VisualDhikr|Collections

Sahih Muslim

The Book of Manners and Etiquette

Book 38 · 59 hadith

Sahih Muslim 38:1sahih

حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا وَاللَّفْظُ، لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ - عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ نَادَى رَجُلٌ رَجُلاً بِالْبَقِيعِ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ‏.‏ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ إِنَّمَا دَعَوْتُ فُلاَنًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلاَ تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ‏"‏ ‏.‏

Anas reported that person at Baqi' called another person as" Abu'l- Qasim," and Allah's Messenger (ﷺ) turned towards him. He (the person who had uttered these words) said:Messenger of Allah, I did not mean you, but I called such and such (person), whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: You may call yourself by my name, but not by my kunya

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بقیع میں ایک شخص نے دوسرے شخص کو یا ابالقاسم کہہ کر آوازدی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس آواز پر ) اس ( آدمی ) کی طرف متوجہ ہو ئے تو اس شخص نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا مقصود آپ کو پکارنا نہ تھا ، میں نے تو فلاں کو آوزادی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر ( اپنی ) کنیت نہ رکھو ۔

Sahih Muslim 38:2sahih

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ، - وَهُوَ الْمُلَقَّبُ بِسَبَلاَنَ - أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ، سَمِعَهُ مِنْهُمَا، سَنَةَ أَرْبَعٍ وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةٍ يُحَدِّثَانِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِكُمْ إِلَى اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ‏"‏ ‏.‏

Ibn Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:The names dearest to Allah are 'Abdullah and 'Abd al-Rahman

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : : " تمھا رے ناموں میں سے اللہ تعا لیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبد اللہ اور عبدالرحمان ہیں ۔

Sahih Muslim 38:3sahih

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلاَمٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا فَقَالَ لَهُ قَوْمُهُ لاَ نَدَعُكَ تُسَمِّي بِاسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَانْطَلَقَ بِابْنِهِ حَامِلَهُ عَلَى ظَهْرِهِ فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا فَقَالَ لِي قَوْمِي لاَ نَدَعُكَ تُسَمِّي بِاسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ‏"‏ ‏.‏

Jabir b. 'Abdullah reported that a child was born to a person amongst us and he gave him the name of Muhammad. Thereupon his people said:We will not allow You to give the name of Muhammad (to your child) after the name of Allah's Messenger (ﷺ). He set forth with his son carrying him on his back and came to Allah's Apostle (ﷺ), and said: Allah's Messenger a son has been born to me and I have given him the name after the name of Allah's Messenger (ﷺ), whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Give him my name but do not give him my kunya, for I am Qasim in the sense that I distribute (the spoils of war) and the dues of Zakat amongst you

منصور نے سالم بن ابی جعد سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم ( انصار ) میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ، اس نے اس کا نام محمد رکھا ، اس کی قوم نے اس سے کہا : تم نے اپنے بیٹے کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر رکھا ہے ، ہم تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام نہیں رکھنے دیں گے ، وہ شخص اپنے بیٹے کو اپنی پیٹھ پر اٹھا کر ( کندھےپر چڑھا کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ہے میں نے اس کا نام محمد رکھا ہے ، اس پر میری قوم نے کہا ہے : ہم تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام نہیں رکھنے دیں گے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر ( اپنی ) کنیت نہ رکھو ۔ بے شک میں تقسیم کرنے والا ہوں ( جو اللہ عطاکرتا ہے ، اسے ) تمھا رے درمیان تقسیم کرتا ہوں ۔

Sahih Muslim 38:4sahih

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلاَمٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا فَقُلْنَا لاَ نَكْنِيكَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى تَسْتَأْمِرَهُ ‏.‏ قَالَ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنَّهُ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ فَسَمَّيْتُهُ بِرَسُولِ اللَّهِ وَإِنَّ قَوْمِي أَبَوْا أَنْ يَكْنُونِي بِهِ حَتَّى تَسْتَأْذِنَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ سَمُّوا بِاسْمِي وَلاَ تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي فَإِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ‏"‏ ‏.‏

Jabir b. 'Abdullah reported that a child was born to one of the persons amongst us and he decided to give him the name of Muhammad We said:We will not allow you to give the name after the name of Allah's Messenger (ﷺ) until you ask him (the Holy Prophet). So he (that person) came and said (to the Holy Prophet): A child was born in my house and I wanted to give him the name (of Muhammad) after the name of Allah's Messenger, whereas my people did not allow me that I should name him after that (sacred) name until I have asked Allah's Apostle (ﷺ) in this connection, whereupon he said: Give him the name after my name, but do not call him by my kunya, for I have been sent as a Qasim as I distribute amongst you

حسین نے سالم بن ابی جعد سے ، انھوں نے حضرت جابر عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم ( انصار ) میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اس نے اس کا نام محمد رکھا ہم نے اس سے کہا : ہم تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت سے نہیں پکاریں گے ۔ یہاں تک کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس بات کی ) اجازت لے لو ۔ سووہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر اس کا نام رکھا ہے اور میری قوم نے اس بات سے انکا ر کر دیا ہے کہ مجھے اس کے نام کی کنیت سے پکا ریں یہاں تک کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لو ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ، بے شک میں " قاسم " بنا کر بھیجا گیا ہوں ، تمھا رے درمیان ( اللہ کا دیا ہوا فضل ) تقسیم کرتا ہوں ۔

Sahih Muslim 38:5sahih

حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي الطَّحَّانَ - عَنْ حُصَيْنٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ ‏ "‏ فَإِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ‏"‏ ‏.‏

This hadith has been reported on the authority of Husain With the same chain of transmitters but no mention is made of these words:" (I have been sent as a distributor), so I distribute amongst you

خالد طحان نے حصین سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور " میں قاسم ( تقسیم کرنے والا ) بنا کر بھیجا گیا ہوں ، تمھا رے درمیان تقسیم کرتا ہوں " کے الفا ظ ذکر نہیں کیے ۔

Sahih Muslim 38:6sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، الأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلاَ تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي فَإِنِّي أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ ‏"‏ وَلاَ تَكْتَنُوا ‏"‏ ‏.‏

Jabir b. Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Give the name after my name, but do not give (the kunya of Abu'l-Qasim after my) kunya, for I am Abu'l-Qasim (in the sense) that I distribute amongst you (the spoils of war) and disseminate the knowledge (of revelation). This hadith has been transmitted on the authority of Abu Bakr but with a slight variation of wording

ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو سعید اشج نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں اعمش نے سالم بن ابی جعد سے حدیث سنائی انھوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ، کیو نکہ میں ہی ابو القاسم ہوں تمھا رے درمیان تقسیم کرتا ہوں ۔ اپنی کنیت نہ رکھو ۔

Sahih Muslim 38:7sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ‏"‏ ‏.‏

This hadith has been reported on the authority of A'mash with the same chain of transmitters but there is a slight variation (of wording) that, instead of the word Bu'ithat (I have been sent), the word ju'ilat (I have been made) has been used

ابو معاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : " قاسم بنا یا گیا ہوں تمھا رے درمیان تقسیم کرتا ہوں ۔

Sahih Muslim 38:8sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ وُلِدَ لَهُ غُلاَمٌ فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَقَالَ ‏ "‏ أَحْسَنَتِ الأَنْصَارُ سَمُّوا بِاسْمِي وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ‏"‏ ‏.‏

Jabir b. 'Abdullah reported that a child was born to a person from the Ansar and he made up his mind to give him the name of Muhammad. He came to Allah's Apostle (ﷺ) and, asked him (about it), whereupon he said:The Ansar have done well to give the name (to your children) after my name, but do not give them the kunya after my kunya

محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنا ئی انھوں نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انصار میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اس نے اس کا نام محمد رکھنا چا ہا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انصار نے اچھا کیا ، میرے نام پر نام رکھو ، میری کنیت پر ( اپنی ) کنیت نہ رکھو ۔

Sahih Muslim 38:9sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، كِلاَهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ، بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، كُلُّهُمْ عَنْ سَالِمِ، بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، وَمَنْصُورٍ، وَسُلَيْمَانَ، وَحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالُوا سَمِعْنَا سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَنْ ذَكَرْنَا حَدِيثَهُمْ مِنْ قَبْلُ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ النَّضْرِ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ وَزَادَ فِيهِ حُصَيْنٌ وَسُلَيْمَانُ قَالَ حُصَيْنٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ سُلَيْمَانُ ‏"‏ فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ‏"‏ ‏.‏

This hadith has been narrated through different chains of transmitters on the authority of Shu'ba with a slight variation of wording

