بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ قُلْ أُوحِىَ إِلَىَّ أَنَّهُ ٱسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ ٱلْجِنِّ فَقَالُوٓا۟ إِنَّا سَمِعْنَا قُرْءَانًا عَجَبًا
Qul oohiya ilaiya annna hustama'a nafarum minal jinnni faqaalooo innaa sami'naa quraanan 'ajabaa
Say, [O Muhammad], "It has been revealed to me that a group of the jinn listened and said, 'Indeed, we have heard an amazing Qur'an.
(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (اس کتاب کو) سنا تو کہنے لگے کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
جنات پر قرآن حکیم کا اثر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ اپنی قوم کو اس واقعہ کی اطلاع دو کہ جنوں نے قرآن کریم سنا اسے سچا مانا اس پر ایمان لائے اور اس کے مطیع بن گئے، فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم کہو میری طرف وحی کی گئی کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کریم سنا اور اپنی قوم میں جا کر خبر دی کہ آج ہم نے عجیب و غریب کتاب سنی جو سچا اور نجات کا راستہ بتاتی ہے ہم تو اسے مان چکے ناممکن ہے کہ اب ہم اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کریں۔ یہی مضمون آیتوں میں گذر چکا ہے آیت (واذ صرفنا الیک الخ، یعنی جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف لوٹایا کہ وہ قرآں سنیں اور اس کی تفسیر احادیث سے وہیں ہم بیان کرچکے ہیں یہاں لوٹانے کی ضرورت نہیں، پھر یہ جنات اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ہم رب کے کام قدرت والے اس کے احکام بہت بلند وبالا، بڑا ذیشان اور ذی عزت ہے، اس کی نعمتیں، قدرتیں اور مخلوق پر مہربانیاں بہت باوقعت ہیں اس کی جلالت و عظمت بلند پایہ ہے اس کا جلال و اکرام بڑھا چڑھا ہے اس کا ذکر بلند رتبہ ہے اس کی شان اعلیٰ ہے، ایک روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ (جد) کہتے ہیں باپ کو۔ اگر جنات کو یہ علم ہوتا کہ انسانوں میں جد ہوتا ہے تو وہ اللہ کی نسبت یہ لفظ نہ کہتے، یہ قول گو سنداً قوی ہے لیکن کلام بنتا نہیں اور کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آتا ممکن ہے اس میں کچھ کلام چھوٹ گیا ہو واللہ اعلم، پھر اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اللہ اس سے پاک اور برتر ہے کہ اس کی بیوی ہو یا اس کی اولاد ہو، پھر کہتے ہیں کہ ہمارا بیوقوف یعنی شیطان اللہ پر جھوٹ تہمت رکھتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد اس سے عام ہو یعنی جو شخص اللہ کی اولاد اور بیوی ثابت کرتا ہے بےعقل ہے، جھوٹ بکتا ہے، باطل عقیدہ رکھتا ہے اور ظالمانہ بات منہ سے نکالتا ہے، پھر فرماتے ہیں کہ ہم تو اسی خیال میں تھے کہ جن وانس اللہ پر جھوٹ نہیں باندھ سکتے لیکن قرآن سن کر معلوم ہوا کہ یہ دونوں جماعتیں رب العالمین پر تہمت رکھتی تھیں دراصل اللہ کی ذات اس عیب سے پاک ہے، پھر کہتے ہیں کہ جنات کے زیادہ بہکنے کا سبب یہ ہوا کہ وہ دیکھتے تھے کہ انسان جب کبھی کسی جنگل یا ویرانے میں جاتے ہیں تو جنات کی پناہ طلب کیا کرتے ہیں، جیسے کہ جاہلیت کے زمانہ کے عرب کی عادت تھی کہ جب کبھی کسی پڑاؤ پر اترتے تو کہتے کہ اس جنگل کے بڑے جن کی پناہ میں ہم آتے ہیں اور سمجھتے تھے کہ ایسا کہہ لینے کے بعد تمام جنات کے شر سے ہم محفوظ ہوجاتے ہیں جس طرح کسی شہر میں جاتے تو وہاں کے بڑے رئیس کی پناہ لے لیتے تاکہ شہر کے اور دشمن لوگ انہیں ایذاء نہ پہنچائیں، جنوں نے جب یہ دیکھا کہ انسان بھی ہماری پناہ لیتے ہیں تو ان کی سرکشی اور بڑھ گئی اور انہوں نے اور بری طرح انسانوں کو ستانا شروع کیا اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ جنات نے یہ حالت دیکھ کر انسانوں کو اور خوف زدہ کرنا شروع کیا اور انہیں طرح طرح سے ستانے لگے۔ دراصل جنات انسانوں سے ڈرا کرتے تھے جیسے کہ انسان جنوں سے بلکہ اس سے بھی زیادہ یہاں تک کہ جس جنگل بیابان میں انسان جا پہنچتا تھا وہاں سے جنات بھاگ کھڑے ہوتے تھے لیکن جب سے اہل شرک نے خود ان سے پناہ مانگنی شروع کی اور کہنے لگے کہ اس وادی کے سردار جن کی پناہ میں ہم آتے ہیں اس سے کہ ہمیں ہماری اولاد و مال کو کوئی ضرر نہ پہنچے اب جنوں نے سمجھا کہ یہ تو خود ہم سے ڈرتے ہیں تو ان کی جرات بڑھ گئی اور اب طرح طرح سے ڈرانا ستانا اور چھیڑنا انہوں نے شروع کیا، وہ گناہ، خوف، طغیانی اور سرکشی میں اور بڑھ گئے۔ کردم بن ابو سائب انصاری کہتے ہیں میں اپنے والد کے ہمراہ مدینہ سے کسی کام کے لئے باہر نکلا اس وقت حضور ﷺ کی بعثت ہوچکی تھی اور مکہ شریف میں آپ بحیثیت پیغمبر ظاہر ہوچکے تھے رات کے وقت ہم ایک چرواہے کے پاس جنگل میں ٹھہر گئے آدھی رات کے وقت ایک بھیڑیا آیا اور بکری اٹھا کرلے بھاگا، چرواہا اس کے پیچھے دوڑا اور پکار کر کہنے لگا اے اس جنگل کے آباد رکھنے والے تیری پناہ میں آیا ہوا ایک شخص لٹ گیا ساتھ ہی ایک آواز آئی حالانکہ کوئی شخص نظر نہ آتا تھا کہ اے بھیڑیئے اس بکری کو چھوڑ دے تھوڑی دیر میں ہم نے دیکھا کہ وہی بکری بھاگی بھاگی آئی اور ریوڑ میں مل گئی اسے زخم بھی نہیں لگا تھا یہی بیان اس آیت میں ہے جو اللہ کے رسول ﷺ پر مکہ میں اتری کہ بعض لوگ جنات کی پناہ مانگا کرتے تھے، ممکن ہے کہ یہ بھیڑیا بن کر آنے والا بھی جن ہی ہو اور بکری کے بچے کو پکڑ کرلے گیا ہو اور چرواہے کی اس وہائی پر چھوڑ دیا ہو تاکہ چرواہے کو اور پھر اس کی بات سن کر اوروں کو اس بات کا یقین کامل ہوجائے کہ جنات کی پناہ میں آجانے سے نقصانات سے محفوظ رہتے ہیں اور پھر اس عقیدے کے باعث وہ اور گمراہ ہوں اور اللہ کے دین سے خارج ہوجائیں واللہ اعلم۔ یہ مسلمان جن اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اے جنو جس طرح تمہارا گمان تھا اسی طرح انسان بھی اسی خیال میں تھے کہ اب اللہ تعالیٰ کسی رسول کو نہ بھیجے گا۔
يَهْدِىٓ إِلَى ٱلرُّشْدِ فَـَٔامَنَّا بِهِۦ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَآ أَحَدًا
Yahdeee ilar rushdi fa aamannaa bihee wa lan nushrika bi rabbinaaa ahadaa
It guides to the right course, and we have believed in it. And we will never associate with our Lord anyone.
جو بھلائی کا رستہ بتاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اور ہم اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
جنات پر قرآن حکیم کا اثر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ اپنی قوم کو اس واقعہ کی اطلاع دو کہ جنوں نے قرآن کریم سنا اسے سچا مانا اس پر ایمان لائے اور اس کے مطیع بن گئے، فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم کہو میری طرف وحی کی گئی کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کریم سنا اور اپنی قوم میں جا کر خبر دی کہ آج ہم نے عجیب و غریب کتاب سنی جو سچا اور نجات کا راستہ بتاتی ہے ہم تو اسے مان چکے ناممکن ہے کہ اب ہم اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کریں۔ یہی مضمون آیتوں میں گذر چکا ہے آیت (واذ صرفنا الیک الخ، یعنی جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف لوٹایا کہ وہ قرآں سنیں اور اس کی تفسیر احادیث سے وہیں ہم بیان کرچکے ہیں یہاں لوٹانے کی ضرورت نہیں، پھر یہ جنات اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ہم رب کے کام قدرت والے اس کے احکام بہت بلند وبالا، بڑا ذیشان اور ذی عزت ہے، اس کی نعمتیں، قدرتیں اور مخلوق پر مہربانیاں بہت باوقعت ہیں اس کی جلالت و عظمت بلند پایہ ہے اس کا جلال و اکرام بڑھا چڑھا ہے اس کا ذکر بلند رتبہ ہے اس کی شان اعلیٰ ہے، ایک روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ (جد) کہتے ہیں باپ کو۔ اگر جنات کو یہ علم ہوتا کہ انسانوں میں جد ہوتا ہے تو وہ اللہ کی نسبت یہ لفظ نہ کہتے، یہ قول گو سنداً قوی ہے لیکن کلام بنتا نہیں اور کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آتا ممکن ہے اس میں کچھ کلام چھوٹ گیا ہو واللہ اعلم، پھر اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اللہ اس سے پاک اور برتر ہے کہ اس کی بیوی ہو یا اس کی اولاد ہو، پھر کہتے ہیں کہ ہمارا بیوقوف یعنی شیطان اللہ پر جھوٹ تہمت رکھتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد اس سے عام ہو یعنی جو شخص اللہ کی اولاد اور بیوی ثابت کرتا ہے بےعقل ہے، جھوٹ بکتا ہے، باطل عقیدہ رکھتا ہے اور ظالمانہ بات منہ سے نکالتا ہے، پھر فرماتے ہیں کہ ہم تو اسی خیال میں تھے کہ جن وانس اللہ پر جھوٹ نہیں باندھ سکتے لیکن قرآن سن کر معلوم ہوا کہ یہ دونوں جماعتیں رب العالمین پر تہمت رکھتی تھیں دراصل اللہ کی ذات اس عیب سے پاک ہے، پھر کہتے ہیں کہ جنات کے زیادہ بہکنے کا سبب یہ ہوا کہ وہ دیکھتے تھے کہ انسان جب کبھی کسی جنگل یا ویرانے میں جاتے ہیں تو جنات کی پناہ طلب کیا کرتے ہیں، جیسے کہ جاہلیت کے زمانہ کے عرب کی عادت تھی کہ جب کبھی کسی پڑاؤ پر اترتے تو کہتے کہ اس جنگل کے بڑے جن کی پناہ میں ہم آتے ہیں اور سمجھتے تھے کہ ایسا کہہ لینے کے بعد تمام جنات کے شر سے ہم محفوظ ہوجاتے ہیں جس طرح کسی شہر میں جاتے تو وہاں کے بڑے رئیس کی پناہ لے لیتے تاکہ شہر کے اور دشمن لوگ انہیں ایذاء نہ پہنچائیں، جنوں نے جب یہ دیکھا کہ انسان بھی ہماری پناہ لیتے ہیں تو ان کی سرکشی اور بڑھ گئی اور انہوں نے اور بری طرح انسانوں کو ستانا شروع کیا اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ جنات نے یہ حالت دیکھ کر انسانوں کو اور خوف زدہ کرنا شروع کیا اور انہیں طرح طرح سے ستانے لگے۔ دراصل جنات انسانوں سے ڈرا کرتے تھے جیسے کہ انسان جنوں سے بلکہ اس سے بھی زیادہ یہاں تک کہ جس جنگل بیابان میں انسان جا پہنچتا تھا وہاں سے جنات بھاگ کھڑے ہوتے تھے لیکن جب سے اہل شرک نے خود ان سے پناہ مانگنی شروع کی اور کہنے لگے کہ اس وادی کے سردار جن کی پناہ میں ہم آتے ہیں اس سے کہ ہمیں ہماری اولاد و مال کو کوئی ضرر نہ پہنچے اب جنوں نے سمجھا کہ یہ تو خود ہم سے ڈرتے ہیں تو ان کی جرات بڑھ گئی اور اب طرح طرح سے ڈرانا ستانا اور چھیڑنا انہوں نے شروع کیا، وہ گناہ، خوف، طغیانی اور سرکشی میں اور بڑھ گئے۔ کردم بن ابو سائب انصاری کہتے ہیں میں اپنے والد کے ہمراہ مدینہ سے کسی کام کے لئے باہر نکلا اس وقت حضور ﷺ کی بعثت ہوچکی تھی اور مکہ شریف میں آپ بحیثیت پیغمبر ظاہر ہوچکے تھے رات کے وقت ہم ایک چرواہے کے پاس جنگل میں ٹھہر گئے آدھی رات کے وقت ایک بھیڑیا آیا اور بکری اٹھا کرلے بھاگا، چرواہا اس کے پیچھے دوڑا اور پکار کر کہنے لگا اے اس جنگل کے آباد رکھنے والے تیری پناہ میں آیا ہوا ایک شخص لٹ گیا ساتھ ہی ایک آواز آئی حالانکہ کوئی شخص نظر نہ آتا تھا کہ اے بھیڑیئے اس بکری کو چھوڑ دے تھوڑی دیر میں ہم نے دیکھا کہ وہی بکری بھاگی بھاگی آئی اور ریوڑ میں مل گئی اسے زخم بھی نہیں لگا تھا یہی بیان اس آیت میں ہے جو اللہ کے رسول ﷺ پر مکہ میں اتری کہ بعض لوگ جنات کی پناہ مانگا کرتے تھے، ممکن ہے کہ یہ بھیڑیا بن کر آنے والا بھی جن ہی ہو اور بکری کے بچے کو پکڑ کرلے گیا ہو اور چرواہے کی اس وہائی پر چھوڑ دیا ہو تاکہ چرواہے کو اور پھر اس کی بات سن کر اوروں کو اس بات کا یقین کامل ہوجائے کہ جنات کی پناہ میں آجانے سے نقصانات سے محفوظ رہتے ہیں اور پھر اس عقیدے کے باعث وہ اور گمراہ ہوں اور اللہ کے دین سے خارج ہوجائیں واللہ اعلم۔ یہ مسلمان جن اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اے جنو جس طرح تمہارا گمان تھا اسی طرح انسان بھی اسی خیال میں تھے کہ اب اللہ تعالیٰ کسی رسول کو نہ بھیجے گا۔
وَأَنَّهُۥ تَعَٰلَىٰ جَدُّ رَبِّنَا مَا ٱتَّخَذَ صَٰحِبَةً وَلَا وَلَدًا
Wa annahoo Ta'aalaa jaddu Rabbinaa mat takhaza saahibatanw wa la waladaa
And [it teaches] that exalted is the nobleness of our Lord; He has not taken a wife or a son
اور یہ کہ ہمارے پروردگار کی عظمت (شان) بہت بڑی ہے اور وہ نہ بیوی رکھتا ہے نہ اولاد
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
جنات پر قرآن حکیم کا اثر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ اپنی قوم کو اس واقعہ کی اطلاع دو کہ جنوں نے قرآن کریم سنا اسے سچا مانا اس پر ایمان لائے اور اس کے مطیع بن گئے، فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم کہو میری طرف وحی کی گئی کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کریم سنا اور اپنی قوم میں جا کر خبر دی کہ آج ہم نے عجیب و غریب کتاب سنی جو سچا اور نجات کا راستہ بتاتی ہے ہم تو اسے مان چکے ناممکن ہے کہ اب ہم اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کریں۔ یہی مضمون آیتوں میں گذر چکا ہے آیت (واذ صرفنا الیک الخ، یعنی جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف لوٹایا کہ وہ قرآں سنیں اور اس کی تفسیر احادیث سے وہیں ہم بیان کرچکے ہیں یہاں لوٹانے کی ضرورت نہیں، پھر یہ جنات اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ہم رب کے کام قدرت والے اس کے احکام بہت بلند وبالا، بڑا ذیشان اور ذی عزت ہے، اس کی نعمتیں، قدرتیں اور مخلوق پر مہربانیاں بہت باوقعت ہیں اس کی جلالت و عظمت بلند پایہ ہے اس کا جلال و اکرام بڑھا چڑھا ہے اس کا ذکر بلند رتبہ ہے اس کی شان اعلیٰ ہے، ایک روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ (جد) کہتے ہیں باپ کو۔ اگر جنات کو یہ علم ہوتا کہ انسانوں میں جد ہوتا ہے تو وہ اللہ کی نسبت یہ لفظ نہ کہتے، یہ قول گو سنداً قوی ہے لیکن کلام بنتا نہیں اور کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آتا ممکن ہے اس میں کچھ کلام چھوٹ گیا ہو واللہ اعلم، پھر اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اللہ اس سے پاک اور برتر ہے کہ اس کی بیوی ہو یا اس کی اولاد ہو، پھر کہتے ہیں کہ ہمارا بیوقوف یعنی شیطان اللہ پر جھوٹ تہمت رکھتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد اس سے عام ہو یعنی جو شخص اللہ کی اولاد اور بیوی ثابت کرتا ہے بےعقل ہے، جھوٹ بکتا ہے، باطل عقیدہ رکھتا ہے اور ظالمانہ بات منہ سے نکالتا ہے، پھر فرماتے ہیں کہ ہم تو اسی خیال میں تھے کہ جن وانس اللہ پر جھوٹ نہیں باندھ سکتے لیکن قرآن سن کر معلوم ہوا کہ یہ دونوں جماعتیں رب العالمین پر تہمت رکھتی تھیں دراصل اللہ کی ذات اس عیب سے پاک ہے، پھر کہتے ہیں کہ جنات کے زیادہ بہکنے کا سبب یہ ہوا کہ وہ دیکھتے تھے کہ انسان جب کبھی کسی جنگل یا ویرانے میں جاتے ہیں تو جنات کی پناہ طلب کیا کرتے ہیں، جیسے کہ جاہلیت کے زمانہ کے عرب کی عادت تھی کہ جب کبھی کسی پڑاؤ پر اترتے تو کہتے کہ اس جنگل کے بڑے جن کی پناہ میں ہم آتے ہیں اور سمجھتے تھے کہ ایسا کہہ لینے کے بعد تمام جنات کے شر سے ہم محفوظ ہوجاتے ہیں جس طرح کسی شہر میں جاتے تو وہاں کے بڑے رئیس کی پناہ لے لیتے تاکہ شہر کے اور دشمن لوگ انہیں ایذاء نہ پہنچائیں، جنوں نے جب یہ دیکھا کہ انسان بھی ہماری پناہ لیتے ہیں تو ان کی سرکشی اور بڑھ گئی اور انہوں نے اور بری طرح انسانوں کو ستانا شروع کیا اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ جنات نے یہ حالت دیکھ کر انسانوں کو اور خوف زدہ کرنا شروع کیا اور انہیں طرح طرح سے ستانے لگے۔ دراصل جنات انسانوں سے ڈرا کرتے تھے جیسے کہ انسان جنوں سے بلکہ اس سے بھی زیادہ یہاں تک کہ جس جنگل بیابان میں انسان جا پہنچتا تھا وہاں سے جنات بھاگ کھڑے ہوتے تھے لیکن جب سے اہل شرک نے خود ان سے پناہ مانگنی شروع کی اور کہنے لگے کہ اس وادی کے سردار جن کی پناہ میں ہم آتے ہیں اس سے کہ ہمیں ہماری اولاد و مال کو کوئی ضرر نہ پہنچے اب جنوں نے سمجھا کہ یہ تو خود ہم سے ڈرتے ہیں تو ان کی جرات بڑھ گئی اور اب طرح طرح سے ڈرانا ستانا اور چھیڑنا انہوں نے شروع کیا، وہ گناہ، خوف، طغیانی اور سرکشی میں اور بڑھ گئے۔ کردم بن ابو سائب انصاری کہتے ہیں میں اپنے والد کے ہمراہ مدینہ سے کسی کام کے لئے باہر نکلا اس وقت حضور ﷺ کی بعثت ہوچکی تھی اور مکہ شریف میں آپ بحیثیت پیغمبر ظاہر ہوچکے تھے رات کے وقت ہم ایک چرواہے کے پاس جنگل میں ٹھہر گئے آدھی رات کے وقت ایک بھیڑیا آیا اور بکری اٹھا کرلے بھاگا، چرواہا اس کے پیچھے دوڑا اور پکار کر کہنے لگا اے اس جنگل کے آباد رکھنے والے تیری پناہ میں آیا ہوا ایک شخص لٹ گیا ساتھ ہی ایک آواز آئی حالانکہ کوئی شخص نظر نہ آتا تھا کہ اے بھیڑیئے اس بکری کو چھوڑ دے تھوڑی دیر میں ہم نے دیکھا کہ وہی بکری بھاگی بھاگی آئی اور ریوڑ میں مل گئی اسے زخم بھی نہیں لگا تھا یہی بیان اس آیت میں ہے جو اللہ کے رسول ﷺ پر مکہ میں اتری کہ بعض لوگ جنات کی پناہ مانگا کرتے تھے، ممکن ہے کہ یہ بھیڑیا بن کر آنے والا بھی جن ہی ہو اور بکری کے بچے کو پکڑ کرلے گیا ہو اور چرواہے کی اس وہائی پر چھوڑ دیا ہو تاکہ چرواہے کو اور پھر اس کی بات سن کر اوروں کو اس بات کا یقین کامل ہوجائے کہ جنات کی پناہ میں آجانے سے نقصانات سے محفوظ رہتے ہیں اور پھر اس عقیدے کے باعث وہ اور گمراہ ہوں اور اللہ کے دین سے خارج ہوجائیں واللہ اعلم۔ یہ مسلمان جن اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اے جنو جس طرح تمہارا گمان تھا اسی طرح انسان بھی اسی خیال میں تھے کہ اب اللہ تعالیٰ کسی رسول کو نہ بھیجے گا۔
وَأَنَّهُۥ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى ٱللَّهِ شَطَطًا
Wa annahoo kaana yaqoolu safeehunaa 'alal laahi shatataa
And that our foolish one has been saying about Allah an excessive transgression.
