Major Sins (Al-Kaba'ir)
الكبائر
In Islam, *al-Kaba'ir*, or Major Sins, refer to deeply serious transgressions that carry severe warnings in the Quran and Sunnah. These acts are distinguished from lesser sins due to their grave impact and the profound spiritual harm they inflict. Understanding and avoiding *al-Kaba'ir* is a cornerstone of piety and ethical living for a Muslim. The Quran repeatedly emphasizes the importance of steering clear of these grave offenses. For instance, believers are described as [those who avoid the major sins and immoralities] and [those who avoid the major sins and immoralities, only committing slight ones]. Allah promises immense reward and forgiveness for those who strive in this regard, stating, [If you avoid the major sins which you are forbidden, We will remove from you your lesser sins and admit you to a noble entrance [into Paradise]]. Examples of *al-Kaba'ir* include associating partners with Allah (*shirk*), murder, and unlawful sexual intercourse, as warned in [And whoever should do that will meet a penalty]. This categorization encourages Muslims to prioritize avoiding the most harmful actions while seeking Allah's vast forgiveness for their shortcomings.
Quran 4 verses
إِن تَجْتَنِبُوا۟ كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا
In tajtaniboo kabaaa'ira maa tunhawna 'anhu nukaffir 'ankum saiyiaatikum wa nudkhilkum mudkhalan kareemaa
If you avoid the major sins which you are forbidden, We will remove from you your lesser sins and admit you to a noble entrance [into Paradise].
اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے
Commentary
وَٱلَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ ٱلنَّفْسَ ٱلَّتِى حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا
Wallazeena laa yad'oona ma'al laahi ilaahan aakhara wa laa yaqtuloonan nafsal latee harramal laahu illaa bilhaqqi wa laa yaznoon; wa mai yaf'al zaalika yalqa asaamaa
And those who do not invoke with Allah another deity or kill the soul which Allah has forbidden [to be killed], except by right, and do not commit unlawful sexual intercourse. And whoever should do that will meet a penalty.
اور وہ جو خدا کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جن جاندار کو مار ڈالنا خدا نے حرام کیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے مگر جائز طریق پر (یعنی شریعت کے مطابق) اور بدکاری نہیں کرتے۔ اور جو یہ کام کرے گا سخت گناہ میں مبتلا ہوگا
Commentary
وَٱلَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَٰٓئِرَ ٱلْإِثْمِ وَٱلْفَوَٰحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا۟ هُمْ يَغْفِرُونَ
Wallazeena yajtaniboona kabaaa'iral ismi wal fawaa hisha wa izaa maa ghadiboo hum yaghfiroon
And those who avoid the major sins and immoralities, and when they are angry, they forgive,
اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں
Commentary
ٱلَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَٰٓئِرَ ٱلْإِثْمِ وَٱلْفَوَٰحِشَ إِلَّا ٱللَّمَمَ إِنَّ رَبَّكَ وَٰسِعُ ٱلْمَغْفِرَةِ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِى بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ فَلَا تُزَكُّوٓا۟ أَنفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓ
Allazeena yajtaniboona kabaaa'iral ismi walfawaa hisha illal lamam; inna rabbaka waasi'ul maghfirah; huwa a'lamu bikum iz ansha akum minal ardi wa iz antum ajinnatun fee butooni umma haatikum falaa tuzakkooo anfusakum huwa a'lamu bimanit taqaa
Those who avoid the major sins and immoralities, only [committing] slight ones. Indeed, your Lord is vast in forgiveness. He was most knowing of you when He produced you from the earth and when you were fetuses in the wombs of your mothers. So do not claim yourselves to be pure; He is most knowing of who fears Him.
جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے۔ وہ تم کو خوب جانتا ہے۔ جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچّے تھے۔ تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ۔ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے
Commentary
Hadith 24 traditions
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ أَوْ مَكَّةَ، فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ "، ثُمَّ قَالَ " بَلَى، كَانَ أَحَدُهُمَا لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ، وَكَانَ الآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ". ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا كِسْرَتَيْنِ، فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا كِسْرَةً. فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ فَعَلْتَ هَذَا قَالَ " لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ تَيْبَسَا أَوْ إِلَى أَنْ يَيْبَسَا ".
