Introduction
Book 0 · 344 hadith
جان تو! اللہ تجھ کو توفیق دے جو شخص صحیح اور ضعیف حدیث میں تمیز کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور ثقہ (معتبر) اور متہم (جن پر تہمت لگی ہو کذب وغیرہ کی) راویوں کو پہچانتا ہو اس پر واجب ہے کہ نہ روایت کرے مگر اس حدیث کو جس کے اصل کی صحت ہو اور اس کے نقل کرنے والے وہ لوگ ہوں جن کا عیب فاش نہ ہوا ہو، اور بچے ان لوگوں کی روایت سے جن پر تہمت لگائی ہے یا جو عناد رکھتے ہیں اہل بدعت میں سے۔ اور دلیل اس پر جو ہم نے کہا: یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا: ”اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ جا پڑو کسی قوم پر نادانی سے پھر کل کو پچھتاؤ اپنے کیے ہوئے پر“۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور گواہ کرو دو مردوں کو یا ایک مرد اور دو عورتوں کو جن کو تم پسند کرتے ہو“ (گواہی کیلئے یعنی جو سچے اور نیک معلوم ہوں) اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے گواہ کرو دو شخصوں کو جو عادل ہوں“ تو ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ فاسق کی بات بے اعتبار ہے اور اسی طرح حدیث شریف سے یہ بھی بات معلوم ہوتی ہے کہ منکر روایت کا بیان کرنا (جس کے غلط ہونے کا احتمال ہو) درست نہیں جیسے قرآن سے معلوم ہوتا ہے اور وہ حدیث وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ شہرت منقول ہے کہ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔“ امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی اسناد سے روایت کیا سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یعنی وہی حدیث جو اوپر گزری کہ جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ سمجھتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے)۔
ابو بکر بن ابی شیبہ ، نیز محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے کہا : ہم سے محمد بن جعفر ( غندر ) نے شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے منصور سے ، انہوں نے ربعی بن حراش سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا ، جب وہ خطبہ دے رہے تھے : کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’مجھ پر جھوٹ نہ بولو ، بلاشبہ جس نے مجھ پر جھوٹ بولا وہ جہنم میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّهُ لَيَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ حَدِيثًا كَثِيرًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ تَعَمَّدَ عَلَىَّ كَذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
Zuhayr bin Harb narrated to me, Ismā’īl, rather, Ibn Ulayyah narrated to us, on authority of Abd il-Azīz ibn Suhayb, on authority of Anas bin Mālik, that he said:‘Indeed what prevents me from relating to you a great number of Ḥadīth is that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, said: ‘Whoever intends to lie upon me, then let him take his seat in the Fire.’
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : مجھے تمہارے سامنے زیادہ احادیث بیان کرنے سے یہ بات روکتی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا : ’’جس نے عمداً مجھ پر جھوٹ بولا وہ آگ میں اپنا ٹھکانا بنا لے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
Muhammad bin Ubayd il-Ghubarī narrated to us, Abū Awānah narrated to us, on authority of Abī Hasīn, on authority of Abī Sālih, on authority of Abū Hurayrah, he said, the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, said:‘Whoever lies upon me intentionally, then let him take his seat in the Fire’
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جس نے عمداً مجھ پر جھوٹ بولا وہ آگ میں اپنا ٹھکانا بنا لے ۔
۔ سعید بن عبید نے کہا : ہمیں علی بن ربیعہ والبی نے حدیث بیان ، کہا : میں مسجد میں آیا اور ( اس وقت ) حضرت مغیرہ ( بن شعبہ رضی اللہ عنہ ) کوفہ کے امیر ( گورنر ) تھے : مغیرہ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’مجھ پر جھوٹ بولنا اس طرح نہیں جیسے ( میرے علاوہ ) کسی ایک ( عام آدمی ) پر جھوٹ بولنا ہے ، جس نے جان بوجھ کر مجھ پرجھوٹ بولا وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے ۔ ‘ ‘
