Interpretation of Dreams
Book 91 · 61 hadith
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،. وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْوَحْىِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لاَ يَرَى رُؤْيَا إِلاَّ جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، فَكَانَ يَأْتِي حِرَاءً فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ ـ وَهْوَ التَّعَبُّدُ ـ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ، وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَتُزَوِّدُهُ لِمِثْلِهَا، حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهْوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فِيهِ فَقَالَ اقْرَأْ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي. فَقَالَ اقْرَأْ. فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ. فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ". حَتَّى بَلَغَ {مَا لَمْ يَعْلَمْ} فَرَجَعَ بِهَا تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ " زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي ". فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ " يَا خَدِيجَةُ مَا لِي ". وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ وَقَالَ " قَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي ". فَقَالَتْ لَهُ كَلاَّ أَبْشِرْ، فَوَاللَّهِ لاَ يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ. ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَىٍّ ـ وَهْوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخُو أَبِيهَا، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ فَيَكْتُبُ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنَ الإِنْجِيلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ ـ فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ أَىِ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ. فَقَالَ وَرَقَةُ ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَا رَأَى فَقَالَ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى، يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا أَكُونُ حَيًّا، حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَوَمُخْرِجِيَّ هُمْ ". فَقَالَ وَرَقَةُ نَعَمْ، لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلاَّ عُودِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا. ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ، وَفَتَرَ الْوَحْىُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِيمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَىْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الْجِبَالِ، فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَىْ يُلْقِيَ مِنْهُ نَفْسَهُ، تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا. فَيَسْكُنُ لِذَلِكَ جَأْشُهُ وَتَقِرُّ نَفْسُهُ فَيَرْجِعُ، فَإِذَا طَالَتْ عَلَيْهِ فَتْرَةُ الْوَحْىِ غَدَا لِمِثْلِ ذَلِكَ، فَإِذَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ {فَالِقُ الإِصْبَاحِ} ضَوْءُ الشَّمْسِ بِالنَّهَارِ، وَضَوْءُ الْقَمَرِ بِاللَّيْلِ.
Narrated `Aisha:The commencement of the Divine Inspiration to Allah's Messenger (ﷺ) was in the form of good righteous (true) dreams in his sleep. He never had a dream but that it came true like bright day light. He used to go in seclusion (the cave of) Hira where he used to worship(Allah Alone) continuously for many (days) nights. He used to take with him the journey food for that (stay) and then come back to (his wife) Khadija to take his food like-wise again for another period to stay, till suddenly the Truth descended upon him while he was in the cave of Hira. The angel came to him in it and asked him to read. The Prophet (ﷺ) replied, "I do not know how to read." (The Prophet (ﷺ) added), "The angel caught me (forcefully) and pressed me so hard that I could not bear it anymore. He then released me and again asked me to read, and I replied, "I do not know how to read," whereupon he caught me again and pressed me a second time till I could not bear it anymore. He then released me and asked me again to read, but again I replied, "I do not know how to read (or, what shall I read?)." Thereupon he caught me for the third time and pressed me and then released me and said, "Read: In the Name of your Lord, Who has created (all that exists). Has created man from a clot. Read and Your Lord is Most Generous...up to..... ..that which he knew not." (96.15) Then Allah's Messenger (ﷺ) returned with the Inspiration, his neck muscles twitching with terror till he entered upon Khadija and said, "Cover me! Cover me!" They covered him till his fear was over and then he said, "O Khadija, what is wrong with me?" Then he told her everything that had happened and said, 'I fear that something may happen to me." Khadija said, 'Never! But have the glad tidings, for by Allah, Allah will never disgrace you as you keep good reactions with your Kith and kin, speak the truth, help the poor and the destitute, serve your guest generously and assist the deserving, calamityafflicted ones." Khadija then accompanied him to (her cousin) Waraqa bin Naufal bin Asad bin `Abdul `Uzza bin Qusai. Waraqa was the son of her paternal uncle, i.e., her father's brother, who during the Pre-Islamic Period became a Christian and used to write the Arabic writing and used to write of the Gospels in Arabic as much as Allah wished him to write. He was an old man and had lost his eyesight. Khadija said to him, "O my cousin! Listen to the story of your nephew." Waraqa asked, "O my nephew! What have you seen?" The Prophet (ﷺ) described whatever he had seen. Waraqa said, "This is the same Namus (i.e., Gabriel, the Angel who keeps the secrets) whom Allah had sent to Moses. I wish I were young and could live up to the time when your people would turn you out." Allah's Messenger (ﷺ) asked, "Will they turn me out?" Waraqa replied in the affirmative and said: "Never did a man come with something similar to what you have brought but was treated with hostility. If I should remain alive till the day when you will be turned out then I would support you strongly." But after a few days Waraqa died and the Divine Inspiration was also paused for a while and the Prophet (ﷺ) became so sad as we have heard that he intended several times to throw himself from the tops of high mountains and every time he went up the top of a mountain in order to throw himself down, Gabriel would appear before him and say, "O Muhammad! You are indeed Allah's Messenger (ﷺ) in truth" whereupon his heart would become quiet and he would calm down and would return home. And whenever the period of the coming of the inspiration used to become long, he would do as before, but when he used to reach the top of a mountain, Gabriel would appear before him and say to him what he had said before. (Ibn `Abbas said regarding the meaning of: 'He it is that Cleaves the daybreak (from the darkness)' (6.96) that Al-Asbah. means the light of the sun during the day and the light of the moon at night
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل بن خالد نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابن شہاب نے بیان کیا (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) کہ مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ ان سے معمر نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء سونے کی حالت میں سچے خواب کے ذریعہ ہوئی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب بھی دیکھتے تو وہ صبح کی روشنی کی طرح سامنے آ جاتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں چلے جاتے اور اس میں تنہا اللہ کی یاد کرتے تھے چند مقررہ دنوں کے لیے ( یہاں آتے ) اور ان دنوں کا توشہ بھی ساتھ لاتے۔ پھر خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس تشریف لے جاتے اور وہ پھر اتنا ہی توشہ آپ کے ساتھ کر دیتیں یہاں تک کہ حق آپ کے پاس اچانک آ گیا اور آپ غار حرا ہی میں تھے۔ چنانچہ اس میں فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا کہ پڑھیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ آخر اس نے مجھے پکڑ لیا اور زور سے دابا اور خوب دابا جس کی وجہ سے مجھ کو بہت تکلیف ہوئی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس نے مجھے ایسا دابا کہ میں بے قابو ہو گیا یا انہوں نے اپنا زور ختم کر دیا اور پھر چھوڑ کر اس نے مجھ سے کہا کہ پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا ہے۔ الفاظ «ما لم يعلم» تک۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو آپ کے مونڈھوں کے گوشت ( ڈر کے مارے ) پھڑک رہے تھے۔ جب گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے تو فرمایا کہ مجھے چادر اڑھا دو ‘ مجھے چادر اڑھا دو، چنانچہ آپ کو چادر اڑھا دی گئی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خوف دور ہو گیا تو فرمایا کہ خدیجہ میرا حال کیا ہو گیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سارا حال بیان کیا اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔ لیکن خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا اللہ کی قسم ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا، آپ خوش رہئیے اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، بات سچی بولتے ہیں، ناداروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی وجہ سے پیش آنے والی مصیبتوں پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر آپ کو خدیجہ رضی اللہ عنہا ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس لائیں جو خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد خویلد کے بھائی کے بیٹے تھے۔ جو زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے اور عربی لکھ لیتے تھے اور وہ جتنا اللہ تعالیٰ چاہتا عربی میں انجیل کا ترجمہ لکھا کرتے تھے، وہ اس وقت بہت بوڑھے ہو گئے تھے اور بینائی بھی جاتی رہی تھی۔ ان سے خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھائی! اپنے بھتیجے کی بات سنو۔ ورقہ نے پوچھا: بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دیکھا تھا وہ سنایا تو ورقہ نے کہا کہ یہ تو وہی فرشتہ ( جبرائیل علیہ السلام ) ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر آیا تھا۔ کاش میں اس وقت جوان ہوتا جب تمہیں تمہاری قوم نکال دے گی اور زندہ رہتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا یہ مجھے نکالیں گے؟ ورقہ نے کہا کہ ہاں۔ جب بھی کوئی نبی و رسول وہ پیغام لے کر آیا جسے لے کر آپ آئے ہیں تو اس کے ساتھ دشمنی کی گئی اور اگر میں نے تمہارے وہ دن پا لیے تو میں تمہاری بھرپور مدد کروں گا لیکن کچھ ہی دنوں بعد ورقہ کا انتقال ہو گیا اور وحی کا سلسلہ کٹ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی وجہ سے اتنا غم تھا کہ آپ نے کئی مرتبہ پہاڑ کی بلند چوٹی سے اپنے آپ کو گرا دینا چاہا لیکن جب بھی آپ کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھے تاکہ اس پر سے اپنے آپ کو گرا دیں تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے سامنے آ گئے اور کہا کہ یا محمد! آپ یقیناً اللہ کے رسول ہیں۔ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سکون ہوتا اور آپ واپس آ جاتے لیکن جب وحی زیادہ دنوں تک رکی رہی تو آپ نے ایک مرتبہ اور ایسا ارادہ کیا لیکن جب پہاڑ کی چوٹی پر چڑھے تو جبرائیل علیہ السلام سامنے آئے اور اسی طرح کی بات پھر کہی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ( سورۃ الانعام ) میں لفظ «فالق الإصباح» سے مراد دن میں سورج کی روشنی اور رات میں چاند کی روشنی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ".
