The Book of Tribulations and Portents of the Last Hour
Book 54 · 158 hadith
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ، بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَيْقَظَ مِنْ نَوْمِهِ وَهُوَ يَقُولُ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ " . وَعَقَدَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ عَشَرَةً . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ قَالَ " نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ " .
Zainab bint Jahsh reported that Allah's Apostle (ﷺ) got up from sleep saying:There is no being worthy of worship except Allah; there is a destruction in store for Arabia because of turmoil which is at hand, the barrier of Gog and Magog has opened so much. And Sufyan made a sign of ten with the help of his hand (in order to indicate the width of the gap) and I said: Allah's Messenger, would we be perished in spite of the fact that there would be good people amongst us? Thereupon he said: Of course, but only when the evil predominates
عمرو ناقد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انھوں ن ے عروہ سے ، انھوں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ، انھوں نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نیند سے بیدار ہوئے جبکہ آپ فرمارہے تھے : "" اللہ کے سواکوئی سچا معبود نہیں ، عرب اس شر کی وجہ سے ہلاک ہوگئے جو قریب آپہنچا ہے ۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اس قدر جگہ کھل گئی ہے ۔ "" اور سفیان نے اپنے ہاتھ سے دس کا اشارہ بنایا ۔ ( حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : میں نے عرض کی : ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے ، پھر بھی ہم ہلاک ہوجائیں گے؟فرمایا؛ "" ہاں جب شر اور گندگی زیادہ ہوجائے گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَزَادُوا فِي الإِسْنَادِ عَنْ سُفْيَانَ، فَقَالُوا عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، .
This hadith has been narrated on the authority of Zainab bint Jahsh with a slight variation in the chain of transmitters
ابو بکر بن ابی شیبہ ، سعید بن عمرو اشعشی ، زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں سفیان نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انھوں نے سفیان سے بیان کردہ روایت کی سند میں مزید کہا : زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حبیبہ سے ، انھوں نے ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَزِعًا مُحْمَرًّا وَجْهُهُ يَقُولُ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ " . وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ الإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا . قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ قَالَ " نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ " .
Zainab bint Jahsh, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), reported that one day Allah's Messenger (ﷺ) came out in a state of excitement with his face quite red. And he was saying:There is no god but Allah; there is a destruction in store for Arabia because of the turmoil which is near at hand as the barrier of Gog and Magog has been opened like it, and he (in order to explain it) made a ring with the help of his thumb and forefinger. I said: Allah's Messenger, would we be destroyed despite the fact that there would be pious people amongst us? He said: Yes, when evil would be predominant
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ انھیں زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا ۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبراہٹ کے عالم میں سرخ چہرے کے ساتھ ( خواب گاہ سے ) نکلے ۔ آپ فرمارہے تھے : "" اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں عرب اسی شر کی وجہ سے ہلاک ہوگئے جو اب قریب آپہنچا ہے ۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار اس قدر کھل گئی ہے ۔ "" اور آپ نے شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کو ملا کر حلقہ بنایا ۔ ( حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : تو میں نے عرض کی ہم میں نیک لوگ موجود ہوں ، یا پھر بھی ہم ہلاک ہوجائیں گے "" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ہاں ، جب شر اورگندگی زیادہ ہوجائے گی ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ .
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with a different chain of transmitters
عقیل بن خالد اور صالح دونوں نے ابن شہاب ( زہری ) سے یونس کی زہری سے حدیث کے مطابق اور اسی کی سند سے بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ، اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ " . وَعَقَدَ وُهَيْبٌ بِيَدِهِ تِسْعِينَ .
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Today the wall (barrier) of Gog and Magog has been opened so much, and Wuhaib (in order to explain it) made the figure of ninety with the help of his hand
احمد بن اسحاق نے کہا : ہمیں وہیب نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں عبداللہ بن طاوس نے ا پنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آج یاجوج ماجوج کی دیوار اتنی کھل گئی ہے ۔ " وہیب نے اپنی انگلی سے نوے کا نشان بنایا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ وَأَنَا مَعَهُمَا، عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَسَأَلاَهَا عَنِ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ وَكَانَ ذَلِكَ فِي أَيَّامِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْبَيْتِ فَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ " . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ كَارِهًا قَالَ " يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّتِهِ " . وَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ هِيَ بَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ .
Harith b Abi Rabi'a and 'Abdullah b. Safwan both went to Umm Salama, the Mother of the Faithful, and they asked her about the army which would be sunk in the earth, and this relates to the time when Ibn Zubair (was the governor of Mecca). She reported that Allah's Messenger (ﷺ) had said that a seeker of refuge would seek refuge in the Sacred House and an army would be sent to him (in order to kill him) and when it would enter a plain ground, it would be made to sink. I said:Allah's Messenger, what about him who would be made to accompany this army willy nilly? Thereupon he said: He would be made to sink along with them but he would be raised on the Day of Resurrection on the basis of his intention. Abu Ja'far said. ' This plain, ground means the plain ground of Medina
جریر نے عبدالعزیز بن رفیع سے اور انھوں نے عبداللہ بن قبطیہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حارث بن ابی ربیعہ ، عبداللہ بن صفوان اور میں بھی ان کے ساتھ تھا ۔ ہم ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان دونوں نے اُن سے اس لشکر کےمتعلق سوال کیا جس کو زمین میں دھنسا دیاجائے گا ، یہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کی خلافت ) کا زمانہ تھا ۔ ( ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ٓ ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : "" ایک پناہ لینے والا بیت اللہ میں پناہ لے گا ، اس کی طرف ایک لشکر بھیجاجائےگا ، جب وہ لوگ زمین کے بنجر ہموارحصے میں ہوں گے تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا ۔ "" میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !جو مجبور ان کے ساتھ ( شامل ) ہوگا اس کا کیا بنے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گاالبتہ قیامت کے دن اس کو اس کی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا ۔ "" اور ابو جعفر نے کہا : یہ مدینہ ( کے قریب ) کا چٹیل حصہ ہوگا ( جہاں ان کو دھنسا یا جائے گا ۔)
حَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِ قَالَ فَلَقِيتُ أَبَا جَعْفَرٍ فَقُلْتُ إِنَّهَا إِنَّمَا قَالَتْ بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ كَلاَّ وَاللَّهِ إِنَّهَا لَبَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ .
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah b. Rufai, with the same chain of transmitters (but with the addition of these words):" When I met Abu Ja'far I told him that she (simply) meant the plain ground. Thereupon Abu Ja'far said: No, by God, she meant the plain ground of Medina
عبدالعزیز بن رفیع نے ہمیں اسی سند کےساتھ حدیث بیان کی اور ان کی حدیث میں ہے : ( ابن قبطیہ نے ) کہا : تو میں ابو جعفر سے ملا ، میں نے کہا : انھوں ( ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے تو زمین کا ایک چٹیل میدان کہا تھا ۔ توابو جعفر نے کہا : ہرگز نہیں ، اللہ کی قسم! وہ مدینہ کا چٹیل حصہ ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ، عُيَيْنَةَ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ، سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ، يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَيَؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ يَغْزُونَهُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوْسَطِهِمْ وَيُنَادِي أَوَّلُهُمْ آخِرَهُمْ ثُمَّ يُخْسَفُ بِهِمْ فَلاَ يَبْقَى إِلاَّ الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ " . فَقَالَ رَجُلٌ أَشْهَدُ عَلَيْكَ أَنَّكَ لَمْ تَكْذِبْ عَلَى حَفْصَةَ وَأَشْهَدُ عَلَى حَفْصَةَ أَنَّهَا لَمْ تَكْذِبْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
Abdullah b. Safwan reported that Hafsa told him that she had heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying:An army would attack this House in order to fight against the inhabitants of this House and when it would be at the plain ground the ranks in the centre of the army would be sunk and the vanguard would call the rear flanks of the army and they would also be sunk and no flank would be left except some people who would go to inform them (their kith and kin). A person (who had been listening to this hadith from Abdullah b. Safwan) said: I bear testimony in regard to you that you are not imputing a lie to Hafsa. And I bear testimony to the fact that Hafsa is not telling a lie about Allah's Apostle (ﷺ)
امیہ بن صفوان سے روایت ہے ، انھوں نے اپنے داداعبداللہ بن صفوان کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "" ایک لشکر ( اللہ کے ) اس گھر کے خلاف جنگ کرنے کے لئے اس کا رخ کرےگا یہاں تک کہ جب وہ زمین کے چٹیل حصے میں ہوں گے تو ان کے درمیان والے حصے کو ( زمین میں ) دھنسا دیا جائے گا ان میں سے ایک علیحدہ رہ جانے والے شخص کےسوا ، جو ان کے بارے میں خبر دے گا اور کوئی ( زندہ ) باقی نہیں بچے گا ۔ "" تو ایک شخص نے ( ان کی بات سن کر ) کہا : میں تمہارے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر جھوٹ نہیں باندھا اور میں ( یہ بھی ) گواہی دیتاہوں کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جھوٹ نہیں کہا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ، عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَامِرِيِّ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سَيَعُوذُ بِهَذَا الْبَيْتِ - يَعْنِي الْكَعْبَةَ - قَوْمٌ لَيْسَتْ لَهُمْ مَنَعَةٌ وَلاَ عَدَدٌ وَلاَ عُدَّةٌ يُبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ " . قَالَ يُوسُفُ وَأَهْلُ الشَّأْمِ يَوْمَئِذٍ يَسِيرُونَ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ أَمَا وَاللَّهِ مَا هُوَ بِهَذَا الْجَيْشِ . قَالَ زَيْدٌ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ الْعَامِرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنِ الْحَارِثِ، بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، . بِمِثْلِ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْجَيْشَ الَّذِي ذَكَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ .
Abdullah b. Safwan reported the Mother of the Faithful as saying that Allah's Messenger (ﷺ) said:They would soon seek protection in this House, viz. Ka'ba (the defenceless), people who would have nothing to protect themselves in the shape of weapons or the strength of the people. An army would be sent to fight (and kill) them and when they would enter a plain ground the army would be sunk in it. Yusuf (one of the narrators) said: It was a people of Syria (hordes of Hajjaj) who had been on that day coming towards Mecca for an attack (on 'Abdulllah b. Zubair) and Abdullah b. Safwan said: By God, it does not imply this army
عبیداللہ بن عمرو نے کہا : ہمی زید بن ابی اُنیسہ نے عبدالملک عامری سے خبر دی ، انھوں نے یوسف بن مالک سے روایت کی ، کہا : مجھے عبداللہ بن صفوان نے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ایک قوم اس گھر ۔ ۔ ۔ یعنی کعبہ ۔ ۔ ۔ میں پناہ لے گی ، ا ن کے پاس نہ اپنا دفاع کرنے کےلیے کوئی ذریعہ ہوگا ، نہ عدوی قوت ہوگی اور نہ سامان جنگ ہی ہوگا ، ان کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جائے گا ۔ یہاں تک کہ جب وہ ( لشکر کے ) لوگ زمین کے ایک چٹیل حصے میں ہوں گے تو ان کو ( زمین میں ) دھنسا دیا جائےگا ۔ "" یوسف ( بن مابک ) نے کہا : ان دونوں اہل شام مکہ کی طرف بڑھے آرہے تھے ، تو عبداللہ بن صفوان نے کہا : دیکھو ، اللہ کی قسم!یہ وہ لشکر نہیں ہے ۔ زید ( بن ابی انیسہ ) نے کہا : اور مجھے عبدالملک عامری نے عبدالرحمان بن سابط سے ، انھوں نے حارث بن ابی ربیعہ سے ، انھوں نے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ، یوسف بن مابک کی حدیث کے مانند روایت کی ، مگر انھوں نے اس میں اس لشکر کی بات نہیں کی جس کا عبداللہ بن صفوان نے ذکر کیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، الْحُدَّانِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ عَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَنَامِهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَنَعْتَ شَيْئًا فِي مَنَامِكَ لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ . فَقَالَ " الْعَجَبُ إِنَّ نَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَؤُمُّونَ بِالْبَيْتِ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ لَجَأَ بِالْبَيْتِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ " . فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الطَّرِيقَ قَدْ يَجْمَعُ النَّاسَ . قَالَ " نَعَمْ فِيهِمُ الْمُسْتَبْصِرُ وَالْمَجْبُورُ وَابْنُ السَّبِيلِ يَهْلِكُونَ مَهْلَكًا وَاحِدًا وَيَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ " .
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) was startled in the state of sleep. We said:Allah's Messenger, you have done something in the state of your sleep which you never did before, Thereupon he said: Strange it is that some people of my Ummah would attack the House (Ka'ba) (for killing) a person who would belong to the tribe of the Quraish and he would try to seek protection in the House. And when they would reach the plain ground they would be sunk. We said: Allah's Messenger, all sorts of people throng the path. Thereupon he said: Yes, there would be amongst them people who would come with definite designs and those who would come under duress and there would be travellers also, but they would all be destroyed through one (stroke) of destruction. though they would be raised in different states (on the Day of Resurrection). Allah would, however, raise them according to their intention
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند کے دوران ( اضطراب کے عالم ) میں اپنے ہاتھ کو حرکت دی تو ہم نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے نیند میں کچھ ایسا کیا جو پہلےآپ نہیں کیا کر تے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ عجیب بات ہے کہ ( آخری زمانےمیں ) میری امت میں سے کچ لوگ بیت اللہ کی پناہ لینے والے قریش کے ایک آدمی کے خلاف ( کاروائی کرنے کے لیے ) بیت اللہ کا رخ کریں گے یہاں تک کہ جب وہ چٹیل میدان حصے میں ہوں گے تو انھیں ( زمین میں ) دھنسا دیا جائے گا ۔ " ہم نے عرض کی ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! راستہ تو ہرطرح کے لوگوں کے لیے ہوتا ہے ۔ آپ نے فرمایا : " ہاں ، ان میں سے کوئی اپنی مہم سے آگاہ ہوگا ، کوئی مجبور اور کوئی مسافر ہوگا ۔ وہ سب اکھٹے ہلاک ہوں گے اور ( قیامت کے روز ) واپسی کے مختلف راستوں پر نکلیں گے اللہ انھیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَشْرَفَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ قَالَ " هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى إِنِّي لأَرَى مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلاَلَ بُيُوتِكُمْ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ " .
Usama reported that Allah's Messenger (ﷺ) climbed up a battlement amongst the battlements of Medina and then said:You do not see what I am seeing and I am seeing the places of turmoil between your houses as the places of rainfall
سفیان بن عینیہ نے زہری سے ، انھوں نے عروہ سے اور انھوں نے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے قلعوں میں سے ایک قلعے ( اونچی محفوظ عمارت ) پر چڑھے ، پھر فرمایا : " کیا تم ( بھی ) دیکھتے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں؟میں تمہارے گھروں میں فتنوں کے واقع ہونے کے مقامات بارش ٹپکنے کے نشانات کی طرح ( بکثرت اور واضح ) دیکھ رہا ہوں ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ، الآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفُهُ وَمَنْ وَجَدَ فِيهَا مَلْجَأً فَلْيَعُذْ بِهِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There will be soon a period of turmoil in which the one who sits will be better than one who stands and the one who stands will be better than one who walks and the one who walks will be better than one who runs. He who would watch them will be drawn by them. So he who finds a refuge or shelter against it should make it as his resort
ابن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " عنقریب فتنے ہوں گے ، ان میں بیٹھا رہنے والا کھڑے رہنے والے سے بہتر ہوگا اور ان میں کھڑا ہونے والا چلنے و الے سے بہتر ہوگااور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا جو ان کی طرف جھانکے گا بھی وہ اسے اوندھا کردیں گے اور جس کو ان ( کے دوران ) میں کوئی پناہ گاہ مل جائے وہ اس کی پناہ حاصل کرلے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ، الآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُطِيعِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، . مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ هَذَا إِلاَّ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، يَزِيدُ " مِنَ الصَّلاَةِ صَلاَةٌ مَنْ فَاتَتْهُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira but with this variation of wording that in the hadith transmitted on the authority of Abu Bakr, there is an addition of these words:" There is a prayer among prayers ('Asr) and one who misses it is as if his family and property have been ruined
ابو بکر بن عبدالرحمان نے عبدالرحمان بن مطیع بن اسودسے ، انھوں نے نوفل بن معاویہ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اسی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ ابو بکر نے مزید کہا ہے : " نمازوں میں ایک نماز ایسی ہے جس کی وہ ( نماز ) فوت ہوگئی تو گویا اس کا اہل اور مال ( سب کچھ ) تباہ ہوگیا ۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " تَكُونُ فِتْنَةٌ النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْيَقْظَانِ وَالْيَقْظَانُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي فَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فَلْيَسْتَعِذْ " .
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:There would be turmoil and the one who would sleep would be better than who would be awake and the one who would be awake would be better than one who would stand and one who would stand would be better than one who would run. So he who finds refuge or shelter should take that refuge or shelter
ابراہیم بن سعد کے والد نے ابو سلمہ سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا ہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایسا فتنہ ( برپا ہوگا ) جس میں سونے والا جاگنے والےسے بہتر ہوگا اور اس میں جاگنے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں جاگنے والا ( اٹھ ) کھڑے ہو جانے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں کھڑا ہوجانے والا دوڑنے والے سےبہتر ہوگا جس کو بچنے کی جگہ یاکوئی پناہ گاہ مل جائے تو وہ ( اس کی ) پناہ حاصل کرے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، الشَّحَّامُ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَفَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ، إِلَى مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ فِي أَرْضِهِ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا هَلْ سَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ فِي الْفِتَنِ حَدِيثًا قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ يُحَدِّثُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ أَلاَ ثُمَّ تَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي فِيهَا وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي إِلَيْهَا أَلاَ فَإِذَا نَزَلَتْ أَوْ وَقَعَتْ فَمَنْ كَانَ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ " . قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِبِلٌ وَلاَ غَنَمٌ وَلاَ أَرْضٌ قَالَ " يَعْمِدُ إِلَى سَيْفِهِ فَيَدُقُّ عَلَى حَدِّهِ بِحَجَرٍ ثُمَّ لْيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ " . قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ أُكْرِهْتُ حَتَّى يُنْطَلَقَ بِي إِلَى أَحَدِ الصَّفَّيْنِ أَوْ إِحْدَى الْفِئَتَيْنِ فَضَرَبَنِي رَجُلٌ بِسَيْفِهِ أَوْ يَجِيءُ سَهْمٌ فَيَقْتُلُنِي قَالَ " يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِكَ وَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ " .
Abu Bakra reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There would soon be turmoil. Behold! there would be turmoil in which the one who would be seated would be better than one who would stand and the one who would stand would be better than one who would run. Behold! when the turmoil comes or it appears, the one who has camel should stick to his camel and he who has sheep or goat should stick to his sheep and goat and he who has land should stick to the land. A person said: 'Allah's Messenger, what is your opinion about one who has neither camel nor sheep nor land? Thereupon, he said: He should take hold of his sword and beat its edge with the help of stone and then try to find a way of escape. O Allah, I have conveyed (Thy Message) ; O Allah, I have conveyed (Thy Message) ; O Allah, I have conveyed (Thy Message). A person said: Allah's Messenger, what is your opinion if I am drawn to a rank in spite of myself, or in one of the groups and made to march and a man strikes with his sword or there comes an arrow and kills me? Thereupon he said: He will bear the punishment of his sin and that of yours and he would be one amongst the denizens of Hell
حمادبن زید نے کہا : ہمیں عثمان الشحام نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں اور فرقد سبخی مسلم بن ابی بکرہ کے ہاں گئے ، وہ اپنی زمین میں تھے ہم ان کے ہاں اندر داخل ہوئے اور کہا : کیا آپ نے اپنےوالد کو فتنوں کے بارے میں کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا؟انھوں نے کہا : ہاں ، میں نے ( اپنے والد ) حضرت ابو بکرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وحدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نے فرمایا : " عنقریب فتنے برپا ہوں گے سن لو!پھر ( اور ) فتنے برپا ہوں گے ، ان ( کےدوران ) میں بیٹھا رہنے و الا چلے والے سے بہتر ہوگا ، اور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگایاد رکھو!جب وہ نازل ہوگا یا واقع ہوں گے تو جس کے ( پاس ) اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے پاس چلا جائے ، جس کے پاس بکریاں ہوں وہ بکریوں کے پاس چلاجائے اور جس کی زمین وہ زمین میں چلاجائے ۔ " ( حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو ایک شخص نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اس کےبارے میں کیا خیال ہے جس کے پاس یہ اونٹ ہوں ، نہ بکریاں ، نہ زمین؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ اپنی تلوار لے ، اس کی دھار کو پتھر سے کوٹے ( کندکردے ) اورپھر اگر بچ سکےتو بچ نکلے!اے اللہ!کیا میں نے ( حق ) پہنچا دیا؟اے اللہ! کیا میں نے ( حق ) پہنچا دیا ۔ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا ۔ کہا : تو ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اگر مجھے مجبور کردیا جائے اور لے جاکر ایک صف میں یا ایک فریق کے ساتھ کھڑا کردیاجائے اور کوئی آدمی مجھے اپنی تلوار کا نشانہ بنادے یا کوئی تیر آئے اور مجھے مار ڈالے تو؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( اگر تم نے وار نہ کیا ہوا ) تو وہ اپنے اور تمہارے گناہ سمیٹ لے جائے گا اور اہل جہنم میں سے ہوجائے گا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ، بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، كِلاَهُمَا عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . حَدِيثُ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادٍ إِلَى آخِرِهِ وَانْتَهَى حَدِيثُ وَكِيعٍ عِنْدَ قَوْلِهِ " إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ " . وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
This hadith has been transmitted on the authority of Waki' with a slight variation of wording
وکیع اور ا بن ابی عدی نے عثمان شحام سے اسی سند کے ساتھ ابن عدی کی حدیث کو حماد کی حدیث کے مانند آخر تک بیان کیا اور وکیع کی حدیث اس بات پر ختم ہوگئی؛ " اگر وہ بچ سکے ( تو بچ جائے ۔ ) " اور بعد والا حصہ بیان نہیں کیا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ، هَذَا الرَّجُلَ فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَحْنَفُ قَالَ قُلْتُ أُرِيدُ نَصْرَ ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - يَعْنِي عَلِيًّا - قَالَ فَقَالَ لِي يَا أَحْنَفُ ارْجِعْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " . قَالَ فَقُلْتُ أَوْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ " إِنَّهُ قَدْ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ " .
Ahnaf b. Qais reported:I set out with the intention of helping this person (Hadrat 'Ali) when Abu Bakra met me. He said: Ahnaf, where do you intend to go? I said: I intend to help the cousin of Allah's Messenger (ﷺ), viz. 'Ali. Thereupon he said to me: Ahnaf, go back, for I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: When two Muslims confront one another with swords (in hand) both the slayer and the slain would be in Fire. He (Ahnaf) said: I said, or it was said: Allah's Messenger, it may be the case of one who kills. but what about the slain (why he would be put in Hell-Fire)? Thereupon he said: He also intended to kill his companion
ابو کامل فضیل بن حسین جحدری نے مجھے حدیث بیان کی کہا : ہمیں حماد بن زید نے ایوب اور یونس سے حدیث بیان کی انھوں نے احنف بن قیس سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں ( گھر سے ) اس شخص ( حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ شامل ہونے ) کے ارادے سے نکلا تو مجھے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے ۔ انھوں نے پوچھا : احنف! کہاں کاارداہ ہے؟کہا : میں نے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عم زادیعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نصرت کرنا چاہتا ہوں ۔ کہا تو انھوں نے مجھ سے کہا : احنف !لوٹ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناتھا آپ فرمارہے تھے " جب دومسلمان اپنی اپنی تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے آجائیں تو قاتل اور مقتول دونوں ( جہنم کی ) آگ میں ہوں گے ۔ " کہا : تو میں نے عرض کی ۔ یا کہاگیا ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ تو قاتل ہوا ( لیکن ) مقتول کا یہ حال کیوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس نے ( بھی ) اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا ارداہ کر لیاتھا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ، وَالْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " .
Ahnaf b. Qais reported on the authority of Abu Bakra that Allah's Messenger (ﷺ) said:When two Muslims confront each other with their swords, both the slayer and the slain are doomed to Hell-Fire
احمد بن عبدہ نصحی نے ہمیں یہی حدیث بیان کی انھوں نے کہا : ہمیں حماد نے ایوب یونس اور معلی بن زیادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حسن سے انھو ں نے حسن سے انھوں نے احنف بن قیس سے اور انھوں نےحضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب وہ مسلمان اپنی اپنی تلواروں سے باہم ٹکرائیں تو قاتل اور مقتول دونوں آگ میں ہو ں گے ۔
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، مِنْ كِتَابِهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ عَنْ حَمَّادٍ، إِلَى آخِرِهِ .
This hadith has been narrated on the authority of Hammad through another chain of transmitters
معمر نے ہمیں ایوب سے اسی سند کے ساتھ حماد سے ابو کامل کی حدیث کی طرح آخر تک بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا الْمُسْلِمَانِ حَمَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى أَخِيهِ السِّلاَحَ فَهُمَا فِي جُرُفِ جَهَنَّمَ فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ دَخَلاَهَا جَمِيعًا " .
Abu Bakra reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When two Muslims (confront each other) and the one amongst them attacks his brother with a weapon, both of them are at the brink of Hell-Fire. And when one of them kills his companion, both of them get into Hell-Fire
ربعی بن حراش نے حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اورانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جب وہ مسلمانوں میں سے ایک نے اپنے بھائی پر اسلحہ کشی کی تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہیں پھر جب ان میں سے ایک نے ( موقع پاتے ) دوسرے کو قتل کردیا تو دونوں اکٹھے جہنم میں داخل ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْهَرْجُ " . قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْقَتْلُ الْقَتْلُ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The last Hour will not come unless there is much bloodshed. They said: What is harj? Thereupon he said: Bloodshed. bloodshed
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ بہت زیادہ ہرج ( جانوں کی تباہی ) ہوجائے گی؟انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے پوچھا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہرج ( تباہی ) کیا ہو گی؟فرمایا : " قتل ، قتل ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِيَ الأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الأَحْمَرَ وَالأَبْيَضَ وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لأُمَّتِي أَنْ لاَ يُهْلِكَهَا بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَأَنْ لاَ يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وَإِنَّ رَبِّي قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهُ لاَ يُرَدُّ وَإِنِّي أَعْطَيْتُكَ لأُمَّتِكَ أَنْ لاَ أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَأَنْ لاَ أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ يَسْتَبِيحُ بَيْضَتَهُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بِأَقْطَارِهَا - أَوْ قَالَ مَنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا - حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا وَيَسْبِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا " .
Thauban reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Allah drew the ends of the world near one another for my sake. And I have seen its eastern and western ends. And the dominion of my Ummah would reach those ends which have been drawn near me and I have been granted the red and the white treasure and I begged my Lord for my Ummah that it should not be destroyed because of famine, nor be dominated by an enemy who is not amongst them to take their lives and destroy them root and branch, and my Lord said: Muhammad, whenever I make a decision, there is none to change it. I grant you for your Ummah that it would not be destroyed by famine and it would not be dominated by an enemy who would not be amongst it and would take their lives and destroy them root and branch even if all the people from the different parts of the world join hands together (for this purpose), but it would be from amongst them, viz. your Ummah, that some people would kill the others or imprison the others
ایوب نے ابو قلابہ سے انھوں نے ابو اسماء سے اور انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو لپیٹ دیا اور میں نے اس کے مشارق و مغارب کو دیکھ لیا اور جہاں تک یہ زمین میرے لیے لپیٹی گئی عنقریب میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی اور مجھے سرخ اور سفید دونوں خزانے ( سونے اور چاندی کے ذخائر ) دیے گئے اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے یہ سوال کیا کہ وہ اس کو عام قحط سالی سے ہلاک نہ کرے اور ان کے علاوہ سے ان پر کوئی دشمن مسلط نہ کرے جو مجموعی طور پر ان سب ( کی جانوں ) کورواکر لے ۔ بے شک میرے رب نے فرمایا : " اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !جب میں کو ئی فیصلہ کردوں تو وہ رد نہیں ہوتا ۔ بلاشبہ میں نے آپ کی امت کے لیے آپ کو یہ بات عطا کردی ہے کہ ان کو عام قحط سالی سے ہلاک نہیں کروں گا اور ان پر ان کے علاوہ سے کسی اور دشمن کو مسلط نہ کروں گاجو ان سب ( کی جانوں ) کورواقراردے لے ۔ چاہے ان کے خلاف ان کے اطراف والے ۔ یا کہا : ان کے اطراف والوں کے اندر سے ہوں اکٹھے کیوں نہ ہوں جائیں ۔ یہاں تک کہ یہ ( خود ) ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے ۔ اور ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى زَوَى لِيَ الأَرْضَ حَتَّى رَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَأَعْطَانِي الْكَنْزَيْنِ الأَحْمَرَ وَالأَبْيَضَ " . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ .
Thauban reported that Allah's Messenger (ﷺ) said. Verily, Allah drew the ends of the world near me until I saw its east and west, and He bestowed upon me two treasures, the red and the white. The rest of the hadith is the same
قتادہ نے ابوقلابہ سے انھوں نے ابو اسماء یحییٰ سے اور انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے لپیٹ دیا حتیٰ کہ میں نے اس کےمشارق کو مغارب کو دیکھ لیا اور اس نے مجھے سرخ اور سفید وہ خزانے عطا فرمائے ۔ " اس کے بعد ابو قلابہ سے ایوب کی روایت کی طرح بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْعَالِيَةِ حَتَّى إِذَا مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ دَخَلَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَدَعَا رَبَّهُ طَوِيلاً ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا فَقَالَ صلى الله عليه وسلم " سَأَلْتُ رَبِّي ثَلاَثًا فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لاَ يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لاَ يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لاَ يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا " .
Amir b. Sa'd reported on the authority of his father that one day Allah's Messenger (ﷺ) came from a high, land. He passed by the mosque of Banu Mu'awiya, went in and observed two rak'ahs there and we also observed prayer along with him and he made a long supplication to his Lord. He then came to us and said:I asked my Lord three things and He has granted me two but has withheld one. I begged my Lord that my Ummah should not be destroyed because of famine and He granted me this. And I begged my Lord that my Ummah should not be destroyed by drowning (by deluge) and He granted me this. And I begged my Lord that there should be no bloodshed among the people of my Ummah, but He did not grant it
عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ کے ) بالائی علاقے سے تشریف لائے یہاں تک کہ جب آپ بنو معاویہ کی مسجد کے قریب سے گزرے تو آپ اس میں داخل ہوئے اور وہ رکعتیں ادا فرمائیں ۔ ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ نے اپنے رب سے بہت لمبی دعا کی پھر آپ نے ہماری طرف رخ کیا تو فرمایا : " میں نے اپنے رب سے تین ( چیزیں ) مانگیں ۔ اس نے وہ مجھے عطا فرمادیں اور ایک مجھ سے روک لی ۔ میں نے اپنے رب سے یہ مانگا کہ وہ میری ( پوری ) امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کرے تو اس نے مجھے یہ چیز عطا فرمادی اور میں نے اس سے مانگا کہ وہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کرے تو اس نے یہ ( بھی ) مجھے عطافرمادی اور میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ ان کی آپس میں جنگ نہ ہو تو اس نے یہ ( بات ) مجھ سے روک لی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَمَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ . بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ .
Amir b. Sa'd reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) came with a group of his Companions and he passed by the mosque of Banu Mu'awiya. The rest of the hadith is the same
مروان بن معاویہ نے کہا : ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی ایک جماعت کے ساتھ آئے اور آپ بنو معاویہ کی مسجد کے قریب سے گزرے ۔ ( آگے ) ابن نمیرکی حدیث کے مانند ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيَّ، كَانَ يَقُولُ قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُ النَّاسِ بِكُلِّ فِتْنَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ السَّاعَةِ وَمَا بِي إِلاَّ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسَرَّ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يُحَدِّثْهُ غَيْرِي وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ مَجْلِسًا أَنَا فِيهِ عَنِ الْفِتَنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَعُدُّ الْفِتَنَ " مِنْهُنَّ ثَلاَثٌ لاَ يَكَدْنَ يَذَرْنَ شَيْئًا وَمِنْهُنَّ فِتَنٌ كَرِيَاحِ الصَّيْفِ مِنْهَا صِغَارٌ وَمِنْهَا كِبَارٌ " . قَالَ حُذَيْفَةُ فَذَهَبَ أُولَئِكَ الرَّهْطُ كُلُّهُمْ غَيْرِي .
Hudhaifa b. al-Yaman reported:By Allah, I have the best knowledge amongst people about every turmoil which is going to appear in the period intervening me and the Last Hour; and it is not for the fact that Allah's Messenger (ﷺ) told me something confidentially pertaining to it and he did not tell anybody else about it, but it is because of the fact that I was present in the assembly in which he had been describing the turmoil. and he especially made a mention of three turmoils which would not spare anything and amongst these there would be turmoils like storms in the hot season. Some of them would be violent and some of them would be comparatively mild. Hudhaifa said: All (who were present) except I have gone (to the next world)
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبردی کہ ابو ادریس خولانی کہا کرتے تھے کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا : اللہ کی قسم!میں اب سے لے کر قیامت تک وقوع پذیر ہونے والے تمام فتنوں کے بارے میں باقی سب لوگوں کی نسبت زیادہ جانتاہوں ۔ اور ( انھیں بیان کرنےمیں ) میرے لیے اس کے سوا اور کوئی ( مانع ) نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کوئی چیز راز کے طورپر مجھے بتائی تھی جو آپ نے میرے علاوہ کسی اور کو نہیں بتائی تھی ۔ ( ایسی باتیں میں کبھی بیان نہیں کروں گا ) البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں جہاں میں مو جود تھا فتنوں کو شمار کر رہے تھے : " ان میں سے تین ( فتنے ) ایسے ہیں جو تقریباً کسی چیزکو باقی نہیں چھوڑیں گے اور ان میں سے کچھ فتنے ایسے ہیں جو موسم گرما کی آندھیوں کی طرح ہیں ان میں کچھ چھوٹے ہیں اور کچھ بڑے ہیں ۔ " حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میرے سوا وہ سب لوگ ( جو اس مجلس میں موجود تھے ) رخصت ہوگئے ۔
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقَامًا مَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلاَّ حَدَّثَ بِهِ حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابِي هَؤُلاَءِ وَإِنَّهُ لَيَكُونُ مِنْهُ الشَّىْءُ قَدْ نَسِيتُهُ فَأَرَاهُ فَأَذْكُرُهُ كَمَا يَذْكُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِذَا غَابَ عَنْهُ ثُمَّ إِذَا رَآهُ عَرَفَهُ .
Hudhaifa reported that Allah's Messenger (ﷺ) stood before us one day and he did not leave anything unsaid (that he had to say) at that very spot which would happen (in the shape of turmoil) up to the Last Hour. Those who had to remember them preserved them in their minds and those who could not remember them forgot them. My friends knew them and there are certain things which slip out of my mind, but I recapitulate them when anyone makes a mention of them just as a person is lost from one's mind but is recalled to him on seeing his face
جریر نے اعمش سے انھوں نے شقیق سے اور انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے کھڑے ہوئے اور آپ نے اپنے کھڑے ہونے کے اس وقت سے لے کر قیامت تک ہونے والی کوئی ( اہم ) بات نہ چھوڑی مگر اسے بیان فرمادیا جس نے اس ( بیان ) کو یاد رکھا اس نے اسے یاد رکھا اور جس نے اسے بھلادیا اس نے اسے بھلادیا ۔ وہ سب کچھ میرے ان ساتھیوں کے علم میں آیا پھر ان میں سے کوئی چیز پیش آتی ہے جو میں بھول چکا ہوتا ہوں تو جب اسے دیکھتا ہوں تو وہ مجھے یاد آجاتی ہے بالکل اسی طرح جیسے انسان کسی غائب ہو جانے والے شخص کا چہرہ یاد رکھتا ہے جب اسے دیکھتا ہے تو پہچان لیتا ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ . وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters up to the words:And he forgot who had to forget that and. he did not make a mention of what follows after this
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ان ( حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے اس قول تک : " اور جس نے اسے بھلادیا اس نے اسے بھلادیا " روایت کی اور اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ، بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ فَمَا مِنْهُ شَىْءٌ إِلاَّ قَدْ سَأَلْتُهُ إِلاَّ أَنِّي لَمْ أَسْأَلْهُ مَا يُخْرِجُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ مِنَ الْمَدِينَةِ
Hudhaifa reported:Allah's Messenger (ﷺ) informed me of what is going to happen before the approach of the Last Hour. And there is nothing that I did not ask him in this connection except this that I did not ask him as to what would turn the people of Medina out from Medina
محمد بن جعفر غندرنے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبد اللہ بن یزید سے اور انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت قائم ہونے تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کی مجھے خبر دی اور ان میں سے کوئی چیز نہیں مگر میں نے آپ سے اس کے بارے میں سوال کیا البتہ میں نے آپ سے یہ سوال نہیں کیا کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے کون سی چیز باہر نکالے گی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters
وہب بن جریر نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، - قَالَ حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، - أَخْبَرَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، حَدَّثَنِي أَبُو زَيْدٍ، - يَعْنِي عَمْرَو بْنَ أَخْطَبَ - قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْفَجْرَ وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ فَنَزَلَ فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَأَخْبَرَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا .
Abu Zaid (viz. Amr b. Akhtab) reported:Allah's Messenger (ﷺ) led us in the dawn prayer and then mounted the pulpit and addressed us until it was (time for the) noon prayer. He then came down the pulpit and observed prayer and then again mounted the pulpit and again addressed us until it was time for the 'Asr prayer. He then again came down and observed the prayer and again mounted the pulpit and addressed us until the sun was set and he informed (about) everything (pertaining to turmoil) that lay hidden in the past and what lies in (the womb) of) the future and the most learned amongst us is one who remembers them well
علباء بن احمر نے کہا : حضرت ابو زید عمرو بن اخطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے بیان کیا کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہوئے تو ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا آپ ( منبرسے ) اترے ہمیں نماز پڑھائی پھر دوبارہ منبر پر رونق افروز ہوئے اور ( آگے ) خطبہ ارشاد فرمایا : یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہوگیا پھر آپ اترے نماز پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ۔ آپ نے جو کچھ ہوا اور جو ہونے والاتھا ( سب ) ہمیں بتادیا ہم میں سے زیادہ جاننے والا وہی ہے جو یا دواشت میں دوسروں سے بڑھ کر ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي، مُعَاوِيَةَ قَالَ ابْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْفِتْنَةِ كَمَا قَالَ قَالَ فَقُلْتُ أَنَا . قَالَ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ وَكَيْفَ قَالَ قَالَ قُلْتُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَنَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ يُكَفِّرُهَا الصِّيَامُ وَالصَّلاَةُ وَالصَّدَقَةُ وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْىُ عَنِ الْمُنْكَرِ " . فَقَالَ عُمَرُ لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ إِنَّمَا أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ - قَالَ - فَقُلْتُ مَا لَكَ وَلَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا قَالَ أَفَيُكْسَرُ الْبَابُ أَمْ يُفْتَحُ قَالَ قُلْتُ لاَ بَلْ يُكْسَرُ . قَالَ ذَلِكَ أَحْرَى أَنْ لاَ يُغْلَقَ أَبَدًا . قَالَ فَقُلْنَا لِحُذَيْفَةَ هَلْ كَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ قَالَ نَعَمْ كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ إِنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ . قَالَ فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ مَنِ الْبَابُ فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ سَلْهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ عُمَرُ .