۔ محمد بن قیس اسدی نے علی بن ربیعہ اسدی سے ، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبیﷺ سے اسی طرح روایت کی لیکن ’’بلاشبہ مجھ پر جھوٹ بولنا اس طرح نہیں جیسے کسی ایک ( عام ) آدمی پر جھوٹ بولنا ہے ۔ ‘ ‘ ( اس جملہ ) بیان نہیں کیا ۔
عبیداللہ بن معاذ بن عنبری اور عبد الرحمن بن مہدی دونوں نے کہا : ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے خبیب بن عبد الرحمن سے ، انہوں نے حفص بن عاصم سے روایت کی ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے ۔ ‘ ‘
۔ ابو بکر بن ابی شیبہ ‘ علی بن حفص نے شعبہ سے ، انہوں نے خبیب بن عبد الرحمٰن سے ، انہوں نے حفص بن عاصم سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبیﷺ سے اس کے مانند روایت کی ۔
یحییٰ بن یحییٰ ‘ ہشیم ‘ سلیمان تیمی ‘ ابو عثمان نہدی سے روایت ہے ، کہا : عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آدمی کے لیے جھوٹ سے اتنا کافی ہے ( جس کی بنا پر وہ جھوٹا قرار دیا جا سکتا ہے ) کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے
ابن وہب نے خبر دی کہا : مالک ( بن انس ، نے مجھ سے کہا : مجھے معلوم ہے کہ ایسا آدمی ( صحیح ) سالم نہیں ہوتا جو ہر سنی ہوئی بات ( آگے ) بیان کر دے ، وہ کبھی امام نہیں بن سکتا ( جبکہ ) وہ ہر سنی ہوئی بات ( آگے ) بیان کر دیتا ہے ۔
محمد بن مثٰنی ‘ عبد الرحمٰن ‘ سفیان ‘ ابو اسحاق ‘ ابو الاحوص نے عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : آدمی کے جھوٹ میں یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے ۔
۔ محمد بن مثنیٰ نے کہا : میں نے عبد الرحمن بن مہدی سے سنا ، کہہ رہے تھے : آدمی اس وقت تک امام نہیں بن سکتا کہ لوگ اس کی اقتداء کریں یہاں تک کہ وہ سنی سنائی بعض باتوں ( کو بیان کرنے ) سے باز آ جائے ۔
سفیان بن حسین سے روایت ہے کہ ایاس بن معاویہ مجھ سے مطالبہ کیا اور کہا میں تمہیں دیکھتا ہوں تم قرآن کےعلم سے شدید رغبت رکھتے ہوں تم میرے سامنے ایک سورۃ پڑھو اور اس کی تفسیر کرو تاکہ جو تمہیں علم ہے میں بھی اسے دیکھوں ۔ کہا .میں نے ایسا کیا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا جوبات میں تم سے کہنے لگا ہوں اسے میری طرف سے ہمیشہ یاد رکھنا ۔
ابو طاہر ‘ حرملہ بن یحییٰ ‘ ابن وہب ‘ یونس ‘ ابن شہاب ‘ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ ‘ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کسی قوم کے سامنے ایسی حدیث بیان نہیں کرتے جس ( کے صحیح مفہوم ) تک ان کی عقلیں نہیں پہنچ سکتیں مگر وہ ان میں سے بعض کے لیے فتنے ( کا موجب ) بن جاتی ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " سَيَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي أُنَاسٌ يُحَدِّثُونَكُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلاَ آبَاؤُكُمْ فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ " .,وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ شَرَاحِيلَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ يَأْتُونَكُمْ مِنَ الأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلاَ آبَاؤُكُمْ فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ لاَ يُضِلُّونَكُمْ وَلاَ يَفْتِنُونَكُمْ " .
Muhammad bin Abd Allah bin Numayr and Zuhayr bin Harb narrated to me, they said Abd Allah bin Yazīd narrated to us, he said Sa’īd bin Abī Ayyūb narrated to me, he said Abū Hāni’ narrated to me, on authority of Uthmān Muslim bin Yasār, on authority of Abī Hurayrah, on authority of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, he said:‘There will be in the last of my nation a people narrating to you what you nor your fathers heard, so beware of them’. ,Harmalah bin Yahyā bin Abd Allah bin Harmalah bin Imrān at-Tujībī narrated to me, he said Ibn Wahb narrated to us, he said Abū Shurayh narrated to me that he heard Sharāhīl bin Yazīd saying ‘Muslim bin Yasār informed me that he heard Abā Hurayrah saying, the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, said:‘There will be in the end of time charlatan liars coming to you with narrations that you nor your fathers heard, so beware of them lest they misguide you and cause you tribulations’.’