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) said, "A good dream (that comes true) of a righteous man is one of forty-six parts of prophetism
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ـ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ـ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ ".
Narrated Abu Qatada:The Prophet (ﷺ) said, "A true good dream is from Allah, and a bad dream is from Satan
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ نے جو سعید کے بیٹے ہیں ‘ کہا کہ میں نے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ کہا کہ میں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( اچھے ) خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يُحِبُّهَا فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ اللَّهِ، فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ عَلَيْهَا، وَلْيُحَدِّثْ بِهَا، وَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا يَكْرَهُ، فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَلْيَسْتَعِذْ مِنْ شَرِّهَا، وَلاَ يَذْكُرْهَا لأَحَدٍ، فَإِنَّهَا لاَ تَضُرُّهُ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "If anyone of you sees a dream that he likes, then it is from Allah, and he should thank Allah for it and narrate it to others; but if he sees something else, i.e., a dream that he dislikes, then it is from Satan, and he should seek refuge with Allah from its evil, and he should not mention it to anybody, for it will not harm him
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن الہاد نے، ان سے عبداللہ بن خباب نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ پسند کرتا ہو تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس پر اللہ کی حمد کرے اور اسے بتا دینا چاہئیے لیکن اگر کوئی اس کے سوا کوئی ایسا خواب دیکھتا ہے جو اسے ناپسند ہے تو یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے پس اس کے شر سے پناہ مانگے اور کسی سے ایسے خواب کا ذکر نہ کرے یہ خواب اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ـ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا لَقِيتُهُ بِالْيَمَامَةِ ـ عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا حَلَمَ فَلْيَتَعَوَّذْ مِنْهُ وَلْيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ، فَإِنَّهَا لاَ تَضُرُّهُ ". وَعَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ.
Narrated Abu Qatada:The Prophet (ﷺ) said, "A good dream that comes true is from Allah, and a bad dream is from Satan, so if anyone of you sees a bad dream, he should seek refuge with Allah from Satan and should spit on the left, for the bad dream will not harm him
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا اور ان کی تعریف کی کہ میں نے ان سے یمامہ میں ملاقات کی تھی، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے پس اگر کوئی برا خواب دیکھے تو اسے اس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئیے اور بائیں طرف تھوکنا چاہئیے یہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا“ اور عبداللہ بن یحییٰ سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ".
Narrated 'Ubada bin As-Samit:The Prophet (ﷺ) said, "The (good) dreams of a faithful believer is a part of the forty-six parts of prophetism:
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ". رَوَاهُ ثَابِتٌ وَحُمَيْدٌ وَإِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَشُعَيْبٌ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The (good) dream of a faithful believer is a part of the forty-six parts of prophetism
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن المسیب نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہوتا ہے۔“ اس کی روایت ثابت، حمید، اسحاق بن عبداللہ اور شعیب نے انس رضی اللہ عنہ سے کی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَالدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "A good dream is a part of the forty six parts of prophetism
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن ابی حازم اور عبدالعزیز دراوری نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن خباب نے، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نیک خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الْمُبَشِّرَاتُ ". قَالُوا وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ قَالَ " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ ".
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "Nothing is left of the prophetism except Al-Mubashshirat." They asked, "What are Al-Mubashshirat?" He replied, "The true good dreams (that conveys glad tidings)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبوت میں سے صرف اب مبشرات باقی رہ گئی ہیں۔ صحابہ نے پوچھا کہ مبشرات کیا ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے خواب۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ أُنَاسًا، أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ، وَأَنَّ أُنَاسًا أُرُوا أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ ".
Narrated Ibn `Umar:Some people were shown the Night of Qadr as being in the last seven days (of the month of Ramadan). The Prophet (ﷺ) said, "Seek it in the last seven days (of Ramadan)
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ کچھ لوگوں کو خواب میں شب قدر ( رمضان کی ) سات آخری تاریخوں میں دکھائی گئی اور کچھ لوگوں کو دکھائی گئی کہ وہ آخری دس تاریخوں میں ہو گی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے آخری سات تاریخوں میں تلاش کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَأَبَا، عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ، ثُمَّ أَتَانِي الدَّاعِي لأَجَبْتُهُ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If I stayed in prison as long as Joseph stayed and then the messenger came, I would respond to his call (to go out of the prison)
ہم سے عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں سعید بن مسیب اور ابوعبیدہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر میں اتنے دنوں قید میں رہتا جتنے دنوں یوسف علیہ السلام پڑے رہے اور پھر میرے پاس قاصد بلانے آتا تو میں اس کی دعوت قبول کر لیتا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ، وَلاَ يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ابْنُ سِيرِينَ إِذَا رَآهُ فِي صُورَتِهِ.
Narrated Abu Huraira:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Whoever sees me in a dream will see me in his wakefulness, and Satan cannot imitate me in shape." Abu `Abdullah said, "Ibn Seereen said, 'Only if he sees the Prophet (ﷺ) in his (real) shape
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں زہری نے، کہا مجھ سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو کسی دن مجھے بیداری میں بھی دیکھے گا اور شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ ابن سیرین نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی شخص آپ کی صورت میں دیکھے۔
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَتَخَيَّلُ بِي، وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ".
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever has seen me in a dream, then no doubt, he has seen me, for Satan cannot imitate my shape
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ثابت بنانی نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے واقعی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا اور مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک جزو ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَمَنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَنْفِثْ عَنْ شِمَالِهِ ثَلاَثًا، وَلْيَتَعَوَّذْ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِنَّهَا لاَ تَضُرُّهُ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَتَرَاءَى بِي ".
