VisualDhikr|
Ar-Rumالروم

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

All surahs
30:1Graph

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ الٓمٓ

Alif-Laaam-Meeem

Alif, Lam, Meem.

الٓمٓ

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

احسان کے بدلے احسان ؟ اللہ تعالیٰ قریش کو اپنا احسان جتاتا ہے کہ اس نے اپنے حرم میں انہیں جگہ دی۔ جو شخص اس میں آجائے امن میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے آس پاس جدال و قتال لوٹ مار ہوتی رہتی ہے اور یہاں والے امن وامان سے اپنے دن گزارتے ہیں۔ جسے سورة لایلاف قریش الخ میں بیان فرمایا تو کیا اس اتنی بڑی نعمت کا شکریہ یہی ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کریں ؟ بجائے ایمان لانے کے شرک کریں اور خود تباہ ہو کر دوسروں کو بھی اسی ہلاکت والی راہ لے چلیں۔ لیکن انہوں نے اس کے برعکس اللہ کے ساتھ شرک وکفر کرنا اور نبی کو جھٹلانا اور ایذاء پہنچانا شروع کر رکھا ہے۔ اپنی سرکشی میں یہاں تک بڑھ گئے کہ اللہ کے پیغمبر کو مکہ سے نکال دیا۔ بالآخر اللہ کی نعمتیں ان سے چھننی شروع ہوگئیں۔ بدر کے دن ان کے بڑے بری طرح قتل ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے ہاتھوں مکہ کو فتح کیا اور انہیں ذلیل وپست کیا۔ اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ وحی آتی نہ ہو اور کہہ دے کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ظال کوئی نہیں جو اللہ کی سچی وحی کو جھٹلائے اور باوجود حق پہنچنے کے تکذیب پر کمربستہ رہے۔ ایسے مفرتی اور مکذب لوگ کافر ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ راہ اللہ میں مشقت کرنے والے سے مراد رسول اللہ ﷺ ، آپ کے اصحاب اور آپ کے تابع فرمان لوگ ہیں جو قیامت تک ہونگے۔ فرماتا ہے کہ ہم ان کوشش اور جستجو کرنے والوں کی رہنمائی کریں گے دنیا اور دین میں ان کی رہبری کرتے رہیں گے۔ حضرت ابو عباس ہمدانی فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ جو لوگ اپنے علم پر عمل کرتے ہیں اللہ انہیں ان امور میں بھی ہدایت دیتا ہے جو ان کے علم میں نہیں ہوتے ابو سلیمان دارانی سے جب یہ ذکر کیا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں کوئی بات پیدا ہو گو وہ بھلی بات ہو تاہم اسے اس پر عمل نہ کرنا چاہیے جب تک قرآن و حدیث سے وہ ثابت نہ ہو۔ جب ثابت ہو عمل کریں۔ اور اللہ کی حمد کریں کہ جو اس کے جی میں آتا تھا۔ وہی قرآن و حدیث میں بھی نکلا۔ اللہ تعالیٰ محسنین کے ساتھ ہے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم فرماتے ہیں احسان اس کا نام ہے کہ جو تیرے ساتھ بدسلوکی کرے تو اس کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ احسان کرنے والوں سے احسان کرنے کا نام احسان نہیں واللہ اعلم۔

30:2Graph

غُلِبَتِ ٱلرُّومُ

Ghulibatir Room

The Byzantines have been defeated

(اہلِ) روم مغلوب ہوگئے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

معرکہ روم وفارس کا انجام یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آگیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آکر قسطنطیہ میں محصور ہوگیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آرہا ہے۔ مسند احمد حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لئے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لئے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جب یہ ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا رومی عنقریب پھر غالب آجائیں گے۔ صدیق اکبر نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کرلو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے خدمت نبوی میں یہ خبر پہنچائی آپ نے فرمایا تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لئے لفظ بضع استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چناچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آگئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آگئے حضرت عبداللہ کا فرمان ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور نے ان سے پوچھا کہ بضع کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں ؟ جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو چناچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ اور روایت میں ہے کہ مشرکوں نے حضرت صدیق اکبر سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی کو سچا مانتے ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس پر شرط ٹھہری اور مدت گذر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ رنجیدہ ہوئے اور جناب صدیق اکبر سے فرمایا تم نے ایساکیوں کیا ؟ جواب ملا کہ اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کرکے آپ نے فرمایا پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کرلو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھاکر شرط منظور کرلی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آگئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بنا انہوں نے ڈال لی۔ حضرت صدیق نے قریش سے شرط کا مال لیا اور حضرت ﷺ کے پاس آئے آپ نے فرمایا اسے صدقہ کردو۔ اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہے کہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے (ترمذی) ایک بہت عجیب و غریب قصہ امام جنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ فرماتے ہیں فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کرلو کہ کسے سردار بناؤ ؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔ بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز و شاداب ملک کو ویران و غارت کردیا۔ اور اذرعات اور صرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آگئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔ کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہماے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کرلو اس لئے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی ﷺ کی یہ پیش گوئی ہے۔ یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابو الفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط بدتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آگئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ حضرت صدیق اکبر نے یہ شرط قبول کرلی۔ پھر رسول اللہ ﷺ سے آکر اس کا ذکر کیا تو آپ نے کہا میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا بضع کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولا جاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو۔ حضرت ابوبکر چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا ؟ آپ نے فرمایا سنو میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چناچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آگئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہر براز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آگیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔ یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہر براز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کرکے اسکا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات کے ساتھ دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فورا تعمیل کرو شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہوگیا اس نے اعلان کردیا کہ شہر براز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کردیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہر بزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آجائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کرلی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کرلیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لئے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہوگیا۔ ذرا سوچ لے ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فورا تخت سے نیچے اتر گیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنادیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آجائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لئے چل پڑا۔ لیکن احتیاطا اپنے ساتھ پانچ ہزار سوارلے لئے۔ اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے جاسوسوں نے آکر خبردی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چناچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لئے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔ وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جاکر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بےہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہر براز نے کہا اے بادشاہ روم بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کرلیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہمارا حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کرلیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آجائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کرلی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئی جن کا مطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کردئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کرکے کھڑے ہوگئے اور ہر ایک نے اپنے ترجمان کا کام تمام کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کردیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ ﷺ کو ملی اصحاب رسول ﷺ اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کرچکے ہیں سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔ دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہوجاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کرلیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔ یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبرٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔ یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئی۔ ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان کے علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہوگئی۔ خنزیر کو حلال کرلیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لئے جیسے عید صلیب عید قدرس عید غط اس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لئے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر سطوریہ۔ یہ سب سطور کے مقلد تھے۔ پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ انکے بہتر 0702 فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا بہت بڑا عالم تھا دانائی زیرکی دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کرلی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کرسکا۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کرلیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہوگیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کرلیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کرسکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کرلوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لئے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جارہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آجاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کرلینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کردیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کرلیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کرڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اسکے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کردیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔ قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حملہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کئی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسرا کے لشکر کے پاس سے گذریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گذر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔ اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کرکے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آگئے فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آگئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آگئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آگئے قرآن کریم میں لفظ بضع کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت صدیق اکبر سے فرمایا تھا کہ تمہیں احیتاطا دس سال تک رکھنے چاہئے تھے کیونکہ بضع کے لفظ اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے اس کے بعد قبل اور بعد پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آجائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آگئے۔ ابن عباس سدی ثوری اور ابو سعید یہی فرماتے ہیں ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ زہری اور قتادۃ وغیرہ کا یہی قول ہے بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چناچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول کریم ﷺ کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ نے حضرت دحیہ کلبی ؓ کی معرفت بصری کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی ﷺ پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابو سفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے ؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابو سفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگر یہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا ابو سفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کردیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقینا میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضور کے حسب نسب کہ نسبت آپ کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے ابو سفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بدعہدی وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے ؟ ابو سفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں حضور ﷺ اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی واللہ اعلم۔ لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہوچکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی اس لئے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کرکے نذر کو پوری کرنے کے لئے روانہ ہوا واللہ اعلم۔ یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لئے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔ خود قرآن میں موجود ہے کہ ایمان والوں کے سب سے زیادہ دشمن یہود اور مشرک ہیں اور ان سے دوستیاں رکھنے میں سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں اس لئے کہ ان میں علماء اور درویش لوگ ہیں اور یہ متکبر نہیں قرآن سن کر یہ رو دیتے ہیں کیونکہ حق کو جان لیتے ہیں پھر اقرار کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم ایمان لائے تو ہمیں بھی ماننے والوں میں کرلے۔ پس یہاں بھی یہی فرمایا کہ مسلمان اس دن خوش ہونگے جس دن اللہ تعالیٰ رومیوں کی مدد کرے گا وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے وہ بڑا غالب اور بہت مہربان ہے۔ حضرت زبیر کلامی فرماتے ہیں میں نے فارسیوں کا رومیوں پر غالب آنا پھر رومیوں کا فارسیوں پر غالب آنا پھر روم اور فارس دونوں پر مسلمانوں کا غالب آنا اپنی آنکھوں سے پندرہ سال کے اندر دیکھا لیا آخر آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے بدلہ اور انتقام لینے پر قادر اور اپنے دوستوں کی خطاؤں اور لغزشوں سے درگذر فرمانے والا ہے۔ جو خبر تمہیں دی ہے کہ رومی عنقریب فارسیوں پر غالب آجائیں گے یہ اللہ کی خبر ہے رب کا وعدہ ہے پروردگار کا فیصلہ ہے۔ ناممکن ہے کہ غلط نکلے ٹل جائے یا خلاف ہوجائے۔ جو حق کے قریب ہو اسے بھی رب حق سے بہت دور والوں پر غالب رکھتے ہیں ہاں اللہ کی حکمتوں کو کم علم نہیں جان سکتے۔ اکثر لوگ دنیا کا علم تو خوب رکھتے ہیں اس کی گھتیاں منٹوں میں سلجھا دیتے ہیں اس میں خوب دماغ دوڑاتے ہیں۔ اس کے برے بھلے نقصان کو پہچان لیتے ہیں بیک نگاہ اس کی اونچ نیچ دیکھ لیتے ہیں۔ دنیا کمانے کا پیسے جوڑنے کا خوب سلیقہ رکھتے ہیں لیکن امور دین میں اخروی کاموں میں محض جاہل غبی اور کم فہم ہوتے ہیں۔ یہاں نہ ذہن کام کرے نہ سمجھ پہنچ سکے نہ غورو فکر کی عادت۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں بہت سے ایسے بھی ہیں کہ نماز تک تو ٹھیک پڑھ نہیں سکتے لیکن درہم چٹکی میں لیتے ہی وزن بتادیا کرتے ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں دنیا کی آبادی اور رونق کی تو بیسیوں صورتیں ان کا ذہن گھڑ لیتا ہے۔ لیکن دین میں محض جاہل اور آخرت سے بالکل غافل ہیں۔

30:3Graph

فِىٓ أَدْنَى ٱلْأَرْضِ وَهُم مِّنۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ

Feee adnal ardi wa hummim ba'di ghalabihim sa ya ghliboon

In the nearest land. But they, after their defeat, will overcome.

نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

معرکہ روم وفارس کا انجام یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آگیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آکر قسطنطیہ میں محصور ہوگیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آرہا ہے۔ مسند احمد حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لئے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لئے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جب یہ ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا رومی عنقریب پھر غالب آجائیں گے۔ صدیق اکبر نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کرلو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے خدمت نبوی میں یہ خبر پہنچائی آپ نے فرمایا تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لئے لفظ بضع استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چناچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آگئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آگئے حضرت عبداللہ کا فرمان ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور نے ان سے پوچھا کہ بضع کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں ؟ جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو چناچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ اور روایت میں ہے کہ مشرکوں نے حضرت صدیق اکبر سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی کو سچا مانتے ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس پر شرط ٹھہری اور مدت گذر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ رنجیدہ ہوئے اور جناب صدیق اکبر سے فرمایا تم نے ایساکیوں کیا ؟ جواب ملا کہ اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کرکے آپ نے فرمایا پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کرلو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھاکر شرط منظور کرلی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آگئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بنا انہوں نے ڈال لی۔ حضرت صدیق نے قریش سے شرط کا مال لیا اور حضرت ﷺ کے پاس آئے آپ نے فرمایا اسے صدقہ کردو۔ اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہے کہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے (ترمذی) ایک بہت عجیب و غریب قصہ امام جنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ فرماتے ہیں فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کرلو کہ کسے سردار بناؤ ؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔ بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز و شاداب ملک کو ویران و غارت کردیا۔ اور اذرعات اور صرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آگئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔ کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہماے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کرلو اس لئے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی ﷺ کی یہ پیش گوئی ہے۔ یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابو الفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط بدتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آگئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ حضرت صدیق اکبر نے یہ شرط قبول کرلی۔ پھر رسول اللہ ﷺ سے آکر اس کا ذکر کیا تو آپ نے کہا میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا بضع کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولا جاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو۔ حضرت ابوبکر چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا ؟ آپ نے فرمایا سنو میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چناچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آگئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہر براز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آگیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔ یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہر براز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کرکے اسکا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات کے ساتھ دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فورا تعمیل کرو شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہوگیا اس نے اعلان کردیا کہ شہر براز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کردیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہر بزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آجائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کرلی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کرلیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لئے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہوگیا۔ ذرا سوچ لے ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فورا تخت سے نیچے اتر گیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنادیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آجائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لئے چل پڑا۔ لیکن احتیاطا اپنے ساتھ پانچ ہزار سوارلے لئے۔ اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے جاسوسوں نے آکر خبردی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چناچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لئے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔ وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جاکر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بےہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہر براز نے کہا اے بادشاہ روم بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کرلیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہمارا حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کرلیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آجائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کرلی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئی جن کا مطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کردئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کرکے کھڑے ہوگئے اور ہر ایک نے اپنے ترجمان کا کام تمام کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کردیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ ﷺ کو ملی اصحاب رسول ﷺ اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کرچکے ہیں سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔ دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہوجاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کرلیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔ یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبرٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔ یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئی۔ ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان کے علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہوگئی۔ خنزیر کو حلال کرلیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لئے جیسے عید صلیب عید قدرس عید غط اس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لئے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر سطوریہ۔ یہ سب سطور کے مقلد تھے۔ پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ انکے بہتر 0702 فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا بہت بڑا عالم تھا دانائی زیرکی دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کرلی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کرسکا۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کرلیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہوگیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کرلیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کرسکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کرلوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لئے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جارہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آجاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کرلینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کردیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کرلیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کرڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اسکے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کردیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔ قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حملہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کئی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسرا کے لشکر کے پاس سے گذریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گذر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔ اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کرکے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آگئے فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آگئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آگئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آگئے قرآن کریم میں لفظ بضع کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت صدیق اکبر سے فرمایا تھا کہ تمہیں احیتاطا دس سال تک رکھنے چاہئے تھے کیونکہ بضع کے لفظ اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے اس کے بعد قبل اور بعد پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آجائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آگئے۔ ابن عباس سدی ثوری اور ابو سعید یہی فرماتے ہیں ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ زہری اور قتادۃ وغیرہ کا یہی قول ہے بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چناچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول کریم ﷺ کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ نے حضرت دحیہ کلبی ؓ کی معرفت بصری کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی ﷺ پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابو سفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے ؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابو سفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگر یہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا ابو سفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کردیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقینا میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضور کے حسب نسب کہ نسبت آپ کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے ابو سفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بدعہدی وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے ؟ ابو سفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں حضور ﷺ اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی واللہ اعلم۔ لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہوچکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی اس لئے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کرکے نذر کو پوری کرنے کے لئے روانہ ہوا واللہ اعلم۔ یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لئے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔ خود قرآن میں موجود ہے کہ ایمان والوں کے سب سے زیادہ دشمن یہود اور مشرک ہیں اور ان سے دوستیاں رکھنے میں سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں اس لئے کہ ان میں علماء اور درویش لوگ ہیں اور یہ متکبر نہیں قرآن سن کر یہ رو دیتے ہیں کیونکہ حق کو جان لیتے ہیں پھر اقرار کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم ایمان لائے تو ہمیں بھی ماننے والوں میں کرلے۔ پس یہاں بھی یہی فرمایا کہ مسلمان اس دن خوش ہونگے جس دن اللہ تعالیٰ رومیوں کی مدد کرے گا وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے وہ بڑا غالب اور بہت مہربان ہے۔ حضرت زبیر کلامی فرماتے ہیں میں نے فارسیوں کا رومیوں پر غالب آنا پھر رومیوں کا فارسیوں پر غالب آنا پھر روم اور فارس دونوں پر مسلمانوں کا غالب آنا اپنی آنکھوں سے پندرہ سال کے اندر دیکھا لیا آخر آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے بدلہ اور انتقام لینے پر قادر اور اپنے دوستوں کی خطاؤں اور لغزشوں سے درگذر فرمانے والا ہے۔ جو خبر تمہیں دی ہے کہ رومی عنقریب فارسیوں پر غالب آجائیں گے یہ اللہ کی خبر ہے رب کا وعدہ ہے پروردگار کا فیصلہ ہے۔ ناممکن ہے کہ غلط نکلے ٹل جائے یا خلاف ہوجائے۔ جو حق کے قریب ہو اسے بھی رب حق سے بہت دور والوں پر غالب رکھتے ہیں ہاں اللہ کی حکمتوں کو کم علم نہیں جان سکتے۔ اکثر لوگ دنیا کا علم تو خوب رکھتے ہیں اس کی گھتیاں منٹوں میں سلجھا دیتے ہیں اس میں خوب دماغ دوڑاتے ہیں۔ اس کے برے بھلے نقصان کو پہچان لیتے ہیں بیک نگاہ اس کی اونچ نیچ دیکھ لیتے ہیں۔ دنیا کمانے کا پیسے جوڑنے کا خوب سلیقہ رکھتے ہیں لیکن امور دین میں اخروی کاموں میں محض جاہل غبی اور کم فہم ہوتے ہیں۔ یہاں نہ ذہن کام کرے نہ سمجھ پہنچ سکے نہ غورو فکر کی عادت۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں بہت سے ایسے بھی ہیں کہ نماز تک تو ٹھیک پڑھ نہیں سکتے لیکن درہم چٹکی میں لیتے ہی وزن بتادیا کرتے ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں دنیا کی آبادی اور رونق کی تو بیسیوں صورتیں ان کا ذہن گھڑ لیتا ہے۔ لیکن دین میں محض جاہل اور آخرت سے بالکل غافل ہیں۔

30:4Graph

فِى بِضْعِ سِنِينَ لِلَّهِ ٱلْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِنۢ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ ٱلْمُؤْمِنُونَ

Fee bid'i sineen; lillaahil amru min qablu wa mim ba'd; wa yawma'iziny yafrahul mu'minoon

Within three to nine years. To Allah belongs the command before and after. And that day the believers will rejoice

چند ہی سال میں پہلے بھی اور پیچھے بھی خدا ہی کا حکم ہے اور اُس روز مومن خوش ہوجائیں گے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

معرکہ روم وفارس کا انجام یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آگیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آکر قسطنطیہ میں محصور ہوگیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آرہا ہے۔ مسند احمد حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لئے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لئے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جب یہ ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا رومی عنقریب پھر غالب آجائیں گے۔ صدیق اکبر نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کرلو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے خدمت نبوی میں یہ خبر پہنچائی آپ نے فرمایا تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لئے لفظ بضع استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چناچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آگئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آگئے حضرت عبداللہ کا فرمان ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور نے ان سے پوچھا کہ بضع کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں ؟ جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو چناچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ اور روایت میں ہے کہ مشرکوں نے حضرت صدیق اکبر سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی کو سچا مانتے ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس پر شرط ٹھہری اور مدت گذر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ رنجیدہ ہوئے اور جناب صدیق اکبر سے فرمایا تم نے ایساکیوں کیا ؟ جواب ملا کہ اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کرکے آپ نے فرمایا پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کرلو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھاکر شرط منظور کرلی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آگئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بنا انہوں نے ڈال لی۔ حضرت صدیق نے قریش سے شرط کا مال لیا اور حضرت ﷺ کے پاس آئے آپ نے فرمایا اسے صدقہ کردو۔ اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہے کہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے (ترمذی) ایک بہت عجیب و غریب قصہ امام جنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ فرماتے ہیں فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کرلو کہ کسے سردار بناؤ ؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔ بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز و شاداب ملک کو ویران و غارت کردیا۔ اور اذرعات اور صرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آگئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔ کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہماے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کرلو اس لئے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی ﷺ کی یہ پیش گوئی ہے۔ یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابو الفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط بدتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آگئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ حضرت صدیق اکبر نے یہ شرط قبول کرلی۔ پھر رسول اللہ ﷺ سے آکر اس کا ذکر کیا تو آپ نے کہا میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا بضع کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولا جاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو۔ حضرت ابوبکر چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا ؟ آپ نے فرمایا سنو میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چناچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آگئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہر براز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آگیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔ یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہر براز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کرکے اسکا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات کے ساتھ دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فورا تعمیل کرو شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہوگیا اس نے اعلان کردیا کہ شہر براز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کردیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہر بزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آجائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کرلی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کرلیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لئے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہوگیا۔ ذرا سوچ لے ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فورا تخت سے نیچے اتر گیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنادیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آجائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لئے چل پڑا۔ لیکن احتیاطا اپنے ساتھ پانچ ہزار سوارلے لئے۔ اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے جاسوسوں نے آکر خبردی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چناچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لئے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔ وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جاکر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بےہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہر براز نے کہا اے بادشاہ روم بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کرلیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہمارا حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کرلیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آجائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کرلی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئی جن کا مطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کردئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کرکے کھڑے ہوگئے اور ہر ایک نے اپنے ترجمان کا کام تمام کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کردیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ ﷺ کو ملی اصحاب رسول ﷺ اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کرچکے ہیں سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔ دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہوجاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کرلیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔ یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبرٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔ یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئی۔ ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان کے علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہوگئی۔ خنزیر کو حلال کرلیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لئے جیسے عید صلیب عید قدرس عید غط اس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لئے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر سطوریہ۔ یہ سب سطور کے مقلد تھے۔ پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ انکے بہتر 0702 فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا بہت بڑا عالم تھا دانائی زیرکی دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کرلی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کرسکا۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کرلیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہوگیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کرلیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کرسکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کرلوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لئے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جارہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آجاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کرلینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کردیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کرلیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کرڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اسکے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کردیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔ قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حملہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کئی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسرا کے لشکر کے پاس سے گذریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گذر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔ اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کرکے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آگئے فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آگئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آگئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آگئے قرآن کریم میں لفظ بضع کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت صدیق اکبر سے فرمایا تھا کہ تمہیں احیتاطا دس سال تک رکھنے چاہئے تھے کیونکہ بضع کے لفظ اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے اس کے بعد قبل اور بعد پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آجائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آگئے۔ ابن عباس سدی ثوری اور ابو سعید یہی فرماتے ہیں ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ زہری اور قتادۃ وغیرہ کا یہی قول ہے بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چناچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول کریم ﷺ کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ نے حضرت دحیہ کلبی ؓ کی معرفت بصری کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی ﷺ پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابو سفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے ؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابو سفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگر یہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا ابو سفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کردیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقینا میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضور کے حسب نسب کہ نسبت آپ کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے ابو سفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بدعہدی وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے ؟ ابو سفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں حضور ﷺ اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی واللہ اعلم۔ لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہوچکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی اس لئے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کرکے نذر کو پوری کرنے کے لئے روانہ ہوا واللہ اعلم۔ یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لئے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔ خود قرآن میں موجود ہے کہ ایمان والوں کے سب سے زیادہ دشمن یہود اور مشرک ہیں اور ان سے دوستیاں رکھنے میں سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں اس لئے کہ ان میں علماء اور درویش لوگ ہیں اور یہ متکبر نہیں قرآن سن کر یہ رو دیتے ہیں کیونکہ حق کو جان لیتے ہیں پھر اقرار کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم ایمان لائے تو ہمیں بھی ماننے والوں میں کرلے۔ پس یہاں بھی یہی فرمایا کہ مسلمان اس دن خوش ہونگے جس دن اللہ تعالیٰ رومیوں کی مدد کرے گا وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے وہ بڑا غالب اور بہت مہربان ہے۔ حضرت زبیر کلامی فرماتے ہیں میں نے فارسیوں کا رومیوں پر غالب آنا پھر رومیوں کا فارسیوں پر غالب آنا پھر روم اور فارس دونوں پر مسلمانوں کا غالب آنا اپنی آنکھوں سے پندرہ سال کے اندر دیکھا لیا آخر آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے بدلہ اور انتقام لینے پر قادر اور اپنے دوستوں کی خطاؤں اور لغزشوں سے درگذر فرمانے والا ہے۔ جو خبر تمہیں دی ہے کہ رومی عنقریب فارسیوں پر غالب آجائیں گے یہ اللہ کی خبر ہے رب کا وعدہ ہے پروردگار کا فیصلہ ہے۔ ناممکن ہے کہ غلط نکلے ٹل جائے یا خلاف ہوجائے۔ جو حق کے قریب ہو اسے بھی رب حق سے بہت دور والوں پر غالب رکھتے ہیں ہاں اللہ کی حکمتوں کو کم علم نہیں جان سکتے۔ اکثر لوگ دنیا کا علم تو خوب رکھتے ہیں اس کی گھتیاں منٹوں میں سلجھا دیتے ہیں اس میں خوب دماغ دوڑاتے ہیں۔ اس کے برے بھلے نقصان کو پہچان لیتے ہیں بیک نگاہ اس کی اونچ نیچ دیکھ لیتے ہیں۔ دنیا کمانے کا پیسے جوڑنے کا خوب سلیقہ رکھتے ہیں لیکن امور دین میں اخروی کاموں میں محض جاہل غبی اور کم فہم ہوتے ہیں۔ یہاں نہ ذہن کام کرے نہ سمجھ پہنچ سکے نہ غورو فکر کی عادت۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں بہت سے ایسے بھی ہیں کہ نماز تک تو ٹھیک پڑھ نہیں سکتے لیکن درہم چٹکی میں لیتے ہی وزن بتادیا کرتے ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں دنیا کی آبادی اور رونق کی تو بیسیوں صورتیں ان کا ذہن گھڑ لیتا ہے۔ لیکن دین میں محض جاہل اور آخرت سے بالکل غافل ہیں۔

30:5Graph

بِنَصْرِ ٱللَّهِ يَنصُرُ مَن يَشَآءُ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ

Binasril laa; yansuru mai yashaaa'u wa Huwal 'Azeezur Raheem

In the victory of Allah. He gives victory to whom He wills, and He is the Exalted in Might, the Merciful.

