The Book of Zakat
Book 12 · 229 hadith
وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَمْرَو بْنَ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ فَأَخْبَرَنِي عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ وَلاَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلاَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ " .
Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger (way peace be upon him) as saying:No sadaqa (zakat) is payable on less than five wasqs of (dates or grains), on less than five camel-heads and on less than five uqiyas (of silver)
سفیان بن عینیہ نے کہا : میں نے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ سے پوچھا تو انھوں نے مجھے اپنے والد سے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پانچ وسق سے کم ( غلے یا کھجور ) میں صدقہ ( زکاۃ ) نہیں اور نہ پانچ سے کم اونٹوں میں صدقہ ہے اور نہ ہی پانچ اوقیہ سے کم ( چاندی ) میں صدقہ ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ.
A hadith like this has been narrated by 'Amr b. Yahya with the same chain of transmitters
یحییٰ بن سعید نے عمرو بن یحییٰ سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ اسی کے مانند بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو، بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ أَبِيهِ، يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . وَأَشَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِكَفِّهِ بِخَمْسِ أَصَابِعِهِ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
Umara reported:I heard Abd Sa'id al-Khudri as saying that he had heard Allah's Messenger (ﷺ) make (this) observation with a gesture of his five fingers, and then he narrated the hadith as transmitted by 'Uyaina (hadith)
ابن جریج نے کہا : مجھے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے اپنے والد یحییٰ بن عمارہ سے خبر دی ، انھوں نے کہا : میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی سے اپنی پانچوں انگلیوں سے اشارہ کیا ۔ ۔ ۔ پھر ( ابن جریج نے سفیان ) بن عینیہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ " .
Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:No Sadaqa (zakat) is due on less than five wasqs of (dates or grains), on less than five camel-heads, and on less than five uqiyas (of silver)
عمارہ بن غزیہ نے یحییٰ بن عمارہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پانچ وسق سے کم ( کھجور یا غلے ) میں صدقہ نہیں اور پانچ سے کم اونٹوں میں صدقہ نہیں اور پانچ اوقیہ سے کم ( چاندی ) میں صدقہ نہیں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنْ تَمْرٍ وَلاَ حَبٍّ صَدَقَةٌ " .
Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:No Sadaqa is payable on less than five wasqs of dates or grains
وکیع نے سفیان سے ، انھوں نے اسماعیل بن امیہ سے ، انھوں نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے ، انھوں نے یحییٰ بن عمارہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پانچ وسق سے کم کھجور اور غلے میں صدقہ نہیں ہے ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ فِي حَبٍّ وَلاَ تَمْرٍ صَدَقَةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ وَلاَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلاَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ" .
Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:No Sadaqa is payable on the grains and dates till it (comes to the Weight) of five wasqs, or less than five heads of camels, or less than five uqiyas (of silver)
عبدالرحمان بن مہدی نے سفیان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہ غلے میں صدقہ ہے نہ کھجور میں حتیٰ کہ وہ پانچ وسق تک پہنچ جائیں اور نہ پانچ سے کم اونٹوں میں صدقہ ہے اور نہ پانچ اوقیہ سے کم ( چاندی ) میں صدقہ ہے ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بْنِ أُمَيَّةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ .
A hadith like this has been narrated by Isma'il b. Umayya with the same chain of transmitters
یحییٰ بن آدم نے کہا : ہمیں سفیان ثوری نے اسماعیل بن امیہ سے اسی مذکورہ بالا سند کے ساتھ ابن مہدی کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، وَمَعْمَرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بْنِ أُمَيَّةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ وَيَحْيَى بْنِ آدَمَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ - بَدَلَ التَّمْرِ - ثَمَرٍ .
A hadith like this has been narrated by Isma'il b. Umayya with the same chain of transmitters, but instead of the word dates, fruit has been used
عبدالرزاق نے کہا : ہمیں ثوری اور معمر نے اسماعیل بن امیہ سے اسی سندکے ساتھ ، ابن مہدی اور یحییٰ بن آدم کی حدیث کی طرح بیان کیا ، البتہ انھوں نے تمر ( کھجور ) کے بجائے ثمر ( پھل ) کہا ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ " .
Jabir b. 'Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:No Sadaqa is payable on less than five fiqiyas of silver, and on less than five heads of camels, and less than five wasqs of dates
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبردی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں صدقہ نہیں اور نہ پانچ اونٹوں سے کم میں صدقہ ہے اور نہ ہی پانچ وسق سے کم کھجوروں میں صدقہ ہے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ وَالْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ، عَبْدِ اللَّهِ يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فِيمَا سَقَتِ الأَنْهَارُ وَالْغَيْمُ الْعُشُورُ وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّانِيَةِ نِصْفُ الْعُشْرِ " .
Jabir b. Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A tenth is payable on what is watered by rivers, or rains, and a twentieth on what is watered by camels
حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فر ما یا : " جس ( کھیتی ) کو دریا کا پانی یا بارش سیرا ب کرے ان میں عشر ( دسواں حصہ ) ہے اور جس کو اونٹ ( وغیرہ کسی جا نور کے ذریعے ) سے سیراب کیا جا ئے ان میں نصف عشر ( بیسواں حصہ ) ہے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلاَ فَرَسِهِ صَدَقَةٌ " .
Abu Huraira reported Allah's Messsenger (ﷺ) as saying:No Sadaqa is due from a Muslim on his slave or horse
عبد اللہ بن دینا ر نے سلیمان بن یسارسے انھوں نے عراک بن مالک سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مسلمان کے ذمے نہ اس کے غلام میں صدقہ ( زکاۃ ) ہے اور نہ اس کے گھوڑے میں ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، بْنُ مُوسَى عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - قَالَ عَمْرٌو - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ زُهَيْرٌ يَبْلُغُ بِهِ " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلاَ فَرَسِهِ صَدَقَةٌ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:No Sadaqa is due from a Muslim on his slave or horse
عمرو الناقد اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی انھوں نے کہا : ہمیں ایوب بن موسیٰ نے مکحول سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سلیمان بن یسار سے انھوں نے عراک بن مالک سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ ۔ ۔ عمرو نے کہا : ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور زہیر نے کہا : انھوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا یا یعنی آپ سے بیان کیا ۔ ۔ ۔ " مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں صدقہ نہیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ، بْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، كُلُّهُمْ عَنْ خُثَيْمِ بْنِ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been narrated by Abu Huraira through another chain of transmitters
خثیم بن عراک بن مالک نے اپنے والد ( عراک بن ما لک ) سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی ( مذکورہ بالا حدیث ) کے مانند بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ فِي الْعَبْدِ صَدَقَةٌ إِلاَّ صَدَقَةُ الْفِطْرِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There is no Sadaqa on a slave except Sadaqat-ul-Fitr
مخرمہ نے اپنے والد ( بکیر بن عبد اللہ ) سے انھوں نے عراک بن مالک سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا کہ آپ نے فر ما یا : " ( مالک پر ) غلام ( کے معاملے ) میں صدقہ فطر کے سوا کو ئی صدقہ نہیں ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقِيلَ مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتَادَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَهِيَ عَلَىَّ وَمِثْلُهَا مَعَهَا " . ثُمَّ قَالَ " يَا عُمَرُ أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ " .
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) sent Umar for (collecting) Sadaqa (zakat), and it was said that Ibn Jamil, Khalid b. Walid and 'Abbas the uncle of the Messenger of Allah (ﷺ), refused (to pay it). Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said:Ibn Jamil is taking revenge but for this that he was destitute and Allah made him rich. As regards Khalid, you are unjust to Khalid, for be reserved his armours and weapons for the sake of Allah, and as for 'Abbas, I shall be responsible for it and an equal amount along with it. And he again said: 'Umar, bear this in mind, the uncle of a person is like his father
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زکا ۃ کی وصولی کے لیے بھیجا تو ( بعد میں آپ سے ) کہا گیا کہ ابن جمیل خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زکاۃ روک لی ہے ( نہیں دی ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ابن جمیل تو اس کے علاوہ کسی اور بات کا بدلہ نہیں لے رہا کہ وہ پہلے فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کر دیا رہے خالد تو تم ان پر زیادتی کر ہے ہو ۔ انھوں نے اپنی زر ہیں اور ہتھیا ر ( جنگی ساز و سامان ) اللہ کی را ہ میں وقف کر رکھے ہیں باقی رہے عباس تو ان کی زکاۃ میرے ذمے ہے اور اتنی اس کے ساتھ اور بھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اے عمر!کیا تمھیں معلوم نہیں ، انسان کا چچا اس کے باپ جیسا ہو تا ہے ؟ " ( ان کی زکاۃ تم مجھ سے طلب کر سکتے تھے ۔)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى النَّاسِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ .
Ibn Umar said that Allah's Messenger (way peace be upon him) prescribed the payment of Zakat-ul-Fitr (on breaking the fast) of Ramadan for people, for every freeman, or slave, male and female among the Muslims-one sa' of dried dates, or one sa' of barley
امام مالک نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لو گوں پر رمضان کا صدقہ فطر ( فطرانہ ) کھجور یا جو کا ایک صاع ( فی کس ) مقرر کیا ، وہ ( فرد ) مسلمانوں میں سے آزاد ہو یا غلا م مرد یا عورت ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ
Ibn 'Umar said that the Messenger of Allah (ﷺ) prescribed Zakat-ul-Fitr one sa' of dates or one sa' of barley for every slave or freeman, young or old
عبید اللہ نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام یا آزاد چھوٹے یا بڑے ہر کسی پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو صدقہ فطر ( فطرا نہ ) فرض قرار دیا ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ، عُمَرَ قَالَ فَرَضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَلَى الْحُرِّ وَالْعَبْدِ وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ . قَالَ فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ .
Ibn 'Umar said that the Messenger of Allah (ﷺ) prescribed the Sadaqa of Ramadan (Sadaqat-al-Fitr) one sa' of dates or one sa' of barley for every free man or a slave, male or female, and then the people equalised (one sa' of dates or barley) with half a sa' of wheat
ایوب نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد ہو یا غلام مرد ہو یا عورت ہر کسی پررمضان کا صدقہ کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع مقرر فر ما یا ۔ کہا : لو گوں نے گندم کا نصف صاع اس ( جو ) کے ( ایک صاع کے ) مساوی قرار دیا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ . قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَجَعَلَ النَّاسُ عِدْلَهُ مُدَّيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ .
Abdullah b. Umar reported that the Messenger of Allah (ﷺ) ordered the (payment of) Zakat-ul-Fitr one sa' of dates, or one sa' of barley. Ibn 'Umar ('Abdullah b. 'Umar) further said:The people equalised it (then) with two mudds of fine wheat
لیث نے نا فع سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع صدقہ فطر ( ادا ) کرنے کا حکم دیا ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : تو لو گو ں نے گندم کے دو ئد اس ( جو ) کے ایک صاع کے برابر قرار دے لیے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ أَوْ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ .
Ibn Umar reported that the Messenger of Allah (ﷺ) prescribed Zakat-ul-Fitr of Ramadan one sa' of dates or one sa' of barley for every individual among the Muslims (whether) free man or slave, male or female, young or old
اضحاک نے نافع سے اور انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں مسلمانوں میں سے ہر انسان پر آزاد یا غلام ، مرد ہو یا عورت ، چھوٹا ہو یا بڑا کھجوروں کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع صدقہ فطر مقرر فر ما یا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ .
Sad b. Abu Sarh heard Abu Sa'id al-Khudri as saying:We used to take out as the Zakat of Fitr one sa' of grain, or one sa' of barley or one sa' of dates, or one sa' of cheese or one sa' of raisins
زید بن اسلم نے عیا ض بن عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ہم زکا ۃ الفطر طعام ( گندم ) کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا کھجوروں کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع یا منقے کا ایک صاع نکا لا کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، - يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ - عَنْ عِيَاضِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَكَاةَ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا فَكَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ أَنْ قَالَ إِنِّي أُرَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَمَّا أَنَا فَلاَ أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ أَبَدًا مَا عِشْتُ .
Abd Sa'id al-Khudri reported:We, on behalf of every young or old, free man or slave (amongst us), used to take out during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) as the Zakat of Fitr one sa' of grain, or one sa' of cheese or one sa' of raisins. And we continued taking out these till Mu'awiya b. Abu Sufyan came to us for pilgrimage or 'Umra, and addressed the people on the pulpit and said to them: I see that two mudds of zakat out of the wheat (red) of Syria is equal to one sa' of dates. So the people accepted it. But Abu Sa'id said: I would continue to take out as I used to take out (before, i e. one sa') as long as I live
داود بن قیس نے عیا ض بن عبد اللہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں مو جو د تھے تو ہم ہر چھوٹے بڑے آزاد اور غلام کی طرف سے طعام ( گندم ) کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا کھجوروں کا ایک صاع یا منقے کا ایک صاع زکا ۃ الفطر ( فطرانہ ) نکا لتے تھے اور ہم اسی کے مطابق نکا لتے رہے یہاں تک کہ ہمارے پاس ( امیر المومنین ) معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج یا عمر ہ ادا کرنے کے لیے تشریف لا ئے اور منبر پر لو گو ں کو خطا ب کیا اور لو گوں سے جو گفتگو کی اس میں یہ بھی کہا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ شام سے آنے والی ( مہنگی ) گندم کے دو مد ( نصف صاع ) کھجوروں کے ایک صاع کے برا بر ہیں اس کے بعد لو گوں نے اس قول کو اپنا لیا ۔ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : لیکن میں جب تک میں ہو ں زندگی بھر ہمیشہ اسی طرح نکالتا رہوں گا جس طرح ( عہدنبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نکا لا کرتا تھا ۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي عِياضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِينَا عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ وَمَمْلُوكٍ مِنْ ثَلاَثَةِ أَصْنَافٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَ مُعَاوِيَةُ فَرَأَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ بُرٍّ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَمَّا أَنَا فَلاَ أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَذَلِكَ .
Sa'd b. Abu Sarh heard Abu Sa'id al-Khudri as saying:We, on behalf of young or old, free or slave, used to take out the Zakat of Fitr while the Messenger of Allah (may peace he upon him) was among us, in three kinds, one sa' of dates, one sa' of cheese, or one sa' of barley, and we continued to take that out till the time of Mu'awiya, for he saw that two mudds of wheat were equal to one sa' of dates. Abu Sa'id sald: I would continue to take that out as before (i e. one sa' of wheat)
اسماعیل بن امیہ نے کہا : مجھے عیاض بن عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح نے خبردی کہ انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں زکا ۃ الفطر ہر چھوٹے بڑے آزاد اور غلام کی طرف سے تین ( قسم کی ) اصناف سے نکا لتے تھے کھجوروں سے ایک صاع پنیر سے ایک صاع اور جو سے ایک صاع ہم ہمیشہ اس کے مطا بق نکا لتے رہے یہاں تک کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دور آگیا تو انھوں نے یہ را ئے پیش کی کہ گندم کے دو مد کھجوروں کے ایک صاع کے برا بر ہیں ۔ حضرت ابو خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : لیکن میں تو اسی ( پہلے طریقے سے ) نکا لتا رہوں گا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ ثَلاَثَةِ أَصْنَافٍ الأَقِطِ وَالتَّمْرِ وَالشَّعِيرِ .
Abu Sa'id al Khudri reported:We used to take out the Zakat of Fitr in three kinds, cheese, dates and barley
حارث بن عبد الر حمان بن ابی ذباب نے عیاض بن عبد اللہ بن ابی سرح سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم فطرا نہ ان تین اجناس سے نکالا کرتے تھے پنیر ، کھجور اور جو ۔ ( یہی ان کی بنیا دی خوردنی اجنا س تھیں ۔)
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عِيَاضِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ، لَمَّا جَعَلَ نِصْفَ الصَّاعِ مِنَ الْحِنْطَةِ عِدْلَ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ أَنْكَرَ ذَلِكَ أَبُو سَعِيدٍ وَقَالَ لاَ أُخْرِجُ فِيهَا إِلاَّ الَّذِي كُنْتُ أُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ .
Abu Sa'id al-Khudri reported that when Mu'awiya prescribed half a sa' of wheat equal to one sa' of dates, he (Abu Sa'id al-Khudri) objected to it, and said:I would take out (Sadaqat-ul-Fitr) but that which I used to bring forth during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) one sa' of dates, or one sa' of raisins, or one sa' of barley, or one sa' of cheese
ابن عجلا ن نے عیا ض بن عبد اللہ بن ابی سرح سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ جب حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گندم کے آدھے صاع کو کھجوروں کے صاع کے برابر قرار دیا تو ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بات ( کو ماننے ) سے انکا ر کیا اور کہا : میں فطرا نے میں اس کے سوا اور کچھ نہ نکا لو ں گا جو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نکا لا کرتا تھا ( اور وہ ہے ) کھجوروں کا ایک صاع یا منقے کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلاَةِ .
Ibn 'Umar reported that the Messenger of Allah (ﷺ) ordered that the Sadaqat-ul-Fitr should be paid before the people go out for prayer
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرانے کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اسے نماز عید کی طرف لوگوں کے نکلنے سے پہلے ادا کردیا جائے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِإِخْرَاجِ زَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلاَةِ .
Abdullah b 'Umar reported that the Messenger of Allah (ﷺ) ordered the payment of Sadaqat-ul-Fitr before people go out for prayer
ضحاک نے نافع سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر نکالنے کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اسے لوگوں کے عیدکے نکلنے سے پہلے ادا کردیا جائے ۔
وَحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ الصَّنْعَانِيَّ - عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ أَبَا صَالِحٍ، ذَكْوَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلاَ فِضَّةٍ لاَ يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا إِلاَّ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحَ مِنْ نَارٍ فَأُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ كُلَّمَا بَرَدَتْ أُعِيدَتْ لَهُ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ فَيُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالإِبِلُ قَالَ " وَلاَ صَاحِبُ إِبِلٍ لاَ يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا وَمِنْ حَقِّهَا حَلَبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا إِلاَّ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ لاَ يَفْقِدُ مِنَهَا فَصِيلاً وَاحِدًا تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولاَهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ فَيُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْبَقَرُ وَالْغَنَمُ قَالَ " وَلاَ صَاحِبُ بَقَرٍ وَلاَ غَنَمٍ لاَ يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا إِلاَّ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ لاَ يَفْقِدُ مِنْهَا شَيْئًا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلاَ جَلْحَاءُ وَلاَ عَضْبَاءُ تَنْطِحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلاَفِهَا كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولاَهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ فَيُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْخَيْلُ قَالَ " الْخَيْلُ ثَلاَثَةٌ هِيَ لِرَجُلٍ وِزْرٌ وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ فَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ وِزْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا رِيَاءً وَفَخْرًا وَنِوَاءً عَلَى أَهْلِ الإِسْلاَمِ فَهِيَ لَهُ وِزْرٌ وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي ظُهُورِهَا وَلاَ رِقَابِهَا فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لأَهْلِ الإِسْلاَمِ فِي مَرْجٍ وَرَوْضَةٍ فَمَا أَكَلَتْ مِنْ ذَلِكَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ مِنْ شَىْءٍ إِلاَّ كُتِبَ لَهُ عَدَدَ مَا أَكَلَتْ حَسَنَاتٌ وَكُتِبَ لَهُ عَدَدَ أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا حَسَنَاتٌ وَلاَ تَقْطَعُ طِوَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَدَدَ آثَارِهَا وَأَرْوَاثِهَا حَسَنَاتٍ وَلاَ مَرَّ بِهَا صَاحِبُهَا عَلَى نَهْرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلاَ يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَهَا إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَدَدَ مَا شَرِبَتْ حَسَنَاتٍ " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْحُمُرُ قَالَ " مَا أُنْزِلَ عَلَىَّ فِي الْحُمُرِ شَىْءٌ إِلاَّ هَذِهِ الآيَةُ الْفَاذَّةُ الْجَامِعَةُ { فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (way peace be upon him) as saying:If any owner of gold or silver does not pay what is due on him, when the Day of Resurrection would come, plates of fire would be beaten out for him; these would then be heated in the fire of Hell and his sides, his forehead and his back would be cauterized with them. Whenever these cool down, (the process is) repeated during a day the extent of which would be fifty thousand years, until judgment is pronounced among servants, and he sees whether his path is to take him to Paradise or to Hell. It was said: Messenger of Allah, what about the camel? He (the Holy Prophet) said: If any owner of the camel does not pay what is due on him, and of his due in that (camel) is (also) to milk it on the day when it comes down to water. When the Day of Resurrection comes a soft sandy plain would be set for him, as extensive as possible, (he will find) that not a single young one is missing, and they will trample him with their hoofs and bite him with their mouths. As often as the first of them passes him, the last of them would be made to return during a day the extent of which would be fifty thousand years, until judgment is pronounced among servants and he sees whether his path is to take him to Paradise or to Hell. It was (again) said: Messenger of Allah, what about cows (cattle) and sheep? He said: It any owner of the cattle and sheep does not pay what is due on them, when the Day of Resurrection comes a soft sandy plain would be spread for them, he will find none of them missing, with twisted horns, without horns or with a broken horn, and they will gore him with their horns and trample him with their hoofs. As often as the first of them passes him the last of them would be made to return to him during a day the extent of which would be fifty thousand years, until judgment would be pronounced among the servants. And he would be shown his path-path leading him to Paradise or to Hell. It was said: Messenger of Allah, what about the horse? Upon this he said: The horses are of three types. To one than (these are) a burden, and to another man (these are) a covering, and still to another man (these are) a source of reward. The one for whom these are a burden is the person who rears them in order to show off, for vainglory and for opposing the Muslims; so they are a burden for him. The one for whom these are a covering is the person who rears them for the sake of Allah but does not forget the right of Allah concerning their backs and their necks, and so they are a covering for him. As for those which bring reward (these refer to) the person who rears them for the sake of Allah to be used for Muslims and he puts them in meadow and field. And whatever thing do these eat from that meadow and field would be recorded on his behalf as good deeds, as would also the amount of their dung and urine. And these would not break their halter and prance a course or two without having got recorded the amount of their hoof marks and their dung as a good deed on his behalf (on behalf of their owner). And their master does not bring them past a river from which they drink, though he did not intend to quench their thirst, but Allah would record for him the amount of what they drink on his behalf as deeds. It was said: Messenger of Allah, what about the asses?, Upon this he said: Nothing has been revealed to me in regard to the asses (in particular) except this one verse of a comprehensive nature:" He who does an atom's weight of good will see it, and he who does an atom's weight of evil will see it" (xcix)
حفص بن میسرہ صنعانی نے زید بن اسلم سے حدیث بیان کی کہ ان کو ابو صالح ذکوان نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو بھی سونے اور چاندی کا مالک ان میں سے ( یا ان کی قیمت میں سے ) ان کا حق ( زکاۃ ) ادا نہیں کرتا تو جب قیامت کا دن ہوگا ( انھیں ) اس کے لئے آگ کی تختیاں بنا دیا جائے گا اور انھیں جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور پھران سے اس کے پہلو ، اس کی پیشانی اور اس کی پشت کو داغا جائےگا ، جب وہ ( تختیاں ) پھر سے ( آگ میں ) جائیں گی ، انھیں پھر سے اس کے لئے واپس لایا جائےگا ، اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے ( یہ عمل مسلسل ہوتا رہے گا ) حتیٰ کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا ، پھر وہ جنت یا دوزخ کی طرف اپنا راستہ دیکھ لےگا ۔ "" آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اونٹوں کا کیا حکم ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کوئی اونٹوں کا مالک نہیں جو ان کا حق ادا نہیں کرتا اور ان کا حق یہ بھی ہے کہ ان کو پانی پلانے کے دن ( ضرورت مندوں اور مسافروں کےلئے ) ان کا دودھ نکالا جائے ، اور جب قیامت کا دن ہوگااس ( مالک ) ایک وسیع چٹیل میدان میں ان ( اونٹوں ) کے سامنے بچھا ( لٹا ) دیاجائے گا ، وہ ( اونٹ دنیا میں تعداد اور فربہی کے اعتبار سے ) جتنے زیادہ سے زیادہ وافر تھے اس حالت میں ہوں گے ، وہ ان میں سے دودھ چھڑائے ہوئے ایک بچے کو بھی گم نہیں پائے گا ، وہ اسے اپنے قدموں سے روندیں گے اور اپنے منہ سے کاٹیں گے ، جب بھی ان میں سے پہلا اونٹ اس پر سے گزر جائےگا تو دوسرا اس پر واپس لے آیا جائے گا ، یہ اس دن میں ( بار بار ) ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی ، یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہوجائےگا اور اسے اور اسے جنت کادوزخ کی طرف اس کا راستہ دیکھایاجائے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عر ض کی گئی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !تو گائے اور بکریاں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اورنہ گائے اور بکریوں کا کوئی مالک ہوگا جو ان کا حق ادا نہیں کرتا ، مگر جب قیامت کادن ہوگا تو اسے ان کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بچھایا ( لِٹایا ) جائے گا ۔ وہ ان میں سے کسی ایک ( جانور ) کو بھی گم نہیں پائےگا ۔ ان میں کوئی ( گائے یا بکری ) نہ مڑے سینگوں والی ہوگی ، نہ بغیر سینگوں کے اور نہ ہی کوئی ٹوٹے سینگوں والی ہوگی ( سب سیدھے تیز سینگوں والی ہوں گی ) وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے سمو سے روندیں گی ، ( یہ معاملہ ) اس دن میں ( ہوگا ) جو پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا ، جب پہلا ( جانور ) گزر جائے گا تو ان کا دوسرا ( جانور واپس ) لے آیا جائے گا حتیٰ کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا ، اور سے جنت یا دوزخ کی طرف اس کا راستہ د یکھایا جائے گا ۔ "" عرض کی گئی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !تو گھوڑے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" گھوڑے تین طرح کے ہیں : وہ جو آدمی کے بوجھ ہیں ، دوسرے وہ جو آدمی کے لئے ستر ( پردہ پوشی کا باعث ) ہیں ۔ تیسرے وہ جو آدمی کے لئے اجر وثواب کا باعث ہیں ۔ بوجھ اور گناہ کا باعث وہ گھوڑے ہیں جن کو ان مالک ریاکاری ، فخر وغرور ، اور مسلمانوں کی دشمنی کے لئے باندھتا ہے تو یہ گھوڑے اس کے لئے بوجھ ( گناہ ) ہیں ۔ اور وہ جو اسکے لئے پردہ پوشی کا باعث ہیں تو وہ ( اس ) آدمی ( کے گھوڑے ہیں ) جس نے انھیں ( موقع ملنے پر ) اللہ کی راہ میں ( خود جہاد کرنے کے لئے ) باندھ رکھا ہے ، پھر وہ ان کی پشتوں اور گردنوں میں اللہ کے حق کو نہیں بھولا تو یہ اس کے لئے باعث ستر ہیں ( چاہے اسے جہاد کا موقع ملے یا نہ ملے ) اور وہ گھوڑے جو اس کے لئے اجر وثواب کا باعث ہیں تو وہ ( اس ) آدمی ( کے گھوڑے ہیں ) جس نے انھیں اللہ کی راہ میں اہل اسلام کی خاطر کسی چراگاہ یا باغیچے میں باندھ رکھا ہے ( اور وہ خود جہاد پر جاسکے یا نہ جاسکے انھیں دوسروں کو جہاد کے لئے دیتا ہے ) یہ گھوڑے اس چراگاہ یاباغ میں سے جتنا بھی کھائیں گے تو اس شخص کے لئے اتنی تعداد میں نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس شخص کے لئے ان کی لید اور پیشاب کی مقدار کے برابر ( بھی ) نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور وہ گھوڑے اپنی رسی تڑواکر ایک دو ٹیلوں کی دوڑ نہیں لگائیں گے مگر اللہ تعالیٰ ا س شخص کےلئے ان کے قدموں کے نشانات اور لید کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھ دے گا اور نہ ہی ان کا مالک انھیں لے کر کسی نہر پر سے گزرے گا اور وہ گھوڑے اس نہر میں سے پانی پیئں گے جبکہ وہ ( مالک ) ان کو پانی پلانا ( بھی ) نہیں چاہتا مگر اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے اتنی نیکیاں لکھ دے گا جتنا ان گھوڑوں نے پانی پیا ۔ "" عرض کی گئی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اور گدھے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" مجھ پر گدھوں کے بارے میں اس منفرد اور جامع آیت کے سوا کوئی چیز نازل نہیں کی گئی : فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ "" جو کوئی ایک زرے کی مقداار میں نیکی کرے گا ( قیامت کے دن ) اسے دیکھ لے گا اور جو کوئی ایک زرے کے برابر بُرائی کرے گا اسے دیکھ لے گا ۔
وَحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ، بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ إِلَى آخِرِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لاَ يُؤَدِّي حَقَّهَا " . وَلَمْ يَقُلْ " مِنْهَا حَقَّهَا " . وَذَكَرَ فِيهِ " لاَ يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلاً وَاحِدًا " . وَقَالَ " يُكْوَى بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبْهَتُهُ وَظَهْرُهُ " .
