place

The Mosque

المسجد

The term "The Mosque" (المسجد) often evokes the profound significance of Al-Masjid an-Nabawi, the Prophet's Mosque in Medina, a foundational institution of early Islam. Established by Prophet Muhammad (peace be upon him) upon his migration, it quickly became the vibrant heart of the Muslim community, far more than just a place of prayer. Here, believers gathered to fulfill the divine command to [establish prayer], but also to seek knowledge, resolve disputes, and address community needs. It served as a center for governance, education, and social welfare, embodying the Quranic ideal of [houses which Allah has permitted to be raised and that His name be remembered therein]. The Quran itself underscores the sacredness and purpose of these holy places, declaring that [the mosques of Allah are only to be maintained by those who believe in Allah and the Last Day]. Al-Masjid an-Nabawi thus established a powerful precedent, shaping the enduring role of mosques globally as dynamic centers of worship, learning, and community cohesion, fostering unity and devotion to Allah.

Hadith 68 traditions

Sahih al-Bukhari 8:67sahih

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ فَحَكَّهَا بِيَدِهِ، وَرُئِيَ مِنْهُ كَرَاهِيَةٌ ـ أَوْ رُئِيَ كَرَاهِيَتُهُ لِذَلِكَ وَشِدَّتُهُ عَلَيْهِ ـ وَقَالَ ‏"‏ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي صَلاَتِهِ فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ ـ أَوْ رَبُّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قِبْلَتِهِ ـ فَلاَ يَبْزُقَنَّ فِي قِبْلَتِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَزَقَ فِيهِ، وَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، قَالَ ‏"‏ أَوْ يَفْعَلُ هَكَذَا ‏"‏‏.‏

Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) saw expectoration (on the wall of the mosque) in the direction of the Qibla and scraped it off with his hand. It seemed that he disliked it and the sign of disgust was apparent from his face. He said, "If anyone of you stands for the prayer, he is speaking in private to his Lord, (or) his Lord is between him and his Qibla, therefore he should not spit towards his Qibla, but he could spit either on his left or under his foot." Then he took the corner of his sheet and spat in it, folded it and said, "Or do this

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر بن معاویہ نے، کہا ہم سے حمید نے انس بن مالک سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف ( دیوار پر ) بلغم دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے کھرچ ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناخوشی کو محسوس کیا گیا یا ( راوی نے اس طرح بیان کیا کہ ) اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید ناگواری کو محسوس کیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، یا یہ کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے قبلہ کی طرف نہ تھوکا کرو، البتہ بائیں طرف یا قدم کے نیچے تھوک لیا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کا ایک کونا ( کنارہ ) لیا، اس میں تھوکا اور چادر کی ایک تہہ کو دوسری تہہ پر پھیر لیا اور فرمایا، یا اس طرح کر لیا کرے۔

Sahih al-Bukhari 8:73sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَلاَعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ‏.‏

Narrated Sahl bin Sa`d:A man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! If a man finds another man with his wife, (committing adultery) should the husband kill him?" Later on I saw them (the man and his wife) doing Li`an in the mosque (taking oaths, one accusing, and the other denying adultery)

ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے، کہا ہم کو ابن جریج نے، کہا ہمیں ابن شہاب نے سہل بن سعد ساعدی سے کہ ایک شخص نے کہا، یا رسول اللہ! اس شخص کے بارہ میں فرمائیے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو ( بدفعلی کرتے ہوئے ) دیکھتا ہے، کیا اسے مار ڈالے؟ آخر اس مرد نے اپنی بیوی کے ساتھ مسجد میں لعان کیا اور اس وقت میں موجود تھا۔

Sahih al-Bukhari 8:106sahih

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَسْوَدَ ـ أَوِ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ـ كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ، فَمَاتَ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْهُ فَقَالُوا مَاتَ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ أَفَلاَ كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي بِهِ دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ ‏"‏‏.‏ ـ أَوْ قَالَ قَبْرِهَا ـ فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ‏.‏

Narrated Abu Huraira:A black man or a black woman used to sweep the mosque and he or she died. The Prophet (ﷺ) asked about her (or him). He was told that she (or he) had died. He said, "Why did you not inform me? Show me his grave (or her grave)." So he went to her (his) grave and offered her (his) funeral prayer

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ثابت سے، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ ایک حبشی مرد یا حبشی عورت مسجد نبوی میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔ ایک دن اس کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت فرمایا۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ تو انتقال کر گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تم نے مجھے کیوں نہ بتایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز پڑھی۔

Sahih al-Bukhari 8:111sahih

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فِي الأَكْحَلِ، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ، فَلَمْ يَرُعْهُمْ ـ وَفِي الْمَسْجِدِ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ ـ إِلاَّ الدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ، مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ فَإِذَا سَعْدٌ يَغْذُو جُرْحُهُ دَمًا، فَمَاتَ فِيهَا‏.‏

Narrated `Aisha:On the day of Al-Khandaq (battle of the Trench) the medial arm vein of Sa`d bin Mu`ad [??] was injured and the Prophet (ﷺ) pitched a tent in the mosque to look after him. There was another tent for Banu Ghaffar in the mosque and the blood started flowing from Sa`d's tent to the tent of Bani Ghaffar. They shouted, "O occupants of the tent! What is coming from you to us?" They found that Sa`d's wound was bleeding profusely and Sa`d died in his tent

ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا کہ کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے کہ کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے باپ عروہ بن زبیر کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ نے فرمایا کہ غزوہ خندق میں سعد ( رضی اللہ عنہ ) کے بازو کی ایک رگ ( اکحل ) میں زخم آیا تھا۔ ان کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ایک خیمہ نصب کرا دیا تاکہ آپ قریب رہ کر ان کی دیکھ بھال کیا کریں۔ مسجد ہی میں بنی غفار کے لوگوں کا بھی ایک خیمہ تھا۔ سعد رضی اللہ عنہ کے زخم کا خون ( جو رگ سے بکثرت نکل رہا تھا ) بہہ کر جب ان کے خیمہ تک پہنچا تو وہ ڈر گئے۔ انہوں نے کہا کہ اے خیمہ والو! تمہاری طرف سے یہ کیسا خون ہمارے خیمہ تک آ رہا ہے۔ پھر انہیں معلوم ہوا کہ یہ خون سعد رضی اللہ عنہ کے زخم سے بہہ رہا ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ کا اسی زخم کی وجہ سے انتقال ہو گیا۔

Sahih al-Bukhari 8:117sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْلاً قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ‏.‏

Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) sent some horse men to Najd and they brought a man called Thumama bin Uthal from Bani Hanifa. They fastened him to one of the pillars of the mosque

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے سعید بن ابی سعید مقبری کے واسطہ سے بیان کیا انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سواروں کو نجد کی طرف بھیجا تھا۔ وہ لوگ بنو حنیفہ کے ایک شخص ثمامہ بن اثال کو ( بطور جنگی قیدی ) پکڑ لائے اور مسجد میں ایک ستون سے باندھ دیا۔

Sahih al-Bukhari 10:56sahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَاحَ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ نُزُلَهُ مِنَ الْجَنَّةِ كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will prepare for him who goes to the mosque (every) morning and in the afternoon (for the congregational prayer) an honorable place in Paradise with good hospitality for (what he has done) every morning and afternoon goings

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون واسطی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن مطرف نے زید بن اسلم سے خبر دی، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مسجد میں صبح شام بار بار حاضری دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جنت میں اس کی مہمانی کا سامان کرے گا۔ وہ صبح شام جب بھی مسجد میں جائے۔

Sahih al-Bukhari 11:55sahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَالَ ‏"‏ أَصَلَّيْتَ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ‏"‏‏.‏

Narrated Jabir:A man entered the Mosque while the Prophet (ﷺ) was delivering the Khutba. The Prophet (ﷺ) said to him, "Have you prayed?" The man replied in the negative. The Prophet (ﷺ) said, "Pray two rak`at

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو سے بیان کیا، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے ( تحیۃ المسجد کی ) نماز پڑھ لی ہے؟ آنے والے نے جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اٹھو اور دو رکعت نماز ( تحیۃ المسجد ) پڑھ لو۔

Sahih al-Bukhari 0:0sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ،‏.‏ وَحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا فَأَقُصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكُنْتُ غُلاَمًا شَابًّا، وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَىِّ الْبِئْرِ، وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ، وَإِذَا فِيهَا أُنَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ـ قَالَ ـ فَلَقِيَنَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ لِي لَمْ تُرَعْ‏.‏ فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ، لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ‏"‏‏.‏ فَكَانَ بَعْدُ لاَ يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلاَّ قَلِيلاً‏.‏

Narrated Salim's father:In the lifetime of the Prophet (ﷺ) whosoever saw a dream would narrate it to Allah's Messenger (ﷺ). I had a wish of seeing a dream to narrate it to Allah's Messenger (ﷺ) I was a grown up boy and used to sleep in the Mosque in the lifetime of the Prophet. I saw in the dream that two angels caught hold of me and took me to the Fire which was built all round like a built well and had two poles in it and the people in it were known to me. I started saying, "I seek refuge with Allah from the Fire." Then I met another angel who told me not to be afraid. I narrated the dream to Hafsa who told it to Allah's Messenger (ﷺ). The Prophet said, "Abdullah is a good man. I wish he prayed Tahajjud." After that `Abdullah (i.e. Salim's father) used to sleep but a little at night

Sahih al-Bukhari 19:2sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ،‏.‏ وَحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا فَأَقُصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكُنْتُ غُلاَمًا شَابًّا، وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَىِّ الْبِئْرِ، وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ، وَإِذَا فِيهَا أُنَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ـ قَالَ ـ فَلَقِيَنَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ لِي لَمْ تُرَعْ‏.‏ فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ، لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ‏"‏‏.‏ فَكَانَ بَعْدُ لاَ يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلاَّ قَلِيلاً‏.‏

Narrated Salim's father:In the lifetime of the Prophet (ﷺ) whosoever saw a dream would narrate it to Allah's Messenger (ﷺ). I had a wish of seeing a dream to narrate it to Allah's Messenger (ﷺ) I was a grown up boy and used to sleep in the Mosque in the lifetime of the Prophet. I saw in the dream that two angels caught hold of me and took me to the Fire which was built all round like a built well and had two poles in it and the people in it were known to me. I started saying, "I seek refuge with Allah from the Fire." Then I met another angel who told me not to be afraid. I narrated the dream to Hafsa who told it to Allah's Messenger (ﷺ). The Prophet said, "Abdullah is a good man. I wish he prayed Tahajjud." After that `Abdullah (i.e. Salim's father) used to sleep but a little at night

