VisualDhikr|
Al-Infitarالإنفطار

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

All surahs
82:1Graph

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنفَطَرَتْ

Izas samaaa'un fatarat

When the sky breaks apart

جب آسمان پھٹ جائے گا

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18؀) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں صحیح مطلب یہی ہے کہ اے ابن آدم اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بےپرواہی برت رکھی ہے کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے ؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہوگیا ہے ؟ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا ؟ ابن آدم بنا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا ؟ حضرت عمر نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے، ابن عمر ابن عباس وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے، قتادہ فرماتے ہیں اسے بہکانے والا شیطان ہے، حضرت فضیل ابن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔ حضرت ابوبکر صدیق فرماتے ہیں میں تو کہوں گا کہ کریم کے کرم نے بےفکر کردیا، بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر کریم کا لفظ لاناگویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے۔ لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں بلکہ صحیح مطلب یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بد افعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ کلبی اور مقاتل فرماتے ہیں کہ اسود بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے حضور ﷺ کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پھر فرماتا ہے وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا پھر درمیانہ قد و قامت بخشا خوش شکل اور خوبصورت بنایا، مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے عاجز کرسکتا ہے ؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا پھر صحیح قامت بنایا پھر تجھے پہنا اڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آگیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں ؟ جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی ماں کی ماموں کی چچا کی صورت میں پیدا کیا۔ ایک شخص سے حضور ﷺ نے فرمایا تیرے ہاں بچہ کیا ہوگا ؟ اس نے کہا یا لڑکا یا لڑکی۔ فرمایا کس کے مشابہ ہوگا ؟ کہا یا میرے یا اس کی ماں کے۔ فرمایا خاموش ایسا نہ کہہ نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو حضرت آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔ پھر آپ نے آیت (فی ای صورۃٍ ما شاء رکبک) پڑھی اور فرمایا جس صورت میں اسنے چاہا تجھے چلایا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی اسناد ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں۔ ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت محمد ﷺ کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے۔ آپ نے فرمایا تیرے پاس اونٹ بھی ہیں ؟ کہا ہاں۔ فرمایا کس رنگ کے ہیں ؟ کہا سرخ رنگ کے۔ فرمایا کہ ان میں کوئی چت کبرا بھی ہے ؟ کہا ہاں۔ فرمایا اس کا رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہوگیا ؟ کہنے لگا شاید اوپر کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو۔ آپ نے فرمایا اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔ ابو صالح فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی قتادہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں۔ تمہیں چاہیئے کہ انکا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کرلیا کرو دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کرلیا کرو تاکہ وہی پردہ ہوجائے (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے۔ اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہوجاتے ہیں ایک حدیث میں ہے کہ جب یہ کراماکاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں (بزار) بزار کی ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال کو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا۔

82:2Graph

وَإِذَا ٱلْكَوَاكِبُ ٱنتَثَرَتْ

Wa izal kawaakibun tasarat

And when the stars fall, scattering,

اور جب تارے جھڑ پڑیں گے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18؀) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں صحیح مطلب یہی ہے کہ اے ابن آدم اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بےپرواہی برت رکھی ہے کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے ؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہوگیا ہے ؟ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا ؟ ابن آدم بنا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا ؟ حضرت عمر نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے، ابن عمر ابن عباس وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے، قتادہ فرماتے ہیں اسے بہکانے والا شیطان ہے، حضرت فضیل ابن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔ حضرت ابوبکر صدیق فرماتے ہیں میں تو کہوں گا کہ کریم کے کرم نے بےفکر کردیا، بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر کریم کا لفظ لاناگویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے۔ لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں بلکہ صحیح مطلب یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بد افعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ کلبی اور مقاتل فرماتے ہیں کہ اسود بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے حضور ﷺ کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پھر فرماتا ہے وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا پھر درمیانہ قد و قامت بخشا خوش شکل اور خوبصورت بنایا، مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے عاجز کرسکتا ہے ؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا پھر صحیح قامت بنایا پھر تجھے پہنا اڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آگیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں ؟ جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی ماں کی ماموں کی چچا کی صورت میں پیدا کیا۔ ایک شخص سے حضور ﷺ نے فرمایا تیرے ہاں بچہ کیا ہوگا ؟ اس نے کہا یا لڑکا یا لڑکی۔ فرمایا کس کے مشابہ ہوگا ؟ کہا یا میرے یا اس کی ماں کے۔ فرمایا خاموش ایسا نہ کہہ نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو حضرت آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔ پھر آپ نے آیت (فی ای صورۃٍ ما شاء رکبک) پڑھی اور فرمایا جس صورت میں اسنے چاہا تجھے چلایا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی اسناد ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں۔ ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت محمد ﷺ کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے۔ آپ نے فرمایا تیرے پاس اونٹ بھی ہیں ؟ کہا ہاں۔ فرمایا کس رنگ کے ہیں ؟ کہا سرخ رنگ کے۔ فرمایا کہ ان میں کوئی چت کبرا بھی ہے ؟ کہا ہاں۔ فرمایا اس کا رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہوگیا ؟ کہنے لگا شاید اوپر کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو۔ آپ نے فرمایا اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔ ابو صالح فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی قتادہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں۔ تمہیں چاہیئے کہ انکا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کرلیا کرو دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کرلیا کرو تاکہ وہی پردہ ہوجائے (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے۔ اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہوجاتے ہیں ایک حدیث میں ہے کہ جب یہ کراماکاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں (بزار) بزار کی ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال کو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا۔