Narrated Abu Qatada:The Prophet (ﷺ) said, "A good dream is from Allah, and a bad dream is from Satan. So whoever has seen (in a dream) something he dislikes, then he should spit without saliva, thrice on his left and seek refuge with Allah from Satan, for it will not harm him, and Satan cannot appear in my shape
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی جعفر نے، کہا مجھ کو ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے پس جو شخص کوئی برا خواب دیکھے تو اپنے بائیں طرف کروٹ لے کر تین مرتبہ تھو تھو کرے اور شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے وہ اس کو نقصان نہیں دے گا اور شیطان کبھی میری شکل میں نہیں آ سکتا۔“
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ خَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ ". تَابَعَهُ يُونُسُ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ
Narrated Abu Qatada:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever sees me (in a dream) then he indeed has seen the truth
ہم سے خالد بن خلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے زبیدی نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا۔“ اس روایت کی متابعت یونس نے اور زہری کے بھتیجے نے کی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ "مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَتَكَوَّنُنِي".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "Who ever sees me (in a dream) then he indeed has seen the truth, as Satan cannot appear in my shape
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن الہاد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن خباب نے بیان کیا، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا کیونکہ شیطان مجھ جیسا نہیں بن سکتا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَبَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ الْبَارِحَةَ إِذْ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ حَتَّى وُضِعَتْ فِي يَدِي ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنْتُمْ تَنْتَقِلُونَهَا.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "I have been given the keys of eloquent speech and given victory with awe (cast into the hearts of the enemy), and while I was sleeping last night, the keys of the treasures of the earth were brought to me till they were put in my hand." Abu Huraira added: Allah's Messenger (ﷺ) left (this world) and now you people are carrying those treasures from place to place
ہم سے احمد بن مقدام العجلی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن الطفاوی نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے محمد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے «مفاتيح الكلم» دئیے گئے ہیں اور رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے اور گذشتہ رات میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے پاس لائیں گئیں اور میرے سامنے انہیں رکھ دیا گیا۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس دنیا سے تشریف لے گئے اور تم ان خزانوں کی کنجیوں کو الٹ پلٹ کر رہے ہو یا نکال رہے ہو یا لوٹ رہے ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ فَرَأَيْتُ رَجُلاً آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ، لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ، قَدْ رَجَّلَهَا تَقْطُرُ مَاءً، مُتَّكِئًا عَلَى رَجُلَيْنِ ـ أَوْ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ ـ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ. ثُمَّ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "I saw myself (in a dream) near the Ka`ba last night, and I saw a man with whitish red complexion, the best you may see amongst men of that complexion having long hair reaching his earlobes which was the best hair of its sort, and he had combed his hair and water was dropping from it, and he was performing the Tawaf around the Ka`ba while he was leaning on two men or on the shoulders of two men. I asked, 'Who is this man?' Somebody replied, '(He is) Messiah, son of Mary.' Then I saw another man with very curly hair, blind in the right eye which looked like a protruding out grape. I asked, 'Who is this?' Somebody replied, '(He is) Messiah, Ad-Dajjal
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رات مجھے کعبہ کے پاس ( خواب میں ) دکھایا گیا۔ میں نے ایک گندمی رنگ کے آدمی کو دیکھا وہ گندمی رنگ کے کسی سب سے خوبصورت آدمی کی طرح تھے، ان کے لمبے خوبصورت بال تھے ان سب سے خوبصورت بالوں کی طرح جو تم دیکھ سکے ہو گے۔ ان میں انہوں نے کنگھا کیا ہوا تھا اور پانی ان سے ٹپک رہا تھا اور وہ دو آدمیوں کے سہارے یا ( یہ فرمایا کہ ) دو آدمیوں کے شانوں کے سہارے بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ مسیح ابن مریم علیہما السلام ہیں۔ پھر اچانک میں نے ایک گھنگھریالے بال والے آدمی کو دیکھا جس کی ایک آنکھ کانی تھی اور انگور کے دانے کی طرح اٹھی ہوئی تھی، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلاً، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي أُرِيتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ. وَتَابَعَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَوْ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ شُعَيْبٌ وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى عَنِ الزُّهْرِيِّ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ مَعْمَرٌ لاَ يُسْنِدُهُ حَتَّى كَانَ بَعْدُ.
Narrated Ibn `Abbas:About a man who came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "I was shown in a dream last night..." Then Ibn `Abbas mentioned the narration
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا کہ میں نے رات کو خواب دیکھا ہے اور انہوں نے واقعہ بیان کیا اور اس روایت کی متابعت سلیمان بن کثیر، زہری کے بھتیجے اور سفیان بن حسین نے زہری سے کی، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، اور زبیدی نے زہری سے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور شعیب اور اسحاق بن یحییٰ نے زہری سے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے، اور معمر نے اسے متصلاً نہیں بیان کیا لیکن بعد میں متصلاً بیان کرنے لگے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ، وَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهْوَ يَضْحَكُ. قَالَتْ فَقُلْتُ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَىَّ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ، مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ ". شَكَّ إِسْحَاقُ. قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَدَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهْوَ يَضْحَكُ. فَقُلْتُ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَىَّ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". كَمَا قَالَ فِي الأُولَى. قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ " أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ ". فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ، فَهَلَكَتْ.
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) used to visit Um Haram bint Milhan she was the wife of 'Ubada bin As-Samit. One day the Prophet (ﷺ) visited her and she provided him with food and started looking for lice in his head. Then Allah's Messenger (ﷺ) slept and afterwards woke up smiling. Um Haram asked, "What makes you smile, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "Some of my followers were presented before me in my dream as fighters in Allah's Cause, sailing in the middle of the seas like kings on the thrones or like kings sitting on their thrones." (The narrator 'Is-haq is not sure as to which expression was correct). Um Haram added, 'I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah, to make me one of them;" So Allah's Messenger (ﷺ) invoked Allah for her and then laid his head down (and slept). Then he woke up smiling (again). (Um Haram added): I said, "What makes you smile, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "Some people of my followers were presented before me (in a dream) as fighters in Allah's Cause." He said the same as he had said before. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to make me from them." He said, "You are among the first ones." Then Um Haram sailed over the sea during the Caliphate of Muawiya bin Abu Sufyan, and she fell down from her riding animal after coming ashore, and died
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپ ان کے یہاں گئے تو انہوں نے آپ کے سامنے کھانے کی چیز پیش کی اور آپ کا سر جھاڑنے لگیں۔ اس عرصہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے پھر بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ أُمَّ الْعَلاَءِ ـ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمُ اقْتَسَمُوا الْمُهَاجِرِينَ قُرْعَةً. قَالَتْ فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، وَأَنْزَلْنَاهُ فِي أَبْيَاتِنَا، فَوَجِعَ وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ غُسِّلَ وَكُفِّنَ فِي أَثْوَابِهِ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ، فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ أَكْرَمَهُ ". فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ يُكْرِمُهُ اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا هُوَ فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، وَاللَّهِ إِنِّي لأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ، وَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَاذَا يُفْعَلُ بِي ". فَقَالَتْ وَاللَّهِ لاَ أُزَكِّي بَعْدَهُ أَحَدًا أَبَدًا.
Narrated Kharija bin Zaid bin Thabit:Um Al-`Ala an Ansari woman who had given a pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) told me:, "The Muhajirln (emigrants) were distributed amongst us by drawing lots, and we got `Uthman bin Maz'un in our share. We made him stay with us in our house. Then he suffered from a disease which proved fatal. When he died and was given a bath and was shrouded in his clothes. Allah's Messenger (ﷺ) came, I said, (addressing the dead body), 'O Aba As-Sa'ib! May Allah be Merciful to you! I testify that Allah has honored you.' Allah's Messenger (ﷺ) said, 'How do you know that Allah has honored him?" I replied, 'Let my father be sacrificed for you, O Allah's Messenger (ﷺ)! On whom else shall Allah bestow. His honor?' Allah's Messenger (ﷺ) said, 'As for him, by Allah, death has come to him. By Allah, I wish him all good (from Allah). By Allah, in spite of the fact that I am Allah's Messenger (ﷺ), I do not know what Allah will do to me.", Um Al-`Ala added, "By Allah, I will never attest the righteousness of anybody after that
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں خارجہ بن ثابت نے خبر دی ‘ انہیں ام علاء رضی اللہ عنہا نے جو ایک انصاری عورت تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی خبر دی کہ انہوں نے مہاجرین کے ساتھ سلسلہ اخوت قائم کرنے کے لیے قرعہ اندازی کی تو ہمارا قرعہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے نام نکلا۔ پھر ہم نے انہیں اپنے گھر میں ٹھہرایا۔ اس کے بعد انہیں ایک بیماری ہو گئی جس میں ان کی وفات ہو گئی۔ جب ان کی وفات ہو گئی تو انہیں غسل دیا گیا اور ان کے کپڑوں کا کفن دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے کہا ابوالسائب ( عثمان رضی اللہ عنہ ) تم پر اللہ کی رحمت ہو، تمہارے متعلق میری گواہی ہے کہ تمہیں اللہ نے عزت بخشی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے انہیں عزت بخشی ہے۔ میں نے عرض کیا، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! پھر اللہ کسے عزت بخشے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جہاں تک ان کا تعلق ہے تو یقینی چیز ( موت ) ان پر آ چکی ہے اور اللہ کی قسم میں بھی ان کے لیے بھلائی کی امید رکھتا ہوں اور اللہ کی قسم میں رسول اللہ ہونے کے باوجود حتمی طور پر نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ انہوں نے اس کے بعد کہا کہ اللہ کی قسم اس کے بعد میں کبھی کسی کی برات نہیں کروں گی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا وَقَالَ " مَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِهِ ". قَالَتْ وَأَحْزَنَنِي فَنِمْتُ، فَرَأَيْتُ لِعُثْمَانَ عَيْنًا تَجْرِي، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ذَلِكَ عَمَلُهُ ".