محمد بن عبد اللہ بن نمیر ‘ زہیر بن حرب ‘ عبداللہ بن یزید ‘ سعد بن ابی ایوب ‘ ابوہانی نے ابو عثمان مسلم بن یسار سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’میری امت کے آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جو تمہارے سامنے ایسی حدیثیں بیان کریں گے جو تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے آباء نے ، تم اس قماش کے لوگوں سے دور رہنا ۔ ‘ ‘
۔ حرملہ بن یحییٰ ‘ عبد اللہ بن حرملہ بن عمران تجیبی ‘ ابن وہب ‘ شراحیل بن یزید کہتے ہیں : مجھے مسلم بن یسار نے بتایا کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’آخری زمانے میں ( ایسے ) دجال ( فریب کار ) کذاب ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جو تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے آباء نے ۔ تم ان سے دور رہنا ( کہیں ) وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں ۔ ‘ ‘
ابو سعید اشج ‘ وکیع ‘ اعمش ‘ مسیب بن رافع ‘ عامر بن عبدہ سے روایت ہے ، کہا : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بلاشبہ شیطان کسی آدمی کی شکل اختیار کرتا ہے ، پھر لوگوں کے پاس آتا ہے اور انہیں جھوٹ ( پر مبنی ) کوئی حدیث سناتا ہے ، پھر وہ بکھر جاتے ہیں ، ان میں سے کوئی آدمی کہتا ہے : میں نے ایک آدمی سے ( حدیث ) سنی ہے ، میں اس کا چہرہ تو پہنچانتا ہوں پر اس کا نام نہیں جانتا ، وہ حدیث سنا رہا تھا ۔
محمد بن رافع ‘ عبد الرزاق ‘ معمر ‘ ابن طاؤس ‘ طاؤس نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : سمندر ( کی تہ ) میں بہت سے شیطان قید ہیں جنہیں حضرت سلیمان رضی اللہ عنہ نے باندھا تھا ، وقت آ رہا ہے کہ وہ نکلیں گے اور لوگوں کے سامنے قرآن پڑھیں گے ۔
محمد بن عباد ‘ سعید بن عمر ‘ اشعثیٰ ‘ ابن عیینہ ‘ سعید ‘ سفیان ‘ ہشام بن جحیر نے طاوس سے روایت کی ، کہا : یہ ( ان کی مراد بشیر بن کعب سے تھی ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں حدیثیں سنانے لگا ، ابن عباس رضی اللہ عنہ اس سے کہا : فلاں فلاں حدیث دہراؤ ۔ اس نے دہرا دیں ، پھر ان کے سامنے احادیث بیان کیں ۔ انہوں نے اس سے کہا : فلاں حدیث دوبارہ سناؤ ۔ اس نے ان کے سامنے دہرائیں ، پھر آپ سے عرض کی : میں نہیں جانتا کہ آپ نے میری ( بیان کی ہوئی ) ساری احادیث پہچان لی ہیں اور اس حدیث کو منکر جانا ہے یا سب کو منکر جانا ہے اور اسے پہچان لیا ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : جب آپﷺ پر جھوٹ نہیں بولا جاتا تھا ہم رسول اللہﷺ سے احادیث بیان کرتے تھے ، پھر جب لوگ ( ہر ) مشکل اور آسان سواری پر سوار ہونے لگے ( بلا تمیز صحیح وضعیف روایات بیان کرنے لگے ) تو ہم نے ( براہ راست ) آپﷺ سے حدیث بیان کرنا ترک کر دیا ۔