ابو بکر بن ابی شیبہ محمد بن مثنیٰ محمد بن عمرو بن جبلہ اور بشر بن خالد نے محمد بن جعفر سے ۔ محمد بن جعفر ابن ابی عدی اور نضر بن شمیل نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ منصور سلیمان اور حصین بن عبد الرحمٰن سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم نے سالم بن ابی جعد سے سنا ، انھوں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، جس طرح ان سب کی روایت ہے جن کی حدیث ہم پہلے بیان کر چکے ہیں شعبہ سے نضر کی بیان کردہ حدیث میں ہے کہا : اس میں حصین اور سلیمان نے اضا فہ کیا ، حصین نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مجھے قاسم بنا کر بھیجا گیا ہے ، میں تمھا رے درمیان تقسیم کرتا ہوں ۔ ۔ " اور سلیمان نے کہا : " میں ہی قاسم ہوں ، تمھا رے درمیان تقسیم کرتا ہوں

Sahih Muslim 38:10sahih

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلاَمٌ فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ فَقُلْنَا لاَ نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلاَ نُنْعِمُكَ عَيْنًا ‏.‏ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏ "‏ أَسْمِ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ‏"‏ ‏.‏

Jabir b. 'Abdullah reported:A child was born in the house of a person amongst us, and he gave him the name of Qasim. We said: We will not allow you (to give the name) to your child as Qasim (and thus adopt the kunya of Abu'l-Qasim) and coal your eyes. He (that person) came to Allah's Apostle (ﷺ) and made a mention of that to him, whereupon he said: Call your son 'Abd al-Rahman

سفیان بن عیینہ نے کہا : ہمیں ( محمد ) بن منکدر نے حدیث سنا ئی کہ انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ، ہم میں سے ایک شخص کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ، اس شخص نے اس کا نم قاسم رکھا ، ہم نے کہا : ہم تمھیں ابو القاسم کی کنیت سے نہیں پکا ریں گے ۔ ( تمھا ری یہ خواہش پوری کر کے ) تمھا ری آنکھیں ٹھنڈی کریں گے تو وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سب بات بتا ئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " تم اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمٰن رکھ لو ۔

Sahih Muslim 38:11sahih

وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - كِلاَهُمَا عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ وَلاَ نُنْعِمُكَ عَيْنًا ‏.‏

This hadith has been reported on the authority of Ibn Uyaina, but there is no mention of this:" We will not allow you to cool your eyes

روح بن قاسم نے محمد بن مکدر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، مگر انھوں نے یہ الفاظ نہیں کہے : " اور ہم تمہاری آنکھیں ٹھنڈی نہیں کریں گے ۔

Sahih Muslim 38:12sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلاَ تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَمْرٌو عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمَ يَقُلْ سَمِعْتُ ‏.‏

Abu Huraira reported that Abu'l-Qasim (ﷺ) said:Give name (to your children) after my name but do not give the kunya (of Abu'l- Qasim) after my kunya. 'Amr reported from Abu Huraira that he did not say that he had heard it directly from Allah's Apostle (ﷺ)

ابو بکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد ، زہیر بن حرب ، اور ابن نمیر نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے ایوب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے محمد بن سیرین سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ۔ " عمرو نےکہا " حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے " کہا اور " میں نے سنا " نہیں کہا ۔

Sahih Muslim 38:13sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ نُمَيْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ لَمَّا قَدِمْتُ نَجْرَانَ سَأَلُونِي فَقَالُوا إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ يَا أُخْتَ هَارُونَ وَمُوسَى قَبْلَ عِيسَى بِكَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَمُّونَ بِأَنْبِيَائِهِمْ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ ‏"‏ ‏.‏

Mughira b. Shu'ba reported:When I came to Najran, they (the Christians of Najran) asked me: You read" O sister of Harun" (i. e. Hadrat Maryam) in the Qur'an, whereas Moses was born much before Jesus. When I came back to Allah's Messenger (ﷺ) I asked him about that, whereupon he said: The (people of the old age) used to give names (to their persons) after the names of Apostles and pious persons who had gone before them

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب میں نجران میں آیا ، تو وہاں کے ( انصاری ) لوگوں نے مجھ پر اعتراض کیا کہ تم پڑھتے ہو کہ ( آیت ) ( ”اے ہارون کی بہن“ ( مریم : 28 ) ( یعنی مریم علیہا السلام کو ہارون کی بہن کہا ہے ) حالانکہ ( سیدنا ہارون موسیٰ علیہ السلام کے بھائی تھے اور ) موسیٰ علیہ السلام ، عیسیٰ علیہ السلام سے اتنی مدت پہلے تھے ( پھر مریم ہارون علیہ السلام کی بہن کیونکر ہو سکتی ہیں؟ ) ، جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( یہ وہ ہارون تھوڑی ہیں جو موسیٰ کے بھائی تھے ) بنی اسرائیل کی عادت تھی ( جیسے اب سب کی عادت ہے ) کہ وہ پیغمبروں اور اگلے نیکوں کے نام پر نام رکھتے تھے ۔

Sahih Muslim 38:14sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ، سُلَيْمَانَ عَنِ الرُّكَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ، وَقَالَ، يَحْيَى أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُسَمِّيَ رَقِيقَنَا بِأَرْبَعَةِ أَسْمَاءٍ أَفْلَحَ وَرَبَاحٍ وَيَسَارٍ وَنَافِعٍ ‏.‏

Samura b. Jundub reported:Allah's Messenger (ﷺ) forbade us to give names to our servants as these four names: Aflah (Successful), Rabdh (Profit), Yasar (Wealth), and Nafi' (Beneficial)

معتمر بن سلیمان نے کہا : میں رُکین سے سنا ، وہ ا پنے والد سے حدیث بیان کررہے تھے ، انھوں نے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے غلاموں کے یہ چار نام رکھنے سے منع فرمایا : افلح ( زیادہ کامیاب ) ، رباح ( منافع والا ) ، یسار ( آسانی والا ) اور نافع ( نفع پہنچانے والا)

Sahih Muslim 38:15sahih

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ، بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تُسَمِّ غُلاَمَكَ رَبَاحًا وَلاَ يَسَارًا وَلاَ أَفْلَحَ وَلاَ نَافِعًا ‏"‏ ‏.‏

Samura b. Jundub reported AUah's Messenger (ﷺ) as saying:Don't give names to your servants as Rabdh, 'Ya ar, Aflah and Nafi

۔ جریر نے رکین بن ربیع سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنے لڑکے ( غلام ، خادم ) کا نام رباح ، یسار ، افلح ، اور نافع نہ رکھو ۔

Sahih Muslim 38:16sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنِ هِلاَلِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "أَحَبُّ الْكَلاَمِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ‏.‏ لاَ يَضُرُّكَ بَأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ.‏ وَلاَ تُسَمِّيَنَّ غُلاَمَكَ يَسَارًا وَلاَ رَبَاحًا وَلاَ نَجِيحًا وَلاَ أَفْلَحَ فَإِنَّكَ تَقُولُ أَثَمَّ هُوَ فَلاَ يَكُونُ فَيَقُولُ لاَ‏."‏‏ إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ فَلاَ تَزِيدُنَّ عَلَىَّ ‏.‏

Samura b. Jundub reported:The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said "The dearest phrases to Allah are four: Subhan Allah (Hallowed be Allah), Al-Hamdulillah (Praise be to Allah), La ilaha illa-Allah (There is no deity but Allah), Allahu Akbar (Allah is Greater). There is no harm for you in which of them begin with (while remembering Allah). And do not give these names to your servants: Yasar and Rabah and Najih and Aflah

‏‏‏‏ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ پسند اللہ تعالیٰ کو چار کلمے ہیں «سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ان میں سے جس کو چاہے پہلے کہے کوئی نقصان نہ ہو گا اور اپنے غلام کا نام یسار، رباح اور نجیح (اس کے وہی معنی ہیں جو افلح کے ہیں) اور افلح نہ رکھو۔ اس لیے کہ تو پوچھے گا وہاں وہ ہے (یعنی یسار یا رباح یا نجیح یا افلح) وہ کہے گا نہیں ہے۔“ سمرہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی چار نام فرمائے۔ تو زیادہ مت نقل کرنا مجھ سے۔

Sahih Muslim 38:17sahih

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنِي جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، - وَهْوَ ابْنُ الْقَاسِمِ - ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ مَنْصُورٍ، بِإِسْنَادِ زُهَيْرٍ ‏.‏ فَأَمَّا حَدِيثُ جَرِيرٍ وَرَوْحٍ فَكَمِثْلِ حَدِيثِ زُهَيْرٍ بِقِصَّتِهِ ‏.‏ وَأَمَّا حَدِيثُ شُعْبَةَ فَلَيْسَ فِيهِ إِلاَّ ذِكْرُ تَسْمِيَةِ الْغُلاَمِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْكَلاَمَ الأَرْبَعَ ‏.‏