Narrated Az-Zuhri:Regarding the above narration, The Prophet (ﷺ) said, "I do not know what Allah will do to him (Uthman bin Maz'un)." Um Al-`Ala said, "I felt very sorry for that, and then I slept and saw in a dream a flowing spring for `Uthman bin Maz'un, and told Allah's Messenger (ﷺ) of that, and he said, "That flowing spring symbolizes his good deeds
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی اور انہیں زہری نے یہی حدیث بیان کی اور بیان کیا کہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس کا مجھے رنج ہوا۔ ( کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق کوئی بات یقین کے ساتھ معلوم نہیں ہے ) چنانچہ میں سو گئی اور میں نے خواب میں دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ایک جاری چشمہ ہے۔ میں نے اس کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کا نیک عمل ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ الأَنْصَارِيّ َ ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَفُرْسَانِهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمُ الْحُلُمَ يَكْرَهُهُ فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْهُ، فَلَنْ يَضُرَّهُ ".
Narrated Abu Qatada Al-Ansari:(a companion of the Prophet (ﷺ) and one of his cavalry men) "I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "A good dream is from Allah, and a bad dream is from Satan; so, if anyone of you had a bad dream which he disliked, then he should spit on his left and seek refuge with Allah from it, for it will not harm him
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور آپ کے شہسواروں میں سے تھے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے شیطان کی طرف سے پس تم میں جو کوئی برا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو اس چاہئے کہ اپنی بائیں طرف تھوکے اور اس سے اللہ کی پناہ مانگے وہ اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ، حَتَّى إِنِّي لأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي ". يَعْنِي عُمَرَ. قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْعِلْمَ ".
Narrated Ibn `Umar:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "While I was sleeping, I was given a bowl full of milk (in a dream), and I drank of it to my fill until I noticed its wetness coming out of my nails, and then I gave the rest of it to `Umar." They (the people) asked, "What have you interpreted (about the dream)? O Allah's Apostle?" He said, "(It is Religious) knowledge
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں حمزہ بن عبداللہ نے خبر دی، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا اور میں نے اس کا دودھ پیا۔ یہاں تک کہ اس کی سیرابی کا اثر میں نے اپنے ناخنوں میں ظاہر ہوتا دیکھا، اس کے بعد میں نے اس کا بچا ہوا دے دیا۔ آپ کا اشارہ عمر رضی اللہ عنہ کی طرف تھا صحابہ نے پوچھا: آپ نے اس کی تعبیر کیا کی یا رسول اللہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ، حَتَّى إِنِّي لأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ مِنْ أَطْرَافِي، فَأَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ". فَقَالَ مَنْ حَوْلَهُ فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْعِلْمَ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping, I was given a bowl full of milk (in the dream) and I drank from it (to my fill) till I noticed its wetness coming out of my limbs. Then I gave the rest of it to `Umar bin Al-Khattab." The persons sitting around him, asked, "What have you interpreted (about the dream) O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "(It is religious) knowledge
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ان سے میرے والد ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا اور میں نے اس میں سے پیا، یہاں تک کہ میں نے سیرابی کا اثر اپنے اطراف میں نمایاں دیکھا۔ پھر میں نے اس کا بچا ہوا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیا جو صحابہ وہاں موجود تھے، انہوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ نے اس کی تعبیر کیا کی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم مراد ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَىَّ، وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْىَ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ، وَمَرَّ عَلَىَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ ". قَالُوا مَا أَوَّلْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الدِّينَ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping, some people were displayed before me (in a dream). They were wearing shirts, some of which were merely covering their breasts, and some a bit longer. Then there passed before me, `Umar bin Al-Khattab wearing a shirt he was dragging it (on the ground behind him.)" They (the people) asked, "What have you interpreted (about the dream) O Allah's Apostle?" He said, "The Religion
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابوامامہ بن سہل نے بیان کیا، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں۔ ان میں بعض کی قمیص تو صرف سینے تک کی ہے اور بعض کی اس سے بڑی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کی قمیص زمین سے گھسٹ رہی تھی۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ عُرِضُوا عَلَىَّ، وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ، فَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْىَ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ، وَعُرِضَ عَلَىَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجْتَرُّهُ ". قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الدِّينَ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "While I was sleeping, I saw (in a dream) the people being displayed before me, wearing shirts, some of which (were so short that it) reached as far as their breasts and some reached below that. Then `Umar bin Al-Khattab was shown to me and he was wearing a shirt which he was dragging (behind him)." They asked. What have you interpreted (about the dream)? O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "The religion
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، کہا ان سے ابن شہاب نے، کہا مجھ کو ابوامامہ بن سہل نے خبر دی اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میں نے لوگوں کو اپنے سامنے پیش ہوتے دیکھا۔ وہ قمیص پہنے ہوئے تھے، ان میں بعض کی قمیص تو سینے تک کی تھی اور بعض کی اس سے بڑی تھی اور میرے سامنے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پیش کئے گئے تو ان کی قمیص ( زمین سے ) گھسٹ رہی تھی۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی تعبیر کیا کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین اس کی تعبیر ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ قَالَ قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ وَابْنُ عُمَرَ فَمَرَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ فَقَالُوا هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ. فَقُلْتُ لَهُ إِنَّهُمْ قَالُوا كَذَا وَكَذَا. قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا كَانَ يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَقُولُوا مَا لَيْسَ لَهُمْ بِهِ عِلْمٌ، إِنَّمَا رَأَيْتُ كَأَنَّمَا عَمُودٌ وُضِعَ فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ، فَنُصِبَ فِيهَا وَفِي رَأْسِهَا عُرْوَةٌ وَفِي أَسْفَلِهَا مِنْصَفٌ ـ وَالْمِنْصَفُ الْوَصِيفُ ـ فَقِيلَ ارْقَهْ. فَرَقِيتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ. فَقَصَصْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَمُوتُ عَبْدُ اللَّهِ وَهْوَ آخِذٌ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى ".
Narrated Qais bin 'Ubada:I was sitting in a gathering in which there was Sa`d bin Malik and Ibn `Umar. `Abdullah bin Salam passed in front of them and they said, "This man is from the people of Paradise." I said to `Abdullah bin Salam, "They said so-and-so." He replied, "Subhan Allah! They ought not to have said things of which they have no knowledge, but I saw (in a dream) that a post was fixed in a green garden. At the top of the post there was a handhold and below it there was a servant. I was asked to climb (the post). So I climbed it till I got hold of the handhold." Then I narrated this dream to Allah's Messenger (ﷺ). Allah's Apostle said, "`Abdullah will die while still holding the firm reliable handhold (i.e., Islam)
ہم سے عبداللہ بن محمد الجعفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حرمی بن عمارہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا کہ میں ایک حلقہ میں بیٹھا تھا جس میں سعد بن مالک اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے۔ وہاں سے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ گزرے تو لوگوں نے کہا کہ یہ اہل جنت میں سے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ اس طرح کی بات کہہ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا، سبحان اللہ ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ایسی بات کہیں جس کا انہیں علم نہیں ہے۔ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک ستون ایک ہرے بھرے باغ میں نصب کیا ہوا ہے اس ستون کے اوپر کے سرے پر ایک حلقہ ( «عروة» ) لگا ہوا تھا اور نیچے «منصف» تھا۔ «منصف» سے مراد خادم ہے پھر کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں چڑھ گیا اور میں نے حلقہ پکڑ لیا، پھر میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ کا جب انتقال ہو گیا تو وہ «العروة الوثقى» کو پکڑے ہوئے ہوں گے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ، إِذَا رَجُلٌ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةِ حَرِيرٍ فَيَقُولُ هَذِهِ امْرَأَتُكَ. فَأَكْشِفُهَا فَإِذَا هِيَ أَنْتِ فَأَقُولُ إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ ".
