بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ وَٱلصَّٰٓفَّٰتِ صَفًّا
Wassaaaffaati saffaa
By those [angels] lined up in rows
قسم ہے صف باندھنے والوں کی پرا جما کر
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
فرشتوں کا تذکرہ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان تینوں قسموں سے مراد فرشتے ہیں۔ اور بھی اکثر حضرات کا یہی قول ہے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی صفیں آسمانوں پر ہیں۔ مسلم میں حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں سب لوگوں پر تین باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی کی گئی ہیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے۔ اور پانی کے نہ ملنے کے وقت زمین کی مٹی ہمارے لیے وضو کے قائم مقام کی گئی ہے۔ مسلم وغیرہ میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے ہم سے فرمایا تم اس طرح صفیں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم نے کہا وہ کس طرح ؟ آپ نے فرمایا اگلی صفوں کو وہ پورا کرتے جاتے ہیں اور صفیں بالکل ملا لیا کرتے ہیں۔ ڈانٹنے والوں سے مراد سدی ؒ وغیرہ کے نزدیک ابر اور بادل کو ڈانٹ کر احکام دے کر ادھر سے ادھر لے جانے والے فرشتے ہیں۔ ربیع بن انس وغیرہ فرماتے ہیں قرآن جس چیز سے روکتا ہے وہ اسی سے بندش کرتے ہیں۔ ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والے فرشتے وہ ہیں جو اللہ کا پیغام بندوں کے پاس لاتے ہیں جیسے فرمان ہے (فَالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا ۙ) 77۔ المرسلات :5) یعنی وحی اتارنے والے فرشتوں کی قسم جو عذر کو ٹالنے یا آگاہ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ ان قسموں کے بعد جس چیز پر یہ قسمیں کھائی گئی ہیں اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ تم سب کا معبود برحق ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی آسمان و زمین کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا مالک و متصرف ہے۔ اسی نے آسمان میں ستارے اور چاند سورج کو مسخر کر رکھا ہے، جو مشرق سے ظاہر ہوتے ہیں مغرب میں غروب ہوتے ہیں۔ مشرقوں کا ذکر کرکے مغربوں کا ذکر اس کی دلالت موجود ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ دوسری آیت میں ذکر کر بھی دیا ہے فرمان ہے (رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ 17ۚ) 55۔ الرحمن :17) یعنی جاڑے گرمیوں کی طلوع و غروب کی جگہ کا رب وہی ہے۔
فَٱلزَّٰجِرَٰتِ زَجْرًا
Fazzaajiraati zajraa
And those who drive [the clouds]
پھر ڈانٹنے والوں کی جھڑک کر
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
فرشتوں کا تذکرہ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان تینوں قسموں سے مراد فرشتے ہیں۔ اور بھی اکثر حضرات کا یہی قول ہے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی صفیں آسمانوں پر ہیں۔ مسلم میں حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں سب لوگوں پر تین باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی کی گئی ہیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے۔ اور پانی کے نہ ملنے کے وقت زمین کی مٹی ہمارے لیے وضو کے قائم مقام کی گئی ہے۔ مسلم وغیرہ میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے ہم سے فرمایا تم اس طرح صفیں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم نے کہا وہ کس طرح ؟ آپ نے فرمایا اگلی صفوں کو وہ پورا کرتے جاتے ہیں اور صفیں بالکل ملا لیا کرتے ہیں۔ ڈانٹنے والوں سے مراد سدی ؒ وغیرہ کے نزدیک ابر اور بادل کو ڈانٹ کر احکام دے کر ادھر سے ادھر لے جانے والے فرشتے ہیں۔ ربیع بن انس وغیرہ فرماتے ہیں قرآن جس چیز سے روکتا ہے وہ اسی سے بندش کرتے ہیں۔ ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والے فرشتے وہ ہیں جو اللہ کا پیغام بندوں کے پاس لاتے ہیں جیسے فرمان ہے (فَالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا ۙ) 77۔ المرسلات :5) یعنی وحی اتارنے والے فرشتوں کی قسم جو عذر کو ٹالنے یا آگاہ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ ان قسموں کے بعد جس چیز پر یہ قسمیں کھائی گئی ہیں اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ تم سب کا معبود برحق ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی آسمان و زمین کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا مالک و متصرف ہے۔ اسی نے آسمان میں ستارے اور چاند سورج کو مسخر کر رکھا ہے، جو مشرق سے ظاہر ہوتے ہیں مغرب میں غروب ہوتے ہیں۔ مشرقوں کا ذکر کرکے مغربوں کا ذکر اس کی دلالت موجود ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ دوسری آیت میں ذکر کر بھی دیا ہے فرمان ہے (رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ 17ۚ) 55۔ الرحمن :17) یعنی جاڑے گرمیوں کی طلوع و غروب کی جگہ کا رب وہی ہے۔
فَٱلتَّٰلِيَٰتِ ذِكْرًا
Fattaaliyaati Zikra
And those who recite the message,
پھر ذکر (یعنی قرآن) پڑھنے والوں کی (غور کرکر)
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
فرشتوں کا تذکرہ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان تینوں قسموں سے مراد فرشتے ہیں۔ اور بھی اکثر حضرات کا یہی قول ہے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی صفیں آسمانوں پر ہیں۔ مسلم میں حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں سب لوگوں پر تین باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی کی گئی ہیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے۔ اور پانی کے نہ ملنے کے وقت زمین کی مٹی ہمارے لیے وضو کے قائم مقام کی گئی ہے۔ مسلم وغیرہ میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے ہم سے فرمایا تم اس طرح صفیں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم نے کہا وہ کس طرح ؟ آپ نے فرمایا اگلی صفوں کو وہ پورا کرتے جاتے ہیں اور صفیں بالکل ملا لیا کرتے ہیں۔ ڈانٹنے والوں سے مراد سدی ؒ وغیرہ کے نزدیک ابر اور بادل کو ڈانٹ کر احکام دے کر ادھر سے ادھر لے جانے والے فرشتے ہیں۔ ربیع بن انس وغیرہ فرماتے ہیں قرآن جس چیز سے روکتا ہے وہ اسی سے بندش کرتے ہیں۔ ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والے فرشتے وہ ہیں جو اللہ کا پیغام بندوں کے پاس لاتے ہیں جیسے فرمان ہے (فَالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا ۙ) 77۔ المرسلات :5) یعنی وحی اتارنے والے فرشتوں کی قسم جو عذر کو ٹالنے یا آگاہ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ ان قسموں کے بعد جس چیز پر یہ قسمیں کھائی گئی ہیں اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ تم سب کا معبود برحق ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی آسمان و زمین کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا مالک و متصرف ہے۔ اسی نے آسمان میں ستارے اور چاند سورج کو مسخر کر رکھا ہے، جو مشرق سے ظاہر ہوتے ہیں مغرب میں غروب ہوتے ہیں۔ مشرقوں کا ذکر کرکے مغربوں کا ذکر اس کی دلالت موجود ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ دوسری آیت میں ذکر کر بھی دیا ہے فرمان ہے (رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ 17ۚ) 55۔ الرحمن :17) یعنی جاڑے گرمیوں کی طلوع و غروب کی جگہ کا رب وہی ہے۔
إِنَّ إِلَٰهَكُمْ لَوَٰحِدٌ
Inna Illaahakum la Waahid
Indeed, your God is One,
کہ تمہارا معبود ایک ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
فرشتوں کا تذکرہ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان تینوں قسموں سے مراد فرشتے ہیں۔ اور بھی اکثر حضرات کا یہی قول ہے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی صفیں آسمانوں پر ہیں۔ مسلم میں حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں سب لوگوں پر تین باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی کی گئی ہیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے۔ اور پانی کے نہ ملنے کے وقت زمین کی مٹی ہمارے لیے وضو کے قائم مقام کی گئی ہے۔ مسلم وغیرہ میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے ہم سے فرمایا تم اس طرح صفیں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم نے کہا وہ کس طرح ؟ آپ نے فرمایا اگلی صفوں کو وہ پورا کرتے جاتے ہیں اور صفیں بالکل ملا لیا کرتے ہیں۔ ڈانٹنے والوں سے مراد سدی ؒ وغیرہ کے نزدیک ابر اور بادل کو ڈانٹ کر احکام دے کر ادھر سے ادھر لے جانے والے فرشتے ہیں۔ ربیع بن انس وغیرہ فرماتے ہیں قرآن جس چیز سے روکتا ہے وہ اسی سے بندش کرتے ہیں۔ ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والے فرشتے وہ ہیں جو اللہ کا پیغام بندوں کے پاس لاتے ہیں جیسے فرمان ہے (فَالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا ۙ) 77۔ المرسلات :5) یعنی وحی اتارنے والے فرشتوں کی قسم جو عذر کو ٹالنے یا آگاہ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ ان قسموں کے بعد جس چیز پر یہ قسمیں کھائی گئی ہیں اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ تم سب کا معبود برحق ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی آسمان و زمین کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا مالک و متصرف ہے۔ اسی نے آسمان میں ستارے اور چاند سورج کو مسخر کر رکھا ہے، جو مشرق سے ظاہر ہوتے ہیں مغرب میں غروب ہوتے ہیں۔ مشرقوں کا ذکر کرکے مغربوں کا ذکر اس کی دلالت موجود ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ دوسری آیت میں ذکر کر بھی دیا ہے فرمان ہے (رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ 17ۚ) 55۔ الرحمن :17) یعنی جاڑے گرمیوں کی طلوع و غروب کی جگہ کا رب وہی ہے۔
رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَرَبُّ ٱلْمَشَٰرِقِ
Rabbus samaawaati wal ardi wa maa bainahumaa wa Rabbul mashaariq
Lord of the heavens and the earth and that between them and Lord of the sunrises.
جو آسمانوں اور زمین اور جو چیزیں ان میں ہیں سب کا مالک ہے اور سورج کے طلوع ہونے کے مقامات کا بھی مالک ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
فرشتوں کا تذکرہ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان تینوں قسموں سے مراد فرشتے ہیں۔ اور بھی اکثر حضرات کا یہی قول ہے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی صفیں آسمانوں پر ہیں۔ مسلم میں حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں سب لوگوں پر تین باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی کی گئی ہیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے۔ اور پانی کے نہ ملنے کے وقت زمین کی مٹی ہمارے لیے وضو کے قائم مقام کی گئی ہے۔ مسلم وغیرہ میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے ہم سے فرمایا تم اس طرح صفیں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم نے کہا وہ کس طرح ؟ آپ نے فرمایا اگلی صفوں کو وہ پورا کرتے جاتے ہیں اور صفیں بالکل ملا لیا کرتے ہیں۔ ڈانٹنے والوں سے مراد سدی ؒ وغیرہ کے نزدیک ابر اور بادل کو ڈانٹ کر احکام دے کر ادھر سے ادھر لے جانے والے فرشتے ہیں۔ ربیع بن انس وغیرہ فرماتے ہیں قرآن جس چیز سے روکتا ہے وہ اسی سے بندش کرتے ہیں۔ ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والے فرشتے وہ ہیں جو اللہ کا پیغام بندوں کے پاس لاتے ہیں جیسے فرمان ہے (فَالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا ۙ) 77۔ المرسلات :5) یعنی وحی اتارنے والے فرشتوں کی قسم جو عذر کو ٹالنے یا آگاہ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ ان قسموں کے بعد جس چیز پر یہ قسمیں کھائی گئی ہیں اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ تم سب کا معبود برحق ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی آسمان و زمین کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا مالک و متصرف ہے۔ اسی نے آسمان میں ستارے اور چاند سورج کو مسخر کر رکھا ہے، جو مشرق سے ظاہر ہوتے ہیں مغرب میں غروب ہوتے ہیں۔ مشرقوں کا ذکر کرکے مغربوں کا ذکر اس کی دلالت موجود ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ دوسری آیت میں ذکر کر بھی دیا ہے فرمان ہے (رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ 17ۚ) 55۔ الرحمن :17) یعنی جاڑے گرمیوں کی طلوع و غروب کی جگہ کا رب وہی ہے۔
إِنَّا زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنْيَا بِزِينَةٍ ٱلْكَوَاكِبِ
Innaa zaiyannas samaaa 'ad dunyaa bizeenatinil kawaakib
Indeed, We have adorned the nearest heaven with an adornment of stars
بےشک ہم ہی نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے مزین کیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
شیاطین اور کاہن۔ آسمان دنیا کو دیکھنے والے کی نگاہوں میں جو زینت دی گئی ہے اس کا بیان فرمایا۔ یہ اضافت کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور بدلیت کے ساتھ بھی معنی دونوں صورتوں میں ایک ہی ہیں۔ اس کے ستاروں کی، اس کے سورج کی روشنی زمین کو جگمگادیتی ہے، جیسے اور آیت میں ہے (وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاب السَّعِيْرِ) 67۔ الملک :5) ہم نے آسمان دنیا کو زینت دی ستاروں کے ساتھ۔ اور انہیں شیطانوں کے لیے شیطانوں کے رجم کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ان کے لیے آگ سے جلا دینے والے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ اور آیت میں ہے ہم نے آسمان میں برج بنائے اور انہیں دیکھنے والوں کی آنکھوں میں کھب جانے والی چیز بنائی۔ اور ہر شیطان رجیم سے اسے محفوظ رکھا جو کوئی کسی بات کو لے اڑنا چاہتا ہے وہیں ایک تیز شعلہ اس کی طرف اترتا ہے۔ اور ہم نے آسمانوں کی حفاظت کی ہر سرکش شریر شیطان سے، اس کا بس نہیں کہ فرشتوں کی باتیں سنے، وہ جب یہ کرتا ہے تو ایک شعلہ لپکتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے۔ یہ آسمانوں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔ اللہ کی شریعت تقدیر کے امور کی کسی گفتگو کو وہ سن ہی نہیں سکتے۔ اس بارے کی حدیثیں ہم نے آیت (حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّكُمْ ۭ قَالُوا الْحَقَّ ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ 23) 34۔ سبأ :23) ، کی تفسیر میں بیان کردی ہیں، جدھر سے بھی یہ آسمان پر چڑھنا چاہتے ہیں وہیں سے ان پر آتش بازی کی جاتی ہے۔ انہیں ہنکانے پست و ذلیل کرنے روکنے اور نہ آنے دینے کے لیے یہ سزا بیان کی ہے اور آخرت کے دائمی عذاب ابھی باقی ہیں، جو بڑے المناک درد ناک اور ہمیشگی والے ہوں گے۔ ہاں کبھی کسی جن نے کوئی کلمہ کسی فرشتے کی زبان سے سن لیا اور اسے اس نے اپنے نیچے والے سے کہہ دیا اور اس نے اپنے نیچے والے سے وہیں اس کے پیچھے ایک شعلہ لپکتا ہے کبھی تو وہ دوسرے کو پہنچائے اس سے پہلے ہی شعلہ اسے جلا ڈالتا ہے کبھی وہ دوسرے کے کانوں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہی وہ باتیں ہیں جو کاہنوں کے کانوں تک شیاطین کے ذریعہ پہنچ جاتی ہیں، ثاقب سے مراد سخت تیز بہت زیادہ روشنی والا ہے، حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ شیاطین پہلے جاکر آسمانوں میں بیٹھتے تھے اور وہی سن لیتے تھے اس وقت ان پر تارے نہیں ٹوٹتے تھے یہ وہاں کی وحی سن کر زمین پر آکر ایک کی دس دس کر کے کاہنوں کے کانوں میں پھونکتے تھے، جب حضور ﷺ کو نبوت ملی پھر شیطانوں کا آسمان پر جانا موقوف ہوا، اب یہ جاتے ہیں تو ان پر آگ کے شعلے پھینکے جاتے ہیں اور انہیں جلادیا جاتا ہے، انہوں نے اس نو پیدا امر کی خبر جب ابلیس ملعون کو دی تو اس نے کہا کہ کسی اہم نئے کام کی وجہ سے اس قدر احتیاط و حفاظت کی گئی ہے چناچہ خبر رسانوں کی جماعتیں اس نے روئے زمین پر پھیلا دیں تو جو جماعت حجاز کی طرف گئی تھی اس نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نخلہ کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان نماز ادا کر رہے ہیں اس نے جاکر ابلیس کو یہ خبر دی اس نے کہا بس یہی وجہ ہے جو تمہارا آسمانوں پر جانا موقوف ہوا۔ اس کی پوری تحقیق اللہ نے چاہا تو آیت (وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاۗءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا وَّشُهُبًا ۙ) 72۔ الجن :8) ، کی تفسیر میں آئے گی۔
وَحِفْظًا مِّن كُلِّ شَيْطَٰنٍ مَّارِدٍ
Wa hifzam min kulli Shaitaanim maarid
And as protection against every rebellious devil
اور ہر شیطان سرکش سے اس کی حفاظت کی
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
شیاطین اور کاہن۔ آسمان دنیا کو دیکھنے والے کی نگاہوں میں جو زینت دی گئی ہے اس کا بیان فرمایا۔ یہ اضافت کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور بدلیت کے ساتھ بھی معنی دونوں صورتوں میں ایک ہی ہیں۔ اس کے ستاروں کی، اس کے سورج کی روشنی زمین کو جگمگادیتی ہے، جیسے اور آیت میں ہے (وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاب السَّعِيْرِ) 67۔ الملک :5) ہم نے آسمان دنیا کو زینت دی ستاروں کے ساتھ۔ اور انہیں شیطانوں کے لیے شیطانوں کے رجم کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ان کے لیے آگ سے جلا دینے والے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ اور آیت میں ہے ہم نے آسمان میں برج بنائے اور انہیں دیکھنے والوں کی آنکھوں میں کھب جانے والی چیز بنائی۔ اور ہر شیطان رجیم سے اسے محفوظ رکھا جو کوئی کسی بات کو لے اڑنا چاہتا ہے وہیں ایک تیز شعلہ اس کی طرف اترتا ہے۔ اور ہم نے آسمانوں کی حفاظت کی ہر سرکش شریر شیطان سے، اس کا بس نہیں کہ فرشتوں کی باتیں سنے، وہ جب یہ کرتا ہے تو ایک شعلہ لپکتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے۔ یہ آسمانوں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔ اللہ کی شریعت تقدیر کے امور کی کسی گفتگو کو وہ سن ہی نہیں سکتے۔ اس بارے کی حدیثیں ہم نے آیت (حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّكُمْ ۭ قَالُوا الْحَقَّ ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ 23) 34۔ سبأ :23) ، کی تفسیر میں بیان کردی ہیں، جدھر سے بھی یہ آسمان پر چڑھنا چاہتے ہیں وہیں سے ان پر آتش بازی کی جاتی ہے۔ انہیں ہنکانے پست و ذلیل کرنے روکنے اور نہ آنے دینے کے لیے یہ سزا بیان کی ہے اور آخرت کے دائمی عذاب ابھی باقی ہیں، جو بڑے المناک درد ناک اور ہمیشگی والے ہوں گے۔ ہاں کبھی کسی جن نے کوئی کلمہ کسی فرشتے کی زبان سے سن لیا اور اسے اس نے اپنے نیچے والے سے کہہ دیا اور اس نے اپنے نیچے والے سے وہیں اس کے پیچھے ایک شعلہ لپکتا ہے کبھی تو وہ دوسرے کو پہنچائے اس سے پہلے ہی شعلہ اسے جلا ڈالتا ہے کبھی وہ دوسرے کے کانوں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہی وہ باتیں ہیں جو کاہنوں کے کانوں تک شیاطین کے ذریعہ پہنچ جاتی ہیں، ثاقب سے مراد سخت تیز بہت زیادہ روشنی والا ہے، حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ شیاطین پہلے جاکر آسمانوں میں بیٹھتے تھے اور وہی سن لیتے تھے اس وقت ان پر تارے نہیں ٹوٹتے تھے یہ وہاں کی وحی سن کر زمین پر آکر ایک کی دس دس کر کے کاہنوں کے کانوں میں پھونکتے تھے، جب حضور ﷺ کو نبوت ملی پھر شیطانوں کا آسمان پر جانا موقوف ہوا، اب یہ جاتے ہیں تو ان پر آگ کے شعلے پھینکے جاتے ہیں اور انہیں جلادیا جاتا ہے، انہوں نے اس نو پیدا امر کی خبر جب ابلیس ملعون کو دی تو اس نے کہا کہ کسی اہم نئے کام کی وجہ سے اس قدر احتیاط و حفاظت کی گئی ہے چناچہ خبر رسانوں کی جماعتیں اس نے روئے زمین پر پھیلا دیں تو جو جماعت حجاز کی طرف گئی تھی اس نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نخلہ کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان نماز ادا کر رہے ہیں اس نے جاکر ابلیس کو یہ خبر دی اس نے کہا بس یہی وجہ ہے جو تمہارا آسمانوں پر جانا موقوف ہوا۔ اس کی پوری تحقیق اللہ نے چاہا تو آیت (وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاۗءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا وَّشُهُبًا ۙ) 72۔ الجن :8) ، کی تفسیر میں آئے گی۔
لَّا يَسَّمَّعُونَ إِلَى ٱلْمَلَإِ ٱلْأَعْلَىٰ وَيُقْذَفُونَ مِن كُلِّ جَانِبٍ
Laa yassamma 'oona ilal mala il a'alaa wa yuqzafoona min kulli jaanib
[So] they may not listen to the exalted assembly [of angels] and are pelted from every side,
کہ اوپر کی مجلس کی طرف کان نہ لگاسکیں اور ہر طرف سے (ان پر انگارے) پھینکے جاتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
شیاطین اور کاہن۔ آسمان دنیا کو دیکھنے والے کی نگاہوں میں جو زینت دی گئی ہے اس کا بیان فرمایا۔ یہ اضافت کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور بدلیت کے ساتھ بھی معنی دونوں صورتوں میں ایک ہی ہیں۔ اس کے ستاروں کی، اس کے سورج کی روشنی زمین کو جگمگادیتی ہے، جیسے اور آیت میں ہے (وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاب السَّعِيْرِ) 67۔ الملک :5) ہم نے آسمان دنیا کو زینت دی ستاروں کے ساتھ۔ اور انہیں شیطانوں کے لیے شیطانوں کے رجم کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ان کے لیے آگ سے جلا دینے والے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ اور آیت میں ہے ہم نے آسمان میں برج بنائے اور انہیں دیکھنے والوں کی آنکھوں میں کھب جانے والی چیز بنائی۔ اور ہر شیطان رجیم سے اسے محفوظ رکھا جو کوئی کسی بات کو لے اڑنا چاہتا ہے وہیں ایک تیز شعلہ اس کی طرف اترتا ہے۔ اور ہم نے آسمانوں کی حفاظت کی ہر سرکش شریر شیطان سے، اس کا بس نہیں کہ فرشتوں کی باتیں سنے، وہ جب یہ کرتا ہے تو ایک شعلہ لپکتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے۔ یہ آسمانوں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔ اللہ کی شریعت تقدیر کے امور کی کسی گفتگو کو وہ سن ہی نہیں سکتے۔ اس بارے کی حدیثیں ہم نے آیت (حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّكُمْ ۭ قَالُوا الْحَقَّ ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ 23) 34۔ سبأ :23) ، کی تفسیر میں بیان کردی ہیں، جدھر سے بھی یہ آسمان پر چڑھنا چاہتے ہیں وہیں سے ان پر آتش بازی کی جاتی ہے۔ انہیں ہنکانے پست و ذلیل کرنے روکنے اور نہ آنے دینے کے لیے یہ سزا بیان کی ہے اور آخرت کے دائمی عذاب ابھی باقی ہیں، جو بڑے المناک درد ناک اور ہمیشگی والے ہوں گے۔ ہاں کبھی کسی جن نے کوئی کلمہ کسی فرشتے کی زبان سے سن لیا اور اسے اس نے اپنے نیچے والے سے کہہ دیا اور اس نے اپنے نیچے والے سے وہیں اس کے پیچھے ایک شعلہ لپکتا ہے کبھی تو وہ دوسرے کو پہنچائے اس سے پہلے ہی شعلہ اسے جلا ڈالتا ہے کبھی وہ دوسرے کے کانوں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہی وہ باتیں ہیں جو کاہنوں کے کانوں تک شیاطین کے ذریعہ پہنچ جاتی ہیں، ثاقب سے مراد سخت تیز بہت زیادہ روشنی والا ہے، حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ شیاطین پہلے جاکر آسمانوں میں بیٹھتے تھے اور وہی سن لیتے تھے اس وقت ان پر تارے نہیں ٹوٹتے تھے یہ وہاں کی وحی سن کر زمین پر آکر ایک کی دس دس کر کے کاہنوں کے کانوں میں پھونکتے تھے، جب حضور ﷺ کو نبوت ملی پھر شیطانوں کا آسمان پر جانا موقوف ہوا، اب یہ جاتے ہیں تو ان پر آگ کے شعلے پھینکے جاتے ہیں اور انہیں جلادیا جاتا ہے، انہوں نے اس نو پیدا امر کی خبر جب ابلیس ملعون کو دی تو اس نے کہا کہ کسی اہم نئے کام کی وجہ سے اس قدر احتیاط و حفاظت کی گئی ہے چناچہ خبر رسانوں کی جماعتیں اس نے روئے زمین پر پھیلا دیں تو جو جماعت حجاز کی طرف گئی تھی اس نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نخلہ کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان نماز ادا کر رہے ہیں اس نے جاکر ابلیس کو یہ خبر دی اس نے کہا بس یہی وجہ ہے جو تمہارا آسمانوں پر جانا موقوف ہوا۔ اس کی پوری تحقیق اللہ نے چاہا تو آیت (وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاۗءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا وَّشُهُبًا ۙ) 72۔ الجن :8) ، کی تفسیر میں آئے گی۔
دُحُورًا وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ
Duhooranw wa lahum 'azaabunw waasib
Repelled; and for them is a constant punishment,
(یعنی وہاں سے) نکال دینے کو اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
شیاطین اور کاہن۔ آسمان دنیا کو دیکھنے والے کی نگاہوں میں جو زینت دی گئی ہے اس کا بیان فرمایا۔ یہ اضافت کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور بدلیت کے ساتھ بھی معنی دونوں صورتوں میں ایک ہی ہیں۔ اس کے ستاروں کی، اس کے سورج کی روشنی زمین کو جگمگادیتی ہے، جیسے اور آیت میں ہے (وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاب السَّعِيْرِ) 67۔ الملک :5) ہم نے آسمان دنیا کو زینت دی ستاروں کے ساتھ۔ اور انہیں شیطانوں کے لیے شیطانوں کے رجم کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ان کے لیے آگ سے جلا دینے والے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ اور آیت میں ہے ہم نے آسمان میں برج بنائے اور انہیں دیکھنے والوں کی آنکھوں میں کھب جانے والی چیز بنائی۔ اور ہر شیطان رجیم سے اسے محفوظ رکھا جو کوئی کسی بات کو لے اڑنا چاہتا ہے وہیں ایک تیز شعلہ اس کی طرف اترتا ہے۔ اور ہم نے آسمانوں کی حفاظت کی ہر سرکش شریر شیطان سے، اس کا بس نہیں کہ فرشتوں کی باتیں سنے، وہ جب یہ کرتا ہے تو ایک شعلہ لپکتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے۔ یہ آسمانوں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔ اللہ کی شریعت تقدیر کے امور کی کسی گفتگو کو وہ سن ہی نہیں سکتے۔ اس بارے کی حدیثیں ہم نے آیت (حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّكُمْ ۭ قَالُوا الْحَقَّ ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ 23) 34۔ سبأ :23) ، کی تفسیر میں بیان کردی ہیں، جدھر سے بھی یہ آسمان پر چڑھنا چاہتے ہیں وہیں سے ان پر آتش بازی کی جاتی ہے۔ انہیں ہنکانے پست و ذلیل کرنے روکنے اور نہ آنے دینے کے لیے یہ سزا بیان کی ہے اور آخرت کے دائمی عذاب ابھی باقی ہیں، جو بڑے المناک درد ناک اور ہمیشگی والے ہوں گے۔ ہاں کبھی کسی جن نے کوئی کلمہ کسی فرشتے کی زبان سے سن لیا اور اسے اس نے اپنے نیچے والے سے کہہ دیا اور اس نے اپنے نیچے والے سے وہیں اس کے پیچھے ایک شعلہ لپکتا ہے کبھی تو وہ دوسرے کو پہنچائے اس سے پہلے ہی شعلہ اسے جلا ڈالتا ہے کبھی وہ دوسرے کے کانوں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہی وہ باتیں ہیں جو کاہنوں کے کانوں تک شیاطین کے ذریعہ پہنچ جاتی ہیں، ثاقب سے مراد سخت تیز بہت زیادہ روشنی والا ہے، حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ شیاطین پہلے جاکر آسمانوں میں بیٹھتے تھے اور وہی سن لیتے تھے اس وقت ان پر تارے نہیں ٹوٹتے تھے یہ وہاں کی وحی سن کر زمین پر آکر ایک کی دس دس کر کے کاہنوں کے کانوں میں پھونکتے تھے، جب حضور ﷺ کو نبوت ملی پھر شیطانوں کا آسمان پر جانا موقوف ہوا، اب یہ جاتے ہیں تو ان پر آگ کے شعلے پھینکے جاتے ہیں اور انہیں جلادیا جاتا ہے، انہوں نے اس نو پیدا امر کی خبر جب ابلیس ملعون کو دی تو اس نے کہا کہ کسی اہم نئے کام کی وجہ سے اس قدر احتیاط و حفاظت کی گئی ہے چناچہ خبر رسانوں کی جماعتیں اس نے روئے زمین پر پھیلا دیں تو جو جماعت حجاز کی طرف گئی تھی اس نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نخلہ کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان نماز ادا کر رہے ہیں اس نے جاکر ابلیس کو یہ خبر دی اس نے کہا بس یہی وجہ ہے جو تمہارا آسمانوں پر جانا موقوف ہوا۔ اس کی پوری تحقیق اللہ نے چاہا تو آیت (وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاۗءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا وَّشُهُبًا ۙ) 72۔ الجن :8) ، کی تفسیر میں آئے گی۔
إِلَّا مَنْ خَطِفَ ٱلْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُۥ شِهَابٌ ثَاقِبٌ
Illaa man khatifal khatfata fa atba'ahoo shihaabun saaqib
Except one who snatches [some words] by theft, but they are pursued by a burning flame, piercing [in brightness].
ہاں جو کوئی (فرشتوں کی کسی بات کو) چوری سے جھپٹ لینا چاہتا ہے تو جلتا ہوا انگارہ ان کے پیچھے لگتا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
شیاطین اور کاہن۔ آسمان دنیا کو دیکھنے والے کی نگاہوں میں جو زینت دی گئی ہے اس کا بیان فرمایا۔ یہ اضافت کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور بدلیت کے ساتھ بھی معنی دونوں صورتوں میں ایک ہی ہیں۔ اس کے ستاروں کی، اس کے سورج کی روشنی زمین کو جگمگادیتی ہے، جیسے اور آیت میں ہے (وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاب السَّعِيْرِ) 67۔ الملک :5) ہم نے آسمان دنیا کو زینت دی ستاروں کے ساتھ۔ اور انہیں شیطانوں کے لیے شیطانوں کے رجم کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ان کے لیے آگ سے جلا دینے والے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ اور آیت میں ہے ہم نے آسمان میں برج بنائے اور انہیں دیکھنے والوں کی آنکھوں میں کھب جانے والی چیز بنائی۔ اور ہر شیطان رجیم سے اسے محفوظ رکھا جو کوئی کسی بات کو لے اڑنا چاہتا ہے وہیں ایک تیز شعلہ اس کی طرف اترتا ہے۔ اور ہم نے آسمانوں کی حفاظت کی ہر سرکش شریر شیطان سے، اس کا بس نہیں کہ فرشتوں کی باتیں سنے، وہ جب یہ کرتا ہے تو ایک شعلہ لپکتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے۔ یہ آسمانوں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔ اللہ کی شریعت تقدیر کے امور کی کسی گفتگو کو وہ سن ہی نہیں سکتے۔ اس بارے کی حدیثیں ہم نے آیت (حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّكُمْ ۭ قَالُوا الْحَقَّ ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ 23) 34۔ سبأ :23) ، کی تفسیر میں بیان کردی ہیں، جدھر سے بھی یہ آسمان پر چڑھنا چاہتے ہیں وہیں سے ان پر آتش بازی کی جاتی ہے۔ انہیں ہنکانے پست و ذلیل کرنے روکنے اور نہ آنے دینے کے لیے یہ سزا بیان کی ہے اور آخرت کے دائمی عذاب ابھی باقی ہیں، جو بڑے المناک درد ناک اور ہمیشگی والے ہوں گے۔ ہاں کبھی کسی جن نے کوئی کلمہ کسی فرشتے کی زبان سے سن لیا اور اسے اس نے اپنے نیچے والے سے کہہ دیا اور اس نے اپنے نیچے والے سے وہیں اس کے پیچھے ایک شعلہ لپکتا ہے کبھی تو وہ دوسرے کو پہنچائے اس سے پہلے ہی شعلہ اسے جلا ڈالتا ہے کبھی وہ دوسرے کے کانوں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہی وہ باتیں ہیں جو کاہنوں کے کانوں تک شیاطین کے ذریعہ پہنچ جاتی ہیں، ثاقب سے مراد سخت تیز بہت زیادہ روشنی والا ہے، حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ شیاطین پہلے جاکر آسمانوں میں بیٹھتے تھے اور وہی سن لیتے تھے اس وقت ان پر تارے نہیں ٹوٹتے تھے یہ وہاں کی وحی سن کر زمین پر آکر ایک کی دس دس کر کے کاہنوں کے کانوں میں پھونکتے تھے، جب حضور ﷺ کو نبوت ملی پھر شیطانوں کا آسمان پر جانا موقوف ہوا، اب یہ جاتے ہیں تو ان پر آگ کے شعلے پھینکے جاتے ہیں اور انہیں جلادیا جاتا ہے، انہوں نے اس نو پیدا امر کی خبر جب ابلیس ملعون کو دی تو اس نے کہا کہ کسی اہم نئے کام کی وجہ سے اس قدر احتیاط و حفاظت کی گئی ہے چناچہ خبر رسانوں کی جماعتیں اس نے روئے زمین پر پھیلا دیں تو جو جماعت حجاز کی طرف گئی تھی اس نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نخلہ کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان نماز ادا کر رہے ہیں اس نے جاکر ابلیس کو یہ خبر دی اس نے کہا بس یہی وجہ ہے جو تمہارا آسمانوں پر جانا موقوف ہوا۔ اس کی پوری تحقیق اللہ نے چاہا تو آیت (وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاۗءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا وَّشُهُبًا ۙ) 72۔ الجن :8) ، کی تفسیر میں آئے گی۔
فَٱسْتَفْتِهِمْ أَهُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَم مَّنْ خَلَقْنَآ إِنَّا خَلَقْنَٰهُم مِّن طِينٍ لَّازِبٍۭ
Fastaftihim ahum ashaddu khalqan am man khalaqnaa; innaa khalaqnaahum min teenil laazib
Then inquire of them, [O Muhammad], "Are they a stronger [or more difficult] creation or those [others] We have created?" Indeed, We created men from sticky clay.
تو ان سے پوچھو کہ ان کا بنانا مشکل ہے یا جتنی خلقت ہم نے بنائی ہے؟ انہیں ہم نے چپکتے گارے سے بنایا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے ؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا، ابن مسعود ؓ کی قرأت ام من عددنا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں اور اس کے فرمان بھی۔ لیکن یہ تو اسے سن کر ہنسی اڑاتے ہیں۔ اور جب کبھی کوئی واضح دلیل سامنے آجاتی ہے تو مسخرا پن کرنے لگتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے۔ ہم کسی طرح اسے نہیں ماننے کے کہ مر کر مٹی ہو کر پھر جی اٹھیں بلکہ ہمارے باپ دادا بھی دوسری زندگی میں آجائیں ہم تو اس کے قائل نہیں۔ اے نبی ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ ہاں تم یقینا دوبارہ پیدا کئے جاؤ گے۔ تم ہو کیا چیز اللہ کی قدرت اور مشیت کے ماتحت ہو، اس کی وہ ذات ہے کہ کسی کی اس کے سامنے کوئی ہستی نہیں۔ فرماتا ہے (کل اتوہ داخرین) ہر شخص اس کے سامنے عاجزی اور لاچاری سے حاضر ہونے والا ہے۔ ایک آیت میں ہے (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60) 40۔ غافر :60) میری عبادت سے سرکشی کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جسے تم مشکل سمجھتے ہو، وہ مجھ پر تو بالکل ہی آسان ہے صرف ایک آواز لگتے ہی ہر ایک زمین سے نکل کر دہشت ناکی کے ساتھ اہوال و احوال قیامت کو دیکھنے لگے گا۔ واللہ اعلم
بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ
Bal'ajibta wa yaskharoon
But you wonder, while they mock,
ہاں تم تو تعجب کرتے ہو اور یہ تمسخر کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے ؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا، ابن مسعود ؓ کی قرأت ام من عددنا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں اور اس کے فرمان بھی۔ لیکن یہ تو اسے سن کر ہنسی اڑاتے ہیں۔ اور جب کبھی کوئی واضح دلیل سامنے آجاتی ہے تو مسخرا پن کرنے لگتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے۔ ہم کسی طرح اسے نہیں ماننے کے کہ مر کر مٹی ہو کر پھر جی اٹھیں بلکہ ہمارے باپ دادا بھی دوسری زندگی میں آجائیں ہم تو اس کے قائل نہیں۔ اے نبی ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ ہاں تم یقینا دوبارہ پیدا کئے جاؤ گے۔ تم ہو کیا چیز اللہ کی قدرت اور مشیت کے ماتحت ہو، اس کی وہ ذات ہے کہ کسی کی اس کے سامنے کوئی ہستی نہیں۔ فرماتا ہے (کل اتوہ داخرین) ہر شخص اس کے سامنے عاجزی اور لاچاری سے حاضر ہونے والا ہے۔ ایک آیت میں ہے (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60) 40۔ غافر :60) میری عبادت سے سرکشی کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جسے تم مشکل سمجھتے ہو، وہ مجھ پر تو بالکل ہی آسان ہے صرف ایک آواز لگتے ہی ہر ایک زمین سے نکل کر دہشت ناکی کے ساتھ اہوال و احوال قیامت کو دیکھنے لگے گا۔ واللہ اعلم
وَإِذَا ذُكِّرُوا۟ لَا يَذْكُرُونَ
Wa izaa zukkiroo laa yazkuroon
And when they are reminded, they remember not.
اور جب ان کو نصیحت دی جاتی ہے تو نصیحت قبول نہیں کرتے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے ؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا، ابن مسعود ؓ کی قرأت ام من عددنا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں اور اس کے فرمان بھی۔ لیکن یہ تو اسے سن کر ہنسی اڑاتے ہیں۔ اور جب کبھی کوئی واضح دلیل سامنے آجاتی ہے تو مسخرا پن کرنے لگتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے۔ ہم کسی طرح اسے نہیں ماننے کے کہ مر کر مٹی ہو کر پھر جی اٹھیں بلکہ ہمارے باپ دادا بھی دوسری زندگی میں آجائیں ہم تو اس کے قائل نہیں۔ اے نبی ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ ہاں تم یقینا دوبارہ پیدا کئے جاؤ گے۔ تم ہو کیا چیز اللہ کی قدرت اور مشیت کے ماتحت ہو، اس کی وہ ذات ہے کہ کسی کی اس کے سامنے کوئی ہستی نہیں۔ فرماتا ہے (کل اتوہ داخرین) ہر شخص اس کے سامنے عاجزی اور لاچاری سے حاضر ہونے والا ہے۔ ایک آیت میں ہے (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60) 40۔ غافر :60) میری عبادت سے سرکشی کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جسے تم مشکل سمجھتے ہو، وہ مجھ پر تو بالکل ہی آسان ہے صرف ایک آواز لگتے ہی ہر ایک زمین سے نکل کر دہشت ناکی کے ساتھ اہوال و احوال قیامت کو دیکھنے لگے گا۔ واللہ اعلم
وَإِذَا رَأَوْا۟ ءَايَةً يَسْتَسْخِرُونَ
Wa izaa ra aw Aayatinw yastaskhiroon
And when they see a sign, they ridicule
اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو ٹھٹھے کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے ؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا، ابن مسعود ؓ کی قرأت ام من عددنا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں اور اس کے فرمان بھی۔ لیکن یہ تو اسے سن کر ہنسی اڑاتے ہیں۔ اور جب کبھی کوئی واضح دلیل سامنے آجاتی ہے تو مسخرا پن کرنے لگتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے۔ ہم کسی طرح اسے نہیں ماننے کے کہ مر کر مٹی ہو کر پھر جی اٹھیں بلکہ ہمارے باپ دادا بھی دوسری زندگی میں آجائیں ہم تو اس کے قائل نہیں۔ اے نبی ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ ہاں تم یقینا دوبارہ پیدا کئے جاؤ گے۔ تم ہو کیا چیز اللہ کی قدرت اور مشیت کے ماتحت ہو، اس کی وہ ذات ہے کہ کسی کی اس کے سامنے کوئی ہستی نہیں۔ فرماتا ہے (کل اتوہ داخرین) ہر شخص اس کے سامنے عاجزی اور لاچاری سے حاضر ہونے والا ہے۔ ایک آیت میں ہے (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60) 40۔ غافر :60) میری عبادت سے سرکشی کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جسے تم مشکل سمجھتے ہو، وہ مجھ پر تو بالکل ہی آسان ہے صرف ایک آواز لگتے ہی ہر ایک زمین سے نکل کر دہشت ناکی کے ساتھ اہوال و احوال قیامت کو دیکھنے لگے گا۔ واللہ اعلم
وَقَالُوٓا۟ إِنْ هَٰذَآ إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ
Wa qaalooo in haazaa illaa sihrum mubeen
And say, "This is not but obvious magic.
اور کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے ؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا، ابن مسعود ؓ کی قرأت ام من عددنا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں اور اس کے فرمان بھی۔ لیکن یہ تو اسے سن کر ہنسی اڑاتے ہیں۔ اور جب کبھی کوئی واضح دلیل سامنے آجاتی ہے تو مسخرا پن کرنے لگتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے۔ ہم کسی طرح اسے نہیں ماننے کے کہ مر کر مٹی ہو کر پھر جی اٹھیں بلکہ ہمارے باپ دادا بھی دوسری زندگی میں آجائیں ہم تو اس کے قائل نہیں۔ اے نبی ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ ہاں تم یقینا دوبارہ پیدا کئے جاؤ گے۔ تم ہو کیا چیز اللہ کی قدرت اور مشیت کے ماتحت ہو، اس کی وہ ذات ہے کہ کسی کی اس کے سامنے کوئی ہستی نہیں۔ فرماتا ہے (کل اتوہ داخرین) ہر شخص اس کے سامنے عاجزی اور لاچاری سے حاضر ہونے والا ہے۔ ایک آیت میں ہے (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60) 40۔ غافر :60) میری عبادت سے سرکشی کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جسے تم مشکل سمجھتے ہو، وہ مجھ پر تو بالکل ہی آسان ہے صرف ایک آواز لگتے ہی ہر ایک زمین سے نکل کر دہشت ناکی کے ساتھ اہوال و احوال قیامت کو دیکھنے لگے گا۔ واللہ اعلم
أَءِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ
'A-izaa mitnaa wa kunnaa turaabanw wa 'izaaman 'ainnaa lamab'oosoon
When we have died and become dust and bones, are we indeed to be resurrected?
بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا پھر اٹھائے جائیں گے؟
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے ؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا، ابن مسعود ؓ کی قرأت ام من عددنا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں اور اس کے فرمان بھی۔ لیکن یہ تو اسے سن کر ہنسی اڑاتے ہیں۔ اور جب کبھی کوئی واضح دلیل سامنے آجاتی ہے تو مسخرا پن کرنے لگتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے۔ ہم کسی طرح اسے نہیں ماننے کے کہ مر کر مٹی ہو کر پھر جی اٹھیں بلکہ ہمارے باپ دادا بھی دوسری زندگی میں آجائیں ہم تو اس کے قائل نہیں۔ اے نبی ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ ہاں تم یقینا دوبارہ پیدا کئے جاؤ گے۔ تم ہو کیا چیز اللہ کی قدرت اور مشیت کے ماتحت ہو، اس کی وہ ذات ہے کہ کسی کی اس کے سامنے کوئی ہستی نہیں۔ فرماتا ہے (کل اتوہ داخرین) ہر شخص اس کے سامنے عاجزی اور لاچاری سے حاضر ہونے والا ہے۔ ایک آیت میں ہے (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60) 40۔ غافر :60) میری عبادت سے سرکشی کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جسے تم مشکل سمجھتے ہو، وہ مجھ پر تو بالکل ہی آسان ہے صرف ایک آواز لگتے ہی ہر ایک زمین سے نکل کر دہشت ناکی کے ساتھ اہوال و احوال قیامت کو دیکھنے لگے گا۔ واللہ اعلم
أَوَءَابَآؤُنَا ٱلْأَوَّلُونَ
Awa aabaa'unal awwaloon
And our forefathers [as well]?"
اور کیا ہمارے باپ دادا بھی (جو) پہلے (ہو گزرے ہیں)
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے ؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا، ابن مسعود ؓ کی قرأت ام من عددنا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں اور اس کے فرمان بھی۔ لیکن یہ تو اسے سن کر ہنسی اڑاتے ہیں۔ اور جب کبھی کوئی واضح دلیل سامنے آجاتی ہے تو مسخرا پن کرنے لگتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے۔ ہم کسی طرح اسے نہیں ماننے کے کہ مر کر مٹی ہو کر پھر جی اٹھیں بلکہ ہمارے باپ دادا بھی دوسری زندگی میں آجائیں ہم تو اس کے قائل نہیں۔ اے نبی ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ ہاں تم یقینا دوبارہ پیدا کئے جاؤ گے۔ تم ہو کیا چیز اللہ کی قدرت اور مشیت کے ماتحت ہو، اس کی وہ ذات ہے کہ کسی کی اس کے سامنے کوئی ہستی نہیں۔ فرماتا ہے (کل اتوہ داخرین) ہر شخص اس کے سامنے عاجزی اور لاچاری سے حاضر ہونے والا ہے۔ ایک آیت میں ہے (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60) 40۔ غافر :60) میری عبادت سے سرکشی کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جسے تم مشکل سمجھتے ہو، وہ مجھ پر تو بالکل ہی آسان ہے صرف ایک آواز لگتے ہی ہر ایک زمین سے نکل کر دہشت ناکی کے ساتھ اہوال و احوال قیامت کو دیکھنے لگے گا۔ واللہ اعلم
قُلْ نَعَمْ وَأَنتُمْ دَٰخِرُونَ
Qul na'am wa antum daakhiroon
Say, "Yes, and you will be [rendered] contemptible."
کہہ دو کہ ہاں اور تم ذلیل ہوگے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے ؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا، ابن مسعود ؓ کی قرأت ام من عددنا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں اور اس کے فرمان بھی۔ لیکن یہ تو اسے سن کر ہنسی اڑاتے ہیں۔ اور جب کبھی کوئی واضح دلیل سامنے آجاتی ہے تو مسخرا پن کرنے لگتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے۔ ہم کسی طرح اسے نہیں ماننے کے کہ مر کر مٹی ہو کر پھر جی اٹھیں بلکہ ہمارے باپ دادا بھی دوسری زندگی میں آجائیں ہم تو اس کے قائل نہیں۔ اے نبی ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ ہاں تم یقینا دوبارہ پیدا کئے جاؤ گے۔ تم ہو کیا چیز اللہ کی قدرت اور مشیت کے ماتحت ہو، اس کی وہ ذات ہے کہ کسی کی اس کے سامنے کوئی ہستی نہیں۔ فرماتا ہے (کل اتوہ داخرین) ہر شخص اس کے سامنے عاجزی اور لاچاری سے حاضر ہونے والا ہے۔ ایک آیت میں ہے (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60) 40۔ غافر :60) میری عبادت سے سرکشی کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جسے تم مشکل سمجھتے ہو، وہ مجھ پر تو بالکل ہی آسان ہے صرف ایک آواز لگتے ہی ہر ایک زمین سے نکل کر دہشت ناکی کے ساتھ اہوال و احوال قیامت کو دیکھنے لگے گا۔ واللہ اعلم
فَإِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌ وَٰحِدَةٌ فَإِذَا هُمْ يَنظُرُونَ
Fa innamaa hiya zajra tunw waahidatun fa izaa hum yanzuroon
It will be only one shout, and at once they will be observing.
وہ تو ایک زور کی آواز ہوگی اور یہ اس وقت دیکھنے لگیں گے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے ؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا، ابن مسعود ؓ کی قرأت ام من عددنا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں اور اس کے فرمان بھی۔ لیکن یہ تو اسے سن کر ہنسی اڑاتے ہیں۔ اور جب کبھی کوئی واضح دلیل سامنے آجاتی ہے تو مسخرا پن کرنے لگتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے۔ ہم کسی طرح اسے نہیں ماننے کے کہ مر کر مٹی ہو کر پھر جی اٹھیں بلکہ ہمارے باپ دادا بھی دوسری زندگی میں آجائیں ہم تو اس کے قائل نہیں۔ اے نبی ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ ہاں تم یقینا دوبارہ پیدا کئے جاؤ گے۔ تم ہو کیا چیز اللہ کی قدرت اور مشیت کے ماتحت ہو، اس کی وہ ذات ہے کہ کسی کی اس کے سامنے کوئی ہستی نہیں۔ فرماتا ہے (کل اتوہ داخرین) ہر شخص اس کے سامنے عاجزی اور لاچاری سے حاضر ہونے والا ہے۔ ایک آیت میں ہے (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60) 40۔ غافر :60) میری عبادت سے سرکشی کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جسے تم مشکل سمجھتے ہو، وہ مجھ پر تو بالکل ہی آسان ہے صرف ایک آواز لگتے ہی ہر ایک زمین سے نکل کر دہشت ناکی کے ساتھ اہوال و احوال قیامت کو دیکھنے لگے گا۔ واللہ اعلم
وَقَالُوا۟ يَٰوَيْلَنَا هَٰذَا يَوْمُ ٱلدِّينِ
Qa qaaloo yaa wailanaa haazaa Yawmud-Deen
They will say, "O woe to us! This is the Day of Recompense."
اور کہیں گے، ہائے شامت یہی جزا کا دن ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
قیامت والے دن کفار کا اپنے تئیں ملامت کرنا اور پچھتانا اور افسوس و حسرت کرنا بیان ہو رہا ہے کہ وہ نادم ہو کر قیامت کے دہشت خیز اور وحشت انگیز امور کو دیکھ کر کہیں گے ہائے ہائے یہی تو روز جزا ہے۔ تو مومن اور فرشتے بطور ڈانٹ ڈپٹ اور ندامت بڑھانے کے ان سے کہیں گے ہاں یہی تو وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم سچا نہیں مانتے تھے۔ اس دن اللہ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے جوڑوں کو ان کے بھائی بندوں کو اور ان جیسوں کو ایک جاجمع کرو۔ مثلاً زانی زانیوں کے ساتھ سود خوار سود خواروں کے ساتھ شرابی شرابیوں کے ساتھ وغیرہ ایک قول یہ بھی ہے کہ ظالموں کو اور ان کی عورتوں کو، لیکن یہ غریب ہے۔ ٹھیک مطلب یہی ہے کہ انہی جیسوں کو اور ان کے ساتھ ہی جن بتوں کو اور جن جن کو شریک اللہ یہ مقرر کئے ہوئے تھے سب کو جمع کرو۔ پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ جیسے فرمان ہے۔ (وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا 97) 17۔ الإسراء :97) ، یعنی انہیں ان کے منہ کے بل اندھے بہرے گونگے کرکے ہم جمع کریں گے پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا جس کی آگ جب کبھی ہلکی ہوجائے ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔ انہیں جہنم کے پاس کچھ دیر ٹھہرا دو تاکہ ہم ان سے پوچھ گچھ کرلیں۔ ان سے حساب لے لیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص کسی کو کسی چیز کی طرف بلائے۔ وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا نہ بیوفائی ہوگی نہ جدائی ہوگی گو ایک کو ہی بلایا ہو پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی حضرت عثمان بن زائدہ فرماتے ہیں سب سے پہلے انسان سے اس کے ساتھیوں کی بابت سوال کیا جائے گا۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیوں آج ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ تم تو دنیا میں کہتے پھرتے تھے کہ ہم سب ایک ساتھ ہیں اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ یہ تو کہاں ؟ بلکہ آج تو یہ ہتھیار ڈال چکے اللہ کے فرمانبردار بن گئے۔ نہ اللہ کے کسی فرمان کا خلاف کریں نہ کرسکیں نہ اس سے بچ سکیں نہ وہاں سے بھاگ سکیں۔ واللہ اعلم۔
هَٰذَا يَوْمُ ٱلْفَصْلِ ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ
Haazaa Yawmul Faslil lazee kuntum bihee tukaziboon
[They will be told], "This is the Day of Judgement which you used to deny."
(کہا جائے گا کہ ہاں) فیصلے کا دن جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے یہی ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
قیامت والے دن کفار کا اپنے تئیں ملامت کرنا اور پچھتانا اور افسوس و حسرت کرنا بیان ہو رہا ہے کہ وہ نادم ہو کر قیامت کے دہشت خیز اور وحشت انگیز امور کو دیکھ کر کہیں گے ہائے ہائے یہی تو روز جزا ہے۔ تو مومن اور فرشتے بطور ڈانٹ ڈپٹ اور ندامت بڑھانے کے ان سے کہیں گے ہاں یہی تو وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم سچا نہیں مانتے تھے۔ اس دن اللہ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے جوڑوں کو ان کے بھائی بندوں کو اور ان جیسوں کو ایک جاجمع کرو۔ مثلاً زانی زانیوں کے ساتھ سود خوار سود خواروں کے ساتھ شرابی شرابیوں کے ساتھ وغیرہ ایک قول یہ بھی ہے کہ ظالموں کو اور ان کی عورتوں کو، لیکن یہ غریب ہے۔ ٹھیک مطلب یہی ہے کہ انہی جیسوں کو اور ان کے ساتھ ہی جن بتوں کو اور جن جن کو شریک اللہ یہ مقرر کئے ہوئے تھے سب کو جمع کرو۔ پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ جیسے فرمان ہے۔ (وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا 97) 17۔ الإسراء :97) ، یعنی انہیں ان کے منہ کے بل اندھے بہرے گونگے کرکے ہم جمع کریں گے پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا جس کی آگ جب کبھی ہلکی ہوجائے ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔ انہیں جہنم کے پاس کچھ دیر ٹھہرا دو تاکہ ہم ان سے پوچھ گچھ کرلیں۔ ان سے حساب لے لیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص کسی کو کسی چیز کی طرف بلائے۔ وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا نہ بیوفائی ہوگی نہ جدائی ہوگی گو ایک کو ہی بلایا ہو پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی حضرت عثمان بن زائدہ فرماتے ہیں سب سے پہلے انسان سے اس کے ساتھیوں کی بابت سوال کیا جائے گا۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیوں آج ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ تم تو دنیا میں کہتے پھرتے تھے کہ ہم سب ایک ساتھ ہیں اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ یہ تو کہاں ؟ بلکہ آج تو یہ ہتھیار ڈال چکے اللہ کے فرمانبردار بن گئے۔ نہ اللہ کے کسی فرمان کا خلاف کریں نہ کرسکیں نہ اس سے بچ سکیں نہ وہاں سے بھاگ سکیں۔ واللہ اعلم۔
ٱحْشُرُوا۟ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ وَأَزْوَٰجَهُمْ وَمَا كَانُوا۟ يَعْبُدُونَ
Uhshurul lazeena zalamoo wa azwaajahum wa maa kaanoo ya'budoon
[The angels will be ordered], "Gather those who committed wrong, their kinds, and what they used to worship
جو لوگ ظلم کرتے تھے ان کو اور ان کے ہم جنسوں کو اور جن کو وہ پوجا کرتے تھے (سب کو) جمع کرلو
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
قیامت والے دن کفار کا اپنے تئیں ملامت کرنا اور پچھتانا اور افسوس و حسرت کرنا بیان ہو رہا ہے کہ وہ نادم ہو کر قیامت کے دہشت خیز اور وحشت انگیز امور کو دیکھ کر کہیں گے ہائے ہائے یہی تو روز جزا ہے۔ تو مومن اور فرشتے بطور ڈانٹ ڈپٹ اور ندامت بڑھانے کے ان سے کہیں گے ہاں یہی تو وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم سچا نہیں مانتے تھے۔ اس دن اللہ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے جوڑوں کو ان کے بھائی بندوں کو اور ان جیسوں کو ایک جاجمع کرو۔ مثلاً زانی زانیوں کے ساتھ سود خوار سود خواروں کے ساتھ شرابی شرابیوں کے ساتھ وغیرہ ایک قول یہ بھی ہے کہ ظالموں کو اور ان کی عورتوں کو، لیکن یہ غریب ہے۔ ٹھیک مطلب یہی ہے کہ انہی جیسوں کو اور ان کے ساتھ ہی جن بتوں کو اور جن جن کو شریک اللہ یہ مقرر کئے ہوئے تھے سب کو جمع کرو۔ پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ جیسے فرمان ہے۔ (وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا 97) 17۔ الإسراء :97) ، یعنی انہیں ان کے منہ کے بل اندھے بہرے گونگے کرکے ہم جمع کریں گے پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا جس کی آگ جب کبھی ہلکی ہوجائے ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔ انہیں جہنم کے پاس کچھ دیر ٹھہرا دو تاکہ ہم ان سے پوچھ گچھ کرلیں۔ ان سے حساب لے لیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص کسی کو کسی چیز کی طرف بلائے۔ وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا نہ بیوفائی ہوگی نہ جدائی ہوگی گو ایک کو ہی بلایا ہو پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی حضرت عثمان بن زائدہ فرماتے ہیں سب سے پہلے انسان سے اس کے ساتھیوں کی بابت سوال کیا جائے گا۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیوں آج ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ تم تو دنیا میں کہتے پھرتے تھے کہ ہم سب ایک ساتھ ہیں اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ یہ تو کہاں ؟ بلکہ آج تو یہ ہتھیار ڈال چکے اللہ کے فرمانبردار بن گئے۔ نہ اللہ کے کسی فرمان کا خلاف کریں نہ کرسکیں نہ اس سے بچ سکیں نہ وہاں سے بھاگ سکیں۔ واللہ اعلم۔
مِن دُونِ ٱللَّهِ فَٱهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلْجَحِيمِ
Min doonil laahi fahdoohum ilaa siraatil Jaheem
Other than Allah, and guide them to the path of Hellfire
(یعنی جن کو) خدا کے سوا (پوجا کرتے تھے) پھر ان کو جہنم کے رستے پر چلا دو
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
قیامت والے دن کفار کا اپنے تئیں ملامت کرنا اور پچھتانا اور افسوس و حسرت کرنا بیان ہو رہا ہے کہ وہ نادم ہو کر قیامت کے دہشت خیز اور وحشت انگیز امور کو دیکھ کر کہیں گے ہائے ہائے یہی تو روز جزا ہے۔ تو مومن اور فرشتے بطور ڈانٹ ڈپٹ اور ندامت بڑھانے کے ان سے کہیں گے ہاں یہی تو وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم سچا نہیں مانتے تھے۔ اس دن اللہ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے جوڑوں کو ان کے بھائی بندوں کو اور ان جیسوں کو ایک جاجمع کرو۔ مثلاً زانی زانیوں کے ساتھ سود خوار سود خواروں کے ساتھ شرابی شرابیوں کے ساتھ وغیرہ ایک قول یہ بھی ہے کہ ظالموں کو اور ان کی عورتوں کو، لیکن یہ غریب ہے۔ ٹھیک مطلب یہی ہے کہ انہی جیسوں کو اور ان کے ساتھ ہی جن بتوں کو اور جن جن کو شریک اللہ یہ مقرر کئے ہوئے تھے سب کو جمع کرو۔ پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ جیسے فرمان ہے۔ (وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا 97) 17۔ الإسراء :97) ، یعنی انہیں ان کے منہ کے بل اندھے بہرے گونگے کرکے ہم جمع کریں گے پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا جس کی آگ جب کبھی ہلکی ہوجائے ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔ انہیں جہنم کے پاس کچھ دیر ٹھہرا دو تاکہ ہم ان سے پوچھ گچھ کرلیں۔ ان سے حساب لے لیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص کسی کو کسی چیز کی طرف بلائے۔ وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا نہ بیوفائی ہوگی نہ جدائی ہوگی گو ایک کو ہی بلایا ہو پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی حضرت عثمان بن زائدہ فرماتے ہیں سب سے پہلے انسان سے اس کے ساتھیوں کی بابت سوال کیا جائے گا۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیوں آج ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ تم تو دنیا میں کہتے پھرتے تھے کہ ہم سب ایک ساتھ ہیں اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ یہ تو کہاں ؟ بلکہ آج تو یہ ہتھیار ڈال چکے اللہ کے فرمانبردار بن گئے۔ نہ اللہ کے کسی فرمان کا خلاف کریں نہ کرسکیں نہ اس سے بچ سکیں نہ وہاں سے بھاگ سکیں۔ واللہ اعلم۔
وَقِفُوهُمْ إِنَّهُم مَّسْـُٔولُونَ
Wa qifoohum innahum mas'ooloon
And stop them; indeed, they are to be questioned."
اور ان کو ٹھیرائے رکھو کہ ان سے (کچھ) پوچھنا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
قیامت والے دن کفار کا اپنے تئیں ملامت کرنا اور پچھتانا اور افسوس و حسرت کرنا بیان ہو رہا ہے کہ وہ نادم ہو کر قیامت کے دہشت خیز اور وحشت انگیز امور کو دیکھ کر کہیں گے ہائے ہائے یہی تو روز جزا ہے۔ تو مومن اور فرشتے بطور ڈانٹ ڈپٹ اور ندامت بڑھانے کے ان سے کہیں گے ہاں یہی تو وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم سچا نہیں مانتے تھے۔ اس دن اللہ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے جوڑوں کو ان کے بھائی بندوں کو اور ان جیسوں کو ایک جاجمع کرو۔ مثلاً زانی زانیوں کے ساتھ سود خوار سود خواروں کے ساتھ شرابی شرابیوں کے ساتھ وغیرہ ایک قول یہ بھی ہے کہ ظالموں کو اور ان کی عورتوں کو، لیکن یہ غریب ہے۔ ٹھیک مطلب یہی ہے کہ انہی جیسوں کو اور ان کے ساتھ ہی جن بتوں کو اور جن جن کو شریک اللہ یہ مقرر کئے ہوئے تھے سب کو جمع کرو۔ پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ جیسے فرمان ہے۔ (وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا 97) 17۔ الإسراء :97) ، یعنی انہیں ان کے منہ کے بل اندھے بہرے گونگے کرکے ہم جمع کریں گے پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا جس کی آگ جب کبھی ہلکی ہوجائے ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔ انہیں جہنم کے پاس کچھ دیر ٹھہرا دو تاکہ ہم ان سے پوچھ گچھ کرلیں۔ ان سے حساب لے لیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص کسی کو کسی چیز کی طرف بلائے۔ وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا نہ بیوفائی ہوگی نہ جدائی ہوگی گو ایک کو ہی بلایا ہو پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی حضرت عثمان بن زائدہ فرماتے ہیں سب سے پہلے انسان سے اس کے ساتھیوں کی بابت سوال کیا جائے گا۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیوں آج ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ تم تو دنیا میں کہتے پھرتے تھے کہ ہم سب ایک ساتھ ہیں اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ یہ تو کہاں ؟ بلکہ آج تو یہ ہتھیار ڈال چکے اللہ کے فرمانبردار بن گئے۔ نہ اللہ کے کسی فرمان کا خلاف کریں نہ کرسکیں نہ اس سے بچ سکیں نہ وہاں سے بھاگ سکیں۔ واللہ اعلم۔
مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُونَ
Maa lakum laa tanaasaroon
[They will be asked], "What is [wrong] with you? Why do you not help each other?"
تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
قیامت والے دن کفار کا اپنے تئیں ملامت کرنا اور پچھتانا اور افسوس و حسرت کرنا بیان ہو رہا ہے کہ وہ نادم ہو کر قیامت کے دہشت خیز اور وحشت انگیز امور کو دیکھ کر کہیں گے ہائے ہائے یہی تو روز جزا ہے۔ تو مومن اور فرشتے بطور ڈانٹ ڈپٹ اور ندامت بڑھانے کے ان سے کہیں گے ہاں یہی تو وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم سچا نہیں مانتے تھے۔ اس دن اللہ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے جوڑوں کو ان کے بھائی بندوں کو اور ان جیسوں کو ایک جاجمع کرو۔ مثلاً زانی زانیوں کے ساتھ سود خوار سود خواروں کے ساتھ شرابی شرابیوں کے ساتھ وغیرہ ایک قول یہ بھی ہے کہ ظالموں کو اور ان کی عورتوں کو، لیکن یہ غریب ہے۔ ٹھیک مطلب یہی ہے کہ انہی جیسوں کو اور ان کے ساتھ ہی جن بتوں کو اور جن جن کو شریک اللہ یہ مقرر کئے ہوئے تھے سب کو جمع کرو۔ پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ جیسے فرمان ہے۔ (وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا 97) 17۔ الإسراء :97) ، یعنی انہیں ان کے منہ کے بل اندھے بہرے گونگے کرکے ہم جمع کریں گے پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا جس کی آگ جب کبھی ہلکی ہوجائے ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔ انہیں جہنم کے پاس کچھ دیر ٹھہرا دو تاکہ ہم ان سے پوچھ گچھ کرلیں۔ ان سے حساب لے لیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص کسی کو کسی چیز کی طرف بلائے۔ وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا نہ بیوفائی ہوگی نہ جدائی ہوگی گو ایک کو ہی بلایا ہو پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی حضرت عثمان بن زائدہ فرماتے ہیں سب سے پہلے انسان سے اس کے ساتھیوں کی بابت سوال کیا جائے گا۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیوں آج ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ تم تو دنیا میں کہتے پھرتے تھے کہ ہم سب ایک ساتھ ہیں اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ یہ تو کہاں ؟ بلکہ آج تو یہ ہتھیار ڈال چکے اللہ کے فرمانبردار بن گئے۔ نہ اللہ کے کسی فرمان کا خلاف کریں نہ کرسکیں نہ اس سے بچ سکیں نہ وہاں سے بھاگ سکیں۔ واللہ اعلم۔
بَلْ هُمُ ٱلْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ
Bal humul Yawma mustaslimoon
But they, that Day, are in surrender.
بلکہ آج تو وہ فرمانبردار ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
قیامت والے دن کفار کا اپنے تئیں ملامت کرنا اور پچھتانا اور افسوس و حسرت کرنا بیان ہو رہا ہے کہ وہ نادم ہو کر قیامت کے دہشت خیز اور وحشت انگیز امور کو دیکھ کر کہیں گے ہائے ہائے یہی تو روز جزا ہے۔ تو مومن اور فرشتے بطور ڈانٹ ڈپٹ اور ندامت بڑھانے کے ان سے کہیں گے ہاں یہی تو وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم سچا نہیں مانتے تھے۔ اس دن اللہ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے جوڑوں کو ان کے بھائی بندوں کو اور ان جیسوں کو ایک جاجمع کرو۔ مثلاً زانی زانیوں کے ساتھ سود خوار سود خواروں کے ساتھ شرابی شرابیوں کے ساتھ وغیرہ ایک قول یہ بھی ہے کہ ظالموں کو اور ان کی عورتوں کو، لیکن یہ غریب ہے۔ ٹھیک مطلب یہی ہے کہ انہی جیسوں کو اور ان کے ساتھ ہی جن بتوں کو اور جن جن کو شریک اللہ یہ مقرر کئے ہوئے تھے سب کو جمع کرو۔ پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ جیسے فرمان ہے۔ (وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا 97) 17۔ الإسراء :97) ، یعنی انہیں ان کے منہ کے بل اندھے بہرے گونگے کرکے ہم جمع کریں گے پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا جس کی آگ جب کبھی ہلکی ہوجائے ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔ انہیں جہنم کے پاس کچھ دیر ٹھہرا دو تاکہ ہم ان سے پوچھ گچھ کرلیں۔ ان سے حساب لے لیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص کسی کو کسی چیز کی طرف بلائے۔ وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا نہ بیوفائی ہوگی نہ جدائی ہوگی گو ایک کو ہی بلایا ہو پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی حضرت عثمان بن زائدہ فرماتے ہیں سب سے پہلے انسان سے اس کے ساتھیوں کی بابت سوال کیا جائے گا۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیوں آج ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ تم تو دنیا میں کہتے پھرتے تھے کہ ہم سب ایک ساتھ ہیں اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ یہ تو کہاں ؟ بلکہ آج تو یہ ہتھیار ڈال چکے اللہ کے فرمانبردار بن گئے۔ نہ اللہ کے کسی فرمان کا خلاف کریں نہ کرسکیں نہ اس سے بچ سکیں نہ وہاں سے بھاگ سکیں۔ واللہ اعلم۔
وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَآءَلُونَ
Wa aqbala ba'duhum 'alaa ba'diny yatasaaa'aloon
And they will approach one another blaming each other.
اور ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے سوال (وجواب) کریں گے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
دوزخیوں کا اپنے بزرگوں سے شکوہ۔ کافر لوگ جس طرح جہنم کے طبقوں میں جلتے ہوئے آپس میں جھگڑے کریں گے اسی طرح قیامت کے میدان میں وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کمزور لوگ زور آوروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع فرمان تھے کیا آج ہمیں تم تھوڑے بہت عذاب سے بچالو گے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو خود تمہارے ساتھ ہی اسی جہنم میں جل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرما چکا۔ اور جیسے اور جگہ ان کی یہ بات چیت اس طرح منقول ہے کہ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو خود ہی بدکار تھے۔ یہ کہیں گے بلکہ دن رات کا مکر جبکہ تم ہمیں حکم کرتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک مقرر کریں۔ عذاب کو دیکھتے ہی یہ سب کے سب بےطرح نادام و پیشمان ہوں گے لیکن اپنی ندامت کو چھپائیں گے۔ ان تمام کفار کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے جائیں گے ہاں یہ یقینی بات ہے کہ ہر ایک کو صرف اس کی کرنی بھرنی پڑے گی پس یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے بڑوں اور سرداروں سے کہیں گے تم ہماری دائیں جانب سے آتے تھے یعنی چونکہ ہم کمزور کم حیثیت تھے اور تمہیں ہم پر ترجیح تھی اس لیے تم ہمیں دبادبو کر حق سے ناحق کی طرف پھیر دیتے تھے، یہ کافروں کا مقولہ ہوگا جو وہ شیطانوں سے کہیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان یہ بات جنات سے کہیں گے کہ تم ہمیں بھلائی سے روک کر برائی پر آمادہ کرتے تھے گناہ کو مزین اور شیریں دکھاتے تھے اور نیکی کو بری اور مشکل جتاتے تھے، حق سے روکتے تھے باطل پر جما دیتے تھے، جب کبھی نیکی کا خیال ہمارے دل میں آتا تھا تم کسی نہ کسی فریب سے اس سے روک دیتے تھے، اسلام، ایمان، خیرو خوبی، نیکی اور سعادت مندی سے تم نے ہمیں محروم کردیا۔ توحید سے دور ڈال دیا۔ ہم تمہیں اپنا خیر خواہ سمجھتے رہے، راز دار بنائے رہے، تمہاری باتیں مانتے رہے تمہیں بھلا آدمی سمجھتے رہے۔ اس کے جواب میں جنات اور انسان جتنے بھی سردار ذی عزت اور بڑے لوگ تھے ان کمزوروں کو جواب دیں گے کہ اس میں ہمارا تو کوئی قصور نہیں تم تو خود ہی ایسے ہی تھے تمہارے دل ایمان سے بھاگتے تھے اور کفر کی طرف دوڑ کر جاتے تھے۔ ہم نے تمہیں جس چیز کی طرف بلایا وہ کوئی حق بات نہ تھی نہ اس کی بھلائی پر کوئی دلیل تھی لیکن چونکہ تم طبعاً برائی کی طرف مائل تھے خود تمہارے دلوں میں سرکشی اور برائی تھی اس لیے تم نے ہمارا کہا مان لیا۔ اب تو ہم سب پر اللہ کا قول ثابت ہوگیا کہ ہم یقینا عذابوں کا مزہ چکھنے والے ہیں۔ یہ بڑے لوگ چھوٹوں سے یہ متبوع لوگ اپنے تابعداروں سے کہیں گے کہ ہم تو خود ہی بہکے ہوئے تھے ہم نے تمہیں بھی اپنی ضلالت کی طرف بلایا تم دوڑے ہوئے آگئے۔ بتاؤ تم نے ہماری بات مان لی ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے پس آج کے دن سب لوگ جہنم کے عذابوں میں شریک ہیں ہر ایک اپنے اپنے اعمال کی سزا بھگت رہا ہے۔ مجرموں کے ساتھ ہم اسی طرح کیا کرتے ہیں۔ یہ مومنوں کی طرح اللہ کی توحید کے قائل نہ تھے بلکہ توحید کی آواز سے تکبر نفرت کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کروں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں جو اسے کہہ لے اس نے اپنا مال اور اپنی جان بچالی مگر اسلامی فرمان سے۔ اور اس کا باطنی حساب اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ کی کتاب میں بھی یہی مضمون ہے۔ اور ایک متکبر قوم کا ذکر ہے کہ وہ اس کلمہ سے روگردانی کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ابو العلاء سے مروی ہے کہ یہودیوں کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور ان سے سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے اللہ کی اور عزیر کی۔ ان سے کہا جائے گا اچھا بائیں طرف آؤ۔ پھر نصرانیوں سے یہی سوال ہوگا وہ کہیں گے اللہ کی اور مسیح کی تو ان سے بھی یہی کہا جائے گا پھر مشرکین کو لایا جائے گا اور ان سے لا الہ الا اللہ کہا جائے گا وہ تکبر کریں گے تین مرتبہ ایسا ہی ہوگا پھر حکم ہوگا انہیں بھی بائیں طرف لے چلو فرشتے انہیں پرندوں سے بھی جلدی پہنچادیں گے۔ پھر مسلمانوں کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائیگا کہ تم کس کی عبادت کرتے رہے ؟ یہ کہیں گے صرف اللہ تعالیٰ کی۔ تو ان سے کہا جائے گا کیا تم اسے دیکھ کر پہچان سکتے ہو ؟ یہ کہیں گے ہاں۔ پوچھا جائے گا تم کیسے پہچان لو گے ؟ حالانکہ تم نے کبھی اسے دیکھا نہیں یہ جواب دیں گے ہاں یہ تو ٹھیک ہے ہم جانتے ہیں کہ اس کے برابر کا کوئی نہیں پس اللہ تعالیٰ اپنے تئیں انہیں پہچنوائے گا اور ان کو نجات دے گا۔ یہ کلمہ توحید اور رد شرک سن کر جواب دیتے تھے کہ کیا اس شاعر و مجنوں کے کہنے سے ہم اپنی معبودوں سے دست بردار ہوجائیں گے ؟ ماننا تو ایک طرف الٹے رسول اللہ ﷺ کو شاعر اور دیوانہ بتاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کی تکذیب کرتا ہے اور ان کے رد میں فرماتا ہے کہ یہ تو بالکل سچے ہیں سچ لے کر آئے ہیں ساری شریعت سراسر حق ہے خبریں ہوں تو اور حکم ہوں تو۔ یہ رسولوں کو بھی سچا جانتا ہے ان رسولوں نے جو صفتیں اور پاکیزگیاں آپکی بیان کی تھیں۔ انکے صحیح مصدق آپ ہی ہیں۔ یہ بھی وہی احکام بیان کرتے ہیں جو اگلے انبیاء نے کئے جیسے اور آیت میں ہے (مَا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ ۭ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ 43) 41۔ فصلت :43) ، یعنی تجھ سے وہی کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے کے نبیوں سے کہا جاتا رہا۔
قَالُوٓا۟ إِنَّكُمْ كُنتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ ٱلْيَمِينِ
Qaalooo innakum kuntum taatoonanaa 'anil yameen
They will say, "Indeed, you used to come at us from the right."
کہیں گے کیا تم ہی ہمارے پاس دائیں (اور بائیں) سے آتے تھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
دوزخیوں کا اپنے بزرگوں سے شکوہ۔ کافر لوگ جس طرح جہنم کے طبقوں میں جلتے ہوئے آپس میں جھگڑے کریں گے اسی طرح قیامت کے میدان میں وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کمزور لوگ زور آوروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع فرمان تھے کیا آج ہمیں تم تھوڑے بہت عذاب سے بچالو گے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو خود تمہارے ساتھ ہی اسی جہنم میں جل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرما چکا۔ اور جیسے اور جگہ ان کی یہ بات چیت اس طرح منقول ہے کہ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو خود ہی بدکار تھے۔ یہ کہیں گے بلکہ دن رات کا مکر جبکہ تم ہمیں حکم کرتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک مقرر کریں۔ عذاب کو دیکھتے ہی یہ سب کے سب بےطرح نادام و پیشمان ہوں گے لیکن اپنی ندامت کو چھپائیں گے۔ ان تمام کفار کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے جائیں گے ہاں یہ یقینی بات ہے کہ ہر ایک کو صرف اس کی کرنی بھرنی پڑے گی پس یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے بڑوں اور سرداروں سے کہیں گے تم ہماری دائیں جانب سے آتے تھے یعنی چونکہ ہم کمزور کم حیثیت تھے اور تمہیں ہم پر ترجیح تھی اس لیے تم ہمیں دبادبو کر حق سے ناحق کی طرف پھیر دیتے تھے، یہ کافروں کا مقولہ ہوگا جو وہ شیطانوں سے کہیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان یہ بات جنات سے کہیں گے کہ تم ہمیں بھلائی سے روک کر برائی پر آمادہ کرتے تھے گناہ کو مزین اور شیریں دکھاتے تھے اور نیکی کو بری اور مشکل جتاتے تھے، حق سے روکتے تھے باطل پر جما دیتے تھے، جب کبھی نیکی کا خیال ہمارے دل میں آتا تھا تم کسی نہ کسی فریب سے اس سے روک دیتے تھے، اسلام، ایمان، خیرو خوبی، نیکی اور سعادت مندی سے تم نے ہمیں محروم کردیا۔ توحید سے دور ڈال دیا۔ ہم تمہیں اپنا خیر خواہ سمجھتے رہے، راز دار بنائے رہے، تمہاری باتیں مانتے رہے تمہیں بھلا آدمی سمجھتے رہے۔ اس کے جواب میں جنات اور انسان جتنے بھی سردار ذی عزت اور بڑے لوگ تھے ان کمزوروں کو جواب دیں گے کہ اس میں ہمارا تو کوئی قصور نہیں تم تو خود ہی ایسے ہی تھے تمہارے دل ایمان سے بھاگتے تھے اور کفر کی طرف دوڑ کر جاتے تھے۔ ہم نے تمہیں جس چیز کی طرف بلایا وہ کوئی حق بات نہ تھی نہ اس کی بھلائی پر کوئی دلیل تھی لیکن چونکہ تم طبعاً برائی کی طرف مائل تھے خود تمہارے دلوں میں سرکشی اور برائی تھی اس لیے تم نے ہمارا کہا مان لیا۔ اب تو ہم سب پر اللہ کا قول ثابت ہوگیا کہ ہم یقینا عذابوں کا مزہ چکھنے والے ہیں۔ یہ بڑے لوگ چھوٹوں سے یہ متبوع لوگ اپنے تابعداروں سے کہیں گے کہ ہم تو خود ہی بہکے ہوئے تھے ہم نے تمہیں بھی اپنی ضلالت کی طرف بلایا تم دوڑے ہوئے آگئے۔ بتاؤ تم نے ہماری بات مان لی ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے پس آج کے دن سب لوگ جہنم کے عذابوں میں شریک ہیں ہر ایک اپنے اپنے اعمال کی سزا بھگت رہا ہے۔ مجرموں کے ساتھ ہم اسی طرح کیا کرتے ہیں۔ یہ مومنوں کی طرح اللہ کی توحید کے قائل نہ تھے بلکہ توحید کی آواز سے تکبر نفرت کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کروں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں جو اسے کہہ لے اس نے اپنا مال اور اپنی جان بچالی مگر اسلامی فرمان سے۔ اور اس کا باطنی حساب اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ کی کتاب میں بھی یہی مضمون ہے۔ اور ایک متکبر قوم کا ذکر ہے کہ وہ اس کلمہ سے روگردانی کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ابو العلاء سے مروی ہے کہ یہودیوں کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور ان سے سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے اللہ کی اور عزیر کی۔ ان سے کہا جائے گا اچھا بائیں طرف آؤ۔ پھر نصرانیوں سے یہی سوال ہوگا وہ کہیں گے اللہ کی اور مسیح کی تو ان سے بھی یہی کہا جائے گا پھر مشرکین کو لایا جائے گا اور ان سے لا الہ الا اللہ کہا جائے گا وہ تکبر کریں گے تین مرتبہ ایسا ہی ہوگا پھر حکم ہوگا انہیں بھی بائیں طرف لے چلو فرشتے انہیں پرندوں سے بھی جلدی پہنچادیں گے۔ پھر مسلمانوں کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائیگا کہ تم کس کی عبادت کرتے رہے ؟ یہ کہیں گے صرف اللہ تعالیٰ کی۔ تو ان سے کہا جائے گا کیا تم اسے دیکھ کر پہچان سکتے ہو ؟ یہ کہیں گے ہاں۔ پوچھا جائے گا تم کیسے پہچان لو گے ؟ حالانکہ تم نے کبھی اسے دیکھا نہیں یہ جواب دیں گے ہاں یہ تو ٹھیک ہے ہم جانتے ہیں کہ اس کے برابر کا کوئی نہیں پس اللہ تعالیٰ اپنے تئیں انہیں پہچنوائے گا اور ان کو نجات دے گا۔ یہ کلمہ توحید اور رد شرک سن کر جواب دیتے تھے کہ کیا اس شاعر و مجنوں کے کہنے سے ہم اپنی معبودوں سے دست بردار ہوجائیں گے ؟ ماننا تو ایک طرف الٹے رسول اللہ ﷺ کو شاعر اور دیوانہ بتاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کی تکذیب کرتا ہے اور ان کے رد میں فرماتا ہے کہ یہ تو بالکل سچے ہیں سچ لے کر آئے ہیں ساری شریعت سراسر حق ہے خبریں ہوں تو اور حکم ہوں تو۔ یہ رسولوں کو بھی سچا جانتا ہے ان رسولوں نے جو صفتیں اور پاکیزگیاں آپکی بیان کی تھیں۔ انکے صحیح مصدق آپ ہی ہیں۔ یہ بھی وہی احکام بیان کرتے ہیں جو اگلے انبیاء نے کئے جیسے اور آیت میں ہے (مَا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ ۭ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ 43) 41۔ فصلت :43) ، یعنی تجھ سے وہی کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے کے نبیوں سے کہا جاتا رہا۔
قَالُوا۟ بَل لَّمْ تَكُونُوا۟ مُؤْمِنِينَ
Qaaloo bal lam takoonoo mu'mineen
The oppressors will say, "Rather, you [yourselves] were not believers,
وہ کہیں گے بلکہ تم ہی ایمان لانے والے نہ تھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
دوزخیوں کا اپنے بزرگوں سے شکوہ۔ کافر لوگ جس طرح جہنم کے طبقوں میں جلتے ہوئے آپس میں جھگڑے کریں گے اسی طرح قیامت کے میدان میں وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کمزور لوگ زور آوروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع فرمان تھے کیا آج ہمیں تم تھوڑے بہت عذاب سے بچالو گے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو خود تمہارے ساتھ ہی اسی جہنم میں جل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرما چکا۔ اور جیسے اور جگہ ان کی یہ بات چیت اس طرح منقول ہے کہ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو خود ہی بدکار تھے۔ یہ کہیں گے بلکہ دن رات کا مکر جبکہ تم ہمیں حکم کرتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک مقرر کریں۔ عذاب کو دیکھتے ہی یہ سب کے سب بےطرح نادام و پیشمان ہوں گے لیکن اپنی ندامت کو چھپائیں گے۔ ان تمام کفار کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے جائیں گے ہاں یہ یقینی بات ہے کہ ہر ایک کو صرف اس کی کرنی بھرنی پڑے گی پس یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے بڑوں اور سرداروں سے کہیں گے تم ہماری دائیں جانب سے آتے تھے یعنی چونکہ ہم کمزور کم حیثیت تھے اور تمہیں ہم پر ترجیح تھی اس لیے تم ہمیں دبادبو کر حق سے ناحق کی طرف پھیر دیتے تھے، یہ کافروں کا مقولہ ہوگا جو وہ شیطانوں سے کہیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان یہ بات جنات سے کہیں گے کہ تم ہمیں بھلائی سے روک کر برائی پر آمادہ کرتے تھے گناہ کو مزین اور شیریں دکھاتے تھے اور نیکی کو بری اور مشکل جتاتے تھے، حق سے روکتے تھے باطل پر جما دیتے تھے، جب کبھی نیکی کا خیال ہمارے دل میں آتا تھا تم کسی نہ کسی فریب سے اس سے روک دیتے تھے، اسلام، ایمان، خیرو خوبی، نیکی اور سعادت مندی سے تم نے ہمیں محروم کردیا۔ توحید سے دور ڈال دیا۔ ہم تمہیں اپنا خیر خواہ سمجھتے رہے، راز دار بنائے رہے، تمہاری باتیں مانتے رہے تمہیں بھلا آدمی سمجھتے رہے۔ اس کے جواب میں جنات اور انسان جتنے بھی سردار ذی عزت اور بڑے لوگ تھے ان کمزوروں کو جواب دیں گے کہ اس میں ہمارا تو کوئی قصور نہیں تم تو خود ہی ایسے ہی تھے تمہارے دل ایمان سے بھاگتے تھے اور کفر کی طرف دوڑ کر جاتے تھے۔ ہم نے تمہیں جس چیز کی طرف بلایا وہ کوئی حق بات نہ تھی نہ اس کی بھلائی پر کوئی دلیل تھی لیکن چونکہ تم طبعاً برائی کی طرف مائل تھے خود تمہارے دلوں میں سرکشی اور برائی تھی اس لیے تم نے ہمارا کہا مان لیا۔ اب تو ہم سب پر اللہ کا قول ثابت ہوگیا کہ ہم یقینا عذابوں کا مزہ چکھنے والے ہیں۔ یہ بڑے لوگ چھوٹوں سے یہ متبوع لوگ اپنے تابعداروں سے کہیں گے کہ ہم تو خود ہی بہکے ہوئے تھے ہم نے تمہیں بھی اپنی ضلالت کی طرف بلایا تم دوڑے ہوئے آگئے۔ بتاؤ تم نے ہماری بات مان لی ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے پس آج کے دن سب لوگ جہنم کے عذابوں میں شریک ہیں ہر ایک اپنے اپنے اعمال کی سزا بھگت رہا ہے۔ مجرموں کے ساتھ ہم اسی طرح کیا کرتے ہیں۔ یہ مومنوں کی طرح اللہ کی توحید کے قائل نہ تھے بلکہ توحید کی آواز سے تکبر نفرت کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کروں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں جو اسے کہہ لے اس نے اپنا مال اور اپنی جان بچالی مگر اسلامی فرمان سے۔ اور اس کا باطنی حساب اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ کی کتاب میں بھی یہی مضمون ہے۔ اور ایک متکبر قوم کا ذکر ہے کہ وہ اس کلمہ سے روگردانی کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ابو العلاء سے مروی ہے کہ یہودیوں کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور ان سے سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے اللہ کی اور عزیر کی۔ ان سے کہا جائے گا اچھا بائیں طرف آؤ۔ پھر نصرانیوں سے یہی سوال ہوگا وہ کہیں گے اللہ کی اور مسیح کی تو ان سے بھی یہی کہا جائے گا پھر مشرکین کو لایا جائے گا اور ان سے لا الہ الا اللہ کہا جائے گا وہ تکبر کریں گے تین مرتبہ ایسا ہی ہوگا پھر حکم ہوگا انہیں بھی بائیں طرف لے چلو فرشتے انہیں پرندوں سے بھی جلدی پہنچادیں گے۔ پھر مسلمانوں کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائیگا کہ تم کس کی عبادت کرتے رہے ؟ یہ کہیں گے صرف اللہ تعالیٰ کی۔ تو ان سے کہا جائے گا کیا تم اسے دیکھ کر پہچان سکتے ہو ؟ یہ کہیں گے ہاں۔ پوچھا جائے گا تم کیسے پہچان لو گے ؟ حالانکہ تم نے کبھی اسے دیکھا نہیں یہ جواب دیں گے ہاں یہ تو ٹھیک ہے ہم جانتے ہیں کہ اس کے برابر کا کوئی نہیں پس اللہ تعالیٰ اپنے تئیں انہیں پہچنوائے گا اور ان کو نجات دے گا۔ یہ کلمہ توحید اور رد شرک سن کر جواب دیتے تھے کہ کیا اس شاعر و مجنوں کے کہنے سے ہم اپنی معبودوں سے دست بردار ہوجائیں گے ؟ ماننا تو ایک طرف الٹے رسول اللہ ﷺ کو شاعر اور دیوانہ بتاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کی تکذیب کرتا ہے اور ان کے رد میں فرماتا ہے کہ یہ تو بالکل سچے ہیں سچ لے کر آئے ہیں ساری شریعت سراسر حق ہے خبریں ہوں تو اور حکم ہوں تو۔ یہ رسولوں کو بھی سچا جانتا ہے ان رسولوں نے جو صفتیں اور پاکیزگیاں آپکی بیان کی تھیں۔ انکے صحیح مصدق آپ ہی ہیں۔ یہ بھی وہی احکام بیان کرتے ہیں جو اگلے انبیاء نے کئے جیسے اور آیت میں ہے (مَا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ ۭ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ 43) 41۔ فصلت :43) ، یعنی تجھ سے وہی کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے کے نبیوں سے کہا جاتا رہا۔
وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُم مِّن سُلْطَٰنٍۭ بَلْ كُنتُمْ قَوْمًا طَٰغِينَ
Wa maa kaana lanaa 'alaikum min sultaanim bal kuntum qawman taagheen
And we had over you no authority, but you were a transgressing people.
اور ہمارا تم پر کچھ زور نہ تھا۔ بلکہ تم سرکش لوگ تھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
دوزخیوں کا اپنے بزرگوں سے شکوہ۔ کافر لوگ جس طرح جہنم کے طبقوں میں جلتے ہوئے آپس میں جھگڑے کریں گے اسی طرح قیامت کے میدان میں وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کمزور لوگ زور آوروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع فرمان تھے کیا آج ہمیں تم تھوڑے بہت عذاب سے بچالو گے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو خود تمہارے ساتھ ہی اسی جہنم میں جل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرما چکا۔ اور جیسے اور جگہ ان کی یہ بات چیت اس طرح منقول ہے کہ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو خود ہی بدکار تھے۔ یہ کہیں گے بلکہ دن رات کا مکر جبکہ تم ہمیں حکم کرتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک مقرر کریں۔ عذاب کو دیکھتے ہی یہ سب کے سب بےطرح نادام و پیشمان ہوں گے لیکن اپنی ندامت کو چھپائیں گے۔ ان تمام کفار کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے جائیں گے ہاں یہ یقینی بات ہے کہ ہر ایک کو صرف اس کی کرنی بھرنی پڑے گی پس یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے بڑوں اور سرداروں سے کہیں گے تم ہماری دائیں جانب سے آتے تھے یعنی چونکہ ہم کمزور کم حیثیت تھے اور تمہیں ہم پر ترجیح تھی اس لیے تم ہمیں دبادبو کر حق سے ناحق کی طرف پھیر دیتے تھے، یہ کافروں کا مقولہ ہوگا جو وہ شیطانوں سے کہیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان یہ بات جنات سے کہیں گے کہ تم ہمیں بھلائی سے روک کر برائی پر آمادہ کرتے تھے گناہ کو مزین اور شیریں دکھاتے تھے اور نیکی کو بری اور مشکل جتاتے تھے، حق سے روکتے تھے باطل پر جما دیتے تھے، جب کبھی نیکی کا خیال ہمارے دل میں آتا تھا تم کسی نہ کسی فریب سے اس سے روک دیتے تھے، اسلام، ایمان، خیرو خوبی، نیکی اور سعادت مندی سے تم نے ہمیں محروم کردیا۔ توحید سے دور ڈال دیا۔ ہم تمہیں اپنا خیر خواہ سمجھتے رہے، راز دار بنائے رہے، تمہاری باتیں مانتے رہے تمہیں بھلا آدمی سمجھتے رہے۔ اس کے جواب میں جنات اور انسان جتنے بھی سردار ذی عزت اور بڑے لوگ تھے ان کمزوروں کو جواب دیں گے کہ اس میں ہمارا تو کوئی قصور نہیں تم تو خود ہی ایسے ہی تھے تمہارے دل ایمان سے بھاگتے تھے اور کفر کی طرف دوڑ کر جاتے تھے۔ ہم نے تمہیں جس چیز کی طرف بلایا وہ کوئی حق بات نہ تھی نہ اس کی بھلائی پر کوئی دلیل تھی لیکن چونکہ تم طبعاً برائی کی طرف مائل تھے خود تمہارے دلوں میں سرکشی اور برائی تھی اس لیے تم نے ہمارا کہا مان لیا۔ اب تو ہم سب پر اللہ کا قول ثابت ہوگیا کہ ہم یقینا عذابوں کا مزہ چکھنے والے ہیں۔ یہ بڑے لوگ چھوٹوں سے یہ متبوع لوگ اپنے تابعداروں سے کہیں گے کہ ہم تو خود ہی بہکے ہوئے تھے ہم نے تمہیں بھی اپنی ضلالت کی طرف بلایا تم دوڑے ہوئے آگئے۔ بتاؤ تم نے ہماری بات مان لی ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے پس آج کے دن سب لوگ جہنم کے عذابوں میں شریک ہیں ہر ایک اپنے اپنے اعمال کی سزا بھگت رہا ہے۔ مجرموں کے ساتھ ہم اسی طرح کیا کرتے ہیں۔ یہ مومنوں کی طرح اللہ کی توحید کے قائل نہ تھے بلکہ توحید کی آواز سے تکبر نفرت کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کروں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں جو اسے کہہ لے اس نے اپنا مال اور اپنی جان بچالی مگر اسلامی فرمان سے۔ اور اس کا باطنی حساب اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ کی کتاب میں بھی یہی مضمون ہے۔ اور ایک متکبر قوم کا ذکر ہے کہ وہ اس کلمہ سے روگردانی کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ابو العلاء سے مروی ہے کہ یہودیوں کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور ان سے سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے اللہ کی اور عزیر کی۔ ان سے کہا جائے گا اچھا بائیں طرف آؤ۔ پھر نصرانیوں سے یہی سوال ہوگا وہ کہیں گے اللہ کی اور مسیح کی تو ان سے بھی یہی کہا جائے گا پھر مشرکین کو لایا جائے گا اور ان سے لا الہ الا اللہ کہا جائے گا وہ تکبر کریں گے تین مرتبہ ایسا ہی ہوگا پھر حکم ہوگا انہیں بھی بائیں طرف لے چلو فرشتے انہیں پرندوں سے بھی جلدی پہنچادیں گے۔ پھر مسلمانوں کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائیگا کہ تم کس کی عبادت کرتے رہے ؟ یہ کہیں گے صرف اللہ تعالیٰ کی۔ تو ان سے کہا جائے گا کیا تم اسے دیکھ کر پہچان سکتے ہو ؟ یہ کہیں گے ہاں۔ پوچھا جائے گا تم کیسے پہچان لو گے ؟ حالانکہ تم نے کبھی اسے دیکھا نہیں یہ جواب دیں گے ہاں یہ تو ٹھیک ہے ہم جانتے ہیں کہ اس کے برابر کا کوئی نہیں پس اللہ تعالیٰ اپنے تئیں انہیں پہچنوائے گا اور ان کو نجات دے گا۔ یہ کلمہ توحید اور رد شرک سن کر جواب دیتے تھے کہ کیا اس شاعر و مجنوں کے کہنے سے ہم اپنی معبودوں سے دست بردار ہوجائیں گے ؟ ماننا تو ایک طرف الٹے رسول اللہ ﷺ کو شاعر اور دیوانہ بتاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کی تکذیب کرتا ہے اور ان کے رد میں فرماتا ہے کہ یہ تو بالکل سچے ہیں سچ لے کر آئے ہیں ساری شریعت سراسر حق ہے خبریں ہوں تو اور حکم ہوں تو۔ یہ رسولوں کو بھی سچا جانتا ہے ان رسولوں نے جو صفتیں اور پاکیزگیاں آپکی بیان کی تھیں۔ انکے صحیح مصدق آپ ہی ہیں۔ یہ بھی وہی احکام بیان کرتے ہیں جو اگلے انبیاء نے کئے جیسے اور آیت میں ہے (مَا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ ۭ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ 43) 41۔ فصلت :43) ، یعنی تجھ سے وہی کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے کے نبیوں سے کہا جاتا رہا۔
فَحَقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَآ إِنَّا لَذَآئِقُونَ
Fahaqqa 'alainaa qawlu Rabbinaaa innaa lazaaa'iqoon
So the word of our Lord has come into effect upon us; indeed, we will taste [punishment].
سو ہمارے بارے میں ہمارے پروردگار کی بات پوری ہوگئی اب ہم مزے چکھیں گے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
دوزخیوں کا اپنے بزرگوں سے شکوہ۔ کافر لوگ جس طرح جہنم کے طبقوں میں جلتے ہوئے آپس میں جھگڑے کریں گے اسی طرح قیامت کے میدان میں وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کمزور لوگ زور آوروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع فرمان تھے کیا آج ہمیں تم تھوڑے بہت عذاب سے بچالو گے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو خود تمہارے ساتھ ہی اسی جہنم میں جل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرما چکا۔ اور جیسے اور جگہ ان کی یہ بات چیت اس طرح منقول ہے کہ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو خود ہی بدکار تھے۔ یہ کہیں گے بلکہ دن رات کا مکر جبکہ تم ہمیں حکم کرتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک مقرر کریں۔ عذاب کو دیکھتے ہی یہ سب کے سب بےطرح نادام و پیشمان ہوں گے لیکن اپنی ندامت کو چھپائیں گے۔ ان تمام کفار کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے جائیں گے ہاں یہ یقینی بات ہے کہ ہر ایک کو صرف اس کی کرنی بھرنی پڑے گی پس یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے بڑوں اور سرداروں سے کہیں گے تم ہماری دائیں جانب سے آتے تھے یعنی چونکہ ہم کمزور کم حیثیت تھے اور تمہیں ہم پر ترجیح تھی اس لیے تم ہمیں دبادبو کر حق سے ناحق کی طرف پھیر دیتے تھے، یہ کافروں کا مقولہ ہوگا جو وہ شیطانوں سے کہیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان یہ بات جنات سے کہیں گے کہ تم ہمیں بھلائی سے روک کر برائی پر آمادہ کرتے تھے گناہ کو مزین اور شیریں دکھاتے تھے اور نیکی کو بری اور مشکل جتاتے تھے، حق سے روکتے تھے باطل پر جما دیتے تھے، جب کبھی نیکی کا خیال ہمارے دل میں آتا تھا تم کسی نہ کسی فریب سے اس سے روک دیتے تھے، اسلام، ایمان، خیرو خوبی، نیکی اور سعادت مندی سے تم نے ہمیں محروم کردیا۔ توحید سے دور ڈال دیا۔ ہم تمہیں اپنا خیر خواہ سمجھتے رہے، راز دار بنائے رہے، تمہاری باتیں مانتے رہے تمہیں بھلا آدمی سمجھتے رہے۔ اس کے جواب میں جنات اور انسان جتنے بھی سردار ذی عزت اور بڑے لوگ تھے ان کمزوروں کو جواب دیں گے کہ اس میں ہمارا تو کوئی قصور نہیں تم تو خود ہی ایسے ہی تھے تمہارے دل ایمان سے بھاگتے تھے اور کفر کی طرف دوڑ کر جاتے تھے۔ ہم نے تمہیں جس چیز کی طرف بلایا وہ کوئی حق بات نہ تھی نہ اس کی بھلائی پر کوئی دلیل تھی لیکن چونکہ تم طبعاً برائی کی طرف مائل تھے خود تمہارے دلوں میں سرکشی اور برائی تھی اس لیے تم نے ہمارا کہا مان لیا۔ اب تو ہم سب پر اللہ کا قول ثابت ہوگیا کہ ہم یقینا عذابوں کا مزہ چکھنے والے ہیں۔ یہ بڑے لوگ چھوٹوں سے یہ متبوع لوگ اپنے تابعداروں سے کہیں گے کہ ہم تو خود ہی بہکے ہوئے تھے ہم نے تمہیں بھی اپنی ضلالت کی طرف بلایا تم دوڑے ہوئے آگئے۔ بتاؤ تم نے ہماری بات مان لی ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے پس آج کے دن سب لوگ جہنم کے عذابوں میں شریک ہیں ہر ایک اپنے اپنے اعمال کی سزا بھگت رہا ہے۔ مجرموں کے ساتھ ہم اسی طرح کیا کرتے ہیں۔ یہ مومنوں کی طرح اللہ کی توحید کے قائل نہ تھے بلکہ توحید کی آواز سے تکبر نفرت کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کروں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں جو اسے کہہ لے اس نے اپنا مال اور اپنی جان بچالی مگر اسلامی فرمان سے۔ اور اس کا باطنی حساب اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ کی کتاب میں بھی یہی مضمون ہے۔ اور ایک متکبر قوم کا ذکر ہے کہ وہ اس کلمہ سے روگردانی کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ابو العلاء سے مروی ہے کہ یہودیوں کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور ان سے سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے اللہ کی اور عزیر کی۔ ان سے کہا جائے گا اچھا بائیں طرف آؤ۔ پھر نصرانیوں سے یہی سوال ہوگا وہ کہیں گے اللہ کی اور مسیح کی تو ان سے بھی یہی کہا جائے گا پھر مشرکین کو لایا جائے گا اور ان سے لا الہ الا اللہ کہا جائے گا وہ تکبر کریں گے تین مرتبہ ایسا ہی ہوگا پھر حکم ہوگا انہیں بھی بائیں طرف لے چلو فرشتے انہیں پرندوں سے بھی جلدی پہنچادیں گے۔ پھر مسلمانوں کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائیگا کہ تم کس کی عبادت کرتے رہے ؟ یہ کہیں گے صرف اللہ تعالیٰ کی۔ تو ان سے کہا جائے گا کیا تم اسے دیکھ کر پہچان سکتے ہو ؟ یہ کہیں گے ہاں۔ پوچھا جائے گا تم کیسے پہچان لو گے ؟ حالانکہ تم نے کبھی اسے دیکھا نہیں یہ جواب دیں گے ہاں یہ تو ٹھیک ہے ہم جانتے ہیں کہ اس کے برابر کا کوئی نہیں پس اللہ تعالیٰ اپنے تئیں انہیں پہچنوائے گا اور ان کو نجات دے گا۔ یہ کلمہ توحید اور رد شرک سن کر جواب دیتے تھے کہ کیا اس شاعر و مجنوں کے کہنے سے ہم اپنی معبودوں سے دست بردار ہوجائیں گے ؟ ماننا تو ایک طرف الٹے رسول اللہ ﷺ کو شاعر اور دیوانہ بتاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کی تکذیب کرتا ہے اور ان کے رد میں فرماتا ہے کہ یہ تو بالکل سچے ہیں سچ لے کر آئے ہیں ساری شریعت سراسر حق ہے خبریں ہوں تو اور حکم ہوں تو۔ یہ رسولوں کو بھی سچا جانتا ہے ان رسولوں نے جو صفتیں اور پاکیزگیاں آپکی بیان کی تھیں۔ انکے صحیح مصدق آپ ہی ہیں۔ یہ بھی وہی احکام بیان کرتے ہیں جو اگلے انبیاء نے کئے جیسے اور آیت میں ہے (مَا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ ۭ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ 43) 41۔ فصلت :43) ، یعنی تجھ سے وہی کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے کے نبیوں سے کہا جاتا رہا۔
فَأَغْوَيْنَٰكُمْ إِنَّا كُنَّا غَٰوِينَ
Fa aghwainaakum innaa kunnaa ghaaween
And we led you to deviation; indeed, we were deviators."
ہم نے تم کو بھی گمراہ کیا (اور) ہم خود بھی گمراہ تھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
دوزخیوں کا اپنے بزرگوں سے شکوہ۔ کافر لوگ جس طرح جہنم کے طبقوں میں جلتے ہوئے آپس میں جھگڑے کریں گے اسی طرح قیامت کے میدان میں وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کمزور لوگ زور آوروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع فرمان تھے کیا آج ہمیں تم تھوڑے بہت عذاب سے بچالو گے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو خود تمہارے ساتھ ہی اسی جہنم میں جل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرما چکا۔ اور جیسے اور جگہ ان کی یہ بات چیت اس طرح منقول ہے کہ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو خود ہی بدکار تھے۔ یہ کہیں گے بلکہ دن رات کا مکر جبکہ تم ہمیں حکم کرتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک مقرر کریں۔ عذاب کو دیکھتے ہی یہ سب کے سب بےطرح نادام و پیشمان ہوں گے لیکن اپنی ندامت کو چھپائیں گے۔ ان تمام کفار کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے جائیں گے ہاں یہ یقینی بات ہے کہ ہر ایک کو صرف اس کی کرنی بھرنی پڑے گی پس یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے بڑوں اور سرداروں سے کہیں گے تم ہماری دائیں جانب سے آتے تھے یعنی چونکہ ہم کمزور کم حیثیت تھے اور تمہیں ہم پر ترجیح تھی اس لیے تم ہمیں دبادبو کر حق سے ناحق کی طرف پھیر دیتے تھے، یہ کافروں کا مقولہ ہوگا جو وہ شیطانوں سے کہیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان یہ بات جنات سے کہیں گے کہ تم ہمیں بھلائی سے روک کر برائی پر آمادہ کرتے تھے گناہ کو مزین اور شیریں دکھاتے تھے اور نیکی کو بری اور مشکل جتاتے تھے، حق سے روکتے تھے باطل پر جما دیتے تھے، جب کبھی نیکی کا خیال ہمارے دل میں آتا تھا تم کسی نہ کسی فریب سے اس سے روک دیتے تھے، اسلام، ایمان، خیرو خوبی، نیکی اور سعادت مندی سے تم نے ہمیں محروم کردیا۔ توحید سے دور ڈال دیا۔ ہم تمہیں اپنا خیر خواہ سمجھتے رہے، راز دار بنائے رہے، تمہاری باتیں مانتے رہے تمہیں بھلا آدمی سمجھتے رہے۔ اس کے جواب میں جنات اور انسان جتنے بھی سردار ذی عزت اور بڑے لوگ تھے ان کمزوروں کو جواب دیں گے کہ اس میں ہمارا تو کوئی قصور نہیں تم تو خود ہی ایسے ہی تھے تمہارے دل ایمان سے بھاگتے تھے اور کفر کی طرف دوڑ کر جاتے تھے۔ ہم نے تمہیں جس چیز کی طرف بلایا وہ کوئی حق بات نہ تھی نہ اس کی بھلائی پر کوئی دلیل تھی لیکن چونکہ تم طبعاً برائی کی طرف مائل تھے خود تمہارے دلوں میں سرکشی اور برائی تھی اس لیے تم نے ہمارا کہا مان لیا۔ اب تو ہم سب پر اللہ کا قول ثابت ہوگیا کہ ہم یقینا عذابوں کا مزہ چکھنے والے ہیں۔ یہ بڑے لوگ چھوٹوں سے یہ متبوع لوگ اپنے تابعداروں سے کہیں گے کہ ہم تو خود ہی بہکے ہوئے تھے ہم نے تمہیں بھی اپنی ضلالت کی طرف بلایا تم دوڑے ہوئے آگئے۔ بتاؤ تم نے ہماری بات مان لی ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے پس آج کے دن سب لوگ جہنم کے عذابوں میں شریک ہیں ہر ایک اپنے اپنے اعمال کی سزا بھگت رہا ہے۔ مجرموں کے ساتھ ہم اسی طرح کیا کرتے ہیں۔ یہ مومنوں کی طرح اللہ کی توحید کے قائل نہ تھے بلکہ توحید کی آواز سے تکبر نفرت کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کروں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں جو اسے کہہ لے اس نے اپنا مال اور اپنی جان بچالی مگر اسلامی فرمان سے۔ اور اس کا باطنی حساب اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ کی کتاب میں بھی یہی مضمون ہے۔ اور ایک متکبر قوم کا ذکر ہے کہ وہ اس کلمہ سے روگردانی کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ابو العلاء سے مروی ہے کہ یہودیوں کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور ان سے سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے اللہ کی اور عزیر کی۔ ان سے کہا جائے گا اچھا بائیں طرف آؤ۔ پھر نصرانیوں سے یہی سوال ہوگا وہ کہیں گے اللہ کی اور مسیح کی تو ان سے بھی یہی کہا جائے گا پھر مشرکین کو لایا جائے گا اور ان سے لا الہ الا اللہ کہا جائے گا وہ تکبر کریں گے تین مرتبہ ایسا ہی ہوگا پھر حکم ہوگا انہیں بھی بائیں طرف لے چلو فرشتے انہیں پرندوں سے بھی جلدی پہنچادیں گے۔ پھر مسلمانوں کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائیگا کہ تم کس کی عبادت کرتے رہے ؟ یہ کہیں گے صرف اللہ تعالیٰ کی۔ تو ان سے کہا جائے گا کیا تم اسے دیکھ کر پہچان سکتے ہو ؟ یہ کہیں گے ہاں۔ پوچھا جائے گا تم کیسے پہچان لو گے ؟ حالانکہ تم نے کبھی اسے دیکھا نہیں یہ جواب دیں گے ہاں یہ تو ٹھیک ہے ہم جانتے ہیں کہ اس کے برابر کا کوئی نہیں پس اللہ تعالیٰ اپنے تئیں انہیں پہچنوائے گا اور ان کو نجات دے گا۔ یہ کلمہ توحید اور رد شرک سن کر جواب دیتے تھے کہ کیا اس شاعر و مجنوں کے کہنے سے ہم اپنی معبودوں سے دست بردار ہوجائیں گے ؟ ماننا تو ایک طرف الٹے رسول اللہ ﷺ کو شاعر اور دیوانہ بتاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کی تکذیب کرتا ہے اور ان کے رد میں فرماتا ہے کہ یہ تو بالکل سچے ہیں سچ لے کر آئے ہیں ساری شریعت سراسر حق ہے خبریں ہوں تو اور حکم ہوں تو۔ یہ رسولوں کو بھی سچا جانتا ہے ان رسولوں نے جو صفتیں اور پاکیزگیاں آپکی بیان کی تھیں۔ انکے صحیح مصدق آپ ہی ہیں۔ یہ بھی وہی احکام بیان کرتے ہیں جو اگلے انبیاء نے کئے جیسے اور آیت میں ہے (مَا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ ۭ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ 43) 41۔ فصلت :43) ، یعنی تجھ سے وہی کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے کے نبیوں سے کہا جاتا رہا۔
فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍ فِى ٱلْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ
Fa innahum Yawma'izin fil'azaabi mushtarikoon
So indeed they, that Day, will be sharing in the punishment.
پس وہ اس روز عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
دوزخیوں کا اپنے بزرگوں سے شکوہ۔ کافر لوگ جس طرح جہنم کے طبقوں میں جلتے ہوئے آپس میں جھگڑے کریں گے اسی طرح قیامت کے میدان میں وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کمزور لوگ زور آوروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع فرمان تھے کیا آج ہمیں تم تھوڑے بہت عذاب سے بچالو گے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو خود تمہارے ساتھ ہی اسی جہنم میں جل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرما چکا۔ اور جیسے اور جگہ ان کی یہ بات چیت اس طرح منقول ہے کہ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو خود ہی بدکار تھے۔ یہ کہیں گے بلکہ دن رات کا مکر جبکہ تم ہمیں حکم کرتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک مقرر کریں۔ عذاب کو دیکھتے ہی یہ سب کے سب بےطرح نادام و پیشمان ہوں گے لیکن اپنی ندامت کو چھپائیں گے۔ ان تمام کفار کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے جائیں گے ہاں یہ یقینی بات ہے کہ ہر ایک کو صرف اس کی کرنی بھرنی پڑے گی پس یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے بڑوں اور سرداروں سے کہیں گے تم ہماری دائیں جانب سے آتے تھے یعنی چونکہ ہم کمزور کم حیثیت تھے اور تمہیں ہم پر ترجیح تھی اس لیے تم ہمیں دبادبو کر حق سے ناحق کی طرف پھیر دیتے تھے، یہ کافروں کا مقولہ ہوگا جو وہ شیطانوں سے کہیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان یہ بات جنات سے کہیں گے کہ تم ہمیں بھلائی سے روک کر برائی پر آمادہ کرتے تھے گناہ کو مزین اور شیریں دکھاتے تھے اور نیکی کو بری اور مشکل جتاتے تھے، حق سے روکتے تھے باطل پر جما دیتے تھے، جب کبھی نیکی کا خیال ہمارے دل میں آتا تھا تم کسی نہ کسی فریب سے اس سے روک دیتے تھے، اسلام، ایمان، خیرو خوبی، نیکی اور سعادت مندی سے تم نے ہمیں محروم کردیا۔ توحید سے دور ڈال دیا۔ ہم تمہیں اپنا خیر خواہ سمجھتے رہے، راز دار بنائے رہے، تمہاری باتیں مانتے رہے تمہیں بھلا آدمی سمجھتے رہے۔ اس کے جواب میں جنات اور انسان جتنے بھی سردار ذی عزت اور بڑے لوگ تھے ان کمزوروں کو جواب دیں گے کہ اس میں ہمارا تو کوئی قصور نہیں تم تو خود ہی ایسے ہی تھے تمہارے دل ایمان سے بھاگتے تھے اور کفر کی طرف دوڑ کر جاتے تھے۔ ہم نے تمہیں جس چیز کی طرف بلایا وہ کوئی حق بات نہ تھی نہ اس کی بھلائی پر کوئی دلیل تھی لیکن چونکہ تم طبعاً برائی کی طرف مائل تھے خود تمہارے دلوں میں سرکشی اور برائی تھی اس لیے تم نے ہمارا کہا مان لیا۔ اب تو ہم سب پر اللہ کا قول ثابت ہوگیا کہ ہم یقینا عذابوں کا مزہ چکھنے والے ہیں۔ یہ بڑے لوگ چھوٹوں سے یہ متبوع لوگ اپنے تابعداروں سے کہیں گے کہ ہم تو خود ہی بہکے ہوئے تھے ہم نے تمہیں بھی اپنی ضلالت کی طرف بلایا تم دوڑے ہوئے آگئے۔ بتاؤ تم نے ہماری بات مان لی ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے پس آج کے دن سب لوگ جہنم کے عذابوں میں شریک ہیں ہر ایک اپنے اپنے اعمال کی سزا بھگت رہا ہے۔ مجرموں کے ساتھ ہم اسی طرح کیا کرتے ہیں۔ یہ مومنوں کی طرح اللہ کی توحید کے قائل نہ تھے بلکہ توحید کی آواز سے تکبر نفرت کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کروں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں جو اسے کہہ لے اس نے اپنا مال اور اپنی جان بچالی مگر اسلامی فرمان سے۔ اور اس کا باطنی حساب اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ کی کتاب میں بھی یہی مضمون ہے۔ اور ایک متکبر قوم کا ذکر ہے کہ وہ اس کلمہ سے روگردانی کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ابو العلاء سے مروی ہے کہ یہودیوں کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور ان سے سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے اللہ کی اور عزیر کی۔ ان سے کہا جائے گا اچھا بائیں طرف آؤ۔ پھر نصرانیوں سے یہی سوال ہوگا وہ کہیں گے اللہ کی اور مسیح کی تو ان سے بھی یہی کہا جائے گا پھر مشرکین کو لایا جائے گا اور ان سے لا الہ الا اللہ کہا جائے گا وہ تکبر کریں گے تین مرتبہ ایسا ہی ہوگا پھر حکم ہوگا انہیں بھی بائیں طرف لے چلو فرشتے انہیں پرندوں سے بھی جلدی پہنچادیں گے۔ پھر مسلمانوں کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائیگا کہ تم کس کی عبادت کرتے رہے ؟ یہ کہیں گے صرف اللہ تعالیٰ کی۔ تو ان سے کہا جائے گا کیا تم اسے دیکھ کر پہچان سکتے ہو ؟ یہ کہیں گے ہاں۔ پوچھا جائے گا تم کیسے پہچان لو گے ؟ حالانکہ تم نے کبھی اسے دیکھا نہیں یہ جواب دیں گے ہاں یہ تو ٹھیک ہے ہم جانتے ہیں کہ اس کے برابر کا کوئی نہیں پس اللہ تعالیٰ اپنے تئیں انہیں پہچنوائے گا اور ان کو نجات دے گا۔ یہ کلمہ توحید اور رد شرک سن کر جواب دیتے تھے کہ کیا اس شاعر و مجنوں کے کہنے سے ہم اپنی معبودوں سے دست بردار ہوجائیں گے ؟ ماننا تو ایک طرف الٹے رسول اللہ ﷺ کو شاعر اور دیوانہ بتاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کی تکذیب کرتا ہے اور ان کے رد میں فرماتا ہے کہ یہ تو بالکل سچے ہیں سچ لے کر آئے ہیں ساری شریعت سراسر حق ہے خبریں ہوں تو اور حکم ہوں تو۔ یہ رسولوں کو بھی سچا جانتا ہے ان رسولوں نے جو صفتیں اور پاکیزگیاں آپکی بیان کی تھیں۔ انکے صحیح مصدق آپ ہی ہیں۔ یہ بھی وہی احکام بیان کرتے ہیں جو اگلے انبیاء نے کئے جیسے اور آیت میں ہے (مَا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ ۭ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ 43) 41۔ فصلت :43) ، یعنی تجھ سے وہی کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے کے نبیوں سے کہا جاتا رہا۔
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِٱلْمُجْرِمِينَ
Innaa kazaalika naf'alu bil mujrimeen
Indeed, that is how We deal with the criminals.
ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
دوزخیوں کا اپنے بزرگوں سے شکوہ۔ کافر لوگ جس طرح جہنم کے طبقوں میں جلتے ہوئے آپس میں جھگڑے کریں گے اسی طرح قیامت کے میدان میں وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کمزور لوگ زور آوروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع فرمان تھے کیا آج ہمیں تم تھوڑے بہت عذاب سے بچالو گے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو خود تمہارے ساتھ ہی اسی جہنم میں جل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرما چکا۔ اور جیسے اور جگہ ان کی یہ بات چیت اس طرح منقول ہے کہ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو خود ہی بدکار تھے۔ یہ کہیں گے بلکہ دن رات کا مکر جبکہ تم ہمیں حکم کرتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک مقرر کریں۔ عذاب کو دیکھتے ہی یہ سب کے سب بےطرح نادام و پیشمان ہوں گے لیکن اپنی ندامت کو چھپائیں گے۔ ان تمام کفار کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے جائیں گے ہاں یہ یقینی بات ہے کہ ہر ایک کو صرف اس کی کرنی بھرنی پڑے گی پس یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے بڑوں اور سرداروں سے کہیں گے تم ہماری دائیں جانب سے آتے تھے یعنی چونکہ ہم کمزور کم حیثیت تھے اور تمہیں ہم پر ترجیح تھی اس لیے تم ہمیں دبادبو کر حق سے ناحق کی طرف پھیر دیتے تھے، یہ کافروں کا مقولہ ہوگا جو وہ شیطانوں سے کہیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان یہ بات جنات سے کہیں گے کہ تم ہمیں بھلائی سے روک کر برائی پر آمادہ کرتے تھے گناہ کو مزین اور شیریں دکھاتے تھے اور نیکی کو بری اور مشکل جتاتے تھے، حق سے روکتے تھے باطل پر جما دیتے تھے، جب کبھی نیکی کا خیال ہمارے دل میں آتا تھا تم کسی نہ کسی فریب سے اس سے روک دیتے تھے، اسلام، ایمان، خیرو خوبی، نیکی اور سعادت مندی سے تم نے ہمیں محروم کردیا۔ توحید سے دور ڈال دیا۔ ہم تمہیں اپنا خیر خواہ سمجھتے رہے، راز دار بنائے رہے، تمہاری باتیں مانتے رہے تمہیں بھلا آدمی سمجھتے رہے۔ اس کے جواب میں جنات اور انسان جتنے بھی سردار ذی عزت اور بڑے لوگ تھے ان کمزوروں کو جواب دیں گے کہ اس میں ہمارا تو کوئی قصور نہیں تم تو خود ہی ایسے ہی تھے تمہارے دل ایمان سے بھاگتے تھے اور کفر کی طرف دوڑ کر جاتے تھے۔ ہم نے تمہیں جس چیز کی طرف بلایا وہ کوئی حق بات نہ تھی نہ اس کی بھلائی پر کوئی دلیل تھی لیکن چونکہ تم طبعاً برائی کی طرف مائل تھے خود تمہارے دلوں میں سرکشی اور برائی تھی اس لیے تم نے ہمارا کہا مان لیا۔ اب تو ہم سب پر اللہ کا قول ثابت ہوگیا کہ ہم یقینا عذابوں کا مزہ چکھنے والے ہیں۔ یہ بڑے لوگ چھوٹوں سے یہ متبوع لوگ اپنے تابعداروں سے کہیں گے کہ ہم تو خود ہی بہکے ہوئے تھے ہم نے تمہیں بھی اپنی ضلالت کی طرف بلایا تم دوڑے ہوئے آگئے۔ بتاؤ تم نے ہماری بات مان لی ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے پس آج کے دن سب لوگ جہنم کے عذابوں میں شریک ہیں ہر ایک اپنے اپنے اعمال کی سزا بھگت رہا ہے۔ مجرموں کے ساتھ ہم اسی طرح کیا کرتے ہیں۔ یہ مومنوں کی طرح اللہ کی توحید کے قائل نہ تھے بلکہ توحید کی آواز سے تکبر نفرت کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کروں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں جو اسے کہہ لے اس نے اپنا مال اور اپنی جان بچالی مگر اسلامی فرمان سے۔ اور اس کا باطنی حساب اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ کی کتاب میں بھی یہی مضمون ہے۔ اور ایک متکبر قوم کا ذکر ہے کہ وہ اس کلمہ سے روگردانی کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ابو العلاء سے مروی ہے کہ یہودیوں کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور ان سے سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے اللہ کی اور عزیر کی۔ ان سے کہا جائے گا اچھا بائیں طرف آؤ۔ پھر نصرانیوں سے یہی سوال ہوگا وہ کہیں گے اللہ کی اور مسیح کی تو ان سے بھی یہی کہا جائے گا پھر مشرکین کو لایا جائے گا اور ان سے لا الہ الا اللہ کہا جائے گا وہ تکبر کریں گے تین مرتبہ ایسا ہی ہوگا پھر حکم ہوگا انہیں بھی بائیں طرف لے چلو فرشتے انہیں پرندوں سے بھی جلدی پہنچادیں گے۔ پھر مسلمانوں کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائیگا کہ تم کس کی عبادت کرتے رہے ؟ یہ کہیں گے صرف اللہ تعالیٰ کی۔ تو ان سے کہا جائے گا کیا تم اسے دیکھ کر پہچان سکتے ہو ؟ یہ کہیں گے ہاں۔ پوچھا جائے گا تم کیسے پہچان لو گے ؟ حالانکہ تم نے کبھی اسے دیکھا نہیں یہ جواب دیں گے ہاں یہ تو ٹھیک ہے ہم جانتے ہیں کہ اس کے برابر کا کوئی نہیں پس اللہ تعالیٰ اپنے تئیں انہیں پہچنوائے گا اور ان کو نجات دے گا۔ یہ کلمہ توحید اور رد شرک سن کر جواب دیتے تھے کہ کیا اس شاعر و مجنوں کے کہنے سے ہم اپنی معبودوں سے دست بردار ہوجائیں گے ؟ ماننا تو ایک طرف الٹے رسول اللہ ﷺ کو شاعر اور دیوانہ بتاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کی تکذیب کرتا ہے اور ان کے رد میں فرماتا ہے کہ یہ تو بالکل سچے ہیں سچ لے کر آئے ہیں ساری شریعت سراسر حق ہے خبریں ہوں تو اور حکم ہوں تو۔ یہ رسولوں کو بھی سچا جانتا ہے ان رسولوں نے جو صفتیں اور پاکیزگیاں آپکی بیان کی تھیں۔ انکے صحیح مصدق آپ ہی ہیں۔ یہ بھی وہی احکام بیان کرتے ہیں جو اگلے انبیاء نے کئے جیسے اور آیت میں ہے (مَا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ ۭ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ 43) 41۔ فصلت :43) ، یعنی تجھ سے وہی کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے کے نبیوں سے کہا جاتا رہا۔
إِنَّهُمْ كَانُوٓا۟ إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ
Innahum kaanooo izaa qeela lahum laaa ilaaha illal laahu yastakbiroon
Indeed they, when it was said to them, "There is no deity but Allah," were arrogant
ان کا یہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں تو غرور کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
دوزخیوں کا اپنے بزرگوں سے شکوہ۔ کافر لوگ جس طرح جہنم کے طبقوں میں جلتے ہوئے آپس میں جھگڑے کریں گے اسی طرح قیامت کے میدان میں وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کمزور لوگ زور آوروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع فرمان تھے کیا آج ہمیں تم تھوڑے بہت عذاب سے بچالو گے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو خود تمہارے ساتھ ہی اسی جہنم میں جل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرما چکا۔ اور جیسے اور جگہ ان کی یہ بات چیت اس طرح منقول ہے کہ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو خود ہی بدکار تھے۔ یہ کہیں گے بلکہ دن رات کا مکر جبکہ تم ہمیں حکم کرتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک مقرر کریں۔ عذاب کو دیکھتے ہی یہ سب کے سب بےطرح نادام و پیشمان ہوں گے لیکن اپنی ندامت کو چھپائیں گے۔ ان تمام کفار کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے جائیں گے ہاں یہ یقینی بات ہے کہ ہر ایک کو صرف اس کی کرنی بھرنی پڑے گی پس یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے بڑوں اور سرداروں سے کہیں گے تم ہماری دائیں جانب سے آتے تھے یعنی چونکہ ہم کمزور کم حیثیت تھے اور تمہیں ہم پر ترجیح تھی اس لیے تم ہمیں دبادبو کر حق سے ناحق کی طرف پھیر دیتے تھے، یہ کافروں کا مقولہ ہوگا جو وہ شیطانوں سے کہیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان یہ بات جنات سے کہیں گے کہ تم ہمیں بھلائی سے روک کر برائی پر آمادہ کرتے تھے گناہ کو مزین اور شیریں دکھاتے تھے اور نیکی کو بری اور مشکل جتاتے تھے، حق سے روکتے تھے باطل پر جما دیتے تھے، جب کبھی نیکی کا خیال ہمارے دل میں آتا تھا تم کسی نہ کسی فریب سے اس سے روک دیتے تھے، اسلام، ایمان، خیرو خوبی، نیکی اور سعادت مندی سے تم نے ہمیں محروم کردیا۔ توحید سے دور ڈال دیا۔ ہم تمہیں اپنا خیر خواہ سمجھتے رہے، راز دار بنائے رہے، تمہاری باتیں مانتے رہے تمہیں بھلا آدمی سمجھتے رہے۔ اس کے جواب میں جنات اور انسان جتنے بھی سردار ذی عزت اور بڑے لوگ تھے ان کمزوروں کو جواب دیں گے کہ اس میں ہمارا تو کوئی قصور نہیں تم تو خود ہی ایسے ہی تھے تمہارے دل ایمان سے بھاگتے تھے اور کفر کی طرف دوڑ کر جاتے تھے۔ ہم نے تمہیں جس چیز کی طرف بلایا وہ کوئی حق بات نہ تھی نہ اس کی بھلائی پر کوئی دلیل تھی لیکن چونکہ تم طبعاً برائی کی طرف مائل تھے خود تمہارے دلوں میں سرکشی اور برائی تھی اس لیے تم نے ہمارا کہا مان لیا۔ اب تو ہم سب پر اللہ کا قول ثابت ہوگیا کہ ہم یقینا عذابوں کا مزہ چکھنے والے ہیں۔ یہ بڑے لوگ چھوٹوں سے یہ متبوع لوگ اپنے تابعداروں سے کہیں گے کہ ہم تو خود ہی بہکے ہوئے تھے ہم نے تمہیں بھی اپنی ضلالت کی طرف بلایا تم دوڑے ہوئے آگئے۔ بتاؤ تم نے ہماری بات مان لی ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے پس آج کے دن سب لوگ جہنم کے عذابوں میں شریک ہیں ہر ایک اپنے اپنے اعمال کی سزا بھگت رہا ہے۔ مجرموں کے ساتھ ہم اسی طرح کیا کرتے ہیں۔ یہ مومنوں کی طرح اللہ کی توحید کے قائل نہ تھے بلکہ توحید کی آواز سے تکبر نفرت کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کروں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں جو اسے کہہ لے اس نے اپنا مال اور اپنی جان بچالی مگر اسلامی فرمان سے۔ اور اس کا باطنی حساب اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ کی کتاب میں بھی یہی مضمون ہے۔ اور ایک متکبر قوم کا ذکر ہے کہ وہ اس کلمہ سے روگردانی کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ابو العلاء سے مروی ہے کہ یہودیوں کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور ان سے سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے اللہ کی اور عزیر کی۔ ان سے کہا جائے گا اچھا بائیں طرف آؤ۔ پھر نصرانیوں سے یہی سوال ہوگا وہ کہیں گے اللہ کی اور مسیح کی تو ان سے بھی یہی کہا جائے گا پھر مشرکین کو لایا جائے گا اور ان سے لا الہ الا اللہ کہا جائے گا وہ تکبر کریں گے تین مرتبہ ایسا ہی ہوگا پھر حکم ہوگا انہیں بھی بائیں طرف لے چلو فرشتے انہیں پرندوں سے بھی جلدی پہنچادیں گے۔ پھر مسلمانوں کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائیگا کہ تم کس کی عبادت کرتے رہے ؟ یہ کہیں گے صرف اللہ تعالیٰ کی۔ تو ان سے کہا جائے گا کیا تم اسے دیکھ کر پہچان سکتے ہو ؟ یہ کہیں گے ہاں۔ پوچھا جائے گا تم کیسے پہچان لو گے ؟ حالانکہ تم نے کبھی اسے دیکھا نہیں یہ جواب دیں گے ہاں یہ تو ٹھیک ہے ہم جانتے ہیں کہ اس کے برابر کا کوئی نہیں پس اللہ تعالیٰ اپنے تئیں انہیں پہچنوائے گا اور ان کو نجات دے گا۔ یہ کلمہ توحید اور رد شرک سن کر جواب دیتے تھے کہ کیا اس شاعر و مجنوں کے کہنے سے ہم اپنی معبودوں سے دست بردار ہوجائیں گے ؟ ماننا تو ایک طرف الٹے رسول اللہ ﷺ کو شاعر اور دیوانہ بتاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کی تکذیب کرتا ہے اور ان کے رد میں فرماتا ہے کہ یہ تو بالکل سچے ہیں سچ لے کر آئے ہیں ساری شریعت سراسر حق ہے خبریں ہوں تو اور حکم ہوں تو۔ یہ رسولوں کو بھی سچا جانتا ہے ان رسولوں نے جو صفتیں اور پاکیزگیاں آپکی بیان کی تھیں۔ انکے صحیح مصدق آپ ہی ہیں۔ یہ بھی وہی احکام بیان کرتے ہیں جو اگلے انبیاء نے کئے جیسے اور آیت میں ہے (مَا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ ۭ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ 43) 41۔ فصلت :43) ، یعنی تجھ سے وہی کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے کے نبیوں سے کہا جاتا رہا۔
وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوٓا۟ ءَالِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍۭ
Wa yaqooloona a'innaa lataarikooo aalihatinaa lishaa'irim majnoon
And were saying, "Are we to leave our gods for a mad poet?"