This hadith has been reported on the authority of Shu'ba and there is no mention but of the fact about giving the name to the servant and there is no mention of the four expressions (of remembrance) and he did not mention the four words

جریر ، روح بن قاسم اورشعبہ سب نے منصور سے زہیر کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، جریر اورروح کی حدیث قصے سمیت زہیر کی حدیث جیسی ہے ۔ اورجوشعبہ کی حدیث ہے ۔ اس میں صرف غلام کانام رکھنے کا ذکر ہے ، انھوں نے " چار بہترین کلمات " کاذ کر نہیں کیا ۔

Sahih Muslim 38:18sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْهَى عَنْ أَنْ يُسَمَّى بِيَعْلَى وَبِبَرَكَةَ وَبِأَفْلَحَ وَبِيَسَارٍ وَبِنَافِعٍ وَبِنَحْوِ ذَلِكَ ثُمَّ رَأَيْتُهُ سَكَتَ بَعْدُ عَنْهَا فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَنْهَ عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ أَرَادَ عُمَرُ أَنْ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ تَرَكَهُ ‏.‏

Jabir b. 'Abdullah reported:Allah's Messenger (ﷺ) decided to forbid (his followers) to name persons as Ya'la (Elevated), Baraka (Blessing), Aflah (Successful), Yasar and Nafi', but I saw that he kept silent after that and he did not say anything until Allah's Messenger (ﷺ) died. And he did not forbid (his followers to do this), then 'Umar decided to prohibit (people) from giving these names, but later on gave up the idea

ابن جریج نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ آپ یعلیٰ ( بلند ) ، برکت ، افلح ، یساراور نافع جیسے نام رکھنے سے منع فرمادیں ، پھرمیں نے دیکھا کہ آپ خاموش ہوگئے ، پھر آپ کی رحلت ہوئی تو آپ نے ان ناموں سے نہیں روکا تھا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے روکنے کا ا رادہ نہیں کیاتو انھوں نے بھی ( یہ ارادہ ) ترک کردیا ۔

Sahih Muslim 38:19sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ وَقَالَ ‏ "‏ أَنْتِ جَمِيلَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ مَكَانَ أَخْبَرَنِي عَنْ ‏.‏

Ibn 'Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) changed the name of 'Asiya (Disobedient) and said:You are Jamila (i. e. good and handsome). Ahmad (one of the narrators) narrated it with a slight variation of wording

احمد بن حنبل ، زہیر بن حرب ، محمد بن مثنیٰ ، عبیداللہ بن سعید اور محمد بن بشار نے ( ان سب نے ) کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ ( نافرمانی کرنے والی ) کانام تبدیل کردیا اور فرمایا : "" تم جمیلہ ( خوبصورت ) ہو ۔ "" احمد نے "" مجھے خبر دی "" کی جگہ "" سے روایت ہے ۔ "" کہا ہے ۔

Sahih Muslim 38:20sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَةً لِعُمَرَ، كَانَتْ يُقَالُ لَهَا عَاصِيَةُ فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَمِيلَةَ ‏.‏

Ibn 'Umar reported that 'Umar had a daughter who was called 'Asiya. Allah's Messenger (ﷺ) gave her the name of Jamila

حماد بن سلمہ نے عبیداللہ سے ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک صاحبزادی کو عاصیہ کہا جاتاتھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس کانام جمیلہ رکھا دیا ۔

Sahih Muslim 38:21sahih

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ اسْمُهَا بَرَّةَ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْمَهَا جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ عَنْ كُرَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‏.‏

Ibn Abbas reported that the name of Juwairiya (the wife of the Holy Prophet) was Barra (Pious). Allah's Messenger (ﷺ) changed her name to Juwairiya and said:I did not like that it should be said: He had come out from Barra (Pious). The hadith transmitted on the authority of Ibn Abi 'Umar is slightly different from it

عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی ۔ الفاظ عمرو کے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں سفیان نے آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام محمد بن عبدالرحمان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کریب سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ( پہلے ام المومنین حضرت ) جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام " برہ " تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا ۔ آپ کو پسند نہ تھا ۔ کہ اس طرح کہا جائے کہ آپ برہ ( نیکیوں و الی ) کے ہاں سے نکل گئے ۔ ابن ابی عمر کی حدیث میں ہے : کریب سے روایت ہے ، کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ۔

Sahih Muslim 38:22sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ زَيْنَبَ، كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ فَقِيلَ تُزَكِّي نَفْسَهَا ‏.‏ فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْنَبَ ‏.‏ وَلَفْظُ الْحَدِيثِ لِهَؤُلاَءِ دُونَ ابْنِ بَشَّارٍ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ ‏.‏

Abu Huraira reported that the name of Zainab was Barra. It was said of her:She presents herself to be innocent. Allah's Messenger (ﷺ) gave her the name of Zainab

ابو بکر بن ابی شیبہ ، محمد بن مثنیٰ اورمحمد بن بشار نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، محمد بن جعفر اورعبیداللہ کے والد معاذ نے شعبہ سے ، انھوں نے عطاء بن ابی میمونہ سے ، انھوں نے ابو رافع سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت زینب ( بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کا نام برہ تھا تو کہا گیا کہ وہ ( نام بتاتے وقت خود ) اپنی پارسائی بیان کرتی ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھ دیا ۔ حدیث کے الفاظ ابن بشار کے علاوہ باقی سب کے ( بیان کردہ ) ہیں ۔ ابن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے شعبہ سے حدیث بیان کی ۔

Sahih Muslim 38:23sahih

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ، بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ اسْمِي بَرَّةَ فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْنَبَ ‏.‏ قَالَتْ وَدَخَلَتْ عَلَيْهِ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ وَاسْمُهَا بَرَّةُ فَسَمَّاهَا زَيْنَبَ ‏.‏

Zainab, daughter of Umm Salama, reported:My name first was Barra. Allah's Messenger (ﷺ) gave me the name of Zainab. Then there entered (into the house of Allah's Prophet as a wife) Zainab, daughter of Jahsh, and her name was also Barra, and he gave her the name of Zainab

ولید بن کثیر نے کہا : مجھے محمد بن عمرو بن عطاء نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا ، کہا : میرا نام برہ تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام زینب رکھ دیا ۔ انھوں نے کہا : جب زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کے حبالہ عقد میں داخل ہوئیں تو ان کا نام بھی برہ تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بھی زینب رکھا ۔

Sahih Muslim 38:24sahih

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ سَمَّيْتُ ابْنَتِي بَرَّةَ فَقَالَتْ لِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ هَذَا الاِسْمِ وَسُمِّيتُ بَرَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمُ اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا بِمَ نُسَمِّيهَا قَالَ ‏"‏ سَمُّوهَا زَيْنَبَ ‏"‏ ‏.‏

Muhammad b. 'Amr b. 'Ata' reported:I had given the name Barra to my daughter. Zainab, daughter of Abu Salama, told me that Allah's' Messenger (ﷺ) had forbidden me to give this name. (She said): I was also called Barra, but Allah's Messenger (ﷺ) said: Don't hold yourself to be pious. It is God alone who knows the people of piety among you. They (the Companions) said: Then, what name should we give to her? He said: Name her as Zainab

یزید بن ابی حبیب نے محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت کی ، کہا : میں نے اپنی بیٹی کانام برہ رکھا تو حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نام رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔ اور ( بتایا کہ ) میرا نام بھی پہلے برہ رکھا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم لوگ اپنی پارسائی بیان کرو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ تم میں سے نیکو کار کون ہے ۔ "" ( گھرکے ) لوگوں نے کہا : پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کا نام زینب رکھ دو ۔ "" یزید بن ابی حبیب نے محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت کی ، کہا : میں نے اپنی بیٹی کانام برہ رکھا تو حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نام رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔ اور ( بتایا کہ ) میرا نام بھی پہلے برہ رکھا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم لوگ اپنی پارسائی بیان کرو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ تم میں سے نیکو کار کون ہے ۔ "" ( گھرکے ) لوگوں نے کہا : پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کا نام زینب رکھ دو ۔

Sahih Muslim 38:25sahih

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لأَحْمَدَ - قَالَ الأَشْعَثِيُّ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ أَخْنَعَ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الأَمْلاَكِ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ ‏"‏ لاَ مَالِكَ إِلاَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الأَشْعَثِيُّ قَالَ سُفْيَانُ مِثْلُ شَاهَانْ شَاهْ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو عَنْ أَخْنَعَ فَقَالَ أَوْضَعَ ‏.‏

Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The vilest name in Allah's sight is Malik al-Amidh (King of Kings). The narration transmitted on the authority of Shaiba (contains these words): There is no king but Allah, the Exalted and Glorious. Sufyan said: Similarly, the word Shahinshah (is also the vilest appellation). Ahmad b. Hanbal said: I asked Abu 'Amr about the meaning of Akhna. He said: The vilest

سعید بن عمرو اشعشی ، احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اورابو بکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ الفاظ امام احمد کے ہیں ، اشعشی نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے خبر دی جبکہ دیگر نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ۔ ابوزناد سے ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا؛ "" اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے قابل تحقیر نام اس شخص کا ہے جو شہنشاہ کہلائے ۔ "" اور ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا : "" اللہ عزوجل کے سوا کوئی ( بادشاہت کا ) مالک نہیں ہے ۔ "" اشعشی کا قول ہے : سفیان نے کہا : جیسے شاہان شاہ ( شہنشاہ ) ہے ۔ اور احمد بن حنبل نے کہا : میں نے ابو عمرو ( اسحاق بن مرار شیبانی ، نحوی ، کوفی ) سے "" اخنع "" کے بارے میں پوچھا توانھوں نے کہا : ( اس کے معنی ہیں ) اوضع ( انتہائی حقیر)

Sahih Muslim 38:26sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَغْيَظُ رَجُلٍ عَلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَخْبَثُهُ وَأَغْيَظُهُ عَلَيْهِ رَجُلٌ كَانَ يُسَمَّى مَلِكَ الأَمْلاَكِ لاَ مَلِكَ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏

Abu Huraira reported from Allah's Messenger (ﷺ) so many ahadith and one of them was this that Allah's Messenger (ﷺ) said:The most wretched person in the sight of Allah on the Day of Resurrection and the worst person and target of His wrath would of the person who is called Malik al-Amlak (the King of Kings) for there is no king but Allah

ہمیں معمر ہمام بن منبہ سے خبر دی ، کہا : یہ احادیث ہمیں حضرت ابوہریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں ، پھر انھوں نے کچھ احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ حدیث ( بھی ) ہے : اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کےدن سب سےزیادہ گندا اورغضب کامستحق شخص وہ ہوگا جوشہنشاہ کہلاتا ہوگا ، اللہ کے سوا کوئی اور بادشاہ نہیں ہے ۔

Sahih Muslim 38:27sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ، بْنِ مَالِكٍ قَالَ ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ وُلِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلاَكَهُنَّ ثُمَّ فَغَرَ فَا الصَّبِيِّ فَمَجَّهُ فِي فِيهِ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ حُبُّ الأَنْصَارِ التَّمْرَ ‏"‏ ‏.‏ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ‏.‏

Anas b. Malik reported:I took 'Abdullah b. Abi Talha Ansari to Allah's Messenger (ﷺ) at the time of his birth. Allah's Messenger (ﷺ) was at that time wearing a woollen cloak and besmearing the camels with tar. He said: Have you got with you the dates? I said: Yes. He took hold of the dates and put them in his mouth and softened them, then opened the mouth of the infant and put that in it and the child began to lick it. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: The Ansar have a liking for the dates, and he (the Holy Prophet) gave him the name of 'Abdullah

ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب عبداللہ بن ابی طلہ پیدا ہوئے تو میں انھیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دھاری دارعبا ( چادر ) زیب تن فرمائے اپنے ایک اونٹ کو ( خارش سے نجات دلانے کے لئے ) گندھک ( یاکول تار ) لگارہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کچھ کھجور ساتھ ہے؟میں نے عرض کی : جی ہاں ، پھر میں نے آپ کو کچھ کھجوریں پیش کیں ، آپ نے ان کو اپنے منہ میں ڈالا ، انھیں چبایا ، پھر بچے کامنہ کھول کر ان کو اپنے دہن مبارک سے براہ راست اس کے منہ میں ڈال دیا ۔ بچے نے زبان ہلاکر اس کاذائقہ لینا شروع کردیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ انصار کی کھجوروں سے محبت ہے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھا ۔

Sahih Muslim 38:28sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ، سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ ابْنٌ لأَبِي طَلْحَةَ يَشْتَكِي فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ فَقُبِضَ الصَّبِيُّ فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ مَا فَعَلَ ابْنِي قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ هُوَ أَسْكَنُ مِمَّا كَانَ ‏.‏ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَاءَ فَتَعَشَّى ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا فَلَمَّا فَرَغَ قَالَتْ وَارُوا الصَّبِيَّ ‏.‏ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ ‏"‏ أَعْرَسْتُمُ اللَّيْلَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا ‏"‏ ‏.‏ فَوَلَدَتْ غُلاَمًا فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ احْمِلْهُ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَبَعَثَتْ مَعَهُ بِتَمَرَاتٍ فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَمَعَهُ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ تَمَرَاتٌ ‏.‏ فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَمَضَغَهَا ثُمَّ أَخَذَهَا مِنْ فِيهِ فَجَعَلَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ ثُمَّ حَنَّكَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ‏.‏

Anas b. Malik reported that the son of Abu Talha had been ailing. Abu Talha set out (on a journey) and his son breathed his last (in his absence). When Abu Talha came back, he said (to his wife):What about my child? Umm Sulaim (the wife of Abu Talha) said: He is now in a more comfortable state than before. She served him the evening meal and he took it. He then came to her (and had sexual intercourse with her) and when it was all over she said: Make arrangements for the burial of the child. When it was morning. Abu Talha came to Allah's Messenger (ﷺ) and informed him, whereupon he said: Did you spend the night with her. He said: Yes. He (the Holy Prophet) then said: O Allah, bless both of them (and as a result of blessing) she gave birth to a child. Abu Talha said to me (Anas b. Malik) to take the child, (so I took him) and came to Allah's Messenger (ﷺ). She (Umm Sulaim) also had sent some dates (along with the child). Allah's Apostle (ﷺ) took him (the child) (in his lap) and said: Is there anything with you (for Tahnik). They (the Companions) said: Yes. Allah's Apostle (ﷺ) took hold of them (dates and chewed them). He then put them (the chewed dates) in the mouth of the child and then rubbed his palate and gave him the name of 'Abdullah

یزید بن ہارون نے کہا : ہمیں ابن عون نے ابن سیرین سے خبر دی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا؛ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک لڑکا بیمار تھا ، وہ باہر گئے ہوئے تھے کہ وہ لڑکا فوت ہو گیا ۔ جب وہ لوٹ کر آئے تو انہوں نے پوچھا کہ میرا بچہ کیسا ہے؟ ( ان کی بیوی ) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اب پہلے کی نسبت اس کو آرام ہے ( یہ موت کی طرف اشارہ ہے اور کچھ جھوٹ بھی نہیں ) ۔ پھر ام سلیم شام کا کھانا ان کے پاس لائیں تو انہوں نے کھایا ۔ اس کے بعد ام سلیم سے صحبت کی ۔ جب فارغ ہوئے تو ام سلیم نے کہا کہ جاؤ بچہ کو دفن کر دو ۔ پھر صبح کو ابوطلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب حال بیان کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم نے رات کو اپنی بیوی سے صحبت کی تھی؟ ابوطلحہ نے کہا جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ان دونوں کو برکت دے ۔ پھر ام سلیم کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو ابوطلحہ نے مجھ سے کہا کہ اس بچہ کو اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جا اور ام سلیم نے بچے کے ساتھ تھوڑی کھجوریں بھی بھیجیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو لے لیا اور پوچھا کہ اس کے ساتھ کچھ ہے؟ لوگوں نے کہا کہ کھجوریں ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کو لے کر چبایا ، پھر اپنے منہ سے نکال کر بچے کے منہ میں ڈال کر اسے گٹھی دی اور اس کا نام عبداللہ رکھا ۔

Sahih Muslim 38:29sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ ‏.‏

This hadith has been reported on the authority of Anas through another chain of transmit ters

حماد بن مسعدہ نے کہا : ہمیں ابن عون نے محمد ( ابن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی قصے کے ساتھ یزید کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔

Sahih Muslim 38:30sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ ‏.‏

Abu Musa reported:A child was born in my house and I brought him to Allah's Apostle (may peace be upod him) and he gave him the name of Ibrahim and he rubbed his palate with dates

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ، میں اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور اس کو ایک کھجور ( کے دانے ) سے گھٹی دی ۔

