَا أُنْزِلَ ثُمَّ مَا نَسَخَهَا شَىْءٌ ‏.‏

Sa'id b. Jubair reported:The inhabitants of Kufa differed in regard to this verse:" But whoever slays another believer intentionally, his requital shall be Hell" (iv. 92), so I went to Ibn 'Abbas and asked him about it, whereupon he said: This has been revealed and nothing abrogated it

معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے مغیرہ بن نعمان سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : کہ اہل کوفہ کا اس آیت کے بارے میں اختلاف ہو گیا " جس شخص نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اس کی سزا جہنم ہے؟چنانچہ میں سفر کر کے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اور ان سےاس ( آیت ) کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا : یہ آیت آخر میں نازل ہوئی پھر کسی چیز ( قرآن کی کسی دوسر ی آیت یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ) نے اس کو منسوخ نہیں کیا ۔

Sahih Muslim 56:20sahih

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ فِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ نَزَلَتْ فِي آخِرِ مَا أُنْزِلَ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ النَّضْرِ إِنَّهَا لَمِنْ آخِرِ مَا أُنْزِلَتْ ‏.‏

This hadith has been transmitted on the authority of Shu'ba with the same chain of narrators but with a slight variation of wording

محمد بن جعفر اور نضر بن شمیل دونوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ ابن جعفر کی روایت میں ہے یہ آیت آخر میں اتر نے والی آیات میں اتری ۔ اور نضر کی روایت میں ہے یہ ( آیت ) یقیناً ان آیتوں میں سے ہے جو آخر میں اتریں ۔

Sahih Muslim 56:21sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ هَاتَيْنِ الآيَتَيْنِ، ‏{‏ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا‏}‏ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَمْ يَنْسَخْهَا شَىْءٌ ‏.‏ وَعَنْ هَذِهِ الآيَةِ ‏{‏ وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ‏}‏ قَالَ نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ ‏.‏

Sa'id b. Jubair reported:'Abd al Rahman b. Abzi commanded me that I should ask Ibn 'Abbas about these two verses:" He who slays a believer intentionally his requital shall be Hell where he would abide for ever" (iv. 92). So, I asked him and he said: Nothing has abrogated it. And as for this verse:" And they who call not upon another god with Allah and slay not the soul which Allah has forbidden, except in the cause of justice" (xxv. 68), he (Ibn Abbas) said: This has been revealed in regard to the polytheists

منصور نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : مجھ سے عبد الرحمٰن بن ایزدی نے کہا : کہ میں ( ان کے لیے ) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان دوآیتوں کے متعلق دریافت کروں : " اور جو شخص جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کر دے ، اس کی سزا جہنم ہے ور اس میں ہمیشہ رہے گا ۔ " میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے کہا : اس کو کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا ۔ اور اس آیت کے متعلق ( پوچھا ) اور جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے اور نہ حق کے بغیر کسی شخص کو قتل کرتے ہیں جس کے قتل کواللہ نے حرام کیا ہے ۔ " تو انھوں نے کہا : مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔

Sahih Muslim 56:22sahih

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ اللَّيْثِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، - يَعْنِي شَيْبَانَ - عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ بِمَكَّةَ ‏{‏ وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ مُهَانًا‏}‏ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ وَمَا يُغْنِي عَنَّا الإِسْلاَمُ وَقَدْ عَدَلْنَا بِاللَّهِ وَقَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏ قَالَ فَأَمَّا مَنْ دَخَلَ فِي الإِسْلاَمِ وَعَقَلَهُ ثُمَّ قَتَلَ فَلاَ تَوْبَةَ لَهُ ‏.‏