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) said (to me), "You were shown to me twice in (my) dream. Behold, a man was carrying you in a silken piece of cloth and said to me, "She is your wife, so uncover her,' and behold, it was you. I would then say (to myself), 'If this is from Allah, then it must happen
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے تم خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئیں۔ ایک شخص تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے لیے جا رہا تھا، اس نے مجھ سے کہا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں، ان کے ( چہرے سے ) پردہ ہٹاؤ۔ میں نے پردہ اٹھایا کہ وہ تمہیں تھیں۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ خود ہی انجام تک پہنچائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُرِيتُكِ قَبْلَ أَنْ أَتَزَوَّجَكِ مَرَّتَيْنِ، رَأَيْتُ الْمَلَكَ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَقُلْتُ لَهُ اكْشِفْ. فَكَشَفَ فَإِذَا هِيَ أَنْتِ، فَقُلْتُ إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ. ثُمَّ أُرِيتُكِ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَقُلْتُ اكْشِفْ. فَكَشَفَ فَإِذَا هِيَ أَنْتِ فَقُلْتُ إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ ".
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) said to me, "You were shown to me twice (in my dream) before I married you. I saw an angel carrying you in a silken piece of cloth, and I said to him, 'Uncover (her),' and behold, it was you. I said (to myself), 'If this is from Allah, then it must happen.' Then you were shown to me, the angel carrying you in a silken piece of cloth, and I said (to him), 'Uncover (her), and behold, it was you. I said (to myself), 'If this is from Allah, then it must happen
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم سے شادی کرنے سے پہلے مجھے تم دو مرتبہ دیکھائی گئیں، میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ کھولو اس نے کھولا تو وہ تم تھیں۔ میں نے کہا کہ اگر یہ اللہ کے پاس سے ہے تو وہ خود ہی اسے انجام تک پہنچائے گا۔ پھر میں نے تمہیں دیکھا کہ فرشتہ تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے ہے۔ میں نے کہا کہ کھولو! اس نے کھولا تو اس میں تم تھیں، پھر میں نے کہا کہ یہ تو اللہ کی طرف سے ہے جو ضرور پورا ہو گا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ، فَوُضِعَتْ فِي يَدِي ". قَالَ مُحَمَّدٌ وَبَلَغَنِي أَنَّ جَوَامِعَ الْكَلِمِ أَنَّ اللَّهَ يَجْمَعُ الأُمُورَ الْكَثِيرَةَ الَّتِي كَانَتْ تُكْتَبُ فِي الْكُتُبِ قَبْلَهُ فِي الأَمْرِ الْوَاحِدِ وَالأَمْرَيْنِ. أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ.
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "I have been sent with Jawami al-Kalim (i.e., the shortest expression carrying the widest meanings), and I was made victorious with awe (cast into the hearts of the enemy), and while I was sleeping, the keys of the treasures of the earth were brought to me and were put in my hand." Muhammad said, Jawami'-al-Kalim means that Allah expresses in one or two statements or thereabouts the numerous matters that used to be written in the books revealed before (the coming of) the Prophet
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں «جوامع الكلم» کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہوں اور میری مدد رعب کے ذریعہ کی گئی ہے اور میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے پاس لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں انہیں رکھ دیا گیا اور محمد نے بیان کیا کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ «جوامع الكلم» سے مراد یہ ہے کہ بہت سے امور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کتابوں میں لکھے ہوئے تھے، ان کو اللہ تعالیٰ نے ایک یا دو امور یا اسی جیسے میں جمع کر دیا ہے۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، ح وَحَدَّثَنِي خَلِيفَةُ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ، قَالَ رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ، وَسَطَ الرَّوْضَةِ عَمُودٌ فِي أَعْلَى الْعَمُودِ عُرْوَةٌ، فَقِيلَ لِي ارْقَهْ. قُلْتُ لاَ أَسْتَطِيعُ. فَأَتَانِي وَصِيفٌ فَرَفَعَ ثِيَابِي فَرَقِيتُ، فَاسْتَمْسَكْتُ بِالْعُرْوَةِ، فَانْتَبَهْتُ وَأَنَا مُسْتَمْسِكٌ بِهَا، فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " تِلْكَ الرَّوْضَةُ رَوْضَةُ الإِسْلاَمِ، وَذَلِكَ الْعَمُودُ عَمُودُ الإِسْلاَمِ، وَتِلْكَ الْعُرْوَةُ عُرْوَةُ الْوُثْقَى، لاَ تَزَالُ مُسْتَمْسِكًا بِالإِسْلاَمِ حَتَّى تَمُوتَ ".
Narrated `Abdullah bin Salam:(In a dream) I saw myself in a garden, and there was a pillar in the middle of the garden, and there was a handhold at the top of the pillar. I was asked to climb it. I said, "I cannot." Then a servant came and lifted up my clothes and I climbed (the pillar), and then got hold of the handhold, and I woke up while still holding it. I narrated that to the Prophet (ﷺ) who said, "The garden symbolizes the garden of Islam, and the handhold is the firm Islamic handhold which indicates that you will be adhering firmly to Islam until you die
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عون نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا، ان سے معاذ نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے محمد نے، ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ( خواب ) دیکھا کہ گویا میں ایک باغ میں ہوں اور باغ کے بیچ میں ایک ستون ہے جس کے اوپر کے سرے پر ایک حلقہ ہے۔ کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ۔ میں نے کہا کہ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ پھر میرے پاس خادم آیا اور اس نے میرے کپڑے چڑھا دئیے پھر میں اوپر چڑھ گیا اور میں نے حلقہ پکڑ لیا، ابھی میں اسے پکڑے ہی ہوئے تھا کہ آنکھ کھل گئی۔ پھر میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ باغ اسلام کا باغ تھا اور وہ ستون اسلام کا ستون تھا اور وہ حلقہ «عروة الوثقى» تھا، تم ہمیشہ اسلام پر مضبوطی سے جمے رہو گے یہاں تک کہ تمہاری وفات ہو جائے گی۔
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ فِي يَدِي سَرَقَةً مِنْ حَرِيرٍ لاَ أَهْوِي بِهَا إِلَى مَكَانٍ فِي الْجَنَّةِ إِلاَّ طَارَتْ بِي إِلَيْهِ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ. فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّ أَخَاكِ رَجُلٌ صَالِحٌ ". أَوْ قَالَ " إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ ".
Narrated Ibn `Umar:I saw in a dream a piece of silken cloth in my hand, and in whatever direction in Paradise I waved it, it flew, carrying me there. I narrated this (dream) to (my sister) Hafsa and she told it to the Prophet (ﷺ) who said, (to Hafsa), "Indeed, your brother is a righteous man," or, "Indeed, `Abdullah is a righteous man
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، سَمِعْتُ عَوْفًا، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ تَكْذِبُ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ، وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ. " قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَقُولُ هَذِهِ قَالَ وَكَانَ يُقَالُ الرُّؤْيَا ثَلاَثٌ حَدِيثُ النَّفْسِ، وَتَخْوِيفُ الشَّيْطَانِ، وَبُشْرَى مِنَ اللَّهِ، فَمَنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلاَ يَقُصُّهُ عَلَى أَحَدٍ، وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ. قَالَ وَكَانَ يُكْرَهُ الْغُلُّ فِي النَّوْمِ، وَكَانَ يُعْجِبُهُمُ الْقَيْدُ، وَيُقَالُ الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ. وَرَوَى قَتَادَةُ وَيُونُسُ وَهِشَامٌ وَأَبُو هِلاَلٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَدْرَجَهُ بَعْضُهُمْ كُلَّهُ فِي الْحَدِيثِ، وَحَدِيثُ عَوْفٍ أَبْيَنُ. وَقَالَ يُونُسُ لاَ أَحْسِبُهُ إِلاَّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْقَيْدِ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لاَ تَكُونُ الأَغْلاَلُ إِلاَّ فِي الأَعْنَاقِ.