82:3Graph

وَإِذَا ٱلْبِحَارُ فُجِّرَتْ

Wa izal bihaaru fujjirat

And when the seas are erupted

اور جب دریا بہہ (کر ایک دوسرے سے مل) جائیں گے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18؀) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں صحیح مطلب یہی ہے کہ اے ابن آدم اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بےپرواہی برت رکھی ہے کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے ؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہوگیا ہے ؟ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا ؟ ابن آدم بنا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا ؟ حضرت عمر نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے، ابن عمر ابن عباس وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے، قتادہ فرماتے ہیں اسے بہکانے والا شیطان ہے، حضرت فضیل ابن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔ حضرت ابوبکر صدیق فرماتے ہیں میں تو کہوں گا کہ کریم کے کرم نے بےفکر کردیا، بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر کریم کا لفظ لاناگویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے۔ لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں بلکہ صحیح مطلب یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بد افعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ کلبی اور مقاتل فرماتے ہیں کہ اسود بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے حضور ﷺ کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پھر فرماتا ہے وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا پھر درمیانہ قد و قامت بخشا خوش شکل اور خوبصورت بنایا، مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے عاجز کرسکتا ہے ؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا پھر صحیح قامت بنایا پھر تجھے پہنا اڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آگیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں ؟ جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی ماں کی ماموں کی چچا کی صورت میں پیدا کیا۔ ایک شخص سے حضور ﷺ نے فرمایا تیرے ہاں بچہ کیا ہوگا ؟ اس نے کہا یا لڑکا یا لڑکی۔ فرمایا کس کے مشابہ ہوگا ؟ کہا یا میرے یا اس کی ماں کے۔ فرمایا خاموش ایسا نہ کہہ نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو حضرت آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔ پھر آپ نے آیت (فی ای صورۃٍ ما شاء رکبک) پڑھی اور فرمایا جس صورت میں اسنے چاہا تجھے چلایا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی اسناد ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں۔ ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت محمد ﷺ کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے۔ آپ نے فرمایا تیرے پاس اونٹ بھی ہیں ؟ کہا ہاں۔ فرمایا کس رنگ کے ہیں ؟ کہا سرخ رنگ کے۔ فرمایا کہ ان میں کوئی چت کبرا بھی ہے ؟ کہا ہاں۔ فرمایا اس کا رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہوگیا ؟ کہنے لگا شاید اوپر کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو۔ آپ نے فرمایا اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔ ابو صالح فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی قتادہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں۔ تمہیں چاہیئے کہ انکا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کرلیا کرو دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کرلیا کرو تاکہ وہی پردہ ہوجائے (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے۔ اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہوجاتے ہیں ایک حدیث میں ہے کہ جب یہ کراماکاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں (بزار) بزار کی ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال کو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا۔

82:4Graph

وَإِذَا ٱلْقُبُورُ بُعْثِرَتْ

Wa izal qubooru bu'sirat

And when the [contents of] graves are scattered,

اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18؀) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں صحیح مطلب یہی ہے کہ اے ابن آدم اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بےپرواہی برت رکھی ہے کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے ؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہوگیا ہے ؟ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا ؟ ابن آدم بنا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا ؟ حضرت عمر نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے، ابن عمر ابن عباس وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے، قتادہ فرماتے ہیں اسے بہکانے والا شیطان ہے، حضرت فضیل ابن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔ حضرت ابوبکر صدیق فرماتے ہیں میں تو کہوں گا کہ کریم کے کرم نے بےفکر کردیا، بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر کریم کا لفظ لاناگویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے۔ لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں بلکہ صحیح مطلب یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بد افعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ کلبی اور مقاتل فرماتے ہیں کہ اسود بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے حضور ﷺ کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پھر فرماتا ہے وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا پھر درمیانہ قد و قامت بخشا خوش شکل اور خوبصورت بنایا، مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے عاجز کرسکتا ہے ؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا پھر صحیح قامت بنایا پھر تجھے پہنا اڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آگیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں ؟ جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی ماں کی ماموں کی چچا کی صورت میں پیدا کیا۔ ایک شخص سے حضور ﷺ نے فرمایا تیرے ہاں بچہ کیا ہوگا ؟ اس نے کہا یا لڑکا یا لڑکی۔ فرمایا کس کے مشابہ ہوگا ؟ کہا یا میرے یا اس کی ماں کے۔ فرمایا خاموش ایسا نہ کہہ نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو حضرت آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔ پھر آپ نے آیت (فی ای صورۃٍ ما شاء رکبک) پڑھی اور فرمایا جس صورت میں اسنے چاہا تجھے چلایا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی اسناد ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں۔ ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت محمد ﷺ کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے۔ آپ نے فرمایا تیرے پاس اونٹ بھی ہیں ؟ کہا ہاں۔ فرمایا کس رنگ کے ہیں ؟ کہا سرخ رنگ کے۔ فرمایا کہ ان میں کوئی چت کبرا بھی ہے ؟ کہا ہاں۔ فرمایا اس کا رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہوگیا ؟ کہنے لگا شاید اوپر کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو۔ آپ نے فرمایا اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔ ابو صالح فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی قتادہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں۔ تمہیں چاہیئے کہ انکا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کرلیا کرو دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کرلیا کرو تاکہ وہی پردہ ہوجائے (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے۔ اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہوجاتے ہیں ایک حدیث میں ہے کہ جب یہ کراماکاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں (بزار) بزار کی ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال کو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا۔

82:5Graph

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ

'Alimat nafsum maa qaddamat wa akhkharat

A soul will [then] know what it has put forth and kept back.