اور یہ کہ ہم میں سے بعض بےوقوف خدا کے بارے میں جھوٹ افتراء کرتا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
جنات پر قرآن حکیم کا اثر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ اپنی قوم کو اس واقعہ کی اطلاع دو کہ جنوں نے قرآن کریم سنا اسے سچا مانا اس پر ایمان لائے اور اس کے مطیع بن گئے، فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم کہو میری طرف وحی کی گئی کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کریم سنا اور اپنی قوم میں جا کر خبر دی کہ آج ہم نے عجیب و غریب کتاب سنی جو سچا اور نجات کا راستہ بتاتی ہے ہم تو اسے مان چکے ناممکن ہے کہ اب ہم اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کریں۔ یہی مضمون آیتوں میں گذر چکا ہے آیت (واذ صرفنا الیک الخ، یعنی جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف لوٹایا کہ وہ قرآں سنیں اور اس کی تفسیر احادیث سے وہیں ہم بیان کرچکے ہیں یہاں لوٹانے کی ضرورت نہیں، پھر یہ جنات اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ہم رب کے کام قدرت والے اس کے احکام بہت بلند وبالا، بڑا ذیشان اور ذی عزت ہے، اس کی نعمتیں، قدرتیں اور مخلوق پر مہربانیاں بہت باوقعت ہیں اس کی جلالت و عظمت بلند پایہ ہے اس کا جلال و اکرام بڑھا چڑھا ہے اس کا ذکر بلند رتبہ ہے اس کی شان اعلیٰ ہے، ایک روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ (جد) کہتے ہیں باپ کو۔ اگر جنات کو یہ علم ہوتا کہ انسانوں میں جد ہوتا ہے تو وہ اللہ کی نسبت یہ لفظ نہ کہتے، یہ قول گو سنداً قوی ہے لیکن کلام بنتا نہیں اور کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آتا ممکن ہے اس میں کچھ کلام چھوٹ گیا ہو واللہ اعلم، پھر اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اللہ اس سے پاک اور برتر ہے کہ اس کی بیوی ہو یا اس کی اولاد ہو، پھر کہتے ہیں کہ ہمارا بیوقوف یعنی شیطان اللہ پر جھوٹ تہمت رکھتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد اس سے عام ہو یعنی جو شخص اللہ کی اولاد اور بیوی ثابت کرتا ہے بےعقل ہے، جھوٹ بکتا ہے، باطل عقیدہ رکھتا ہے اور ظالمانہ بات منہ سے نکالتا ہے، پھر فرماتے ہیں کہ ہم تو اسی خیال میں تھے کہ جن وانس اللہ پر جھوٹ نہیں باندھ سکتے لیکن قرآن سن کر معلوم ہوا کہ یہ دونوں جماعتیں رب العالمین پر تہمت رکھتی تھیں دراصل اللہ کی ذات اس عیب سے پاک ہے، پھر کہتے ہیں کہ جنات کے زیادہ بہکنے کا سبب یہ ہوا کہ وہ دیکھتے تھے کہ انسان جب کبھی کسی جنگل یا ویرانے میں جاتے ہیں تو جنات کی پناہ طلب کیا کرتے ہیں، جیسے کہ جاہلیت کے زمانہ کے عرب کی عادت تھی کہ جب کبھی کسی پڑاؤ پر اترتے تو کہتے کہ اس جنگل کے بڑے جن کی پناہ میں ہم آتے ہیں اور سمجھتے تھے کہ ایسا کہہ لینے کے بعد تمام جنات کے شر سے ہم محفوظ ہوجاتے ہیں جس طرح کسی شہر میں جاتے تو وہاں کے بڑے رئیس کی پناہ لے لیتے تاکہ شہر کے اور دشمن لوگ انہیں ایذاء نہ پہنچائیں، جنوں نے جب یہ دیکھا کہ انسان بھی ہماری پناہ لیتے ہیں تو ان کی سرکشی اور بڑھ گئی اور انہوں نے اور بری طرح انسانوں کو ستانا شروع کیا اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ جنات نے یہ حالت دیکھ کر انسانوں کو اور خوف زدہ کرنا شروع کیا اور انہیں طرح طرح سے ستانے لگے۔ دراصل جنات انسانوں سے ڈرا کرتے تھے جیسے کہ انسان جنوں سے بلکہ اس سے بھی زیادہ یہاں تک کہ جس جنگل بیابان میں انسان جا پہنچتا تھا وہاں سے جنات بھاگ کھڑے ہوتے تھے لیکن جب سے اہل شرک نے خود ان سے پناہ مانگنی شروع کی اور کہنے لگے کہ اس وادی کے سردار جن کی پناہ میں ہم آتے ہیں اس سے کہ ہمیں ہماری اولاد و مال کو کوئی ضرر نہ پہنچے اب جنوں نے سمجھا کہ یہ تو خود ہم سے ڈرتے ہیں تو ان کی جرات بڑھ گئی اور اب طرح طرح سے ڈرانا ستانا اور چھیڑنا انہوں نے شروع کیا، وہ گناہ، خوف، طغیانی اور سرکشی میں اور بڑھ گئے۔ کردم بن ابو سائب انصاری کہتے ہیں میں اپنے والد کے ہمراہ مدینہ سے کسی کام کے لئے باہر نکلا اس وقت حضور ﷺ کی بعثت ہوچکی تھی اور مکہ شریف میں آپ بحیثیت پیغمبر ظاہر ہوچکے تھے رات کے وقت ہم ایک چرواہے کے پاس جنگل میں ٹھہر گئے آدھی رات کے وقت ایک بھیڑیا آیا اور بکری اٹھا کرلے بھاگا، چرواہا اس کے پیچھے دوڑا اور پکار کر کہنے لگا اے اس جنگل کے آباد رکھنے والے تیری پناہ میں آیا ہوا ایک شخص لٹ گیا ساتھ ہی ایک آواز آئی حالانکہ کوئی شخص نظر نہ آتا تھا کہ اے بھیڑیئے اس بکری کو چھوڑ دے تھوڑی دیر میں ہم نے دیکھا کہ وہی بکری بھاگی بھاگی آئی اور ریوڑ میں مل گئی اسے زخم بھی نہیں لگا تھا یہی بیان اس آیت میں ہے جو اللہ کے رسول ﷺ پر مکہ میں اتری کہ بعض لوگ جنات کی پناہ مانگا کرتے تھے، ممکن ہے کہ یہ بھیڑیا بن کر آنے والا بھی جن ہی ہو اور بکری کے بچے کو پکڑ کرلے گیا ہو اور چرواہے کی اس وہائی پر چھوڑ دیا ہو تاکہ چرواہے کو اور پھر اس کی بات سن کر اوروں کو اس بات کا یقین کامل ہوجائے کہ جنات کی پناہ میں آجانے سے نقصانات سے محفوظ رہتے ہیں اور پھر اس عقیدے کے باعث وہ اور گمراہ ہوں اور اللہ کے دین سے خارج ہوجائیں واللہ اعلم۔ یہ مسلمان جن اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اے جنو جس طرح تمہارا گمان تھا اسی طرح انسان بھی اسی خیال میں تھے کہ اب اللہ تعالیٰ کسی رسول کو نہ بھیجے گا۔
وَأَنَّا ظَنَنَّآ أَن لَّن تَقُولَ ٱلْإِنسُ وَٱلْجِنُّ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا
Wa annaa zanannaaa al lan taqoolal insu wal jinnu 'alal laahi kazibaa
And we had thought that mankind and the jinn would never speak about Allah a lie.
اور ہمارا (یہ) خیال تھا کہ انسان اور جن خدا کی نسبت جھوٹ نہیں بولتے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
جنات پر قرآن حکیم کا اثر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ اپنی قوم کو اس واقعہ کی اطلاع دو کہ جنوں نے قرآن کریم سنا اسے سچا مانا اس پر ایمان لائے اور اس کے مطیع بن گئے، فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم کہو میری طرف وحی کی گئی کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کریم سنا اور اپنی قوم میں جا کر خبر دی کہ آج ہم نے عجیب و غریب کتاب سنی جو سچا اور نجات کا راستہ بتاتی ہے ہم تو اسے مان چکے ناممکن ہے کہ اب ہم اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کریں۔ یہی مضمون آیتوں میں گذر چکا ہے آیت (واذ صرفنا الیک الخ، یعنی جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف لوٹایا کہ وہ قرآں سنیں اور اس کی تفسیر احادیث سے وہیں ہم بیان کرچکے ہیں یہاں لوٹانے کی ضرورت نہیں، پھر یہ جنات اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ہم رب کے کام قدرت والے اس کے احکام بہت بلند وبالا، بڑا ذیشان اور ذی عزت ہے، اس کی نعمتیں، قدرتیں اور مخلوق پر مہربانیاں بہت باوقعت ہیں اس کی جلالت و عظمت بلند پایہ ہے اس کا جلال و اکرام بڑھا چڑھا ہے اس کا ذکر بلند رتبہ ہے اس کی شان اعلیٰ ہے، ایک روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ (جد) کہتے ہیں باپ کو۔ اگر جنات کو یہ علم ہوتا کہ انسانوں میں جد ہوتا ہے تو وہ اللہ کی نسبت یہ لفظ نہ کہتے، یہ قول گو سنداً قوی ہے لیکن کلام بنتا نہیں اور کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آتا ممکن ہے اس میں کچھ کلام چھوٹ گیا ہو واللہ اعلم، پھر اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اللہ اس سے پاک اور برتر ہے کہ اس کی بیوی ہو یا اس کی اولاد ہو، پھر کہتے ہیں کہ ہمارا بیوقوف یعنی شیطان اللہ پر جھوٹ تہمت رکھتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد اس سے عام ہو یعنی جو شخص اللہ کی اولاد اور بیوی ثابت کرتا ہے بےعقل ہے، جھوٹ بکتا ہے، باطل عقیدہ رکھتا ہے اور ظالمانہ بات منہ سے نکالتا ہے، پھر فرماتے ہیں کہ ہم تو اسی خیال میں تھے کہ جن وانس اللہ پر جھوٹ نہیں باندھ سکتے لیکن قرآن سن کر معلوم ہوا کہ یہ دونوں جماعتیں رب العالمین پر تہمت رکھتی تھیں دراصل اللہ کی ذات اس عیب سے پاک ہے، پھر کہتے ہیں کہ جنات کے زیادہ بہکنے کا سبب یہ ہوا کہ وہ دیکھتے تھے کہ انسان جب کبھی کسی جنگل یا ویرانے میں جاتے ہیں تو جنات کی پناہ طلب کیا کرتے ہیں، جیسے کہ جاہلیت کے زمانہ کے عرب کی عادت تھی کہ جب کبھی کسی پڑاؤ پر اترتے تو کہتے کہ اس جنگل کے بڑے جن کی پناہ میں ہم آتے ہیں اور سمجھتے تھے کہ ایسا کہہ لینے کے بعد تمام جنات کے شر سے ہم محفوظ ہوجاتے ہیں جس طرح کسی شہر میں جاتے تو وہاں کے بڑے رئیس کی پناہ لے لیتے تاکہ شہر کے اور دشمن لوگ انہیں ایذاء نہ پہنچائیں، جنوں نے جب یہ دیکھا کہ انسان بھی ہماری پناہ لیتے ہیں تو ان کی سرکشی اور بڑھ گئی اور انہوں نے اور بری طرح انسانوں کو ستانا شروع کیا اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ جنات نے یہ حالت دیکھ کر انسانوں کو اور خوف زدہ کرنا شروع کیا اور انہیں طرح طرح سے ستانے لگے۔ دراصل جنات انسانوں سے ڈرا کرتے تھے جیسے کہ انسان جنوں سے بلکہ اس سے بھی زیادہ یہاں تک کہ جس جنگل بیابان میں انسان جا پہنچتا تھا وہاں سے جنات بھاگ کھڑے ہوتے تھے لیکن جب سے اہل شرک نے خود ان سے پناہ مانگنی شروع کی اور کہنے لگے کہ اس وادی کے سردار جن کی پناہ میں ہم آتے ہیں اس سے کہ ہمیں ہماری اولاد و مال کو کوئی ضرر نہ پہنچے اب جنوں نے سمجھا کہ یہ تو خود ہم سے ڈرتے ہیں تو ان کی جرات بڑھ گئی اور اب طرح طرح سے ڈرانا ستانا اور چھیڑنا انہوں نے شروع کیا، وہ گناہ، خوف، طغیانی اور سرکشی میں اور بڑھ گئے۔ کردم بن ابو سائب انصاری کہتے ہیں میں اپنے والد کے ہمراہ مدینہ سے کسی کام کے لئے باہر نکلا اس وقت حضور ﷺ کی بعثت ہوچکی تھی اور مکہ شریف میں آپ بحیثیت پیغمبر ظاہر ہوچکے تھے رات کے وقت ہم ایک چرواہے کے پاس جنگل میں ٹھہر گئے آدھی رات کے وقت ایک بھیڑیا آیا اور بکری اٹھا کرلے بھاگا، چرواہا اس کے پیچھے دوڑا اور پکار کر کہنے لگا اے اس جنگل کے آباد رکھنے والے تیری پناہ میں آیا ہوا ایک شخص لٹ گیا ساتھ ہی ایک آواز آئی حالانکہ کوئی شخص نظر نہ آتا تھا کہ اے بھیڑیئے اس بکری کو چھوڑ دے تھوڑی دیر میں ہم نے دیکھا کہ وہی بکری بھاگی بھاگی آئی اور ریوڑ میں مل گئی اسے زخم بھی نہیں لگا تھا یہی بیان اس آیت میں ہے جو اللہ کے رسول ﷺ پر مکہ میں اتری کہ بعض لوگ جنات کی پناہ مانگا کرتے تھے، ممکن ہے کہ یہ بھیڑیا بن کر آنے والا بھی جن ہی ہو اور بکری کے بچے کو پکڑ کرلے گیا ہو اور چرواہے کی اس وہائی پر چھوڑ دیا ہو تاکہ چرواہے کو اور پھر اس کی بات سن کر اوروں کو اس بات کا یقین کامل ہوجائے کہ جنات کی پناہ میں آجانے سے نقصانات سے محفوظ رہتے ہیں اور پھر اس عقیدے کے باعث وہ اور گمراہ ہوں اور اللہ کے دین سے خارج ہوجائیں واللہ اعلم۔ یہ مسلمان جن اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اے جنو جس طرح تمہارا گمان تھا اسی طرح انسان بھی اسی خیال میں تھے کہ اب اللہ تعالیٰ کسی رسول کو نہ بھیجے گا۔
وَأَنَّهُۥ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ ٱلْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ ٱلْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا
Wa annahoo kaana rijaa lum minal insi ya'oozoona birijaalim minal jinni fazaa doohum rahaqaa
And there were men from mankind who sought refuge in men from the jinn, so they [only] increased them in burden.
اور یہ کہ بعض بنی آدم بعض جنات کی پناہ پکڑا کرتے تھے (اس سے) ان کی سرکشی اور بڑھ گئی تھی
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
جنات پر قرآن حکیم کا اثر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ اپنی قوم کو اس واقعہ کی اطلاع دو کہ جنوں نے قرآن کریم سنا اسے سچا مانا اس پر ایمان لائے اور اس کے مطیع بن گئے، فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم کہو میری طرف وحی کی گئی کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کریم سنا اور اپنی قوم میں جا کر خبر دی کہ آج ہم نے عجیب و غریب کتاب سنی جو سچا اور نجات کا راستہ بتاتی ہے ہم تو اسے مان چکے ناممکن ہے کہ اب ہم اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کریں۔ یہی مضمون آیتوں میں گذر چکا ہے آیت (واذ صرفنا الیک الخ، یعنی جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف لوٹایا کہ وہ قرآں سنیں اور اس کی تفسیر احادیث سے وہیں ہم بیان کرچکے ہیں یہاں لوٹانے کی ضرورت نہیں، پھر یہ جنات اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ہم رب کے کام قدرت والے اس کے احکام بہت بلند وبالا، بڑا ذیشان اور ذی عزت ہے، اس کی نعمتیں، قدرتیں اور مخلوق پر مہربانیاں بہت باوقعت ہیں اس کی جلالت و عظمت بلند پایہ ہے اس کا جلال و اکرام بڑھا چڑھا ہے اس کا ذکر بلند رتبہ ہے اس کی شان اعلیٰ ہے، ایک روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ (جد) کہتے ہیں باپ کو۔ اگر جنات کو یہ علم ہوتا کہ انسانوں میں جد ہوتا ہے تو وہ اللہ کی نسبت یہ لفظ نہ کہتے، یہ قول گو سنداً قوی ہے لیکن کلام بنتا نہیں اور کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آتا ممکن ہے اس میں کچھ کلام چھوٹ گیا ہو واللہ اعلم، پھر اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اللہ اس سے پاک اور برتر ہے کہ اس کی بیوی ہو یا اس کی اولاد ہو، پھر کہتے ہیں کہ ہمارا بیوقوف یعنی شیطان اللہ پر جھوٹ تہمت رکھتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد اس سے عام ہو یعنی جو شخص اللہ کی اولاد اور بیوی ثابت کرتا ہے بےعقل ہے، جھوٹ بکتا ہے، باطل عقیدہ رکھتا ہے اور ظالمانہ بات منہ سے نکالتا ہے، پھر فرماتے ہیں کہ ہم تو اسی خیال میں تھے کہ جن وانس اللہ پر جھوٹ نہیں باندھ سکتے لیکن قرآن سن کر معلوم ہوا کہ یہ دونوں جماعتیں رب العالمین پر تہمت رکھتی تھیں دراصل اللہ کی ذات اس عیب سے پاک ہے، پھر کہتے ہیں کہ جنات کے زیادہ بہکنے کا سبب یہ ہوا کہ وہ دیکھتے تھے کہ انسان جب کبھی کسی جنگل یا ویرانے میں جاتے ہیں تو جنات کی پناہ طلب کیا کرتے ہیں، جیسے کہ جاہلیت کے زمانہ کے عرب کی عادت تھی کہ جب کبھی کسی پڑاؤ پر اترتے تو کہتے کہ اس جنگل کے بڑے جن کی پناہ میں ہم آتے ہیں اور سمجھتے تھے کہ ایسا کہہ لینے کے بعد تمام جنات کے شر سے ہم محفوظ ہوجاتے ہیں جس طرح کسی شہر میں جاتے تو وہاں کے بڑے رئیس کی پناہ لے لیتے تاکہ شہر کے اور دشمن لوگ انہیں ایذاء نہ پہنچائیں، جنوں نے جب یہ دیکھا کہ انسان بھی ہماری پناہ لیتے ہیں تو ان کی سرکشی اور بڑھ گئی اور انہوں نے اور بری طرح انسانوں کو ستانا شروع کیا اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ جنات نے یہ حالت دیکھ کر انسانوں کو اور خوف زدہ کرنا شروع کیا اور انہیں طرح طرح سے ستانے لگے۔ دراصل جنات انسانوں سے ڈرا کرتے تھے جیسے کہ انسان جنوں سے بلکہ اس سے بھی زیادہ یہاں تک کہ جس جنگل بیابان میں انسان جا پہنچتا تھا وہاں سے جنات بھاگ کھڑے ہوتے تھے لیکن جب سے اہل شرک نے خود ان سے پناہ مانگنی شروع کی اور کہنے لگے کہ اس وادی کے سردار جن کی پناہ میں ہم آتے ہیں اس سے کہ ہمیں ہماری اولاد و مال کو کوئی ضرر نہ پہنچے اب جنوں نے سمجھا کہ یہ تو خود ہم سے ڈرتے ہیں تو ان کی جرات بڑھ گئی اور اب طرح طرح سے ڈرانا ستانا اور چھیڑنا انہوں نے شروع کیا، وہ گناہ، خوف، طغیانی اور سرکشی میں اور بڑھ گئے۔ کردم بن ابو سائب انصاری کہتے ہیں میں اپنے والد کے ہمراہ مدینہ سے کسی کام کے لئے باہر نکلا اس وقت حضور ﷺ کی بعثت ہوچکی تھی اور مکہ شریف میں آپ بحیثیت پیغمبر ظاہر ہوچکے تھے رات کے وقت ہم ایک چرواہے کے پاس جنگل میں ٹھہر گئے آدھی رات کے وقت ایک بھیڑیا آیا اور بکری اٹھا کرلے بھاگا، چرواہا اس کے پیچھے دوڑا اور پکار کر کہنے لگا اے اس جنگل کے آباد رکھنے والے تیری پناہ میں آیا ہوا ایک شخص لٹ گیا ساتھ ہی ایک آواز آئی حالانکہ کوئی شخص نظر نہ آتا تھا کہ اے بھیڑیئے اس بکری کو چھوڑ دے تھوڑی دیر میں ہم نے دیکھا کہ وہی بکری بھاگی بھاگی آئی اور ریوڑ میں مل گئی اسے زخم بھی نہیں لگا تھا یہی بیان اس آیت میں ہے جو اللہ کے رسول ﷺ پر مکہ میں اتری کہ بعض لوگ جنات کی پناہ مانگا کرتے تھے، ممکن ہے کہ یہ بھیڑیا بن کر آنے والا بھی جن ہی ہو اور بکری کے بچے کو پکڑ کرلے گیا ہو اور چرواہے کی اس وہائی پر چھوڑ دیا ہو تاکہ چرواہے کو اور پھر اس کی بات سن کر اوروں کو اس بات کا یقین کامل ہوجائے کہ جنات کی پناہ میں آجانے سے نقصانات سے محفوظ رہتے ہیں اور پھر اس عقیدے کے باعث وہ اور گمراہ ہوں اور اللہ کے دین سے خارج ہوجائیں واللہ اعلم۔ یہ مسلمان جن اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اے جنو جس طرح تمہارا گمان تھا اسی طرح انسان بھی اسی خیال میں تھے کہ اب اللہ تعالیٰ کسی رسول کو نہ بھیجے گا۔
وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا۟ كَمَا ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَبْعَثَ ٱللَّهُ أَحَدًا
Wa annahum zannoo kamaa zanantum al lany yab'asal laahu ahadaa
And they had thought, as you thought, that Allah would never send anyone [as a messenger].