محمد بن رافع ‘ عبد الرزاق ‘ ابن طاؤس ‘ طاؤس کے بیٹے نے اپنےوالد ( طاوس ) سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہﷺ کی احادیث حفظ کرتے تھے اور رسول اللہﷺ سے ( مروی ) حدیث کی حفاظت کی جاتی تھیں مگر جب سے تم لوگوں نے ( بغیر تمیز کے ) ہر مشکل اور آسان پر سواری شروع کر دی تو یہ ( معاملہ ) دو رہو گیا ( یہ بعید ہو گیا کہ ہماری طرح کے محتاط لوگ اس طرح بیان کردہ احادیث کو قبول کریں ، پھر یاد رکھیں ۔)
مجاہد سے روایت ہے کہ بشیر بن کعب عدوی حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے پاس آیا اور اس نے احادیث بیان کرتے ہوئے کہنا شروع کر دیا : رسول اللہﷺ نے فرمایا ، رسول اللہﷺ نے فرمایا ۔ حضرت ابن عباسؓ ( نے یہ رویہ رکھا کہ ) نہ اس کو دھیان سے سنتے تھے نہ اس کی طرف دیکھتے تھے ۔ وہ کہنے لگا : اے ابن عباس! میرے ساتھ کیا ( معاملہ ) ہے ، مجھے نظر نہیں آتا کہ آپ میری ( بیان کردہ ) حدیث سن رہے ہیں؟ میں آپ کو رسول اللہﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور آپ سنتے ہی نہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک وقت ایسا تھا کہ جب ہم کسی کو یہ کہتے سنتے : رسول اللہﷺ نے فرمایا تو ہماری نظریں فوراً اس کی طرف اٹھ جاتیں اور ہم کان لگا کر غور سے اس کی بات سنتے ، پھر جب لوگوں نے ( بلا تمیز ) ہر مشکل اور آسان پر سواری ( شروع ) کر دی تو ہم لوگوں سے کوئی حدیث قبول نہ کی سوائے اس ( حدیث ) کے جسے ہم جانتے تھے ۔
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے ، کہا : میں نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی طرف لکھا اور ان سے درخواست کی کہ وہ میرے لیے ایک کتاب لکھیں اور ( جن باتوں کی صحت میں مقال ہو یا جو نہ لکھنے کی ہوں وہ ) باتیں مجھ سے چھپا لیں ۔ انہوں نے فرمایا : لڑکا خالص احادیث کا طلبگار ہے ، میں اس کے لیے ( حدیث سے متعلق ) تمام معاملات میں ( صحیح کا ) انتخاب کروں گا اور ( موضوع اور گھڑی ہوئی احادیث کو ) ہٹا دوں گا ( کہا : انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے منگوائے ) اور ان میں سے چیزیں لکھنی شروع کیں اور ( یہ ہوا کہ ) کوئی چیز گزرتی تو فرماتے : بخدا! یہ فیصلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہیں کیا ، سوائے اس کے کہ ( خدانخواستہ ) وہ گمراہ ہو گئے ہوں ( جب کہ ایسا نہیں ہوا ۔)
عمر وناقد ‘ سفیان بن عیینہ ‘ ہشام ‘ بن حجیر ‘ طاوس سے روایت ہے ، کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کتاب لائی گئی جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے ( لکھے ہوئے ) تھے تو انہوں نے اس قدر چھوڑ کر باقی ( سب کچھ ) مٹا دیا اور سفیان بن عیینہ نے ہاتھ ( جتنی لمبائی ) کا اشارہ کیا ۔
حسن بن علی حلوانی ‘ یحییٰ بن آدم ‘ ابن ادریس ‘ اعمش ‘ ابو اسحاق سے روایت ہے ، کہا : جب ( بظاہر حضرت علی کا نام لینے والے ) لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد ( ان کے نام پر ) یہ چیزیں ایجاد کر لیں تو ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ ان ( لوگوں ) کو قتل کرے! انہوں نے کیسا ( عظیم الشان ) علم بگاڑ دیا ۔