تب ہر شخص معلوم کرلے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا تھا اور پیچھے کیا چھوڑا تھا

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18؀) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں صحیح مطلب یہی ہے کہ اے ابن آدم اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بےپرواہی برت رکھی ہے کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے ؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہوگیا ہے ؟ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا ؟ ابن آدم بنا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا ؟ حضرت عمر نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے، ابن عمر ابن عباس وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے، قتادہ فرماتے ہیں اسے بہکانے والا شیطان ہے، حضرت فضیل ابن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔ حضرت ابوبکر صدیق فرماتے ہیں میں تو کہوں گا کہ کریم کے کرم نے بےفکر کردیا، بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر کریم کا لفظ لاناگویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے۔ لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں بلکہ صحیح مطلب یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بد افعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ کلبی اور مقاتل فرماتے ہیں کہ اسود بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے حضور ﷺ کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پھر فرماتا ہے وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا پھر درمیانہ قد و قامت بخشا خوش شکل اور خوبصورت بنایا، مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے عاجز کرسکتا ہے ؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا پھر صحیح قامت بنایا پھر تجھے پہنا اڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آگیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں ؟ جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی ماں کی ماموں کی چچا کی صورت میں پیدا کیا۔ ایک شخص سے حضور ﷺ نے فرمایا تیرے ہاں بچہ کیا ہوگا ؟ اس نے کہا یا لڑکا یا لڑکی۔ فرمایا کس کے مشابہ ہوگا ؟ کہا یا میرے یا اس کی ماں کے۔ فرمایا خاموش ایسا نہ کہہ نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو حضرت آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔ پھر آپ نے آیت (فی ای صورۃٍ ما شاء رکبک) پڑھی اور فرمایا جس صورت میں اسنے چاہا تجھے چلایا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی اسناد ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں۔ ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت محمد ﷺ کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے۔ آپ نے فرمایا تیرے پاس اونٹ بھی ہیں ؟ کہا ہاں۔ فرمایا کس رنگ کے ہیں ؟ کہا سرخ رنگ کے۔ فرمایا کہ ان میں کوئی چت کبرا بھی ہے ؟ کہا ہاں۔ فرمایا اس کا رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہوگیا ؟ کہنے لگا شاید اوپر کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو۔ آپ نے فرمایا اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔ ابو صالح فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی قتادہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں۔ تمہیں چاہیئے کہ انکا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کرلیا کرو دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کرلیا کرو تاکہ وہی پردہ ہوجائے (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے۔ اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہوجاتے ہیں ایک حدیث میں ہے کہ جب یہ کراماکاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں (بزار) بزار کی ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال کو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا۔

82:6Graph

يَٰٓأَيُّهَا ٱلْإِنسَٰنُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ ٱلْكَرِيمِ

Yaaa ayyuhal insaaanu maa gharraka bi Rabbikal kareem

O mankind, what has deceived you concerning your Lord, the Generous,

اے انسان تجھ کو اپنے پروردگار کرم گستر کے باب میں کس چیز نے دھوکا دیا

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18؀) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں صحیح مطلب یہی ہے کہ اے ابن آدم اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بےپرواہی برت رکھی ہے کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے ؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہوگیا ہے ؟ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا ؟ ابن آدم بنا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا ؟ حضرت عمر نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے، ابن عمر ابن عباس وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے، قتادہ فرماتے ہیں اسے بہکانے والا شیطان ہے، حضرت فضیل ابن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔ حضرت ابوبکر صدیق فرماتے ہیں میں تو کہوں گا کہ کریم کے کرم نے بےفکر کردیا، بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر کریم کا لفظ لاناگویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے۔ لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں بلکہ صحیح مطلب یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بد افعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ کلبی اور مقاتل فرماتے ہیں کہ اسود بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے حضور ﷺ کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پھر فرماتا ہے وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا پھر درمیانہ قد و قامت بخشا خوش شکل اور خوبصورت بنایا، مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے عاجز کرسکتا ہے ؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا پھر صحیح قامت بنایا پھر تجھے پہنا اڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آگیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں ؟ جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی ماں کی ماموں کی چچا کی صورت میں پیدا کیا۔ ایک شخص سے حضور ﷺ نے فرمایا تیرے ہاں بچہ کیا ہوگا ؟ اس نے کہا یا لڑکا یا لڑکی۔ فرمایا کس کے مشابہ ہوگا ؟ کہا یا میرے یا اس کی ماں کے۔ فرمایا خاموش ایسا نہ کہہ نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو حضرت آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔ پھر آپ نے آیت (فی ای صورۃٍ ما شاء رکبک) پڑھی اور فرمایا جس صورت میں اسنے چاہا تجھے چلایا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی اسناد ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں۔ ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت محمد ﷺ کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے۔ آپ نے فرمایا تیرے پاس اونٹ بھی ہیں ؟ کہا ہاں۔ فرمایا کس رنگ کے ہیں ؟ کہا سرخ رنگ کے۔ فرمایا کہ ان میں کوئی چت کبرا بھی ہے ؟ کہا ہاں۔ فرمایا اس کا رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہوگیا ؟ کہنے لگا شاید اوپر کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو۔ آپ نے فرمایا اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔ ابو صالح فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی قتادہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں۔ تمہیں چاہیئے کہ انکا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کرلیا کرو دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کرلیا کرو تاکہ وہی پردہ ہوجائے (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے۔ اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہوجاتے ہیں ایک حدیث میں ہے کہ جب یہ کراماکاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں (بزار) بزار کی ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال کو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا۔

82:7Graph

ٱلَّذِى خَلَقَكَ فَسَوَّىٰكَ فَعَدَلَكَ

Allazee khalaqaka fasaw waaka fa'adalak

Who created you, proportioned you, and balanced you?