Sahih Muslim 38:31sahih

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُمَا قَالاَ خَرَجَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ حِينَ هَاجَرَتْ وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَقَدِمَتْ قُبَاءً فَنُفِسَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بِقُبَاءٍ ثُمَّ خَرَجَتْ حِينَ نُفِسَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُحَنِّكَهُ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَكَثْنَا سَاعَةً نَلْتَمِسُهَا قَبْلَ أَنْ نَجِدَهَا فَمَضَغَهَا ثُمَّ بَصَقَهَا فِي فِيهِ فَإِنَّ أَوَّلَ شَىْءٍ دَخَلَ بَطْنَهُ لَرِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَتْ أَسْمَاءُ ثُمَّ مَسَحَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ثُمَّ جَاءَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانٍ لِيُبَايِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَمَرَهُ بِذَلِكَ الزُّبَيْرُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ رَآهُ مُقْبِلاً إِلَيْهِ ثُمَّ بَايَعَهُ ‏.‏

Urwa b. Zubair and Fatima daughter of Mandhir b. Zubair, reported that Asma' daughter of Abu Bakr was at the time of migration in the family way with 'Abdullah b. Zubair (in her womb). She came to Quba' and gave birth to 'Abdullah at that place and then sent him to Allah's Messenger (ﷺ) so that he should rub his palate with chewed dates. Allah's Messenger (may peace he upon him) took hold of him (the child) and he placed him in his lap and then called for dates. 'A'isha said:Some time was spent before we were able to find them. He (the Holy Prophet) chewed them and then put his saliva in his mouth. The first thing that entered his stomach, was the saliva of Allah's Messenger (ﷺ). Asma' said: He then rubbed him and blessed him and gave him the name of Abdullah. He ('Abdullah) went to him (the Holy Prophet) when he had attained the age of seven or eight years in order to pledge allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) as Zubair had commanded him to do. Allah's Messenger (ﷺ) smiled when he saw him coming towards him and then accepted his allegiance

شعیب بن اسحاق نے کہا؛مجھے ہشام بن عروہ نے بتایا ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر اور فاطمہ بنت منذر بن زبیر نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا ( مکہ سے ) ہجرت کی نیت سے جس وقت نکلیں ، ان کے پیٹ میں عبداللہ بن زبیر تھے ( یعنی حاملہ تھیں ) جب وہ قباء میں آ کر اتریں تو وہاں سیدنا عبداللہ بن زبیر پیدا ہوئے ۔ پھر ولادت کے بعد انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو گھٹی لگائیں ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے لے لیا اور اپنی گود میں بٹھایا ، پھر ایک کھجور منگوائی ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم ایک گھڑی تک کھجور ڈھونڈتے رہے ، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو چبایا ، پھر ( اس کا جوس ) ان کے منہ میں ڈال دیا ۔ یہی پہلی چیز جو عبداللہ کے پیٹ میں پہنچی ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوک تھا ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لئے دعا کی اور ان کا نام عبداللہ رکھا ۔ پھر جب وہ سات یا آٹھ برس کے ہوئے تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے اشارے پر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کے لئے آئے ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آتے دیکھا تو تبسم فرمایا ۔ پھر ان سے ( برکت کے لئے ) بیعت کی ( کیونکہ وہ کمسن تھے ) ۔

Sahih Muslim 38:32sahih

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ قَالَتْ فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ بِقُبَاءٍ فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءٍ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ فَكَانَ أَوَّلَ شَىْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ حَنَّكَهُ بِالتَّمْرَةِ ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّكَ عَلَيْهِ وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الإِسْلاَمِ ‏.‏

Asma' reported that she had become pregnant at Mecca with Abdullah b. Zubair (in her womt) and she (further) said:I set out (for migration to Medina) as I was in the advanced stage of pregnancy. I came to Medina and got down at the place known as Quba' and gave birth to a child there. Then I came to Allah's Messenger (may peace he upon him). He placed him (the child) in his lap and then commanded for the dates to be brought. He chewed them and then put the saliva in his mouth. The first thing which went into his stomach was the saliva of Allah's Messenger (ﷺ). He then rubbed his palate with dates and then invoked blessings for him and blessed him. He was the first child who was born in Islam (after Migration)

ابو اسامہ نے ہشام سے ، انھوں نے ا پنے والد سے ، انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ وہ مکہ میں حاملہ ہوئیں ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پیٹ میں تھے ، حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہاکہ جب میں ( مکہ سے ) نکلی تو میں پورے دنوں سے تھی ، پھر میں مدینہ آئی اورقباء میں ٹھہری اور قباء میں نے اسے ( عبداللہ ) کو جنم دیا ، پھر میں ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے اسے اپنی گود میں لے لیا ، پھر آپ نے کھجور منگوائی ، اسے چبایا ۔ پھر اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈال دیا ، پہلی چیز جو اس کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کالعاب دہن تھا ، پھر آپ نے ( چبائی ہوئی ) کھجور کی گھٹی اس کے تالو کولگائی ، پھر میں کے لئے دعا کی ، برکت مانگی ، ( ہجرت مدینہ کے بعد ) یہ پہلا بچہ تھا جو اسلام میں پیدا ہوا ۔

Sahih Muslim 38:33sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ، بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا هَاجَرَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ ‏.‏

Asma', daughter of Abu Bakr, reported that when she migrated to Allah's Messenger (ﷺ) in Medina she was in the family way with Abdullah b. Zubair in her womb

علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی ، اس وقت وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےحاملہ تھیں ، پھر ابو اسامہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔

Sahih Muslim 38:34sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، - يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ وَيُحَنِّكُهُمْ ‏.‏

A'isha reported that the new-born infants were brought to Allah's Messenger (ﷺ). He blessed them and rubbed their palates with dates

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچے لائے جاتے ، آپ ان کے لئے برکت کی دعا کرتے اور انھیں گھٹی دیتے ۔

Sahih Muslim 38:35sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جِئْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُحَنِّكُهُ فَطَلَبْنَا تَمْرَةً فَعَزَّ عَلَيْنَا طَلَبُهَا ‏.‏

A'isha reported:We took 'Abdullah b. Zubair to Allah's Apostle (ﷺ) so that he should put saliva in his mouth and we had to make a good deal of effort in order to procure them

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےروایت ہے ، کہا : ہم گھٹی دلوانے کے لئے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے ، ہم نے کھجور حاصل کرنی چاہی تو ہمارے لیے اس کا حصول دشوار ہوگیا ۔

Sahih Muslim 38:36sahih

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ - حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ وُلِدَ فَوَضَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى فَخِذِهِ وَأَبُو أُسَيْدٍ جَالِسٌ فَلَهِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِشَىْءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَمَرَ أَبُو أُسَيْدٍ بِابْنِهِ فَاحْتُمِلَ مِنْ عَلَى فَخِذِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَقْلَبُوهُ فَاسْتَفَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ الصَّبِيُّ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ أَقْلَبْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَا اسْمُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فُلاَنٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ وَلَكِنِ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ ‏"‏ ‏.‏ فَسَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ الْمُنْذِرَ ‏.‏

Sahl b. Sa'd reported that Mundhir b. Aba Usaid was brought to Allah's Messenger (ﷺ) at the time of his birth Allah's. Apostle (ﷺ) placed him on his thigh and Abfi Usaid kept sitting there. Allah's Apostle (ﷺ) had been occupied with something else before him. Abu Usaid commanded his child to be lifted from the lap of Allah's Messenger (ﷺ) and so he was lifted. When Allah's Messenger (ﷺ) had finished the work he said:Where is the child? Abd Usaid said: Allah's Messenger, we took him away. He said: What is his name? He said; Allah's Messenger, it is so and so, whereupon he (the Holy Prophet) said: Nay, his name is Mundhir, and named him Mundhir on that day

حضرت سہل بن سعد ( بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت ہے ، کہا : کہ ابواسید رضی اللہ عنہ کا بیٹا منذر ، جب پیدا ہوا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی ران پر رکھا اور ( اس کے والد ) ابواسید ۔ بیٹھے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز میں اپنے سامنے متوجہ ہوئے تو ابواسید نے حکم دیا تو وہ بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ران پر سے اٹھا لیا گیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا تو فرمایا کہ بچہ کہاں ہے؟ سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم نے اس کو اٹھا لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا نام کیا ہے؟ ابواسید نے کہا کہ فلاں نام ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ، اس کا نام منذر ہے ۔ پھر اس دن سے انہوں نے اس کا نام منذر ہی رکھ دیا ۔