علی بن خشرم ‘ ابو بکر بن عیاش نے ہمیں بتایا ، کہا : میں نے مغیرہ سے سنا ، فرماتے تھے : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث میں کسی چیز کی تصدیق نہ کی جاتی تھی ، سوائے اس کے جو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں سے روایت کی گئی ہو ۔
حسن بن ربیع ‘ حماد بن زید ‘ ایوب ‘ ہشام ‘ محمد ‘ ح ‘ فضیل ‘ ہشام ‘ مخلد بن حسین ‘ ہشام ، انہوں نے محمد بن سیرین سے روایت کی ، یہ علم ، دین ہے ، اس لیے ( اچھی طرح ) دیکھ لو کہ تم کن لوگوں سے اپنا دین اخذ کرتے ہو ۔
عاصم احول نے ابن سیرین سے روایت کی ، کہا : ( ابتدائی دور میں عالمان حدیث ) اسناد کے بارے میں کوئی سوال نہ کرتے تھے ، جب فتنہ پڑ گیا تو انہوں نے کہا : ہمارے سامنے اپنے رجال ( حدیث ) کے نام لو تاکہ اہل سنت کو دیکھ کر ان سے حدیث لی جائے اور اہل بدعت کو دیکھ کر ان کی حدیث قبول نہ کی جائے
۔ اوزاعی نے سلیمان بن موسٰی سے روایت کی ‘ انھوں نے کہا .میں ظاوس رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا .مجھےشخص نے اس اس کرح حدیث سنائی ۔ انھوں کہا ’اگر تمہارے صاحب ( استاد ) پوری طرح قابل اعتماد ہیں توان سے اخذ کر لو ۔
سعید بن عبد العزیز نے سلیمان بن موسیٰ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے طاوس رضی اللہ عنہ سے عرض کی : فلاں نے ان ان الفاظ سے مجھے حدیث سنائی ۔ انہوں نے کہا : اگر تمہارے صاحب ثقاہت میں بھر پو ہیں تو ان سے اخذ کر لو ۔
(عبد الرحمن ) بن ابی زناد نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : میں مدینہ میں سو ( اہل علم ) سے ملا جو ( دین میں تو ) محفوظ ومامون تھے ( لیکن ) ان سے حدیث اخذ نہیں کی جاتی تھیں ، کہا جاتا تھا یہ اس ( علم ) کے اہل نہیں
۔ مسعر سے روایت ہے ، کہا : میں نے سعد بن ابراہیم ( بن عبد الرحمن بن عوف ) سے سنا ، کہہ رہے تھے : ثقہ راویوں کے علاوہ اور نہ کوئی شخص رسول اللہﷺ سے حدیث بیان نہ کرے ۔
محمد بن عبد اللہ بن قہزاد نے ( جو مرو کے باشندوں میں سے ہیں ) کہا : میں نے عبدان بن عثمان سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے عبد اللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : اسناد ( سلسلہ سند سے حدیث روایت کرنا ) دین میں سے ہے ۔ اگر اسناد نہ ہوتا تو جو کوئی جو کچھ چاہتا ، کہہ دیتا ۔ ( امام مسلم رضی اللہ عنہ نے ) کہا : اور محمد بن عبد اللہ نے کہا : مجھے عباس بن ابی رزمہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے عبد اللہ ( بن مبارک ) کو یہ کہتے ہوئے سنا : ہمارے اور لوگوں کے درمیان ( فیصلہ کن چیز ، بیان کی جانے والی خبروں کے ) پاؤں ، یعنی سندیں ہیں ( جن پر روایات اس طرح کھڑی ہوتی ہیں جس طرح جاندار اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں ۔)