(وہی تو ہے) جس نے تجھے بنایا اور (تیرے اعضا کو) ٹھیک کیا اور (تیرے قامت کو) معتدل رکھا

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18؀) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں صحیح مطلب یہی ہے کہ اے ابن آدم اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بےپرواہی برت رکھی ہے کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے ؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہوگیا ہے ؟ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا ؟ ابن آدم بنا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا ؟ حضرت عمر نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے، ابن عمر ابن عباس وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے، قتادہ فرماتے ہیں اسے بہکانے والا شیطان ہے، حضرت فضیل ابن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔ حضرت ابوبکر صدیق فرماتے ہیں میں تو کہوں گا کہ کریم کے کرم نے بےفکر کردیا، بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر کریم کا لفظ لاناگویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے۔ لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں بلکہ صحیح مطلب یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بد افعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ کلبی اور مقاتل فرماتے ہیں کہ اسود بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے حضور ﷺ کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پھر فرماتا ہے وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا پھر درمیانہ قد و قامت بخشا خوش شکل اور خوبصورت بنایا، مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے عاجز کرسکتا ہے ؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا پھر صحیح قامت بنایا پھر تجھے پہنا اڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آگیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں ؟ جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی ماں کی ماموں کی چچا کی صورت میں پیدا کیا۔ ایک شخص سے حضور ﷺ نے فرمایا تیرے ہاں بچہ کیا ہوگا ؟ اس نے کہا یا لڑکا یا لڑکی۔ فرمایا کس کے مشابہ ہوگا ؟ کہا یا میرے یا اس کی ماں کے۔ فرمایا خاموش ایسا نہ کہہ نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو حضرت آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔ پھر آپ نے آیت (فی ای صورۃٍ ما شاء رکبک) پڑھی اور فرمایا جس صورت میں اسنے چاہا تجھے چلایا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی اسناد ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں۔ ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت محمد ﷺ کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے۔ آپ نے فرمایا تیرے پاس اونٹ بھی ہیں ؟ کہا ہاں۔ فرمایا کس رنگ کے ہیں ؟ کہا سرخ رنگ کے۔ فرمایا کہ ان میں کوئی چت کبرا بھی ہے ؟ کہا ہاں۔ فرمایا اس کا رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہوگیا ؟ کہنے لگا شاید اوپر کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو۔ آپ نے فرمایا اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔ ابو صالح فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی قتادہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں۔ تمہیں چاہیئے کہ انکا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کرلیا کرو دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کرلیا کرو تاکہ وہی پردہ ہوجائے (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے۔ اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہوجاتے ہیں ایک حدیث میں ہے کہ جب یہ کراماکاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں (بزار) بزار کی ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال کو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا۔

82:8Graph

فِىٓ أَىِّ صُورَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ

Feee ayye sooratim maa shaaa'a rakkabak

In whatever form He willed has He assembled you.

اور جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ دیا

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18؀) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں صحیح مطلب یہی ہے کہ اے ابن آدم اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بےپرواہی برت رکھی ہے کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے ؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہوگیا ہے ؟ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا ؟ ابن آدم بنا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا ؟ حضرت عمر نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے، ابن عمر ابن عباس وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے، قتادہ فرماتے ہیں اسے بہکانے والا شیطان ہے، حضرت فضیل ابن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔ حضرت ابوبکر صدیق فرماتے ہیں میں تو کہوں گا کہ کریم کے کرم نے بےفکر کردیا، بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر کریم کا لفظ لاناگویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے۔ لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں بلکہ صحیح مطلب یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بد افعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ کلبی اور مقاتل فرماتے ہیں کہ اسود بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے حضور ﷺ کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پھر فرماتا ہے وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا پھر درمیانہ قد و قامت بخشا خوش شکل اور خوبصورت بنایا، مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے عاجز کرسکتا ہے ؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا پھر صحیح قامت بنایا پھر تجھے پہنا اڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آگیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں ؟ جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی ماں کی ماموں کی چچا کی صورت میں پیدا کیا۔ ایک شخص سے حضور ﷺ نے فرمایا تیرے ہاں بچہ کیا ہوگا ؟ اس نے کہا یا لڑکا یا لڑکی۔ فرمایا کس کے مشابہ ہوگا ؟ کہا یا میرے یا اس کی ماں کے۔ فرمایا خاموش ایسا نہ کہہ نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو حضرت آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔ پھر آپ نے آیت (فی ای صورۃٍ ما شاء رکبک) پڑھی اور فرمایا جس صورت میں اسنے چاہا تجھے چلایا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی اسناد ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں۔ ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت محمد ﷺ کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے۔ آپ نے فرمایا تیرے پاس اونٹ بھی ہیں ؟ کہا ہاں۔ فرمایا کس رنگ کے ہیں ؟ کہا سرخ رنگ کے۔ فرمایا کہ ان میں کوئی چت کبرا بھی ہے ؟ کہا ہاں۔ فرمایا اس کا رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہوگیا ؟ کہنے لگا شاید اوپر کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو۔ آپ نے فرمایا اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔ ابو صالح فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی قتادہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں۔ تمہیں چاہیئے کہ انکا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کرلیا کرو دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کرلیا کرو تاکہ وہی پردہ ہوجائے (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے۔ اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہوجاتے ہیں ایک حدیث میں ہے کہ جب یہ کراماکاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں (بزار) بزار کی ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال کو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا۔

82:9Graph

كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُونَ بِٱلدِّينِ

Kalla bal tukazziboona bid deen

No! But you deny the Recompense.