اور یہ کہ ان کا بھی یہی اعتقاد تھا جس طرح تمہارا تھا کہ خدا کسی کو نہیں جلائے گا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
جنات پر قرآن حکیم کا اثر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ اپنی قوم کو اس واقعہ کی اطلاع دو کہ جنوں نے قرآن کریم سنا اسے سچا مانا اس پر ایمان لائے اور اس کے مطیع بن گئے، فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم کہو میری طرف وحی کی گئی کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کریم سنا اور اپنی قوم میں جا کر خبر دی کہ آج ہم نے عجیب و غریب کتاب سنی جو سچا اور نجات کا راستہ بتاتی ہے ہم تو اسے مان چکے ناممکن ہے کہ اب ہم اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کریں۔ یہی مضمون آیتوں میں گذر چکا ہے آیت (واذ صرفنا الیک الخ، یعنی جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف لوٹایا کہ وہ قرآں سنیں اور اس کی تفسیر احادیث سے وہیں ہم بیان کرچکے ہیں یہاں لوٹانے کی ضرورت نہیں، پھر یہ جنات اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ہم رب کے کام قدرت والے اس کے احکام بہت بلند وبالا، بڑا ذیشان اور ذی عزت ہے، اس کی نعمتیں، قدرتیں اور مخلوق پر مہربانیاں بہت باوقعت ہیں اس کی جلالت و عظمت بلند پایہ ہے اس کا جلال و اکرام بڑھا چڑھا ہے اس کا ذکر بلند رتبہ ہے اس کی شان اعلیٰ ہے، ایک روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ (جد) کہتے ہیں باپ کو۔ اگر جنات کو یہ علم ہوتا کہ انسانوں میں جد ہوتا ہے تو وہ اللہ کی نسبت یہ لفظ نہ کہتے، یہ قول گو سنداً قوی ہے لیکن کلام بنتا نہیں اور کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آتا ممکن ہے اس میں کچھ کلام چھوٹ گیا ہو واللہ اعلم، پھر اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اللہ اس سے پاک اور برتر ہے کہ اس کی بیوی ہو یا اس کی اولاد ہو، پھر کہتے ہیں کہ ہمارا بیوقوف یعنی شیطان اللہ پر جھوٹ تہمت رکھتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد اس سے عام ہو یعنی جو شخص اللہ کی اولاد اور بیوی ثابت کرتا ہے بےعقل ہے، جھوٹ بکتا ہے، باطل عقیدہ رکھتا ہے اور ظالمانہ بات منہ سے نکالتا ہے، پھر فرماتے ہیں کہ ہم تو اسی خیال میں تھے کہ جن وانس اللہ پر جھوٹ نہیں باندھ سکتے لیکن قرآن سن کر معلوم ہوا کہ یہ دونوں جماعتیں رب العالمین پر تہمت رکھتی تھیں دراصل اللہ کی ذات اس عیب سے پاک ہے، پھر کہتے ہیں کہ جنات کے زیادہ بہکنے کا سبب یہ ہوا کہ وہ دیکھتے تھے کہ انسان جب کبھی کسی جنگل یا ویرانے میں جاتے ہیں تو جنات کی پناہ طلب کیا کرتے ہیں، جیسے کہ جاہلیت کے زمانہ کے عرب کی عادت تھی کہ جب کبھی کسی پڑاؤ پر اترتے تو کہتے کہ اس جنگل کے بڑے جن کی پناہ میں ہم آتے ہیں اور سمجھتے تھے کہ ایسا کہہ لینے کے بعد تمام جنات کے شر سے ہم محفوظ ہوجاتے ہیں جس طرح کسی شہر میں جاتے تو وہاں کے بڑے رئیس کی پناہ لے لیتے تاکہ شہر کے اور دشمن لوگ انہیں ایذاء نہ پہنچائیں، جنوں نے جب یہ دیکھا کہ انسان بھی ہماری پناہ لیتے ہیں تو ان کی سرکشی اور بڑھ گئی اور انہوں نے اور بری طرح انسانوں کو ستانا شروع کیا اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ جنات نے یہ حالت دیکھ کر انسانوں کو اور خوف زدہ کرنا شروع کیا اور انہیں طرح طرح سے ستانے لگے۔ دراصل جنات انسانوں سے ڈرا کرتے تھے جیسے کہ انسان جنوں سے بلکہ اس سے بھی زیادہ یہاں تک کہ جس جنگل بیابان میں انسان جا پہنچتا تھا وہاں سے جنات بھاگ کھڑے ہوتے تھے لیکن جب سے اہل شرک نے خود ان سے پناہ مانگنی شروع کی اور کہنے لگے کہ اس وادی کے سردار جن کی پناہ میں ہم آتے ہیں اس سے کہ ہمیں ہماری اولاد و مال کو کوئی ضرر نہ پہنچے اب جنوں نے سمجھا کہ یہ تو خود ہم سے ڈرتے ہیں تو ان کی جرات بڑھ گئی اور اب طرح طرح سے ڈرانا ستانا اور چھیڑنا انہوں نے شروع کیا، وہ گناہ، خوف، طغیانی اور سرکشی میں اور بڑھ گئے۔ کردم بن ابو سائب انصاری کہتے ہیں میں اپنے والد کے ہمراہ مدینہ سے کسی کام کے لئے باہر نکلا اس وقت حضور ﷺ کی بعثت ہوچکی تھی اور مکہ شریف میں آپ بحیثیت پیغمبر ظاہر ہوچکے تھے رات کے وقت ہم ایک چرواہے کے پاس جنگل میں ٹھہر گئے آدھی رات کے وقت ایک بھیڑیا آیا اور بکری اٹھا کرلے بھاگا، چرواہا اس کے پیچھے دوڑا اور پکار کر کہنے لگا اے اس جنگل کے آباد رکھنے والے تیری پناہ میں آیا ہوا ایک شخص لٹ گیا ساتھ ہی ایک آواز آئی حالانکہ کوئی شخص نظر نہ آتا تھا کہ اے بھیڑیئے اس بکری کو چھوڑ دے تھوڑی دیر میں ہم نے دیکھا کہ وہی بکری بھاگی بھاگی آئی اور ریوڑ میں مل گئی اسے زخم بھی نہیں لگا تھا یہی بیان اس آیت میں ہے جو اللہ کے رسول ﷺ پر مکہ میں اتری کہ بعض لوگ جنات کی پناہ مانگا کرتے تھے، ممکن ہے کہ یہ بھیڑیا بن کر آنے والا بھی جن ہی ہو اور بکری کے بچے کو پکڑ کرلے گیا ہو اور چرواہے کی اس وہائی پر چھوڑ دیا ہو تاکہ چرواہے کو اور پھر اس کی بات سن کر اوروں کو اس بات کا یقین کامل ہوجائے کہ جنات کی پناہ میں آجانے سے نقصانات سے محفوظ رہتے ہیں اور پھر اس عقیدے کے باعث وہ اور گمراہ ہوں اور اللہ کے دین سے خارج ہوجائیں واللہ اعلم۔ یہ مسلمان جن اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اے جنو جس طرح تمہارا گمان تھا اسی طرح انسان بھی اسی خیال میں تھے کہ اب اللہ تعالیٰ کسی رسول کو نہ بھیجے گا۔
وَأَنَّا لَمَسْنَا ٱلسَّمَآءَ فَوَجَدْنَٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا
Wa annaa lamasnas sa maaa'a fa wajadnaahaa muli'at harasan shadeedanw wa shuhubaa
And we have sought [to reach] the heaven but found it filled with powerful guards and burning flames.
اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اس کو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے سے بھرا پایا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
بعثت نبوی ﷺ سے پہلے جنات آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے جنات آسمانوں پر جاتے کسی جگہ بیٹھتے اور کان لگا کر فرشتوں کی باتیں سنتے اور پھر آ کر کاہنوں کو خبر دیتے تھے اور کاہن ان باتوں کو بہت کچھ نمک مرچ لگا کر اپنے ماننے والوں سے کہتے، اب جب حضور ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا اور آپ پر قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو آسمان پر زبردست پہرے بٹھا دیئے گئے اور ان شیاطین کو پہلے کی طرح وہاں جا بیٹھنے اور باتیں اڑا لانے کا موقعہ نہ رہا، تاکہ قرآن کریم اور کاہنوں کا کلام خلط ملط نہ ہوجائے اور حق کے متلاشی کو دقت واقع نہ ہو۔ یہ مسلمان جنات اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ پہلے تو ہم آسمان پر جا بیٹھتے تھے مگر اب تو سخت پہرے لگے ہوئے ہیں اور آگ کے شعلے تاک لگائے ہوئے ہیں ایسے چھوٹ کر آتے ہیں کہ خطاہی نہیں کرتے جلا کر بھسم کردیتے ہیں، اب ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس سے حقیقی مراد کیا ہے ؟ اہل زمین کی کوئی برائی چاہی گئی ہے یا ان کے ساتھ ان کے رب کا ارادہ نیکی اور بھلائی کا ہے، خیال کیجئے کہ یہ مسلمان جن کس قدر ادب داں تھے کہ برائی کی اسناد کے لئے کسی فاعل کا ذکر نہیں کیا اور بھلائی کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کی اور کہا کہ دراصل آسمان کی اس نگرانی اس حفاظت سے کیا مطلب ہے، اسے ہم نہیں جانتے۔ اسی طرح حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ الٰہی تیری طرف سے شر اور برائی نہیں، ستارے اس سے پہلے بھی کبھی کبھی جھڑتے تھے لیکن اس طرح کثرت سے ان کا آگ برسانا قرآن کریم کی حفاظت و صیانت کے باعث ہوا تھا، چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ناگہاں ایک ستارہ ٹوٹا اور بڑی روشنی ہوگئی تو آپ نے ہم سے دریافت فرمایا کہ پہلے اسے جھڑتا دیکھ کر تم کیا کہا کرتے تھے ؟ ہم نے کہا حضور ﷺ ہمارا خیال تھا کہ یا تو یہ کسی برے آدمی کے تولد پر ٹوٹتا ہے یا کسی بڑے کی موت پر، آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جب کبھی کسی کام کا آسمان پر فیصلہ کرتا ہے، الخ۔ یہ حدیث پورے طور پر سباء کی تفسیر میں گذر چکی ہے۔ دراصل ستاروں کا بکثرت گرنا، جنات کا ان سے ہلاک ہونا، آسمان کی حفاظت کا بڑھ جانا، ان کا آسمان کی خبروں سے محروم ہوجانا ہی اس امر کا باعث بنا کر یہ نکل کھڑے ہوئے اور انہوں نے چاروں طرف تلاش کردی کہ کیا وجہ ہوئی کہ ہمارا آسمانوں پر جانا موقوف ہوا چناچہ ان میں سے ایک جماعت کا گذر عرب میں ہوا اور یہاں رسول اللہ ﷺ کو صبح کی نماز میں قرآن شریف پڑھتے ہوئے سنا اور سمجھ گئے کہ اس نبی کی بعثت اور اس کلام کا نزول ہی ہماری بندش کا سبب ہے، پس خوش نصیب سمجھدار جن تو مسلمان ہوگئے، باقی جنات کو ایمان نصیب نہ ہوا، سورة احقاف کی آیت (وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا ۚ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ 29) 46۔ الأحقاف :29) میں اس کا پورا بیان گذر چکا ہے، ستاروں کا ٹوٹنا آسمان کا محفوظ ہوجانا جنات ہی کے لئے نہیں بلکہ انسانوں کے لئے بھی ایک خوفناک علامت تھی، وہ گھبرا رہے تھے اور منتظر تھے کہ دیکھئے نتیجہ کیا ہوتا ہے ؟ اور عموماً انبیاء کی تشریف آوری اور دین اللہ کے اظہار کے وقت ایسا ہوتا بھی تھا، حضرت سدی فرماتے ہیں کہ شیاطین اس سے پہلے آسمانی بیٹھوں میں بیٹھ کر فرشتوں کی آپس کی باتیں اڑا لایا کرتے تھے جب حضور ﷺ پیغمبر بنائے گئے تو ایک رات ان شیاطین پر بڑی شعلہ باری ہوئی جسے دیکھ کر اہل طائف گئے کہ شاید آسمان والے ہلاک ہوگئے انہوں نے دیکھا کہ تابڑ توڑ ستارے ٹوٹ رہے ہیں، شعلے اڑ رہے ہیں اور دور دور تک تیزی کے ساتھ جا رہے ہیں انہوں نے اپنے غلام آزاد کرنے، اپنے جانور راہ اللہ چھوڑنے شروع کردیئے آخر عبد یا لیل بن عمرہ بن عمیر نے ان سے کہا کہ اے طائف والو تم کیوں اپنے مال برباد کر رہے ہو ؟ تم نجوم دیکھو اگر ستاروں کو اپنی اپنی جگہ پاؤ تو سمجھ لو کہ آسمان والے تباہ نہیں ہوئے بلکہ یہ سب کچھ انتظامات صرف ابن ابی کبشہ کے لئے ہو رہے ہیں (یعنی رسول اللہ ﷺ کے لئے) اور اگر تم دیکھو کہ فی الحقیقت ستارے اپنی مقررہ جگہ پر نہیں تو بیشک اہل آسمان کو ہلاک شدہ مان لو، انہوں نے سونگھی اور سونگھ کر بتایا کہ اس کا انقلاب سبب مکہ میں ہے، سات جنات نصیبین کے رہنے والے مکہ پہنچے یہاںحضور ﷺ مسجد حرام میں نماز پڑھا رہے تھے اور قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے جس سن کر ان کے دل نرم ہوگئے بہت ہی قریب ہو کر قرآن سنا پھر اس کے اثر سے مسلمان ہوگئے اور اپنی قوم کو بھی دعوت اسلام دی، الحمد اللہ ہم نے اس تمام واقعہ کو پورا پورا اپنی کتاب السیرت میں حضور ﷺ کی نبوت کے آغاز کے بیان میں لکھا ہے واللہ اعلم۔
وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَٰعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَن يَسْتَمِعِ ٱلْـَٔانَ يَجِدْ لَهُۥ شِهَابًا رَّصَدًا
Wa annaa kunnaa naq'udu minhaa maqaa'ida lis'sam'i famany yastami'il aana yajid lahoo shihaabar rasada
And we used to sit therein in positions for hearing, but whoever listens now will find a burning flame lying in wait for him.
اور یہ کہ پہلے ہم وہاں بہت سے مقامات میں (خبریں) سننے کے لئے بیٹھا کرتے تھے۔ اب کوئی سننا چاہے تو اپنے لئے انگارا تیار پائے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
بعثت نبوی ﷺ سے پہلے جنات آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے جنات آسمانوں پر جاتے کسی جگہ بیٹھتے اور کان لگا کر فرشتوں کی باتیں سنتے اور پھر آ کر کاہنوں کو خبر دیتے تھے اور کاہن ان باتوں کو بہت کچھ نمک مرچ لگا کر اپنے ماننے والوں سے کہتے، اب جب حضور ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا اور آپ پر قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو آسمان پر زبردست پہرے بٹھا دیئے گئے اور ان شیاطین کو پہلے کی طرح وہاں جا بیٹھنے اور باتیں اڑا لانے کا موقعہ نہ رہا، تاکہ قرآن کریم اور کاہنوں کا کلام خلط ملط نہ ہوجائے اور حق کے متلاشی کو دقت واقع نہ ہو۔ یہ مسلمان جنات اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ پہلے تو ہم آسمان پر جا بیٹھتے تھے مگر اب تو سخت پہرے لگے ہوئے ہیں اور آگ کے شعلے تاک لگائے ہوئے ہیں ایسے چھوٹ کر آتے ہیں کہ خطاہی نہیں کرتے جلا کر بھسم کردیتے ہیں، اب ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس سے حقیقی مراد کیا ہے ؟ اہل زمین کی کوئی برائی چاہی گئی ہے یا ان کے ساتھ ان کے رب کا ارادہ نیکی اور بھلائی کا ہے، خیال کیجئے کہ یہ مسلمان جن کس قدر ادب داں تھے کہ برائی کی اسناد کے لئے کسی فاعل کا ذکر نہیں کیا اور بھلائی کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کی اور کہا کہ دراصل آسمان کی اس نگرانی اس حفاظت سے کیا مطلب ہے، اسے ہم نہیں جانتے۔ اسی طرح حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ الٰہی تیری طرف سے شر اور برائی نہیں، ستارے اس سے پہلے بھی کبھی کبھی جھڑتے تھے لیکن اس طرح کثرت سے ان کا آگ برسانا قرآن کریم کی حفاظت و صیانت کے باعث ہوا تھا، چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ناگہاں ایک ستارہ ٹوٹا اور بڑی روشنی ہوگئی تو آپ نے ہم سے دریافت فرمایا کہ پہلے اسے جھڑتا دیکھ کر تم کیا کہا کرتے تھے ؟ ہم نے کہا حضور ﷺ ہمارا خیال تھا کہ یا تو یہ کسی برے آدمی کے تولد پر ٹوٹتا ہے یا کسی بڑے کی موت پر، آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جب کبھی کسی کام کا آسمان پر فیصلہ کرتا ہے، الخ۔ یہ حدیث پورے طور پر سباء کی تفسیر میں گذر چکی ہے۔ دراصل ستاروں کا بکثرت گرنا، جنات کا ان سے ہلاک ہونا، آسمان کی حفاظت کا بڑھ جانا، ان کا آسمان کی خبروں سے محروم ہوجانا ہی اس امر کا باعث بنا کر یہ نکل کھڑے ہوئے اور انہوں نے چاروں طرف تلاش کردی کہ کیا وجہ ہوئی کہ ہمارا آسمانوں پر جانا موقوف ہوا چناچہ ان میں سے ایک جماعت کا گذر عرب میں ہوا اور یہاں رسول اللہ ﷺ کو صبح کی نماز میں قرآن شریف پڑھتے ہوئے سنا اور سمجھ گئے کہ اس نبی کی بعثت اور اس کلام کا نزول ہی ہماری بندش کا سبب ہے، پس خوش نصیب سمجھدار جن تو مسلمان ہوگئے، باقی جنات کو ایمان نصیب نہ ہوا، سورة احقاف کی آیت (وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا ۚ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ 29) 46۔ الأحقاف :29) میں اس کا پورا بیان گذر چکا ہے، ستاروں کا ٹوٹنا آسمان کا محفوظ ہوجانا جنات ہی کے لئے نہیں بلکہ انسانوں کے لئے بھی ایک خوفناک علامت تھی، وہ گھبرا رہے تھے اور منتظر تھے کہ دیکھئے نتیجہ کیا ہوتا ہے ؟ اور عموماً انبیاء کی تشریف آوری اور دین اللہ کے اظہار کے وقت ایسا ہوتا بھی تھا، حضرت سدی فرماتے ہیں کہ شیاطین اس سے پہلے آسمانی بیٹھوں میں بیٹھ کر فرشتوں کی آپس کی باتیں اڑا لایا کرتے تھے جب حضور ﷺ پیغمبر بنائے گئے تو ایک رات ان شیاطین پر بڑی شعلہ باری ہوئی جسے دیکھ کر اہل طائف گئے کہ شاید آسمان والے ہلاک ہوگئے انہوں نے دیکھا کہ تابڑ توڑ ستارے ٹوٹ رہے ہیں، شعلے اڑ رہے ہیں اور دور دور تک تیزی کے ساتھ جا رہے ہیں انہوں نے اپنے غلام آزاد کرنے، اپنے جانور راہ اللہ چھوڑنے شروع کردیئے آخر عبد یا لیل بن عمرہ بن عمیر نے ان سے کہا کہ اے طائف والو تم کیوں اپنے مال برباد کر رہے ہو ؟ تم نجوم دیکھو اگر ستاروں کو اپنی اپنی جگہ پاؤ تو سمجھ لو کہ آسمان والے تباہ نہیں ہوئے بلکہ یہ سب کچھ انتظامات صرف ابن ابی کبشہ کے لئے ہو رہے ہیں (یعنی رسول اللہ ﷺ کے لئے) اور اگر تم دیکھو کہ فی الحقیقت ستارے اپنی مقررہ جگہ پر نہیں تو بیشک اہل آسمان کو ہلاک شدہ مان لو، انہوں نے سونگھی اور سونگھ کر بتایا کہ اس کا انقلاب سبب مکہ میں ہے، سات جنات نصیبین کے رہنے والے مکہ پہنچے یہاںحضور ﷺ مسجد حرام میں نماز پڑھا رہے تھے اور قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے جس سن کر ان کے دل نرم ہوگئے بہت ہی قریب ہو کر قرآن سنا پھر اس کے اثر سے مسلمان ہوگئے اور اپنی قوم کو بھی دعوت اسلام دی، الحمد اللہ ہم نے اس تمام واقعہ کو پورا پورا اپنی کتاب السیرت میں حضور ﷺ کی نبوت کے آغاز کے بیان میں لکھا ہے واللہ اعلم۔
وَأَنَّا لَا نَدْرِىٓ أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِى ٱلْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا
Wa annaa laa nadreee asharrun ureeda biman fil ardi am araada bihim rabbuhum rashadaa
And we do not know [therefore] whether evil is intended for those on earth or whether their Lord intends for them a right course.