اور کہتے تھے کہ بھلا ہم ایک دیوانے شاعر کے کہنے سے کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دینے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
دوزخیوں کا اپنے بزرگوں سے شکوہ۔ کافر لوگ جس طرح جہنم کے طبقوں میں جلتے ہوئے آپس میں جھگڑے کریں گے اسی طرح قیامت کے میدان میں وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کمزور لوگ زور آوروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع فرمان تھے کیا آج ہمیں تم تھوڑے بہت عذاب سے بچالو گے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو خود تمہارے ساتھ ہی اسی جہنم میں جل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرما چکا۔ اور جیسے اور جگہ ان کی یہ بات چیت اس طرح منقول ہے کہ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو خود ہی بدکار تھے۔ یہ کہیں گے بلکہ دن رات کا مکر جبکہ تم ہمیں حکم کرتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک مقرر کریں۔ عذاب کو دیکھتے ہی یہ سب کے سب بےطرح نادام و پیشمان ہوں گے لیکن اپنی ندامت کو چھپائیں گے۔ ان تمام کفار کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے جائیں گے ہاں یہ یقینی بات ہے کہ ہر ایک کو صرف اس کی کرنی بھرنی پڑے گی پس یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے بڑوں اور سرداروں سے کہیں گے تم ہماری دائیں جانب سے آتے تھے یعنی چونکہ ہم کمزور کم حیثیت تھے اور تمہیں ہم پر ترجیح تھی اس لیے تم ہمیں دبادبو کر حق سے ناحق کی طرف پھیر دیتے تھے، یہ کافروں کا مقولہ ہوگا جو وہ شیطانوں سے کہیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان یہ بات جنات سے کہیں گے کہ تم ہمیں بھلائی سے روک کر برائی پر آمادہ کرتے تھے گناہ کو مزین اور شیریں دکھاتے تھے اور نیکی کو بری اور مشکل جتاتے تھے، حق سے روکتے تھے باطل پر جما دیتے تھے، جب کبھی نیکی کا خیال ہمارے دل میں آتا تھا تم کسی نہ کسی فریب سے اس سے روک دیتے تھے، اسلام، ایمان، خیرو خوبی، نیکی اور سعادت مندی سے تم نے ہمیں محروم کردیا۔ توحید سے دور ڈال دیا۔ ہم تمہیں اپنا خیر خواہ سمجھتے رہے، راز دار بنائے رہے، تمہاری باتیں مانتے رہے تمہیں بھلا آدمی سمجھتے رہے۔ اس کے جواب میں جنات اور انسان جتنے بھی سردار ذی عزت اور بڑے لوگ تھے ان کمزوروں کو جواب دیں گے کہ اس میں ہمارا تو کوئی قصور نہیں تم تو خود ہی ایسے ہی تھے تمہارے دل ایمان سے بھاگتے تھے اور کفر کی طرف دوڑ کر جاتے تھے۔ ہم نے تمہیں جس چیز کی طرف بلایا وہ کوئی حق بات نہ تھی نہ اس کی بھلائی پر کوئی دلیل تھی لیکن چونکہ تم طبعاً برائی کی طرف مائل تھے خود تمہارے دلوں میں سرکشی اور برائی تھی اس لیے تم نے ہمارا کہا مان لیا۔ اب تو ہم سب پر اللہ کا قول ثابت ہوگیا کہ ہم یقینا عذابوں کا مزہ چکھنے والے ہیں۔ یہ بڑے لوگ چھوٹوں سے یہ متبوع لوگ اپنے تابعداروں سے کہیں گے کہ ہم تو خود ہی بہکے ہوئے تھے ہم نے تمہیں بھی اپنی ضلالت کی طرف بلایا تم دوڑے ہوئے آگئے۔ بتاؤ تم نے ہماری بات مان لی ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے پس آج کے دن سب لوگ جہنم کے عذابوں میں شریک ہیں ہر ایک اپنے اپنے اعمال کی سزا بھگت رہا ہے۔ مجرموں کے ساتھ ہم اسی طرح کیا کرتے ہیں۔ یہ مومنوں کی طرح اللہ کی توحید کے قائل نہ تھے بلکہ توحید کی آواز سے تکبر نفرت کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کروں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں جو اسے کہہ لے اس نے اپنا مال اور اپنی جان بچالی مگر اسلامی فرمان سے۔ اور اس کا باطنی حساب اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ کی کتاب میں بھی یہی مضمون ہے۔ اور ایک متکبر قوم کا ذکر ہے کہ وہ اس کلمہ سے روگردانی کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ابو العلاء سے مروی ہے کہ یہودیوں کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور ان سے سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے اللہ کی اور عزیر کی۔ ان سے کہا جائے گا اچھا بائیں طرف آؤ۔ پھر نصرانیوں سے یہی سوال ہوگا وہ کہیں گے اللہ کی اور مسیح کی تو ان سے بھی یہی کہا جائے گا پھر مشرکین کو لایا جائے گا اور ان سے لا الہ الا اللہ کہا جائے گا وہ تکبر کریں گے تین مرتبہ ایسا ہی ہوگا پھر حکم ہوگا انہیں بھی بائیں طرف لے چلو فرشتے انہیں پرندوں سے بھی جلدی پہنچادیں گے۔ پھر مسلمانوں کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائیگا کہ تم کس کی عبادت کرتے رہے ؟ یہ کہیں گے صرف اللہ تعالیٰ کی۔ تو ان سے کہا جائے گا کیا تم اسے دیکھ کر پہچان سکتے ہو ؟ یہ کہیں گے ہاں۔ پوچھا جائے گا تم کیسے پہچان لو گے ؟ حالانکہ تم نے کبھی اسے دیکھا نہیں یہ جواب دیں گے ہاں یہ تو ٹھیک ہے ہم جانتے ہیں کہ اس کے برابر کا کوئی نہیں پس اللہ تعالیٰ اپنے تئیں انہیں پہچنوائے گا اور ان کو نجات دے گا۔ یہ کلمہ توحید اور رد شرک سن کر جواب دیتے تھے کہ کیا اس شاعر و مجنوں کے کہنے سے ہم اپنی معبودوں سے دست بردار ہوجائیں گے ؟ ماننا تو ایک طرف الٹے رسول اللہ ﷺ کو شاعر اور دیوانہ بتاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کی تکذیب کرتا ہے اور ان کے رد میں فرماتا ہے کہ یہ تو بالکل سچے ہیں سچ لے کر آئے ہیں ساری شریعت سراسر حق ہے خبریں ہوں تو اور حکم ہوں تو۔ یہ رسولوں کو بھی سچا جانتا ہے ان رسولوں نے جو صفتیں اور پاکیزگیاں آپکی بیان کی تھیں۔ انکے صحیح مصدق آپ ہی ہیں۔ یہ بھی وہی احکام بیان کرتے ہیں جو اگلے انبیاء نے کئے جیسے اور آیت میں ہے (مَا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ ۭ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ 43) 41۔ فصلت :43) ، یعنی تجھ سے وہی کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے کے نبیوں سے کہا جاتا رہا۔
بَلْ جَآءَ بِٱلْحَقِّ وَصَدَّقَ ٱلْمُرْسَلِينَ
bal jaaa'a bilhaqqi wa saddaqal mursaleen
Rather, the Prophet has come with the truth and confirmed the [previous] messengers.
بلکہ وہ حق لے کر آئے ہیں اور (پہلے) پیغمبروں کو سچا کہتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
دوزخیوں کا اپنے بزرگوں سے شکوہ۔ کافر لوگ جس طرح جہنم کے طبقوں میں جلتے ہوئے آپس میں جھگڑے کریں گے اسی طرح قیامت کے میدان میں وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کمزور لوگ زور آوروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع فرمان تھے کیا آج ہمیں تم تھوڑے بہت عذاب سے بچالو گے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو خود تمہارے ساتھ ہی اسی جہنم میں جل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرما چکا۔ اور جیسے اور جگہ ان کی یہ بات چیت اس طرح منقول ہے کہ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو خود ہی بدکار تھے۔ یہ کہیں گے بلکہ دن رات کا مکر جبکہ تم ہمیں حکم کرتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک مقرر کریں۔ عذاب کو دیکھتے ہی یہ سب کے سب بےطرح نادام و پیشمان ہوں گے لیکن اپنی ندامت کو چھپائیں گے۔ ان تمام کفار کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے جائیں گے ہاں یہ یقینی بات ہے کہ ہر ایک کو صرف اس کی کرنی بھرنی پڑے گی پس یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے بڑوں اور سرداروں سے کہیں گے تم ہماری دائیں جانب سے آتے تھے یعنی چونکہ ہم کمزور کم حیثیت تھے اور تمہیں ہم پر ترجیح تھی اس لیے تم ہمیں دبادبو کر حق سے ناحق کی طرف پھیر دیتے تھے، یہ کافروں کا مقولہ ہوگا جو وہ شیطانوں سے کہیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان یہ بات جنات سے کہیں گے کہ تم ہمیں بھلائی سے روک کر برائی پر آمادہ کرتے تھے گناہ کو مزین اور شیریں دکھاتے تھے اور نیکی کو بری اور مشکل جتاتے تھے، حق سے روکتے تھے باطل پر جما دیتے تھے، جب کبھی نیکی کا خیال ہمارے دل میں آتا تھا تم کسی نہ کسی فریب سے اس سے روک دیتے تھے، اسلام، ایمان، خیرو خوبی، نیکی اور سعادت مندی سے تم نے ہمیں محروم کردیا۔ توحید سے دور ڈال دیا۔ ہم تمہیں اپنا خیر خواہ سمجھتے رہے، راز دار بنائے رہے، تمہاری باتیں مانتے رہے تمہیں بھلا آدمی سمجھتے رہے۔ اس کے جواب میں جنات اور انسان جتنے بھی سردار ذی عزت اور بڑے لوگ تھے ان کمزوروں کو جواب دیں گے کہ اس میں ہمارا تو کوئی قصور نہیں تم تو خود ہی ایسے ہی تھے تمہارے دل ایمان سے بھاگتے تھے اور کفر کی طرف دوڑ کر جاتے تھے۔ ہم نے تمہیں جس چیز کی طرف بلایا وہ کوئی حق بات نہ تھی نہ اس کی بھلائی پر کوئی دلیل تھی لیکن چونکہ تم طبعاً برائی کی طرف مائل تھے خود تمہارے دلوں میں سرکشی اور برائی تھی اس لیے تم نے ہمارا کہا مان لیا۔ اب تو ہم سب پر اللہ کا قول ثابت ہوگیا کہ ہم یقینا عذابوں کا مزہ چکھنے والے ہیں۔ یہ بڑے لوگ چھوٹوں سے یہ متبوع لوگ اپنے تابعداروں سے کہیں گے کہ ہم تو خود ہی بہکے ہوئے تھے ہم نے تمہیں بھی اپنی ضلالت کی طرف بلایا تم دوڑے ہوئے آگئے۔ بتاؤ تم نے ہماری بات مان لی ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے پس آج کے دن سب لوگ جہنم کے عذابوں میں شریک ہیں ہر ایک اپنے اپنے اعمال کی سزا بھگت رہا ہے۔ مجرموں کے ساتھ ہم اسی طرح کیا کرتے ہیں۔ یہ مومنوں کی طرح اللہ کی توحید کے قائل نہ تھے بلکہ توحید کی آواز سے تکبر نفرت کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کروں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں جو اسے کہہ لے اس نے اپنا مال اور اپنی جان بچالی مگر اسلامی فرمان سے۔ اور اس کا باطنی حساب اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ کی کتاب میں بھی یہی مضمون ہے۔ اور ایک متکبر قوم کا ذکر ہے کہ وہ اس کلمہ سے روگردانی کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ابو العلاء سے مروی ہے کہ یہودیوں کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور ان سے سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے اللہ کی اور عزیر کی۔ ان سے کہا جائے گا اچھا بائیں طرف آؤ۔ پھر نصرانیوں سے یہی سوال ہوگا وہ کہیں گے اللہ کی اور مسیح کی تو ان سے بھی یہی کہا جائے گا پھر مشرکین کو لایا جائے گا اور ان سے لا الہ الا اللہ کہا جائے گا وہ تکبر کریں گے تین مرتبہ ایسا ہی ہوگا پھر حکم ہوگا انہیں بھی بائیں طرف لے چلو فرشتے انہیں پرندوں سے بھی جلدی پہنچادیں گے۔ پھر مسلمانوں کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائیگا کہ تم کس کی عبادت کرتے رہے ؟ یہ کہیں گے صرف اللہ تعالیٰ کی۔ تو ان سے کہا جائے گا کیا تم اسے دیکھ کر پہچان سکتے ہو ؟ یہ کہیں گے ہاں۔ پوچھا جائے گا تم کیسے پہچان لو گے ؟ حالانکہ تم نے کبھی اسے دیکھا نہیں یہ جواب دیں گے ہاں یہ تو ٹھیک ہے ہم جانتے ہیں کہ اس کے برابر کا کوئی نہیں پس اللہ تعالیٰ اپنے تئیں انہیں پہچنوائے گا اور ان کو نجات دے گا۔ یہ کلمہ توحید اور رد شرک سن کر جواب دیتے تھے کہ کیا اس شاعر و مجنوں کے کہنے سے ہم اپنی معبودوں سے دست بردار ہوجائیں گے ؟ ماننا تو ایک طرف الٹے رسول اللہ ﷺ کو شاعر اور دیوانہ بتاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کی تکذیب کرتا ہے اور ان کے رد میں فرماتا ہے کہ یہ تو بالکل سچے ہیں سچ لے کر آئے ہیں ساری شریعت سراسر حق ہے خبریں ہوں تو اور حکم ہوں تو۔ یہ رسولوں کو بھی سچا جانتا ہے ان رسولوں نے جو صفتیں اور پاکیزگیاں آپکی بیان کی تھیں۔ انکے صحیح مصدق آپ ہی ہیں۔ یہ بھی وہی احکام بیان کرتے ہیں جو اگلے انبیاء نے کئے جیسے اور آیت میں ہے (مَا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ ۭ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ 43) 41۔ فصلت :43) ، یعنی تجھ سے وہی کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے کے نبیوں سے کہا جاتا رہا۔
إِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا۟ ٱلْعَذَابِ ٱلْأَلِيمِ
Innakum lazaaa'iqul 'azaabil aleem
Indeed, you [disbelievers] will be tasters of the painful punishment,
بےشک تم تکلیف دینے والے عذاب کا مزہ چکھنے والے ہو
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
متقیوں کے لیے نجات اور انعامات۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تم المناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور صرف اسی کا بدلہ دئیے جانے والے ہو جسے تم نے کیا دھرا ہے۔ پھر اپنے مخلص بندوں کو اس سے الگ کرلیتا ہے جیسے والعصر میں فرمایا کہ تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔ مگر ایماندار نیک اعمال۔ اور سورة والتین میں فرمایا ہم نے انسان کو بہت اچھی پیدائش میں پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نیچ کردیا مگر جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ اور سورة مریم میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71ۚ) 19۔ مریم :71) ، تم میں سے ہر ایک جہنم پروارد ہونے والا ہے یہ تو تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے اور یہ ضروری چیز ہے لیکن پھر ہم متقیوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اسی میں گرے پڑے چھوڑ دیں گے۔ سورة مدثر میں ارشاد ہوا ہے۔ (كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ۣثُمَّ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ 57) 29۔ العنکبوت :57) ہر شخص اپنے اپنے اعمال میں مشغول ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آچکا ہے اسی طرح یہاں پر بھی اپنے خاص بندوں کا استثناء کرلیا کہ وہ المناک عذابوں سے حساب کے پھنساوے سے الگ ہیں بلکہ ان کی برائیوں سے درگذر فرمایا گیا ہے اور ان کی نیکیاں بڑھا چڑھا کر ایک کی دس دس گنی بلکہ سات سات سو گنی کرکے بلکہ اس سے بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر انہیں دی گئی ہیں۔ ان کے لیے مقررہ روزی اور وہ قسم قسم کے میوہ جات ہیں۔ وہ مخدوم ہیں، ذی عزت ہیں، ذی اکرام ہیں، ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں، بڑی آؤ بھگت ہوتی ہے، بڑا ادب لحاظ رکھا جاتا ہے۔ یہ نعمتوں سے پر جنتوں میں ہیں۔ وہاں کے تختوں پر اس طرح بیٹھے ہیں کہ کسی کی پیٹھ کسی کی طرف نہیں۔ ایک مرفوع غریب حدیث میں بھی ہے کہ اس آیت کی تلاوت کرکے آپ نے فرمایا ہر ایک کی نگاہیں دوسرے کے چہرے پر پڑیں گی، آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اس شراب کے دور ان میں چل رہے ہوں گے جو جاری ہے جس کے ختم ہوجانے کم ہوجانے کا مطلق اندیشہ نہیں۔ جو ظاہر باطن میں آراستہ ہے خوبیاں ہیں برائیاں نہیں۔ رنگ کی سفید مزے کی بہت اچھی لذیذ۔ نہ اس کے پینے سے سردرد ہو نہ بک جھک لگے، دنیا کی شراب میں یہ آفتیں تھیں پیٹ کا درد سر کا درد بیہوشی بد حواسی وغیرہ لیکن جنت کی شراب میں ان میں سے ایک برائی بھی موجود نہیں رہی۔ دیکھنے میں خوش رنگ، پینے میں لذیذ، فوائد میں اعلیٰ ، سرور و کیف میں عمدہ لیکن سدھ بدھ دور کردینے والی بد مست بنادینے والی نہیں، نہ بدبو دار نہ بد نظر نہ قابل نفرت۔ بلکہ خوشبو دار خوش رنگ خوش ذائق خوش فائدہ، اس کے پینے سے پیٹ میں درد نہیں ہوتا اور اس کی کثرت ضرر رساں نہیں خلاف طبع نہیں۔ سر بھاری نہیں ہوجاتا چکر نہیں آتے گرانی محسوس نہیں ہوتی۔ ہوش و حواس جاتے نہیں رہتے۔ کوئی ایذاء تکلیف قے متلی نہیں ہوتی۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دنیا کی شراب میں چار برائیاں ہیں، نشہ، سردرد، قے اور پیشاب۔ جنت کی شراب ان تمام برائیوں سے پاک ہے دیکھ لو سورة الصافات۔ ان کے پاس نیچی نگاہوں والی شرمیلی نظروں والی پاک دامن عفیفہ حوریں ہیں جن کی نگاہ اپنے خاوندوں کے چہرے کے سوا کبھی کسی کے چہرے پر نہیں پڑتی اور نہ پڑیں گی۔ بڑی بڑی موٹی موٹی رسیلی آنکھیں ہیں حسن صورت حسن سیرت دونوں چیزیں ان میں موجود ہیں۔ جس طرح حضرت زلیخا نے حضرت یوسف ؑ میں یہ دونوں خوبیاں دیکھیں۔ عورتوں نے جب انہیں طعنے دینے شروع کئے تو ایک دن سب کو بلا کر بٹھالیا اور حضرت یوسف کا پورا بناؤ سنگھار کراکر بلایا عورتوں کی نگاہیں ان کے جمال کو دیکھ کر خیرہ ہوگئیں اور بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو فرشتہ ہیں۔ اسی وقت کہا یہی تو ہیں جن کے بارے میں تم سب مجھے ملامت کر رہی تھیں واللہ میں نے ان کو ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ پاک دامن ہی رہا۔ یہ باوجود جمال ظاہری کے حسن باطنی بھی رکھتا ہے۔ بڑا پاکباز امین پارسا متقی پرہیزگار ہے اسی طرح حوریں ہیں کہ جمال ظاہری کے ساتھ ہی باطنی خوبی بھی اپنے اندر رکھتی ہیں۔ پھر ان کا مزید حسن بیان ہو رہا ہے کہ ان کا گورا گورا جسم اور بھبوکا سا رنگ ایسا چمکیلا دلکش اور جاذب نظر ہے کہ گویا محفوظ موتی۔ جس تک کسی کا ہاتھ نہ پہنچا ہو، جو سیپ سے نہ نکلا ہو جسے زمانے کی ہوا نہ لگی ہو جو اپنی آبداری میں بےمثل ہو ایسے ہی انکے اچھوتے جسم ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ گویا وہ انڈے کی طرح ہیں۔ انڈے کے اوپر کے چھلکے کے نیچے چھوٹے چھلکے جیسے ان کے بدن ہیں۔ ایک حدیث میں ام سلمہ ؓ کے سوال پر حضور ﷺ نے فرمایا حور عین سے مراد بہت بڑی آنکھوں والی سیاہ پلکوں والی حوریں ہیں۔ پھر پوچھا بیض مکنون سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا انڈے کے اندر کی سفید جھلی۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو سب سے پہلے میں کھڑا کیا جاؤن گا اور جبکہ وہ جناب باری میں پیش ہوں گے تو میں ان کا خطیب بنوں گا اور جب وہ غمگین ہو رہے ہوں گے تو میں انہیں خوشخبریاں سنانے والا ہوں گا اور ان کا سفارشی بنوں گا جب کہ یہ رکے ہوئے ہوں گے۔ حمد کا جھنڈا اس دن میرے ہاتھ میں ہوگا۔ حضرت آدم کی اولاد میں سے سب سے زیادہ اللہ کے ہاں اکرام و عزت والا میں ہوں یہ میں بطور فخر کے نہیں کہہ رہا۔ میرے آگے پیچھے قیام کے دن ایک ہزار خادم گھوم رہے ہوں گے جو مثل چھپے ہوئے انڈوں یا اچھوت موتیوں کے ہوں گے واللہ اعلم بالصواب۔
وَمَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
Wa maa tujzawna illaa maa kuntum ta'maloon
And you will not be recompensed except for what you used to do -
اور تم کو بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
متقیوں کے لیے نجات اور انعامات۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تم المناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور صرف اسی کا بدلہ دئیے جانے والے ہو جسے تم نے کیا دھرا ہے۔ پھر اپنے مخلص بندوں کو اس سے الگ کرلیتا ہے جیسے والعصر میں فرمایا کہ تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔ مگر ایماندار نیک اعمال۔ اور سورة والتین میں فرمایا ہم نے انسان کو بہت اچھی پیدائش میں پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نیچ کردیا مگر جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ اور سورة مریم میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71ۚ) 19۔ مریم :71) ، تم میں سے ہر ایک جہنم پروارد ہونے والا ہے یہ تو تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے اور یہ ضروری چیز ہے لیکن پھر ہم متقیوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اسی میں گرے پڑے چھوڑ دیں گے۔ سورة مدثر میں ارشاد ہوا ہے۔ (كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ۣثُمَّ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ 57) 29۔ العنکبوت :57) ہر شخص اپنے اپنے اعمال میں مشغول ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آچکا ہے اسی طرح یہاں پر بھی اپنے خاص بندوں کا استثناء کرلیا کہ وہ المناک عذابوں سے حساب کے پھنساوے سے الگ ہیں بلکہ ان کی برائیوں سے درگذر فرمایا گیا ہے اور ان کی نیکیاں بڑھا چڑھا کر ایک کی دس دس گنی بلکہ سات سات سو گنی کرکے بلکہ اس سے بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر انہیں دی گئی ہیں۔ ان کے لیے مقررہ روزی اور وہ قسم قسم کے میوہ جات ہیں۔ وہ مخدوم ہیں، ذی عزت ہیں، ذی اکرام ہیں، ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں، بڑی آؤ بھگت ہوتی ہے، بڑا ادب لحاظ رکھا جاتا ہے۔ یہ نعمتوں سے پر جنتوں میں ہیں۔ وہاں کے تختوں پر اس طرح بیٹھے ہیں کہ کسی کی پیٹھ کسی کی طرف نہیں۔ ایک مرفوع غریب حدیث میں بھی ہے کہ اس آیت کی تلاوت کرکے آپ نے فرمایا ہر ایک کی نگاہیں دوسرے کے چہرے پر پڑیں گی، آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اس شراب کے دور ان میں چل رہے ہوں گے جو جاری ہے جس کے ختم ہوجانے کم ہوجانے کا مطلق اندیشہ نہیں۔ جو ظاہر باطن میں آراستہ ہے خوبیاں ہیں برائیاں نہیں۔ رنگ کی سفید مزے کی بہت اچھی لذیذ۔ نہ اس کے پینے سے سردرد ہو نہ بک جھک لگے، دنیا کی شراب میں یہ آفتیں تھیں پیٹ کا درد سر کا درد بیہوشی بد حواسی وغیرہ لیکن جنت کی شراب میں ان میں سے ایک برائی بھی موجود نہیں رہی۔ دیکھنے میں خوش رنگ، پینے میں لذیذ، فوائد میں اعلیٰ ، سرور و کیف میں عمدہ لیکن سدھ بدھ دور کردینے والی بد مست بنادینے والی نہیں، نہ بدبو دار نہ بد نظر نہ قابل نفرت۔ بلکہ خوشبو دار خوش رنگ خوش ذائق خوش فائدہ، اس کے پینے سے پیٹ میں درد نہیں ہوتا اور اس کی کثرت ضرر رساں نہیں خلاف طبع نہیں۔ سر بھاری نہیں ہوجاتا چکر نہیں آتے گرانی محسوس نہیں ہوتی۔ ہوش و حواس جاتے نہیں رہتے۔ کوئی ایذاء تکلیف قے متلی نہیں ہوتی۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دنیا کی شراب میں چار برائیاں ہیں، نشہ، سردرد، قے اور پیشاب۔ جنت کی شراب ان تمام برائیوں سے پاک ہے دیکھ لو سورة الصافات۔ ان کے پاس نیچی نگاہوں والی شرمیلی نظروں والی پاک دامن عفیفہ حوریں ہیں جن کی نگاہ اپنے خاوندوں کے چہرے کے سوا کبھی کسی کے چہرے پر نہیں پڑتی اور نہ پڑیں گی۔ بڑی بڑی موٹی موٹی رسیلی آنکھیں ہیں حسن صورت حسن سیرت دونوں چیزیں ان میں موجود ہیں۔ جس طرح حضرت زلیخا نے حضرت یوسف ؑ میں یہ دونوں خوبیاں دیکھیں۔ عورتوں نے جب انہیں طعنے دینے شروع کئے تو ایک دن سب کو بلا کر بٹھالیا اور حضرت یوسف کا پورا بناؤ سنگھار کراکر بلایا عورتوں کی نگاہیں ان کے جمال کو دیکھ کر خیرہ ہوگئیں اور بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو فرشتہ ہیں۔ اسی وقت کہا یہی تو ہیں جن کے بارے میں تم سب مجھے ملامت کر رہی تھیں واللہ میں نے ان کو ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ پاک دامن ہی رہا۔ یہ باوجود جمال ظاہری کے حسن باطنی بھی رکھتا ہے۔ بڑا پاکباز امین پارسا متقی پرہیزگار ہے اسی طرح حوریں ہیں کہ جمال ظاہری کے ساتھ ہی باطنی خوبی بھی اپنے اندر رکھتی ہیں۔ پھر ان کا مزید حسن بیان ہو رہا ہے کہ ان کا گورا گورا جسم اور بھبوکا سا رنگ ایسا چمکیلا دلکش اور جاذب نظر ہے کہ گویا محفوظ موتی۔ جس تک کسی کا ہاتھ نہ پہنچا ہو، جو سیپ سے نہ نکلا ہو جسے زمانے کی ہوا نہ لگی ہو جو اپنی آبداری میں بےمثل ہو ایسے ہی انکے اچھوتے جسم ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ گویا وہ انڈے کی طرح ہیں۔ انڈے کے اوپر کے چھلکے کے نیچے چھوٹے چھلکے جیسے ان کے بدن ہیں۔ ایک حدیث میں ام سلمہ ؓ کے سوال پر حضور ﷺ نے فرمایا حور عین سے مراد بہت بڑی آنکھوں والی سیاہ پلکوں والی حوریں ہیں۔ پھر پوچھا بیض مکنون سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا انڈے کے اندر کی سفید جھلی۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو سب سے پہلے میں کھڑا کیا جاؤن گا اور جبکہ وہ جناب باری میں پیش ہوں گے تو میں ان کا خطیب بنوں گا اور جب وہ غمگین ہو رہے ہوں گے تو میں انہیں خوشخبریاں سنانے والا ہوں گا اور ان کا سفارشی بنوں گا جب کہ یہ رکے ہوئے ہوں گے۔ حمد کا جھنڈا اس دن میرے ہاتھ میں ہوگا۔ حضرت آدم کی اولاد میں سے سب سے زیادہ اللہ کے ہاں اکرام و عزت والا میں ہوں یہ میں بطور فخر کے نہیں کہہ رہا۔ میرے آگے پیچھے قیام کے دن ایک ہزار خادم گھوم رہے ہوں گے جو مثل چھپے ہوئے انڈوں یا اچھوت موتیوں کے ہوں گے واللہ اعلم بالصواب۔
إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ
Illaa 'ibaadal laahil mukhlaseen
But not the chosen servants of Allah.
مگر جو خدا کے بندگان خاص ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
متقیوں کے لیے نجات اور انعامات۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تم المناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور صرف اسی کا بدلہ دئیے جانے والے ہو جسے تم نے کیا دھرا ہے۔ پھر اپنے مخلص بندوں کو اس سے الگ کرلیتا ہے جیسے والعصر میں فرمایا کہ تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔ مگر ایماندار نیک اعمال۔ اور سورة والتین میں فرمایا ہم نے انسان کو بہت اچھی پیدائش میں پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نیچ کردیا مگر جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ اور سورة مریم میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71ۚ) 19۔ مریم :71) ، تم میں سے ہر ایک جہنم پروارد ہونے والا ہے یہ تو تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے اور یہ ضروری چیز ہے لیکن پھر ہم متقیوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اسی میں گرے پڑے چھوڑ دیں گے۔ سورة مدثر میں ارشاد ہوا ہے۔ (كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ۣثُمَّ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ 57) 29۔ العنکبوت :57) ہر شخص اپنے اپنے اعمال میں مشغول ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آچکا ہے اسی طرح یہاں پر بھی اپنے خاص بندوں کا استثناء کرلیا کہ وہ المناک عذابوں سے حساب کے پھنساوے سے الگ ہیں بلکہ ان کی برائیوں سے درگذر فرمایا گیا ہے اور ان کی نیکیاں بڑھا چڑھا کر ایک کی دس دس گنی بلکہ سات سات سو گنی کرکے بلکہ اس سے بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر انہیں دی گئی ہیں۔ ان کے لیے مقررہ روزی اور وہ قسم قسم کے میوہ جات ہیں۔ وہ مخدوم ہیں، ذی عزت ہیں، ذی اکرام ہیں، ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں، بڑی آؤ بھگت ہوتی ہے، بڑا ادب لحاظ رکھا جاتا ہے۔ یہ نعمتوں سے پر جنتوں میں ہیں۔ وہاں کے تختوں پر اس طرح بیٹھے ہیں کہ کسی کی پیٹھ کسی کی طرف نہیں۔ ایک مرفوع غریب حدیث میں بھی ہے کہ اس آیت کی تلاوت کرکے آپ نے فرمایا ہر ایک کی نگاہیں دوسرے کے چہرے پر پڑیں گی، آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اس شراب کے دور ان میں چل رہے ہوں گے جو جاری ہے جس کے ختم ہوجانے کم ہوجانے کا مطلق اندیشہ نہیں۔ جو ظاہر باطن میں آراستہ ہے خوبیاں ہیں برائیاں نہیں۔ رنگ کی سفید مزے کی بہت اچھی لذیذ۔ نہ اس کے پینے سے سردرد ہو نہ بک جھک لگے، دنیا کی شراب میں یہ آفتیں تھیں پیٹ کا درد سر کا درد بیہوشی بد حواسی وغیرہ لیکن جنت کی شراب میں ان میں سے ایک برائی بھی موجود نہیں رہی۔ دیکھنے میں خوش رنگ، پینے میں لذیذ، فوائد میں اعلیٰ ، سرور و کیف میں عمدہ لیکن سدھ بدھ دور کردینے والی بد مست بنادینے والی نہیں، نہ بدبو دار نہ بد نظر نہ قابل نفرت۔ بلکہ خوشبو دار خوش رنگ خوش ذائق خوش فائدہ، اس کے پینے سے پیٹ میں درد نہیں ہوتا اور اس کی کثرت ضرر رساں نہیں خلاف طبع نہیں۔ سر بھاری نہیں ہوجاتا چکر نہیں آتے گرانی محسوس نہیں ہوتی۔ ہوش و حواس جاتے نہیں رہتے۔ کوئی ایذاء تکلیف قے متلی نہیں ہوتی۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دنیا کی شراب میں چار برائیاں ہیں، نشہ، سردرد، قے اور پیشاب۔ جنت کی شراب ان تمام برائیوں سے پاک ہے دیکھ لو سورة الصافات۔ ان کے پاس نیچی نگاہوں والی شرمیلی نظروں والی پاک دامن عفیفہ حوریں ہیں جن کی نگاہ اپنے خاوندوں کے چہرے کے سوا کبھی کسی کے چہرے پر نہیں پڑتی اور نہ پڑیں گی۔ بڑی بڑی موٹی موٹی رسیلی آنکھیں ہیں حسن صورت حسن سیرت دونوں چیزیں ان میں موجود ہیں۔ جس طرح حضرت زلیخا نے حضرت یوسف ؑ میں یہ دونوں خوبیاں دیکھیں۔ عورتوں نے جب انہیں طعنے دینے شروع کئے تو ایک دن سب کو بلا کر بٹھالیا اور حضرت یوسف کا پورا بناؤ سنگھار کراکر بلایا عورتوں کی نگاہیں ان کے جمال کو دیکھ کر خیرہ ہوگئیں اور بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو فرشتہ ہیں۔ اسی وقت کہا یہی تو ہیں جن کے بارے میں تم سب مجھے ملامت کر رہی تھیں واللہ میں نے ان کو ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ پاک دامن ہی رہا۔ یہ باوجود جمال ظاہری کے حسن باطنی بھی رکھتا ہے۔ بڑا پاکباز امین پارسا متقی پرہیزگار ہے اسی طرح حوریں ہیں کہ جمال ظاہری کے ساتھ ہی باطنی خوبی بھی اپنے اندر رکھتی ہیں۔ پھر ان کا مزید حسن بیان ہو رہا ہے کہ ان کا گورا گورا جسم اور بھبوکا سا رنگ ایسا چمکیلا دلکش اور جاذب نظر ہے کہ گویا محفوظ موتی۔ جس تک کسی کا ہاتھ نہ پہنچا ہو، جو سیپ سے نہ نکلا ہو جسے زمانے کی ہوا نہ لگی ہو جو اپنی آبداری میں بےمثل ہو ایسے ہی انکے اچھوتے جسم ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ گویا وہ انڈے کی طرح ہیں۔ انڈے کے اوپر کے چھلکے کے نیچے چھوٹے چھلکے جیسے ان کے بدن ہیں۔ ایک حدیث میں ام سلمہ ؓ کے سوال پر حضور ﷺ نے فرمایا حور عین سے مراد بہت بڑی آنکھوں والی سیاہ پلکوں والی حوریں ہیں۔ پھر پوچھا بیض مکنون سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا انڈے کے اندر کی سفید جھلی۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو سب سے پہلے میں کھڑا کیا جاؤن گا اور جبکہ وہ جناب باری میں پیش ہوں گے تو میں ان کا خطیب بنوں گا اور جب وہ غمگین ہو رہے ہوں گے تو میں انہیں خوشخبریاں سنانے والا ہوں گا اور ان کا سفارشی بنوں گا جب کہ یہ رکے ہوئے ہوں گے۔ حمد کا جھنڈا اس دن میرے ہاتھ میں ہوگا۔ حضرت آدم کی اولاد میں سے سب سے زیادہ اللہ کے ہاں اکرام و عزت والا میں ہوں یہ میں بطور فخر کے نہیں کہہ رہا۔ میرے آگے پیچھے قیام کے دن ایک ہزار خادم گھوم رہے ہوں گے جو مثل چھپے ہوئے انڈوں یا اچھوت موتیوں کے ہوں گے واللہ اعلم بالصواب۔
أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُومٌ
Ulaaa'ika lahum rizqum ma'loom
Those will have a provision determined -
یہی لوگ ہیں جن کے لئے روزی مقرر ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
متقیوں کے لیے نجات اور انعامات۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تم المناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور صرف اسی کا بدلہ دئیے جانے والے ہو جسے تم نے کیا دھرا ہے۔ پھر اپنے مخلص بندوں کو اس سے الگ کرلیتا ہے جیسے والعصر میں فرمایا کہ تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔ مگر ایماندار نیک اعمال۔ اور سورة والتین میں فرمایا ہم نے انسان کو بہت اچھی پیدائش میں پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نیچ کردیا مگر جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ اور سورة مریم میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71ۚ) 19۔ مریم :71) ، تم میں سے ہر ایک جہنم پروارد ہونے والا ہے یہ تو تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے اور یہ ضروری چیز ہے لیکن پھر ہم متقیوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اسی میں گرے پڑے چھوڑ دیں گے۔ سورة مدثر میں ارشاد ہوا ہے۔ (كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ۣثُمَّ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ 57) 29۔ العنکبوت :57) ہر شخص اپنے اپنے اعمال میں مشغول ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آچکا ہے اسی طرح یہاں پر بھی اپنے خاص بندوں کا استثناء کرلیا کہ وہ المناک عذابوں سے حساب کے پھنساوے سے الگ ہیں بلکہ ان کی برائیوں سے درگذر فرمایا گیا ہے اور ان کی نیکیاں بڑھا چڑھا کر ایک کی دس دس گنی بلکہ سات سات سو گنی کرکے بلکہ اس سے بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر انہیں دی گئی ہیں۔ ان کے لیے مقررہ روزی اور وہ قسم قسم کے میوہ جات ہیں۔ وہ مخدوم ہیں، ذی عزت ہیں، ذی اکرام ہیں، ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں، بڑی آؤ بھگت ہوتی ہے، بڑا ادب لحاظ رکھا جاتا ہے۔ یہ نعمتوں سے پر جنتوں میں ہیں۔ وہاں کے تختوں پر اس طرح بیٹھے ہیں کہ کسی کی پیٹھ کسی کی طرف نہیں۔ ایک مرفوع غریب حدیث میں بھی ہے کہ اس آیت کی تلاوت کرکے آپ نے فرمایا ہر ایک کی نگاہیں دوسرے کے چہرے پر پڑیں گی، آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اس شراب کے دور ان میں چل رہے ہوں گے جو جاری ہے جس کے ختم ہوجانے کم ہوجانے کا مطلق اندیشہ نہیں۔ جو ظاہر باطن میں آراستہ ہے خوبیاں ہیں برائیاں نہیں۔ رنگ کی سفید مزے کی بہت اچھی لذیذ۔ نہ اس کے پینے سے سردرد ہو نہ بک جھک لگے، دنیا کی شراب میں یہ آفتیں تھیں پیٹ کا درد سر کا درد بیہوشی بد حواسی وغیرہ لیکن جنت کی شراب میں ان میں سے ایک برائی بھی موجود نہیں رہی۔ دیکھنے میں خوش رنگ، پینے میں لذیذ، فوائد میں اعلیٰ ، سرور و کیف میں عمدہ لیکن سدھ بدھ دور کردینے والی بد مست بنادینے والی نہیں، نہ بدبو دار نہ بد نظر نہ قابل نفرت۔ بلکہ خوشبو دار خوش رنگ خوش ذائق خوش فائدہ، اس کے پینے سے پیٹ میں درد نہیں ہوتا اور اس کی کثرت ضرر رساں نہیں خلاف طبع نہیں۔ سر بھاری نہیں ہوجاتا چکر نہیں آتے گرانی محسوس نہیں ہوتی۔ ہوش و حواس جاتے نہیں رہتے۔ کوئی ایذاء تکلیف قے متلی نہیں ہوتی۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دنیا کی شراب میں چار برائیاں ہیں، نشہ، سردرد، قے اور پیشاب۔ جنت کی شراب ان تمام برائیوں سے پاک ہے دیکھ لو سورة الصافات۔ ان کے پاس نیچی نگاہوں والی شرمیلی نظروں والی پاک دامن عفیفہ حوریں ہیں جن کی نگاہ اپنے خاوندوں کے چہرے کے سوا کبھی کسی کے چہرے پر نہیں پڑتی اور نہ پڑیں گی۔ بڑی بڑی موٹی موٹی رسیلی آنکھیں ہیں حسن صورت حسن سیرت دونوں چیزیں ان میں موجود ہیں۔ جس طرح حضرت زلیخا نے حضرت یوسف ؑ میں یہ دونوں خوبیاں دیکھیں۔ عورتوں نے جب انہیں طعنے دینے شروع کئے تو ایک دن سب کو بلا کر بٹھالیا اور حضرت یوسف کا پورا بناؤ سنگھار کراکر بلایا عورتوں کی نگاہیں ان کے جمال کو دیکھ کر خیرہ ہوگئیں اور بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو فرشتہ ہیں۔ اسی وقت کہا یہی تو ہیں جن کے بارے میں تم سب مجھے ملامت کر رہی تھیں واللہ میں نے ان کو ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ پاک دامن ہی رہا۔ یہ باوجود جمال ظاہری کے حسن باطنی بھی رکھتا ہے۔ بڑا پاکباز امین پارسا متقی پرہیزگار ہے اسی طرح حوریں ہیں کہ جمال ظاہری کے ساتھ ہی باطنی خوبی بھی اپنے اندر رکھتی ہیں۔ پھر ان کا مزید حسن بیان ہو رہا ہے کہ ان کا گورا گورا جسم اور بھبوکا سا رنگ ایسا چمکیلا دلکش اور جاذب نظر ہے کہ گویا محفوظ موتی۔ جس تک کسی کا ہاتھ نہ پہنچا ہو، جو سیپ سے نہ نکلا ہو جسے زمانے کی ہوا نہ لگی ہو جو اپنی آبداری میں بےمثل ہو ایسے ہی انکے اچھوتے جسم ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ گویا وہ انڈے کی طرح ہیں۔ انڈے کے اوپر کے چھلکے کے نیچے چھوٹے چھلکے جیسے ان کے بدن ہیں۔ ایک حدیث میں ام سلمہ ؓ کے سوال پر حضور ﷺ نے فرمایا حور عین سے مراد بہت بڑی آنکھوں والی سیاہ پلکوں والی حوریں ہیں۔ پھر پوچھا بیض مکنون سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا انڈے کے اندر کی سفید جھلی۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو سب سے پہلے میں کھڑا کیا جاؤن گا اور جبکہ وہ جناب باری میں پیش ہوں گے تو میں ان کا خطیب بنوں گا اور جب وہ غمگین ہو رہے ہوں گے تو میں انہیں خوشخبریاں سنانے والا ہوں گا اور ان کا سفارشی بنوں گا جب کہ یہ رکے ہوئے ہوں گے۔ حمد کا جھنڈا اس دن میرے ہاتھ میں ہوگا۔ حضرت آدم کی اولاد میں سے سب سے زیادہ اللہ کے ہاں اکرام و عزت والا میں ہوں یہ میں بطور فخر کے نہیں کہہ رہا۔ میرے آگے پیچھے قیام کے دن ایک ہزار خادم گھوم رہے ہوں گے جو مثل چھپے ہوئے انڈوں یا اچھوت موتیوں کے ہوں گے واللہ اعلم بالصواب۔
فَوَٰكِهُ وَهُم مُّكْرَمُونَ
Fa waakihu wa hum mukramoon
Fruits; and they will be honored
(یعنی) میوے اور ان کا اعزاز کیا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
متقیوں کے لیے نجات اور انعامات۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تم المناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور صرف اسی کا بدلہ دئیے جانے والے ہو جسے تم نے کیا دھرا ہے۔ پھر اپنے مخلص بندوں کو اس سے الگ کرلیتا ہے جیسے والعصر میں فرمایا کہ تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔ مگر ایماندار نیک اعمال۔ اور سورة والتین میں فرمایا ہم نے انسان کو بہت اچھی پیدائش میں پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نیچ کردیا مگر جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ اور سورة مریم میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71ۚ) 19۔ مریم :71) ، تم میں سے ہر ایک جہنم پروارد ہونے والا ہے یہ تو تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے اور یہ ضروری چیز ہے لیکن پھر ہم متقیوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اسی میں گرے پڑے چھوڑ دیں گے۔ سورة مدثر میں ارشاد ہوا ہے۔ (كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ۣثُمَّ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ 57) 29۔ العنکبوت :57) ہر شخص اپنے اپنے اعمال میں مشغول ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آچکا ہے اسی طرح یہاں پر بھی اپنے خاص بندوں کا استثناء کرلیا کہ وہ المناک عذابوں سے حساب کے پھنساوے سے الگ ہیں بلکہ ان کی برائیوں سے درگذر فرمایا گیا ہے اور ان کی نیکیاں بڑھا چڑھا کر ایک کی دس دس گنی بلکہ سات سات سو گنی کرکے بلکہ اس سے بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر انہیں دی گئی ہیں۔ ان کے لیے مقررہ روزی اور وہ قسم قسم کے میوہ جات ہیں۔ وہ مخدوم ہیں، ذی عزت ہیں، ذی اکرام ہیں، ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں، بڑی آؤ بھگت ہوتی ہے، بڑا ادب لحاظ رکھا جاتا ہے۔ یہ نعمتوں سے پر جنتوں میں ہیں۔ وہاں کے تختوں پر اس طرح بیٹھے ہیں کہ کسی کی پیٹھ کسی کی طرف نہیں۔ ایک مرفوع غریب حدیث میں بھی ہے کہ اس آیت کی تلاوت کرکے آپ نے فرمایا ہر ایک کی نگاہیں دوسرے کے چہرے پر پڑیں گی، آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اس شراب کے دور ان میں چل رہے ہوں گے جو جاری ہے جس کے ختم ہوجانے کم ہوجانے کا مطلق اندیشہ نہیں۔ جو ظاہر باطن میں آراستہ ہے خوبیاں ہیں برائیاں نہیں۔ رنگ کی سفید مزے کی بہت اچھی لذیذ۔ نہ اس کے پینے سے سردرد ہو نہ بک جھک لگے، دنیا کی شراب میں یہ آفتیں تھیں پیٹ کا درد سر کا درد بیہوشی بد حواسی وغیرہ لیکن جنت کی شراب میں ان میں سے ایک برائی بھی موجود نہیں رہی۔ دیکھنے میں خوش رنگ، پینے میں لذیذ، فوائد میں اعلیٰ ، سرور و کیف میں عمدہ لیکن سدھ بدھ دور کردینے والی بد مست بنادینے والی نہیں، نہ بدبو دار نہ بد نظر نہ قابل نفرت۔ بلکہ خوشبو دار خوش رنگ خوش ذائق خوش فائدہ، اس کے پینے سے پیٹ میں درد نہیں ہوتا اور اس کی کثرت ضرر رساں نہیں خلاف طبع نہیں۔ سر بھاری نہیں ہوجاتا چکر نہیں آتے گرانی محسوس نہیں ہوتی۔ ہوش و حواس جاتے نہیں رہتے۔ کوئی ایذاء تکلیف قے متلی نہیں ہوتی۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دنیا کی شراب میں چار برائیاں ہیں، نشہ، سردرد، قے اور پیشاب۔ جنت کی شراب ان تمام برائیوں سے پاک ہے دیکھ لو سورة الصافات۔ ان کے پاس نیچی نگاہوں والی شرمیلی نظروں والی پاک دامن عفیفہ حوریں ہیں جن کی نگاہ اپنے خاوندوں کے چہرے کے سوا کبھی کسی کے چہرے پر نہیں پڑتی اور نہ پڑیں گی۔ بڑی بڑی موٹی موٹی رسیلی آنکھیں ہیں حسن صورت حسن سیرت دونوں چیزیں ان میں موجود ہیں۔ جس طرح حضرت زلیخا نے حضرت یوسف ؑ میں یہ دونوں خوبیاں دیکھیں۔ عورتوں نے جب انہیں طعنے دینے شروع کئے تو ایک دن سب کو بلا کر بٹھالیا اور حضرت یوسف کا پورا بناؤ سنگھار کراکر بلایا عورتوں کی نگاہیں ان کے جمال کو دیکھ کر خیرہ ہوگئیں اور بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو فرشتہ ہیں۔ اسی وقت کہا یہی تو ہیں جن کے بارے میں تم سب مجھے ملامت کر رہی تھیں واللہ میں نے ان کو ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ پاک دامن ہی رہا۔ یہ باوجود جمال ظاہری کے حسن باطنی بھی رکھتا ہے۔ بڑا پاکباز امین پارسا متقی پرہیزگار ہے اسی طرح حوریں ہیں کہ جمال ظاہری کے ساتھ ہی باطنی خوبی بھی اپنے اندر رکھتی ہیں۔ پھر ان کا مزید حسن بیان ہو رہا ہے کہ ان کا گورا گورا جسم اور بھبوکا سا رنگ ایسا چمکیلا دلکش اور جاذب نظر ہے کہ گویا محفوظ موتی۔ جس تک کسی کا ہاتھ نہ پہنچا ہو، جو سیپ سے نہ نکلا ہو جسے زمانے کی ہوا نہ لگی ہو جو اپنی آبداری میں بےمثل ہو ایسے ہی انکے اچھوتے جسم ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ گویا وہ انڈے کی طرح ہیں۔ انڈے کے اوپر کے چھلکے کے نیچے چھوٹے چھلکے جیسے ان کے بدن ہیں۔ ایک حدیث میں ام سلمہ ؓ کے سوال پر حضور ﷺ نے فرمایا حور عین سے مراد بہت بڑی آنکھوں والی سیاہ پلکوں والی حوریں ہیں۔ پھر پوچھا بیض مکنون سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا انڈے کے اندر کی سفید جھلی۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو سب سے پہلے میں کھڑا کیا جاؤن گا اور جبکہ وہ جناب باری میں پیش ہوں گے تو میں ان کا خطیب بنوں گا اور جب وہ غمگین ہو رہے ہوں گے تو میں انہیں خوشخبریاں سنانے والا ہوں گا اور ان کا سفارشی بنوں گا جب کہ یہ رکے ہوئے ہوں گے۔ حمد کا جھنڈا اس دن میرے ہاتھ میں ہوگا۔ حضرت آدم کی اولاد میں سے سب سے زیادہ اللہ کے ہاں اکرام و عزت والا میں ہوں یہ میں بطور فخر کے نہیں کہہ رہا۔ میرے آگے پیچھے قیام کے دن ایک ہزار خادم گھوم رہے ہوں گے جو مثل چھپے ہوئے انڈوں یا اچھوت موتیوں کے ہوں گے واللہ اعلم بالصواب۔
فِى جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ
Fee jannaatin Na'eem
In gardens of pleasure
نعمت کے باغوں میں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
متقیوں کے لیے نجات اور انعامات۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تم المناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور صرف اسی کا بدلہ دئیے جانے والے ہو جسے تم نے کیا دھرا ہے۔ پھر اپنے مخلص بندوں کو اس سے الگ کرلیتا ہے جیسے والعصر میں فرمایا کہ تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔ مگر ایماندار نیک اعمال۔ اور سورة والتین میں فرمایا ہم نے انسان کو بہت اچھی پیدائش میں پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نیچ کردیا مگر جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ اور سورة مریم میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71ۚ) 19۔ مریم :71) ، تم میں سے ہر ایک جہنم پروارد ہونے والا ہے یہ تو تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے اور یہ ضروری چیز ہے لیکن پھر ہم متقیوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اسی میں گرے پڑے چھوڑ دیں گے۔ سورة مدثر میں ارشاد ہوا ہے۔ (كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ۣثُمَّ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ 57) 29۔ العنکبوت :57) ہر شخص اپنے اپنے اعمال میں مشغول ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آچکا ہے اسی طرح یہاں پر بھی اپنے خاص بندوں کا استثناء کرلیا کہ وہ المناک عذابوں سے حساب کے پھنساوے سے الگ ہیں بلکہ ان کی برائیوں سے درگذر فرمایا گیا ہے اور ان کی نیکیاں بڑھا چڑھا کر ایک کی دس دس گنی بلکہ سات سات سو گنی کرکے بلکہ اس سے بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر انہیں دی گئی ہیں۔ ان کے لیے مقررہ روزی اور وہ قسم قسم کے میوہ جات ہیں۔ وہ مخدوم ہیں، ذی عزت ہیں، ذی اکرام ہیں، ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں، بڑی آؤ بھگت ہوتی ہے، بڑا ادب لحاظ رکھا جاتا ہے۔ یہ نعمتوں سے پر جنتوں میں ہیں۔ وہاں کے تختوں پر اس طرح بیٹھے ہیں کہ کسی کی پیٹھ کسی کی طرف نہیں۔ ایک مرفوع غریب حدیث میں بھی ہے کہ اس آیت کی تلاوت کرکے آپ نے فرمایا ہر ایک کی نگاہیں دوسرے کے چہرے پر پڑیں گی، آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اس شراب کے دور ان میں چل رہے ہوں گے جو جاری ہے جس کے ختم ہوجانے کم ہوجانے کا مطلق اندیشہ نہیں۔ جو ظاہر باطن میں آراستہ ہے خوبیاں ہیں برائیاں نہیں۔ رنگ کی سفید مزے کی بہت اچھی لذیذ۔ نہ اس کے پینے سے سردرد ہو نہ بک جھک لگے، دنیا کی شراب میں یہ آفتیں تھیں پیٹ کا درد سر کا درد بیہوشی بد حواسی وغیرہ لیکن جنت کی شراب میں ان میں سے ایک برائی بھی موجود نہیں رہی۔ دیکھنے میں خوش رنگ، پینے میں لذیذ، فوائد میں اعلیٰ ، سرور و کیف میں عمدہ لیکن سدھ بدھ دور کردینے والی بد مست بنادینے والی نہیں، نہ بدبو دار نہ بد نظر نہ قابل نفرت۔ بلکہ خوشبو دار خوش رنگ خوش ذائق خوش فائدہ، اس کے پینے سے پیٹ میں درد نہیں ہوتا اور اس کی کثرت ضرر رساں نہیں خلاف طبع نہیں۔ سر بھاری نہیں ہوجاتا چکر نہیں آتے گرانی محسوس نہیں ہوتی۔ ہوش و حواس جاتے نہیں رہتے۔ کوئی ایذاء تکلیف قے متلی نہیں ہوتی۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دنیا کی شراب میں چار برائیاں ہیں، نشہ، سردرد، قے اور پیشاب۔ جنت کی شراب ان تمام برائیوں سے پاک ہے دیکھ لو سورة الصافات۔ ان کے پاس نیچی نگاہوں والی شرمیلی نظروں والی پاک دامن عفیفہ حوریں ہیں جن کی نگاہ اپنے خاوندوں کے چہرے کے سوا کبھی کسی کے چہرے پر نہیں پڑتی اور نہ پڑیں گی۔ بڑی بڑی موٹی موٹی رسیلی آنکھیں ہیں حسن صورت حسن سیرت دونوں چیزیں ان میں موجود ہیں۔ جس طرح حضرت زلیخا نے حضرت یوسف ؑ میں یہ دونوں خوبیاں دیکھیں۔ عورتوں نے جب انہیں طعنے دینے شروع کئے تو ایک دن سب کو بلا کر بٹھالیا اور حضرت یوسف کا پورا بناؤ سنگھار کراکر بلایا عورتوں کی نگاہیں ان کے جمال کو دیکھ کر خیرہ ہوگئیں اور بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو فرشتہ ہیں۔ اسی وقت کہا یہی تو ہیں جن کے بارے میں تم سب مجھے ملامت کر رہی تھیں واللہ میں نے ان کو ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ پاک دامن ہی رہا۔ یہ باوجود جمال ظاہری کے حسن باطنی بھی رکھتا ہے۔ بڑا پاکباز امین پارسا متقی پرہیزگار ہے اسی طرح حوریں ہیں کہ جمال ظاہری کے ساتھ ہی باطنی خوبی بھی اپنے اندر رکھتی ہیں۔ پھر ان کا مزید حسن بیان ہو رہا ہے کہ ان کا گورا گورا جسم اور بھبوکا سا رنگ ایسا چمکیلا دلکش اور جاذب نظر ہے کہ گویا محفوظ موتی۔ جس تک کسی کا ہاتھ نہ پہنچا ہو، جو سیپ سے نہ نکلا ہو جسے زمانے کی ہوا نہ لگی ہو جو اپنی آبداری میں بےمثل ہو ایسے ہی انکے اچھوتے جسم ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ گویا وہ انڈے کی طرح ہیں۔ انڈے کے اوپر کے چھلکے کے نیچے چھوٹے چھلکے جیسے ان کے بدن ہیں۔ ایک حدیث میں ام سلمہ ؓ کے سوال پر حضور ﷺ نے فرمایا حور عین سے مراد بہت بڑی آنکھوں والی سیاہ پلکوں والی حوریں ہیں۔ پھر پوچھا بیض مکنون سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا انڈے کے اندر کی سفید جھلی۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو سب سے پہلے میں کھڑا کیا جاؤن گا اور جبکہ وہ جناب باری میں پیش ہوں گے تو میں ان کا خطیب بنوں گا اور جب وہ غمگین ہو رہے ہوں گے تو میں انہیں خوشخبریاں سنانے والا ہوں گا اور ان کا سفارشی بنوں گا جب کہ یہ رکے ہوئے ہوں گے۔ حمد کا جھنڈا اس دن میرے ہاتھ میں ہوگا۔ حضرت آدم کی اولاد میں سے سب سے زیادہ اللہ کے ہاں اکرام و عزت والا میں ہوں یہ میں بطور فخر کے نہیں کہہ رہا۔ میرے آگے پیچھے قیام کے دن ایک ہزار خادم گھوم رہے ہوں گے جو مثل چھپے ہوئے انڈوں یا اچھوت موتیوں کے ہوں گے واللہ اعلم بالصواب۔
عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَٰبِلِينَ
'Alaa sururim mutaqaa bileen
On thrones facing one another.
ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر (بیٹھے ہوں گے)
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
متقیوں کے لیے نجات اور انعامات۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تم المناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور صرف اسی کا بدلہ دئیے جانے والے ہو جسے تم نے کیا دھرا ہے۔ پھر اپنے مخلص بندوں کو اس سے الگ کرلیتا ہے جیسے والعصر میں فرمایا کہ تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔ مگر ایماندار نیک اعمال۔ اور سورة والتین میں فرمایا ہم نے انسان کو بہت اچھی پیدائش میں پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نیچ کردیا مگر جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ اور سورة مریم میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71ۚ) 19۔ مریم :71) ، تم میں سے ہر ایک جہنم پروارد ہونے والا ہے یہ تو تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے اور یہ ضروری چیز ہے لیکن پھر ہم متقیوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اسی میں گرے پڑے چھوڑ دیں گے۔ سورة مدثر میں ارشاد ہوا ہے۔ (كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ۣثُمَّ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ 57) 29۔ العنکبوت :57) ہر شخص اپنے اپنے اعمال میں مشغول ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آچکا ہے اسی طرح یہاں پر بھی اپنے خاص بندوں کا استثناء کرلیا کہ وہ المناک عذابوں سے حساب کے پھنساوے سے الگ ہیں بلکہ ان کی برائیوں سے درگذر فرمایا گیا ہے اور ان کی نیکیاں بڑھا چڑھا کر ایک کی دس دس گنی بلکہ سات سات سو گنی کرکے بلکہ اس سے بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر انہیں دی گئی ہیں۔ ان کے لیے مقررہ روزی اور وہ قسم قسم کے میوہ جات ہیں۔ وہ مخدوم ہیں، ذی عزت ہیں، ذی اکرام ہیں، ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں، بڑی آؤ بھگت ہوتی ہے، بڑا ادب لحاظ رکھا جاتا ہے۔ یہ نعمتوں سے پر جنتوں میں ہیں۔ وہاں کے تختوں پر اس طرح بیٹھے ہیں کہ کسی کی پیٹھ کسی کی طرف نہیں۔ ایک مرفوع غریب حدیث میں بھی ہے کہ اس آیت کی تلاوت کرکے آپ نے فرمایا ہر ایک کی نگاہیں دوسرے کے چہرے پر پڑیں گی، آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اس شراب کے دور ان میں چل رہے ہوں گے جو جاری ہے جس کے ختم ہوجانے کم ہوجانے کا مطلق اندیشہ نہیں۔ جو ظاہر باطن میں آراستہ ہے خوبیاں ہیں برائیاں نہیں۔ رنگ کی سفید مزے کی بہت اچھی لذیذ۔ نہ اس کے پینے سے سردرد ہو نہ بک جھک لگے، دنیا کی شراب میں یہ آفتیں تھیں پیٹ کا درد سر کا درد بیہوشی بد حواسی وغیرہ لیکن جنت کی شراب میں ان میں سے ایک برائی بھی موجود نہیں رہی۔ دیکھنے میں خوش رنگ، پینے میں لذیذ، فوائد میں اعلیٰ ، سرور و کیف میں عمدہ لیکن سدھ بدھ دور کردینے والی بد مست بنادینے والی نہیں، نہ بدبو دار نہ بد نظر نہ قابل نفرت۔ بلکہ خوشبو دار خوش رنگ خوش ذائق خوش فائدہ، اس کے پینے سے پیٹ میں درد نہیں ہوتا اور اس کی کثرت ضرر رساں نہیں خلاف طبع نہیں۔ سر بھاری نہیں ہوجاتا چکر نہیں آتے گرانی محسوس نہیں ہوتی۔ ہوش و حواس جاتے نہیں رہتے۔ کوئی ایذاء تکلیف قے متلی نہیں ہوتی۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دنیا کی شراب میں چار برائیاں ہیں، نشہ، سردرد، قے اور پیشاب۔ جنت کی شراب ان تمام برائیوں سے پاک ہے دیکھ لو سورة الصافات۔ ان کے پاس نیچی نگاہوں والی شرمیلی نظروں والی پاک دامن عفیفہ حوریں ہیں جن کی نگاہ اپنے خاوندوں کے چہرے کے سوا کبھی کسی کے چہرے پر نہیں پڑتی اور نہ پڑیں گی۔ بڑی بڑی موٹی موٹی رسیلی آنکھیں ہیں حسن صورت حسن سیرت دونوں چیزیں ان میں موجود ہیں۔ جس طرح حضرت زلیخا نے حضرت یوسف ؑ میں یہ دونوں خوبیاں دیکھیں۔ عورتوں نے جب انہیں طعنے دینے شروع کئے تو ایک دن سب کو بلا کر بٹھالیا اور حضرت یوسف کا پورا بناؤ سنگھار کراکر بلایا عورتوں کی نگاہیں ان کے جمال کو دیکھ کر خیرہ ہوگئیں اور بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو فرشتہ ہیں۔ اسی وقت کہا یہی تو ہیں جن کے بارے میں تم سب مجھے ملامت کر رہی تھیں واللہ میں نے ان کو ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ پاک دامن ہی رہا۔ یہ باوجود جمال ظاہری کے حسن باطنی بھی رکھتا ہے۔ بڑا پاکباز امین پارسا متقی پرہیزگار ہے اسی طرح حوریں ہیں کہ جمال ظاہری کے ساتھ ہی باطنی خوبی بھی اپنے اندر رکھتی ہیں۔ پھر ان کا مزید حسن بیان ہو رہا ہے کہ ان کا گورا گورا جسم اور بھبوکا سا رنگ ایسا چمکیلا دلکش اور جاذب نظر ہے کہ گویا محفوظ موتی۔ جس تک کسی کا ہاتھ نہ پہنچا ہو، جو سیپ سے نہ نکلا ہو جسے زمانے کی ہوا نہ لگی ہو جو اپنی آبداری میں بےمثل ہو ایسے ہی انکے اچھوتے جسم ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ گویا وہ انڈے کی طرح ہیں۔ انڈے کے اوپر کے چھلکے کے نیچے چھوٹے چھلکے جیسے ان کے بدن ہیں۔ ایک حدیث میں ام سلمہ ؓ کے سوال پر حضور ﷺ نے فرمایا حور عین سے مراد بہت بڑی آنکھوں والی سیاہ پلکوں والی حوریں ہیں۔ پھر پوچھا بیض مکنون سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا انڈے کے اندر کی سفید جھلی۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو سب سے پہلے میں کھڑا کیا جاؤن گا اور جبکہ وہ جناب باری میں پیش ہوں گے تو میں ان کا خطیب بنوں گا اور جب وہ غمگین ہو رہے ہوں گے تو میں انہیں خوشخبریاں سنانے والا ہوں گا اور ان کا سفارشی بنوں گا جب کہ یہ رکے ہوئے ہوں گے۔ حمد کا جھنڈا اس دن میرے ہاتھ میں ہوگا۔ حضرت آدم کی اولاد میں سے سب سے زیادہ اللہ کے ہاں اکرام و عزت والا میں ہوں یہ میں بطور فخر کے نہیں کہہ رہا۔ میرے آگے پیچھے قیام کے دن ایک ہزار خادم گھوم رہے ہوں گے جو مثل چھپے ہوئے انڈوں یا اچھوت موتیوں کے ہوں گے واللہ اعلم بالصواب۔
يُطَافُ عَلَيْهِم بِكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍۭ
Yutaafu 'alaihim bikaasim mim ma'een
There will be circulated among them a cup [of wine] from a flowing spring,
شراب لطیف کے جام کا ان میں دور چل رہا ہوگا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
متقیوں کے لیے نجات اور انعامات۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تم المناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور صرف اسی کا بدلہ دئیے جانے والے ہو جسے تم نے کیا دھرا ہے۔ پھر اپنے مخلص بندوں کو اس سے الگ کرلیتا ہے جیسے والعصر میں فرمایا کہ تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔ مگر ایماندار نیک اعمال۔ اور سورة والتین میں فرمایا ہم نے انسان کو بہت اچھی پیدائش میں پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نیچ کردیا مگر جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ اور سورة مریم میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71ۚ) 19۔ مریم :71) ، تم میں سے ہر ایک جہنم پروارد ہونے والا ہے یہ تو تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے اور یہ ضروری چیز ہے لیکن پھر ہم متقیوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اسی میں گرے پڑے چھوڑ دیں گے۔ سورة مدثر میں ارشاد ہوا ہے۔ (كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ۣثُمَّ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ 57) 29۔ العنکبوت :57) ہر شخص اپنے اپنے اعمال میں مشغول ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آچکا ہے اسی طرح یہاں پر بھی اپنے خاص بندوں کا استثناء کرلیا کہ وہ المناک عذابوں سے حساب کے پھنساوے سے الگ ہیں بلکہ ان کی برائیوں سے درگذر فرمایا گیا ہے اور ان کی نیکیاں بڑھا چڑھا کر ایک کی دس دس گنی بلکہ سات سات سو گنی کرکے بلکہ اس سے بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر انہیں دی گئی ہیں۔ ان کے لیے مقررہ روزی اور وہ قسم قسم کے میوہ جات ہیں۔ وہ مخدوم ہیں، ذی عزت ہیں، ذی اکرام ہیں، ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں، بڑی آؤ بھگت ہوتی ہے، بڑا ادب لحاظ رکھا جاتا ہے۔ یہ نعمتوں سے پر جنتوں میں ہیں۔ وہاں کے تختوں پر اس طرح بیٹھے ہیں کہ کسی کی پیٹھ کسی کی طرف نہیں۔ ایک مرفوع غریب حدیث میں بھی ہے کہ اس آیت کی تلاوت کرکے آپ نے فرمایا ہر ایک کی نگاہیں دوسرے کے چہرے پر پڑیں گی، آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اس شراب کے دور ان میں چل رہے ہوں گے جو جاری ہے جس کے ختم ہوجانے کم ہوجانے کا مطلق اندیشہ نہیں۔ جو ظاہر باطن میں آراستہ ہے خوبیاں ہیں برائیاں نہیں۔ رنگ کی سفید مزے کی بہت اچھی لذیذ۔ نہ اس کے پینے سے سردرد ہو نہ بک جھک لگے، دنیا کی شراب میں یہ آفتیں تھیں پیٹ کا درد سر کا درد بیہوشی بد حواسی وغیرہ لیکن جنت کی شراب میں ان میں سے ایک برائی بھی موجود نہیں رہی۔ دیکھنے میں خوش رنگ، پینے میں لذیذ، فوائد میں اعلیٰ ، سرور و کیف میں عمدہ لیکن سدھ بدھ دور کردینے والی بد مست بنادینے والی نہیں، نہ بدبو دار نہ بد نظر نہ قابل نفرت۔ بلکہ خوشبو دار خوش رنگ خوش ذائق خوش فائدہ، اس کے پینے سے پیٹ میں درد نہیں ہوتا اور اس کی کثرت ضرر رساں نہیں خلاف طبع نہیں۔ سر بھاری نہیں ہوجاتا چکر نہیں آتے گرانی محسوس نہیں ہوتی۔ ہوش و حواس جاتے نہیں رہتے۔ کوئی ایذاء تکلیف قے متلی نہیں ہوتی۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دنیا کی شراب میں چار برائیاں ہیں، نشہ، سردرد، قے اور پیشاب۔ جنت کی شراب ان تمام برائیوں سے پاک ہے دیکھ لو سورة الصافات۔ ان کے پاس نیچی نگاہوں والی شرمیلی نظروں والی پاک دامن عفیفہ حوریں ہیں جن کی نگاہ اپنے خاوندوں کے چہرے کے سوا کبھی کسی کے چہرے پر نہیں پڑتی اور نہ پڑیں گی۔ بڑی بڑی موٹی موٹی رسیلی آنکھیں ہیں حسن صورت حسن سیرت دونوں چیزیں ان میں موجود ہیں۔ جس طرح حضرت زلیخا نے حضرت یوسف ؑ میں یہ دونوں خوبیاں دیکھیں۔ عورتوں نے جب انہیں طعنے دینے شروع کئے تو ایک دن سب کو بلا کر بٹھالیا اور حضرت یوسف کا پورا بناؤ سنگھار کراکر بلایا عورتوں کی نگاہیں ان کے جمال کو دیکھ کر خیرہ ہوگئیں اور بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو فرشتہ ہیں۔ اسی وقت کہا یہی تو ہیں جن کے بارے میں تم سب مجھے ملامت کر رہی تھیں واللہ میں نے ان کو ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ پاک دامن ہی رہا۔ یہ باوجود جمال ظاہری کے حسن باطنی بھی رکھتا ہے۔ بڑا پاکباز امین پارسا متقی پرہیزگار ہے اسی طرح حوریں ہیں کہ جمال ظاہری کے ساتھ ہی باطنی خوبی بھی اپنے اندر رکھتی ہیں۔ پھر ان کا مزید حسن بیان ہو رہا ہے کہ ان کا گورا گورا جسم اور بھبوکا سا رنگ ایسا چمکیلا دلکش اور جاذب نظر ہے کہ گویا محفوظ موتی۔ جس تک کسی کا ہاتھ نہ پہنچا ہو، جو سیپ سے نہ نکلا ہو جسے زمانے کی ہوا نہ لگی ہو جو اپنی آبداری میں بےمثل ہو ایسے ہی انکے اچھوتے جسم ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ گویا وہ انڈے کی طرح ہیں۔ انڈے کے اوپر کے چھلکے کے نیچے چھوٹے چھلکے جیسے ان کے بدن ہیں۔ ایک حدیث میں ام سلمہ ؓ کے سوال پر حضور ﷺ نے فرمایا حور عین سے مراد بہت بڑی آنکھوں والی سیاہ پلکوں والی حوریں ہیں۔ پھر پوچھا بیض مکنون سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا انڈے کے اندر کی سفید جھلی۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو سب سے پہلے میں کھڑا کیا جاؤن گا اور جبکہ وہ جناب باری میں پیش ہوں گے تو میں ان کا خطیب بنوں گا اور جب وہ غمگین ہو رہے ہوں گے تو میں انہیں خوشخبریاں سنانے والا ہوں گا اور ان کا سفارشی بنوں گا جب کہ یہ رکے ہوئے ہوں گے۔ حمد کا جھنڈا اس دن میرے ہاتھ میں ہوگا۔ حضرت آدم کی اولاد میں سے سب سے زیادہ اللہ کے ہاں اکرام و عزت والا میں ہوں یہ میں بطور فخر کے نہیں کہہ رہا۔ میرے آگے پیچھے قیام کے دن ایک ہزار خادم گھوم رہے ہوں گے جو مثل چھپے ہوئے انڈوں یا اچھوت موتیوں کے ہوں گے واللہ اعلم بالصواب۔
بَيْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشَّٰرِبِينَ
Baidaaa'a laz zatil lish shaaribeen
White and delicious to the drinkers;
جو رنگ کی سفید اور پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہوگی
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
متقیوں کے لیے نجات اور انعامات۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تم المناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور صرف اسی کا بدلہ دئیے جانے والے ہو جسے تم نے کیا دھرا ہے۔ پھر اپنے مخلص بندوں کو اس سے الگ کرلیتا ہے جیسے والعصر میں فرمایا کہ تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔ مگر ایماندار نیک اعمال۔ اور سورة والتین میں فرمایا ہم نے انسان کو بہت اچھی پیدائش میں پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نیچ کردیا مگر جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ اور سورة مریم میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71ۚ) 19۔ مریم :71) ، تم میں سے ہر ایک جہنم پروارد ہونے والا ہے یہ تو تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے اور یہ ضروری چیز ہے لیکن پھر ہم متقیوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اسی میں گرے پڑے چھوڑ دیں گے۔ سورة مدثر میں ارشاد ہوا ہے۔ (كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ۣثُمَّ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ 57) 29۔ العنکبوت :57) ہر شخص اپنے اپنے اعمال میں مشغول ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آچکا ہے اسی طرح یہاں پر بھی اپنے خاص بندوں کا استثناء کرلیا کہ وہ المناک عذابوں سے حساب کے پھنساوے سے الگ ہیں بلکہ ان کی برائیوں سے درگذر فرمایا گیا ہے اور ان کی نیکیاں بڑھا چڑھا کر ایک کی دس دس گنی بلکہ سات سات سو گنی کرکے بلکہ اس سے بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر انہیں دی گئی ہیں۔ ان کے لیے مقررہ روزی اور وہ قسم قسم کے میوہ جات ہیں۔ وہ مخدوم ہیں، ذی عزت ہیں، ذی اکرام ہیں، ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں، بڑی آؤ بھگت ہوتی ہے، بڑا ادب لحاظ رکھا جاتا ہے۔ یہ نعمتوں سے پر جنتوں میں ہیں۔ وہاں کے تختوں پر اس طرح بیٹھے ہیں کہ کسی کی پیٹھ کسی کی طرف نہیں۔ ایک مرفوع غریب حدیث میں بھی ہے کہ اس آیت کی تلاوت کرکے آپ نے فرمایا ہر ایک کی نگاہیں دوسرے کے چہرے پر پڑیں گی، آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اس شراب کے دور ان میں چل رہے ہوں گے جو جاری ہے جس کے ختم ہوجانے کم ہوجانے کا مطلق اندیشہ نہیں۔ جو ظاہر باطن میں آراستہ ہے خوبیاں ہیں برائیاں نہیں۔ رنگ کی سفید مزے کی بہت اچھی لذیذ۔ نہ اس کے پینے سے سردرد ہو نہ بک جھک لگے، دنیا کی شراب میں یہ آفتیں تھیں پیٹ کا درد سر کا درد بیہوشی بد حواسی وغیرہ لیکن جنت کی شراب میں ان میں سے ایک برائی بھی موجود نہیں رہی۔ دیکھنے میں خوش رنگ، پینے میں لذیذ، فوائد میں اعلیٰ ، سرور و کیف میں عمدہ لیکن سدھ بدھ دور کردینے والی بد مست بنادینے والی نہیں، نہ بدبو دار نہ بد نظر نہ قابل نفرت۔ بلکہ خوشبو دار خوش رنگ خوش ذائق خوش فائدہ، اس کے پینے سے پیٹ میں درد نہیں ہوتا اور اس کی کثرت ضرر رساں نہیں خلاف طبع نہیں۔ سر بھاری نہیں ہوجاتا چکر نہیں آتے گرانی محسوس نہیں ہوتی۔ ہوش و حواس جاتے نہیں رہتے۔ کوئی ایذاء تکلیف قے متلی نہیں ہوتی۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دنیا کی شراب میں چار برائیاں ہیں، نشہ، سردرد، قے اور پیشاب۔ جنت کی شراب ان تمام برائیوں سے پاک ہے دیکھ لو سورة الصافات۔ ان کے پاس نیچی نگاہوں والی شرمیلی نظروں والی پاک دامن عفیفہ حوریں ہیں جن کی نگاہ اپنے خاوندوں کے چہرے کے سوا کبھی کسی کے چہرے پر نہیں پڑتی اور نہ پڑیں گی۔ بڑی بڑی موٹی موٹی رسیلی آنکھیں ہیں حسن صورت حسن سیرت دونوں چیزیں ان میں موجود ہیں۔ جس طرح حضرت زلیخا نے حضرت یوسف ؑ میں یہ دونوں خوبیاں دیکھیں۔ عورتوں نے جب انہیں طعنے دینے شروع کئے تو ایک دن سب کو بلا کر بٹھالیا اور حضرت یوسف کا پورا بناؤ سنگھار کراکر بلایا عورتوں کی نگاہیں ان کے جمال کو دیکھ کر خیرہ ہوگئیں اور بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو فرشتہ ہیں۔ اسی وقت کہا یہی تو ہیں جن کے بارے میں تم سب مجھے ملامت کر رہی تھیں واللہ میں نے ان کو ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ پاک دامن ہی رہا۔ یہ باوجود جمال ظاہری کے حسن باطنی بھی رکھتا ہے۔ بڑا پاکباز امین پارسا متقی پرہیزگار ہے اسی طرح حوریں ہیں کہ جمال ظاہری کے ساتھ ہی باطنی خوبی بھی اپنے اندر رکھتی ہیں۔ پھر ان کا مزید حسن بیان ہو رہا ہے کہ ان کا گورا گورا جسم اور بھبوکا سا رنگ ایسا چمکیلا دلکش اور جاذب نظر ہے کہ گویا محفوظ موتی۔ جس تک کسی کا ہاتھ نہ پہنچا ہو، جو سیپ سے نہ نکلا ہو جسے زمانے کی ہوا نہ لگی ہو جو اپنی آبداری میں بےمثل ہو ایسے ہی انکے اچھوتے جسم ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ گویا وہ انڈے کی طرح ہیں۔ انڈے کے اوپر کے چھلکے کے نیچے چھوٹے چھلکے جیسے ان کے بدن ہیں۔ ایک حدیث میں ام سلمہ ؓ کے سوال پر حضور ﷺ نے فرمایا حور عین سے مراد بہت بڑی آنکھوں والی سیاہ پلکوں والی حوریں ہیں۔ پھر پوچھا بیض مکنون سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا انڈے کے اندر کی سفید جھلی۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو سب سے پہلے میں کھڑا کیا جاؤن گا اور جبکہ وہ جناب باری میں پیش ہوں گے تو میں ان کا خطیب بنوں گا اور جب وہ غمگین ہو رہے ہوں گے تو میں انہیں خوشخبریاں سنانے والا ہوں گا اور ان کا سفارشی بنوں گا جب کہ یہ رکے ہوئے ہوں گے۔ حمد کا جھنڈا اس دن میرے ہاتھ میں ہوگا۔ حضرت آدم کی اولاد میں سے سب سے زیادہ اللہ کے ہاں اکرام و عزت والا میں ہوں یہ میں بطور فخر کے نہیں کہہ رہا۔ میرے آگے پیچھے قیام کے دن ایک ہزار خادم گھوم رہے ہوں گے جو مثل چھپے ہوئے انڈوں یا اچھوت موتیوں کے ہوں گے واللہ اعلم بالصواب۔
لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ
Laa feehaa ghawlunw wa laa hum 'anhaa yunzafoon
No bad effect is there in it, nor from it will they be intoxicated.
نہ اس سے دردِ سر ہو اور نہ وہ اس سے متوالے ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
متقیوں کے لیے نجات اور انعامات۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تم المناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور صرف اسی کا بدلہ دئیے جانے والے ہو جسے تم نے کیا دھرا ہے۔ پھر اپنے مخلص بندوں کو اس سے الگ کرلیتا ہے جیسے والعصر میں فرمایا کہ تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔ مگر ایماندار نیک اعمال۔ اور سورة والتین میں فرمایا ہم نے انسان کو بہت اچھی پیدائش میں پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نیچ کردیا مگر جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ اور سورة مریم میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71ۚ) 19۔ مریم :71) ، تم میں سے ہر ایک جہنم پروارد ہونے والا ہے یہ تو تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے اور یہ ضروری چیز ہے لیکن پھر ہم متقیوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اسی میں گرے پڑے چھوڑ دیں گے۔ سورة مدثر میں ارشاد ہوا ہے۔ (كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ۣثُمَّ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ 57) 29۔ العنکبوت :57) ہر شخص اپنے اپنے اعمال میں مشغول ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آچکا ہے اسی طرح یہاں پر بھی اپنے خاص بندوں کا استثناء کرلیا کہ وہ المناک عذابوں سے حساب کے پھنساوے سے الگ ہیں بلکہ ان کی برائیوں سے درگذر فرمایا گیا ہے اور ان کی نیکیاں بڑھا چڑھا کر ایک کی دس دس گنی بلکہ سات سات سو گنی کرکے بلکہ اس سے بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر انہیں دی گئی ہیں۔ ان کے لیے مقررہ روزی اور وہ قسم قسم کے میوہ جات ہیں۔ وہ مخدوم ہیں، ذی عزت ہیں، ذی اکرام ہیں، ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں، بڑی آؤ بھگت ہوتی ہے، بڑا ادب لحاظ رکھا جاتا ہے۔ یہ نعمتوں سے پر جنتوں میں ہیں۔ وہاں کے تختوں پر اس طرح بیٹھے ہیں کہ کسی کی پیٹھ کسی کی طرف نہیں۔ ایک مرفوع غریب حدیث میں بھی ہے کہ اس آیت کی تلاوت کرکے آپ نے فرمایا ہر ایک کی نگاہیں دوسرے کے چہرے پر پڑیں گی، آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اس شراب کے دور ان میں چل رہے ہوں گے جو جاری ہے جس کے ختم ہوجانے کم ہوجانے کا مطلق اندیشہ نہیں۔ جو ظاہر باطن میں آراستہ ہے خوبیاں ہیں برائیاں نہیں۔ رنگ کی سفید مزے کی بہت اچھی لذیذ۔ نہ اس کے پینے سے سردرد ہو نہ بک جھک لگے، دنیا کی شراب میں یہ آفتیں تھیں پیٹ کا درد سر کا درد بیہوشی بد حواسی وغیرہ لیکن جنت کی شراب میں ان میں سے ایک برائی بھی موجود نہیں رہی۔ دیکھنے میں خوش رنگ، پینے میں لذیذ، فوائد میں اعلیٰ ، سرور و کیف میں عمدہ لیکن سدھ بدھ دور کردینے والی بد مست بنادینے والی نہیں، نہ بدبو دار نہ بد نظر نہ قابل نفرت۔ بلکہ خوشبو دار خوش رنگ خوش ذائق خوش فائدہ، اس کے پینے سے پیٹ میں درد نہیں ہوتا اور اس کی کثرت ضرر رساں نہیں خلاف طبع نہیں۔ سر بھاری نہیں ہوجاتا چکر نہیں آتے گرانی محسوس نہیں ہوتی۔ ہوش و حواس جاتے نہیں رہتے۔ کوئی ایذاء تکلیف قے متلی نہیں ہوتی۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دنیا کی شراب میں چار برائیاں ہیں، نشہ، سردرد، قے اور پیشاب۔ جنت کی شراب ان تمام برائیوں سے پاک ہے دیکھ لو سورة الصافات۔ ان کے پاس نیچی نگاہوں والی شرمیلی نظروں والی پاک دامن عفیفہ حوریں ہیں جن کی نگاہ اپنے خاوندوں کے چہرے کے سوا کبھی کسی کے چہرے پر نہیں پڑتی اور نہ پڑیں گی۔ بڑی بڑی موٹی موٹی رسیلی آنکھیں ہیں حسن صورت حسن سیرت دونوں چیزیں ان میں موجود ہیں۔ جس طرح حضرت زلیخا نے حضرت یوسف ؑ میں یہ دونوں خوبیاں دیکھیں۔ عورتوں نے جب انہیں طعنے دینے شروع کئے تو ایک دن سب کو بلا کر بٹھالیا اور حضرت یوسف کا پورا بناؤ سنگھار کراکر بلایا عورتوں کی نگاہیں ان کے جمال کو دیکھ کر خیرہ ہوگئیں اور بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو فرشتہ ہیں۔ اسی وقت کہا یہی تو ہیں جن کے بارے میں تم سب مجھے ملامت کر رہی تھیں واللہ میں نے ان کو ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ پاک دامن ہی رہا۔ یہ باوجود جمال ظاہری کے حسن باطنی بھی رکھتا ہے۔ بڑا پاکباز امین پارسا متقی پرہیزگار ہے اسی طرح حوریں ہیں کہ جمال ظاہری کے ساتھ ہی باطنی خوبی بھی اپنے اندر رکھتی ہیں۔ پھر ان کا مزید حسن بیان ہو رہا ہے کہ ان کا گورا گورا جسم اور بھبوکا سا رنگ ایسا چمکیلا دلکش اور جاذب نظر ہے کہ گویا محفوظ موتی۔ جس تک کسی کا ہاتھ نہ پہنچا ہو، جو سیپ سے نہ نکلا ہو جسے زمانے کی ہوا نہ لگی ہو جو اپنی آبداری میں بےمثل ہو ایسے ہی انکے اچھوتے جسم ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ گویا وہ انڈے کی طرح ہیں۔ انڈے کے اوپر کے چھلکے کے نیچے چھوٹے چھلکے جیسے ان کے بدن ہیں۔ ایک حدیث میں ام سلمہ ؓ کے سوال پر حضور ﷺ نے فرمایا حور عین سے مراد بہت بڑی آنکھوں والی سیاہ پلکوں والی حوریں ہیں۔ پھر پوچھا بیض مکنون سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا انڈے کے اندر کی سفید جھلی۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو سب سے پہلے میں کھڑا کیا جاؤن گا اور جبکہ وہ جناب باری میں پیش ہوں گے تو میں ان کا خطیب بنوں گا اور جب وہ غمگین ہو رہے ہوں گے تو میں انہیں خوشخبریاں سنانے والا ہوں گا اور ان کا سفارشی بنوں گا جب کہ یہ رکے ہوئے ہوں گے۔ حمد کا جھنڈا اس دن میرے ہاتھ میں ہوگا۔ حضرت آدم کی اولاد میں سے سب سے زیادہ اللہ کے ہاں اکرام و عزت والا میں ہوں یہ میں بطور فخر کے نہیں کہہ رہا۔ میرے آگے پیچھے قیام کے دن ایک ہزار خادم گھوم رہے ہوں گے جو مثل چھپے ہوئے انڈوں یا اچھوت موتیوں کے ہوں گے واللہ اعلم بالصواب۔
وَعِندَهُمْ قَٰصِرَٰتُ ٱلطَّرْفِ عِينٌ
Wa 'indahum qaasiraatut tarfi 'een
And with them will be women limiting [their] glances, with large, [beautiful] eyes,
اور ان کے پاس عورتیں ہوں گی جو نگاہیں نیچی رکھتی ہوں گی اور آنکھیں بڑی بڑی
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
متقیوں کے لیے نجات اور انعامات۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تم المناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور صرف اسی کا بدلہ دئیے جانے والے ہو جسے تم نے کیا دھرا ہے۔ پھر اپنے مخلص بندوں کو اس سے الگ کرلیتا ہے جیسے والعصر میں فرمایا کہ تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔ مگر ایماندار نیک اعمال۔ اور سورة والتین میں فرمایا ہم نے انسان کو بہت اچھی پیدائش میں پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نیچ کردیا مگر جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ اور سورة مریم میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71ۚ) 19۔ مریم :71) ، تم میں سے ہر ایک جہنم پروارد ہونے والا ہے یہ تو تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے اور یہ ضروری چیز ہے لیکن پھر ہم متقیوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اسی میں گرے پڑے چھوڑ دیں گے۔ سورة مدثر میں ارشاد ہوا ہے۔ (كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ۣثُمَّ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ 57) 29۔ العنکبوت :57) ہر شخص اپنے اپنے اعمال میں مشغول ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آچکا ہے اسی طرح یہاں پر بھی اپنے خاص بندوں کا استثناء کرلیا کہ وہ المناک عذابوں سے حساب کے پھنساوے سے الگ ہیں بلکہ ان کی برائیوں سے درگذر فرمایا گیا ہے اور ان کی نیکیاں بڑھا چڑھا کر ایک کی دس دس گنی بلکہ سات سات سو گنی کرکے بلکہ اس سے بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر انہیں دی گئی ہیں۔ ان کے لیے مقررہ روزی اور وہ قسم قسم کے میوہ جات ہیں۔ وہ مخدوم ہیں، ذی عزت ہیں، ذی اکرام ہیں، ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں، بڑی آؤ بھگت ہوتی ہے، بڑا ادب لحاظ رکھا جاتا ہے۔ یہ نعمتوں سے پر جنتوں میں ہیں۔ وہاں کے تختوں پر اس طرح بیٹھے ہیں کہ کسی کی پیٹھ کسی کی طرف نہیں۔ ایک مرفوع غریب حدیث میں بھی ہے کہ اس آیت کی تلاوت کرکے آپ نے فرمایا ہر ایک کی نگاہیں دوسرے کے چہرے پر پڑیں گی، آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اس شراب کے دور ان میں چل رہے ہوں گے جو جاری ہے جس کے ختم ہوجانے کم ہوجانے کا مطلق اندیشہ نہیں۔ جو ظاہر باطن میں آراستہ ہے خوبیاں ہیں برائیاں نہیں۔ رنگ کی سفید مزے کی بہت اچھی لذیذ۔ نہ اس کے پینے سے سردرد ہو نہ بک جھک لگے، دنیا کی شراب میں یہ آفتیں تھیں پیٹ کا درد سر کا درد بیہوشی بد حواسی وغیرہ لیکن جنت کی شراب میں ان میں سے ایک برائی بھی موجود نہیں رہی۔ دیکھنے میں خوش رنگ، پینے میں لذیذ، فوائد میں اعلیٰ ، سرور و کیف میں عمدہ لیکن سدھ بدھ دور کردینے والی بد مست بنادینے والی نہیں، نہ بدبو دار نہ بد نظر نہ قابل نفرت۔ بلکہ خوشبو دار خوش رنگ خوش ذائق خوش فائدہ، اس کے پینے سے پیٹ میں درد نہیں ہوتا اور اس کی کثرت ضرر رساں نہیں خلاف طبع نہیں۔ سر بھاری نہیں ہوجاتا چکر نہیں آتے گرانی محسوس نہیں ہوتی۔ ہوش و حواس جاتے نہیں رہتے۔ کوئی ایذاء تکلیف قے متلی نہیں ہوتی۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دنیا کی شراب میں چار برائیاں ہیں، نشہ، سردرد، قے اور پیشاب۔ جنت کی شراب ان تمام برائیوں سے پاک ہے دیکھ لو سورة الصافات۔ ان کے پاس نیچی نگاہوں والی شرمیلی نظروں والی پاک دامن عفیفہ حوریں ہیں جن کی نگاہ اپنے خاوندوں کے چہرے کے سوا کبھی کسی کے چہرے پر نہیں پڑتی اور نہ پڑیں گی۔ بڑی بڑی موٹی موٹی رسیلی آنکھیں ہیں حسن صورت حسن سیرت دونوں چیزیں ان میں موجود ہیں۔ جس طرح حضرت زلیخا نے حضرت یوسف ؑ میں یہ دونوں خوبیاں دیکھیں۔ عورتوں نے جب انہیں طعنے دینے شروع کئے تو ایک دن سب کو بلا کر بٹھالیا اور حضرت یوسف کا پورا بناؤ سنگھار کراکر بلایا عورتوں کی نگاہیں ان کے جمال کو دیکھ کر خیرہ ہوگئیں اور بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو فرشتہ ہیں۔ اسی وقت کہا یہی تو ہیں جن کے بارے میں تم سب مجھے ملامت کر رہی تھیں واللہ میں نے ان کو ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ پاک دامن ہی رہا۔ یہ باوجود جمال ظاہری کے حسن باطنی بھی رکھتا ہے۔ بڑا پاکباز امین پارسا متقی پرہیزگار ہے اسی طرح حوریں ہیں کہ جمال ظاہری کے ساتھ ہی باطنی خوبی بھی اپنے اندر رکھتی ہیں۔ پھر ان کا مزید حسن بیان ہو رہا ہے کہ ان کا گورا گورا جسم اور بھبوکا سا رنگ ایسا چمکیلا دلکش اور جاذب نظر ہے کہ گویا محفوظ موتی۔ جس تک کسی کا ہاتھ نہ پہنچا ہو، جو سیپ سے نہ نکلا ہو جسے زمانے کی ہوا نہ لگی ہو جو اپنی آبداری میں بےمثل ہو ایسے ہی انکے اچھوتے جسم ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ گویا وہ انڈے کی طرح ہیں۔ انڈے کے اوپر کے چھلکے کے نیچے چھوٹے چھلکے جیسے ان کے بدن ہیں۔ ایک حدیث میں ام سلمہ ؓ کے سوال پر حضور ﷺ نے فرمایا حور عین سے مراد بہت بڑی آنکھوں والی سیاہ پلکوں والی حوریں ہیں۔ پھر پوچھا بیض مکنون سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا انڈے کے اندر کی سفید جھلی۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو سب سے پہلے میں کھڑا کیا جاؤن گا اور جبکہ وہ جناب باری میں پیش ہوں گے تو میں ان کا خطیب بنوں گا اور جب وہ غمگین ہو رہے ہوں گے تو میں انہیں خوشخبریاں سنانے والا ہوں گا اور ان کا سفارشی بنوں گا جب کہ یہ رکے ہوئے ہوں گے۔ حمد کا جھنڈا اس دن میرے ہاتھ میں ہوگا۔ حضرت آدم کی اولاد میں سے سب سے زیادہ اللہ کے ہاں اکرام و عزت والا میں ہوں یہ میں بطور فخر کے نہیں کہہ رہا۔ میرے آگے پیچھے قیام کے دن ایک ہزار خادم گھوم رہے ہوں گے جو مثل چھپے ہوئے انڈوں یا اچھوت موتیوں کے ہوں گے واللہ اعلم بالصواب۔
كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُونٌ
Ka annahunna baidum maknoon
As if they were [delicate] eggs, well-protected.
گویا وہ محفوظ انڈے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
متقیوں کے لیے نجات اور انعامات۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں سے خطاب کر کے فرما رہا ہے کہ تم المناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور صرف اسی کا بدلہ دئیے جانے والے ہو جسے تم نے کیا دھرا ہے۔ پھر اپنے مخلص بندوں کو اس سے الگ کرلیتا ہے جیسے والعصر میں فرمایا کہ تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔ مگر ایماندار نیک اعمال۔ اور سورة والتین میں فرمایا ہم نے انسان کو بہت اچھی پیدائش میں پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نیچ کردیا مگر جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ اور سورة مریم میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71ۚ) 19۔ مریم :71) ، تم میں سے ہر ایک جہنم پروارد ہونے والا ہے یہ تو تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے اور یہ ضروری چیز ہے لیکن پھر ہم متقیوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اسی میں گرے پڑے چھوڑ دیں گے۔ سورة مدثر میں ارشاد ہوا ہے۔ (كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ۣثُمَّ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ 57) 29۔ العنکبوت :57) ہر شخص اپنے اپنے اعمال میں مشغول ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آچکا ہے اسی طرح یہاں پر بھی اپنے خاص بندوں کا استثناء کرلیا کہ وہ المناک عذابوں سے حساب کے پھنساوے سے الگ ہیں بلکہ ان کی برائیوں سے درگذر فرمایا گیا ہے اور ان کی نیکیاں بڑھا چڑھا کر ایک کی دس دس گنی بلکہ سات سات سو گنی کرکے بلکہ اس سے بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر انہیں دی گئی ہیں۔ ان کے لیے مقررہ روزی اور وہ قسم قسم کے میوہ جات ہیں۔ وہ مخدوم ہیں، ذی عزت ہیں، ذی اکرام ہیں، ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں، بڑی آؤ بھگت ہوتی ہے، بڑا ادب لحاظ رکھا جاتا ہے۔ یہ نعمتوں سے پر جنتوں میں ہیں۔ وہاں کے تختوں پر اس طرح بیٹھے ہیں کہ کسی کی پیٹھ کسی کی طرف نہیں۔ ایک مرفوع غریب حدیث میں بھی ہے کہ اس آیت کی تلاوت کرکے آپ نے فرمایا ہر ایک کی نگاہیں دوسرے کے چہرے پر پڑیں گی، آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اس شراب کے دور ان میں چل رہے ہوں گے جو جاری ہے جس کے ختم ہوجانے کم ہوجانے کا مطلق اندیشہ نہیں۔ جو ظاہر باطن میں آراستہ ہے خوبیاں ہیں برائیاں نہیں۔ رنگ کی سفید مزے کی بہت اچھی لذیذ۔ نہ اس کے پینے سے سردرد ہو نہ بک جھک لگے، دنیا کی شراب میں یہ آفتیں تھیں پیٹ کا درد سر کا درد بیہوشی بد حواسی وغیرہ لیکن جنت کی شراب میں ان میں سے ایک برائی بھی موجود نہیں رہی۔ دیکھنے میں خوش رنگ، پینے میں لذیذ، فوائد میں اعلیٰ ، سرور و کیف میں عمدہ لیکن سدھ بدھ دور کردینے والی بد مست بنادینے والی نہیں، نہ بدبو دار نہ بد نظر نہ قابل نفرت۔ بلکہ خوشبو دار خوش رنگ خوش ذائق خوش فائدہ، اس کے پینے سے پیٹ میں درد نہیں ہوتا اور اس کی کثرت ضرر رساں نہیں خلاف طبع نہیں۔ سر بھاری نہیں ہوجاتا چکر نہیں آتے گرانی محسوس نہیں ہوتی۔ ہوش و حواس جاتے نہیں رہتے۔ کوئی ایذاء تکلیف قے متلی نہیں ہوتی۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دنیا کی شراب میں چار برائیاں ہیں، نشہ، سردرد، قے اور پیشاب۔ جنت کی شراب ان تمام برائیوں سے پاک ہے دیکھ لو سورة الصافات۔ ان کے پاس نیچی نگاہوں والی شرمیلی نظروں والی پاک دامن عفیفہ حوریں ہیں جن کی نگاہ اپنے خاوندوں کے چہرے کے سوا کبھی کسی کے چہرے پر نہیں پڑتی اور نہ پڑیں گی۔ بڑی بڑی موٹی موٹی رسیلی آنکھیں ہیں حسن صورت حسن سیرت دونوں چیزیں ان میں موجود ہیں۔ جس طرح حضرت زلیخا نے حضرت یوسف ؑ میں یہ دونوں خوبیاں دیکھیں۔ عورتوں نے جب انہیں طعنے دینے شروع کئے تو ایک دن سب کو بلا کر بٹھالیا اور حضرت یوسف کا پورا بناؤ سنگھار کراکر بلایا عورتوں کی نگاہیں ان کے جمال کو دیکھ کر خیرہ ہوگئیں اور بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو فرشتہ ہیں۔ اسی وقت کہا یہی تو ہیں جن کے بارے میں تم سب مجھے ملامت کر رہی تھیں واللہ میں نے ان کو ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ پاک دامن ہی رہا۔ یہ باوجود جمال ظاہری کے حسن باطنی بھی رکھتا ہے۔ بڑا پاکباز امین پارسا متقی پرہیزگار ہے اسی طرح حوریں ہیں کہ جمال ظاہری کے ساتھ ہی باطنی خوبی بھی اپنے اندر رکھتی ہیں۔ پھر ان کا مزید حسن بیان ہو رہا ہے کہ ان کا گورا گورا جسم اور بھبوکا سا رنگ ایسا چمکیلا دلکش اور جاذب نظر ہے کہ گویا محفوظ موتی۔ جس تک کسی کا ہاتھ نہ پہنچا ہو، جو سیپ سے نہ نکلا ہو جسے زمانے کی ہوا نہ لگی ہو جو اپنی آبداری میں بےمثل ہو ایسے ہی انکے اچھوتے جسم ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ گویا وہ انڈے کی طرح ہیں۔ انڈے کے اوپر کے چھلکے کے نیچے چھوٹے چھلکے جیسے ان کے بدن ہیں۔ ایک حدیث میں ام سلمہ ؓ کے سوال پر حضور ﷺ نے فرمایا حور عین سے مراد بہت بڑی آنکھوں والی سیاہ پلکوں والی حوریں ہیں۔ پھر پوچھا بیض مکنون سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا انڈے کے اندر کی سفید جھلی۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو سب سے پہلے میں کھڑا کیا جاؤن گا اور جبکہ وہ جناب باری میں پیش ہوں گے تو میں ان کا خطیب بنوں گا اور جب وہ غمگین ہو رہے ہوں گے تو میں انہیں خوشخبریاں سنانے والا ہوں گا اور ان کا سفارشی بنوں گا جب کہ یہ رکے ہوئے ہوں گے۔ حمد کا جھنڈا اس دن میرے ہاتھ میں ہوگا۔ حضرت آدم کی اولاد میں سے سب سے زیادہ اللہ کے ہاں اکرام و عزت والا میں ہوں یہ میں بطور فخر کے نہیں کہہ رہا۔ میرے آگے پیچھے قیام کے دن ایک ہزار خادم گھوم رہے ہوں گے جو مثل چھپے ہوئے انڈوں یا اچھوت موتیوں کے ہوں گے واللہ اعلم بالصواب۔
فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَآءَلُونَ
Fa aqbala ba'duhum 'alaa badiny yatasaaa 'aloon
And they will approach one another, inquiring of each other.
پھر وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے سوال (وجواب) کریں گے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
محسن مقروض۔ جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بےفکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند وبالا خاتون میں عیش و عشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمر بستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب ظہور چل رہا ہوگا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تاپا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بےبسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ حضرت آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آجاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔ اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہوگا ؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آکر یہ لذتیں فوت نہ کردے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیے قتادہ ؓ تو فرماتے ہیں یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اللہ کا فرمان ہے مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھر پور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کرسکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہوگئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے آپ اپنا حق لے کر الگ ہوجائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چناچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کرلیے اور جدا جدا ہوگئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی ؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چناچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کردئیے۔ پھر اس دنیا دار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کرکے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آکر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کرکے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں عورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کردی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں ؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آکر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چناچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کردیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کرکے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجز اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آگیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کرچکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کرلیا اور کام شروع کردیا لیکن یہ شخص بڑا بےرحم بدگمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کردوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے ؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہوگیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہرچند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کرلینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہوجائے گی، اس مسکین کو یہی کرنا پڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑگیا صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں ؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کردو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا ؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے ؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے ؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آگئی۔ مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بیشمار درخت اور باغات ہیں اور جا بجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے ؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہوسکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں ؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہوگا ؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ إِنِّى كَانَ لِى قَرِينٌ
Qaala qaaa'ilum minhum innee kaana lee qareen
A speaker among them will say, "Indeed, I had a companion [on earth]
ایک کہنے والا ان میں سے کہے گا کہ میرا ایک ہم نشین تھا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
محسن مقروض۔ جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بےفکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند وبالا خاتون میں عیش و عشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمر بستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب ظہور چل رہا ہوگا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تاپا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بےبسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ حضرت آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آجاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔ اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہوگا ؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آکر یہ لذتیں فوت نہ کردے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیے قتادہ ؓ تو فرماتے ہیں یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اللہ کا فرمان ہے مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھر پور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کرسکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہوگئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے آپ اپنا حق لے کر الگ ہوجائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چناچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کرلیے اور جدا جدا ہوگئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی ؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چناچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کردئیے۔ پھر اس دنیا دار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کرکے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آکر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کرکے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں عورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کردی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں ؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آکر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چناچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کردیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کرکے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجز اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آگیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کرچکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کرلیا اور کام شروع کردیا لیکن یہ شخص بڑا بےرحم بدگمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کردوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے ؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہوگیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہرچند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کرلینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہوجائے گی، اس مسکین کو یہی کرنا پڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑگیا صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں ؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کردو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا ؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے ؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے ؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آگئی۔ مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بیشمار درخت اور باغات ہیں اور جا بجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے ؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہوسکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں ؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہوگا ؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
يَقُولُ أَءِنَّكَ لَمِنَ ٱلْمُصَدِّقِينَ
Yaqoolu a'innnaka laminal musaddiqeen
Who would say, 'Are you indeed of those who believe
(جو) کہتا تھا کہ بھلا تم بھی ایسی باتوں کے باور کرنے والوں میں ہو
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
محسن مقروض۔ جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بےفکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند وبالا خاتون میں عیش و عشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمر بستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب ظہور چل رہا ہوگا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تاپا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بےبسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ حضرت آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آجاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔ اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہوگا ؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آکر یہ لذتیں فوت نہ کردے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیے قتادہ ؓ تو فرماتے ہیں یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اللہ کا فرمان ہے مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھر پور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کرسکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہوگئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے آپ اپنا حق لے کر الگ ہوجائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چناچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کرلیے اور جدا جدا ہوگئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی ؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چناچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کردئیے۔ پھر اس دنیا دار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کرکے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آکر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کرکے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں عورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کردی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں ؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آکر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چناچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کردیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کرکے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجز اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آگیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کرچکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کرلیا اور کام شروع کردیا لیکن یہ شخص بڑا بےرحم بدگمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کردوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے ؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہوگیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہرچند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کرلینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہوجائے گی، اس مسکین کو یہی کرنا پڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑگیا صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں ؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کردو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا ؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے ؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے ؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آگئی۔ مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بیشمار درخت اور باغات ہیں اور جا بجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے ؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہوسکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں ؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہوگا ؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
أَءِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَدِينُونَ
'A-izaa mitnaa wa kunnaa turaabanw wa 'izaaman 'ainnaa lamadeenoon
That when we have died and become dust and bones, we will indeed be recompensed?'"
بھلا جب ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم کو بدلہ ملے گا؟
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
محسن مقروض۔ جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بےفکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند وبالا خاتون میں عیش و عشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمر بستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب ظہور چل رہا ہوگا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تاپا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بےبسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ حضرت آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آجاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔ اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہوگا ؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آکر یہ لذتیں فوت نہ کردے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیے قتادہ ؓ تو فرماتے ہیں یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اللہ کا فرمان ہے مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھر پور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کرسکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہوگئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے آپ اپنا حق لے کر الگ ہوجائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چناچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کرلیے اور جدا جدا ہوگئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی ؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چناچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کردئیے۔ پھر اس دنیا دار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کرکے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آکر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کرکے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں عورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کردی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں ؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آکر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چناچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کردیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کرکے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجز اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آگیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کرچکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کرلیا اور کام شروع کردیا لیکن یہ شخص بڑا بےرحم بدگمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کردوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے ؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہوگیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہرچند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کرلینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہوجائے گی، اس مسکین کو یہی کرنا پڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑگیا صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں ؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کردو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا ؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے ؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے ؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آگئی۔ مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بیشمار درخت اور باغات ہیں اور جا بجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے ؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہوسکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں ؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہوگا ؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
قَالَ هَلْ أَنتُم مُّطَّلِعُونَ
Qaala hal antum muttali'oon
He will say, "Would you [care to] look?"
(پھر) کہے گا کہ بھلا تم (اسے) جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو؟
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
محسن مقروض۔ جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بےفکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند وبالا خاتون میں عیش و عشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمر بستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب ظہور چل رہا ہوگا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تاپا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بےبسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ حضرت آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آجاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔ اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہوگا ؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آکر یہ لذتیں فوت نہ کردے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیے قتادہ ؓ تو فرماتے ہیں یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اللہ کا فرمان ہے مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھر پور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کرسکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہوگئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے آپ اپنا حق لے کر الگ ہوجائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چناچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کرلیے اور جدا جدا ہوگئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی ؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چناچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کردئیے۔ پھر اس دنیا دار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کرکے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آکر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کرکے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں عورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کردی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں ؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آکر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چناچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کردیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کرکے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجز اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آگیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کرچکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کرلیا اور کام شروع کردیا لیکن یہ شخص بڑا بےرحم بدگمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کردوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے ؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہوگیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہرچند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کرلینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہوجائے گی، اس مسکین کو یہی کرنا پڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑگیا صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں ؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کردو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا ؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے ؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے ؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آگئی۔ مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بیشمار درخت اور باغات ہیں اور جا بجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے ؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہوسکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں ؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہوگا ؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
فَٱطَّلَعَ فَرَءَاهُ فِى سَوَآءِ ٱلْجَحِيمِ
Fattala'a fara aahu fee sawaaa'il Jaheem
And he will look and see him in the midst of the Hellfire.
(اتنے میں) وہ (خود) جھانکے گا تو اس کو وسط دوزخ میں دیکھے گا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
محسن مقروض۔ جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بےفکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند وبالا خاتون میں عیش و عشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمر بستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب ظہور چل رہا ہوگا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تاپا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بےبسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ حضرت آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آجاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔ اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہوگا ؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آکر یہ لذتیں فوت نہ کردے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیے قتادہ ؓ تو فرماتے ہیں یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اللہ کا فرمان ہے مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھر پور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کرسکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہوگئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے آپ اپنا حق لے کر الگ ہوجائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چناچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کرلیے اور جدا جدا ہوگئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی ؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چناچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کردئیے۔ پھر اس دنیا دار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کرکے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آکر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کرکے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں عورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کردی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں ؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آکر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چناچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کردیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کرکے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجز اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آگیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کرچکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کرلیا اور کام شروع کردیا لیکن یہ شخص بڑا بےرحم بدگمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کردوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے ؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہوگیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہرچند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کرلینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہوجائے گی، اس مسکین کو یہی کرنا پڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑگیا صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں ؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کردو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا ؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے ؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے ؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آگئی۔ مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بیشمار درخت اور باغات ہیں اور جا بجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے ؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہوسکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں ؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہوگا ؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
قَالَ تَٱللَّهِ إِن كِدتَّ لَتُرْدِينِ
Qaala tallaahi in kitta laturdeen
He will say, "By Allah, you almost ruined me.
کہے گا کہ خدا کی قسم تُو تو مجھے ہلاک ہی کرچکا تھا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
محسن مقروض۔ جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بےفکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند وبالا خاتون میں عیش و عشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمر بستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب ظہور چل رہا ہوگا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تاپا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بےبسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ حضرت آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آجاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔ اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہوگا ؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آکر یہ لذتیں فوت نہ کردے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیے قتادہ ؓ تو فرماتے ہیں یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اللہ کا فرمان ہے مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھر پور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کرسکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہوگئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے آپ اپنا حق لے کر الگ ہوجائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چناچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کرلیے اور جدا جدا ہوگئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی ؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چناچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کردئیے۔ پھر اس دنیا دار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کرکے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آکر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کرکے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں عورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کردی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں ؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آکر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چناچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کردیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کرکے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجز اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آگیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کرچکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کرلیا اور کام شروع کردیا لیکن یہ شخص بڑا بےرحم بدگمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کردوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے ؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہوگیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہرچند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کرلینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہوجائے گی، اس مسکین کو یہی کرنا پڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑگیا صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں ؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کردو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا ؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے ؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے ؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آگئی۔ مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بیشمار درخت اور باغات ہیں اور جا بجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے ؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہوسکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں ؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہوگا ؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّى لَكُنتُ مِنَ ٱلْمُحْضَرِينَ
Wa law laa ni'matu Rabbee lakuntu minal muhdareen
If not for the favor of my Lord, I would have been of those brought in [to Hell].
اور اگر میرے پروردگار کی مہربانی نہ ہوتی تو میں بھی ان میں ہوتا جو (عذاب میں) حاضر کئے گئے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
محسن مقروض۔ جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بےفکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند وبالا خاتون میں عیش و عشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمر بستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب ظہور چل رہا ہوگا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تاپا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بےبسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ حضرت آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آجاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔ اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہوگا ؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آکر یہ لذتیں فوت نہ کردے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیے قتادہ ؓ تو فرماتے ہیں یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اللہ کا فرمان ہے مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھر پور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کرسکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہوگئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے آپ اپنا حق لے کر الگ ہوجائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چناچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کرلیے اور جدا جدا ہوگئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی ؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چناچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کردئیے۔ پھر اس دنیا دار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کرکے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آکر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کرکے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں عورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کردی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں ؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آکر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چناچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کردیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کرکے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجز اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آگیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کرچکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کرلیا اور کام شروع کردیا لیکن یہ شخص بڑا بےرحم بدگمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کردوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے ؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہوگیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہرچند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کرلینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہوجائے گی، اس مسکین کو یہی کرنا پڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑگیا صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں ؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کردو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا ؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے ؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے ؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آگئی۔ مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بیشمار درخت اور باغات ہیں اور جا بجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے ؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہوسکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں ؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہوگا ؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ
Afamaa nahnu bimaiyiteen
Then, are we not to die
کیا (یہ نہیں کہ) ہم (آئندہ کبھی) مرنے کے نہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
محسن مقروض۔ جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بےفکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند وبالا خاتون میں عیش و عشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمر بستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب ظہور چل رہا ہوگا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تاپا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بےبسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ حضرت آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آجاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔ اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہوگا ؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آکر یہ لذتیں فوت نہ کردے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیے قتادہ ؓ تو فرماتے ہیں یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اللہ کا فرمان ہے مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھر پور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کرسکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہوگئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے آپ اپنا حق لے کر الگ ہوجائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چناچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کرلیے اور جدا جدا ہوگئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی ؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چناچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کردئیے۔ پھر اس دنیا دار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کرکے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آکر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کرکے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں عورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کردی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں ؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آکر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چناچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کردیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کرکے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجز اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آگیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کرچکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کرلیا اور کام شروع کردیا لیکن یہ شخص بڑا بےرحم بدگمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کردوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے ؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہوگیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہرچند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کرلینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہوجائے گی، اس مسکین کو یہی کرنا پڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑگیا صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں ؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کردو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا ؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے ؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے ؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آگئی۔ مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بیشمار درخت اور باغات ہیں اور جا بجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے ؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہوسکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں ؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہوگا ؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
إِلَّا مَوْتَتَنَا ٱلْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
Illa mawtatanal oola wa maa nahnu bimu'azzabeen
Except for our first death, and we will not be punished?"
ہاں (جو) پہلی بار مرنا (تھا سو مرچکے) اور ہمیں عذاب بھی نہیں ہونے کا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
محسن مقروض۔ جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بےفکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند وبالا خاتون میں عیش و عشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمر بستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب ظہور چل رہا ہوگا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تاپا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بےبسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ حضرت آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آجاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔ اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہوگا ؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آکر یہ لذتیں فوت نہ کردے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیے قتادہ ؓ تو فرماتے ہیں یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اللہ کا فرمان ہے مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھر پور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کرسکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہوگئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے آپ اپنا حق لے کر الگ ہوجائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چناچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کرلیے اور جدا جدا ہوگئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی ؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چناچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کردئیے۔ پھر اس دنیا دار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کرکے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آکر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کرکے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں عورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کردی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں ؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آکر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چناچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کردیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کرکے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجز اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آگیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کرچکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کرلیا اور کام شروع کردیا لیکن یہ شخص بڑا بےرحم بدگمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کردوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے ؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہوگیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہرچند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کرلینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہوجائے گی، اس مسکین کو یہی کرنا پڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑگیا صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں ؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کردو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا ؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے ؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے ؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آگئی۔ مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بیشمار درخت اور باغات ہیں اور جا بجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے ؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہوسکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں ؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہوگا ؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ
Inna haazaa falya'ma lil'aamiloon
Indeed, this is the great attainment.
بےشک یہ بڑی کامیابی ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
محسن مقروض۔ جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بےفکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند وبالا خاتون میں عیش و عشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمر بستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب ظہور چل رہا ہوگا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تاپا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بےبسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ حضرت آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آجاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔ اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہوگا ؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آکر یہ لذتیں فوت نہ کردے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیے قتادہ ؓ تو فرماتے ہیں یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اللہ کا فرمان ہے مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھر پور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کرسکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہوگئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے آپ اپنا حق لے کر الگ ہوجائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چناچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کرلیے اور جدا جدا ہوگئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی ؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چناچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کردئیے۔ پھر اس دنیا دار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کرکے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آکر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کرکے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں عورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کردی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں ؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آکر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چناچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کردیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کرکے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجز اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آگیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کرچکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کرلیا اور کام شروع کردیا لیکن یہ شخص بڑا بےرحم بدگمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کردوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے ؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہوگیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہرچند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کرلینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہوجائے گی، اس مسکین کو یہی کرنا پڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑگیا صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں ؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کردو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا ؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے ؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے ؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آگئی۔ مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بیشمار درخت اور باغات ہیں اور جا بجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے ؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہوسکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں ؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہوگا ؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
لِمِثْلِ هَٰذَا فَلْيَعْمَلِ ٱلْعَٰمِلُونَ
Limisli haaza falya'ma lil 'aamiloon
For the like of this let the workers [on earth] work.
ایسی ہی (نعمتوں) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنے چاہئیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
محسن مقروض۔ جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بےفکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند وبالا خاتون میں عیش و عشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمر بستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب ظہور چل رہا ہوگا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تاپا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بےبسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ حضرت آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آجاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔ اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہوگا ؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آکر یہ لذتیں فوت نہ کردے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیے قتادہ ؓ تو فرماتے ہیں یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اللہ کا فرمان ہے مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھر پور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کرسکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہوگئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے آپ اپنا حق لے کر الگ ہوجائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چناچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کرلیے اور جدا جدا ہوگئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی ؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چناچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کردئیے۔ پھر اس دنیا دار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کرکے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آکر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کرکے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں عورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کردی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں ؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آکر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چناچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کردیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کرکے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجز اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آگیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کرچکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کرلیا اور کام شروع کردیا لیکن یہ شخص بڑا بےرحم بدگمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کردوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے ؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہوگیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہرچند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کرلینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہوجائے گی، اس مسکین کو یہی کرنا پڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑگیا صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں ؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کردو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا ؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے ؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے ؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آگئی۔ مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بیشمار درخت اور باغات ہیں اور جا بجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے ؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہوسکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں ؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہوگا ؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
أَذَٰلِكَ خَيْرٌ نُّزُلًا أَمْ شَجَرَةُ ٱلزَّقُّومِ
Azaalika khairun nuzulan am shajaratuz Zaqqom
Is Paradise a better accommodation or the tree of zaqqum?
بھلا یہ مہمانی اچھی ہے یا تھوہر کا درخت؟
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
زقوم اور طوبی۔ جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ اب لوگ خود فیصلہ کرلیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں ؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت (لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ 52 ۙ) 56۔ الواقعة :52) ، سے بھی ہوتی ہے۔ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہوگیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت ؟ آگ تو درخت جلا دینے والی ہے۔ یہ نبی کہتے ہیں جہنم میں درخت اگے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ہاں یہ درخت آگ ہی سے پیدا ہوگا اور اس کی غذا بھی آگ ہی ہوگی۔ ابو جہل ملعون اسی پر ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا میں تو خوب مزے سے کھجور مکھن کھاؤں گا اسی کا نام زقوم ہے۔ الغرض یہ بھی ایک امتحان ہے بھلے لوگ تو اس سے ڈر گئے اور بروں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جیسے فرمان ہے (وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا 60ۧ) 17۔ الإسراء :60) ، جو منظر ہم نے تجھے دکھایا تھا وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگوں کی آزمائش ہوجائے اور اسی طرح اس نامبارک درخت کا ذکر بھی۔ ہم تو انہیں دھمکا رہے ہیں مگر یہ نافرمانی میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ اس درخت کی اصل جڑ جہنم میں ہے۔ اس کے خوشے اور شاخیں بھیانک ڈراؤنی لمبی چوڑی دور دور شیطانوں کے سروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ گو شیطان کو بھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کا نام سنتے ہی اس کی بد صورتی اور خباثت کا منظر سامنے آجاتا ہے، یہی حال اس درخت کا ہے کہ دیکھنے اور چکھنے میں ظاہر اور باطن میں بری چیز ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو بدترین بھیانک اور خوفناک شکل کے ہوتے ہیں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نبات کی ایک قسم ہے جو بہت بری طرح پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں احتمال درست نہیں ٹھیک بات وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا۔ اسی بد منظر بدبو بد ذائقہ بدمزہ بد خصال تھور کو انہیں جبراً کھانا پڑے گا۔ اور ٹھونس ٹھونس کر انہیں کھلایا جائے گا کہ یہ بجائے خود ایک زبردست عذاب ہے۔ اور آیت میں ہے (لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۙ) 88۔ الغاشية :6) ، ان کی خوراک وہاں صرف کانٹوں دار تھور ہوگا جو نہ انہیں فربہ کرسکے نہ بھوک مٹاسکے حضور ﷺ نے ایک آیت (اتقوا اللہ حق تقاتہ) کی تلاوت کرکے فرمایا اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں پڑجائے توروئے زمین کے تمام لوگوں کی خوراکیں خراب ہوجائیں۔ اس کا کیا حال ہوگا جس کی خوراک ہی یہی ہوگا (ترمذی وغیرہ) پھر اس زقوم کے کھانے کے ساتھ ہی انہیں اوپر سے جہنم کا کھولتا گرم پانی پلایا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ اس جہنمی درخت کو جہنمی پانی کے ساتھ ملا کر انہیں کھلایا پلایا جائے گا۔ اور یہ گرم پانی وہ ہوگا جو جہنمیوں کے زخموں سے لہو پیپ وغیرہ کی شکل میں نکلا ہوگا اور جو ان کی آنکھوں سے اور پوشیدہ راستوں سے نکلا ہوا ہوگا۔ حدیث میں ہے کہ جب یہ پانی ان کے سامنے لایا جائے گا۔ انہیں سخت ایذاء ہوگی بڑی کراہیت آئے گی پھر جب وہ ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس کی بھاپ سے اس کے چہرے کی کھال جھلس کر جھڑ جائے گی اور جب اس کا گھونٹ پیٹ میں جائے گا تو ان کی آنتیں کٹ کر پاخانے کے راستے سے باہر آجائیں گی (ابن ابی حاتم) حضرت سعید بن جیر ؓ فرماتے ہیں جب جہنمی بھوک کی شکایت کریں گے تو زقوم کھلایا جائے گا جس سے ان کے چہر کی کھالیں بالکل الگ ہو کر پڑیں گی۔ اس طرح انہیں پہچاننے والا اس میں ان کے منہ کی پوری کھال دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں ہے۔ پھر پیاس کی شدت سے بیتاب ہو کر وہ ہائے وائے پکاریں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا گرم پانی دیا جائے گا جو چہرے کے سامنے آتے ہی چہرے کے گوشت کو جھلس دے گا اور تمام گوشت گرپڑے گا اور پیٹ میں جاکر آنتوں کو کاٹ دے گا۔ اوپر سے لوہے کے ہتھوڑے مارے جائیں گے اور ایک ایک عضو بدن الگ الگ جھڑ جائے گا، بری طرح چیختے پیٹتے ہوں گے۔ فیصلہ ہوتے ہی ان کا ٹھکانا جہنم ہوجائے گا جہاں طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے جیسے اور آیت میں ہے (يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ 44ۚ) 55۔ الرحمن :44) جہنم اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت (ثم ان مقیلھم لا الی الجحیم) ہے حضرت عبداللہ ؓ کا فرمان ہے کہ واللہ آدھے دن سے پہلے ہی پہلے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے اور وہیں قیلولہ یعنی دوپہر کا آرام کریں گے، قرآن فرماتا ہے (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا 24) 25۔ الفرقان :24) جنتی با عتبار جائے قیام کے بہت اچھے ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی بہت اچھے ہوں گے۔ الغرض قیلولے کا وقت دونوں کا اپنی اپنی جگہ ہوگا آدھے دن سے پہلے پہلے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اس بنا پر یہاں ثم کا لفظ خبر پر خبر کے عطف کے لیے ہوگا۔ یہ اس کا بدلہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا۔ لیکن پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجبوروں اور بیوقوفوں کی طرح ان کے پیچھے ہولئے۔
إِنَّا جَعَلْنَٰهَا فِتْنَةً لِّلظَّٰلِمِينَ
Innaa ja'alnaahaa fitnatal lizzaalimeen
Indeed, We have made it a torment for the wrongdoers.