Sahih al-Bukhari 21:14sahih

حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ صَلَّى صَلاَةً قَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ عَرَضَ لِي، فَشَدَّ عَلَىَّ لِيَقْطَعَ الصَّلاَةَ عَلَىَّ، فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ، فَذَعَتُّهُ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أُوثِقَهُ إِلَى سَارِيَةٍ حَتَّى تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ فَذَكَرْتُ قَوْلَ سُلَيْمَانَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي‏.‏ فَرَدَّهُ اللَّهُ خَاسِيًا ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ فَذَعَتُّهُ بِالذَّالِ أَىْ خَنَقْتُهُ وَفَدَعَّتُّهُ مِنْ قَوْلِ اللَّهِ ‏{‏يَوْمَ يُدَعُّونَ‏}‏ أَىْ يُدْفَعُونَ وَالصَّوَابُ، فَدَعَتُّهُ إِلاَّ أَنَّهُ كَذَا قَالَ بِتَشْدِيدِ الْعَيْنِ وَالتَّاءِ‏.‏

Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) once offered the prayer and said, "Satan came in front of me and tried to interrupt my prayer, but Allah gave me an upper hand on him and I choked him. No doubt, I thought of tying him to one of the pillars of the mosque till you get up in the morning and see him. Then I remembered the statement of Prophet Solomon, 'My Lord ! Bestow on me a kingdom such as shall not belong to any other after me.' Then Allah made him (Satan) return with his head down (humiliated)

ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شبابہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک نماز پڑھی پھر فرمایا کہ میرے سامنے ایک شیطان آ گیا اور کوشش کرنے لگا کہ میری نماز توڑ دے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو میرے قابو میں کر دیا میں نے اس کا گلا گھونٹا یا اس کو دھکیل دیا۔ آخر میں میرا ارادہ ہوا کہ اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دوں اور جب صبح ہو تو تم بھی دیکھو۔ لیکن مجھے سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی ”اے اللہ! مجھے ایسی سلطنت عطا کیجیو جو میرے بعد کسی اور کو نہ ملے“ ( اس لیے میں نے اسے چھوڑ دیا ) اور اللہ تعالیٰ نے اسے ذلت کے ساتھ بھگا دیا۔ اس کے بعد نضر بن شمیل نے کہا کہ «ذعته» ”ذال“ سے ہے۔ جس کے معنی ہیں کہ میں نے اس کا گلا گھونٹ دیا اور «دعته» اللہ تعالیٰ کے اس قول سے لیا گیا ہے۔ «يوم يدعون‏» جس کے معنی ہیں قیامت کے دن وہ دوزخ کی طرف دھکیلے جائیں گے۔ درست پہلا ہی لفظ ہے۔ البتہ شعبہ نے اسی طرح ”عین“ اور ”تاء“ کی تشدید کے ساتھ بیان کیا ہے۔

Sahih al-Bukhari 22:7sahih

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِحْدَى صَلاَتَىِ الْعَشِيِّ ـ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَكْثَرُ ظَنِّي الْعَصْرَ ـ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا وَفِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ـ رضى الله عنهما ـ فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَقَالُوا أَقَصُرَتِ الصَّلاَةُ وَرَجُلٌ يَدْعُوهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ أَنَسِيتَ أَمْ قَصُرَتْ فَقَالَ ‏ "‏ لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ ‏"‏‏.‏ قَالَ بَلَى قَدْ نَسِيتَ‏.‏ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَكَبَّرَ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَكَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ‏.‏

Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) offered one of the evening prayers (the sub-narrator Muhammad said, "I think that it was most probably the `Asr prayer") and he finished it after offering two rak`at only. He then stood near a piece of wood in front of the Mosque and put his hand over it. Abu Bakr and `Umar were amongst those who were present, but they dared not talk to him about that (because of excessive respect for him), and those who were in a hurry went out. They said, "Has the prayer been reduced?" A man who was called Dhul-Yadain by the Prophet (ﷺ) said (to the Prophet), "Has the prayer been reduced or have you forgotten?" He said, "Neither have I forgotten, nor has the prayer been reduced." He said, "Certainly you have forgotten." So the Prophet (ﷺ) offered two more rak`at and performed Taslim and then said Takbir and performed a prostration of Sahu like his ordinary prostration or a bit longer and then raised his head and said Takbir and then put his head down and performed a prostration like his ordinary prostration or a bit longer, and then raised his head and said Takbir

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے پہر کی دو نمازوں ( ظہر یا عصر ) میں سے کوئی نماز پڑھی۔ میرا غالب گمان یہ ہے کہ وہ عصر ہی کی نماز تھی۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے تنے سے جو مسجد کی اگلی صف میں تھا، ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اس پر رکھے ہوئے تھے۔ حاضرین میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے لیکن انہیں بھی کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ جو ( جلد باز قسم کے ) لوگ نماز پڑھتے ہی مسجد سے نکل جانے کے عادی تھے۔ وہ باہر جا چکے تھے۔ لوگوں نے کہا کیا نماز کی رکعتیں کم ہو گئیں۔ ایک شخص جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین کہتے تھے۔ وہ بولے یا رسول اللہ! آپ بھول گئے یا نماز میں کمی ہو گئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کی رکعتیں کم ہوئیں۔ ذوالیدین بولے کہ نہیں آپ بھول گئے ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت اور پڑھی اور سلام پھیرا پھر تکبیر کہی اور معمول کے مطابق یا اس سے بھی طویل سجدہ کیا۔ جب سجدہ سے سر اٹھایا تو پھر تکبیر کہی اور پھر تکبیر کہہ کر سجدہ میں گئے۔ یہ سجدہ بھی معمول کی طرح یا اس سے طویل تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔

Sahih al-Bukhari 24:63sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ الأَنْصَارِ بِالْمَدِينَةِ مَالاً مِنْ نَخْلٍ، وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ‏}‏ قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ ‏{‏لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ‏}‏ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَىَّ بَيْرُحَاءَ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهُ‏.‏ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَخْ، ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الأَقْرَبِينَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ‏.‏ تَابَعَهُ رَوْحٌ‏.‏ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَإِسْمَاعِيلُ عَنْ مَالِكٍ رَايِحٌ‏.‏

Narrated 'Is-haq bin `Abdullah bin Abi Talha:I heard Anas bin Malik saying, "Abu Talha had more property of date-palm trees gardens than any other amongst the Ansar in Medina and the most beloved of them to him was Bairuha garden, and it was in front of the Mosque of the Prophet (ﷺ) . Allah's Messenger (ﷺ) used to go there and used to drink its nice water." Anas added, "When these verses were revealed:--'By no means shall you Attain righteousness unless You spend (in charity) of that Which you love. ' (3.92) Abu Talha said to Allah's Messenger (ﷺ) 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Allah, the Blessed, the Superior says: By no means shall you attain righteousness, unless you spend (in charity) of that which you love. And no doubt, Bairuha' garden is the most beloved of all my property to me. So I want to give it in charity in Allah's Cause. I expect its reward from Allah. O Allah's Messenger (ﷺ)! Spend it where Allah makes you think it feasible.' On that Allah's Apostle said, 'Bravo! It is useful property. I have heard what you have said (O Abu Talha), and I think it would be proper if you gave it to your Kith and kin.' Abu Talha said, I will do so, O Allah's Apostle.' Then Abu Talha distributed that garden amongst his relatives and his cousins

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے ‘ کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار تھے۔ اپنے کھجور کے باغات کی وجہ سے۔ اور اپنے باغات میں سب سے زیادہ پسند انہیں بیرحاء کا باغ تھا۔ یہ باغ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے جایا کرتے اور اس کا میٹھا پانی پیا کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون‏» یعنی ”تم نیکی کو اس وقت تک نہیں پا سکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو۔“ یہ سن کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو۔ اور مجھے بیرحاء کا باغ سب سے زیادہ پیارا ہے۔ اس لیے میں اسے اللہ تعالیٰ کے لیے خیرات کرتا ہوں۔ اس کی نیکی اور اس کے ذخیرہ آخرت ہونے کا امیدوار ہوں۔ اللہ کے حکم سے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مناسب سمجھیں اسے استعمال کیجئے۔ راوی نے بیان کیا کہ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ خوب! یہ تو بڑا ہی آمدنی کا مال ہے۔ یہ تو بہت ہی نفع بخش ہے۔ اور جو بات تم نے کہی میں نے وہ سن لی۔ اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو دے ڈالو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کروں گا۔ چنانچہ انہوں نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا کے لڑکوں کو دے دیا۔ عبداللہ بن یوسف کے ساتھ اس روایت کی متابعت روح نے کی ہے۔ یحییٰ بن یحییٰ اور اسماعیل نے مالک کے واسطہ سے ( «رابح» کے بجائے ) «رائح» نقل کیا ہے۔

Sahih al-Bukhari 25:28sahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ‏.‏ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يَقُولُ مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ‏.‏

Narrated Salim bin `Abdullah:I heard my father saying, "Never did Allah's Messenger (ﷺ) assume Ihram except at the Mosque, that is, at the Mosque of Dhul-Hulaifa

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے، انہوں نے اپنے باپ سے سنا، کہ وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ذوالحلیفہ کے قریب ہی پہنچ کر احرام باندھا تھا۔

Sahih al-Bukhari 29:21sahih

حَدَّثَنَا ابْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَتَحَوَّلُوا، إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُعْرَى الْمَدِينَةُ، وَقَالَ ‏ "‏ يَا بَنِي سَلِمَةَ‏.‏ أَلاَ تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ ‏"‏‏.‏ فَأَقَامُوا‏.‏

Narrated Anas:(The people of) Bani Salama intended to shift near the mosque (of the Prophet) but Allah's Messenger (ﷺ) disliked to see Medina vacated and said, "O the people of Bani Salama! Don't you think that you will be rewarded for your footsteps which you take towards the mosque?" So, they stayed at their old places

ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں مروان بن معاویہ فزاری نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے خبر دی اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنو سلمہ نے چاہا کہ اپنے دور والے مکانات چھوڑ کر مسجد نبوی سے قریب اقامت اختیار کر لیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پسند نہ کیا کہ مدینہ کے کسی حصہ سے بھی رہائش ترک کی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بنو سلمہ! تم اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے، چنانچہ بنو سلمہ نے ( اپنی اصلی اقامت گاہ میں ) رہائش باقی رکھی۔

Sahih al-Bukhari 40:17sahih

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ الأَنْصَارِ بِالْمَدِينَةِ مَالاً، وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بِيْرُ حَاءَ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ فَلَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ‏}‏ قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ ‏{‏لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ‏}‏ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَىَّ بِيْرُ حَاءَ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ، فَقَالَ ‏"‏ بَخٍ، ذَلِكَ مَالٌ رَائِحٌ، ذَلِكَ مَالٌ رَائِحٌ‏.‏ قَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهَا، وَأَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الأَقْرَبِينَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ‏.‏ تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ عَنْ مَالِكٍ‏.‏ وَقَالَ رَوْحٌ عَنْ مَالِكٍ رَابِحٌ‏.‏