اور یہ کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس سے اہل زمین کے حق میں برائی مقصود ہے یا ان کے پروردگار نے ان کی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
بعثت نبوی ﷺ سے پہلے جنات آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے جنات آسمانوں پر جاتے کسی جگہ بیٹھتے اور کان لگا کر فرشتوں کی باتیں سنتے اور پھر آ کر کاہنوں کو خبر دیتے تھے اور کاہن ان باتوں کو بہت کچھ نمک مرچ لگا کر اپنے ماننے والوں سے کہتے، اب جب حضور ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا اور آپ پر قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو آسمان پر زبردست پہرے بٹھا دیئے گئے اور ان شیاطین کو پہلے کی طرح وہاں جا بیٹھنے اور باتیں اڑا لانے کا موقعہ نہ رہا، تاکہ قرآن کریم اور کاہنوں کا کلام خلط ملط نہ ہوجائے اور حق کے متلاشی کو دقت واقع نہ ہو۔ یہ مسلمان جنات اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ پہلے تو ہم آسمان پر جا بیٹھتے تھے مگر اب تو سخت پہرے لگے ہوئے ہیں اور آگ کے شعلے تاک لگائے ہوئے ہیں ایسے چھوٹ کر آتے ہیں کہ خطاہی نہیں کرتے جلا کر بھسم کردیتے ہیں، اب ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس سے حقیقی مراد کیا ہے ؟ اہل زمین کی کوئی برائی چاہی گئی ہے یا ان کے ساتھ ان کے رب کا ارادہ نیکی اور بھلائی کا ہے، خیال کیجئے کہ یہ مسلمان جن کس قدر ادب داں تھے کہ برائی کی اسناد کے لئے کسی فاعل کا ذکر نہیں کیا اور بھلائی کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کی اور کہا کہ دراصل آسمان کی اس نگرانی اس حفاظت سے کیا مطلب ہے، اسے ہم نہیں جانتے۔ اسی طرح حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ الٰہی تیری طرف سے شر اور برائی نہیں، ستارے اس سے پہلے بھی کبھی کبھی جھڑتے تھے لیکن اس طرح کثرت سے ان کا آگ برسانا قرآن کریم کی حفاظت و صیانت کے باعث ہوا تھا، چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ناگہاں ایک ستارہ ٹوٹا اور بڑی روشنی ہوگئی تو آپ نے ہم سے دریافت فرمایا کہ پہلے اسے جھڑتا دیکھ کر تم کیا کہا کرتے تھے ؟ ہم نے کہا حضور ﷺ ہمارا خیال تھا کہ یا تو یہ کسی برے آدمی کے تولد پر ٹوٹتا ہے یا کسی بڑے کی موت پر، آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جب کبھی کسی کام کا آسمان پر فیصلہ کرتا ہے، الخ۔ یہ حدیث پورے طور پر سباء کی تفسیر میں گذر چکی ہے۔ دراصل ستاروں کا بکثرت گرنا، جنات کا ان سے ہلاک ہونا، آسمان کی حفاظت کا بڑھ جانا، ان کا آسمان کی خبروں سے محروم ہوجانا ہی اس امر کا باعث بنا کر یہ نکل کھڑے ہوئے اور انہوں نے چاروں طرف تلاش کردی کہ کیا وجہ ہوئی کہ ہمارا آسمانوں پر جانا موقوف ہوا چناچہ ان میں سے ایک جماعت کا گذر عرب میں ہوا اور یہاں رسول اللہ ﷺ کو صبح کی نماز میں قرآن شریف پڑھتے ہوئے سنا اور سمجھ گئے کہ اس نبی کی بعثت اور اس کلام کا نزول ہی ہماری بندش کا سبب ہے، پس خوش نصیب سمجھدار جن تو مسلمان ہوگئے، باقی جنات کو ایمان نصیب نہ ہوا، سورة احقاف کی آیت (وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا ۚ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ 29) 46۔ الأحقاف :29) میں اس کا پورا بیان گذر چکا ہے، ستاروں کا ٹوٹنا آسمان کا محفوظ ہوجانا جنات ہی کے لئے نہیں بلکہ انسانوں کے لئے بھی ایک خوفناک علامت تھی، وہ گھبرا رہے تھے اور منتظر تھے کہ دیکھئے نتیجہ کیا ہوتا ہے ؟ اور عموماً انبیاء کی تشریف آوری اور دین اللہ کے اظہار کے وقت ایسا ہوتا بھی تھا، حضرت سدی فرماتے ہیں کہ شیاطین اس سے پہلے آسمانی بیٹھوں میں بیٹھ کر فرشتوں کی آپس کی باتیں اڑا لایا کرتے تھے جب حضور ﷺ پیغمبر بنائے گئے تو ایک رات ان شیاطین پر بڑی شعلہ باری ہوئی جسے دیکھ کر اہل طائف گئے کہ شاید آسمان والے ہلاک ہوگئے انہوں نے دیکھا کہ تابڑ توڑ ستارے ٹوٹ رہے ہیں، شعلے اڑ رہے ہیں اور دور دور تک تیزی کے ساتھ جا رہے ہیں انہوں نے اپنے غلام آزاد کرنے، اپنے جانور راہ اللہ چھوڑنے شروع کردیئے آخر عبد یا لیل بن عمرہ بن عمیر نے ان سے کہا کہ اے طائف والو تم کیوں اپنے مال برباد کر رہے ہو ؟ تم نجوم دیکھو اگر ستاروں کو اپنی اپنی جگہ پاؤ تو سمجھ لو کہ آسمان والے تباہ نہیں ہوئے بلکہ یہ سب کچھ انتظامات صرف ابن ابی کبشہ کے لئے ہو رہے ہیں (یعنی رسول اللہ ﷺ کے لئے) اور اگر تم دیکھو کہ فی الحقیقت ستارے اپنی مقررہ جگہ پر نہیں تو بیشک اہل آسمان کو ہلاک شدہ مان لو، انہوں نے سونگھی اور سونگھ کر بتایا کہ اس کا انقلاب سبب مکہ میں ہے، سات جنات نصیبین کے رہنے والے مکہ پہنچے یہاںحضور ﷺ مسجد حرام میں نماز پڑھا رہے تھے اور قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے جس سن کر ان کے دل نرم ہوگئے بہت ہی قریب ہو کر قرآن سنا پھر اس کے اثر سے مسلمان ہوگئے اور اپنی قوم کو بھی دعوت اسلام دی، الحمد اللہ ہم نے اس تمام واقعہ کو پورا پورا اپنی کتاب السیرت میں حضور ﷺ کی نبوت کے آغاز کے بیان میں لکھا ہے واللہ اعلم۔
وَأَنَّا مِنَّا ٱلصَّٰلِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَٰلِكَ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا
Wa annaa minnas saalihoona wa minnaa doona zaalika kunnaa taraaa'ilqa qidadaa
And among us are the righteous, and among us are [others] not so; we were [of] divided ways.
اور یہ کہ ہم میں کوئی نیک ہیں اور کوئی اور طرح کے۔ ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
جنات میں بھی کافر اور مسلمان موجود ہیں جنات اپنی قوم کا اختلاف بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں ہم مختلف راہوں پر لگے ہوئے تھے۔ حضرت اعمش ؒ فرماتے ہیں کہ ایک جن ہمارے پاس آیا کرتا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ اس سے پوچھا کہ تمام کھانوں میں سے تمہیں کونسا کھانا پسند ہے ؟ اس نے کہا چاول۔ میں نے لا کردیئے تو دیکھا کہ لقمہ برابر اٹھ رہا ہے لیکن کھانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ میں نے پوچھا جو خواہشات ہم میں ہیں کیا تم بھی ہیں ؟ اس نے کہا ہاں، میں نے پھر پوچھا کہ رافضی تم میں کیسے گنے جاتے ہیں ؟ کہا بدترین۔ حافظ ابو المجاج مزنی فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، ابن عساکر میں ہے حضرت عباس بن احمد دمشقی فرماتے ہیں میں نے رات کے وقت ایک جن کو اشعار میں یہ کہتے سنا کہ دل اللہ کی محبت سے لبریز ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ مشرق و مغرب میں اس کی جڑیں جم گئی ہیں اور اللہ کی محبت میں حیران و پریشان ادھر ادھر پھر رہے ہیں اور انہوں نے مخلوق سے تعلقات کاٹ کر اپنے تعلقات اللہ سے وابستہ کر لئے ہیں۔ پھر ہم کہتے ہیں ہمیں معلوم ہوچکا کہ اللہ کی قدرت ہم پر حاکم ہے ہم اس سے نہ بھاگ کر بچ سکیں نہ کسی اور طرح اسے عاجز کرسکیں۔ اب فخریہ کہتے ہیں کہ ہم تو ہدایت نامے کو سنتے ہیں اس پر ایمان لا چکے، فی الواقع ہے بھی یہ فخر کا مقام۔ اس سے زیادہ شرف اور فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے کہ رب کا کلام فوری اثر کرے، پھر کہتے ہیں مومن کے نہ تو عمل نیک ضائع ہوں نہ اس پر خواہ مخواہ کی برائیاں لا دی جائیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (فَلَا يَخٰفُ ظُلْمًا وَّلَا هَضْمًا01102) 20۔ طه :112) یعنی نیک مومن کو ظلم و نقصان کا ڈر نہیں۔ پھر کہتے ہیں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض حق سے ہٹے ہوئے عدل کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ مسلمان تو نجات کے متلاشی ہیں اور ظالم جہنم کی لکڑیاں ہیں۔ اس کے بعد کی آیت (وَّاَنْ لَّوِ اسْتَــقَامُوْا عَلَي الطَّرِيْقَةِ لَاَسْقَيْنٰهُمْ مَّاۗءً غَدَقًا 16ۙ) 72۔ الجن :16) ، کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ کہ اگر تمام لوگ اسلام پر اور راہ راست پر اور اطاعت الٰہی پر جم جاتے تو ہم ان پر بکثرت بارشیں برساتے اور خوب وسعت سے روزی دیتے، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ ۭمِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۭ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَاۗءَ مَا يَعْمَلُوْنَ 66) 5۔ المآئدہ :66) یعنی اگر یہ توراۃ و انجیل اور آسمانی کتابوں پر سیدھے اترتے تو انہیں آسمان و زمین سے روزیاں ملتیں اور فرمان ہے آیت (وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ 66) 5۔ المآئدہ :66) یعنی اگر یہ توراۃ و انجیل اور آسمانی کتابوں پر سیدھے اترتے تو انہیں آسمان و زمین سے روزیاں ملتیں اور فرمان ہے آیت (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 96) 7۔ الاعراف :96) ، یعنی اگر بستی والے ایمان لاتے متقی بن جاتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کھول دیتے یہ اس لئے کہ ان کی پختہ جانچ ہوجائے کہ ہدایت پر کون جما رہتا ہے اور کون پھر سے گمراہی کی طرف لوٹ جاتا ہے، حضرت مقاتل فرماتے ہیں کہ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں اتری ہے جبکہ ان پر سات سال کا قحط پڑا تھا، دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر یہ سب کے سب گمراہی پر جم جاتے تو ان پر رزق کے دروازے کھول دیئے جاتے تاکہ یہ خوب مست ہوجائیں اور اللہ کو بالکل بھول جائیں اور بدترین سزاؤں کے قابل ہوجائیں، جیسے فرمان باری ہے آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44) 6۔ الانعام :44) ، یعنی جب وہ نصیحتیں بھلا بیٹھے تو ہم نے بھی ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے جس وہ مست بن گئے کہ ناگہاں ہم نے انہیں پکڑ لیا اور وہ مایوس ہوگئے، اسی طرح کی آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ) 23۔ المؤمنون :55) ، بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے جو بھی اپنے رب کے ذکر سے بےپرواہی برتے اس کا رب اسے درد ناک سخت اور مہلک عذابوں میں مبتلا کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ (صعد) جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے اور حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں جہنم کے ایک کنوئیں کا نام ہے۔
وَأَنَّا ظَنَنَّآ أَن لَّن نُّعْجِزَ ٱللَّهَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَن نُّعْجِزَهُۥ هَرَبًا
Wa annaa zanannaaa al lan nu'jizal laaha fil ardi wa lan nu'jizahoo harabaa
And we have become certain that we will never cause failure to Allah upon earth, nor can we escape Him by flight.
اور یہ کہ ہم نے یقین کرلیا ہے کہ ہم زمین میں (خواہ کہیں ہوں) خدا کو ہرا نہیں سکتے اور نہ بھاگ کر اس کو تھکا سکتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
جنات میں بھی کافر اور مسلمان موجود ہیں جنات اپنی قوم کا اختلاف بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں ہم مختلف راہوں پر لگے ہوئے تھے۔ حضرت اعمش ؒ فرماتے ہیں کہ ایک جن ہمارے پاس آیا کرتا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ اس سے پوچھا کہ تمام کھانوں میں سے تمہیں کونسا کھانا پسند ہے ؟ اس نے کہا چاول۔ میں نے لا کردیئے تو دیکھا کہ لقمہ برابر اٹھ رہا ہے لیکن کھانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ میں نے پوچھا جو خواہشات ہم میں ہیں کیا تم بھی ہیں ؟ اس نے کہا ہاں، میں نے پھر پوچھا کہ رافضی تم میں کیسے گنے جاتے ہیں ؟ کہا بدترین۔ حافظ ابو المجاج مزنی فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، ابن عساکر میں ہے حضرت عباس بن احمد دمشقی فرماتے ہیں میں نے رات کے وقت ایک جن کو اشعار میں یہ کہتے سنا کہ دل اللہ کی محبت سے لبریز ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ مشرق و مغرب میں اس کی جڑیں جم گئی ہیں اور اللہ کی محبت میں حیران و پریشان ادھر ادھر پھر رہے ہیں اور انہوں نے مخلوق سے تعلقات کاٹ کر اپنے تعلقات اللہ سے وابستہ کر لئے ہیں۔ پھر ہم کہتے ہیں ہمیں معلوم ہوچکا کہ اللہ کی قدرت ہم پر حاکم ہے ہم اس سے نہ بھاگ کر بچ سکیں نہ کسی اور طرح اسے عاجز کرسکیں۔ اب فخریہ کہتے ہیں کہ ہم تو ہدایت نامے کو سنتے ہیں اس پر ایمان لا چکے، فی الواقع ہے بھی یہ فخر کا مقام۔ اس سے زیادہ شرف اور فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے کہ رب کا کلام فوری اثر کرے، پھر کہتے ہیں مومن کے نہ تو عمل نیک ضائع ہوں نہ اس پر خواہ مخواہ کی برائیاں لا دی جائیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (فَلَا يَخٰفُ ظُلْمًا وَّلَا هَضْمًا01102) 20۔ طه :112) یعنی نیک مومن کو ظلم و نقصان کا ڈر نہیں۔ پھر کہتے ہیں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض حق سے ہٹے ہوئے عدل کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ مسلمان تو نجات کے متلاشی ہیں اور ظالم جہنم کی لکڑیاں ہیں۔ اس کے بعد کی آیت (وَّاَنْ لَّوِ اسْتَــقَامُوْا عَلَي الطَّرِيْقَةِ لَاَسْقَيْنٰهُمْ مَّاۗءً غَدَقًا 16ۙ) 72۔ الجن :16) ، کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ کہ اگر تمام لوگ اسلام پر اور راہ راست پر اور اطاعت الٰہی پر جم جاتے تو ہم ان پر بکثرت بارشیں برساتے اور خوب وسعت سے روزی دیتے، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ ۭمِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۭ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَاۗءَ مَا يَعْمَلُوْنَ 66) 5۔ المآئدہ :66) یعنی اگر یہ توراۃ و انجیل اور آسمانی کتابوں پر سیدھے اترتے تو انہیں آسمان و زمین سے روزیاں ملتیں اور فرمان ہے آیت (وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ 66) 5۔ المآئدہ :66) یعنی اگر یہ توراۃ و انجیل اور آسمانی کتابوں پر سیدھے اترتے تو انہیں آسمان و زمین سے روزیاں ملتیں اور فرمان ہے آیت (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 96) 7۔ الاعراف :96) ، یعنی اگر بستی والے ایمان لاتے متقی بن جاتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کھول دیتے یہ اس لئے کہ ان کی پختہ جانچ ہوجائے کہ ہدایت پر کون جما رہتا ہے اور کون پھر سے گمراہی کی طرف لوٹ جاتا ہے، حضرت مقاتل فرماتے ہیں کہ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں اتری ہے جبکہ ان پر سات سال کا قحط پڑا تھا، دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر یہ سب کے سب گمراہی پر جم جاتے تو ان پر رزق کے دروازے کھول دیئے جاتے تاکہ یہ خوب مست ہوجائیں اور اللہ کو بالکل بھول جائیں اور بدترین سزاؤں کے قابل ہوجائیں، جیسے فرمان باری ہے آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44) 6۔ الانعام :44) ، یعنی جب وہ نصیحتیں بھلا بیٹھے تو ہم نے بھی ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے جس وہ مست بن گئے کہ ناگہاں ہم نے انہیں پکڑ لیا اور وہ مایوس ہوگئے، اسی طرح کی آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ) 23۔ المؤمنون :55) ، بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے جو بھی اپنے رب کے ذکر سے بےپرواہی برتے اس کا رب اسے درد ناک سخت اور مہلک عذابوں میں مبتلا کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ (صعد) جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے اور حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں جہنم کے ایک کنوئیں کا نام ہے۔
وَأَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا ٱلْهُدَىٰٓ ءَامَنَّا بِهِۦ فَمَن يُؤْمِنۢ بِرَبِّهِۦ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَهَقًا
Wa annaa lammaa sami'nal hudaaa aamannaa bihee famany yu'mim bi rabbihee falaa yakhaafu bakhsanw wa laa rahaqaa
And when we heard the guidance, we believed in it. And whoever believes in his Lord will not fear deprivation or burden.
اور جب ہم نے ہدایت (کی کتاب) سنی اس پر ایمان لے آئے۔ تو جو شخص اپنے پروردگار پر ایمان لاتا ہے اس کو نہ نقصان کا خوف ہے نہ ظلم کا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
جنات میں بھی کافر اور مسلمان موجود ہیں جنات اپنی قوم کا اختلاف بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں ہم مختلف راہوں پر لگے ہوئے تھے۔ حضرت اعمش ؒ فرماتے ہیں کہ ایک جن ہمارے پاس آیا کرتا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ اس سے پوچھا کہ تمام کھانوں میں سے تمہیں کونسا کھانا پسند ہے ؟ اس نے کہا چاول۔ میں نے لا کردیئے تو دیکھا کہ لقمہ برابر اٹھ رہا ہے لیکن کھانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ میں نے پوچھا جو خواہشات ہم میں ہیں کیا تم بھی ہیں ؟ اس نے کہا ہاں، میں نے پھر پوچھا کہ رافضی تم میں کیسے گنے جاتے ہیں ؟ کہا بدترین۔ حافظ ابو المجاج مزنی فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، ابن عساکر میں ہے حضرت عباس بن احمد دمشقی فرماتے ہیں میں نے رات کے وقت ایک جن کو اشعار میں یہ کہتے سنا کہ دل اللہ کی محبت سے لبریز ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ مشرق و مغرب میں اس کی جڑیں جم گئی ہیں اور اللہ کی محبت میں حیران و پریشان ادھر ادھر پھر رہے ہیں اور انہوں نے مخلوق سے تعلقات کاٹ کر اپنے تعلقات اللہ سے وابستہ کر لئے ہیں۔ پھر ہم کہتے ہیں ہمیں معلوم ہوچکا کہ اللہ کی قدرت ہم پر حاکم ہے ہم اس سے نہ بھاگ کر بچ سکیں نہ کسی اور طرح اسے عاجز کرسکیں۔ اب فخریہ کہتے ہیں کہ ہم تو ہدایت نامے کو سنتے ہیں اس پر ایمان لا چکے، فی الواقع ہے بھی یہ فخر کا مقام۔ اس سے زیادہ شرف اور فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے کہ رب کا کلام فوری اثر کرے، پھر کہتے ہیں مومن کے نہ تو عمل نیک ضائع ہوں نہ اس پر خواہ مخواہ کی برائیاں لا دی جائیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (فَلَا يَخٰفُ ظُلْمًا وَّلَا هَضْمًا01102) 20۔ طه :112) یعنی نیک مومن کو ظلم و نقصان کا ڈر نہیں۔ پھر کہتے ہیں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض حق سے ہٹے ہوئے عدل کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ مسلمان تو نجات کے متلاشی ہیں اور ظالم جہنم کی لکڑیاں ہیں۔ اس کے بعد کی آیت (وَّاَنْ لَّوِ اسْتَــقَامُوْا عَلَي الطَّرِيْقَةِ لَاَسْقَيْنٰهُمْ مَّاۗءً غَدَقًا 16ۙ) 72۔ الجن :16) ، کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ کہ اگر تمام لوگ اسلام پر اور راہ راست پر اور اطاعت الٰہی پر جم جاتے تو ہم ان پر بکثرت بارشیں برساتے اور خوب وسعت سے روزی دیتے، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ ۭمِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۭ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَاۗءَ مَا يَعْمَلُوْنَ 66) 5۔ المآئدہ :66) یعنی اگر یہ توراۃ و انجیل اور آسمانی کتابوں پر سیدھے اترتے تو انہیں آسمان و زمین سے روزیاں ملتیں اور فرمان ہے آیت (وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ 66) 5۔ المآئدہ :66) یعنی اگر یہ توراۃ و انجیل اور آسمانی کتابوں پر سیدھے اترتے تو انہیں آسمان و زمین سے روزیاں ملتیں اور فرمان ہے آیت (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 96) 7۔ الاعراف :96) ، یعنی اگر بستی والے ایمان لاتے متقی بن جاتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کھول دیتے یہ اس لئے کہ ان کی پختہ جانچ ہوجائے کہ ہدایت پر کون جما رہتا ہے اور کون پھر سے گمراہی کی طرف لوٹ جاتا ہے، حضرت مقاتل فرماتے ہیں کہ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں اتری ہے جبکہ ان پر سات سال کا قحط پڑا تھا، دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر یہ سب کے سب گمراہی پر جم جاتے تو ان پر رزق کے دروازے کھول دیئے جاتے تاکہ یہ خوب مست ہوجائیں اور اللہ کو بالکل بھول جائیں اور بدترین سزاؤں کے قابل ہوجائیں، جیسے فرمان باری ہے آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44) 6۔ الانعام :44) ، یعنی جب وہ نصیحتیں بھلا بیٹھے تو ہم نے بھی ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے جس وہ مست بن گئے کہ ناگہاں ہم نے انہیں پکڑ لیا اور وہ مایوس ہوگئے، اسی طرح کی آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ) 23۔ المؤمنون :55) ، بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے جو بھی اپنے رب کے ذکر سے بےپرواہی برتے اس کا رب اسے درد ناک سخت اور مہلک عذابوں میں مبتلا کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ (صعد) جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے اور حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں جہنم کے ایک کنوئیں کا نام ہے۔
وَأَنَّا مِنَّا ٱلْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا ٱلْقَٰسِطُونَ فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُو۟لَٰٓئِكَ تَحَرَّوْا۟ رَشَدًا
Wa annaa minnal muslimoona wa minnal qaasitoona faman aslama fa ulaaa'ika taharraw rashadaa
And among us are Muslims [in submission to Allah], and among us are the unjust. And whoever has become Muslim - those have sought out the right course.
