The Book of Vows
Book 26 · 17 hadith
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَاقْضِهِ عَنْهَا" .
Ibn Abbas reported that Sa'd b. Ubida asked Allah's Messenger (ﷺ) for a decision about a vow taken by his mother who had died before fulfilling it. Allah's Messenger (ﷺ) said:Fulfil it on her behalf
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے بارے میں فتویٰ پوچھا جو ان کی والدہ کے ذمہ تھی ، وہ اسے پورا کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گئی تھیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے ان کی طرف سے تم پورا کرو ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، . بِإِسْنَادِ اللَّيْثِ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ .
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with a different chains of transmitters
امام مالک ، ابن عیینہ ، یونس ، معمر اور بکر بن وائل سب نے زہری سے لیث کی مذکورہ سند کے ساتھ ، انہی کی حدیث کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا يَنْهَانَا عَنِ النَّذْرِ وَيَقُولُ " إِنَّهُ لاَ يَرُدُّ شَيْئًا وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الشَّحِيحِ " .
Abdullah b. Umar reported:Allah's Messenger (may peace he upon him) singled out one day forbidding us to take vows and said: It would not avert anything; it is by which something is extracted from the miserly person
جریر نے منصور سے ، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمیں نذر سے منع کرنے لگے ، آپ فرمانے لگے : " یہ کسی چیز کو نہیں ٹالتی ، اس کے ذریعے سے تو بخیل سے ( اللہ کی راہ میں کچھ ) نکلوایا جاتا ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " النَّذْرُ لاَ يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلاَ يُؤَخِّرُهُ وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ "
Ibn Umar reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:The vow neither hastens anything nor defers anything, but is the means whereby (something) is extracted from the miserly person
عبداللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نذر کسی چیز کو آگے کرتی ہے نہ پیچھے ، اس کے ذریعے سے تو بخیل سے ( مال ) نکلوایا جاتا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ " إِنَّهُ لاَ يَأْتِي بِخَيْرٍ وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " .
Ibn Umar reported that Allah's Apostle (ﷺ) forbade (people) taking vows, and said:It does not (necessarily) bring good (in the form of substantial, and tangible results), but it is the meant whereby something is extracted from the miserly persons
شعبہ نے ہمیں منصور سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے نذر سے منع کیا اور فرمایا : " بلاشبہ یہ کوئی خیر لے کر نہیں آتی ، اس کے ذریعے سے تو بخیل سے ( کچھ ) نکلوایا جاتا ہے
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، كِلاَهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ .
This hadith has been narrated on the authority of Mansur with the same chain of transmitters
مفضل اور سفیان دونوں نے منصور سے اسی سند کے ساتھ جریر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَنْذُرُوا فَإِنَّ النَّذْرَ لاَ يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " .
Abu Heraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not take vows, for a vow has no effect against Fate; it is only from the miserly that something is extracted
عبدالعزیز دراوردی نے ہمیں علاء سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نذر نہ مانا کرو ، نذر تقدیر کے معاملے میں کوئی فائدہ نہیں دیتی ، اس کے ذریعے سے تو بخیل سے ( مال ) نکلوایا جاتا ہے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ الْعَلاَءَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ " إِنَّهُ لاَ يَرُدُّ مِنَ الْقَدَرِ وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) forbidding taking of vows, and said:It does not avert Fate, but is the means by which something is extracted from the miser
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے علاء سے سنا ، وہ اپنے والد سے اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے منت ماننے سے منع کیا اور فرمایا : " یہ تقدیر کے کسی فیصلے کو نہیں ٹال سکتی ، اس کے ذریعے سے تو بخیل سے ( مال ) نکلوایا جاتا ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عَمْرٍو، - وَهْوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ النَّذْرَ لاَ يُقَرِّبُ مِنِ ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ قَدَّرَهُ لَهُ وَلَكِنِ النَّذْرُ يُوَافِقُ الْقَدَرَ فَيُخْرَجُ بِذَلِكَ مِنَ الْبَخِيلِ مَا لَمْ يَكُنِ الْبَخِيلُ يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَ " .
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:The vow does not bring anything near to the son of Adam which Allah has not ordained for him, but (at times) the vow coincides with Destiny, and this is how something is extracted from the miserly person, which that miser was not willing to give
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں عمرو بن ابی عمرو سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمان اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " بلاشبہ نذر کسی چیز کو ابن آدم کے قریب نہیں کرتی ، جو اللہ نے اس کے لیے مقدر نہیں کی ، بلکہ نذر تقدیر کے ساتھ موافقت کرتی ہے ، اس کے ذریعے سے بخیل سے وہ کچھ نکلوایا جاتا ہے جسے بخیل نکالنا نہیں چاہتا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - وَعَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - كِلاَهُمَا عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
This hadith has been transmitted on the authority of 'Amr b. Abu 'Amr
عقوب بن عبدالرحمان القاری اور عبدالعزیز دراوردی دونوں نے عمرو بن ابی عمرو سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ كَانَتْ ثَقِيفُ حُلَفَاءَ لِبَنِي عُقَيْلٍ فَأَسَرَتْ ثَقِيفُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ وَأَصَابُوا مَعَهُ الْعَضْبَاءَ فَأَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي الْوَثَاقِ قَالَ يَا مُحَمَّدُ . فَأَتَاهُ فَقَالَ " مَا شَأْنُكَ " . فَقَالَ بِمَ أَخَذْتَنِي وَبِمَ أَخَذْتَ سَابِقَةَ الْحَاجِّ فَقَالَ إِعْظَامًا لِذَلِكَ " أَخَذْتُكَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفَ " . ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ . وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَحِيمًا رَقِيقًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ " مَا شَأْنُكَ " . قَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ . قَالَ " لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلاَحِ " . ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ . فَأَتَاهُ فَقَالَ " مَا شَأْنُكَ " . قَالَ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي وَظَمْآنُ فَأَسْقِنِي . قَالَ " هَذِهِ حَاجَتُكَ " . فَفُدِيَ بِالرَّجُلَيْنِ - قَالَ - وَأُسِرَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَأُصِيبَتِ الْعَضْبَاءُ فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ فِي الْوَثَاقِ وَكَانَ الْقَوْمُ يُرِيحُونَ نَعَمَهُمْ بَيْنَ يَدَىْ بُيُوتِهِمْ فَانْفَلَتَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنَ الْوَثَاقِ فَأَتَتِ الإِبِلَ فَجَعَلَتْ إِذَا دَنَتْ مِنَ الْبَعِيرِ رَغَا فَتَتْرُكُهُ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى الْعَضْبَاءِ فَلَمْ تَرْغُ قَالَ وَنَاقَةٌ مُنَوَّقَةٌ فَقَعَدَتْ فِي عَجُزِهَا ثُمَّ زَجَرَتْهَا فَانْطَلَقَتْ وَنَذِرُوا بِهَا فَطَلَبُوهَا فَأَعْجَزَتْهُمْ - قَالَ - وَنَذَرَتْ لِلَّهِ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ رَآهَا النَّاسُ . فَقَالُوا الْعَضْبَاءُ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَتْ إِنَّهَا نَذَرَتْ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا . فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ . فَقَالَ " سُبْحَانَ اللَّهِ بِئْسَمَا جَزَتْهَا نَذَرَتْ لِلَّهِ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا لاَ وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ وَلاَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ الْعَبْدُ " . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ حُجْرٍ " لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " .
Imran b. Husain reported that the tribe of Thaqif was the ally of Banu 'Uqail. Thaqif took two persons from amongst the Companions of Allah's Messenger (ﷺ) as prisoners. The Companions of Allah's Messenger (ﷺ) took one person at Banu Uqail as prisoner, and captured al-'Adbi (the she-camel of the Holy Prophet) along with him. Allah's Messenger (ﷺ) came to him and he was tied with ropes. He said:Muhammad. He came near him and said: What is the matter with you? Thereupon he (the prisoner) said: Why have you taken me as prisoner and why have you caught hold of one proceeding the pilgrims (the she-camel as she carried the Prophet on her back and walked ahead of the multitude)? He (the Holy Prophet) said: (Yours is a great fault). I (my men) have caught hold of you for the crime of your allies, Banu Thaqif. He (the Holy Prophet) then turned away. He again called him and said: Muhammad, Muhammad, and since Allah's Messenger (ﷺ) was very compassionate, and tenderhearted, he returned to him, and said: What is the matter with you? He said: I am a Muslim, whereupon he (the Holy Prophet) said: Had you said this when you had been the master of yourself, you would have gained every success. He then turned away. He (the prisoner) called him again saying: Muhammad, Muhammad. He came to him and said: What is the matter with you? He said: I am hungry, feed me, and I am thirsty, so provide me with drink. He (the Holy Prophet) said: That is (to satisfy) your want. He was then ransomed for two persons (who had been taken prisoner by Thaqif). He (the narrator) said: A woman of the Ansar had been taken prisoner and also al-Adbi' was caught. The woman had been tied with ropes. The people were giving rest to their animals before their houses. She escaped one night from the bondage and came to the camels. As she drew near the camels, they fretted and fumed and so she left them until she came to al-, Adbi'. It did not fret and fume; it was docile She rode upon its back and drove it away and she went off. When they (the enemies of Islam) were warned of this, they went in search of it, but it (the she-camel) exhausted them. She (the woman) took vow for Allah, that in case He would save her through it, she would offer that as a sacrifice. As she reached Medina, the people saw her and they said: Here is al-Adbi, the she-camel of Allah's Messenger (ﷺ). She (the woman) said that she had taken a vow that if Allah would save her on its back, she would sacrifice it. They (the Prophet's Companions) came to Allah's Messenger (ﷺ) and made a mention of that to him, whereupon he said: Hallowed be Allah, how ill she rewarded it that she took vow to Allah that if He saves her on its back, she would sacrifice it! There is no fulfillment of the vow in an act of disobedience, nor in an act over which a person has no control. In the version of Ibn Hujr (the words are):" There is no vow in disobedience to Allah
مجھے زہیر بن حرب اور علی بن حجر سعدی نے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ زہیر کے ہیں ۔ ۔ ان دونوں نے کہا ہمیں اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ایوب نے ابوقلابہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابومہلب سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ثقیف ، بنو عقیل کے حلیف تھے ، ثقیف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمیوں کو قید کر لیا ، ( بدلے میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے بنو عقیل کے ایک آدمی کو قیدی بنا لیا اور انہوں نے اس کے ساتھ اونٹنی عضباء بھی حاصل کر لی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی کے پاس سے گزرے ، وہ بندھا ہوا تھا ، اس نے کہا : اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور پوچھا : "" کیا بات ہے؟ "" اس نے کہا : آپ نے مجھے کس وجہ سے پکڑا ہوا اور حاجیوں ( کی سواریوں ) سے سبقت لے جانے والی اونٹنی کو کیوں پکڑا ہے؟ آپ نے ۔ ۔ اس معاملے کو سنگین خیال کرتے ہوئے ۔ ۔ جواب دیا : "" میں نے تمہیں تمہارے حلیف ثقیف کے جرم کی بنا پر ( اس کے ازالے کے لیے ) پکڑا ہے ۔ "" پھر آپ وہاں سے پلٹے تو اس نے ( پھر سے ) آپ کو آواز دی اور کہا : اے محمد! اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت رحم کرنے والے ، نرم دل تھے ۔ پھر سے آپ اس کے پاس واپس آئے اور فرمایا : "" کیا بات ہے؟ "" اس نے کہا : ( اب ) میں مسلمان ہوں ۔ آپ نے فرمایا : اگر تم یہ بات اس وقت کہتے جب تم اپنے مالک آپ تھے ( آزاد تھے ) تو تم پوری بھلائی حاصل کر لیتے ( اب بھی ملے گی لیکن پوری نہ ہو گی ۔ ) "" پھر آپ پلٹے تو اس نے آپ کو آواز دی اور کہا : اے محمد! اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ ( پھر ) اس کے پاس آئے اور پوچھا : "" کیا بات ہے؟ "" اس نے کہا : میں بھوکا ہوں مجھے ( کھانا ) کھلائیے اور پیاسا ہوں مجھے ( پانی ) پلائیے ۔ آپ نے فرمایا : "" ( ہاں ) یہ تمہاری ( فورا پوری کی جانے والی ) ضرورت ہے ۔ "" اس کے بعد ( معاملات طے کر کے ) اسے دونوں آدمیوں کے بدلے میں چھوڑ دیا گیا ۔ ( اونٹنی پیچھے رہ گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آئی ۔ لیکن مشرکین نے دوبارہ حملے کر کے پھر اسے اپنے قبضے میں لے لیا ۔ ) کہا : ( بعد میں ، غزوہ ذات القرد کے موقع پر ، مدینہ پر حملے کے دوران ) ایک انصاری عورت قید کر لی گئی اور عضباء اونٹنی بھی پکڑ لی گئی ، عورت بندھنوں میں ( جکڑی ہوئی ) تھی ۔ لوگ اپنے اونٹ اپنے گھروں کے سامنے رات کو آرام ( کرنے کے لیے بٹھا ) دیتے تھے ، ایک رات وہ ( خاتون ) اچانک بیڑیوں ( بندھنوں ) سے نکل بھاگی اور اونٹوں کے پاس آئی ، وہ ( سواری کے لیے ) جس اونٹ کے بھی قریب جاتی وہ بلبلانے لگتا تو وہ اسے چھوڑ دیتی حتی کہ وہ عضباء تک پہنچ گئی تو وہ نہ بلبلائی ، کہا : وہ سدھائی ہوئی اونٹنی تھی تو وہ اس کی پیٹھ کے پچھلے حصے پر بیٹھی ، اور اسے دوڑایا تو وہ چل پڑی ۔ لوگوں کو اس ( کے جانے ) کا علم ہو گیا ، انہوں نے اس کا تعاقب کیا لیکن اس نے انہیں بے بس کر دیا ۔ کہا : اس عورت نے اللہ کے لیے نذر مانی کہ اگر اللہ نے اس اونٹنی پر اسے نجات دی تو وہ اسے ( اللہ کی رضا کے لیے ) نحر کر دے گی ۔ جب وہ مدینہ پہنچی ، لوگوں نے اسے دیکھا تو کہنے لگے : یہ عضباء ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ۔ وہ عورت کہنے لگی کہ اس نے یہ نذر مانی ہے کہ اگر اللہ نے اسے اس اونٹنی پر نجات عطا فرما دی تو وہ اس اونٹنی کو ( اللہ کی راہ میں ) نحر کر دے گی ۔ اس پر لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" سبحان اللہ! اس عورت نے اسے جو بدلہ دیا وہ کتنا برا ہے! اس نے اللہ کے لیے یہ نذر مانی ہے کہ اگر اللہ نے اس کو اس اونٹنی پر نجات دے دی تو وہ اسے ذبح کر دے گی ، معصیت میں نذر پوری نہیں کی جا سکتی ، نہ ہی اس چیز میں جس کا بندہ مالک نہ ہو ۔ "" ابن حجر کی روایت میں ہے : "" اللہ کی معصیت میں کوئی نذر ( جائز ) نہیں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِ حَمَّادٍ قَالَ كَانَتِ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا فَأَتَتْ عَلَى نَاقِةٍ ذَلُولٍ مُجَرَّسَةٍ . وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ وَهِيَ نَاقَةٌ مُدَرَّبَةٌ .
This hadith is narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters and a slight variation of words
حماد بن زید اور عبدالوہاب ثفقی دونوں نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی حدیث بیان کی ، حماد کی حدیث میں ہے : انہوں نے کہا : عضباء اونٹنی بنو عقیل کے ایک آدمی کی تھی اور وہ حاجیوں کی سواریوں میں سب سے آگے رہنے والی اونٹنیوں میں سے تھی ( تیز رفتار تھی ۔ ) اور ان کی حدیث میں یہ بھی ہے : اور وہ ( قیدی عورت ) سدھائی ہوئی مَشاق اونٹنی پر ( بیٹھ کر ) آئی ، اور ثقفی کی حدیث میں ہے : وہ سدھائی ہوئی اونٹنی تھی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، ح. وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَىَ شَيْخًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ فَقَالَ " مَا بَالُ هَذَا " . قَالُوا نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ . قَالَ " إِنَّ اللَّهَ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ " . وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ .
Anas reported that Allah's Apostle (ﷺ) saw an old man being supported between his two sons. He (the Holy Prophet) said:What is the matter with him? They said: He had taken the vow to walk (on foot to the Ka'ba). Thereupon he (Allah's Apoitle) said: Allah is indifferent to his inflicting upon himself chastisement, and he commanded him to ride
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے آدمی کو دیکھا وہ اپنے دو بیٹیوں کے سہارے چلا کر لے جایا جا رہا تھا ، آپ نے پوچھا : " اس کا کیا معاملہ ہے؟ " لوگوں نے کہا : اس نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہے ۔ آپ نے فرمایا : " بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس شخص کے اپنے آپ کو عذاب دینے سے بے نیاز ہے ۔ " اور ( اس کے پاس پیدل چل کر جانے کی استطاعت ہی نہ تھی ، اس لیے ) آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عَمْرٍو، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَدْرَكَ شَيْخًا يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ يَتَوَكَّأُ عَلَيْهِمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا شَأْنُ هَذَا " . قَالَ ابْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ عَلَيْهِ نَذْرٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ارْكَبْ أَيُّهَا الشَّيْخُ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكَ وَعَنْ نَذْرِكَ " . وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ وَابْنِ حُجْرٍ .
Abu Huraira reported:Allah's Apostle (ﷺ) found an old man walking between his two sons supported by them, whereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: What is the matter with him? He (the narrator) said: Allah's Messenger, they are his sons and there is upon him the (fulfilment) of the vow, whereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Ride, old man, for Allah is not in need of you and your vow
یحییٰ بن ایوب ، قتیبہ اور ابن حجر نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں اسماعیل بن جعفر نے عمرو بن ابی عمرو سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمان اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بوڑھے آدمی کو ملے جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ، ان کا سہارا لیے چل رہا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " اس کا معاملہ کیا ہے؟ " اس کے دونوں بیٹوں نے کہا : اللہ کے رسول! اس کے ذمے نذر تھی ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے بزرگ! سوار ہو جاؤ ، اللہ تعالیٰ تم سے اور تمہاری نذر سے بے نیاز ہے ( اسے اس کی ضرورت نہیں ۔ ) ۔ ۔ الفاظ قتیبہ اور ابن حجر کے ہیں
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ عَمْرِو، بْنِ أَبِي عَمْرٍو بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of 'Amr b. Abu 'Amr with the same chain of transmitters
عبدالعزیز دراوردی نے عمرو بن ابی عمرو سے ، اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، - يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ - حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّهُ قَالَ نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ، إِلَى بَيْتِ اللَّهِ حَافِيَةً فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَفْتَيْتُهُ فَقَالَ " لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ " .
Uqba b. Amir reported:My sister took a vow that she would walk bare foot to the house of Allah (Ka'ba). She asked me to inquire from Allah's Messenger (ﷺ) about it. I sought his decision and he said: She should walk on foot and ride also
مفضل بن فضالہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے عبداللہ بن عیاش نے یزید بن ابی حبیب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوالخیر سے اور انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : میری بہن نے ننگے پاؤں پیدل چل کر بیت اللہ جانے کی نذر مانی اور مجھ سے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے لیے فتویٰ لوں ، میں نے آپ سے فتویٰ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ ( بقدر استطاعت ) پیدل چلے اور سوار ہو
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ يُونُسُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ، عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ " .
Uqba. b. Amir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The expiation of the (breach of) a vow is the same as that of the (breach of an oath)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " نذر کا کفارہ ( وہی ہے جو ) قسم کا کفارہ ہے