This hadith has been narrated by Zaid b. Aslam with the same chain of transmitters except that he said:" None among the owners of camels who does not pay their due," but did not say" their due (Zakat) out of them." and he make a mention:" He did not miss a single young one out of them." and he said:" Their sides. their foreheads and their backs would be cauterised
ہشام بن سعد نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ حفص بن میسرہ کی حدیث کے آخر تک اس کے ہم معنی روایت بیان کی ، البتہ انھوں نے " جو اونٹوں کا مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا " کہا : اورمنهاحقها ( اور میں سے ان کا حق ) کے الفاظ نہیں کہے اور انھون نے ( بھی ) اپنی حدیث میں " وہ ان میں سے دودھ چھڑائے ہوئے ای بچے کوبھی گم نہ پائے گا " کے الفاظ روایت کئے ہیں اور اسی طرح ( ان سے اس کے پہلو ، پیشانی اور کمر کو داغا جائے گا کے بجائے ) يكوي بها جنباه وجبهته وظهره ( اس کے دونوں پہلو ، اس کی پیشانی اور کمر کو داغا جائے گا ) کے الفاظ کہے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ، بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لاَ يُؤَدِّي زَكَاتَهُ إِلاَّ أُحْمِيَ عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَيُجْعَلُ صَفَائِحَ فَيُكْوَى بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبِينُهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لاَ يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلاَّ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ كُلَّمَا مَضَى عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لاَ يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلاَّ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ فَتَطَؤُهُ بِأَظْلاَفِهَا وَتَنْطِحُهُ بِقُرُونِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلاَ جَلْحَاءُ كُلَّمَا مَضَى عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ " . قَالَ سُهَيْلٌ فَلاَ أَدْرِي أَذَكَرَ الْبَقَرَ أَمْ لاَ . قَالُوا فَالْخَيْلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا - أَوْ قَالَ - الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا - قَالَ سُهَيْلٌ أَنَا أَشُكُّ - الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْخَيْلُ ثَلاَثَةٌ فَهْىَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَلِرَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَيُعِدُّهَا لَهُ فَلاَ تُغَيِّبُ شَيْئًا فِي بُطُونِهَا إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرًا وَلَوْ رَعَاهَا فِي مَرْجٍ مَا أَكَلَتْ مِنْ شَىْءٍ إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا أَجْرًا وَلَوْ سَقَاهَا مِنْ نَهْرٍ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ تُغَيِّبُهَا فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ - حَتَّى ذَكَرَ الأَجْرَ فِي أَبْوَالِهَا وَأَرْوَاثِهَا - وَلَوِ اسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ تَخْطُوهَا أَجْرٌ وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا تَكَرُّمًا وَتَجَمُّلاً وَلاَ يَنْسَى حَقَّ ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا وَأَمَّا الَّذِي عَلَيْهِ وِزْرٌ فَالَّذِي يَتَّخِذُهَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَبَذَخًا وَرِيَاءَ النَّاسِ فَذَاكَ الَّذِي هِيَ عَلَيْهِ وِزْرٌ " . قَالُوا فَالْحُمُرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَىَّ فِيهَا شَيْئًا إِلاَّ هَذِهِ الآيَةَ الْجَامِعَةَ الْفَاذَّةَ { فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:No owner of the treasure who does not pay Zakat (would be spared) but (his hoards) would be heated in the Fire of Hell and these would be made into plates and with these his sides, his forehead would be cauterised till Allah would pronounce judgment among His servants during a day, the extent of which would be fifty thousand years. He would then see his path, leading either to Paradise or to Hell. And no owner of the camels who does not pay Zakat (would be spared) but a soft sandy plain would be set for him and they (the camels) would be made to pass over him till the last of them would be made to return till Allah would pronounce judgment among His servants during a day the extent of which would be fifty thousand years. He would then see his path leading him to Paradise or leading him to Hell. And no owner of the (cattle and) goats who does not pay Zakat (would be spared) but a soft sandy plain would be set for him, he would find none of them missing, with twisted horns, without horns, or with broken horns, and they will gore him with their horns and trample him with their hoofs and they would be made to pass over him till the last of them would be made to return till Allah would pronounce judgment among His servants, during a day the extent of which would be fifty thousand years, and he would see the paths leading to Paradise or to Hell. Suhail said: I do not know whether he made mention of the cows. They said: Messenger of Allah (ﷺ), what about the horses? He said: The horses have goodness in their foreheads (or he said) or goodness is ingrained in the foreheads of the horses (Suhail said: I am in doubt as to what was actually said) up till the Day of judgement. The horses are of three kinds. They are a source of reward to a person, they are a covering to a person, and they are a burden to a person. As for those which bring reward is that a person would get reward who rears them for the sake of Allah and trains them for Him, and nothing disappears in their stomachs but Allah would record for him a good deed. And if they were to graze in the meadow, they would eat nothing but Allah would record for him a reward. And if they were to drink water from the canal, with every drop that, would disappear in their stomachs there would be reward (for the owner). He went on describing till a reward was mentioned for their urine and dung. And if they pranced a course or two, there would be recorded a reward for every pace that they covered. As for one for whom they are a covering, he is the man who rears them for honour and dignity but does not forget the right of their backs and their stomachs, in plenty and adversity, As regards one for whom they are a burden, he is that who rears them for vainglory and showing off to the people; for him they are, the burden. They said: Messenger of Allah, what about asses? He said: Allah has not revealed to me anything in regards to it except this one comprehensive verse:" He who does an atom's weight of good will see it, and he who does an atom's weight of evil will see it" (xcix)
عبدالعزیز بن مختار نے کہا : ہمیں سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کوئی بھی خزانے کا مالک نہیں جو اس کی زکاۃ ادا نہیں کرتا ، مگر اس کے خزانے کو جہنم کی آگ میں تپایا جائےگا ، پھر اس کی تختیاں بنائی جائیں گی اور ان سے اس کے دونوں پہلوؤں اور پیشانی کو داغا جائےگا حتیٰ کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے گا ، ( یہ ) اس دن میں ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے ، پھر اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیاجائے گا ۔ اور کوئی بھی اونٹوں کا مالک نہیں جو ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا مگر اسے ان ( اونٹوں ) کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں لٹایا جائے گا جبکہ وہ اونٹ ( تعداد اور جسامت میں ) جتنے زیادہ سے زیادہ وافر تھے اس حالت میں ہوں گے ( وہ ) اس کے اوپر دوڑ لگائیں گے ۔ جب بھی ان میں آ خری اونٹ گزرے گا پہلا اونٹ ، اس پر دوبارہ لایا جائےگا ، حتیٰ کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرماد ے گا ۔ ( یہ ) ایک ایسے دن میں ( ہوگا ) جو پچاس ہزار سال کے برابرہوگا ، پھر اسے جنت یا دوزخ کی طرف اس کا راستہ دیکھا دیا جائے گا ۔ اور جو بھی بکریوں کا مالک ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا تو اسے وہ وافر ترین حالت میں جس میں وہ تھیں ، ان کے سامنے ایک وسیع وعریض چٹیل میدان میں بچھا ( لٹا ) دیا جائے گا ، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گی اور اپنے سینگوں سے ماریں گی ۔ ان میں نہ کوئی مڑے سینگوں والی ہوگی اور نہ بغیر سینگوں کے ۔ جب بھی آخری بکری گزرے گی اسی و قت پہلی دوبارہ اس پر لائی جائے گی ۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسے دن میں جو پچاس ہزار سال کے برابر ہے ، اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کردے گا ۔ پھر اسے جنت کا دوزخ کی طرف اس کا راستہ دکھایا جائے گا ۔ "" سہیل نے کہا : میں نے نہیں جانتا کہ آپ نے گائے کا تذکرہ فرمایا یا نہیں ۔ صحابہ ( رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !تو گھوڑے ( کا کیا حکم ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قیامت کے دن تک خیر ، گھوڑوں کی پیشانی میں ہے ۔ ۔ ۔ "" یا فرمایا : "" گھوڑوں کی پیشانی سے بندھی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ "" سہیل نے کہا : مجھے شک ہے ۔ ۔ ۔ ( فرمایا ) "" گھوڑے تین قسم کے ہیں ۔ یہ ایک آدمی کے لئے باعث اجر ہیں ، ایک آدمی کے لئے پردہ پوشی کا باعث ہیں ۔ اور ایک کے لئے بوجھ اور گناہ کا سبب ہیں ۔ وہ گھوڑے جو اس ( مالک ) کے لئے اجر ( کا سبب ) ہیں تو ( ان کا مالک ) وہ آدمی ہے جو انھیں اللہ کے راستے میں ( جہاد کے لئے ) پالتا ہے ۔ اور تیار کرتا ہے تو یہ گھوڑے کوئی چیز اپنے پیٹ میں نہیں ڈالتے مگر اللہ اس کی وجہ سے اس کے لئے اجر لکھ دیتاہے ۔ اگر وہ انھیں چراگاہ میں چراتا ہے تو وہ کوئی چیز بھی نہیں کھاتے ۔ مگر اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لئے اجر لکھ دیتا ہے ۔ اور اگر وہ انھیں کسی نہر سے پانی پلاتا ہے تو پانی کے ہر قطرے کے بدلے جسے وہ اپنے پیٹ میں اتارتے ہیں ۔ اس کے لئے اجر ہے ۔ حتیٰ کہ آپ نے ان کے پیشاب اور لید کرنے میں بھی اجر ملنے کا تذکرہ کیا ۔ ۔ ۔ اور اگر یہ گھوڑے ایک یا دو ٹیلوں ( کافاصلہ ) دوڑیں ۔ تو اس کے لئے ان کے ہر قدم کے عوض جو وہ اٹھاتے ہیں ، اجر لکھ دیا جاتا ہے ۔ اور وہ انسان جس کے لئے یہ باعث پردہ ہیں تو وہ آدمی ہے جو انھیں عزت وشرف اور زینت کے طور پر رکھتا ہے ۔ اور وہ تنگی اور آسانی ( ہرحالت ) میں ان کی پشتوں اور ان کے پیٹوں کا حق نہیں بھولتا ۔ رہا وہ آدمی جس کے لئے وہ بوجھ ہیں تو وہ شخص ہے جو انھیں ناسپاس گزاری کے طور پر ، غرور اور تکبر کرنے اور لوگوں کو دکھانے کے لئے ر کھتا ہے تو وہی ہے جس کے لئے یہ گھوڑے بوجھ کاباعث ہیں ۔ "" لوگوں نے کہا : اے اللہ کے ر سول صلی اللہ علیہ وسلم ! تو گدھے ( ان کا کیا حکم ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ان کے بارے میں اس منفرد اور جامع آیت کے سوا کچھ نازل نہیں کیا : "" تو جو کوئی زرہ برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ . وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ بَدَلَ عَقْصَاءُ عَضْبَاءُ وَقَالَ " فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وَظَهْرُهُ " . وَلَمْ يَذْكُرْ جَبِينُهُ .
This hadith has been narrated by Suhail b. Abu Salih with the same chain of transmitters, and he said he substituted the word aqsa' with 'adba' and said:" his side and his back," but he made no mention of his forehead
عبدالعزیز دراوردی نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور ( پوری ) حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِذَا لَمْ يُؤَدِّ الْمَرْءُ حَقَّ اللَّهِ أَوِ الصَّدَقَةَ فِي إِبِلِهِ " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ .
This hadith has been narrated by Abu Huraira through another chain of transmitters:The Messenger of Allah (ﷺ) said:" When a person does not pay what is due to Allah or Sadaqa of his camels...." The rest of the hadith is the same
روح بن قاسم نے کہا : ہمیں سہیل بن ابی صالح نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اورعقصاء ( مرے ہوئے سینگوں والی ) کے بجائےعضباء ( ٹوٹے ہوئے سینگوں والی ) کہا : اور اس کے زریعے سے اس کا پہلو اور اس کی پشت داغی جائے گی " کہا اور پیشانی کا ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ، عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لاَ يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلاَّ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ قَطُّ وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا وَلاَ صَاحِبِ بَقَرٍ لاَ يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلاَّ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطِحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِقَوَائِمِهَا وَلاَ صَاحِبِ غَنَمٍ لاَ يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلاَّ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطِحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلاَفِهَا لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلاَ مُنْكَسِرٌ قَرْنُهَا وَلاَ صَاحِبِ كَنْزٍ لاَ يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ إِلاَّ جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاتِحًا فَاهُ فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ فَيُنَادِيهِ خُذْ كَنْزَكَ الَّذِي خَبَأْتَهُ فَأَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ فَإِذَا رَأَى أَنْ لاَ بُدَّ مِنْهُ سَلَكَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَيَقْضَمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ " . قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ . وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الإِبِلِ قَالَ " حَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنِيحَتُهَا وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
Jabir b. 'Abdullah al-Ansari reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The owner of a camel who does not pay what is due on it (would be punished in this way) that on the Day of Resurrection many more (along with his camel) would come and the owner would be made to sit on a soft sandy ground and they would trample him with their feet and hooves. And no owner of the cattle who does not pay what is due on them (would be spared the punishment) but on the Day of Resurrection, many more would come and he (the owner) would be made to sit on the soft sandy ground and would be gored by their horns and trampled under their feet. And no owner of the goats and sheep who does not pay what is due on them (would be spared of punishment) but many more would come on the Day of Resurrection and he (the owner) would be made to sit on a soft sandy ground and they would gore him with their horns and trample him under their hooves. And there would be more (among this flock of sheep and goat) without horns or with broken horns. And no owner of the treasure who does not pay its due but his treasure would come on the Day of Resurrection like a bald snake and would pursue him with its mouth open, and when it would come near he would run away from it, and he would be called thus:" Take your treasure which you concealed, for I do not need it." When he would find no way out he would put his hand in its mouth and it would gnaw it like a he-camel. Abu Zubair said: We heard Ubaid b. Umair saying this. We then asked Jabir b. 'Abdullah about this. And he also said like Ubaid b. Umair, Abu Zubair said: I heard 'Ubaid b. 'Umair saying: A man said: Messenger of Allah, what is due on camels? He said: Milking them near water, and lending of bucket (used for drawing water from it), or lending its male for mating with a she-camel and providing it as a ride for the sake of Allah
ابن جریج نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرمارہے تھے : "" کوئی اونٹوں کا مالک نہیں جو ان کے معاملے میں اس طرح نہیں کرتا جس طرح ان کا حق ہے مگر وہ قیامت کے دن اپنی انتہائی زیادہ تعداد میں آئیں گے جو کبھی ان کی تھی اور وہ ان ( اونٹوں ) کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بیٹھے گا اور وہ اسے اپنے اگلے قدموں اور اپنے پاؤں سے روندیں گے ۔ اسی طرح کوئی گائے کا مالک نہیں جو ان کا حق ادا نہیں کرتا مگر وہ قیامت کے دن اس سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گی جو کبھی ان کی تھی ۔ اور وہ ان کے سامنے چٹیل میدان میں بیٹھے گا ، وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے پیروں سے روندیں گی اور اسی طرح بکریوں کا کوئی مالک نہیں جو ان کا حق ادا نہیں کرتا تو وہ قیامت کے دن اپنی زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گی جو کبھی ان کی تھی اور وہ ان کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بیٹھے گا اور وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے سموں سے اسے روندیں گی اور ان میں نہ کوئی سینگوں کے بغیر ہوگی اور نہ ہی کوئی ٹوٹے سینگوں والی ہوگی اور کوئی ( سونے چاندی کے ) خزانے کا مالک نہیں جو اس کا حق ادا نہیں کرتا مگر قیامت کے دن اس کا خزانہ گنجا سانپ بن کر آئے گا اور اپنا منہ کھولے ہوئے اس کاتعاقب کرے گا ، جب اس کے پاس پہنچے گا تو وہ اس سے بھاگے گا ، پھر وہ ( سانپ ) اسے آواز دے گا : اپنا خزانہ لے لو جو تم نے ( دنیامیں ) چھپا کررکھا تھا ۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ جب ( خزانے والا ) دیکھے گا اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں تو وہ اپنا ہاتھ اس ( سانپ ) کے منہ میں داخل کرے گا ، وہ اسے اس طرح چبائے گا جس طرح سانڈھ چباتا ہے ۔ "" ابو زبیر نے کہا : میں نے عبید بن عمیر کو یہ بات کہتے ہوئے سنا ، پھر ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس ( حدیث ) کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے اسی طرح کہا جس طرح عبید بن عمیر نے کہا ۔ اور ابو زبیر نے کہا : میں نے عبید بن عمیر کو کہتے ہوئے سنا ایک آدمی نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اونٹوں کا حق کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" پانی ( پلانے کاموقع ) پر ان کا دودھ دوہنا ( اور لوگوں کو پلانا ) اور اس کا ڈول ادھار دینا اور اس کا سانڈ ادھار دینا اور اونٹنی کو دودھ پینے کے لئے دینا اور اللہ کی راہ میں سواری کی خاطر دینا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلاَ بَقَرٍ وَلاَ غَنَمٍ لاَ يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلاَّ أُقْعِدَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَطَؤُهُ ذَاتُ الظِّلْفِ بِظِلْفِهَا وَتَنْطِحُهُ ذَاتُ الْقَرْنِ بِقَرْنِهَا لَيْسَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ جَمَّاءُ وَلاَ مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا قَالَ " إِطْرَاقُ فَحْلِهَا وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَمَنِيحَتُهَا وَحَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلاَ مِنْ صَاحِبِ مَالٍ لاَ يُؤَدِّي زَكَاتَهُ إِلاَّ تَحَوَّلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُ صَاحِبَهُ حَيْثُمَا ذَهَبَ وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ وَيُقَالُ هَذَا مَالُكَ الَّذِي كُنْتَ تَبْخَلُ بِهِ فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لاَ بُدَّ مِنْهُ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَجَعَلَ يَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ " .
Jabir b. Abdullah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:No owner of camels or cattle or flock of sheep or goats who does not pay his due (would be spared punishment) but would be made to sit on the Day of Resurrection on a soft sandy ground and the hoofed animals would trample him with their hoofs and gore him with their horns. And none of them on that day would be without horns, or with broken horns. We said: Messenger of Allah, but what is due on them? He said: Lending of the male (for use) and lending of the bucket (used for drawing water for them) and for mating and milking them near water and providing them as a ride for the sake of Allah. And no owner of the property who does not pay Zakat (would be spared punishment) but it (his property) would turn into a bald snake and would follow its owner wherever he would go, and he would run away from it, and it would be said to him: That is your property about which you were stingy. And when he would find no other way out he would thrust his hand in its mouth and it would gnaw it like a male camel
عبدالملک نے ابو زبیر سے ، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اونٹوں ، گائے اور بکریوں کا جو بھی مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا تو اسے قیامت کے دن ان کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بٹھایا جائےگا ۔ سموں والا جانور اسے اپنے سموں سے روندے گا اور سینگوں والا اسے اپنے سینگوں سے مارے گا ، ان میں سے اس دن نہ کوئی ( گائے یا بکری ) بغیر سینگ کے ہوگی اور نہ ہی کوئی ٹوٹے ہوئے سینگوں والی ہوگی ۔ " ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ان کا حق کیا ہے؟آپ نے فرمایا : " ان میں سے نر کو جفتی کے لئے دینا ، ان کا ڈول ادھار دینا ، ان کو دودھ پینے کے لئے دینا ، ان کو پانی کے گھاٹ پر دوہنا ( اور لوگوں کو پلانا ) اور اللہ کی راہ میں سواری کے لئے د ینا ۔ اور جو بھی صاحب مال اسکی زکاۃ ادا نہیں کرتا ۔ تو قیامت کے دن وہ مال گنجے سانپ کی شکل اختیار کرلے گا ، اس کا مالک جہاں جائے گا وہ اس کے پیچھے لگا رہے گا اور وہ اس سے بھاگے گا ، اسے کہا جائےگا : یہ تیرا وہی مال ہے جس میں تو بخل کیا کرتاتھا ۔ جب وہ د یکھے گا کہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے تو وہ اپنا ہاتھ اسکے منہ میں داخل کرے گا ، وہ اسے اس طرح چبائے گا جس طرح اونٹ ( چارے کو ) چباتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلاَلٍ الْعَبْسِيُّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِنَّ نَاسًا مِنَ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَنَا فَيَظْلِمُونَنَا . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ارْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ " . قَالَ جَرِيرٌ مَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ مُنْذُ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ .
Jabir b. 'Abdullah reported:There came people from among the Bedouins to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Collectors of Sadaqa come to us and treat us unjustly. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: Please your collectors. Jarir said: Ever since I heard it from the Messenger of Allah (ﷺ) no collector had departed but was pleased with me
عبدالواحد بن زیاد نے کہا : ہمیں محمد بن ابی اسماعیل نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : ہمیں عبدالرحمان ہلال بن عبسی نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : کچھ بدوی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے : کچھ زکاۃ وصول کرنے والے لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم پر ظلم کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی کیاکرو ۔ "" حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے تو میرے پاس سے جو کوئی زکاۃ وصول کرنے والا گیا ، راضی گیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
This hadith has been narrated by Muhammad b. Isma'il with the same chain of transmitters
عبدالرحیم بن سلیمان ، یحییٰ بن سعید اور ابو اسامہ سب نے محمد بن اسماعیل سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ اسی کی طرح حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ . فَلَمَّا رَآنِي قَالَ " هُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " . قَالَ فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي مَنْ هُمْ قَالَ " هُمُ الأَكْثَرُونَ أَمْوَالاً إِلاَّ مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا - مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ - وَقَلِيلٌ مَا هُمْ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلاَ بَقَرٍ وَلاَ غَنَمٍ لاَ يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلاَّ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ تَنْطِحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلاَفِهَا كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ " .
Abu Dharr reported:I went to the Messenger of Allah (ﷺ) and he was sitting under the shade of the Ka'ba. As he saw me he said: By the Lord of the Ka'ba, they are the losers. I came there till I sat and I could not stay (longer) and (then) stood up. I said: Messenger of Allah, let my father, be ransom for you, who are they (the losers)? He said: They are those having a huge amount of wealth except so and so and (those who spend their wealth generously on them whom they find in front of them, behind them and on their right side and on their left side) and they are a few. And no owner of camels, or cattle or goat and sheep, who does not pay Zakat (would be spared punishment) but these (camels, cattle, goats and sheep) would come on the Day of Resurrection wearing more flesh and would gore him with their horns and trample them with their hooves. And when the last one would pass away, the first one would return (to trample him) till judgment would be pronounced among people
وکیع نے کہا : اعمش نے ہمیں معرور بن سوید کے حوالے سے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبےکےسائے میں تشریف فرما تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا : " رب کعب کی قسم! وہی لوگ سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔ " کہا : میں آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ( ہی تھا ) اور اطمینان سے بیٹھا ہی نہ تھا کہ کھڑا ہوگیا اور میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان وہ کون لوگ ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ زیادہ مالدار لوگ ہیں ، سوائے اس کے جس نے ، اپنے آگے ، اپنے پیچھے ، اپنے دائیں ، اپنے بائیں ، ایسے ، ایسے اور ایسے کہا ( لے لو ، لے لو ) اور ایسے لوگ بہت کم ہیں ۔ جو بھی اونٹوں ، گایوں یابکریوں کا مالک ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا تو وہ قیامت کے دن اس طرح بڑی اور موٹی ہوکر آئیں گی جتنی زیادہ سےزیادہ تھیں ، اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی جب بھی ان میں سے آخری گزر کر جائے گی ، پہلی اس ( کے سر ) پر واپس آجائے گی حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ وَكِيعٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الأَرْضِ رَجُلٌ يَمُوتُ فَيَدَعُ إِبِلاً أَوْ بَقَرًا أَوْ غَنَمًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا " .
Abu Dbarr reported:I went to the Messenger of Allah (ﷺ) and he was sitting under the shade of the Ka'ba, and the rest of the hadith it the same but for this that he (the Holy Prophet) said:" By Allah, in Whose hand is my life, no person on earth who dies and leaves behind camels, or cattle or goat and sheep, and does not pay Zakat (would be spared the punishment)
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے معرور سےاور انھوں نے حضرت ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا ، آپ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے ۔ ۔ ۔ آگے وکیع کی روایت کی طرح ہے ، البتہ ( اس میں ہے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!زمین پر جو بھی آدمی فوت ہوتا ہے اور ایسے اونٹ ، گائےیا بکریاں پیچھے چھوڑ جاتا ہے جن کی اس نے زکاۃ ادا نہیں کی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا تَأْتِي عَلَىَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلاَّ دِينَارٌ أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ عَلَىَّ " .
Abu Huraira reported that the Prophet (ﷺ) said:Nothing is more delighting to me than this that Uhud should be of gold for me, and no dinar is left with me out of it before three nights pass except a dinar which I would set aside for the repayment of debt upon me
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیادسے اور انھوں نے حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے لئے یہ بات خوشی کاباعث نہیں کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تیسرا دن مجھ پر اس طرح آئے کہ میرے پاس اس میں سے کوئی دینار بچا ہوا موجود ہوسوائے اس دینار کے جس کو میں اپنا قرض چکانے کے لئے رکھ لوں ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
Abu Huraira reported the same from the Prophet (ﷺ)
شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے سنا ۔ ۔ ۔ اسی کے مانند ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي، ذَرٍّ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا ذَرٍّ " . قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ عِنْدِي ذَهَبٌ أَمْسَى ثَالِثَةً عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلاَّ دِينَارًا أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ إِلاَّ أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا - حَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ - وَهَكَذَا - عَنْ يَمِينِهِ - وَهَكَذَا - عَنْ شِمَالِهِ " . قَالَ ثُمَّ مَشَيْنَا فَقَالَ " يَا أَبَا ذَرٍّ " . قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِنَّ الأَكْثَرِينَ هُمُ الأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلاَّ مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . مِثْلَ مَا صَنَعَ فِي الْمَرَّةِ الأُولَى قَالَ ثُمَّ مَشَيْنَا قَالَ " يَا أَبَا ذَرٍّ كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ " . قَالَ فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي - قَالَ - سَمِعْتُ لَغَطًا وَسَمِعْتُ صَوْتًا - قَالَ - فَقُلْتُ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عُرِضَ لَهُ - قَالَ - فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَّبِعَهُ قَالَ ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ " لاَ تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ " . قَالَ فَانْتَظَرْتُهُ فَلَمَّا جَاءَ ذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي سَمِعْتُ - قَالَ - فَقَالَ " ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي فَقَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ " . قَالَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " .
Abu Dharr reported:I walked with the Messenger of Allah (ﷺ) on the stony ground of Medina in the afternoon and we were looking at Uhud. The Messenger of Allah (way peace by upon him) said: Abu Dharr! I said: Messenger of Allah, I am here at thy beck and call. He said: What I desire is that Uhud be gold with me and three nights should pass and there is left with me any dinar but one coin which I would keep to pay debt. (I love) to spend it among the servants of Allah like this and he pointed in front of him, and on his right side and on his left side. We then proceeded on and he said: Abu Dharr. I said: At thy beck and call, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: The rich would be poor on the Day of Resurrection, but he who spent like this and like this and like this, and he pointed as at the first time. We again went on when he said. Abu Dharr, stay where you are till I come back to you. He (the Holy Prophet) then moved on till he disappeared from my sight He (Abu Dharr) said: I heard a sound and I heard a noise. I said (to myself): The Messenger of Allah (ﷺ) might have met (mishap or an enemy). I wished to follow him but I remembered his command for not departing till he would come back. So I waited for him, and when he came I made a mention of what I heard. He said: it was Gabriel, who came to me and said:" He who dies among your Ummah without associating Anything with Allah would enter Paradise. I said: Even if he committed fornication or theft? He said: Even if he committed fornication or theft
اعمش نے زید بن وہب سے اور انھوں نے حضرت ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ( ایک رات ) عشاء کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی کالی پتھریلی زمین پر چل ر ہا تھا اور ہم احد پہاڑ کو دیکھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ !میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حاضر ہوں!فرمایا : " مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ یہ ( کوہ ) احد میرے پاس سونے کا ہو اور میں اس حالت میں تیسری شام کروں کہ میرے پاس اس میں سے ایک دینار بچا ہوا موجود ہو سوائے اس دینار کے جو میں نے قرض ( کی ادائیگی ) کے لئے بچایا ہو ، اور میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح ( خرچ ) کروں ۔ آپ نے اپنے سامنے دونوں ہاتھوں سے بھر کر ڈالنے کا اشارہ کیا ۔ اس طرح ( خرچ ) کروں ۔ دائیں طرف سے ۔ ۔ ۔ اس طرح ۔ ۔ ۔ بائیں طرف سے ۔ ۔ ۔ " ( ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر ہم چلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابو زر! رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حاضر ہوں!آپ نے فرمایا : " یقیناً زیادہ مالدار ہی قیامت کے دن کم ( مایہ ) ہوں گے ، مگر وہ جس نے اس طرح ، اس طرح اور اس طرح ( خرچ ) کیا ۔ " جس طرح آپ نے پہلی بار کیاتھا ۔ ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم پھر چلے ۔ آپ نے فرمایا : " ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! میرے واپس آنے تک اسی حالت میں ٹھہرے رہنا ۔ " کہا : آپ چلے یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگئے ۔ میں نے شور سا سنا آواز سنی تو میں نے دل میں کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز پیش آگئی ہے ، چنانچہ میں نے پیچھے جانے کا ارادہ کرلیا پھر مجھے آپ کا یہ فرمان یاد آگیا : " میرے آنے تک یہاں سے نہ ہٹنا " تو میں نے آپ کاانتظار کیا ، جب آپ و اپس تشریف لائے تو میں نے جو ( کچھ ) سنا تھا آپ کو بتایا ۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ جبرائیل علیہ السلام تھے ، میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپ کی امت کاجو فرد اس حال میں فوت ہوگا کہ کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتاتھا وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ میں نے پوچھا : چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟انھوں نے کہا : چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ رُفَيْعٍ - عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْشِي وَحْدَهُ لَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ قَالَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ - قَالَ - فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ فَالْتَفَتَ فَرَآنِي فَقَالَ " مَنْ هَذَا " . فَقُلْتُ أَبُو ذَرٍّ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ . قَالَ " يَا أَبَا ذَرٍّ تَعَالَهْ " . قَالَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً فَقَالَ " إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلاَّ مَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ خَيْرًا فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينَهُ وَشِمَالَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَوَرَاءَهُ وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا " . قَالَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً فَقَالَ " اجْلِسْ هَا هُنَا " . قَالَ فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ فَقَالَ لِيَ " اجْلِسْ هَا هُنَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ " . قَالَ فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى لاَ أَرَاهُ فَلَبِثَ عَنِّي فَأَطَالَ اللَّبْثَ ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ وَهُوَ يَقُولُ " وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى " . قَالَ فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ مَنْ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا . قَالَ " ذَاكَ جِبْرِيلُ عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ فَقَالَ بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ . فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى قَالَ نَعَمْ . قَالَ قُلْتُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى قَالَ نَعَمْ . قَالَ قُلْتُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى قَالَ نَعَمْ وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ " .
Abu Dharr reported:I went out one night (and found) the Messenger of Allah (ﷺ) walking all alone. There was no man with him. I thought that he did not like anyone walking along with him. So I began to walk in the light of the moon. He, however turned his attention to me and saw me and said: Who is this? I said: It is Abu Dharr. Let Allah make me as ransom for you. He said: Abu Dharr, come on. He (Abu Dharr) said: So I walked along with him for some time and he said: The wealthy persons would have little (reward) on the Day of Resurrection, except upon whom Allah conferred goodness (wealth). He dispensed it to his right, left, in front of him and at his back (just as the wind diffuses fragrance) and did good with it (riches). I went along with him for some time when He said: Sit here. And he made me sit at a safe place and there were stones around it, and he said to me: Sit here till I come to you. He went away on the stony ground till I could not see him. He stayed away from me, and he prolonged his stay. Then I heard him as he came back and he was saying: Even if he committed theft and even if he committed fornication. When he came I could not help asking him: Apostle of Allah, let Allah make me ransom for you, whom were you speaking on the stony ground? I heard nobody responding to you. He (the Holy Prophet) said: It was Gabriel who met me by the side of the stony ground and said: Give glad tidings to your Ummah that he who died without associating ought with Allah would go into Paradise. I said: Gabriel, even if he committed theft and fornication? He said: Yes. I said: Even it he committed theft and fornication? He said: Yes, I again said: Even if he committed theft and fornication? He said: Yes, even if he drank wine
عبدالعزیز بن رفیع نے زید بن وہب سے اور انھوں نے ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں ایک رات ( گھرسے ) باہر نکلا تو اچانک دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے جارہے ہیں ، آپ کے ساتھ کوئی انسان نہیں تو میں نے خیال کیا کہ آپ اس بات کو ناپسند کررہے ہیں کہ کوئی آپ کے ساتھ چلے ، چنانچہ میں چاند کے سائے میں چلنے لگا ، آپ مڑے تو مجھے دیکھ لیا اور فرمایا : " یہ کون ہے؟ " میں نے عرض کی : ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوں ، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابو زر ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) آجاؤ ۔ " کہا : میں کچھ دیر آپ کے ساتھ چلا تو آپ نے فرمایا : " بے شک زیادہ مال والے ہی قیامت کے دن کم ( مایہ ) ہوں گے ، سوائے ان کے جن کو اللہ نے مال عطا فرمایا : اور ا نھوں نے اسے دائیں ، بائیں اور آگے ، پیچھے اڑا ڈالا اور اس میں نیکی کے کام کئے ۔ " میں ایک گھڑی آپ کے ساتھ چلتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہاں بیٹھ جاؤ ۔ " آپ نے مجھے ایک ہموار زمین میں بٹھا دیا جس کے گرد پتھر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : " یہیں بیٹھے رہنا یہاں تک کہ میں تمھارے پاس لوٹ آؤں ۔ " آپ پتھریلے میدان ( حرے ) میں چل پڑے حتیٰ کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگئے ، آپ مجھ سے دور رکے رہے اور زیادہ دیرکردی ، پھر میں نے آپ کی آواز سنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف آتے ہوئے فرمارہے تھے : " خواہ اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو ۔ " جب آپ تشریف لئے آئے تو میں صبر نہ کرسکا میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ مجھے آپ پر نثار فرمائے!آپ سیاہ پتھروں کے میدان ( حرہ ) کے کنارے کس سے گفتگو فرمارہے تھے؟میں نے تو کسی کو نہیں سناجو آپ کو جواب دے رہا ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ جبرئیل علیہ السلام تھے جو سیاہ پتھروں کے کنارے میرے سامنے آئے اور کہا : اپنی امت کو بشارت دے دیجئے کہ جو کوئی اس حالت میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ میں نے کہا : اے جبرئیل علیہ السلام! چاہے اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو؟انھوں نےکہا : ہاں!فرمایا : میں نے پھر کہا : خواہ اس نے چوری کی ہو خواہ اس نے زنا کیا ہو؟انھوں نے کہا : ہاں ۔ میں نے پھر ( تیسری بار ) پوچھا : خواہ اس نے چوری کی ہو خواہ اس نے زنا کیا ہو؟انھوں نے کہا : ہاں ، خواہ اس نے شراب ( بھی ) پی ہو ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي، الْعَلاَءِ عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا أَنَا فِي، حَلْقَةٍ فِيهَا مَلأٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ أَخْشَنُ الثِّيَابِ أَخْشَنُ الْجَسَدِ أَخْشَنُ الْوَجْهِ فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَى عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَيُوضَعُ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْىِ أَحَدِهِمْ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ كَتِفَيْهِ وَيُوضَعُ عَلَى نُغْضِ كَتِفَيْهِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةِ ثَدْيَيْهِ يَتَزَلْزَلُ قَالَ فَوَضَعَ الْقَوْمُ رُءُوسَهُمْ فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ رَجَعَ إِلَيْهِ شَيْئًا - قَالَ - فَأَدْبَرَ وَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى سَارِيَةٍ فَقُلْتُ مَا رَأَيْتُ هَؤُلاَءِ إِلاَّ كَرِهُوا مَا قُلْتَ لَهُمْ . قَالَ إِنَّ هَؤُلاَءِ لاَ يَعْقِلُونَ شَيْئًا إِنَّ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم دَعَانِي فَأَجَبْتُهُ فَقَالَ " أَتَرَى أُحُدًا " . فَنَظَرْتُ مَا عَلَىَّ مِنَ الشَّمْسِ وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّهُ يَبْعَثُنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ فَقُلْتُ أَرَاهُ . فَقَالَ " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَهُ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ كُلَّهُ إِلاَّ ثَلاَثَةَ دَنَانِيرَ " . ثُمَّ هَؤُلاَءِ يَجْمَعُونَ الدُّنْيَا لاَ يَعْقِلُونَ شَيْئًا . قَالَ قُلْتُ مَا لَكَ وَلإِخْوَتِكَ مِنْ قُرَيْشٍ لاَ تَعْتَرِيهِمْ وَتُصِيبُ مِنْهُمْ . قَالَ لاَ وَرَبِّكَ لاَ أَسْأَلُهُمْ عَنْ دُنْيَا وَلاَ أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ .
Ahnaf b. Qais reported:I came to Medina and when I was in the company of the grandees of Quraish a man with a crude body and an uncouth face wearing coarse clothes came there. He stood up before them and said: Give glad tidings to those whom who amass riches of the stones which would be heated in the Fire of Hell, and would be placed at the tick of the chest till it would project from the shoulder bone and would he put on the shoulder bone till it would project from the tick of his chest, and it (this stone) would continue passing and repassing (from one side to the other). He (the narrator) said: Then people hung their heads and I saw none among them giving any answer. He then returned and I followed him till he sat near a pillar. I said: I find that these (people) disliked what you said to them and they do not understand anything. My friend Abu'l-Qasim (Muhammad) (may peace he upon him) called me and I responded to him, and he said: Do you see Uhud? I saw the sun (shining) on me and I thought that he would send me on an errand for him. So I said: I see it. Upon this he said: Nothing would delight me more than this that I should have gold like it (equal to the bulk of Uhud), and I should spend it all except three dinars. (How sad it is) that they hoard worldly riches, and they know nothing. I said: What about you and your brothers Quraish? You do not go to thein for any need and do not accept anything from them. He said: By Allah, I neither beg anything from them (from worldly goods), nor do I ask them anything about religion till I meet my Allah and His Messenger
ابو علاء نے حضرت احنف بن قیس ؒسے روایت کی انھوں نے کہا : میں مدینہ آیا تو میں قریشی سر داروں کے ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک کھردرے کپڑوں گٹھے ہو ئے جسم اور سخت چہرے والا ایک آدمی آیا اور ان کے سر پر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا ۔ مال و دولت جمع کرنے والوں کو اس تپتے ہو ئے پتھر کی بشارت سنا دو جس کو جہنم کی آگ میں گرم کیا جا ئے گا اور اسے ان کے ایک فرد کی نو ک پستان پر رکھا جائے گا حتیٰ کہ وہ اس کے دونوں کندھوں کی باریک ہڈیوں سے لہراتا ہوا نکل جا ئے گا اور اسے اس کے شانوں کی باریک ہڈیوں پر رکھا جا ئے گا حتیٰ کہ وہ اس کے پستانوں کے سروں سے حرکت کرتا ہوا نکل جا ئے گا ۔ ( احنف نے ) کہا : اس پر لو گوں نے اپنے سر جھکا لیے اور میں نے ان میں سے کسی کو نہ دیکھا کہ اسے کو ئی جواب دیا ہو کہا پھر وہ لو ٹا اور میں نے اس کا پیچھا کیا حتیٰ کہ وہ ایک ستون کے ساتھ ( ٹیک لگا کر ) بیٹھ گیا میں نے کہا : آپ نے انھیں جو کچھ کہا ہے میں نے انھیں اس کو نا پسند کرتے ہو ئے ہی دیکھا ہے انھوں نے کہا : یہ لو گ کچھ سمجھتے نہیں میرے خلیل ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا یا میں نے لبیک کہا تو آپ نے فر ما یا : " کیا تم احد ( پہاڑ ) کو دیکھتے ہو؟ میں نے دیکھا کہ مجھ پر کتنا سورج باقی ہے میں سمجھ رہا تھا کہ آپ مجھے اپنی کسی ضرورت کے لیے بھیجنا چا ہتے ہیں چنا نچہ میں نے عرض کی میں اسے دیکھ رہا ہوں تو آپ نے فر مایا : " میرے لیے یہ بات باعث مسرت نہ ہو گی کہ میرے پا س اس کے برا برا سونا ہو اور میں تین دیناروں کے سوا اس سارے ( سونے ) کو خرچ ( بھی ) کر ڈالوں ۔ پھر یہ لو گ ہیں دنیا جمع کرتے ہیں کچھ عقل نہیں کرتے ۔ میں نے ان سے پو چھا آپ کا اپنے ( حکمران ) قریشی بھائیوں کے ساتھ کیا معاملہ ہے آپ اپنی ضرورت کے لیے نہ ان کے پاس جا تے ہیں اور نہ ان سے کچھ لیتے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا نہیں تمھا رے پرودیگار کا قسم! نہ میں ان سے دنیا کی کو ئی چیز مانگوں گا نہ ہی ان سے کسی دینی مسئلے کے بارے میں پو چھوں گا یہاں تک کہ میں اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں ۔
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ، حَدَّثَنَا خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ، عَنِ الأَحْنَفِ، بْنِ قَيْسٍ قَالَ كُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِكَىٍّ فِي ظُهُورِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ وَبِكَىٍّ مِنْ قِبَلِ أَقْفَائِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ . - قَالَ - ثُمَّ تَنَحَّى فَقَعَدَ . - قَالَ - قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا أَبُو ذَرٍّ . قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ مَا شَىْءٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُ قُبَيْلُ قَالَ مَا قُلْتُ إِلاَّ شَيْئًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صلى الله عليه وسلم . قَالَ قُلْتُ مَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَاءِ قَالَ خُذْهُ فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً فَإِذَا كَانَ ثَمَنًا لِدِينِكَ فَدَعْهُ.