Sahih Muslim 38:37sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ - قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ - كَانَ فَطِيمًا - قَالَ - فَكَانَ إِذَا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَآهُ قَالَ ‏ "‏ أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَكَانَ يَلْعَبُ بِهِ ‏.‏

Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) had the sublimest character among mankind. I had a brother who was called Abu 'Umair. I think he was weaned. When Allah's Messenger (may peace he upon him) came to our house he saw him, and said:Abu 'Umair, what has the sparrow done? He (Anas) said that he had been playing with that

ابوتیاح نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں سے بڑھ کر خوش ا خلاق تھے ، میرا ایک بھائی تھا جسے ابو عمیر کہا جاتا تھا ۔ ( ابوالتیاح نے ) کہا : میرا خیال ہے ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا تھا : اس کا دودھ چھڑایا جاچکا تھا ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور اسے دیکھتے تو فرماتے : ابو عمیر!نغیر نے کیا کیا " وہ بچہ اس ( پرندے ) سے کھیلا کرتا تھا ۔

Sahih Muslim 38:38sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ، مَالِكٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا بُنَىَّ ‏"‏ ‏.‏

Anas b Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) addressed me:O My Son

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " اے میرے بیٹے

Sahih Muslim 38:39sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، بْنِ شُعْبَةَ قَالَ مَا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَدٌ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ فَقَالَ لِي ‏"‏ أَىْ بُنَىَّ وَمَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ إِنَّهُ لَنْ يَضُرَّكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ مَعَهُ أَنْهَارَ الْمَاءِ وَجِبَالَ الْخُبْزِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏

Mughira b. Shu'ba reported that none else had asked more questions from Allah's Messenger (ﷺ) about the Dajjal than I, but he simply said in a slight mood):O, myson, why are you worried because of him? He will not harm you. I said: The people think that he would have with him rivers of water and mountains of bread, whereupon he said: He would be more insignificant in the sight of Allah than all these things (belonging to him)

یزید بن ہارون نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انھوں نے قیس بن ابی حازم سے ، انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے متعلق جتنے سوالات میں نے کیے اتنے کسی اور نے نہیں کیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا؛ " میرے بیٹے!تمھیں اس ( دجال ) سے کیا بات پریشان کررہی ہے؟تمھیں اس سے ہر گز کوئی نقصان نہ پہنچے گا ۔ " کہا : میں نے عرض کی : لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کے ساتھ پانی کی نہریں اور ر وٹی کے پہاڑ ہوں گے ۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی نسبت زیادہ ذلیل ہے ۔

Sahih Muslim 38:40sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ، يُونُسَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ، رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ قَوْلُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِلْمُغِيرَةِ ‏ "‏ أَىْ بُنَىَّ ‏"‏ ‏.‏ إِلاَّ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ وَحْدَهُ ‏.‏

This hadith has been reported on the authority of Ismail, with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording

وکیع ، ہشیم ، جریر اور ابو اسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ان میں سے تنہا یزید کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے " اے میرے بیٹے " کے الفاظ ہیں اور کسی کی حدیث میں نہیں ہیں ۔

Sahih Muslim 38:41sahih

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا - وَاللَّهِ، - يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ كُنْتُ جَالِسًا بِالْمَدِينَةِ فِي مَجْلِسِ الأَنْصَارِ فَأَتَانَا أَبُو مُوسَى فَزِعًا أَوْ مَذْعُورًا ‏.‏ قُلْنَا مَا شَأْنُكَ قَالَ إِنَّ عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَىَّ أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُ بَابَهُ فَسَلَّمْتُ ثَلاَثًا فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ فَرَجَعْتُ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا فَقُلْتُ إِنِّي أَتَيْتُكَ فَسَلَّمْتُ عَلَى بَابِكَ ثَلاَثًا فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَىَّ فَرَجَعْتُ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلاَثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ أَقِمْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ وَإِلاَّ أَوْجَعْتُكَ ‏.‏ فَقَالَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ لاَ يَقُومُ مَعَهُ إِلاَّ أَصْغَرُ الْقَوْمِ ‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ قُلْتُ أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ ‏.‏ قَالَ فَاذْهَبْ بِهِ ‏.‏

Abu Sa'id Khudri reported:I was sitting in Medina in the company of the Ansar when Abu Musa came trembling with fear. We said to him: What is the matter? He said: 'Umar (Allah be pleased with him) sent for me. I went to him and paid him salutation thrice at (his) door but he made no response to me and so I came back. Thereupon he ('Umar) said: What stood in your way that you did not turn up? I said: I did come to you and paid you salutations at your door three times but I was not given any response, so I came back as the Messenger of Allah (ﷺ) has said: When any one of you seeks permission three times and he is not granted permission, he should come back. Umar said: Bring a witness to support that you say, otherwise I shall take you to task. Ubayy b. Ka'b said: None should stand with him (as a witness) but the youngest amongst the people. Abu Sa'id said: I am the youngest amongst the people, whereupon he said: Then you go with him (to support his contention)

عمرو بن محمد بن بکیر ناقد نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے حدیث بیان کی ، کہا : اللہ کی قسم!ہمیں یزید بن خصیفہ نے بسر بن سعید سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : میں مدینہ منورہ میں انصار کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابو موسیٰ ڈرے سہمے ہوئے آئے ، ہم نے ان سے پوچھا آپ کو کیا ہوا؟ انھوں نے بتایا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا ہے کہ میں ان کے پاس آؤں ، میں ان کے دروازے پر گیا اور تین مرتبہ سلام کیا انھوں نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا تو میں لوٹ آیا ، انھوں نے کہا : آپ کو ہمارے پاس آنے سے کس بات نے روکا؟میں نے کہا : میں آیا تھا ، آپ کے دروازے پر کھڑے تین بار سلام کیا ، آپ لوگوں نے مجھے جواب نہیں دیا ، اس لئے میں لوٹ گیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : "" جب تم میں سے کوئی شخص تین باراجازت مانگے اور اسے اجازت نہ دی جائے تو وہ لوٹ جائے ۔ "" حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اس پر گواہی پیش کرو ورنہ میں تم کو سزا دوں گا ۔ حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ان کے ساتھ صرف وہ شخص جا کرکھڑا ہوگا جو قوم میں سے سب سے کم عمر ہے ، حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے کہا کہ میں سب سے کم عمر ہوں توانھوں نے کہا : تم ان کے ساتھ جاؤ ( اور گواہی دو)

Sahih Muslim 38:42sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَزَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي حَدِيثِهِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَقُمْتُ مَعَهُ فَذَهَبْتُ إِلَى عُمَرَ فَشَهِدْتُ ‏.‏

This hadith has been narrated on the authority of Yazid b. Khusaifa with the same chain of transmitters but with this addition:Abu Sa'id said: So I stood up, and went to 'Umar and gave witness (to what Abu Musa had said)

قتیبہ بن سعید اور ابن ابی عمر نے کہا : " ہمیں سفیان نے یزید بن خصیفہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ابن ابی عمر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں ان کے ہمرا اٹھ کھڑا ہوا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اور گواہی دی ۔

Sahih Muslim 38:43sahih

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ كُنَّا فِي مَجْلِسٍ عِنْدَ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ فَأَتَى أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ مُغْضَبًا حَتَّى وَقَفَ فَقَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الاِسْتِئْذَانُ ثَلاَثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلاَّ فَارْجِعْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أُبَىٌّ وَمَا ذَاكَ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمْسِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ ثُمَّ جِئْتُهُ الْيَوْمَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي جِئْتُ أَمْسِ فَسَلَّمْتُ ثَلاَثًا ثُمَّ انْصَرَفْتُ قَالَ قَدْ سَمِعْنَاكَ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ عَلَى شُغْلٍ فَلَوْ مَا اسْتَأْذَنْتَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَوَاللَّهِ لأُوجِعَنَّ ظَهْرَكَ وَبَطْنَكَ ‏.‏ أَوْ لَتَأْتِيَنَّ بِمَنْ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا ‏.‏ فَقَالَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ فَوَاللَّهِ لاَ يَقُومُ مَعَكَ إِلاَّ أَحْدَثُنَا سِنًّا قُمْ يَا أَبَا سَعِيدٍ ‏.‏ فَقُمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ فَقُلْتُ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ هَذَا ‏.‏