۔ ابو نضر ہاشم بن قاسم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم نے بہیہ کے مولیٰ ابو عقیل ( یحییٰ بن متوکل ) نے حدیث بیان کی ، کہا : میں قاسم بن عبید اللہ ( بن عبد اللہ بن بن عمر جن کی والدہ ام عبد اللہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر تھیں ) اور یحییٰ بن سعید کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ یحییٰ نے قاسم بن عبید اللہ سے کہا : جناب ابو محمد! آپ جیسی شخصیت کے لیے یہ عیب ہے ، بہت بڑی بات ہے کہ آپ سے اس دین کے کسی معاملے کے بارے میں ( کچھ ) پوچھا جائے اور آپ کے پاس اس کے حوالے سے نہ علم ہو نہ کوئی حل یا ( یہ الفاظ کہے ) نہ علم ہو نہ نکلنے کی کوئی راہ ۔ تو قاسم نے ان سے کہا : کس وجہ سے؟ ( یحییٰ نے ) کہا : کیونکہ آپ ہدایت کے دو اماموں ابو بکر اور عمرؓ کے فرزند ہیں ۔ کہا : قاسم اس سے کہنے لگے : جس شخص کو اللہ کی طرف سے عقل ملی ہو ، اس کے نزدیک اس سے بھی بد تر بات یہ ہے کہ میں علم کے بغیر کچھ کہہ دوں یا اس سے روایت کروں جو ثقہ نہ ہو ۔ ( یہ سن کر یحییٰ ) خاموش ہو گئے اور انہیں کوئی جواب نہیں دیا ۔
بشر بن حکم عبدی نے مجھ سے بیان کیا ، کہا : میں نے سفیان بن عیینہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے سے بہت سے لوگوں نے بہیہ کے مولیٰ ابو عقیل سے ( سن کر ) روایت کی کہ ( کچھ ) لوگوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے کوئی بات پوچھی جس کے بارے میں ان کے علم میں کچھ نہ تھا تو یحییٰ بن سعید نے ان سے کہا : میں اس کو بہت بڑی بات سمجھتا ہوں کہ آپ جیسے انسان سے ( جبکہ آپ ہدایت کے وو اماموں یعنی عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں ، کوئی بات پوچھی جائے ( اور ) اس کےب ارے میں آپ کو کچھ علم نہ ہو ۔ انہوں نے کہا : بخدا! اللہ کے نزدیک اور اس شخص کے نزدیک جسے اللہ نے عقل دی اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ میں علم کے بغیر کچھ کہوں یا کسی ایسے شخص سے روایت کروں جو ثقہ نہیں ۔ ( سفیان نے ) کہا : ابو عقیل یحییٰ بن متوکل ( بھی ) ان کے پاس موجود تھے جب انہوں نے یہ بات کی ۔
یحییٰ بن سعید نے کہا : میں نے سفیان ثوری ، شعبہ ، مالک اور ابن عیینہ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جو حدیث میں پور ی طرح قابل اعتماد ( ثقہ ) نہ ہو ، پھر کوئی آدمی آئے اور مجھ سے اس کے بارے میں سوال کرے؟ تو ان سب نے کہا : اس کے بارے میں بتا دو کہ وہ پوری طرح قابل اعتماد نہیں ہے
۔ نضر کہتے ہیں کہ ابن عون سے شہر ( بن حوشب ) کی حدیث کے بارے میں سوال کیا گیا ، ( اس وقت ) وہ ( اپنی ) دہلیز پر کھڑے تھے ، وہ کہنے لگے : انہوں ( محدثین ) نے یقینا شہر کو مطعون ٹھہرایا ہے ، انہوں نے شہر کو مطعون ٹھہرایا ہے ۔ امام مسلم رضی اللہ عنہ نے کہا : لوگوں کی زبانوں نے انہیں نشانہ بنایا ، ان کے بارے میں باتیں کیں ۔
ہمیں شبابہ نے بتایا ، کہا : شعبہ نے کہا : میں شہر سے ملا لیکن ( روایت حدیث کے حوالے سے ) میں نے انہیں اہمیت نہ دی ۔
