VisualDhikr|Collections

Sahih Muslim

The Book of Jihad and Expeditions

Book 32 · 178 hadith

Sahih Muslim 32:1sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الدُّعَاءِ، قَبْلَ الْقِتَالِ قَالَ فَكَتَبَ إِلَىَّ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى سَبْيَهُمْ وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ - قَالَ يَحْيَى أَحْسِبُهُ قَالَ - جُوَيْرِيَةَ - أَوْ قَالَ الْبَتَّةَ - ابْنَةَ الْحَارِثِ وَحَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَكَانَ فِي ذَاكَ الْجَيْشِ

Ibn 'Aun reported:I wrote to Nafi' inquiring from him whether it was necessary to extend (to the disbelievers) an invitation to accept (Islam) before meeting them in fight. He wrote (in reply) to me that it was necessary in the early days of Islam. The Messenger of Allah (ﷺ) made a raid upon Banu Mustaliq while they were unaware and their cattle were having a drink at the water. He killed those who fought and imprisoned others. On that very day, he captured Juwairiya bint al-Harith. Nafi' said that this tradition was related to him by Abdullah b. Umar who (himself) was among the raiding troops

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا : سلیم بن اخضر نے ہمیں ابن عون سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے قتال سے پہلے ( اسلام کی ) دعوت دینے کے بارے میں پوچھنے کے لیے نافع کو خط لکھا ۔ کہا : تو انہوں نے مجھے جواب لکھا : یہ شروع اسلام میں تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر حملہ کیا جبکہ وہ بے خبر تھے اور ان کے مویشی پانی پی رہے تھے ، آپ نے ان کے جنگجو افراد کو قتل کیا اور جنگ نہ کرنے کے قابل لوگوں کو قیدی بنایا اور آپ کو اس دن ۔ یحییٰ نے کہا : میرا خیال ہے ، انہوں نے کہا : جویریہ ۔ یا قطیعت سے بنت حارث کہا ۔ ملیں ۔ مجھے یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کی اور وہ اس لشکر میں موجود تھے

Sahih Muslim 32:2sahih

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ وَقَالَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ ‏.‏ وَلَمْ يَشُكَّ ‏.‏

This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Aun and the name of Juwairiya bint al-Harith was mentioned beyond any doubt

ابن ابی عدی نے ابن عون سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور انہوں نے جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کہا ، شک نہیں کیا

Sahih Muslim 32:4sahih

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا أَوْ سَرِيَّةً دَعَاهُ فَأَوْصَاهُ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ ‏.‏

Sulaiman b. Buraida repotted on the authority of his father that when Allah's Messenger (ﷺ) sent an Amir with a detachment he called him and advised him. The rest of the hadith is the same

عبدالصمد بن عبدالوارث نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے علقمہ بن مرثد نے حدیث بیان کی کہ انہیں سلیمان بن بریدہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی امیر کو یا چھوٹے لشکر کو روانہ کرتے تو آپ اسے بلاتے اور تلقین فرماتے ۔ ۔ پھر انہوں ( شعبہ ) نے سفیان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی

Sahih Muslim 32:5sahih

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا ‏.‏

This hadith has been transmitted on the authority of Shu'ba

حسین بن ولید نے شعبہ سے یہی حدیث روایت کی

Sahih Muslim 32:6sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ قَالَ ‏ "‏ بَشِّرُوا وَلاَ تُنَفِّرُوا وَيَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا ‏"‏ ‏.‏

It has been narrated on the authority of Abu Masa that when the Messenger of Allah (ﷺ) deputed any of his Companions on a mission, he would say:Give tidings (to the people) ; do not create (in their minds) aversion (towards religion) ; show them leniency and do not be hard upon them

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو جب اپنے کسی معاملے کی ذمہ داری دے کر روانہ کرتے تو فرماتے : " خوشخبری دو ، دور نہ بھگاؤ ، آسانی پیدا کرو اور مشکل میں نہ ڈالو

Sahih Muslim 32:7sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَهُ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ ‏ "‏ يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا وَتَطَاوَعَا وَلاَ تَخْتَلِفَا ‏"‏ ‏.‏

It has also been narrated by Sa'd b. Abu Burda through his father through his grandfather that the Prophet of Allah (ﷺ) sent him and Mu'adh (on a mission) to the Yemen, and said (by way of advising them):Show leniency (to the people) ; don't be hard upon them; give them glad tidings (of Divine favours in this world and the Hereafter) ; and do not create aversion. Work in collaboration and don't be divided

شعبہ نے سعید بن ابی بردہ سے ، انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا ( حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا : " تم دونوں آسانی پیدا کرنا ، مشکل میں نہ ڈالنا ، خوشخبری دینا ، دور نہ بھگانا ، آپس میں اتفاق رکھنا ، اختلاف نہ کرنا

Sahih Muslim 32:8sahih

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ‏ "‏ وَتَطَاوَعَا وَلاَ تَخْتَلِفَا ‏"‏ ‏.‏

This hadith has been transmitted on the authority of Buraida but for the last two words

عمرو اور زید بن ابی انیسہ دونوں نے سعید بن ابی بردہ سے روایت کی ، انہوں نے اپنے والد سے ( آگے ) اپنے دادا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شعبہ کی حدیث کی طرح روایت کی ۔ اور زید بن ابی انیسہ کی حدیث میں یہ نہیں ہے : " دونوں آپس میں اتفاق رکھنا اور اختلاف نہ کرنا

Sahih Muslim 32:9sahih

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، ح. وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ، الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا وَسَكِّنُوا وَلاَ تُنَفِّرُوا ‏"‏

The Messenger of Allah (may peace he upon him) has been reported by Anas b. Malik to have said:Show leniency; do not be hard; give solace and do not create aversion

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آسانی کرو ، دشواری پیدا نہ کرو ، اطمینان دلاؤ اور دور نہ بھگاؤ

Sahih Muslim 32:10sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ، بْنُ حَرْبٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ - يَعْنِي أَبَا قُدَامَةَ السَّرَخْسِيَّ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرْفَعُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ فَقِيلَ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلاَنِ بْنِ فُلاَنٍ ‏"‏ ‏.‏

It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:When Allah will gather together, on the Day of Judgment, all the earlier and later generations of mankind, a flag will be raised (to mark off) every person guilty of breach of faith, and it will be announced that this is the perfidy of so and so, son of so and so (to attract the attention of people to his guilt)