Ibn 'Abbas said:This verse was revealed in Mecca:" And they who call not upon another god with Allah and slay not the soul which Allah has forbidden except in the cause of justice" up to the word Muhdana (abased). Thereupon the polytheists said: Islam is of no avail to us for we have made peer with Allah and we killed the soul which Allah had forbidden to do and we committed debauchery, and it was (on this occasion) that Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse:" Except him who repents and believes and does good deeds" up to the end Ibn 'Abbis says: He who enters the fold of Islam and understands its command and then kills the soul there is no repentance for him

ابو معاویہ شیبان نے منصور بن معتمر سے انھوں نے سعید بن جیبر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : یہ آیت : " جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے " سے لے کر " ذلت کے عالم میں ( ہمیشہ رہے گا ) تک مکہ میں نازل ہوئی ۔ مشرکوں نے کہا : ہمیں اسلام کس بات کا فائدہ دے گا ۔ جبکہ ہم اللہ کے ساتھ ( دوسروں کو ) شریک بھی ٹھہراچکے ہیں اور اللہ کی حرام کردہ جانوں کو قتل بھی کر چکے ہیں اور فواحش کا ارتکاب بھی کر چکے ہیں ؟اس پر اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : " سوائے اس شخص کے جس نے تو بہ کی ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے " آیت کے آخری حصے تک ۔ انھوں نے ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : لیکن جو شخص اسلام میں داخل ہو گیا اور اس کو سمجھ لیا پھر اس نے ( عمداً کسی مومن کو ) قتل کیا تو اس کے لیے کوئی توبہ نہیں ۔

Sahih Muslim 56:23sahih

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ أَلِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ فَتَلَوْتُ عَلَيْهِ هَذِهِ الآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ ‏{‏ وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏ قَالَ هَذِهِ آيَةٌ مَكِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ ‏{‏ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا‏}‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ هَاشِمٍ فَتَلَوْتُ هَذِهِ الآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ‏{‏ إِلاَّ مَنْ تَابَ‏}‏

Sa'id b. Jubair reported:I said to Ibn Abbas: Will the repentance of that person be accepted who kills a believer intentionally? He said: No. I recited to him this verse of Sura al-Furqan (xix.):" And those who call not upon another god with Allah and slay not the soul which Allah has forbidden except in the cause of justice" to the end of the verse. He said: This is a Meccan verse which has been abrogated by a verse revealed at Medina:" He who slays a believer intentionally, for him is the requital of Hell-Fire where he would abide for ever," and in the narration of Ibn Hisham (the words are): I recited to him this verse of Sura al-Furqan:" Except one who made repentance

عبد اللہ بن ہاشم اور عبد الرحمٰن بن بشر عبدی نے مجھے حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید قطان نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے قاسم بن ابی بزہ نے سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : کیا جس شخص نے کسی مومن کو عمدا قتل کر دیا اس کے لیے توبہ ( کی گنجائش ) ہے؟انھوں نے کہا : نہیں ( سعید بن جبیرنے ) کہا : پھر میں نے ان کے سامنے سورہ فرقان کی یہ آیت تلاوت کی ۔ " وہ لوگ جو اللہ کے سواکسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو جسے اللہ نے حرام کیا ہے حق کے بغیر قتل نہیں کرتے " آیت کے آخر تک انھوں نے کہا : یہ مکی آیت ہےاس کو اس مدنی آیت نے منسوخ کر دیا : " اور جو کسی مومن کو عمدا قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا ۔

Sahih Muslim 56:24sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ قَالَ لِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَعْلَمُ - وَقَالَ هَارُونُ تَدْرِي - آخِرَ سُورَةٍ نَزَلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ نَزَلَتْ جَمِيعًا قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ ‏{‏ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ‏}‏ قَالَ صَدَقْتَ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ تَعْلَمُ أَىُّ سُورَةٍ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ آخِرَ ‏.‏

Ubaidullah b. 'Abdullah b. 'Utba reported:Ibn Abbas said to me: Do you know-and in the words of Harun (another narrator): Are you aware of-the last Sura which was revealed in the Qur'an as a whole? I said: Yes," When came the help from Allah and the victory" (cx.). Thereupon, he said: You have told the truth. And in the narration of Abu Shaiba (the words are): Do you know the Sura? And he did not mention the words" the last one