مگر ہیہات تم لوگ جزا کو جھٹلاتے ہو

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18؀) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں صحیح مطلب یہی ہے کہ اے ابن آدم اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بےپرواہی برت رکھی ہے کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے ؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہوگیا ہے ؟ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا ؟ ابن آدم بنا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا ؟ حضرت عمر نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے، ابن عمر ابن عباس وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے، قتادہ فرماتے ہیں اسے بہکانے والا شیطان ہے، حضرت فضیل ابن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔ حضرت ابوبکر صدیق فرماتے ہیں میں تو کہوں گا کہ کریم کے کرم نے بےفکر کردیا، بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر کریم کا لفظ لاناگویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے۔ لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں بلکہ صحیح مطلب یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بد افعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ کلبی اور مقاتل فرماتے ہیں کہ اسود بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے حضور ﷺ کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پھر فرماتا ہے وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا پھر درمیانہ قد و قامت بخشا خوش شکل اور خوبصورت بنایا، مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے عاجز کرسکتا ہے ؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا پھر صحیح قامت بنایا پھر تجھے پہنا اڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آگیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں ؟ جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی ماں کی ماموں کی چچا کی صورت میں پیدا کیا۔ ایک شخص سے حضور ﷺ نے فرمایا تیرے ہاں بچہ کیا ہوگا ؟ اس نے کہا یا لڑکا یا لڑکی۔ فرمایا کس کے مشابہ ہوگا ؟ کہا یا میرے یا اس کی ماں کے۔ فرمایا خاموش ایسا نہ کہہ نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو حضرت آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔ پھر آپ نے آیت (فی ای صورۃٍ ما شاء رکبک) پڑھی اور فرمایا جس صورت میں اسنے چاہا تجھے چلایا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی اسناد ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں۔ ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت محمد ﷺ کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے۔ آپ نے فرمایا تیرے پاس اونٹ بھی ہیں ؟ کہا ہاں۔ فرمایا کس رنگ کے ہیں ؟ کہا سرخ رنگ کے۔ فرمایا کہ ان میں کوئی چت کبرا بھی ہے ؟ کہا ہاں۔ فرمایا اس کا رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہوگیا ؟ کہنے لگا شاید اوپر کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو۔ آپ نے فرمایا اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔ ابو صالح فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی قتادہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں۔ تمہیں چاہیئے کہ انکا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کرلیا کرو دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کرلیا کرو تاکہ وہی پردہ ہوجائے (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے۔ اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہوجاتے ہیں ایک حدیث میں ہے کہ جب یہ کراماکاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں (بزار) بزار کی ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال کو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا۔

82:10Graph

وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَٰفِظِينَ

Wa inna 'alaikum lahaa fizeen

And indeed, [appointed] over you are keepers,

حالانکہ تم پر نگہبان مقرر ہیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18؀) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں صحیح مطلب یہی ہے کہ اے ابن آدم اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بےپرواہی برت رکھی ہے کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے ؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہوگیا ہے ؟ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا ؟ ابن آدم بنا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا ؟ حضرت عمر نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے، ابن عمر ابن عباس وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے، قتادہ فرماتے ہیں اسے بہکانے والا شیطان ہے، حضرت فضیل ابن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔ حضرت ابوبکر صدیق فرماتے ہیں میں تو کہوں گا کہ کریم کے کرم نے بےفکر کردیا، بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر کریم کا لفظ لاناگویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے۔ لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں بلکہ صحیح مطلب یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بد افعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ کلبی اور مقاتل فرماتے ہیں کہ اسود بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے حضور ﷺ کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پھر فرماتا ہے وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا پھر درمیانہ قد و قامت بخشا خوش شکل اور خوبصورت بنایا، مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے عاجز کرسکتا ہے ؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا پھر صحیح قامت بنایا پھر تجھے پہنا اڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آگیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں ؟ جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی ماں کی ماموں کی چچا کی صورت میں پیدا کیا۔ ایک شخص سے حضور ﷺ نے فرمایا تیرے ہاں بچہ کیا ہوگا ؟ اس نے کہا یا لڑکا یا لڑکی۔ فرمایا کس کے مشابہ ہوگا ؟ کہا یا میرے یا اس کی ماں کے۔ فرمایا خاموش ایسا نہ کہہ نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو حضرت آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔ پھر آپ نے آیت (فی ای صورۃٍ ما شاء رکبک) پڑھی اور فرمایا جس صورت میں اسنے چاہا تجھے چلایا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی اسناد ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں۔ ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت محمد ﷺ کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے۔ آپ نے فرمایا تیرے پاس اونٹ بھی ہیں ؟ کہا ہاں۔ فرمایا کس رنگ کے ہیں ؟ کہا سرخ رنگ کے۔ فرمایا کہ ان میں کوئی چت کبرا بھی ہے ؟ کہا ہاں۔ فرمایا اس کا رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہوگیا ؟ کہنے لگا شاید اوپر کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو۔ آپ نے فرمایا اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔ ابو صالح فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی قتادہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں۔ تمہیں چاہیئے کہ انکا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کرلیا کرو دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کرلیا کرو تاکہ وہی پردہ ہوجائے (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے۔ اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہوجاتے ہیں ایک حدیث میں ہے کہ جب یہ کراماکاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں (بزار) بزار کی ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال کو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا۔