عبیداللہ نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن اللہ جب پہلے آنے والوں اور بعد میں آنے والوں کو جمع کرے گا تو بدعہدی کرنے والے ہر شخص کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا : یہ فلاں بن فلاں کی بدعہدی ( کا نشان ) ہے

Sahih Muslim 32:11sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar through some other Chains of transmitters

ایوب اور صخر بن جویریہ دونوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی

Sahih Muslim 32:12sahih

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْغَادِرَ يَنْصِبُ اللَّهُ لَهُ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ أَلاَ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلاَنٍ ‏"‏ ‏.‏

This hadith has been narrated by another chain of transmitters on the authority of the same narrator, with the wording:Allah will set up a flag for every person guilty of breach of faith on the Day of Judgment, and it will be announced: Look, this is the perfidy of so and so

عبداللہ بن دینار سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بدعہدی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن اللہ ایک جھنڈا نصب کرے گا اور کہا جائے گا : سنو! یہ فلاں کی عہد شکنی ( کا نشان ) ہے

Sahih Muslim 32:13sahih

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ، ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏

Ibn Umar reported that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying:There will be a flag for every perfidious person on the Day of Judgment

عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) کے دو بیٹوں حمزہ اور سالم سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا

Sahih Muslim 32:14sahih

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ، بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلاَنٍ ‏"‏ ‏.‏

Abdullah reported Allah's Prophet (ﷺ) as saying:There will be a flag for every perfidious person on the Day of Judgment, and it would be said: Here is the perfidy of so and so

(محمد بن ابراہیم ) ابن ابی عدی اور محمد بن جعفر دونوں نے شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سلیمان ( اعمش ) سے ، انہوں نے ابووائل سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا ، کہا جائے گا : یہ فلاں کی عہد شکنی ( کا نشان ) ہے

Sahih Muslim 32:15sahih

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ‏ "‏ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلاَنٍ ‏"‏ ‏.‏

This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with a slight variation of wording

نضر بن شمیل اور عبدالرحمان ( بن مہدی ) نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور عبدالرحمان کی حدیث میں یہ ( الفاظ ) نہیں ہیں : " کہا جائے گا : یہ فلاں کی عہد شکنی ( کا نشان ) ہے

Sahih Muslim 32:16sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلاَنٍ ‏"‏ ‏.‏

It has been narrated on the authority of Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:There will be for every perfidious person on the Day of Judgment a flag by which he will be recognised. It will be announced: Here is the breach of faith of so and so

یزید بن عبدالعزیز نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا ، وہ اس کے ذریعے سے پہچانا جائے گا ، کہا جائے گا : یہ فلاں کی بدعہدی ( کا نشان ) ہے

Sahih Muslim 32:17sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ ‏"‏ ‏.‏

Anas reported Allah's Messenger (ﷺ) having said this:There would be a flag for every perfidious person on the Day of Judgment by which he will be recognised

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا جس سے وہ پہچانا جائے گا

Sahih Muslim 32:18sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُلَيْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اسْتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏

It is narrated on the authority of Abu Sa'id that the Messenger of Allah (ﷺ) said:On the Day of Judgment there will be a flag fixed behind the buttocks of every person guilty of the breach of faith

خُلید نے ابونضرہ سے ، انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " بدعہدی کرنے والے ہر شخص کے لیے ، قیامت کے دن اس کی سرین کے پاس ایک جھنڈا ( نصب ) ہو گا

Sahih Muslim 32:19sahih

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرْفَعُ لَهُ بِقَدْرِ غَدْرِهِ أَلاَ وَلاَ غَادِرَ أَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ أَمِيرِ عَامَّةٍ ‏"‏ ‏.‏

It is narrated on the authority of Abu Sa'id that the Messenger of Allah (ﷺ) said:On the Day of Judgment there will be a flag for every person guilty of the breach of faith. It will be raised in proportion to the extent of his guilt; and there is no guilt of treachery more serious than the one committed by the ruler of men

مستمر بن ریان نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابونضرہ نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عہد شکنی کرنے والے ہر شخص کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا جو اس کی بدعہدی کے بقدر بلند کیا جائے گا ، سنو! عہد شکنی میں کوئی عوام کے ( عہد شکن ) امیر سے بڑا نہیں ہو گا

Sahih Muslim 32:20sahih

وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لِعَلِيٍّ وَزُهَيْرٍ - قَالَ عَلِيٌّ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو، جَابِرًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْحَرْبُ خَدْعَةٌ ‏"‏ ‏.‏

It is narrated on the authority of Jabir that the Messenger of Allah (ﷺ) said:War is a stratagem

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنگ ایک چال ہے

Sahih Muslim 32:21sahih

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏الْحَرْبُ خُدْعَةٌ ‏"‏ ‏.‏

This hadith has also been narrated on the authority of Abu Huraira

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنگ ( دشمن کو ) دھوکے ( میں رکھنے ) کا نام ہے

Sahih Muslim 32:22sahih

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا‏"‏ ‏.‏

It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Do not desire an encounter with the enemy; but when you encounter them, be firm

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دشمن سے مقابلے کی تمنا مت کرو ، لیکن جب تمہارا ان سے مقابلہ ہو تو صبر کرو

Sahih Muslim 32:23sahih

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى، بْنُ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ كِتَابِ، رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ حِينَ سَارَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ يُخْبِرُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ يَنْتَظِرُ حَتَّى إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فِيهِمْ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّيُوفِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَهَازِمَ الأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ ‏"‏ ‏.‏

It is narrated by Abu Nadr that he learnt from a letter sent by a man from the Aslam tribe, who was a Companion of the Prophet (ﷺ) and whose name was 'Abdullah b. Abu Aufa, to 'Umar b. 'Ubaidullah when the latter marched upon Haruriyya (Khawarij) informing him that the Messenger of Allah (ﷺ) in one of those days when lie was confronting the enemy waited until the sun had declined. Then he stood up (to address the people) and said:O ye men, do not wish for an encounter with the enemy. Pray to Allah to grant you security; (but) when you (have to) encounter them exercise patience, and you should know that Paradise is under the shadows of the swords. Then the Messenger of Allah (ﷺ) stood up (again) and said: O Allah. Revealer of the Book, Disperser of the clouds, Defeater of the hordes, put our enemy to rout and help us against them