اور یہ کہ ہم میں بعض فرمانبردار ہیں اور بعض (نافرمان) گنہگار ہیں۔ تو جو فرمانبردار ہوئے وہ سیدھے رستے پر چلے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
جنات میں بھی کافر اور مسلمان موجود ہیں جنات اپنی قوم کا اختلاف بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں ہم مختلف راہوں پر لگے ہوئے تھے۔ حضرت اعمش ؒ فرماتے ہیں کہ ایک جن ہمارے پاس آیا کرتا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ اس سے پوچھا کہ تمام کھانوں میں سے تمہیں کونسا کھانا پسند ہے ؟ اس نے کہا چاول۔ میں نے لا کردیئے تو دیکھا کہ لقمہ برابر اٹھ رہا ہے لیکن کھانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ میں نے پوچھا جو خواہشات ہم میں ہیں کیا تم بھی ہیں ؟ اس نے کہا ہاں، میں نے پھر پوچھا کہ رافضی تم میں کیسے گنے جاتے ہیں ؟ کہا بدترین۔ حافظ ابو المجاج مزنی فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، ابن عساکر میں ہے حضرت عباس بن احمد دمشقی فرماتے ہیں میں نے رات کے وقت ایک جن کو اشعار میں یہ کہتے سنا کہ دل اللہ کی محبت سے لبریز ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ مشرق و مغرب میں اس کی جڑیں جم گئی ہیں اور اللہ کی محبت میں حیران و پریشان ادھر ادھر پھر رہے ہیں اور انہوں نے مخلوق سے تعلقات کاٹ کر اپنے تعلقات اللہ سے وابستہ کر لئے ہیں۔ پھر ہم کہتے ہیں ہمیں معلوم ہوچکا کہ اللہ کی قدرت ہم پر حاکم ہے ہم اس سے نہ بھاگ کر بچ سکیں نہ کسی اور طرح اسے عاجز کرسکیں۔ اب فخریہ کہتے ہیں کہ ہم تو ہدایت نامے کو سنتے ہیں اس پر ایمان لا چکے، فی الواقع ہے بھی یہ فخر کا مقام۔ اس سے زیادہ شرف اور فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے کہ رب کا کلام فوری اثر کرے، پھر کہتے ہیں مومن کے نہ تو عمل نیک ضائع ہوں نہ اس پر خواہ مخواہ کی برائیاں لا دی جائیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (فَلَا يَخٰفُ ظُلْمًا وَّلَا هَضْمًا01102) 20۔ طه :112) یعنی نیک مومن کو ظلم و نقصان کا ڈر نہیں۔ پھر کہتے ہیں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض حق سے ہٹے ہوئے عدل کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ مسلمان تو نجات کے متلاشی ہیں اور ظالم جہنم کی لکڑیاں ہیں۔ اس کے بعد کی آیت (وَّاَنْ لَّوِ اسْتَــقَامُوْا عَلَي الطَّرِيْقَةِ لَاَسْقَيْنٰهُمْ مَّاۗءً غَدَقًا 16ۙ) 72۔ الجن :16) ، کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ کہ اگر تمام لوگ اسلام پر اور راہ راست پر اور اطاعت الٰہی پر جم جاتے تو ہم ان پر بکثرت بارشیں برساتے اور خوب وسعت سے روزی دیتے، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ ۭمِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۭ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَاۗءَ مَا يَعْمَلُوْنَ 66) 5۔ المآئدہ :66) یعنی اگر یہ توراۃ و انجیل اور آسمانی کتابوں پر سیدھے اترتے تو انہیں آسمان و زمین سے روزیاں ملتیں اور فرمان ہے آیت (وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ 66) 5۔ المآئدہ :66) یعنی اگر یہ توراۃ و انجیل اور آسمانی کتابوں پر سیدھے اترتے تو انہیں آسمان و زمین سے روزیاں ملتیں اور فرمان ہے آیت (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 96) 7۔ الاعراف :96) ، یعنی اگر بستی والے ایمان لاتے متقی بن جاتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کھول دیتے یہ اس لئے کہ ان کی پختہ جانچ ہوجائے کہ ہدایت پر کون جما رہتا ہے اور کون پھر سے گمراہی کی طرف لوٹ جاتا ہے، حضرت مقاتل فرماتے ہیں کہ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں اتری ہے جبکہ ان پر سات سال کا قحط پڑا تھا، دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر یہ سب کے سب گمراہی پر جم جاتے تو ان پر رزق کے دروازے کھول دیئے جاتے تاکہ یہ خوب مست ہوجائیں اور اللہ کو بالکل بھول جائیں اور بدترین سزاؤں کے قابل ہوجائیں، جیسے فرمان باری ہے آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44) 6۔ الانعام :44) ، یعنی جب وہ نصیحتیں بھلا بیٹھے تو ہم نے بھی ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے جس وہ مست بن گئے کہ ناگہاں ہم نے انہیں پکڑ لیا اور وہ مایوس ہوگئے، اسی طرح کی آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ) 23۔ المؤمنون :55) ، بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے جو بھی اپنے رب کے ذکر سے بےپرواہی برتے اس کا رب اسے درد ناک سخت اور مہلک عذابوں میں مبتلا کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ (صعد) جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے اور حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں جہنم کے ایک کنوئیں کا نام ہے۔
وَأَمَّا ٱلْقَٰسِطُونَ فَكَانُوا۟ لِجَهَنَّمَ حَطَبًا
Wa ammal qaasitoona fa kaanoo li jahannama hatabaa
But as for the unjust, they will be, for Hell, firewood.'
اور جو گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
جنات میں بھی کافر اور مسلمان موجود ہیں جنات اپنی قوم کا اختلاف بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں ہم مختلف راہوں پر لگے ہوئے تھے۔ حضرت اعمش ؒ فرماتے ہیں کہ ایک جن ہمارے پاس آیا کرتا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ اس سے پوچھا کہ تمام کھانوں میں سے تمہیں کونسا کھانا پسند ہے ؟ اس نے کہا چاول۔ میں نے لا کردیئے تو دیکھا کہ لقمہ برابر اٹھ رہا ہے لیکن کھانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ میں نے پوچھا جو خواہشات ہم میں ہیں کیا تم بھی ہیں ؟ اس نے کہا ہاں، میں نے پھر پوچھا کہ رافضی تم میں کیسے گنے جاتے ہیں ؟ کہا بدترین۔ حافظ ابو المجاج مزنی فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، ابن عساکر میں ہے حضرت عباس بن احمد دمشقی فرماتے ہیں میں نے رات کے وقت ایک جن کو اشعار میں یہ کہتے سنا کہ دل اللہ کی محبت سے لبریز ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ مشرق و مغرب میں اس کی جڑیں جم گئی ہیں اور اللہ کی محبت میں حیران و پریشان ادھر ادھر پھر رہے ہیں اور انہوں نے مخلوق سے تعلقات کاٹ کر اپنے تعلقات اللہ سے وابستہ کر لئے ہیں۔ پھر ہم کہتے ہیں ہمیں معلوم ہوچکا کہ اللہ کی قدرت ہم پر حاکم ہے ہم اس سے نہ بھاگ کر بچ سکیں نہ کسی اور طرح اسے عاجز کرسکیں۔ اب فخریہ کہتے ہیں کہ ہم تو ہدایت نامے کو سنتے ہیں اس پر ایمان لا چکے، فی الواقع ہے بھی یہ فخر کا مقام۔ اس سے زیادہ شرف اور فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے کہ رب کا کلام فوری اثر کرے، پھر کہتے ہیں مومن کے نہ تو عمل نیک ضائع ہوں نہ اس پر خواہ مخواہ کی برائیاں لا دی جائیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (فَلَا يَخٰفُ ظُلْمًا وَّلَا هَضْمًا01102) 20۔ طه :112) یعنی نیک مومن کو ظلم و نقصان کا ڈر نہیں۔ پھر کہتے ہیں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض حق سے ہٹے ہوئے عدل کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ مسلمان تو نجات کے متلاشی ہیں اور ظالم جہنم کی لکڑیاں ہیں۔ اس کے بعد کی آیت (وَّاَنْ لَّوِ اسْتَــقَامُوْا عَلَي الطَّرِيْقَةِ لَاَسْقَيْنٰهُمْ مَّاۗءً غَدَقًا 16ۙ) 72۔ الجن :16) ، کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ کہ اگر تمام لوگ اسلام پر اور راہ راست پر اور اطاعت الٰہی پر جم جاتے تو ہم ان پر بکثرت بارشیں برساتے اور خوب وسعت سے روزی دیتے، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ ۭمِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۭ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَاۗءَ مَا يَعْمَلُوْنَ 66) 5۔ المآئدہ :66) یعنی اگر یہ توراۃ و انجیل اور آسمانی کتابوں پر سیدھے اترتے تو انہیں آسمان و زمین سے روزیاں ملتیں اور فرمان ہے آیت (وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ 66) 5۔ المآئدہ :66) یعنی اگر یہ توراۃ و انجیل اور آسمانی کتابوں پر سیدھے اترتے تو انہیں آسمان و زمین سے روزیاں ملتیں اور فرمان ہے آیت (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 96) 7۔ الاعراف :96) ، یعنی اگر بستی والے ایمان لاتے متقی بن جاتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کھول دیتے یہ اس لئے کہ ان کی پختہ جانچ ہوجائے کہ ہدایت پر کون جما رہتا ہے اور کون پھر سے گمراہی کی طرف لوٹ جاتا ہے، حضرت مقاتل فرماتے ہیں کہ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں اتری ہے جبکہ ان پر سات سال کا قحط پڑا تھا، دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر یہ سب کے سب گمراہی پر جم جاتے تو ان پر رزق کے دروازے کھول دیئے جاتے تاکہ یہ خوب مست ہوجائیں اور اللہ کو بالکل بھول جائیں اور بدترین سزاؤں کے قابل ہوجائیں، جیسے فرمان باری ہے آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44) 6۔ الانعام :44) ، یعنی جب وہ نصیحتیں بھلا بیٹھے تو ہم نے بھی ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے جس وہ مست بن گئے کہ ناگہاں ہم نے انہیں پکڑ لیا اور وہ مایوس ہوگئے، اسی طرح کی آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ) 23۔ المؤمنون :55) ، بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے جو بھی اپنے رب کے ذکر سے بےپرواہی برتے اس کا رب اسے درد ناک سخت اور مہلک عذابوں میں مبتلا کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ (صعد) جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے اور حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں جہنم کے ایک کنوئیں کا نام ہے۔
وَأَلَّوِ ٱسْتَقَٰمُوا۟ عَلَى ٱلطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَٰهُم مَّآءً غَدَقًا
Wa alla wis taqaamoo 'alat tareeqati la asqaynaahum maa'an ghadaqaa
And [Allah revealed] that if they had remained straight on the way, We would have given them abundant provision
اور (اے پیغمبر) یہ (بھی ان سے کہہ دو) کہ اگر یہ لوگ سیدھے رستے پر رہتے تو ہم ان کے پینے کو بہت سا پانی دیتے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
جنات میں بھی کافر اور مسلمان موجود ہیں جنات اپنی قوم کا اختلاف بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں ہم مختلف راہوں پر لگے ہوئے تھے۔ حضرت اعمش ؒ فرماتے ہیں کہ ایک جن ہمارے پاس آیا کرتا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ اس سے پوچھا کہ تمام کھانوں میں سے تمہیں کونسا کھانا پسند ہے ؟ اس نے کہا چاول۔ میں نے لا کردیئے تو دیکھا کہ لقمہ برابر اٹھ رہا ہے لیکن کھانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ میں نے پوچھا جو خواہشات ہم میں ہیں کیا تم بھی ہیں ؟ اس نے کہا ہاں، میں نے پھر پوچھا کہ رافضی تم میں کیسے گنے جاتے ہیں ؟ کہا بدترین۔ حافظ ابو المجاج مزنی فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، ابن عساکر میں ہے حضرت عباس بن احمد دمشقی فرماتے ہیں میں نے رات کے وقت ایک جن کو اشعار میں یہ کہتے سنا کہ دل اللہ کی محبت سے لبریز ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ مشرق و مغرب میں اس کی جڑیں جم گئی ہیں اور اللہ کی محبت میں حیران و پریشان ادھر ادھر پھر رہے ہیں اور انہوں نے مخلوق سے تعلقات کاٹ کر اپنے تعلقات اللہ سے وابستہ کر لئے ہیں۔ پھر ہم کہتے ہیں ہمیں معلوم ہوچکا کہ اللہ کی قدرت ہم پر حاکم ہے ہم اس سے نہ بھاگ کر بچ سکیں نہ کسی اور طرح اسے عاجز کرسکیں۔ اب فخریہ کہتے ہیں کہ ہم تو ہدایت نامے کو سنتے ہیں اس پر ایمان لا چکے، فی الواقع ہے بھی یہ فخر کا مقام۔ اس سے زیادہ شرف اور فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے کہ رب کا کلام فوری اثر کرے، پھر کہتے ہیں مومن کے نہ تو عمل نیک ضائع ہوں نہ اس پر خواہ مخواہ کی برائیاں لا دی جائیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (فَلَا يَخٰفُ ظُلْمًا وَّلَا هَضْمًا01102) 20۔ طه :112) یعنی نیک مومن کو ظلم و نقصان کا ڈر نہیں۔ پھر کہتے ہیں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض حق سے ہٹے ہوئے عدل کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ مسلمان تو نجات کے متلاشی ہیں اور ظالم جہنم کی لکڑیاں ہیں۔ اس کے بعد کی آیت (وَّاَنْ لَّوِ اسْتَــقَامُوْا عَلَي الطَّرِيْقَةِ لَاَسْقَيْنٰهُمْ مَّاۗءً غَدَقًا 16ۙ) 72۔ الجن :16) ، کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ کہ اگر تمام لوگ اسلام پر اور راہ راست پر اور اطاعت الٰہی پر جم جاتے تو ہم ان پر بکثرت بارشیں برساتے اور خوب وسعت سے روزی دیتے، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ ۭمِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۭ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَاۗءَ مَا يَعْمَلُوْنَ 66) 5۔ المآئدہ :66) یعنی اگر یہ توراۃ و انجیل اور آسمانی کتابوں پر سیدھے اترتے تو انہیں آسمان و زمین سے روزیاں ملتیں اور فرمان ہے آیت (وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ 66) 5۔ المآئدہ :66) یعنی اگر یہ توراۃ و انجیل اور آسمانی کتابوں پر سیدھے اترتے تو انہیں آسمان و زمین سے روزیاں ملتیں اور فرمان ہے آیت (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 96) 7۔ الاعراف :96) ، یعنی اگر بستی والے ایمان لاتے متقی بن جاتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کھول دیتے یہ اس لئے کہ ان کی پختہ جانچ ہوجائے کہ ہدایت پر کون جما رہتا ہے اور کون پھر سے گمراہی کی طرف لوٹ جاتا ہے، حضرت مقاتل فرماتے ہیں کہ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں اتری ہے جبکہ ان پر سات سال کا قحط پڑا تھا، دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر یہ سب کے سب گمراہی پر جم جاتے تو ان پر رزق کے دروازے کھول دیئے جاتے تاکہ یہ خوب مست ہوجائیں اور اللہ کو بالکل بھول جائیں اور بدترین سزاؤں کے قابل ہوجائیں، جیسے فرمان باری ہے آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44) 6۔ الانعام :44) ، یعنی جب وہ نصیحتیں بھلا بیٹھے تو ہم نے بھی ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے جس وہ مست بن گئے کہ ناگہاں ہم نے انہیں پکڑ لیا اور وہ مایوس ہوگئے، اسی طرح کی آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ) 23۔ المؤمنون :55) ، بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے جو بھی اپنے رب کے ذکر سے بےپرواہی برتے اس کا رب اسے درد ناک سخت اور مہلک عذابوں میں مبتلا کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ (صعد) جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے اور حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں جہنم کے ایک کنوئیں کا نام ہے۔
لِّنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَمَن يُعْرِضْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِۦ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا
Linaftinahum feeh; wa many yu'rid 'an zikri rabbihee yasluk hu 'azaaban sa'adaa
So We might test them therein. And whoever turns away from the remembrance of his Lord He will put into arduous punishment.
تاکہ اس سے ان کی آزمائش کریں۔ اور جو شخص اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے گا وہ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
جنات میں بھی کافر اور مسلمان موجود ہیں جنات اپنی قوم کا اختلاف بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں ہم مختلف راہوں پر لگے ہوئے تھے۔ حضرت اعمش ؒ فرماتے ہیں کہ ایک جن ہمارے پاس آیا کرتا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ اس سے پوچھا کہ تمام کھانوں میں سے تمہیں کونسا کھانا پسند ہے ؟ اس نے کہا چاول۔ میں نے لا کردیئے تو دیکھا کہ لقمہ برابر اٹھ رہا ہے لیکن کھانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ میں نے پوچھا جو خواہشات ہم میں ہیں کیا تم بھی ہیں ؟ اس نے کہا ہاں، میں نے پھر پوچھا کہ رافضی تم میں کیسے گنے جاتے ہیں ؟ کہا بدترین۔ حافظ ابو المجاج مزنی فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، ابن عساکر میں ہے حضرت عباس بن احمد دمشقی فرماتے ہیں میں نے رات کے وقت ایک جن کو اشعار میں یہ کہتے سنا کہ دل اللہ کی محبت سے لبریز ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ مشرق و مغرب میں اس کی جڑیں جم گئی ہیں اور اللہ کی محبت میں حیران و پریشان ادھر ادھر پھر رہے ہیں اور انہوں نے مخلوق سے تعلقات کاٹ کر اپنے تعلقات اللہ سے وابستہ کر لئے ہیں۔ پھر ہم کہتے ہیں ہمیں معلوم ہوچکا کہ اللہ کی قدرت ہم پر حاکم ہے ہم اس سے نہ بھاگ کر بچ سکیں نہ کسی اور طرح اسے عاجز کرسکیں۔ اب فخریہ کہتے ہیں کہ ہم تو ہدایت نامے کو سنتے ہیں اس پر ایمان لا چکے، فی الواقع ہے بھی یہ فخر کا مقام۔ اس سے زیادہ شرف اور فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے کہ رب کا کلام فوری اثر کرے، پھر کہتے ہیں مومن کے نہ تو عمل نیک ضائع ہوں نہ اس پر خواہ مخواہ کی برائیاں لا دی جائیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (فَلَا يَخٰفُ ظُلْمًا وَّلَا هَضْمًا01102) 20۔ طه :112) یعنی نیک مومن کو ظلم و نقصان کا ڈر نہیں۔ پھر کہتے ہیں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض حق سے ہٹے ہوئے عدل کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ مسلمان تو نجات کے متلاشی ہیں اور ظالم جہنم کی لکڑیاں ہیں۔ اس کے بعد کی آیت (وَّاَنْ لَّوِ اسْتَــقَامُوْا عَلَي الطَّرِيْقَةِ لَاَسْقَيْنٰهُمْ مَّاۗءً غَدَقًا 16ۙ) 72۔ الجن :16) ، کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ کہ اگر تمام لوگ اسلام پر اور راہ راست پر اور اطاعت الٰہی پر جم جاتے تو ہم ان پر بکثرت بارشیں برساتے اور خوب وسعت سے روزی دیتے، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ ۭمِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۭ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَاۗءَ مَا يَعْمَلُوْنَ 66) 5۔ المآئدہ :66) یعنی اگر یہ توراۃ و انجیل اور آسمانی کتابوں پر سیدھے اترتے تو انہیں آسمان و زمین سے روزیاں ملتیں اور فرمان ہے آیت (وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ 66) 5۔ المآئدہ :66) یعنی اگر یہ توراۃ و انجیل اور آسمانی کتابوں پر سیدھے اترتے تو انہیں آسمان و زمین سے روزیاں ملتیں اور فرمان ہے آیت (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 96) 7۔ الاعراف :96) ، یعنی اگر بستی والے ایمان لاتے متقی بن جاتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کھول دیتے یہ اس لئے کہ ان کی پختہ جانچ ہوجائے کہ ہدایت پر کون جما رہتا ہے اور کون پھر سے گمراہی کی طرف لوٹ جاتا ہے، حضرت مقاتل فرماتے ہیں کہ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں اتری ہے جبکہ ان پر سات سال کا قحط پڑا تھا، دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر یہ سب کے سب گمراہی پر جم جاتے تو ان پر رزق کے دروازے کھول دیئے جاتے تاکہ یہ خوب مست ہوجائیں اور اللہ کو بالکل بھول جائیں اور بدترین سزاؤں کے قابل ہوجائیں، جیسے فرمان باری ہے آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44) 6۔ الانعام :44) ، یعنی جب وہ نصیحتیں بھلا بیٹھے تو ہم نے بھی ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے جس وہ مست بن گئے کہ ناگہاں ہم نے انہیں پکڑ لیا اور وہ مایوس ہوگئے، اسی طرح کی آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ) 23۔ المؤمنون :55) ، بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے جو بھی اپنے رب کے ذکر سے بےپرواہی برتے اس کا رب اسے درد ناک سخت اور مہلک عذابوں میں مبتلا کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ (صعد) جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ہے اور حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں جہنم کے ایک کنوئیں کا نام ہے۔
وَأَنَّ ٱلْمَسَٰجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا۟ مَعَ ٱللَّهِ أَحَدًا
Wa annal masaajida lillaahi falaa tad'oo ma'al laahi ahadaa
And [He revealed] that the masjids are for Allah, so do not invoke with Allah anyone.