(یعنی) خدا کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے اور وہ غالب (اور) مہربان ہے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

معرکہ روم وفارس کا انجام یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آگیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آکر قسطنطیہ میں محصور ہوگیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آرہا ہے۔ مسند احمد حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لئے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لئے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جب یہ ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا رومی عنقریب پھر غالب آجائیں گے۔ صدیق اکبر نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کرلو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے خدمت نبوی میں یہ خبر پہنچائی آپ نے فرمایا تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لئے لفظ بضع استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چناچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آگئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آگئے حضرت عبداللہ کا فرمان ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور نے ان سے پوچھا کہ بضع کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں ؟ جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو چناچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ اور روایت میں ہے کہ مشرکوں نے حضرت صدیق اکبر سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی کو سچا مانتے ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس پر شرط ٹھہری اور مدت گذر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ رنجیدہ ہوئے اور جناب صدیق اکبر سے فرمایا تم نے ایساکیوں کیا ؟ جواب ملا کہ اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کرکے آپ نے فرمایا پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کرلو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھاکر شرط منظور کرلی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آگئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بنا انہوں نے ڈال لی۔ حضرت صدیق نے قریش سے شرط کا مال لیا اور حضرت ﷺ کے پاس آئے آپ نے فرمایا اسے صدقہ کردو۔ اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہے کہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے (ترمذی) ایک بہت عجیب و غریب قصہ امام جنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ فرماتے ہیں فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کرلو کہ کسے سردار بناؤ ؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔ بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز و شاداب ملک کو ویران و غارت کردیا۔ اور اذرعات اور صرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آگئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔ کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہماے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کرلو اس لئے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی ﷺ کی یہ پیش گوئی ہے۔ یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابو الفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط بدتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آگئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ حضرت صدیق اکبر نے یہ شرط قبول کرلی۔ پھر رسول اللہ ﷺ سے آکر اس کا ذکر کیا تو آپ نے کہا میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا بضع کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولا جاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو۔ حضرت ابوبکر چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا ؟ آپ نے فرمایا سنو میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چناچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آگئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہر براز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آگیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔ یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہر براز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کرکے اسکا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات کے ساتھ دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فورا تعمیل کرو شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہوگیا اس نے اعلان کردیا کہ شہر براز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کردیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہر بزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آجائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کرلی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کرلیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لئے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہوگیا۔ ذرا سوچ لے ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فورا تخت سے نیچے اتر گیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنادیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آجائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لئے چل پڑا۔ لیکن احتیاطا اپنے ساتھ پانچ ہزار سوارلے لئے۔ اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے جاسوسوں نے آکر خبردی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چناچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لئے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔ وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جاکر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بےہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہر براز نے کہا اے بادشاہ روم بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کرلیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہمارا حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کرلیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آجائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کرلی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئی جن کا مطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کردئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کرکے کھڑے ہوگئے اور ہر ایک نے اپنے ترجمان کا کام تمام کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کردیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ ﷺ کو ملی اصحاب رسول ﷺ اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کرچکے ہیں سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔ دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہوجاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کرلیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔ یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبرٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔ یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئی۔ ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان کے علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہوگئی۔ خنزیر کو حلال کرلیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لئے جیسے عید صلیب عید قدرس عید غط اس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لئے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر سطوریہ۔ یہ سب سطور کے مقلد تھے۔ پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ انکے بہتر 0702 فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا بہت بڑا عالم تھا دانائی زیرکی دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کرلی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کرسکا۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کرلیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہوگیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کرلیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کرسکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کرلوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لئے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جارہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آجاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کرلینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کردیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کرلیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کرڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اسکے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کردیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔ قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حملہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کئی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسرا کے لشکر کے پاس سے گذریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گذر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔ اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کرکے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آگئے فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آگئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آگئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آگئے قرآن کریم میں لفظ بضع کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت صدیق اکبر سے فرمایا تھا کہ تمہیں احیتاطا دس سال تک رکھنے چاہئے تھے کیونکہ بضع کے لفظ اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے اس کے بعد قبل اور بعد پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آجائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آگئے۔ ابن عباس سدی ثوری اور ابو سعید یہی فرماتے ہیں ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ زہری اور قتادۃ وغیرہ کا یہی قول ہے بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چناچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول کریم ﷺ کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ نے حضرت دحیہ کلبی ؓ کی معرفت بصری کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی ﷺ پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابو سفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے ؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابو سفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگر یہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا ابو سفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کردیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقینا میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضور کے حسب نسب کہ نسبت آپ کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے ابو سفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بدعہدی وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے ؟ ابو سفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں حضور ﷺ اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی واللہ اعلم۔ لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہوچکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی اس لئے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کرکے نذر کو پوری کرنے کے لئے روانہ ہوا واللہ اعلم۔ یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لئے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔ خود قرآن میں موجود ہے کہ ایمان والوں کے سب سے زیادہ دشمن یہود اور مشرک ہیں اور ان سے دوستیاں رکھنے میں سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں اس لئے کہ ان میں علماء اور درویش لوگ ہیں اور یہ متکبر نہیں قرآن سن کر یہ رو دیتے ہیں کیونکہ حق کو جان لیتے ہیں پھر اقرار کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم ایمان لائے تو ہمیں بھی ماننے والوں میں کرلے۔ پس یہاں بھی یہی فرمایا کہ مسلمان اس دن خوش ہونگے جس دن اللہ تعالیٰ رومیوں کی مدد کرے گا وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے وہ بڑا غالب اور بہت مہربان ہے۔ حضرت زبیر کلامی فرماتے ہیں میں نے فارسیوں کا رومیوں پر غالب آنا پھر رومیوں کا فارسیوں پر غالب آنا پھر روم اور فارس دونوں پر مسلمانوں کا غالب آنا اپنی آنکھوں سے پندرہ سال کے اندر دیکھا لیا آخر آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے بدلہ اور انتقام لینے پر قادر اور اپنے دوستوں کی خطاؤں اور لغزشوں سے درگذر فرمانے والا ہے۔ جو خبر تمہیں دی ہے کہ رومی عنقریب فارسیوں پر غالب آجائیں گے یہ اللہ کی خبر ہے رب کا وعدہ ہے پروردگار کا فیصلہ ہے۔ ناممکن ہے کہ غلط نکلے ٹل جائے یا خلاف ہوجائے۔ جو حق کے قریب ہو اسے بھی رب حق سے بہت دور والوں پر غالب رکھتے ہیں ہاں اللہ کی حکمتوں کو کم علم نہیں جان سکتے۔ اکثر لوگ دنیا کا علم تو خوب رکھتے ہیں اس کی گھتیاں منٹوں میں سلجھا دیتے ہیں اس میں خوب دماغ دوڑاتے ہیں۔ اس کے برے بھلے نقصان کو پہچان لیتے ہیں بیک نگاہ اس کی اونچ نیچ دیکھ لیتے ہیں۔ دنیا کمانے کا پیسے جوڑنے کا خوب سلیقہ رکھتے ہیں لیکن امور دین میں اخروی کاموں میں محض جاہل غبی اور کم فہم ہوتے ہیں۔ یہاں نہ ذہن کام کرے نہ سمجھ پہنچ سکے نہ غورو فکر کی عادت۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں بہت سے ایسے بھی ہیں کہ نماز تک تو ٹھیک پڑھ نہیں سکتے لیکن درہم چٹکی میں لیتے ہی وزن بتادیا کرتے ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں دنیا کی آبادی اور رونق کی تو بیسیوں صورتیں ان کا ذہن گھڑ لیتا ہے۔ لیکن دین میں محض جاہل اور آخرت سے بالکل غافل ہیں۔

30:6Graph

وَعْدَ ٱللَّهِ لَا يُخْلِفُ ٱللَّهُ وَعْدَهُۥ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

Wa'dal laahi laa yukhliful laahu wa'dahoo wa laakin na aksaran naasi laa ya'lamoon

[It is] the promise of Allah. Allah does not fail in His promise, but most of the people do not know.

(یہ) خدا کا وعدہ (ہے) خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

معرکہ روم وفارس کا انجام یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آگیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آکر قسطنطیہ میں محصور ہوگیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آرہا ہے۔ مسند احمد حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لئے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لئے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جب یہ ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا رومی عنقریب پھر غالب آجائیں گے۔ صدیق اکبر نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کرلو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے خدمت نبوی میں یہ خبر پہنچائی آپ نے فرمایا تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لئے لفظ بضع استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چناچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آگئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آگئے حضرت عبداللہ کا فرمان ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور نے ان سے پوچھا کہ بضع کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں ؟ جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو چناچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ اور روایت میں ہے کہ مشرکوں نے حضرت صدیق اکبر سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی کو سچا مانتے ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس پر شرط ٹھہری اور مدت گذر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ رنجیدہ ہوئے اور جناب صدیق اکبر سے فرمایا تم نے ایساکیوں کیا ؟ جواب ملا کہ اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کرکے آپ نے فرمایا پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کرلو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھاکر شرط منظور کرلی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آگئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بنا انہوں نے ڈال لی۔ حضرت صدیق نے قریش سے شرط کا مال لیا اور حضرت ﷺ کے پاس آئے آپ نے فرمایا اسے صدقہ کردو۔ اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہے کہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے (ترمذی) ایک بہت عجیب و غریب قصہ امام جنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ فرماتے ہیں فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کرلو کہ کسے سردار بناؤ ؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔ بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز و شاداب ملک کو ویران و غارت کردیا۔ اور اذرعات اور صرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آگئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔ کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہماے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کرلو اس لئے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی ﷺ کی یہ پیش گوئی ہے۔ یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابو الفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط بدتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آگئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ حضرت صدیق اکبر نے یہ شرط قبول کرلی۔ پھر رسول اللہ ﷺ سے آکر اس کا ذکر کیا تو آپ نے کہا میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا بضع کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولا جاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو۔ حضرت ابوبکر چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا ؟ آپ نے فرمایا سنو میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چناچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آگئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہر براز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آگیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔ یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہر براز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کرکے اسکا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات کے ساتھ دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فورا تعمیل کرو شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہوگیا اس نے اعلان کردیا کہ شہر براز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کردیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہر بزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آجائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کرلی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کرلیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لئے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہوگیا۔ ذرا سوچ لے ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فورا تخت سے نیچے اتر گیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنادیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آجائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لئے چل پڑا۔ لیکن احتیاطا اپنے ساتھ پانچ ہزار سوارلے لئے۔ اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے جاسوسوں نے آکر خبردی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چناچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لئے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔ وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جاکر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بےہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہر براز نے کہا اے بادشاہ روم بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کرلیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہمارا حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کرلیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آجائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کرلی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئی جن کا مطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کردئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کرکے کھڑے ہوگئے اور ہر ایک نے اپنے ترجمان کا کام تمام کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کردیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ ﷺ کو ملی اصحاب رسول ﷺ اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کرچکے ہیں سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔ دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہوجاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کرلیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔ یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبرٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔ یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئی۔ ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان کے علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہوگئی۔ خنزیر کو حلال کرلیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لئے جیسے عید صلیب عید قدرس عید غط اس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لئے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر سطوریہ۔ یہ سب سطور کے مقلد تھے۔ پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ انکے بہتر 0702 فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا بہت بڑا عالم تھا دانائی زیرکی دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کرلی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کرسکا۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کرلیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہوگیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کرلیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کرسکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کرلوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لئے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جارہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آجاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کرلینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کردیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کرلیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کرڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اسکے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کردیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔ قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حملہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کئی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسرا کے لشکر کے پاس سے گذریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گذر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔ اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کرکے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آگئے فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آگئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آگئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آگئے قرآن کریم میں لفظ بضع کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت صدیق اکبر سے فرمایا تھا کہ تمہیں احیتاطا دس سال تک رکھنے چاہئے تھے کیونکہ بضع کے لفظ اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے اس کے بعد قبل اور بعد پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آجائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آگئے۔ ابن عباس سدی ثوری اور ابو سعید یہی فرماتے ہیں ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ زہری اور قتادۃ وغیرہ کا یہی قول ہے بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چناچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول کریم ﷺ کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ نے حضرت دحیہ کلبی ؓ کی معرفت بصری کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی ﷺ پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابو سفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے ؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابو سفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگر یہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا ابو سفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کردیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقینا میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضور کے حسب نسب کہ نسبت آپ کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے ابو سفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بدعہدی وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے ؟ ابو سفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں حضور ﷺ اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی واللہ اعلم۔ لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہوچکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی اس لئے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کرکے نذر کو پوری کرنے کے لئے روانہ ہوا واللہ اعلم۔ یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لئے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔ خود قرآن میں موجود ہے کہ ایمان والوں کے سب سے زیادہ دشمن یہود اور مشرک ہیں اور ان سے دوستیاں رکھنے میں سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں اس لئے کہ ان میں علماء اور درویش لوگ ہیں اور یہ متکبر نہیں قرآن سن کر یہ رو دیتے ہیں کیونکہ حق کو جان لیتے ہیں پھر اقرار کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم ایمان لائے تو ہمیں بھی ماننے والوں میں کرلے۔ پس یہاں بھی یہی فرمایا کہ مسلمان اس دن خوش ہونگے جس دن اللہ تعالیٰ رومیوں کی مدد کرے گا وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے وہ بڑا غالب اور بہت مہربان ہے۔ حضرت زبیر کلامی فرماتے ہیں میں نے فارسیوں کا رومیوں پر غالب آنا پھر رومیوں کا فارسیوں پر غالب آنا پھر روم اور فارس دونوں پر مسلمانوں کا غالب آنا اپنی آنکھوں سے پندرہ سال کے اندر دیکھا لیا آخر آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے بدلہ اور انتقام لینے پر قادر اور اپنے دوستوں کی خطاؤں اور لغزشوں سے درگذر فرمانے والا ہے۔ جو خبر تمہیں دی ہے کہ رومی عنقریب فارسیوں پر غالب آجائیں گے یہ اللہ کی خبر ہے رب کا وعدہ ہے پروردگار کا فیصلہ ہے۔ ناممکن ہے کہ غلط نکلے ٹل جائے یا خلاف ہوجائے۔ جو حق کے قریب ہو اسے بھی رب حق سے بہت دور والوں پر غالب رکھتے ہیں ہاں اللہ کی حکمتوں کو کم علم نہیں جان سکتے۔ اکثر لوگ دنیا کا علم تو خوب رکھتے ہیں اس کی گھتیاں منٹوں میں سلجھا دیتے ہیں اس میں خوب دماغ دوڑاتے ہیں۔ اس کے برے بھلے نقصان کو پہچان لیتے ہیں بیک نگاہ اس کی اونچ نیچ دیکھ لیتے ہیں۔ دنیا کمانے کا پیسے جوڑنے کا خوب سلیقہ رکھتے ہیں لیکن امور دین میں اخروی کاموں میں محض جاہل غبی اور کم فہم ہوتے ہیں۔ یہاں نہ ذہن کام کرے نہ سمجھ پہنچ سکے نہ غورو فکر کی عادت۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں بہت سے ایسے بھی ہیں کہ نماز تک تو ٹھیک پڑھ نہیں سکتے لیکن درہم چٹکی میں لیتے ہی وزن بتادیا کرتے ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں دنیا کی آبادی اور رونق کی تو بیسیوں صورتیں ان کا ذہن گھڑ لیتا ہے۔ لیکن دین میں محض جاہل اور آخرت سے بالکل غافل ہیں۔

30:7Graph

يَعْلَمُونَ ظَٰهِرًا مِّنَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ ٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ غَٰفِلُونَ

Ya'lamoona zaahiram minal hayaatid dunya wa hum 'anil Aakhirati hum ghaafiloon

They know what is apparent of the worldly life, but they, of the Hereafter, are unaware.

یہ تو دنیا کی ظاہری زندگی کو جانتے ہیں۔ اور آخرت (کی طرف) سے غافل ہیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

معرکہ روم وفارس کا انجام یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آگیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آکر قسطنطیہ میں محصور ہوگیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آرہا ہے۔ مسند احمد حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لئے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لئے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جب یہ ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا رومی عنقریب پھر غالب آجائیں گے۔ صدیق اکبر نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کرلو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے خدمت نبوی میں یہ خبر پہنچائی آپ نے فرمایا تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لئے لفظ بضع استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چناچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آگئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آگئے حضرت عبداللہ کا فرمان ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکی ہیں دخان اور لزام اور بطشہ اور شق قمر کا معجزہ اور رومیوں کا غالب آنا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر کی شرط سات سال کی تھی۔ حضور نے ان سے پوچھا کہ بضع کے کیا معنی تم میں ہوتے ہیں ؟ جواب دیا کہ دس سے کم۔ فرمایا پھر جاؤ مدت میں دو سال بڑھا دو چناچہ اسی مدت کے اندر اندر رومیوں کے غالب آجانے کی خبریں عرب میں پہنچ گئی۔ اور مسلمان خوشیاں منانے لگے۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ اور روایت میں ہے کہ مشرکوں نے حضرت صدیق اکبر سے یہ آیت سن کر کہا کہ کیا تم اس میں بھی اپنے نبی کو سچا مانتے ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس پر شرط ٹھہری اور مدت گذر چکی اور رومی غالب نہ آئے۔ حضور کو جب اس شرط کا علم ہوا تو آپ رنجیدہ ہوئے اور جناب صدیق اکبر سے فرمایا تم نے ایساکیوں کیا ؟ جواب ملا کہ اللہ اور اس کے رسول کی سچائی پر بھروسہ کرکے آپ نے فرمایا پھر جاؤ اور مدت میں دس سال مقرر کرلو خواہ چیز بھی بڑھانی پڑے۔ آپ گئے مشرکین نے دوبارہ یہ مدت بڑھاکر شرط منظور کرلی۔ ابھی دس سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ رومی فارس پر غالب آگئے اور مدائن میں ان کے لشکر پہنچ گئے۔ اور رومیہ کی بنا انہوں نے ڈال لی۔ حضرت صدیق نے قریش سے شرط کا مال لیا اور حضرت ﷺ کے پاس آئے آپ نے فرمایا اسے صدقہ کردو۔ اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ایسی شرط بد نے کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ اس میں ہے کہ مدت چھ سال مقرر ہوئی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور رومی غالب ہوئے تو بہت سے مشرکین ایمان بھی لے آئے (ترمذی) ایک بہت عجیب و غریب قصہ امام جنید ابن داؤد نے اپنی تفیسر میں وارد کیا ہے کہ عکرمہ فرماتے ہیں فارس میں ایک عورت تھی جس کے بچے زبردست پہلوان اور بادشاہ ہی ہوتے تھے۔ کسریٰ نے ایک مرتبہ اسے بلوایا اور اس سے کہا کہ میں رومیوں پر ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں اور تیری اولاد میں سے کسی کو اس لشکر کا سردار بنانا چاہتا ہوں۔ اب تم مشورہ کرلو کہ کسے سردار بناؤ ؟ اس نے کہا کہ میرا فلاں لڑکا تو لومڑی سے زیادہ مکار اور شکرے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ دوسرا لڑکا فرخان تیر جیسا ہے۔ تیسرا لڑکا شہربراز سب سے زیادہ حلیم الطبع ہے۔ اب تم جسے چاہو سرداری دو۔ بادشاہ نے سوچ سمجھ کر شہربراز کو سردار بنایا۔ یہ لشکروں کو لے کر چلا رومیوں سے لڑا بھڑا اور ان پر غالب آگیا۔ ان کے لشکر کاٹ ڈالے ان کے شہر اجاڑ دئیے۔ ان کے باغات برباد کر دئیے اس سرسبز و شاداب ملک کو ویران و غارت کردیا۔ اور اذرعات اور صرہ میں جو عرب کی حدود سے ملتے ہیں ایک زبردست معرکہ ہوا۔ اور وہاں فارسی رومیوں پر غالب آگئے۔ جس سے قریش خوشیاں منانے لگے اور مسلمان ناخوش ہوئے۔ کفار قریش مسلمانوں کو طعنے دینے لگے کہ دیکھو تم اور نصرانی اہل کتاب ہو اور ہم اور فارسی ان پڑھ ہیں ہمارے والے تمہارے والوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آئیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تم ہم بتلادیں گے کہ تم ان اہل کتاب کی طرح ہمارے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے۔ اس پر قرآن کی یہ آیتیں اتریں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ان آیتوں کو سن کر مشرکین کے پاس آئے اور فرمانے لگے اپنی اس فتح پر نہ اتراؤ یہ عنقریب شکست سے بدل جائے گی اور ہماے بھائی اہل کتاب تمہارے بھائیوں پر غالب آئیں گے۔ اس بات کا یقین کرلو اس لئے کہ یہ میری بات نہیں بلکہ ہمارے نبی ﷺ کی یہ پیش گوئی ہے۔ یہ سن کر ابی بن خلف کھڑا ہو کر کہنے لگا اے ابو الفضل تم جھوٹ کہتے ہو۔ آپ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اس نے کہا اچھا میں دس دس اونٹنیوں کی شرط بدتا ہوں۔ اگر تین سال تک رومی فارسیوں پر غالب آگئے تو میں تمہیں دس اونٹنیاں دونگا ورنہ تم مجھے دینا۔ حضرت صدیق اکبر نے یہ شرط قبول کرلی۔ پھر رسول اللہ ﷺ سے آکر اس کا ذکر کیا تو آپ نے کہا میں نے تم سے تین سال کا نہیں کہا تھا بضع کا لفظ قرآن میں ہے اور تین سے نو تک بولا جاتا ہے۔ جاؤ اونٹنیاں بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو۔ حضرت ابوبکر چلے جب ابی کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا شاید تمہیں پچھتاوا ہوا ؟ آپ نے فرمایا سنو میں تو پہلے سے بھی زیادہ تیار ہو کر آیا ہوں۔ آؤ مدت بھی بڑھاؤ اور شرط کا مال بھی زیادہ کرو۔ چناچہ ایک سو اونٹ مقرر ہوئے اور نو سال کی مدت ٹھہری اسی مدت میں رومی فارس پر غالب آگئے اور مسلمان قریش پر چھا گئے۔ رومیوں کے غلبے کا واقعہ یوں ہوا کہ جب فارس غالب آگئے تو شہر براز کا بھائی فرخان شراب نوشی کرتے ہوئے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں کسریٰ کے تخت پر آگیا ہوں اور فارس کا بادشاہ بن گیا ہوں۔ یہ خبر کسریٰ کو بھی پہنچ گئی۔ کسریٰ نے شہر براز کو لکھا کہ میرا یہ خط پاتے ہی اپنے اس بھائی کو قتل کرکے اسکا سر میرے پاس بھیج دو۔ شہر برازنے لکھا کہ اے بادشاہ تم اتنی جلدی نہ کرو۔ فرخان جیسا بہادر شیر اور جرات کے ساتھ دشمنوں کے جمگھٹے میں گھسنے والا کسی کو تم نہ پاؤ گے بادشاہ نے پھر جواب لکھا کہ اس سے بہت زیادہ اور شیر دل پہلوان میرے دربار میں ایک سے بہتر ایک موجود ہیں تم اس کا غم نہ کرو اور میرے حکم کی فورا تعمیل کرو شہربراز نے پھر اس کا جواب لکھ اور دوبارہ بادشاہ کسریٰ کو سمجھایا اس پر بادشاہ آگ بگولا ہوگیا اس نے اعلان کردیا کہ شہر براز سے میں نے سرداری چھین لی اور اس کی جگہ اس کے بھائی فرخان کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر کردیا۔ اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر قاصد کے ہمراہ شہر بزار کو بھیج دیا کہ تم آج سے معزول ہو اور تم اپنا عہدہ فرخان کو دے دو۔ ساتھ ہی قاصد کو ایک پوشیدہ خط دیا کہ شہربراز جب اپنے عہدے سے اترجائے اور فرخان اس عہدے پر آجائے تو تم اسے میرا یہ فرمان دے دینا۔ قاصد جب وہاں پہنچا تو شہر براز نے خط پڑھتے ہی کہا کہ مجھے بادشاہ کا حکم منظور ہے، میں بخوشی اپنا عہدہ فرخان کو دے رہا ہوں۔ فرخان جب تخت سلطنت پر بیٹھ گیا اور لشکر نے اس کی اطاعت قبول کرلی تو قاصد نے وہ دوسرا خط فرخان کے سامنے پیش کیا جس میں شہربراز کے قتل کا اور اس کا سر دربار شاہی میں بھیجنے کا فرمان تھا۔ فرخان نے اسے پڑھ کر شہر براز کو بلایا اور اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا شہربراز نے کہا بادشاہ جلدی نہ کر مجھے وصیت تو لکھ لینے دے۔ اس نے منظور کرلیا تو شہربراز نے اپنا دفتر منگوایا اور اس میں وہ کاغذات جو شاہ کسریٰ نے فرخان کے قتل کے لئے اسے لکھے تھے وہ سب نکالے اور فرخان کے سامنے پیش کئے اور کہا دیکھ اتنے سوال و جواب میرے اور بادشاہ کے درمیان تیرے بارے میں ہوئے۔ لیکن میں نے اپنی عقلمندی سے کام لیا اور عجلت نہ کی تو ایک خط دیکھتے ہی میرے قتل پر آمادہ ہوگیا۔ ذرا سوچ لے ان خطوط کو دیکھ کر فرخان کی آنکھیں کھل گئیں وہ فورا تخت سے نیچے اتر گیا اور اپنے بھائی شہربراز کو پھر سے مالک کل بنادیا۔ شہربراز نے اسی وقت شاہ روم ہرقل کو خط لکھا کہ مجھے تم سے خفیہ ملاقات کرنی ہے اور ایک ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اسے میں نہ تو کسی قاصد کی معرفت آپ کو کہلوا سکتا ہوں نہ خط میں لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ میں خود ہی آمنے سامنے پیش کرونگا۔ پچاس آدمی اپنے ساتھ لے کر خود آجائے اور پچاس ہی میرے ساتھ ہونگے قیصر کو جب یہ پیغام پہنچا تو وہ اس سے ملاقات کے لئے چل پڑا۔ لیکن احتیاطا اپنے ساتھ پانچ ہزار سوارلے لئے۔ اور آگے آگے جاسوسوں کو بھیج دیا تاکہ کوئی مکر یا فریب ہو تو کھل جائے جاسوسوں نے آکر خبردی کہ کوئی بات نہیں اور شہربراز تنہا اپنے ساتھ صرف پچاس سواروں کو لے کر آیا ہے اس کے ساتھ کوئی اور نہیں۔ چناچہ قیصر نے بھی مطمئن ہو کر اپنے سواروں کو لوٹادیا اور اپنے ساتھ صرف پچاس آدمی رکھ لئے۔ جو جگہ ملاقات کی مقرر ہوئی تھی وہاں پہنچ گئے۔ وہاں ایک ریشمی قبہ تھا اس میں جاکر دونوں تنہا بیٹھ گئے پچاس پچاس آدمی الگ چھوڑ دئے گئے دونوں وہاں بےہتھیار تھے صرف چھریاں پاس تھیں اور دونوں کی طرف سے ایک ترجمان ساتھ تھا۔ خیمہ میں پہنچ کر شہر براز نے کہا اے بادشاہ روم بات یہ ہے کہ تمہارے ملک کو ویران کرنے والے اور تمہارے لشکروں کو شکست دینے والے ہم دونوں بھائی ہیں ہم نے اپنی چالاکیوں اور شجاعت سے یہ ملک اپنے قبضہ میں کرلیا ہے۔ لیکن اب ہمارا بادشاہ کسریٰ ہمارا حسد کرتا ہے اور ہمارا مخالف بن بیٹھا ہے مجھے اس نے میرے بھائی کو قتل کرنے کا فرمان بھیجا میں نے فرمان کو نہ مانا تو اس نے اب یہ طے کرلیا ہے کہ ہم آپ کے لشکر میں آجائیں اور کسریٰ کے لشکروں سے آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں۔ قیصر نے یہ بات بڑی خوشی سے منظور کرلی۔ پھر ان دونوں میں آپس میں اشاروں کنایوں سے باتیں ہوئی جن کا مطلب یہ تھا کہ یہ دونوں ترجمان قتل کردئیے جائیں ایسانہ ہو کہ یہ راز ان کی وجہ سے کھل جائے کیونکہ جہاں دو کے سوا تیسرے کے کان میں کوئی بات پہنچی تو پھر وہ پھیل جاتی ہے۔ دونوں اس پر اتفاق کرکے کھڑے ہوگئے اور ہر ایک نے اپنے ترجمان کا کام تمام کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو ہلاک کردیا اور حدیبیہ والے دن اس کی خبر رسول اللہ ﷺ کو ملی اصحاب رسول ﷺ اس سے بہت خوش ہوئے۔ یہ سیاق عجیب ہے اور یہ خبر غریب ہے۔ اب آیت کے الفاظ کے متعلق سنئے۔ حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں ان کی بحث تو ہم کرچکے ہیں سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں دیکھ لیجئے۔ رومی سب کے سب عیص بن اسحاق بن ابراہیم کی نسل سے ہیں بنو اسرائیل کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رومیوں کو بنو اصفر بھی کہتے ہیں یہ یونانیوں کے مذہب پر تھے یونانی یافث بن نوح کی اولاد میں ہیں ترکوں کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں یہ ستارہ پرست تھے ساتوں ستاروں کو مانتے اور پوجتے تھے۔ انہیں متحیرہ بھی کہا جاتا ہے یہ قطب شمالی کو قبلہ مانتے تھے۔ دمشق کی بنا انہی کے ہاتھوں پڑی وہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہ بنائی جس کے محراب شمال کی طرف ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت کے بعد بھی تین سو سال تک رومی اپنے پرانے خیالات پر ہی رہے ان میں سے جو کوئی شام کا اور جزیرے کا بادشاہ ہوجاتا اسے قیصر کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے رومیوں کا بادشاہ قسطنطین بن قسطس نے نصرانی مذہب قبول کیا۔ اس کی ماں کا نام مریم تھا۔ ہیلانیہ غندقانیہ تھی حران کی رہنے والی۔ پہلے اسی نے نصرانیت قبول کی تھی پھر اس کے کہنے سننے سے اس کے بیٹے نے بھی یہی مذہب اختیار کرلیا۔ یہ بڑا فلفسی عقلمند اور مکار آدمی تھا۔ یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے دراصل دل سے اس مذہب کو نہیں مانا تھا۔ اس کے زمانے میں نصرانی جمع ہوگئے۔ ان میں آپس میں مذہبی چھیڑ چھاڑ اور اختلاف اور مناظرے چھڑگئے۔ عبداللہ بن اویوس سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور اس قدر انتشار اور تفریق ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ تین سو اٹھارہ پادریوں نے مل کر ایک کتاب لکھی جو بادشاہ کو دی گئی اور وہ شاہی عقیدہ تسلیم کی گئی۔ اسی کو امانت کبرٰ کہا جاتا ہے۔ جو درحقیقت خیانت صغریٰ ہے۔ یہیں فقہی کتابیں اسی کے زمانے میں لکھی گئی۔ ان میں حلال حرام کے مسائل بیان کئے گئے اور ان کے علماء نے دل کھول کر جو چاہا ان میں لکھا۔ جس قدر جی میں آئی کمی یا زیادتی اصل دین مسیح میں کی۔ اور اصل مذہب محرف و مبدل ہوگیا مشرق کی جانب نمازیں پڑھنے لگے۔ بجائے ہفتہ کے اتوار کو بڑا دن بنایا۔ صلیب کی پرستش شروع ہوگئی۔ خنزیر کو حلال کرلیا گیا اور بہت سے تہوار ایجاد کر لئے جیسے عید صلیب عید قدرس عید غط اس وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان علماء کے سلسلے قائم کئے گئے ایک تو بڑا پادری ہوتا تھا پھر اس کے نیچے درجہ بدرجہ اور محکمے ہوتے تھے۔ رہبانیت اور ترک دنیا کی بدعت بھی ایجاد کرلی۔ کلیسا اور گرجے بہت سارے بنالئے گئے اور شہر قسطنطیہ کی بنارکھی گئی۔ اور اس بڑے شہر کو اسی بادشاہ کے نام پر نامزد کیا گیا۔ اس بادشاہ نے بارہ ہزار گرجے بنادئیے۔ تین محرابوں سے بیت لحم بنا۔ اس کی ماں نے بھی قمامہ بنایا۔ ان لوگوں کو ملکیہ کہتے ہیں اس لئے کہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر تھے۔ ان کے بعد یعقوبہ پھر سطوریہ۔ یہ سب سطور کے مقلد تھے۔ پھر ان کے بہت سے گروہ تھے جیسے حدیث میں ہے کہ انکے بہتر 0702 فرقے ہوگئے۔ ان کی سلطنت برابر چلی آتی تھی ایک کے بعد ایک قیصر ہونا آتا تھا یہاں تک کہ آخر میں قیصر ہرقل ہوا۔ یہ تمام بادشاہوں سے زیادہ عقلمند تھا بہت بڑا عالم تھا دانائی زیرکی دوراندیشی اور دور بینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اس نے سلطنت بہت وسیع کرلی اور مملکت دوردراز تک پھیلادی اس کے مقابلے میں فارس کا بادشاہ کسریٰ کھڑا ہوا اور چھوٹی چھوٹی سلطنتوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اس کی سلطنت قیصر سے بھی زیادہ بڑی تھی۔ یہ مجوسی لوگ تھے آگ کو پوجتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت میں تو ہے کہ اس کا سپہ سالار مقابلہ پر گیا لیکن مشہور بات یہ ہے کہ خود کسریٰ اس کے مقابلے پر گیا۔ قیصر کو شکست ہوئی یہاں تک کہ وہ قسطنطیہ میں گھر گیا۔ نصرانی اس کی بڑی عزت اور تعظیم کرتے تھے گو کسریٰ لمبی مدت تک محاصرہ کئے پڑا رہا لیکن دارالسلطنت کو فتح نہ کرسکا۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کا ملک نصف سمندر کی طرف تھا اور نصف خشکی کی طرف تھا۔ تو شاہ قیصر کو کمک اور رسد تری کے راستے سے برابر پہنچتی رہی آخر میں قیصر نے ایک چال چلی اس نے کسریٰ کو کہلوا بھیجا کہ آپ جو چاہیں مجھ سے تسلی لے لیجئے اور جن شرائط پر چاہیں مجھ سے صلح کرلیجئے۔ کسریٰ اس پر راضی ہوگیا اور اتنا مال طلب کیا کہ وہ اور یہ مل کر بھی جمع کرنا چاہے تو ناممکن تھا۔ قیصر نے اسے قبول کرلیا کیونکہ اس نے اس سے کسریٰ کی بیوقوبی کا پتہ چلا لیا کہ یہ وہ چیز مانگتا ہے جس کا جمع کرنا دنیا کے اختیار سے باہر ہے بلکہ ساری دنیا مل کر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کرسکتی۔ قیصر نے کسرٰی سے کہلوا بھیجا کہ مجھے اجازت دے کہ میں اپنے ملک سے باہر چل پھر کر اس دولت کو جمع کرلوں اور آپ کو سونپ دو۔ اس نے یہ درخواست منظور کرلی اب شاہ روم نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور ان سے کہا میں ایک ضروری اور اہم کام کے لئے اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جارہا ہوں۔ اگر ایک سال کے اندر اندر آجاؤں تو یہ ملک میرا ہے ورنہ تمہیں اختیار ہے جسے چاہو اپنا بادشاہ تسلیم کرلینا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہ تو آپ ہی ہیں خواہ دس سال تک بھی آپ نہ لوٹے تو کیا ہوا۔ یہ یہاں سے مختصر سی جانباز جماعت لے کر چپ چاپ چل کھڑا ہوا۔ پوشیدہ راستوں سے نہایت ہوشیاری احتیاط اور چالاکی سے بہت جلد فارس کے شہروں تک پہنچ گیا اور یکایک دھاوا بول دیا چونکہ یہاں کی فوجیں تو روم پہنچ چکی تھیں عوام کہاں تک مقابلہ کرتے۔ اس نے قتل عام شروع کیا۔ جو سامنے آیا تلوار کے کام آیا یونہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مدائن پہنچ گیا جو کسرٰی کی سلطنت کی کرسی تھی وہاں کی محافظ فوج پر بھی غالب آیا انہیں بھی قتل کردیا اور چاروں طرف سے مال جمع کیا۔ ان کی تمام عورتوں کو قید کرلیا اور تمام لڑنے والوں کو قتل کرڈالا۔ کسریٰ کے لڑکے کو زندہ گرفتار کیا اس محل سرائے کی عورتوں کو زندہ گرفتار کیا۔ اس کی دربارداری عورتیں وغیرہ بھی پکڑی گئیں اسکے لشکر کا سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا کر عورتوں سمیت کسریٰ کی طرف بھیجا کہ لیجئے جو مال اور عورتیں اور غلام تو نے مانگے تھے وہ سب حاضر ہیں۔ جب یہ قافلہ کسریٰ کے پاس پہنچا کسریٰ کو سخت صدمہ ہوا یہ ابھی تک قسطنطیہ کا محاصرہ کئے پڑا تھا اور قیصر کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے پاس اس کا کل خاندان اور ساری حرم سرا اس ذلت کی حالت میں پہنچی۔ یہ سخت غضبناک ہوا اور شہر پر بہت سخت حملہ کردیا لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی اب یہ نہر جیحون کی طرف چلا کہ قیصر کو وہاں روک لے کیونکہ قیصر کا فارس سے قسطنطیہ آنے کا راستہ یہی تھا۔ قیصر نے اسے سن کر پہلے سے بھی زبردست حملہ کیا یعنی اس نے اپنے لشکر کو تو دریا کے اس دہانے چھوڑا اور خود تھوڑے سے آدمی لے کر سوار ہو کر پانی کے بہاؤ کی طرف چل دیا کوئی ایک دن رات کا راستہ چلنے کے بعد اپنے ساتھ جو کئی چارہ لید گوبر وغیرہ لے گیا تھا اسے پانی میں بہادیا۔ یہ چیزیں پانی میں بہتی ہوئی کسرا کے لشکر کے پاس سے گذریں تو وہ سمجھ گئے کہ قیصر یہاں سے گذر گیا ہے۔ یہ اس کے لشکروں کے جانوروں کے آثار ہیں۔ اب قیصر واپس اپنے لشکر میں پہنچ گیا ادھر کسریٰ اس کی تلاش میں آگے چلا گیا۔ قیصر اپنے لشکروں سمیت جیحون کا دہانہ عبور کرکے راستہ بدل کر قسطنطیہ پہنچ گیا۔ جس دن یہ اپنے دارالسلطنت میں پہنچا نصرانیوں میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ کسریٰ کو جب یہ اطلاع ہوئی تو اس کا عجب حال ہوا کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن نہ تو روم ہی فتح ہوا اور نہ فارس ہی رہا رومی غالب آگئے فارس کی عورتیں اور وہاں کے مال ان کے قبضے میں آئے۔ یہ کل امور نو سال میں ہوئے اور رومیوں نے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت فارسیوں سے دوبارہ لے لی اور مغلوب ہو کر غالب آگئے۔ اذراعات اور بصرہ کے معرکے میں اہل فارس غالب آگئے تھے اور یہ ملک شام کا وہ حصہ تھا جو حجاز سے ملتا تھا یہ بھی قول ہے کہ یہ ہزیمت جزیرہ میں ہوئی تھی جو رومیوں کی سرحد کا مقام ہے اور فارس سے ملتا ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آگئے قرآن کریم میں لفظ بضع کا ہے اور اس کا اطلاق بھی نو تک ہوتا ہے اور یہی تفسیر اس لفظ کی ترمذی اور ابن جریر والی حدیث میں ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت صدیق اکبر سے فرمایا تھا کہ تمہیں احیتاطا دس سال تک رکھنے چاہئے تھے کیونکہ بضع کے لفظ اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے اس کے بعد قبل اور بعد پر پیش اضافت ہٹادینے کی وجہ ہے کہ اس کے بعد حکم اللہ ہی کا ہے اس دن جب کہ روم فارس پر غالب آجائے گا تو مسلمان خوشیاں منائیں گے اکثر علماء کا قول ہے کہ بدر کی لڑائی والے دن رومی فارسیوں پر غالب آگئے۔ ابن عباس سدی ثوری اور ابو سعید یہی فرماتے ہیں ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ غلبہ حدیبیہ والے سال ہوا تھا عکرمہ زہری اور قتادۃ وغیرہ کا یہی قول ہے بعض نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی کہ قیصر روم نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے فارس پر غالب کرے گا تو وہ اس کے شکر میں پیادہ بیت المقدس تک جائے گا چناچہ اس نے اپنی نذر پوری کی اور بیت المقدس پہنچا۔ یہ یہیں تھا اور اس کے پاس رسول کریم ﷺ کا نامہ مبارک پہنچا جو آپ نے حضرت دحیہ کلبی ؓ کی معرفت بصری کے گورنر کو بھیجا تھا اور اس نے ہرقل کو پہنچایا تھا ہرقل نے نامہ نبی ﷺ پاتے ہی شام میں جو حجازی عرب تھے انہیں اپنے پاس بلایا ان میں ابو سفیان صخر بن حرب اموی بھی تھا اور دوسرے بھی قریش کے ذی عزت بڑے بڑے لوگ تھے اس نے ان سب کو اپنے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا کہ تم میں سے اس کا سب زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے ؟ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ابو سفیان نے کہا میں ہوں۔ بادشاہ نے انہیں آگے بٹھا لیا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے بٹھا لیا اور ان سے کہا کہ دیکھو میں اس شخص سے چند سوالات کرونگا اگر یہ کسی سوال کا غلط جواب دے تو تم اس کو جھٹلادینا ابو سفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ بولوں گا تو لوگ اس کو ظاہر کردیں گے اور پھر اس جھوٹ کو میری طرف نسبت کریں گے تو یقینا میں جھوٹ بولتا۔ اب ہرقل نے بہت سے سوالات کئے۔ مثلا حضور کے حسب نسب کہ نسبت آپ کے اوصاف و عادات کے متعلق وغیرہ وغیرہ ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ غداری کرتا ہے ابو سفیان نے کہا کہ آج تک تو کبھی بدعہدی وعدہ شکنی اور غداری کی نہیں۔ اس وقت ہم میں اس میں ایک معاہدہ ہے نہ جانے اس میں وہ کیا کرے ؟ ابو سفیان کے اس قول سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس میں حضور ﷺ اور قریش کے درمیان یہ بات ٹھہری تھی کہ آپس میں دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ یہ واقعہ اس قول کی پوری دلیل بن سکتا ہے کہ رومی فارس پر حدیبیہ والے سال غالب آئے تھے۔ اس لیے کہ قیصر نے اپنی نذر حدیبیہ کے بعد پوری کی تھی واللہ اعلم۔ لیکن اس کا جواب وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غلبہ روم فارس پر بدر والے سال ہوا تھا یہ دے سکتے ہیں کہ چونکہ ملک کی اقتصادی اور مالی حالت خراب ہوچکی تھی ویرانی غیر آبادی وتنگ حالی بہت بڑھ گئی تھی اس لئے چار سال تک ہرقل نے اپنی پوری توجہ ملک کی خوشحالی اور آبادی پر رکھی۔ اس کے بعد اس طرف سے اطمینان حاصل کرکے نذر کو پوری کرنے کے لئے روانہ ہوا واللہ اعلم۔ یہ اختلاف کوئی ایسا اہم امر نہیں۔ ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لئے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔ خود قرآن میں موجود ہے کہ ایمان والوں کے سب سے زیادہ دشمن یہود اور مشرک ہیں اور ان سے دوستیاں رکھنے میں سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں اس لئے کہ ان میں علماء اور درویش لوگ ہیں اور یہ متکبر نہیں قرآن سن کر یہ رو دیتے ہیں کیونکہ حق کو جان لیتے ہیں پھر اقرار کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم ایمان لائے تو ہمیں بھی ماننے والوں میں کرلے۔ پس یہاں بھی یہی فرمایا کہ مسلمان اس دن خوش ہونگے جس دن اللہ تعالیٰ رومیوں کی مدد کرے گا وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے وہ بڑا غالب اور بہت مہربان ہے۔ حضرت زبیر کلامی فرماتے ہیں میں نے فارسیوں کا رومیوں پر غالب آنا پھر رومیوں کا فارسیوں پر غالب آنا پھر روم اور فارس دونوں پر مسلمانوں کا غالب آنا اپنی آنکھوں سے پندرہ سال کے اندر دیکھا لیا آخر آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے بدلہ اور انتقام لینے پر قادر اور اپنے دوستوں کی خطاؤں اور لغزشوں سے درگذر فرمانے والا ہے۔ جو خبر تمہیں دی ہے کہ رومی عنقریب فارسیوں پر غالب آجائیں گے یہ اللہ کی خبر ہے رب کا وعدہ ہے پروردگار کا فیصلہ ہے۔ ناممکن ہے کہ غلط نکلے ٹل جائے یا خلاف ہوجائے۔ جو حق کے قریب ہو اسے بھی رب حق سے بہت دور والوں پر غالب رکھتے ہیں ہاں اللہ کی حکمتوں کو کم علم نہیں جان سکتے۔ اکثر لوگ دنیا کا علم تو خوب رکھتے ہیں اس کی گھتیاں منٹوں میں سلجھا دیتے ہیں اس میں خوب دماغ دوڑاتے ہیں۔ اس کے برے بھلے نقصان کو پہچان لیتے ہیں بیک نگاہ اس کی اونچ نیچ دیکھ لیتے ہیں۔ دنیا کمانے کا پیسے جوڑنے کا خوب سلیقہ رکھتے ہیں لیکن امور دین میں اخروی کاموں میں محض جاہل غبی اور کم فہم ہوتے ہیں۔ یہاں نہ ذہن کام کرے نہ سمجھ پہنچ سکے نہ غورو فکر کی عادت۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں بہت سے ایسے بھی ہیں کہ نماز تک تو ٹھیک پڑھ نہیں سکتے لیکن درہم چٹکی میں لیتے ہی وزن بتادیا کرتے ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں دنیا کی آبادی اور رونق کی تو بیسیوں صورتیں ان کا ذہن گھڑ لیتا ہے۔ لیکن دین میں محض جاہل اور آخرت سے بالکل غافل ہیں۔