Narrated Anas bin Malik:Abu Talha was the richest man in Medina amongst the Ansar and Beeruha' (garden) was the most beloved of his property, and it was situated opposite the mosque (of the Prophet.). Allah's Messenger (ﷺ) used to enter it and drink from its sweet water. When the following Divine Verse was revealed: 'You will not attain righteousness till you spend in charity of the things you love' (3.92), Abu Talha got up in front of Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Allah says in His Book, 'You will not attain righteousness unless you spend (in charity) that which you love,' and verily, the most beloved to me of my property is Beeruha (garden), so I give it in charity and hope for its reward from Allah. O Allah's Apostle! Spend it wherever you like." Allah's Messenger (ﷺ) appreciated that and said, "That is perishable wealth, that is perishable wealth. I have heard what you have said; I suggest you to distribute it among your relatives." Abu Talha said, "I will do so, O Allah's Messenger (ﷺ)." So, Abu Talha distributed it among his relatives and cousins. The sub-narrator (Malik) said: The Prophet (ﷺ) said: "That is a profitable wealth," instead of "perishable wealth

مجھ سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے امام مالک کے سامنے قرآت کی بواسطہ اسحاق بن عبداللہ کے کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں انصار کے سب سے مالدار لوگوں میں سے تھے۔ بیرحاء ( ایک باغ ) ان کا سب سے زیادہ محبوب مال تھا۔ جو مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں تشریف لے جاتے اور اس کا نہایت میٹھا عمدہ پانی پیتے تھے۔ پھر جب قرآن کی آیت «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون‏» اتری ”تم نیکی ہرگز نہیں حاصل کر سکتے جب تک نہ خرچ کرو اللہ کی راہ میں وہ چیز جو تمہیں زیادہ پسند ہو“ تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون‏» اور مجھے اپنے مال میں سب سے زیادہ پسند میرا یہی باغ بیرحاء ہے۔ یہ اللہ کی راہ میں صدقہ ہے۔ اس کی نیکی اور ذخیرہ ثواب کی امید میں صرف اللہ تعالیٰ سے رکھتا ہوں۔ پس آپ جہاں مناسب سمجھیں اسے خرچ فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، واہ واہ! یہ بڑا ہی نفع والا مال ہے۔ بہت ہی مفید ہے۔ اس کے بارے میں تم نے جو کچھ کہا وہ میں نے سن لیا۔ اب میں تو یہی مناسب سمجھتا ہوں کہ اسے تو اپنے رشتہ داروں ہی میں تقسیم کر دے۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کروں گا۔ چنانچہ یہ کنواں انہوں نے اپنے رشتہ داروں اور چچا کی اولاد میں تقسیم کر دیا۔ اس روایت کی متابعت اسماعیل نے مالک سے کی ہے۔ اور روح نے مالک سے ( لفظ «رائح‏.‏» کے بجائے ) «رابح‏.‏» نقل کیا ہے۔

Sahih al-Bukhari 43:10sahih

حَدَّثَنَا خَلاَّدٌ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي الْمَسْجِدِ ـ قَالَ مِسْعَرٌ أُرَاهُ قَالَ ضُحًى ـ فَقَالَ ‏ "‏ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ‏"‏‏.‏ وَكَانَ لِي عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي‏.‏

Narrated Jabir bin `Abdullah:I went to the Prophet (ﷺ) while he was in the Mosque. (Mis`ar thinks that Jabir went in the forenoon.) After the Prophet (ﷺ) told me to pray two rak`at, he repaid me the debt he owed me and gave me an extra amount

ہم سے خلاد نے بیان کیا، ان سے مسعر نے بیان کیا، ان سے محارب بن دثار نے بیان کیا، اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف رکھتے تھے۔ مسعر نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے چاشت کے وقت کا ذکر کیا۔ ( کہ اس وقت خدمت نبوی میں حاضر ہوا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو رکعت نماز پڑھ لو۔ میرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ادا کیا، بلکہ زیادہ بھی دے دیا۔

Sahih al-Bukhari 51:37sahih

حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ مُحَارِبٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَضَانِي وَزَادَنِي

Jabir (ra) said, "I went to the Prophet (ﷺ) in the mosque and he paid me my right and gave me more than he owed me

اور ثابت بن محمد نے بیان کیا کہ ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے محارب نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ اور ثابت بن محمد نے بیان کیا کہ ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے محارب نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ

Sahih al-Bukhari 55:42sahih

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلاَّ إِلَى اللَّهِ‏.‏

Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said (at the time of building the Mosque), "O Bani An-Najjar! Suggest to me a price for your garden." They replied, "We do not ask its price except from Allah

ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ‘ ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”اے بنو نجار! تم اپنے باغ کی قیمت مجھ سے وصول کر لو تو انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس کی قیمت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں چاہتے۔“

Sahih al-Bukhari 58:9sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ ‏"‏‏.‏ فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ فَقَالَ ‏"‏ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الأَرْضِ، فَمَنْ يَجِدْ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ، وَإِلاَّ فَاعْلَمُوا أَنَّ الأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:While we were in the Mosque, the Prophet (ﷺ) came out and said, "Let us go to the Jews" We went out till we reached Bait-ul-Midras. He said to them, "If you embrace Islam, you will be safe. You should know that the earth belongs to Allah and His Apostle, and I want to expel you from this land. So, if anyone amongst you owns some property, he is permitted to sell it, otherwise you should know that the Earth belongs to Allah and His Apostle

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعد مقبری نے بیان کیا، ان سے ان کے والد (ابوسعید) نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہم ابھی مسجد نبوی میں موجود تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور فرمایا کہ یہودیوں کی طرف چلو۔ چنانچہ ہم روانہ ہوئے اور جب بیت المدراس ( یہودیوں کا مدرسہ ) پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسلام لاؤ تو سلامتی کے ساتھ رہو گے اور سمجھ لو کہ زمین اللہ اور اور اس کے رسول کی ہے۔ اور میرا ارادہ ہے کہ تمہیں اس ملک سے نکال دوں، پھر تم میں سے اگر کسی کی جائیداد کی قیمت آئے تو اسے بیچ ڈالے۔ اگر تم اس پر تیار نہیں ہو، تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ زمین اللہ اور اس کے رسول ہی کی ہے۔

Sahih al-Bukhari 61:84sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ حَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَقَامَ مَنْ كَانَ قَرِيبَ الدَّارِ مِنَ الْمَسْجِدِ يَتَوَضَّأُ، وَبَقِيَ قَوْمٌ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فِيهِ مَاءٌ، فَوَضَعَ كَفَّهُ فَصَغُرَ الْمِخْضَبُ أَنْ يَبْسُطَ فِيهِ كَفَّهُ، فَضَمَّ أَصَابِعَهُ فَوَضَعَهَا فِي الْمِخْضَبِ، فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ جَمِيعًا‏.‏ قُلْتُ كَمْ كَانُوا قَالَ ثَمَانُونَ رَجُلاً‏.‏

Narrated Humaid:Anas bin Malik said, "Once the time of the prayer became due and the people whose houses were close to the Mosque went to their houses to perform ablution, while the others remained (sitting there). A stone pot containing water was brought to the Prophet, who wanted to put his hand in it, but It was too small for him to spread his hand in it, and so he had to bring his fingers together before putting his hand in the pot. Then all the people performed the ablution (with that water)." I asked Anas, "How many persons were they." He replied, "There were eighty men

ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے یزید بن ہارون سے سنا، کہا کہ مجھ کو حمید نے خبر دی اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نماز کا وقت ہو چکا تھا، مسجد نبوی سے جن کے گھر قریب تھے انہوں نے تو وضو کر لیا لیکن بہت سے لوگ باقی رہ گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پتھر کی بنی ہوئی ایک لگن لائی گئی۔ اس میں پانی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا لیکن اس کا منہ اتنا تنگ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اندر اپنا ہاتھ پھیلا کر نہیں رکھ سکتے تھے، چنانچہ آپ نے انگلیاں ملا لیں اور لگن کے اندر ہاتھ کو ڈال دیا پھر ( اسی پانی سے ) جتنے لوگ باقی رہ گئے تھے سب نے وضو کیا۔ میں نے پوچھا کہ آپ حضرات کی تعداد کیا تھی؟ انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اسّی آدمی تھے۔

Sahih al-Bukhari 62:81sahih

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبَّادٍ، يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا الْمَاجِشُونُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ نَظَرَ ابْنُ عُمَرَ يَوْمًا وَهْوَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَى رَجُلٍ يَسْحَبُ ثِيَابَهُ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَقَالَ انْظُرْ مَنْ هَذَا لَيْتَ هَذَا عِنْدِي‏.‏ قَالَ لَهُ إِنْسَانٌ أَمَا تَعْرِفُ هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ أُسَامَةَ، قَالَ فَطَأْطَأَ ابْنُ عُمَرَ رَأْسَهُ، وَنَقَرَ بِيَدَيْهِ فِي الأَرْضِ، ثُمَّ قَالَ لَوْ رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَحَبَّهُ‏.‏

Narrated `Abdullah bin Dinar:One day Ibn `Umar, while in the Mosque, looked at a man who was dragging his clothes while walking in one of the corners of the Mosque He said, "See who is that. I wish he was near to me." Somebody then said (to Ibn `Umar), "Don't you know him, O Abu `Abdur-Rahman? He is Muhammad bin Usama." On that Ibn `Umar bowed his head and dug the earth with his hands and then, said, "If Allah's Messenger (ﷺ) saw him, he would have loved him

مجھ سے حسن بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعباد یحییٰ بن عباد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ماجشون نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن دینار نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک دن ایک صاحب کو مسجد میں دیکھا کہ اپنا کپڑا ایک کونے میں پھیلا رہے تھے۔ انہوں نے کہا دیکھو یہ کون صاحب ہیں؟ کاش! یہ میرے قریب ہوتے۔ ایک شخص نے کہا اے ابوعبدالرحمٰن! کیا آپ انہیں نہیں پہچانتے؟ یہ محمد بن اسامہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ ابن دینار نے بیان کیا کہ یہ سنتے ہی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا سر جھکا لیا اور اپنے ہاتھوں سے زمین کریدنے لگے پھر بولے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھتے تو یقیناً آپ ان سے محبت فرماتے۔

Sahih al-Bukhari 0:0sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا أَقُصُّهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَكُنْتُ غُلاَمًا أَعْزَبَ، وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَىِّ الْبِئْرِ، فَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ كَقَرْنَىِ الْبِئْرِ، وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ‏.‏ فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ لِي لَنْ تُرَاعَ‏. فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ‏.‏ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ، لَوْ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ‏"‏‏.‏ قَالَ سَالِمٌ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلاَّ قَلِيلاً‏.‏

Narrated Ibn `Umar:If a man saw a dream during the lifetime of the Prophet (ﷺ) he would narrate it to the Prophet. Once I wished to see a dream and narrate it to the Prophet (ﷺ) I was young, unmarried, and used to sleep in the Mosque during the lifetime of the Prophet. I dreamt that two angels took me and went away with me towards the (Hell) Fire which looked like a well with the inside walls built up, and had two side-walls like those of a well. There I saw some people in it whom I knew. I started saying, "I seek Refuge with Allah from the (Hell) Fire, I seek Refuge with Allah from the (Hell) Fire." Then another angel met the other two and said to me, "Do not be afraid." I narrated my dream to Hafsa who, in her turn, narrated it to the Prophet. He said, "What an excellent man `Abdullah is if he only observes the night prayer." (Salim, a sub-narrator said, "Abdullah used not to sleep at night but very little hence forward)