ابو بکر بن ابی شیبہ ہارون بن عبد اللہ اور عبد بن حمید نے ہمیں ھدیث بیان کی ، عبد نے کہا : ہمیں خبر دی اور دوسروں نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ، جعفر بن عون نے انھوں نے کہا : ہمیں ابو عمیس نے عبد المجید بن سہیل سے خبردی ۔ انھوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ عتبہ سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ قرآن مجید کی آخری سورت جو یکبارگی مکمل نازل ہوئی کون سی ہے؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔ إِذَا جَاء نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ انھوں نے فرمایا : تم نے سچ کہا ۔ اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے ۔ تم جانتے ہو کہ کون سی سورت ہے اور "" آخری "" ( کالفظ ) نہیں کہا ۔

Sahih Muslim 56:25sahih

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ آخِرَ سُورَةٍ وَقَالَ عَبْدُ الْمَجِيدِ وَلَمْ يَقُلِ ابْنِ سُهَيْلٍ ‏.‏

This hadith has been reported on the authority of Abu 'Umais through the same chain of transmitters but with a slight variation of wording

ابو معاویہ نے کہا : ہمیں ابو عمیس نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور کہا : " آخری سورت " اور انھوں نے ( راوی کا نام لیتے ہوئے ) عبدالمجید ( سے مروی ) کہا : اور ابن سہیل ( عبد المجید بن سہیل ) نہیں کہا ۔

Sahih Muslim 56:26sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالَ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَقِيَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلاً فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ ‏.‏ فَأَخَذُوهُ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ فَنَزَلَتْ ‏{‏ وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا‏}‏ وَقَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ السَّلاَمَ ‏.‏

Ibn Abbas reported that some Muslims met a person with a small flock of sheep. He said:As-Salam-o-'Alaikum. They caught hold of him and killed him and took possession of his flock. Then this verse was revealed:" He who meets you and extends you salutations, don't say: You are not a Muslim" (iv. 94). Ibn 'Abbas, however, recited the word as-Salam instead of" as-Salam

عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ایک شخص کو کو ملے جو بکریوں کے ایک چھوٹے سے ریوڑ میں تھا اس نے ( ان کو دیکھ کر ) کہا : السلام علیکم ۔ تو ( اس کے باوجود ) انھوں نے اس کو پکڑا اسے قتل کیا اور بکریوں کا وہ چھوٹا ساریوڑ لے لیا ۔ تو یہ آیت اتری : "" اور اسے جو تم سے سلام کہے یہ مت کہو کہ تم مومن نہیں ہو ۔ "" اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس ( السلم ) کو السلام پڑھا ۔

Sahih Muslim 56:27sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ كَانَتِ الأَنْصَارُ إِذَا حَجُّوا فَرَجَعُوا لَمْ يَدْخُلُوا الْبُيُوتَ إِلاَّ مِنْ ظُهُورِهَا - قَالَ - فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَدَخَلَ مِنْ بَابِهِ فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا‏}‏ ‏.‏

Bara' reported:When the Ansar performed the Pilgrimage, they did not enter their houses but from behind. A person from the Ansar came and he began to enter from his door but it was said to him (why he was doing something in contravention to the common practice of coming to the houses from behind). Then this verse was revealed." Piety is not that you come to the doors from behind" (ii)

ابو اسحاق سے روایت ہے کہا : میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : انصار جب حج کر کے واپس آتے تو گھروں میں ( دروازوں کے بجائے ) ان کے پچھواڑے ہی سے داخل ہوتے انصار میں سے ایک شخص آیا اور اپنے دروازے سے ( گھر کے اندر ) داخل ہوا تو اس کے بارے میں اس پر باتیں کی گئیں تو یہ آیت اتری : " اور یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم گھروں کے اندران کے پچھواڑوں سے آؤ ۔