Abd Sa'id Khudri reported:We were in the company of Ubayy b. Ka'b that Abu Musa Ash'ari came there in a state of anger. He stood (before us) and said: I ask you to bear witness in the name of Allah whether anyone amongst you heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Permission (for entering the house) should be sought three times and if permission is granted to you (then get in). otherwise go back. Ubayy b. Ka'b said: What is the iiiatter? He said: I sought permission yesterday from 'Umar b. Khattab three times but he did not permit me, so I came back; then I went to him today and visited him and informed him that I had come to him yesterday and greeted him thrice, then came back, whereupon he said: Yes, we did hear you but be were at that time busy, but why did you not seek permission (further and you must have never gone back until you were permitted to do so). He said: I sought permission (in the manner) that I heard Allah's Messenger (ﷺ) having said (in connection 'With the seeking of permission for entering the house of a stranger). Thereupon he (Hadrat Umar) said: By Allah, I shall torture your back and your stomach unless you bring one who may bear witness to what you state. 'Ubayy b. Ka'b said: By Allah, none should stand with you (to bear testimony) but the youngest amongst us. And he therefore, said to Abu Sa'id: Stand up. So I stood up until I came to Umar and said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) say this

بکیر بن اشج سے روایت ہے کہ بسر بن سعید نے انھیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ایک مجلس میں ہم حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پا س بیٹھےہوئے تھے ۔ اتنے میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ غصے کی حالت میں آئے اور کھڑے ہوگئے پھر کہنے لگے : میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم میں سے کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : "" اجازت تین بار مانگی جاتی ہے ، اگر تمھیں اجازت مل جائے ( تو اندر آجاؤ ) ، نہیں تو لوٹ جاؤ؟حضرت ابی نے کہا معاملہ کیا ہے؟انھوں نے کہا : میں نے کل حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تین بار اجازت مانگی ، مجھے اجازت نہیں دی گئی تو میں لوٹ گیا پھر میں آج ان کے پاس آیاتو ان کے پا س حاضر ہوگیا ۔ میں نے انھیں بتایا کہ میں کل آیا تھا ، تین بار سلام کیا تھا ، پھر چلا گیا تھا ۔ کہنے لگے ہم نے سن لیاتھا ، اس وقت ہم کسی کام میں لگے ہوئے تھے تم کیوں نہ اجازت مانگتے رہے یہاں تک کہ تمھیں اجازت مل جاتی ۔ میں نے کہا : میں نے اسی طرح اجازت مانگی جس طرح میں نے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا ۔ کہنے لگے : اللہ کی قسم!میں تمھاری پشت اور پیٹھ پر کوڑے ماروں گا پھر تم کوئی ایسا شخص لے آؤ جو تمہارے لئے اس پر گواہی دے ۔ حضرت ابی ابن کعب کہنے لگے : اللہ کی قسم!تمھارے ساتھ ہم میں سے صرف وہ کھڑاہوگا جو عمر میں سب سے چھوٹاہے ( بڑے تو بڑے ہیں یہ حدیث ہم میں سے کم عمر لوگوں نے بھی سنی ہے اور یادرکھی ہے ۔ ) ابو سعید !اٹھو ، ( انھوں نے کہا ) تو میں اٹھا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ا س طرح فرماتے ہوئے سنا تھا ۔

Sahih Muslim 38:44sahih

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - حَدَّثَنَا سَعِيدُ، بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى، أَتَى بَابَ عُمَرَ فَاسْتَأْذَنَ فَقَالَ عُمَرُ وَاحِدَةٌ ‏.‏ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ عُمَرُ ثِنْتَانِ ‏.‏ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ عُمَرُ ثَلاَثٌ ‏.‏ ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتْبَعَهُ فَرَدَّهُ فَقَالَ إِنْ كَانَ هَذَا شَيْئًا حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهَا وَإِلاَّ فَلأَجْعَلَنَّكَ عِظَةً ‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَتَانَا فَقَالَ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الاِسْتِئْذَانُ ثَلاَثٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ - قَالَ - فَقُلْتُ أَتَاكُمْ أَخُوكُمُ الْمُسْلِمُ قَدْ أُفْزِعَ تَضْحَكُونَ انْطَلِقْ فَأَنَا شَرِيكُكَ فِي هَذِهِ الْعُقُوبَةِ ‏.‏ فَأَتَاهُ فَقَالَ هَذَا أَبُو سَعِيدٍ ‏.‏

Abu Sa'id reported that Abu Musa al-Ash'ari came to the door of 'Umar and sought his permission (to get into his house). Umar said:That is once. He again sought permission for the second time and 'Umar said: It is twice. He again sought permission for the third time and Umar said: It is thrice. He (Abu Musa) then went back. He (Hadrat 'Umar) (sent someone) to pursue him so that he should be brought back. Thereupon he (Hadrat Umar) said: If this act (of yours is in accordance with the command of Allah's Messenger (ﷺ) you have preserved in your mind, then it is all right, otherwise (I shall give you such a severe punishment) that it will serve as an example to others. Abu Sa'id said: Then he (Abu Musa) came to us and said: Do you remember Allah's Messenger (ﷺ) having said this:" Permission is for three times"? They (Companions sitting in that cothpany) began to laugh, whereupon he (Abu Musa) said: There comes to you your Muslim brother who had been perturbed and you laugh. Abu Sa'id said: (Well), you go forth. I shall be your participant in this trouble of yours. So he came to him (Hadrat Umar) and said: Here is Abu Sa'id (to support my statement)

بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں سعید بن یزید نے ابو نضرہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دروازے پر گئے اور اجازت طلب کی ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : یہ ایک بار ہے ۔ پھر انھوں نے دوبارہ اجازت طلب کی ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہ دوسری بار ہے ۔ پھر انہوں نے تیسری باراجازت طلب کی ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہ تیسری بار ہے ، پھر وہ لوٹ گئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( اگلے دن ) کسی کو ان کے پیچھے روانہ کیا اور انھیں دوبارہ بلا بھیجا ۔ پھر ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) ان سے کہا : اگر یہ ایسی بات ہے جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( سن کر ) یار رکھی ہے تو ٹھیک ہے ، اگر نہیں تو میں تمھیں ( دوسروں کے لیے نشان ) عبرت بنا دوں گا ۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : تو وہ ہمارے ہاں آئے اور کہنے لگے : تمھیں علم نہیں ہے کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " اجازت تین بار طلب کی جاتی ہے؟ " کہا : تو لوگ ہنسنے لگے ، کہا : میں نے ( لوگوں سے کہا : ) تمھارے پاس تمھارا مسلمان بھائی ڈرا ہوا آیا ہے اور تم ہنس رہے ہو؟ ( پھر حضرت موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : ) چلیں میں اس سزا میں آپ کا حصہ دار بنوں گاپھر وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور کہا : یہ ابو سعید ہیں ( یہ میرے گواہ ہیں ۔)

Sahih Muslim 38:45sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، وَسَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالاَ سَمِعْنَاهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِ بِشْرِ بْنِ مُفَضَّلٍ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، ‏.‏

This hadith bu been narrated on the authority of Abu Sa'id Khudri through another chain of transmitters

شعبہ نے ابو سلمہ جریری اور سعید بن یزید سے حدیث بیان کی ، جریری اور سعید بن یزید دونوں نے ابو نضر ہ سے روایت کی ، دونوں نے کہا : ہم نے انھیں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کر تے ہو ئے سنا ، جس طرح بشر بن مفضل نے ابو سلمہ سے روایت کی ہے ۔

Sahih Muslim 38:46sahih

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى، اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلاَثًا فَكَأَنَّهُ وَجَدَهُ مَشْغُولاً فَرَجَعَ فَقَالَ عُمَرُ أَلَمْ تَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ ‏.‏ فَدُعِيَ لَهُ فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ إِنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا ‏.‏ قَالَ لَتُقِيمَنَّ عَلَى هَذَا بَيِّنَةً أَوْ لأَفْعَلَنَّ ‏.‏ فَخَرَجَ فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالُوا لاَ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا إِلاَّ أَصْغَرُنَا ‏.‏ فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ خَفِيَ عَلَىَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ ‏.‏

Ubaid b. Umair reported that Abu Musa brought permission from Umar (to enter the house) three times, and finding him busy came back, whereupon Umar said (to the Inmates of his house):Did you not hear the voice of 'Abdullah b. Qais (the Kunya of Abu Musa Ash'ari)? He was called back. and he (Hadrat 'Umar) said: What did prompt you to do it? Thereupon, he said: This is how we have been commanded to act. He (Hadrat 'Umar) said: Bring evidence (in support of) it, otherwise I shall deal (strictly) with you. So he (Abu Musa) set out and came to the meeting of the Ansar and asked them to bear witness before hadrat Umar about this. They (the Companions present there) said: None but the youngest amongst us would bear out this fact. So Abu Sa'id Khudri (who was the youngest one in that company) said: We have been commanded to do so (while visiting the house of other people). Thereupon 'Umar said: This command of Allah's Messenger (ﷺ) had remained hidden from me up till now due to (my) business in the market