Sahih al-Bukhari 62:85sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا أَقُصُّهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَكُنْتُ غُلاَمًا أَعْزَبَ، وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَىِّ الْبِئْرِ، فَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ كَقَرْنَىِ الْبِئْرِ، وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ‏.‏ فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ لِي لَنْ تُرَاعَ‏. فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ‏.‏ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ، لَوْ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ‏"‏‏.‏ قَالَ سَالِمٌ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلاَّ قَلِيلاً‏.‏

Narrated Ibn `Umar:If a man saw a dream during the lifetime of the Prophet (ﷺ) he would narrate it to the Prophet. Once I wished to see a dream and narrate it to the Prophet (ﷺ) I was young, unmarried, and used to sleep in the Mosque during the lifetime of the Prophet. I dreamt that two angels took me and went away with me towards the (Hell) Fire which looked like a well with the inside walls built up, and had two side-walls like those of a well. There I saw some people in it whom I knew. I started saying, "I seek Refuge with Allah from the (Hell) Fire, I seek Refuge with Allah from the (Hell) Fire." Then another angel met the other two and said to me, "Do not be afraid." I narrated my dream to Hafsa who, in her turn, narrated it to the Prophet. He said, "What an excellent man `Abdullah is if he only observes the night prayer." (Salim, a sub-narrator said, "Abdullah used not to sleep at night but very little hence forward)

Sahih al-Bukhari 63:29sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ أُنَاسًا نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ، فَلَمَّا بَلَغَ قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قُومُوا إِلَى خَيْرِكُمْ أَوْ سَيِّدِكُمْ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ يَا سَعْدُ، إِنَّ هَؤُلاَءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ حَكَمْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ، أَوْ بِحُكْمِ الْمَلِكِ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Some people (i.e. the Jews of Bani Quraiza) agreed to accept the verdict of Sa`d bin Mu`adh so the Prophet (ﷺ) sent for him (i.e. Sa`d bin Mu`adh). He came riding a donkey, and when he approached the Mosque, the Prophet (ﷺ) said, "Get up for the best amongst you." or said, "Get up for your chief." Then the Prophet (ﷺ) said, "O Sa`d! These people have agreed to accept your verdict." Sa`d said, "I judge that their warriors should be killed and their children and women should be taken as captives." The Prophet said, "You have given a judgment similar to Allah's Judgment (or the King's judgment)

ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک قوم ( یہود بنی قریظہ ) نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے تو انہیں بلانے کے لیے آدمی بھیجا گیا اور وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے۔ جب اس جگہ کے قریب پہنچے جسے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام جنگ میں ) نماز پڑھنے کے لیے منتخب کیا ہوا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اپنے سب سے بہتر شخص کے لیے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ) اپنے سردار کو لینے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سعد! انہوں نے تم کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا پھر میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان کے جو لوگ جنگ کرنے والے ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کی عورتوں، بچوں کو جنگی قیدی بنا لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اللہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) فرشتے کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔

Sahih al-Bukhari 0:0sahih

حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ ثُمَّ قَالَ كَمِ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَرْبَعًا ‏{‏إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ‏}‏ ثُمَّ سَمِعْنَا اسْتِنَانَ، عَائِشَةَ قَالَ عُرْوَةُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَلاَ تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ‏.‏ فَقَالَتْ مَا اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عُمْرَةً إِلاَّ وَهْوَ شَاهِدُهُ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ‏.‏

Narrated Mujahid:`Urwa and I entered the Mosque and found `Abdullah bin `Umar sitting beside the dwelling place of `Aisha. `Urwa asked (Ibn `Umar), "How many `Umras did the Prophet (ﷺ) perform?" Ibn `Umar replied, "Four, one of which was in Rajab." Then we heard `Aisha brushing her teeth whereupon `Urwa said, "O mother of the believers! Don't you hear what Abu `Abdur-Rahman is saying? He is saying that the Prophet performed four `Umra, one of which was in Rajab." `Aisha said, "The Prophet (ﷺ) did not perform any `Umra but he (i.e. Ibn `Umar) witnessed it. And he (the Prophet (ﷺ) ) never did any `Umra in (the month of) Rajab

Sahih al-Bukhari 64:288sahih

حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ ثُمَّ قَالَ كَمِ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَرْبَعًا ‏{‏إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ‏}‏ ثُمَّ سَمِعْنَا اسْتِنَانَ، عَائِشَةَ قَالَ عُرْوَةُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَلاَ تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ‏.‏ فَقَالَتْ مَا اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عُمْرَةً إِلاَّ وَهْوَ شَاهِدُهُ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ‏.‏

Narrated Mujahid:`Urwa and I entered the Mosque and found `Abdullah bin `Umar sitting beside the dwelling place of `Aisha. `Urwa asked (Ibn `Umar), "How many `Umras did the Prophet (ﷺ) perform?" Ibn `Umar replied, "Four, one of which was in Rajab." Then we heard `Aisha brushing her teeth whereupon `Urwa said, "O mother of the believers! Don't you hear what Abu `Abdur-Rahman is saying? He is saying that the Prophet performed four `Umra, one of which was in Rajab." `Aisha said, "The Prophet (ﷺ) did not perform any `Umra but he (i.e. Ibn `Umar) witnessed it. And he (the Prophet (ﷺ) ) never did any `Umra in (the month of) Rajab

Sahih al-Bukhari 64:397sahih

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ـ هُوَ ابْنُ طَهْمَانَ ـ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ أَوَّلُ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ بَعْدَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَسْجِدِ عَبْدِ الْقَيْسِ بِجُوَاثَى‏.‏ يَعْنِي قَرْيَةً مِنَ الْبَحْرَيْنِ‏.‏

Narrated Ibn `Abbas:The first Friday (i.e. Jumua) prayer offered after the Friday Prayer offered at the Mosque of Allah's Apostle was offered at the mosque of `Abdul Qais situated at Jawathi, that is a village at Al Bahrain

مجھ سے عبداللہ بن محمد الجعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عبدالملک نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، (یہ طہمان کے بیٹے ہیں۔) ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد یعنی مسجد نبوی کے بعد سب سے پہلا جمعہ جواثی کی مسجد عبدالقیس میں قائم ہوا۔ جواثی بحرین کا ایک گاؤں تھا۔

Sahih al-Bukhari 64:398sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْلاً قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ عِنْدِي خَيْرٌ يَا مُحَمَّدُ، إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ مِنْهُ مَا شِئْتَ‏.‏ حَتَّى كَانَ الْغَدُ ثُمَّ قَالَ لَهُ ‏"‏ مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا قُلْتُ لَكَ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ‏.‏ فَتَرَكَهُ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ، فَقَالَ ‏"‏ مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ ‏"‏، فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى الأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَىَّ مِنْ وَجْهِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ إِلَىَّ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَىَّ مِنْ دِينِكَ، فَأَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَىَّ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضُ إِلَىَّ مِنْ بَلَدِكَ، فَأَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلاَدِ إِلَىَّ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ، فَمَاذَا تَرَى فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ، فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ قَالَ لَهُ قَائِلٌ صَبَوْتَ‏.‏ قَالَ لاَ، وَلَكِنْ أَسْلَمْتُ مَعَ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَلاَ وَاللَّهِ لاَ يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) sent some cavalry towards Najd and they brought a man from the tribe of Banu Hanifa who was called Thumama bin Uthal. They fastened him to one of the pillars of the Mosque. The Prophet went to him and said, "What have you got, O Thumama?" He replied," I have got a good thought, O Muhammad! If you should kill me, you would kill a person who has already killed somebody, and if you should set me free, you would do a favor to one who is grateful, and if you want property, then ask me whatever wealth you want." He was left till the next day when the Prophet (ﷺ) said to him, "What have you got, Thumama? He said, "What I told you, i.e. if you set me free, you would do a favor to one who is grateful." The Prophet (ﷺ) left him till the day after, when he said, "What have you got, O Thumama?" He said, "I have got what I told you. "On that the Prophet (ﷺ) said, "Release Thumama." So he (i.e. Thumama) went to a garden of date-palm trees near to the Mosque, took a bath and then entered the Mosque and said, "I testify that None has the right to be worshipped except Allah, and also testify that Muhammad is His Apostle! By Allah, O Muhammad! There was no face on the surface of the earth most disliked by me than yours, but now your face has become the most beloved face to me. By Allah, there was no religion most disliked by me than yours, but now it is the most beloved religion to me. By Allah, there was no town most disliked by me than your town, but now it is the most beloved town to me. Your cavalry arrested me (at the time) when I was intending to perform the `Umra. And now what do you think?" The Prophet (ﷺ) gave him good tidings (congratulated him) and ordered him to perform the `Umra. So when he came to Mecca, someone said to him, "You have become a Sabian?" Thumama replied, "No! By Allah, I have embraced Islam with Muhammad, Apostle of Allah. No, by Allah! Not a single grain of wheat will come to you from Yamamah unless the Prophet gives his permission

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف کچھ سوار بھیجے وہ قبیلہ بنو حنیفہ کے ( سرداروں میں سے ) ایک شخص ثمامہ بن اثال نامی کو پکڑ کر لائے اور مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور پوچھا ثمامہ تو کیا سمجھتا ہے؟ ( میں تیرے ساتھ کیا کروں گا؟ ) انہوں نے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! میرے پاس خیر ہے ( اس کے باوجود ) اگر آپ مجھے قتل کر دیں تو آپ ایک شخص کو قتل کریں گے جو خونی ہے، اس نے جنگ میں مسلمانوں کو مارا اور اگر آپ مجھ پر احسان کریں گے تو ایک ایسے شخص پر احسان کریں گے جو ( احسان کرنے والے کا ) شکر ادا کرتا ہے لیکن اگر آپ کو مال مطلوب ہے تو جتنا چاہیں مجھ سے مال طلب کر سکتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے آئے، دوسرے دن آپ نے پھر پوچھا: ثمامہ اب تو کیا سمجھتا ہے؟ انہوں نے کہا، وہی جو میں پہلے کہہ چکا ہوں، کہ اگر آپ نے احسان کیا تو ایک ایسے شخص پر احسان کریں گے جو شکر ادا کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر چلے گئے، تیسرے دن پھر آپ نے ان سے پوچھا: اب تو کیا سمجھتا ہے ثمامہ؟ انہوں نے کہا کہ وہی جو میں آپ سے پہلے کہہ چکا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ثمامہ کو چھوڑ دو ( رسی کھول دی گئی ) تو وہ مسجد نبوی سے قریب ایک باغ میں گئے اور غسل کر کے مسجد نبوی میں حاضر ہوئے اور پڑھا «أشهد أن لا إله إلا الله،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأشهد أن محمدا رسول الله» اور کہا اے محمد! اللہ کی قسم روئے زمین پر کوئی چہرہ آپ کے چہرے سے زیادہ میرے لیے برا نہیں تھا لیکن آج آپ کے چہرے سے زیادہ کوئی چہرہ میرے لیے محبوب نہیں ہے۔ اللہ کی قسم کوئی دین آپ کے دین سے زیادہ مجھے برا نہیں لگتا تھا لیکن آج آپ کا دین مجھے سب سے زیادہ پسندیدہ اور عزیز ہے۔ اللہ کی قسم! کوئی شہر آپ کے شہر سے زیادہ برا مجھے نہیں لگتا تھا لیکن آج آپ کا شہر میرا سب سے زیادہ محبوب شہر ہے۔ آپ کے سواروں نے مجھے پکڑا تو میں عمرہ کا ارادہ کر چکا تھا۔ اب آپ کا کیا حکم ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بشارت دی اور عمرہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ جب وہ مکہ پہنچے تو کسی نے کہا کہ تم بےدین ہو گئے ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایمان لے آیا ہوں اور اللہ کی قسم! اب تمہارے یہاں یمامہ سے گیہوں کا ایک دانہ بھی اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دے دیں۔