Narrated Ibn `Abbas:Once the Prophet, while passing through one of the graveyards of Medina or Mecca heard the voices of two persons who were being tortured in their graves. The Prophet (ﷺ) said, "These two persons are being tortured not for a major sin (to avoid)." The Prophet (ﷺ) then added, "Yes! (they are being tortured for a major sin). Indeed, one of them never saved himself from being soiled with his urine while the other used to go about with calumnies (to make enmity between friends). The Prophet (ﷺ) then asked for a green leaf of a date-palm tree, broke it into two pieces and put one on each grave. On being asked why he had done so, he replied, "I hope that their torture might be lessened, till these get dried
ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے نقل کیا، وہ مجاہد سے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مدینہ یا مکے کے ایک باغ میں تشریف لے گئے۔ ( وہاں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کی آواز سنی جنھیں ان کی قبروں میں عذاب کیا جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان پر عذاب ہو رہا ہے اور کسی بہت بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بات یہ ہے کہ ایک شخص ان میں سے پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا اور دوسرا شخص چغل خوری کیا کرتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کھجور کی ) ایک ڈالی منگوائی اور اس کو توڑ کر دو ٹکڑے کیا اور ان میں سے ( ایک ایک ٹکڑا ) ہر ایک کی قبر پر رکھ دیا۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لیے کہ جب تک یہ ڈالیاں خشک ہوں شاید اس وقت تک ان پر عذاب کم ہو جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ". ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً، فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً. قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا قَالَ " لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا ". قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا مِثْلَهُ " يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) once passed by two graves and said, "These two persons are being tortured not for a major sin (to avoid). One of them never saved himself from being soiled with his urine, while the other used to go about with calumnies (to make enmity between friends)." The Prophet (ﷺ) then took a green leaf of a date-palm tree, split it into (pieces) and fixed one on each grave. They said, "O Allah's Apostle! Why have you done so?" He replied, "I hope that their punishment might be lessened till these (the pieces of the leaf) become dry." (See the footnote of Hadith)
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن حازم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے مجاہد کے واسطے سے روایت کیا، وہ طاؤس سے، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں پر گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں قبر والوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے گناہ پر نہیں۔ ایک تو ان میں سے پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کیا کرتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہری ٹہنی لے کر بیچ سے اس کے دو ٹکڑے کئے اور ہر ایک قبر پر ایک ٹکڑا گاڑ دیا۔ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایسا ) کیوں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شاید جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں ان پر عذاب میں کچھ تخفیف رہے۔ ابن المثنی نے کہا کہ اس حدیث کو ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، انہوں نے مجاہد سے اسی طرح سنا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الأَرْضِ، وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا وَيَقُولُونَ إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ، وَعَفَا الأَثَرْ، وَانْسَلَخَ صَفَرْ، حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ. قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الْحِلِّ قَالَ " حِلٌّ كُلُّهُ ".
Narrated Ibn `Abbas:The people (of the Pre-Islamic Period) used to think that to perform `Umra during the months of Hajj was one of the major sins on earth. And also used to consider the month of Safar as a forbidden (i.e. sacred) month and they used to say, "When the wounds of the camel's back heal up (after they return from Hajj) and the signs of those wounds vanish and the month of Safar passes away then (at that time) `Umra is permissible for the one who wishes to perform it." In the morning of the 4th of Dhul- Hijja, the Prophet (ﷺ) and his companions reached Mecca, assuming Ihram for Hajj and he ordered his companions to make their intentions of the Ihram for `Umra only (instead of Hajj) so they considered his order as something great and were puzzled, and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What kind (of finishing) of Ihram is allowed?" The Prophet (ﷺ) replied, "Finish the Ihram completely like a non-Muhrim (you are allowed everything)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ عرب سمجھتے تھے کہ حج کے دنوں میں عمرہ کرنا روئے زمین پر سب سے بڑا گناہ ہے۔ یہ لوگ محرم کو صفر بنا لیتے اور کہتے کہ جب اونٹ کی پیٹھ سستا لے اور اس پر خوب بال اگ جائیں اور صفر کا مہینہ ختم ہو جائے ( یعنی حج کے ایام گزر جائیں ) تو عمرہ حلال ہوتا ہے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ چوتھی کی صبح کو حج کا احرام باندھے ہوئے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اپنے حج کو عمرہ بنا لیں، یہ حکم ( عرب کے پرانے رواج کی بنا پر ) عام صحابہ پر بڑا بھاری گزرا۔ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! عمرہ کر کے ہمارے لیے کیا چیز حلال ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام چیزیں حلال ہو جائیں گی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، وَسُلَيْمَانُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،. قَالَ وَحَدَّثَنِي وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَأَلْتُ ـ أَوْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ أَىُّ الذَّنْبِ عِنْدَ اللَّهِ أَكْبَرُ قَالَ " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهْوَ خَلَقَكَ ". قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ " ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ". قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ " أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ ". قَالَ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ تَصْدِيقًا لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم {وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ}
Narrated `Abdullah:I or somebody, asked Allah's Messenger (ﷺ) "Which is the biggest sin in the Sight of Allah?" He said, "That you set up a rival (in worship) to Allah though He Alone created you." I asked, "What is next?" He said, "Then, that you kill your son, being afraid that he may share your meals with you." I asked, "What is next?" He said, "That you commit illegal sexual intercourse with the wife of your neighbor." Then the following Verse was revealed to confirm the statement of Allah's Messenger (ﷺ): "Those who invoke not with Allah, any other god, nor kill life as Allah has forbidden except for just cause, nor commit illegal sexual intercourse
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ مجھ سے منصور اور سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے، ان سے ابومیسرہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (سفیان ثوری نے کہا کہ) اور مجھ سے واصل نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا، یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا اس کے بعد کون سا؟ فرمایا کہ اس کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالو کہ وہ تمہاری روزی میں شریک ہو گی۔ میں نے پوچھا اس کے بعد کون سا؟ فرمایا کہ اس کے بعد یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ راوی نے بیان کیا کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تصدیق کے لیے نازل ہوئی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق» کہ ”اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جس ( انسان ) کی جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے مگر ہاں حق پر اور نہ وہ زنا کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ". قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ". وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ " أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ، أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ ". فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى قُلْتُ لاَ يَسْكُتُ.