Ahnaf b. Qais reported:While I was in the company of the (elites) of Quraiah, Abu Dharr came there and he was saying: Give glad tidings to the hoarders of riches that their backs would be branded (so deeply) that (the hot Iron) would come out of their sides, and when the backs of their necks would be branded, it would come out of their foreheads. He (Abu Dharr) then went away and sat down. I asked who he was. They said: He is Abu Dharr. I went to him and said to him: What is this that I heard from you which you were saying before? He said: I said nothing but only that which I heard from their Prophet (ﷺ). I again said: What do you say about this gift? He said: Take it, for today it is a help. But when it becomes a price for your religion, then abandon it
خلید العصری نے حضرت احنف بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ؒ سے روایت کی انھوں نے کہا میں قریش کی ایک جماعت میں مو جو د تھا کہ ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کہتے ہو ئے گزرے : مال جمع کرنے والوں کو ( آگ کے ) ان داغوں کی بشارت سنا دو جو ان کی پشتوں پر لگائے جا ئیں گے اور ان کے پہلوؤں سے نکلیں گے اور ان داغوں کی جو ان کی گدیوں کی طرف سے لگا ئے جا ئیں گے اور ان کی پیشا بیوں سے نکلیں گے کہا : پھر وہ الگ تھلگ ہو کر بیٹھ گئے میں نے پو چھا یہ صاحب کو ن ہیں ؟ لو گوں نے بتا یا یہ ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں میں اٹھ کر ان کے پا س چلا گیا اور پو چھا کیا با ت تھی تھوڑی دیر پہلے میں نے سنی آپ کہہ رہے تھے ؟انھوں نے جواب دیا میں نے اس بات کے سوا کچھ نہیں کہا جو میں نے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ۔ کہا میں نے پو چھا ( حکومت سے ملنے والے ) عطیے ( وظیفے ) کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا اسے لے لو کیونکہ آ ج یہ معونت ( مدد ) سے اور جب یہ تمھا رے دین کی قیمت ٹھہریں تو انھیں چھوڑ دینا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَا ابْنَ آدَمَ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ " . وَقَالَ " يَمِينُ اللَّهِ مَلأَى - وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ مَلآنُ - سَحَّاءُ لاَ يَغِيضُهَا شَىْءٌ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying that Allah, the Most Blessed and High, said:O son of Adam, spend. I will spend on you. The right hand of Allah is full and overflowing and in nothing would diminish it, by overspending day and night
زہیر بن حرب اور محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے کہا : سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابو زنا د سے حدیث بیان کی انھوں نے اعراج سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی وہ اس ( سلسلہ سند ) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک لے جا تے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا ہے اے آدم کے بیٹے !تو خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا ۔ اور آپ نے فر ما یا : "" اللہ کا دایاں ہاتھ ( اچھی طرح ) بھرا ہوا ہے ۔ ابن نمیر نے ملاي کے بجا ئے ملان ( کا لفظ ) کہا ۔ ۔ اس کا فیض جا ری رہتا ہے دن ہو یا را ت کو ئی چیز اس میں کمی نہیں کرتی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا . وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ قَالَ لِي أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَمِينُ اللَّهِ مَلأَى لاَ يَغِيضُهَا سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُذْ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ " . قَالَ " وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الأُخْرَى الْقَبْضُ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying that Allah said to him:" Spend, I will bestow upon you." And the Messenger of Allah (ﷺ) said: The right hand of Allah is full and spending (the riches) liberally during day and night will not diminish (the resources of Allah). Don't you see what (an enormous amount of resources) He has spent since He created the heaven and the earth, and what is in His right hand has not decreased? His Throne is upon the water. And in His other hand is death, and He elevates and degrades (whom He likes)
(وہب بن منبہ کے بھا ئی ہمام بن منبہ سے روایت ہے کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں پھر انھوں نے چند احادیث بیان کیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ تعا لیٰ نے مجھ سے کہا ہے خرچ کرو میں تم پر خرچ کروں گا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ کا دا یا ں ہاتھ بھرا ہوا دن رات عطا کی بارش برسانے والا ہے اس میں کو ئی چیز کمی نہیں کرتی ۔ کیا تم نے دیکھا آسمان و زمین کی تخلیق سے لے کر ( اب تک ) اس نے کتنا خرچ کیا ہے ؟جو کچھ اس کے دا ئیں ہا تھ میں ہے اس ( عطا ) نے اس میں کو ئی کمی نہیں کی ۔ آپ نے فر ما یا : اس کا عرش پا نی پر ہے اس کے دوسرے ہا تھ میں قبضہ ( یا واپسی کی قوت ) ) ہے وہ ( جسے چا ہتا ہے ) بلند کرتا ہے اور ( جسے چا ہتا ہے ) پست کرتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، - قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ وَبَدَأَ بِالْعِيَالِ ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ وَأَىُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ صِغَارٍ يُعِفُّهُمْ أَوْ يَنْفَعُهُمُ اللَّهُ بِهِ وَيُغْنِيهِمْ .
Thauban reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The most excellent dinar is one that a person spends on his family, and the dinar which he spends on his animal in Allah's path, and the dinar he spends on his companions in Allah's path. Abu Qilaba (one of the narrators) said: He (the narrator) started with family, and then Abu Qilaba said: Who is the person with greater reward than a person who spends on young members of his family (and thus) preserves (saves them from want) (and by virtue of which) Allah brings profit for them and makes them rich
ابو قلابہ نے ابو اسماء ( رحبی ) سے اور انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " بہترین دینار جسے انسان خرچ کرتا ہے وہ دینا ر ہے جسے وہ اپنے اہل و عیالپر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جسے انسان اللہ کی را ہ میں ( جہاد کرنے کے لیے ) اپنے جا نور ( سواری ) پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینا ر ہے جسے وہ اللہ کے را ستے میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے ۔ پھر ابو قلابہ نے کہا : آپ نے اہل و عیال سے ابتدا فر ما ئی پھر ابو قلا بہ نے کہا : اجر میں اس آدمی سے بڑھ کر کو ن ہو سکتا ہے جو چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے وہ ان کو ( سوال کی ) ذلت سے بچاتا ہے یا اللہ اس کے ذریعے سے انھیں فائدہ پہنچاتا ہے اور غنی کرتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Of the dinar you spend as a contribution in Allah's path, or to set free a slave, or as a sadaqa given to a needy, or to support your family, the one yielding the greatest reward is that which you spent on your family
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا " ( جن دیناروں پر اجر ملتا ہے ان میں سے ) ایک دینا وہ ہے جسےتو نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا ایک دیناروہ ہے جسے تو نے کسی کی گردن ( کی آزادی ) کے لیے خرچ کیا ایک دینا ر وہ ہے جسے تو نے مسکین پر صدقہ کیا اور ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اپنے گھر والوں پر صرف کیا ان میں سب سے عظیم اجر اس دینار کا ہے جسے تو نے اپنے اہل پر خرچ کیا ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ الْكِنَانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو إِذْ جَاءَهُ قَهْرَمَانٌ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ قَالَ لاَ . قَالَ فَانْطَلِقْ فَأَعْطِهِمْ . قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يَحْبِسَ عَمَّنْ يَمْلِكُ قُوتَهُ " .
Khaithama reported:While we were sitting in the company of 'Abdullah b. 'Umar there came in his steward. He (Ibn 'Umar) said: Have you supplied the provision to the slaves? He said: No. Upon this he said: Go and give (the provision) to them, for the Messenger of Allah (ﷺ) has said: This sin is enough for a man that he withholds the subsistence from one whose master he is
خیثمہ سے روایت ہے کہا : ہم حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے ہو ئے تھے کہ اچا نک ان کا کا رندہ ( مینیجر ) ان کے پاس آیا وہ اندر داخل ہوا تو انھوں نے پو چھا : ( کیا ) تم نے غلا موں کو ان کا روزینہ دے دیا ہے؟ اس نے جواب دیا نہیں انھوں نے کہا : جا ؤ انھیں دو ۔ ( کیونکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انسان کے لیے اتنا گناہ ہی کا فی ہے کہ وہ جن کی خوراک کا مالک ہے انھیں نہ دے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ " أَلَكَ مَالٌ غَيْرُهُ " . فَقَالَ لاَ . فَقَالَ " مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي " . فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَجَاءَ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا فَإِنْ فَضَلَ شَىْءٌ فَلأَهْلِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ أَهْلِكَ شَىْءٌ فَلِذِي قَرَابَتِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَىْءٌ فَهَكَذَا وَهَكَذَا " . يَقُولُ فَبَيْنَ يَدَيْكَ وَعَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ .
Jabir reported:A person from the Banu 'Udhra set a slave free after his death. This news reached the Messenger of Allah (may peace be upon hhn). Upon this he said: Have you any property besides it? He said: No. Upon this he said: Who would buy (this slave) from me? Nulaim b. Abdullah bought it for eight hundred dirhams and (this amount was) brought to the Messenger of Allah (ﷺ) who returned it to him (the owner), and then said: Start with your own self and spend it on yourself, and if anything is left, it should be spent on your family, and if anything is left (after meeting the needs of the family) it should be spent on relatives, and if anything is left from the family, it should be spent like this, like this. And he was saying: In front of you, on your right and on your left
لیث نے ہمیں ابو زبیر سے خبر دی اور انھوں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ انھوں نے کہا : بنو عذرہ کے ایک آدمی نے ایک غلام کو اپنے بعد آزادی دی ( کہ میرے مرنے کے بعد وہ آزاد ہو گا ) یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے پو چھا : کیا تمھا رے پاس اس کے علاوہ بھی کو ئی مال ہے ؟اس نے کہا : نہیں اس پر آپ نے فر ما یا : " اس ( غلام ) کو مجھ سے کو ن خریدے گا ؟ تو اسے نعیم بن عبد اللہ عدوی نے آٹھ سو ( 800 ) درہم میں خرید لیا اور درہم لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیے ۔ اس کے بعد آپ نے فر ما یا : " اپنے آپ سے ابتدا کرو خود پر صدقہ کرو اگر کچھ بچ جا ئے تو تمھا رے گھروالوں کے لیے ہے اگر تمھا رے گھروالوں سے کچھ بچ جا ئے تو تمھا رے قرابت داروں کے لیے ہے اور اگر تمھارے قرابت داروں سے کچھ بچ جا ئے تو اس طرف اور اس طرف خرچ کرو ۔ ( راوی نے کہا : ) آپ اشارے سے کہہ رہے تھے کہ اپنے سامنے اپنے دائیں اور اپنے بائیں ( خرچ کرو ۔)