ابونضر سے روایت ہے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی ، جنہیں عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا ، کے خط سے روایت کی ، انہوں نے عمر بن عبیداللہ کو ، جب انہوں نے ( جہاد کی غرض سے ) حروریہ کی طرف کوچ کیا ، یہ بتانے کے لیے خط لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعض ایام ( جنگ ) میں ، جن میں آپ کا دشمن سے مقابلہ ہوتا ، انتظار کرتے ، یہاں تک کہ جب سورج ڈھل جاتا ، آپ ان ( ساتھیوں ) کے درمیان کھڑے ہوتے اور فرماتے : " لوگو! دشمن سے مقابلے کی تمنا مت کرو اور اللہ سے عافیت مانگو ، ( لیکن ) جب تم ان کا سامنا کرو تو صبر کرو اور جان رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے ۔ " پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا : " اے اللہ! کتاب کو اتارنے والے ، بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے! انہیں شکست دے اور ہمیں ان پر نصرت عطا فرما

Sahih Muslim 32:24sahih

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الأَحْزَابِ فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمِ الأَحْزَابَ اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ ‏"‏ ‏.‏

It is narrated on the authority of Ibn Abu Aufa that the Messenger of Allah (ﷺ) cursed the tribes (who had marched upon Medina with a combined force in 5 H) and said:O Allah, Revealer of the Book, swift in (taking) account, put the tribes to rout. O Lord, defeat them and shake them

خالد بن عبداللہ نے ہمیں اسماعیل بن ابی خالد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مدینہ پر حملے کرنے والے ) لشکروں کے خلاف یہ دعا کی : " اے اللہ! کتاب کو اتارنے والے! جلد حساب کرنے والے! سب لشکروں کو شکست دے ، اے اللہ! انہیں شکست دے اور ان کے قدم لرزا دے

Sahih Muslim 32:25sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي، خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ خَالِدٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ هَازِمَ الأَحْزَابِ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ ‏"‏ اللَّهُمَّ ‏"‏ ‏.‏

This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abu Aufa with a slight variation of words

وکیع بن جراح نے ہمیں اسماعیل بن ابی خالد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ۔ ۔ ( آگے ) خالد کی حدیث کے مانند ہے ، البتہ انہوں نے " ( اے ) لشکروں کو شکست دینے والے " کے الفاظ کہے اور آپ کے فرمان " اللهم " کا ذکر نہیں کیا

Sahih Muslim 32:26sahih

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ ‏ "‏ مُجْرِيَ السَّحَابِ ‏"‏ ‏.‏

This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Uyaina through another chain of transmitters (who added the words)" the Disperser of clouds" in his narration

اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے ابن عیینہ سے ، انہوں نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں " بادلوں کو چلانے والےکے الفاظ کا اضافہ کیا

Sahih Muslim 32:27sahih

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تَشَأْ لاَ تُعْبَدْ فِي الأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏

It is narrated on the authority of Anas that the Messenger of Allah (ﷺ) said on the day of the Battle of Uhud:O Allah, if Thou wilt (defeat Muslims), there will be none on the earth to worship Thee

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ( جنگِ ) احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بار بار ) یہ فرما رہے تھے : " اے اللہ! اگر تو یہ چاہتا ہے تو ( آج کےبعد ) زمین میں تیری عبادے نہ کی جائے گی ۔ " ( تیری عبادت کرنے والی آخری امت ختم ہو جائے گی)

Sahih Muslim 32:28sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ، سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ امْرَأَةً، وُجِدَتْ، فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقْتُولَةً فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَتْلَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ‏.‏

It is narrated on the authority of 'Abdullah that a woman was found killed in one of the battles fought by the Messenger of Allah (ﷺ). He disapproved of the killing of women and children

لیث نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک غزوے میں ایک عورت مقتول ملی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل پر ( سخت ) ناگواری کا اظہار کیا ( اور اس سے منع فرما دیا)

Sahih Muslim 32:29sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ، اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ وُجِدَتِ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ تِلْكَ الْمَغَازِي فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ ‏.‏

It is narrated by Ibn 'Umar that a woman was found killed in one of these battles; so the Messenger of Allah (ﷺ) forbade the killing of women and children

عبیداللہ بن عمر نے ہمیں نافع کے حوالے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : غزوات میں سے ایک غزوے میں ایک عورت مقتول ملی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا

Sahih Muslim 32:30sahih

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ، بْنِ جَثَّامَةَ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الذَّرَارِيِّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ فَيُصِيبُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ هُمْ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏

It is reported on the authority of Sa'b b. Jaththama that the Prophet of Allah (ﷺ), when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said:They are from them

سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھرانے کے بارے میں پوچھا گیا ، ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ ( حملہ کرنے والے ) ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ انہی میں سے ہیں

Sahih Muslim 32:31sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُصِيبُ فِي الْبَيَاتِ مِنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ قَالَ ‏ "‏ هُمْ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏

It is narrated by Sa'b b. Jaththama that he said (to the Holy Prophet):Messenger of Allah, we kill the children of the polytheists during the night raids. He said: They are from them

معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! شب خون میں ہم مشرکین کی عورتوں اور بچوں کو نقصان پہنچا دیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : وہ انہی میں سے ہیں

Sahih Muslim 32:32sahih

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو، بْنُ دِينَارٍ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قِيلَ لَهُ لَوْ أَنَّ خَيْلاً أَغَارَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَأَصَابَتْ مِنْ أَبْنَاءِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ ‏ "‏ هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ ‏"‏ ‏.‏

Sa'b b. Jaththama has narrated that the Prophet (ﷺ) asked:What about the children of polytheists killed by the cavalry during the night raid? He said: They are from them

عمرو بن دینار نے مجھے خبر دی کہ انہیں ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اگر کچھ گھڑ سوار رات کو دھاوا بولیں اور مشرکوں کے ( ساتھ ان کے کچھ ) بیٹوں کو ( بھی ) قتل کر دیں ( تو گناہ تو نہیں ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ اپنے آباء ہی میں سے ہیں

Sahih Muslim 32:33sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ، سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ ‏.‏ زَادَ قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ فِي حَدِيثِهِمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ‏}‏