Sahih al-Bukhari 65:1sahih

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ أُجِبْهُ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ ‏{‏اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ‏}‏ ثُمَّ قَالَ لِي لأُعَلِّمَنَّكَ سُورَةً هِيَ أَعْظَمُ السُّوَرِ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ قُلْتُ لَهُ أَلَمْ تَقُلْ ‏"‏ لأُعَلِّمَنَّكَ سُورَةً هِيَ أَعْظَمُ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ ‏"‏ ‏{‏الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏}‏ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Sa`id bin Al-Mu'alla:While I was praying in the Mosque, Allah's Messenger (ﷺ) called me but I did not respond to him. Later I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I was praying." He said, "Didn't Allah say'--"Give your response to Allah (by obeying Him) and to His Apostle when he calls you." (8.24) He then said to me, "I will teach you a Sura which is the greatest Sura in the Qur'an, before you leave the Mosque." Then he got hold of my hand, and when he intended to leave (the Mosque), I said to him, "Didn't you say to me, 'I will teach you a Sura which is the greatest Sura in the Qur'an?' He said, "Al-Hamdu-Li l-lah Rabbi-l-`alamin (i.e. Praise be to Allah, the Lord of the worlds) which is Al-Sab'a Al-Mathani (i.e. seven repeatedly recited Verses) and the Grand Qur'an which has been given to me

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسی حالت میں بلایا، میں نے کوئی جواب نہیں دیا ( پھر بعد میں، میں نے حاضر ہو کر ) عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے تم سے نہیں فرمایا ہے «استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم‏» ”اللہ اور اس کے رسول جب تمہیں بلائیں تو ہاں میں جواب دو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ آج میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے ایک ایسی سورت کی تعلیم دوں گا جو قرآن کی سب سے بڑی سورت ہے۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور جب آپ باہر نکلنے لگے تو میں نے یاد دلایا کہ آپ نے مجھے قرآن کی سب سے بڑی سورت بتانے کا وعدہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «الحمد لله رب العالمين‏» یہی وہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔

Sahih al-Bukhari 65:64sahih

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتِ الآيَاتُ الأَوَاخِرُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَلاَهُنَّ فِي الْمَسْجِدِ، فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ‏.‏

Narrated `Aisha:When the last Verses of Surat-al-Baqara were revealed. Allah's Messenger (ﷺ) went out and recited them in the Mosque and prohibited the trade of alcoholic liquors

ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں سلیمان اعمش نے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوالضحیٰ سے سنا، وہ مسروق سے روایت کرتے تھے کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا جب سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور مسجد میں انہیں پڑھ کر سنایا اس کے بعد شراب کی تجارت حرام ہو گئی۔

Sahih al-Bukhari 65:65sahih

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتِ الآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ قَرَأَهُنَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ، وَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ‏.‏

Narrated `Aisha:When the last Verses of Surat-al-Baqara were revealed, the Prophet (ﷺ) read them in the Mosque and prohibited the trade of alcoholic liquors

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد میں پڑھ کر سنایا اور شراب کی تجارت حرام قرار دی گئی۔

Sahih al-Bukhari 65:76sahih

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ نَخْلاً، وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءٍ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ، فَلَمَّا أُنْزِلَتْ ‏{‏لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ‏}‏ قَامَ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ ‏{‏لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ‏}‏ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَىَّ بَيْرُحَاءٍ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ، أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهُ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَخْ، ذَلِكَ مَالٌ رَايِحٌ، ذَلِكَ مَالٌ رَايِحٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الأَقْرَبِينَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ‏"‏ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ‏"‏‏.‏ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ‏"‏ مَالٌ رَايِحٌ ‏"‏‏.‏

Narrated Anas bin Malik:Out of all the Ansar, living in Medina, Abu Talha had the largest number of (date palm trees) gardens, and the most beloved of his property to him was Bairuha garden which was standing opposite the Mosque (of the Prophet). Allah's Messenger (ﷺ) used to enter it and drink of its good water. When the Verse was revealed:--"By no means shall you attain righteousness unless you spend (in charity) of that which you love." (3.92) Abu Talha got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ), Allah says:--"By no means shall you attain righteousness unless you spend (in charity) of that which you love." (3.92) and the most beloved of my property to me is the Bairuha garden, so I give it (as a charitable gift) in Allah's Cause and hope to receive good out of it, and to have it stored for me with Allah. So, O Allah's Messenger (ﷺ)! Dispose it of (i.e. utilize it) in the way Allah orders you (to dispose it of)." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Bravo! That is a fruitful property! That is a fruitful property! I have heard what you have said and I think that you should distribute that (garden) amongst your relatives." Then Abu Talha distributed that garden amongst his relatives and his cousins. Narrated Yahya bin Yahya: I learnt from Malik, "..a fruitful property

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مدینہ میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس انصار میں سب سے زیادہ کھجوروں کے درخت تھے اور بیرحاء کا باغ اپنی تمام جائیداد میں انہیں سب سے زیادہ عزیز تھا۔ یہ باغ مسجد نبوی کے سامنے ہی تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں تشریف لے جاتے اور اس کے میٹھے اور عمدہ پانی کو پیتے، پھر جب آیت «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون‏» ”جب تک تم اپنی عزیز ترین چیزوں کو نہ خرچ کرو گے نیکی کے مرتبہ کو نہ پہنچ سکو گے۔“ نازل ہوئی تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تک تم اپنی عزیز چیزوں کو خرچ نہ کرو گے نیکی کے مرتبہ کو نہ پہنچ سکو گے اور میرا سب سے زیادہ عزیز مال بیرحاء ہے اور یہ اللہ کی راہ میں صدقہ ہے۔ اللہ ہی سے میں اس کے ثواب و اجر کی توقع رکھتا ہوں، پس یا رسول اللہ! جہاں آپ مناسب سمجھیں اسے استعمال کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خوب یہ فانی ہی دولت تھی، یہ فانی ہی دولت تھی۔ جو کچھ تم نے کہا ہے وہ میں نے سن لیا اور میرا خیال ہے کہ تم اپنے عزیز و اقرباء کو اسے دے دو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایسا ہی کروں گا، یا رسول اللہ! چنانچہ انہوں نے وہ باغ اپنے عزیزوں اور اپنے ناطہٰ والوں میں بانٹ دیا۔ عبداللہ بن یوسف اور روح بن عبادہ نے «ذلك مال رايح» ( «ربح» سے ) بیان کیا ہے۔ یعنی یہ مال بہت نفع دینے والا ہے۔ مجھ سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے امام مالک کے سامنے «مال رايح» ( «رواح» سے ) پڑھا تھا۔

Sahih al-Bukhari 65:124sahih

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ كُنَّا فِي حَلْقَةِ عَبْدِ اللَّهِ فَجَاءَ حُذَيْفَةُ حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا، فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لَقَدْ أُنْزِلَ النِّفَاقُ عَلَى قَوْمٍ خَيْرٍ مِنْكُمْ‏.‏ قَالَ الأَسْوَدُ سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ ‏{‏إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرَكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ‏}‏ فَتَبَسَّمَ عَبْدُ اللَّهِ، وَجَلَسَ حُذَيْفَةُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ فَتَفَرَّقَ أَصْحَابُهُ، فَرَمَانِي بِالْحَصَا، فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ حُذَيْفَةُ عَجِبْتُ مِنْ ضَحِكِهِ، وَقَدْ عَرَفَ مَا قُلْتُ، لَقَدْ أُنْزِلَ النِّفَاقُ عَلَى قَوْمٍ كَانُوا خَيْرًا مِنْكُمْ، ثُمَّ تَابُوا فَتَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ‏.‏

Narrated Al-Aswad:While we were sitting in a circle in `Abdullah's gathering, Hudhaifa came and stopped before us, and greeted us and then said, "People better than you became hypocrites." Al-Aswad said: I testify the uniqueness of Allah! Allah says: "Verily! The hypocrites will be in the lowest depths of the Fire." (4.145) On that `Abdullah smiled and Hudhaifa sat somewhere in the Mosque. `Abdullah then got up and his companions (sitting around him) dispersed. Hudhaifa then threw a pebble at me (to attract my attention). I went to him and he said, "I was surprised at `Abdullah's smile though he understood what I said. Verily, people better than you became hypocrites and then repented and Allah forgave them

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ان سے ان کے باپ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسود نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حلقہ درس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر سلام کیا۔ پھر کہا نفاق میں وہ جماعت مبتلا ہو گئی جو تم سے بہتر تھی۔ اس پر اسود بولے، سبحان اللہ، اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے «إن المنافقين في الدرك الأسفل من النار‏» کہ ”منافق دوزخ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسکرانے لگے اور حذیفہ رضی اللہ عنہ مسجد کے کونے میں جا کر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اٹھ گئے اور آپ کے شاگرد بھی اِدھر اُدھر چلے گئے۔ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مجھ پر کنکری پھینکی ( یعنی مجھ کو بلایا ) میں حاضر ہو گیا تو کہا کہ مجھے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہنسی پر حیرت ہوئی حالانکہ جو کچھ میں نے کہا تھا اسے وہ خوب سمجھتے تھے۔ یقیناً نفاق میں ایک جماعت کو مبتلا کیا گیا تھا جو تم سے بہتر تھی، اس لیے کہ پھر انہوں نے توبہ کر لی اور اللہ نے بھی ان کی توبہ قبول کر لی۔

Sahih al-Bukhari 77:185sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ أَبْصَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَضْطَجِعُ فِي الْمَسْجِدِ، رَافِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى‏.‏

Narrated `Abbad bin Tamim's uncle:I saw the Prophet (ﷺ) lying-down in the mosque and placing one leg on the other

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبادہ بن تمیم نے، ان سے ان کے چچا (عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ) نے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں ( چت ) لیٹے ہوئے دیکھا کہ آپ ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر اٹھا کر رکھے ہوئے تھے۔