ہم نے اس کو ظالموں کے لئے عذاب بنا رکھا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
زقوم اور طوبی۔ جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ اب لوگ خود فیصلہ کرلیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں ؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت (لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ 52 ۙ) 56۔ الواقعة :52) ، سے بھی ہوتی ہے۔ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہوگیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت ؟ آگ تو درخت جلا دینے والی ہے۔ یہ نبی کہتے ہیں جہنم میں درخت اگے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ہاں یہ درخت آگ ہی سے پیدا ہوگا اور اس کی غذا بھی آگ ہی ہوگی۔ ابو جہل ملعون اسی پر ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا میں تو خوب مزے سے کھجور مکھن کھاؤں گا اسی کا نام زقوم ہے۔ الغرض یہ بھی ایک امتحان ہے بھلے لوگ تو اس سے ڈر گئے اور بروں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جیسے فرمان ہے (وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا 60ۧ) 17۔ الإسراء :60) ، جو منظر ہم نے تجھے دکھایا تھا وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگوں کی آزمائش ہوجائے اور اسی طرح اس نامبارک درخت کا ذکر بھی۔ ہم تو انہیں دھمکا رہے ہیں مگر یہ نافرمانی میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ اس درخت کی اصل جڑ جہنم میں ہے۔ اس کے خوشے اور شاخیں بھیانک ڈراؤنی لمبی چوڑی دور دور شیطانوں کے سروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ گو شیطان کو بھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کا نام سنتے ہی اس کی بد صورتی اور خباثت کا منظر سامنے آجاتا ہے، یہی حال اس درخت کا ہے کہ دیکھنے اور چکھنے میں ظاہر اور باطن میں بری چیز ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو بدترین بھیانک اور خوفناک شکل کے ہوتے ہیں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نبات کی ایک قسم ہے جو بہت بری طرح پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں احتمال درست نہیں ٹھیک بات وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا۔ اسی بد منظر بدبو بد ذائقہ بدمزہ بد خصال تھور کو انہیں جبراً کھانا پڑے گا۔ اور ٹھونس ٹھونس کر انہیں کھلایا جائے گا کہ یہ بجائے خود ایک زبردست عذاب ہے۔ اور آیت میں ہے (لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۙ) 88۔ الغاشية :6) ، ان کی خوراک وہاں صرف کانٹوں دار تھور ہوگا جو نہ انہیں فربہ کرسکے نہ بھوک مٹاسکے حضور ﷺ نے ایک آیت (اتقوا اللہ حق تقاتہ) کی تلاوت کرکے فرمایا اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں پڑجائے توروئے زمین کے تمام لوگوں کی خوراکیں خراب ہوجائیں۔ اس کا کیا حال ہوگا جس کی خوراک ہی یہی ہوگا (ترمذی وغیرہ) پھر اس زقوم کے کھانے کے ساتھ ہی انہیں اوپر سے جہنم کا کھولتا گرم پانی پلایا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ اس جہنمی درخت کو جہنمی پانی کے ساتھ ملا کر انہیں کھلایا پلایا جائے گا۔ اور یہ گرم پانی وہ ہوگا جو جہنمیوں کے زخموں سے لہو پیپ وغیرہ کی شکل میں نکلا ہوگا اور جو ان کی آنکھوں سے اور پوشیدہ راستوں سے نکلا ہوا ہوگا۔ حدیث میں ہے کہ جب یہ پانی ان کے سامنے لایا جائے گا۔ انہیں سخت ایذاء ہوگی بڑی کراہیت آئے گی پھر جب وہ ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس کی بھاپ سے اس کے چہرے کی کھال جھلس کر جھڑ جائے گی اور جب اس کا گھونٹ پیٹ میں جائے گا تو ان کی آنتیں کٹ کر پاخانے کے راستے سے باہر آجائیں گی (ابن ابی حاتم) حضرت سعید بن جیر ؓ فرماتے ہیں جب جہنمی بھوک کی شکایت کریں گے تو زقوم کھلایا جائے گا جس سے ان کے چہر کی کھالیں بالکل الگ ہو کر پڑیں گی۔ اس طرح انہیں پہچاننے والا اس میں ان کے منہ کی پوری کھال دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں ہے۔ پھر پیاس کی شدت سے بیتاب ہو کر وہ ہائے وائے پکاریں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا گرم پانی دیا جائے گا جو چہرے کے سامنے آتے ہی چہرے کے گوشت کو جھلس دے گا اور تمام گوشت گرپڑے گا اور پیٹ میں جاکر آنتوں کو کاٹ دے گا۔ اوپر سے لوہے کے ہتھوڑے مارے جائیں گے اور ایک ایک عضو بدن الگ الگ جھڑ جائے گا، بری طرح چیختے پیٹتے ہوں گے۔ فیصلہ ہوتے ہی ان کا ٹھکانا جہنم ہوجائے گا جہاں طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے جیسے اور آیت میں ہے (يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ 44ۚ) 55۔ الرحمن :44) جہنم اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت (ثم ان مقیلھم لا الی الجحیم) ہے حضرت عبداللہ ؓ کا فرمان ہے کہ واللہ آدھے دن سے پہلے ہی پہلے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے اور وہیں قیلولہ یعنی دوپہر کا آرام کریں گے، قرآن فرماتا ہے (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا 24) 25۔ الفرقان :24) جنتی با عتبار جائے قیام کے بہت اچھے ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی بہت اچھے ہوں گے۔ الغرض قیلولے کا وقت دونوں کا اپنی اپنی جگہ ہوگا آدھے دن سے پہلے پہلے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اس بنا پر یہاں ثم کا لفظ خبر پر خبر کے عطف کے لیے ہوگا۔ یہ اس کا بدلہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا۔ لیکن پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجبوروں اور بیوقوفوں کی طرح ان کے پیچھے ہولئے۔
إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِىٓ أَصْلِ ٱلْجَحِيمِ
Innahaa shajaratun takhruju feee aslil Jaheem
Indeed, it is a tree issuing from the bottom of the Hellfire,
وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کے اسفل میں اُگے گا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
زقوم اور طوبی۔ جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ اب لوگ خود فیصلہ کرلیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں ؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت (لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ 52 ۙ) 56۔ الواقعة :52) ، سے بھی ہوتی ہے۔ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہوگیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت ؟ آگ تو درخت جلا دینے والی ہے۔ یہ نبی کہتے ہیں جہنم میں درخت اگے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ہاں یہ درخت آگ ہی سے پیدا ہوگا اور اس کی غذا بھی آگ ہی ہوگی۔ ابو جہل ملعون اسی پر ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا میں تو خوب مزے سے کھجور مکھن کھاؤں گا اسی کا نام زقوم ہے۔ الغرض یہ بھی ایک امتحان ہے بھلے لوگ تو اس سے ڈر گئے اور بروں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جیسے فرمان ہے (وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا 60ۧ) 17۔ الإسراء :60) ، جو منظر ہم نے تجھے دکھایا تھا وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگوں کی آزمائش ہوجائے اور اسی طرح اس نامبارک درخت کا ذکر بھی۔ ہم تو انہیں دھمکا رہے ہیں مگر یہ نافرمانی میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ اس درخت کی اصل جڑ جہنم میں ہے۔ اس کے خوشے اور شاخیں بھیانک ڈراؤنی لمبی چوڑی دور دور شیطانوں کے سروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ گو شیطان کو بھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کا نام سنتے ہی اس کی بد صورتی اور خباثت کا منظر سامنے آجاتا ہے، یہی حال اس درخت کا ہے کہ دیکھنے اور چکھنے میں ظاہر اور باطن میں بری چیز ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو بدترین بھیانک اور خوفناک شکل کے ہوتے ہیں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نبات کی ایک قسم ہے جو بہت بری طرح پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں احتمال درست نہیں ٹھیک بات وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا۔ اسی بد منظر بدبو بد ذائقہ بدمزہ بد خصال تھور کو انہیں جبراً کھانا پڑے گا۔ اور ٹھونس ٹھونس کر انہیں کھلایا جائے گا کہ یہ بجائے خود ایک زبردست عذاب ہے۔ اور آیت میں ہے (لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۙ) 88۔ الغاشية :6) ، ان کی خوراک وہاں صرف کانٹوں دار تھور ہوگا جو نہ انہیں فربہ کرسکے نہ بھوک مٹاسکے حضور ﷺ نے ایک آیت (اتقوا اللہ حق تقاتہ) کی تلاوت کرکے فرمایا اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں پڑجائے توروئے زمین کے تمام لوگوں کی خوراکیں خراب ہوجائیں۔ اس کا کیا حال ہوگا جس کی خوراک ہی یہی ہوگا (ترمذی وغیرہ) پھر اس زقوم کے کھانے کے ساتھ ہی انہیں اوپر سے جہنم کا کھولتا گرم پانی پلایا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ اس جہنمی درخت کو جہنمی پانی کے ساتھ ملا کر انہیں کھلایا پلایا جائے گا۔ اور یہ گرم پانی وہ ہوگا جو جہنمیوں کے زخموں سے لہو پیپ وغیرہ کی شکل میں نکلا ہوگا اور جو ان کی آنکھوں سے اور پوشیدہ راستوں سے نکلا ہوا ہوگا۔ حدیث میں ہے کہ جب یہ پانی ان کے سامنے لایا جائے گا۔ انہیں سخت ایذاء ہوگی بڑی کراہیت آئے گی پھر جب وہ ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس کی بھاپ سے اس کے چہرے کی کھال جھلس کر جھڑ جائے گی اور جب اس کا گھونٹ پیٹ میں جائے گا تو ان کی آنتیں کٹ کر پاخانے کے راستے سے باہر آجائیں گی (ابن ابی حاتم) حضرت سعید بن جیر ؓ فرماتے ہیں جب جہنمی بھوک کی شکایت کریں گے تو زقوم کھلایا جائے گا جس سے ان کے چہر کی کھالیں بالکل الگ ہو کر پڑیں گی۔ اس طرح انہیں پہچاننے والا اس میں ان کے منہ کی پوری کھال دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں ہے۔ پھر پیاس کی شدت سے بیتاب ہو کر وہ ہائے وائے پکاریں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا گرم پانی دیا جائے گا جو چہرے کے سامنے آتے ہی چہرے کے گوشت کو جھلس دے گا اور تمام گوشت گرپڑے گا اور پیٹ میں جاکر آنتوں کو کاٹ دے گا۔ اوپر سے لوہے کے ہتھوڑے مارے جائیں گے اور ایک ایک عضو بدن الگ الگ جھڑ جائے گا، بری طرح چیختے پیٹتے ہوں گے۔ فیصلہ ہوتے ہی ان کا ٹھکانا جہنم ہوجائے گا جہاں طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے جیسے اور آیت میں ہے (يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ 44ۚ) 55۔ الرحمن :44) جہنم اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت (ثم ان مقیلھم لا الی الجحیم) ہے حضرت عبداللہ ؓ کا فرمان ہے کہ واللہ آدھے دن سے پہلے ہی پہلے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے اور وہیں قیلولہ یعنی دوپہر کا آرام کریں گے، قرآن فرماتا ہے (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا 24) 25۔ الفرقان :24) جنتی با عتبار جائے قیام کے بہت اچھے ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی بہت اچھے ہوں گے۔ الغرض قیلولے کا وقت دونوں کا اپنی اپنی جگہ ہوگا آدھے دن سے پہلے پہلے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اس بنا پر یہاں ثم کا لفظ خبر پر خبر کے عطف کے لیے ہوگا۔ یہ اس کا بدلہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا۔ لیکن پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجبوروں اور بیوقوفوں کی طرح ان کے پیچھے ہولئے۔
طَلْعُهَا كَأَنَّهُۥ رُءُوسُ ٱلشَّيَٰطِينِ
Tal'uhaa ka annahoo ru'oosush Shayaateen
Its emerging fruit as if it was heads of the devils.
اُس کے خوشے ایسے ہوں گے جیسے شیطانوں کے سر
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
زقوم اور طوبی۔ جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ اب لوگ خود فیصلہ کرلیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں ؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت (لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ 52 ۙ) 56۔ الواقعة :52) ، سے بھی ہوتی ہے۔ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہوگیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت ؟ آگ تو درخت جلا دینے والی ہے۔ یہ نبی کہتے ہیں جہنم میں درخت اگے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ہاں یہ درخت آگ ہی سے پیدا ہوگا اور اس کی غذا بھی آگ ہی ہوگی۔ ابو جہل ملعون اسی پر ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا میں تو خوب مزے سے کھجور مکھن کھاؤں گا اسی کا نام زقوم ہے۔ الغرض یہ بھی ایک امتحان ہے بھلے لوگ تو اس سے ڈر گئے اور بروں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جیسے فرمان ہے (وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا 60ۧ) 17۔ الإسراء :60) ، جو منظر ہم نے تجھے دکھایا تھا وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگوں کی آزمائش ہوجائے اور اسی طرح اس نامبارک درخت کا ذکر بھی۔ ہم تو انہیں دھمکا رہے ہیں مگر یہ نافرمانی میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ اس درخت کی اصل جڑ جہنم میں ہے۔ اس کے خوشے اور شاخیں بھیانک ڈراؤنی لمبی چوڑی دور دور شیطانوں کے سروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ گو شیطان کو بھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کا نام سنتے ہی اس کی بد صورتی اور خباثت کا منظر سامنے آجاتا ہے، یہی حال اس درخت کا ہے کہ دیکھنے اور چکھنے میں ظاہر اور باطن میں بری چیز ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو بدترین بھیانک اور خوفناک شکل کے ہوتے ہیں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نبات کی ایک قسم ہے جو بہت بری طرح پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں احتمال درست نہیں ٹھیک بات وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا۔ اسی بد منظر بدبو بد ذائقہ بدمزہ بد خصال تھور کو انہیں جبراً کھانا پڑے گا۔ اور ٹھونس ٹھونس کر انہیں کھلایا جائے گا کہ یہ بجائے خود ایک زبردست عذاب ہے۔ اور آیت میں ہے (لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۙ) 88۔ الغاشية :6) ، ان کی خوراک وہاں صرف کانٹوں دار تھور ہوگا جو نہ انہیں فربہ کرسکے نہ بھوک مٹاسکے حضور ﷺ نے ایک آیت (اتقوا اللہ حق تقاتہ) کی تلاوت کرکے فرمایا اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں پڑجائے توروئے زمین کے تمام لوگوں کی خوراکیں خراب ہوجائیں۔ اس کا کیا حال ہوگا جس کی خوراک ہی یہی ہوگا (ترمذی وغیرہ) پھر اس زقوم کے کھانے کے ساتھ ہی انہیں اوپر سے جہنم کا کھولتا گرم پانی پلایا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ اس جہنمی درخت کو جہنمی پانی کے ساتھ ملا کر انہیں کھلایا پلایا جائے گا۔ اور یہ گرم پانی وہ ہوگا جو جہنمیوں کے زخموں سے لہو پیپ وغیرہ کی شکل میں نکلا ہوگا اور جو ان کی آنکھوں سے اور پوشیدہ راستوں سے نکلا ہوا ہوگا۔ حدیث میں ہے کہ جب یہ پانی ان کے سامنے لایا جائے گا۔ انہیں سخت ایذاء ہوگی بڑی کراہیت آئے گی پھر جب وہ ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس کی بھاپ سے اس کے چہرے کی کھال جھلس کر جھڑ جائے گی اور جب اس کا گھونٹ پیٹ میں جائے گا تو ان کی آنتیں کٹ کر پاخانے کے راستے سے باہر آجائیں گی (ابن ابی حاتم) حضرت سعید بن جیر ؓ فرماتے ہیں جب جہنمی بھوک کی شکایت کریں گے تو زقوم کھلایا جائے گا جس سے ان کے چہر کی کھالیں بالکل الگ ہو کر پڑیں گی۔ اس طرح انہیں پہچاننے والا اس میں ان کے منہ کی پوری کھال دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں ہے۔ پھر پیاس کی شدت سے بیتاب ہو کر وہ ہائے وائے پکاریں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا گرم پانی دیا جائے گا جو چہرے کے سامنے آتے ہی چہرے کے گوشت کو جھلس دے گا اور تمام گوشت گرپڑے گا اور پیٹ میں جاکر آنتوں کو کاٹ دے گا۔ اوپر سے لوہے کے ہتھوڑے مارے جائیں گے اور ایک ایک عضو بدن الگ الگ جھڑ جائے گا، بری طرح چیختے پیٹتے ہوں گے۔ فیصلہ ہوتے ہی ان کا ٹھکانا جہنم ہوجائے گا جہاں طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے جیسے اور آیت میں ہے (يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ 44ۚ) 55۔ الرحمن :44) جہنم اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت (ثم ان مقیلھم لا الی الجحیم) ہے حضرت عبداللہ ؓ کا فرمان ہے کہ واللہ آدھے دن سے پہلے ہی پہلے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے اور وہیں قیلولہ یعنی دوپہر کا آرام کریں گے، قرآن فرماتا ہے (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا 24) 25۔ الفرقان :24) جنتی با عتبار جائے قیام کے بہت اچھے ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی بہت اچھے ہوں گے۔ الغرض قیلولے کا وقت دونوں کا اپنی اپنی جگہ ہوگا آدھے دن سے پہلے پہلے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اس بنا پر یہاں ثم کا لفظ خبر پر خبر کے عطف کے لیے ہوگا۔ یہ اس کا بدلہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا۔ لیکن پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجبوروں اور بیوقوفوں کی طرح ان کے پیچھے ہولئے۔
فَإِنَّهُمْ لَـَٔاكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِـُٔونَ مِنْهَا ٱلْبُطُونَ
Fa innahum la aakiloona minhaa famaali'oona minhal butoon
And indeed, they will eat from it and fill with it their bellies.
سو وہ اسی میں سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
زقوم اور طوبی۔ جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ اب لوگ خود فیصلہ کرلیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں ؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت (لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ 52 ۙ) 56۔ الواقعة :52) ، سے بھی ہوتی ہے۔ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہوگیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت ؟ آگ تو درخت جلا دینے والی ہے۔ یہ نبی کہتے ہیں جہنم میں درخت اگے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ہاں یہ درخت آگ ہی سے پیدا ہوگا اور اس کی غذا بھی آگ ہی ہوگی۔ ابو جہل ملعون اسی پر ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا میں تو خوب مزے سے کھجور مکھن کھاؤں گا اسی کا نام زقوم ہے۔ الغرض یہ بھی ایک امتحان ہے بھلے لوگ تو اس سے ڈر گئے اور بروں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جیسے فرمان ہے (وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا 60ۧ) 17۔ الإسراء :60) ، جو منظر ہم نے تجھے دکھایا تھا وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگوں کی آزمائش ہوجائے اور اسی طرح اس نامبارک درخت کا ذکر بھی۔ ہم تو انہیں دھمکا رہے ہیں مگر یہ نافرمانی میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ اس درخت کی اصل جڑ جہنم میں ہے۔ اس کے خوشے اور شاخیں بھیانک ڈراؤنی لمبی چوڑی دور دور شیطانوں کے سروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ گو شیطان کو بھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کا نام سنتے ہی اس کی بد صورتی اور خباثت کا منظر سامنے آجاتا ہے، یہی حال اس درخت کا ہے کہ دیکھنے اور چکھنے میں ظاہر اور باطن میں بری چیز ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو بدترین بھیانک اور خوفناک شکل کے ہوتے ہیں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نبات کی ایک قسم ہے جو بہت بری طرح پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں احتمال درست نہیں ٹھیک بات وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا۔ اسی بد منظر بدبو بد ذائقہ بدمزہ بد خصال تھور کو انہیں جبراً کھانا پڑے گا۔ اور ٹھونس ٹھونس کر انہیں کھلایا جائے گا کہ یہ بجائے خود ایک زبردست عذاب ہے۔ اور آیت میں ہے (لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۙ) 88۔ الغاشية :6) ، ان کی خوراک وہاں صرف کانٹوں دار تھور ہوگا جو نہ انہیں فربہ کرسکے نہ بھوک مٹاسکے حضور ﷺ نے ایک آیت (اتقوا اللہ حق تقاتہ) کی تلاوت کرکے فرمایا اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں پڑجائے توروئے زمین کے تمام لوگوں کی خوراکیں خراب ہوجائیں۔ اس کا کیا حال ہوگا جس کی خوراک ہی یہی ہوگا (ترمذی وغیرہ) پھر اس زقوم کے کھانے کے ساتھ ہی انہیں اوپر سے جہنم کا کھولتا گرم پانی پلایا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ اس جہنمی درخت کو جہنمی پانی کے ساتھ ملا کر انہیں کھلایا پلایا جائے گا۔ اور یہ گرم پانی وہ ہوگا جو جہنمیوں کے زخموں سے لہو پیپ وغیرہ کی شکل میں نکلا ہوگا اور جو ان کی آنکھوں سے اور پوشیدہ راستوں سے نکلا ہوا ہوگا۔ حدیث میں ہے کہ جب یہ پانی ان کے سامنے لایا جائے گا۔ انہیں سخت ایذاء ہوگی بڑی کراہیت آئے گی پھر جب وہ ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس کی بھاپ سے اس کے چہرے کی کھال جھلس کر جھڑ جائے گی اور جب اس کا گھونٹ پیٹ میں جائے گا تو ان کی آنتیں کٹ کر پاخانے کے راستے سے باہر آجائیں گی (ابن ابی حاتم) حضرت سعید بن جیر ؓ فرماتے ہیں جب جہنمی بھوک کی شکایت کریں گے تو زقوم کھلایا جائے گا جس سے ان کے چہر کی کھالیں بالکل الگ ہو کر پڑیں گی۔ اس طرح انہیں پہچاننے والا اس میں ان کے منہ کی پوری کھال دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں ہے۔ پھر پیاس کی شدت سے بیتاب ہو کر وہ ہائے وائے پکاریں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا گرم پانی دیا جائے گا جو چہرے کے سامنے آتے ہی چہرے کے گوشت کو جھلس دے گا اور تمام گوشت گرپڑے گا اور پیٹ میں جاکر آنتوں کو کاٹ دے گا۔ اوپر سے لوہے کے ہتھوڑے مارے جائیں گے اور ایک ایک عضو بدن الگ الگ جھڑ جائے گا، بری طرح چیختے پیٹتے ہوں گے۔ فیصلہ ہوتے ہی ان کا ٹھکانا جہنم ہوجائے گا جہاں طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے جیسے اور آیت میں ہے (يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ 44ۚ) 55۔ الرحمن :44) جہنم اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت (ثم ان مقیلھم لا الی الجحیم) ہے حضرت عبداللہ ؓ کا فرمان ہے کہ واللہ آدھے دن سے پہلے ہی پہلے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے اور وہیں قیلولہ یعنی دوپہر کا آرام کریں گے، قرآن فرماتا ہے (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا 24) 25۔ الفرقان :24) جنتی با عتبار جائے قیام کے بہت اچھے ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی بہت اچھے ہوں گے۔ الغرض قیلولے کا وقت دونوں کا اپنی اپنی جگہ ہوگا آدھے دن سے پہلے پہلے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اس بنا پر یہاں ثم کا لفظ خبر پر خبر کے عطف کے لیے ہوگا۔ یہ اس کا بدلہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا۔ لیکن پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجبوروں اور بیوقوفوں کی طرح ان کے پیچھے ہولئے۔
ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِيمٍ
Summa inna lahum 'alaihaa lashawbam min hameem
Then indeed, they will have after it a mixture of scalding water.
پھر اس (کھانے) کے ساتھ ان کو گرم پانی ملا کر دیا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
زقوم اور طوبی۔ جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ اب لوگ خود فیصلہ کرلیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں ؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت (لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ 52 ۙ) 56۔ الواقعة :52) ، سے بھی ہوتی ہے۔ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہوگیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت ؟ آگ تو درخت جلا دینے والی ہے۔ یہ نبی کہتے ہیں جہنم میں درخت اگے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ہاں یہ درخت آگ ہی سے پیدا ہوگا اور اس کی غذا بھی آگ ہی ہوگی۔ ابو جہل ملعون اسی پر ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا میں تو خوب مزے سے کھجور مکھن کھاؤں گا اسی کا نام زقوم ہے۔ الغرض یہ بھی ایک امتحان ہے بھلے لوگ تو اس سے ڈر گئے اور بروں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جیسے فرمان ہے (وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا 60ۧ) 17۔ الإسراء :60) ، جو منظر ہم نے تجھے دکھایا تھا وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگوں کی آزمائش ہوجائے اور اسی طرح اس نامبارک درخت کا ذکر بھی۔ ہم تو انہیں دھمکا رہے ہیں مگر یہ نافرمانی میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ اس درخت کی اصل جڑ جہنم میں ہے۔ اس کے خوشے اور شاخیں بھیانک ڈراؤنی لمبی چوڑی دور دور شیطانوں کے سروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ گو شیطان کو بھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کا نام سنتے ہی اس کی بد صورتی اور خباثت کا منظر سامنے آجاتا ہے، یہی حال اس درخت کا ہے کہ دیکھنے اور چکھنے میں ظاہر اور باطن میں بری چیز ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو بدترین بھیانک اور خوفناک شکل کے ہوتے ہیں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نبات کی ایک قسم ہے جو بہت بری طرح پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں احتمال درست نہیں ٹھیک بات وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا۔ اسی بد منظر بدبو بد ذائقہ بدمزہ بد خصال تھور کو انہیں جبراً کھانا پڑے گا۔ اور ٹھونس ٹھونس کر انہیں کھلایا جائے گا کہ یہ بجائے خود ایک زبردست عذاب ہے۔ اور آیت میں ہے (لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۙ) 88۔ الغاشية :6) ، ان کی خوراک وہاں صرف کانٹوں دار تھور ہوگا جو نہ انہیں فربہ کرسکے نہ بھوک مٹاسکے حضور ﷺ نے ایک آیت (اتقوا اللہ حق تقاتہ) کی تلاوت کرکے فرمایا اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں پڑجائے توروئے زمین کے تمام لوگوں کی خوراکیں خراب ہوجائیں۔ اس کا کیا حال ہوگا جس کی خوراک ہی یہی ہوگا (ترمذی وغیرہ) پھر اس زقوم کے کھانے کے ساتھ ہی انہیں اوپر سے جہنم کا کھولتا گرم پانی پلایا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ اس جہنمی درخت کو جہنمی پانی کے ساتھ ملا کر انہیں کھلایا پلایا جائے گا۔ اور یہ گرم پانی وہ ہوگا جو جہنمیوں کے زخموں سے لہو پیپ وغیرہ کی شکل میں نکلا ہوگا اور جو ان کی آنکھوں سے اور پوشیدہ راستوں سے نکلا ہوا ہوگا۔ حدیث میں ہے کہ جب یہ پانی ان کے سامنے لایا جائے گا۔ انہیں سخت ایذاء ہوگی بڑی کراہیت آئے گی پھر جب وہ ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس کی بھاپ سے اس کے چہرے کی کھال جھلس کر جھڑ جائے گی اور جب اس کا گھونٹ پیٹ میں جائے گا تو ان کی آنتیں کٹ کر پاخانے کے راستے سے باہر آجائیں گی (ابن ابی حاتم) حضرت سعید بن جیر ؓ فرماتے ہیں جب جہنمی بھوک کی شکایت کریں گے تو زقوم کھلایا جائے گا جس سے ان کے چہر کی کھالیں بالکل الگ ہو کر پڑیں گی۔ اس طرح انہیں پہچاننے والا اس میں ان کے منہ کی پوری کھال دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں ہے۔ پھر پیاس کی شدت سے بیتاب ہو کر وہ ہائے وائے پکاریں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا گرم پانی دیا جائے گا جو چہرے کے سامنے آتے ہی چہرے کے گوشت کو جھلس دے گا اور تمام گوشت گرپڑے گا اور پیٹ میں جاکر آنتوں کو کاٹ دے گا۔ اوپر سے لوہے کے ہتھوڑے مارے جائیں گے اور ایک ایک عضو بدن الگ الگ جھڑ جائے گا، بری طرح چیختے پیٹتے ہوں گے۔ فیصلہ ہوتے ہی ان کا ٹھکانا جہنم ہوجائے گا جہاں طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے جیسے اور آیت میں ہے (يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ 44ۚ) 55۔ الرحمن :44) جہنم اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت (ثم ان مقیلھم لا الی الجحیم) ہے حضرت عبداللہ ؓ کا فرمان ہے کہ واللہ آدھے دن سے پہلے ہی پہلے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے اور وہیں قیلولہ یعنی دوپہر کا آرام کریں گے، قرآن فرماتا ہے (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا 24) 25۔ الفرقان :24) جنتی با عتبار جائے قیام کے بہت اچھے ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی بہت اچھے ہوں گے۔ الغرض قیلولے کا وقت دونوں کا اپنی اپنی جگہ ہوگا آدھے دن سے پہلے پہلے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اس بنا پر یہاں ثم کا لفظ خبر پر خبر کے عطف کے لیے ہوگا۔ یہ اس کا بدلہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا۔ لیکن پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجبوروں اور بیوقوفوں کی طرح ان کے پیچھے ہولئے۔
ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى ٱلْجَحِيمِ
Summa inna marji'ahum la ilal Jaheem
Then indeed, their return will be to the Hellfire.
پھر ان کو دوزخ کی طرف لوٹایا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
زقوم اور طوبی۔ جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ اب لوگ خود فیصلہ کرلیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں ؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت (لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ 52 ۙ) 56۔ الواقعة :52) ، سے بھی ہوتی ہے۔ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہوگیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت ؟ آگ تو درخت جلا دینے والی ہے۔ یہ نبی کہتے ہیں جہنم میں درخت اگے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ہاں یہ درخت آگ ہی سے پیدا ہوگا اور اس کی غذا بھی آگ ہی ہوگی۔ ابو جہل ملعون اسی پر ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا میں تو خوب مزے سے کھجور مکھن کھاؤں گا اسی کا نام زقوم ہے۔ الغرض یہ بھی ایک امتحان ہے بھلے لوگ تو اس سے ڈر گئے اور بروں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جیسے فرمان ہے (وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا 60ۧ) 17۔ الإسراء :60) ، جو منظر ہم نے تجھے دکھایا تھا وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگوں کی آزمائش ہوجائے اور اسی طرح اس نامبارک درخت کا ذکر بھی۔ ہم تو انہیں دھمکا رہے ہیں مگر یہ نافرمانی میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ اس درخت کی اصل جڑ جہنم میں ہے۔ اس کے خوشے اور شاخیں بھیانک ڈراؤنی لمبی چوڑی دور دور شیطانوں کے سروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ گو شیطان کو بھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کا نام سنتے ہی اس کی بد صورتی اور خباثت کا منظر سامنے آجاتا ہے، یہی حال اس درخت کا ہے کہ دیکھنے اور چکھنے میں ظاہر اور باطن میں بری چیز ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو بدترین بھیانک اور خوفناک شکل کے ہوتے ہیں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نبات کی ایک قسم ہے جو بہت بری طرح پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں احتمال درست نہیں ٹھیک بات وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا۔ اسی بد منظر بدبو بد ذائقہ بدمزہ بد خصال تھور کو انہیں جبراً کھانا پڑے گا۔ اور ٹھونس ٹھونس کر انہیں کھلایا جائے گا کہ یہ بجائے خود ایک زبردست عذاب ہے۔ اور آیت میں ہے (لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۙ) 88۔ الغاشية :6) ، ان کی خوراک وہاں صرف کانٹوں دار تھور ہوگا جو نہ انہیں فربہ کرسکے نہ بھوک مٹاسکے حضور ﷺ نے ایک آیت (اتقوا اللہ حق تقاتہ) کی تلاوت کرکے فرمایا اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں پڑجائے توروئے زمین کے تمام لوگوں کی خوراکیں خراب ہوجائیں۔ اس کا کیا حال ہوگا جس کی خوراک ہی یہی ہوگا (ترمذی وغیرہ) پھر اس زقوم کے کھانے کے ساتھ ہی انہیں اوپر سے جہنم کا کھولتا گرم پانی پلایا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ اس جہنمی درخت کو جہنمی پانی کے ساتھ ملا کر انہیں کھلایا پلایا جائے گا۔ اور یہ گرم پانی وہ ہوگا جو جہنمیوں کے زخموں سے لہو پیپ وغیرہ کی شکل میں نکلا ہوگا اور جو ان کی آنکھوں سے اور پوشیدہ راستوں سے نکلا ہوا ہوگا۔ حدیث میں ہے کہ جب یہ پانی ان کے سامنے لایا جائے گا۔ انہیں سخت ایذاء ہوگی بڑی کراہیت آئے گی پھر جب وہ ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس کی بھاپ سے اس کے چہرے کی کھال جھلس کر جھڑ جائے گی اور جب اس کا گھونٹ پیٹ میں جائے گا تو ان کی آنتیں کٹ کر پاخانے کے راستے سے باہر آجائیں گی (ابن ابی حاتم) حضرت سعید بن جیر ؓ فرماتے ہیں جب جہنمی بھوک کی شکایت کریں گے تو زقوم کھلایا جائے گا جس سے ان کے چہر کی کھالیں بالکل الگ ہو کر پڑیں گی۔ اس طرح انہیں پہچاننے والا اس میں ان کے منہ کی پوری کھال دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں ہے۔ پھر پیاس کی شدت سے بیتاب ہو کر وہ ہائے وائے پکاریں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا گرم پانی دیا جائے گا جو چہرے کے سامنے آتے ہی چہرے کے گوشت کو جھلس دے گا اور تمام گوشت گرپڑے گا اور پیٹ میں جاکر آنتوں کو کاٹ دے گا۔ اوپر سے لوہے کے ہتھوڑے مارے جائیں گے اور ایک ایک عضو بدن الگ الگ جھڑ جائے گا، بری طرح چیختے پیٹتے ہوں گے۔ فیصلہ ہوتے ہی ان کا ٹھکانا جہنم ہوجائے گا جہاں طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے جیسے اور آیت میں ہے (يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ 44ۚ) 55۔ الرحمن :44) جہنم اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت (ثم ان مقیلھم لا الی الجحیم) ہے حضرت عبداللہ ؓ کا فرمان ہے کہ واللہ آدھے دن سے پہلے ہی پہلے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے اور وہیں قیلولہ یعنی دوپہر کا آرام کریں گے، قرآن فرماتا ہے (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا 24) 25۔ الفرقان :24) جنتی با عتبار جائے قیام کے بہت اچھے ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی بہت اچھے ہوں گے۔ الغرض قیلولے کا وقت دونوں کا اپنی اپنی جگہ ہوگا آدھے دن سے پہلے پہلے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اس بنا پر یہاں ثم کا لفظ خبر پر خبر کے عطف کے لیے ہوگا۔ یہ اس کا بدلہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا۔ لیکن پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجبوروں اور بیوقوفوں کی طرح ان کے پیچھے ہولئے۔
إِنَّهُمْ أَلْفَوْا۟ ءَابَآءَهُمْ ضَآلِّينَ
Innahum alfaw aabaaa'ahum daaalleen
Indeed they found their fathers astray.
انہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ ہی پایا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
زقوم اور طوبی۔ جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ اب لوگ خود فیصلہ کرلیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں ؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت (لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ 52 ۙ) 56۔ الواقعة :52) ، سے بھی ہوتی ہے۔ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہوگیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت ؟ آگ تو درخت جلا دینے والی ہے۔ یہ نبی کہتے ہیں جہنم میں درخت اگے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ہاں یہ درخت آگ ہی سے پیدا ہوگا اور اس کی غذا بھی آگ ہی ہوگی۔ ابو جہل ملعون اسی پر ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا میں تو خوب مزے سے کھجور مکھن کھاؤں گا اسی کا نام زقوم ہے۔ الغرض یہ بھی ایک امتحان ہے بھلے لوگ تو اس سے ڈر گئے اور بروں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جیسے فرمان ہے (وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا 60ۧ) 17۔ الإسراء :60) ، جو منظر ہم نے تجھے دکھایا تھا وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگوں کی آزمائش ہوجائے اور اسی طرح اس نامبارک درخت کا ذکر بھی۔ ہم تو انہیں دھمکا رہے ہیں مگر یہ نافرمانی میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ اس درخت کی اصل جڑ جہنم میں ہے۔ اس کے خوشے اور شاخیں بھیانک ڈراؤنی لمبی چوڑی دور دور شیطانوں کے سروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ گو شیطان کو بھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کا نام سنتے ہی اس کی بد صورتی اور خباثت کا منظر سامنے آجاتا ہے، یہی حال اس درخت کا ہے کہ دیکھنے اور چکھنے میں ظاہر اور باطن میں بری چیز ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو بدترین بھیانک اور خوفناک شکل کے ہوتے ہیں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نبات کی ایک قسم ہے جو بہت بری طرح پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں احتمال درست نہیں ٹھیک بات وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا۔ اسی بد منظر بدبو بد ذائقہ بدمزہ بد خصال تھور کو انہیں جبراً کھانا پڑے گا۔ اور ٹھونس ٹھونس کر انہیں کھلایا جائے گا کہ یہ بجائے خود ایک زبردست عذاب ہے۔ اور آیت میں ہے (لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۙ) 88۔ الغاشية :6) ، ان کی خوراک وہاں صرف کانٹوں دار تھور ہوگا جو نہ انہیں فربہ کرسکے نہ بھوک مٹاسکے حضور ﷺ نے ایک آیت (اتقوا اللہ حق تقاتہ) کی تلاوت کرکے فرمایا اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں پڑجائے توروئے زمین کے تمام لوگوں کی خوراکیں خراب ہوجائیں۔ اس کا کیا حال ہوگا جس کی خوراک ہی یہی ہوگا (ترمذی وغیرہ) پھر اس زقوم کے کھانے کے ساتھ ہی انہیں اوپر سے جہنم کا کھولتا گرم پانی پلایا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ اس جہنمی درخت کو جہنمی پانی کے ساتھ ملا کر انہیں کھلایا پلایا جائے گا۔ اور یہ گرم پانی وہ ہوگا جو جہنمیوں کے زخموں سے لہو پیپ وغیرہ کی شکل میں نکلا ہوگا اور جو ان کی آنکھوں سے اور پوشیدہ راستوں سے نکلا ہوا ہوگا۔ حدیث میں ہے کہ جب یہ پانی ان کے سامنے لایا جائے گا۔ انہیں سخت ایذاء ہوگی بڑی کراہیت آئے گی پھر جب وہ ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس کی بھاپ سے اس کے چہرے کی کھال جھلس کر جھڑ جائے گی اور جب اس کا گھونٹ پیٹ میں جائے گا تو ان کی آنتیں کٹ کر پاخانے کے راستے سے باہر آجائیں گی (ابن ابی حاتم) حضرت سعید بن جیر ؓ فرماتے ہیں جب جہنمی بھوک کی شکایت کریں گے تو زقوم کھلایا جائے گا جس سے ان کے چہر کی کھالیں بالکل الگ ہو کر پڑیں گی۔ اس طرح انہیں پہچاننے والا اس میں ان کے منہ کی پوری کھال دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں ہے۔ پھر پیاس کی شدت سے بیتاب ہو کر وہ ہائے وائے پکاریں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا گرم پانی دیا جائے گا جو چہرے کے سامنے آتے ہی چہرے کے گوشت کو جھلس دے گا اور تمام گوشت گرپڑے گا اور پیٹ میں جاکر آنتوں کو کاٹ دے گا۔ اوپر سے لوہے کے ہتھوڑے مارے جائیں گے اور ایک ایک عضو بدن الگ الگ جھڑ جائے گا، بری طرح چیختے پیٹتے ہوں گے۔ فیصلہ ہوتے ہی ان کا ٹھکانا جہنم ہوجائے گا جہاں طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے جیسے اور آیت میں ہے (يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ 44ۚ) 55۔ الرحمن :44) جہنم اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت (ثم ان مقیلھم لا الی الجحیم) ہے حضرت عبداللہ ؓ کا فرمان ہے کہ واللہ آدھے دن سے پہلے ہی پہلے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے اور وہیں قیلولہ یعنی دوپہر کا آرام کریں گے، قرآن فرماتا ہے (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا 24) 25۔ الفرقان :24) جنتی با عتبار جائے قیام کے بہت اچھے ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی بہت اچھے ہوں گے۔ الغرض قیلولے کا وقت دونوں کا اپنی اپنی جگہ ہوگا آدھے دن سے پہلے پہلے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اس بنا پر یہاں ثم کا لفظ خبر پر خبر کے عطف کے لیے ہوگا۔ یہ اس کا بدلہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا۔ لیکن پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجبوروں اور بیوقوفوں کی طرح ان کے پیچھے ہولئے۔
فَهُمْ عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِمْ يُهْرَعُونَ
Fahum 'alaa aasaarihim yuhra'oon
So they hastened [to follow] in their footsteps.
سو وہ ان ہی کے پیچھے دوڑے چلے جاتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
زقوم اور طوبی۔ جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ اب لوگ خود فیصلہ کرلیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں ؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت (لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ 52 ۙ) 56۔ الواقعة :52) ، سے بھی ہوتی ہے۔ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہوگیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت ؟ آگ تو درخت جلا دینے والی ہے۔ یہ نبی کہتے ہیں جہنم میں درخت اگے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ہاں یہ درخت آگ ہی سے پیدا ہوگا اور اس کی غذا بھی آگ ہی ہوگی۔ ابو جہل ملعون اسی پر ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا میں تو خوب مزے سے کھجور مکھن کھاؤں گا اسی کا نام زقوم ہے۔ الغرض یہ بھی ایک امتحان ہے بھلے لوگ تو اس سے ڈر گئے اور بروں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جیسے فرمان ہے (وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا 60ۧ) 17۔ الإسراء :60) ، جو منظر ہم نے تجھے دکھایا تھا وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگوں کی آزمائش ہوجائے اور اسی طرح اس نامبارک درخت کا ذکر بھی۔ ہم تو انہیں دھمکا رہے ہیں مگر یہ نافرمانی میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ اس درخت کی اصل جڑ جہنم میں ہے۔ اس کے خوشے اور شاخیں بھیانک ڈراؤنی لمبی چوڑی دور دور شیطانوں کے سروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ گو شیطان کو بھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کا نام سنتے ہی اس کی بد صورتی اور خباثت کا منظر سامنے آجاتا ہے، یہی حال اس درخت کا ہے کہ دیکھنے اور چکھنے میں ظاہر اور باطن میں بری چیز ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو بدترین بھیانک اور خوفناک شکل کے ہوتے ہیں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نبات کی ایک قسم ہے جو بہت بری طرح پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں احتمال درست نہیں ٹھیک بات وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا۔ اسی بد منظر بدبو بد ذائقہ بدمزہ بد خصال تھور کو انہیں جبراً کھانا پڑے گا۔ اور ٹھونس ٹھونس کر انہیں کھلایا جائے گا کہ یہ بجائے خود ایک زبردست عذاب ہے۔ اور آیت میں ہے (لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۙ) 88۔ الغاشية :6) ، ان کی خوراک وہاں صرف کانٹوں دار تھور ہوگا جو نہ انہیں فربہ کرسکے نہ بھوک مٹاسکے حضور ﷺ نے ایک آیت (اتقوا اللہ حق تقاتہ) کی تلاوت کرکے فرمایا اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں پڑجائے توروئے زمین کے تمام لوگوں کی خوراکیں خراب ہوجائیں۔ اس کا کیا حال ہوگا جس کی خوراک ہی یہی ہوگا (ترمذی وغیرہ) پھر اس زقوم کے کھانے کے ساتھ ہی انہیں اوپر سے جہنم کا کھولتا گرم پانی پلایا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ اس جہنمی درخت کو جہنمی پانی کے ساتھ ملا کر انہیں کھلایا پلایا جائے گا۔ اور یہ گرم پانی وہ ہوگا جو جہنمیوں کے زخموں سے لہو پیپ وغیرہ کی شکل میں نکلا ہوگا اور جو ان کی آنکھوں سے اور پوشیدہ راستوں سے نکلا ہوا ہوگا۔ حدیث میں ہے کہ جب یہ پانی ان کے سامنے لایا جائے گا۔ انہیں سخت ایذاء ہوگی بڑی کراہیت آئے گی پھر جب وہ ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس کی بھاپ سے اس کے چہرے کی کھال جھلس کر جھڑ جائے گی اور جب اس کا گھونٹ پیٹ میں جائے گا تو ان کی آنتیں کٹ کر پاخانے کے راستے سے باہر آجائیں گی (ابن ابی حاتم) حضرت سعید بن جیر ؓ فرماتے ہیں جب جہنمی بھوک کی شکایت کریں گے تو زقوم کھلایا جائے گا جس سے ان کے چہر کی کھالیں بالکل الگ ہو کر پڑیں گی۔ اس طرح انہیں پہچاننے والا اس میں ان کے منہ کی پوری کھال دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں ہے۔ پھر پیاس کی شدت سے بیتاب ہو کر وہ ہائے وائے پکاریں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا گرم پانی دیا جائے گا جو چہرے کے سامنے آتے ہی چہرے کے گوشت کو جھلس دے گا اور تمام گوشت گرپڑے گا اور پیٹ میں جاکر آنتوں کو کاٹ دے گا۔ اوپر سے لوہے کے ہتھوڑے مارے جائیں گے اور ایک ایک عضو بدن الگ الگ جھڑ جائے گا، بری طرح چیختے پیٹتے ہوں گے۔ فیصلہ ہوتے ہی ان کا ٹھکانا جہنم ہوجائے گا جہاں طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے جیسے اور آیت میں ہے (يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ 44ۚ) 55۔ الرحمن :44) جہنم اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت (ثم ان مقیلھم لا الی الجحیم) ہے حضرت عبداللہ ؓ کا فرمان ہے کہ واللہ آدھے دن سے پہلے ہی پہلے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے اور وہیں قیلولہ یعنی دوپہر کا آرام کریں گے، قرآن فرماتا ہے (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا 24) 25۔ الفرقان :24) جنتی با عتبار جائے قیام کے بہت اچھے ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی بہت اچھے ہوں گے۔ الغرض قیلولے کا وقت دونوں کا اپنی اپنی جگہ ہوگا آدھے دن سے پہلے پہلے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اس بنا پر یہاں ثم کا لفظ خبر پر خبر کے عطف کے لیے ہوگا۔ یہ اس کا بدلہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا۔ لیکن پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجبوروں اور بیوقوفوں کی طرح ان کے پیچھے ہولئے۔
وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ ٱلْأَوَّلِينَ
Wa laqad dalla qablahum aksarul awwaleen
And there had already strayed before them most of the former peoples,
اور ان سے پیشتر بہت سے لوگ بھی گمراہ ہوگئے تھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
سابقہ آیتیں۔ گذشتہ امتوں میں بھی اکثر لوگ گم کردہ راہ پر تھے اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ ان میں بھی اللہ کے رسول آئے تھے۔ جنہوں نے انہیں ہوشیار کردیا تھا اور ڈرا دھمکا دیا تھا اور بتلا دیا تھا کہ ان کے شرک و کفر اور تکذیب رسول سے بری طرح اللہ تعالیٰ ناراض ہے۔ اور اگر وہ باز نہ آئے تو انہیں عذاب ہوں گے۔ پھر بھی جب انہوں نے نبیوں کی نہ مانی اپنی برائی سے باز نہ آئے تو دیکھ لو کہ ان کا کیا انجام ہوا ؟ تہس نہس کردئیے گئے تباہ برباد کردئیے گئے۔ ہاں نیک کار خلوص والے اللہ کے موحد بندے بچا لیے گئے اور عزت کے ساتھ رکھے گئے۔
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا فِيهِم مُّنذِرِينَ
Wa laqad arsalnaa feehim munzireen
And We had already sent among them warners.
اور ہم نے ان میں متنبہ کرنے والے بھیجے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
سابقہ آیتیں۔ گذشتہ امتوں میں بھی اکثر لوگ گم کردہ راہ پر تھے اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ ان میں بھی اللہ کے رسول آئے تھے۔ جنہوں نے انہیں ہوشیار کردیا تھا اور ڈرا دھمکا دیا تھا اور بتلا دیا تھا کہ ان کے شرک و کفر اور تکذیب رسول سے بری طرح اللہ تعالیٰ ناراض ہے۔ اور اگر وہ باز نہ آئے تو انہیں عذاب ہوں گے۔ پھر بھی جب انہوں نے نبیوں کی نہ مانی اپنی برائی سے باز نہ آئے تو دیکھ لو کہ ان کا کیا انجام ہوا ؟ تہس نہس کردئیے گئے تباہ برباد کردئیے گئے۔ ہاں نیک کار خلوص والے اللہ کے موحد بندے بچا لیے گئے اور عزت کے ساتھ رکھے گئے۔
فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُنذَرِينَ
Fanzur kaifa kaana 'aaqibatul munzareen
Then look how was the end of those who were warned -
سو دیکھ لو کہ جن کو متنبہ کیا گیا تھا ان کا انجام کیسا ہوا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
سابقہ آیتیں۔ گذشتہ امتوں میں بھی اکثر لوگ گم کردہ راہ پر تھے اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ ان میں بھی اللہ کے رسول آئے تھے۔ جنہوں نے انہیں ہوشیار کردیا تھا اور ڈرا دھمکا دیا تھا اور بتلا دیا تھا کہ ان کے شرک و کفر اور تکذیب رسول سے بری طرح اللہ تعالیٰ ناراض ہے۔ اور اگر وہ باز نہ آئے تو انہیں عذاب ہوں گے۔ پھر بھی جب انہوں نے نبیوں کی نہ مانی اپنی برائی سے باز نہ آئے تو دیکھ لو کہ ان کا کیا انجام ہوا ؟ تہس نہس کردئیے گئے تباہ برباد کردئیے گئے۔ ہاں نیک کار خلوص والے اللہ کے موحد بندے بچا لیے گئے اور عزت کے ساتھ رکھے گئے۔
إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ
Illaa 'ibaadal laahil mukhlaseen
But not the chosen servants of Allah.
ہاں خدا کے بندگان خاص (کا انجام بہت اچھا ہوا)
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
سابقہ آیتیں۔ گذشتہ امتوں میں بھی اکثر لوگ گم کردہ راہ پر تھے اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ ان میں بھی اللہ کے رسول آئے تھے۔ جنہوں نے انہیں ہوشیار کردیا تھا اور ڈرا دھمکا دیا تھا اور بتلا دیا تھا کہ ان کے شرک و کفر اور تکذیب رسول سے بری طرح اللہ تعالیٰ ناراض ہے۔ اور اگر وہ باز نہ آئے تو انہیں عذاب ہوں گے۔ پھر بھی جب انہوں نے نبیوں کی نہ مانی اپنی برائی سے باز نہ آئے تو دیکھ لو کہ ان کا کیا انجام ہوا ؟ تہس نہس کردئیے گئے تباہ برباد کردئیے گئے۔ ہاں نیک کار خلوص والے اللہ کے موحد بندے بچا لیے گئے اور عزت کے ساتھ رکھے گئے۔
وَلَقَدْ نَادَىٰنَا نُوحٌ فَلَنِعْمَ ٱلْمُجِيبُونَ
Wa laqad naadaanaa Noohun falani'mal mujeeboon
And Noah had certainly called Us, and [We are] the best of responders.
اور ہم کو نوح نے پکارا سو (دیکھ لو کہ) ہم (دعا کو کیسے) اچھے قبول کرنے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں۔ اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ حضرت نوح نبی ؑ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول ﷺ نے تنگ آکر رب سے دعا کی کہ اللہ میں عاجز آگیا تو میری مدد کر۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کردیا۔ تو فرماتا ہے کہ نوح نے تنگ آکر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما لی۔ اور اس تکذیب و ایذاء سے جو انہیں کفار سے روز مرہ پہنچ رہی تھی ہم نے بچالیا۔ اور انہی کی اولاد سے پھر دنیا بسی، کیونکہ وہی باقی بچے تھے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں تمام لوگ حضرت نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ترمذی کی مرفوع حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ سام حام اور یافث کی پھر اولاد پھیلی اور باقی رہی۔ مسند میں یہ بھی ہے کہ سام سارے عرب کے باپ ہیں اور حام تمام حبش کے اور یافث تمام روم کے۔ اس حدیث میں رومیوں سے مراد روم اول یعنی یونانی ہیں۔ جو رومی بن لیطی بن یوناں بن یافث بن نوح کی طرف منسوب ہیں۔ حضرت سعید بن مسیب ؓ کا فرمان ہے کہ حضرت نوح کے ایک لڑکے سام کی اولاد عرب، فارس اور رومی ہیں اور یافث کی اولاد ترک، صقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں اور حام کی اولاد قبطی، سوڈانی اور بربری ہیں واللہ اعلم۔ حضرت نوح کی بھلائی اور ان کا ذکر خیر ان کے بعد کے لوگوں میں اللہ کی طرف سے زندہ رہا۔ تمام انبیاء کی حق گوئی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ہمیشہ ان پر لوگ سلام بھیجتے رہیں گے اور ان کی تعریفیں بیان کرتے رہیں گے۔ حضرت نوح ؑ پر سلام ہو۔ یہ گویا اگلے جملے کی تفسیر ہے یعنی ان کا ذکر بھلائی سے باقی رہنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر امت ان پر سلام بھیجتی رہتی ہے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ ہماری عبادت و اطاعت پر جم جائے ہم بھی اس کا ذکر جمیل بعد والوں میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھتے ہیں۔ حضرت نوح یقین و ایمان رکھنے والوں توحید پر جم جانے والوں میں سے تھے۔ نوح اور نوح والوں کا تو یہ واقعہ ہوا۔ لیکن نوح کے مخالفین غارت اور غرق کر دئیے گئے۔ ایک آنکھ جھپکنے والی ان میں باقی نہ بچی، ایک خبر رساں زندہ نہ رہا، نشان تک باقی نہ بچا۔ ہاں ان کی ہڈیاں اور برائیاں رہ گئیں جن کی وجہ سے مخلوق کی زبان پر ان کے یہ بدترین افسانے چڑھ گئے۔
وَنَجَّيْنَٰهُ وَأَهْلَهُۥ مِنَ ٱلْكَرْبِ ٱلْعَظِيمِ
Wa jajainaahu wa ahlahoo minal karbil 'azeem
And We saved him and his family from the great affliction.
اور ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بڑی مصیبت سے نجات دی
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں۔ اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ حضرت نوح نبی ؑ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول ﷺ نے تنگ آکر رب سے دعا کی کہ اللہ میں عاجز آگیا تو میری مدد کر۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کردیا۔ تو فرماتا ہے کہ نوح نے تنگ آکر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما لی۔ اور اس تکذیب و ایذاء سے جو انہیں کفار سے روز مرہ پہنچ رہی تھی ہم نے بچالیا۔ اور انہی کی اولاد سے پھر دنیا بسی، کیونکہ وہی باقی بچے تھے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں تمام لوگ حضرت نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ترمذی کی مرفوع حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ سام حام اور یافث کی پھر اولاد پھیلی اور باقی رہی۔ مسند میں یہ بھی ہے کہ سام سارے عرب کے باپ ہیں اور حام تمام حبش کے اور یافث تمام روم کے۔ اس حدیث میں رومیوں سے مراد روم اول یعنی یونانی ہیں۔ جو رومی بن لیطی بن یوناں بن یافث بن نوح کی طرف منسوب ہیں۔ حضرت سعید بن مسیب ؓ کا فرمان ہے کہ حضرت نوح کے ایک لڑکے سام کی اولاد عرب، فارس اور رومی ہیں اور یافث کی اولاد ترک، صقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں اور حام کی اولاد قبطی، سوڈانی اور بربری ہیں واللہ اعلم۔ حضرت نوح کی بھلائی اور ان کا ذکر خیر ان کے بعد کے لوگوں میں اللہ کی طرف سے زندہ رہا۔ تمام انبیاء کی حق گوئی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ہمیشہ ان پر لوگ سلام بھیجتے رہیں گے اور ان کی تعریفیں بیان کرتے رہیں گے۔ حضرت نوح ؑ پر سلام ہو۔ یہ گویا اگلے جملے کی تفسیر ہے یعنی ان کا ذکر بھلائی سے باقی رہنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر امت ان پر سلام بھیجتی رہتی ہے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ ہماری عبادت و اطاعت پر جم جائے ہم بھی اس کا ذکر جمیل بعد والوں میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھتے ہیں۔ حضرت نوح یقین و ایمان رکھنے والوں توحید پر جم جانے والوں میں سے تھے۔ نوح اور نوح والوں کا تو یہ واقعہ ہوا۔ لیکن نوح کے مخالفین غارت اور غرق کر دئیے گئے۔ ایک آنکھ جھپکنے والی ان میں باقی نہ بچی، ایک خبر رساں زندہ نہ رہا، نشان تک باقی نہ بچا۔ ہاں ان کی ہڈیاں اور برائیاں رہ گئیں جن کی وجہ سے مخلوق کی زبان پر ان کے یہ بدترین افسانے چڑھ گئے۔
وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُۥ هُمُ ٱلْبَاقِينَ
Wa ja'alnaa zurriyyatahoo hummul baaqeen
And We made his descendants those remaining [on the earth]
اور ان کی اولاد کو ایسا کیا کہ وہی باقی رہ گئے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں۔ اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ حضرت نوح نبی ؑ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول ﷺ نے تنگ آکر رب سے دعا کی کہ اللہ میں عاجز آگیا تو میری مدد کر۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کردیا۔ تو فرماتا ہے کہ نوح نے تنگ آکر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما لی۔ اور اس تکذیب و ایذاء سے جو انہیں کفار سے روز مرہ پہنچ رہی تھی ہم نے بچالیا۔ اور انہی کی اولاد سے پھر دنیا بسی، کیونکہ وہی باقی بچے تھے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں تمام لوگ حضرت نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ترمذی کی مرفوع حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ سام حام اور یافث کی پھر اولاد پھیلی اور باقی رہی۔ مسند میں یہ بھی ہے کہ سام سارے عرب کے باپ ہیں اور حام تمام حبش کے اور یافث تمام روم کے۔ اس حدیث میں رومیوں سے مراد روم اول یعنی یونانی ہیں۔ جو رومی بن لیطی بن یوناں بن یافث بن نوح کی طرف منسوب ہیں۔ حضرت سعید بن مسیب ؓ کا فرمان ہے کہ حضرت نوح کے ایک لڑکے سام کی اولاد عرب، فارس اور رومی ہیں اور یافث کی اولاد ترک، صقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں اور حام کی اولاد قبطی، سوڈانی اور بربری ہیں واللہ اعلم۔ حضرت نوح کی بھلائی اور ان کا ذکر خیر ان کے بعد کے لوگوں میں اللہ کی طرف سے زندہ رہا۔ تمام انبیاء کی حق گوئی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ہمیشہ ان پر لوگ سلام بھیجتے رہیں گے اور ان کی تعریفیں بیان کرتے رہیں گے۔ حضرت نوح ؑ پر سلام ہو۔ یہ گویا اگلے جملے کی تفسیر ہے یعنی ان کا ذکر بھلائی سے باقی رہنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر امت ان پر سلام بھیجتی رہتی ہے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ ہماری عبادت و اطاعت پر جم جائے ہم بھی اس کا ذکر جمیل بعد والوں میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھتے ہیں۔ حضرت نوح یقین و ایمان رکھنے والوں توحید پر جم جانے والوں میں سے تھے۔ نوح اور نوح والوں کا تو یہ واقعہ ہوا۔ لیکن نوح کے مخالفین غارت اور غرق کر دئیے گئے۔ ایک آنکھ جھپکنے والی ان میں باقی نہ بچی، ایک خبر رساں زندہ نہ رہا، نشان تک باقی نہ بچا۔ ہاں ان کی ہڈیاں اور برائیاں رہ گئیں جن کی وجہ سے مخلوق کی زبان پر ان کے یہ بدترین افسانے چڑھ گئے۔
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ
Wa taraknaa 'alaihi fil aakhireen
And left for him [favorable mention] among later generations:
اور پیچھے آنے والوں میں ان کا ذکر (جمیل باقی) چھوڑ دیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں۔ اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ حضرت نوح نبی ؑ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول ﷺ نے تنگ آکر رب سے دعا کی کہ اللہ میں عاجز آگیا تو میری مدد کر۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کردیا۔ تو فرماتا ہے کہ نوح نے تنگ آکر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما لی۔ اور اس تکذیب و ایذاء سے جو انہیں کفار سے روز مرہ پہنچ رہی تھی ہم نے بچالیا۔ اور انہی کی اولاد سے پھر دنیا بسی، کیونکہ وہی باقی بچے تھے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں تمام لوگ حضرت نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ترمذی کی مرفوع حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ سام حام اور یافث کی پھر اولاد پھیلی اور باقی رہی۔ مسند میں یہ بھی ہے کہ سام سارے عرب کے باپ ہیں اور حام تمام حبش کے اور یافث تمام روم کے۔ اس حدیث میں رومیوں سے مراد روم اول یعنی یونانی ہیں۔ جو رومی بن لیطی بن یوناں بن یافث بن نوح کی طرف منسوب ہیں۔ حضرت سعید بن مسیب ؓ کا فرمان ہے کہ حضرت نوح کے ایک لڑکے سام کی اولاد عرب، فارس اور رومی ہیں اور یافث کی اولاد ترک، صقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں اور حام کی اولاد قبطی، سوڈانی اور بربری ہیں واللہ اعلم۔ حضرت نوح کی بھلائی اور ان کا ذکر خیر ان کے بعد کے لوگوں میں اللہ کی طرف سے زندہ رہا۔ تمام انبیاء کی حق گوئی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ہمیشہ ان پر لوگ سلام بھیجتے رہیں گے اور ان کی تعریفیں بیان کرتے رہیں گے۔ حضرت نوح ؑ پر سلام ہو۔ یہ گویا اگلے جملے کی تفسیر ہے یعنی ان کا ذکر بھلائی سے باقی رہنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر امت ان پر سلام بھیجتی رہتی ہے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ ہماری عبادت و اطاعت پر جم جائے ہم بھی اس کا ذکر جمیل بعد والوں میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھتے ہیں۔ حضرت نوح یقین و ایمان رکھنے والوں توحید پر جم جانے والوں میں سے تھے۔ نوح اور نوح والوں کا تو یہ واقعہ ہوا۔ لیکن نوح کے مخالفین غارت اور غرق کر دئیے گئے۔ ایک آنکھ جھپکنے والی ان میں باقی نہ بچی، ایک خبر رساں زندہ نہ رہا، نشان تک باقی نہ بچا۔ ہاں ان کی ہڈیاں اور برائیاں رہ گئیں جن کی وجہ سے مخلوق کی زبان پر ان کے یہ بدترین افسانے چڑھ گئے۔
سَلَٰمٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِى ٱلْعَٰلَمِينَ
Salaamun 'alaa Noohin fil 'aalameen
"Peace upon Noah among the worlds."
یعنی) تمام جہان میں (کہ) نوح پر سلام
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں۔ اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ حضرت نوح نبی ؑ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول ﷺ نے تنگ آکر رب سے دعا کی کہ اللہ میں عاجز آگیا تو میری مدد کر۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کردیا۔ تو فرماتا ہے کہ نوح نے تنگ آکر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما لی۔ اور اس تکذیب و ایذاء سے جو انہیں کفار سے روز مرہ پہنچ رہی تھی ہم نے بچالیا۔ اور انہی کی اولاد سے پھر دنیا بسی، کیونکہ وہی باقی بچے تھے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں تمام لوگ حضرت نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ترمذی کی مرفوع حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ سام حام اور یافث کی پھر اولاد پھیلی اور باقی رہی۔ مسند میں یہ بھی ہے کہ سام سارے عرب کے باپ ہیں اور حام تمام حبش کے اور یافث تمام روم کے۔ اس حدیث میں رومیوں سے مراد روم اول یعنی یونانی ہیں۔ جو رومی بن لیطی بن یوناں بن یافث بن نوح کی طرف منسوب ہیں۔ حضرت سعید بن مسیب ؓ کا فرمان ہے کہ حضرت نوح کے ایک لڑکے سام کی اولاد عرب، فارس اور رومی ہیں اور یافث کی اولاد ترک، صقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں اور حام کی اولاد قبطی، سوڈانی اور بربری ہیں واللہ اعلم۔ حضرت نوح کی بھلائی اور ان کا ذکر خیر ان کے بعد کے لوگوں میں اللہ کی طرف سے زندہ رہا۔ تمام انبیاء کی حق گوئی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ہمیشہ ان پر لوگ سلام بھیجتے رہیں گے اور ان کی تعریفیں بیان کرتے رہیں گے۔ حضرت نوح ؑ پر سلام ہو۔ یہ گویا اگلے جملے کی تفسیر ہے یعنی ان کا ذکر بھلائی سے باقی رہنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر امت ان پر سلام بھیجتی رہتی ہے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ ہماری عبادت و اطاعت پر جم جائے ہم بھی اس کا ذکر جمیل بعد والوں میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھتے ہیں۔ حضرت نوح یقین و ایمان رکھنے والوں توحید پر جم جانے والوں میں سے تھے۔ نوح اور نوح والوں کا تو یہ واقعہ ہوا۔ لیکن نوح کے مخالفین غارت اور غرق کر دئیے گئے۔ ایک آنکھ جھپکنے والی ان میں باقی نہ بچی، ایک خبر رساں زندہ نہ رہا، نشان تک باقی نہ بچا۔ ہاں ان کی ہڈیاں اور برائیاں رہ گئیں جن کی وجہ سے مخلوق کی زبان پر ان کے یہ بدترین افسانے چڑھ گئے۔
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ
Innaa kazaalika najzil muhsineen
Indeed, We thus reward the doers of good.
نیکوکاروں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں۔ اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ حضرت نوح نبی ؑ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول ﷺ نے تنگ آکر رب سے دعا کی کہ اللہ میں عاجز آگیا تو میری مدد کر۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کردیا۔ تو فرماتا ہے کہ نوح نے تنگ آکر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما لی۔ اور اس تکذیب و ایذاء سے جو انہیں کفار سے روز مرہ پہنچ رہی تھی ہم نے بچالیا۔ اور انہی کی اولاد سے پھر دنیا بسی، کیونکہ وہی باقی بچے تھے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں تمام لوگ حضرت نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ترمذی کی مرفوع حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ سام حام اور یافث کی پھر اولاد پھیلی اور باقی رہی۔ مسند میں یہ بھی ہے کہ سام سارے عرب کے باپ ہیں اور حام تمام حبش کے اور یافث تمام روم کے۔ اس حدیث میں رومیوں سے مراد روم اول یعنی یونانی ہیں۔ جو رومی بن لیطی بن یوناں بن یافث بن نوح کی طرف منسوب ہیں۔ حضرت سعید بن مسیب ؓ کا فرمان ہے کہ حضرت نوح کے ایک لڑکے سام کی اولاد عرب، فارس اور رومی ہیں اور یافث کی اولاد ترک، صقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں اور حام کی اولاد قبطی، سوڈانی اور بربری ہیں واللہ اعلم۔ حضرت نوح کی بھلائی اور ان کا ذکر خیر ان کے بعد کے لوگوں میں اللہ کی طرف سے زندہ رہا۔ تمام انبیاء کی حق گوئی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ہمیشہ ان پر لوگ سلام بھیجتے رہیں گے اور ان کی تعریفیں بیان کرتے رہیں گے۔ حضرت نوح ؑ پر سلام ہو۔ یہ گویا اگلے جملے کی تفسیر ہے یعنی ان کا ذکر بھلائی سے باقی رہنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر امت ان پر سلام بھیجتی رہتی ہے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ ہماری عبادت و اطاعت پر جم جائے ہم بھی اس کا ذکر جمیل بعد والوں میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھتے ہیں۔ حضرت نوح یقین و ایمان رکھنے والوں توحید پر جم جانے والوں میں سے تھے۔ نوح اور نوح والوں کا تو یہ واقعہ ہوا۔ لیکن نوح کے مخالفین غارت اور غرق کر دئیے گئے۔ ایک آنکھ جھپکنے والی ان میں باقی نہ بچی، ایک خبر رساں زندہ نہ رہا، نشان تک باقی نہ بچا۔ ہاں ان کی ہڈیاں اور برائیاں رہ گئیں جن کی وجہ سے مخلوق کی زبان پر ان کے یہ بدترین افسانے چڑھ گئے۔
إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ
Innahoo min 'ibaadinal mu'mineen
Indeed, he was of Our believing servants.
بےشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں۔ اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ حضرت نوح نبی ؑ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول ﷺ نے تنگ آکر رب سے دعا کی کہ اللہ میں عاجز آگیا تو میری مدد کر۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کردیا۔ تو فرماتا ہے کہ نوح نے تنگ آکر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما لی۔ اور اس تکذیب و ایذاء سے جو انہیں کفار سے روز مرہ پہنچ رہی تھی ہم نے بچالیا۔ اور انہی کی اولاد سے پھر دنیا بسی، کیونکہ وہی باقی بچے تھے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں تمام لوگ حضرت نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ترمذی کی مرفوع حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ سام حام اور یافث کی پھر اولاد پھیلی اور باقی رہی۔ مسند میں یہ بھی ہے کہ سام سارے عرب کے باپ ہیں اور حام تمام حبش کے اور یافث تمام روم کے۔ اس حدیث میں رومیوں سے مراد روم اول یعنی یونانی ہیں۔ جو رومی بن لیطی بن یوناں بن یافث بن نوح کی طرف منسوب ہیں۔ حضرت سعید بن مسیب ؓ کا فرمان ہے کہ حضرت نوح کے ایک لڑکے سام کی اولاد عرب، فارس اور رومی ہیں اور یافث کی اولاد ترک، صقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں اور حام کی اولاد قبطی، سوڈانی اور بربری ہیں واللہ اعلم۔ حضرت نوح کی بھلائی اور ان کا ذکر خیر ان کے بعد کے لوگوں میں اللہ کی طرف سے زندہ رہا۔ تمام انبیاء کی حق گوئی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ہمیشہ ان پر لوگ سلام بھیجتے رہیں گے اور ان کی تعریفیں بیان کرتے رہیں گے۔ حضرت نوح ؑ پر سلام ہو۔ یہ گویا اگلے جملے کی تفسیر ہے یعنی ان کا ذکر بھلائی سے باقی رہنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر امت ان پر سلام بھیجتی رہتی ہے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ ہماری عبادت و اطاعت پر جم جائے ہم بھی اس کا ذکر جمیل بعد والوں میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھتے ہیں۔ حضرت نوح یقین و ایمان رکھنے والوں توحید پر جم جانے والوں میں سے تھے۔ نوح اور نوح والوں کا تو یہ واقعہ ہوا۔ لیکن نوح کے مخالفین غارت اور غرق کر دئیے گئے۔ ایک آنکھ جھپکنے والی ان میں باقی نہ بچی، ایک خبر رساں زندہ نہ رہا، نشان تک باقی نہ بچا۔ ہاں ان کی ہڈیاں اور برائیاں رہ گئیں جن کی وجہ سے مخلوق کی زبان پر ان کے یہ بدترین افسانے چڑھ گئے۔
ثُمَّ أَغْرَقْنَا ٱلْـَٔاخَرِينَ
Summa aghraqnal aakhareen
Then We drowned the disbelievers.
پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں۔ اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ حضرت نوح نبی ؑ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول ﷺ نے تنگ آکر رب سے دعا کی کہ اللہ میں عاجز آگیا تو میری مدد کر۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کردیا۔ تو فرماتا ہے کہ نوح نے تنگ آکر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما لی۔ اور اس تکذیب و ایذاء سے جو انہیں کفار سے روز مرہ پہنچ رہی تھی ہم نے بچالیا۔ اور انہی کی اولاد سے پھر دنیا بسی، کیونکہ وہی باقی بچے تھے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں تمام لوگ حضرت نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ترمذی کی مرفوع حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ سام حام اور یافث کی پھر اولاد پھیلی اور باقی رہی۔ مسند میں یہ بھی ہے کہ سام سارے عرب کے باپ ہیں اور حام تمام حبش کے اور یافث تمام روم کے۔ اس حدیث میں رومیوں سے مراد روم اول یعنی یونانی ہیں۔ جو رومی بن لیطی بن یوناں بن یافث بن نوح کی طرف منسوب ہیں۔ حضرت سعید بن مسیب ؓ کا فرمان ہے کہ حضرت نوح کے ایک لڑکے سام کی اولاد عرب، فارس اور رومی ہیں اور یافث کی اولاد ترک، صقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں اور حام کی اولاد قبطی، سوڈانی اور بربری ہیں واللہ اعلم۔ حضرت نوح کی بھلائی اور ان کا ذکر خیر ان کے بعد کے لوگوں میں اللہ کی طرف سے زندہ رہا۔ تمام انبیاء کی حق گوئی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ہمیشہ ان پر لوگ سلام بھیجتے رہیں گے اور ان کی تعریفیں بیان کرتے رہیں گے۔ حضرت نوح ؑ پر سلام ہو۔ یہ گویا اگلے جملے کی تفسیر ہے یعنی ان کا ذکر بھلائی سے باقی رہنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر امت ان پر سلام بھیجتی رہتی ہے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ ہماری عبادت و اطاعت پر جم جائے ہم بھی اس کا ذکر جمیل بعد والوں میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھتے ہیں۔ حضرت نوح یقین و ایمان رکھنے والوں توحید پر جم جانے والوں میں سے تھے۔ نوح اور نوح والوں کا تو یہ واقعہ ہوا۔ لیکن نوح کے مخالفین غارت اور غرق کر دئیے گئے۔ ایک آنکھ جھپکنے والی ان میں باقی نہ بچی، ایک خبر رساں زندہ نہ رہا، نشان تک باقی نہ بچا۔ ہاں ان کی ہڈیاں اور برائیاں رہ گئیں جن کی وجہ سے مخلوق کی زبان پر ان کے یہ بدترین افسانے چڑھ گئے۔
وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِۦ لَإِبْرَٰهِيمَ
Wa ina min shee'atihee la Ibraaheem
And indeed, among his kind was Abraham,
اور ان ہی کے پیرووں میں ابراہیم تھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اب بھی سنبھل جاؤ۔ ابراہیم ؑ بھی نوح کے دین پر تھے، انہی کے طریقے اور چال چلن پر تھے۔ اپنے رب کے پاس سلامت دل لے گئے یعنی توحید والا جو اللہ کو حق جانتا ہو۔ قیامت کو آنے والی مانتا ہو۔ مردوں کو دوبارہ جینے والا سمجھتا ہو۔ شرک وکفر سے بیزار ہو، دوسروں پر لعن طعن کرنے والا نہ ہو۔ خلیل اللہ نے اپنی تمام قوم سے اور اپنے سگے باپ سے صاف فرمایا کہ یہ تم کس کی پوجا پاٹ کررہے ہو ؟ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت چھوڑ دو اپنے ان جھوٹ موٹھ کے معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔ ورنہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا کچھ نہ کریگا اور تمہیں کیسی کچھ سخت ترین سزائیں دیگا ؟
إِذْ جَآءَ رَبَّهُۥ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
Iz jaaa'a Rabbahoo bi qalbin saleem
When he came to his Lord with a sound heart
جب وہ اپنے پروردگار کے پاس (عیب سے) پاک دل لے کر آئے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اب بھی سنبھل جاؤ۔ ابراہیم ؑ بھی نوح کے دین پر تھے، انہی کے طریقے اور چال چلن پر تھے۔ اپنے رب کے پاس سلامت دل لے گئے یعنی توحید والا جو اللہ کو حق جانتا ہو۔ قیامت کو آنے والی مانتا ہو۔ مردوں کو دوبارہ جینے والا سمجھتا ہو۔ شرک وکفر سے بیزار ہو، دوسروں پر لعن طعن کرنے والا نہ ہو۔ خلیل اللہ نے اپنی تمام قوم سے اور اپنے سگے باپ سے صاف فرمایا کہ یہ تم کس کی پوجا پاٹ کررہے ہو ؟ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت چھوڑ دو اپنے ان جھوٹ موٹھ کے معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔ ورنہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا کچھ نہ کریگا اور تمہیں کیسی کچھ سخت ترین سزائیں دیگا ؟
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِۦ مَاذَا تَعْبُدُونَ
Iz qaala li abeehi wa qawmihee maazaa ta'budoon
[And] when he said to his father and his people, "What do you worship?
جب انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اب بھی سنبھل جاؤ۔ ابراہیم ؑ بھی نوح کے دین پر تھے، انہی کے طریقے اور چال چلن پر تھے۔ اپنے رب کے پاس سلامت دل لے گئے یعنی توحید والا جو اللہ کو حق جانتا ہو۔ قیامت کو آنے والی مانتا ہو۔ مردوں کو دوبارہ جینے والا سمجھتا ہو۔ شرک وکفر سے بیزار ہو، دوسروں پر لعن طعن کرنے والا نہ ہو۔ خلیل اللہ نے اپنی تمام قوم سے اور اپنے سگے باپ سے صاف فرمایا کہ یہ تم کس کی پوجا پاٹ کررہے ہو ؟ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت چھوڑ دو اپنے ان جھوٹ موٹھ کے معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔ ورنہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا کچھ نہ کریگا اور تمہیں کیسی کچھ سخت ترین سزائیں دیگا ؟
أَئِفْكًا ءَالِهَةً دُونَ ٱللَّهِ تُرِيدُونَ
A'ifkan aalihatan doonal laahi tureedoon
Is it falsehood [as] gods other than Allah you desire?
کیوں جھوٹ (بنا کر) خدا کے سوا اور معبودوں کے طالب ہو؟
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اب بھی سنبھل جاؤ۔ ابراہیم ؑ بھی نوح کے دین پر تھے، انہی کے طریقے اور چال چلن پر تھے۔ اپنے رب کے پاس سلامت دل لے گئے یعنی توحید والا جو اللہ کو حق جانتا ہو۔ قیامت کو آنے والی مانتا ہو۔ مردوں کو دوبارہ جینے والا سمجھتا ہو۔ شرک وکفر سے بیزار ہو، دوسروں پر لعن طعن کرنے والا نہ ہو۔ خلیل اللہ نے اپنی تمام قوم سے اور اپنے سگے باپ سے صاف فرمایا کہ یہ تم کس کی پوجا پاٹ کررہے ہو ؟ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت چھوڑ دو اپنے ان جھوٹ موٹھ کے معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔ ورنہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا کچھ نہ کریگا اور تمہیں کیسی کچھ سخت ترین سزائیں دیگا ؟
فَمَا ظَنُّكُم بِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
Famaa zannukum bi Rabbil'aalameen
Then what is your thought about the Lord of the worlds?"
بھلا پروردگار عالم کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اب بھی سنبھل جاؤ۔ ابراہیم ؑ بھی نوح کے دین پر تھے، انہی کے طریقے اور چال چلن پر تھے۔ اپنے رب کے پاس سلامت دل لے گئے یعنی توحید والا جو اللہ کو حق جانتا ہو۔ قیامت کو آنے والی مانتا ہو۔ مردوں کو دوبارہ جینے والا سمجھتا ہو۔ شرک وکفر سے بیزار ہو، دوسروں پر لعن طعن کرنے والا نہ ہو۔ خلیل اللہ نے اپنی تمام قوم سے اور اپنے سگے باپ سے صاف فرمایا کہ یہ تم کس کی پوجا پاٹ کررہے ہو ؟ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت چھوڑ دو اپنے ان جھوٹ موٹھ کے معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔ ورنہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا کچھ نہ کریگا اور تمہیں کیسی کچھ سخت ترین سزائیں دیگا ؟
فَنَظَرَ نَظْرَةً فِى ٱلنُّجُومِ
Fanazara nazratan finnujoom
And he cast a look at the stars
تب انہوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔ ایک حدیث میں آیا کہ ابراہیم ؑ نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان (فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ 89) 37۔ الصافات :89) اور ان کا فرمان (قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ 63) 21۔ الأنبیاء :63) اور ایک ان کا حضرت سارہ کو اپنی بہن کہنا۔ تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بےنیاز کردیتی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ حضرت خلیل اللہ ؑ کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہوگیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔ حضرت سعید کا بیان ہے کہ اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرمادیا کہ میں مقیم ہوں۔ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقینا ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جب آپ کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ کو بھی مجبور کرنے لگی آپ ہٹ گئے اور فرما دیا کہ میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں ؟ یہاں آکر خلیل اللہ نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہوجائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ بولتے کیوں نہیں۔ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جاسکے، جیسا کہ سورة انبیاء میں گذر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہوچکی ہے بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہوگئے کہ یہ کیا ہوا ؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کرلیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل ؑ کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کو ستے گئے۔ خلیل اللہ کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو ؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو ؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔ ممکن ہے کہ اس آیت میں ما مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ الذی کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چناچہ امام بخاری ؒ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے۔ پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آکر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چناچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کردیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورة انبیاء میں گذر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
فَقَالَ إِنِّى سَقِيمٌ
Faqaala inee saqeem
And said, "Indeed, I am [about to be] ill."
اور کہا میں تو بیمار ہوں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔ ایک حدیث میں آیا کہ ابراہیم ؑ نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان (فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ 89) 37۔ الصافات :89) اور ان کا فرمان (قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ 63) 21۔ الأنبیاء :63) اور ایک ان کا حضرت سارہ کو اپنی بہن کہنا۔ تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بےنیاز کردیتی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ حضرت خلیل اللہ ؑ کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہوگیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔ حضرت سعید کا بیان ہے کہ اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرمادیا کہ میں مقیم ہوں۔ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقینا ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جب آپ کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ کو بھی مجبور کرنے لگی آپ ہٹ گئے اور فرما دیا کہ میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں ؟ یہاں آکر خلیل اللہ نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہوجائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ بولتے کیوں نہیں۔ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جاسکے، جیسا کہ سورة انبیاء میں گذر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہوچکی ہے بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہوگئے کہ یہ کیا ہوا ؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کرلیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل ؑ کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کو ستے گئے۔ خلیل اللہ کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو ؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو ؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔ ممکن ہے کہ اس آیت میں ما مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ الذی کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چناچہ امام بخاری ؒ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے۔ پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آکر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چناچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کردیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورة انبیاء میں گذر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
فَتَوَلَّوْا۟ عَنْهُ مُدْبِرِينَ
Fatawallaw 'anhu mudbireen
So they turned away from him, departing.
تب وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔ ایک حدیث میں آیا کہ ابراہیم ؑ نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان (فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ 89) 37۔ الصافات :89) اور ان کا فرمان (قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ 63) 21۔ الأنبیاء :63) اور ایک ان کا حضرت سارہ کو اپنی بہن کہنا۔ تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بےنیاز کردیتی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ حضرت خلیل اللہ ؑ کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہوگیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔ حضرت سعید کا بیان ہے کہ اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرمادیا کہ میں مقیم ہوں۔ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقینا ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جب آپ کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ کو بھی مجبور کرنے لگی آپ ہٹ گئے اور فرما دیا کہ میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں ؟ یہاں آکر خلیل اللہ نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہوجائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ بولتے کیوں نہیں۔ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جاسکے، جیسا کہ سورة انبیاء میں گذر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہوچکی ہے بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہوگئے کہ یہ کیا ہوا ؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کرلیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل ؑ کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کو ستے گئے۔ خلیل اللہ کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو ؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو ؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔ ممکن ہے کہ اس آیت میں ما مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ الذی کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چناچہ امام بخاری ؒ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے۔ پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آکر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چناچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کردیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورة انبیاء میں گذر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
فَرَاغَ إِلَىٰٓ ءَالِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ
Faraagha ilaaa aalihatihim faqaala alaa taakuloon
Then he turned to their gods and said, "Do you not eat?
پھر ابراہیم ان کے معبودوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ تم کھاتے کیوں نہیں؟
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔ ایک حدیث میں آیا کہ ابراہیم ؑ نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان (فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ 89) 37۔ الصافات :89) اور ان کا فرمان (قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ 63) 21۔ الأنبیاء :63) اور ایک ان کا حضرت سارہ کو اپنی بہن کہنا۔ تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بےنیاز کردیتی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ حضرت خلیل اللہ ؑ کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہوگیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔ حضرت سعید کا بیان ہے کہ اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرمادیا کہ میں مقیم ہوں۔ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقینا ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جب آپ کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ کو بھی مجبور کرنے لگی آپ ہٹ گئے اور فرما دیا کہ میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں ؟ یہاں آکر خلیل اللہ نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہوجائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ بولتے کیوں نہیں۔ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جاسکے، جیسا کہ سورة انبیاء میں گذر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہوچکی ہے بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہوگئے کہ یہ کیا ہوا ؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کرلیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل ؑ کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کو ستے گئے۔ خلیل اللہ کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو ؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو ؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔ ممکن ہے کہ اس آیت میں ما مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ الذی کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چناچہ امام بخاری ؒ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے۔ پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آکر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چناچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کردیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورة انبیاء میں گذر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
مَا لَكُمْ لَا تَنطِقُونَ
Maa lakum laa tantiqoon
What is [wrong] with you that you do not speak?"
تمہیں کیا ہوا ہے تم بولتے نہیں؟
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔ ایک حدیث میں آیا کہ ابراہیم ؑ نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان (فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ 89) 37۔ الصافات :89) اور ان کا فرمان (قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ 63) 21۔ الأنبیاء :63) اور ایک ان کا حضرت سارہ کو اپنی بہن کہنا۔ تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بےنیاز کردیتی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ حضرت خلیل اللہ ؑ کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہوگیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔ حضرت سعید کا بیان ہے کہ اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرمادیا کہ میں مقیم ہوں۔ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقینا ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جب آپ کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ کو بھی مجبور کرنے لگی آپ ہٹ گئے اور فرما دیا کہ میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں ؟ یہاں آکر خلیل اللہ نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہوجائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ بولتے کیوں نہیں۔ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جاسکے، جیسا کہ سورة انبیاء میں گذر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہوچکی ہے بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہوگئے کہ یہ کیا ہوا ؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کرلیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل ؑ کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کو ستے گئے۔ خلیل اللہ کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو ؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو ؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔ ممکن ہے کہ اس آیت میں ما مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ الذی کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چناچہ امام بخاری ؒ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے۔ پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آکر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چناچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کردیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورة انبیاء میں گذر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًۢا بِٱلْيَمِينِ
Faraagha 'alaihim darbam bilyameen
And he turned upon them a blow with [his] right hand.
پھر ان کو داہنے ہاتھ سے مارنا (اور توڑنا) شروع کیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔ ایک حدیث میں آیا کہ ابراہیم ؑ نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان (فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ 89) 37۔ الصافات :89) اور ان کا فرمان (قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ 63) 21۔ الأنبیاء :63) اور ایک ان کا حضرت سارہ کو اپنی بہن کہنا۔ تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بےنیاز کردیتی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ حضرت خلیل اللہ ؑ کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہوگیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔ حضرت سعید کا بیان ہے کہ اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرمادیا کہ میں مقیم ہوں۔ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقینا ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جب آپ کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ کو بھی مجبور کرنے لگی آپ ہٹ گئے اور فرما دیا کہ میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں ؟ یہاں آکر خلیل اللہ نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہوجائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ بولتے کیوں نہیں۔ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جاسکے، جیسا کہ سورة انبیاء میں گذر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہوچکی ہے بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہوگئے کہ یہ کیا ہوا ؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کرلیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل ؑ کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کو ستے گئے۔ خلیل اللہ کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو ؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو ؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔ ممکن ہے کہ اس آیت میں ما مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ الذی کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چناچہ امام بخاری ؒ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے۔ پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آکر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چناچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کردیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورة انبیاء میں گذر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
فَأَقْبَلُوٓا۟ إِلَيْهِ يَزِفُّونَ
Fa aqbalooo ilaihi yaziffoon
Then the people came toward him, hastening.
تو وہ لوگ ان کے پاس دوڑے ہوئے آئے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔ ایک حدیث میں آیا کہ ابراہیم ؑ نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان (فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ 89) 37۔ الصافات :89) اور ان کا فرمان (قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ 63) 21۔ الأنبیاء :63) اور ایک ان کا حضرت سارہ کو اپنی بہن کہنا۔ تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بےنیاز کردیتی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ حضرت خلیل اللہ ؑ کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہوگیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔ حضرت سعید کا بیان ہے کہ اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرمادیا کہ میں مقیم ہوں۔ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقینا ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جب آپ کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ کو بھی مجبور کرنے لگی آپ ہٹ گئے اور فرما دیا کہ میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں ؟ یہاں آکر خلیل اللہ نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہوجائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ بولتے کیوں نہیں۔ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جاسکے، جیسا کہ سورة انبیاء میں گذر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہوچکی ہے بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہوگئے کہ یہ کیا ہوا ؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کرلیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل ؑ کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کو ستے گئے۔ خلیل اللہ کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو ؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو ؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔ ممکن ہے کہ اس آیت میں ما مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ الذی کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چناچہ امام بخاری ؒ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے۔ پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آکر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چناچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کردیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورة انبیاء میں گذر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ
Qaala ata'budoona maa tanhitoon
He said, "Do you worship that which you [yourselves] carve,
انہوں نے کہا کہ تم ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہو جن کو خود تراشتے ہو؟
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔ ایک حدیث میں آیا کہ ابراہیم ؑ نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان (فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ 89) 37۔ الصافات :89) اور ان کا فرمان (قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ 63) 21۔ الأنبیاء :63) اور ایک ان کا حضرت سارہ کو اپنی بہن کہنا۔ تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بےنیاز کردیتی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ حضرت خلیل اللہ ؑ کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہوگیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔ حضرت سعید کا بیان ہے کہ اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرمادیا کہ میں مقیم ہوں۔ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقینا ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جب آپ کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ کو بھی مجبور کرنے لگی آپ ہٹ گئے اور فرما دیا کہ میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں ؟ یہاں آکر خلیل اللہ نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہوجائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ بولتے کیوں نہیں۔ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جاسکے، جیسا کہ سورة انبیاء میں گذر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہوچکی ہے بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہوگئے کہ یہ کیا ہوا ؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کرلیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل ؑ کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کو ستے گئے۔ خلیل اللہ کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو ؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو ؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔ ممکن ہے کہ اس آیت میں ما مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ الذی کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چناچہ امام بخاری ؒ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے۔ پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آکر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چناچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کردیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورة انبیاء میں گذر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
وَٱللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ
Wallaahu khalaqakum wa maa ta'maloon
While Allah created you and that which you do?"
حالانکہ تم کو اور جو تم بناتے ہو اس کو خدا ہی نے پیدا کیا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔ ایک حدیث میں آیا کہ ابراہیم ؑ نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان (فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ 89) 37۔ الصافات :89) اور ان کا فرمان (قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ 63) 21۔ الأنبیاء :63) اور ایک ان کا حضرت سارہ کو اپنی بہن کہنا۔ تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بےنیاز کردیتی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ حضرت خلیل اللہ ؑ کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہوگیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔ حضرت سعید کا بیان ہے کہ اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرمادیا کہ میں مقیم ہوں۔ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقینا ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جب آپ کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ کو بھی مجبور کرنے لگی آپ ہٹ گئے اور فرما دیا کہ میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں ؟ یہاں آکر خلیل اللہ نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہوجائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ بولتے کیوں نہیں۔ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جاسکے، جیسا کہ سورة انبیاء میں گذر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہوچکی ہے بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہوگئے کہ یہ کیا ہوا ؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کرلیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل ؑ کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کو ستے گئے۔ خلیل اللہ کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو ؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو ؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔ ممکن ہے کہ اس آیت میں ما مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ الذی کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چناچہ امام بخاری ؒ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے۔ پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آکر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چناچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کردیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورة انبیاء میں گذر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
قَالُوا۟ ٱبْنُوا۟ لَهُۥ بُنْيَٰنًا فَأَلْقُوهُ فِى ٱلْجَحِيمِ
Qaalub noo lahoo bun yaanan fa alqoohu fil jaheem
They said, "Construct for him a furnace and throw him into the burning fire."
وہ کہنے لگے کہ اس کے لئے ایک عمارت بناؤ پھر اس کو آگ کے ڈھیر میں ڈال دو
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔ ایک حدیث میں آیا کہ ابراہیم ؑ نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان (فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ 89) 37۔ الصافات :89) اور ان کا فرمان (قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ 63) 21۔ الأنبیاء :63) اور ایک ان کا حضرت سارہ کو اپنی بہن کہنا۔ تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بےنیاز کردیتی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ حضرت خلیل اللہ ؑ کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہوگیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔ حضرت سعید کا بیان ہے کہ اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرمادیا کہ میں مقیم ہوں۔ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقینا ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جب آپ کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ کو بھی مجبور کرنے لگی آپ ہٹ گئے اور فرما دیا کہ میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں ؟ یہاں آکر خلیل اللہ نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہوجائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ بولتے کیوں نہیں۔ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جاسکے، جیسا کہ سورة انبیاء میں گذر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہوچکی ہے بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہوگئے کہ یہ کیا ہوا ؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کرلیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل ؑ کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کو ستے گئے۔ خلیل اللہ کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو ؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو ؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔ ممکن ہے کہ اس آیت میں ما مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ الذی کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چناچہ امام بخاری ؒ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے۔ پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آکر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چناچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کردیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورة انبیاء میں گذر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
فَأَرَادُوا۟ بِهِۦ كَيْدًا فَجَعَلْنَٰهُمُ ٱلْأَسْفَلِينَ
Fa araadoo bihee kaidan faja 'alnaahumul asfaleen
And they intended for him a plan, but We made them the most debased.
غرض انہوں نے ان کے ساتھ ایک چال چلنی چاہی اور ہم نے ان ہی کو زیر کردیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
بت کدہ آذر اور حضرت ابراہیم ؑ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب حضرت ابراہیم ؑ کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ حضرت فتادہ ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔ ایک حدیث میں آیا کہ ابراہیم ؑ نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان (فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ 89) 37۔ الصافات :89) اور ان کا فرمان (قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ 63) 21۔ الأنبیاء :63) اور ایک ان کا حضرت سارہ کو اپنی بہن کہنا۔ تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بےنیاز کردیتی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ حضرت خلیل اللہ ؑ کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہوگیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔ حضرت سعید کا بیان ہے کہ اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرمادیا کہ میں مقیم ہوں۔ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقینا ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جب آپ کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ کو بھی مجبور کرنے لگی آپ ہٹ گئے اور فرما دیا کہ میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں ؟ یہاں آکر خلیل اللہ نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہوجائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ بولتے کیوں نہیں۔ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جاسکے، جیسا کہ سورة انبیاء میں گذر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہوچکی ہے بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہوگئے کہ یہ کیا ہوا ؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کرلیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل ؑ کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کو ستے گئے۔ خلیل اللہ کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو ؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو ؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔ ممکن ہے کہ اس آیت میں ما مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ الذی کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چناچہ امام بخاری ؒ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے۔ پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آکر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چناچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کردیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورة انبیاء میں گذر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
وَقَالَ إِنِّى ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّى سَيَهْدِينِ
Wa qaala innee zaahibun ilaa Rabbee sa yahdeen
And [then] he said, "Indeed, I will go to [where I am ordered by] my Lord; He will guide me.
اور ابراہیم بولے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے رستہ دکھائے گا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت حضرت اسحاق ؑ تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہیں نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو حضرت اسماعیل ؑ سے ہٹاکر حضرت اسحاق کو دے دیا اور بےجاتاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا۔ اور کہا ہماری کتاب میں لفظ وحیدک ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ حضرت اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکہ میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف حضرت اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔ ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق تھے یہاں تک کہ بعض صحابہ سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بےدلیل اپنے ہاں لے لیا دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجیے کہ حضرت اسماعیل کی بشارت کا غلام حلیم کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کرکے پھر نبی صالح حضرت اسحاق کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر غلام علیم فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق کے ساتھ ہی ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) یعنی حضرت ابراہیم کی حیات میں ہی حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب پیدا ہوں گے یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جاچکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کرچکے۔ البتہ حضرت اسماعیل ؑ کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔ اب حضرت اسماعیل بڑے ہوگئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے۔ آپ اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے حضرت ابراہیم عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہوگئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ گویا آپ اپنے پیارے بچے کو ذبح کررہے ہیں انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ پس اللہ کے رسول نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرانہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہوجائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ انشاء اللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کردے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کرکے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہوجاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آجائے اور ہاتھ سست نہ پڑجائے۔ مسند احمد میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن حضرت ابراہیم اس سے آگے بڑھ گئے، پھر حضرت جبرائیل کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں۔ پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کرچکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔ ابن عباس ؓ ہی سے دوسری روایت میں حضرت اسحاق کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اسکی دلیلیں آرہی ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھاپی رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولی پر آکر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آگیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لاکر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ حضرت کعب ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ تو حدیثیں بیان کررہے تھے اور حضرت کعب کتاب کے قصے بیان کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کرکے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے۔ اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا حضور ﷺ پر میرے ماں باپ صدقے جائیں پھر حضرت کعب نے حضرت ابراہیم خلیل ؑ کا قصہ سنایا کہ جب آپ اپنے لڑکے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہوگئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہوجانا چاہیے۔ پہلے تو یہ حضرت سارہ کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں ؟ مائی صاحبہ نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے ؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہا لے جاتے ہیں۔ ؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں ؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو ؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو ؟ آپ نے فرمایا یہ کیوں ؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہوگیا۔ دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے فرمایا کہ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا حضرت اسحاق نے کہا پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہوگی ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کردی تو ان سے فرمایا گیا کہ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا۔ تو حضرت اسحاق نے فرمایا واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند اً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کردئیے ہیں۔ ذبیح اللہ تو حضرت اسماعیل ؑ ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکہ میں ہے اور حضرت اسماعیل یہیں تھے نہ کہ حضرت اسحاق وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ بس ابراہیم تم اپنے خواب کو پورا کرچکے۔ سدی سے روایت ہے کہ جب خلیل اللہ نے ذبیح اللہ کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہوگئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچالیتے ہیں اور چھٹکارا کردیتے ہیں۔ جیسے فرمایا اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کرکے چھوڑتا ہے ہر چیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہوسکتا ہے ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کردیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ ؑ کی تعریف میں قرآن میں ہے ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ژیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ژیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اسکا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو حضرت ابن عباس ؓ نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ حضرت ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ کو بلا کر حضور ﷺ نے فرمایا میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کرلے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے، یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ حضور ﷺ کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ واللہ اعلم۔ " ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے " ابو میسرہ فرماتے ہیں حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ سے فرمایا کیا تو میرے ساتھ کھانا چاتا ہے میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں (عبید بن عمیر) حضرت موسیٰ ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم اسمعیل اور یعقوب کے اللہ کی قسم، تو جواب ملا اس لئے ابراہیم نے تو ہر ہر چیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق ؑ نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لئے سپرد کردیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کردینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی۔ ابن مسعود کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو حضرت یوسف کے تھے جو یعقوب بن اسحاق اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ تھے۔ عکرمہ، ابن عباس، خود عباس، علی سعید بن جبیر، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابو میسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابو برزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد حضرت کعب احبار ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی حضرت عمر ؓ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کردی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چناچہ ایک سند سے یہ مقولہ حضرت ابن عباس کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ واللہ اعلم۔ اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ ابن عباس ؓ یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہودی حضرت اسحاق کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں ابن عمر مجاہد شعبی حسن بصری محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمتہ اللہ کے سامنے جب محمد بن قرظی نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ کو حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہوگا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے ؟ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی ہیں پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہوگئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ حضرت اسماعیل ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور حضرت اسحاق کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ حضرت اسماعیل حضرت اسحاق دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل ہی تھے۔ حضرت علی حضرت ابن عمر ابو الطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابو جعفر محمد بن علی ابو صالح ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام بغوی نے اور بھی صحابہ اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ شام میں امیر معاویہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا سنو ہم آنحضرت ﷺ کے پاس تھے جب ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول ﷺ مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ ہنس دیئے۔ ایک تو ذبح اللہ حضور ﷺ کے والد عبداللہ تھے دوسرے حضرت اسمعیل جن کی نسل میں سے آپ ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہوگیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہوگیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو حضور ﷺ کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کردیں چناچہ وہ ذبح کردیئے گئے اور اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی امام ابن جریر نے حضرت اسحاق کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت اسحاق ہیں قرآن میں اور جگہ ہے وبشر و بغلام علیم اور حضرت یعقوب کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں اور بعض لوگوں سے حضرت اسحاق کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں حضرت اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ واللہ اعلم۔ پہلے ذبیح اللہ حضرت اسمعیل ؑ کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی حضرت اسحاق کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ نبیاً حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہوگا۔ ابن عباس فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق تھے اور یہاں نبوت حضرت اسحاق کو بشارت ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ کے بارے میں فرمان ہے کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنادیا۔ حالانکہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔ حضرت قتادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ان پر اور اسحاق پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی۔ جیسے حضرت نوح ؑ سے فرمان ہوا تھا کہ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے۔
رَبِّ هَبْ لِى مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ
Rabbi hab lee minas saaliheen
My Lord, grant me [a child] from among the righteous."
اے پروردگار مجھے (اولاد) عطا فرما (جو) سعادت مندوں میں سے (ہو)
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت حضرت اسحاق ؑ تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہیں نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو حضرت اسماعیل ؑ سے ہٹاکر حضرت اسحاق کو دے دیا اور بےجاتاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا۔ اور کہا ہماری کتاب میں لفظ وحیدک ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ حضرت اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکہ میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف حضرت اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔ ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق تھے یہاں تک کہ بعض صحابہ سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بےدلیل اپنے ہاں لے لیا دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجیے کہ حضرت اسماعیل کی بشارت کا غلام حلیم کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کرکے پھر نبی صالح حضرت اسحاق کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر غلام علیم فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق کے ساتھ ہی ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) یعنی حضرت ابراہیم کی حیات میں ہی حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب پیدا ہوں گے یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جاچکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کرچکے۔ البتہ حضرت اسماعیل ؑ کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔ اب حضرت اسماعیل بڑے ہوگئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے۔ آپ اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے حضرت ابراہیم عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہوگئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ گویا آپ اپنے پیارے بچے کو ذبح کررہے ہیں انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ پس اللہ کے رسول نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرانہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہوجائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ انشاء اللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کردے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کرکے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہوجاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آجائے اور ہاتھ سست نہ پڑجائے۔ مسند احمد میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن حضرت ابراہیم اس سے آگے بڑھ گئے، پھر حضرت جبرائیل کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں۔ پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کرچکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔ ابن عباس ؓ ہی سے دوسری روایت میں حضرت اسحاق کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اسکی دلیلیں آرہی ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھاپی رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولی پر آکر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آگیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لاکر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ حضرت کعب ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ تو حدیثیں بیان کررہے تھے اور حضرت کعب کتاب کے قصے بیان کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کرکے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے۔ اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا حضور ﷺ پر میرے ماں باپ صدقے جائیں پھر حضرت کعب نے حضرت ابراہیم خلیل ؑ کا قصہ سنایا کہ جب آپ اپنے لڑکے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہوگئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہوجانا چاہیے۔ پہلے تو یہ حضرت سارہ کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں ؟ مائی صاحبہ نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے ؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہا لے جاتے ہیں۔ ؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں ؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو ؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو ؟ آپ نے فرمایا یہ کیوں ؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہوگیا۔ دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے فرمایا کہ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا حضرت اسحاق نے کہا پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہوگی ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کردی تو ان سے فرمایا گیا کہ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا۔ تو حضرت اسحاق نے فرمایا واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند اً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کردئیے ہیں۔ ذبیح اللہ تو حضرت اسماعیل ؑ ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکہ میں ہے اور حضرت اسماعیل یہیں تھے نہ کہ حضرت اسحاق وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ بس ابراہیم تم اپنے خواب کو پورا کرچکے۔ سدی سے روایت ہے کہ جب خلیل اللہ نے ذبیح اللہ کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہوگئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچالیتے ہیں اور چھٹکارا کردیتے ہیں۔ جیسے فرمایا اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کرکے چھوڑتا ہے ہر چیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہوسکتا ہے ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کردیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ ؑ کی تعریف میں قرآن میں ہے ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ژیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ژیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اسکا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو حضرت ابن عباس ؓ نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ حضرت ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ کو بلا کر حضور ﷺ نے فرمایا میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کرلے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے، یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ حضور ﷺ کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ واللہ اعلم۔ " ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے " ابو میسرہ فرماتے ہیں حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ سے فرمایا کیا تو میرے ساتھ کھانا چاتا ہے میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں (عبید بن عمیر) حضرت موسیٰ ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم اسمعیل اور یعقوب کے اللہ کی قسم، تو جواب ملا اس لئے ابراہیم نے تو ہر ہر چیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق ؑ نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لئے سپرد کردیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کردینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی۔ ابن مسعود کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو حضرت یوسف کے تھے جو یعقوب بن اسحاق اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ تھے۔ عکرمہ، ابن عباس، خود عباس، علی سعید بن جبیر، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابو میسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابو برزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد حضرت کعب احبار ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی حضرت عمر ؓ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کردی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چناچہ ایک سند سے یہ مقولہ حضرت ابن عباس کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ واللہ اعلم۔ اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ ابن عباس ؓ یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہودی حضرت اسحاق کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں ابن عمر مجاہد شعبی حسن بصری محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمتہ اللہ کے سامنے جب محمد بن قرظی نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ کو حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہوگا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے ؟ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی ہیں پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہوگئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ حضرت اسماعیل ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور حضرت اسحاق کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ حضرت اسماعیل حضرت اسحاق دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل ہی تھے۔ حضرت علی حضرت ابن عمر ابو الطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابو جعفر محمد بن علی ابو صالح ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام بغوی نے اور بھی صحابہ اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ شام میں امیر معاویہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا سنو ہم آنحضرت ﷺ کے پاس تھے جب ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول ﷺ مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ ہنس دیئے۔ ایک تو ذبح اللہ حضور ﷺ کے والد عبداللہ تھے دوسرے حضرت اسمعیل جن کی نسل میں سے آپ ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہوگیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہوگیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو حضور ﷺ کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کردیں چناچہ وہ ذبح کردیئے گئے اور اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی امام ابن جریر نے حضرت اسحاق کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت اسحاق ہیں قرآن میں اور جگہ ہے وبشر و بغلام علیم اور حضرت یعقوب کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں اور بعض لوگوں سے حضرت اسحاق کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں حضرت اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ واللہ اعلم۔ پہلے ذبیح اللہ حضرت اسمعیل ؑ کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی حضرت اسحاق کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ نبیاً حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہوگا۔ ابن عباس فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق تھے اور یہاں نبوت حضرت اسحاق کو بشارت ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ کے بارے میں فرمان ہے کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنادیا۔ حالانکہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔ حضرت قتادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ان پر اور اسحاق پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی۔ جیسے حضرت نوح ؑ سے فرمان ہوا تھا کہ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے۔
فَبَشَّرْنَٰهُ بِغُلَٰمٍ حَلِيمٍ
Fabashsharnaahu bighulaamin haleem
So We gave him good tidings of a forbearing boy.
تو ہم نے ان کو ایک نرم دل لڑکے کی خوشخبری دی
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت حضرت اسحاق ؑ تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہیں نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو حضرت اسماعیل ؑ سے ہٹاکر حضرت اسحاق کو دے دیا اور بےجاتاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا۔ اور کہا ہماری کتاب میں لفظ وحیدک ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ حضرت اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکہ میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف حضرت اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔ ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق تھے یہاں تک کہ بعض صحابہ سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بےدلیل اپنے ہاں لے لیا دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجیے کہ حضرت اسماعیل کی بشارت کا غلام حلیم کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کرکے پھر نبی صالح حضرت اسحاق کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر غلام علیم فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق کے ساتھ ہی ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) یعنی حضرت ابراہیم کی حیات میں ہی حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب پیدا ہوں گے یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جاچکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کرچکے۔ البتہ حضرت اسماعیل ؑ کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔ اب حضرت اسماعیل بڑے ہوگئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے۔ آپ اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے حضرت ابراہیم عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہوگئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ گویا آپ اپنے پیارے بچے کو ذبح کررہے ہیں انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ پس اللہ کے رسول نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرانہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہوجائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ انشاء اللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کردے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کرکے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہوجاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آجائے اور ہاتھ سست نہ پڑجائے۔ مسند احمد میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن حضرت ابراہیم اس سے آگے بڑھ گئے، پھر حضرت جبرائیل کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں۔ پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کرچکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔ ابن عباس ؓ ہی سے دوسری روایت میں حضرت اسحاق کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اسکی دلیلیں آرہی ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھاپی رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولی پر آکر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آگیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لاکر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ حضرت کعب ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ تو حدیثیں بیان کررہے تھے اور حضرت کعب کتاب کے قصے بیان کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کرکے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے۔ اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا حضور ﷺ پر میرے ماں باپ صدقے جائیں پھر حضرت کعب نے حضرت ابراہیم خلیل ؑ کا قصہ سنایا کہ جب آپ اپنے لڑکے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہوگئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہوجانا چاہیے۔ پہلے تو یہ حضرت سارہ کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں ؟ مائی صاحبہ نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے ؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہا لے جاتے ہیں۔ ؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں ؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو ؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو ؟ آپ نے فرمایا یہ کیوں ؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہوگیا۔ دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے فرمایا کہ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا حضرت اسحاق نے کہا پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہوگی ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کردی تو ان سے فرمایا گیا کہ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا۔ تو حضرت اسحاق نے فرمایا واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند اً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کردئیے ہیں۔ ذبیح اللہ تو حضرت اسماعیل ؑ ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکہ میں ہے اور حضرت اسماعیل یہیں تھے نہ کہ حضرت اسحاق وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ بس ابراہیم تم اپنے خواب کو پورا کرچکے۔ سدی سے روایت ہے کہ جب خلیل اللہ نے ذبیح اللہ کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہوگئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچالیتے ہیں اور چھٹکارا کردیتے ہیں۔ جیسے فرمایا اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کرکے چھوڑتا ہے ہر چیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہوسکتا ہے ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کردیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ ؑ کی تعریف میں قرآن میں ہے ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ژیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ژیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اسکا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو حضرت ابن عباس ؓ نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ حضرت ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ کو بلا کر حضور ﷺ نے فرمایا میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کرلے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے، یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ حضور ﷺ کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ واللہ اعلم۔ " ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے " ابو میسرہ فرماتے ہیں حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ سے فرمایا کیا تو میرے ساتھ کھانا چاتا ہے میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں (عبید بن عمیر) حضرت موسیٰ ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم اسمعیل اور یعقوب کے اللہ کی قسم، تو جواب ملا اس لئے ابراہیم نے تو ہر ہر چیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق ؑ نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لئے سپرد کردیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کردینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی۔ ابن مسعود کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو حضرت یوسف کے تھے جو یعقوب بن اسحاق اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ تھے۔ عکرمہ، ابن عباس، خود عباس، علی سعید بن جبیر، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابو میسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابو برزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد حضرت کعب احبار ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی حضرت عمر ؓ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کردی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چناچہ ایک سند سے یہ مقولہ حضرت ابن عباس کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ واللہ اعلم۔ اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ ابن عباس ؓ یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہودی حضرت اسحاق کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں ابن عمر مجاہد شعبی حسن بصری محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمتہ اللہ کے سامنے جب محمد بن قرظی نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ کو حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہوگا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے ؟ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی ہیں پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہوگئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ حضرت اسماعیل ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور حضرت اسحاق کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ حضرت اسماعیل حضرت اسحاق دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل ہی تھے۔ حضرت علی حضرت ابن عمر ابو الطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابو جعفر محمد بن علی ابو صالح ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام بغوی نے اور بھی صحابہ اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ شام میں امیر معاویہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا سنو ہم آنحضرت ﷺ کے پاس تھے جب ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول ﷺ مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ ہنس دیئے۔ ایک تو ذبح اللہ حضور ﷺ کے والد عبداللہ تھے دوسرے حضرت اسمعیل جن کی نسل میں سے آپ ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہوگیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہوگیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو حضور ﷺ کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کردیں چناچہ وہ ذبح کردیئے گئے اور اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی امام ابن جریر نے حضرت اسحاق کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت اسحاق ہیں قرآن میں اور جگہ ہے وبشر و بغلام علیم اور حضرت یعقوب کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں اور بعض لوگوں سے حضرت اسحاق کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں حضرت اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ واللہ اعلم۔ پہلے ذبیح اللہ حضرت اسمعیل ؑ کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی حضرت اسحاق کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ نبیاً حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہوگا۔ ابن عباس فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق تھے اور یہاں نبوت حضرت اسحاق کو بشارت ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ کے بارے میں فرمان ہے کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنادیا۔ حالانکہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔ حضرت قتادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ان پر اور اسحاق پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی۔ جیسے حضرت نوح ؑ سے فرمان ہوا تھا کہ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے۔
فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ ٱلسَّعْىَ قَالَ يَٰبُنَىَّ إِنِّىٓ أَرَىٰ فِى ٱلْمَنَامِ أَنِّىٓ أَذْبَحُكَ فَٱنظُرْ مَاذَا تَرَىٰ قَالَ يَٰٓأَبَتِ ٱفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّٰبِرِينَ
Falamma balagha ma'a hus sa'ya qaala yaa buniya inneee araa fil manaami anneee azbahuka fanzur maazaa taraa; qaala yaaa abatif 'al maa tu'maru satajidunee in shaaa'allaahu minas saabireen
And when he reached with him [the age of] exertion, he said, "O my son, indeed I have seen in a dream that I [must] sacrifice you, so see what you think." He said, "O my father, do as you are commanded. You will find me, if Allah wills, of the steadfast."
جب وہ ان کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچا تو ابراہیم نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ (گویا) تم کو ذبح کر رہا ہوں تو تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابا جو آپ کو حکم ہوا ہے وہی کیجیئے خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پایئے گا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت حضرت اسحاق ؑ تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہیں نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو حضرت اسماعیل ؑ سے ہٹاکر حضرت اسحاق کو دے دیا اور بےجاتاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا۔ اور کہا ہماری کتاب میں لفظ وحیدک ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ حضرت اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکہ میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف حضرت اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔ ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق تھے یہاں تک کہ بعض صحابہ سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بےدلیل اپنے ہاں لے لیا دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجیے کہ حضرت اسماعیل کی بشارت کا غلام حلیم کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کرکے پھر نبی صالح حضرت اسحاق کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر غلام علیم فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق کے ساتھ ہی ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) یعنی حضرت ابراہیم کی حیات میں ہی حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب پیدا ہوں گے یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جاچکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کرچکے۔ البتہ حضرت اسماعیل ؑ کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔ اب حضرت اسماعیل بڑے ہوگئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے۔ آپ اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے حضرت ابراہیم عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہوگئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ گویا آپ اپنے پیارے بچے کو ذبح کررہے ہیں انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ پس اللہ کے رسول نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرانہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہوجائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ انشاء اللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کردے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کرکے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہوجاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آجائے اور ہاتھ سست نہ پڑجائے۔ مسند احمد میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن حضرت ابراہیم اس سے آگے بڑھ گئے، پھر حضرت جبرائیل کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں۔ پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کرچکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔ ابن عباس ؓ ہی سے دوسری روایت میں حضرت اسحاق کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اسکی دلیلیں آرہی ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھاپی رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولی پر آکر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آگیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لاکر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ حضرت کعب ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ تو حدیثیں بیان کررہے تھے اور حضرت کعب کتاب کے قصے بیان کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کرکے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے۔ اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا حضور ﷺ پر میرے ماں باپ صدقے جائیں پھر حضرت کعب نے حضرت ابراہیم خلیل ؑ کا قصہ سنایا کہ جب آپ اپنے لڑکے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہوگئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہوجانا چاہیے۔ پہلے تو یہ حضرت سارہ کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں ؟ مائی صاحبہ نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے ؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہا لے جاتے ہیں۔ ؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں ؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو ؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو ؟ آپ نے فرمایا یہ کیوں ؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہوگیا۔ دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے فرمایا کہ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا حضرت اسحاق نے کہا پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہوگی ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کردی تو ان سے فرمایا گیا کہ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا۔ تو حضرت اسحاق نے فرمایا واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند اً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کردئیے ہیں۔ ذبیح اللہ تو حضرت اسماعیل ؑ ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکہ میں ہے اور حضرت اسماعیل یہیں تھے نہ کہ حضرت اسحاق وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ بس ابراہیم تم اپنے خواب کو پورا کرچکے۔ سدی سے روایت ہے کہ جب خلیل اللہ نے ذبیح اللہ کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہوگئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچالیتے ہیں اور چھٹکارا کردیتے ہیں۔ جیسے فرمایا اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کرکے چھوڑتا ہے ہر چیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہوسکتا ہے ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کردیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ ؑ کی تعریف میں قرآن میں ہے ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ژیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ژیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اسکا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو حضرت ابن عباس ؓ نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ حضرت ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ کو بلا کر حضور ﷺ نے فرمایا میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کرلے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے، یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ حضور ﷺ کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ واللہ اعلم۔ " ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے " ابو میسرہ فرماتے ہیں حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ سے فرمایا کیا تو میرے ساتھ کھانا چاتا ہے میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں (عبید بن عمیر) حضرت موسیٰ ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم اسمعیل اور یعقوب کے اللہ کی قسم، تو جواب ملا اس لئے ابراہیم نے تو ہر ہر چیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق ؑ نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لئے سپرد کردیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کردینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی۔ ابن مسعود کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو حضرت یوسف کے تھے جو یعقوب بن اسحاق اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ تھے۔ عکرمہ، ابن عباس، خود عباس، علی سعید بن جبیر، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابو میسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابو برزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد حضرت کعب احبار ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی حضرت عمر ؓ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کردی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چناچہ ایک سند سے یہ مقولہ حضرت ابن عباس کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ واللہ اعلم۔ اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ ابن عباس ؓ یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہودی حضرت اسحاق کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں ابن عمر مجاہد شعبی حسن بصری محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمتہ اللہ کے سامنے جب محمد بن قرظی نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ کو حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہوگا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے ؟ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی ہیں پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہوگئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ حضرت اسماعیل ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور حضرت اسحاق کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ حضرت اسماعیل حضرت اسحاق دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل ہی تھے۔ حضرت علی حضرت ابن عمر ابو الطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابو جعفر محمد بن علی ابو صالح ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام بغوی نے اور بھی صحابہ اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ شام میں امیر معاویہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا سنو ہم آنحضرت ﷺ کے پاس تھے جب ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول ﷺ مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ ہنس دیئے۔ ایک تو ذبح اللہ حضور ﷺ کے والد عبداللہ تھے دوسرے حضرت اسمعیل جن کی نسل میں سے آپ ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہوگیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہوگیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو حضور ﷺ کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کردیں چناچہ وہ ذبح کردیئے گئے اور اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی امام ابن جریر نے حضرت اسحاق کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت اسحاق ہیں قرآن میں اور جگہ ہے وبشر و بغلام علیم اور حضرت یعقوب کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں اور بعض لوگوں سے حضرت اسحاق کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں حضرت اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ واللہ اعلم۔ پہلے ذبیح اللہ حضرت اسمعیل ؑ کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی حضرت اسحاق کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ نبیاً حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہوگا۔ ابن عباس فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق تھے اور یہاں نبوت حضرت اسحاق کو بشارت ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ کے بارے میں فرمان ہے کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنادیا۔ حالانکہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔ حضرت قتادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ان پر اور اسحاق پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی۔ جیسے حضرت نوح ؑ سے فرمان ہوا تھا کہ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے۔
فَلَمَّآ أَسْلَمَا وَتَلَّهُۥ لِلْجَبِينِ
Falammaaa aslamaa wa tallahoo liljabeen
And when they had both submitted and he put him down upon his forehead,
جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت حضرت اسحاق ؑ تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہیں نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو حضرت اسماعیل ؑ سے ہٹاکر حضرت اسحاق کو دے دیا اور بےجاتاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا۔ اور کہا ہماری کتاب میں لفظ وحیدک ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ حضرت اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکہ میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف حضرت اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔ ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق تھے یہاں تک کہ بعض صحابہ سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بےدلیل اپنے ہاں لے لیا دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجیے کہ حضرت اسماعیل کی بشارت کا غلام حلیم کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کرکے پھر نبی صالح حضرت اسحاق کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر غلام علیم فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق کے ساتھ ہی ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) یعنی حضرت ابراہیم کی حیات میں ہی حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب پیدا ہوں گے یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جاچکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کرچکے۔ البتہ حضرت اسماعیل ؑ کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔ اب حضرت اسماعیل بڑے ہوگئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے۔ آپ اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے حضرت ابراہیم عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہوگئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ گویا آپ اپنے پیارے بچے کو ذبح کررہے ہیں انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ پس اللہ کے رسول نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرانہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہوجائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ انشاء اللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کردے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کرکے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہوجاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آجائے اور ہاتھ سست نہ پڑجائے۔ مسند احمد میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن حضرت ابراہیم اس سے آگے بڑھ گئے، پھر حضرت جبرائیل کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں۔ پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کرچکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔ ابن عباس ؓ ہی سے دوسری روایت میں حضرت اسحاق کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اسکی دلیلیں آرہی ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھاپی رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولی پر آکر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آگیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لاکر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ حضرت کعب ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ تو حدیثیں بیان کررہے تھے اور حضرت کعب کتاب کے قصے بیان کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کرکے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے۔ اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا حضور ﷺ پر میرے ماں باپ صدقے جائیں پھر حضرت کعب نے حضرت ابراہیم خلیل ؑ کا قصہ سنایا کہ جب آپ اپنے لڑکے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہوگئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہوجانا چاہیے۔ پہلے تو یہ حضرت سارہ کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں ؟ مائی صاحبہ نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے ؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہا لے جاتے ہیں۔ ؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں ؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو ؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو ؟ آپ نے فرمایا یہ کیوں ؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہوگیا۔ دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے فرمایا کہ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا حضرت اسحاق نے کہا پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہوگی ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کردی تو ان سے فرمایا گیا کہ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا۔ تو حضرت اسحاق نے فرمایا واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند اً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کردئیے ہیں۔ ذبیح اللہ تو حضرت اسماعیل ؑ ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکہ میں ہے اور حضرت اسماعیل یہیں تھے نہ کہ حضرت اسحاق وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ بس ابراہیم تم اپنے خواب کو پورا کرچکے۔ سدی سے روایت ہے کہ جب خلیل اللہ نے ذبیح اللہ کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہوگئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچالیتے ہیں اور چھٹکارا کردیتے ہیں۔ جیسے فرمایا اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کرکے چھوڑتا ہے ہر چیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہوسکتا ہے ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کردیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ ؑ کی تعریف میں قرآن میں ہے ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ژیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ژیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اسکا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو حضرت ابن عباس ؓ نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ حضرت ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ کو بلا کر حضور ﷺ نے فرمایا میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کرلے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے، یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ حضور ﷺ کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ واللہ اعلم۔ " ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے " ابو میسرہ فرماتے ہیں حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ سے فرمایا کیا تو میرے ساتھ کھانا چاتا ہے میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں (عبید بن عمیر) حضرت موسیٰ ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم اسمعیل اور یعقوب کے اللہ کی قسم، تو جواب ملا اس لئے ابراہیم نے تو ہر ہر چیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق ؑ نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لئے سپرد کردیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کردینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی۔ ابن مسعود کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو حضرت یوسف کے تھے جو یعقوب بن اسحاق اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ تھے۔ عکرمہ، ابن عباس، خود عباس، علی سعید بن جبیر، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابو میسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابو برزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد حضرت کعب احبار ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی حضرت عمر ؓ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کردی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چناچہ ایک سند سے یہ مقولہ حضرت ابن عباس کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ واللہ اعلم۔ اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ ابن عباس ؓ یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہودی حضرت اسحاق کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں ابن عمر مجاہد شعبی حسن بصری محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمتہ اللہ کے سامنے جب محمد بن قرظی نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ کو حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہوگا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے ؟ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی ہیں پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہوگئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ حضرت اسماعیل ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور حضرت اسحاق کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ حضرت اسماعیل حضرت اسحاق دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل ہی تھے۔ حضرت علی حضرت ابن عمر ابو الطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابو جعفر محمد بن علی ابو صالح ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام بغوی نے اور بھی صحابہ اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ شام میں امیر معاویہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا سنو ہم آنحضرت ﷺ کے پاس تھے جب ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول ﷺ مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ ہنس دیئے۔ ایک تو ذبح اللہ حضور ﷺ کے والد عبداللہ تھے دوسرے حضرت اسمعیل جن کی نسل میں سے آپ ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہوگیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہوگیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو حضور ﷺ کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کردیں چناچہ وہ ذبح کردیئے گئے اور اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی امام ابن جریر نے حضرت اسحاق کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت اسحاق ہیں قرآن میں اور جگہ ہے وبشر و بغلام علیم اور حضرت یعقوب کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں اور بعض لوگوں سے حضرت اسحاق کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں حضرت اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ واللہ اعلم۔ پہلے ذبیح اللہ حضرت اسمعیل ؑ کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی حضرت اسحاق کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ نبیاً حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہوگا۔ ابن عباس فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق تھے اور یہاں نبوت حضرت اسحاق کو بشارت ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ کے بارے میں فرمان ہے کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنادیا۔ حالانکہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔ حضرت قتادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ان پر اور اسحاق پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی۔ جیسے حضرت نوح ؑ سے فرمان ہوا تھا کہ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے۔
وَنَٰدَيْنَٰهُ أَن يَٰٓإِبْرَٰهِيمُ
Wa naadainaahu ai yaaaa Ibraheem
We called to him, "O Abraham,
تو ہم نے ان کو پکارا کہ اے ابراہیم
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت حضرت اسحاق ؑ تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہیں نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو حضرت اسماعیل ؑ سے ہٹاکر حضرت اسحاق کو دے دیا اور بےجاتاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا۔ اور کہا ہماری کتاب میں لفظ وحیدک ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ حضرت اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکہ میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف حضرت اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔ ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق تھے یہاں تک کہ بعض صحابہ سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بےدلیل اپنے ہاں لے لیا دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجیے کہ حضرت اسماعیل کی بشارت کا غلام حلیم کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کرکے پھر نبی صالح حضرت اسحاق کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر غلام علیم فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق کے ساتھ ہی ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) یعنی حضرت ابراہیم کی حیات میں ہی حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب پیدا ہوں گے یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جاچکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کرچکے۔ البتہ حضرت اسماعیل ؑ کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔ اب حضرت اسماعیل بڑے ہوگئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے۔ آپ اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے حضرت ابراہیم عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہوگئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ گویا آپ اپنے پیارے بچے کو ذبح کررہے ہیں انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ پس اللہ کے رسول نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرانہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہوجائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ انشاء اللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کردے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کرکے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہوجاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آجائے اور ہاتھ سست نہ پڑجائے۔ مسند احمد میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن حضرت ابراہیم اس سے آگے بڑھ گئے، پھر حضرت جبرائیل کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں۔ پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کرچکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔ ابن عباس ؓ ہی سے دوسری روایت میں حضرت اسحاق کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اسکی دلیلیں آرہی ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھاپی رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولی پر آکر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آگیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لاکر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ حضرت کعب ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ تو حدیثیں بیان کررہے تھے اور حضرت کعب کتاب کے قصے بیان کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کرکے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے۔ اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا حضور ﷺ پر میرے ماں باپ صدقے جائیں پھر حضرت کعب نے حضرت ابراہیم خلیل ؑ کا قصہ سنایا کہ جب آپ اپنے لڑکے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہوگئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہوجانا چاہیے۔ پہلے تو یہ حضرت سارہ کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں ؟ مائی صاحبہ نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے ؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہا لے جاتے ہیں۔ ؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں ؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو ؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو ؟ آپ نے فرمایا یہ کیوں ؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہوگیا۔ دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے فرمایا کہ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا حضرت اسحاق نے کہا پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہوگی ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کردی تو ان سے فرمایا گیا کہ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا۔ تو حضرت اسحاق نے فرمایا واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند اً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کردئیے ہیں۔ ذبیح اللہ تو حضرت اسماعیل ؑ ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکہ میں ہے اور حضرت اسماعیل یہیں تھے نہ کہ حضرت اسحاق وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ بس ابراہیم تم اپنے خواب کو پورا کرچکے۔ سدی سے روایت ہے کہ جب خلیل اللہ نے ذبیح اللہ کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہوگئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچالیتے ہیں اور چھٹکارا کردیتے ہیں۔ جیسے فرمایا اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کرکے چھوڑتا ہے ہر چیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہوسکتا ہے ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کردیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ ؑ کی تعریف میں قرآن میں ہے ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ژیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ژیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اسکا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو حضرت ابن عباس ؓ نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ حضرت ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ کو بلا کر حضور ﷺ نے فرمایا میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کرلے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے، یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ حضور ﷺ کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ واللہ اعلم۔ " ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے " ابو میسرہ فرماتے ہیں حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ سے فرمایا کیا تو میرے ساتھ کھانا چاتا ہے میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں (عبید بن عمیر) حضرت موسیٰ ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم اسمعیل اور یعقوب کے اللہ کی قسم، تو جواب ملا اس لئے ابراہیم نے تو ہر ہر چیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق ؑ نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لئے سپرد کردیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کردینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی۔ ابن مسعود کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو حضرت یوسف کے تھے جو یعقوب بن اسحاق اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ تھے۔ عکرمہ، ابن عباس، خود عباس، علی سعید بن جبیر، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابو میسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابو برزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد حضرت کعب احبار ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی حضرت عمر ؓ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کردی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چناچہ ایک سند سے یہ مقولہ حضرت ابن عباس کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ واللہ اعلم۔ اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ ابن عباس ؓ یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہودی حضرت اسحاق کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں ابن عمر مجاہد شعبی حسن بصری محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمتہ اللہ کے سامنے جب محمد بن قرظی نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ کو حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہوگا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے ؟ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی ہیں پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہوگئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ حضرت اسماعیل ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور حضرت اسحاق کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ حضرت اسماعیل حضرت اسحاق دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل ہی تھے۔ حضرت علی حضرت ابن عمر ابو الطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابو جعفر محمد بن علی ابو صالح ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام بغوی نے اور بھی صحابہ اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ شام میں امیر معاویہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا سنو ہم آنحضرت ﷺ کے پاس تھے جب ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول ﷺ مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ ہنس دیئے۔ ایک تو ذبح اللہ حضور ﷺ کے والد عبداللہ تھے دوسرے حضرت اسمعیل جن کی نسل میں سے آپ ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہوگیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہوگیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو حضور ﷺ کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کردیں چناچہ وہ ذبح کردیئے گئے اور اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی امام ابن جریر نے حضرت اسحاق کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت اسحاق ہیں قرآن میں اور جگہ ہے وبشر و بغلام علیم اور حضرت یعقوب کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں اور بعض لوگوں سے حضرت اسحاق کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں حضرت اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ واللہ اعلم۔ پہلے ذبیح اللہ حضرت اسمعیل ؑ کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی حضرت اسحاق کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ نبیاً حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہوگا۔ ابن عباس فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق تھے اور یہاں نبوت حضرت اسحاق کو بشارت ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ کے بارے میں فرمان ہے کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنادیا۔ حالانکہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔ حضرت قتادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ان پر اور اسحاق پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی۔ جیسے حضرت نوح ؑ سے فرمان ہوا تھا کہ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے۔
قَدْ صَدَّقْتَ ٱلرُّءْيَآ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ
Qad saddaqtar ru'yaa; innaa kazaalika najzil muhsineen
You have fulfilled the vision." Indeed, We thus reward the doers of good.