Sahih Muslim 56:28sahih

حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو، بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ مَا كَانَ بَيْنَ إِسْلاَمِنَا وَبَيْنَ أَنْ عَاتَبَنَا اللَّهُ بِهَذِهِ الآيَةِ ‏{‏ أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ‏}‏ إِلاَّ أَرْبَعُ سِنِينَ ‏.‏

Ibn Mas'ud said:Since our acceptance of Islam and the revelation of this verse in which Allah has shown annoyance to us:" Has not the time yet come for the believers that their hearts should be humble for the remembrance of Allah?" (lvii. 16), there was a gap of four years

عون بن عبداللہ کے والد سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : ہمارے اسلام لانے اور ہم پر اس آیت کے ذ ریعے سے اللہ تعالیٰ کے عتاب کے درمیان چار سال سے زیادہ کا وقفہ نہ تھا : " کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یادکرتے ہوئے گڑگڑائیں ۔

Sahih Muslim 56:29sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ، جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَهِيَ عُرْيَانَةٌ فَتَقُولُ مَنْ يُعِيرُنِي تِطْوَافًا تَجْعَلُهُ عَلَى فَرْجِهَا وَتَقُولُ الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ كُلُّهُ فَمَا بَدَا مِنْهُ فَلاَ أُحِلُّهُ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةَ ‏{‏ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ‏}‏

Ibn Abbas reported:During the pre-Islamic days women circumambulated the Ka'ba nakedly, and said: Who would provide cloth to cover the one who is circumambulating the Ka'ba so that she would cover her private parts? And then she would say: Today will be exposed the whole or the part and what is exposed I shall not make it lawful. It was in this connection that the verse was revealed:" Adorn yourself at every place of worship" (vii)

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : ( جاہلی دور میں ) ایک عورت برہنہ ہوکر بیت اللہ کاطواف کرتی تھی اور کہتی تھی : کون مجھے طواف کرنے والا ایک کپڑا دے گا؟کہ وہ اس کو اپنی شرمگاہ پر ڈالے ، اور ( یہ شعر ) کہتی : آج ( بدن کا ) کچھ حصہ یا پورے کا پورا کھل جائےگا اور اس میں سے جو بھی کھل گیا میں اسے ( دیکھنا کسی کے لئے ) حلال نہیں کررہی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : " ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لو ۔

Sahih Muslim 56:30sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ ابْنُ سَلُولَ يَقُولُ لِجَارِيَةٍ لَهُ اذْهَبِي فَابْغِينَا شَيْئًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَلاَ تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَنْ يُكْرِهْهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ‏}‏ لَهُنَّ ‏{‏ غَفُورٌ رَحِيمٌ‏}‏

Jabir reported that 'Abdullah b. Ubayy b. Salul used to say to his slave-girl:Go and fetch something for us by committing prostitution. It was in this connection that Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse:" And compel not your slave-girls to prostitution when they desire to keep chaste in order to seek the frail goods of this world's life, and whoever compels them, then surely after their compulsion Allah is Forgiving, Merciful" (xxiv)

ابو معاویہ نے کہا : ہمیں اعمش نے ابو سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : عبداللہ بن ابی سلول اپنی ایک باندی سے کہتا تھا : جا اور ( بذریعہ بدکاری ) ہمارے لیے کچھ کما کرلا ، تو اللہ عزوجل نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی؛ " اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ ( خصوصاً ) اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں تاکہ تم دنیا کی زندگی کا سازوسامان حاصل کرو اور جو کوئی انھیں مجبور کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کیے جانے کا بعد " ان کے لیے " بڑا بخشنے والا ، بڑا رحم کرنے والا ہے ۔