30:8Graph

أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِم مَّا خَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ ٱلنَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكَٰفِرُونَ

Awalam yatafakkaroo feee anfusihim; maa khalaqal laahus samaawaati wal arda wa maa bainahumaaa illaa bil haqqi wa ajalim musammaa; wa inna kaseeram minan naasi biliqaaa'i Rabbihim lakaafiroon

Do they not contemplate within themselves? Allah has not created the heavens and the earth and what is between them except in truth and for a specified term. And indeed, many of the people, in [the matter of] the meeting with their Lord, are disbelievers.

کیا اُنہوں نے اپنے دل میں غور نہیں کیا۔ کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اُن کو حکمت سے اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور بہت سے لوگ اپنے پروردگار سے ملنے کے قائل ہی نہیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لئے ارشاد ہوتا ہے کہ موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو۔ کبھی عالم علوی کو دیکھو کبھی عالم سفلی پر نظر ڈالو کبھی اور مخلوقات کی پیدائش کو سوچو اور سمجھو کہ یہ چیزیں عبث اور بیکار پیدا نہیں کی گئیں۔ بلکہ رب نے انہیں کارآمد اور نشان قدرت بنایا ہے۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے یعنی قیامت کا دن۔ جسے اکثر لوگ مانتے ہی نہیں۔ اس کے بعد نبیوں کی صداقت کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ دیکھ لو ان کے مخالفین کا کس قدر عبرتناک انجام ہوا ؟ اور ان کے ماننے والوں کو کس طرح دونوں جہاں کی عزت ملی ؟ تم چل پھر کر اگلے واقعات معلوم کرو کہ گذشتہ امتیں جو تم سے زیادہ زور آور تھیں تم سے زیادہ مال و زر والی تھیں تم سے زیادہ آبادیاں انہوں نے کیں تم سے زیادہ کھیتیاں اور باغات ان کے تھے اس کے باوجود جب ان کے پاس اس زمانے کے رسول آئے انہوں نے دلیلیں اور معجزے دکھائے اور پھر بھی اس زمانے کے ان بدنصیبوں نے ان کی نہ مانی اور اپنے خیالات میں مستغرق رہے اور سیاہ کاریوں میں مشغول رہے تو بالآخر عذاب اللہ ان پر برس پڑے۔ اس وقت کوئی نہ تھا جو انہیں بچاسکے یا کسی عذاب کو ان پر سے ہٹاسکے۔ اللہ کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم کرے۔ یہ عذاب تو انکے اپنے کرتوتوں کا وبال تھا۔ یہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے رب کی باتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ان کی بےایمانی کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں کو انکی نگاہوں کو پھیر دیا اور انہیں ان کی سرکشی میں حیران چھوڑ دیا ہے۔ اور آیت میں ہے ان کی کجی کی وجہ سے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردئیے اور اس آیت میں ہے کہ اگر اب بھی منہ موڑیں تو سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض گناہوں پر ان کی پکڑ کرنے کا ارادہ کرچکا ہے۔ اس بنا پر السوای منصوب ہوگا اساوا کا مفعول ہو کر۔ اور یہ بھی قول ہے کہ سوای یہاں پر اس طرح واقع ہے کہ برائی ان کا انجام ہوئی۔ اس لئے کہ وہ آیات اللہ کے جھٹلانے والے اور ان کا مذاق اڑانے والے تھے۔ تو اس معنی کی رو سے یہ لفظ منصوب ہوگا کان کی خبر ہو کر۔ امام ابن جریر نے یہی توجیہہ بیان کی ہے اور ابن عباس اور قتادۃ سے نقل بھی کی ہے۔ ضحاک بھی یہی فرماتے ہیں اور ظاہر بھی یہی ہے کیونکہ اس کے بعد آیت (وَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ 10ۧ) 30۔ الروم :10) ہے۔

30:9Graph

أَوَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَانُوٓا۟ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا۟ ٱلْأَرْضَ وَعَمَرُوهَآ أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

Awalm yaseeroo fil ardi fa-yanzuroo kaifa kaana 'aaqibatul lazeena min qablihim; kaanooo ashadda minhhum quwwatanw wa asaarul arda wa 'amaroohaaa aksara mimmaa 'amaroohaa wa jaaa'athum Rusuluhum bil baiyinaati famaa kaanal laahu liyazli mahum wa laakin kaanooo anfusahum yazlimoon

Have they not traveled through the earth and observed how was the end of those before them? They were greater than them in power, and they plowed the earth and built it up more than they have built it up, and their messengers came to them with clear evidences. And Allah would not ever have wronged them, but they were wronging themselves.

کیا اُن لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی (سیر کرتے) تو دیکھ لیتے کہ جو لوگ اُن سے پہلے تھے ان کا انجام کیسے ہوا۔ وہ اُن سے زورو قوت میں کہیں زیادہ تھے اور اُنہوں نے زمین کو جوتا اور اس کو اس سے زیادہ آباد کیا تھا جو اُنہوں نے آباد کیا۔ اور اُن کے پاس اُن کے پیغمبر نشانیاں لےکر آتے رہے تو خدا ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرتا۔ بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لئے ارشاد ہوتا ہے کہ موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو۔ کبھی عالم علوی کو دیکھو کبھی عالم سفلی پر نظر ڈالو کبھی اور مخلوقات کی پیدائش کو سوچو اور سمجھو کہ یہ چیزیں عبث اور بیکار پیدا نہیں کی گئیں۔ بلکہ رب نے انہیں کارآمد اور نشان قدرت بنایا ہے۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے یعنی قیامت کا دن۔ جسے اکثر لوگ مانتے ہی نہیں۔ اس کے بعد نبیوں کی صداقت کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ دیکھ لو ان کے مخالفین کا کس قدر عبرتناک انجام ہوا ؟ اور ان کے ماننے والوں کو کس طرح دونوں جہاں کی عزت ملی ؟ تم چل پھر کر اگلے واقعات معلوم کرو کہ گذشتہ امتیں جو تم سے زیادہ زور آور تھیں تم سے زیادہ مال و زر والی تھیں تم سے زیادہ آبادیاں انہوں نے کیں تم سے زیادہ کھیتیاں اور باغات ان کے تھے اس کے باوجود جب ان کے پاس اس زمانے کے رسول آئے انہوں نے دلیلیں اور معجزے دکھائے اور پھر بھی اس زمانے کے ان بدنصیبوں نے ان کی نہ مانی اور اپنے خیالات میں مستغرق رہے اور سیاہ کاریوں میں مشغول رہے تو بالآخر عذاب اللہ ان پر برس پڑے۔ اس وقت کوئی نہ تھا جو انہیں بچاسکے یا کسی عذاب کو ان پر سے ہٹاسکے۔ اللہ کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم کرے۔ یہ عذاب تو انکے اپنے کرتوتوں کا وبال تھا۔ یہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے رب کی باتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ان کی بےایمانی کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں کو انکی نگاہوں کو پھیر دیا اور انہیں ان کی سرکشی میں حیران چھوڑ دیا ہے۔ اور آیت میں ہے ان کی کجی کی وجہ سے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردئیے اور اس آیت میں ہے کہ اگر اب بھی منہ موڑیں تو سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض گناہوں پر ان کی پکڑ کرنے کا ارادہ کرچکا ہے۔ اس بنا پر السوای منصوب ہوگا اساوا کا مفعول ہو کر۔ اور یہ بھی قول ہے کہ سوای یہاں پر اس طرح واقع ہے کہ برائی ان کا انجام ہوئی۔ اس لئے کہ وہ آیات اللہ کے جھٹلانے والے اور ان کا مذاق اڑانے والے تھے۔ تو اس معنی کی رو سے یہ لفظ منصوب ہوگا کان کی خبر ہو کر۔ امام ابن جریر نے یہی توجیہہ بیان کی ہے اور ابن عباس اور قتادۃ سے نقل بھی کی ہے۔ ضحاک بھی یہی فرماتے ہیں اور ظاہر بھی یہی ہے کیونکہ اس کے بعد آیت (وَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ 10ۧ) 30۔ الروم :10) ہے۔

30:10Graph

ثُمَّ كَانَ عَٰقِبَةَ ٱلَّذِينَ أَسَٰٓـُٔوا۟ ٱلسُّوٓأَىٰٓ أَن كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَكَانُوا۟ بِهَا يَسْتَهْزِءُونَ

Summa kaana'aaqibatal lazeena asaaa'us sooo aaa an kazzaboo bi aayaatil laahi wa kaanoo bihaa yastahzi'oon

Then the end of those who did evil was the worst [consequence] because they denied the signs of Allah and used to ridicule them.

پھر جن لوگوں نے برائی کی اُن کا انجام بھی برا ہوا اس لیے کہ خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے اور اُن کی ہنسی اُڑاتے رہے تھے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لئے ارشاد ہوتا ہے کہ موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو۔ کبھی عالم علوی کو دیکھو کبھی عالم سفلی پر نظر ڈالو کبھی اور مخلوقات کی پیدائش کو سوچو اور سمجھو کہ یہ چیزیں عبث اور بیکار پیدا نہیں کی گئیں۔ بلکہ رب نے انہیں کارآمد اور نشان قدرت بنایا ہے۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے یعنی قیامت کا دن۔ جسے اکثر لوگ مانتے ہی نہیں۔ اس کے بعد نبیوں کی صداقت کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ دیکھ لو ان کے مخالفین کا کس قدر عبرتناک انجام ہوا ؟ اور ان کے ماننے والوں کو کس طرح دونوں جہاں کی عزت ملی ؟ تم چل پھر کر اگلے واقعات معلوم کرو کہ گذشتہ امتیں جو تم سے زیادہ زور آور تھیں تم سے زیادہ مال و زر والی تھیں تم سے زیادہ آبادیاں انہوں نے کیں تم سے زیادہ کھیتیاں اور باغات ان کے تھے اس کے باوجود جب ان کے پاس اس زمانے کے رسول آئے انہوں نے دلیلیں اور معجزے دکھائے اور پھر بھی اس زمانے کے ان بدنصیبوں نے ان کی نہ مانی اور اپنے خیالات میں مستغرق رہے اور سیاہ کاریوں میں مشغول رہے تو بالآخر عذاب اللہ ان پر برس پڑے۔ اس وقت کوئی نہ تھا جو انہیں بچاسکے یا کسی عذاب کو ان پر سے ہٹاسکے۔ اللہ کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم کرے۔ یہ عذاب تو انکے اپنے کرتوتوں کا وبال تھا۔ یہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے رب کی باتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ان کی بےایمانی کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں کو انکی نگاہوں کو پھیر دیا اور انہیں ان کی سرکشی میں حیران چھوڑ دیا ہے۔ اور آیت میں ہے ان کی کجی کی وجہ سے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردئیے اور اس آیت میں ہے کہ اگر اب بھی منہ موڑیں تو سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض گناہوں پر ان کی پکڑ کرنے کا ارادہ کرچکا ہے۔ اس بنا پر السوای منصوب ہوگا اساوا کا مفعول ہو کر۔ اور یہ بھی قول ہے کہ سوای یہاں پر اس طرح واقع ہے کہ برائی ان کا انجام ہوئی۔ اس لئے کہ وہ آیات اللہ کے جھٹلانے والے اور ان کا مذاق اڑانے والے تھے۔ تو اس معنی کی رو سے یہ لفظ منصوب ہوگا کان کی خبر ہو کر۔ امام ابن جریر نے یہی توجیہہ بیان کی ہے اور ابن عباس اور قتادۃ سے نقل بھی کی ہے۔ ضحاک بھی یہی فرماتے ہیں اور ظاہر بھی یہی ہے کیونکہ اس کے بعد آیت (وَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ 10ۧ) 30۔ الروم :10) ہے۔

30:11Graph

ٱللَّهُ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

Allaahu yabda'ul khalqa summa yu'eeduhoo summa ilaihi turja'oon

Allah begins creation; then He will repeat it; then to Him you will be returned.

خدا ہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے وہی اس کو پھر پیدا کرے گا پھر تم اُسی کی طرف لوٹ جاؤ گے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اعمال کے مطابق فیصلے فرمان باری ہے کہ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فناکر کے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو۔ وہاں وہ ہر ایک کو اسکے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہوجائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لئے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ انکے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہوجائیں گے اور صاف کہہ دیں گے کہ ہم میں انمیں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہوجائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو علیین میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ سجین میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے۔

30:12Graph

وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُبْلِسُ ٱلْمُجْرِمُونَ

Wa yawma taqoomus Saa'atu yublisul mujrimoon

And the Day the Hour appears the criminals will be in despair.

اور جس دن قیامت برپا ہوگی گنہگار نااُمید ہوجائیں گے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اعمال کے مطابق فیصلے فرمان باری ہے کہ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فناکر کے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو۔ وہاں وہ ہر ایک کو اسکے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہوجائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لئے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ انکے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہوجائیں گے اور صاف کہہ دیں گے کہ ہم میں انمیں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہوجائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو علیین میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ سجین میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے۔

30:13Graph

وَلَمْ يَكُن لَّهُم مِّن شُرَكَآئِهِمْ شُفَعَٰٓؤُا۟ وَكَانُوا۟ بِشُرَكَآئِهِمْ كَٰفِرِينَ

Wa lam yakul lahum min shurakaaa'ihim shufa'aaa'u wa kaanoo bishurakaaa'ihim kaafireen

And there will not be for them among their [alleged] partners any intercessors, and they will [then] be disbelievers in their partners.

اور ان کے (بنائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ اپنے شریکوں سے نامعتقد ہوجائیں گے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اعمال کے مطابق فیصلے فرمان باری ہے کہ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فناکر کے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو۔ وہاں وہ ہر ایک کو اسکے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہوجائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لئے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ انکے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہوجائیں گے اور صاف کہہ دیں گے کہ ہم میں انمیں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہوجائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو علیین میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ سجین میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے۔

30:14Graph

وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ

Wa Yawma taqoomus Saa'atu Yawma'iziny yatafarraqoon

And the Day the Hour appears - that Day they will become separated.

اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس روز وہ الگ الگ فرقے ہوجائیں گے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اعمال کے مطابق فیصلے فرمان باری ہے کہ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فناکر کے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو۔ وہاں وہ ہر ایک کو اسکے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہوجائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لئے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ انکے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہوجائیں گے اور صاف کہہ دیں گے کہ ہم میں انمیں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہوجائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو علیین میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ سجین میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے۔

30:15Graph

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَهُمْ فِى رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ

Fa ammal lazeena aamanoo wa 'amilus saalihaati fahum fee rawdatiny yuhbaroon

And as for those who had believed and done righteous deeds, they will be in a garden [of Paradise], delighted.

تو جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے وہ (بہشت کے) باغ میں خوش حال ہوں گے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اعمال کے مطابق فیصلے فرمان باری ہے کہ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فناکر کے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو۔ وہاں وہ ہر ایک کو اسکے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہوجائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لئے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ انکے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہوجائیں گے اور صاف کہہ دیں گے کہ ہم میں انمیں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہوجائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو علیین میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ سجین میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے۔

30:16Graph

وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَلِقَآئِ ٱلْـَٔاخِرَةِ فَأُو۟لَٰٓئِكَ فِى ٱلْعَذَابِ مُحْضَرُونَ

Wa ammal lazeena kafaroo wa kazzaboo bi-Aayaatinaa wa liqaaa'il Aakhirati faulaaa'ika fil'azaabi muhdaroon

But as for those who disbelieved and denied Our verses and the meeting of the Hereafter, those will be brought into the punishment [to remain].

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا۔ وہ عذاب میں ڈالے جائیں گے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اعمال کے مطابق فیصلے فرمان باری ہے کہ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فناکر کے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو۔ وہاں وہ ہر ایک کو اسکے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہوجائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لئے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ انکے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہوجائیں گے اور صاف کہہ دیں گے کہ ہم میں انمیں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہوجائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو علیین میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ سجین میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے۔

30:17Graph

فَسُبْحَٰنَ ٱللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ

Fa Subhaanal laahi heena tumsoona wa heena tusbihoon

So exalted is Allah when you reach the evening and when you reach the morning.