82:11Graph

كِرَامًا كَٰتِبِينَ

Kiraaman kaatibeen

Noble and recording;

عالی قدر (تمہاری باتوں کے) لکھنے والے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18؀) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں صحیح مطلب یہی ہے کہ اے ابن آدم اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بےپرواہی برت رکھی ہے کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے ؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہوگیا ہے ؟ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا ؟ ابن آدم بنا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا ؟ حضرت عمر نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے، ابن عمر ابن عباس وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے، قتادہ فرماتے ہیں اسے بہکانے والا شیطان ہے، حضرت فضیل ابن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔ حضرت ابوبکر صدیق فرماتے ہیں میں تو کہوں گا کہ کریم کے کرم نے بےفکر کردیا، بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر کریم کا لفظ لاناگویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے۔ لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں بلکہ صحیح مطلب یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بد افعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ کلبی اور مقاتل فرماتے ہیں کہ اسود بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے حضور ﷺ کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پھر فرماتا ہے وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا پھر درمیانہ قد و قامت بخشا خوش شکل اور خوبصورت بنایا، مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے عاجز کرسکتا ہے ؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا پھر صحیح قامت بنایا پھر تجھے پہنا اڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آگیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں ؟ جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی ماں کی ماموں کی چچا کی صورت میں پیدا کیا۔ ایک شخص سے حضور ﷺ نے فرمایا تیرے ہاں بچہ کیا ہوگا ؟ اس نے کہا یا لڑکا یا لڑکی۔ فرمایا کس کے مشابہ ہوگا ؟ کہا یا میرے یا اس کی ماں کے۔ فرمایا خاموش ایسا نہ کہہ نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو حضرت آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔ پھر آپ نے آیت (فی ای صورۃٍ ما شاء رکبک) پڑھی اور فرمایا جس صورت میں اسنے چاہا تجھے چلایا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی اسناد ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں۔ ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت محمد ﷺ کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے۔ آپ نے فرمایا تیرے پاس اونٹ بھی ہیں ؟ کہا ہاں۔ فرمایا کس رنگ کے ہیں ؟ کہا سرخ رنگ کے۔ فرمایا کہ ان میں کوئی چت کبرا بھی ہے ؟ کہا ہاں۔ فرمایا اس کا رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہوگیا ؟ کہنے لگا شاید اوپر کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو۔ آپ نے فرمایا اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔ ابو صالح فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی قتادہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں۔ تمہیں چاہیئے کہ انکا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کرلیا کرو دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کرلیا کرو تاکہ وہی پردہ ہوجائے (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے۔ اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہوجاتے ہیں ایک حدیث میں ہے کہ جب یہ کراماکاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں (بزار) بزار کی ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال کو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا۔

82:12Graph

يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ

Ya'lamoona ma taf'aloon

They know whatever you do.

جو تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18؀) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں صحیح مطلب یہی ہے کہ اے ابن آدم اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بےپرواہی برت رکھی ہے کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے ؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہوگیا ہے ؟ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا ؟ ابن آدم بنا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا ؟ حضرت عمر نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے، ابن عمر ابن عباس وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے، قتادہ فرماتے ہیں اسے بہکانے والا شیطان ہے، حضرت فضیل ابن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔ حضرت ابوبکر صدیق فرماتے ہیں میں تو کہوں گا کہ کریم کے کرم نے بےفکر کردیا، بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر کریم کا لفظ لاناگویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے۔ لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں بلکہ صحیح مطلب یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بد افعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔ کلبی اور مقاتل فرماتے ہیں کہ اسود بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے حضور ﷺ کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پھر فرماتا ہے وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا پھر درمیانہ قد و قامت بخشا خوش شکل اور خوبصورت بنایا، مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے عاجز کرسکتا ہے ؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا پھر صحیح قامت بنایا پھر تجھے پہنا اڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آگیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں ؟ جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی ماں کی ماموں کی چچا کی صورت میں پیدا کیا۔ ایک شخص سے حضور ﷺ نے فرمایا تیرے ہاں بچہ کیا ہوگا ؟ اس نے کہا یا لڑکا یا لڑکی۔ فرمایا کس کے مشابہ ہوگا ؟ کہا یا میرے یا اس کی ماں کے۔ فرمایا خاموش ایسا نہ کہہ نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو حضرت آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔ پھر آپ نے آیت (فی ای صورۃٍ ما شاء رکبک) پڑھی اور فرمایا جس صورت میں اسنے چاہا تجھے چلایا۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی اسناد ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں۔ ان پر اور جرح بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت محمد ﷺ کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے۔ آپ نے فرمایا تیرے پاس اونٹ بھی ہیں ؟ کہا ہاں۔ فرمایا کس رنگ کے ہیں ؟ کہا سرخ رنگ کے۔ فرمایا کہ ان میں کوئی چت کبرا بھی ہے ؟ کہا ہاں۔ فرمایا اس کا رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہوگیا ؟ کہنے لگا شاید اوپر کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو۔ آپ نے فرمایا اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔ ابو صالح فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی قتادہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں۔ تمہیں چاہیئے کہ انکا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کرلیا کرو دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کرلیا کرو تاکہ وہی پردہ ہوجائے (ابن ابی حاتم) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے۔ اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہوجاتے ہیں ایک حدیث میں ہے کہ جب یہ کراماکاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں (بزار) بزار کی ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال کو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا۔