Sahih al-Bukhari 78:155sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَثَارَ إِلَيْهِ النَّاسُ لِيَقَعُوا بِهِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ دَعُوهُ، وَأَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ ـ أَوْ سَجْلاً مِنْ مَاءٍ ـ فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:A bedouin urinated in the mosque, and the people rushed to beat him. Allah's Messenger (ﷺ) ordered them to leave him and pour a bucket or a tumbler (full) of water over the place where he has passed urine. The Prophet then said, " You have been sent to make things easy (for the people) and you have not been sent to make things difficult for them

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے (دوسری سند) اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا، لوگ اس کی طرف مارنے کو بڑھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو اور جہاں اس نے پیشاب کیا ہے اس جگہ پر پانی کا ایک ڈول بھرا ہوا بہا دو، کیونکہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو تنگی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے۔

Sahih al-Bukhari 0:0sahih

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ إِنَّ رِجَالاً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانُوا يَرَوْنَ الرُّؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُصُّونَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ اللَّهُ، وَأَنَا غُلاَمٌ حَدِيثُ السِّنِّ وَبَيْتِي الْمَسْجِدُ قَبْلَ أَنْ أَنْكِحَ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي لَوْ كَانَ فِيكَ خَيْرٌ لَرَأَيْتَ مِثْلَ مَا يَرَى هَؤُلاَءِ‏.‏ فَلَمَّا اضْطَجَعْتُ لَيْلَةً قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ فِيَّ خَيْرًا فَأَرِنِي رُؤْيَا‏.‏ فَبَيْنَمَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ جَاءَنِي مَلَكَانِ فِي يَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ، يُقْبِلاَ بِي إِلَى جَهَنَّمَ، وَأَنَا بَيْنَهُمَا أَدْعُو اللَّهَ اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَهَنَّمَ‏.‏ ثُمَّ أُرَانِي لَقِيَنِي مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ لَنْ تُرَاعَ، نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ لَوْ تُكْثِرُ الصَّلاَةَ‏.‏ فَانْطَلَقُوا بِي حَتَّى وَقَفُوا بِي عَلَى شَفِيرِ جَهَنَّمَ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَىِّ الْبِئْرِ، لَهُ قُرُونٌ كَقَرْنِ الْبِئْرِ، بَيْنَ كُلِّ قَرْنَيْنِ مَلَكٌ بِيَدِهِ مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ، وَأَرَى فِيهَا رِجَالاً مُعَلَّقِينَ بِالسَّلاَسِلِ، رُءُوسُهُمْ أَسْفَلَهُمْ، عَرَفْتُ فِيهَا رِجَالاً مِنْ قُرَيْشٍ، فَانْصَرَفُوا بِي عَنْ ذَاتِ الْيَمِينِ‏.‏ فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ نَافِعٌ لَمْ يَزَلْ بَعْدَ ذَلِكَ يُكْثِرُ الصَّلاَةَ‏.‏

Narrated Ibn `Umar:Men from the companions of Allah's Messenger (ﷺ) used to see dreams during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) and they used to narrate those dreams to Allah's Messenger (ﷺ). Allah's Messenger (ﷺ) would interpret them as Allah wished. I was a young man and used to stay in the mosque before my wedlock. I said to myself, "If there were any good in myself, I too would see what these people see." So when I went to bed one night, I said, "O Allah! If you see any good in me, show me a good dream." So while I was in that state, there came to me (in a dream) two angels. In the hand of each of them, there was a mace of iron, and both of them were taking me to Hell, and I was between them, invoking Allah, "O Allah! I seek refuge with You from Hell." Then I saw myself being confronted by another angel holding a mace of iron in his hand. He said to me, "Do not be afraid, you will be an excellent man if you only pray more often." So they took me till they stopped me at the edge of Hell, and behold, it was built inside like a well and it had side posts like those of a well, and beside each post there was an angel carrying an iron mace. I saw therein many people hanging upside down with iron chains, and I recognized therein some men from the Quraish. Then (the angels) took me to the right side. I narrated this dream to (my sister) Hafsa and she told it to Allah's Messenger (ﷺ). Allah's Messenger (ﷺ) said, "No doubt, `Abdullah is a good man." (Nafi` said, "Since then `Abdullah bin `Umar used to pray much)

Sahih al-Bukhari 91:45sahih

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ إِنَّ رِجَالاً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانُوا يَرَوْنَ الرُّؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُصُّونَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ اللَّهُ، وَأَنَا غُلاَمٌ حَدِيثُ السِّنِّ وَبَيْتِي الْمَسْجِدُ قَبْلَ أَنْ أَنْكِحَ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي لَوْ كَانَ فِيكَ خَيْرٌ لَرَأَيْتَ مِثْلَ مَا يَرَى هَؤُلاَءِ‏.‏ فَلَمَّا اضْطَجَعْتُ لَيْلَةً قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ فِيَّ خَيْرًا فَأَرِنِي رُؤْيَا‏.‏ فَبَيْنَمَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ جَاءَنِي مَلَكَانِ فِي يَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ، يُقْبِلاَ بِي إِلَى جَهَنَّمَ، وَأَنَا بَيْنَهُمَا أَدْعُو اللَّهَ اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَهَنَّمَ‏.‏ ثُمَّ أُرَانِي لَقِيَنِي مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ لَنْ تُرَاعَ، نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ لَوْ تُكْثِرُ الصَّلاَةَ‏.‏ فَانْطَلَقُوا بِي حَتَّى وَقَفُوا بِي عَلَى شَفِيرِ جَهَنَّمَ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَىِّ الْبِئْرِ، لَهُ قُرُونٌ كَقَرْنِ الْبِئْرِ، بَيْنَ كُلِّ قَرْنَيْنِ مَلَكٌ بِيَدِهِ مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ، وَأَرَى فِيهَا رِجَالاً مُعَلَّقِينَ بِالسَّلاَسِلِ، رُءُوسُهُمْ أَسْفَلَهُمْ، عَرَفْتُ فِيهَا رِجَالاً مِنْ قُرَيْشٍ، فَانْصَرَفُوا بِي عَنْ ذَاتِ الْيَمِينِ‏.‏ فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ نَافِعٌ لَمْ يَزَلْ بَعْدَ ذَلِكَ يُكْثِرُ الصَّلاَةَ‏.‏

Narrated Ibn `Umar:Men from the companions of Allah's Messenger (ﷺ) used to see dreams during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) and they used to narrate those dreams to Allah's Messenger (ﷺ). Allah's Messenger (ﷺ) would interpret them as Allah wished. I was a young man and used to stay in the mosque before my wedlock. I said to myself, "If there were any good in myself, I too would see what these people see." So when I went to bed one night, I said, "O Allah! If you see any good in me, show me a good dream." So while I was in that state, there came to me (in a dream) two angels. In the hand of each of them, there was a mace of iron, and both of them were taking me to Hell, and I was between them, invoking Allah, "O Allah! I seek refuge with You from Hell." Then I saw myself being confronted by another angel holding a mace of iron in his hand. He said to me, "Do not be afraid, you will be an excellent man if you only pray more often." So they took me till they stopped me at the edge of Hell, and behold, it was built inside like a well and it had side posts like those of a well, and beside each post there was an angel carrying an iron mace. I saw therein many people hanging upside down with iron chains, and I recognized therein some men from the Quraish. Then (the angels) took me to the right side. I narrated this dream to (my sister) Hafsa and she told it to Allah's Messenger (ﷺ). Allah's Messenger (ﷺ) said, "No doubt, `Abdullah is a good man." (Nafi` said, "Since then `Abdullah bin `Umar used to pray much)

Sahih al-Bukhari 0:0sahih

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنْتُ غُلاَمًا شَابًّا عَزَبًا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ، وَكَانَ مَنْ رَأَى مَنَامًا قَصَّهُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ لِي عِنْدَكَ خَيْرٌ فَأَرِنِي مَنَامًا يُعَبِّرُهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي فَانْطَلَقَا بِي، فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ لِي لَنْ تُرَاعَ، إِنَّكَ رَجُلٌ صَالِحٌ، فَانْطَلَقَا بِي إِلَى النَّارِ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَىِّ الْبِئْرِ، وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُ بَعْضَهُمْ، فَأَخَذَا بِي ذَاتَ الْيَمِينِ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَفْصَةَ‏.‏ فَزَعَمَتْ حَفْصَةُ أَنَّهَا قَصَّتْهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ لَوْ كَانَ يُكْثِرُ الصَّلاَةَ مِنَ اللَّيْلِ ‏"‏‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدَ ذَلِكَ يُكْثِرُ الصَّلاَةَ مِنَ اللَّيْلِ‏.‏

Narrated Ibn `Umar:I was a young unmarried man during the lifetime of the Prophet. I used to sleep in the mosque. Anyone who had a dream, would narrate it to the Prophet. I said, "O Allah! If there is any good for me with You, then show me a dream so that Allah's Messenger (ﷺ) may interpret it for me." So I slept and saw (in a dream) two angels came to me and took me along with them, and they met another angel who said to me, "Don't be afraid, you are a good man." They took me towards the Fire, and behold, it was built inside like a well, and therein I saw people some of whom I recognized, and then the angels took me to the right side. In the morning, I mentioned that dream to Hafsa. Hafsa told me that she had mentioned it to the Prophet (ﷺ) and he said, "`Abdullah is a righteous man if he only prays more at night." (Az-Zuhri said, "After that, `Abdullah used to pray more at night)

Sahih al-Bukhari 91:46sahih

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنْتُ غُلاَمًا شَابًّا عَزَبًا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ، وَكَانَ مَنْ رَأَى مَنَامًا قَصَّهُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ لِي عِنْدَكَ خَيْرٌ فَأَرِنِي مَنَامًا يُعَبِّرُهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي فَانْطَلَقَا بِي، فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ لِي لَنْ تُرَاعَ، إِنَّكَ رَجُلٌ صَالِحٌ، فَانْطَلَقَا بِي إِلَى النَّارِ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَىِّ الْبِئْرِ، وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُ بَعْضَهُمْ، فَأَخَذَا بِي ذَاتَ الْيَمِينِ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَفْصَةَ‏.‏ فَزَعَمَتْ حَفْصَةُ أَنَّهَا قَصَّتْهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ لَوْ كَانَ يُكْثِرُ الصَّلاَةَ مِنَ اللَّيْلِ ‏"‏‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدَ ذَلِكَ يُكْثِرُ الصَّلاَةَ مِنَ اللَّيْلِ‏.‏