It is narrated on the authority of 'Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) ordered the date-palms of Banu Nadir to be burnt and cut. These palms were at Buwaira. Qutaibah and Ibn Rumh in their versions of the tradition have added:So Allah, the Glorious and Exalted, revealed the verse:" Whatever trees you have cut down or left standing on their trunks, it was with the permission of Allah so that He may disgrace the evil-doers" (lix)

یحییٰ بن یحییٰ ، محمد بن رمح اور قتیبہ بن سعید نے لیث سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کے کھجور کے درخت جلائے اور کاٹ ڈالے اور یہ بویرہ کا مقام تھا ( جہاں یہ درخت واقع تھےقتیبہ اور ابن رمح نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : " تم نے کھجور کا جو درخت کاٹ ڈالا یا اسے اپنی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا تو وہ اللہ کی اجازت سے تھا اور اس لیے تاکہ وہ ( اللہ ) نافرمانوں کو رسوا کرے

Sahih Muslim 32:34sahih

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى، بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَطَعَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَحَرَّقَ وَلَهَا يَقُولُ حَسَّانُ وَهَانَ عَلَى سَرَاةِ بَنِي لُؤَىٍّ حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُسْتَطِيرُ وَفِي ذَلِكَ نَزَلَتْ ‏{‏ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا‏}‏ الآيَةَ ‏.‏

It is narrated on the authority of Ibn Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) caused the date-palms of Banu Nadir to be cut down and burnt. It is in this connection that Hassan (the poet) said:It was easy for the nobles of Quraish to burn Buwaira whose sparks were flying in all directions, in the same connection was revealed the Qur'anic verse:" Whatever trees you have cut down or left standing on their trunks

موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کے کھجوروں کے درخت کاٹے اور جلا دیے ۔ اسی کے بارے میں حضرت حسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : "" بنو لؤی ( قریش ) کے سرداروں کے لیے بویرہ میں ہر طرف پھیلنے والی آگ کی کوئی حیثیت نہ تھی اور اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : "" تم نے کھجور کا جو بھی درخت کاٹا یا اسے چھوڑ دیا ۔ ۔ "" آیت کے آخر تک

Sahih Muslim 32:35sahih

وَحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، أَخْبَرَنِي عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ حَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ‏.‏

Abdullah b. Umar reported that Allah's Apostle (ﷺ) burnt the date-palms of Banu Nadir

عبیداللہ نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کی کھجوروں کے درخت جلا دیے

Sahih Muslim 32:36sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ رَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ فَقَالَ لِقَوْمِهِ لاَ يَتْبَعْنِي رَجُلٌ قَدْ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ وَلاَ آخَرُ قَدْ بَنَى بُنْيَانًا وَلَمَّا يَرْفَعْ سُقُفَهَا وَلاَ آخَرُ قَدِ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ مُنْتَظِرٌ وِلاَدَهَا ‏.‏ قَالَ فَغَزَا فَأَدْنَى لِلْقَرْيَةِ حِينَ صَلاَةِ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ لِلشَّمْسِ أَنْتِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَىَّ شَيْئًا ‏.‏ فَحُبِسَتْ عَلَيْهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ - قَالَ - فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَهُ فَقَالَ فِيكُمْ غُلُولٌ فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ ‏.‏ فَبَايَعُوهُ فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ فَقَالَ فِيكُمُ الْغُلُولُ فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ ‏.‏ فَبَايَعَتْهُ - قَالَ - فَلَصِقَتْ بِيَدِ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةٍ فَقَالَ فِيكُمُ الْغُلُولُ أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ - قَالَ - فَأَخْرَجُوا لَهُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ - قَالَ - فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ فَأَقْبَلَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهُ ‏.‏ فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا ‏"‏ ‏.‏

It has been narrated by Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:One of the Prophets made a holy war. He said to his followers: One who has married a woman and wants to consummate to his marriage but has not yet done so; another who has built a house but has not yet erected its roof; and another who has bought goats and pregnantshe-camels and is waiting for their offspring-will not accommpany me. So he marched on and approached a village at or about the time of the Asr prayers. He said to the sun: Thou art subserviant (to Allah) and so am I. O Allah, stop it for me a little. It was stopped for him until Allah granted him victory. The people gathered the spoils of war (at one place). A fire approached the spoils to devour them, but it did not devour them. He (the Holy Prophet) said: Some of you have been guilty of misappropriation. So one man from each tribe should swear fealty to me. The did so (putting their hands into his). The hand of one man stuck to his hand and the Prophet (ﷺ) said: Your tribe is guilty of misappropriation. Let all the members of your tribe swear fealty to me one by one. They did so, when the hands of two or three persons got stuck with his hand. He said: You have misappropriated. So they took out gold equal in volume to the head of a cow. They-placed it among the spoils on the earth. Then the fire approached the spoils and devoured them. The spoils of war were not made lawful for any people before us, This is because Allah saw our weakness and humility and made them lawful for us

ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : یہ ( احادیث ) ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انہوں نے چند احادیث بیان کیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ ہے : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " انبیاء میں سے کسی نبی نے جہاد کیا تو انہوں نے اپنی قوم سے کہا : میرے ساتھ وہ آدمی نہ آئے جس نے کسی عورت سے شادی کی ہے ، وہ اس کے ساتھ شب زفاف گزارنا چاہتا ہے اور ابھی تک نہیں گزاری ، نہ وہ جس نے گھر تعمیر کیا ہے اور ابھی تک اس کی چھتیں بلند نہیں کیں اور نہ وہ جس نے بکریاں یا حاملہ اونٹنیاں خریدی ہیں اور وہ ان کے بچہ دینے کا منتظر ہے ۔ کہا : وہ جہاد کے لیے نکلے ، نماز عصر کے وقت یا اس کے قریب ، وہ بستی کے نزدیک پہنچے تو انہوں نے سورج سے کہا : تو بھی ( اللہ کے حکم کا ) پابند ہے اور میں بھی پابند ہوں ، اے اللہ! اسے کچھ وقت کے لیے مجھ پر روک دے ۔ تو اسے روک دیا گیا ، حتی کہ اللہ نے انہیں فتح دی ۔ کہا : انہیں غنیمت میں جو ملا ، انہوں نے اس کو اکٹھا کر لیا ، آگ اسے کھانے کے لیے آئی تو اسے کھانے سے باز رہی ۔ اس پر انہوں نے کہا : تمہارے درمیان خیانت ( کا ارتکاب ہوا ) ہے ، ہر قبیلے کا ایک آدمی میری بیعت کرے ۔ انہوں نے ان کی بیعت کی تو ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا ۔ انہوں نے کہا : خیانت تم لوگوں میں ہوئی ہے ، لہذا تمہارا قبیلہ میری بیعت کرے ۔ اس قبیلے نے ان کی بیعت کی تو ( آپ کا ہاتھ ) دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ سے چمٹ گیا ۔ اس پر انہوں نے کہا : خیانت تم میں ہے ، تم نے خیانت کی ہے ۔ کہا : تو وہ گائے کے سر کے بقدر سونا نکال کر ان کے پاس لے آئے ۔ کہا : انہوں نے اسے مالِ غنیمت میں رکھا ، وہ بلند جگہ پر رکھا ہوا تھا ، تو آگ آئی اور اسے کھا گئی ۔ اموالِ غنیمت ہم سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھے ، یہ ( ہمارے لیے حلال ) اس وجہ سے ہوا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عجز کو دیکھا تو اس نے ان کو ہمارے لیے حلال کر دیا ۔