یحییٰ بن سعیدقطان نے ابن جریج سے روایت کی کہا : ہمیں عطاء نے عبید بن عمیر سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تین مرتبہ اجا زت طلب کی تو جیسے انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مشغول سمجھا اور واپس ہو گئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا ہم نے عبد اللہ بن قیس ( ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی آواز نہیں سنی تھی؟ ان کو اندر آنے کی اجازت دو ، ( حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس چلے گئے ہوئے تھے ، دوسرے دن ) حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا یا گیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : تم نے ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے کہا : ہمیں یہی ( کرنے کا ) حکم دیا جا تا تھا ۔ انھوں نے کہا : تم اس پر گواہی دلاؤ ، نہیں تو میں ( وہ ) کروں گا ( جو کروںگا ) وہ ( حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نکلے انصار کی مجلس میں آئے انھوں نے کہا : اس بات پر تمھا رے حق میں اور کو ئی نہیں ، ہم میں سے جو سب سے چھوٹا ہے وہی گواہی دے گا ۔ ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ) کھڑے ہو کر کہا : ہمیں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ) اسی کا حکم دیا جا تا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھ سے اوجھل رہ گیا ، بازاروں میں ہو نے والے سودوں نے مجھے اس سے مشغول کردیا ۔

Sahih Muslim 38:47sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، - يَعْنِي ابْنَ شُمَيْلٍ - قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ النَّضْرِ أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ ‏.‏

This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Juraij, but there is no mention of the words" business in the market

ابو عاصم اور نضر بن شمیل دونوں نے کہا : ہمیں ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ۔ اور نضر کی حدیث میں انھوں نے " بازاروں میں ہو نے والے سودوں نے مجھے اس سے مشغول کردیا ۔ " کے الفا ظ بیان نہیں کیے ۔

Sahih Muslim 38:48sahih

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ، يَحْيَى عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ جَاءَ أَبُو مُوسَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ ‏.‏ فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ هَذَا أَبُو مُوسَى السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ هَذَا الأَشْعَرِيُّ ‏.‏ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ رُدُّوا عَلَىَّ رُدُّوا عَلَىَّ ‏.‏ فَجَاءَ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَى مَا رَدَّكَ كُنَّا فِي شُغْلٍ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الاِسْتِئْذَانُ ثَلاَثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلاَّ فَارْجِعْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لَتَأْتِيَنِّي عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ وَإِلاَّ فَعَلْتُ وَفَعَلْتُ ‏.‏ فَذَهَبَ أَبُو مُوسَى قَالَ عُمَرُ إِنْ وَجَدَ بَيِّنَةً تَجِدُوهُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ عَشِيَّةً وَإِنْ لَمْ يَجِدْ بَيِّنَةً فَلَمْ تَجِدُوهُ ‏.‏ فَلَمَّا أَنْ جَاءَ بِالْعَشِيِّ وَجَدُوهُ قَالَ يَا أَبَا مُوسَى مَا تَقُولُ أَقَدْ وَجَدْتَ قَالَ نَعَمْ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ ‏.‏ قَالَ عَدْلٌ ‏.‏ قَالَ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ مَا يَقُولُ هَذَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ذَلِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ فَلاَ تَكُونَنَّ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّمَا سَمِعْتُ شَيْئًا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَثَبَّتَ ‏.‏

Abu Musa Ash'ari reported that he went to 'Umar b. Khattab and greeted him by saying:As-Salamu-'Alaikum, here is 'Abdullah b. Qais, but he did not permit him (to get in). He (Abu Musa Ash'ari) again greeted him with as-Salamu-'Alaikum and said: Here is Abu Musa, but he (Hadrat 'Umar) did not permit him (to get in). He again said: As-Salam-u-'Alaikum, (and said) here is Ash'ari, (then receiving no response he came back). He (Hadrat 'Umar) said: Bring him back to me, bring him back to me So he went there (in the presence of Hadrat 'Umar) and he said to him: Abu Musa, what made you go back, while we were busy in some work? He said: I heard Allah's Messenger (may. peace be upon him) as saying: Permission should be sought thrice. And if you are permitted, (then get in), otherwise go back. He said: Bring witness to this fact, otherwise I shall do this and that, i. e. I shall punish you. Abu Musa went away and 'Umar said to him (on his departure): It he (Abu Musa) finds a witness he should meet him by the side of the pulpit in the evening and it he does not find a witness you would not find him there. When it was evening he (Hadrat 'Umar) found him (Abu Musa) there. He (Hadrat 'Umar) said: Abu Musa, have you been able to find a witness to what you have said? He said: Yes. Here is Ubayy bin Ka'b, whereupon he (Hadrat 'Umar) said: Yes, he is an authentic (witness). He (Hadrat 'Umar) said: Abu Tufail (the kunya of Ubayy b. Ka'b), what does he (Abu Musa say? Thereupon he said: Ibn Khattab, I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying so. Do not prove to be a hard (task-master) for the Companions of Allah's Messenger (ﷺ), whereupon he Hadrat 'Umar said: Hallowed be Allah. I had heard something (in this connection), but I wished it to be established (as an undeniable fact)

افضل بن موسیٰ نے کہا : ہمیں طلحہ بن یحییٰ نے ابو بردہ سے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور کہا : السلام علیکم ، عبد اللہ بن قیس ( حاضر ہوا ) ہے ، انھوں نے آنے کی اجازت نہ دی ۔ انھوں نے پھر کہا : السلام علیکم ، یہ ابو موسیٰ ہے ، السلام علیکم ، یہ اشعری ہے ، اس کے بعد چلے گئے ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ان کو میرے پاس واپس لا ؤ ۔ میرے پاس واپس لا ؤ ۔ وہ آئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ابو موسیٰ !آپ کو کس بات نے لوٹا دیا ؟ ہم کا م میں مشغول تھے ۔ انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فر ما یا : "" اجازت تین بار طلب کی جا ئے ، اگر تم کو اجازت دے دی جا ئے ( توآ جاؤ ) ورنہ لوٹ جا ؤ ۔ "" حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یا تو آپ اس پر گواہ لا ئیں گے یا پھر میں یہ کروں گا تو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ چلے گئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ابو موسیٰ کو گواہ مل گیا تو شام کو وہ تمھیں منبر کے پاس ملیں گے اور اگر ان کو گواہ نہیں ملا تو وہ تمھیں نہیں ملیں گے ، جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شام کو آئے تو انھوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو موجود پا یا ، انھوں نے کہا ابو موسیٰ !کیا کہتے ہیں ؟آپ کو گواہ مل گیا ؟ انھوں نے کہا : ہاں! ابی بن کعب ہیں انھوں ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : وہ قابل اعتماد گواہ ہیں ۔ ( پھر ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر ) کہا : ابو طفیل !یہ ( ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کیا کہتے ہیں ؟ انھوں ( حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : ابن خطاب !میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ یہی فر ما رہے تھے ۔ لہٰذا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین پر عذاب نہ بنیں ۔ انھوں نے کہا : سبحان اللہ !میں نے ایک چیز سنی اور چاہا کہ اس کا ثبوت حاصل کروں ۔

Sahih Muslim 38:50sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَدَعَوْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَنَا ‏.‏ قَالَ فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ ‏"‏ أَنَا أَنَا ‏"‏ ‏.‏

Jabir b. Abdullah reported:I came to Allah's Apostle (ﷺ) and called him (with a view to seeking permission). whereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Who is it? I said: It is I. Thereupon he (the Holy Prophet) came out saying: It is I. it is I

علی بن ہاشم نے طلحہ بن یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، مگر انھوں نے کہا : تو انھوں ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : ابو منذر! ( ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ) کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی تھی ؟انھوں نے کہا : ہاں ، ابن خطاب !تو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے لیے عذاب نہ بنیں اور انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول : سبحان اللہ اور اس کے بعد کا حصہ ذکر نہیں کیا ۔

Sahih Muslim 38:51sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا - وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ أَنَا ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَنَا أَنَا ‏"‏ ‏.‏

Jabir b. Abdullah reported:I sought permission from Allah's Messenger (may peace be upoh him) to see him. He said: Who is it? I said: It is I. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: It is I. it is I (these words lead me to no conclusion)

عبد اللہ بن ادریس نے شبعہ سے انھوں نے محمد بن منکدر سے ، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ضر ہوا اور آواز دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا " کون ہے " ؟میں نے کہا : میں ۔ آپ باہر تشریف لا ئے اور آپ فرما رہے تھے َ " میں ، میں ( کیسا جواب ہے؟)