تو جس وقت تم کو شام ہو اور جس وقت صبح ہو خدا کی تسبیح کرو (یعنی نماز پڑھو)

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

خالق کل مقتدر کل ہے اس رب تعالیٰ کا کمال قدرت اور عظمت سلطنت پر دلالت اس کی تسبیح اور اس کی حمد سے ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہبری کرتا ہے اور اپنا پاک ہونا اور قابل حمد ہونا بھی بیان فرما رہا ہے۔ شام کے وقت جبکہ رات اپنے اندھیروں کو لے آتی ہے اور صبح کے وقت جبکہ دن اپنی روشنیوں کو لے آتا ہے۔ اتنا بیان فرما کر اس کے بعد کا جملہ بیان فرمانے سے پہلے ہی یہ بھی ظاہر کردیا کہ زمین و آسمان میں قابل حمد وثنا وہی ہے ان کی پیدائش خود اس کی بزرگی پر دلیل ہے۔ پھر صبح شام کے وقتوں کی تسبیح کا بیان جو پہلے گذرا تھا اس کے ساتھ عشاء اور ظہر کا وقت ملالیا۔ جو پوری اندھیرے اور کامل اجالے کا وقت ہوتا ہے۔ بیشک تمام پاکیزگی اسی کو سزاوار ہے جو رات کے اندھیروں کو اور دن کے اجالوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ صبح کا ظاہر کرنے والا رات کو سکون والی بنانے والا وہی ہے۔ اس جیسی آیتیں اور بھی بہت سی ہیں۔ آیت (وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا ۽) 91۔ الشمس :3) اور (وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى ۙ) 92۔ اللیل :1) ٰ (اور) (وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى ۙ) 93۔ الضحی:12) وغیرہ۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا نام خلیل (وفادار) کیوں رکھا ؟ اس لئے کہ وہ صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے۔ پھر آپ نے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ سے وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ 18؀) 30۔ الروم :18) تک کی دونوں آیتیں تلاوت فرمائیں۔ طبرانی کی حدیث میں ان دونوں آیتوں کی نسبت ہے کہ جس نے صبح وشام یہ پڑھ لیں اس نے دن رات میں جو چیز چھوٹ گئی اسے پالیا۔ پھر بیان فرمایا کہ موت وزیست کا خالق مردوں سے زندوں کو اور زندوں سے مردوں کو نکالنے والا وہی ہے۔ ہر شے پر اور اس کی ضد پر وہ قادر ہے دانے سے درخت درخت سے دانے مرغی سے انڈہ انڈے سے مرغی نطفے سے انسان انسان سے نطفہ مومن سے کافر کافر سے مومن غرض ہر چیز اور اسکے مقابلہ کی چیز پر اسے قدرت حاصل ہے۔ خشک زمین کو وہی تر کرتا ہے بنجر زمین سے وہی زراعت پیدا کرتا ہے جیسے سورة یاسین میں فرمایا کہ خشک زمین کا ترو تازہ ہو کر طرح طرح کے اناج وپھل پیدا کرنا بھی میری قدرت کا ایک کامل نشان ہے۔ ایک اور آیت میں ہے تمہارے دیکھتے ہوئے اس زمین کو جس میں سے دھواں اٹھتاہو دوبوند سے تر کرکے میں لہلہا دیتا ہوں اور ہر قسم کی پیداوار سے اسے سرسبز کردیتا ہوں۔ اور بھی بہت سی آیتوں میں اس مضمون کو کہیں مفصل کہیں مجمل بیان فرمایا۔ یہاں فرمایا اسی طرح تم سب بھی مرنے کے بعد قبروں میں سے زندہ کرکے کھڑے کردئیے جاؤ گے۔

30:18Graph

وَلَهُ ٱلْحَمْدُ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ

Wa lahul hamdu fis samaawaati wal ardi wa 'ashiyyanw wa heena tuzhiroon

And to Him is [due all] praise throughout the heavens and the earth. And [exalted is He] at night and when you are at noon.

اور آسمانوں اور زمین میں اُسی کی تعریف ہے۔ اور تیسرے پہر بھی اور جب دوپہر ہو (اُس وقت بھی نماز پڑھا کرو)

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

خالق کل مقتدر کل ہے اس رب تعالیٰ کا کمال قدرت اور عظمت سلطنت پر دلالت اس کی تسبیح اور اس کی حمد سے ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہبری کرتا ہے اور اپنا پاک ہونا اور قابل حمد ہونا بھی بیان فرما رہا ہے۔ شام کے وقت جبکہ رات اپنے اندھیروں کو لے آتی ہے اور صبح کے وقت جبکہ دن اپنی روشنیوں کو لے آتا ہے۔ اتنا بیان فرما کر اس کے بعد کا جملہ بیان فرمانے سے پہلے ہی یہ بھی ظاہر کردیا کہ زمین و آسمان میں قابل حمد وثنا وہی ہے ان کی پیدائش خود اس کی بزرگی پر دلیل ہے۔ پھر صبح شام کے وقتوں کی تسبیح کا بیان جو پہلے گذرا تھا اس کے ساتھ عشاء اور ظہر کا وقت ملالیا۔ جو پوری اندھیرے اور کامل اجالے کا وقت ہوتا ہے۔ بیشک تمام پاکیزگی اسی کو سزاوار ہے جو رات کے اندھیروں کو اور دن کے اجالوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ صبح کا ظاہر کرنے والا رات کو سکون والی بنانے والا وہی ہے۔ اس جیسی آیتیں اور بھی بہت سی ہیں۔ آیت (وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا ۽) 91۔ الشمس :3) اور (وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى ۙ) 92۔ اللیل :1) ٰ (اور) (وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى ۙ) 93۔ الضحی:12) وغیرہ۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا نام خلیل (وفادار) کیوں رکھا ؟ اس لئے کہ وہ صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے۔ پھر آپ نے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ سے وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ 18؀) 30۔ الروم :18) تک کی دونوں آیتیں تلاوت فرمائیں۔ طبرانی کی حدیث میں ان دونوں آیتوں کی نسبت ہے کہ جس نے صبح وشام یہ پڑھ لیں اس نے دن رات میں جو چیز چھوٹ گئی اسے پالیا۔ پھر بیان فرمایا کہ موت وزیست کا خالق مردوں سے زندوں کو اور زندوں سے مردوں کو نکالنے والا وہی ہے۔ ہر شے پر اور اس کی ضد پر وہ قادر ہے دانے سے درخت درخت سے دانے مرغی سے انڈہ انڈے سے مرغی نطفے سے انسان انسان سے نطفہ مومن سے کافر کافر سے مومن غرض ہر چیز اور اسکے مقابلہ کی چیز پر اسے قدرت حاصل ہے۔ خشک زمین کو وہی تر کرتا ہے بنجر زمین سے وہی زراعت پیدا کرتا ہے جیسے سورة یاسین میں فرمایا کہ خشک زمین کا ترو تازہ ہو کر طرح طرح کے اناج وپھل پیدا کرنا بھی میری قدرت کا ایک کامل نشان ہے۔ ایک اور آیت میں ہے تمہارے دیکھتے ہوئے اس زمین کو جس میں سے دھواں اٹھتاہو دوبوند سے تر کرکے میں لہلہا دیتا ہوں اور ہر قسم کی پیداوار سے اسے سرسبز کردیتا ہوں۔ اور بھی بہت سی آیتوں میں اس مضمون کو کہیں مفصل کہیں مجمل بیان فرمایا۔ یہاں فرمایا اسی طرح تم سب بھی مرنے کے بعد قبروں میں سے زندہ کرکے کھڑے کردئیے جاؤ گے۔

30:19Graph

يُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَىِّ وَيُحْىِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَكَذَٰلِكَ تُخْرَجُونَ

Yukhrijul haiya minal maiyiti wa yukhrijul maiyita minal haiyi wa yuhyil arda ba'da mawtihaa; wa kazaalika tukhrajoon

He brings the living out of the dead and brings the dead out of the living and brings to life the earth after its lifelessness. And thus will you be brought out.

وہی زندے کو مردے سے نکالتا اور (وہی) مردے کو زندے سے نکالتا ہے اور (وہی) زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ اور اسی طرح تم (دوبارہ زمین میں سے) نکالے جاؤ گے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

خالق کل مقتدر کل ہے اس رب تعالیٰ کا کمال قدرت اور عظمت سلطنت پر دلالت اس کی تسبیح اور اس کی حمد سے ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہبری کرتا ہے اور اپنا پاک ہونا اور قابل حمد ہونا بھی بیان فرما رہا ہے۔ شام کے وقت جبکہ رات اپنے اندھیروں کو لے آتی ہے اور صبح کے وقت جبکہ دن اپنی روشنیوں کو لے آتا ہے۔ اتنا بیان فرما کر اس کے بعد کا جملہ بیان فرمانے سے پہلے ہی یہ بھی ظاہر کردیا کہ زمین و آسمان میں قابل حمد وثنا وہی ہے ان کی پیدائش خود اس کی بزرگی پر دلیل ہے۔ پھر صبح شام کے وقتوں کی تسبیح کا بیان جو پہلے گذرا تھا اس کے ساتھ عشاء اور ظہر کا وقت ملالیا۔ جو پوری اندھیرے اور کامل اجالے کا وقت ہوتا ہے۔ بیشک تمام پاکیزگی اسی کو سزاوار ہے جو رات کے اندھیروں کو اور دن کے اجالوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ صبح کا ظاہر کرنے والا رات کو سکون والی بنانے والا وہی ہے۔ اس جیسی آیتیں اور بھی بہت سی ہیں۔ آیت (وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا ۽) 91۔ الشمس :3) اور (وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى ۙ) 92۔ اللیل :1) ٰ (اور) (وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى ۙ) 93۔ الضحی:12) وغیرہ۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا نام خلیل (وفادار) کیوں رکھا ؟ اس لئے کہ وہ صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے۔ پھر آپ نے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ سے وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ 18؀) 30۔ الروم :18) تک کی دونوں آیتیں تلاوت فرمائیں۔ طبرانی کی حدیث میں ان دونوں آیتوں کی نسبت ہے کہ جس نے صبح وشام یہ پڑھ لیں اس نے دن رات میں جو چیز چھوٹ گئی اسے پالیا۔ پھر بیان فرمایا کہ موت وزیست کا خالق مردوں سے زندوں کو اور زندوں سے مردوں کو نکالنے والا وہی ہے۔ ہر شے پر اور اس کی ضد پر وہ قادر ہے دانے سے درخت درخت سے دانے مرغی سے انڈہ انڈے سے مرغی نطفے سے انسان انسان سے نطفہ مومن سے کافر کافر سے مومن غرض ہر چیز اور اسکے مقابلہ کی چیز پر اسے قدرت حاصل ہے۔ خشک زمین کو وہی تر کرتا ہے بنجر زمین سے وہی زراعت پیدا کرتا ہے جیسے سورة یاسین میں فرمایا کہ خشک زمین کا ترو تازہ ہو کر طرح طرح کے اناج وپھل پیدا کرنا بھی میری قدرت کا ایک کامل نشان ہے۔ ایک اور آیت میں ہے تمہارے دیکھتے ہوئے اس زمین کو جس میں سے دھواں اٹھتاہو دوبوند سے تر کرکے میں لہلہا دیتا ہوں اور ہر قسم کی پیداوار سے اسے سرسبز کردیتا ہوں۔ اور بھی بہت سی آیتوں میں اس مضمون کو کہیں مفصل کہیں مجمل بیان فرمایا۔ یہاں فرمایا اسی طرح تم سب بھی مرنے کے بعد قبروں میں سے زندہ کرکے کھڑے کردئیے جاؤ گے۔

30:20Graph

وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنْ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ إِذَآ أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ

Wa min Aayaatiheee an khalaqakum min turaabin summa izaaa antum basharun tantashiroon

And of His signs is that He created you from dust; then, suddenly you were human beings dispersing [throughout the earth].

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ اُس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ پھر اب تم انسان ہوکر جا بجا پھیل رہے ہو

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

بتدریج نظام حیات فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بیشمار نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے باپ حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ تم سب کو اس نے بےوقعت پانی کے قطرے سے پیدا کیا۔ پھر تمہاری بہت اچھی صورتیں بنائیں نطفے سے خون بستہ کی شکل میں پھر گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں ڈھال کر پھر ہڈیاں بنائیں اور ہڈیوں کو گوشت پہنایا۔ پھر روح پھونکی، آنکھ، کان، ناک پیدا کئے ماں کے پیٹ سے سلامتی سے نکالا، پھر کمزوری کو قوت سے بدلا، دن بدن طاقتور اور مضبوط قدآور زورآور کیا، عمر دی حرکت وسکون کی طاقت دی اسباب اور آلات دئیے اور مخلوق کا سردار بنایا اور ادھر سے ادھر پہنچنے کے ذرائع دئیے۔ سمندروں کی زمین کی مختلف سواریاں عطا فرمائیں عقل سوچ سمجھ تدبر غور کے لیے دل ودماغ عطا فرمائے۔ دنیاوی کام سمجھائے رزق عزت حاصل کرنے لے طریقے کھول دئیے۔ ساتھ ہی آخرت کو سنوارنے کا علم اور دنیاوی علم بھی سکھایا۔ پاک ہے وہ اللہ جو ہر چیز کا صحیح اندازہ کرتا ہے ہر ایک کو ایک مرتبے پر رکھتا ہے۔ شکل وصورت میں بول چال میں امیری فقیری میں عقل وہنر میں بھلائی برائی میں سعادت وشقات میں ہر ایک کو جداگانہ کردیا۔ تاکہ ہر شخص رب کی بہت سی نشانیاں اپنے میں اور دوسرے میں دیکھ لے۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمام زمین سے ایک مٹھی مٹی کی لیکر اس سے حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا۔ پس زمین کے مختلف حصوں کی طرح اولاد آدم کی مختلف رنگتیں ہوئیں۔ کوئی سفید کوئی سرخ کوئی سیاہ کوئی خبیث کوئی طیب کوئی خوش خلق کوئی بدخلق وغیرہ۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی قدرت یہ بھی ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے جوڑے بنائے کہ وہ تمہاری بیویاں بنتی ہیں اور تم ان کے خاوند ہوتے ہو۔ یہ اس لئے کہ تمہیں ان سے سکوں وراحت آرام و آسائش حاصل ہو۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیویاں پیدا کی تاکہ وہ اس کی طرف راحت حاصل کرے۔ حضرت حوا حضرت آدم کی بائیں پسلی سے جو سب سے زیادہ چھوٹی ہے پیدا ہوئی ہیں پس اگر انسان کا جوڑا انسان سے نہ ملتا اور کسی اور جنس سے ان کا جوڑا بندھتا تو موجودہ الفت و رحمت ان میں نہ ہوسکتی۔ یہ پیار اخلاص یک جنسی کی وجہ سے ہے۔ ان میں آپس میں محبت مودت رحمت الفت پیار اخلاص رحم اور مہربانی ڈال دی پس مرد یا تو محبت کی وجہ سے عورت کی خبر گیری کرتا ہے یا غم کھاکر اس کا خیال رکھتا ہے۔ اس لئے کہ اس سے اولاد ہوچکی ہے اس کی پرورش ان دونوں کے میل ملاپ پر موقوف ہے الغرض بہت سی وجوہات رب العلمین نے رکھ دی ہیں۔ جن کے باعث انسان با آرام اپنے جوڑے کے ساتھ زندگی گذارتا ہے۔ یہ بھی رب کی مہربانی اور اس کی قدرت کاملہ کی ایک زبردست نشانی ہے۔ ادنی غور سے انسان کا ذہن اس تک پہنچ جاتا ہے۔

30:21Graph

وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَٰجًا لِّتَسْكُنُوٓا۟ إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَٰتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

Wa min Aayaatiheee an khalaqa lakum min anfusikum azwaajal litaskunooo ilaihaa wa ja'ala bainakum mawad datanw wa rahmah; inna fee zaalika la Aayaatil liqawminy yatafakkaroon

And of His signs is that He created for you from yourselves mates that you may find tranquillity in them; and He placed between you affection and mercy. Indeed in that are signs for a people who give thought.

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ اُس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ اُن کی طرف (مائل ہوکر) آرام حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کر دی جو لوگ غور کرتے ہیں اُن کے لئے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

بتدریج نظام حیات فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بیشمار نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے باپ حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ تم سب کو اس نے بےوقعت پانی کے قطرے سے پیدا کیا۔ پھر تمہاری بہت اچھی صورتیں بنائیں نطفے سے خون بستہ کی شکل میں پھر گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں ڈھال کر پھر ہڈیاں بنائیں اور ہڈیوں کو گوشت پہنایا۔ پھر روح پھونکی، آنکھ، کان، ناک پیدا کئے ماں کے پیٹ سے سلامتی سے نکالا، پھر کمزوری کو قوت سے بدلا، دن بدن طاقتور اور مضبوط قدآور زورآور کیا، عمر دی حرکت وسکون کی طاقت دی اسباب اور آلات دئیے اور مخلوق کا سردار بنایا اور ادھر سے ادھر پہنچنے کے ذرائع دئیے۔ سمندروں کی زمین کی مختلف سواریاں عطا فرمائیں عقل سوچ سمجھ تدبر غور کے لیے دل ودماغ عطا فرمائے۔ دنیاوی کام سمجھائے رزق عزت حاصل کرنے لے طریقے کھول دئیے۔ ساتھ ہی آخرت کو سنوارنے کا علم اور دنیاوی علم بھی سکھایا۔ پاک ہے وہ اللہ جو ہر چیز کا صحیح اندازہ کرتا ہے ہر ایک کو ایک مرتبے پر رکھتا ہے۔ شکل وصورت میں بول چال میں امیری فقیری میں عقل وہنر میں بھلائی برائی میں سعادت وشقات میں ہر ایک کو جداگانہ کردیا۔ تاکہ ہر شخص رب کی بہت سی نشانیاں اپنے میں اور دوسرے میں دیکھ لے۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمام زمین سے ایک مٹھی مٹی کی لیکر اس سے حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا۔ پس زمین کے مختلف حصوں کی طرح اولاد آدم کی مختلف رنگتیں ہوئیں۔ کوئی سفید کوئی سرخ کوئی سیاہ کوئی خبیث کوئی طیب کوئی خوش خلق کوئی بدخلق وغیرہ۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی قدرت یہ بھی ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے جوڑے بنائے کہ وہ تمہاری بیویاں بنتی ہیں اور تم ان کے خاوند ہوتے ہو۔ یہ اس لئے کہ تمہیں ان سے سکوں وراحت آرام و آسائش حاصل ہو۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیویاں پیدا کی تاکہ وہ اس کی طرف راحت حاصل کرے۔ حضرت حوا حضرت آدم کی بائیں پسلی سے جو سب سے زیادہ چھوٹی ہے پیدا ہوئی ہیں پس اگر انسان کا جوڑا انسان سے نہ ملتا اور کسی اور جنس سے ان کا جوڑا بندھتا تو موجودہ الفت و رحمت ان میں نہ ہوسکتی۔ یہ پیار اخلاص یک جنسی کی وجہ سے ہے۔ ان میں آپس میں محبت مودت رحمت الفت پیار اخلاص رحم اور مہربانی ڈال دی پس مرد یا تو محبت کی وجہ سے عورت کی خبر گیری کرتا ہے یا غم کھاکر اس کا خیال رکھتا ہے۔ اس لئے کہ اس سے اولاد ہوچکی ہے اس کی پرورش ان دونوں کے میل ملاپ پر موقوف ہے الغرض بہت سی وجوہات رب العلمین نے رکھ دی ہیں۔ جن کے باعث انسان با آرام اپنے جوڑے کے ساتھ زندگی گذارتا ہے۔ یہ بھی رب کی مہربانی اور اس کی قدرت کاملہ کی ایک زبردست نشانی ہے۔ ادنی غور سے انسان کا ذہن اس تک پہنچ جاتا ہے۔

30:22Graph

وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦ خَلْقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَٰفُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَٰنِكُمْ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَٰتٍ لِّلْعَٰلِمِينَ

Wa min Aayaatihee khalqus samaawaati wal aardi wakhtilaafu alsinatikum wa alwaanikum; inna fee zaalika la Aayaatil lil'aalimeen

And of His signs is the creation of the heavens and the earth and the diversity of your languages and your colors. Indeed in that are signs for those of knowledge.

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا۔ اہلِ دانش کے لیے ان (باتوں) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

یہ رنگ یہ زبانیں اور وسیع تر کائنات رب العلمین اپنی زبردست قدرت کی ایک نشانی اور بیان فرماتا ہے کہ اس قدر بلند کشادہ آسمان کی پیدائش اس میں ستاروں کا جڑاؤ ان کی چمک دمک ان میں سے بعض کا چلتا پھرتا ہونا بعض کا ایک جا ثابت رہنا زمین کو ایک ٹھوس شکل میں بنانا اسے کثیف پیدا کرنا اس میں پہاڑ میدان جنگل دریا سمندر ٹیلے پتھر درخت وغیرہ جمادینا۔ خود تمہاری زبانوں میں رنگتوں میں اختلاف رکھنا عرب کی زبان تاتاریوں کی زبان، کردوں، رومیوں، فرنگیوں، تکرونیوں، بربر، حبشیوں، ہندیوں، ایرانیوں، حقابلہ، آرمینوں، جزریوں اور اللہ جانے کتنی کتنی زبانیں زمین پر بنو آدم میں بولی جاتی ہیں۔ انسانی زبانوں کے اختلاف کیساتھ ہی ان کی رنگتوں کا اختلاف بھی شان اللہ کا مظہر ہے۔ خیال تو فرمائیے کہ لاکھوں آدمی جمع ہوجائیں ایک کنبے قبیلے کے ایک ملک ایک زبان کے ہوں لیکن ناممکن ہے کہ ہر ایک میں کوئی نہ کوئی اختلاف نہ ہو۔ حالانکہ اعضائے بدن کے اعتبار سے کلی موافقت ہے۔ سب کی دو آنکھیں دو پلکیں ایک ناک دو دو کان ایک پیشانی ایک منہ دو ہونٹ دو رخسار وغیرہ لیکن تاہم ایک سے ایک علیحدہ ہے۔ کوئی نہ کوئی عادت خصلت کلام بات چیت طرز ادا ایسی ضرور ہوگی کہ جس میں ایک دوسرے کا امتیاز ہوجائے گو وہ بعض مرتبہ پوشیدہ سی اور ہلکی سی چیزیں ہی ہو۔ گو خوبصورتی اور بدصورتی میں کئی ایک یکساں نظر آئیں لیکن جب غور کیا جائے تو ہر ایک کو دوسرے سے ممتاز کرنے والا کوئی نہ کوئی وصف ضرور نظر آجائے گا۔ ہر جاننے والا اتنی بڑی طاقتوں اور قوتوں کے مالک کو پہچان سکتا ہے اور اس صنعت سے صانع کو جان سکتا ہے۔ نیند بھی قدرت کی ایک نشانی ہے جس سے تھکان دور ہوجاتی ہے راحت وسکون حاصل ہوتا ہے اس کے لئے قدرت نے رات بنادی۔ کام کاج کے لئے دنیا حاصل کرنے کے لئے کمائی دھندے کے لئے تلاش معاش کے لئے اللہ نے دن کو پیدا کردیا جو رات کے بالکل خلاف ہے۔ یقینا سننے سمجھنے والوں کے لئے یہ چیزیں نشان قدرت ہیں۔ طبرانی میں حضرت زید بن ثاب ؓ سے مروی ہے کہ راتوں کو میری نیند اچاٹ ہوجایا کرتی تھی تو میں نے آنحضرت ﷺ سے اس امر کی شکایت کی آپ نے فرمایا یہ دعا پڑھاکرو۔ (اللھم غارت النجوم وھدات العیون وانت حی قیوم یاحی یاقیوم انم عینی واھدی لیلی)۔ میں نے جب اس دعا کو پڑھا تو نیند نہ آنے کی بیماری بفضل اللہ دور ہوگئی۔

30:23Graph

وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦ مَنَامُكُم بِٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَٱبْتِغَآؤُكُم مِّن فَضْلِهِۦٓ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَٰتٍ لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ

Wa min Aayaatihee manaamukum bil laili wannahaari wabtighaaa'ukum min fadlih; inna fee zaalika la Aayaatil liqawminy yasma'oon

And of His signs is your sleep by night and day and your seeking of His bounty. Indeed in that are signs for a people who listen.

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے تمہارا رات اور دن میں سونا اور اُس کے فضل کا تلاش کرنا۔ جو لوگ سنتے ہیں اُن کے لیے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

قیام ارض و سما اللہ تعالیٰ کی عظمت پر دلالت کرنے والی ایک اور نشانی بیان کی جارہی ہے کہ آسمانوں پر اس کے حکم سے بجلی کوندتی ہے جسے دیکھ کر کبھی تمہیں دہشت لگنے لگتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کڑک کسی کو ہلاک کردے کہیں بجلی گرے وغیرہ اور کبھی تمہیں امید بندھتی ہے کہ اچھا ہوا اب بارش برسے گی پانی کی ریل پیل ہوگی ترسالی ہوجائے گی وغیرہ۔ وہی ہے جو آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اس زمین کو جو خشک پڑی ہوئی تھی جس پر نام نشان کی کوئی ہریاول نہ تھی مثل مردے کے بیکار تھی اس بارش سے وہ زندہ کردینے پر قادر ہے۔ اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ زمین و آسمان اسی کے حکم سے قائم ہیں وہ آسمان کو زمین پر گرنے نہیں دیتا اور آسمان کو تھامے ہوئے ہے اور انہیں زوال سے بچائے ہوئے ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ جب کوئی تاکیدی قسم کھانا چاہتے تو فرماتے اس اللہ کی قسم جس کے حکم سے زمین و آسمان ٹھہرے ہوئے ہیں۔ پھر قیامت کے دن وہ زمین و آسمان کو بدل دے گا مردے اپنی قبروں سے زندہ کرکے نکالے جائنگے۔ خود اللہ انہیں آواز دے گا اور یہ صرف ایک آواز پر زندہ ہو کر اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہونگے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی حمد کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کرلوگے کہ تم بہت ہی کم رہے۔ اور آیت میں ہے (فَاِنَّمَا ھِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ 13؀ۙ) 79۔ النازعات :13) صرف ایک ہی آواز سے ساری مخلوق میدان حشر میں جمع ہوجائے گی اور آیت میں ہے (اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَ 53؀) 36۔ يس :53) یعنی وہ تو صرف ایک آواز ہوگی جسے سنتے ہی سب کے سب ہمارے سامنے حاضر ہوجائیں گے۔

30:24Graph

وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦ يُرِيكُمُ ٱلْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنَزِّلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَيُحْىِۦ بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَآ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَٰتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ

Wa min Aayaatihee yureekumul barqa khawfanw wa tama'anw wa yunazzilu minas samaaa'i maaa'an fa yuhyee bihil arda ba'da mawtihaaa inna fee zaalika la Aayaatil liqawminy ya'qiloon

And of His signs is [that] He shows you the lightning [causing] fear and aspiration, and He sends down rain from the sky by which He brings to life the earth after its lifelessness. Indeed in that are signs for a people who use reason.

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ تم کو خوف اور اُمید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے مینھہ برساتا ہے۔ پھر زمین کو اس کے مر جانے کے بعد زندہ (و شاداب) کر دیتا ہے۔ عقل والوں کے لئے ان (باتوں) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

قیام ارض و سما اللہ تعالیٰ کی عظمت پر دلالت کرنے والی ایک اور نشانی بیان کی جارہی ہے کہ آسمانوں پر اس کے حکم سے بجلی کوندتی ہے جسے دیکھ کر کبھی تمہیں دہشت لگنے لگتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کڑک کسی کو ہلاک کردے کہیں بجلی گرے وغیرہ اور کبھی تمہیں امید بندھتی ہے کہ اچھا ہوا اب بارش برسے گی پانی کی ریل پیل ہوگی ترسالی ہوجائے گی وغیرہ۔ وہی ہے جو آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اس زمین کو جو خشک پڑی ہوئی تھی جس پر نام نشان کی کوئی ہریاول نہ تھی مثل مردے کے بیکار تھی اس بارش سے وہ زندہ کردینے پر قادر ہے۔ اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ زمین و آسمان اسی کے حکم سے قائم ہیں وہ آسمان کو زمین پر گرنے نہیں دیتا اور آسمان کو تھامے ہوئے ہے اور انہیں زوال سے بچائے ہوئے ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ جب کوئی تاکیدی قسم کھانا چاہتے تو فرماتے اس اللہ کی قسم جس کے حکم سے زمین و آسمان ٹھہرے ہوئے ہیں۔ پھر قیامت کے دن وہ زمین و آسمان کو بدل دے گا مردے اپنی قبروں سے زندہ کرکے نکالے جائنگے۔ خود اللہ انہیں آواز دے گا اور یہ صرف ایک آواز پر زندہ ہو کر اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہونگے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی حمد کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کرلوگے کہ تم بہت ہی کم رہے۔ اور آیت میں ہے (فَاِنَّمَا ھِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ 13؀ۙ) 79۔ النازعات :13) صرف ایک ہی آواز سے ساری مخلوق میدان حشر میں جمع ہوجائے گی اور آیت میں ہے (اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَ 53؀) 36۔ يس :53) یعنی وہ تو صرف ایک آواز ہوگی جسے سنتے ہی سب کے سب ہمارے سامنے حاضر ہوجائیں گے۔

30:25Graph

وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦٓ أَن تَقُومَ ٱلسَّمَآءُ وَٱلْأَرْضُ بِأَمْرِهِۦ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ ٱلْأَرْضِ إِذَآ أَنتُمْ تَخْرُجُونَ

Wa min Aayaatihee an taqoomas samaaa'u wal ardu bi-amrih; summa izaa da'aakum da'watam minal ardi izaaa antum takhrujoon

And of His signs is that the heaven and earth remain by His command. Then when He calls you with a [single] call from the earth, immediately you will come forth.

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جب وہ تم کو زمین میں سے (نکلنے کے لئے) آواز دے گا تو تم جھٹ نکل پڑو گے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

قیام ارض و سما اللہ تعالیٰ کی عظمت پر دلالت کرنے والی ایک اور نشانی بیان کی جارہی ہے کہ آسمانوں پر اس کے حکم سے بجلی کوندتی ہے جسے دیکھ کر کبھی تمہیں دہشت لگنے لگتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کڑک کسی کو ہلاک کردے کہیں بجلی گرے وغیرہ اور کبھی تمہیں امید بندھتی ہے کہ اچھا ہوا اب بارش برسے گی پانی کی ریل پیل ہوگی ترسالی ہوجائے گی وغیرہ۔ وہی ہے جو آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اس زمین کو جو خشک پڑی ہوئی تھی جس پر نام نشان کی کوئی ہریاول نہ تھی مثل مردے کے بیکار تھی اس بارش سے وہ زندہ کردینے پر قادر ہے۔ اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ زمین و آسمان اسی کے حکم سے قائم ہیں وہ آسمان کو زمین پر گرنے نہیں دیتا اور آسمان کو تھامے ہوئے ہے اور انہیں زوال سے بچائے ہوئے ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ جب کوئی تاکیدی قسم کھانا چاہتے تو فرماتے اس اللہ کی قسم جس کے حکم سے زمین و آسمان ٹھہرے ہوئے ہیں۔ پھر قیامت کے دن وہ زمین و آسمان کو بدل دے گا مردے اپنی قبروں سے زندہ کرکے نکالے جائنگے۔ خود اللہ انہیں آواز دے گا اور یہ صرف ایک آواز پر زندہ ہو کر اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہونگے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی حمد کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کرلوگے کہ تم بہت ہی کم رہے۔ اور آیت میں ہے (فَاِنَّمَا ھِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ 13؀ۙ) 79۔ النازعات :13) صرف ایک ہی آواز سے ساری مخلوق میدان حشر میں جمع ہوجائے گی اور آیت میں ہے (اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَ 53؀) 36۔ يس :53) یعنی وہ تو صرف ایک آواز ہوگی جسے سنتے ہی سب کے سب ہمارے سامنے حاضر ہوجائیں گے۔

30:26Graph

وَلَهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ كُلٌّ لَّهُۥ قَٰنِتُونَ

Wa lahoo man fissamaawaati wal ardi kullul lahoo qaanitoon

And to Him belongs whoever is in the heavens and earth. All are to Him devoutly obedient.