Sahih Muslim 32:37sahih

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَخَذَ أَبِي مِنَ الْخُمْسِ سَيْفًا فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ هَبْ لِي هَذَا ‏.‏ فَأَبَى فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ‏}‏

A hadith has been narrated by Mus'ab b. Sa'd who heard it from his father as saying:My father took a sword from Khums and brought it to the Prophet (ﷺ) and said: Grant it to me. He refused. At this Allah revealed (the Qur'anic verse):" They ask thee concerning the spoils of war. Say: The spoils of war are for Allah and the Apostle" (viii)

ابوعوانہ نے سماک سے ، انہوں نے مصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے خمس میں سے کوئی چیز لی ، اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی : یہ مجھے ہبہ فرما دیں تو آپ نے انکار کیا ۔ کہا : اس پر اللہ عزوجل نے ( یہ حکم ) نازل فرمایا : " لوگ آپ سے اموالِ غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دیجئے : اموالِ غنیمت اللہ کے لیے اور رسول کے لیے ہیں

Sahih Muslim 32:38sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ نَزَلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ أَصَبْتُ سَيْفًا فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفِّلْنِيهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ ضَعْهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ نَفِّلْنِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ ضَعْهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفِّلْنِيهِ أَأُجْعَلُ كَمَنْ لاَ غَنَاءَ لَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ‏}‏

A hadith has been narrated by Mus'ab b. Sa'd who heard it from his father as saying:" Four verses of the Qur'an have been revealed about me. I found a sword (among the spoils of war). It was brought to the Prophet (ﷺ). He (my father) said: Messenger of Allah, bestow it upon me. The Apostle of Allah (ﷺ) said: Place it there. Then he (my father) stood up and the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: Place it from where you got it. (At this) he (my father) said again: Messenger of Allah, bestow it upon me Shall I be treated like one who has no share in (the booty)? The Apostle of Allah (may peace be upon him said: Place it from where you got it. At this was revealed the verse:" They ask thee about the spoils of war.... Say: The spoils of war are for Allah and the Messenger)

شعبہ نے ہمیں سماک بن حرب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے بارے میں چار آیتیں نازل ہوئیں : مجھے ایک تلوار ملی ، ( پھر کہا : ) وہ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اللہ کے رسول! ( اپنے حصے کے علاوہ ) یہ تلوار مجھے مزید عطا فرما دیں ۔ تو آپ نے فرمایا : " اسے رکھ دو ۔ " وہ پھر اٹھے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! ( یہ تلوار ) مجھے مزید دے دیں ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " جہاں سے لی ہے وہیں رکھ دو ۔ " وہ پھر اٹھے اور عرض کی : اللہ کے رسول! ( اپنے حصے کے علاوہ ) یہ بھی مجھے عنایت فرما دیں ۔ تو آپ نے فرمایا : " اسے رکھ دو ۔ " وہ پھر اٹھے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! ( اپنے حصے کے علاوہ ) یہ مجھے عنایت فرما دیں ۔ کیا میں اس شخص جیسا قرار دیا جاؤں گا جس کے لیے ( جنگ میں ) کوئی فائدہ نہیں ہوا؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تم نے اسے جہاں سے لیا ہے وہیں رکھ دو ۔ " کہا : اس پر یہ آیت نازل ہوئی : " وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ کہہ دیجئے! غنیمتیں اللہ کے لیے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں

Sahih Muslim 32:39sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً وَأَنَا فِيهِمْ قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا إِبِلاً كَثِيرَةً فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَى عَشَرَ بَعِيرًا أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا ‏.‏

It has been narrated on the authority of Ibn Umar that the Prophet (ﷺ) sent an expedition to Najd and I was among the troops. They got a large number of camels as a booty. Eleven or twelve camels fell to the lot of every fighter and each of them also got one extra camel

امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک دستہ بھیجا ، میں بھی ان میں تھا ، انہوں نے بہت سے اونٹ غنیمت میں حاصل کیے تو ان کا حصہ بارہ بارہ اونٹ یا گیارہ گیارہ اونٹ تھا اور انہیں ایک ایک اونٹ زائد دیا گیا تھا

Sahih Muslim 32:40sahih

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ وَفِيهِمُ ابْنُ عُمَرَ وَأَنَّ سُهْمَانَهُمْ بَلَغَتِ اثْنَىْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا سِوَى ذَلِكَ بَعِيرًا فَلَمْ يُغَيِّرْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Ibn 'Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) sent an expedition to Najd and Ibn Umar was also among the troops, and their share (of the spoils) came to twelve camels and they were given one camel over and above that. and Allah's Messenger (ﷺ) did not make any change in it

لیث نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک دستہ بھیجا ، ان میں ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ان کے حصے بارہ بارہ اونٹ تک پہنچ گئے اور اس کے علاوہ انہیں ایک ایک اونٹ زائد ( بھی ) ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( فیصلے ) کو تبدیل نہیں کیا

Sahih Muslim 32:41sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً إِلَى نَجْدٍ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَأَصَبْنَا إِبِلاً وَغَنَمًا فَبَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَىْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعِيرًا بَعِيرًا ‏.‏