اور یہ کہ مسجدیں (خاص) خدا کی ہیں تو خدا کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
آداب سجدہ اور جنات کا اسلام لانا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی عبادت کی جگہوں کو شرک سے پاک رکھیں، وہاں کسی دوسرے کا نام نہ پکاریں، نہ کسی اور کو اللہ کی عبادت میں شریک کریں، حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اپنے گرجوں اور کنیسوں میں جا کر اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے تھے تو اس امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ نبی بھی اور امت بھی سب توحید والے رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت کے نزول کے وقت صرف مسجد اقصیٰ تھی اور مسجد حرام، حضرت اعمش نے اس آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ جنات نےحضور ﷺ سے اجازت چاہی کہ آپ کی مسجد میں اور انسانوں کے ساتھ نماز ادا کریں، گویا ان سے کہا جا رہا ہے کہ نماز پڑھو لیکن انسانوں کے ساتھ خلط ملط نہ ہو۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں جنوں نے حضور ﷺ سے کہا کہ ہم تو دور دراز رہتے ہیں نمازوں میں آپ کی مسجد میں کیسے پہنچ سکیں گے ؟ تو انہیں کہا جاتا ہے کہ مقصود نماز کا ادا کرنا اور صرف اللہ ہی کی عبادت بجا لانا ہے خواہ کہیں ہو، حضرت عکرمہ فرماتے ہیں یہ آیت عام ہے اس میں سبھی مساجد شامل ہیں۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ آیت اعضاء سجدہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے یعنی جن اعضاء پر تم سجدہ کرتے ہو وہ سب اللہ ہی کے ہیں پس تم پر ان اعضاء سے دوسرے کے لئے سجدہ کرنا حرام ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم کیا گیا ہے، پیشانی اور ہاتھ کے اشارے سے ناک کو بھی اس میں شامل کرلیا اور دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پہنچے۔ آیت (لما قام) کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جنات نے جب حضور ﷺ کی زبانی تلاوت قرآن سنی تو اس طرح آگے بڑھ بڑھ کر عقیدت کا اظہار کرنے لگے کہ گویا ایک دوسرے کے سروں پر چڑھے چلے جاتے ہیں، دوسرا مطلب یہ ہے کہ جنات اپنی قوم سے کہہ رہے ہیں کہ حضور ﷺ کے اصحاب کی اطاعت و چاہت کی حالت یہ ہے کہ جب حضور ﷺ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں اور اصحاب پیچھے ہوتے ہیں تو برابر اطاعت و اقتداء میں آخر تک مشغول رہتے ہیں گویا ایک حلقہ ہے، تیسرا قول یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی توحید کا اعلان لوگوں میں کرتے ہیں تو کافر لوگ دانت چبا چبا کر الجھ جاتے ہیں، جنات و انسان مل جاتے ہیں کہ اس امر دین کو مٹا دیں اور اس کی روشنی کو چھپا لیں مگر اللہ کا ارادہ اس کے خلاف ہوچکا ہے، یہ تیسرا قول ہی زیادہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ میں تو صرف اپنے رب کا نام ورد زبان رکھتا ہوں اور کسی اور کی عبادت نہیں کرتا، یعنی جب دعوت حق اور توحید کی آواز ان کے کان میں پڑی جو مدتوں سے غیر مانوس و چکی تھی تو ان کفار نے ایذاء رسانی مخالفت اور تکذیب پر کمر باندھ لی حق کو مٹا دینا چاہا اور رسول اللہ ﷺ کی عداوت پر سب متحد ہوگئے اس وقت ان سے رسول ﷺ نے کہا کہ میں تو اپنے پالنے والے (وحدہ لاشریک لہ) کی عبادت میں مشغول ہوں میں اسی کی پناہ میں ہوں اسی پر میرا توکل ہے وہ ہی میرا سہارا ہے مجھ سے یہ توقع ہرگز نہ رکھو کہ میں کسی اور کے سامنے جھکوں یا اس کی پرستش کروں، میں تم جیسا انسان ہوں تمہارے نفع نقصان کا مالک میں نہیں ہوں میں تو اللہ کا ایک غلام ہوں اللہ کے بندوں میں سے ایک ہوں، تمہاری ہدایت ضلالت کا مختار ومالک میں نہیں سب چیزیں اللہ کے قبضے میں ہیں میں تو صرف پیغام رساں ہوں، اگر میں خود بھی اللہ کی معصیت کروں تو یقینا اللہ مجھے عذاب دے گا اور کسی سے نہ ہو سکے گا کہ مجھے بچا لے، مجھے کوئی پناہ کی جگہ اس کے سوا نظر ہی نہیں آتی، میری حیثیت صرف مبلغ اور رسول کی ہے، بعض تو کہتے ہیں الا کا استثنا (لا املک) سے ہے یعنی میں نفع نقصان ہدایت ضلالت کا مالک نہیں میں تو صرف تبلیغ کرنے والا پیغام پہنچانے والا ہوں اور ہوسکتا ہے کہ (لن یجیرنی) سے یہ استثناء ہو یعنی اللہ کے عذابوں سے مجھے صرف میری رسالت کی ادائیگی ہی بچا سکتی ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ 67) 5۔ المآئدہ :67) ، یعنی اے رسول تیری طرف جو تیرے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اسے پہنچا دے اور اگر تو نے یہ نہ کیا تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں سے بچا لے گا۔ نافرمان کے لئے ہمیشہ والی جہنم کی آگ ہے جس میں سے نہ نکل سکیں نہ بھاگ سکیں۔ جب یہ مشرکین جن وانس قیامت والے دن ڈراؤنے عذابوں کو دیکھ لیں گے اس وقت ظاہر ہوجائے گا کہ کمزور مددگاروں اور بےوقعت گنتی والوں میں کون کون شامل تھا ؟ یعنی مومن موحد یا یہ مشرک، حقیقت یہ ہے کہ اس دن مشرکوں کا برائے نام بھی کوئی مدد کرنے والا نہیں ہوگا اور اللہ کے لشکروں کے مقابلہ پر ان کی گنتی بھی کچھ نہ ہوگی۔
وَأَنَّهُۥ لَمَّا قَامَ عَبْدُ ٱللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا۟ يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا
Wa annahoo lammaa qaama 'adul laahi yad'oohu kaadoo yakoonoona 'alaihi libadaa
And that when the Servant of Allah stood up supplicating Him, they almost became about him a compacted mass."
اور جب خدا کے بندے (محمدﷺ) اس کی عبادت کو کھڑے ہوئے تو کافر ان کے گرد ہجوم کرلینے کو تھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
آداب سجدہ اور جنات کا اسلام لانا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی عبادت کی جگہوں کو شرک سے پاک رکھیں، وہاں کسی دوسرے کا نام نہ پکاریں، نہ کسی اور کو اللہ کی عبادت میں شریک کریں، حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اپنے گرجوں اور کنیسوں میں جا کر اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے تھے تو اس امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ نبی بھی اور امت بھی سب توحید والے رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت کے نزول کے وقت صرف مسجد اقصیٰ تھی اور مسجد حرام، حضرت اعمش نے اس آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ جنات نےحضور ﷺ سے اجازت چاہی کہ آپ کی مسجد میں اور انسانوں کے ساتھ نماز ادا کریں، گویا ان سے کہا جا رہا ہے کہ نماز پڑھو لیکن انسانوں کے ساتھ خلط ملط نہ ہو۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں جنوں نے حضور ﷺ سے کہا کہ ہم تو دور دراز رہتے ہیں نمازوں میں آپ کی مسجد میں کیسے پہنچ سکیں گے ؟ تو انہیں کہا جاتا ہے کہ مقصود نماز کا ادا کرنا اور صرف اللہ ہی کی عبادت بجا لانا ہے خواہ کہیں ہو، حضرت عکرمہ فرماتے ہیں یہ آیت عام ہے اس میں سبھی مساجد شامل ہیں۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ آیت اعضاء سجدہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے یعنی جن اعضاء پر تم سجدہ کرتے ہو وہ سب اللہ ہی کے ہیں پس تم پر ان اعضاء سے دوسرے کے لئے سجدہ کرنا حرام ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم کیا گیا ہے، پیشانی اور ہاتھ کے اشارے سے ناک کو بھی اس میں شامل کرلیا اور دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پہنچے۔ آیت (لما قام) کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جنات نے جب حضور ﷺ کی زبانی تلاوت قرآن سنی تو اس طرح آگے بڑھ بڑھ کر عقیدت کا اظہار کرنے لگے کہ گویا ایک دوسرے کے سروں پر چڑھے چلے جاتے ہیں، دوسرا مطلب یہ ہے کہ جنات اپنی قوم سے کہہ رہے ہیں کہ حضور ﷺ کے اصحاب کی اطاعت و چاہت کی حالت یہ ہے کہ جب حضور ﷺ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں اور اصحاب پیچھے ہوتے ہیں تو برابر اطاعت و اقتداء میں آخر تک مشغول رہتے ہیں گویا ایک حلقہ ہے، تیسرا قول یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی توحید کا اعلان لوگوں میں کرتے ہیں تو کافر لوگ دانت چبا چبا کر الجھ جاتے ہیں، جنات و انسان مل جاتے ہیں کہ اس امر دین کو مٹا دیں اور اس کی روشنی کو چھپا لیں مگر اللہ کا ارادہ اس کے خلاف ہوچکا ہے، یہ تیسرا قول ہی زیادہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ میں تو صرف اپنے رب کا نام ورد زبان رکھتا ہوں اور کسی اور کی عبادت نہیں کرتا، یعنی جب دعوت حق اور توحید کی آواز ان کے کان میں پڑی جو مدتوں سے غیر مانوس و چکی تھی تو ان کفار نے ایذاء رسانی مخالفت اور تکذیب پر کمر باندھ لی حق کو مٹا دینا چاہا اور رسول اللہ ﷺ کی عداوت پر سب متحد ہوگئے اس وقت ان سے رسول ﷺ نے کہا کہ میں تو اپنے پالنے والے (وحدہ لاشریک لہ) کی عبادت میں مشغول ہوں میں اسی کی پناہ میں ہوں اسی پر میرا توکل ہے وہ ہی میرا سہارا ہے مجھ سے یہ توقع ہرگز نہ رکھو کہ میں کسی اور کے سامنے جھکوں یا اس کی پرستش کروں، میں تم جیسا انسان ہوں تمہارے نفع نقصان کا مالک میں نہیں ہوں میں تو اللہ کا ایک غلام ہوں اللہ کے بندوں میں سے ایک ہوں، تمہاری ہدایت ضلالت کا مختار ومالک میں نہیں سب چیزیں اللہ کے قبضے میں ہیں میں تو صرف پیغام رساں ہوں، اگر میں خود بھی اللہ کی معصیت کروں تو یقینا اللہ مجھے عذاب دے گا اور کسی سے نہ ہو سکے گا کہ مجھے بچا لے، مجھے کوئی پناہ کی جگہ اس کے سوا نظر ہی نہیں آتی، میری حیثیت صرف مبلغ اور رسول کی ہے، بعض تو کہتے ہیں الا کا استثنا (لا املک) سے ہے یعنی میں نفع نقصان ہدایت ضلالت کا مالک نہیں میں تو صرف تبلیغ کرنے والا پیغام پہنچانے والا ہوں اور ہوسکتا ہے کہ (لن یجیرنی) سے یہ استثناء ہو یعنی اللہ کے عذابوں سے مجھے صرف میری رسالت کی ادائیگی ہی بچا سکتی ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ 67) 5۔ المآئدہ :67) ، یعنی اے رسول تیری طرف جو تیرے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اسے پہنچا دے اور اگر تو نے یہ نہ کیا تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں سے بچا لے گا۔ نافرمان کے لئے ہمیشہ والی جہنم کی آگ ہے جس میں سے نہ نکل سکیں نہ بھاگ سکیں۔ جب یہ مشرکین جن وانس قیامت والے دن ڈراؤنے عذابوں کو دیکھ لیں گے اس وقت ظاہر ہوجائے گا کہ کمزور مددگاروں اور بےوقعت گنتی والوں میں کون کون شامل تھا ؟ یعنی مومن موحد یا یہ مشرک، حقیقت یہ ہے کہ اس دن مشرکوں کا برائے نام بھی کوئی مدد کرنے والا نہیں ہوگا اور اللہ کے لشکروں کے مقابلہ پر ان کی گنتی بھی کچھ نہ ہوگی۔
قُلْ إِنَّمَآ أَدْعُوا۟ رَبِّى وَلَآ أُشْرِكُ بِهِۦٓ أَحَدًا
Qul innamaaa ad'oo rabbee wa laaa ushriku biheee ahadaa
Say, [O Muhammad], "I only invoke my Lord and do not associate with Him anyone."
کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار ہی کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
آداب سجدہ اور جنات کا اسلام لانا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی عبادت کی جگہوں کو شرک سے پاک رکھیں، وہاں کسی دوسرے کا نام نہ پکاریں، نہ کسی اور کو اللہ کی عبادت میں شریک کریں، حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اپنے گرجوں اور کنیسوں میں جا کر اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے تھے تو اس امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ نبی بھی اور امت بھی سب توحید والے رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت کے نزول کے وقت صرف مسجد اقصیٰ تھی اور مسجد حرام، حضرت اعمش نے اس آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ جنات نےحضور ﷺ سے اجازت چاہی کہ آپ کی مسجد میں اور انسانوں کے ساتھ نماز ادا کریں، گویا ان سے کہا جا رہا ہے کہ نماز پڑھو لیکن انسانوں کے ساتھ خلط ملط نہ ہو۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں جنوں نے حضور ﷺ سے کہا کہ ہم تو دور دراز رہتے ہیں نمازوں میں آپ کی مسجد میں کیسے پہنچ سکیں گے ؟ تو انہیں کہا جاتا ہے کہ مقصود نماز کا ادا کرنا اور صرف اللہ ہی کی عبادت بجا لانا ہے خواہ کہیں ہو، حضرت عکرمہ فرماتے ہیں یہ آیت عام ہے اس میں سبھی مساجد شامل ہیں۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ آیت اعضاء سجدہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے یعنی جن اعضاء پر تم سجدہ کرتے ہو وہ سب اللہ ہی کے ہیں پس تم پر ان اعضاء سے دوسرے کے لئے سجدہ کرنا حرام ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم کیا گیا ہے، پیشانی اور ہاتھ کے اشارے سے ناک کو بھی اس میں شامل کرلیا اور دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پہنچے۔ آیت (لما قام) کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جنات نے جب حضور ﷺ کی زبانی تلاوت قرآن سنی تو اس طرح آگے بڑھ بڑھ کر عقیدت کا اظہار کرنے لگے کہ گویا ایک دوسرے کے سروں پر چڑھے چلے جاتے ہیں، دوسرا مطلب یہ ہے کہ جنات اپنی قوم سے کہہ رہے ہیں کہ حضور ﷺ کے اصحاب کی اطاعت و چاہت کی حالت یہ ہے کہ جب حضور ﷺ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں اور اصحاب پیچھے ہوتے ہیں تو برابر اطاعت و اقتداء میں آخر تک مشغول رہتے ہیں گویا ایک حلقہ ہے، تیسرا قول یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی توحید کا اعلان لوگوں میں کرتے ہیں تو کافر لوگ دانت چبا چبا کر الجھ جاتے ہیں، جنات و انسان مل جاتے ہیں کہ اس امر دین کو مٹا دیں اور اس کی روشنی کو چھپا لیں مگر اللہ کا ارادہ اس کے خلاف ہوچکا ہے، یہ تیسرا قول ہی زیادہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ میں تو صرف اپنے رب کا نام ورد زبان رکھتا ہوں اور کسی اور کی عبادت نہیں کرتا، یعنی جب دعوت حق اور توحید کی آواز ان کے کان میں پڑی جو مدتوں سے غیر مانوس و چکی تھی تو ان کفار نے ایذاء رسانی مخالفت اور تکذیب پر کمر باندھ لی حق کو مٹا دینا چاہا اور رسول اللہ ﷺ کی عداوت پر سب متحد ہوگئے اس وقت ان سے رسول ﷺ نے کہا کہ میں تو اپنے پالنے والے (وحدہ لاشریک لہ) کی عبادت میں مشغول ہوں میں اسی کی پناہ میں ہوں اسی پر میرا توکل ہے وہ ہی میرا سہارا ہے مجھ سے یہ توقع ہرگز نہ رکھو کہ میں کسی اور کے سامنے جھکوں یا اس کی پرستش کروں، میں تم جیسا انسان ہوں تمہارے نفع نقصان کا مالک میں نہیں ہوں میں تو اللہ کا ایک غلام ہوں اللہ کے بندوں میں سے ایک ہوں، تمہاری ہدایت ضلالت کا مختار ومالک میں نہیں سب چیزیں اللہ کے قبضے میں ہیں میں تو صرف پیغام رساں ہوں، اگر میں خود بھی اللہ کی معصیت کروں تو یقینا اللہ مجھے عذاب دے گا اور کسی سے نہ ہو سکے گا کہ مجھے بچا لے، مجھے کوئی پناہ کی جگہ اس کے سوا نظر ہی نہیں آتی، میری حیثیت صرف مبلغ اور رسول کی ہے، بعض تو کہتے ہیں الا کا استثنا (لا املک) سے ہے یعنی میں نفع نقصان ہدایت ضلالت کا مالک نہیں میں تو صرف تبلیغ کرنے والا پیغام پہنچانے والا ہوں اور ہوسکتا ہے کہ (لن یجیرنی) سے یہ استثناء ہو یعنی اللہ کے عذابوں سے مجھے صرف میری رسالت کی ادائیگی ہی بچا سکتی ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ 67) 5۔ المآئدہ :67) ، یعنی اے رسول تیری طرف جو تیرے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اسے پہنچا دے اور اگر تو نے یہ نہ کیا تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں سے بچا لے گا۔ نافرمان کے لئے ہمیشہ والی جہنم کی آگ ہے جس میں سے نہ نکل سکیں نہ بھاگ سکیں۔ جب یہ مشرکین جن وانس قیامت والے دن ڈراؤنے عذابوں کو دیکھ لیں گے اس وقت ظاہر ہوجائے گا کہ کمزور مددگاروں اور بےوقعت گنتی والوں میں کون کون شامل تھا ؟ یعنی مومن موحد یا یہ مشرک، حقیقت یہ ہے کہ اس دن مشرکوں کا برائے نام بھی کوئی مدد کرنے والا نہیں ہوگا اور اللہ کے لشکروں کے مقابلہ پر ان کی گنتی بھی کچھ نہ ہوگی۔
قُلْ إِنِّى لَآ أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا
Qul innee laaa amliku lakum darranw wa laa rashadaa
Say, "Indeed, I do not possess for you [the power of] harm or right direction."
(یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نقصان اور نفع کا کچھ اختیار نہیں رکھتا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
آداب سجدہ اور جنات کا اسلام لانا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی عبادت کی جگہوں کو شرک سے پاک رکھیں، وہاں کسی دوسرے کا نام نہ پکاریں، نہ کسی اور کو اللہ کی عبادت میں شریک کریں، حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اپنے گرجوں اور کنیسوں میں جا کر اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے تھے تو اس امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ نبی بھی اور امت بھی سب توحید والے رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت کے نزول کے وقت صرف مسجد اقصیٰ تھی اور مسجد حرام، حضرت اعمش نے اس آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ جنات نےحضور ﷺ سے اجازت چاہی کہ آپ کی مسجد میں اور انسانوں کے ساتھ نماز ادا کریں، گویا ان سے کہا جا رہا ہے کہ نماز پڑھو لیکن انسانوں کے ساتھ خلط ملط نہ ہو۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں جنوں نے حضور ﷺ سے کہا کہ ہم تو دور دراز رہتے ہیں نمازوں میں آپ کی مسجد میں کیسے پہنچ سکیں گے ؟ تو انہیں کہا جاتا ہے کہ مقصود نماز کا ادا کرنا اور صرف اللہ ہی کی عبادت بجا لانا ہے خواہ کہیں ہو، حضرت عکرمہ فرماتے ہیں یہ آیت عام ہے اس میں سبھی مساجد شامل ہیں۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ آیت اعضاء سجدہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے یعنی جن اعضاء پر تم سجدہ کرتے ہو وہ سب اللہ ہی کے ہیں پس تم پر ان اعضاء سے دوسرے کے لئے سجدہ کرنا حرام ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم کیا گیا ہے، پیشانی اور ہاتھ کے اشارے سے ناک کو بھی اس میں شامل کرلیا اور دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پہنچے۔ آیت (لما قام) کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جنات نے جب حضور ﷺ کی زبانی تلاوت قرآن سنی تو اس طرح آگے بڑھ بڑھ کر عقیدت کا اظہار کرنے لگے کہ گویا ایک دوسرے کے سروں پر چڑھے چلے جاتے ہیں، دوسرا مطلب یہ ہے کہ جنات اپنی قوم سے کہہ رہے ہیں کہ حضور ﷺ کے اصحاب کی اطاعت و چاہت کی حالت یہ ہے کہ جب حضور ﷺ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں اور اصحاب پیچھے ہوتے ہیں تو برابر اطاعت و اقتداء میں آخر تک مشغول رہتے ہیں گویا ایک حلقہ ہے، تیسرا قول یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی توحید کا اعلان لوگوں میں کرتے ہیں تو کافر لوگ دانت چبا چبا کر الجھ جاتے ہیں، جنات و انسان مل جاتے ہیں کہ اس امر دین کو مٹا دیں اور اس کی روشنی کو چھپا لیں مگر اللہ کا ارادہ اس کے خلاف ہوچکا ہے، یہ تیسرا قول ہی زیادہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ میں تو صرف اپنے رب کا نام ورد زبان رکھتا ہوں اور کسی اور کی عبادت نہیں کرتا، یعنی جب دعوت حق اور توحید کی آواز ان کے کان میں پڑی جو مدتوں سے غیر مانوس و چکی تھی تو ان کفار نے ایذاء رسانی مخالفت اور تکذیب پر کمر باندھ لی حق کو مٹا دینا چاہا اور رسول اللہ ﷺ کی عداوت پر سب متحد ہوگئے اس وقت ان سے رسول ﷺ نے کہا کہ میں تو اپنے پالنے والے (وحدہ لاشریک لہ) کی عبادت میں مشغول ہوں میں اسی کی پناہ میں ہوں اسی پر میرا توکل ہے وہ ہی میرا سہارا ہے مجھ سے یہ توقع ہرگز نہ رکھو کہ میں کسی اور کے سامنے جھکوں یا اس کی پرستش کروں، میں تم جیسا انسان ہوں تمہارے نفع نقصان کا مالک میں نہیں ہوں میں تو اللہ کا ایک غلام ہوں اللہ کے بندوں میں سے ایک ہوں، تمہاری ہدایت ضلالت کا مختار ومالک میں نہیں سب چیزیں اللہ کے قبضے میں ہیں میں تو صرف پیغام رساں ہوں، اگر میں خود بھی اللہ کی معصیت کروں تو یقینا اللہ مجھے عذاب دے گا اور کسی سے نہ ہو سکے گا کہ مجھے بچا لے، مجھے کوئی پناہ کی جگہ اس کے سوا نظر ہی نہیں آتی، میری حیثیت صرف مبلغ اور رسول کی ہے، بعض تو کہتے ہیں الا کا استثنا (لا املک) سے ہے یعنی میں نفع نقصان ہدایت ضلالت کا مالک نہیں میں تو صرف تبلیغ کرنے والا پیغام پہنچانے والا ہوں اور ہوسکتا ہے کہ (لن یجیرنی) سے یہ استثناء ہو یعنی اللہ کے عذابوں سے مجھے صرف میری رسالت کی ادائیگی ہی بچا سکتی ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ 67) 5۔ المآئدہ :67) ، یعنی اے رسول تیری طرف جو تیرے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اسے پہنچا دے اور اگر تو نے یہ نہ کیا تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں سے بچا لے گا۔ نافرمان کے لئے ہمیشہ والی جہنم کی آگ ہے جس میں سے نہ نکل سکیں نہ بھاگ سکیں۔ جب یہ مشرکین جن وانس قیامت والے دن ڈراؤنے عذابوں کو دیکھ لیں گے اس وقت ظاہر ہوجائے گا کہ کمزور مددگاروں اور بےوقعت گنتی والوں میں کون کون شامل تھا ؟ یعنی مومن موحد یا یہ مشرک، حقیقت یہ ہے کہ اس دن مشرکوں کا برائے نام بھی کوئی مدد کرنے والا نہیں ہوگا اور اللہ کے لشکروں کے مقابلہ پر ان کی گنتی بھی کچھ نہ ہوگی۔
قُلْ إِنِّى لَن يُجِيرَنِى مِنَ ٱللَّهِ أَحَدٌ وَلَنْ أَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلْتَحَدًا
Qul innee lany yujeeranee minal laahi ahad, wa lan ajida min doonihee multahadaa
Say, "Indeed, there will never protect me from Allah anyone [if I should disobey], nor will I find in other than Him a refuge.