تم نے خواب کو سچا کر دکھایا۔ ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت حضرت اسحاق ؑ تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہیں نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو حضرت اسماعیل ؑ سے ہٹاکر حضرت اسحاق کو دے دیا اور بےجاتاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا۔ اور کہا ہماری کتاب میں لفظ وحیدک ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ حضرت اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکہ میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف حضرت اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔ ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق تھے یہاں تک کہ بعض صحابہ سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بےدلیل اپنے ہاں لے لیا دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجیے کہ حضرت اسماعیل کی بشارت کا غلام حلیم کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کرکے پھر نبی صالح حضرت اسحاق کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر غلام علیم فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق کے ساتھ ہی ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) یعنی حضرت ابراہیم کی حیات میں ہی حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب پیدا ہوں گے یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جاچکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کرچکے۔ البتہ حضرت اسماعیل ؑ کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔ اب حضرت اسماعیل بڑے ہوگئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے۔ آپ اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے حضرت ابراہیم عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہوگئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ گویا آپ اپنے پیارے بچے کو ذبح کررہے ہیں انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ پس اللہ کے رسول نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرانہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہوجائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ انشاء اللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کردے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کرکے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہوجاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آجائے اور ہاتھ سست نہ پڑجائے۔ مسند احمد میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن حضرت ابراہیم اس سے آگے بڑھ گئے، پھر حضرت جبرائیل کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں۔ پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کرچکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔ ابن عباس ؓ ہی سے دوسری روایت میں حضرت اسحاق کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اسکی دلیلیں آرہی ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھاپی رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولی پر آکر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آگیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لاکر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ حضرت کعب ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ تو حدیثیں بیان کررہے تھے اور حضرت کعب کتاب کے قصے بیان کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کرکے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے۔ اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا حضور ﷺ پر میرے ماں باپ صدقے جائیں پھر حضرت کعب نے حضرت ابراہیم خلیل ؑ کا قصہ سنایا کہ جب آپ اپنے لڑکے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہوگئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہوجانا چاہیے۔ پہلے تو یہ حضرت سارہ کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں ؟ مائی صاحبہ نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے ؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہا لے جاتے ہیں۔ ؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں ؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو ؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو ؟ آپ نے فرمایا یہ کیوں ؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہوگیا۔ دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے فرمایا کہ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا حضرت اسحاق نے کہا پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہوگی ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کردی تو ان سے فرمایا گیا کہ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا۔ تو حضرت اسحاق نے فرمایا واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند اً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کردئیے ہیں۔ ذبیح اللہ تو حضرت اسماعیل ؑ ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکہ میں ہے اور حضرت اسماعیل یہیں تھے نہ کہ حضرت اسحاق وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ بس ابراہیم تم اپنے خواب کو پورا کرچکے۔ سدی سے روایت ہے کہ جب خلیل اللہ نے ذبیح اللہ کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہوگئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچالیتے ہیں اور چھٹکارا کردیتے ہیں۔ جیسے فرمایا اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کرکے چھوڑتا ہے ہر چیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہوسکتا ہے ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کردیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ ؑ کی تعریف میں قرآن میں ہے ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ژیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ژیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اسکا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو حضرت ابن عباس ؓ نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ حضرت ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ کو بلا کر حضور ﷺ نے فرمایا میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کرلے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے، یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ حضور ﷺ کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ واللہ اعلم۔ " ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے " ابو میسرہ فرماتے ہیں حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ سے فرمایا کیا تو میرے ساتھ کھانا چاتا ہے میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں (عبید بن عمیر) حضرت موسیٰ ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم اسمعیل اور یعقوب کے اللہ کی قسم، تو جواب ملا اس لئے ابراہیم نے تو ہر ہر چیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق ؑ نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لئے سپرد کردیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کردینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی۔ ابن مسعود کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو حضرت یوسف کے تھے جو یعقوب بن اسحاق اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ تھے۔ عکرمہ، ابن عباس، خود عباس، علی سعید بن جبیر، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابو میسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابو برزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد حضرت کعب احبار ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی حضرت عمر ؓ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کردی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چناچہ ایک سند سے یہ مقولہ حضرت ابن عباس کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ واللہ اعلم۔ اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ ابن عباس ؓ یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہودی حضرت اسحاق کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں ابن عمر مجاہد شعبی حسن بصری محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمتہ اللہ کے سامنے جب محمد بن قرظی نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ کو حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہوگا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے ؟ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی ہیں پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہوگئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ حضرت اسماعیل ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور حضرت اسحاق کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ حضرت اسماعیل حضرت اسحاق دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل ہی تھے۔ حضرت علی حضرت ابن عمر ابو الطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابو جعفر محمد بن علی ابو صالح ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام بغوی نے اور بھی صحابہ اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ شام میں امیر معاویہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا سنو ہم آنحضرت ﷺ کے پاس تھے جب ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول ﷺ مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ ہنس دیئے۔ ایک تو ذبح اللہ حضور ﷺ کے والد عبداللہ تھے دوسرے حضرت اسمعیل جن کی نسل میں سے آپ ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہوگیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہوگیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو حضور ﷺ کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کردیں چناچہ وہ ذبح کردیئے گئے اور اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی امام ابن جریر نے حضرت اسحاق کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت اسحاق ہیں قرآن میں اور جگہ ہے وبشر و بغلام علیم اور حضرت یعقوب کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں اور بعض لوگوں سے حضرت اسحاق کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں حضرت اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ واللہ اعلم۔ پہلے ذبیح اللہ حضرت اسمعیل ؑ کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی حضرت اسحاق کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ نبیاً حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہوگا۔ ابن عباس فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق تھے اور یہاں نبوت حضرت اسحاق کو بشارت ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ کے بارے میں فرمان ہے کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنادیا۔ حالانکہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔ حضرت قتادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ان پر اور اسحاق پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی۔ جیسے حضرت نوح ؑ سے فرمان ہوا تھا کہ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے۔
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلْبَلَٰٓؤُا۟ ٱلْمُبِينُ
Inna haazaa lahuwal balaaa'ul mubeen
Indeed, this was the clear trial.
بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت حضرت اسحاق ؑ تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہیں نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو حضرت اسماعیل ؑ سے ہٹاکر حضرت اسحاق کو دے دیا اور بےجاتاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا۔ اور کہا ہماری کتاب میں لفظ وحیدک ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ حضرت اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکہ میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف حضرت اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔ ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق تھے یہاں تک کہ بعض صحابہ سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بےدلیل اپنے ہاں لے لیا دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجیے کہ حضرت اسماعیل کی بشارت کا غلام حلیم کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کرکے پھر نبی صالح حضرت اسحاق کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر غلام علیم فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق کے ساتھ ہی ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) یعنی حضرت ابراہیم کی حیات میں ہی حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب پیدا ہوں گے یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جاچکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کرچکے۔ البتہ حضرت اسماعیل ؑ کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔ اب حضرت اسماعیل بڑے ہوگئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے۔ آپ اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے حضرت ابراہیم عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہوگئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ گویا آپ اپنے پیارے بچے کو ذبح کررہے ہیں انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ پس اللہ کے رسول نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرانہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہوجائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ انشاء اللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کردے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کرکے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہوجاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آجائے اور ہاتھ سست نہ پڑجائے۔ مسند احمد میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن حضرت ابراہیم اس سے آگے بڑھ گئے، پھر حضرت جبرائیل کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں۔ پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کرچکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔ ابن عباس ؓ ہی سے دوسری روایت میں حضرت اسحاق کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اسکی دلیلیں آرہی ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھاپی رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولی پر آکر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آگیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لاکر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ حضرت کعب ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ تو حدیثیں بیان کررہے تھے اور حضرت کعب کتاب کے قصے بیان کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کرکے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے۔ اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا حضور ﷺ پر میرے ماں باپ صدقے جائیں پھر حضرت کعب نے حضرت ابراہیم خلیل ؑ کا قصہ سنایا کہ جب آپ اپنے لڑکے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہوگئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہوجانا چاہیے۔ پہلے تو یہ حضرت سارہ کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں ؟ مائی صاحبہ نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے ؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہا لے جاتے ہیں۔ ؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں ؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو ؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو ؟ آپ نے فرمایا یہ کیوں ؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہوگیا۔ دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے فرمایا کہ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا حضرت اسحاق نے کہا پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہوگی ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کردی تو ان سے فرمایا گیا کہ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا۔ تو حضرت اسحاق نے فرمایا واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند اً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کردئیے ہیں۔ ذبیح اللہ تو حضرت اسماعیل ؑ ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکہ میں ہے اور حضرت اسماعیل یہیں تھے نہ کہ حضرت اسحاق وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ بس ابراہیم تم اپنے خواب کو پورا کرچکے۔ سدی سے روایت ہے کہ جب خلیل اللہ نے ذبیح اللہ کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہوگئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچالیتے ہیں اور چھٹکارا کردیتے ہیں۔ جیسے فرمایا اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کرکے چھوڑتا ہے ہر چیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہوسکتا ہے ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کردیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ ؑ کی تعریف میں قرآن میں ہے ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ژیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ژیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اسکا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو حضرت ابن عباس ؓ نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ حضرت ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ کو بلا کر حضور ﷺ نے فرمایا میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کرلے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے، یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ حضور ﷺ کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ واللہ اعلم۔ " ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے " ابو میسرہ فرماتے ہیں حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ سے فرمایا کیا تو میرے ساتھ کھانا چاتا ہے میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں (عبید بن عمیر) حضرت موسیٰ ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم اسمعیل اور یعقوب کے اللہ کی قسم، تو جواب ملا اس لئے ابراہیم نے تو ہر ہر چیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق ؑ نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لئے سپرد کردیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کردینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی۔ ابن مسعود کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو حضرت یوسف کے تھے جو یعقوب بن اسحاق اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ تھے۔ عکرمہ، ابن عباس، خود عباس، علی سعید بن جبیر، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابو میسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابو برزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد حضرت کعب احبار ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی حضرت عمر ؓ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کردی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چناچہ ایک سند سے یہ مقولہ حضرت ابن عباس کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ واللہ اعلم۔ اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ ابن عباس ؓ یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہودی حضرت اسحاق کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں ابن عمر مجاہد شعبی حسن بصری محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمتہ اللہ کے سامنے جب محمد بن قرظی نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ کو حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہوگا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے ؟ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی ہیں پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہوگئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ حضرت اسماعیل ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور حضرت اسحاق کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ حضرت اسماعیل حضرت اسحاق دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل ہی تھے۔ حضرت علی حضرت ابن عمر ابو الطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابو جعفر محمد بن علی ابو صالح ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام بغوی نے اور بھی صحابہ اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ شام میں امیر معاویہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا سنو ہم آنحضرت ﷺ کے پاس تھے جب ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول ﷺ مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ ہنس دیئے۔ ایک تو ذبح اللہ حضور ﷺ کے والد عبداللہ تھے دوسرے حضرت اسمعیل جن کی نسل میں سے آپ ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہوگیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہوگیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو حضور ﷺ کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کردیں چناچہ وہ ذبح کردیئے گئے اور اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی امام ابن جریر نے حضرت اسحاق کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت اسحاق ہیں قرآن میں اور جگہ ہے وبشر و بغلام علیم اور حضرت یعقوب کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں اور بعض لوگوں سے حضرت اسحاق کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں حضرت اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ واللہ اعلم۔ پہلے ذبیح اللہ حضرت اسمعیل ؑ کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی حضرت اسحاق کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ نبیاً حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہوگا۔ ابن عباس فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق تھے اور یہاں نبوت حضرت اسحاق کو بشارت ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ کے بارے میں فرمان ہے کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنادیا۔ حالانکہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔ حضرت قتادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ان پر اور اسحاق پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی۔ جیسے حضرت نوح ؑ سے فرمان ہوا تھا کہ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے۔
وَفَدَيْنَٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ
Wa fadainaahu bizibhin 'azeem
And We ransomed him with a great sacrifice,
اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت حضرت اسحاق ؑ تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہیں نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو حضرت اسماعیل ؑ سے ہٹاکر حضرت اسحاق کو دے دیا اور بےجاتاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا۔ اور کہا ہماری کتاب میں لفظ وحیدک ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ حضرت اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکہ میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف حضرت اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔ ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق تھے یہاں تک کہ بعض صحابہ سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بےدلیل اپنے ہاں لے لیا دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجیے کہ حضرت اسماعیل کی بشارت کا غلام حلیم کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کرکے پھر نبی صالح حضرت اسحاق کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر غلام علیم فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق کے ساتھ ہی ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) یعنی حضرت ابراہیم کی حیات میں ہی حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب پیدا ہوں گے یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جاچکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کرچکے۔ البتہ حضرت اسماعیل ؑ کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔ اب حضرت اسماعیل بڑے ہوگئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے۔ آپ اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے حضرت ابراہیم عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہوگئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ گویا آپ اپنے پیارے بچے کو ذبح کررہے ہیں انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ پس اللہ کے رسول نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرانہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہوجائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ انشاء اللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کردے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کرکے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہوجاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آجائے اور ہاتھ سست نہ پڑجائے۔ مسند احمد میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن حضرت ابراہیم اس سے آگے بڑھ گئے، پھر حضرت جبرائیل کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں۔ پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کرچکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔ ابن عباس ؓ ہی سے دوسری روایت میں حضرت اسحاق کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اسکی دلیلیں آرہی ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھاپی رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولی پر آکر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آگیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لاکر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ حضرت کعب ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ تو حدیثیں بیان کررہے تھے اور حضرت کعب کتاب کے قصے بیان کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کرکے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے۔ اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا حضور ﷺ پر میرے ماں باپ صدقے جائیں پھر حضرت کعب نے حضرت ابراہیم خلیل ؑ کا قصہ سنایا کہ جب آپ اپنے لڑکے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہوگئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہوجانا چاہیے۔ پہلے تو یہ حضرت سارہ کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں ؟ مائی صاحبہ نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے ؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہا لے جاتے ہیں۔ ؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں ؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو ؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو ؟ آپ نے فرمایا یہ کیوں ؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہوگیا۔ دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے فرمایا کہ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا حضرت اسحاق نے کہا پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہوگی ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کردی تو ان سے فرمایا گیا کہ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا۔ تو حضرت اسحاق نے فرمایا واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند اً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کردئیے ہیں۔ ذبیح اللہ تو حضرت اسماعیل ؑ ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکہ میں ہے اور حضرت اسماعیل یہیں تھے نہ کہ حضرت اسحاق وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ بس ابراہیم تم اپنے خواب کو پورا کرچکے۔ سدی سے روایت ہے کہ جب خلیل اللہ نے ذبیح اللہ کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہوگئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچالیتے ہیں اور چھٹکارا کردیتے ہیں۔ جیسے فرمایا اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کرکے چھوڑتا ہے ہر چیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہوسکتا ہے ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کردیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ ؑ کی تعریف میں قرآن میں ہے ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ژیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ژیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اسکا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو حضرت ابن عباس ؓ نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ حضرت ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ کو بلا کر حضور ﷺ نے فرمایا میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کرلے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے، یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ حضور ﷺ کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ واللہ اعلم۔ " ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے " ابو میسرہ فرماتے ہیں حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ سے فرمایا کیا تو میرے ساتھ کھانا چاتا ہے میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں (عبید بن عمیر) حضرت موسیٰ ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم اسمعیل اور یعقوب کے اللہ کی قسم، تو جواب ملا اس لئے ابراہیم نے تو ہر ہر چیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق ؑ نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لئے سپرد کردیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کردینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی۔ ابن مسعود کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو حضرت یوسف کے تھے جو یعقوب بن اسحاق اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ تھے۔ عکرمہ، ابن عباس، خود عباس، علی سعید بن جبیر، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابو میسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابو برزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد حضرت کعب احبار ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی حضرت عمر ؓ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کردی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چناچہ ایک سند سے یہ مقولہ حضرت ابن عباس کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ واللہ اعلم۔ اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ ابن عباس ؓ یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہودی حضرت اسحاق کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں ابن عمر مجاہد شعبی حسن بصری محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمتہ اللہ کے سامنے جب محمد بن قرظی نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ کو حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہوگا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے ؟ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی ہیں پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہوگئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ حضرت اسماعیل ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور حضرت اسحاق کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ حضرت اسماعیل حضرت اسحاق دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل ہی تھے۔ حضرت علی حضرت ابن عمر ابو الطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابو جعفر محمد بن علی ابو صالح ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام بغوی نے اور بھی صحابہ اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ شام میں امیر معاویہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا سنو ہم آنحضرت ﷺ کے پاس تھے جب ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول ﷺ مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ ہنس دیئے۔ ایک تو ذبح اللہ حضور ﷺ کے والد عبداللہ تھے دوسرے حضرت اسمعیل جن کی نسل میں سے آپ ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہوگیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہوگیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو حضور ﷺ کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کردیں چناچہ وہ ذبح کردیئے گئے اور اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی امام ابن جریر نے حضرت اسحاق کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت اسحاق ہیں قرآن میں اور جگہ ہے وبشر و بغلام علیم اور حضرت یعقوب کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں اور بعض لوگوں سے حضرت اسحاق کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں حضرت اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ واللہ اعلم۔ پہلے ذبیح اللہ حضرت اسمعیل ؑ کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی حضرت اسحاق کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ نبیاً حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہوگا۔ ابن عباس فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق تھے اور یہاں نبوت حضرت اسحاق کو بشارت ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ کے بارے میں فرمان ہے کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنادیا۔ حالانکہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔ حضرت قتادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ان پر اور اسحاق پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی۔ جیسے حضرت نوح ؑ سے فرمان ہوا تھا کہ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے۔
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ
Wa taraknaa 'alaihi fil aakhireen
And We left for him [favorable mention] among later generations:
اور پیچھے آنے والوں میں ابراہیم کا (ذکر خیر باقی) چھوڑ دیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت حضرت اسحاق ؑ تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہیں نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو حضرت اسماعیل ؑ سے ہٹاکر حضرت اسحاق کو دے دیا اور بےجاتاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا۔ اور کہا ہماری کتاب میں لفظ وحیدک ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ حضرت اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکہ میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف حضرت اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔ ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق تھے یہاں تک کہ بعض صحابہ سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بےدلیل اپنے ہاں لے لیا دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجیے کہ حضرت اسماعیل کی بشارت کا غلام حلیم کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کرکے پھر نبی صالح حضرت اسحاق کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر غلام علیم فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق کے ساتھ ہی ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) یعنی حضرت ابراہیم کی حیات میں ہی حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب پیدا ہوں گے یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جاچکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کرچکے۔ البتہ حضرت اسماعیل ؑ کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔ اب حضرت اسماعیل بڑے ہوگئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے۔ آپ اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے حضرت ابراہیم عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہوگئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ گویا آپ اپنے پیارے بچے کو ذبح کررہے ہیں انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ پس اللہ کے رسول نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرانہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہوجائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ انشاء اللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کردے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کرکے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہوجاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آجائے اور ہاتھ سست نہ پڑجائے۔ مسند احمد میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن حضرت ابراہیم اس سے آگے بڑھ گئے، پھر حضرت جبرائیل کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں۔ پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کرچکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔ ابن عباس ؓ ہی سے دوسری روایت میں حضرت اسحاق کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اسکی دلیلیں آرہی ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھاپی رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولی پر آکر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آگیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لاکر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ حضرت کعب ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ تو حدیثیں بیان کررہے تھے اور حضرت کعب کتاب کے قصے بیان کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کرکے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے۔ اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا حضور ﷺ پر میرے ماں باپ صدقے جائیں پھر حضرت کعب نے حضرت ابراہیم خلیل ؑ کا قصہ سنایا کہ جب آپ اپنے لڑکے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہوگئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہوجانا چاہیے۔ پہلے تو یہ حضرت سارہ کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں ؟ مائی صاحبہ نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے ؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہا لے جاتے ہیں۔ ؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں ؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو ؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو ؟ آپ نے فرمایا یہ کیوں ؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہوگیا۔ دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے فرمایا کہ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا حضرت اسحاق نے کہا پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہوگی ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کردی تو ان سے فرمایا گیا کہ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا۔ تو حضرت اسحاق نے فرمایا واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند اً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کردئیے ہیں۔ ذبیح اللہ تو حضرت اسماعیل ؑ ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکہ میں ہے اور حضرت اسماعیل یہیں تھے نہ کہ حضرت اسحاق وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ بس ابراہیم تم اپنے خواب کو پورا کرچکے۔ سدی سے روایت ہے کہ جب خلیل اللہ نے ذبیح اللہ کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہوگئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچالیتے ہیں اور چھٹکارا کردیتے ہیں۔ جیسے فرمایا اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کرکے چھوڑتا ہے ہر چیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہوسکتا ہے ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کردیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ ؑ کی تعریف میں قرآن میں ہے ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ژیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ژیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اسکا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو حضرت ابن عباس ؓ نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ حضرت ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ کو بلا کر حضور ﷺ نے فرمایا میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کرلے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے، یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ حضور ﷺ کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ واللہ اعلم۔ " ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے " ابو میسرہ فرماتے ہیں حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ سے فرمایا کیا تو میرے ساتھ کھانا چاتا ہے میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں (عبید بن عمیر) حضرت موسیٰ ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم اسمعیل اور یعقوب کے اللہ کی قسم، تو جواب ملا اس لئے ابراہیم نے تو ہر ہر چیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق ؑ نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لئے سپرد کردیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کردینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی۔ ابن مسعود کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو حضرت یوسف کے تھے جو یعقوب بن اسحاق اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ تھے۔ عکرمہ، ابن عباس، خود عباس، علی سعید بن جبیر، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابو میسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابو برزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد حضرت کعب احبار ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی حضرت عمر ؓ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کردی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چناچہ ایک سند سے یہ مقولہ حضرت ابن عباس کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ واللہ اعلم۔ اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ ابن عباس ؓ یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہودی حضرت اسحاق کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں ابن عمر مجاہد شعبی حسن بصری محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمتہ اللہ کے سامنے جب محمد بن قرظی نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ کو حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہوگا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے ؟ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی ہیں پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہوگئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ حضرت اسماعیل ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور حضرت اسحاق کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ حضرت اسماعیل حضرت اسحاق دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل ہی تھے۔ حضرت علی حضرت ابن عمر ابو الطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابو جعفر محمد بن علی ابو صالح ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام بغوی نے اور بھی صحابہ اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ شام میں امیر معاویہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا سنو ہم آنحضرت ﷺ کے پاس تھے جب ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول ﷺ مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ ہنس دیئے۔ ایک تو ذبح اللہ حضور ﷺ کے والد عبداللہ تھے دوسرے حضرت اسمعیل جن کی نسل میں سے آپ ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہوگیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہوگیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو حضور ﷺ کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کردیں چناچہ وہ ذبح کردیئے گئے اور اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی امام ابن جریر نے حضرت اسحاق کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت اسحاق ہیں قرآن میں اور جگہ ہے وبشر و بغلام علیم اور حضرت یعقوب کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں اور بعض لوگوں سے حضرت اسحاق کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں حضرت اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ واللہ اعلم۔ پہلے ذبیح اللہ حضرت اسمعیل ؑ کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی حضرت اسحاق کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ نبیاً حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہوگا۔ ابن عباس فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق تھے اور یہاں نبوت حضرت اسحاق کو بشارت ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ کے بارے میں فرمان ہے کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنادیا۔ حالانکہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔ حضرت قتادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ان پر اور اسحاق پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی۔ جیسے حضرت نوح ؑ سے فرمان ہوا تھا کہ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے۔
سَلَٰمٌ عَلَىٰٓ إِبْرَٰهِيمَ
Salaamun 'alaaa Ibraaheem
"Peace upon Abraham."
کہ ابراہیم پر سلام ہو
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت حضرت اسحاق ؑ تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہیں نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو حضرت اسماعیل ؑ سے ہٹاکر حضرت اسحاق کو دے دیا اور بےجاتاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا۔ اور کہا ہماری کتاب میں لفظ وحیدک ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ حضرت اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکہ میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف حضرت اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔ ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق تھے یہاں تک کہ بعض صحابہ سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بےدلیل اپنے ہاں لے لیا دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجیے کہ حضرت اسماعیل کی بشارت کا غلام حلیم کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کرکے پھر نبی صالح حضرت اسحاق کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر غلام علیم فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق کے ساتھ ہی ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) یعنی حضرت ابراہیم کی حیات میں ہی حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب پیدا ہوں گے یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جاچکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کرچکے۔ البتہ حضرت اسماعیل ؑ کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔ اب حضرت اسماعیل بڑے ہوگئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے۔ آپ اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے حضرت ابراہیم عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہوگئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ گویا آپ اپنے پیارے بچے کو ذبح کررہے ہیں انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ پس اللہ کے رسول نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرانہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہوجائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ انشاء اللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کردے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کرکے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہوجاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آجائے اور ہاتھ سست نہ پڑجائے۔ مسند احمد میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن حضرت ابراہیم اس سے آگے بڑھ گئے، پھر حضرت جبرائیل کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں۔ پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کرچکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔ ابن عباس ؓ ہی سے دوسری روایت میں حضرت اسحاق کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اسکی دلیلیں آرہی ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھاپی رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولی پر آکر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آگیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لاکر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ حضرت کعب ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ تو حدیثیں بیان کررہے تھے اور حضرت کعب کتاب کے قصے بیان کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کرکے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے۔ اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا حضور ﷺ پر میرے ماں باپ صدقے جائیں پھر حضرت کعب نے حضرت ابراہیم خلیل ؑ کا قصہ سنایا کہ جب آپ اپنے لڑکے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہوگئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہوجانا چاہیے۔ پہلے تو یہ حضرت سارہ کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں ؟ مائی صاحبہ نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے ؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہا لے جاتے ہیں۔ ؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں ؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو ؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو ؟ آپ نے فرمایا یہ کیوں ؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہوگیا۔ دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے فرمایا کہ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا حضرت اسحاق نے کہا پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہوگی ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کردی تو ان سے فرمایا گیا کہ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا۔ تو حضرت اسحاق نے فرمایا واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند اً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کردئیے ہیں۔ ذبیح اللہ تو حضرت اسماعیل ؑ ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکہ میں ہے اور حضرت اسماعیل یہیں تھے نہ کہ حضرت اسحاق وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ بس ابراہیم تم اپنے خواب کو پورا کرچکے۔ سدی سے روایت ہے کہ جب خلیل اللہ نے ذبیح اللہ کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہوگئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچالیتے ہیں اور چھٹکارا کردیتے ہیں۔ جیسے فرمایا اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کرکے چھوڑتا ہے ہر چیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہوسکتا ہے ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کردیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ ؑ کی تعریف میں قرآن میں ہے ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ژیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ژیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اسکا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو حضرت ابن عباس ؓ نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ حضرت ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ کو بلا کر حضور ﷺ نے فرمایا میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کرلے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے، یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ حضور ﷺ کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ واللہ اعلم۔ " ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے " ابو میسرہ فرماتے ہیں حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ سے فرمایا کیا تو میرے ساتھ کھانا چاتا ہے میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں (عبید بن عمیر) حضرت موسیٰ ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم اسمعیل اور یعقوب کے اللہ کی قسم، تو جواب ملا اس لئے ابراہیم نے تو ہر ہر چیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق ؑ نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لئے سپرد کردیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کردینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی۔ ابن مسعود کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو حضرت یوسف کے تھے جو یعقوب بن اسحاق اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ تھے۔ عکرمہ، ابن عباس، خود عباس، علی سعید بن جبیر، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابو میسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابو برزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد حضرت کعب احبار ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی حضرت عمر ؓ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کردی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چناچہ ایک سند سے یہ مقولہ حضرت ابن عباس کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ واللہ اعلم۔ اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ ابن عباس ؓ یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہودی حضرت اسحاق کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں ابن عمر مجاہد شعبی حسن بصری محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمتہ اللہ کے سامنے جب محمد بن قرظی نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ کو حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہوگا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے ؟ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی ہیں پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہوگئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ حضرت اسماعیل ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور حضرت اسحاق کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ حضرت اسماعیل حضرت اسحاق دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل ہی تھے۔ حضرت علی حضرت ابن عمر ابو الطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابو جعفر محمد بن علی ابو صالح ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام بغوی نے اور بھی صحابہ اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ شام میں امیر معاویہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا سنو ہم آنحضرت ﷺ کے پاس تھے جب ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول ﷺ مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ ہنس دیئے۔ ایک تو ذبح اللہ حضور ﷺ کے والد عبداللہ تھے دوسرے حضرت اسمعیل جن کی نسل میں سے آپ ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہوگیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہوگیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو حضور ﷺ کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کردیں چناچہ وہ ذبح کردیئے گئے اور اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی امام ابن جریر نے حضرت اسحاق کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت اسحاق ہیں قرآن میں اور جگہ ہے وبشر و بغلام علیم اور حضرت یعقوب کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں اور بعض لوگوں سے حضرت اسحاق کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں حضرت اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ واللہ اعلم۔ پہلے ذبیح اللہ حضرت اسمعیل ؑ کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی حضرت اسحاق کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ نبیاً حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہوگا۔ ابن عباس فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق تھے اور یہاں نبوت حضرت اسحاق کو بشارت ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ کے بارے میں فرمان ہے کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنادیا۔ حالانکہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔ حضرت قتادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ان پر اور اسحاق پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی۔ جیسے حضرت نوح ؑ سے فرمان ہوا تھا کہ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے۔
كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ
Kazaalika najzil muhsineen
Indeed, We thus reward the doers of good.
نیکوکاروں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت حضرت اسحاق ؑ تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہیں نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو حضرت اسماعیل ؑ سے ہٹاکر حضرت اسحاق کو دے دیا اور بےجاتاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا۔ اور کہا ہماری کتاب میں لفظ وحیدک ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ حضرت اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکہ میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف حضرت اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔ ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق تھے یہاں تک کہ بعض صحابہ سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بےدلیل اپنے ہاں لے لیا دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجیے کہ حضرت اسماعیل کی بشارت کا غلام حلیم کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کرکے پھر نبی صالح حضرت اسحاق کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر غلام علیم فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق کے ساتھ ہی ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) یعنی حضرت ابراہیم کی حیات میں ہی حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب پیدا ہوں گے یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جاچکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کرچکے۔ البتہ حضرت اسماعیل ؑ کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔ اب حضرت اسماعیل بڑے ہوگئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے۔ آپ اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے حضرت ابراہیم عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہوگئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ گویا آپ اپنے پیارے بچے کو ذبح کررہے ہیں انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ پس اللہ کے رسول نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرانہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہوجائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ انشاء اللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کردے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کرکے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہوجاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آجائے اور ہاتھ سست نہ پڑجائے۔ مسند احمد میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن حضرت ابراہیم اس سے آگے بڑھ گئے، پھر حضرت جبرائیل کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں۔ پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کرچکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔ ابن عباس ؓ ہی سے دوسری روایت میں حضرت اسحاق کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اسکی دلیلیں آرہی ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھاپی رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولی پر آکر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آگیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لاکر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ حضرت کعب ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ تو حدیثیں بیان کررہے تھے اور حضرت کعب کتاب کے قصے بیان کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کرکے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے۔ اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا حضور ﷺ پر میرے ماں باپ صدقے جائیں پھر حضرت کعب نے حضرت ابراہیم خلیل ؑ کا قصہ سنایا کہ جب آپ اپنے لڑکے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہوگئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہوجانا چاہیے۔ پہلے تو یہ حضرت سارہ کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں ؟ مائی صاحبہ نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے ؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہا لے جاتے ہیں۔ ؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں ؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو ؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو ؟ آپ نے فرمایا یہ کیوں ؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہوگیا۔ دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے فرمایا کہ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا حضرت اسحاق نے کہا پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہوگی ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کردی تو ان سے فرمایا گیا کہ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا۔ تو حضرت اسحاق نے فرمایا واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند اً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کردئیے ہیں۔ ذبیح اللہ تو حضرت اسماعیل ؑ ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکہ میں ہے اور حضرت اسماعیل یہیں تھے نہ کہ حضرت اسحاق وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ بس ابراہیم تم اپنے خواب کو پورا کرچکے۔ سدی سے روایت ہے کہ جب خلیل اللہ نے ذبیح اللہ کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہوگئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچالیتے ہیں اور چھٹکارا کردیتے ہیں۔ جیسے فرمایا اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کرکے چھوڑتا ہے ہر چیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہوسکتا ہے ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کردیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ ؑ کی تعریف میں قرآن میں ہے ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ژیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ژیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اسکا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو حضرت ابن عباس ؓ نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ حضرت ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ کو بلا کر حضور ﷺ نے فرمایا میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کرلے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے، یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ حضور ﷺ کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ واللہ اعلم۔ " ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے " ابو میسرہ فرماتے ہیں حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ سے فرمایا کیا تو میرے ساتھ کھانا چاتا ہے میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں (عبید بن عمیر) حضرت موسیٰ ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم اسمعیل اور یعقوب کے اللہ کی قسم، تو جواب ملا اس لئے ابراہیم نے تو ہر ہر چیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق ؑ نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لئے سپرد کردیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کردینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی۔ ابن مسعود کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو حضرت یوسف کے تھے جو یعقوب بن اسحاق اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ تھے۔ عکرمہ، ابن عباس، خود عباس، علی سعید بن جبیر، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابو میسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابو برزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد حضرت کعب احبار ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی حضرت عمر ؓ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کردی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چناچہ ایک سند سے یہ مقولہ حضرت ابن عباس کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ واللہ اعلم۔ اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ ابن عباس ؓ یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہودی حضرت اسحاق کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں ابن عمر مجاہد شعبی حسن بصری محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمتہ اللہ کے سامنے جب محمد بن قرظی نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ کو حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہوگا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے ؟ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی ہیں پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہوگئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ حضرت اسماعیل ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور حضرت اسحاق کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ حضرت اسماعیل حضرت اسحاق دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل ہی تھے۔ حضرت علی حضرت ابن عمر ابو الطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابو جعفر محمد بن علی ابو صالح ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام بغوی نے اور بھی صحابہ اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ شام میں امیر معاویہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا سنو ہم آنحضرت ﷺ کے پاس تھے جب ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول ﷺ مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ ہنس دیئے۔ ایک تو ذبح اللہ حضور ﷺ کے والد عبداللہ تھے دوسرے حضرت اسمعیل جن کی نسل میں سے آپ ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہوگیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہوگیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو حضور ﷺ کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کردیں چناچہ وہ ذبح کردیئے گئے اور اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی امام ابن جریر نے حضرت اسحاق کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت اسحاق ہیں قرآن میں اور جگہ ہے وبشر و بغلام علیم اور حضرت یعقوب کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں اور بعض لوگوں سے حضرت اسحاق کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں حضرت اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ واللہ اعلم۔ پہلے ذبیح اللہ حضرت اسمعیل ؑ کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی حضرت اسحاق کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ نبیاً حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہوگا۔ ابن عباس فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق تھے اور یہاں نبوت حضرت اسحاق کو بشارت ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ کے بارے میں فرمان ہے کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنادیا۔ حالانکہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔ حضرت قتادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ان پر اور اسحاق پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی۔ جیسے حضرت نوح ؑ سے فرمان ہوا تھا کہ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے۔
إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ
Innahoo min 'ibaadinal mu'mineen
Indeed, he was of Our believing servants.
وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت حضرت اسحاق ؑ تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہیں نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو حضرت اسماعیل ؑ سے ہٹاکر حضرت اسحاق کو دے دیا اور بےجاتاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا۔ اور کہا ہماری کتاب میں لفظ وحیدک ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ حضرت اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکہ میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف حضرت اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔ ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق تھے یہاں تک کہ بعض صحابہ سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بےدلیل اپنے ہاں لے لیا دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجیے کہ حضرت اسماعیل کی بشارت کا غلام حلیم کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کرکے پھر نبی صالح حضرت اسحاق کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر غلام علیم فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق کے ساتھ ہی ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) یعنی حضرت ابراہیم کی حیات میں ہی حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب پیدا ہوں گے یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جاچکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کرچکے۔ البتہ حضرت اسماعیل ؑ کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔ اب حضرت اسماعیل بڑے ہوگئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے۔ آپ اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے حضرت ابراہیم عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہوگئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ گویا آپ اپنے پیارے بچے کو ذبح کررہے ہیں انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ پس اللہ کے رسول نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرانہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہوجائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ انشاء اللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کردے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کرکے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہوجاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آجائے اور ہاتھ سست نہ پڑجائے۔ مسند احمد میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن حضرت ابراہیم اس سے آگے بڑھ گئے، پھر حضرت جبرائیل کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں۔ پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کرچکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔ ابن عباس ؓ ہی سے دوسری روایت میں حضرت اسحاق کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اسکی دلیلیں آرہی ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھاپی رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولی پر آکر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آگیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لاکر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ حضرت کعب ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ تو حدیثیں بیان کررہے تھے اور حضرت کعب کتاب کے قصے بیان کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کرکے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے۔ اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا حضور ﷺ پر میرے ماں باپ صدقے جائیں پھر حضرت کعب نے حضرت ابراہیم خلیل ؑ کا قصہ سنایا کہ جب آپ اپنے لڑکے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہوگئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہوجانا چاہیے۔ پہلے تو یہ حضرت سارہ کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں ؟ مائی صاحبہ نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے ؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہا لے جاتے ہیں۔ ؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں ؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو ؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو ؟ آپ نے فرمایا یہ کیوں ؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہوگیا۔ دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے فرمایا کہ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا حضرت اسحاق نے کہا پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہوگی ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کردی تو ان سے فرمایا گیا کہ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا۔ تو حضرت اسحاق نے فرمایا واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند اً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کردئیے ہیں۔ ذبیح اللہ تو حضرت اسماعیل ؑ ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکہ میں ہے اور حضرت اسماعیل یہیں تھے نہ کہ حضرت اسحاق وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ بس ابراہیم تم اپنے خواب کو پورا کرچکے۔ سدی سے روایت ہے کہ جب خلیل اللہ نے ذبیح اللہ کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہوگئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچالیتے ہیں اور چھٹکارا کردیتے ہیں۔ جیسے فرمایا اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کرکے چھوڑتا ہے ہر چیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہوسکتا ہے ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کردیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ ؑ کی تعریف میں قرآن میں ہے ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ژیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ژیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اسکا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو حضرت ابن عباس ؓ نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ حضرت ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ کو بلا کر حضور ﷺ نے فرمایا میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کرلے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے، یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ حضور ﷺ کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ واللہ اعلم۔ " ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے " ابو میسرہ فرماتے ہیں حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ سے فرمایا کیا تو میرے ساتھ کھانا چاتا ہے میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں (عبید بن عمیر) حضرت موسیٰ ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم اسمعیل اور یعقوب کے اللہ کی قسم، تو جواب ملا اس لئے ابراہیم نے تو ہر ہر چیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق ؑ نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لئے سپرد کردیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کردینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی۔ ابن مسعود کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو حضرت یوسف کے تھے جو یعقوب بن اسحاق اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ تھے۔ عکرمہ، ابن عباس، خود عباس، علی سعید بن جبیر، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابو میسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابو برزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد حضرت کعب احبار ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی حضرت عمر ؓ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کردی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چناچہ ایک سند سے یہ مقولہ حضرت ابن عباس کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ واللہ اعلم۔ اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ ابن عباس ؓ یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہودی حضرت اسحاق کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں ابن عمر مجاہد شعبی حسن بصری محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمتہ اللہ کے سامنے جب محمد بن قرظی نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ کو حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہوگا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے ؟ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی ہیں پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہوگئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ حضرت اسماعیل ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور حضرت اسحاق کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ حضرت اسماعیل حضرت اسحاق دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل ہی تھے۔ حضرت علی حضرت ابن عمر ابو الطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابو جعفر محمد بن علی ابو صالح ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام بغوی نے اور بھی صحابہ اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ شام میں امیر معاویہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا سنو ہم آنحضرت ﷺ کے پاس تھے جب ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول ﷺ مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ ہنس دیئے۔ ایک تو ذبح اللہ حضور ﷺ کے والد عبداللہ تھے دوسرے حضرت اسمعیل جن کی نسل میں سے آپ ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہوگیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہوگیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو حضور ﷺ کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کردیں چناچہ وہ ذبح کردیئے گئے اور اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی امام ابن جریر نے حضرت اسحاق کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت اسحاق ہیں قرآن میں اور جگہ ہے وبشر و بغلام علیم اور حضرت یعقوب کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں اور بعض لوگوں سے حضرت اسحاق کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں حضرت اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ واللہ اعلم۔ پہلے ذبیح اللہ حضرت اسمعیل ؑ کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی حضرت اسحاق کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ نبیاً حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہوگا۔ ابن عباس فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق تھے اور یہاں نبوت حضرت اسحاق کو بشارت ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ کے بارے میں فرمان ہے کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنادیا۔ حالانکہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔ حضرت قتادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ان پر اور اسحاق پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی۔ جیسے حضرت نوح ؑ سے فرمان ہوا تھا کہ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے۔
وَبَشَّرْنَٰهُ بِإِسْحَٰقَ نَبِيًّا مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ
Wa bashsharnaahu bi Ishaaqa Nabiyayam minas saaliheen
And We gave him good tidings of Isaac, a prophet from among the righteous.
اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی (کہ وہ) نبی (اور) نیکوکاروں میں سے (ہوں گے)
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت حضرت اسحاق ؑ تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہیں نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو حضرت اسماعیل ؑ سے ہٹاکر حضرت اسحاق کو دے دیا اور بےجاتاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا۔ اور کہا ہماری کتاب میں لفظ وحیدک ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ حضرت اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکہ میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف حضرت اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔ ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق تھے یہاں تک کہ بعض صحابہ سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بےدلیل اپنے ہاں لے لیا دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجیے کہ حضرت اسماعیل کی بشارت کا غلام حلیم کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کرکے پھر نبی صالح حضرت اسحاق کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر غلام علیم فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق کے ساتھ ہی ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) یعنی حضرت ابراہیم کی حیات میں ہی حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب پیدا ہوں گے یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جاچکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کرچکے۔ البتہ حضرت اسماعیل ؑ کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔ اب حضرت اسماعیل بڑے ہوگئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے۔ آپ اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے حضرت ابراہیم عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہوگئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ گویا آپ اپنے پیارے بچے کو ذبح کررہے ہیں انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ پس اللہ کے رسول نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرانہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہوجائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ انشاء اللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کردے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کرکے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہوجاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آجائے اور ہاتھ سست نہ پڑجائے۔ مسند احمد میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن حضرت ابراہیم اس سے آگے بڑھ گئے، پھر حضرت جبرائیل کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں۔ پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کرچکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔ ابن عباس ؓ ہی سے دوسری روایت میں حضرت اسحاق کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اسکی دلیلیں آرہی ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھاپی رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولی پر آکر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آگیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لاکر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ حضرت کعب ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ تو حدیثیں بیان کررہے تھے اور حضرت کعب کتاب کے قصے بیان کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کرکے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے۔ اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا حضور ﷺ پر میرے ماں باپ صدقے جائیں پھر حضرت کعب نے حضرت ابراہیم خلیل ؑ کا قصہ سنایا کہ جب آپ اپنے لڑکے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہوگئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہوجانا چاہیے۔ پہلے تو یہ حضرت سارہ کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں ؟ مائی صاحبہ نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے ؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہا لے جاتے ہیں۔ ؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں ؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو ؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو ؟ آپ نے فرمایا یہ کیوں ؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہوگیا۔ دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے فرمایا کہ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا حضرت اسحاق نے کہا پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہوگی ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کردی تو ان سے فرمایا گیا کہ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا۔ تو حضرت اسحاق نے فرمایا واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند اً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کردئیے ہیں۔ ذبیح اللہ تو حضرت اسماعیل ؑ ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکہ میں ہے اور حضرت اسماعیل یہیں تھے نہ کہ حضرت اسحاق وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ بس ابراہیم تم اپنے خواب کو پورا کرچکے۔ سدی سے روایت ہے کہ جب خلیل اللہ نے ذبیح اللہ کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہوگئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچالیتے ہیں اور چھٹکارا کردیتے ہیں۔ جیسے فرمایا اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کرکے چھوڑتا ہے ہر چیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہوسکتا ہے ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کردیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ ؑ کی تعریف میں قرآن میں ہے ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ژیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ژیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اسکا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو حضرت ابن عباس ؓ نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ حضرت ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ کو بلا کر حضور ﷺ نے فرمایا میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کرلے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے، یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ حضور ﷺ کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ واللہ اعلم۔ " ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے " ابو میسرہ فرماتے ہیں حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ سے فرمایا کیا تو میرے ساتھ کھانا چاتا ہے میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں (عبید بن عمیر) حضرت موسیٰ ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم اسمعیل اور یعقوب کے اللہ کی قسم، تو جواب ملا اس لئے ابراہیم نے تو ہر ہر چیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق ؑ نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لئے سپرد کردیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کردینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی۔ ابن مسعود کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو حضرت یوسف کے تھے جو یعقوب بن اسحاق اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ تھے۔ عکرمہ، ابن عباس، خود عباس، علی سعید بن جبیر، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابو میسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابو برزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد حضرت کعب احبار ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی حضرت عمر ؓ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کردی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چناچہ ایک سند سے یہ مقولہ حضرت ابن عباس کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ واللہ اعلم۔ اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ ابن عباس ؓ یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہودی حضرت اسحاق کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں ابن عمر مجاہد شعبی حسن بصری محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمتہ اللہ کے سامنے جب محمد بن قرظی نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ کو حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہوگا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے ؟ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی ہیں پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہوگئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ حضرت اسماعیل ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور حضرت اسحاق کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ حضرت اسماعیل حضرت اسحاق دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل ہی تھے۔ حضرت علی حضرت ابن عمر ابو الطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابو جعفر محمد بن علی ابو صالح ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام بغوی نے اور بھی صحابہ اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ شام میں امیر معاویہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا سنو ہم آنحضرت ﷺ کے پاس تھے جب ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول ﷺ مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ ہنس دیئے۔ ایک تو ذبح اللہ حضور ﷺ کے والد عبداللہ تھے دوسرے حضرت اسمعیل جن کی نسل میں سے آپ ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہوگیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہوگیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو حضور ﷺ کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کردیں چناچہ وہ ذبح کردیئے گئے اور اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی امام ابن جریر نے حضرت اسحاق کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت اسحاق ہیں قرآن میں اور جگہ ہے وبشر و بغلام علیم اور حضرت یعقوب کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں اور بعض لوگوں سے حضرت اسحاق کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں حضرت اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ واللہ اعلم۔ پہلے ذبیح اللہ حضرت اسمعیل ؑ کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی حضرت اسحاق کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ نبیاً حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہوگا۔ ابن عباس فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق تھے اور یہاں نبوت حضرت اسحاق کو بشارت ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ کے بارے میں فرمان ہے کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنادیا۔ حالانکہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔ حضرت قتادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ان پر اور اسحاق پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی۔ جیسے حضرت نوح ؑ سے فرمان ہوا تھا کہ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے۔
وَبَٰرَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَىٰٓ إِسْحَٰقَ وَمِن ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِهِۦ مُبِينٌ
Wa baaraknaa 'alaihi wa 'alaaa Ishaaq; wa min zurriyya tihimaa muhsinunw wa zaalimul linafshihee mubeen
And We blessed him and Isaac. But among their descendants is the doer of good and the clearly unjust to himself.
اور ہم نے ان پر اور اسحاق پر برکتیں نازل کی تھیں۔ اور ان دونوں اولاد کی میں سے نیکوکار بھی ہیں اور اپنے آپ پر صریح ظلم کرنے والے (یعنی گنہگار) بھی ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت حضرت اسحاق ؑ تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہیں نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو حضرت اسماعیل ؑ سے ہٹاکر حضرت اسحاق کو دے دیا اور بےجاتاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا۔ اور کہا ہماری کتاب میں لفظ وحیدک ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ حضرت اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکہ میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف حضرت اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔ ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق تھے یہاں تک کہ بعض صحابہ سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بےدلیل اپنے ہاں لے لیا دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجیے کہ حضرت اسماعیل کی بشارت کا غلام حلیم کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کرکے پھر نبی صالح حضرت اسحاق کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر غلام علیم فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق کے ساتھ ہی ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) یعنی حضرت ابراہیم کی حیات میں ہی حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب پیدا ہوں گے یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جاچکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کرچکے۔ البتہ حضرت اسماعیل ؑ کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔ اب حضرت اسماعیل بڑے ہوگئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے۔ آپ اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے حضرت ابراہیم عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہوگئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ گویا آپ اپنے پیارے بچے کو ذبح کررہے ہیں انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ پس اللہ کے رسول نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرانہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہوجائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ انشاء اللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کردے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کرکے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہوجاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آجائے اور ہاتھ سست نہ پڑجائے۔ مسند احمد میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن حضرت ابراہیم اس سے آگے بڑھ گئے، پھر حضرت جبرائیل کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں۔ پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کرچکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔ ابن عباس ؓ ہی سے دوسری روایت میں حضرت اسحاق کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اسکی دلیلیں آرہی ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھاپی رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولی پر آکر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آگیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لاکر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ حضرت کعب ؓ بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ تو حدیثیں بیان کررہے تھے اور حضرت کعب کتاب کے قصے بیان کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کرکے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے۔ اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا حضور ﷺ پر میرے ماں باپ صدقے جائیں پھر حضرت کعب نے حضرت ابراہیم خلیل ؑ کا قصہ سنایا کہ جب آپ اپنے لڑکے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہوگئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہوجانا چاہیے۔ پہلے تو یہ حضرت سارہ کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں ؟ مائی صاحبہ نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے ؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہا لے جاتے ہیں۔ ؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں ؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو ؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو ؟ آپ نے فرمایا یہ کیوں ؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہوگیا۔ دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے فرمایا کہ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا حضرت اسحاق نے کہا پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہوگی ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کردی تو ان سے فرمایا گیا کہ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا۔ تو حضرت اسحاق نے فرمایا واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند اً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کردئیے ہیں۔ ذبیح اللہ تو حضرت اسماعیل ؑ ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکہ میں ہے اور حضرت اسماعیل یہیں تھے نہ کہ حضرت اسحاق وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ بس ابراہیم تم اپنے خواب کو پورا کرچکے۔ سدی سے روایت ہے کہ جب خلیل اللہ نے ذبیح اللہ کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہوگئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچالیتے ہیں اور چھٹکارا کردیتے ہیں۔ جیسے فرمایا اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کرکے چھوڑتا ہے ہر چیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہوسکتا ہے ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کردیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ ؑ کی تعریف میں قرآن میں ہے ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ژیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ژیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اسکا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو حضرت ابن عباس ؓ نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ حضرت ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ کو بلا کر حضور ﷺ نے فرمایا میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کرلے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے، یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ حضور ﷺ کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ واللہ اعلم۔ " ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے " ابو میسرہ فرماتے ہیں حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ سے فرمایا کیا تو میرے ساتھ کھانا چاتا ہے میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں (عبید بن عمیر) حضرت موسیٰ ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم اسمعیل اور یعقوب کے اللہ کی قسم، تو جواب ملا اس لئے ابراہیم نے تو ہر ہر چیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق ؑ نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لئے سپرد کردیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کردینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی۔ ابن مسعود کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو حضرت یوسف کے تھے جو یعقوب بن اسحاق اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ تھے۔ عکرمہ، ابن عباس، خود عباس، علی سعید بن جبیر، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابو میسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابو برزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد حضرت کعب احبار ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی حضرت عمر ؓ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کردی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چناچہ ایک سند سے یہ مقولہ حضرت ابن عباس کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ واللہ اعلم۔ اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ ابن عباس ؓ یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہودی حضرت اسحاق کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں ابن عمر مجاہد شعبی حسن بصری محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمتہ اللہ کے سامنے جب محمد بن قرظی نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ کو حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہوگا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے ؟ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی ہیں پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہوگئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ حضرت اسماعیل ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور حضرت اسحاق کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ حضرت اسماعیل حضرت اسحاق دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے حضرت عبداللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل ہی تھے۔ حضرت علی حضرت ابن عمر ابو الطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابو جعفر محمد بن علی ابو صالح ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام بغوی نے اور بھی صحابہ اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ شام میں امیر معاویہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا سنو ہم آنحضرت ﷺ کے پاس تھے جب ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول ﷺ مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ ہنس دیئے۔ ایک تو ذبح اللہ حضور ﷺ کے والد عبداللہ تھے دوسرے حضرت اسمعیل جن کی نسل میں سے آپ ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہوگیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہوگیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو حضور ﷺ کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کردیں چناچہ وہ ذبح کردیئے گئے اور اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی امام ابن جریر نے حضرت اسحاق کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت اسحاق ہیں قرآن میں اور جگہ ہے وبشر و بغلام علیم اور حضرت یعقوب کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں اور بعض لوگوں سے حضرت اسحاق کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں حضرت اسماعیل کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ واللہ اعلم۔ پہلے ذبیح اللہ حضرت اسمعیل ؑ کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی حضرت اسحاق کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ نبیاً حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہوگا۔ ابن عباس فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق تھے اور یہاں نبوت حضرت اسحاق کو بشارت ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ کے بارے میں فرمان ہے کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنادیا۔ حالانکہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔ حضرت قتادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ان پر اور اسحاق پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی۔ جیسے حضرت نوح ؑ سے فرمان ہوا تھا کہ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے۔
وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ
Wa laqad mananna alaa Moosaa wa Haaroon
And We did certainly confer favor upon Moses and Aaron.
اور ہم نے موسیٰ اور ہارون پر بھی احسان کئے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت موسیٰ پر انعامات الٰہی۔ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور ہارون پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بےحیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کردیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر حضرت موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے۔
وَنَجَّيْنَٰهُمَا وَقَوْمَهُمَا مِنَ ٱلْكَرْبِ ٱلْعَظِيمِ
Wa najjainaahumaa wa qawmahumaa minal karbil 'azeem
And We saved them and their people from the great affliction,
اور ان کو اور ان کی قوم کو مصیبت عظیمہ سے نجات بخشی
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت موسیٰ پر انعامات الٰہی۔ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور ہارون پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بےحیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کردیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر حضرت موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے۔
وَنَصَرْنَٰهُمْ فَكَانُوا۟ هُمُ ٱلْغَٰلِبِينَ
Wa nasarnaahum fakaanoo humul ghaalibeen
And We supported them so it was they who overcame.
اور ان کی مدد کی تو وہ غالب ہوگئے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت موسیٰ پر انعامات الٰہی۔ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور ہارون پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بےحیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کردیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر حضرت موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے۔
وَءَاتَيْنَٰهُمَا ٱلْكِتَٰبَ ٱلْمُسْتَبِينَ
Wa aatainaahumal Kitaabal mustabeen
And We gave them the explicit Scripture,
اور ان دونوں کو کتاب واضح (المطالب) عنایت کی
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت موسیٰ پر انعامات الٰہی۔ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور ہارون پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بےحیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کردیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر حضرت موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے۔
وَهَدَيْنَٰهُمَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ
Wa hadainaahumus Siraatal Mustaqeem
And We guided them on the straight path.
اور ان کو سیدھا رستہ دکھایا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت موسیٰ پر انعامات الٰہی۔ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور ہارون پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بےحیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کردیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر حضرت موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے۔
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِمَا فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ
Wa taraknaa 'alaihimaa fil aakhireen
And We left for them [favorable mention] among later generations:
اور پیچھے آنے والوں میں ان کا ذکر (خیر باقی) چھوڑ دیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت موسیٰ پر انعامات الٰہی۔ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور ہارون پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بےحیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کردیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر حضرت موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے۔
سَلَٰمٌ عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ
Salaamun 'alaa Moosaa wa Haaroon
"Peace upon Moses and Aaron."
کہ موسیٰ اور ہارون پر سلام
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت موسیٰ پر انعامات الٰہی۔ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور ہارون پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بےحیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کردیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر حضرت موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے۔
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ
Innaa kazaalika najzil muhsineen
Indeed, We thus reward the doers of good.
بےشک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت موسیٰ پر انعامات الٰہی۔ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور ہارون پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بےحیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کردیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر حضرت موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے۔
إِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ
Innahumaa min 'ibaadinal mu'mineen
Indeed, they were of Our believing servants.
وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت موسیٰ پر انعامات الٰہی۔ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور ہارون پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بےحیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کردیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر حضرت موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے۔
وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ
Wa inna Ilyaasa laminal mursaleen
And indeed, Elias was from among the messengers,
اور الیاس بھی پیغمبروں میں سے تھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت الیاس ؑ۔ بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا حضرت ادریس ؑ کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل ؑ کے بعد یہ نبی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہوگیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کردیا آپ نے ان پر بددعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آگئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے حضرت یسع بن اخطوب پلے تھے۔ حضرت الیاس کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہوجائیں وہاں آپ گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہوگئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کردیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے حضرت الیاس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی حضرت الیاس ؑ فرماتے ہیں کہ تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو ؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔ لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کردیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست باز پرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے حضرت الیاس ؑ کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود وسلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کو طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں سلام علی ال یاسین ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ أَلَا تَتَّقُونَ
Iz qaala liqawmiheee alaa tattaqoon
When he said to his people, "Will you not fear Allah?
جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں؟
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت الیاس ؑ۔ بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا حضرت ادریس ؑ کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل ؑ کے بعد یہ نبی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہوگیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کردیا آپ نے ان پر بددعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آگئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے حضرت یسع بن اخطوب پلے تھے۔ حضرت الیاس کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہوجائیں وہاں آپ گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہوگئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کردیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے حضرت الیاس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی حضرت الیاس ؑ فرماتے ہیں کہ تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو ؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔ لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کردیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست باز پرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے حضرت الیاس ؑ کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود وسلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کو طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں سلام علی ال یاسین ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
أَتَدْعُونَ بَعْلًا وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ ٱلْخَٰلِقِينَ
Atad'oona Ba'lanw wa tazaroona ahsanal khaaliqeen
Do you call upon Ba'l and leave the best of creators -
کیا تم بعل کو پکارتے (اور اسے پوجتے) ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت الیاس ؑ۔ بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا حضرت ادریس ؑ کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل ؑ کے بعد یہ نبی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہوگیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کردیا آپ نے ان پر بددعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آگئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے حضرت یسع بن اخطوب پلے تھے۔ حضرت الیاس کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہوجائیں وہاں آپ گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہوگئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کردیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے حضرت الیاس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی حضرت الیاس ؑ فرماتے ہیں کہ تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو ؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔ لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کردیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست باز پرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے حضرت الیاس ؑ کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود وسلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کو طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں سلام علی ال یاسین ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
ٱللَّهَ رَبَّكُمْ وَرَبَّ ءَابَآئِكُمُ ٱلْأَوَّلِينَ
Allaaha Rabbakum wa Rabba aabaaa'ikumul awwaleen
Allah, your Lord and the Lord of your first forefathers?"
(یعنی) خدا کو جو تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا پروردگار ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت الیاس ؑ۔ بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا حضرت ادریس ؑ کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل ؑ کے بعد یہ نبی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہوگیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کردیا آپ نے ان پر بددعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آگئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے حضرت یسع بن اخطوب پلے تھے۔ حضرت الیاس کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہوجائیں وہاں آپ گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہوگئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کردیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے حضرت الیاس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی حضرت الیاس ؑ فرماتے ہیں کہ تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو ؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔ لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کردیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست باز پرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے حضرت الیاس ؑ کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود وسلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کو طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں سلام علی ال یاسین ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
فَكَذَّبُوهُ فَإِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ
Fakazzaboohu fa inna hum lamuhdaroon
And they denied him, so indeed, they will be brought [for punishment],
تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلا دیا۔ سو وہ (دوزخ میں) حاضر کئے جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت الیاس ؑ۔ بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا حضرت ادریس ؑ کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل ؑ کے بعد یہ نبی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہوگیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کردیا آپ نے ان پر بددعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آگئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے حضرت یسع بن اخطوب پلے تھے۔ حضرت الیاس کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہوجائیں وہاں آپ گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہوگئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کردیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے حضرت الیاس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی حضرت الیاس ؑ فرماتے ہیں کہ تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو ؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔ لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کردیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست باز پرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے حضرت الیاس ؑ کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود وسلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کو طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں سلام علی ال یاسین ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ
Illaa 'ibaadal laahil mukhlaseen
Except the chosen servants of Allah.
ہاں خدا کے بندگان خاص (مبتلائے عذاب نہیں) ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت الیاس ؑ۔ بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا حضرت ادریس ؑ کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل ؑ کے بعد یہ نبی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہوگیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کردیا آپ نے ان پر بددعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آگئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے حضرت یسع بن اخطوب پلے تھے۔ حضرت الیاس کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہوجائیں وہاں آپ گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہوگئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کردیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے حضرت الیاس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی حضرت الیاس ؑ فرماتے ہیں کہ تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو ؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔ لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کردیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست باز پرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے حضرت الیاس ؑ کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود وسلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کو طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں سلام علی ال یاسین ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ
Wa taraknaa 'alaihi fil aakhireen
And We left for him [favorable mention] among later generations:
اور ان کا ذکر (خیر) پچھلوں میں (باقی) چھوڑ دیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت الیاس ؑ۔ بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا حضرت ادریس ؑ کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل ؑ کے بعد یہ نبی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہوگیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کردیا آپ نے ان پر بددعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آگئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے حضرت یسع بن اخطوب پلے تھے۔ حضرت الیاس کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہوجائیں وہاں آپ گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہوگئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کردیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے حضرت الیاس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی حضرت الیاس ؑ فرماتے ہیں کہ تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو ؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔ لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کردیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست باز پرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے حضرت الیاس ؑ کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود وسلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کو طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں سلام علی ال یاسین ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
سَلَٰمٌ عَلَىٰٓ إِلْ يَاسِينَ
Salaamun 'alaaa Ilyaaseen
"Peace upon Elias."