عبد اللہ بن مبارک نے کہا : میں نے سفیان ثوری سے عرض کی : بلاشبہ عباد بن کثیر ایسا ہے جس کا حال آپ کو معلوم ہے ۔ جب وہ حدیث بیان کرتا ہے تو بڑی بات کرتا ہے ، کیا آپ کی رائے ہے کہ میں لوگوں سے کہہ دیا کروں : اس سے ( حدیث ) نہ لو؟ سفیان کہنےلگے : کیوں نہیں! عبد اللہ نے کہا : پھر یہ ( میرا معمول ) ہو گیا کہ جب میں کسی ( علمی ) مجلس میں ہوتا جہاں عباد کا ذکر ہوتا تو میں دین کے حوالے سے اس کی تعریف کرتا اور ( ساتھ یہ بھی ) کہتا : اس سے ( حدیث ) نہ لو ۔ ہم سے محمد نے بیان کیا ، کہا : ہم سے عبد اللہ بن عثمان نے بیان کیا ، کہا : میرے والد نے کہا : عبد اللہ بن مبارک نے کہا : میں شعبہ تک پہنچا تو انہوں نے ( بھی ) کہا : یہ عباد بن کثیر ہے تم لوگ اس سے ( حدیث بیان کرنے میں ) احتیاط کرو
فضل بن سہل نے بتایا ، کہا : میں نے معلیٰ رازی سے محمد بن سعید کے بارے میں ، جس سے عباد بن کثیر نے روایت کی ، پوچھا تو انہوں نے مجھے عیسیٰ بن یونس کے حوالے سے بیان کیا ، کہا : میں اس کے دروزاے پر تھا ، سفیان اس کے پاس موجود تھے جب وہ باہر نکل گیا تو میں نے ان ( سفیان ) سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ کذاب ہے ۔
محمد بن ابی عتاب نے کہا : مجھ سے عفان نے محمد بن یحییٰ بن سعید قطان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : ہم نے نیک لوگوں ( صوفیا ) کو حدیث سے بڑھ کر کسی اور چیز میں جھوٹ بولنے والا نہیں پایا ۔ ابن ابی عتاب نے کہا : میں محمد بن یحییٰ بن سعید قطان سے ملا تو اس ( بات کے ) بارے میں پوچھا ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہا : تم اہل خیر ( زہد و ورع والوں ) کو حدیث سے زیادہ کسی اور چیز میں جھوٹا نہیں پاؤ گے ۔ امام مسلم نے کہا کہ یحییٰ بن سعید نے فرمایا : ان کی زبان پر جھوٹ جاری ہو جاتا ہے ، وہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتے ۔
خلیفہ بن موسیٰ نے خبر دی ، کہا : میں غالب بن عبید اللہ کے ہاں آیا تو اس نے مجھے لکھوانا شروع کیا : مکحول نے مجھ سے حدیث بیان کی ، مکحول نے مجھ سے حدیث بیان کی ۔ اسی اثنا میں پیشاب نے اسے مجبور کیا تو وہ اٹھ گیا ، میں نے ( جو ) اس کی کاپی دیکھی تو اس میں اس طرح تھا : مجھے ابان نے انس سے یہ حدیث سنائی ، ابان نے فلاں سے حدیث روایت کی ۔ اس پر میں نے اسے چھوڑ دیا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔ ( امام مسلم نے کہا : ) اور میں نے حسن بن علی حلوانی سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے عفان کی کتاب میں ابو مقدام ہشام کی ( وہ ) روایت دیکھی ( جو عمر بن عبد العزیز کی حدیث ہے ) ( اس میں تھا : ) ہشام نے کہا : مجھ سے ایک شخص نے جسے یحییٰ بن فلاں کہا جاتا تھا ، محمد بن کعب سے حدیث بیان بیان کی ، کہا : میں نے عفان سے کہا : ( اہل علم ) کہتے ہیں : ہشام نے یہ ( حدیث ) محمد بن کعب سے سنی تھی ۔ تو وہ کہنے لگے : وہ ( ہشام ) اسی حدیث کی وجہ سے فتنے میں پڑے ۔ ( پہلے ) وہ کہا کرتے تھے : مجھے یحییٰ نے محمد ( بن کعب ) سے روایت کی ، بعد ازاں یہ دعویٰ کر دیا کہ انہوں نے یہ ( حدیث براہ راست ) محمد سے سنی ہے ۔