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "When the Day of Resurrection approaches, the dreams of a believer will hardly fail to come true, and a dream of a believer is one of forty-six parts of prophetism, and whatever belongs to prothetism can never be false." Muhammad bin Seereen said, "But I say this." He said, "It used to be said, 'There are three types of dreams: The reflection of one's thoughts and experiences one has during wakefulness, what is suggested by Satan to frighten the dreamer, or glad tidings from Allah. So, if someone has a dream which he dislikes, he should not tell it to others, but get up and offer a prayer." He added, "He (Abu Huraira) hated to see a Ghul (i.e., iron collar around his neck in a dream) and people liked to see fetters (on their feet in a dream). The fetters on the feet symbolizes one's constant and firm adherence to religion." And Abu `Abdullah said, "Ghuls (iron collars) are used only for necks
ہم سے عبداللہ بن صباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے عوف سے سنا، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب قیامت قریب ہو گی تو مومن کا خواب جھوٹا نہیں ہو گا اور مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“ محمد بن سیرین رحمہ اللہ ( جو کہ علم تعبیر کے بہت بڑے عالم تھے ) نے کہا کہ نبوت کا حصہ جھوٹ نہیں ہو سکتا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ خواب تین طرح کے ہیں۔ دل کے خیالات، شیطان کا ڈرانا اور اللہ کی طرف سے خوشخبری۔ پس اگر کوئی شخص خواب میں بری چیز دیکھتا ہے تو اسے چاہئیے کہ اس کا ذکر کسی سے نہ کرے اور کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ محمد بن سیرین نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خواب میں طوق کو ناپسند کرتے تھے اور قید دیکھنے کو اچھا سمجھتے تھے اور کہا گیا ہے کہ قید سے مراد دین میں ثابت قدمی ہے۔ اور قتادہ، یونس، ہشام اور ابوہلال نے ابن سیرین سے نقل کیا ہے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور بعض نے یہ ساری روایت حدیث میں شمار کی ہے لیکن عوف کی روایت زیادہ واضح ہے اور یونس نے کہا کہ قید کے بارے میں روایت کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہی سمجھتا ہوں۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ طوق ہمیشہ گردنوں ہی میں ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ الْعَلاَء ِ ـ وَهْىَ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِمْ بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ طَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فِي السُّكْنَى حِينَ اقْتَرَعَتِ الأَنْصَارُ عَلَى سُكْنَى الْمُهَاجِرِينَ، فَاشْتَكَى فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّى تُوُفِّيَ، ثُمَّ جَعَلْنَاهُ فِي أَثْوَابِهِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ، فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ. قَالَ " وَمَا يُدْرِيكِ ". قُلْتُ لاَ أَدْرِي وَاللَّهِ. قَالَ " أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، إِنِّي لأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ مِنَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي وَلاَ بِكُمْ ". قَالَتْ أُمُّ الْعَلاَءِ فَوَاللَّهِ لاَ أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ. قَالَتْ وَرَأَيْتُ لِعُثْمَانَ فِي النَّوْمِ عَيْنًا تَجْرِي، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " ذَاكِ عَمَلُهُ يَجْرِي لَهُ "
Narrated Kharija bin Zaid bin Thabit:Um Al-`Ala an Ansari woman who had given the Pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) said, "`Uthman bin Maz'un came in our share when the Ansars drew lots to distribute the emigrants (to dwell) among themselves, He became sick and we looked after (nursed) him till he died. Then we shrouded him in his clothes. Allah's Messenger (ﷺ) came to us, I (addressing the dead body) said, "May Allah's Mercy be on you, O Aba As-Sa'ib! I testify that Allah has honored you." The Prophet (ﷺ) said, 'How do you know that?' I replied, 'I do not know, by Allah.' He said, 'As for him, death has come to him and I wish him all good from Allah. By Allah, though I am Allah's Messenger (ﷺ), I neither know what will happen to me, nor to you.'" Um Al-`Ala said, "By Allah, I will never attest the righteousness of anybody after that." She added, "Later I saw in a dream, a flowing spring for `Uthman. So I went to Allah's Messenger (ﷺ) and mentioned that to him. He said, 'That is (the symbol of) his good deeds (the reward for) which is going on for him
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں خارجہ بن زید بن ثابت نے اور ان سے ام علاء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا جو انہیں کی ایک خاتون ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب انصار نے مہاجرین کے قیام کے لیے قرعہ اندازی کی تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا نام ہمارے یہاں ٹھہرنے کے لیے نکلا۔ پھر وہ بیمار پڑ گئے، ہم نے ان کی تیمارداری کی لیکن ان کی وفات ہو گئی۔ پھر ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں لپیٹ دیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تو میں نے کہا: ابوالسائب! تم پر اللہ کی رحمتیں ہوں، میری گواہی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے عزت بخشی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ جہاں تک ان کا تعلق ہے تو یقینی بات ( موت ) ان تک پہنچ چکی ہے اور میں اللہ سے ان کے لیے خیر کی امید رکھتا ہوں لیکن اللہ کی قسم میں رسول اللہ ہوں اور اس کے باوجود مجھے معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ ام العلاء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ واللہ! اس کے بعد میں کسی انسان کی پاکی نہیں بیان کروں گی۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے خواب میں ایک جاری چشمہ دیکھا تھا۔ چنانچہ میں نے حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کا نیک عمل ہے جس کا ثواب ان کے لیے جاری ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ حَدَّثَهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَا أَنَا عَلَى بِئْرٍ أَنْزِعُ مِنْهَا إِذْ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ الدَّلْوَ، فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ، ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ مِنْ يَدِ أَبِي بَكْرٍ فَاسْتَحَالَتْ فِي يَدِهِ غَرْبًا، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرْيَهُ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ ".
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "(I saw in a dream that) while I was standing at a well and drawing water therefrom, suddenly Abu Bakr and `Umar came to me. Abu Bakr took the bucket and drew one or two buckets (full of water), but there was weakness in his pulling, but Allah forgave him. Then Ibn Al- Khattab took the bucket from Abu Bakr's hand and the bucket turned into a very large one in his hand. I have never seen any strong man among the people doing such a hard job as `Umar did, till (the people drank to their satisfaction) and water their camels to their fill and they sat near the water
ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( خواب میں ) میں ایک کنویں سے پانی کھینچ رہا تھا کہ ابوبکر اور عمر بھی آ گئے۔ اب ابوبکر نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول پانی کھینچا۔ ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے آمین۔ اس کے بعد عمر بن خطاب نے اسے ابوبکر کے ہاتھ سے لے لیا اور وہ ڈول ان کے ہاتھ میں بڑا ڈول بن گیا۔ میں نے عمر جیسا پانی کھینچنے میں کسی کو ماہر نہیں دیکھا۔ انہوں نے خوب پانی نکالا یہاں تک کہ لوگوں نے اونٹوں کے لیے پانی سے حوض بھر لیے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رُؤْيَا النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ قَالَ " رَأَيْتُ النَّاسَ اجْتَمَعُوا فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ قَامَ ابْنُ الْخَطَّابِ، فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَمَا رَأَيْتُ مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرْيَهُ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ ".