کہ اِل یاسین پر سلام
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت الیاس ؑ۔ بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا حضرت ادریس ؑ کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل ؑ کے بعد یہ نبی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہوگیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کردیا آپ نے ان پر بددعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آگئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے حضرت یسع بن اخطوب پلے تھے۔ حضرت الیاس کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہوجائیں وہاں آپ گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہوگئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کردیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے حضرت الیاس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی حضرت الیاس ؑ فرماتے ہیں کہ تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو ؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔ لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کردیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست باز پرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے حضرت الیاس ؑ کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود وسلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کو طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں سلام علی ال یاسین ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ
Innaa kazaalika najzil muhsineen
Indeed, We thus reward the doers of good.
ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت الیاس ؑ۔ بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا حضرت ادریس ؑ کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل ؑ کے بعد یہ نبی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہوگیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کردیا آپ نے ان پر بددعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آگئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے حضرت یسع بن اخطوب پلے تھے۔ حضرت الیاس کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہوجائیں وہاں آپ گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہوگئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کردیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے حضرت الیاس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی حضرت الیاس ؑ فرماتے ہیں کہ تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو ؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔ لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کردیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست باز پرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے حضرت الیاس ؑ کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود وسلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کو طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں سلام علی ال یاسین ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ
Innahoo min 'ibaadinal mu'mineen
Indeed, he was of Our believing servants.
بےشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت الیاس ؑ۔ بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا حضرت ادریس ؑ کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل ؑ کے بعد یہ نبی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہوگیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کردیا آپ نے ان پر بددعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آگئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے حضرت یسع بن اخطوب پلے تھے۔ حضرت الیاس کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہوجائیں وہاں آپ گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہوگئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کردیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے حضرت الیاس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی حضرت الیاس ؑ فرماتے ہیں کہ تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو ؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔ لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کردیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست باز پرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے حضرت الیاس ؑ کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود وسلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کو طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں سلام علی ال یاسین ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
وَإِنَّ لُوطًا لَّمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ
Wa inna Lootal laminal mursaleen
And indeed, Lot was among the messengers.
اور لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
قوم لوط ؑ ایک عبرت کا مقام۔اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول حضرت لوط ؑ کا بیان ہو رہا ہے کہ انہیں بھی ان کی قوم نے جھٹلایا۔ جس پر اللہ کے عذاب ان پر برس پڑے اور اللہ نے اپنے پیارے حضرت لوط ؑ کو مع ان کے گھر والوں کے نجات دے دی۔ لیکن ان کی بیوی غارت ہوئی قوم کے ساتھ ہی ہلاک ہوئی اور ساری قوم بھی تباہ ہوئی۔ قسم قسم کے عذاب ان پر آئے اور جس جگہ وہ رہتے تھے وہاں ایک بدبو دار اور جھیل بن گئی جس کا پانی بدمزہ بدبو بد رنگ ہے جو آنے جانے والوں کے راستے میں ہی پڑی ہے۔ تم تو دن رات وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو اور اس خوفناک منظر اور بھیانک مقام کو صبح شام دیکھتے رہتے ہو۔ کیا اس معائنہ کے بعد بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور سوچتے سمجھتے نہیں ہو ؟ کس طرح یہ برباد کردیئے گئے ؟ ایسا نہ ہو کہ یہی عذاب تم پر بھی آجائیں۔
إِذْ نَجَّيْنَٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ أَجْمَعِينَ
Iz najjainaahu wa ahlahooo ajma'een
[So mention] when We saved him and his family, all,
جب ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو سب کو (عذاب سے) نجات دی
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
قوم لوط ؑ ایک عبرت کا مقام۔اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول حضرت لوط ؑ کا بیان ہو رہا ہے کہ انہیں بھی ان کی قوم نے جھٹلایا۔ جس پر اللہ کے عذاب ان پر برس پڑے اور اللہ نے اپنے پیارے حضرت لوط ؑ کو مع ان کے گھر والوں کے نجات دے دی۔ لیکن ان کی بیوی غارت ہوئی قوم کے ساتھ ہی ہلاک ہوئی اور ساری قوم بھی تباہ ہوئی۔ قسم قسم کے عذاب ان پر آئے اور جس جگہ وہ رہتے تھے وہاں ایک بدبو دار اور جھیل بن گئی جس کا پانی بدمزہ بدبو بد رنگ ہے جو آنے جانے والوں کے راستے میں ہی پڑی ہے۔ تم تو دن رات وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو اور اس خوفناک منظر اور بھیانک مقام کو صبح شام دیکھتے رہتے ہو۔ کیا اس معائنہ کے بعد بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور سوچتے سمجھتے نہیں ہو ؟ کس طرح یہ برباد کردیئے گئے ؟ ایسا نہ ہو کہ یہی عذاب تم پر بھی آجائیں۔
إِلَّا عَجُوزًا فِى ٱلْغَٰبِرِينَ
Illaa 'ajoozan fil ghaabireen
Except his wife among those who remained [with the evildoers].
مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ جانے والوں میں تھی
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
قوم لوط ؑ ایک عبرت کا مقام۔اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول حضرت لوط ؑ کا بیان ہو رہا ہے کہ انہیں بھی ان کی قوم نے جھٹلایا۔ جس پر اللہ کے عذاب ان پر برس پڑے اور اللہ نے اپنے پیارے حضرت لوط ؑ کو مع ان کے گھر والوں کے نجات دے دی۔ لیکن ان کی بیوی غارت ہوئی قوم کے ساتھ ہی ہلاک ہوئی اور ساری قوم بھی تباہ ہوئی۔ قسم قسم کے عذاب ان پر آئے اور جس جگہ وہ رہتے تھے وہاں ایک بدبو دار اور جھیل بن گئی جس کا پانی بدمزہ بدبو بد رنگ ہے جو آنے جانے والوں کے راستے میں ہی پڑی ہے۔ تم تو دن رات وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو اور اس خوفناک منظر اور بھیانک مقام کو صبح شام دیکھتے رہتے ہو۔ کیا اس معائنہ کے بعد بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور سوچتے سمجھتے نہیں ہو ؟ کس طرح یہ برباد کردیئے گئے ؟ ایسا نہ ہو کہ یہی عذاب تم پر بھی آجائیں۔
ثُمَّ دَمَّرْنَا ٱلْـَٔاخَرِينَ
Summa dammarnal aakhareen
Then We destroyed the others.
پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
قوم لوط ؑ ایک عبرت کا مقام۔اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول حضرت لوط ؑ کا بیان ہو رہا ہے کہ انہیں بھی ان کی قوم نے جھٹلایا۔ جس پر اللہ کے عذاب ان پر برس پڑے اور اللہ نے اپنے پیارے حضرت لوط ؑ کو مع ان کے گھر والوں کے نجات دے دی۔ لیکن ان کی بیوی غارت ہوئی قوم کے ساتھ ہی ہلاک ہوئی اور ساری قوم بھی تباہ ہوئی۔ قسم قسم کے عذاب ان پر آئے اور جس جگہ وہ رہتے تھے وہاں ایک بدبو دار اور جھیل بن گئی جس کا پانی بدمزہ بدبو بد رنگ ہے جو آنے جانے والوں کے راستے میں ہی پڑی ہے۔ تم تو دن رات وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو اور اس خوفناک منظر اور بھیانک مقام کو صبح شام دیکھتے رہتے ہو۔ کیا اس معائنہ کے بعد بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور سوچتے سمجھتے نہیں ہو ؟ کس طرح یہ برباد کردیئے گئے ؟ ایسا نہ ہو کہ یہی عذاب تم پر بھی آجائیں۔
وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِم مُّصْبِحِينَ
Wa innakum latamurroona 'alaihim musbiheen
And indeed, you pass by them in the morning
اور تم دن کو بھی ان (کی بستیوں) کے پاس سے گزرتے رہتے ہو
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
قوم لوط ؑ ایک عبرت کا مقام۔اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول حضرت لوط ؑ کا بیان ہو رہا ہے کہ انہیں بھی ان کی قوم نے جھٹلایا۔ جس پر اللہ کے عذاب ان پر برس پڑے اور اللہ نے اپنے پیارے حضرت لوط ؑ کو مع ان کے گھر والوں کے نجات دے دی۔ لیکن ان کی بیوی غارت ہوئی قوم کے ساتھ ہی ہلاک ہوئی اور ساری قوم بھی تباہ ہوئی۔ قسم قسم کے عذاب ان پر آئے اور جس جگہ وہ رہتے تھے وہاں ایک بدبو دار اور جھیل بن گئی جس کا پانی بدمزہ بدبو بد رنگ ہے جو آنے جانے والوں کے راستے میں ہی پڑی ہے۔ تم تو دن رات وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو اور اس خوفناک منظر اور بھیانک مقام کو صبح شام دیکھتے رہتے ہو۔ کیا اس معائنہ کے بعد بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور سوچتے سمجھتے نہیں ہو ؟ کس طرح یہ برباد کردیئے گئے ؟ ایسا نہ ہو کہ یہی عذاب تم پر بھی آجائیں۔
وَبِٱلَّيْلِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
Wa billail; afalaa ta'qiloon
And at night. Then will you not use reason?
اور رات کو بھی۔ تو کیا تم عقل نہیں رکھتے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
قوم لوط ؑ ایک عبرت کا مقام۔اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول حضرت لوط ؑ کا بیان ہو رہا ہے کہ انہیں بھی ان کی قوم نے جھٹلایا۔ جس پر اللہ کے عذاب ان پر برس پڑے اور اللہ نے اپنے پیارے حضرت لوط ؑ کو مع ان کے گھر والوں کے نجات دے دی۔ لیکن ان کی بیوی غارت ہوئی قوم کے ساتھ ہی ہلاک ہوئی اور ساری قوم بھی تباہ ہوئی۔ قسم قسم کے عذاب ان پر آئے اور جس جگہ وہ رہتے تھے وہاں ایک بدبو دار اور جھیل بن گئی جس کا پانی بدمزہ بدبو بد رنگ ہے جو آنے جانے والوں کے راستے میں ہی پڑی ہے۔ تم تو دن رات وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو اور اس خوفناک منظر اور بھیانک مقام کو صبح شام دیکھتے رہتے ہو۔ کیا اس معائنہ کے بعد بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور سوچتے سمجھتے نہیں ہو ؟ کس طرح یہ برباد کردیئے گئے ؟ ایسا نہ ہو کہ یہی عذاب تم پر بھی آجائیں۔
وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ
Wa inna Yoonusa laminal mursaleen
And indeed, Jonah was among the messengers.
اور یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
واقعہ حضرت یونس ؑ۔ حضرت یونس ؑ کا قصہ سورة یونس میں بیان ہوچکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔ یہ نام ممکن ہے آپ کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہوگیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر حضرت یونس ؑ کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے بار بار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ کا نام نکلتا رہا اور خود آپ کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور حضرت یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے۔ چناچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب حضرت یونس پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ کو خیال گذرا کہ میں مرچکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کردی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ اے پروردگار میں نے تیرے لئے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہوگا۔ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن وامان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ۔ ابن عباس کی حدیث میں ہے آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بےچینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے چناچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت یونس نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔ اللہ نے فرمایا اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں ؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ہاں میں اسے نجات دوں گا۔ چناچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں حضرت یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نحیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لئے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کردیا جو صبح شام ان کے پاس آجاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورة انبیاء کی تفسیر میں بیان ہوچکے ہیں۔ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ یقطین کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنہ نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بھڑتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے۔ پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول ﷺ نہ تھے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں او معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے ایک لاکھ بیس ہزار تھے۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) اور آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) اور آیت (اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) میں ہے یعنی اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے۔ پس قوم یونس سب کی سب مسلمان ہوگئی حضرت یونس کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آچکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لئے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا۔
إِذْ أَبَقَ إِلَى ٱلْفُلْكِ ٱلْمَشْحُونِ
Iz abaqa ilal fulkil mash hoon
[Mention] when he ran away to the laden ship.
جب بھاگ کر بھری ہوئی کشتی میں پہنچے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
واقعہ حضرت یونس ؑ۔ حضرت یونس ؑ کا قصہ سورة یونس میں بیان ہوچکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔ یہ نام ممکن ہے آپ کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہوگیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر حضرت یونس ؑ کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے بار بار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ کا نام نکلتا رہا اور خود آپ کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور حضرت یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے۔ چناچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب حضرت یونس پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ کو خیال گذرا کہ میں مرچکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کردی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ اے پروردگار میں نے تیرے لئے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہوگا۔ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن وامان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ۔ ابن عباس کی حدیث میں ہے آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بےچینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے چناچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت یونس نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔ اللہ نے فرمایا اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں ؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ہاں میں اسے نجات دوں گا۔ چناچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں حضرت یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نحیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لئے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کردیا جو صبح شام ان کے پاس آجاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورة انبیاء کی تفسیر میں بیان ہوچکے ہیں۔ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ یقطین کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنہ نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بھڑتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے۔ پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول ﷺ نہ تھے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں او معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے ایک لاکھ بیس ہزار تھے۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) اور آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) اور آیت (اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) میں ہے یعنی اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے۔ پس قوم یونس سب کی سب مسلمان ہوگئی حضرت یونس کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آچکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لئے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا۔
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ ٱلْمُدْحَضِينَ
Fasaahama fakaana minal mudhadeen
And he drew lots and was among the losers.
اس وقت قرعہ ڈالا تو انہوں نے زک اُٹھائی
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
واقعہ حضرت یونس ؑ۔ حضرت یونس ؑ کا قصہ سورة یونس میں بیان ہوچکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔ یہ نام ممکن ہے آپ کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہوگیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر حضرت یونس ؑ کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے بار بار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ کا نام نکلتا رہا اور خود آپ کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور حضرت یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے۔ چناچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب حضرت یونس پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ کو خیال گذرا کہ میں مرچکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کردی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ اے پروردگار میں نے تیرے لئے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہوگا۔ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن وامان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ۔ ابن عباس کی حدیث میں ہے آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بےچینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے چناچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت یونس نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔ اللہ نے فرمایا اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں ؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ہاں میں اسے نجات دوں گا۔ چناچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں حضرت یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نحیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لئے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کردیا جو صبح شام ان کے پاس آجاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورة انبیاء کی تفسیر میں بیان ہوچکے ہیں۔ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ یقطین کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنہ نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بھڑتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے۔ پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول ﷺ نہ تھے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں او معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے ایک لاکھ بیس ہزار تھے۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) اور آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) اور آیت (اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) میں ہے یعنی اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے۔ پس قوم یونس سب کی سب مسلمان ہوگئی حضرت یونس کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آچکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لئے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا۔
فَٱلْتَقَمَهُ ٱلْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ
Faltaqamahul hootu wa huwa muleem
Then the fish swallowed him, while he was blameworthy.
پھر مچھلی نے ان کو نگل لیا اور وہ (قابل) ملامت (کام) کرنے والے تھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
واقعہ حضرت یونس ؑ۔ حضرت یونس ؑ کا قصہ سورة یونس میں بیان ہوچکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔ یہ نام ممکن ہے آپ کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہوگیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر حضرت یونس ؑ کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے بار بار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ کا نام نکلتا رہا اور خود آپ کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور حضرت یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے۔ چناچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب حضرت یونس پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ کو خیال گذرا کہ میں مرچکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کردی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ اے پروردگار میں نے تیرے لئے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہوگا۔ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن وامان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ۔ ابن عباس کی حدیث میں ہے آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بےچینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے چناچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت یونس نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔ اللہ نے فرمایا اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں ؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ہاں میں اسے نجات دوں گا۔ چناچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں حضرت یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نحیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لئے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کردیا جو صبح شام ان کے پاس آجاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورة انبیاء کی تفسیر میں بیان ہوچکے ہیں۔ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ یقطین کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنہ نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بھڑتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے۔ پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول ﷺ نہ تھے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں او معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے ایک لاکھ بیس ہزار تھے۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) اور آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) اور آیت (اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) میں ہے یعنی اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے۔ پس قوم یونس سب کی سب مسلمان ہوگئی حضرت یونس کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آچکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لئے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا۔
فَلَوْلَآ أَنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلْمُسَبِّحِينَ
Falaw laaa annahoo kaana minal musabbiheen
And had he not been of those who exalt Allah,
پھر اگر وہ (خدا کی) پاکی بیان نہ کرتے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
واقعہ حضرت یونس ؑ۔ حضرت یونس ؑ کا قصہ سورة یونس میں بیان ہوچکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔ یہ نام ممکن ہے آپ کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہوگیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر حضرت یونس ؑ کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے بار بار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ کا نام نکلتا رہا اور خود آپ کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور حضرت یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے۔ چناچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب حضرت یونس پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ کو خیال گذرا کہ میں مرچکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کردی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ اے پروردگار میں نے تیرے لئے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہوگا۔ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن وامان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ۔ ابن عباس کی حدیث میں ہے آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بےچینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے چناچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت یونس نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔ اللہ نے فرمایا اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں ؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ہاں میں اسے نجات دوں گا۔ چناچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں حضرت یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نحیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لئے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کردیا جو صبح شام ان کے پاس آجاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورة انبیاء کی تفسیر میں بیان ہوچکے ہیں۔ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ یقطین کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنہ نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بھڑتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے۔ پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول ﷺ نہ تھے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں او معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے ایک لاکھ بیس ہزار تھے۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) اور آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) اور آیت (اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) میں ہے یعنی اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے۔ پس قوم یونس سب کی سب مسلمان ہوگئی حضرت یونس کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آچکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لئے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا۔
لَلَبِثَ فِى بَطْنِهِۦٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
Lalabisa fee batniheee ilaa Yawmi yub'asoon
He would have remained inside its belly until the Day they are resurrected.
تو اس روز تک کہ لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اسی کے پیٹ میں رہتے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
واقعہ حضرت یونس ؑ۔ حضرت یونس ؑ کا قصہ سورة یونس میں بیان ہوچکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔ یہ نام ممکن ہے آپ کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہوگیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر حضرت یونس ؑ کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے بار بار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ کا نام نکلتا رہا اور خود آپ کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور حضرت یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے۔ چناچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب حضرت یونس پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ کو خیال گذرا کہ میں مرچکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کردی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ اے پروردگار میں نے تیرے لئے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہوگا۔ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن وامان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ۔ ابن عباس کی حدیث میں ہے آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بےچینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے چناچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت یونس نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔ اللہ نے فرمایا اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں ؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ہاں میں اسے نجات دوں گا۔ چناچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں حضرت یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نحیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لئے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کردیا جو صبح شام ان کے پاس آجاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورة انبیاء کی تفسیر میں بیان ہوچکے ہیں۔ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ یقطین کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنہ نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بھڑتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے۔ پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول ﷺ نہ تھے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں او معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے ایک لاکھ بیس ہزار تھے۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) اور آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) اور آیت (اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) میں ہے یعنی اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے۔ پس قوم یونس سب کی سب مسلمان ہوگئی حضرت یونس کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آچکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لئے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا۔
فَنَبَذْنَٰهُ بِٱلْعَرَآءِ وَهُوَ سَقِيمٌ
Fanabaznaahu bil'araaa'i wa huwa saqeem
But We threw him onto the open shore while he was ill.
پھر ہم نے ان کو جب کہ وہ بیمار تھے فراخ میدان میں ڈال دیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
واقعہ حضرت یونس ؑ۔ حضرت یونس ؑ کا قصہ سورة یونس میں بیان ہوچکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔ یہ نام ممکن ہے آپ کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہوگیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر حضرت یونس ؑ کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے بار بار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ کا نام نکلتا رہا اور خود آپ کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور حضرت یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے۔ چناچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب حضرت یونس پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ کو خیال گذرا کہ میں مرچکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کردی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ اے پروردگار میں نے تیرے لئے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہوگا۔ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن وامان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ۔ ابن عباس کی حدیث میں ہے آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بےچینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے چناچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت یونس نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔ اللہ نے فرمایا اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں ؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ہاں میں اسے نجات دوں گا۔ چناچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں حضرت یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نحیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لئے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کردیا جو صبح شام ان کے پاس آجاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورة انبیاء کی تفسیر میں بیان ہوچکے ہیں۔ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ یقطین کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنہ نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بھڑتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے۔ پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول ﷺ نہ تھے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں او معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے ایک لاکھ بیس ہزار تھے۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) اور آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) اور آیت (اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) میں ہے یعنی اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے۔ پس قوم یونس سب کی سب مسلمان ہوگئی حضرت یونس کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آچکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لئے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا۔
وَأَنۢبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّن يَقْطِينٍ
Wa ambatnaa 'alaihi shajaratam mai yaqteen
And We caused to grow over him a gourd vine.
اور ان پر کدو کا درخت اُگایا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
واقعہ حضرت یونس ؑ۔ حضرت یونس ؑ کا قصہ سورة یونس میں بیان ہوچکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔ یہ نام ممکن ہے آپ کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہوگیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر حضرت یونس ؑ کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے بار بار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ کا نام نکلتا رہا اور خود آپ کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور حضرت یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے۔ چناچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب حضرت یونس پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ کو خیال گذرا کہ میں مرچکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کردی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ اے پروردگار میں نے تیرے لئے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہوگا۔ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن وامان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ۔ ابن عباس کی حدیث میں ہے آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بےچینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے چناچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت یونس نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔ اللہ نے فرمایا اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں ؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ہاں میں اسے نجات دوں گا۔ چناچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں حضرت یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نحیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لئے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کردیا جو صبح شام ان کے پاس آجاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورة انبیاء کی تفسیر میں بیان ہوچکے ہیں۔ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ یقطین کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنہ نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بھڑتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے۔ پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول ﷺ نہ تھے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں او معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے ایک لاکھ بیس ہزار تھے۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) اور آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) اور آیت (اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) میں ہے یعنی اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے۔ پس قوم یونس سب کی سب مسلمان ہوگئی حضرت یونس کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آچکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لئے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا۔
وَأَرْسَلْنَٰهُ إِلَىٰ مِا۟ئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ
Wa arsalnaahu ilaa mi'ati alfin aw yazeedoon
And We sent him to [his people of] a hundred thousand or more.
اور ان کو لاکھ یا اس سے زیادہ (لوگوں) کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
واقعہ حضرت یونس ؑ۔ حضرت یونس ؑ کا قصہ سورة یونس میں بیان ہوچکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔ یہ نام ممکن ہے آپ کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہوگیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر حضرت یونس ؑ کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے بار بار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ کا نام نکلتا رہا اور خود آپ کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور حضرت یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے۔ چناچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب حضرت یونس پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ کو خیال گذرا کہ میں مرچکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کردی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ اے پروردگار میں نے تیرے لئے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہوگا۔ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن وامان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ۔ ابن عباس کی حدیث میں ہے آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بےچینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے چناچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت یونس نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔ اللہ نے فرمایا اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں ؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ہاں میں اسے نجات دوں گا۔ چناچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں حضرت یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نحیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لئے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کردیا جو صبح شام ان کے پاس آجاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورة انبیاء کی تفسیر میں بیان ہوچکے ہیں۔ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ یقطین کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنہ نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بھڑتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے۔ پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول ﷺ نہ تھے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں او معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے ایک لاکھ بیس ہزار تھے۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) اور آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) اور آیت (اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) میں ہے یعنی اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے۔ پس قوم یونس سب کی سب مسلمان ہوگئی حضرت یونس کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آچکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لئے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا۔
فَـَٔامَنُوا۟ فَمَتَّعْنَٰهُمْ إِلَىٰ حِينٍ
Fa aamanoo famatta' naahum ilaa heen
And they believed, so We gave them enjoyment [of life] for a time.
تو وہ ایمان لے آئے سو ہم نے بھی ان کو (دنیا میں) ایک وقت (مقرر) تک فائدے دیتے رہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
واقعہ حضرت یونس ؑ۔ حضرت یونس ؑ کا قصہ سورة یونس میں بیان ہوچکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔ یہ نام ممکن ہے آپ کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہوگیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر حضرت یونس ؑ کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے بار بار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ کا نام نکلتا رہا اور خود آپ کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور حضرت یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے۔ چناچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب حضرت یونس پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ کو خیال گذرا کہ میں مرچکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کردی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ اے پروردگار میں نے تیرے لئے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہوگا۔ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن وامان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ۔ ابن عباس کی حدیث میں ہے آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بےچینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے چناچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت یونس نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔ اللہ نے فرمایا اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں ؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ہاں میں اسے نجات دوں گا۔ چناچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں حضرت یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نحیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لئے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کردیا جو صبح شام ان کے پاس آجاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورة انبیاء کی تفسیر میں بیان ہوچکے ہیں۔ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ یقطین کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنہ نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بھڑتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے۔ پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول ﷺ نہ تھے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں او معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے ایک لاکھ بیس ہزار تھے۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) اور آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) اور آیت (اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) میں ہے یعنی اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے۔ پس قوم یونس سب کی سب مسلمان ہوگئی حضرت یونس کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آچکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لئے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا۔
فَٱسْتَفْتِهِمْ أَلِرَبِّكَ ٱلْبَنَاتُ وَلَهُمُ ٱلْبَنُونَ
Fastaftihim ali Rabbikal banaatu wa lahumul banoon
So inquire of them, [O Muhammad], "Does your Lord have daughters while they have sons?
ان سے پوچھو تو کہ بھلا تمہارے پروردگار کے لئے تو بیٹیاں اور ان کے لئے بیٹے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
مشرکین کا اللہ تعالیٰ کے لئے دوہرا معیار۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ اپنے لئے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں۔ پس فرماتا ہے ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے ؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہوں ؟ پھر فرماتا ہے کہ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے۔ قرآن کی اور آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19) 43۔ الزخرف :19) ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کردی۔ پھر فرماتا ہے کہ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لئے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لئے پسند فرمائیں ؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے۔ یہاں فرمایا کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے ؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں حضرت صدیق اکبر نے سوال کیا کہ پھر ان کی مائیں کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور بےمثبت مگر اس صورت میں کہ یعفون کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کرلیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ یہ استثناء (انھم لمحضرون) سے ہے یعنی سب کے سب عذاب میں پھانس لئے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے واللہ اعلم۔
أَمْ خَلَقْنَا ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ إِنَٰثًا وَهُمْ شَٰهِدُونَ
Am khalaqnal malaaa'i kata inaasanw wa hm shaahidoon
Or did We create the angels as females while they were witnesses?"
یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
مشرکین کا اللہ تعالیٰ کے لئے دوہرا معیار۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ اپنے لئے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں۔ پس فرماتا ہے ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے ؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہوں ؟ پھر فرماتا ہے کہ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے۔ قرآن کی اور آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19) 43۔ الزخرف :19) ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کردی۔ پھر فرماتا ہے کہ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لئے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لئے پسند فرمائیں ؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے۔ یہاں فرمایا کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے ؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں حضرت صدیق اکبر نے سوال کیا کہ پھر ان کی مائیں کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور بےمثبت مگر اس صورت میں کہ یعفون کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کرلیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ یہ استثناء (انھم لمحضرون) سے ہے یعنی سب کے سب عذاب میں پھانس لئے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے واللہ اعلم۔
أَلَآ إِنَّهُم مِّنْ إِفْكِهِمْ لَيَقُولُونَ
Alaaa innahum min ifkihim la yaqooloon
Unquestionably, it is out of their [invented] falsehood that they say,
دیکھو یہ اپنی جھوٹ بنائی ہوئی (بات) کہتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
مشرکین کا اللہ تعالیٰ کے لئے دوہرا معیار۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ اپنے لئے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں۔ پس فرماتا ہے ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے ؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہوں ؟ پھر فرماتا ہے کہ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے۔ قرآن کی اور آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19) 43۔ الزخرف :19) ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کردی۔ پھر فرماتا ہے کہ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لئے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لئے پسند فرمائیں ؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے۔ یہاں فرمایا کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے ؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں حضرت صدیق اکبر نے سوال کیا کہ پھر ان کی مائیں کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور بےمثبت مگر اس صورت میں کہ یعفون کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کرلیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ یہ استثناء (انھم لمحضرون) سے ہے یعنی سب کے سب عذاب میں پھانس لئے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے واللہ اعلم۔
وَلَدَ ٱللَّهُ وَإِنَّهُمْ لَكَٰذِبُونَ
Waladal laahu wa innhum lakaaziboon
" Allah has begotten," and indeed, they are liars.
کہ خدا کے اولاد ہے کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
مشرکین کا اللہ تعالیٰ کے لئے دوہرا معیار۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ اپنے لئے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں۔ پس فرماتا ہے ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے ؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہوں ؟ پھر فرماتا ہے کہ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے۔ قرآن کی اور آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19) 43۔ الزخرف :19) ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کردی۔ پھر فرماتا ہے کہ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لئے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لئے پسند فرمائیں ؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے۔ یہاں فرمایا کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے ؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں حضرت صدیق اکبر نے سوال کیا کہ پھر ان کی مائیں کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور بےمثبت مگر اس صورت میں کہ یعفون کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کرلیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ یہ استثناء (انھم لمحضرون) سے ہے یعنی سب کے سب عذاب میں پھانس لئے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے واللہ اعلم۔
أَصْطَفَى ٱلْبَنَاتِ عَلَى ٱلْبَنِينَ
Astafal banaati 'alal baneen
Has He chosen daughters over sons?
کیا اس نے بیٹوں کی نسبت بیٹیوں کو پسند کیا ہے؟
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
مشرکین کا اللہ تعالیٰ کے لئے دوہرا معیار۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ اپنے لئے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں۔ پس فرماتا ہے ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے ؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہوں ؟ پھر فرماتا ہے کہ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے۔ قرآن کی اور آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19) 43۔ الزخرف :19) ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کردی۔ پھر فرماتا ہے کہ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لئے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لئے پسند فرمائیں ؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے۔ یہاں فرمایا کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے ؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں حضرت صدیق اکبر نے سوال کیا کہ پھر ان کی مائیں کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور بےمثبت مگر اس صورت میں کہ یعفون کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کرلیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ یہ استثناء (انھم لمحضرون) سے ہے یعنی سب کے سب عذاب میں پھانس لئے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے واللہ اعلم۔
مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ
Maa lakum kaifa tahkumoon
What is [wrong] with you? How do you make judgement?
تم کیسے لوگ ہو، کس طرح کا فیصلہ کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
مشرکین کا اللہ تعالیٰ کے لئے دوہرا معیار۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ اپنے لئے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں۔ پس فرماتا ہے ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے ؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہوں ؟ پھر فرماتا ہے کہ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے۔ قرآن کی اور آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19) 43۔ الزخرف :19) ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کردی۔ پھر فرماتا ہے کہ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لئے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لئے پسند فرمائیں ؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے۔ یہاں فرمایا کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے ؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں حضرت صدیق اکبر نے سوال کیا کہ پھر ان کی مائیں کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور بےمثبت مگر اس صورت میں کہ یعفون کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کرلیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ یہ استثناء (انھم لمحضرون) سے ہے یعنی سب کے سب عذاب میں پھانس لئے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے واللہ اعلم۔
أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
Afalaa tazakkaroon
Then will you not be reminded?
بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
مشرکین کا اللہ تعالیٰ کے لئے دوہرا معیار۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ اپنے لئے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں۔ پس فرماتا ہے ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے ؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہوں ؟ پھر فرماتا ہے کہ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے۔ قرآن کی اور آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19) 43۔ الزخرف :19) ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کردی۔ پھر فرماتا ہے کہ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لئے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لئے پسند فرمائیں ؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے۔ یہاں فرمایا کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے ؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں حضرت صدیق اکبر نے سوال کیا کہ پھر ان کی مائیں کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور بےمثبت مگر اس صورت میں کہ یعفون کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کرلیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ یہ استثناء (انھم لمحضرون) سے ہے یعنی سب کے سب عذاب میں پھانس لئے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے واللہ اعلم۔
أَمْ لَكُمْ سُلْطَٰنٌ مُّبِينٌ
Am lakum sultaanum mubeen
Or do you have a clear authority?
یا تمہارے پاس کوئی صریح دلیل ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
مشرکین کا اللہ تعالیٰ کے لئے دوہرا معیار۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ اپنے لئے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں۔ پس فرماتا ہے ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے ؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہوں ؟ پھر فرماتا ہے کہ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے۔ قرآن کی اور آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19) 43۔ الزخرف :19) ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کردی۔ پھر فرماتا ہے کہ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لئے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لئے پسند فرمائیں ؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے۔ یہاں فرمایا کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے ؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں حضرت صدیق اکبر نے سوال کیا کہ پھر ان کی مائیں کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور بےمثبت مگر اس صورت میں کہ یعفون کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کرلیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ یہ استثناء (انھم لمحضرون) سے ہے یعنی سب کے سب عذاب میں پھانس لئے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے واللہ اعلم۔
فَأْتُوا۟ بِكِتَٰبِكُمْ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ
Faatoo bi Kitaabikum in kuntum saadiqeen
Then produce your scripture, if you should be truthful.
اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
مشرکین کا اللہ تعالیٰ کے لئے دوہرا معیار۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ اپنے لئے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں۔ پس فرماتا ہے ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے ؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہوں ؟ پھر فرماتا ہے کہ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے۔ قرآن کی اور آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19) 43۔ الزخرف :19) ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کردی۔ پھر فرماتا ہے کہ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لئے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لئے پسند فرمائیں ؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے۔ یہاں فرمایا کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے ؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں حضرت صدیق اکبر نے سوال کیا کہ پھر ان کی مائیں کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور بےمثبت مگر اس صورت میں کہ یعفون کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کرلیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ یہ استثناء (انھم لمحضرون) سے ہے یعنی سب کے سب عذاب میں پھانس لئے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے واللہ اعلم۔
وَجَعَلُوا۟ بَيْنَهُۥ وَبَيْنَ ٱلْجِنَّةِ نَسَبًا وَلَقَدْ عَلِمَتِ ٱلْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ
Wa ja'aloo bainahoo wa bainal jinnati nasabaa; wa laqad 'alimatil jinnatu innahum lamuhdaroon
And they have claimed between Him and the jinn a lineage, but the jinn have already known that they [who made such claims] will be brought to [punishment].
اور انہوں نے خدا میں اور جنوں میں رشتہ مقرر کیا۔ حالانکہ جنات جانتے ہیں کہ وہ (خدا کے سامنے) حاضر کئے جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
مشرکین کا اللہ تعالیٰ کے لئے دوہرا معیار۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ اپنے لئے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں۔ پس فرماتا ہے ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے ؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہوں ؟ پھر فرماتا ہے کہ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے۔ قرآن کی اور آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19) 43۔ الزخرف :19) ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کردی۔ پھر فرماتا ہے کہ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لئے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لئے پسند فرمائیں ؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے۔ یہاں فرمایا کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے ؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں حضرت صدیق اکبر نے سوال کیا کہ پھر ان کی مائیں کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور بےمثبت مگر اس صورت میں کہ یعفون کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کرلیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ یہ استثناء (انھم لمحضرون) سے ہے یعنی سب کے سب عذاب میں پھانس لئے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے واللہ اعلم۔
سُبْحَٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ
Subhaanal laahi 'ammaa yasifoon
Exalted is Allah above what they describe,
یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں خدا اس سے پاک ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
مشرکین کا اللہ تعالیٰ کے لئے دوہرا معیار۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ اپنے لئے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں۔ پس فرماتا ہے ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے ؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہوں ؟ پھر فرماتا ہے کہ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے۔ قرآن کی اور آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19) 43۔ الزخرف :19) ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کردی۔ پھر فرماتا ہے کہ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لئے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لئے پسند فرمائیں ؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے۔ یہاں فرمایا کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے ؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں حضرت صدیق اکبر نے سوال کیا کہ پھر ان کی مائیں کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور بےمثبت مگر اس صورت میں کہ یعفون کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کرلیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ یہ استثناء (انھم لمحضرون) سے ہے یعنی سب کے سب عذاب میں پھانس لئے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے واللہ اعلم۔
إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ
Illaa 'ibaadal laahil mukhlaseen
Except the chosen servants of Allah [who do not share in that sin].
مگر خدا کے بندگان خالص (مبتلائے عذاب نہیں ہوں گے)
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
مشرکین کا اللہ تعالیٰ کے لئے دوہرا معیار۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ اپنے لئے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں۔ پس فرماتا ہے ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے ؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہوں ؟ پھر فرماتا ہے کہ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے۔ قرآن کی اور آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19) 43۔ الزخرف :19) ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کردی۔ پھر فرماتا ہے کہ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لئے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لئے پسند فرمائیں ؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے۔ یہاں فرمایا کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے ؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں حضرت صدیق اکبر نے سوال کیا کہ پھر ان کی مائیں کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور بےمثبت مگر اس صورت میں کہ یعفون کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کرلیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ یہ استثناء (انھم لمحضرون) سے ہے یعنی سب کے سب عذاب میں پھانس لئے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے واللہ اعلم۔
فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ
Fa innakum wa maa ta'ubdoon
So indeed, you [disbelievers] and whatever you worship,
سو تم اور جن کو تم پوجتے ہو
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
فرشتوں کے اوصاف۔اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ اس سے وہی گمراہ ہوسکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں۔ ازاں بعد فرشتوں کی برات اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کرسکتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی۔ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کردیا گیا اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں (وَالصّــٰۗفّٰتِ صَفًّا ۙ) 37۔ الصافات :1) کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہوگئیں۔ حضرت عمر اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہوجاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں (وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّاۗفُّوْنَ01605ۚ) 37۔ الصافات :165) اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔ پھر آپ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے (ابن ابی حاتم) صحیح مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لئے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لئے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی۔ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں اور آیت میں ہے (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا 88ۭ) 19۔ مریم :88) ، یعنی کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لئے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی ﷺ ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آجائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسی اور آیت میں ہے (وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ لَّيَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ ۚ فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَۨا 42ۙ) 35۔ فاطر :42) ، یعنی بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی ہماری موجودگی میں آجائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے لیکن جب نبی اللہ آگئے تو بھاگ کھڑے ہوئے اور آیت میں فرمایا (اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ01506ۙ) 6۔ الانعام :156) ، پس یہاں فرمایا کہ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی ﷺ کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟
مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ بِفَٰتِنِينَ
Maaa antum 'alaihi befaaatineen
You cannot tempt [anyone] away from Him
خدا کے خلاف بہکا نہیں سکتے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
فرشتوں کے اوصاف۔اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ اس سے وہی گمراہ ہوسکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں۔ ازاں بعد فرشتوں کی برات اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کرسکتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی۔ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کردیا گیا اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں (وَالصّــٰۗفّٰتِ صَفًّا ۙ) 37۔ الصافات :1) کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہوگئیں۔ حضرت عمر اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہوجاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں (وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّاۗفُّوْنَ01605ۚ) 37۔ الصافات :165) اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔ پھر آپ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے (ابن ابی حاتم) صحیح مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لئے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لئے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی۔ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں اور آیت میں ہے (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا 88ۭ) 19۔ مریم :88) ، یعنی کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لئے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی ﷺ ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آجائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسی اور آیت میں ہے (وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ لَّيَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ ۚ فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَۨا 42ۙ) 35۔ فاطر :42) ، یعنی بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی ہماری موجودگی میں آجائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے لیکن جب نبی اللہ آگئے تو بھاگ کھڑے ہوئے اور آیت میں فرمایا (اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ01506ۙ) 6۔ الانعام :156) ، پس یہاں فرمایا کہ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی ﷺ کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟
إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ ٱلْجَحِيمِ
Illaa man huwa saalil jaheem
Except he who is to [enter and] burn in the Hellfire.
مگر اس کو جو جہنم میں جانے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
فرشتوں کے اوصاف۔اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ اس سے وہی گمراہ ہوسکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں۔ ازاں بعد فرشتوں کی برات اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کرسکتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی۔ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کردیا گیا اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں (وَالصّــٰۗفّٰتِ صَفًّا ۙ) 37۔ الصافات :1) کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہوگئیں۔ حضرت عمر اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہوجاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں (وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّاۗفُّوْنَ01605ۚ) 37۔ الصافات :165) اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔ پھر آپ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے (ابن ابی حاتم) صحیح مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لئے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لئے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی۔ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں اور آیت میں ہے (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا 88ۭ) 19۔ مریم :88) ، یعنی کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لئے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی ﷺ ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آجائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسی اور آیت میں ہے (وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ لَّيَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ ۚ فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَۨا 42ۙ) 35۔ فاطر :42) ، یعنی بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی ہماری موجودگی میں آجائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے لیکن جب نبی اللہ آگئے تو بھاگ کھڑے ہوئے اور آیت میں فرمایا (اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ01506ۙ) 6۔ الانعام :156) ، پس یہاں فرمایا کہ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی ﷺ کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟
وَمَا مِنَّآ إِلَّا لَهُۥ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ
Wa maa minnasa illaa lahoo maqaamum ma'loom
[The angels say], "There is not among us any except that he has a known position.
اور (فرشتے کہتے ہیں کہ) ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
فرشتوں کے اوصاف۔اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ اس سے وہی گمراہ ہوسکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں۔ ازاں بعد فرشتوں کی برات اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کرسکتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی۔ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کردیا گیا اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں (وَالصّــٰۗفّٰتِ صَفًّا ۙ) 37۔ الصافات :1) کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہوگئیں۔ حضرت عمر اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہوجاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں (وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّاۗفُّوْنَ01605ۚ) 37۔ الصافات :165) اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔ پھر آپ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے (ابن ابی حاتم) صحیح مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لئے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لئے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی۔ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں اور آیت میں ہے (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا 88ۭ) 19۔ مریم :88) ، یعنی کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لئے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی ﷺ ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آجائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسی اور آیت میں ہے (وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ لَّيَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ ۚ فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَۨا 42ۙ) 35۔ فاطر :42) ، یعنی بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی ہماری موجودگی میں آجائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے لیکن جب نبی اللہ آگئے تو بھاگ کھڑے ہوئے اور آیت میں فرمایا (اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ01506ۙ) 6۔ الانعام :156) ، پس یہاں فرمایا کہ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی ﷺ کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟
وَإِنَّا لَنَحْنُ ٱلصَّآفُّونَ
Wa innaa llanah nus saaffoon
And indeed, we are those who line up [for prayer].
اور ہم صف باندھے رہتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
فرشتوں کے اوصاف۔اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ اس سے وہی گمراہ ہوسکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں۔ ازاں بعد فرشتوں کی برات اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کرسکتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی۔ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کردیا گیا اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں (وَالصّــٰۗفّٰتِ صَفًّا ۙ) 37۔ الصافات :1) کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہوگئیں۔ حضرت عمر اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہوجاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں (وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّاۗفُّوْنَ01605ۚ) 37۔ الصافات :165) اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔ پھر آپ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے (ابن ابی حاتم) صحیح مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لئے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لئے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی۔ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں اور آیت میں ہے (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا 88ۭ) 19۔ مریم :88) ، یعنی کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لئے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی ﷺ ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آجائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسی اور آیت میں ہے (وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ لَّيَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ ۚ فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَۨا 42ۙ) 35۔ فاطر :42) ، یعنی بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی ہماری موجودگی میں آجائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے لیکن جب نبی اللہ آگئے تو بھاگ کھڑے ہوئے اور آیت میں فرمایا (اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ01506ۙ) 6۔ الانعام :156) ، پس یہاں فرمایا کہ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی ﷺ کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟
وَإِنَّا لَنَحْنُ ٱلْمُسَبِّحُونَ
Wa innaa lanah nul musabbihoon
And indeed, we are those who exalt Allah."
اور (خدائے) پاک (ذات) کا ذکر کرتے رہتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
فرشتوں کے اوصاف۔اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ اس سے وہی گمراہ ہوسکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں۔ ازاں بعد فرشتوں کی برات اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کرسکتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی۔ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کردیا گیا اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں (وَالصّــٰۗفّٰتِ صَفًّا ۙ) 37۔ الصافات :1) کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہوگئیں۔ حضرت عمر اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہوجاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں (وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّاۗفُّوْنَ01605ۚ) 37۔ الصافات :165) اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔ پھر آپ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے (ابن ابی حاتم) صحیح مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لئے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لئے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی۔ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں اور آیت میں ہے (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا 88ۭ) 19۔ مریم :88) ، یعنی کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لئے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی ﷺ ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آجائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسی اور آیت میں ہے (وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ لَّيَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ ۚ فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَۨا 42ۙ) 35۔ فاطر :42) ، یعنی بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی ہماری موجودگی میں آجائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے لیکن جب نبی اللہ آگئے تو بھاگ کھڑے ہوئے اور آیت میں فرمایا (اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ01506ۙ) 6۔ الانعام :156) ، پس یہاں فرمایا کہ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی ﷺ کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟
وَإِن كَانُوا۟ لَيَقُولُونَ
Wa in kaanoo la yaqooloon
And indeed, the disbelievers used to say,
اور یہ لوگ کہا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
فرشتوں کے اوصاف۔اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ اس سے وہی گمراہ ہوسکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں۔ ازاں بعد فرشتوں کی برات اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کرسکتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی۔ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کردیا گیا اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں (وَالصّــٰۗفّٰتِ صَفًّا ۙ) 37۔ الصافات :1) کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہوگئیں۔ حضرت عمر اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہوجاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں (وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّاۗفُّوْنَ01605ۚ) 37۔ الصافات :165) اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔ پھر آپ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے (ابن ابی حاتم) صحیح مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لئے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لئے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی۔ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں اور آیت میں ہے (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا 88ۭ) 19۔ مریم :88) ، یعنی کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لئے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی ﷺ ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آجائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسی اور آیت میں ہے (وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ لَّيَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ ۚ فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَۨا 42ۙ) 35۔ فاطر :42) ، یعنی بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی ہماری موجودگی میں آجائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے لیکن جب نبی اللہ آگئے تو بھاگ کھڑے ہوئے اور آیت میں فرمایا (اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ01506ۙ) 6۔ الانعام :156) ، پس یہاں فرمایا کہ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی ﷺ کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟
لَوْ أَنَّ عِندَنَا ذِكْرًا مِّنَ ٱلْأَوَّلِينَ
Law anna 'indana zikram minal awwaleen
"If we had a message from [those of] the former peoples,
کہ اگر ہمارے پاس اگلوں کی کوئی نصیحت (کی کتاب) ہوتی
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
فرشتوں کے اوصاف۔اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ اس سے وہی گمراہ ہوسکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں۔ ازاں بعد فرشتوں کی برات اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کرسکتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی۔ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کردیا گیا اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں (وَالصّــٰۗفّٰتِ صَفًّا ۙ) 37۔ الصافات :1) کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہوگئیں۔ حضرت عمر اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہوجاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں (وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّاۗفُّوْنَ01605ۚ) 37۔ الصافات :165) اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔ پھر آپ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے (ابن ابی حاتم) صحیح مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لئے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لئے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی۔ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں اور آیت میں ہے (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا 88ۭ) 19۔ مریم :88) ، یعنی کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لئے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی ﷺ ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آجائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسی اور آیت میں ہے (وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ لَّيَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ ۚ فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَۨا 42ۙ) 35۔ فاطر :42) ، یعنی بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی ہماری موجودگی میں آجائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے لیکن جب نبی اللہ آگئے تو بھاگ کھڑے ہوئے اور آیت میں فرمایا (اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ01506ۙ) 6۔ الانعام :156) ، پس یہاں فرمایا کہ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی ﷺ کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟
لَكُنَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ
Lakunna 'ibaadal laahil mukhlaseen
We would have been the chosen servants of Allah."
تو ہم خدا کے خالص بندے ہوتے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
فرشتوں کے اوصاف۔اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ اس سے وہی گمراہ ہوسکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں۔ ازاں بعد فرشتوں کی برات اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کرسکتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی۔ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کردیا گیا اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں (وَالصّــٰۗفّٰتِ صَفًّا ۙ) 37۔ الصافات :1) کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہوگئیں۔ حضرت عمر اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہوجاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں (وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّاۗفُّوْنَ01605ۚ) 37۔ الصافات :165) اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔ پھر آپ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے (ابن ابی حاتم) صحیح مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لئے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لئے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی۔ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں اور آیت میں ہے (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا 88ۭ) 19۔ مریم :88) ، یعنی کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لئے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی ﷺ ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آجائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسی اور آیت میں ہے (وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ لَّيَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ ۚ فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَۨا 42ۙ) 35۔ فاطر :42) ، یعنی بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی ہماری موجودگی میں آجائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے لیکن جب نبی اللہ آگئے تو بھاگ کھڑے ہوئے اور آیت میں فرمایا (اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ01506ۙ) 6۔ الانعام :156) ، پس یہاں فرمایا کہ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی ﷺ کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟
فَكَفَرُوا۟ بِهِۦ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
Fakafaroo bihee fasawfa ya'lamoon
But they disbelieved in it, so they are going to know.
لیکن (اب) اس سے کفر کرتے ہیں سو عنقریب ان کو (اس کا نتیجہ) معلوم ہوجائے گا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
فرشتوں کے اوصاف۔اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ اس سے وہی گمراہ ہوسکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں۔ ازاں بعد فرشتوں کی برات اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کرسکتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی۔ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کردیا گیا اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں (وَالصّــٰۗفّٰتِ صَفًّا ۙ) 37۔ الصافات :1) کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہوگئیں۔ حضرت عمر اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہوجاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں (وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّاۗفُّوْنَ01605ۚ) 37۔ الصافات :165) اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔ پھر آپ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے (ابن ابی حاتم) صحیح مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لئے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لئے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی۔ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں اور آیت میں ہے (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا 88ۭ) 19۔ مریم :88) ، یعنی کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لئے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی ﷺ ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آجائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسی اور آیت میں ہے (وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ لَّيَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ ۚ فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَۨا 42ۙ) 35۔ فاطر :42) ، یعنی بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی ہماری موجودگی میں آجائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے لیکن جب نبی اللہ آگئے تو بھاگ کھڑے ہوئے اور آیت میں فرمایا (اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ01506ۙ) 6۔ الانعام :156) ، پس یہاں فرمایا کہ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی ﷺ کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟
وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا ٱلْمُرْسَلِينَ
Wa laqad sabaqat Kalimatunaa li'ibaadinal mursa leen
And Our word has already preceded for Our servants, the messengers,
اور اپنے پیغام پہنچانے والے بندوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
عذاب الٰہی آ کر رہے گا۔ ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، اور فرمایا (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) یعنی میں میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے ؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کردیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے ؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لئے جاتے ہیں ؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا ؟ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہوگا۔ یہ ہلاک اور برباد کردیئے جائیں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں حضور ﷺ کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بیخبر ی میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی اس وقت آپ نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے۔ پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لئے بےپرواہ ہوجا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے۔
إِنَّهُمْ لَهُمُ ٱلْمَنصُورُونَ
Innaa hum lahumul mansooroon
[That] indeed, they would be those given victory
کہ وہی (مظفرو) منصور ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
عذاب الٰہی آ کر رہے گا۔ ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، اور فرمایا (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) یعنی میں میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے ؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کردیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے ؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لئے جاتے ہیں ؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا ؟ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہوگا۔ یہ ہلاک اور برباد کردیئے جائیں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں حضور ﷺ کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بیخبر ی میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی اس وقت آپ نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے۔ پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لئے بےپرواہ ہوجا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے۔
وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ ٱلْغَٰلِبُونَ
Wa inna jundana lahumul ghaaliboon
And [that] indeed, Our soldiers will be those who overcome.
اور ہمارا لشکر غالب رہے گا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
عذاب الٰہی آ کر رہے گا۔ ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، اور فرمایا (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) یعنی میں میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے ؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کردیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے ؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لئے جاتے ہیں ؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا ؟ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہوگا۔ یہ ہلاک اور برباد کردیئے جائیں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں حضور ﷺ کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بیخبر ی میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی اس وقت آپ نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے۔ پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لئے بےپرواہ ہوجا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے۔
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍ
Fatawalla 'anhum hatta heen
So, [O Muhammad], leave them for a time.
تو ایک وقت تک ان سے اعراض کئے رہو
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
عذاب الٰہی آ کر رہے گا۔ ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، اور فرمایا (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) یعنی میں میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے ؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کردیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے ؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لئے جاتے ہیں ؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا ؟ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہوگا۔ یہ ہلاک اور برباد کردیئے جائیں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں حضور ﷺ کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بیخبر ی میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی اس وقت آپ نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے۔ پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لئے بےپرواہ ہوجا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے۔
وَأَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ
Wa absirhum fasawfa yubsiroon
And see [what will befall] them, for they are going to see.
اور انہیں دیکھتے رہو۔ یہ بھی عنقریب (کفر کا انجام) دیکھ لیں گے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
عذاب الٰہی آ کر رہے گا۔ ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، اور فرمایا (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) یعنی میں میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے ؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کردیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے ؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لئے جاتے ہیں ؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا ؟ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہوگا۔ یہ ہلاک اور برباد کردیئے جائیں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں حضور ﷺ کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بیخبر ی میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی اس وقت آپ نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے۔ پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لئے بےپرواہ ہوجا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے۔
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ
Afabi'azaabinaa yasta'jiloon
Then for Our punishment are they impatient?
کیا یہ ہمارے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
عذاب الٰہی آ کر رہے گا۔ ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، اور فرمایا (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) یعنی میں میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے ؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کردیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے ؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لئے جاتے ہیں ؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا ؟ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہوگا۔ یہ ہلاک اور برباد کردیئے جائیں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں حضور ﷺ کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بیخبر ی میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی اس وقت آپ نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے۔ پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لئے بےپرواہ ہوجا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے۔
فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَآءَ صَبَاحُ ٱلْمُنذَرِينَ
Fa izaa nazala bisaahatihim fasaaa'a sabaahul munzareen
But when it descends in their territory, then evil is the morning of those who were warned.
مگر جب وہ ان کے میدان میں آ اُترے گا تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا ان کے لئے برا دن ہوگا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
عذاب الٰہی آ کر رہے گا۔ ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، اور فرمایا (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) یعنی میں میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے ؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کردیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے ؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لئے جاتے ہیں ؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا ؟ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہوگا۔ یہ ہلاک اور برباد کردیئے جائیں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں حضور ﷺ کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بیخبر ی میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی اس وقت آپ نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے۔ پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لئے بےپرواہ ہوجا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے۔
وَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍ
Wa tawalla 'anhum hattaa heen
And leave them for a time.
اور ایک وقت تک ان سے منہ پھیرے رہو
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
عذاب الٰہی آ کر رہے گا۔ ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، اور فرمایا (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) یعنی میں میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے ؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کردیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے ؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لئے جاتے ہیں ؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا ؟ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہوگا۔ یہ ہلاک اور برباد کردیئے جائیں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں حضور ﷺ کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بیخبر ی میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی اس وقت آپ نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے۔ پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لئے بےپرواہ ہوجا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے۔
وَأَبْصِرْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ
Wa absir fasawfa yubsiroon
And see, for they are going to see.
اور دیکھتے رہو یہ بھی عنقریب (نتیجہ) دیکھ لیں گے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
عذاب الٰہی آ کر رہے گا۔ ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، اور فرمایا (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) یعنی میں میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے ؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کردیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے ؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لئے جاتے ہیں ؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا ؟ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہوگا۔ یہ ہلاک اور برباد کردیئے جائیں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں حضور ﷺ کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بیخبر ی میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی اس وقت آپ نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے۔ پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لئے بےپرواہ ہوجا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے۔
سُبْحَٰنَ رَبِّكَ رَبِّ ٱلْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ
Subhaana Rabbika Rabbil 'izzati 'amma yasifoon
Exalted is your Lord, the Lord of might, above what they describe.
یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں تمہارا پروردگار جو صاحب عزت ہے اس سے (پاک ہے)
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اللہ تعالیٰ مشرکین کے بہتانات سے مبرا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے اپنی برات بیان فرماتا ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے تھے۔ جیسے اولاد شریک وغیرہ۔ وہ بہت بڑی اور لازوال عزت والا ہے۔ ان جھوٹے اور مفتری لوگوں کے بہتان سے وہ پاک اور منزہ ہے۔ اللہ کے رسولوں پر سلام ہے اس لئے کہ ان کی تمام باتیں ان عیوب سے مبرا ہیں جو مشرکوں کی باتوں میں موجود ہیں بلکہ نبیوں کی باتیں اور اوصاف جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بیان کرتے ہیں سب صحیح اور برحق ہیں۔ اسی کی ذات کے لئے تمام حمد وثناء ہے دنیا اور آخرت میں ابتدا اور انتہاء کا وہی سزا وار تعریف ہے۔ ہر حال میں قابل حمد وہی ہے۔ تسبیح سے ہر طرح کے نقصان سے اس کی ذات پاک سے دوری ثابت ہوتی ہے، تو ثابت ہوتا ہے کہ ہر طرح کے کمالات کی مالک اس کی ذات واحد ہے۔ اسی کو صاف لفظوں میں حمد ثابت کیا۔ تاکہ نقصانات کی نفی اور کمالات کا اثبات ہوجائے۔ ایسے ہی قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں تسبیح اور حمد کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت قتادہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تم جب مجھ پر سلام بھیجو اور نبیوں پر بھی سلام بھیجو کیونکہ میں بھی منجملہ اور نبیوں میں سے ایک نبی ہی ہوں (ابن ابی حاتم) یہ حدیث مسند میں بھی مروی ہے۔ ابو یعلی کی ایک ضعیف حدیث میں ہے جب حضور سلام کا ارادہ کرتے تو ان تینوں آیتوں کو پڑھ کر سلام کرتے۔ ابن ابی حاتم میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ بھرپور پیمانے سے ناپ کر اجر پائے تو وہ جس کسی مجلس میں ہو وہاں سے اٹھتے ہوئے یہ تینوں آیتیں پڑھ لے اور سند سے یہ روایت حضرت علی سے موقوفاً مروی ہے۔ طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص ہر فرض نماز کے بعد تین مرتبہ ان تینوں آیتوں کی تلاوت کرے اسے بھرپور اجر پورے پیمانے سے ناپ کر ملے گا۔ مجلس کے کفارے کے بارے میں بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ یہ پڑھے۔ سبحانک اللہھم وبحمدک لا الہ الاانت استغفرک واتوب الیک۔ میں نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔
وَسَلَٰمٌ عَلَى ٱلْمُرْسَلِينَ
Wa salaamun 'alalmursaleen
And peace upon the messengers.
اور پیغمبروں پر سلام
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اللہ تعالیٰ مشرکین کے بہتانات سے مبرا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے اپنی برات بیان فرماتا ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے تھے۔ جیسے اولاد شریک وغیرہ۔ وہ بہت بڑی اور لازوال عزت والا ہے۔ ان جھوٹے اور مفتری لوگوں کے بہتان سے وہ پاک اور منزہ ہے۔ اللہ کے رسولوں پر سلام ہے اس لئے کہ ان کی تمام باتیں ان عیوب سے مبرا ہیں جو مشرکوں کی باتوں میں موجود ہیں بلکہ نبیوں کی باتیں اور اوصاف جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بیان کرتے ہیں سب صحیح اور برحق ہیں۔ اسی کی ذات کے لئے تمام حمد وثناء ہے دنیا اور آخرت میں ابتدا اور انتہاء کا وہی سزا وار تعریف ہے۔ ہر حال میں قابل حمد وہی ہے۔ تسبیح سے ہر طرح کے نقصان سے اس کی ذات پاک سے دوری ثابت ہوتی ہے، تو ثابت ہوتا ہے کہ ہر طرح کے کمالات کی مالک اس کی ذات واحد ہے۔ اسی کو صاف لفظوں میں حمد ثابت کیا۔ تاکہ نقصانات کی نفی اور کمالات کا اثبات ہوجائے۔ ایسے ہی قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں تسبیح اور حمد کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت قتادہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تم جب مجھ پر سلام بھیجو اور نبیوں پر بھی سلام بھیجو کیونکہ میں بھی منجملہ اور نبیوں میں سے ایک نبی ہی ہوں (ابن ابی حاتم) یہ حدیث مسند میں بھی مروی ہے۔ ابو یعلی کی ایک ضعیف حدیث میں ہے جب حضور سلام کا ارادہ کرتے تو ان تینوں آیتوں کو پڑھ کر سلام کرتے۔ ابن ابی حاتم میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ بھرپور پیمانے سے ناپ کر اجر پائے تو وہ جس کسی مجلس میں ہو وہاں سے اٹھتے ہوئے یہ تینوں آیتیں پڑھ لے اور سند سے یہ روایت حضرت علی سے موقوفاً مروی ہے۔ طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص ہر فرض نماز کے بعد تین مرتبہ ان تینوں آیتوں کی تلاوت کرے اسے بھرپور اجر پورے پیمانے سے ناپ کر ملے گا۔ مجلس کے کفارے کے بارے میں بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ یہ پڑھے۔ سبحانک اللہھم وبحمدک لا الہ الاانت استغفرک واتوب الیک۔ میں نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔
وَٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
Walhamdu lillaahi Rabbil 'aalameen
And praise to Allah, Lord of the worlds.
اور سب طرح کی تعریف خدائے رب العالمین کو (سزاوار) ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اللہ تعالیٰ مشرکین کے بہتانات سے مبرا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے اپنی برات بیان فرماتا ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے تھے۔ جیسے اولاد شریک وغیرہ۔ وہ بہت بڑی اور لازوال عزت والا ہے۔ ان جھوٹے اور مفتری لوگوں کے بہتان سے وہ پاک اور منزہ ہے۔ اللہ کے رسولوں پر سلام ہے اس لئے کہ ان کی تمام باتیں ان عیوب سے مبرا ہیں جو مشرکوں کی باتوں میں موجود ہیں بلکہ نبیوں کی باتیں اور اوصاف جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بیان کرتے ہیں سب صحیح اور برحق ہیں۔ اسی کی ذات کے لئے تمام حمد وثناء ہے دنیا اور آخرت میں ابتدا اور انتہاء کا وہی سزا وار تعریف ہے۔ ہر حال میں قابل حمد وہی ہے۔ تسبیح سے ہر طرح کے نقصان سے اس کی ذات پاک سے دوری ثابت ہوتی ہے، تو ثابت ہوتا ہے کہ ہر طرح کے کمالات کی مالک اس کی ذات واحد ہے۔ اسی کو صاف لفظوں میں حمد ثابت کیا۔ تاکہ نقصانات کی نفی اور کمالات کا اثبات ہوجائے۔ ایسے ہی قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں تسبیح اور حمد کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت قتادہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تم جب مجھ پر سلام بھیجو اور نبیوں پر بھی سلام بھیجو کیونکہ میں بھی منجملہ اور نبیوں میں سے ایک نبی ہی ہوں (ابن ابی حاتم) یہ حدیث مسند میں بھی مروی ہے۔ ابو یعلی کی ایک ضعیف حدیث میں ہے جب حضور سلام کا ارادہ کرتے تو ان تینوں آیتوں کو پڑھ کر سلام کرتے۔ ابن ابی حاتم میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ بھرپور پیمانے سے ناپ کر اجر پائے تو وہ جس کسی مجلس میں ہو وہاں سے اٹھتے ہوئے یہ تینوں آیتیں پڑھ لے اور سند سے یہ روایت حضرت علی سے موقوفاً مروی ہے۔ طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص ہر فرض نماز کے بعد تین مرتبہ ان تینوں آیتوں کی تلاوت کرے اسے بھرپور اجر پورے پیمانے سے ناپ کر ملے گا۔ مجلس کے کفارے کے بارے میں بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ یہ پڑھے۔ سبحانک اللہھم وبحمدک لا الہ الاانت استغفرک واتوب الیک۔ میں نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