Sahih Muslim 56:31sahih

وَحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ جَارِيَةً، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ ابْنِ سَلُولَ يُقَالُ لَهَا مُسَيْكَةُ وَأُخْرَى يُقَالُ لَهَا أُمَيْمَةُ فَكَانَ يُكْرِهُهُمَا عَلَى الزِّنَى فَشَكَتَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏ وَلاَ تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ غَفُورٌ رَحِيمٌ‏}‏

Jabir reported that 'Abdullah b. Ubayy b. Salul had two slave-girls; one was called Musaika and the other one was called Umaima and he compelled them to prostitution (for which'Abdullah b. Ubayy b. Salul compelled them). They made a complaint about this to Allah's Messenger (ﷺ) and it was upon this that this verse was revealed:" And compel not your slave-girls to prostitute" up to the words:" Allah is Forgiving, Merciful

ابو عوانہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ عبداللہ بن ابی ابن سلول کی ایک باندی تھی ، اس کا نام مسیکہ تھا ، اوردوسری ( باندی ) کو امیمہ کہا جاتا تھا ۔ وہ ان دونوں سے ( زبردستی ) زنا کرانا چاہتا تھا ۔ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس بات کی شکایت کی تو اللہ عزوجل نے آیت : " اور اپنی نوجوان لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں ۔ " اس ( اللہ ) کے فرمان : " بڑا بخشنے والا ، ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ۔ " تک نازل فرمائی ۔

Sahih Muslim 56:32sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ‏}‏ قَالَ كَانَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا وَكَانُوا يُعْبَدُونَ فَبَقِيَ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ عَلَى عِبَادَتِهِمْ وَقَدْ أَسْلَمَ النَّفَرُ مِنَ الْجِنِّ ‏.‏

Abdullah b. Mas'ud reported in connection with the words of Allah, the Exalted and Glorious:" Those to whom they call upon, themselves seek the means or access to their Lord as to whoever of them becomes nearest" (xvii. 57) that it related to a party of Jinn who were being worshipped and they embraced Islam but those who worshipped them kept on worshipping them (though the Jinn whom the misguided people worshipped had become Muslims). It was then that this verse was revealed

عبداللہ بن ادریس نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے متعلق روایت کی : " وہ لوگ جنھیں یہ ( کافر ) پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کو ن زیادہ نزدیک ہوگا ۔ " ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوگئی تھی اور ( اس سے پہلے ) ان کی پوجاکی جاتی تھی ، تو جو ان کی عبادت کیاکرتے تھے ، ان کی عبادت پرقائم رہے جبکہ جنوں کی یہ جماعت خود اسلام لے آئی ۔

Sahih Muslim 56:34sahih

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، مَسْعُودٍ ‏{‏ أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ‏}‏ قَالَ نَزَلَتْ فِي نَفَرٍ مِنَ الْعَرَبِ كَانُوا يَعْبُدُونَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ فَأَسْلَمَ الْجِنِّيُّونَ وَالإِنْسُ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ فَنَزَلَتْ ‏{‏ أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ‏}‏

Abdullah b. Mas'ud said in connection with the verse:" Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord," that that verse was revealed in connection with a party of Arabs who used to worship a group amnogst the jinn; the jinn embraced Islam but the people kept worshipping them without being conscious of it. Then this verse was revealed:" Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord

شعبہ نے سلیمان ( اعمش ) سے اسی سندکے ساتھ یہی روایت کی ۔

Sahih Muslim 56:35sahih

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ سُورَةُ التَّوْبَةِ قَالَ آلتَّوْبَةِ قَالَ بَلْ هِيَ الْفَاضِحَةُ مَا زَالَتْ تَنْزِلُ وَمِنْهُمْ وَمِنْهُمْ ‏.‏ حَتَّى ظَنُّوا أَنْ لاَ يَبْقَى مِنَّا أَحَدٌ إِلاَّ ذُكِرَ فِيهَا ‏.‏ قَالَ قُلْتُ سُورَةُ الأَنْفَالِ قَالَ تِلْكَ سُورَةُ بَدْرٍ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ فَالْحَشْرُ قَالَ نَزَلَتْ فِي بَنِي النَّضِيرِ ‏.‏