It has been narrated by Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) sent an expedition to Najd, and I (also) went with the troops. We got camels and goats as spoils of war, and our share amounted to twelve camels per head, and the Messenger of Allah (ﷺ) gave an extra camel to each of us

علی بن مسہر اور عبدالرحیم بن سلیمان نے عبیداللہ بن عمر سے ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی جانب ایک دستہ بھیجا ، میں بھی اس میں گیا ۔ ہمیں اونٹ اور بکریاں ملیں تو ہمارے حصے بارہ بارہ اونٹوں تک پہنچ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایک اونٹ زائد بھی دیا

Sahih Muslim 32:42sahih

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏

This hadith has been narrated on the authority of 'Ubaidullah with the same chain of transmitters

ٰ قطان نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی

Sahih Muslim 32:43sahih

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ النَّفَلِ، فَكَتَبَ إِلَىَّ أَنَّ4661 - وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ ‏.‏

Ibn Aun said:I wrote to Nafi' asking him about Nafl (spoils of war) and be wrote to me that Ibn 'Umar was among that expedition. (The rest of the hadith is the same)

ایوب نے ہمیں حدیث بیان کی ، اور ( ایک دوسری سند سے ) ابن عون نے کہا : میں نے غنیمت کے بارے میں پوچھنے کے لیے نافع کی طرف خط لکھا ، انہوں نے مجھے جواب بھی لکھا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ دستے میں تھے ۔ ۔ ۔ ، نیز موسیٰ اور اسامہ بن زید نے بھی حدیث بیان کی ، ان سب ( ایوب ، ابن عون ، موسیٰ اور اسامہ ) نے نافع سے اسی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی

Sahih Muslim 32:44sahih

وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، - وَاللَّفْظُ لِسُرَيْجٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ، اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ نَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَفَلاً سِوَى نَصِيبِنَا مِنَ الْخُمْسِ فَأَصَابَنِي شَارِفٌ وَالشَّارِفُ الْمُسِنُّ الْكَبِيرُ ‏

A hadith has been narrated by Salim who learnt it from his father and said:The Messenger of Allah (ﷺ) gave us an extra (camel) besides our share of Khums; (and in this extra share) I got a Sharif (and a Sharif is a big old camel)

عبداللہ بن رجاء نے یونس سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خمس سے ہمارے حصے کے سوا اضافی بھی دیا تو مجھے ایک شارف ملا ۔ ۔ اور شارف سے مراد پختہ عمر کا ( مضبوط ) اونٹ ہے

Sahih Muslim 32:45sahih

وَحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، كِلاَهُمَا عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ بَلَغَنِي عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ رَجَاءٍ ‏.‏

Ibn Shihab reported:It reached me through Ibn Umar that Allah's Messenger (ﷺ) gave a share of spoils to the troop. The rest of the hadith is the same

ابن مبارک اور ابن وہب دونوں نے یونس کے حوالے سے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث پہنچی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستے کو زائد دیا ۔ ۔ ابن رجاء کی حدیث کی طرح

Sahih Muslim 32:46sahih

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ، بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً سِوَى قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ وَالْخُمْسُ فِي ذَلِكَ وَاجِبٌ كُلِّهِ ‏.‏

It has been narrated on the authority of Abdullah b. 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) used to give (from the spoils of war) to small troops seat on expeditions something more than the due share of each fighter in a large force. And Khums (one-fifth of the total spoils) was to be reserved (for Allah and His Apostle) in all cases

عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات عام لشکر کی تقسیم سے ہٹ کر بعض دستوں کو ، جنہیں آپ روانہ فرماتے تھے ، خصوصی طور پر ان کے لیے زائد عطیات دیتے تھے ، اور خمس ان سب مہموں میں واجب تھا

Sahih Muslim 32:47sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ، كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ، جَلِيسًا لأَبِي قَتَادَةَ قَالَ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ ‏.‏ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ ‏.‏

Abu Muammad al-Ansari, who was the close companion of Abu Qatada. narrated the hadith (which follows)

ہشیم نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے اور انہوں نے ابومحمد انصاری سے روایت کی اور وہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشیں تھے ، انہوں نے کہا : حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ۔ ۔ اور انہوں ( ابومحمد ) نے حدیث بیان کی

Sahih Muslim 32:48sahih

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏

Abu Muhammad, the freed slave of Abu Qatada reported on the authority of Abu Qatda and narrated the hadith

لیث نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے ، انہوں نے ابومحمد ( المعروف بہ ) مولیٰ ابوقتادہ سے روایت کی کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ۔ ۔ اور حدیث بیان کی

Sahih Muslim 32:49sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ ‏.‏ قَالَ فَرَأَيْتُ رَجُلاً مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلاَ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَاسْتَدَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ وَأَقْبَلَ عَلَىَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ مَا لِلنَّاسِ فَقُلْتُ أَمْرُ اللَّهِ ‏.‏ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ فَقُمْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْ حَقِّهِ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لاَهَا اللَّهِ إِذًا لاَ يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسُدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ ‏"‏ ‏.‏ فَأَعْطَانِي قَالَ فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الإِسْلاَمِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ كَلاَّ لاَ يُعْطِيهِ أُضَيْبِعَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعُ أَسَدًا مِنْ أُسُدِ اللَّهِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ ‏.‏