Narrated Salim's father:about the Prophet's dream in which he has seen Abu Bakr and `Umar: The Prophet (ﷺ) said, "I saw (in a dream) that the people had gathered. Then Abu Bakr stood up and pulled out one or two buckets full of water (from a well) and there was weakness in his pulling -- may Allah forgive him. Then Ibn Al- Khattab stood up, and the bucket turned into a very large one and I have never seen any strong man among the people doing such a hard job. He pulled out so much water that the people (drank to their satisfaction) and watered their camels to their fill, (and then after quenching their thirst) they sat beside the water
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، ان سے سالم نے، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے خواب کے سلسلے میں فرمایا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ جمع ہو گئے ہیں پھر ابوبکر کھڑے ہوئے اور ایک یا دو ڈول پانی کھینچا اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ ان کی مغفرت کرے۔ پھر عمر بن خطاب کھڑے ہوئے اور وہ بڑا ڈول بن گیا۔ میں نے لوگوں میں سے کسی کو اتنی مہارت کے ساتھ پانی نکالتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ لوگوں نے حوض بھر لیے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ وَعَلَيْهَا دَلْوٌ، فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ مِنْهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَأَخَذَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping, I saw myself standing at a well over which there was a bucket. I pulled out from it as many buckets of water as Allah wished, and then Ibn Abi Quhafa (Abu Bakr) took the bucket from me and pulled out one or two full buckets, and there was weakness in his pull--may Allah forgive him. Then the bucket turned into a very large one and `Umar bin Al-Khattab took it. I have never seen any strong man among the people, drawing water with such strength as `Umar did, till the people (drank to their satisfaction and) watered their camels to their fill; whereupon the camels sat beside the water
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سعید نے خبر دی، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا۔ اس پر ایک ڈول تھا۔ جتنا اللہ نے چاہا میں نے اس میں سے پانی کھینچا، پھر اس ڈول کو ابن ابی قحافہ نے لے لیا اور انہوں نے بھی ایک یا دو ڈول کھینچنے اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ ان کی مغفرت کرے پھر وہ بڑا ڈول بن گیا اور اسے عمر بن خطاب نے اٹھا لیا۔ میں نے کسی ماہر کو عمر بن خطاب کی طرح کھینچتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ انہوں نے لوگوں کے لیے اونٹوں کے حوض بھر دئیے۔ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو سیراب کر کے اپنے تھانوں پر لے جا کر بیٹھا دیا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ أَنِّي عَلَى حَوْضٍ أَسْقِي النَّاسَ، فَأَتَانِي أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ الدَّلْوَ مِنْ يَدِي لِيُرِيحَنِي، فَنَزَعَ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، فَأَتَى ابْنُ الْخَطَّابِ فَأَخَذَ مِنْهُ، فَلَمْ يَزَلْ يَنْزِعُ، حَتَّى تَوَلَّى النَّاسُ وَالْحَوْضُ يَتَفَجَّرُ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping, I saw myself standing over a tank (well) giving water to the people to drink. Then Abu Bakr came to me and took the bucket from me in order to relieve me and he pulled out one or two full buckets, and there was weakness in his pulling --may Allah forgive him. Then Ibn Al-Khattab took it from him and went on drawing water till the people left (after being satisfied) while the tank was over flowing with water
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میں حوض پر ہوں اور لوگوں کو سیراب کر رہا ہوں پھر میرے پاس ابوبکر آئے اور مجھے آرام دینے کے لیے ڈول میرے ہاتھ سے لے لیا پھر انہوں نے دو ڈول کھینچے ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ ان کی مغفرت کرے۔ پھر عمر بن خطاب آئے اور ان سے ڈول لے لیا اور برابر کھینچے رہے یہاں تک کہ لوگ سیراب ہو کر چل دئیے اور حوض سے پانی لبالب ابل رہا تھا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ، فَإِذَا امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ، قُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ. فَذَكَرْتُ غَيْرَتَهُ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَبَكَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ قَالَ أَعَلَيْكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَارُ
Narrated Abu Huraira:We were sitting with Allah's Messenger (ﷺ), he said, "While I was sleeping, I saw myself in Paradise. Suddenly I saw a woman performing ablution beside a palace. I asked, "For whom is this palace?" They (the angels) replied, "It is for `Umar bin Al-Khattab." Then I remembered `Umar's ghira and went back hurriedly." On hearing that, `Umar started weeping and said, " Let my father and mother be sacrificed for you. O Allah's Messenger (ﷺ)! How dare I think of my Ghira being offended by you?
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ جنت کے محل کے ایک کنارے ایک عورت وضو کر رہی ہے۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ بتایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ پھر میں نے ان کی غیرت یاد کی اور وہاں سے لوٹ گیا۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس پر رو پڑے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَقَالُوا لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ. فَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَدْخُلَهُ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِلاَّ مَا أَعْلَمُ مِنْ غَيْرَتِكَ ". قَالَ وَعَلَيْكَ أَغَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ
Narrated Jabir bin `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ) said: (I saw in a dream that) I entered Paradise, and behold, there was a palace built of gold! I asked, 'For whom is this palace?' They (the angels) replied, 'For a man from the Quraish.' " The Prophet added, "O Ibn Al-Khattab! Nothing stopped me from entering it except your Ghira." `Umar said, "How dare I think of my Ghira being offended by you, O Allah's Messenger (ﷺ)?
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں ایک سونے کا محل مجھے نظر آیا۔ میں نے پوچھا یہ کس کا ہے؟ کہا کہ قریش کے ایک شخص کا۔ اے ابن الخطاب! مجھے اس کے اندر جانے سے تمہاری غیرت نے روک دیا ہے جسے میں خوب جانتا ہوں۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ، فَإِذَا امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ، فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ فَقَالُوا لِعُمَرَ. فَذَكَرْتُ غَيْرَتَهُ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا ". فَبَكَى عُمَرُ وَقَالَ عَلَيْكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَارُ
Narrated Abu Huraira:We were sitting with Allah's Messenger (ﷺ) he said, "While I was sleeping, I saw myself in Paradise, and behold, a woman was performing ablution by the side of a palace. I asked, 'For whom is this palace?' They replied, 'For `Umar' Then I remembered the Ghira of `Umar and returned immediately." `Umar wept (on hearing that) and said, " Let my father and mother be sacrificed for you, O Allah's Messenger (ﷺ)! How dare I think of my Ghira being offended by you
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا وہاں ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ کہا عمر رضی اللہ عنہ کا۔ پھر میں نے ان کی غیرت یاد کی اور وہاں سے لوٹ کر چلا آیا۔“ اس پر عمر رضی اللہ عنہ رو دئیے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، کیا آپ پر غیرت کروں گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الشَّعَرِ بَيْنَ رَجُلَيْنٍ يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَاءً، فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا ابْنُ مَرْيَمَ. فَذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا الدَّجَّالُ. أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ ". وَابْنُ قَطَنٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ مِنْ خُزَاعَةَ.
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping, I saw myself performing the Tawaf of the Ka`ba. Behold, there I saw a whitish-red lank-haired man (holding himself) between two men with water dropping from his hair. I asked, 'Who is this?' The people replied, 'He is the son of Mary.' Then I turned my face to see another man with red complexion, big body, curly hair, and blind in the right eye which looked like a protruding out grape. I asked, 'Who is he?' They replied, 'He is Ad-Dajjal.' Ibn Qatan resembles him more than anybody else among the people and Ibn Qatan was a man from Bani Al-Mustaliq from Khuza`a
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے خبر دی، انہیں سالم بن عبداللہ ابن عمر نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا۔ اچانک ایک صاحب نظر آئے، گندم گوں بال لٹکے ہوئے تھے اور دو آدمیوں کے درمیان ( سہارا لیے ہوئے تھے ) ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام، پھر میں مڑا تو ایک دوسرا شخص سرخ، بھاری جسم والا، گھنگریالے بال والا اور ایک آنکھ سے کانا جیسے اس کی آنکھ پر خشک انگور ہو نظر آیا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا کہ یہ دجال ہے۔ اس کی صورت عبدالعزیٰ بن قطن سے بہت ملتی تھی۔“ یہ عبدالعزیٰ بن قطن مطلق میں تھا جو قبیلہ خزاعہ کی ایک شاخ ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ، حَتَّى إِنِّي لأَرَى الرِّيَّ يَجْرِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلَهُ عُمَرَ ". قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْعِلْمُ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "While I was sleeping, I saw a bowl full of milk was brought to me and I drank of it (to my fill) till I noticed its wetness flowing (in my body). Then I gave the remaining of it to `Umar." They asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What have you interpreted (about the dream)? He said, "(It is Religious) knowledge." (See Hadith No)
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ میں سویا ہوا تھا کہ دودھ کا ایک پیالہ میرے پاس لایا گیا اور اس میں سے اتنا پیا کہ سیرابی کو میں نے ہر رگ و پے میں پایا۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر کو دے دیا۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی تعبیر کیا کی؟ فرمایا کہ علم اس کی تعبیر ہے۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ إِنَّ رِجَالاً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانُوا يَرَوْنَ الرُّؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُصُّونَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ اللَّهُ، وَأَنَا غُلاَمٌ حَدِيثُ السِّنِّ وَبَيْتِي الْمَسْجِدُ قَبْلَ أَنْ أَنْكِحَ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي لَوْ كَانَ فِيكَ خَيْرٌ لَرَأَيْتَ مِثْلَ مَا يَرَى هَؤُلاَءِ. فَلَمَّا اضْطَجَعْتُ لَيْلَةً قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ فِيَّ خَيْرًا فَأَرِنِي رُؤْيَا. فَبَيْنَمَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ جَاءَنِي مَلَكَانِ فِي يَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ، يُقْبِلاَ بِي إِلَى جَهَنَّمَ، وَأَنَا بَيْنَهُمَا أَدْعُو اللَّهَ اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَهَنَّمَ. ثُمَّ أُرَانِي لَقِيَنِي مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ لَنْ تُرَاعَ، نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ لَوْ تُكْثِرُ الصَّلاَةَ. فَانْطَلَقُوا بِي حَتَّى وَقَفُوا بِي عَلَى شَفِيرِ جَهَنَّمَ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَىِّ الْبِئْرِ، لَهُ قُرُونٌ كَقَرْنِ الْبِئْرِ، بَيْنَ كُلِّ قَرْنَيْنِ مَلَكٌ بِيَدِهِ مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ، وَأَرَى فِيهَا رِجَالاً مُعَلَّقِينَ بِالسَّلاَسِلِ، رُءُوسُهُمْ أَسْفَلَهُمْ، عَرَفْتُ فِيهَا رِجَالاً مِنْ قُرَيْشٍ، فَانْصَرَفُوا بِي عَنْ ذَاتِ الْيَمِينِ. فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ ". فَقَالَ نَافِعٌ لَمْ يَزَلْ بَعْدَ ذَلِكَ يُكْثِرُ الصَّلاَةَ.