اور آسمانوں اور زمین میں (جتنے فرشتے اور انسان وغیرہ ہیں) اسی کے (مملوک) ہیں (اور) تمام اس کے فرمانبردار ہیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

جس کا کوئی ہمسر نہیں فرماتا ہے کہ تمام آسمانوں اور ساری زمینوں کی مخلوق اللہ ہی کی ہے سب اس کے لونڈی غلام ہیں سب اسی کی ملکیت ہیں۔ ہر ایک اس کے سامنے عاجز و لاچار مجبور وبے بس ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں قنوت کا ذکر ہے وہاں مراد اطاعت وفرمانبردای ہے۔ ابتدائی پیدائش بھی اسی نے کی اور وہی اعادہ بھی کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتدا کے عادتا آسان اور ہلکا ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے اور اسے یہ چاہیے نہیں تھا۔ وہ مجھے برا کہتا ہے اور یہ بھی اسے لائق نہ تھا۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اس نے مجھے اولا پیدا کیا اس طرح دوبارہ پیدا کر نہیں سکتا حالانکہ دوسری مرتبہ کی پیدائش پہلی دفعہ کی پیدائش سے بالکل آسان ہوا کرتی ہے اس کا مجھے برا کہنا یہ ہے کہ کہتا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ میں احد اور صمد ہوں۔ جس کی نہ اولاد نہ ماں باپ اور جس کا کوئی ہمسر نہیں۔ الغرض دونوں پیدائشیں اس مالک کی قدر کی مظہر ہیں نہ اس پر کوئی کام بھاری نہ بوجھل۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ھو کی ضمیر کا مرجع خلق ہو مثل سے مراد یہاں اس کی توحید الوہیت اور توحید ربوبیت ہے نہ کہ مثال اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات مثال سے پاک ہے فرمان ہے آیت (لیس کمثلہ شئی) اس کی مثال کوئی اور نہیں۔ بعض اہل ذوق نے کہا ہے کہ جب صاف شفاف پانی کا ستھرا پاک صاف حوض ٹھہرا ہوا ہو اور باد صبا کے تھپیڑے اسے ہلاتے جلاتے نہ ہوں اس وقت اس میں آسمان صاف نظر آتا ہے سورج اور چاند ستارے بالکل دکھائی دیتے ہیں اسی طرح بزرگوں کے دل ہیں جن میں وہ اللہ کی عظمت وجلال کو ہمیشہ دیکھتے رہتے ہیں۔ وہ غالب ہے جس پر کسی کا بس نہیں نہ اس کے سامنے کسی کی کچھ چل سکے ہر چیز اس کی ماتحتی میں اور اس کے سامنے پست و لاچار عاجز وبے بس ہے۔ اس کی قدرت سطوت سلطنت ہر چیز محیط ہے۔ وہ حکیم ہے اپنے اقوال، افعال، شریعت، تقدیر، غرض ہر ہر امر میں۔ حضرت محمد بن منکدر فرماتے ہیں مثل اعلی سے مراد لا الہ الا اللہ ہے۔

30:27Graph

وَهُوَ ٱلَّذِى يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ ٱلْمَثَلُ ٱلْأَعْلَىٰ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

Wa Huwal lazee yabda'ul khalqa summa yu'eeduhoo wa huwa ahwanu 'alaih; wa lahul masalul la'laa fissamaawaati wal-ard; wa Huwal 'Azeezul Hakeem

And it is He who begins creation; then He repeats it, and that is [even] easier for Him. To Him belongs the highest attribute in the heavens and earth. And He is the Exalted in Might, the Wise.

اور وہی تو ہے جو خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے پھر اُسے دوبارہ پیدا کرے گا۔ اور یہ اس کو بہت آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں اس کی شان بہت بلند ہے۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

جس کا کوئی ہمسر نہیں فرماتا ہے کہ تمام آسمانوں اور ساری زمینوں کی مخلوق اللہ ہی کی ہے سب اس کے لونڈی غلام ہیں سب اسی کی ملکیت ہیں۔ ہر ایک اس کے سامنے عاجز و لاچار مجبور وبے بس ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں قنوت کا ذکر ہے وہاں مراد اطاعت وفرمانبردای ہے۔ ابتدائی پیدائش بھی اسی نے کی اور وہی اعادہ بھی کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتدا کے عادتا آسان اور ہلکا ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے اور اسے یہ چاہیے نہیں تھا۔ وہ مجھے برا کہتا ہے اور یہ بھی اسے لائق نہ تھا۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اس نے مجھے اولا پیدا کیا اس طرح دوبارہ پیدا کر نہیں سکتا حالانکہ دوسری مرتبہ کی پیدائش پہلی دفعہ کی پیدائش سے بالکل آسان ہوا کرتی ہے اس کا مجھے برا کہنا یہ ہے کہ کہتا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ میں احد اور صمد ہوں۔ جس کی نہ اولاد نہ ماں باپ اور جس کا کوئی ہمسر نہیں۔ الغرض دونوں پیدائشیں اس مالک کی قدر کی مظہر ہیں نہ اس پر کوئی کام بھاری نہ بوجھل۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ھو کی ضمیر کا مرجع خلق ہو مثل سے مراد یہاں اس کی توحید الوہیت اور توحید ربوبیت ہے نہ کہ مثال اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات مثال سے پاک ہے فرمان ہے آیت (لیس کمثلہ شئی) اس کی مثال کوئی اور نہیں۔ بعض اہل ذوق نے کہا ہے کہ جب صاف شفاف پانی کا ستھرا پاک صاف حوض ٹھہرا ہوا ہو اور باد صبا کے تھپیڑے اسے ہلاتے جلاتے نہ ہوں اس وقت اس میں آسمان صاف نظر آتا ہے سورج اور چاند ستارے بالکل دکھائی دیتے ہیں اسی طرح بزرگوں کے دل ہیں جن میں وہ اللہ کی عظمت وجلال کو ہمیشہ دیکھتے رہتے ہیں۔ وہ غالب ہے جس پر کسی کا بس نہیں نہ اس کے سامنے کسی کی کچھ چل سکے ہر چیز اس کی ماتحتی میں اور اس کے سامنے پست و لاچار عاجز وبے بس ہے۔ اس کی قدرت سطوت سلطنت ہر چیز محیط ہے۔ وہ حکیم ہے اپنے اقوال، افعال، شریعت، تقدیر، غرض ہر ہر امر میں۔ حضرت محمد بن منکدر فرماتے ہیں مثل اعلی سے مراد لا الہ الا اللہ ہے۔

30:28Graph

ضَرَبَ لَكُم مَّثَلًا مِّنْ أَنفُسِكُمْ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُم مِّن شُرَكَآءَ فِى مَا رَزَقْنَٰكُمْ فَأَنتُمْ فِيهِ سَوَآءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْـَٔايَٰتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ

Daraba lakum masalam min anfusikum hal lakum mimmaa malakat aymaanukum min shurakaaa'a fee maa razaqnaakum fa antum feehi sawaaa'un takhaafoonahum kakheefa tikum anfusakum; kazaalika nufassilul Aayaati liqawminy ya'qiloon

He presents to you an example from yourselves. Do you have among those whom your right hands possess any partners in what We have provided for you so that you are equal therein [and] would fear them as your fear of one another [within a partnership]? Thus do We detail the verses for a people who use reason.

وہ تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ بھلا جن (لونڈی غلاموں) کے تم مالک ہو وہ اس (مال) میں جو ہم نے تم کو عطا فرمایا ہے تمہارے شریک ہیں، اور (کیا) تم اس میں (اُن کو اپنے) برابر (مالک سمجھتے) ہو (اور کیا) تم اُن سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو، اسی طرح عقل والوں کے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اپنے دلوں میں جھانکو !مشرکین مکہ اپنے بزرگوں کو شریک اللہ جانتے تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی مانتے تھے کہ یہ سب اللہ کے غلام اور اس کے ماتحت ہیں۔ چناچہ وہ حج و عمرے کے موقعہ پر لبیک پکارتے ہوئے کہتے تھے کہ دعا (لبیک لاشریک لک الا شریکا ھولک تملکہ وماملک) یعنی ہم تیرے دربار میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ کہ وہ خود اور جس چیز کا وہ مالک ہے سب تیری ملکیت میں ہے۔ یعنی ہمارے شریکوں کا اور ان کی ملکیت کا تو ہی اصلی مالک ہے۔ پس یہاں انہیں ایک ایسی مثال سے سمجھایا جارہا ہے جو خود یہ اپنے نفس ہی میں پائیں۔ اور بہت اچھی طرح غور وخوض کرسکیں۔ فرماتا ہے کہ کیا تم میں سے کوئی بھی اس امر پر رضامند ہوگا کہ اس کے کل مال وغیرہ میں اس کے غلام اس کے برابر کے شریک ہوں اور ہر وقت اسے یہ دھڑ کا رہتا ہو کہ کہیں وہ تقسیم کرکے میری جائیداد اور ملکیت آدھوں آدھ بانٹ نہ لے جائیں۔ پس جس طرح تم یہ بات اپنے لئے پسند نہیں کرتے اللہ کے لئے بھی نہ چاہو جس طرح غلام آقا کی ہمسری نہیں کرسکتا اسی طرح اللہ کا کوئی بندہ اللہ کا شریک نہیں ہوسکتا۔ یہ عجب ناانصافی ہے کہ اپنے لئے جس بات سے چڑیں اور نفرت کریں اللہ کے لئے وہی بات ثابت کرنے بیٹھ جائیں۔ خود بیٹیوں سے جلتے تھے اتناسنتے ہی کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی ہے منہ کالے پڑجاتے تھے اور اللہ کے مقرب فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے تھے۔ اسی طرح خود اس بات کے کبھی رودار نہیں ہونے کہ اپنے غلاموں کو اپنا برابر کا شریک وسہیم سمجھیں لیکن اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک سمجھ رہے ہیں کس قدر انصاف کا خونی ہے ؟ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ مشرک جو لبیک پکارتے تھے اور اس پر یہ آیت اتری۔ اور اس میں بیان ہے کہ جب تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر کا شریک ٹھہرانے سے عار رکھتے ہو تو اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک کیوں ٹھہرا رہے ہو۔ یہ صاف بات بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ ہم اسی طرح تفصیل وار دلائل غافلوں کے سامنے رکھ دیتے ہیں پھر فرماتا ہے اور بتلاتا ہے کہ مشرکین کے شرک کی کوئی سند عقلی نقلی کوئی دلیل نہیں صرف کرشمہ جہالت اور پیروی خواہش ہے۔ جبکہ یہ راہ راست سے ہٹ گئے تو پھر انہیں اللہ کے سوا اور کوئی راہ راست پر لا نہیں سکتا۔ یہ گو دوسروں کا اپنا کارساز اور مددگار مانتے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ دشمنان اللہ کا دوست کوئی نہیں۔ کون ہے جو اس کی مرضی کے خلاف لب ہلا سکے۔ کون ہے جو اس پر مہربانی کرے جس پر اللہ نامہربان ہو ؟ جو وہ چاہے وہی ہوتا ہے اور جسے وہ نہ چاہے ہو نہیں سکتا۔

30:29Graph

بَلِ ٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَهْوَآءَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ فَمَن يَهْدِى مَنْ أَضَلَّ ٱللَّهُ وَمَا لَهُم مِّن نَّٰصِرِينَ

Balit taba'al lazeena zalamooo ahwaaa'ahum bighairi 'ilmin famai yahdee man adallal laahu wa maa lahum min naasireen

But those who wrong follow their [own] desires without knowledge. Then who can guide one whom Allah has sent astray? And for them there are no helpers.

مگر جو ظالم ہیں بےسمجھے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں تو جس کو خدا گمراہ کرے اُسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟ اور ان کا کوئی مددگار نہیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اپنے دلوں میں جھانکو !مشرکین مکہ اپنے بزرگوں کو شریک اللہ جانتے تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی مانتے تھے کہ یہ سب اللہ کے غلام اور اس کے ماتحت ہیں۔ چناچہ وہ حج و عمرے کے موقعہ پر لبیک پکارتے ہوئے کہتے تھے کہ دعا (لبیک لاشریک لک الا شریکا ھولک تملکہ وماملک) یعنی ہم تیرے دربار میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ کہ وہ خود اور جس چیز کا وہ مالک ہے سب تیری ملکیت میں ہے۔ یعنی ہمارے شریکوں کا اور ان کی ملکیت کا تو ہی اصلی مالک ہے۔ پس یہاں انہیں ایک ایسی مثال سے سمجھایا جارہا ہے جو خود یہ اپنے نفس ہی میں پائیں۔ اور بہت اچھی طرح غور وخوض کرسکیں۔ فرماتا ہے کہ کیا تم میں سے کوئی بھی اس امر پر رضامند ہوگا کہ اس کے کل مال وغیرہ میں اس کے غلام اس کے برابر کے شریک ہوں اور ہر وقت اسے یہ دھڑ کا رہتا ہو کہ کہیں وہ تقسیم کرکے میری جائیداد اور ملکیت آدھوں آدھ بانٹ نہ لے جائیں۔ پس جس طرح تم یہ بات اپنے لئے پسند نہیں کرتے اللہ کے لئے بھی نہ چاہو جس طرح غلام آقا کی ہمسری نہیں کرسکتا اسی طرح اللہ کا کوئی بندہ اللہ کا شریک نہیں ہوسکتا۔ یہ عجب ناانصافی ہے کہ اپنے لئے جس بات سے چڑیں اور نفرت کریں اللہ کے لئے وہی بات ثابت کرنے بیٹھ جائیں۔ خود بیٹیوں سے جلتے تھے اتناسنتے ہی کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی ہے منہ کالے پڑجاتے تھے اور اللہ کے مقرب فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے تھے۔ اسی طرح خود اس بات کے کبھی رودار نہیں ہونے کہ اپنے غلاموں کو اپنا برابر کا شریک وسہیم سمجھیں لیکن اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک سمجھ رہے ہیں کس قدر انصاف کا خونی ہے ؟ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ مشرک جو لبیک پکارتے تھے اور اس پر یہ آیت اتری۔ اور اس میں بیان ہے کہ جب تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر کا شریک ٹھہرانے سے عار رکھتے ہو تو اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک کیوں ٹھہرا رہے ہو۔ یہ صاف بات بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ ہم اسی طرح تفصیل وار دلائل غافلوں کے سامنے رکھ دیتے ہیں پھر فرماتا ہے اور بتلاتا ہے کہ مشرکین کے شرک کی کوئی سند عقلی نقلی کوئی دلیل نہیں صرف کرشمہ جہالت اور پیروی خواہش ہے۔ جبکہ یہ راہ راست سے ہٹ گئے تو پھر انہیں اللہ کے سوا اور کوئی راہ راست پر لا نہیں سکتا۔ یہ گو دوسروں کا اپنا کارساز اور مددگار مانتے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ دشمنان اللہ کا دوست کوئی نہیں۔ کون ہے جو اس کی مرضی کے خلاف لب ہلا سکے۔ کون ہے جو اس پر مہربانی کرے جس پر اللہ نامہربان ہو ؟ جو وہ چاہے وہی ہوتا ہے اور جسے وہ نہ چاہے ہو نہیں سکتا۔

30:30Graph

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِى فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ ٱللَّهِ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

Fa aqim wajhaka liddeeni Haneefaa; fitratal laahil latee fataran naasa 'alaihaa; laa taabdeela likhalqil laah; zaalikad deenul qaiyimu wa laakinna aksaran naasi laa ya'lamoon

So direct your face toward the religion, inclining to truth. [Adhere to] the fitrah of Allah upon which He has created [all] people. No change should there be in the creation of Allah. That is the correct religion, but most of the people do not know.

تو تم ایک طرف کے ہوکر دین (خدا کے رستے) پر سیدھا منہ کئے چلے جاؤ (اور) خدا کی فطرت کو جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے (اختیار کئے رہو) خدا کی بنائی ہوئی (فطرت) میں تغیر وتبدل نہیں ہو سکتا۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

بچہ اور ماں باپ ملت ابراہیم حنیف پر جم جاؤ جس دین کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مقرر کردیا ہے اور جسے اے نبی آپ کے ہاتھ پر اللہ نے کمال کو پہنچایا ہے رب کی فطرت سلیمہ پر وہی قائم ہے جو اس دین اسلام کا پابند ہے۔ اسی پر یعنی توحید پر رب نے تمام انسانوں کو بنایا ہے۔ روز اول میں اسی کا سب سے اقرار کرالیا گیا تھا کہ کیا میں سب کا رب نہیں ہوں ؟ تو سب نے اقرار کیا کہ بیشک تو ہی ہمارا رب ہے۔ وہ حدیثیں عنقریب انشاء اللہ بیان ہونگی جن سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جملہ مخلوق کو اپنے سچے دین پر پیدا کیا ہے گو اس کے بعد لوگ یہودیت نصرانیت وغیرہ پر چلے گئے۔ لوگو اللہ کی اس فطرت کو نہ بدلو۔ لوگوں کو اس راہ راست سے نہ ہٹاؤ۔ تو یہ خبر معنی میں امر ہوگی جیسے آیت (وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا 97؀) 3۔ آل عمران :97) میں یہ معنی نہایت عمدہ اور صحیح ہیں۔ دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو فطرت سلیمہ پر یعنی دین اسلام پر پیدا کیا۔ رب کے اس دین میں کوئی تبدل تغیر نہیں۔ امام بخاری نے یہی معنی کئے ہیں کہ یہاں خلق اللہ سے مراد دین اور فطرت اسلام ہے بخاری شریف میں بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ فرمان رسول ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی اور مجوسی بنادیتے ہیں۔ جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ ہوتا ہے جس کے کان لوگ کتر دیتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 30؀ڎ) 30۔ الروم :30) مسند احمد میں ہے حضرت اسود بن سریع ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا آپ کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کیا وہاں ہم بفضل اللہ غالب آگئے اس دن لوگوں نے بہت سے کفار کو قتل کیا یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی قتل کرڈالا حضور کو پتہ چلا تو آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے یہ کیا بات ہے لوگ حد سے آگے نکل جاتے ہیں آج بچوں کو بھی قتل کردیا ہے۔ کسی نے کہا یارسول اللہ ﷺ آخر وہ بھی تو مشرکین کی ہی اولاد تھی آپ نے فرمایا نہیں نہیں۔ یاد رکھو تم میں سے بہترین لوگ مشرکین کے بچے ہیں۔ خبردار بچوں کو کبھی قتل نہ کرنا نابالغوں کے قتل سے رک جانا۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنی زبان سے کچھ کہے پھر اسکے ماں باپ اسے یہود نصرانی بنالیتے ہیں۔ جابر بن عبداللہ کی روایت سے مسند شریف میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اسے زبان آجائے۔ اب یا تو شاکر بنتا ہے یا کافر۔ مسند میں بروایت حضرت ابن عباس مروی ہے کہحضور ﷺ سے مشرکوں کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا وہ خوب جانتا تھا کہ وہ کیا اعمال کرنے والے ہیں۔ آپ سے مروی ہے کہ ایک زمانہ میں میں کہتا تھا مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کیساتھ ہے اور مشرکوں کی اولاد مشرکوں کے ساتھ ہے یہاں تک کہ فلاں شخص نے فلاں سے روایت کرکے مجھے سنایا کہ جب آنحضرت ﷺ سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ خوب عالم ہے اس چیز سے جو وہ کرتے۔ اس حدیث کو سن کر میں نے اپنا فتویٰ چھوڑ دیا حضرت عیاض بن حمار ؓ سے مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ مجھے جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ جو اس نے مجھے آج سکھایا ہے اور اس سے تم جاہل ہو وہ میں تمہیں سکھا دوں۔ فرمایا کہ جو میں نے اپنے بندوں کو دیا ہے میں نے ان کے لئے حلال کیا ہے میں نے اپنے سب بندوں کو یک طرفہ خالص دین والا بنایا ہے ان کے پاس شیطان پہنچتا ہے اور انہیں دین سے گمراہ کرتا ہے اور حلال کو ان پر حرام کرتا ہے اور انہیں میرے ساتھ شریک کرنے کو کہتا ہے جس کی کوئی دلیل نہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نگاہ ڈالی اور عرب وعجم سب کو ناپسند فرمایا سوائے چند اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے۔ وہ فرماتا ہے کہ میں نے تجھے صرف آزمائش کے لئے بھیجا ہے تیری اپنی بھی آزمائش ہوگی اور تیری وجہ سے اور سب کی بھی میں تو تجھ پر وہ کتاب اتارونگا جسے پانی دھو نہ سکے تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ پھر مجھ سے جناب باری عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ میں قریش کو ہوشیار کردوں میں نے اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ کہیں وہ میرا سر کچل کر روٹی جیسا نہ بنادیں ؟ تو فرمایا سن جیسے یہ تجھے نکالیں گے میں انہیں نکالونگا تو ان سے جہاد کر میں تیرا ساتھ دونگا تو خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا۔ تو لشکر بھیج میں اس سے پانچ حصے زیادہ لشکر بھیجوں گا فرمانبرداروں کے لے اپنے نافرمانوں۔ اہل جنت تین قسم کے ہیں عادل بادشاہ توفیق خیر والا سخی۔ نرم دل ہر مسلمان کے ساتھ سلوک احسان کرنے والا پاک دامن سوال اور حرام سے بچنے والا عیالدار آدمی۔ اہل جہنم پانچ قسم کے لوگ ہیں وہ بےوقعت کمینے لوگ جو بےزر اور بےگھر ہیں جو تمہارے دامنوں میں لپٹے رہتے ہیں۔ وہ خائن جو حقیر چیزوں میں بھی خیانت کئے بغیر نہیں رہتا۔ وہ لوگ جو ہر وقت لوگوں کو ان کی جان مال اور اہل و عیال میں دھوکے میں رہتے ہیں صبح شام چالبازیوں اور مکروفریب میں لگے رہتے ہیں۔ پھر آپ نے بخیلی یا کذاب کا ذکر کیا اور فرمایا پانچوں قسم کے لوگ بد زبان بدگو ہیں (مسلم وغیرہ) یہی فطرت سلیمہ یہی شریعت کو مضبوطی سے تھامے رہنا ہی سچے اور سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ اور اپنی اسی جہالت کی وجہ سے اللہ کے ایسے پاک دین سے دور بلکہ محروم رہ جاتے ہیں۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے گو تیری حرص ہو لیکن ان میں سے اکثر لوگ بےایمان ہی رہیں گے۔ ایک اور آیت میں ہے اگر تو اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے راہ اللہ سے بہکا دیں گے۔ تم سب اللہ کی طرف راغب رہو اسی کی جانب جھکے رہو اسی کا ڈر خوف رکھو اور اسی کا لحاظ رکھو۔ نمازوں کی پابندی کرو جو سب سے بڑی عبادت اور اطاعت ہے۔ تم مشرک نہ بنو بلکہ موحد اور خالص بن جاؤ اس کے سوا کسی اور سے کوئی مراد وابستہ نہ رکھو۔ حضرت معاذ سے حضرت عمر نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا یہ تین چیزیں ہیں اور یہی نجات کی جڑیں ہیں اول اخلاص جو فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے دوسرے نماز جو دراصل دین ہے تیسرے اطاعت جو عصمت اور بچاؤ ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا آپ نے سچ کہا۔ تمہیں مشرکوں میں نہ ملنا چاہیے تمہیں ان کا ساتھ نہ دینا چاہیے اور نہ ان جیسے فعل کرنا چاہیے جنہوں نے دین اللہ کو بدل دیا بعض باتوں کو مان لیا اور بعض سے انکار کر گئے فرقوا کی دوسری قرأت فارقوا ہے یعنی انہوں نے اپنے دین کو چھوڑ دیا۔ جیسے یہود، نصاری، مجوسی، بت پرست سے اور دوسرے باطل مذاہب والے۔ جیسے ارشاد ہے جن لوگوں نے اپنے دین میں تفریق کی اور گروہ بندی کرلی تو ان میں شامل ہی نہیں ان کا انجام سپرد اللہ ہے تم سے پہلے والی قومیں گروہ گروہ ہوگئیں تھی۔ اس امت میں بھی تفرقہ پڑا لیکن ان میں ایک حق پر ہے ہاں باقی سب گمراہی پر ہیں۔ یہ حق والی جماعت اہل سنت والجماعت ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مضبوط تھامنے والی ہے۔ جس پر سابقہ زمانے کے صحابہ تابعین اور ائمہ مسلمین تھے گذشتہ زمانے میں بھی اور اب بھی۔ جیسے مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ان سب میں نجات پانے والا فرقہ کون سا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا (من کان علی ما انا علیہ واصحابی) یعنی وہ لوگ جو اس پر ہوں جس پر آج میں اور میرے اصحاب ہیں (برادران غور فرمائیے کہ وہ چیز جس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب ؓ آپ کے زمانے میں تھے وہ وحی اللہ یعنی قرآن و حدیث ہی تھی یا کسی امام کی تقلید ؟)

30:31Graph

مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَٱتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَلَا تَكُونُوا۟ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

Muneebeena ilaihi wattaqoohu wa aqeemus Salaata wa laa takoonoo minal mushrikeen

[Adhere to it], turning in repentance to Him, and fear Him and establish prayer and do not be of those who associate others with Allah

(مومنو) اُسی (خدا) کی طرف رجوع کئے رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور مشرکوں میں نہ ہونا