Narrated Abu Bakra:Allah's Messenger (ﷺ) said thrice, "Shall I not inform you of the biggest of the great sins?" We said, "Yes, O Allah's Messenger (ﷺ)" He said, "To join partners in worship with Allah: to be undutiful to one's parents." The Prophet (ﷺ) sat up after he had been reclining and added, "And I warn you against giving forged statement and a false witness; I warn you against giving a forged statement and a false witness." The Prophet kept on saying that warning till we thought that he would not stop
مجھ سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد واسطی نے بیان کیا، ان سے جریری نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ ہم نے عرض کیا ضرور بتائیے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی ( سب سے بڑے گناہ ہیں ) آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے مسلسل دہراتے رہے اور میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش نہیں ہوں گے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَبْرَيْنِ فَقَالَ " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا هَذَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ، وَأَمَّا هَذَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ". ثُمَّ دَعَا بِعَسِيبٍ رَطْبٍ، فَشَقَّهُ بِاثْنَيْنِ، فَغَرَسَ عَلَى هَذَا وَاحِدًا وَعَلَى هَذَا وَاحِدًا ثُمَّ قَالَ " لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا، مَا لَمْ يَيْبَسَا ".
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) passed by two graves and said, "Both of them (persons in the grave) are being tortured, and they are not being tortured for a major sin. This one used not to save himself from being soiled with his urine, and the other used to go about with calumnies (among the people to rouse hostilities, e.g., one goes to a person and tells him that so-and-so says about him such-and-such evil things). The Prophet (ﷺ) then asked for a green leaf of a date-palm tree, split it into two pieces and planted one on each grave and said, "It is hoped that their punishment may be abated till those two pieces of the leaf get dried." (See Hadith No 215, Vol)
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ بلخی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے مجاہد سے سنا، وہ طاؤس سے بیان کرتے تھے اور وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا کہ ان دونوں مردوں کو عذاب ہو رہا ہے اور یہ کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب میں گرفتار نہیں ہیں بلکہ یہ ( ایک قبر کا مردہ ) اپنے پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا ( یا پیشاب کرتے وقت پردہ نہیں کرتا تھا ) اور یہ ( دوسری قبر والا مردہ ) چغل خور تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہری شاخ منگائی اور اسے دو ٹکڑوں میں توڑ کر دونوں قبروں پر گاڑ دیا اس کے بعد فرمایا کہ جب تک یہ شاخیں سوکھ نہ جائیں اس وقت تک شاید ان دونوں کا عذاب ہلکا رہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَعْضِ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا فَقَالَ " يُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرَةٍ، وَإِنَّهُ لَكَبِيرٌ، كَانَ أَحَدُهُمَا لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَكَانَ الآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ". ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا بِكِسْرَتَيْنِ أَوْ ثِنْتَيْنِ، فَجَعَلَ كِسْرَةً فِي قَبْرِ هَذَا، وَكِسْرَةً فِي قَبْرِ هَذَا، فَقَالَ " لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا ".
Narrated Ibn `Abbas:Once the Prophet (ﷺ) went through the grave-yards of Medina and heard the voices of two humans who were being tortured in their graves. The Prophet (ﷺ) said, "They are being punished, but they are not being punished because of a major sin, yet their sins are great. One of them used not to save himself from (being soiled with) the urine, and the other used to go about with calumnies (Namima)." Then the Prophet asked for a green palm tree leaf and split it into two pieces and placed one piece on each grave, saying, "I hope that their punishment may be abated as long as these pieces of the leaf are not dried
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیدہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں منصور بن معمر نے، انہیں مجاہد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے کسی باغ سے تشریف لائے تو آپ نے دو ( مردہ ) انسانوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے انہیں عذاب نہیں ہو رہا ہے۔ ان میں سے ایک شخص پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خور تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ایک ہری شاخ منگوائی اور اسے دو حصوں میں توڑا اور ایک ٹکڑا ایک کی قبر پر اور دوسرا دوسرے کی قبر پر گاڑ دیا۔ پھر فرمایا شاید کہ ان کے عذاب میں اس وقت تک کے لیے کمی کر دی جائے، جب تک یہ سوکھ نہ جائیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ". قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ".
Narrated Abu Bakra:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Shall I inform you of the biggest of the great sins?" They said, "Yes, O Allah's Apostle!" He said, "To join partners in worship with Allah, and to be undutiful to one's parents
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ایاس جریری نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کی خبر نہ دوں۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا فِرَاسٌ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْكَبَائِرُ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ ".