82:13Graph

إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ لَفِى نَعِيمٍ

Innal abraara lafee na'eem

Indeed, the righteous will be in pleasure,

بے شک نیکوکار نعمتوں (کی بہشت) میں ہوں گے۔

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

ابرار کا کردار جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار، گناہوں سے دور رہتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوش خبری دیتا ہے حدیث میں ہے کہ انہیں ابرار اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے، بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہوگا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ موت آئے گی نہ راحت ملے گی نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے ؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس دن کوئی کسی کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے گا نہ عذاب سے نجات دلا سکے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کسی کی سفارش کی اجازت خود اللہ تبارک و تعالیٰ عطا فرمائے۔ اس موقعہ پر یہ حدیث وارد کرنی بالکل مناسب ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بنو ہاشم اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کے لیے نیک اعمال کی تیاریاں کرلو میں تمہیں اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ حدیث سورة شعراء کی تفسیر کے آخر میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ اس دن امر محض اللہ کا ہی ہوگا۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 16؀) 40۔ غافر :16) اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ۭ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا 26؀) 25۔ الفرقان :26) اور فرمایا آیت (مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ۭ) 1۔ الفاتحة :4) مطلب سب کا یہی ہے کہ ملک و ملکیت اس دن صرف اللہ واحد قہار و رحمٰن کی ہی ہوگی۔ گو آج بھی اسی کی ملکیت ہے وہ ہی تنہا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے مگر وہاں ظاہر داری حکومت، ملکیت اور امر بھی نہ ہوگا۔ سورة انفطار کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمد اللہ۔

82:14Graph

وَإِنَّ ٱلْفُجَّارَ لَفِى جَحِيمٍ

Wa innal fujjaara lafee jaheem

And indeed, the wicked will be in Hellfire.

اور بدکردار دوزخ میں

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

ابرار کا کردار جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار، گناہوں سے دور رہتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوش خبری دیتا ہے حدیث میں ہے کہ انہیں ابرار اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے، بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہوگا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ موت آئے گی نہ راحت ملے گی نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے ؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس دن کوئی کسی کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے گا نہ عذاب سے نجات دلا سکے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کسی کی سفارش کی اجازت خود اللہ تبارک و تعالیٰ عطا فرمائے۔ اس موقعہ پر یہ حدیث وارد کرنی بالکل مناسب ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بنو ہاشم اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کے لیے نیک اعمال کی تیاریاں کرلو میں تمہیں اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ حدیث سورة شعراء کی تفسیر کے آخر میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ اس دن امر محض اللہ کا ہی ہوگا۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 16؀) 40۔ غافر :16) اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ۭ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا 26؀) 25۔ الفرقان :26) اور فرمایا آیت (مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ۭ) 1۔ الفاتحة :4) مطلب سب کا یہی ہے کہ ملک و ملکیت اس دن صرف اللہ واحد قہار و رحمٰن کی ہی ہوگی۔ گو آج بھی اسی کی ملکیت ہے وہ ہی تنہا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے مگر وہاں ظاہر داری حکومت، ملکیت اور امر بھی نہ ہوگا۔ سورة انفطار کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمد اللہ۔

82:15Graph

يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ ٱلدِّينِ

Yaslawnahaa Yawmad Deen

They will [enter to] burn therein on the Day of Recompense,

(یعنی) جزا کے دن اس میں داخل ہوں گے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

ابرار کا کردار جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار، گناہوں سے دور رہتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوش خبری دیتا ہے حدیث میں ہے کہ انہیں ابرار اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے، بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہوگا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ موت آئے گی نہ راحت ملے گی نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے ؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس دن کوئی کسی کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے گا نہ عذاب سے نجات دلا سکے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کسی کی سفارش کی اجازت خود اللہ تبارک و تعالیٰ عطا فرمائے۔ اس موقعہ پر یہ حدیث وارد کرنی بالکل مناسب ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بنو ہاشم اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کے لیے نیک اعمال کی تیاریاں کرلو میں تمہیں اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ حدیث سورة شعراء کی تفسیر کے آخر میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ اس دن امر محض اللہ کا ہی ہوگا۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 16؀) 40۔ غافر :16) اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ۭ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا 26؀) 25۔ الفرقان :26) اور فرمایا آیت (مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ۭ) 1۔ الفاتحة :4) مطلب سب کا یہی ہے کہ ملک و ملکیت اس دن صرف اللہ واحد قہار و رحمٰن کی ہی ہوگی۔ گو آج بھی اسی کی ملکیت ہے وہ ہی تنہا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے مگر وہاں ظاہر داری حکومت، ملکیت اور امر بھی نہ ہوگا۔ سورة انفطار کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمد اللہ۔

82:16Graph

وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِينَ

Wa maa hum 'anhaa bighaaa 'ibeen

And never therefrom will they be absent.