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

بچہ اور ماں باپ ملت ابراہیم حنیف پر جم جاؤ جس دین کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مقرر کردیا ہے اور جسے اے نبی آپ کے ہاتھ پر اللہ نے کمال کو پہنچایا ہے رب کی فطرت سلیمہ پر وہی قائم ہے جو اس دین اسلام کا پابند ہے۔ اسی پر یعنی توحید پر رب نے تمام انسانوں کو بنایا ہے۔ روز اول میں اسی کا سب سے اقرار کرالیا گیا تھا کہ کیا میں سب کا رب نہیں ہوں ؟ تو سب نے اقرار کیا کہ بیشک تو ہی ہمارا رب ہے۔ وہ حدیثیں عنقریب انشاء اللہ بیان ہونگی جن سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جملہ مخلوق کو اپنے سچے دین پر پیدا کیا ہے گو اس کے بعد لوگ یہودیت نصرانیت وغیرہ پر چلے گئے۔ لوگو اللہ کی اس فطرت کو نہ بدلو۔ لوگوں کو اس راہ راست سے نہ ہٹاؤ۔ تو یہ خبر معنی میں امر ہوگی جیسے آیت (وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا 97؀) 3۔ آل عمران :97) میں یہ معنی نہایت عمدہ اور صحیح ہیں۔ دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو فطرت سلیمہ پر یعنی دین اسلام پر پیدا کیا۔ رب کے اس دین میں کوئی تبدل تغیر نہیں۔ امام بخاری نے یہی معنی کئے ہیں کہ یہاں خلق اللہ سے مراد دین اور فطرت اسلام ہے بخاری شریف میں بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ فرمان رسول ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی اور مجوسی بنادیتے ہیں۔ جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ ہوتا ہے جس کے کان لوگ کتر دیتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 30؀ڎ) 30۔ الروم :30) مسند احمد میں ہے حضرت اسود بن سریع ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا آپ کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کیا وہاں ہم بفضل اللہ غالب آگئے اس دن لوگوں نے بہت سے کفار کو قتل کیا یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی قتل کرڈالا حضور کو پتہ چلا تو آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے یہ کیا بات ہے لوگ حد سے آگے نکل جاتے ہیں آج بچوں کو بھی قتل کردیا ہے۔ کسی نے کہا یارسول اللہ ﷺ آخر وہ بھی تو مشرکین کی ہی اولاد تھی آپ نے فرمایا نہیں نہیں۔ یاد رکھو تم میں سے بہترین لوگ مشرکین کے بچے ہیں۔ خبردار بچوں کو کبھی قتل نہ کرنا نابالغوں کے قتل سے رک جانا۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنی زبان سے کچھ کہے پھر اسکے ماں باپ اسے یہود نصرانی بنالیتے ہیں۔ جابر بن عبداللہ کی روایت سے مسند شریف میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اسے زبان آجائے۔ اب یا تو شاکر بنتا ہے یا کافر۔ مسند میں بروایت حضرت ابن عباس مروی ہے کہحضور ﷺ سے مشرکوں کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا وہ خوب جانتا تھا کہ وہ کیا اعمال کرنے والے ہیں۔ آپ سے مروی ہے کہ ایک زمانہ میں میں کہتا تھا مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کیساتھ ہے اور مشرکوں کی اولاد مشرکوں کے ساتھ ہے یہاں تک کہ فلاں شخص نے فلاں سے روایت کرکے مجھے سنایا کہ جب آنحضرت ﷺ سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ خوب عالم ہے اس چیز سے جو وہ کرتے۔ اس حدیث کو سن کر میں نے اپنا فتویٰ چھوڑ دیا حضرت عیاض بن حمار ؓ سے مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ مجھے جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ جو اس نے مجھے آج سکھایا ہے اور اس سے تم جاہل ہو وہ میں تمہیں سکھا دوں۔ فرمایا کہ جو میں نے اپنے بندوں کو دیا ہے میں نے ان کے لئے حلال کیا ہے میں نے اپنے سب بندوں کو یک طرفہ خالص دین والا بنایا ہے ان کے پاس شیطان پہنچتا ہے اور انہیں دین سے گمراہ کرتا ہے اور حلال کو ان پر حرام کرتا ہے اور انہیں میرے ساتھ شریک کرنے کو کہتا ہے جس کی کوئی دلیل نہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نگاہ ڈالی اور عرب وعجم سب کو ناپسند فرمایا سوائے چند اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے۔ وہ فرماتا ہے کہ میں نے تجھے صرف آزمائش کے لئے بھیجا ہے تیری اپنی بھی آزمائش ہوگی اور تیری وجہ سے اور سب کی بھی میں تو تجھ پر وہ کتاب اتارونگا جسے پانی دھو نہ سکے تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ پھر مجھ سے جناب باری عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ میں قریش کو ہوشیار کردوں میں نے اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ کہیں وہ میرا سر کچل کر روٹی جیسا نہ بنادیں ؟ تو فرمایا سن جیسے یہ تجھے نکالیں گے میں انہیں نکالونگا تو ان سے جہاد کر میں تیرا ساتھ دونگا تو خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا۔ تو لشکر بھیج میں اس سے پانچ حصے زیادہ لشکر بھیجوں گا فرمانبرداروں کے لے اپنے نافرمانوں۔ اہل جنت تین قسم کے ہیں عادل بادشاہ توفیق خیر والا سخی۔ نرم دل ہر مسلمان کے ساتھ سلوک احسان کرنے والا پاک دامن سوال اور حرام سے بچنے والا عیالدار آدمی۔ اہل جہنم پانچ قسم کے لوگ ہیں وہ بےوقعت کمینے لوگ جو بےزر اور بےگھر ہیں جو تمہارے دامنوں میں لپٹے رہتے ہیں۔ وہ خائن جو حقیر چیزوں میں بھی خیانت کئے بغیر نہیں رہتا۔ وہ لوگ جو ہر وقت لوگوں کو ان کی جان مال اور اہل و عیال میں دھوکے میں رہتے ہیں صبح شام چالبازیوں اور مکروفریب میں لگے رہتے ہیں۔ پھر آپ نے بخیلی یا کذاب کا ذکر کیا اور فرمایا پانچوں قسم کے لوگ بد زبان بدگو ہیں (مسلم وغیرہ) یہی فطرت سلیمہ یہی شریعت کو مضبوطی سے تھامے رہنا ہی سچے اور سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ اور اپنی اسی جہالت کی وجہ سے اللہ کے ایسے پاک دین سے دور بلکہ محروم رہ جاتے ہیں۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے گو تیری حرص ہو لیکن ان میں سے اکثر لوگ بےایمان ہی رہیں گے۔ ایک اور آیت میں ہے اگر تو اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے راہ اللہ سے بہکا دیں گے۔ تم سب اللہ کی طرف راغب رہو اسی کی جانب جھکے رہو اسی کا ڈر خوف رکھو اور اسی کا لحاظ رکھو۔ نمازوں کی پابندی کرو جو سب سے بڑی عبادت اور اطاعت ہے۔ تم مشرک نہ بنو بلکہ موحد اور خالص بن جاؤ اس کے سوا کسی اور سے کوئی مراد وابستہ نہ رکھو۔ حضرت معاذ سے حضرت عمر نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا یہ تین چیزیں ہیں اور یہی نجات کی جڑیں ہیں اول اخلاص جو فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے دوسرے نماز جو دراصل دین ہے تیسرے اطاعت جو عصمت اور بچاؤ ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا آپ نے سچ کہا۔ تمہیں مشرکوں میں نہ ملنا چاہیے تمہیں ان کا ساتھ نہ دینا چاہیے اور نہ ان جیسے فعل کرنا چاہیے جنہوں نے دین اللہ کو بدل دیا بعض باتوں کو مان لیا اور بعض سے انکار کر گئے فرقوا کی دوسری قرأت فارقوا ہے یعنی انہوں نے اپنے دین کو چھوڑ دیا۔ جیسے یہود، نصاری، مجوسی، بت پرست سے اور دوسرے باطل مذاہب والے۔ جیسے ارشاد ہے جن لوگوں نے اپنے دین میں تفریق کی اور گروہ بندی کرلی تو ان میں شامل ہی نہیں ان کا انجام سپرد اللہ ہے تم سے پہلے والی قومیں گروہ گروہ ہوگئیں تھی۔ اس امت میں بھی تفرقہ پڑا لیکن ان میں ایک حق پر ہے ہاں باقی سب گمراہی پر ہیں۔ یہ حق والی جماعت اہل سنت والجماعت ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مضبوط تھامنے والی ہے۔ جس پر سابقہ زمانے کے صحابہ تابعین اور ائمہ مسلمین تھے گذشتہ زمانے میں بھی اور اب بھی۔ جیسے مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ان سب میں نجات پانے والا فرقہ کون سا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا (من کان علی ما انا علیہ واصحابی) یعنی وہ لوگ جو اس پر ہوں جس پر آج میں اور میرے اصحاب ہیں (برادران غور فرمائیے کہ وہ چیز جس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب ؓ آپ کے زمانے میں تھے وہ وحی اللہ یعنی قرآن و حدیث ہی تھی یا کسی امام کی تقلید ؟)

30:32Graph

مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّقُوا۟ دِينَهُمْ وَكَانُوا۟ شِيَعًا كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ

Minal lazeena farraqoo deenahum wa kaanoo shiya'an kullu hizbim bimaa ladaihim farihoon

[Or] of those who have divided their religion and become sects, every faction rejoicing in what it has.

(اور نہ) اُن لوگوں میں (ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور (خود) فرقے فرقے ہو گئے۔ سب فرقے اسی سے خوش ہیں جو اُن کے پاس ہے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

بچہ اور ماں باپ ملت ابراہیم حنیف پر جم جاؤ جس دین کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مقرر کردیا ہے اور جسے اے نبی آپ کے ہاتھ پر اللہ نے کمال کو پہنچایا ہے رب کی فطرت سلیمہ پر وہی قائم ہے جو اس دین اسلام کا پابند ہے۔ اسی پر یعنی توحید پر رب نے تمام انسانوں کو بنایا ہے۔ روز اول میں اسی کا سب سے اقرار کرالیا گیا تھا کہ کیا میں سب کا رب نہیں ہوں ؟ تو سب نے اقرار کیا کہ بیشک تو ہی ہمارا رب ہے۔ وہ حدیثیں عنقریب انشاء اللہ بیان ہونگی جن سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جملہ مخلوق کو اپنے سچے دین پر پیدا کیا ہے گو اس کے بعد لوگ یہودیت نصرانیت وغیرہ پر چلے گئے۔ لوگو اللہ کی اس فطرت کو نہ بدلو۔ لوگوں کو اس راہ راست سے نہ ہٹاؤ۔ تو یہ خبر معنی میں امر ہوگی جیسے آیت (وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا 97؀) 3۔ آل عمران :97) میں یہ معنی نہایت عمدہ اور صحیح ہیں۔ دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو فطرت سلیمہ پر یعنی دین اسلام پر پیدا کیا۔ رب کے اس دین میں کوئی تبدل تغیر نہیں۔ امام بخاری نے یہی معنی کئے ہیں کہ یہاں خلق اللہ سے مراد دین اور فطرت اسلام ہے بخاری شریف میں بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ فرمان رسول ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی اور مجوسی بنادیتے ہیں۔ جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ ہوتا ہے جس کے کان لوگ کتر دیتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 30؀ڎ) 30۔ الروم :30) مسند احمد میں ہے حضرت اسود بن سریع ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا آپ کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کیا وہاں ہم بفضل اللہ غالب آگئے اس دن لوگوں نے بہت سے کفار کو قتل کیا یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی قتل کرڈالا حضور کو پتہ چلا تو آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے یہ کیا بات ہے لوگ حد سے آگے نکل جاتے ہیں آج بچوں کو بھی قتل کردیا ہے۔ کسی نے کہا یارسول اللہ ﷺ آخر وہ بھی تو مشرکین کی ہی اولاد تھی آپ نے فرمایا نہیں نہیں۔ یاد رکھو تم میں سے بہترین لوگ مشرکین کے بچے ہیں۔ خبردار بچوں کو کبھی قتل نہ کرنا نابالغوں کے قتل سے رک جانا۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنی زبان سے کچھ کہے پھر اسکے ماں باپ اسے یہود نصرانی بنالیتے ہیں۔ جابر بن عبداللہ کی روایت سے مسند شریف میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اسے زبان آجائے۔ اب یا تو شاکر بنتا ہے یا کافر۔ مسند میں بروایت حضرت ابن عباس مروی ہے کہحضور ﷺ سے مشرکوں کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا وہ خوب جانتا تھا کہ وہ کیا اعمال کرنے والے ہیں۔ آپ سے مروی ہے کہ ایک زمانہ میں میں کہتا تھا مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کیساتھ ہے اور مشرکوں کی اولاد مشرکوں کے ساتھ ہے یہاں تک کہ فلاں شخص نے فلاں سے روایت کرکے مجھے سنایا کہ جب آنحضرت ﷺ سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ خوب عالم ہے اس چیز سے جو وہ کرتے۔ اس حدیث کو سن کر میں نے اپنا فتویٰ چھوڑ دیا حضرت عیاض بن حمار ؓ سے مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ مجھے جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ جو اس نے مجھے آج سکھایا ہے اور اس سے تم جاہل ہو وہ میں تمہیں سکھا دوں۔ فرمایا کہ جو میں نے اپنے بندوں کو دیا ہے میں نے ان کے لئے حلال کیا ہے میں نے اپنے سب بندوں کو یک طرفہ خالص دین والا بنایا ہے ان کے پاس شیطان پہنچتا ہے اور انہیں دین سے گمراہ کرتا ہے اور حلال کو ان پر حرام کرتا ہے اور انہیں میرے ساتھ شریک کرنے کو کہتا ہے جس کی کوئی دلیل نہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نگاہ ڈالی اور عرب وعجم سب کو ناپسند فرمایا سوائے چند اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے۔ وہ فرماتا ہے کہ میں نے تجھے صرف آزمائش کے لئے بھیجا ہے تیری اپنی بھی آزمائش ہوگی اور تیری وجہ سے اور سب کی بھی میں تو تجھ پر وہ کتاب اتارونگا جسے پانی دھو نہ سکے تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ پھر مجھ سے جناب باری عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ میں قریش کو ہوشیار کردوں میں نے اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ کہیں وہ میرا سر کچل کر روٹی جیسا نہ بنادیں ؟ تو فرمایا سن جیسے یہ تجھے نکالیں گے میں انہیں نکالونگا تو ان سے جہاد کر میں تیرا ساتھ دونگا تو خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا۔ تو لشکر بھیج میں اس سے پانچ حصے زیادہ لشکر بھیجوں گا فرمانبرداروں کے لے اپنے نافرمانوں۔ اہل جنت تین قسم کے ہیں عادل بادشاہ توفیق خیر والا سخی۔ نرم دل ہر مسلمان کے ساتھ سلوک احسان کرنے والا پاک دامن سوال اور حرام سے بچنے والا عیالدار آدمی۔ اہل جہنم پانچ قسم کے لوگ ہیں وہ بےوقعت کمینے لوگ جو بےزر اور بےگھر ہیں جو تمہارے دامنوں میں لپٹے رہتے ہیں۔ وہ خائن جو حقیر چیزوں میں بھی خیانت کئے بغیر نہیں رہتا۔ وہ لوگ جو ہر وقت لوگوں کو ان کی جان مال اور اہل و عیال میں دھوکے میں رہتے ہیں صبح شام چالبازیوں اور مکروفریب میں لگے رہتے ہیں۔ پھر آپ نے بخیلی یا کذاب کا ذکر کیا اور فرمایا پانچوں قسم کے لوگ بد زبان بدگو ہیں (مسلم وغیرہ) یہی فطرت سلیمہ یہی شریعت کو مضبوطی سے تھامے رہنا ہی سچے اور سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ اور اپنی اسی جہالت کی وجہ سے اللہ کے ایسے پاک دین سے دور بلکہ محروم رہ جاتے ہیں۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے گو تیری حرص ہو لیکن ان میں سے اکثر لوگ بےایمان ہی رہیں گے۔ ایک اور آیت میں ہے اگر تو اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے راہ اللہ سے بہکا دیں گے۔ تم سب اللہ کی طرف راغب رہو اسی کی جانب جھکے رہو اسی کا ڈر خوف رکھو اور اسی کا لحاظ رکھو۔ نمازوں کی پابندی کرو جو سب سے بڑی عبادت اور اطاعت ہے۔ تم مشرک نہ بنو بلکہ موحد اور خالص بن جاؤ اس کے سوا کسی اور سے کوئی مراد وابستہ نہ رکھو۔ حضرت معاذ سے حضرت عمر نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا یہ تین چیزیں ہیں اور یہی نجات کی جڑیں ہیں اول اخلاص جو فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے دوسرے نماز جو دراصل دین ہے تیسرے اطاعت جو عصمت اور بچاؤ ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا آپ نے سچ کہا۔ تمہیں مشرکوں میں نہ ملنا چاہیے تمہیں ان کا ساتھ نہ دینا چاہیے اور نہ ان جیسے فعل کرنا چاہیے جنہوں نے دین اللہ کو بدل دیا بعض باتوں کو مان لیا اور بعض سے انکار کر گئے فرقوا کی دوسری قرأت فارقوا ہے یعنی انہوں نے اپنے دین کو چھوڑ دیا۔ جیسے یہود، نصاری، مجوسی، بت پرست سے اور دوسرے باطل مذاہب والے۔ جیسے ارشاد ہے جن لوگوں نے اپنے دین میں تفریق کی اور گروہ بندی کرلی تو ان میں شامل ہی نہیں ان کا انجام سپرد اللہ ہے تم سے پہلے والی قومیں گروہ گروہ ہوگئیں تھی۔ اس امت میں بھی تفرقہ پڑا لیکن ان میں ایک حق پر ہے ہاں باقی سب گمراہی پر ہیں۔ یہ حق والی جماعت اہل سنت والجماعت ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مضبوط تھامنے والی ہے۔ جس پر سابقہ زمانے کے صحابہ تابعین اور ائمہ مسلمین تھے گذشتہ زمانے میں بھی اور اب بھی۔ جیسے مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ان سب میں نجات پانے والا فرقہ کون سا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا (من کان علی ما انا علیہ واصحابی) یعنی وہ لوگ جو اس پر ہوں جس پر آج میں اور میرے اصحاب ہیں (برادران غور فرمائیے کہ وہ چیز جس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب ؓ آپ کے زمانے میں تھے وہ وحی اللہ یعنی قرآن و حدیث ہی تھی یا کسی امام کی تقلید ؟)

30:33Graph

وَإِذَا مَسَّ ٱلنَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا۟ رَبَّهُم مُّنِيبِينَ إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَآ أَذَاقَهُم مِّنْهُ رَحْمَةً إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ

Wa izaa massan naasa durrun da'aw Rabbahum muneebeena ilaihi summa izaaa azaqahum minhu rahmatan izaa fareequm minhum be Rabbihim yushrikoon

And when adversity touches the people, they call upon their Lord, turning in repentance to Him. Then when He lets them taste mercy from Him, at once a party of them associate others with their Lord,

اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو ایک فرقہ اُن میں سے اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتا ہے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

انسان کی مختلف حالتیں اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہے ہے کہ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کیساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ لیکفروا میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لئے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلوگے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کو توال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائیے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہر چیز ہے اور جس کا صرف یہ کہہ دینا ہر امر کے لئے کافی ہے۔ کہ ہوجا پھر مشرکین کا محض بےدلیل ہونا بیان فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ پھر انسان کی ایک بیہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ سوائے چند ہستیوں کے عموما حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہوجاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے مومن پر تعجب ہے اس کے لئے اللہ کی ہر قضا بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لئے نشان ہیں۔

30:34Graph

لِيَكْفُرُوا۟ بِمَآ ءَاتَيْنَٰهُمْ فَتَمَتَّعُوا۟ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ

Li yakfuroo bimaaa aatainaahum; fatamatta'oo fasawfa ta'lamoon

So that they will deny what We have granted them. Then enjoy yourselves, for you are going to know.

تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اُس کی ناشکری کریں سو (خیر) فائدے اُٹھالو عنقریب تم کو (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

انسان کی مختلف حالتیں اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہے ہے کہ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کیساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ لیکفروا میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لئے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلوگے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کو توال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائیے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہر چیز ہے اور جس کا صرف یہ کہہ دینا ہر امر کے لئے کافی ہے۔ کہ ہوجا پھر مشرکین کا محض بےدلیل ہونا بیان فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ پھر انسان کی ایک بیہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ سوائے چند ہستیوں کے عموما حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہوجاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے مومن پر تعجب ہے اس کے لئے اللہ کی ہر قضا بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لئے نشان ہیں۔

30:35Graph

أَمْ أَنزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوا۟ بِهِۦ يُشْرِكُونَ

Am anzalnaa 'alaihim sultaanan fahuwa yatakallamu bimaa kaanoo bihee yushrikoon

Or have We sent down to them an authority, and it speaks of what they were associating with Him?

کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے کہ اُن کو خدا کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

انسان کی مختلف حالتیں اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہے ہے کہ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کیساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ لیکفروا میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لئے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلوگے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کو توال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائیے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہر چیز ہے اور جس کا صرف یہ کہہ دینا ہر امر کے لئے کافی ہے۔ کہ ہوجا پھر مشرکین کا محض بےدلیل ہونا بیان فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ پھر انسان کی ایک بیہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ سوائے چند ہستیوں کے عموما حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہوجاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے مومن پر تعجب ہے اس کے لئے اللہ کی ہر قضا بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لئے نشان ہیں۔

30:36Graph

وَإِذَآ أَذَقْنَا ٱلنَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوا۟ بِهَا وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ إِذَا هُمْ يَقْنَطُونَ

Wa izaaa azaqnan naasa rahmatan farihoo bihaa wa in tusibhum sayyi'atum bimaa qaddamat aydeehim izaa hum yaqnatoon

And when We let the people taste mercy, they rejoice therein, but if evil afflicts them for what their hands have put forth, immediately they despair.

اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اُس سے خوش ہو جاتے ہیں اور اگر اُن کے عملوں کے سبب جو اُن کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں کوئی گزند پہنچے تو نااُمید ہو کر رہ جاتے ہیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

انسان کی مختلف حالتیں اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہے ہے کہ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کیساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ لیکفروا میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لئے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلوگے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کو توال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائیے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہر چیز ہے اور جس کا صرف یہ کہہ دینا ہر امر کے لئے کافی ہے۔ کہ ہوجا پھر مشرکین کا محض بےدلیل ہونا بیان فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ پھر انسان کی ایک بیہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ سوائے چند ہستیوں کے عموما حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہوجاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے مومن پر تعجب ہے اس کے لئے اللہ کی ہر قضا بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لئے نشان ہیں۔

30:37Graph

أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَٰتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

Awalam yaraw annal laaha yabsutur rizqa limai yashaaa'u wa yaqdir; inna fee zaalika la Aayaatil liqawminy yu'minoon

Do they not see that Allah extends provision for whom He wills and restricts [it]? Indeed, in that are signs for a people who believe.

کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کرتا ہے۔ بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

انسان کی مختلف حالتیں اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہے ہے کہ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کیساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ لیکفروا میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لئے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلوگے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کو توال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائیے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہر چیز ہے اور جس کا صرف یہ کہہ دینا ہر امر کے لئے کافی ہے۔ کہ ہوجا پھر مشرکین کا محض بےدلیل ہونا بیان فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ پھر انسان کی ایک بیہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ سوائے چند ہستیوں کے عموما حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہوجاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے مومن پر تعجب ہے اس کے لئے اللہ کی ہر قضا بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لئے نشان ہیں۔

30:38Graph

فَـَٔاتِ ذَا ٱلْقُرْبَىٰ حَقَّهُۥ وَٱلْمِسْكِينَ وَٱبْنَ ٱلسَّبِيلِ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ ٱللَّهِ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

Fa aati zal qurbaa haqqahoo walmiskeena wabnassabeel; zaalika khairul lil lazeena yureedoona Wajhal laahi wa ulaaa'ika humul muflihoon

So give the relative his right, as well as the needy and the traveler. That is best for those who desire the countenance of Allah, and it is they who will be the successful.

تو اہلِ قرابت اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق دیتے رہو۔ جو لوگ رضائے خدا کے طالب ہیں یہ اُن کے حق میں بہتر ہے۔ اور یہی لوگ نجات حاصل کرنے والے ہیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

صلہ رحمی کی تاکید قرابتداروں کے ساتھ نیکی سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسکین اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا کچھ ہو لیکن بقدر کفایت نہ ہو۔ اس کے ساتھ بھی سلوک واحسان کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسافر جس کا خرچ کم پڑگیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن دیدار اللہ کریں حقیقت میں انسان کے لئے اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ دنیا اور آخرت میں نجات ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔ اس دوسری آیت کی تفسیر تو ابن عباس مجاہد ضحاک قتادۃ عکرمہ محمد بن کعب اور شعبی سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کوئی عطیہ اس ارادے سے دے کہ لوگ اسے اس سے زیادہ دیں۔ تو گو اس ارادے سے ہدیہ دینا ہے تو مباح لیکن ثواب سے خالی ہے۔ اللہ کے ہاں اس کا بدلہ کچھ نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس سے بھی روک دیا اس معنی میں یہ حکم آپ کے لئے مخصوص ہوگا۔ اسی کی مشابہ آیت (وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ ۽) 74۔ المدثر :6) ہے یعنی زیادتی معاوضہ کی نیت سے کسی کے ساتھ احسان نہ کیا کرو۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سود یعنی نفع کی دو صورتیں ہیں ایک تو بیوپار تجارت میں سود یہ تو حرام محض ہے۔ دوسرا سود یعنی زیادتی جس میں کوئی حرج نہیں وہ کسی کو اس ارادہ سے ہدیہ تحفہ دینا ہے کہ یہ مجھے اس سے زیادہ دے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اللہ کے پاس ثواب تو زکوٰۃ کے ادا کرنے کا ہے۔ زکوٰۃ دینے والوں کو بہت برکتیں ہوتی ہیں صحیح حدیث میں ہے کہ جو شخص ایک کجھور بھی صدقے میں دے لیکن حلال طور سے حاصل کی ہوئی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ رحمن ورحیم اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اسطرح پالتا اور بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہی ایک کھجور احد پہاڑ سے بھی بڑی ہوجاتی ہے۔ اللہ ہی خالق ورازق ہے۔ انسان اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا بےعلم بےکان بےآنکھ بےطاقت نکلتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے سب چیزیں عطا فرماتا ہے۔ مال ملکیت کمائی تجارت غرض بیشمار نعمتیں عطا فرماتا ہے۔ دو صحابیوں کا بیان ہے کہ ہم حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ کسی کام میں مشغول تھے ہم نے بھی آپ کا ہاتھ بٹایا۔ آپ نے فرمایا کہ دیکھو سرہلنے لگے تب تک بھی روزی سے کوئی محروم نہیں رہتا۔ انسان ننگا بھوکا دنیا میں آتا ہے ایک چھلکا بھی اس کے بدن پر نہیں ہوتا پھر رب ہی اسے روزیاں دیتا ہے۔ اس حیات کے بعد تمہیں مار ڈالے گا پھر قیامت کے دن زندہ کرے گا۔ اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کررہے ہو ان میں سے ایک بھی ان باتوں میں سے کسی ایک پر قابو نہیں رکھتا۔ ان کاموں میں سے ایک بھی کوئی نہیں کرسکتا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی تنہا خالق رازق اور موت زندگی کا مالک ہے وہی قیامت کے دن تمام مخلوق کو جلا دے گا۔ اس کی مقدس منزہ معظم اور عزت وجلال والی ذات اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو یا اس جیسا ہو یا اس کے برابر ہو یا اس کی اولاد ہو یا ماں باپ ہوں وہ احد ہے صمد ہے فرد ہے ماں باپ اولاد سے پاک ہے اس کا کف کوئی نہیں۔

30:39Graph

وَمَآ ءَاتَيْتُم مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِىٓ أَمْوَٰلِ ٱلنَّاسِ فَلَا يَرْبُوا۟ عِندَ ٱللَّهِ وَمَآ ءَاتَيْتُم مِّن زَكَوٰةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ ٱللَّهِ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُضْعِفُونَ

Wa maaa aataitum mir ribal li yarbuwa feee amwaalin naasi falaa yarboo 'indal laahi wa maaa aataitum min zaakaatin tureedoona wajhal laahi fa ulaaa'ika humul mud'ifoon

And whatever you give for interest to increase within the wealth of people will not increase with Allah. But what you give in zakah, desiring the countenance of Allah - those are the multipliers.

اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو تو خدا کے نزدیک اس میں افزائش نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰة دیتے ہو اور اُس سے خدا کی رضا مندی طلب کرتے ہو تو (وہ موجبِ برکت ہے اور) ایسے ہی لوگ (اپنے مال کو) دو چند سہ چند کرنے والے ہیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

صلہ رحمی کی تاکید قرابتداروں کے ساتھ نیکی سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسکین اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا کچھ ہو لیکن بقدر کفایت نہ ہو۔ اس کے ساتھ بھی سلوک واحسان کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسافر جس کا خرچ کم پڑگیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن دیدار اللہ کریں حقیقت میں انسان کے لئے اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ دنیا اور آخرت میں نجات ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔ اس دوسری آیت کی تفسیر تو ابن عباس مجاہد ضحاک قتادۃ عکرمہ محمد بن کعب اور شعبی سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کوئی عطیہ اس ارادے سے دے کہ لوگ اسے اس سے زیادہ دیں۔ تو گو اس ارادے سے ہدیہ دینا ہے تو مباح لیکن ثواب سے خالی ہے۔ اللہ کے ہاں اس کا بدلہ کچھ نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس سے بھی روک دیا اس معنی میں یہ حکم آپ کے لئے مخصوص ہوگا۔ اسی کی مشابہ آیت (وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ ۽) 74۔ المدثر :6) ہے یعنی زیادتی معاوضہ کی نیت سے کسی کے ساتھ احسان نہ کیا کرو۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سود یعنی نفع کی دو صورتیں ہیں ایک تو بیوپار تجارت میں سود یہ تو حرام محض ہے۔ دوسرا سود یعنی زیادتی جس میں کوئی حرج نہیں وہ کسی کو اس ارادہ سے ہدیہ تحفہ دینا ہے کہ یہ مجھے اس سے زیادہ دے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اللہ کے پاس ثواب تو زکوٰۃ کے ادا کرنے کا ہے۔ زکوٰۃ دینے والوں کو بہت برکتیں ہوتی ہیں صحیح حدیث میں ہے کہ جو شخص ایک کجھور بھی صدقے میں دے لیکن حلال طور سے حاصل کی ہوئی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ رحمن ورحیم اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اسطرح پالتا اور بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہی ایک کھجور احد پہاڑ سے بھی بڑی ہوجاتی ہے۔ اللہ ہی خالق ورازق ہے۔ انسان اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا بےعلم بےکان بےآنکھ بےطاقت نکلتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے سب چیزیں عطا فرماتا ہے۔ مال ملکیت کمائی تجارت غرض بیشمار نعمتیں عطا فرماتا ہے۔ دو صحابیوں کا بیان ہے کہ ہم حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ کسی کام میں مشغول تھے ہم نے بھی آپ کا ہاتھ بٹایا۔ آپ نے فرمایا کہ دیکھو سرہلنے لگے تب تک بھی روزی سے کوئی محروم نہیں رہتا۔ انسان ننگا بھوکا دنیا میں آتا ہے ایک چھلکا بھی اس کے بدن پر نہیں ہوتا پھر رب ہی اسے روزیاں دیتا ہے۔ اس حیات کے بعد تمہیں مار ڈالے گا پھر قیامت کے دن زندہ کرے گا۔ اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کررہے ہو ان میں سے ایک بھی ان باتوں میں سے کسی ایک پر قابو نہیں رکھتا۔ ان کاموں میں سے ایک بھی کوئی نہیں کرسکتا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی تنہا خالق رازق اور موت زندگی کا مالک ہے وہی قیامت کے دن تمام مخلوق کو جلا دے گا۔ اس کی مقدس منزہ معظم اور عزت وجلال والی ذات اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو یا اس جیسا ہو یا اس کے برابر ہو یا اس کی اولاد ہو یا ماں باپ ہوں وہ احد ہے صمد ہے فرد ہے ماں باپ اولاد سے پاک ہے اس کا کف کوئی نہیں۔

30:40Graph

ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَفْعَلُ مِن ذَٰلِكُم مِّن شَىْءٍ سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

Allaahul lazee khalaqa kum summa razaqakm summa yumeetukum summa yuhyeekum hal min shurakaaa'ikum mai yaf'alu min zaalikum min shai'; Sub haanahoo wa Ta'aalaa 'ammaa yushrikoon

Allah is the one who created you, then provided for you, then will cause you to die, and then will give you life. Are there any of your "partners" who does anything of that? Exalted is He and high above what they associate with Him.

خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا پھر تمہیں مارے گا۔ پھر زندہ کرے گا۔ بھلا تمہارے (بنائے ہوئے) شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کر سکے۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شریکوں سے بلند ہے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

صلہ رحمی کی تاکید قرابتداروں کے ساتھ نیکی سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسکین اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا کچھ ہو لیکن بقدر کفایت نہ ہو۔ اس کے ساتھ بھی سلوک واحسان کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسافر جس کا خرچ کم پڑگیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن دیدار اللہ کریں حقیقت میں انسان کے لئے اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ دنیا اور آخرت میں نجات ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔ اس دوسری آیت کی تفسیر تو ابن عباس مجاہد ضحاک قتادۃ عکرمہ محمد بن کعب اور شعبی سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کوئی عطیہ اس ارادے سے دے کہ لوگ اسے اس سے زیادہ دیں۔ تو گو اس ارادے سے ہدیہ دینا ہے تو مباح لیکن ثواب سے خالی ہے۔ اللہ کے ہاں اس کا بدلہ کچھ نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس سے بھی روک دیا اس معنی میں یہ حکم آپ کے لئے مخصوص ہوگا۔ اسی کی مشابہ آیت (وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ ۽) 74۔ المدثر :6) ہے یعنی زیادتی معاوضہ کی نیت سے کسی کے ساتھ احسان نہ کیا کرو۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سود یعنی نفع کی دو صورتیں ہیں ایک تو بیوپار تجارت میں سود یہ تو حرام محض ہے۔ دوسرا سود یعنی زیادتی جس میں کوئی حرج نہیں وہ کسی کو اس ارادہ سے ہدیہ تحفہ دینا ہے کہ یہ مجھے اس سے زیادہ دے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اللہ کے پاس ثواب تو زکوٰۃ کے ادا کرنے کا ہے۔ زکوٰۃ دینے والوں کو بہت برکتیں ہوتی ہیں صحیح حدیث میں ہے کہ جو شخص ایک کجھور بھی صدقے میں دے لیکن حلال طور سے حاصل کی ہوئی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ رحمن ورحیم اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اسطرح پالتا اور بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہی ایک کھجور احد پہاڑ سے بھی بڑی ہوجاتی ہے۔ اللہ ہی خالق ورازق ہے۔ انسان اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا بےعلم بےکان بےآنکھ بےطاقت نکلتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے سب چیزیں عطا فرماتا ہے۔ مال ملکیت کمائی تجارت غرض بیشمار نعمتیں عطا فرماتا ہے۔ دو صحابیوں کا بیان ہے کہ ہم حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ کسی کام میں مشغول تھے ہم نے بھی آپ کا ہاتھ بٹایا۔ آپ نے فرمایا کہ دیکھو سرہلنے لگے تب تک بھی روزی سے کوئی محروم نہیں رہتا۔ انسان ننگا بھوکا دنیا میں آتا ہے ایک چھلکا بھی اس کے بدن پر نہیں ہوتا پھر رب ہی اسے روزیاں دیتا ہے۔ اس حیات کے بعد تمہیں مار ڈالے گا پھر قیامت کے دن زندہ کرے گا۔ اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کررہے ہو ان میں سے ایک بھی ان باتوں میں سے کسی ایک پر قابو نہیں رکھتا۔ ان کاموں میں سے ایک بھی کوئی نہیں کرسکتا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی تنہا خالق رازق اور موت زندگی کا مالک ہے وہی قیامت کے دن تمام مخلوق کو جلا دے گا۔ اس کی مقدس منزہ معظم اور عزت وجلال والی ذات اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو یا اس جیسا ہو یا اس کے برابر ہو یا اس کی اولاد ہو یا ماں باپ ہوں وہ احد ہے صمد ہے فرد ہے ماں باپ اولاد سے پاک ہے اس کا کف کوئی نہیں۔

30:41Graph

ظَهَرَ ٱلْفَسَادُ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِى ٱلنَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ ٱلَّذِى عَمِلُوا۟ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

Zaharal fasaadu fil barri wal bahri bimaa kasabat aydinnaasi li yuzeeqahum ba'dal lazee 'amiloo la'allahum yarji'oon

Corruption has appeared throughout the land and sea by [reason of] what the hands of people have earned so He may let them taste part of [the consequence of] what they have done that perhaps they will return [to righteousness].

خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ خدا اُن کو اُن کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

زمین کی اصلاح اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مضمر ہے ممکن ہے بر یعنی خشکی سے مراد میدان اور جنگل ہوں اور بحر یعنی تری سے مراد شہر اور دیہات ہوں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بر کہتے ہیں خشکی کو اور بحر کہتے ہیں تری کو خشکی کے فساد سے مراد بارش کا نہ ہونا پیداوار کا نہ ہونا قحط سالیوں کا آنا۔ تری کے فساد سے مراد بارش کا رک جانا جس سے پانی کے جانور اندھے ہوجاتے ہیں۔ انسان کا قتل اور کشتیوں کا جبر چھین جھپٹ لینا یہ خشکی تری کا فساد ہے۔ بحر سے مراد جزیرے اور بر سے مراد شہر اور بستیاں ہیں۔ لیکن اول قول زیادہ ظاہر ہے اور اسی کی تائید محمد بن اسحاق کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ حضور نے ایلہ کے بادشاہ سے صلح کی اور اس کا بحر یعنی شہر اسی کے نام کردیا پھلوں کا اناج کا نقصان دراصل انسان کے گناہوں کی وجہ سے ہے اللہ کے نافرمان زمین کے بگاڑنے والے ہیں۔ آسمان و زمین کی اصلاح اللہ کی عبادت واطاعت سے ہے۔ ابو داؤد میں حدیث ہے کہ زمین پر ایک حد کا قائم ہونا زمین والوں کے حق میں چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔ یہ اس لیے کہ حد قائم ہونے سے مجرم گناہوں سے باز رہیں گے۔ اور جب گناہ نہ ہونگے تو آسمانی اور زمینی برکتیں لوگوں کو حاصل ہونگی۔ چناچہ آخر زمانے میں جب حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ اتریں گے اور اس پاک شریعت کے مطابق فیصلے کریں گے مثلا خنزیر کا قتل صلیب کی شکست جزئیے کا ترک یعنی اسلام کی قبولیت یا جنگ پھر جب آپ کے زمانے میں دجال اور اس کے مرید ہلاک ہوجائیں گے یاجوج ماجوج تباہ ہوجائیں گے تو زمین سے کہا جائیے گا کہ اپنی برکتیں لوٹادے اس دن ایک انار لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو کافی ہوگا اتنا بڑا ہوگا کہ اس کے چھلکے تلے یہ سب لوگ سایہ حاصل کرلیں۔ ایک اونٹنی کا دودھ ایک پورے قبیلے کو کفایت کرے گا۔ یہ ساری برکتیں صرف رسول اللہ ﷺ کی شریعت کے جاری کرنے کی وجہ سے ہونگی جیسے جیسے عدل وانصاف مطابق شرع شریف بڑھے گا ویسے ویسے خیر وبرکت بڑھتی چلی جائے گی۔ اس کے برخلاف فاجر شخص کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ اس کے مرنے پر بندے شہر درخت اور جانور سب راحت پالیتے ہیں۔ مسند امام احمد بن حنبل میں ہے کہ زیاد کے زمانے میں ایک تھیلی پائی گئی جس میں کجھور کی بڑی گھٹلی جیسے گہیوں کے دانے تھے اور اس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ اس زمانے میں اگتے تھے جس میں عدل وانصاف کو کام میں لایا جاتا تھا۔ زید بن اسلم سے مروی ہے کہ فساد سے شرک ہے لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ مال اور پیداوار کی اور پھر اناج کی کمی بطور آزمائش کے اور بطور ان کے بعض اعمال کے بدلے کے ہے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ01608) 7۔ الاعراف :168) ہم نے انہیں بھلائیوں برائیوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ لوٹ جائیں۔ تم زمین میں چل پھر کر آپ ہی دیکھ لو کہ تم سے پہلے جو مشرک تھے اس کے نتیجے کیا ہوئے ؟ رسولوں کی نہ ماننے اللہ کیساتھ کفر کرنے کا کیا وبال ان پر آیا ؟ یہ دیکھو اور عبرت حاصل کرو۔

30:42Graph

قُلْ سِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلُ كَانَ أَكْثَرُهُم مُّشْرِكِينَ

Qul seeroo fil ardi fanzuroo kaifa kaana 'aaqibatul lazeena min qabl; kaana aksaruhum mushrikeen

Say, [O Muhammad], "Travel through the land and observe how was the end of those before. Most of them were associators [of others with Allah].

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جو لوگ (تم سے) پہلے ہوئے ہیں ان کا کیسا انجام ہوا ہے۔ ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

زمین کی اصلاح اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مضمر ہے ممکن ہے بر یعنی خشکی سے مراد میدان اور جنگل ہوں اور بحر یعنی تری سے مراد شہر اور دیہات ہوں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بر کہتے ہیں خشکی کو اور بحر کہتے ہیں تری کو خشکی کے فساد سے مراد بارش کا نہ ہونا پیداوار کا نہ ہونا قحط سالیوں کا آنا۔ تری کے فساد سے مراد بارش کا رک جانا جس سے پانی کے جانور اندھے ہوجاتے ہیں۔ انسان کا قتل اور کشتیوں کا جبر چھین جھپٹ لینا یہ خشکی تری کا فساد ہے۔ بحر سے مراد جزیرے اور بر سے مراد شہر اور بستیاں ہیں۔ لیکن اول قول زیادہ ظاہر ہے اور اسی کی تائید محمد بن اسحاق کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ حضور نے ایلہ کے بادشاہ سے صلح کی اور اس کا بحر یعنی شہر اسی کے نام کردیا پھلوں کا اناج کا نقصان دراصل انسان کے گناہوں کی وجہ سے ہے اللہ کے نافرمان زمین کے بگاڑنے والے ہیں۔ آسمان و زمین کی اصلاح اللہ کی عبادت واطاعت سے ہے۔ ابو داؤد میں حدیث ہے کہ زمین پر ایک حد کا قائم ہونا زمین والوں کے حق میں چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔ یہ اس لیے کہ حد قائم ہونے سے مجرم گناہوں سے باز رہیں گے۔ اور جب گناہ نہ ہونگے تو آسمانی اور زمینی برکتیں لوگوں کو حاصل ہونگی۔ چناچہ آخر زمانے میں جب حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ اتریں گے اور اس پاک شریعت کے مطابق فیصلے کریں گے مثلا خنزیر کا قتل صلیب کی شکست جزئیے کا ترک یعنی اسلام کی قبولیت یا جنگ پھر جب آپ کے زمانے میں دجال اور اس کے مرید ہلاک ہوجائیں گے یاجوج ماجوج تباہ ہوجائیں گے تو زمین سے کہا جائیے گا کہ اپنی برکتیں لوٹادے اس دن ایک انار لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو کافی ہوگا اتنا بڑا ہوگا کہ اس کے چھلکے تلے یہ سب لوگ سایہ حاصل کرلیں۔ ایک اونٹنی کا دودھ ایک پورے قبیلے کو کفایت کرے گا۔ یہ ساری برکتیں صرف رسول اللہ ﷺ کی شریعت کے جاری کرنے کی وجہ سے ہونگی جیسے جیسے عدل وانصاف مطابق شرع شریف بڑھے گا ویسے ویسے خیر وبرکت بڑھتی چلی جائے گی۔ اس کے برخلاف فاجر شخص کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ اس کے مرنے پر بندے شہر درخت اور جانور سب راحت پالیتے ہیں۔ مسند امام احمد بن حنبل میں ہے کہ زیاد کے زمانے میں ایک تھیلی پائی گئی جس میں کجھور کی بڑی گھٹلی جیسے گہیوں کے دانے تھے اور اس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ اس زمانے میں اگتے تھے جس میں عدل وانصاف کو کام میں لایا جاتا تھا۔ زید بن اسلم سے مروی ہے کہ فساد سے شرک ہے لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ مال اور پیداوار کی اور پھر اناج کی کمی بطور آزمائش کے اور بطور ان کے بعض اعمال کے بدلے کے ہے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ01608) 7۔ الاعراف :168) ہم نے انہیں بھلائیوں برائیوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ لوٹ جائیں۔ تم زمین میں چل پھر کر آپ ہی دیکھ لو کہ تم سے پہلے جو مشرک تھے اس کے نتیجے کیا ہوئے ؟ رسولوں کی نہ ماننے اللہ کیساتھ کفر کرنے کا کیا وبال ان پر آیا ؟ یہ دیکھو اور عبرت حاصل کرو۔

30:43Graph

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ ٱلْقَيِّمِ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ

Fa aqim wajhaka lid deenil qaiyimi min qabli any yaatiya Yawmul laa maradda lahoo minal laahi Yawma'iziny yassadda'oon

So direct your face toward the correct religion before a Day comes from Allah of which there is no repelling. That Day, they will be divided.

تو اس روز سے پہلے جو خدا کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا دین (کے رستے) پر سیدھا منہ کئے چلے چلو اس روز (سب) لوگ منتشر ہوجائیں گے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اللہ کے دین میں مستحکم ہوجاؤ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے۔ مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاؤ۔ اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے۔ جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہوچکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی جماعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہوجائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ لوگ اپنے کئے ہوئے نیک اعمال بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش وخرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کرکے دے رہا ہوگا۔ ایک ایک نیکی دس دس بلکہ سات سات سو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کرکے انہیں ملے گی۔ کفار اللہ کے دوست نہیں لیکن تاہم ان پر بھی ظلم نہ ہوگا۔

30:44Graph

مَن كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُۥ وَمَنْ عَمِلَ صَٰلِحًا فَلِأَنفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ

Man kafara fa'alaihi kufruhoo wa man 'amila saalihan fali anfusihim yamhadoon

Whoever disbelieves - upon him is [the consequence of] his disbelief. And whoever does righteousness - they are for themselves preparing,

جس شخص نے کفر کیا تو اس کے کفر کا ضرر اُسی کو ہے اور جس نے نیک عمل کئے تو ایسے لوگ اپنے ہی لئے آرام گاہ درست کرتے ہیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اللہ کے دین میں مستحکم ہوجاؤ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے۔ مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاؤ۔ اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے۔ جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہوچکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی جماعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہوجائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ لوگ اپنے کئے ہوئے نیک اعمال بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش وخرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کرکے دے رہا ہوگا۔ ایک ایک نیکی دس دس بلکہ سات سات سو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کرکے انہیں ملے گی۔ کفار اللہ کے دوست نہیں لیکن تاہم ان پر بھی ظلم نہ ہوگا۔

30:45Graph

لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِن فَضْلِهِۦٓ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْكَٰفِرِينَ

Li yajziyal lazeena aamanoo wa 'amilus saalihaati min fadlih; innahoo laa yuhibbul kaafireen

That He may reward those who have believed and done righteous deeds out of His bounty. Indeed, He does not like the disbelievers.

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اُن کو خدا اپنے فضل سے بدلہ دے گا۔ بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اللہ کے دین میں مستحکم ہوجاؤ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے۔ مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاؤ۔ اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے۔ جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہوچکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی جماعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہوجائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ لوگ اپنے کئے ہوئے نیک اعمال بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش وخرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کرکے دے رہا ہوگا۔ ایک ایک نیکی دس دس بلکہ سات سات سو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کرکے انہیں ملے گی۔ کفار اللہ کے دوست نہیں لیکن تاہم ان پر بھی ظلم نہ ہوگا۔

30:46Graph

وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦٓ أَن يُرْسِلَ ٱلرِّيَاحَ مُبَشِّرَٰتٍ وَلِيُذِيقَكُم مِّن رَّحْمَتِهِۦ وَلِتَجْرِىَ ٱلْفُلْكُ بِأَمْرِهِۦ وَلِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

Wa min Aayaatiheee anyyursilar riyaaha mubashshi raatinw wa li yuzeeqakum mir rahmatihee wa litajriyal fulku bi amrihee wa litabtaghoo min fadlihee wa la'allakum tashkuroon

And of His signs is that He sends the winds as bringers of good tidings and to let you taste His mercy and so the ships may sail at His command and so you may seek of His bounty, and perhaps you will be grateful.

اور اُسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ خوشخبری دیتی ہیں تاکہ تم کو اپنی رحمت کے مزے چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تاکہ اس کے فضل سے (روزی) طلب کرو عجب نہیں کہ تم شکر کرو

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

مسلمان بھائی کی اعانت پر جہنم سے نجات کا وعدہ بارش کے آنے سے پہلے بھینی بھینی ہواؤں کا چلنا اور لوگوں کو بارش کی امید دلانا۔ اس کے بعد مینہ برسانا تاکہ بستیاں آباد ہیں اور جاندار زندہ رہیں سمندروں اور دریاؤں میں جہاز اور کشتیاں چلیں۔ کیونکہ کشتیوں کا چلنا بھی ہوا پر موقوف ہے۔ اب تم اپنی تجارت اور کمائی دھندے کے لئے ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر جاسکو۔ پس تمہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی ان بیشمار ان گنت تعمتوں پر اس کا شکریہ ادا کرو۔ پھر اپنے نبی کو تسکین اور تسلی دینے کے لئے فرماتا ہے کہ اگر آپ کو لوگ جھٹلاتے ہیں تو آپ اسے کوئی انوکھی بات نہ سمجھیں۔ آپ سے پہلے کے رسولوں کو بھی ان کی امتوں نے ایسے ہی ٹیڑھے ترچھے فقرے سنائے ہیں۔ وہ بھی صاف روشن اور واضح دلیلیں معجزے اور احکام لائے تھے بالآخر جھٹلانے والے عذاب کے شنکجے میں کس دئیے گئے اور مومنوں کو اس وقت ہر قسم کی برائی سے نجات ملی۔ اپنے فضل سے اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے نفس کریم پر یہ بات لازم کرلی ہے کہ وہ اپنے باایمان بندوں کو مدد دے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت (كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ 54؀) 6۔ الانعام :54) ابن ابی حاتم میں حدیث ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی آبرو بچالے اللہ پر حق ہے کہ وہ اس سے جہنم کی آگ کو ہٹالے۔ پھر آپ نے پڑھا آیت (وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ 47؀) 30۔ الروم :47)

30:47Graph

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَآءُوهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَٱنتَقَمْنَا مِنَ ٱلَّذِينَ أَجْرَمُوا۟ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ ٱلْمُؤْمِنِينَ

Wa laqad arsalnaa min qablika Rusulan ilaa qawmihim fajaaa'oohum bil baiyinaati fantaqamnaa minal lazeena ajramoo wa kaana haqqan 'alainaa nasrul mu'mineen

And We have already sent messengers before you to their peoples, and they came to them with clear evidences; then We took retribution from those who committed crimes, and incumbent upon Us was support of the believers.

اور ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ اُن کے پاس نشانیاں لےکر آئے سو جو لوگ نافرمانی کرتے تھے ہم نے اُن سے بدلہ لےکر چھوڑا اور مومنوں کی مدد ہم پر لازم تھی

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

مسلمان بھائی کی اعانت پر جہنم سے نجات کا وعدہ بارش کے آنے سے پہلے بھینی بھینی ہواؤں کا چلنا اور لوگوں کو بارش کی امید دلانا۔ اس کے بعد مینہ برسانا تاکہ بستیاں آباد ہیں اور جاندار زندہ رہیں سمندروں اور دریاؤں میں جہاز اور کشتیاں چلیں۔ کیونکہ کشتیوں کا چلنا بھی ہوا پر موقوف ہے۔ اب تم اپنی تجارت اور کمائی دھندے کے لئے ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر جاسکو۔ پس تمہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی ان بیشمار ان گنت تعمتوں پر اس کا شکریہ ادا کرو۔ پھر اپنے نبی کو تسکین اور تسلی دینے کے لئے فرماتا ہے کہ اگر آپ کو لوگ جھٹلاتے ہیں تو آپ اسے کوئی انوکھی بات نہ سمجھیں۔ آپ سے پہلے کے رسولوں کو بھی ان کی امتوں نے ایسے ہی ٹیڑھے ترچھے فقرے سنائے ہیں۔ وہ بھی صاف روشن اور واضح دلیلیں معجزے اور احکام لائے تھے بالآخر جھٹلانے والے عذاب کے شنکجے میں کس دئیے گئے اور مومنوں کو اس وقت ہر قسم کی برائی سے نجات ملی۔ اپنے فضل سے اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے نفس کریم پر یہ بات لازم کرلی ہے کہ وہ اپنے باایمان بندوں کو مدد دے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت (كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ 54؀) 6۔ الانعام :54) ابن ابی حاتم میں حدیث ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی آبرو بچالے اللہ پر حق ہے کہ وہ اس سے جہنم کی آگ کو ہٹالے۔ پھر آپ نے پڑھا آیت (وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ 47؀) 30۔ الروم :47)

30:48Graph

ٱللَّهُ ٱلَّذِى يُرْسِلُ ٱلرِّيَٰحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُۥ فِى ٱلسَّمَآءِ كَيْفَ يَشَآءُ وَيَجْعَلُهُۥ كِسَفًا فَتَرَى ٱلْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَٰلِهِۦ فَإِذَآ أَصَابَ بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦٓ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ

Allaahul lazee yursilur riyaaha fatuseeru sahaaban fa yabsutuhoo fis samaaa'i kaifa yashaaa'u wa yaj'aluhoo kisafan fataral wadqa yakhruju min khilaalihee fa izaaa asaaba bihee mai yashaaa'u min 'ibaadiheee izaa hum yastabshiroon

It is Allah who sends the winds, and they stir the clouds and spread them in the sky however He wills, and He makes them fragments so you see the rain emerge from within them. And when He causes it to fall upon whom He wills of His servants, immediately they rejoice

خدا ہی تو ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو اُبھارتی ہیں۔ پھر خدا اس کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا اور تہ بتہ کر دیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے بیچ میں سے مینھہ نکلنے لگتا ہے پھر جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے اُسے برسا دیتا ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

نا امیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت وزحمت کی ہوائیں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کردیتا ہے تم نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بالشت دوبالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لئے۔ اور کبھی یہ بھی دیکھا ہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں۔ اسی مضمون کو آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ 57؀) 7۔ الاعراف :57) میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ بتہہ کردیتا ہے۔ وہ پانی سے سیاہ ہوجاتے ہیں۔ زمین کے قریب ہوجاتے ہیں۔ پھر بارش ان بادلوں کے درمیان سے برسنے لگتی ہے جہاں برسی وہیں کے لوگوں کی باچھیں کھل گئیں۔ پھر فرماتا ہے یہی لوگ بارش سے ناامید ہوچکے تھے اور پوری ناامیدی کے وقت بلکہ ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برسیں اور جل تھل ہوگئے۔ دو دفعہ من قبل کا لفظ لانا تاکید کے لئے ہے۔ ہ کی ضمیر کا مرجع انزال ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تاسیسی دلالت ہو۔ یعنی بارش ہونے سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے وقت کے ختم ہوجانے کے قریب بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ مایوس ہوچکے تھے۔ پھر اس ناامیدی کے بعد دفعۃ ابر اٹھتا ہے اور برس جاتا ہے اور ریل پیل کردیتا ہے۔ اور ان کی خشک زمین تر ہوجاتی ہے قحط سالی ترسالی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو زمین صاف چٹیل میدان تھی یا ہر طرف ہریاول دکھائی دینے لگتی ہے۔ دیکھ لو کہ پروردگار عالم بارش سے کس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے یاد رکھو جس رب کی یہ قدرت تم دیکھ رہے وہ ایک دن مردوں کو ان قبروں سے بھی نکالنے والا ہے حالانکہ ان کے جسم گل سڑگئے ہونگے۔ سمجھ لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے اگر ہم باد تند چلائیں اگر آندھیاں آجائیں اور ان کی لہلاتی ہوئی کھیتیاں پژمردہ ہوجائیں تو وہ پھر سے کفر کرنے لگ جاتے ہیں چناچہ سورة واقعہ میں بھی یہی بیان ہوا ہے۔ آیت (اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ 63ۭ) 56۔ الواقعة :63) سے (بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ 67؀) 56۔ الواقعة :67) تک حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں ہوائیں آٹھ قسم کی ہیں چار رحمت کی چار زحمت کی۔ ناشرات مبشرات مرسلات اور ذاریات تو رحمت کی ہیں۔ اور عقیم صرصر عاصف اور قاصف عذاب کی۔ ان میں پہلی دو خشکیوں کی ہیں اور آخری دو تری کی۔ حضور فرماتے ہیں ہوائیں دوسری سے مسخر ہیں یعنی دوسری زمین سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی ہلاکت کا ارادہ کیا تو ہواؤں کے داروغہ کو یہ حکم دیا اس نے دریافت کیا کہ جناب باری کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا سوراخ کردوں جتنا بیل کا نتھا ہوتا ہے ؟ تو فرمان اللہ ہوا کہ نہیں نہیں اگر ایسا ہوا تو کل زمین اور زمین کی پوری چیزیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی۔ اتنا نہیں بلکہ اتنا روزن کر جتنا انگوٹھی میں نگینہ ہوتا ہے۔ اب صرف اتنے سوراخ سے وہ ہوا چلی جو جہاں پہنچی وہاں بھس اڑادیا۔ جس چیز پر سے گذری اسے بےنشان کردیا۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا مرفوع ہونا مکروہ ہے زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یہ خود حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کا قول ہے۔

30:49Graph

وَإِن كَانُوا۟ مِن قَبْلِ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْهِم مِّن قَبْلِهِۦ لَمُبْلِسِينَ

Wa in kaanoo min qabli any yunazzala 'alaihim min qablihee lamubliseen

Although they were, before it was sent down upon them - before that, in despair.

اور بیشتر تو وہ مینھہ کے اُترنے سے پہلے نااُمید ہو رہے تھے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

نا امیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت وزحمت کی ہوائیں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کردیتا ہے تم نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بالشت دوبالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لئے۔ اور کبھی یہ بھی دیکھا ہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں۔ اسی مضمون کو آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ 57؀) 7۔ الاعراف :57) میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ بتہہ کردیتا ہے۔ وہ پانی سے سیاہ ہوجاتے ہیں۔ زمین کے قریب ہوجاتے ہیں۔ پھر بارش ان بادلوں کے درمیان سے برسنے لگتی ہے جہاں برسی وہیں کے لوگوں کی باچھیں کھل گئیں۔ پھر فرماتا ہے یہی لوگ بارش سے ناامید ہوچکے تھے اور پوری ناامیدی کے وقت بلکہ ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برسیں اور جل تھل ہوگئے۔ دو دفعہ من قبل کا لفظ لانا تاکید کے لئے ہے۔ ہ کی ضمیر کا مرجع انزال ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تاسیسی دلالت ہو۔ یعنی بارش ہونے سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے وقت کے ختم ہوجانے کے قریب بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ مایوس ہوچکے تھے۔ پھر اس ناامیدی کے بعد دفعۃ ابر اٹھتا ہے اور برس جاتا ہے اور ریل پیل کردیتا ہے۔ اور ان کی خشک زمین تر ہوجاتی ہے قحط سالی ترسالی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو زمین صاف چٹیل میدان تھی یا ہر طرف ہریاول دکھائی دینے لگتی ہے۔ دیکھ لو کہ پروردگار عالم بارش سے کس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے یاد رکھو جس رب کی یہ قدرت تم دیکھ رہے وہ ایک دن مردوں کو ان قبروں سے بھی نکالنے والا ہے حالانکہ ان کے جسم گل سڑگئے ہونگے۔ سمجھ لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے اگر ہم باد تند چلائیں اگر آندھیاں آجائیں اور ان کی لہلاتی ہوئی کھیتیاں پژمردہ ہوجائیں تو وہ پھر سے کفر کرنے لگ جاتے ہیں چناچہ سورة واقعہ میں بھی یہی بیان ہوا ہے۔ آیت (اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ 63ۭ) 56۔ الواقعة :63) سے (بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ 67؀) 56۔ الواقعة :67) تک حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں ہوائیں آٹھ قسم کی ہیں چار رحمت کی چار زحمت کی۔ ناشرات مبشرات مرسلات اور ذاریات تو رحمت کی ہیں۔ اور عقیم صرصر عاصف اور قاصف عذاب کی۔ ان میں پہلی دو خشکیوں کی ہیں اور آخری دو تری کی۔ حضور فرماتے ہیں ہوائیں دوسری سے مسخر ہیں یعنی دوسری زمین سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی ہلاکت کا ارادہ کیا تو ہواؤں کے داروغہ کو یہ حکم دیا اس نے دریافت کیا کہ جناب باری کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا سوراخ کردوں جتنا بیل کا نتھا ہوتا ہے ؟ تو فرمان اللہ ہوا کہ نہیں نہیں اگر ایسا ہوا تو کل زمین اور زمین کی پوری چیزیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی۔ اتنا نہیں بلکہ اتنا روزن کر جتنا انگوٹھی میں نگینہ ہوتا ہے۔ اب صرف اتنے سوراخ سے وہ ہوا چلی جو جہاں پہنچی وہاں بھس اڑادیا۔ جس چیز پر سے گذری اسے بےنشان کردیا۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا مرفوع ہونا مکروہ ہے زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یہ خود حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کا قول ہے۔

30:50Graph

فَٱنظُرْ إِلَىٰٓ ءَاثَٰرِ رَحْمَتِ ٱللَّهِ كَيْفَ يُحْىِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَآ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

Fanzur ilaaa aasaari rahmatil laahi kaifa yuhyil arda ba'da mawtihaa; inna zaalika lamuhyil mawtaa wa Huwa 'alaa kulli shai'in Qadeer

So observe the effects of the mercy of Allah - how He gives life to the earth after its lifelessness. Indeed, that [same one] will give life to the dead, and He is over all things competent.