Narrated `Abdullah bin `Amr:The Prophet (ﷺ) said, "The biggest sins are: To join others in worship with Allah; to be undutiful to one's parents; to kill somebody unlawfully; and to take an oath Al-Ghamus
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو نضر نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، کہا ہم سے فراس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کی ناحق جان لینا اور «يمين الغموس .» قصداً جھوٹی قسم کھانے کو کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، وَسُلَيْمَانُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ قَالَ " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهْوَ خَلَقَكَ ". قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ " أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ ". قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ " أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ ". قَالَ يَحْيَى وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِثْلَهُ، قَالَ عَمْرٌو فَذَكَرْتُهُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَكَانَ حَدَّثَنَا عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ وَوَاصِلٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ قَالَ دَعْهُ دَعْهُ.
Narrated `Abdullah bin Mas`ud:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Which is the biggest sin?" He said, "To set up rivals to Allah by worshipping others though He alone has created you." I asked, "What is next?" He said, "To kill your child lest it should share your food." I asked, "What is next?" He said, "To commit illegal sexual intercourse with the wife of your neighbor
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے منصور اور سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابوائل نے، ان سے ابومیسرہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے۔ فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک بناؤ، حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس خطرے سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے کھانے میں تمہارے ساتھ شریک ہو گی۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو، یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے واصل نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر اسی حدیث کی طرح بیان کیا۔ عمرو نے کہا کہ پھر میں نے اس حدیث کا ذکر عبدالرحمٰن بن مہدی سے کیا اور انہوں نے ہم سے یہ حدیث سفیان ثوری سے بیان کی، ان سے اعمش، منصور اور واصل نے، ان سے ابوائل نے اور ان سے ابومیسرہ نے۔ عبدالرحمٰن بن مہدی نے کہا کہ تم اس سند کو جانے بھی دو۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْكَبَائِرُ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ". أَوْ قَالَ " الْيَمِينُ الْغَمُوسُ ". شَكَّ شُعْبَةُ. وَقَالَ مُعَاذٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ " الْكَبَائِرُ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ". أَوْ قَالَ " وَقَتْلُ النَّفْسِ ".
Narrated `Abdullah bin `Amr:The Prophet (ﷺ) said, "Al-Ka`ba'ir (the biggest sins) are: To join others (as partners) in worship with Allah, to be undutiful to one's parents," or said, "to take a false oath." (The sub-narrator, Shu`ba is not sure) Mu`adh said: Shu`ba said, "Al-Ka`ba'ir (the biggest sins) are: (1) Joining others as partners in worship with Allah, (2) to take a false oath (3) and to be undutiful to one's parents," or said, "to murder (someone unlawfully)
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے فراس نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا یا فرمایا کہ ناحق دوسرے کا مال لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا ہیں۔“ شک شعبہ کو تھا اور معاذ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی کا مال ناحق لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا اور والدین کی نافرمانی کرنا یا کہا کہ کسی کی جان لینا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْكَبَائِرُ ". وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَوْلُ الزُّورِ ". أَوْ قَالَ " وَشَهَادَةُ الزُّورِ ".
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "The biggest of Al-Ka`ba'ir (the great sins) are (1) to join others as partners in worship with Allah, (2) to murder a human being, (3) to be undutiful to one's parents (4) and to make a false statement," or said, "to give a false witness
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گناہ کبیرہ“ اور ہم سے عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبکر نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی کی ناحق جان لینا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا ہیں یا فرمایا کہ جھوٹی گواہی دینا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، وَحَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ ـ ثَلاَثًا ـ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ ". فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ.
Narrated Abu Bakra:The Prophet. said, "The biggest of the great sins are: To join others in worship with Allah, to be undutiful to one's parents, and to give a false witness." He repeated it thrice, or said, "....a false statement," and kept on repeating that warning till we wished he would stop saying it. (See Hadith No.7, Vol)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے، کہا ہم سے سعید بن ایاس جریری نے، (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے، کہا ہم کو سعید جریری نے خبر دی، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد (ابوبکرہ صحابی) سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بڑے سے بڑا گناہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے اور ماں باپ کو ستانا ( ان کی نافرمانی کرنا ) اور جھوٹی گواہی دینا، جھوٹی گواہی دینا، تین بار یہی فرمایا یا یوں فرمایا اور جھوٹ بولنا برابر باربار آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے آرزو کی کہ کاش آپ خاموش ہو جاتے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْكَبَائِرُ قَالَ " الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ". قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ " ثُمَّ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ". قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ " الْيَمِينُ الْغَمُوسُ ". قُلْتُ وَمَا الْيَمِينُ الْغَمُوسُ قَالَ " الَّذِي يَقْتَطِعُ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا كَاذِبٌ ".