Sa'id b. Jubair reported:I said to Ibn 'Abbas about Sura Tauba, whereupon he said: As for Sura Tauba, it is meant to humiliate (the non-believers and the hypocrites). There is constantly revealed in it (the pronoun) minhum (of them) and minhom (of them, i. e. such is the condition of some of them) till they (the Muslims) thought that none would be left unmentioned out of them who would not be blamed (for one fault or the other). I again said: What about Sura Anfal? He said: It pertains to the Battle of Badr. I again asked him about Sura al-Hashr. He said: It was revealed in connection with (the tribe) of Banu Nadir

ابو بشر نے سعید بن جبیر سے روایت کی ، کہا : کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ سورۃ التوبہ؟ انہوں نے کہا کہ سورۃ التوبہ؟ اور کہا کہ بلکہ وہ سورت تو ذلیل کرنے والی ہے اور فضیحت کرنے والی ہے ( کافروں اور منافقوں کی ) ۔ اس سورت میں برابر اترتا رہا کہ ”اور ان میں سے“ ”اور ان میں سے“ یہاں تک کہ منافق لوگ سمجھے کہ کوئی باقی نہ رہے گا جس کا ذکر اس سورت میں نہ کیا جائے گا ۔ میں نے کہا کہ سورۃ الانفال؟ انہوں نے کہا کہ وہ سورت تو بدر کی لڑائی کے بارے میں ہے ( اس میں مال غنیمت کے احکام مذکور ہیں ) ۔ میں نے کہا کہ سورۃ الحشر؟ انہوں نے کہا کہ وہ بنی نضیر ( کے انجام ) کے بارے میں نازل ہوئی ۔

Sahih Muslim 56:36sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ خَطَبَ عُمَرُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ أَلاَ وَإِنَّ الْخَمْرَ نَزَلَ تَحْرِيمُهَا يَوْمَ نَزَلَ وَهْىَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالْعَسَلِ ‏.‏ وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ وَثَلاَثَةُ أَشْيَاءَ وَدِدْتُ أَيُّهَا النَّاسُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عَهِدَ إِلَيْنَا فِيهَا الْجَدُّ وَالْكَلاَلَةُ وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا ‏.‏

Ibn 'Umar reported that Umar delivered a sermon on the pulpit of Allah's Messenger (ﷺ) and he praised Allah and lauded Him and then said:Now coming to the point. Behold I when the command pertaining to the prohibition of wine was revealed, it was prepared from five things: from wheat, barley, date, grape, honey; and wine is that which clouds the intellect; and O people, I wish Allah's Messenger (ﷺ) could have explained to us in (more) detail the laws pertaining to the inheritance of the grandfather, about one who dies leaving no issue, and some of the problems pertaining to interest

علی بن مسہر نے ابو حیان سے ، انھوں نے شعبی سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر ( کھڑے ہوکر ) خطبہ دیا ، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی ، پھر کہا : اس کے بعد : سنو !شراب کی حرمت نازل ہوئی ، جس دن وہ نازل ہوئی ( اس وقت ) وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی ۔ گندم ، جو ، خشک کھجور ، انگور اور شہد سے ، خمر وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے ۔ اورلوگو!تین چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں شدت سے چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ہمیں اور زیادہ قطعیت سے بتایا ہوتا : دادا اور کلالہ کی میراث اور سود کے ابواب میں سے چند ابواب ۔

Sahih Muslim 56:37sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ، عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّهُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهْىَ مِنْ خَمْسَةٍ مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ وَثَلاَثٌ أَيُّهَا النَّاسُ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عَهِدَ إِلَيْنَا فِيهِنَّ عَهْدًا نَنْتَهِي إِلَيْهِ الْجَدُّ وَالْكَلاَلَةُ وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا ‏.‏