اور اس سے چھپ نہیں سکیں گے

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

ابرار کا کردار جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار، گناہوں سے دور رہتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوش خبری دیتا ہے حدیث میں ہے کہ انہیں ابرار اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے، بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہوگا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ موت آئے گی نہ راحت ملے گی نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے ؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس دن کوئی کسی کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے گا نہ عذاب سے نجات دلا سکے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کسی کی سفارش کی اجازت خود اللہ تبارک و تعالیٰ عطا فرمائے۔ اس موقعہ پر یہ حدیث وارد کرنی بالکل مناسب ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بنو ہاشم اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کے لیے نیک اعمال کی تیاریاں کرلو میں تمہیں اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ حدیث سورة شعراء کی تفسیر کے آخر میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ اس دن امر محض اللہ کا ہی ہوگا۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 16؀) 40۔ غافر :16) اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ۭ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا 26؀) 25۔ الفرقان :26) اور فرمایا آیت (مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ۭ) 1۔ الفاتحة :4) مطلب سب کا یہی ہے کہ ملک و ملکیت اس دن صرف اللہ واحد قہار و رحمٰن کی ہی ہوگی۔ گو آج بھی اسی کی ملکیت ہے وہ ہی تنہا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے مگر وہاں ظاہر داری حکومت، ملکیت اور امر بھی نہ ہوگا۔ سورة انفطار کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمد اللہ۔

82:17Graph

وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلدِّينِ

Wa maaa adraaka maa Yawmud Deen

And what can make you know what is the Day of Recompense?

اور تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے؟

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

ابرار کا کردار جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار، گناہوں سے دور رہتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوش خبری دیتا ہے حدیث میں ہے کہ انہیں ابرار اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے، بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہوگا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ موت آئے گی نہ راحت ملے گی نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے ؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس دن کوئی کسی کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے گا نہ عذاب سے نجات دلا سکے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کسی کی سفارش کی اجازت خود اللہ تبارک و تعالیٰ عطا فرمائے۔ اس موقعہ پر یہ حدیث وارد کرنی بالکل مناسب ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بنو ہاشم اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کے لیے نیک اعمال کی تیاریاں کرلو میں تمہیں اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ حدیث سورة شعراء کی تفسیر کے آخر میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ اس دن امر محض اللہ کا ہی ہوگا۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 16؀) 40۔ غافر :16) اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ۭ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا 26؀) 25۔ الفرقان :26) اور فرمایا آیت (مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ۭ) 1۔ الفاتحة :4) مطلب سب کا یہی ہے کہ ملک و ملکیت اس دن صرف اللہ واحد قہار و رحمٰن کی ہی ہوگی۔ گو آج بھی اسی کی ملکیت ہے وہ ہی تنہا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے مگر وہاں ظاہر داری حکومت، ملکیت اور امر بھی نہ ہوگا۔ سورة انفطار کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمد اللہ۔

82:18Graph

ثُمَّ مَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلدِّينِ

Summa maaa adraaka maa Yawmud Deen

Then, what can make you know what is the Day of Recompense?

پھر تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے؟

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

ابرار کا کردار جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار، گناہوں سے دور رہتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوش خبری دیتا ہے حدیث میں ہے کہ انہیں ابرار اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے، بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہوگا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ موت آئے گی نہ راحت ملے گی نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے ؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس دن کوئی کسی کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے گا نہ عذاب سے نجات دلا سکے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کسی کی سفارش کی اجازت خود اللہ تبارک و تعالیٰ عطا فرمائے۔ اس موقعہ پر یہ حدیث وارد کرنی بالکل مناسب ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بنو ہاشم اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کے لیے نیک اعمال کی تیاریاں کرلو میں تمہیں اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ حدیث سورة شعراء کی تفسیر کے آخر میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ اس دن امر محض اللہ کا ہی ہوگا۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 16؀) 40۔ غافر :16) اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ۭ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا 26؀) 25۔ الفرقان :26) اور فرمایا آیت (مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ۭ) 1۔ الفاتحة :4) مطلب سب کا یہی ہے کہ ملک و ملکیت اس دن صرف اللہ واحد قہار و رحمٰن کی ہی ہوگی۔ گو آج بھی اسی کی ملکیت ہے وہ ہی تنہا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے مگر وہاں ظاہر داری حکومت، ملکیت اور امر بھی نہ ہوگا۔ سورة انفطار کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمد اللہ۔

82:19Graph

يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْـًٔا وَٱلْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ

Yawma laa tamliku nafsul linafsin shai'anw walamru yawma'izil lillaah

It is the Day when a soul will not possess for another soul [power to do] a thing; and the command, that Day, is [entirely] with Allah.

جس روز کوئی کسی کا بھلا نہ کر سکے گا اور حکم اس روز خدا ہی کا ہو گا

Tafsir Ibn Kathir (Urdu)

ابرار کا کردار جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار، گناہوں سے دور رہتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوش خبری دیتا ہے حدیث میں ہے کہ انہیں ابرار اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے، بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہوگا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ موت آئے گی نہ راحت ملے گی نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے ؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس دن کوئی کسی کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے گا نہ عذاب سے نجات دلا سکے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کسی کی سفارش کی اجازت خود اللہ تبارک و تعالیٰ عطا فرمائے۔ اس موقعہ پر یہ حدیث وارد کرنی بالکل مناسب ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بنو ہاشم اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کے لیے نیک اعمال کی تیاریاں کرلو میں تمہیں اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ حدیث سورة شعراء کی تفسیر کے آخر میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ اس دن امر محض اللہ کا ہی ہوگا۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 16؀) 40۔ غافر :16) اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ۭ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا 26؀) 25۔ الفرقان :26) اور فرمایا آیت (مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ۭ) 1۔ الفاتحة :4) مطلب سب کا یہی ہے کہ ملک و ملکیت اس دن صرف اللہ واحد قہار و رحمٰن کی ہی ہوگی۔ گو آج بھی اسی کی ملکیت ہے وہ ہی تنہا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے مگر وہاں ظاہر داری حکومت، ملکیت اور امر بھی نہ ہوگا۔ سورة انفطار کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمد اللہ۔