Narrated `Abdullah bin `Amr:A bedouin came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What are the biggest sins?: The Prophet (ﷺ) said, "To join others in worship with Allah." The bedouin said, "What is next?" The Prophet (ﷺ) said, "To be undutiful to one's parents." The bedouin said "What is next?" The Prophet (ﷺ) said "To take an oath 'Al-Ghamus." The bedouin said, "What is an oath 'Al-Ghamus'?" The Prophet (ﷺ) said, "The false oath through which one deprives a Muslim of his property (unjustly)
ہم سے محمد بن حسین بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ کوفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شیبان نحوی نے خبر دی، انہوں نے فراش بن یحییٰ سے، انہوں نے عامر شعبی سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ ایک گنوار ( نام نامعلوم ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہنے لگا: یا رسول اللہ! بڑے بڑے گناہ کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔“ اس نے پوچھا پھر کون سا گناہ؟ آپ نے فرمایا ”ماں باپ کو ستانا۔“ پوچھا: پھر کون سا گناہ؟ آپ نے فرمایا ” «غموس .» قسم کھانا۔“ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! «غموس .» قسم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جان بوجھ کر کسی مسلمان کا مال مار لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا۔“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهْوَ خَلَقَكَ ". قُلْتُ إِنَّ ذَلِكَ لَعَظِيمٌ. قُلْتُ ثُمَّ أَىّ قَالَ " ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ تَخَافُ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ ". قُلْتُ ثُمَّ أَىّ قَالَ " ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ ".
Narrated `Abdullah:I asked Allah's Messenger (ﷺ) "What is the biggest sin in the sight of Allah?" He said, "To set up rivals unto Allah though He alone created you." I said, "In fact, that is a tremendous sin," and added, "What next?" He said, "To kill your son being afraid that he may share your food with you." I further asked, "What next?" He said, "To commit illegal sexual intercourse with the wife of your neighbor
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے، ان سے عمرو بن شرجیل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا گناہ اللہ کے یہاں سب سے بڑا ہے؟ فرمایا یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے کہا یہ تو بہت بڑا گناہ ہے۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے بچے کو اس خطرہ کی وجہ سے قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا۔ میں نے عرض کیا کہ پھر کون؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْكَبَائِرِ قَالَ " الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَقَوْلُ الزُّورِ " .
Anas narrated from the Apostle (ﷺ) about the major sins. He (the Holy Prophet) observed:Associating anyone with Allah, disobedience to parents, killing a person and false utterance
خالد بن حارث نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نےکہا : ہمیں عبید اللہ بن ابی بکر نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نےنبی ﷺ سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں خبر دی ، آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، کسی جان کو ( ناحق ) قتل کرنا اور جھوٹ بولنا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْكَبَائِرَ - أَوْ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ - فَقَالَ " الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ " . وَقَالَ " أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ " . قَالَ " قَوْلُ الزُّورِ " . أَوْ قَالَ " شَهَادَةُ الزُّورِ " . قَالَ شُعْبَةُ وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ شَهَادَةُ الزُّورِ .
Ubaidullah b. Abu Bakr said:I heard Anas b. Malik saying: The Messenger of Allah (ﷺ) talked about the major sins, or he was asked about the major sins. Upon this he observed: Associating anyone with Allah, killing of a person, disobedience to parents. He (the Prophet further) said: Should I not inform you about the gravest of the major sins, and (in this connection) observed: False utterance or false testimony. Shu'ba said. It was most probably" false testimony
محمد بن جعفر نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھ سے عبید اللہ بن ابی بکر نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے بڑے گناہوں کا تذکرہ فرمایا ( یاآپ سے بڑے گناہوں کے بارے میں سوال کیا گیا ) تو آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، کسی کو ناحق قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا ۔ ‘ ‘ ( پھر ) آپ نے فرمایا : ’’ کیا تمہیں کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں ؟ ‘ ‘ فرمایا : ’’جھوٹ بولنا ( یا فرمایا : جھوٹی گواہی دینا ) ‘ ‘ شعبہ کاقول ہے : میرا ظن غالب یہ ہے کہ وہ ’’ جھوٹی گواہی ‘ ‘ ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ " نَعَمْ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ " .
It is narrated on the authority of 'Abdullah b. Amr b. al-'As that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:Abusing one's parents is one of the major sins. They (the hearers) said: Messenger of Allah, does a man abuse his parents too? He (the Holy Prophet) replied: Yes, one abuses the father of another man, who in turn abuses his father. One abuses his mother and he in turn abuses his (the former's) mother
(یزید بن عبد اللہ ) ابن ہاد نے سعد بن ابراہیم سے ، انہوں نے حمید بن عبد الرحمان سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ آدمی کا اپنےوالدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے ۔ ‘ ‘ ( صحابہ ) کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی دیتا ہے ؟ فرمایا : ’’ہاں! انسان کسی کے باپ کوگالی دیتا ہے تو وہ ا س کے باپ کو گالی دیتا ہے ۔ جب یہ کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتاہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، - يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي أَيُّوبَ - قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ، قَالَ كُنْتُ قَدْ شَغَفَنِي رَأْىٌ مِنْ رَأْىِ الْخَوَارِجِ فَخَرَجْنَا فِي عِصَابَةٍ ذَوِي عَدَدٍ نُرِيدُ أَنْ نَحُجَّ ثُمَّ نَخْرُجَ عَلَى النَّاسِ - قَالَ - فَمَرَرْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَإِذَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ - جَالِسٌ إِلَى سَارِيَةٍ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَإِذَا هُوَ قَدْ ذَكَرَ الْجَهَنَّمِيِّينَ - قَالَ - فَقُلْتُ لَهُ يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُونَ وَاللَّهُ يَقُولُ { إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ} وَ { كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا} فَمَا هَذَا الَّذِي تَقُولُونَ قَالَ فَقَالَ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ فَهَلْ سَمِعْتَ بِمَقَامِ مُحَمَّدٍ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - يَعْنِي الَّذِي يَبْعَثُهُ اللَّهُ فِيهِ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ فَإِنَّهُ مَقَامُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم الْمَحْمُودُ الَّذِي يُخْرِجُ اللَّهُ بِهِ مَنْ يُخْرِجُ . - قَالَ - ثُمَّ نَعَتَ وَضْعَ الصِّرَاطِ وَمَرَّ النَّاسِ عَلَيْهِ - قَالَ - وَأَخَافُ أَنْ لاَ أَكُونَ أَحْفَظُ ذَاكَ - قَالَ - غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ زَعَمَ أَنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ بَعْدَ أَنْ يَكُونُوا فِيهَا - قَالَ - يَعْنِي فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمْ عِيدَانُ السَّمَاسِمِ . قَالَ فَيَدْخُلُونَ نَهْرًا مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَيَغْتَسِلُونَ فِيهِ فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمُ الْقَرَاطِيسُ . فَرَجَعْنَا قُلْنَا وَيْحَكُمْ أَتُرَوْنَ الشَّيْخَ يَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَجَعْنَا فَلاَ وَاللَّهِ مَا خَرَجَ مِنَّا غَيْرُ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَوْ كَمَا قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ .
Yazid al-Faqir said:This view of the Khawarij (i.e. those who commit major sins and would be eternally doomed to Hell) had obsessed me, and we set out in a large group intending to perform the Hajj and then going to the people (for the propagation of the views of the Khawarij). He (the narrator) said: We happened to past by Medina and found there Jabir b. 'Abdullah sitting near a column narrating to the people (the ahadith of) the Prophet (ﷺ). When he mentioned the inhabitants of Hell, I said: O companion of the Messenger of Allah what is this that you narrate, whereas Allah says: "Verily whomsoever Thou shall commit to the Fire, Thou indeed humiliateth him" (al-Qur'an, iii. 192); and All those who endeavored to get out of that would be thrown back into it" (al-Qur'an, xxxi i. 20)? So what is it that you say? He said: Have you read the Qur'an? I said: Yes. He said: Have you heard about the (exalted) position of Muhammad (ﷺ), i.e. to which Allah would raise, him? I said: Yes. He said: Verily the position of Muhammad (ﷺ) is that of great glory and that is by which Allah would bring out whomsoever He would wish to bring out. He then described the Path (the Bridge) and the passing of the people over it, and said: I am afraid I may not have remembered (other things) but this much is still in my memory that people would come out of the Hell after having gone into it, and he said: They would come out of it as if they were the wood of the ebony tree. He (the narrator said: They would enter a river, one or the rivers of Paradise, and would bathe in it, and then come out as if they were (white like) paper. We then turned back and said: Woe be upon you! How can this old man tell a lie against the Messenger of Allah (ﷺ)? We turned back (from the views of the Khawarij), and by God every one of us abandoned this (band of Khawarij) except one man. A similar statement has been made by Abu Nu'aim