Hudhaifa reported:We were one day in the company of 'Umar that he said: Who amongst you has preserved in his mind most perfectly the hadith of Allah's Messenger (ﷺ) in regard to the turmoil as he told about it? I said: It is I. Thereupon he said: You are bold (enough to make this claim). And he further said: How? I said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: There would (first) be turmoil for a person in regard to his family, his property, his own self, his children, his neighbours (and the sins committed in their connection) would be expiated by fasting, prayer, charity, enjoining good and prohibiting evil. Thereupon 'Umar said: I do not mean (that turmoil on a small scale) but that one which would emerge like the mounting waves of the ocean. I said: Commander of the Faithful, you have nothing to do with it, for the door is closed between you and that. He said: Would that door be broken or opened? I said: No, it would be broken. Thereupon he said: Then it would not be closed despite best efforts. We said to Hudhaifa: Did Umar know the door? Thereupon he said: Yes, he knew it (for certain) just as one knows that night precedes the next day. And I narrated to him something in which there was nothing fabricated. Shaqiq (one of the narrators) said: We dared not ask Hudhaifa about that door. So we requested Masruq to ask him. So he asked him and he said: (By that door, he meant) 'Umar
ابو معاویہ نے کہا : ہمیں اعمش نے ( ابو وائل ) شقیق سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انھوں نے کہا : فتنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جس طرح آپ نے خود فرمایا تھا تم میں سے کسی کو یاد ہے؟ ( حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے عرض کی : مجھے ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تم بہت جرات مند ہو ۔ ( یہ بتاؤ کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح ارشاد فرمایاتھا؟میں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ فرما رہے تھے ۔ انسان اپنے گھروالوں اپنےمال اپنی جان اور اپنے ہمسائے کے بارے میں جس فتنے میں مبتلا ہوتاہے تو روزہ نماز ، صدقہ ، نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا اس کا کفارہ بن جاتے ہیں ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میری مراد اس سے نہیں میری مراد تواس ( فتنے ) سے ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح امڈکرآتا ہے ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : امیر المؤمنین!آپ کو اس فتنے سے کیا ( خطرہ ) ہے؟آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بنددروازہ ہے ۔ انھوں نے کہا : وہ دروازہ توڑاجائے گا یا کھولا جا ئے گا؟کہا : میں نے جواب دیا نہیں بلکہ توڑاجائےگا ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ ( دروازہ دوبارہ ) کبھی بند نہیں کیا جا سکے گا ۔ ( شقیق نے ) کہا : ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جانتے تھے کہ دروازہ کون ہے؟انھوں نے کہا : ہاں اسی طرح جیسے وہ یہ بات جانتے تھے کہ صبح کے بعد رات ہے میں نے ان کو ایک حدیث بیان کی تھی وہ کوئی اٹکل بچو بات نہ تھی ۔ کہا : پھر ہم اس بات سے ڈرگئے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھیں وہ دروازہ کون تھا؟ ہم نے مسروق سے کہا : آپ ان ( حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے پوچھیں انھوں نے پوچھا تو ( حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : ( وہ دروازہ ) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( تھے)
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَفِي حَدِيثِ عِيسَى عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ، يَقُولُ .
This hadith has been narrated on the authority of Hudhaifa through other chains of transmitters also
وکیع جریر عیسیٰ بن یونس اور یحییٰ بن عیسیٰ سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ابو معاویہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور شقیق سے اعمش اور ان سے عیسیٰ کی حدیث میں یہ ( جملہ ) ہے کہا : میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، وَالأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ عُمَرُ مَنْ يُحَدِّثُنَا عَنِ الْفِتْنَةِ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
Hudhaifa reported that Umar said:Who would narrate to us (the ahadith pertaining to turmoil) and he reported a hadith similar to these ahadith
ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے جامع بن ابی راشد سے اور اعمش نے ابو وائل ( شقیق ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کون ہے جو ہمیں فتنے کے بارے میں حدیث بیان کرے گا؟اور ( پھر ) ا ن سب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ، عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ جُنْدُبٌ جِئْتُ يَوْمَ الْجَرَعَةِ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فَقُلْتُ لَيُهَرَاقَنَّ الْيَوْمَ هَا هُنَا دِمَاءٌ . فَقَالَ ذَاكَ الرَّجُلُ كَلاَّ وَاللَّهِ . قُلْتُ بَلَى وَاللَّهِ . قَالَ كَلاَّ وَاللَّهِ . قُلْتُ بَلَى وَاللَّهِ . قَالَ كَلاَّ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَحَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَنِيهِ . قُلْتُ بِئْسَ الْجَلِيسُ لِي أَنْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ تَسْمَعُنِي أُخَالِفُكَ وَقَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلاَ تَنْهَانِي ثُمَّ قُلْتُ مَا هَذَا الْغَضَبُ فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ وَأَسْأَلُهُ فَإِذَا الرَّجُلُ حُذَيْفَةُ .
Jundub reported:I came on the day of Jara`a that a person was (found) sitting. I said: They would shed their blood today. That person said: By Allah. not at all. I said: By Allah, of course, they would do it. He said: By Allah, they would not do it. I said: By Allah, of course, they would do it. He said: By Allah, they would not do it, and I have heard a hadith of Allah's Messenger (ﷺ) which I am narrating to you in this connection. I said: You are a bad seat fellow. I have been opposing you since morning and you are listening to me in spite of the fact that you have heard a hadith from Allah's Apostle (ﷺ) (contrary to my statement). I myself felt that there was no use of this annoyance. (He could tell me earlier that it was a hadith of the Prophet (may peace be upon him], and I would not have opposed him at all.) I turned my face toward him and asked him and he was Hadrat Hudhaifa
محمد ( بن سیرین ) سے روایت ہے انھوں نے کہا : حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں جرعہ کے دن وہاں آیا تو ( وہاں ) ایک شخص بیٹھا ہوا تھا ۔ میں نے کہا : آج یہاں بہت خونریزی ہو گی ۔ اس شخص نے کہا : اللہ کی قسم!ہر گز نہیں ہو گی ۔ میں نے کہا : اللہ کی قسم!ضرورہو گی اس نے کہا : واللہ !ہر گز نہیں ہو گی ، میں نے کہا واللہ!ضرورہوگی اس نے کہا : واللہ!ہرگز نہیں ہو گی ، یہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جو آپ نے مجھے ارشاد فرمائی تھی ۔ میں نے جواب میں کہا : آج تم میرے لیے آج کے بد ترین ساتھی ( ثابت ہوئے ) ہو ۔ تم مجھ سے سن رہے ہو کہ میں تمھاری مخالفت کرر ہا ہوں اور تم نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہےا س کی بنا پر مجھے روکتے نہیں؟پھر میں نے کہا : یہ غصہ کیسا؟چنانچہ میں ( ٹھیک طرح سے ) ان کی طرف متوجہ ہوا اور ان کے بارے میں پوچھا تو وہ آدمی حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ يَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَيَقُولُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ لَعَلِّي أَكُونُ أَنَا الَّذِي أَنْجُو " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Last Hour would not come before the Euphrates uncovers a mountain of gold, for which people would fight. Ninety-nine out of each one hundred would die but every man amongst them would say that perhaps he would be the one who would be saved (and thus possess this gold)
یعقوب بن عبد الرحمٰن القاری نے ہمیں سہیل سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت نہیں آئے گی ۔ یہاں تک کہ دریائے فرات سونے کے ایک پہاڑ کو ظاہر کرے گا ۔ اس پر ( لڑتے ہوئے ) ہر سو میں سے ننانوے لوگ مارے جائیں گے اور ان ( لڑنے والوں ) میں سے ہر کوئی کہے گا ۔ شاید میں ہی بچ جاؤں گا ۔ ( اور سارے سونے کا مالک بن جاؤں گا ۔)
وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ فَقَالَ أَبِي إِنْ رَأَيْتَهُ فَلاَ تَقْرَبَنَّهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters but with this addition:" My father said: If you see that, do not even go near it
روح نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق حدیث بیان کی اور مزید کہا : تو میرے والد نے کہا : اگر تم اس پہاڑ کو دیکھ لو تو اس کے قریب بھی مت جانا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ، سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ فَمَنْ حَضَرَهُ فَلاَ يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Last Hour would not come unless the Euphrates would uncover a treasure of gold, so he who finds it should not take anything out of that
حفص بن عاصم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عنقریب دریائے فرات سونے کے ایک خزانے کو ظاہر کردےگا جو شخص وہاں موجودہو تو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے ۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ فَمَنْ حَضَرَهُ فَلاَ يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Euphrates would soon uncover a mountain of gold but he who is present there should not take anything from that
عبد الرحمٰن اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عنقریب دریائے فرات سونے کے ایک پہاڑ کو ظاہر کردےگا ۔ جو شخص وہاں موجود ہووہ اس میں سے کچھ نہ لے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِي مَعْنٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ، يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ كُنْتُ وَاقِفًا مَعَ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ فَقَالَ لاَ يَزَالُ النَّاسُ مُخْتَلِفَةً أَعْنَاقُهُمْ فِي طَلَبِ الدُّنْيَا . قُلْتُ أَجَلْ . قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ فَإِذَا سَمِعَ بِهِ النَّاسُ سَارُوا إِلَيْهِ فَيَقُولُ مَنْ عِنْدَهُ لَئِنْ تَرَكْنَا النَّاسَ يَأْخُذُونَ مِنْهُ لَيُذْهَبَنَّ بِهِ كُلِّهِ قَالَ فَيَقْتَتِلُونَ عَلَيْهِ فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ " . قَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَقَفْتُ أَنَا وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ فِي ظِلِّ أُجُمِ حَسَّانَ .