(یہ بھی) کہہ دو کہ خدا (کے عذاب) سے مجھے کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ اور میں اس کے سوا کہیں جائے پناہ نہیں دیکھتا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
آداب سجدہ اور جنات کا اسلام لانا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی عبادت کی جگہوں کو شرک سے پاک رکھیں، وہاں کسی دوسرے کا نام نہ پکاریں، نہ کسی اور کو اللہ کی عبادت میں شریک کریں، حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اپنے گرجوں اور کنیسوں میں جا کر اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے تھے تو اس امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ نبی بھی اور امت بھی سب توحید والے رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت کے نزول کے وقت صرف مسجد اقصیٰ تھی اور مسجد حرام، حضرت اعمش نے اس آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ جنات نےحضور ﷺ سے اجازت چاہی کہ آپ کی مسجد میں اور انسانوں کے ساتھ نماز ادا کریں، گویا ان سے کہا جا رہا ہے کہ نماز پڑھو لیکن انسانوں کے ساتھ خلط ملط نہ ہو۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں جنوں نے حضور ﷺ سے کہا کہ ہم تو دور دراز رہتے ہیں نمازوں میں آپ کی مسجد میں کیسے پہنچ سکیں گے ؟ تو انہیں کہا جاتا ہے کہ مقصود نماز کا ادا کرنا اور صرف اللہ ہی کی عبادت بجا لانا ہے خواہ کہیں ہو، حضرت عکرمہ فرماتے ہیں یہ آیت عام ہے اس میں سبھی مساجد شامل ہیں۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ آیت اعضاء سجدہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے یعنی جن اعضاء پر تم سجدہ کرتے ہو وہ سب اللہ ہی کے ہیں پس تم پر ان اعضاء سے دوسرے کے لئے سجدہ کرنا حرام ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم کیا گیا ہے، پیشانی اور ہاتھ کے اشارے سے ناک کو بھی اس میں شامل کرلیا اور دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پہنچے۔ آیت (لما قام) کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جنات نے جب حضور ﷺ کی زبانی تلاوت قرآن سنی تو اس طرح آگے بڑھ بڑھ کر عقیدت کا اظہار کرنے لگے کہ گویا ایک دوسرے کے سروں پر چڑھے چلے جاتے ہیں، دوسرا مطلب یہ ہے کہ جنات اپنی قوم سے کہہ رہے ہیں کہ حضور ﷺ کے اصحاب کی اطاعت و چاہت کی حالت یہ ہے کہ جب حضور ﷺ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں اور اصحاب پیچھے ہوتے ہیں تو برابر اطاعت و اقتداء میں آخر تک مشغول رہتے ہیں گویا ایک حلقہ ہے، تیسرا قول یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی توحید کا اعلان لوگوں میں کرتے ہیں تو کافر لوگ دانت چبا چبا کر الجھ جاتے ہیں، جنات و انسان مل جاتے ہیں کہ اس امر دین کو مٹا دیں اور اس کی روشنی کو چھپا لیں مگر اللہ کا ارادہ اس کے خلاف ہوچکا ہے، یہ تیسرا قول ہی زیادہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ میں تو صرف اپنے رب کا نام ورد زبان رکھتا ہوں اور کسی اور کی عبادت نہیں کرتا، یعنی جب دعوت حق اور توحید کی آواز ان کے کان میں پڑی جو مدتوں سے غیر مانوس و چکی تھی تو ان کفار نے ایذاء رسانی مخالفت اور تکذیب پر کمر باندھ لی حق کو مٹا دینا چاہا اور رسول اللہ ﷺ کی عداوت پر سب متحد ہوگئے اس وقت ان سے رسول ﷺ نے کہا کہ میں تو اپنے پالنے والے (وحدہ لاشریک لہ) کی عبادت میں مشغول ہوں میں اسی کی پناہ میں ہوں اسی پر میرا توکل ہے وہ ہی میرا سہارا ہے مجھ سے یہ توقع ہرگز نہ رکھو کہ میں کسی اور کے سامنے جھکوں یا اس کی پرستش کروں، میں تم جیسا انسان ہوں تمہارے نفع نقصان کا مالک میں نہیں ہوں میں تو اللہ کا ایک غلام ہوں اللہ کے بندوں میں سے ایک ہوں، تمہاری ہدایت ضلالت کا مختار ومالک میں نہیں سب چیزیں اللہ کے قبضے میں ہیں میں تو صرف پیغام رساں ہوں، اگر میں خود بھی اللہ کی معصیت کروں تو یقینا اللہ مجھے عذاب دے گا اور کسی سے نہ ہو سکے گا کہ مجھے بچا لے، مجھے کوئی پناہ کی جگہ اس کے سوا نظر ہی نہیں آتی، میری حیثیت صرف مبلغ اور رسول کی ہے، بعض تو کہتے ہیں الا کا استثنا (لا املک) سے ہے یعنی میں نفع نقصان ہدایت ضلالت کا مالک نہیں میں تو صرف تبلیغ کرنے والا پیغام پہنچانے والا ہوں اور ہوسکتا ہے کہ (لن یجیرنی) سے یہ استثناء ہو یعنی اللہ کے عذابوں سے مجھے صرف میری رسالت کی ادائیگی ہی بچا سکتی ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ 67) 5۔ المآئدہ :67) ، یعنی اے رسول تیری طرف جو تیرے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اسے پہنچا دے اور اگر تو نے یہ نہ کیا تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں سے بچا لے گا۔ نافرمان کے لئے ہمیشہ والی جہنم کی آگ ہے جس میں سے نہ نکل سکیں نہ بھاگ سکیں۔ جب یہ مشرکین جن وانس قیامت والے دن ڈراؤنے عذابوں کو دیکھ لیں گے اس وقت ظاہر ہوجائے گا کہ کمزور مددگاروں اور بےوقعت گنتی والوں میں کون کون شامل تھا ؟ یعنی مومن موحد یا یہ مشرک، حقیقت یہ ہے کہ اس دن مشرکوں کا برائے نام بھی کوئی مدد کرنے والا نہیں ہوگا اور اللہ کے لشکروں کے مقابلہ پر ان کی گنتی بھی کچھ نہ ہوگی۔
إِلَّا بَلَٰغًا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِسَٰلَٰتِهِۦ وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَإِنَّ لَهُۥ نَارَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا
Illaa balaagham minal laahi wa risaalaatih; wa many ya'sil laaha wa rasoolahoo fa inna lahoo naara jahannama khaalideena feehaaa abadaa
But [I have for you] only notification from Allah, and His messages." And whoever disobeys Allah and His Messenger - then indeed, for him is the fire of Hell; they will abide therein forever.
ہاں خدا کی طرف سے احکام کا اور اس کے پیغاموں کا پہنچا دینا (ہی) میرے ذمے ہے۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا تو ایسوں کے لئے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
آداب سجدہ اور جنات کا اسلام لانا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی عبادت کی جگہوں کو شرک سے پاک رکھیں، وہاں کسی دوسرے کا نام نہ پکاریں، نہ کسی اور کو اللہ کی عبادت میں شریک کریں، حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اپنے گرجوں اور کنیسوں میں جا کر اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے تھے تو اس امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ نبی بھی اور امت بھی سب توحید والے رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت کے نزول کے وقت صرف مسجد اقصیٰ تھی اور مسجد حرام، حضرت اعمش نے اس آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ جنات نےحضور ﷺ سے اجازت چاہی کہ آپ کی مسجد میں اور انسانوں کے ساتھ نماز ادا کریں، گویا ان سے کہا جا رہا ہے کہ نماز پڑھو لیکن انسانوں کے ساتھ خلط ملط نہ ہو۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں جنوں نے حضور ﷺ سے کہا کہ ہم تو دور دراز رہتے ہیں نمازوں میں آپ کی مسجد میں کیسے پہنچ سکیں گے ؟ تو انہیں کہا جاتا ہے کہ مقصود نماز کا ادا کرنا اور صرف اللہ ہی کی عبادت بجا لانا ہے خواہ کہیں ہو، حضرت عکرمہ فرماتے ہیں یہ آیت عام ہے اس میں سبھی مساجد شامل ہیں۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ آیت اعضاء سجدہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے یعنی جن اعضاء پر تم سجدہ کرتے ہو وہ سب اللہ ہی کے ہیں پس تم پر ان اعضاء سے دوسرے کے لئے سجدہ کرنا حرام ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم کیا گیا ہے، پیشانی اور ہاتھ کے اشارے سے ناک کو بھی اس میں شامل کرلیا اور دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پہنچے۔ آیت (لما قام) کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جنات نے جب حضور ﷺ کی زبانی تلاوت قرآن سنی تو اس طرح آگے بڑھ بڑھ کر عقیدت کا اظہار کرنے لگے کہ گویا ایک دوسرے کے سروں پر چڑھے چلے جاتے ہیں، دوسرا مطلب یہ ہے کہ جنات اپنی قوم سے کہہ رہے ہیں کہ حضور ﷺ کے اصحاب کی اطاعت و چاہت کی حالت یہ ہے کہ جب حضور ﷺ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں اور اصحاب پیچھے ہوتے ہیں تو برابر اطاعت و اقتداء میں آخر تک مشغول رہتے ہیں گویا ایک حلقہ ہے، تیسرا قول یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی توحید کا اعلان لوگوں میں کرتے ہیں تو کافر لوگ دانت چبا چبا کر الجھ جاتے ہیں، جنات و انسان مل جاتے ہیں کہ اس امر دین کو مٹا دیں اور اس کی روشنی کو چھپا لیں مگر اللہ کا ارادہ اس کے خلاف ہوچکا ہے، یہ تیسرا قول ہی زیادہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ میں تو صرف اپنے رب کا نام ورد زبان رکھتا ہوں اور کسی اور کی عبادت نہیں کرتا، یعنی جب دعوت حق اور توحید کی آواز ان کے کان میں پڑی جو مدتوں سے غیر مانوس و چکی تھی تو ان کفار نے ایذاء رسانی مخالفت اور تکذیب پر کمر باندھ لی حق کو مٹا دینا چاہا اور رسول اللہ ﷺ کی عداوت پر سب متحد ہوگئے اس وقت ان سے رسول ﷺ نے کہا کہ میں تو اپنے پالنے والے (وحدہ لاشریک لہ) کی عبادت میں مشغول ہوں میں اسی کی پناہ میں ہوں اسی پر میرا توکل ہے وہ ہی میرا سہارا ہے مجھ سے یہ توقع ہرگز نہ رکھو کہ میں کسی اور کے سامنے جھکوں یا اس کی پرستش کروں، میں تم جیسا انسان ہوں تمہارے نفع نقصان کا مالک میں نہیں ہوں میں تو اللہ کا ایک غلام ہوں اللہ کے بندوں میں سے ایک ہوں، تمہاری ہدایت ضلالت کا مختار ومالک میں نہیں سب چیزیں اللہ کے قبضے میں ہیں میں تو صرف پیغام رساں ہوں، اگر میں خود بھی اللہ کی معصیت کروں تو یقینا اللہ مجھے عذاب دے گا اور کسی سے نہ ہو سکے گا کہ مجھے بچا لے، مجھے کوئی پناہ کی جگہ اس کے سوا نظر ہی نہیں آتی، میری حیثیت صرف مبلغ اور رسول کی ہے، بعض تو کہتے ہیں الا کا استثنا (لا املک) سے ہے یعنی میں نفع نقصان ہدایت ضلالت کا مالک نہیں میں تو صرف تبلیغ کرنے والا پیغام پہنچانے والا ہوں اور ہوسکتا ہے کہ (لن یجیرنی) سے یہ استثناء ہو یعنی اللہ کے عذابوں سے مجھے صرف میری رسالت کی ادائیگی ہی بچا سکتی ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ 67) 5۔ المآئدہ :67) ، یعنی اے رسول تیری طرف جو تیرے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اسے پہنچا دے اور اگر تو نے یہ نہ کیا تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں سے بچا لے گا۔ نافرمان کے لئے ہمیشہ والی جہنم کی آگ ہے جس میں سے نہ نکل سکیں نہ بھاگ سکیں۔ جب یہ مشرکین جن وانس قیامت والے دن ڈراؤنے عذابوں کو دیکھ لیں گے اس وقت ظاہر ہوجائے گا کہ کمزور مددگاروں اور بےوقعت گنتی والوں میں کون کون شامل تھا ؟ یعنی مومن موحد یا یہ مشرک، حقیقت یہ ہے کہ اس دن مشرکوں کا برائے نام بھی کوئی مدد کرنے والا نہیں ہوگا اور اللہ کے لشکروں کے مقابلہ پر ان کی گنتی بھی کچھ نہ ہوگی۔
حَتَّىٰٓ إِذَا رَأَوْا۟ مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ أَضْعَفُ نَاصِرًا وَأَقَلُّ عَدَدًا
Hattaaa izaa ra aw maa yoo'adoona fasaya'lamoona man ad'afu naasiranw wa aqallu 'adadaa
[The disbelievers continue] until, when they see that which they are promised, then they will know who is weaker in helpers and less in number.
یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ (دن) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب ان کو معلوم ہو جائے گا کہ مددگار کس کے کمزور اور شمار کن کا تھوڑا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
آداب سجدہ اور جنات کا اسلام لانا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی عبادت کی جگہوں کو شرک سے پاک رکھیں، وہاں کسی دوسرے کا نام نہ پکاریں، نہ کسی اور کو اللہ کی عبادت میں شریک کریں، حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اپنے گرجوں اور کنیسوں میں جا کر اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے تھے تو اس امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ نبی بھی اور امت بھی سب توحید والے رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت کے نزول کے وقت صرف مسجد اقصیٰ تھی اور مسجد حرام، حضرت اعمش نے اس آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ جنات نےحضور ﷺ سے اجازت چاہی کہ آپ کی مسجد میں اور انسانوں کے ساتھ نماز ادا کریں، گویا ان سے کہا جا رہا ہے کہ نماز پڑھو لیکن انسانوں کے ساتھ خلط ملط نہ ہو۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں جنوں نے حضور ﷺ سے کہا کہ ہم تو دور دراز رہتے ہیں نمازوں میں آپ کی مسجد میں کیسے پہنچ سکیں گے ؟ تو انہیں کہا جاتا ہے کہ مقصود نماز کا ادا کرنا اور صرف اللہ ہی کی عبادت بجا لانا ہے خواہ کہیں ہو، حضرت عکرمہ فرماتے ہیں یہ آیت عام ہے اس میں سبھی مساجد شامل ہیں۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ آیت اعضاء سجدہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے یعنی جن اعضاء پر تم سجدہ کرتے ہو وہ سب اللہ ہی کے ہیں پس تم پر ان اعضاء سے دوسرے کے لئے سجدہ کرنا حرام ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم کیا گیا ہے، پیشانی اور ہاتھ کے اشارے سے ناک کو بھی اس میں شامل کرلیا اور دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پہنچے۔ آیت (لما قام) کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جنات نے جب حضور ﷺ کی زبانی تلاوت قرآن سنی تو اس طرح آگے بڑھ بڑھ کر عقیدت کا اظہار کرنے لگے کہ گویا ایک دوسرے کے سروں پر چڑھے چلے جاتے ہیں، دوسرا مطلب یہ ہے کہ جنات اپنی قوم سے کہہ رہے ہیں کہ حضور ﷺ کے اصحاب کی اطاعت و چاہت کی حالت یہ ہے کہ جب حضور ﷺ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں اور اصحاب پیچھے ہوتے ہیں تو برابر اطاعت و اقتداء میں آخر تک مشغول رہتے ہیں گویا ایک حلقہ ہے، تیسرا قول یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی توحید کا اعلان لوگوں میں کرتے ہیں تو کافر لوگ دانت چبا چبا کر الجھ جاتے ہیں، جنات و انسان مل جاتے ہیں کہ اس امر دین کو مٹا دیں اور اس کی روشنی کو چھپا لیں مگر اللہ کا ارادہ اس کے خلاف ہوچکا ہے، یہ تیسرا قول ہی زیادہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ میں تو صرف اپنے رب کا نام ورد زبان رکھتا ہوں اور کسی اور کی عبادت نہیں کرتا، یعنی جب دعوت حق اور توحید کی آواز ان کے کان میں پڑی جو مدتوں سے غیر مانوس و چکی تھی تو ان کفار نے ایذاء رسانی مخالفت اور تکذیب پر کمر باندھ لی حق کو مٹا دینا چاہا اور رسول اللہ ﷺ کی عداوت پر سب متحد ہوگئے اس وقت ان سے رسول ﷺ نے کہا کہ میں تو اپنے پالنے والے (وحدہ لاشریک لہ) کی عبادت میں مشغول ہوں میں اسی کی پناہ میں ہوں اسی پر میرا توکل ہے وہ ہی میرا سہارا ہے مجھ سے یہ توقع ہرگز نہ رکھو کہ میں کسی اور کے سامنے جھکوں یا اس کی پرستش کروں، میں تم جیسا انسان ہوں تمہارے نفع نقصان کا مالک میں نہیں ہوں میں تو اللہ کا ایک غلام ہوں اللہ کے بندوں میں سے ایک ہوں، تمہاری ہدایت ضلالت کا مختار ومالک میں نہیں سب چیزیں اللہ کے قبضے میں ہیں میں تو صرف پیغام رساں ہوں، اگر میں خود بھی اللہ کی معصیت کروں تو یقینا اللہ مجھے عذاب دے گا اور کسی سے نہ ہو سکے گا کہ مجھے بچا لے، مجھے کوئی پناہ کی جگہ اس کے سوا نظر ہی نہیں آتی، میری حیثیت صرف مبلغ اور رسول کی ہے، بعض تو کہتے ہیں الا کا استثنا (لا املک) سے ہے یعنی میں نفع نقصان ہدایت ضلالت کا مالک نہیں میں تو صرف تبلیغ کرنے والا پیغام پہنچانے والا ہوں اور ہوسکتا ہے کہ (لن یجیرنی) سے یہ استثناء ہو یعنی اللہ کے عذابوں سے مجھے صرف میری رسالت کی ادائیگی ہی بچا سکتی ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ 67) 5۔ المآئدہ :67) ، یعنی اے رسول تیری طرف جو تیرے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اسے پہنچا دے اور اگر تو نے یہ نہ کیا تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں سے بچا لے گا۔ نافرمان کے لئے ہمیشہ والی جہنم کی آگ ہے جس میں سے نہ نکل سکیں نہ بھاگ سکیں۔ جب یہ مشرکین جن وانس قیامت والے دن ڈراؤنے عذابوں کو دیکھ لیں گے اس وقت ظاہر ہوجائے گا کہ کمزور مددگاروں اور بےوقعت گنتی والوں میں کون کون شامل تھا ؟ یعنی مومن موحد یا یہ مشرک، حقیقت یہ ہے کہ اس دن مشرکوں کا برائے نام بھی کوئی مدد کرنے والا نہیں ہوگا اور اللہ کے لشکروں کے مقابلہ پر ان کی گنتی بھی کچھ نہ ہوگی۔
قُلْ إِنْ أَدْرِىٓ أَقَرِيبٌ مَّا تُوعَدُونَ أَمْ يَجْعَلُ لَهُۥ رَبِّىٓ أَمَدًا
Qul in adreee a qareebum maa too'adoona am yaj'alu lahoo rabbeee amadaa
Say, "I do not know if what you are promised is near or if my Lord will grant for it a [long] period."