Ibn 'Umar reported:I heard 'Umar b. Khattab delivering sermon on the pulpit ol Allah's messenger (ﷺ) and saying': Now, coming to the point, O people, there was revealed (the command pertaining to the prohibition of wine) and it was prepared (at that time) out of five things: grape, date, honey, wheat, barley, and wine is that which clouds the intellect, and, O people, I wish Allah's Messenger (ﷺ) had explained to us in greater detail three things: the inheritance of the grandfather, of one who dies without leaving any issue, and some of the problems of interest

ابن ادریس نے کہا : ہمیں ابو حیان نے شعبی سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر فرماتے ہوئے سنا : حمد وثنا کےبعد ، لوگو!شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی ، انگور ، کھجور ، شہد ، گندم اور جو سے اور خمر ( شراب ) وہ ہے جو عقل کو ڈھانک دے ۔ لوگو!تین چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں چاہتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اور زیادہ قطیعت سے واضح فرمادیتے : دادا اور کلالہ کی میراث اور سود کی صورتوں میں سے چند صورتیں ۔

Sahih Muslim 56:38sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي حَيَّانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا غَيْرَ أَنَّ ابْنَ عُلَيَّةَ فِي حَدِيثِهِ الْعِنَبِ ‏.‏ كَمَا قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ وَفِي حَدِيثِ عِيسَى الزَّبِيبِ ‏.‏ كَمَا قَالَ ابْنُ مُسْهِرٍ ‏.‏

This hadith has been transmitted on the same authority but with a slight variation of wording

اسماعیل بن علیہ اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے ابوحیان سے اسی سند کے ساتھ ان دونوں کی حدیث کے مانند روایت کی ، البتہ ابن علیہ کی حدیث میں ہے : انگور ، جس طرح ابن ادریس نے کہا ہے ۔ اور عیسیٰ کی روایت میں کشمش ہے ۔ جس طرح ابن مسہر نے کہا ہے ۔

Sahih Muslim 56:39sahih

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ، بْنِ عُبَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يُقْسِمُ قَسَمًا إِنَّ ‏{‏ هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ‏}‏ إِنَّهَا نَزَلَتْ فِي الَّذِينَ بَرَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ حَمْزَةُ وَعَلِيٌّ وَعُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ‏.‏

Abu Dharr took an oath that this verse:" These two adversaries who dispute about their Lord" (xxii. 19) was revealed in connection with those who on the Day of Badr came out (of rows to fight against the non-believers and they were) Hamza, 'Ali, 'Ubaida b. Harith (from the side of the Muslims) and 'Utba and Shaiba, both of them the sons of Rabi'a and Walid b. 'Utba (from the side of the non-believers of Mecca)

ہشیم نے ابو ہاشم سے ، انھوں نے ابو مجلز سے اور انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قسم کھا کر کہتے ہوئے سنا کہ ( آیت ) : " یہ دو جھگڑنے والے ہیں جنھوں نے اپنے رب کے معاملے میں جھگڑا کیا ۔ " ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جنھوں نے بدر کے دن مبارزت ( رودرودسیدھی لڑائی ) کی : حضرت حمزہ ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ( دوسری طرف سے ) ربیعہ کے دو بیٹے : عتبہ اور شیبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید ۔

Sahih Muslim 56:40sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يُقْسِمُ لَنَزَلَتْ ‏{‏ هَذَانِ خَصْمَانِ‏}‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ ‏.‏

This hadith has been narrated on the authority of Abu Dharr through another chain of transmitters

سفیان نے ابو ہاشم سے ، انھوں نے ابو مجلز سے ، انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قسم کھا کر یہ کہتے ہوئے سنا : هَذَانِ خَصْمَانِ یہ آیت نازل ہوئی ۔ ( آگے ) ہشیم کی حدیث کے مانند ہے ۔