Abdullah b. Harith b. Naufal reported:I was standing along with Ubayy b. Ka`b and he said: The opinions of the people differ in regard to the achievement of worldly ends. I said: Yes, of course. Thereupon he said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: The Euphrates would soon uncover a mountain of gold and when the people would bear of it they would flock towards it but the people who would possess that (treasure) (would say): If we allow these persons to take out of it they would take away the whole of it. So they would fight and ninety-nine out of one hundred would be killed. Abu Kamil in his narration said: I and Ubayy b. Ka`b stood under the shade of the battlement of Hassan
ابو کامل فضیل بن حسین اور ابو معن رقاشی نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ الفاظ ابومعن کے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں خالد بن حارث نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبد الحمید بن جعفر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے میرے والد نے سلیمان بن یسار سے خبردی ، انھوں نے عبد اللہ بن حارث بن نوفل سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کھڑا تھا تو انھوں نےکہا : دنیا کی طلب میں لوگوں کی گردنیں مسلسل ایک دوسرے سے مختلف ( اور باہمی جھگڑے اور عداوتیں جاری ) رہیں گی ۔ میں نے کہا : ہاں ( بالکل ایسے ہی ہو گا ) انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "" ( وہ و قت ) قریب ہے کہ دریائےفرات سونے کے ایک پہاڑ کو ظاہر کرے گا ۔ جب لوگ اس کے بارے میں سنیں گے تو اس کی طرف چل نکلیں گے ۔ جو لوگ اس ( پہاڑ ) کے قریب ہوں گےوہ کہیں گے ۔ اگر ہم نے ( دوسرے ) لوگوں کو اس میں سے ( سونا ) لےجانے کی اجازت دے دی تو وہ سب کا سب لے جائیں گے کہا : وہ اس پر جنگ آزماہوں کے تو ہر سو میں سے ننانوے قتل ہو جائیں گے ۔ ابو کامل نے اپنی حدیث میں ( اس طرح ) کہا : انھوں نے کہا : میں اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ قلعہ حسان کے سائے میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِعُبَيْدٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنَعَتِ الْعِرَاقُ دِرْهَمَهَا وَقَفِيزَهَا وَمَنَعَتِ الشَّأْمُ مُدْيَهَا وَدِينَارَهَا وَمَنَعَتْ مِصْرُ إِرْدَبَّهَا وَدِينَارَهَا وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ " . شَهِدَ عَلَى ذَلِكَ لَحْمُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَدَمُهُ .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Iraq would withhold its dirhams and qafiz; Syria would withhold its mudd and dinar and Egypt would withhold its irdab and dinar and you would recoil to that position from where you started and you would recoil to that position from where you started and you would recoil to that position from where you started, the flesh and blood of Abu Huraira would bear testimony to it
ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( میں دیکھ رہا ہوں کہ ) عراق نے اپنے درہم اور قفیر کو روک لیا ہے اور شام نے اپنا مدی اور دینار روک لیاہے اور مصر نے اپنا اردب اور دینار روک لیا ہے اور تم وہیں پہنچ گئے ہو جہاں سے تمھارا آغاز تھا اور تم وہیں پہنچ گئے ہو جہاں سے تمھارا آغاز تھا ۔ اور تم وہیں پہنچ گئےہو ۔ جہاں تمھارا آغاز تھا ۔ اس پر ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گوشت اور خون گواہ ہے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْزِلَ الرُّومُ بِالأَعْمَاقِ أَوْ بِدَابِقَ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنَ الْمَدِينَةِ مِنْ خِيَارِ أَهْلِ الأَرْضِ يَوْمَئِذٍ فَإِذَا تَصَافُّوا قَالَتِ الرُّومُ خَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الَّذِينَ سَبَوْا مِنَّا نُقَاتِلْهُمْ . فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ لاَ وَاللَّهِ لاَ نُخَلِّي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا . فَيُقَاتِلُونَهُمْ فَيَنْهَزِمُ ثُلُثٌ لاَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا وَيُقْتَلُ ثُلُثُهُمْ أَفْضَلُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ وَيَفْتَتِحُ الثُّلُثُ لاَ يُفْتَنُونَ أَبَدًا فَيَفْتَتِحُونَ قُسْطُنْطِينِيَّةَ فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْغَنَائِمَ قَدْ عَلَّقُوا سُيُوفَهُمْ بِالزَّيْتُونِ إِذْ صَاحَ فِيهِمُ الشَّيْطَانُ إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَلَفَكُمْ فِي أَهْلِيكُمْ . فَيَخْرُجُونَ وَذَلِكَ بَاطِلٌ فَإِذَا جَاءُوا الشَّأْمَ خَرَجَ فَبَيْنَمَا هُمْ يُعِدُّونَ لِلْقِتَالِ يُسَوُّونَ الصُّفُوفَ إِذْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَأَمَّهُمْ فَإِذَا رَآهُ عَدُوُّ اللَّهِ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ فَلَوْ تَرَكَهُ لاَنْذَابَ حَتَّى يَهْلِكَ وَلَكِنْ يَقْتُلُهُ اللَّهُ بِيَدِهِ فَيُرِيهِمْ دَمَهُ فِي حَرْبَتِهِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Last Hour would not come until the Romans would land at al-A'maq or in Dabiq. An army consisting of the best (soldiers) of the people of the earth at that time will come from Medina (to counteract them). When they will arrange themselves in ranks, the Romans would say: Do not stand between us and those (Muslims) who took prisoners from amongst us. Let us fight with them; and the Muslims would say: Nay, by Allah, we would never get aside from you and from our brethren that you may fight them. They will then fight and a third (part) of the army would run away, whom Allah will never forgive. A third (part of the army) which would be constituted of excellent martyrs in Allah's eye, would be killed and the third who would never be put to trial would win and they would be conquerors of Constantinople. And as they would be busy in distributing the spoils of war (amongst themselves) after hanging their swords by the olive trees, the Satan would cry: The Dajjal has taken your place among your family. They would then come out, but it would be of no avail. And when they would come to Syria, he would come out while they would be still preparing themselves for battle drawing up the ranks. Certainly, the time of prayer shall come and then Jesus (peace be upon him) son of Mary would descend and would lead them. When the enemy of Allah would see him, it would (disappear) just as the salt dissolves itself in water and if he (Jesus) were not to confront them at all, even then it would dissolve completely, but Allah would kill them by his hand and he would show them their blood on his lance (the lance of Jesus Christ)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت قائم نہیں ہو گی ، یہاں تک کہ رومی ( عیسائی ) اعماق ( شام میں حلب اور انطاکیہ کے درمیان ایک پر فضا علاقہ جو دابق شہر سے متصل واقع ہے ) یا دابق میں اتریں گے ۔ ان کے ساتھ مقابلے کے لیے ( دمشق ) شہر سے ( یامدینہ سے ) اس وقت روئے زمین کے بہترین لوگوں کا ایک لشکر روانہ ہو گا جب وہ ( دشمن کے سامنے ) صف آراءہوں گے تو رومی ( عیسائی ) کہیں گے تم ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ جنھوں نے ہمارے لوگوں کو قیدی بنایا ہوا ہے ہم ان سے لڑیں گے تو مسلمان کہیں گے ۔ اللہ کی قسم!نہیں ہم تمھارے اور اپنے بھائیوں کے درمیان سے نہیں ہٹیں گے ۔ چنانچہ وہ ان ( عیسائیوں ) سے جنگ کریں گے ۔ ان ( مسلمانوں ) میں سے ایک تہائی شکست تسلیم کر لیں گے اللہ ان کی توبہ کبھی قبول نہیں فرمائے گا اور ایک تہائی قتل کر دیے جائیں گے ۔ وہ اللہ کے نزدیک افضل ترین شہداء ہوں گے اور ایک تہائی فتح حاصل کریں گے ۔ وہ کبھی فتنے میں مبتلا نہیں ہوں گے ۔ ( ہمیشہ ثابت قدم رہیں گے ) اور قسطنطنیہ کو ( دوبارہ ) فتح کریں گے ۔ ( پھر ) جب وہ غنیمتیں تقسیم کر رہے ہوں گے اور اپنے ہتھیار انھوں نے زیتون کے درختوں سے لٹکائے ہوئے ہوں گے تو شیطان ان کے درمیان چیخ کر اعلان کرے گا ۔ مسیح ( دجال ) تمھارےپیچھے تمھارے گھر والوں تک پہنچ چکا ہے وہ نکل پڑیں گے مگر یہ جھوٹ ہو گا ۔ جب وہ شام ( دمشق ) پہنچیں گے ۔ تووہ نمودار ہو جا ئے گا ۔ اس دوران میں جب وہ جنگ کے لیے تیاری کررہے ہوں گے ۔ صفیں سیدھی کر رہے ہوں گے تو نماز کے لیے اقامت کہی جائے گی اس وقت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے تو ان کا رخ کریں گے پھر جب اللہ کا دشمن ( دجال ) ان کو دیکھے گاتو اس طرح پگھلےگا جس طرح نمک پانی میں پگھلتا ہے اگر وہ ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) اسے چھوڑ بھی دیں تو وہ پگھل کر ہلاک ہوجائے گا لیکن اللہ تعالیٰ اسے ان ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) کے ہاتھ سے قتل کرائے گااور لوگوں کو ان کے ہتھیارپر اس کا خون دکھائےگا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُلَىٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ الْمُسْتَوْرِدُ الْقُرَشِيُّ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ " . فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو أَبْصِرْ مَا تَقُولُ . قَالَ أَقُولُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ إِنَّ فِيهِمْ لَخِصَالاً أَرْبَعًا إِنَّهُمْ لأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ وَأَسْرَعُهُمْ إِفَاقَةً بَعْدَ مُصِيبَةٍ وَأَوْشَكُهُمْ كَرَّةً بَعْدَ فَرَّةٍ وَخَيْرُهُمْ لِمِسْكِينٍ وَيَتِيمٍ وَضَعِيفٍ وَخَامِسَةٌ حَسَنَةٌ جَمِيلَةٌ وَأَمْنَعُهُمْ مِنْ ظُلْمِ الْمُلُوكِ .