Narrated Ibn `Umar:Men from the companions of Allah's Messenger (ﷺ) used to see dreams during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) and they used to narrate those dreams to Allah's Messenger (ﷺ). Allah's Messenger (ﷺ) would interpret them as Allah wished. I was a young man and used to stay in the mosque before my wedlock. I said to myself, "If there were any good in myself, I too would see what these people see." So when I went to bed one night, I said, "O Allah! If you see any good in me, show me a good dream." So while I was in that state, there came to me (in a dream) two angels. In the hand of each of them, there was a mace of iron, and both of them were taking me to Hell, and I was between them, invoking Allah, "O Allah! I seek refuge with You from Hell." Then I saw myself being confronted by another angel holding a mace of iron in his hand. He said to me, "Do not be afraid, you will be an excellent man if you only pray more often." So they took me till they stopped me at the edge of Hell, and behold, it was built inside like a well and it had side posts like those of a well, and beside each post there was an angel carrying an iron mace. I saw therein many people hanging upside down with iron chains, and I recognized therein some men from the Quraish. Then (the angels) took me to the right side. I narrated this dream to (my sister) Hafsa and she told it to Allah's Messenger (ﷺ). Allah's Messenger (ﷺ) said, "No doubt, `Abdullah is a good man." (Nafi` said, "Since then `Abdullah bin `Umar used to pray much)
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنْتُ غُلاَمًا شَابًّا عَزَبًا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ، وَكَانَ مَنْ رَأَى مَنَامًا قَصَّهُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ لِي عِنْدَكَ خَيْرٌ فَأَرِنِي مَنَامًا يُعَبِّرُهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي فَانْطَلَقَا بِي، فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ لِي لَنْ تُرَاعَ، إِنَّكَ رَجُلٌ صَالِحٌ، فَانْطَلَقَا بِي إِلَى النَّارِ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَىِّ الْبِئْرِ، وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُ بَعْضَهُمْ، فَأَخَذَا بِي ذَاتَ الْيَمِينِ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَفْصَةَ. فَزَعَمَتْ حَفْصَةُ أَنَّهَا قَصَّتْهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ لَوْ كَانَ يُكْثِرُ الصَّلاَةَ مِنَ اللَّيْلِ ". قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدَ ذَلِكَ يُكْثِرُ الصَّلاَةَ مِنَ اللَّيْلِ.
Narrated Ibn `Umar:I was a young unmarried man during the lifetime of the Prophet. I used to sleep in the mosque. Anyone who had a dream, would narrate it to the Prophet. I said, "O Allah! If there is any good for me with You, then show me a dream so that Allah's Messenger (ﷺ) may interpret it for me." So I slept and saw (in a dream) two angels came to me and took me along with them, and they met another angel who said to me, "Don't be afraid, you are a good man." They took me towards the Fire, and behold, it was built inside like a well, and therein I saw people some of whom I recognized, and then the angels took me to the right side. In the morning, I mentioned that dream to Hafsa. Hafsa told me that she had mentioned it to the Prophet (ﷺ) and he said, "`Abdullah is a righteous man if he only prays more at night." (Az-Zuhri said, "After that, `Abdullah used to pray more at night)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ". قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْعِلْمَ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "While I was sleeping, I saw that a cup full of milk was brought to me and I drank of it and gave the remaining of it to `Umar bin Al-Khattab." They asked. What have you interpreted (about the dream)? O Allah's Messenger (ﷺ)?" The Prophet (ﷺ) said. "(It is Religious) knowledge
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے حمزہ بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا۔ میں نے اس میں سے پیا پھر میں نے اپنا بچا ہوا عمر بن خطاب کو دے دیا۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی تعبیر کیا لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم سے تعبیر لی۔
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدَةَ بْنِ نَشِيطٍ، قَالَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنْ رُؤْيَا، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّتِي ذَكَرَ.
Narated Ubaidullah bin Abdullah:I asked Ibn Abbas about the dream of Allah's Messenger which he mentioned. (see following hadith)
مجھ سے سعید بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابوعبیدہ بن نشیط نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے متعلق پوچھا جو انہوں نے بیان کیا تھا۔
فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ أَنَّهُ وُضِعَ فِي يَدَىَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَفُظِعْتُهُمَا وَكَرِهْتُهُمَا، فَأُذِنَ لِي، فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ ". فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ الَّذِي قَتَلَهُ فَيْرُوزٌ بِالْيَمَنِ، وَالآخَرُ مُسَيْلِمَةُ.
Narrated `Abdullah bin `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping, two golden bangles were put in my two hands, so I got scared (frightened) and disliked it, but I was given permission to blow them off, and they flew away. I interpret it as a symbol of two liars who will appear." 'Ubaidullah said, "One of them was Al-`Ansi who was killed by Fairuz at Yemen and the other was Musailama (at Najd)
تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھ سے کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو سونے کے کنگن میرے ہاتھ میں رکھے گئے ہیں تو مجھے اس سے تکلیف پہنچی اور ناگوار ہوئی پھر مجھے اجازت دی گئی اور میں نے ان پر پھونک ماری اور وہ دونوں اڑ گئے۔ میں نے اس کی تعبیر لی کہ دو جھوٹے پیدا ہوں گے۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک تو العنسی تھا جسے یمن میں فیروز نے قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ، فَذَهَبَ وَهَلِي إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرٌ، فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ، وَرَأَيْتُ فِيهَا بَقَرًا وَاللَّهُ خَيْرٌ، فَإِذَا هُمُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَإِذَا الْخَيْرُ مَا جَاءَ اللَّهُ مِنَ الْخَيْرِ وَثَوَابِ الصِّدْقِ الَّذِي أَتَانَا اللَّهُ بِهِ بَعْدَ يَوْمِ بَدْرٍ ".
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "I saw in a dream that I was migrating from Mecca to a land where there were date palm trees. I thought that it might be the land of Al-Yamama or Hajar, but behold, it turned out to be Yathrib (i.e. Medina). And I saw cows (being slaughtered) there, but the reward given by Allah is better (than worldly benefits). Behold, those cows proved to symbolize the believers (who were killed) on the Day (of the battle) of Uhud, and the good (which I saw in the dream) was the good and the reward and the truth which Allah bestowed upon us after the Badr battle. (or the Battle of Uhud) and that was the victory bestowed by Allah in the Battle of Khaibar and the conquest of Mecca
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے بریدہ نے، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے، ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے میرا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب دیکھا کہ میں مکہ سے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جہاں کھجوریں ہیں۔ میرا ذہن اس طرف گیا کہ یہ جگہ یمامہ ہے یا ہجر۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ مدینہ یعنی یثرب ہے اور میں نے خواب میں گائے دیکھی ( زبح کی ہوئی ) اور یہ آواز سنی کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اور اللہ کے یہاں ہی خیر ہے تو اس کی تعبیر ان مسلمانوں کی صورت میں آئی جو جنگ احد میں شہید ہوئے اور خیر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے خیر اور سچائی کے ثواب کی صورت میں دیا یعنی وہ جو ہمیں اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کے بعد ( دوسری فتوحات کی صورت میں ) دی۔