تو (اے دیکھنے والے) خدا کی رحمت کی نشانیوں کی طرف دیکھ کہ وہ کس طرح زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ بیشک وہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

نا امیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت وزحمت کی ہوائیں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کردیتا ہے تم نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بالشت دوبالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لئے۔ اور کبھی یہ بھی دیکھا ہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں۔ اسی مضمون کو آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ 57؀) 7۔ الاعراف :57) میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ بتہہ کردیتا ہے۔ وہ پانی سے سیاہ ہوجاتے ہیں۔ زمین کے قریب ہوجاتے ہیں۔ پھر بارش ان بادلوں کے درمیان سے برسنے لگتی ہے جہاں برسی وہیں کے لوگوں کی باچھیں کھل گئیں۔ پھر فرماتا ہے یہی لوگ بارش سے ناامید ہوچکے تھے اور پوری ناامیدی کے وقت بلکہ ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برسیں اور جل تھل ہوگئے۔ دو دفعہ من قبل کا لفظ لانا تاکید کے لئے ہے۔ ہ کی ضمیر کا مرجع انزال ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تاسیسی دلالت ہو۔ یعنی بارش ہونے سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے وقت کے ختم ہوجانے کے قریب بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ مایوس ہوچکے تھے۔ پھر اس ناامیدی کے بعد دفعۃ ابر اٹھتا ہے اور برس جاتا ہے اور ریل پیل کردیتا ہے۔ اور ان کی خشک زمین تر ہوجاتی ہے قحط سالی ترسالی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو زمین صاف چٹیل میدان تھی یا ہر طرف ہریاول دکھائی دینے لگتی ہے۔ دیکھ لو کہ پروردگار عالم بارش سے کس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے یاد رکھو جس رب کی یہ قدرت تم دیکھ رہے وہ ایک دن مردوں کو ان قبروں سے بھی نکالنے والا ہے حالانکہ ان کے جسم گل سڑگئے ہونگے۔ سمجھ لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے اگر ہم باد تند چلائیں اگر آندھیاں آجائیں اور ان کی لہلاتی ہوئی کھیتیاں پژمردہ ہوجائیں تو وہ پھر سے کفر کرنے لگ جاتے ہیں چناچہ سورة واقعہ میں بھی یہی بیان ہوا ہے۔ آیت (اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ 63ۭ) 56۔ الواقعة :63) سے (بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ 67؀) 56۔ الواقعة :67) تک حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں ہوائیں آٹھ قسم کی ہیں چار رحمت کی چار زحمت کی۔ ناشرات مبشرات مرسلات اور ذاریات تو رحمت کی ہیں۔ اور عقیم صرصر عاصف اور قاصف عذاب کی۔ ان میں پہلی دو خشکیوں کی ہیں اور آخری دو تری کی۔ حضور فرماتے ہیں ہوائیں دوسری سے مسخر ہیں یعنی دوسری زمین سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی ہلاکت کا ارادہ کیا تو ہواؤں کے داروغہ کو یہ حکم دیا اس نے دریافت کیا کہ جناب باری کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا سوراخ کردوں جتنا بیل کا نتھا ہوتا ہے ؟ تو فرمان اللہ ہوا کہ نہیں نہیں اگر ایسا ہوا تو کل زمین اور زمین کی پوری چیزیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی۔ اتنا نہیں بلکہ اتنا روزن کر جتنا انگوٹھی میں نگینہ ہوتا ہے۔ اب صرف اتنے سوراخ سے وہ ہوا چلی جو جہاں پہنچی وہاں بھس اڑادیا۔ جس چیز پر سے گذری اسے بےنشان کردیا۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا مرفوع ہونا مکروہ ہے زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یہ خود حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کا قول ہے۔

30:51Graph

وَلَئِنْ أَرْسَلْنَا رِيحًا فَرَأَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ يَكْفُرُونَ

Wa la'in arsalnaa reehan fara awhu musfarral lazalloo mim ba'dihee yakfuroon

But if We should send a [bad] wind and they saw [their crops] turned yellow, they would remain thereafter disbelievers.

اور اگر ہم ایسی ہوا بھیجیں کہ وہ (اس کے سبب) کھیتی کو دیکھیں (کہ) زرد (ہو گئی ہے) تو اس کے بعد وہ ناشکری کرنے لگ جائیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

نا امیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت وزحمت کی ہوائیں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کردیتا ہے تم نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بالشت دوبالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لئے۔ اور کبھی یہ بھی دیکھا ہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں۔ اسی مضمون کو آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ 57؀) 7۔ الاعراف :57) میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ بتہہ کردیتا ہے۔ وہ پانی سے سیاہ ہوجاتے ہیں۔ زمین کے قریب ہوجاتے ہیں۔ پھر بارش ان بادلوں کے درمیان سے برسنے لگتی ہے جہاں برسی وہیں کے لوگوں کی باچھیں کھل گئیں۔ پھر فرماتا ہے یہی لوگ بارش سے ناامید ہوچکے تھے اور پوری ناامیدی کے وقت بلکہ ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برسیں اور جل تھل ہوگئے۔ دو دفعہ من قبل کا لفظ لانا تاکید کے لئے ہے۔ ہ کی ضمیر کا مرجع انزال ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تاسیسی دلالت ہو۔ یعنی بارش ہونے سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے وقت کے ختم ہوجانے کے قریب بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ مایوس ہوچکے تھے۔ پھر اس ناامیدی کے بعد دفعۃ ابر اٹھتا ہے اور برس جاتا ہے اور ریل پیل کردیتا ہے۔ اور ان کی خشک زمین تر ہوجاتی ہے قحط سالی ترسالی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو زمین صاف چٹیل میدان تھی یا ہر طرف ہریاول دکھائی دینے لگتی ہے۔ دیکھ لو کہ پروردگار عالم بارش سے کس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے یاد رکھو جس رب کی یہ قدرت تم دیکھ رہے وہ ایک دن مردوں کو ان قبروں سے بھی نکالنے والا ہے حالانکہ ان کے جسم گل سڑگئے ہونگے۔ سمجھ لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پھر فرماتا ہے اگر ہم باد تند چلائیں اگر آندھیاں آجائیں اور ان کی لہلاتی ہوئی کھیتیاں پژمردہ ہوجائیں تو وہ پھر سے کفر کرنے لگ جاتے ہیں چناچہ سورة واقعہ میں بھی یہی بیان ہوا ہے۔ آیت (اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ 63ۭ) 56۔ الواقعة :63) سے (بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ 67؀) 56۔ الواقعة :67) تک حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں ہوائیں آٹھ قسم کی ہیں چار رحمت کی چار زحمت کی۔ ناشرات مبشرات مرسلات اور ذاریات تو رحمت کی ہیں۔ اور عقیم صرصر عاصف اور قاصف عذاب کی۔ ان میں پہلی دو خشکیوں کی ہیں اور آخری دو تری کی۔ حضور فرماتے ہیں ہوائیں دوسری سے مسخر ہیں یعنی دوسری زمین سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی ہلاکت کا ارادہ کیا تو ہواؤں کے داروغہ کو یہ حکم دیا اس نے دریافت کیا کہ جناب باری کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا سوراخ کردوں جتنا بیل کا نتھا ہوتا ہے ؟ تو فرمان اللہ ہوا کہ نہیں نہیں اگر ایسا ہوا تو کل زمین اور زمین کی پوری چیزیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی۔ اتنا نہیں بلکہ اتنا روزن کر جتنا انگوٹھی میں نگینہ ہوتا ہے۔ اب صرف اتنے سوراخ سے وہ ہوا چلی جو جہاں پہنچی وہاں بھس اڑادیا۔ جس چیز پر سے گذری اسے بےنشان کردیا۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا مرفوع ہونا مکروہ ہے زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یہ خود حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کا قول ہے۔

30:52Graph

فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ ٱلْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْا۟ مُدْبِرِينَ

Fa innaka laa tusmi'ul mawtaa wa laa tusmi'us summad du'aaa'a izaa wallaw mudbireen

So indeed, you will not make the dead hear, nor will you make the deaf hear the call when they turn their backs, retreating.

تو تم مردوں کی (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جب وہ پیٹھ پھیر کر پھر جائیں آواز سنا سکتے ہو

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

مسئلہ سماع موتی باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ جس طرح یہ تیری قدرت سے خارج ہے کہ مردوں کو جو قبروں میں ہوں تو اپنی آواز سنا سکے۔ اور جس طرح یہ ناممکن ہے کہ بہرے شخص کو جبکہ وہ پیٹھ پھیرے منہ موڑے جارہا ہو تو اپنی بات سنا سکے۔ اسی طرح سے جو حق سے اندھے ہیں تو ان کی رہبری ہدایت کی طرف نہیں کرسکتا۔ ہاں اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے جب وہ چاہے مردوں کو زندوں کو آواز سناسکتا ہے۔ ہدایت ضلالت اسکی طرف سے ہے۔ تو صرف انہیں سناسکتا ہے جو باایمان ہوں اور اللہ کے سامنے جھکنے والے اس کے فرمانبردار ہوں۔ یہ لوگ حق کو سنتے ہیں اور مانتے بھی ہیں یہ تو حالت مسلمان کی ہوئی اور اس سے پہلے جو حالت بیان ہوئی ہے وہ کافر کی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ ۭ وَالْمَوْتٰى يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ 36؀۬) 6۔ الانعام :36) تیری پکار وہی قبول کریں گے جو کان دھر کر سنیں گے مردوں کو اللہ تعالیٰ زندہ کرکے اٹھائے گا پھر سب اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان مشرکین سے جو جنگ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کئے گئے تھے اور بدر کی کھائیوں میں ان کی لاشیں پھینک دی گئی تھی ان کی موت کے تین دن بعد ان سے خطاب کرکے انہیں ڈانٹا اور غیرت دلائی۔ حضرت عمر نے یہ دیکھ کر عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ آپ ان سے خطاب کرتے ہیں جو مر کر مردہ ہوگئے، تو آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم بھی میری اس بات کو جو میں انہیں کہہ رہا ہوں اتنا نہیں سنتے جتنا یہ سن رہے ہیں۔ ہاں وہ جواب نہیں دے سکتے۔ حضرت عائشہ ؓ نے اس واقعہ کو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی زبانی سن کر فرمایا کہ آپ نے یوں فرمایا کہ وہ اب بخوبی جانتے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ حق ہے پھر آپ نے مردوں کے نہ سن سکنے پر اسی آیت سے استدالال کیا کہ آیت (اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَلَاتُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاۗءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ 80؀) 27۔ النمل :80) حضرت قتادۃ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کردیا تھا یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کی یہ بات انہوں نے سن لی تاکہ انہیں پوری ندامت اور کافی شرم ساری ہو۔ لیکن علماء کے نزدیک حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت بالکل صحیح ہے کیونکہ اس کے بہت سے شواہد ہیں۔ ابن عبدالبر نے ابن عباس سے مرفوعا ایک روایت صحت کرکے وارد کی ہے کہ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی قبر کے پاس گذرتا ہے جسے یہ دنیا میں پہچانتا تھا اور اسے سلام کرتا ہے تو اللہ اسکی روح لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ جواب دے۔

30:53Graph

وَمَآ أَنتَ بِهَٰدِ ٱلْعُمْىِ عَن ضَلَٰلَتِهِمْ إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَن يُؤْمِنُ بِـَٔايَٰتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ

Wa maa anta bihaadil 'umyi 'an dalaalatihim in tusmi'u illaa mai yuminu bi aayaatinaa fahum muslimoon

And you cannot guide the blind away from their error. You will only make hear those who believe in Our verses so they are Muslims [in submission to Allah].

اور نہ اندھوں کو اُن کی گمراہی سے (نکال کر) راہ راست پر لاسکتے ہو۔ تم تو انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں سو وہی فرمانبردار ہیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

مسئلہ سماع موتی باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ جس طرح یہ تیری قدرت سے خارج ہے کہ مردوں کو جو قبروں میں ہوں تو اپنی آواز سنا سکے۔ اور جس طرح یہ ناممکن ہے کہ بہرے شخص کو جبکہ وہ پیٹھ پھیرے منہ موڑے جارہا ہو تو اپنی بات سنا سکے۔ اسی طرح سے جو حق سے اندھے ہیں تو ان کی رہبری ہدایت کی طرف نہیں کرسکتا۔ ہاں اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے جب وہ چاہے مردوں کو زندوں کو آواز سناسکتا ہے۔ ہدایت ضلالت اسکی طرف سے ہے۔ تو صرف انہیں سناسکتا ہے جو باایمان ہوں اور اللہ کے سامنے جھکنے والے اس کے فرمانبردار ہوں۔ یہ لوگ حق کو سنتے ہیں اور مانتے بھی ہیں یہ تو حالت مسلمان کی ہوئی اور اس سے پہلے جو حالت بیان ہوئی ہے وہ کافر کی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ ۭ وَالْمَوْتٰى يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ 36؀۬) 6۔ الانعام :36) تیری پکار وہی قبول کریں گے جو کان دھر کر سنیں گے مردوں کو اللہ تعالیٰ زندہ کرکے اٹھائے گا پھر سب اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان مشرکین سے جو جنگ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کئے گئے تھے اور بدر کی کھائیوں میں ان کی لاشیں پھینک دی گئی تھی ان کی موت کے تین دن بعد ان سے خطاب کرکے انہیں ڈانٹا اور غیرت دلائی۔ حضرت عمر نے یہ دیکھ کر عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ آپ ان سے خطاب کرتے ہیں جو مر کر مردہ ہوگئے، تو آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم بھی میری اس بات کو جو میں انہیں کہہ رہا ہوں اتنا نہیں سنتے جتنا یہ سن رہے ہیں۔ ہاں وہ جواب نہیں دے سکتے۔ حضرت عائشہ ؓ نے اس واقعہ کو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی زبانی سن کر فرمایا کہ آپ نے یوں فرمایا کہ وہ اب بخوبی جانتے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ حق ہے پھر آپ نے مردوں کے نہ سن سکنے پر اسی آیت سے استدالال کیا کہ آیت (اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَلَاتُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاۗءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ 80؀) 27۔ النمل :80) حضرت قتادۃ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کردیا تھا یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کی یہ بات انہوں نے سن لی تاکہ انہیں پوری ندامت اور کافی شرم ساری ہو۔ لیکن علماء کے نزدیک حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت بالکل صحیح ہے کیونکہ اس کے بہت سے شواہد ہیں۔ ابن عبدالبر نے ابن عباس سے مرفوعا ایک روایت صحت کرکے وارد کی ہے کہ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی قبر کے پاس گذرتا ہے جسے یہ دنیا میں پہچانتا تھا اور اسے سلام کرتا ہے تو اللہ اسکی روح لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ جواب دے۔

30:54Graph

ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ وَهُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْقَدِيرُ

Allahul lazee khalaqa kum min du'fin summa ja'ala mim ba'di du'fin quwwatan summa ja'ala mim ba'di quwwatin du'fanw wa shaibah; yakhluqu maa yashaaa'u wa Huwal 'Aleemul Qadeer

Allah is the one who created you from weakness, then made after weakness strength, then made after strength weakness and white hair. He creates what He wills, and He is the Knowing, the Competent.

خدا ہی تو ہے جس نے تم کو (ابتدا میں) کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد طاقت عنایت کی پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ صاحب دانش اور صاحب قدرت ہے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

پیدائش انسان کی مرحلہ وار روداد انسان کی ترقی وتنزل اس کی اصل تو مٹی سے ہے۔ پھر نطفے سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے پھر اسے ہڈیاں پہنائی جاتی ہیں پھر ہڈیوں پر گوشت پوست پہنایا جاتا ہے پھر روح پھونکی جاتی ہے پھر ماں کے پیٹ سے ضعیف ونحیف ہو کر نکلتا ہے پھر تھوڑا تھوڑا بڑھتا ہے اور مضبوط ہوتا جاتا ہے پھر بچپن کے زمانے کی بہاریں دیکھتا ہے پھر جوانی کے قریب پہنچتا ہے پھر جوان ہوتا ہے آخر نشوونما موقوف ہوجاتی ہے۔ اب قوی پھر مضمحل ہونے شروع ہوتے ہیں طاقتیں گھٹنے لگتی ہیں ادھیڑ عمر کر پہنچتا ہے پھر بڈھا ہوتا پھونس ہوجاتا ہے طاقت کے بعد یہ کمزوری بھی قابل عبرت ہوتی ہے۔ کہ ہمت پست ہے، دیکھنا سننا چلنا پھرنا اٹھنا اچکنا پکڑنا غرض ہر طاقت گھٹ جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ بالکل جواب دے جاتی ہے اور ساری صفتیں متغیر ہوجاتی ہے۔ بدن پر جھریاں پڑجاتی ہیں۔ رخسار پچک جاتے ہیں دانت ٹوٹ جاتے ہیں بال سفید ہوجاتے ہیں۔ یہ قوت کے بعد کی ضعیفی اور بڑھاپا۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ بنانا بگاڑنا اس کی قدرت کے ادنی کرشمے ہیں۔ ساری مخلوق اس کی غلام وہ سب کا مالک وہ عالم و قادر نہ اس کا سا کسی کا علم نہ اس جیسی کسی کی قدرت۔ حضرت عطیہ عوفی کہتے ہیں میں نے اس آیت کو ضعفا تک حضرت ابن عمر ؓ کے سامنے پڑھا تو آپ نے بھی اسے تلاوت کی اور فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس آیت کو اتناہی پڑھا تھا جو آپ پڑھنے لگے جس طرح میں نے تمہاری قرأت پر قرأت شروع کردی (ابوداؤد ترمذی مسند احمد)

30:55Graph

وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُقْسِمُ ٱلْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا۟ غَيْرَ سَاعَةٍ كَذَٰلِكَ كَانُوا۟ يُؤْفَكُونَ

Wa Yawma taqoomus Saa'atu yuqsimul mujrimoona maa labisoo ghaira saa'ah; kazaalika kaanoo yu'fakoon

And the Day the Hour appears the criminals will swear they had remained but an hour. Thus they were deluded.

اور جس روز قیامت برپا ہوگی گنہگار قسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ اسی طرح وہ (رستے سے) اُلٹے جاتے تھے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

واپسی ناممکن ہوگی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفار دنیا اور آخرت کے کاموں سے بالکل جاہل ہیں۔ دنیا میں ان کی جہالت تو یہ ہے کہ اللہ کیساتھ اوروں کو شریک کرتے رہے اور اخرت میں یہ جہالت کریں گے کہ قسمیں کھاکر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک ساعت ہی رہے۔ اس سے ان کا مقصد یہ ہوگا کہ اتنے تھوڑے سے وقت میں ہم پر کوئی حجت قائم نہیں ہوئی۔ ہمیں معذور سمجھا جائے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ جیسے یہاں بہکی بہکی باتیں کر رے ہیں دنیا میں یہ بہکے ہوئے ہی رہے۔ فرماتا ہے کہ علماء کرام جس طرح ان کے اس کہنے پر دنیا میں انہیں دلائل دے کر قائل معقول کرتے رہے آخرت میں بھی ان سے کہیں گے کہ تم جھوٹی قسمیں کھا رہے ہو۔ تم کتاب اللہ یعنی کتاب اعمال میں اپنی پیدائش سے لے کر جی اٹھنے تک ٹھہرے رہے لیکن تم بےعلم اور نرے جاہل لوگ ہو۔ پس قیامت کے دن ظالموں کو اپنے کرتوت سے معذرت کرنا محض بےسود رہے گا۔ اور دنیا کی طرف لوٹائے نہ جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَاِنْ يَّسْـتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَـبِيْنَ 24؀) 41۔ فصلت :24) یعنی اگر وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہیں تو لوٹ نہیں سکتے۔

30:56Graph

وَقَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ وَٱلْإِيمَٰنَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِى كِتَٰبِ ٱللَّهِ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْبَعْثِ فَهَٰذَا يَوْمُ ٱلْبَعْثِ وَلَٰكِنَّكُمْ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

Wa qaalal lazeena ootul 'ilma wal eemaana laqad labistum fee kitaabil laahi ilaa yawmil ba'si fahaazaa yawmul ba'si wa laakinnakum kuntum laa ta'lamoon

But those who were given knowledge and faith will say, "You remained the extent of Allah 's decree until the Day of Resurrection, and this is the Day of Resurrection, but you did not used to know."

اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ خدا کی کتاب کے مطابق تم قیامت تک رہے ہو۔ اور یہ قیامت ہی کا دن ہے لیکن تم کو اس کا یقین ہی نہیں تھا

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

واپسی ناممکن ہوگی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفار دنیا اور آخرت کے کاموں سے بالکل جاہل ہیں۔ دنیا میں ان کی جہالت تو یہ ہے کہ اللہ کیساتھ اوروں کو شریک کرتے رہے اور اخرت میں یہ جہالت کریں گے کہ قسمیں کھاکر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک ساعت ہی رہے۔ اس سے ان کا مقصد یہ ہوگا کہ اتنے تھوڑے سے وقت میں ہم پر کوئی حجت قائم نہیں ہوئی۔ ہمیں معذور سمجھا جائے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ جیسے یہاں بہکی بہکی باتیں کر رے ہیں دنیا میں یہ بہکے ہوئے ہی رہے۔ فرماتا ہے کہ علماء کرام جس طرح ان کے اس کہنے پر دنیا میں انہیں دلائل دے کر قائل معقول کرتے رہے آخرت میں بھی ان سے کہیں گے کہ تم جھوٹی قسمیں کھا رہے ہو۔ تم کتاب اللہ یعنی کتاب اعمال میں اپنی پیدائش سے لے کر جی اٹھنے تک ٹھہرے رہے لیکن تم بےعلم اور نرے جاہل لوگ ہو۔ پس قیامت کے دن ظالموں کو اپنے کرتوت سے معذرت کرنا محض بےسود رہے گا۔ اور دنیا کی طرف لوٹائے نہ جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَاِنْ يَّسْـتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَـبِيْنَ 24؀) 41۔ فصلت :24) یعنی اگر وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہیں تو لوٹ نہیں سکتے۔

30:57Graph

فَيَوْمَئِذٍ لَّا يَنفَعُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ

Fa Yawma'izil laa yanfa'ul lazeena zalamoo ma'ziratu hum wa laa hum yusta'taboon

So that Day, their excuse will not benefit those who wronged, nor will they be asked to appease [Allah].

تو اس روز ظالم لوگوں کو ان کا عذر کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ اُن سے توبہ قبول کی جائے گی

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

واپسی ناممکن ہوگی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفار دنیا اور آخرت کے کاموں سے بالکل جاہل ہیں۔ دنیا میں ان کی جہالت تو یہ ہے کہ اللہ کیساتھ اوروں کو شریک کرتے رہے اور اخرت میں یہ جہالت کریں گے کہ قسمیں کھاکر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک ساعت ہی رہے۔ اس سے ان کا مقصد یہ ہوگا کہ اتنے تھوڑے سے وقت میں ہم پر کوئی حجت قائم نہیں ہوئی۔ ہمیں معذور سمجھا جائے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ جیسے یہاں بہکی بہکی باتیں کر رے ہیں دنیا میں یہ بہکے ہوئے ہی رہے۔ فرماتا ہے کہ علماء کرام جس طرح ان کے اس کہنے پر دنیا میں انہیں دلائل دے کر قائل معقول کرتے رہے آخرت میں بھی ان سے کہیں گے کہ تم جھوٹی قسمیں کھا رہے ہو۔ تم کتاب اللہ یعنی کتاب اعمال میں اپنی پیدائش سے لے کر جی اٹھنے تک ٹھہرے رہے لیکن تم بےعلم اور نرے جاہل لوگ ہو۔ پس قیامت کے دن ظالموں کو اپنے کرتوت سے معذرت کرنا محض بےسود رہے گا۔ اور دنیا کی طرف لوٹائے نہ جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَاِنْ يَّسْـتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَـبِيْنَ 24؀) 41۔ فصلت :24) یعنی اگر وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہیں تو لوٹ نہیں سکتے۔

30:58Graph

وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِى هَٰذَا ٱلْقُرْءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٍ وَلَئِن جِئْتَهُم بِـَٔايَةٍ لَّيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُبْطِلُونَ

Wa laqad darabnaa linnaasi fee haazal Quraani min kulli masal; wa la'in ji'tahum bi aayatil la yaqoolannal lazeena kafaroo in antum illaa mubtiloon

And We have certainly presented to the people in this Qur'an from every [kind of] example. But, [O Muhammad], if you should bring them a sign, the disbelievers will surely say, "You [believers] are but falsifiers."

اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے اور اگر تم اُن کے سامنے کوئی نشانی پیش کرو تو یہ کافر کہہ دیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

نماز میں مقتدی اور امام کا تعلق حق کو ہم نے اس کلام پاک میں پوری طرح واضح کردیا ہے اور مثالیں دے دے کر سمجھا دیا ہے کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور اس کی تابعداری میں لگ جائیں۔ انکے پاس تو کوئی بھی معجزہ آجائے کیساہی نشان حق دیکھ لیں لیکن یہ جھٹ سے بلاغور علی الفور کہیں گے کہ یہ جادو ہے باطل ہے جھوٹ ہے۔ دیکھئے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ خود قرآن کریم کی آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙ) 10۔ یونس :96) میں ہے کہ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آجائیں یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب کا معائنہ کرلیں۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ بےعلم لوگوں کے دلوں پر اسی طرح اللہ کی مہر لگ جاتی ہے۔ اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے ان کی مخالفت اور دشمنی پر درگزر کئے چلے جائیے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ضرور تمہیں ایک دن ان پر غالب کرے گا اور تمہاری امداد فرمائے گا۔ اور دنیا اور آخرت میں تجھے اور تیرے تابعداروں کو مخالفین پر غلبہ دے گا۔ تہیں چاہیے کہ اپنے کام پر لگے رہو حق پر جم جاؤ اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو اسی میں ساری ہدایت ہے باقی سب باطل کے ڈھیر ہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی ؓ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی۔ (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 65؀) 39۔ الزمر :65) آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت (فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ 60؀) 30۔ الروم :60) تلاوت فرمائی۔ (ابن جریر ابن ابی حاتم) وہ حدیث جس سے اس مبارک سورة کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے) ایک صحابی عنہ فرماتے ہیں حضور ﷺ نے ایک دن صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے اسی سورت کی قرأت کی۔ اثناء قرأت میں آپ کو وہم ساہو گیا فارغ ہو کر فرمانے لگے تم میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن باقاعدہ ٹھیک ٹھاک وضو نہیں کرتے۔ تم میں سے جو بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو اسے اچھی طرح وضو کرنا چائیے (مسند احمد) اس کی اسناد حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اسمیں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خیر ہے اور وہ یہ کہ آپ کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ پر بھی پڑا۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے۔

30:59Graph

كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ

Kazaalika yatba'ul laahu 'alaa quloobil lazeena laa ya'lamoon

Thus does Allah seal the hearts of those who do not know.

اسی طرح خدا اُن لوگوں کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے مہر لگا دیتا ہے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

نماز میں مقتدی اور امام کا تعلق حق کو ہم نے اس کلام پاک میں پوری طرح واضح کردیا ہے اور مثالیں دے دے کر سمجھا دیا ہے کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور اس کی تابعداری میں لگ جائیں۔ انکے پاس تو کوئی بھی معجزہ آجائے کیساہی نشان حق دیکھ لیں لیکن یہ جھٹ سے بلاغور علی الفور کہیں گے کہ یہ جادو ہے باطل ہے جھوٹ ہے۔ دیکھئے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ خود قرآن کریم کی آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙ) 10۔ یونس :96) میں ہے کہ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آجائیں یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب کا معائنہ کرلیں۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ بےعلم لوگوں کے دلوں پر اسی طرح اللہ کی مہر لگ جاتی ہے۔ اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے ان کی مخالفت اور دشمنی پر درگزر کئے چلے جائیے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ضرور تمہیں ایک دن ان پر غالب کرے گا اور تمہاری امداد فرمائے گا۔ اور دنیا اور آخرت میں تجھے اور تیرے تابعداروں کو مخالفین پر غلبہ دے گا۔ تہیں چاہیے کہ اپنے کام پر لگے رہو حق پر جم جاؤ اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو اسی میں ساری ہدایت ہے باقی سب باطل کے ڈھیر ہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی ؓ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی۔ (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 65؀) 39۔ الزمر :65) آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت (فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ 60؀) 30۔ الروم :60) تلاوت فرمائی۔ (ابن جریر ابن ابی حاتم) وہ حدیث جس سے اس مبارک سورة کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے) ایک صحابی عنہ فرماتے ہیں حضور ﷺ نے ایک دن صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے اسی سورت کی قرأت کی۔ اثناء قرأت میں آپ کو وہم ساہو گیا فارغ ہو کر فرمانے لگے تم میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن باقاعدہ ٹھیک ٹھاک وضو نہیں کرتے۔ تم میں سے جو بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو اسے اچھی طرح وضو کرنا چائیے (مسند احمد) اس کی اسناد حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اسمیں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خیر ہے اور وہ یہ کہ آپ کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ پر بھی پڑا۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے۔

30:60Graph

فَٱصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ ٱلَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ

Fasbir inna wa'dal laahi haqqunw wa laa yastakhif fannakal lazeena laa yooqinoon

So be patient. Indeed, the promise of Allah is truth. And let them not disquiet you who are not certain [in faith].

پس تم صبر کرو بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور (دیکھو) جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ تمہیں اوچھا نہ بنادیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

نماز میں مقتدی اور امام کا تعلق حق کو ہم نے اس کلام پاک میں پوری طرح واضح کردیا ہے اور مثالیں دے دے کر سمجھا دیا ہے کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور اس کی تابعداری میں لگ جائیں۔ انکے پاس تو کوئی بھی معجزہ آجائے کیساہی نشان حق دیکھ لیں لیکن یہ جھٹ سے بلاغور علی الفور کہیں گے کہ یہ جادو ہے باطل ہے جھوٹ ہے۔ دیکھئے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ خود قرآن کریم کی آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙ) 10۔ یونس :96) میں ہے کہ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آجائیں یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب کا معائنہ کرلیں۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ بےعلم لوگوں کے دلوں پر اسی طرح اللہ کی مہر لگ جاتی ہے۔ اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے ان کی مخالفت اور دشمنی پر درگزر کئے چلے جائیے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ضرور تمہیں ایک دن ان پر غالب کرے گا اور تمہاری امداد فرمائے گا۔ اور دنیا اور آخرت میں تجھے اور تیرے تابعداروں کو مخالفین پر غلبہ دے گا۔ تہیں چاہیے کہ اپنے کام پر لگے رہو حق پر جم جاؤ اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو اسی میں ساری ہدایت ہے باقی سب باطل کے ڈھیر ہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی ؓ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی۔ (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 65؀) 39۔ الزمر :65) آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت (فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ 60؀) 30۔ الروم :60) تلاوت فرمائی۔ (ابن جریر ابن ابی حاتم) وہ حدیث جس سے اس مبارک سورة کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے) ایک صحابی عنہ فرماتے ہیں حضور ﷺ نے ایک دن صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے اسی سورت کی قرأت کی۔ اثناء قرأت میں آپ کو وہم ساہو گیا فارغ ہو کر فرمانے لگے تم میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن باقاعدہ ٹھیک ٹھاک وضو نہیں کرتے۔ تم میں سے جو بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو اسے اچھی طرح وضو کرنا چائیے (مسند احمد) اس کی اسناد حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اسمیں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خیر ہے اور وہ یہ کہ آپ کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ پر بھی پڑا۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے۔