Mustaurid al-Qurashi reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: The Last Hour would come (when) the Romans would form a majority amongst people. 'Amr said to him (Mustaurid Qurashi): See what you are saying? He said: I say what I heard from Allah's Messenger (ﷺ). Thereupon he said: If you say that, it is a fact for they have four qualities. They have the patience to undergo a trial and immediately restore themselves to sanity after trouble and attack again after flight. They (have the quality) of being good to the destitute and the orphans, to the weak and, fifthly, the good quality in them is that they put resistance against the oppression of kings
موسیٰ بن علی نے اپنے والد سے روایت کی انھوں نے کہا : حضرت مستورد قرشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " قیامت آئے گی تورومی ( عیسائی ) لوگوں میں سب سے زیادہ ہوں گے ۔ : " حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : دیکھ لوتم کیا کہہ رہے ہو ۔ انھوں نے کہا : میں وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہے ۔ ( حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اگر تم نے یہ کہا ہے تو ان میں چار خصلتیں ہیں وہ آزمائش کے وقت سب لوگوں سے زیادہ برد بار ہیں اور مصیبت کے بعد سب لوگوں کی نسبت جلد اس سے سنبھلتے ہیں اور پیچھے ہٹنے کے بعد سب لوگوں کی نسبت جلد دوبارہ حملہ کرتے ہیں اور مسکینوں یتیموں اور کمزوروں کے لیے سب لوگوں کی نسبت بہتر ہیں اور پانچویں خصلت بہت اچھی اور خوبصورت ہے وہ سب لوگوں سے بڑھ کر بادشاہوں کے ظلم کو روکنے والے ہیں ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ، أَنَّ عَبْدَ الْكَرِيمِ بْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْمُسْتَوْرِدَ الْقُرَشِيَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ " . قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ فَقَالَ مَا هَذِهِ الأَحَادِيثُ الَّتِي تُذْكَرُ عَنْكَ أَنَّكَ تَقُولُهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ الْمُسْتَوْرِدُ قُلْتُ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَقَالَ عَمْرٌو لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ إِنَّهُمْ لأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ وَأَجْبَرُ النَّاسِ عِنْدَ مُصِيبَةٍ وَخَيْرُ النَّاسِ لِمَسَاكِينِهِمْ وَضُعَفَائِهِمْ .
Mustaurid Qurashi reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: The Last Hour would come when the Romans would form a majority amongst people. This reached 'Amr b. al-'As and he said: What are these ahadith which are being transmitted from you and which you claim to have heard from Allah's Messenger (ﷺ)? Mustaurid said to him: I stated only that which I heard from Allah's Messenger (ﷺ). Thereupon 'Amr said: If you state this (it is true), for they have the power of tolerance amongst people at the time of turmoil and restore themselves to sanity after trouble, and are good amongst people so far as the destitute and the weak are concerned
عبد الکریم بن حارث نے ابو شریح کو حدیث بیان کی کہ حضرت مستوردقرشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " قیامت آئے گی تورومی ( عیسائی ) لوگوں میں سب سے زیادہ ہوں گے ۔ " کہا : حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ خبر پہنچی تو انھوں نے ان سے کہا : یہ کیسی احادیث ہیں جو تمھاری طرف سے بیان کی جارہی ہیں ۔ کہ تم ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہو؟حضرت مستورد قرشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے وہی کچھ کہا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا : ( مستورد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا کہ حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اگر تم یہ کہہ رہے ہو ( توسنو! ) یقیناًوہ آزمائش کے وقت سب لوگوں سے بڑھ کر بردبار ہیں مصیبت پیش آنے پر سب لوگوں سے زیادہ سخت جان ہیں اور اپنے مسکینوں اور کمزوروں کے حق میں سب لوگوں کی نسبت بہترہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حُجْرٍ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، الْعَدَوِيِّ عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ هَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ هِجِّيرَى إِلاَّ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ جَاءَتِ السَّاعَةُ . قَالَ فَقَعَدَ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَقَالَ إِنَّ السَّاعَةَ لاَ تَقُومُ حَتَّى لاَ يُقْسَمَ مِيرَاثٌ وَلاَ يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ . ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا - وَنَحَّاهَا نَحْوَ الشَّأْمِ - فَقَالَ عَدُوٌّ يَجْمَعُونَ لأَهْلِ الإِسْلاَمِ وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الإِسْلاَمِ . قُلْتُ الرُّومَ تَعْنِي قَالَ نَعَمْ وَتَكُونُ عِنْدَ ذَاكُمُ الْقِتَالِ رَدَّةٌ شَدِيدَةٌ فَيَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لاَ تَرْجِعُ إِلاَّ غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ فَيَفِيءُ هَؤُلاَءِ وَهَؤُلاَءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لاَ تَرْجِعُ إِلاَّ غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ فَيَفِيءُ هَؤُلاَءِ وَهَؤُلاَءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لاَ تَرْجِعُ إِلاَّ غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يُمْسُوا فَيَفِيءُ هَؤُلاَءِ وَهَؤُلاَءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الرَّابِعِ نَهَدَ إِلَيْهِمْ بَقِيَّةُ أَهْلِ الإِسْلاَمِ فَيَجْعَلُ اللَّهُ الدَّبْرَةَ عَلَيْهِمْ فَيَقْتُلُونَ مَقْتَلَةً - إِمَّا قَالَ لاَ يُرَى مِثْلُهَا وَإِمَّا قَالَ لَمْ يُرَ مِثْلُهَا - حَتَّى إِنَّ الطَّائِرَ لَيَمُرُّ بِجَنَبَاتِهِمْ فَمَا يُخَلِّفُهُمْ حَتَّى يَخِرَّ مَيْتًا فَيَتَعَادُّ بَنُو الأَبِ كَانُوا مِائَةً فَلاَ يَجِدُونَهُ بَقِيَ مِنْهُمْ إِلاَّ الرَّجُلُ الْوَاحِدُ فَبِأَىِّ غَنِيمَةٍ يُفْرَحُ أَوْ أَىُّ مِيرَاثٍ يُقَاسَمُ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعُوا بِبَأْسٍ هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ فَجَاءَهُمُ الصَّرِيخُ إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَهُمْ فِي ذَرَارِيِّهِمْ فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ وَيُقْبِلُونَ فَيَبْعَثُونَ عَشَرَةَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَعْرِفُ أَسْمَاءَهُمْ وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ يَوْمَئِذٍ أَوْ مِنْ خَيْرِ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ يَوْمَئِذٍ " . قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ .
Yusair b. Jabir reported:Once there blew a red storm in Kufah that there came a person who had nothing to say but (these words): `Abdullah b. Mas`ud, the Last Hour has come. He (`Abdullah b. Mas`ud) was sitting reclining against something, and he said: The Last Hour would not come until shares of inheritance are not distributed and there is no rejoicing over spoils of war. Then he said pointing towards Syria, with the gesture of his hand like this: The enemy shall muster strength against Muslims and the Muslims will muster strength against them (Syrians). I said: You mean Rome? And he said: Yes, and there would be a terrible fight and the Muslims would prepare a detachment (for fighting unto death) which would not return but victorious. They will fight until night will intervene them; both the sides will return without being victorious and both will be wiped out. The Muslims will again prepare a detachment for fighting unto death so that they may not return but victorious. When it would be the fourth day, a new detachment out of the remnant of the Muslims would be prepared and Allah will decree that the enemy should be routed. And they would fight such a fight the like of which would not be seen, so much so that even if a bird were to pass their flanks, it would fall down dead before reaching the end of them. (There would be such a large scale massacre) that when counting would be done, (only) one out of a hundred men related to one another would be found alive. So what can be the joy at the spoils of such war and what inheritance would be divided! They would be in this very state that they would hear of a calamity more horrible than this. And a cry would reach them: The Dajjal has taken your place among your offspring. They will, therefore, throw away what would be in their hands and go forward sending ten horsemen, as a scouting party. Allah's Messenger (ﷺ) said: I know their names and the names of their forefathers and the color of their horses. They will be the best horsemen on the surface of the earth on that day or amongst the best horsemen on the surface of the earth on that day