مجھے محمد بن عبد اللہ قہزاذ نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے عبد اللہ بن عثمان بن جبلہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے عبد اللہ بن مبارک سے کہا : یہ کون ہے جس سے آپ نے عبد اللہ بن عمرو کی حدیث : ’’ عید الفطر کا دن انعامات کا دن ہے ۔ ‘ ‘ روایت کی؟ کہا : سلیمان بن حجاج ، ان میں سے جو ( احادیث ) تم نے اپنے پاس ( لکھ ) رکھی ہیں ( یا میں نے تمہیں اس کی جو حدیثیں دی ہیں ) ان میں ( اچھی طرح ) نظر کرنا ( غور کر لینا ۔ ) ابن قہزاذ نے کہا : میں نے وہب بن زمعہ سے سنا ، وہ سفیان بن عبد الملک سے روایت کر رہے تھے ، کہا : عبد اللہ ، یعنی ابن مبارک نے کہا : میں نے ایک درہم کے برابر خون والی حدیث کے راوی روح بن غطیف کو دیکھا ہے ۔ میں اس کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا تو میں اپنے ساتھیوں سے شرم محسوس کر رہا تھا کہ وہ مجھے اس سے حدیث بیان کرنے کے ناپسندیدہ ہونے کے باوجود اس کے ساتھ بیٹھا دیکھیں اس کی حدیث ناپسندیدگی کی وجہ سے اور اس کی روایت میں نہ مقبولی کی وجہ سے
ابن قہزاذ نے کہا ، میں نے وہب سے سنا ، انہوں نے سفیان سے اور انہوں نے عبد اللہ بن مبارک سے روایت کی ، کہا : بقیہ زبان کے سچے ہیں لیکن وہ ہر آنے جانے والے ( علم حدیث میں مہارت رکھنے والے اور نہ رکھنے والے ہر شخص ) سے حدیث لے لیتے ہیں ۔
قتیبہ بن سعید ‘ جریر نے مغیرہ سے ، انہوں نے شعبی سے روایت کی ، کہا : مجھے حارث اعور ہمدانی نے حدیث سنائی اور وہ کذاب تھا ۔
ابو عامر عبداللہ بن براداشعری ‘ ابو اسامہ ‘ مفضل بن مغیرہ سے روایت کی ، کہا : میں نے شعبی کو کہتے ہوئے سنا : مجھ سے حارث اعور نے روایت کی بیان کی اور ( یہ کہ ) وہ گواہی دیتے ہیں کہ وہ ( حارث ) جھوٹوں میں سے ایک تھا ۔
قتیبہ بن سعید ‘ جریر ‘ مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی ، کہا : علقمہ نے کہا : میں نے دو سال میں قرآن پڑھا ( تدبر کرتے ہوئے ختم کیا ۔ ) تو حارث نے کہا : قرآن آسان ہے ، وحی اس سے زیادہ مشکل ہے ۔
حجاج بن شاعر ‘ احمد بن یونس نے ابراہیم نخعی سے روایت کی کہ حارث ( اعور ) نے کہا : میں نے قرآن تین سال میں سیکھا اور وحی دو سال میں ( یا کہا ) : وحی تین سال میں اور قرآن دو سال میں ۔ لغت میں وحی کے کئی معانی ہیں ، مثلاً : اشارہ کرنا ، کتابت ، الہام اور خفیہ کلام وغیرہ ، مگر اسلامی اصطلاح میں وحی اللہ کی طرف سے مقررہ طریقوں میں سے کسی طریقے سے ، اپنے رسول کی طرف کلام ، پیغام وغیرہ بھجوانا ہے ۔ حارث کی اس بات سے اسلامی اصطلاحات کے معاملے میں اس کی جہالت کا پتہ چلتا ہے ۔
۔ منصور اور مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی کہ حارث متہم راوی ہے
۔ حمزہ زیات سے روایت ہے ، کہا : مرہ ہمدانی نے حارث سے کوئی بات سنی تو اس سے کہا : تم دروازے ہی پر بیٹھو ( اندر نہ آؤ ) ۔ پھر وہ ( گھر میں ) داخل ہوئے اور اپنی تلوار اٹھا لی تو حارث نے برا انجام محسوس کر لیا اور چل دیا ۔
۔ ( عبد اللہ ) بن عون سے روایت ہے ، کہا : ابراہیم ( نخعی ) نے ہم سے کہا : تم لوگ مغیرہ بن سعید اور ابو عبد الرحیم سے بچ کر رہو ، وہ کذاب ہیں