Abu Qatada reported:We accompanied the Messenger of Allah (my peace be upon him) on an expedition in the year of the Battle of Hunain. When we encountered the enemy, (some of the Muslims turned back (in fear). I saw that a man from the polytheists overpowered one of the Muslims. I turned round and attacked him from behind giving a blow between his neck and shoulder. He turned towards me and grappled with me in such a way that I began to see death staring me in the face. Then death overtook him and left me alone. I joined 'Umar b. al-Khattab who was saying: What has happened to the people (that they are retreating)? I said: It is the Decree of Allah. Then the people returned. (The battle ended in a victory for the Muslims) and the Messenger of Allah (ﷺ) sat down (to distribute the spoils of war). He said: One who has killed an enemy and can bring evidence to prove it will get his belongings. So I stood up and said: Who will give evidence for me? Then I sat down. Then he (the Holy Prophet) said like this. I stood up (again) and said: Who will bear witness for me? He (the Holy Prophet) made the same observation the third time, and I stood up (once again). Now the Messenger of Allah (ﷺ) said: What has happened to you, O Abu Qatada? Then I related the (whole) story, to him. At this, one of the people said: He has told the truth. Messenger of Allah 1 The belongings of the enemy killed by him are with me. Persuade him to forgo his right (in my favour). (Objecting to this proposal) Abu Bakr said: BY Allah, this will not happen. The Messenger of Allah (ﷺ) will not like to deprive one of the lions from among the lions of Allah who fight in the cause of Allah and His Messenger and give thee his share of the booty. So the Messenger of Allah (may peace he upon him) said: He (Abu Bakr) has told the truth, and so give the belongings to him (Abu Qatada). So he gave them to me. I sold the armour (which was a part of my share of the booty) and bought with the sale proceeds a garden in the street of Banu Salama. This was the first property I acquired after embracing Islam. In a version of the hadith narrated by Laith, the words uttered by Abu Bakr are:" No, never! He will not give it to a fox from the Quraish leaving aside a lion from the lions of Allah among...." And the hadith is closed with the words:" The first property I acquired

امام مالک بن انس کہتے ہیں : مجھے یحییٰ بن سعید نے عمر بن کثیر بن افلح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابومحمد سے اور انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حنین کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، جب ( دشمن سے ) ہمارا سامنا ہوا تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچی ۔ کہا : میں نے مشرکوں میں سے ایک آدمی دیکھا جو مسلمانوں کے ایک آدمی پر غالب آ گیا تھا ، میں گھوم کر اس کی طرف بڑھا حتی کہ اس کے پیچھے آ گیا اور اس کی گردن کے پٹھے پر وار کیا ، وہ ( اسے چھوڑ کر ) میری طرف بڑھا اور مجھے اس زور سے دبایا کہ مجھے اس ( دبانے ) سے موت کی بو محسوس ہونے لگی ، پھر اس کو موت نے آ لیا تو اس نے مجھے چھوڑ دیا ، اس کے بعد میری حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے پوچھا : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ میں نے کہا : اللہ کا حکم ہے ۔ پھر لوگ واپس پلٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا : "" جس نے کسی کو قتل کیا ، ( اور ) اس کے پاس اس کی کوئی دلیل ( نشانی وغیرہ ) ہو تو اس ( مقتول ) سے چھینا ہوا سامان اسی کا ہو گا ۔ "" کہا : تو میں کھڑا ہوا اور کہا : میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا ۔ پھر آپ نے اسی طرح ارشاد فرمایا ۔ کہا : تو میں کھڑا ہوا اور کہا : میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا ۔ پھر آپ نے تیسری بار یہی فرمایا ۔ کہا : میں پھر کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ابوقتادہ! تمہارا کیا معاملہ ہے؟ "" تو میں نے آپ کو یہ واقعہ سنایا ۔ اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول! اس نے سچ کہا ہے ۔ اس مقتول کا چھینا ہوا سامان میرے پاس ہے ، آپ انہیں ان کے حق سے ( دستبردار ہونے پر ) مطمئن کر دیجیے ۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر سے ، جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑائی کرتا ہے ، نہیں چاہیں گے کہ وہ اپنے مقتول کا چھینا ہوا سامان تمہیں دے دیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" انہوں نے سچ کہا : وہ انہی کو دے دو ۔ "" تو اس نے ( وہ سامان ) مجھے دے دیا ، کہا : میں نے ( اسی سامان میں سے ) زرہ فروخت کی اور اس ( کی قیمت ) سے ( اپنی ) بنو سلمہ ( کی آبادی ) میں ایک باغ خرید لیا ۔ وہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام ( کے زمانے ) میں بنایا ۔ لیث کی حدیث میں ہے : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہرگز نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ کر قریش کے ایک چھوٹے سے لگڑ بگھے کو عطا نہیں کریں گے ۔ لیث کی حدیث میں ہے : ( انہوں نے کہا ) وہ پہلا مال تھا جو میں نے بنایا

Sahih Muslim 32:50sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ قَالَ بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ، فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَشِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بَيْنَ، غُلاَمَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا تَمَنَّيْتُ لَوْ كُنْتُ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا ‏.‏ فَقَالَ يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ وَمَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي قَالَ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لاَ يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الأَعْجَلُ مِنَّا ‏.‏ قَالَ فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ فَغَمَزَنِي الآخَرُ فَقَالَ مِثْلَهَا - قَالَ - فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَزُولُ فِي النَّاسِ فَقُلْتُ أَلاَ تَرَيَانِ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسْأَلاَنِ عَنْهُ قَالَ فَابْتَدَرَاهُ فَضَرَبَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا حَتَّى قَتَلاَهُ ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَاهُ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَيُّكُمَا قَتَلَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا ‏"‏ ‏.‏ قَالاَ لاَ ‏.‏ فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ فَقَالَ ‏"‏ كِلاَكُمَا قَتَلَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَالرَّجُلاَنِ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَمُعَاذُ ابْنُ عَفْرَاءَ ‏.‏

It has been narrated on the authority of 'Abd al-Rahman b. Auf who said:While I was standing in the battle array on the Day of Badr, I looked towards my right and my left, and found myself between two boys from the Ansar quite young in age. I wished I were between stronger persons. One of them made a sign to me and. said: Uncle, do you recognise Abu Jahl? 1 said: Yes. What do you want to do with him, O my nephew? He said: I have been told that he abuses the Messenger of Allah (ﷺ). By Allah, in Whose Hand is my life, if I see him (I will grapple with him) and will not leave him until one of us who is destined to die earlier is killed. The narrator said: I wondered at this. Then the other made a sign to me and said similar words. Soon after I saw Abu Jahl. He was moving about among men. I said to the two boys: Don't you see? He is the man you were inquiring about. (As soon as they heard this), they dashed towards him, struck him with their swords until he was killed. Then they returned to the Messenger of Allah (ﷺ) and informed him (to this effect). He asked: Which of you has killed him? Each one of them said: I have killed him. He said: Have you wiped your swords? They said: No. He examined their swords and said: Both of you have killed him. He then decided that the belongings of Abu Jahl he handed over to Mu'adh b. Amr b. al-Jamuh. And the two boys were Mu'adh b. Amr b. Jawth and Mu'adh b. Afra

حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : بدر کے دن جب میں صف میں کھڑا تھا ، میں نے اپنی دائیں اور بائیں طرف نظر دوڑائی تو میں انصار کے دو لڑکوں کے درمیان میں کھڑا تھا ، ان کی عمریں کم تھیں ، میں نے آرزو کی ، کاش! میں ان دونوں کی نسبت زیادہ طاقتور آدمیوں کے درمیان ہوتا ، ( اتنے میں ) ان میں سے ایک نے مجھے ہاتھ لگا کر متوجہ کیا اور کہا : چچا! کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں؟ کہا : میں نے کہا : ہاں ، بھتیجے! تمہیں اس سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا : مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتا ہے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا وجوداس وقت تک اس کے وجود سے الگ نہیں ہو گا یہاں تک کہ ہم میں سے جلد تر مرنے والے کو موت آ جائے ۔ کہا : میں نے اس پر تعجب کیا تو دوسرے نے مجھے متوجہ کیا اور وہی بات کہی ، کہا : پھر زیادہ دیر نہ گزری کہ میری نظر ابوجہل پر پڑی ، وہ لوگوں میں گھوم رہا تھا ۔ تو میں نے ( ان دونوں سے ) کہا : تم دیکھ نہیں رہے؟ یہ ہے تمہارا ( مطلوبہ ) بندہ جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے ۔ کہا : وہ دونوں یکدم اس کی طرف لپکے اور اس پر اپنی تلواریں برسا دیں حتی کہ اسے قتل کر دیا ، پھر پلٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ نے پوچھا : " تم دونوں میں سے اسے کس نے قتل کیا ہے؟ " ان دونوں میں سے ہر ایک نے جواب دیا : میں نے اسے قتل کیا ہے ۔ آپ نے پوچھا : " کیا تم دونوں نے اپنی تلواریں صاف کر لی ہیں؟ " انہوں نے کہا : نہیں ۔ آپ نے دونوں تلواریں دیکھیں اور فرمایا : " تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے ۔ " اور اس کے سازوسامان کا فیصلہ آپ نے عاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کے حق میں دیا ۔ اور وہ دونوں جوان معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہم تھے

Sahih Muslim 32:51sahih

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ حِمْيَرَ رَجُلاً مِنَ الْعَدُوِّ فَأَرَادَ سَلَبَهُ فَمَنَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَكَانَ وَالِيًا عَلَيْهِمْ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ لِخَالِدٍ ‏"‏ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُعْطِيَهُ سَلَبَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ اسْتَكْثَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ادْفَعْهُ إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ فَمَرَّ خَالِدٌ بِعَوْفٍ فَجَرَّ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ هَلْ أَنْجَزْتُ لَكَ مَا ذَكَرْتُ لَكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتُغْضِبَ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تُعْطِهِ يَا خَالِدُ لاَ تُعْطِهِ يَا خَالِدُ هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي أُمَرَائِي إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُهُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتُرْعِيَ إِبِلاً أَوْ غَنَمًا فَرَعَاهَا ثُمَّ تَحَيَّنَ سَقْيَهَا فَأَوْرَدَهَا حَوْضًا فَشَرَعَتْ فِيهِ فَشَرِبَتْ صَفْوَهُ وَتَرَكَتْ كَدَرَهُ فَصَفْوُهُ لَكُمْ وَكَدَرُهُ عَلَيْهِمْ ‏"‏ ‏.‏

Auf b. Malik has narrated that a man from the Himyar tribe killed an enemy and wanted to take the booty. Khalid b. Walid, who was the commander over them, forbade, him. 'Auf b Malik (the narrator) came to the Messenger of Allah (ﷺ) and informed him (to this effect). The latter asked Khalid:What prevented you from giving the booty to him? Khalid said: I thought it was too much. He (the Holy Prophet) said: Hand it over to him. Now when Khalid by Auf, the latter pulled him by his cloak and said (by way of chafing him): Hasn't the same thing happened what I reported to you from the Messenger of Allah (may peace he upon him)? When the Messenger of Allah (ﷺ) heard it. he was angry (and said): Khalid, don't give him, Khalid, don't give him. Are you going to desert the commanders appointed by roe? Your similitude and theirs is like a person who took camels and sheep for grazing. He grazed them and when it was time for them to have a drink, he brought them to a pool. So they drank from it, drinking away its clear water and leaving the turbid water below So the clear water (i. e. the best reward) is for you and the turbid water (i e. blame) is for them

معاویہ بن صالح نے عبدالرحمان بن جبیر سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حمیر کے ایک آدمی نے دشمن کے ایک آدمی کو قتل کر دیا اور اس کا سلب ( مقتول کا سازوسامان ) لینا چاہا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں منع کر دیا اور وہ ان پر امیر تھے ، چنانچہ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ ( اپنے حمیری ساتھی کی حمایت کے لیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو بتایا تو آپ نے خالد رضی اللہ عنہ سے پوچھا : " تمہیں اس کے مقتول کا سامان اسے دینے سے کیا امر مانع ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : اللہ کے رسول! میں نے اسے زیادہ سمجھا ۔ آپ نے فرمایا : " وہ ( سامان ) ان کے حوالے کر دو ۔ " اس کے بعد حضرت خالد رضی اللہ عنہ حضرت عوف رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ان کی چادر کھینچی اور کہا : کیا میں نے پورا کر دیا جو میں نے آپ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کہا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سن لی تو آپ کو غصہ آ گیا اور فرمایا : " خالد! اسے مت دو ، خالد! اسے مت دو ۔ کیا تم میرے ( مقرر کیے ہوئے ) امیروں کو میرے لیے چھوڑ سکتے ہو ( کہ میں اصلاح کروں ، تم طعن و تشنیع نہ کرو! ) تمہاری اور ان کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جسے اونٹوں یا بکریوں کا چرواہا بنایا گیا ، اس نے انہیں چرایا ، پھر ان کو پانی پلانے کے وقت کا انتظار کیا اور انہیں حوض پر لے گیا ، انہوں نے اس میں سے پینا شروع کیا تو انہوں نے اس کا صاف پانی پی لیا اور گدلا چھوڑ دیا تو صاف پانی تمہارے لیے ہے اور گدلا ان کا