ابو بکر بن ابی شیبہ اور علی بن حجر نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے ابن علیہ سے روایت کی ۔ اور الفاظ ابن حجرکےہیں ۔ کہا : ہمیں اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حمید بن بلال سے ، انھوں نےابو قتادہ عدوی سے اور انھوں نے یسیر بن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : ایک مرتبہ کوفہ میں سرخ آندھی آئی تو ایک شخص آیا اس کا تکیہ کلام ہی یہ تھا ۔ عبد اللہ بن مسعود !قیامت آگئی ہے ۔ وہ ( عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نیک لگائے ہوئے تھے ( یہ بات سنتے ہی ) اٹھ کر بیٹھ گئے ، پھر کہنے لگے ۔ قیامت نہیں آئے گی ۔ یہاں تک کہ نہ میراث کی تقسیم ہو گی نہ غنیمت حاصل ہونے کی خوشی پھر انھوں نے اس طرح ہاتھ سے اشارہ کیا اور اس کا رخ شام کی طرف کیا اور کہا : دشمن ( غیر مسلم ) اہل اسلام کے خلاف اکٹھے ہو جا ئیں گے اور اہل اسلام ان کے ( مقابلے کے ) لیے اکٹھے ہو جا ئیں گے ۔ میں نے کہا : آپ کی مراد رومیوں ( عیسائیوں ) سے ہے؟انھوں نے کہا : ہاں پھر کہا : تمھاری اس جنگ کے زمانے میں بہت زیادہ پلٹ پلٹ کر حملے ہوں گے ۔ مسلمان موت کی شرط قبول کرنے والے دستے آگے بھیجیں کے کہ وہ غلبہ حاصل کیے بغیر واپس نہیں ہوں گے ( وہیں اپنی جانیں دے دیں گے ۔ ) پھر وہ سب جنگ کریں گے ۔ حتیٰ کہ رات درمیان میں حائل ہو جائے گی ۔ یہ لو گ بھی واپس ہوجائیں گے اور وہ بھی ۔ دونوں ( میں سےکسی ) کوغلبہ حاصل نہیں ہو گا ۔ اور ( موت کی ) شرط پرجانے والے سب ختم ہو جا ئیں گے ۔ پھر مسلمان موت کی شرط پر ( جانے والے دوسرے ) دستےکو آکے کریں گے کہ وہ غالب آئے بغیر واپس نہیں آئیں گےپھر ( دونوں فریق ) جنگ کریں گے ۔ یہاں تک کہ ان کے درمیان رات حائل ہو جائے گی ۔ یہ بھی واپس ہو جا ئیں اور وہ بھی کوئی بھی غالب نہیں ( آیا ) ہو گااورموت کی شرط پر جانے والے ختم ہوجائیں گے ۔ پھر مسلمان موت کے طلبگاروں کادستہ آگے کریں گے ۔ اور شام تک جنگ کریں گے ، پھر یہ بھی واپس ہو جا ئیں گے اور وہ بھی کوئی بھی غالب نہیں ( آیا ) ہو گا اور موت کے طلبگار ختم ہو جا ئیں گے ۔ جب چوتھا دن ہو گا تو باقی تمام اہل اسلام ان کے خلاف انھیں کے ، اللہ تعالیٰ ( جنگ کے ) چکرکوان ( کافروں ) کے خلاف کردے گا ۔ وہ سخت خونریزجنگ کریں گے ۔ انھوں نے یا تویہ الفاظ کہے ۔ اس کی مثال نہیں دیکھی جائے گی ۔ یہاں تک کہ پرندہ ان کے پہلوؤں سے گزرے گاوہ ان سے جونہی گزرےگامرکز جائے گا ۔ ( ہوابھی اتنی زہریلی ہو جا ئےگی ۔ ) ایک باپ کی اولاد اپنی گنتی کرے گی ، جو سوتھے ، تو ان میں سے ایک کے سواکوئی نہ بچا ہوگا ۔ ( اب ) وہ کس غنیمت پر خوش ہوں گے ۔ اور کیسا ورثہ ( کن وارثوں میں ) تقسیم کریں گے ۔ وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ ایک ( نئی ) مصیبت کے بارے میں سنیں گے ۔ جو اس سے بھی بڑی ہوگی ۔ ان تک یہ زوردار پکار پہنچےگی ۔ کہ دجال ان کے پیچھے ان کے بال بچوں تک پہنچ گیا ہے ۔ ان کے ہاتھوں میں جو ہوگا ۔ سب کچھ پھینک دیں گے اور تیزی سے آئیں گے اور دس جاسوس شہسوار آگے بھیجیں گے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں ان کے اور ان کے آباء کے نام اور ان کےگھوڑوں ( سواریوں ) کے رنگ تک پہچانتا ہوں ۔ وہ اسوقت روئے زمین پر بہترین شہسوار ہوں گے ۔ یا ( فرمایا : ) روئے زمین کے بہترین شہسواروں میں سے ہوں گے ۔ "" ابن ابی شیبہ نے ا پنی روایت میں ( یسیر کے بجائے ) کہا : اسیر بن جابر سے مروی ہے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ، هِلاَلٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَهَبَّتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ . وَحَدِيثُ ابْنُ عُلَيَّةَ أَتَمُّ وَأَشْبَعُ .
Jabir reported:I was in the company of Ibn Mas'ud that there blew a red storm. The rest of the hadith is the same
حماد بن زید نے ایوب سے ، انھوں نے حمید بن ہلال سے ، انھوں نے ابو قتادہ سے اور انھوں نے یسیرین جابر سے روایت کی ، کہا : میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھا کہ سرخ آندھی آئی ، پھر اسی کے مطابق حدیث بیان کی ، البتہ ابن علیہ کی روایت مکمل اورسیر حاصل ہے ۔
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ - حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، - يَعْنِي ابْنَ هِلاَلٍ - عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ كُنْتُ فِي بَيْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَالْبَيْتُ مَلآنُ - قَالَ - فَهَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ .
Jabir reported:I was in the house of 'Abdullah b. Mas'ud and the house was fully packed that a red storm blew in Kufah
شیبان بن فروخ نے کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حمید بن ہلال نے ابو قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اسیر بن جابرسے روایت کی ، کہا : ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں تھے جبکہ گھر بھرا ہوا تھا ۔ کہا : اس وقت کوفہ میں سرخ آندھی چلی ، پھر ابن علیہ کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةٍ - قَالَ - فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ عَلَيْهِمْ ثِيَابُ الصُّوفِ فَوَافَقُوهُ عِنْدَ أَكَمَةٍ فَإِنَّهُمْ لَقِيَامٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاعِدٌ - قَالَ - فَقَالَتْ لِي نَفْسِي ائْتِهِمْ فَقُمْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ لاَ يَغْتَالُونَهُ - قَالَ - ثُمَّ قُلْتُ لَعَلَّهُ نَجِيٌّ مَعَهُمْ . فَأَتَيْتُهُمْ فَقُمْتُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ - قَالَ - فَحَفِظْتُ مِنْهُ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ أَعُدُّهُنَّ فِي يَدِي قَالَ " تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ " . قَالَ فَقَالَ نَافِعٌ يَا جَابِرُ لاَ نَرَى الدَّجَّالَ يَخْرُجُ حَتَّى تُفْتَحَ الرُّومُ .
Nafi' b. Utba reported:We were with Allah's Messenger (ﷺ) in an expedition that there came a people to Allah's Apostle (ﷺ) from the direction of the west. They were dressed in woollen clothes and they stood near a hillock and they met him as Allah's Messenger (ﷺ) was sitting. I said to myself: Better go to them and stand between him and them that they may not attack him. Then I thought that perhaps there had been going on secret negotiation amongst them. I however, went to them and stood between them and him and I remember four of the words (on that occasion) which I repeat (on the fingers of my hand) that he (Allah's Messenger) said: You will attack Arabia and Allah will enable you to conquer it, then you would attack Persia and He would make you to conquer it. Then you would attack Rome and Allah will enable you to conquer it, then you would attack the Dajjal and Allah will enable you to conquer him. Nafi' said: Jabir, we thought that the Dajjal would appear after Rome (Syrian territory) would be conquered
عبدالملک بن عمیر نے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے حضرت نافع بن عتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم ایک جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ مغرب کی طرف سے آئے جو اون کے کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ٹیلے کے پاس آ کر ملے ۔ وہ لوگ کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ۔ میرے دل نے کہا کہ تو چل اور ان لوگوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں جا کر کھڑا ہو ، ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ فریب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مار ڈالیں ۔ پھر میرے دل نے کہا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپکے سے کچھ باتیں ان سے کرتے ہوں ( اور میرا جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزرے ) ۔ پھر میں گیا اور ان لوگوں کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں کھڑا ہو گیا ۔ پس میں نے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چار باتیں یاد کیں ، جن کو میں اپنے ہاتھ پر گنتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پہلے تو عرب کے جزیرہ میں ( کافروں سے ) جہاد کرو گے ، اللہ تعالیٰ اس کو فتح کر دے گا ۔ پھر فارس ( ایران ) سے جہاد کرو گے ، اللہ تعالیٰ اس پر بھی فتح کر دے گا پھر نصاریٰ سے لڑو گے روم والوں سے ، اللہ تعالیٰ روم کو بھی فتح کر دے گا ۔ پھر دجال سے لڑو گے اور اللہ تعالیٰ اس کو بھی فتح کر دے گا ( یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا معجزہ ہے ) ۔ نافع نے کہا کہ اے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! ہم سمجھتے ہیں کہ دجال روم فتح ہونے کے بعد ہی نکلے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ فُرَاتٍ، الْقَزَّازِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ اطَّلَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ فَقَالَ " مَا تَذَاكَرُونَ " . قَالُوا نَذْكُرُ السَّاعَةَ . قَالَ " إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ " . فَذَكَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ وَالدَّابَّةَ وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَنُزُولَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صلى الله عليه وسلم وَيَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَثَلاَثَةَ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ .
Hudhaifa b. Usaid al-Ghifari reported:Allah's Messenger (ﷺ) came to us all of a sudden as we were (busy in a discussion). He said: What do you discuss about? They (the Companions) said. We are discussing about the Last Hour. Thereupon he said: It will not come until you see ten signs before and (in this connection) he made a mention of the smoke, Dajjal, the beast, the rising of the sun from the west, the descent of Jesus son of Mary (Allah be pleased with him), the Gog and Magog, and land-slides in three places, one in the east, one in the west and one in Arabia at the end of which fire would burn forth from the Yemen, and would drive people to the place of their assembly
سفیان بن عینیہ نے فرات قزازسے ، انھوں نے ابوطفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نےحضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم باتیں کر رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کیا باتیں کر رہے ہو؟ ہم نے کہا کہ قیامت کا ذکر کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ دس نشانیاں اس سے پہلے نہیں دیکھ لو گے ۔ پھر ذکر کیا دھوئیں کا ، دجال کا ، زمین کے جانور کا ، سورج کے مغرب سے نکلنے کا ، عیسیٰ علیہ السلام کے اترنے کا ، یاجوج ماجوج کے نکلنے کا ، تین جگہ خسف کا یعنی زمین کا دھنسنا ایک مشرق میں ، دوسرے مغرب میں ، تیسرے جزیرہ عرب میں ۔ اور ان سب نشانیوں کے بعد ایک آگ پیدا ہو گی جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی ان کے ( میدان ) محشر کی طرف لے جائے گی ۔