م ، یعنی محمد بن ابی ایوب نے کہا : مجھے یزید الفقیر نےحدیث سنائی ، انہوں نے کہا : کہ خارجیوں کے نظریات میں سے ایک بات میرے دل میں گھر کر گئی تھی ۔ ہم ایک جماعت میں نکلے جس کی اچھی خاصی تعداد تھی ۔ ہمارا ارادہ تھا کہ حج کریں اور پھر لوگوں کو خلاف خروج کریں ( جنگ کریں ۔ ) ہم مدینہ سے گزرے تو ہم نےدیکھا کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ( ایک ستون کے پاس بیٹھے ) لوگوں کو رسول اللہﷺ کی احادیث سنا رہے ہیں ، انہوں نے اچانک «الجهميين» ( جہنم سے نکل کر جنت میں پہنچنے والے لوگوں ) کا تذکرہ کیا تو میں ان سے پوچھا : اے رسول اللہ کے ساتھی! یہ آپ کیا بیان کر رہے ہیں ؟ حالانکہ اللہ فرماتا ہے : ’’بے شک جس کو تو نے آگ میں داخل کر دیا اس کو رسوا کر دیا ۔ ‘ ‘ اور : ’’وہ جب بھی اس سے نکلنے کا ارادہ کریں گے ، اسی میں لوٹا دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘ تویہ کیا بات ہے جو آپ کہہ رہے ہیں ؟ ( یزیدنے ) کہا : انہوں نے ( جواب میں ) کہا : کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کی : ہاں!انہوں نے کہا : کیا تم نے محمدﷺ کے مقام کے بارے میں سنا ہے ، یعنی وہ مقام جس پر قیامت کے دن آپ کومبعوث کیا جائے گا؟ میں نے کہا : ہاں! انہوں نے کہا : بے شک و ہ محمدﷺ کا مقام محمود ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جنہیں ( جہنم سے ) نکالنا ہو گا نکالے گا ، پھر انہو ں نے ( جہنم پر ) پل رکھے جانے اور اس پر سے لوگوں کے گزرنے کا منظر بیان کیا ۔ ( یزید نے ) کہا : مجھے ڈر ہے کہ میں اس کو پوری طرح یاد نہیں رکھ سکا ہوں ۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے بتایا : کچھ لوگ جہنم میں چلے جانے کے بعد اس سے نکلیں گے ، یعنی انہوں نےکہا : وہ اس طرح نکلیں گے جیسے وہ ’’تلوں ‘ ‘ ( کےپودوں ) کی لکڑیاں ہوں ، وہ جنت کی نہروں میں سے ایک نہر میں داخل ہو ں گے اور اس میں نہائیں گے ، پھر اس میں سے ( کورے ) کاغذوں کی طرح ( ہوکر ) نکلیں گے ، پھر ( یہ حدیث سن کر ) ہم واپس آئے اورہم نے کہا : تم پر افسوس ! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ بوڑھا ( صحابی حضرت جابر رضی اللہ عنہ ) رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھ رہا ہے ؟ اور ہم نے ( سابقہ رائے سے ) رجوع کر لیا ۔ اللہ کی قسم ! ہم میں سے ایک آدمی کے سوا کسی نے خروج نہ کیا ، یا جس طرح ( کے الفاظ میں ) ابو نعیم نے کہا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ فَدَعَا بِطَهُورٍ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلاَةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَخُشُوعَهَا وَرُكُوعَهَا إِلاَّ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ " .
Amr b Sa'id b al-As reported:I was with Uthman, and he called for ablution water and said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) say: When the time for a prescribed prayer comes, if any Muslim performs ablution well and offers his prayer with humility and bowing, it will be an expiation for his past sins, so long as he has not committed a major sin; and this applies for all times
اسحاق بن سعيد نے عمرو بن سعید بن عاص نے اپنے والد ( سعید بن عمرو ) سے اور انہوں نے اپنے والد ( عمرو بن سعید ) سے روایت کی ، انہو ں نے کہا : میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ، انہوں نے وضو کاپانی منگایااور کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’کوئی مسلمان نہیں جس کی فرض نماز کا وقت ہو جائے ، پھر وہ اس کے لیے اچھی طرح وضو کرے ، اچھی طرح خشوع سے اسے ادا کرے اور احسن انداز سے رکوع کرے ، مگر وہ نماز اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو گی جب تک وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا اور یہ بات ہمیشہ کے لیے کی ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، - أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، مَوْلَى الْحُرَقَةِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الصَّلاَةُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ " .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Five prayers and from one Friday prayer to (the next) Friday prayer is an expiation (of the sins committed in between their intervals) if major sins are not committed
علاء نے اپنے والد عبد الرحمن بن یعقوب سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ پانچوں نمازیں اور ( ہر ) جمعہ ( دوسرے ) جمعہ تک درمیانی مدت کے گناہوں کا کفارہ ( ان کو مٹانے والے ) ہیں جب تک کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیاجائے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ إِسْحَاقَ، مَوْلَى زَائِدَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ " .
Abu Huraira reported:Verily the Messenger of Allah (ﷺ) said: The five (daily) prayers and from one Friday prayer to the (next) Friday prayer, and from Ramadhan to Ramadhan are expiations for the (sins) committed in between (their intervals) provided one shuns the major sins
عمر بن اسحاق کےوالد اسحاق ( بن عبد اللہ ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے : ’’جب ( انسان ) کبیرہ گناہوں سے اجتناب کر رہا ہو تو پانچ نمازیں ، ایک جمعہ ( دوسرے ) جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک ، درمیان کے عرصے میں ہونے والے گناہوں کو مٹانے کا سبب ہیں ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي، زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَذَكَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ وَعَظَّمَ أَمْرَهُ ثُمَّ قَالَ " لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي . فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي . فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي . فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي . فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي . فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ " .
It has been narrated on the authority of Abu Huraira who said:One day the Messenger of Allah (ﷺ) stood among us (to deliver a sermon). He talked about the misappropriation of booty, and declared it to be a serious matter and a grave sin. Then he said: I shouldn't find that any of you should come on the Day of Judgment with a growling camel mounted on his neck, and should appeal to me for help saying:" Messenger of Allah, help me." and I should say: I have no authority to help you; I already communicated to you. I shouldn't find that any of you should come on the Day of Judgment with a bleating ewe mounted on his neck, and he should say to me:" Messenger of Allah, help me," and I should say: I have no authority to help you; I conveyed to you. I shouldn't find that one of you should come on the Day of Judgment with a Person crying loudly mounted on his neck, and he should say to me:" Messenger of Allah, help me," and I should say: I have no authority to help you; I conveyed to you. I shouldn't find that any one of you should come on the Day of Judgment with fluttering clothes wrapped round his neck and he should say to me:" Messenger of Allah, help me," and I should say: I have no authority to help you; I conveyed to you. I shouldn't find that any of you should come on the Day of Judgment with a heap of gold and silver placed on his neck and he should say to me:" Messenger of Allah, help me." and I should say: I have no authority to help you; I already conveyed to you (the warning from the Almighty)
اسماعیل بن ابراہیم نے ابوحیان سے ، انہوں نے ابو زرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہوئے ۔ اور آپ نے مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا : آپ نے ایسی خیانت اور اس کے معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیا ، پھر فرمایا : " میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس طرح آتا ہوا نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر اونٹ سوار ہو کر بلبلا رہا ہو اور وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد فرمائیے ، اور میں جواب میں کہوں : میں تمہارے لئے کچھ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں ( دنیا ہی میں ) حق پہنچا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر گھوڑا سوار ہو کر ہنہنا رہا ہو ، وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، اور میں کہوں کہ میں تمہارے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتا ، میں نے تمہیں حق پہنچا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر بکری سوار ہو کر ممیا رہی ہو ، وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، اور میں کہوں : میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں حق سے آگاہ کر دیا تھا ، میں تم میں سے کسی شخص کو روزِ قیامت اس حالت میں نہ دیکھوں کہ اس کی گردن پر کسی شخص کی جان سوار ہو اور وہ ( ظلم کی دہائی دیتے ہوئے ) چیخیں مار رہی ہو ، اور وہ شخص کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، اور میں کہوں : میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا ، میں نے تمہیں سب کچھ بتا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر کپڑا لدا ہوا پھڑپھڑا رہا ہو ، اور وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، میں کہوں : تمہارے لیے میرے بس میں کچھ نہیں ، میں نے تم کو سب کچھ سے آگاہ کر دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گرن پر نہ بولنے والا مال ( سونا چاندی ) لدا ہوا ہو ، وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، میں کہوں : تمہارے لیے میرے پاس کسی چیز کا اختیار نہیں ، میں نے تم کو ( انجام ) کی خبر پہنچا دی تھی
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبَانَ - قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ عُمَرَ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ مَا أَسْأَلَكُمْ عَنِ الصَّغِيرَةِ وَأَرْكَبَكُمْ لِلْكَبِيرَةِ سَمِعْتُ أَبِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ الْفِتْنَةَ تَجِيءُ مِنْ هَا هُنَا " . وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ " مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ " . وَأَنْتُمْ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ وَإِنَّمَا قَتَلَ مُوسَى الَّذِي قَتَلَ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ خَطَأً فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ { وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنَاكَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا} قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ سَالِمٍ لَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ .
Ibn Fudail reported on the authority of his father that he heard Salim b. `Abdullah b. `Umar as saying:O people of Iraq, how strange it is that you ask about the minor sins but commit major sins? I heard from my father `Abdullah b. `Umar, narrating that he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying while pointing his hand towards the east: Verily, the turmoil would come from this side, from where appear the horns of Satan and you would strike the necks of one another; and Moses killed a person from among the people of Pharaoh unintentionally and Allah, the Exalted and Glorious, said: "You killed a person but We relieved you from the grief and tried you with (many a) trial" (xx. 40). Ahmad b. `Umar reported this hadith from Salim, but he did not make a mention of the words: "I heard
عبداللہ بن عمر بن ابان ، واصل بن عبدالاعلیٰ اور احمد بن عمر وکیعی نے ہمیں حدیث بیان کی ، الفاظ ابن ابان کے ہیں ۔ انھوں نے کہا : ہمیں ابن فضیل نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے سالم بن عبداللہ بن عمرسے سنا ، کہہ رہے تھے : " اے عراق والو! میں تم سے چھوٹے گناہ نہیں پوچھتا نہ اس کو پوچھتا ہوں جو کبیرہ گناہ کرتا ہو میں نے اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ فتنہ ادھر سے آئے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا ، جہاں شیطان کے دونوں سینگ نکلتے ہیں ۔ اور تم ایک دوسرے کی گردن مارتے ہو ( حالانکہ مومن کی گردن مارنا کتنا بڑا گناہ ہے ) اور موسیٰ علیہ السلام فرعون کی قوم کا ایک شخص غلطی سے مار بیٹھے تھے ( نہ بہ نیت قتل کیونکہ گھونسے سے آدمی نہیں مرتا ) ، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”تو نے ایک خون کیا ، پھر ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور تجھ کو آزمایا جیسا آزمایا تھا“ ۔
A detailed scholarly analysis for this topic is not yet available. Get in touch to request one.