کہہ دو کہ جس (دن) کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے میں نہیں جانتا کہ وہ (عن) قریب (آنے والا ہے) یا میرے پروردگار نے اس کی مدت دراز کر دی ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اللہ کے سوا قیامت کب ہوگی کسی کو نہیں معلوم اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں سے کہہ دیں کہ قیامت کب ہوگی، اس کا علم مجھے نہیں، بلکہ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کا وقت قریب ہے یا دور ہے اور لمبی مدت کے بعد آنے والی ہے، اس آیت کریمہ میں دلیل ہے اس امر کی کہ اکثر جاہلوں میں جو مشہور ہے کہ حضور ﷺ زمین کی اندر کی چیزوں کا بھی علم رکھتے ہیں وہ بالکل غلط ہے اس روایت کی کوئی اصل نہیں محض جھوٹ ہے اور بالکل بےاصل روایت ہے ہم نے تو اسے کسی کتاب میں نہیں پایا، ہاں اس کے خلاف صاف ثابت ہے حضور ﷺ سے قیامت کے قائم ہونے کا وقت پوچھا جاتا تھا اور آپ اس کی معین وقت سے اپنی لاعلمی ظاہر کرتے تھے، اعرابی کی صورت میں حضرت جبرائیل ؑ نے بھی آ کر جب قیامت کے بارے میں سوال کیا تھا تو آپ نے صاف فرمایا تھا کہ اس کا علم نہ پوچھنے والے کو ہے نہ اسے جس سے پوچھا جا رہا ہے، ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک دیہات کے رہنے والے نے با آواز بلند آپ سے دریافت کیا کہ حضور ﷺ قیامت کب آئے گی ؟ آپ نے فرمایا وہ آئے گی ضرور مگر یہ بتا کہ تو نے اس کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا میرے پاس روزے نماز کی اکثرت تو نہیں البتہ رسول اللہ ﷺ کی محبت ہے آپ نے فرمایا پھر تو اس کے ساتھ ہوگا جس کی تجھے محبت ہے، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں مسلمان کسی حدیث سے اس قدر خوش نہیں ہوئے جتنے اس حدیث سے، اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ قیامت کا ٹھیک وقت آپ کو معلوم نہ تھا، ابن ابی حاتم میں ہے کہ آپ نے فرمایا اے لوگو اگر تم میں علم ہے تو اپنے تئیں مردوں میں شمار کیا کرو اللہ کی قسم جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ یقیناً ایک وقت آنے والی ہے، یہاں بھی آپ کوئی مقررہ وقت نہیں بتاتے، ابو داؤد میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امت کو کیا عجب کہ آدھے دن تک کی مہلت دے دے اور روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ حضرت سعد سے پوچھا گیا کہ آدھے دن سے کیا مراد ہے فرمایا پانچ سو سال۔ پھر فرماتا ہے اللہ عالم الغیب ہے وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر مرسلین میں سے جسے چن لے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ02505) 2۔ البقرة :255) یعنی اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جو اللہ چاہے۔ یعنی رسول خواہ انسانوں میں سے ہوں خواہ فرشتوں میں سے ہوں جسے اللہ جتنا چاہتا ہے بتادیتا ہے بس وہ اتنا ہی جانتے ہیں۔ پھر اس کی مزید تخصیص یہ ہوتی ہے کہ اس کی حفاظت اور ساتھ ہی اس علم کی اشاعت کے لئے جو اللہ نے اسے دیا ہے اس کے آس پاس ہر وقت نگہبان فرشتے مقرر رہتے ہیں۔ لیعلم کی ضمیر بعض نے تو کہا ہے کہ نبی ﷺ کی طرف ہے یعنی حضرت جبرائیل کے آگے پیچھے چار چار فرشتے ہوتے تھے تاکہ حضور ﷺ کو یقین آجائے کہ انہوں نے اپنے رب کا پیغام صحیح طور پر مجھے پہنچایا ہے اور بعض کہتے ہیں مرجع ضمیر کا اہل شرک ہے یعنی باری باری آنے والے فرشتے نبی اللہ کی حفاظت کرتے ہیں شیطان سے اور اس کی ذریات سے تاکہ اہل شرک جان لیں کہ رسولوں نے رسالت اللہ ادا کردی، یعنی رسولوں کو جھٹلانے والے بھی رسولوں کی رسالت کو جان لیں مگر اس میں کچھ اختلاف ہے۔ یعقوب کی قرأت پیش کے ساتھ ہے یعنی لوگ جان لیں کہ رسولوں نے تبلیغ کردی اور ممکن ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اللہ تعالیٰ جان لے یعنی وہ اپنے رسولوں کی اپنے فرشتے بھیج کر حفاظت کرتا ہے تاکہ وہ رسالت ادا کرسکیں اور وحی الٰہی محفوظ رکھ سکیں اور اللہ جان لے کہ انہوں نے رسالت ادا کردی جیسے فرمایا آیت (وما جعلنا القبلتہ التی کنت علیھا) یعنی جس قبیلے پر تو تھا اسے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے سچے تابعداروں اور مرتدوں کو جان لیں اور جگہ ہے آیت (وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ 11) 29۔ العنکبوت :11) یعنی اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو اور منافقوں کو برابر جان لے گا اور بھی اس قسم کی آیتیں ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ پہلے ہی سے جانتا ہے لیکن اسے ظاہر کر کے بھی جان لیتا ہے، اسی لئے یہاں اس کے بعد ہی فرمایا کہ ہر چیز اور سب کی گنتی اللہ کے علم کے احاطہ میں ہے۔ الحمد اللہ سورة جن کی تفسیر ختم ہوئی۔
عَٰلِمُ ٱلْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِۦٓ أَحَدًا
'Aalimul ghaibi falaa yuzhiru alaa ghaibiheee ahadaa
[He is] Knower of the unseen, and He does not disclose His [knowledge of the] unseen to anyone
غیب (کی بات) جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اللہ کے سوا قیامت کب ہوگی کسی کو نہیں معلوم اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں سے کہہ دیں کہ قیامت کب ہوگی، اس کا علم مجھے نہیں، بلکہ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کا وقت قریب ہے یا دور ہے اور لمبی مدت کے بعد آنے والی ہے، اس آیت کریمہ میں دلیل ہے اس امر کی کہ اکثر جاہلوں میں جو مشہور ہے کہ حضور ﷺ زمین کی اندر کی چیزوں کا بھی علم رکھتے ہیں وہ بالکل غلط ہے اس روایت کی کوئی اصل نہیں محض جھوٹ ہے اور بالکل بےاصل روایت ہے ہم نے تو اسے کسی کتاب میں نہیں پایا، ہاں اس کے خلاف صاف ثابت ہے حضور ﷺ سے قیامت کے قائم ہونے کا وقت پوچھا جاتا تھا اور آپ اس کی معین وقت سے اپنی لاعلمی ظاہر کرتے تھے، اعرابی کی صورت میں حضرت جبرائیل ؑ نے بھی آ کر جب قیامت کے بارے میں سوال کیا تھا تو آپ نے صاف فرمایا تھا کہ اس کا علم نہ پوچھنے والے کو ہے نہ اسے جس سے پوچھا جا رہا ہے، ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک دیہات کے رہنے والے نے با آواز بلند آپ سے دریافت کیا کہ حضور ﷺ قیامت کب آئے گی ؟ آپ نے فرمایا وہ آئے گی ضرور مگر یہ بتا کہ تو نے اس کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا میرے پاس روزے نماز کی اکثرت تو نہیں البتہ رسول اللہ ﷺ کی محبت ہے آپ نے فرمایا پھر تو اس کے ساتھ ہوگا جس کی تجھے محبت ہے، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں مسلمان کسی حدیث سے اس قدر خوش نہیں ہوئے جتنے اس حدیث سے، اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ قیامت کا ٹھیک وقت آپ کو معلوم نہ تھا، ابن ابی حاتم میں ہے کہ آپ نے فرمایا اے لوگو اگر تم میں علم ہے تو اپنے تئیں مردوں میں شمار کیا کرو اللہ کی قسم جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ یقیناً ایک وقت آنے والی ہے، یہاں بھی آپ کوئی مقررہ وقت نہیں بتاتے، ابو داؤد میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امت کو کیا عجب کہ آدھے دن تک کی مہلت دے دے اور روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ حضرت سعد سے پوچھا گیا کہ آدھے دن سے کیا مراد ہے فرمایا پانچ سو سال۔ پھر فرماتا ہے اللہ عالم الغیب ہے وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر مرسلین میں سے جسے چن لے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ02505) 2۔ البقرة :255) یعنی اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جو اللہ چاہے۔ یعنی رسول خواہ انسانوں میں سے ہوں خواہ فرشتوں میں سے ہوں جسے اللہ جتنا چاہتا ہے بتادیتا ہے بس وہ اتنا ہی جانتے ہیں۔ پھر اس کی مزید تخصیص یہ ہوتی ہے کہ اس کی حفاظت اور ساتھ ہی اس علم کی اشاعت کے لئے جو اللہ نے اسے دیا ہے اس کے آس پاس ہر وقت نگہبان فرشتے مقرر رہتے ہیں۔ لیعلم کی ضمیر بعض نے تو کہا ہے کہ نبی ﷺ کی طرف ہے یعنی حضرت جبرائیل کے آگے پیچھے چار چار فرشتے ہوتے تھے تاکہ حضور ﷺ کو یقین آجائے کہ انہوں نے اپنے رب کا پیغام صحیح طور پر مجھے پہنچایا ہے اور بعض کہتے ہیں مرجع ضمیر کا اہل شرک ہے یعنی باری باری آنے والے فرشتے نبی اللہ کی حفاظت کرتے ہیں شیطان سے اور اس کی ذریات سے تاکہ اہل شرک جان لیں کہ رسولوں نے رسالت اللہ ادا کردی، یعنی رسولوں کو جھٹلانے والے بھی رسولوں کی رسالت کو جان لیں مگر اس میں کچھ اختلاف ہے۔ یعقوب کی قرأت پیش کے ساتھ ہے یعنی لوگ جان لیں کہ رسولوں نے تبلیغ کردی اور ممکن ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اللہ تعالیٰ جان لے یعنی وہ اپنے رسولوں کی اپنے فرشتے بھیج کر حفاظت کرتا ہے تاکہ وہ رسالت ادا کرسکیں اور وحی الٰہی محفوظ رکھ سکیں اور اللہ جان لے کہ انہوں نے رسالت ادا کردی جیسے فرمایا آیت (وما جعلنا القبلتہ التی کنت علیھا) یعنی جس قبیلے پر تو تھا اسے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے سچے تابعداروں اور مرتدوں کو جان لیں اور جگہ ہے آیت (وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ 11) 29۔ العنکبوت :11) یعنی اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو اور منافقوں کو برابر جان لے گا اور بھی اس قسم کی آیتیں ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ پہلے ہی سے جانتا ہے لیکن اسے ظاہر کر کے بھی جان لیتا ہے، اسی لئے یہاں اس کے بعد ہی فرمایا کہ ہر چیز اور سب کی گنتی اللہ کے علم کے احاطہ میں ہے۔ الحمد اللہ سورة جن کی تفسیر ختم ہوئی۔
إِلَّا مَنِ ٱرْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُۥ يَسْلُكُ مِنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦ رَصَدًا
Illaa manir tadaa mir rasoolin fa innahoo yasluku mim baini yadihi wa min khalfihee rasadaa
Except whom He has approved of messengers, and indeed, He sends before each messenger and behind him observers
ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے تو اس (کو غیب کی باتیں بتا دیتا اور اس) کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر کر دیتا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اللہ کے سوا قیامت کب ہوگی کسی کو نہیں معلوم اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں سے کہہ دیں کہ قیامت کب ہوگی، اس کا علم مجھے نہیں، بلکہ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کا وقت قریب ہے یا دور ہے اور لمبی مدت کے بعد آنے والی ہے، اس آیت کریمہ میں دلیل ہے اس امر کی کہ اکثر جاہلوں میں جو مشہور ہے کہ حضور ﷺ زمین کی اندر کی چیزوں کا بھی علم رکھتے ہیں وہ بالکل غلط ہے اس روایت کی کوئی اصل نہیں محض جھوٹ ہے اور بالکل بےاصل روایت ہے ہم نے تو اسے کسی کتاب میں نہیں پایا، ہاں اس کے خلاف صاف ثابت ہے حضور ﷺ سے قیامت کے قائم ہونے کا وقت پوچھا جاتا تھا اور آپ اس کی معین وقت سے اپنی لاعلمی ظاہر کرتے تھے، اعرابی کی صورت میں حضرت جبرائیل ؑ نے بھی آ کر جب قیامت کے بارے میں سوال کیا تھا تو آپ نے صاف فرمایا تھا کہ اس کا علم نہ پوچھنے والے کو ہے نہ اسے جس سے پوچھا جا رہا ہے، ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک دیہات کے رہنے والے نے با آواز بلند آپ سے دریافت کیا کہ حضور ﷺ قیامت کب آئے گی ؟ آپ نے فرمایا وہ آئے گی ضرور مگر یہ بتا کہ تو نے اس کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا میرے پاس روزے نماز کی اکثرت تو نہیں البتہ رسول اللہ ﷺ کی محبت ہے آپ نے فرمایا پھر تو اس کے ساتھ ہوگا جس کی تجھے محبت ہے، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں مسلمان کسی حدیث سے اس قدر خوش نہیں ہوئے جتنے اس حدیث سے، اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ قیامت کا ٹھیک وقت آپ کو معلوم نہ تھا، ابن ابی حاتم میں ہے کہ آپ نے فرمایا اے لوگو اگر تم میں علم ہے تو اپنے تئیں مردوں میں شمار کیا کرو اللہ کی قسم جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ یقیناً ایک وقت آنے والی ہے، یہاں بھی آپ کوئی مقررہ وقت نہیں بتاتے، ابو داؤد میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امت کو کیا عجب کہ آدھے دن تک کی مہلت دے دے اور روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ حضرت سعد سے پوچھا گیا کہ آدھے دن سے کیا مراد ہے فرمایا پانچ سو سال۔ پھر فرماتا ہے اللہ عالم الغیب ہے وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر مرسلین میں سے جسے چن لے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ02505) 2۔ البقرة :255) یعنی اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جو اللہ چاہے۔ یعنی رسول خواہ انسانوں میں سے ہوں خواہ فرشتوں میں سے ہوں جسے اللہ جتنا چاہتا ہے بتادیتا ہے بس وہ اتنا ہی جانتے ہیں۔ پھر اس کی مزید تخصیص یہ ہوتی ہے کہ اس کی حفاظت اور ساتھ ہی اس علم کی اشاعت کے لئے جو اللہ نے اسے دیا ہے اس کے آس پاس ہر وقت نگہبان فرشتے مقرر رہتے ہیں۔ لیعلم کی ضمیر بعض نے تو کہا ہے کہ نبی ﷺ کی طرف ہے یعنی حضرت جبرائیل کے آگے پیچھے چار چار فرشتے ہوتے تھے تاکہ حضور ﷺ کو یقین آجائے کہ انہوں نے اپنے رب کا پیغام صحیح طور پر مجھے پہنچایا ہے اور بعض کہتے ہیں مرجع ضمیر کا اہل شرک ہے یعنی باری باری آنے والے فرشتے نبی اللہ کی حفاظت کرتے ہیں شیطان سے اور اس کی ذریات سے تاکہ اہل شرک جان لیں کہ رسولوں نے رسالت اللہ ادا کردی، یعنی رسولوں کو جھٹلانے والے بھی رسولوں کی رسالت کو جان لیں مگر اس میں کچھ اختلاف ہے۔ یعقوب کی قرأت پیش کے ساتھ ہے یعنی لوگ جان لیں کہ رسولوں نے تبلیغ کردی اور ممکن ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اللہ تعالیٰ جان لے یعنی وہ اپنے رسولوں کی اپنے فرشتے بھیج کر حفاظت کرتا ہے تاکہ وہ رسالت ادا کرسکیں اور وحی الٰہی محفوظ رکھ سکیں اور اللہ جان لے کہ انہوں نے رسالت ادا کردی جیسے فرمایا آیت (وما جعلنا القبلتہ التی کنت علیھا) یعنی جس قبیلے پر تو تھا اسے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے سچے تابعداروں اور مرتدوں کو جان لیں اور جگہ ہے آیت (وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ 11) 29۔ العنکبوت :11) یعنی اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو اور منافقوں کو برابر جان لے گا اور بھی اس قسم کی آیتیں ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ پہلے ہی سے جانتا ہے لیکن اسے ظاہر کر کے بھی جان لیتا ہے، اسی لئے یہاں اس کے بعد ہی فرمایا کہ ہر چیز اور سب کی گنتی اللہ کے علم کے احاطہ میں ہے۔ الحمد اللہ سورة جن کی تفسیر ختم ہوئی۔
لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُوا۟ رِسَٰلَٰتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَىْءٍ عَدَدًۢا
Liya'lama an qad ablaghoo risaalaati rabbihim wa ahaata bima ladihim wa ahsaa kulla shai'in 'adadaa
That he may know that they have conveyed the messages of their Lord; and He has encompassed whatever is with them and has enumerated all things in number.
تاکہ معلوم فرمائے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور (یوں تو) اس نے ان کی سب چیزوں کو ہر طرف سے قابو کر رکھا ہے اور ایک ایک چیز گن رکھی ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اللہ کے سوا قیامت کب ہوگی کسی کو نہیں معلوم اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں سے کہہ دیں کہ قیامت کب ہوگی، اس کا علم مجھے نہیں، بلکہ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کا وقت قریب ہے یا دور ہے اور لمبی مدت کے بعد آنے والی ہے، اس آیت کریمہ میں دلیل ہے اس امر کی کہ اکثر جاہلوں میں جو مشہور ہے کہ حضور ﷺ زمین کی اندر کی چیزوں کا بھی علم رکھتے ہیں وہ بالکل غلط ہے اس روایت کی کوئی اصل نہیں محض جھوٹ ہے اور بالکل بےاصل روایت ہے ہم نے تو اسے کسی کتاب میں نہیں پایا، ہاں اس کے خلاف صاف ثابت ہے حضور ﷺ سے قیامت کے قائم ہونے کا وقت پوچھا جاتا تھا اور آپ اس کی معین وقت سے اپنی لاعلمی ظاہر کرتے تھے، اعرابی کی صورت میں حضرت جبرائیل ؑ نے بھی آ کر جب قیامت کے بارے میں سوال کیا تھا تو آپ نے صاف فرمایا تھا کہ اس کا علم نہ پوچھنے والے کو ہے نہ اسے جس سے پوچھا جا رہا ہے، ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک دیہات کے رہنے والے نے با آواز بلند آپ سے دریافت کیا کہ حضور ﷺ قیامت کب آئے گی ؟ آپ نے فرمایا وہ آئے گی ضرور مگر یہ بتا کہ تو نے اس کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا میرے پاس روزے نماز کی اکثرت تو نہیں البتہ رسول اللہ ﷺ کی محبت ہے آپ نے فرمایا پھر تو اس کے ساتھ ہوگا جس کی تجھے محبت ہے، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں مسلمان کسی حدیث سے اس قدر خوش نہیں ہوئے جتنے اس حدیث سے، اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ قیامت کا ٹھیک وقت آپ کو معلوم نہ تھا، ابن ابی حاتم میں ہے کہ آپ نے فرمایا اے لوگو اگر تم میں علم ہے تو اپنے تئیں مردوں میں شمار کیا کرو اللہ کی قسم جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ یقیناً ایک وقت آنے والی ہے، یہاں بھی آپ کوئی مقررہ وقت نہیں بتاتے، ابو داؤد میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امت کو کیا عجب کہ آدھے دن تک کی مہلت دے دے اور روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ حضرت سعد سے پوچھا گیا کہ آدھے دن سے کیا مراد ہے فرمایا پانچ سو سال۔ پھر فرماتا ہے اللہ عالم الغیب ہے وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر مرسلین میں سے جسے چن لے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ02505) 2۔ البقرة :255) یعنی اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جو اللہ چاہے۔ یعنی رسول خواہ انسانوں میں سے ہوں خواہ فرشتوں میں سے ہوں جسے اللہ جتنا چاہتا ہے بتادیتا ہے بس وہ اتنا ہی جانتے ہیں۔ پھر اس کی مزید تخصیص یہ ہوتی ہے کہ اس کی حفاظت اور ساتھ ہی اس علم کی اشاعت کے لئے جو اللہ نے اسے دیا ہے اس کے آس پاس ہر وقت نگہبان فرشتے مقرر رہتے ہیں۔ لیعلم کی ضمیر بعض نے تو کہا ہے کہ نبی ﷺ کی طرف ہے یعنی حضرت جبرائیل کے آگے پیچھے چار چار فرشتے ہوتے تھے تاکہ حضور ﷺ کو یقین آجائے کہ انہوں نے اپنے رب کا پیغام صحیح طور پر مجھے پہنچایا ہے اور بعض کہتے ہیں مرجع ضمیر کا اہل شرک ہے یعنی باری باری آنے والے فرشتے نبی اللہ کی حفاظت کرتے ہیں شیطان سے اور اس کی ذریات سے تاکہ اہل شرک جان لیں کہ رسولوں نے رسالت اللہ ادا کردی، یعنی رسولوں کو جھٹلانے والے بھی رسولوں کی رسالت کو جان لیں مگر اس میں کچھ اختلاف ہے۔ یعقوب کی قرأت پیش کے ساتھ ہے یعنی لوگ جان لیں کہ رسولوں نے تبلیغ کردی اور ممکن ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اللہ تعالیٰ جان لے یعنی وہ اپنے رسولوں کی اپنے فرشتے بھیج کر حفاظت کرتا ہے تاکہ وہ رسالت ادا کرسکیں اور وحی الٰہی محفوظ رکھ سکیں اور اللہ جان لے کہ انہوں نے رسالت ادا کردی جیسے فرمایا آیت (وما جعلنا القبلتہ التی کنت علیھا) یعنی جس قبیلے پر تو تھا اسے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے سچے تابعداروں اور مرتدوں کو جان لیں اور جگہ ہے آیت (وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ 11) 29۔ العنکبوت :11) یعنی اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو اور منافقوں کو برابر جان لے گا اور بھی اس قسم کی آیتیں ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ پہلے ہی سے جانتا ہے لیکن اسے ظاہر کر کے بھی جان لیتا ہے، اسی لئے یہاں اس کے بعد ہی فرمایا کہ ہر چیز اور سب کی گنتی اللہ کے علم کے احاطہ میں ہے۔ الحمد اللہ سورة جن کی تفسیر ختم ہوئی۔