Narrated Ibn `Umar:I was a young unmarried man during the lifetime of the Prophet. I used to sleep in the mosque. Anyone who had a dream, would narrate it to the Prophet. I said, "O Allah! If there is any good for me with You, then show me a dream so that Allah's Messenger (ﷺ) may interpret it for me." So I slept and saw (in a dream) two angels came to me and took me along with them, and they met another angel who said to me, "Don't be afraid, you are a good man." They took me towards the Fire, and behold, it was built inside like a well, and therein I saw people some of whom I recognized, and then the angels took me to the right side. In the morning, I mentioned that dream to Hafsa. Hafsa told me that she had mentioned it to the Prophet (ﷺ) and he said, "`Abdullah is a righteous man if he only prays more at night." (Az-Zuhri said, "After that, `Abdullah used to pray more at night)

Sahih al-Bukhari 96:21sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا لَيَالِيَ، حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ، ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ لَيْلَةً فَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ نَامَ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ ‏ "‏ مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ، وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلاَةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ، إِلاَّ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ ‏"‏‏.‏

Narrated Zaid bin Thabit:The Prophet (ﷺ) took a room made of date palm leaves mats in the mosque. Allah's Messenger (ﷺ) prayed in it for a few nights till the people gathered (to pray the night prayer (Tarawih) (behind him.) Then on the 4th night the people did not hear his voice and they thought he had slept, so some of them started humming in order that he might come out. The Prophet (ﷺ) then said, "You continued doing what I saw you doing till I was afraid that this (Tarawih prayer) might be enjoined on you, and if it were enjoined on you, you would not continue performing it. Therefore, O people! Perform your prayers at your homes, for the best prayer of a person is what is performed at his home except the compulsory congregational) prayer." (See Hadith No. 229,Vol. 3) (See Hadith No. 134, Vol)

ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عفان بن مسلم نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ ابن عقبہ نے بیان کیا، کہا میں نے ابوالنضر سے سنا، انہوں نے بسر بن سعید سے بیان کیا، ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں چٹائی سے گھیر کر ایک حجرہ بنا لیا اور رمضان کی راتوں میں اس کے اندر نماز پڑھنے لگے پھر اور لوگ بھی جمع ہو گئے تو ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں آئی۔ لوگوں نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ہیں۔ اس لیے ان میں سے بعض کھنگارنے لگے تاکہ آپ باہر تشریف لائیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کے کام سے واقف ہوں، یہاں تک کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں تم پر یہ نماز تراویح فرض نہ کر دی جائے اور اگر فرض کر دی جائے تو تم اسے قائم نہیں رکھ سکو گے۔ پس اے لوگو! اپنے گھروں میں یہ نماز پڑھو کیونکہ فرض نماز کے سوا انسان کی سب سے افضل نماز اس کے گھر میں ہے۔

Sahih al-Bukhari 97:52sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ـ هُوَ التَّيْمِيُّ ـ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ تَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا، وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ‏.‏ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏ذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا‏}‏ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ‏.‏

Narrated Abu Dharr:I entered the mosque while Allah's Messenger (ﷺ) was sitting there. When the sun had set, the Prophet (ﷺ) said, "O Abu Dharr! Do you know where this (sun) goes?" I said, "Allah and His Apostle know best." He said, "It goes and asks permission to prostrate, and it is allowed, and (one day) it, as if being ordered to return whence it came, then it will rise from the west." Then the Prophet (ﷺ) recited, "That: "And the sun runs on its fixed course (for a term decreed)," (36.38) as it is recited by `Abdullah

ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے اور ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، پھر جب سورج غروب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے ابوذر! کیا تمہیں معلوم ہے یہ کہاں جاتا ہے؟“ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ فرمایا کہ یہ جاتا ہے اور سجدہ کی اجازت چاہتا ہے پھر اسے اجازت دی جاتی ہے اور گویا اس سے کہا جاتا ہے کہ واپس وہاں جاؤ جہاں سے آئے ہو۔ چنانچہ وہ مغرب کی طرف سے طلوع ہوتا ہے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «ذلك مستقر لها‏» عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرآت یوں ہی ہے۔

Sahih Muslim 2:78sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَمِّهِ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْقِبْلَةِ فَلَمَّا قَضَيْتُ صَلاَتِي انْصَرَفْتُ إِلَيْهِ مِنْ شِقِّي فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ نَاسٌ إِذَا قَعَدْتَ لِلْحَاجَةِ تَكُونُ لَكَ فَلاَ تَقْعُدْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَلاَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - وَلَقَدْ رَقِيتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلاً بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ ‏.‏

Wasi' b. Habban reported:I was offering my prayer in the mosque and Abdullah b. Umar was sitting there reclining with his back towards the Qibla. After completing my prayer. I went to him from one side. Abdullah said: People say when you go to the latrine, you should neither turn your face towards the Qibla nor towards Bait-ul-Maqdis. 'Abdullah said (farther): I went up to the roof of the house and saw the Messenger of Allah (ﷺ) squatting on two bricks for relieving himself with his face towards Bait-al-Maqdis

محمد بن یحییٰ بن حبان اپنے چچا واسع بن حبان سے اور وہ حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نےکہا : میں اپنی بہن ( ام المومنین ) حفصہ ؓ کے گھر ( کی چھت ) پر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ رسو ل اللہ ﷺ اپنی قضائے حاجت کےلیے بیٹھے تھے ، شام کی طرف رخ ، قبلے کی جانب پشت کیے ہوئے ۔

Sahih Muslim 3:7sahih

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ إِنْ كُنْتُ لأَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ وَالْمَرِيضُ فِيهِ فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ إِلاَّ وَأَنَا مَارَّةٌ وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُدْخِلُ عَلَىَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُهُ وَكَانَ لاَ يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلاَّ لِحَاجَةٍ إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ رُمْحٍ إِذَا كَانُوا مُعْتَكِفِينَ ‏.‏

Amra daughter of 'Abd al-Rahman reported:'A'isha, wife of the Messenger of Allah (ﷺ) observed: When I was (in I'tikaf), I entered the house for the call of nature, and while passing I inquired after the health of the sick (in the. family), and when the Messenger of Allah (ﷺ) was (in I'tikaf), he put out his head towards me, while he himself was in the mosque, and I combed his hair; and he did not enter the house except for the call of nature so long as he was In I'tikaf; and Ibn Rumh stated: As long as they (the Prophet and his wives) were among the observers of I'tikaf

قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عروہ اور عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت کی کہ رسول اللہﷺکی زوجہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : ( جب میں اعتکاف میں ہوتی تو ) قضائے حاجت کے لیے گھر میں داخل ہوتی ، اس میں کوئی بیمارہوتا تو میں بس گزرتے گزرتے ہی اس سے ( حال ) پوچھ لیتی اوراگر رسول اللہ ﷺ مسجدسے میرے پاس ( حجرے میں ) سر داخل فرماتے تو میں اس میں کنگھی کر دیتی ، جب آپ اعتکاف میں ہوتے تو گھر میں کسی ( حقیقی ) ضرورت کے بغیر داخل نہ ہوتے ۔ ابن رمح نے ( ’’جب آپ ﷺ معتکف ہوتے ‘ ‘ کے بجائے ) ’’جب سب لوگ اعتکاف میں ہوتے ‘ ‘ کہا ۔

Sahih Muslim 4:145sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَوْمًا فِي مُؤَخَّرِ الْمَسْجِدِ ‏.‏ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ‏.‏

Abu Sa'id al-Khudri reported:The Messenger of Allah (ﷺ) saw people at the end of the mosque, and then the (above-mentioned hadith) was narrated

۔ جریری نے ابو نضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو مسجد کے پچھلے حصے میں دیکھا ... آگے اسی طرح روایت بیان کی ۔

Sahih Muslim 4:151sahih

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ إِذَا اسْتَأْذَنَّكُمْ إِلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ بِلاَلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ ‏.‏ قَالَ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ فَسَبَّهُ سَبًّا سَيِّئًا مَا سَمِعْتُهُ سَبَّهُ مِثْلَهُ قَطُّ وَقَالَ أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَقُولُ وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ ‏.‏

Abdullah b. Umar reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) say: Don't prevent your women from going to the mosque when they seek your permission. Bilal b. 'Abdullah said: By Allah, we shall certainly prevent them. On this'Abdullah b. Umar turned towards him and reprimanded him to harshly as I had never heard him do before. He ('Abdullah b. Umar) said: I am narrating to you that which comes from the Messenger of Allah (ﷺ) and you (have the audicity) to say: By Allah, we shall certainly prevent them

یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے روایت کی ، کہا : مجھے سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’ اپنی عورتوں کو جب وہ تم سے مسجدوں میں جانے کی اجازت طلب کریں تو انہیں ( وہاں جانے سے ) نہ روکو ۔ ‘ ‘ ( سالم نے ) کہا : تو ( ابن عمر کے دوسرے بیٹے ) بلال بن عبد اللہ نے کہا : اللہ کی قسم! ہم تو ان کو ضرور روکیں گے ۔ اس پرحضرت عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے اس کی طرف رخ کیا اور اس کو سخت برا بھلا کہا ، میں نے انہیں کبھی ( کسی کو ) اتنا برا بھلا کہتے نہیں سنا اور کہا : میں تمہیں رسول اللہﷺ کا فرمان بتا رہا ہوں اور تم کہتے ہو : اللہ کی قسم! ہم انہیں ضرور روکیں گے ۔

Sahih Muslim 4:152sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَابْنُ، إِدْرِيسَ قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏

Ibn 'Umar reported:'The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do not prevent the maid-servants of Allah from going to the mosque

۔ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ کی باندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 4:153sahih

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ إِلَى الْمَسَاجِدِ فَأْذَنُوا لَهُنَّ ‏"‏ ‏.‏

lbn Umar reported:I heard the Messeinger of Allah (ﷺ) say: When your women seek your permission for going to the mosque, you grant them (permission)

۔ حنظہ نے کہا : میں نے سالم سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’ جب تمہاری عورتیں تم سے مساجد میں جانے کی اجازت مانگیں تو انہیں اجازت دے دو

Sahih Muslim 4:154sahih

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَمْنَعُوا النِّسَاءَ مِنَ الْخُرُوجِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ لاَ نَدَعُهُنَّ يَخْرُجْنَ فَيَتَّخِذْنَهُ دَغَلاً ‏.‏ قَالَ فَزَبَرَهُ ابْنُ عُمَرَ وَقَالَ أَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَقُولُ لاَ نَدَعُهُنَّ ‏.‏

Ibn 'Umar reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do not prevent women from going to the mosque at night. A boy said to 'Abdullah b. Umar: We would never let them go out, that they may not be caught in evil. He (the narrator) said: Ibn Umar reprimanded him and said.. I am saying that the Messenger of Allah (ﷺ) said this, but you say: We would not allow

ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’رات کو عورتوں کو مسجدوں میں جانے سے نہ روکو ۔ ‘ ‘ تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے نے کہا : ہم ان کو نہیں چھوڑیں گے کہ وہ جائیں اور اسے خرابی اور بگار ( کا ذریعہ ) بنا لیں ۔ ( مجاہد نے ) کہا : ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے سخت ڈانٹا او ر کہا : میں کہتا ہوں رسول اللہﷺ نے فرمایا اور تو کہتا ہے ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے

Sahih Muslim 4:156sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَابْنُ، رَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسَاجِدِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ ابْنٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ وَاقِدٌ إِذًا يَتَّخِذْنَهُ دَغَلاً ‏.‏ قَالَ فَضَرَبَ فِي صَدْرِهِ وَقَالَ أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَقُولُ لاَ ‏.‏

Ibn 'Umar reported:Grant permission to women for going to the mosque in the night. His son who was called Waqid said: Then they would make mischief. He (the narrator) said: He thumped his (son's) chest and said: I am narrating to you the hadith of the Messenger of Allah (ﷺ), and you say: No

(اعمش کے بجائے ) عمرو ( بن دینار جحمی ) نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’عورتوں کو رات کے وقت مسجدوں کی طرف نکلنے کی اجازت دو ۔ ‘ ‘ تو ان کے بیٹے نے ، جس کو واقد کہا جاتا تھا ، کہا : تب وہ اس کو خرابی و بگاڑ بنا لیں گی ۔ ( مجاہد نے ) کہا : ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے سینے پر مارا اور کہا : میں تمہیں رسول اللہﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور تو کہتا ہے : نہیں

Sahih Muslim 4:159sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْنَبَ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْمَسْجِدَ فَلاَ تَمَسَّ طِيبًا ‏"‏ ‏.‏

Zainab, the wife of Abdullah (b. 'Umar), reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said to us: When any one of you comes to the mosque, she should not apply perfume

(مخرمہ کے بجائے ) محمد بن عجلان نے بکیر بن عبد اللہ بن اشج سے ، انہوں نے بسر بن سعید سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا : ’’ جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو وہ خوشبو کو ہاتھ نہ لگائے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 4:161sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ لِعَمْرَةَ أَنِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُنِعْنَ الْمَسْجِدَ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏

Amra, daughter of Abd al-Rahmin, reported:I heard 'A'isha, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ). say: If the Messenger of Allah (ﷺ) had seen what new things the women have introduced (in their way of life) he would have definitely prevented them from going to the mosque, as the women of BaniIsra'il were prevented

سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے اور انہوں نے عمرہ بنت عبد الرحمان سے روایت کی کہ انہوں نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ فرماتی تھیں کہ عورتوں نے ( بناؤ سنگھار کے ) جو نئے انداز نکال لیے ہیں اگر رسول اللہﷺ دیکھ لیتے تو انہیں مسجد میں آنے سے روک دیتے ، جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا ۔ میں نے عمرہ سے پوچھا : کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجد میں آنے سے روک دیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔

Sahih Muslim 5:14sahih

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ ‏.‏

Anas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray in the folds of the sheep and goats before the mosque was built

معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے ابوتیاح نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہﷺ مسجد بنانے سے پہلے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے ۔

Sahih Muslim 5:29sahih

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ الْخَوْلاَنِيَّ، يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ فِيهِ حِينَ بَنَى مَسْجِدَ الرَّسُولِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ إِنَّكُمْ قَدْ أَكْثَرْتُمْ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ تَعَالَى - قَالَ بُكَيْرٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ - يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ - بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عِيسَى فِي رِوَايَتِهِ ‏"‏ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏

Ubaidullah al-Khaulini reported:'Uthman b. 'Affan listened to the opinion of the people (which was not favourable) when he rebuilt the mosque of the Messenger of Allah (ﷺ). Thereupon he said: You have not been fair to me for I have heard from the Messenger of Allah (ﷺ) saying: He who built a mosque for Allah, the Exalted, Allah would build for him a house in Paradise. Bukair said: I think he (the Holy Prophet) said: While he seeks the pleasure of Allah (by building the mosque). And in the narration of Ibn 'Isa (the words are):" (a house) like that (mosque) in Paradise

۔ ہارون بن سعید ایلی اور احمد بن عیسیٰ دونوں نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ( کہا : ) ہم سے ابن وہب نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے عمرو نے خبر دی کہ بکیر نے ان سے حدیث بیان کی ، انہیں عاصم بن عمر بن قتادہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے عبید اللہ خولانی سے سنا ، وہ بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو ، جب رسول اللہ ﷺ کی مسجد کی نئے سے سے تعمیر کے وقت لوگوں نے ان کے بارے میں باتیں کیں ، یہ کہتے سنا : تم نے بہت بتایں کی ہیں ، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا : ’’جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی ‘ ‘ بکیر نے کہا : میرا خیال ہے ، انہوں نے یہ کہا : ’’ اس سے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی چاہتا ہے تو اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔ ‘ ‘ احمد بن عیسیٰ نے اپنی روایت میں مثله في الجنة ’’جنت میں اس جیسا ( گھر ) ‘ ‘ کہا ۔

Sahih Muslim 5:30sahih

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، أَرَادَ بِنَاءَ الْمَسْجِدِ فَكَرِهَ النَّاسُ ذَلِكَ فَأَحَبُّوا أَنْ يَدَعَهُ عَلَى هَيْئَتِهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ بَنَى اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ ‏"‏ ‏.‏

Mahmud b. Labid reported:When 'Uthman b. 'Affan intended to build the mosque (of the Prophet) the people did not approve of it. They liked that it should be kept in the same state. Thereupon he said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He who built a mosque for Allah, Allah would build a house for him like it in Paradise

حضرت محمود بن لبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے مسجد نبوی کو نئے سرے سے تعمیر کرنا چاہا تو لوگوں نے اسے پسند نہ کیا ، ان کی خواہش تھی کہ وہ اسے اس کی حالت پر رہنے دیں ، اس پر حضرت عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ جس شخص نے اللہ کی خاطر کوئی مسجد بنائی ، اللہ اس کے لیے جنت میں اس جیسا ( گھر ) تعمیر کر ے گا ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:102sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ بَعْدَ مَا صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْفَجْرِ ‏.‏ فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ فَذَكَرَ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا ‏.‏ قَالَ مُسْلِمٌ هُوَ شَيْبَةُ بْنُ نَعَامَةَ أَبُو نَعَامَةَ رَوَى عَنْهُ مِسْعَرٌ وَهُشَيْمٌ وَجَرِيرٌ وَغَيْرُهُمْ مِنَ الْكُوفِيِّينَ ‏.‏

Ibn Buraida narrated it on the authority of his father that a Bedouin came when the Messenger of Allah (ﷺ) had completed the morning prayer. He thrust his head in the door of the mosque, and then the hadith (as narrated above) was narrated. This hadith has been reported by another chain of transmitters

محمد بن شیبہ نے علقمہ بن مرثد سے ، انھوں نے ( سلیمان ) بن بریدہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ جب نبی اکرم ﷺ صبح کی نماز پڑھ چکے تو ایک بدوی آیا اور مسجد کے دروازے سے اپنا سر اندر کیا ......پھر ان دونوں کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔ امام مسلم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : محمد بن شیبہ سے مراد ابو نعامہ شیبہ بن نعامہ ہے جس سے مسعر ، ہشیم ، جریر اور دوسرے کوفی راویوں نے روایت کی ۔

Sahih Muslim 5:351sahih

وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَتْ دِيَارُنَا نَائِيَةً عَنِ الْمَسْجِدِ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَبِيعَ، بُيُوتَنَا فَنَقْتَرِبَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ لَكُمْ بِكُلِّ خُطْوَةٍ دَرَجَةً ‏"‏ ‏.‏

Jabir b. 'Abdullah narrated:Our houses were situated far away from the mosque; we, therefore, decided to sell our houses so that we may be able to come near the mosque. The Messenger of Allah (ﷺ) forbade us (to do so) and said: There is for every step (towards the mosque) a degree (of reward) for you

ابوزبیر نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہا : ہمارے گھر مسجد سے دور واقع تھے ، ہم نے چاہا کہ ہم اپنے گھروں کو فروخت کر کے مسجد کے قریب آجائیں تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں روک دیا اور فرمایا : ‘ ‘ تمھارے لئے ہر قدم کے بدلے میں ایک درجہ ہے ۔ ’’

Sahih Muslim 7:70sahih

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ ‏"‏ أَصَلَّيْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قُمْ فَصَلِّ الرَّكْعَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ قَالَ ‏"‏ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏

Jabir b. 'Abdullah said that a person entered the Mosque while the Messenger of Allah (ﷺ) was delivering the sermon on Friday. Upon this he (the Holy Prophet) said:Have you observed prayer? He said: No. He (the Holy Prophet) said: Stand and offer the two rak'ahs. According to Qutaiba, the words are:" He said: Offer two rak'ahs

قتیبہ بن سعید اور اسحاق بن ابراہیم میں سے قتیبہ نے کہا : ہمیں حدیث سنائی اور اسحاق نے کہا : ہمیں خبر دی سفیان نے عمرو سے ، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےسنا ، وہ کہہ رہے تھے : ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن خطبہ دےرہے تھے ۔ تو آپ نے پوچھا : " کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ " اس نے کہا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اٹھو اور دو رکعتیں پڑھ لو ۔ " قتیبہ کی حدیث میں ( فصل ركعتين کے بجائے ) صل ركعتين ( دو رکعتیں پڑھو ) ہے ۔

Sahih Muslim 7:71sahih

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ فَقَالَ لَهُ ‏ "‏ أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ. فَقَالَ: «ارْكَعْ»

Jabir b. 'Abdullah reported that a person came (in the Mosque) while the Messenger of Allah (ﷺ) was delivering the sermon on Friday (standing) on the pulpit. He (the Holy Prophet) said to him:Have you offered two rak'ahs? He said: No. Upon this he said: Then observe (them)

ابن جریج نے کہا : ہمیں عمرو بن دینار نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ایک آدمی آیا جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے ، جمعے کے دن خطبہ ارشاد فرمارہے تھے تو آپ نے اس سے پوچھا : " کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ " اس نے کہا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " پڑھ لو ۔

Sahih Muslim 9:9sahih

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّجُمُعَةٍ مِنْ بَابٍ كَانَ نَحْوَ دَارِ الْقَضَاءِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمًا ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهِ يُغِثْنَا ‏.‏ قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ وَلاَ وَاللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ سَحَابٍ وَلاَ قَزَعَةٍ وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلاَ دَارٍ - قَالَ - فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ فَلَمَّا تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ انْتَشَرَتْ ثُمَّ أَمْطَرَتْ - قَالَ - فَلاَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سَبْتًا - قَالَ - ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ الْبَابِ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ يُمْسِكْهَا عَنَّا - قَالَ - فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ حَوْلَنَا وَلاَ عَلَيْنَا اللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ ‏"‏ ‏.‏ فَانْقَلَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ ‏.‏ قَالَ شَرِيكٌ فَسَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَهُوَ الرَّجُلُ الأَوَّلُ قَالَ لاَ أَدْرِي ‏.‏

Anas b. Malik reported that a person entered the mosque through the door situated on theside of Daral-Qada' during Friday (prayer) and the messenger of Allah (ﷺ) was delivering the sermon while standing. He came and stood in front of the Messenger of Allah (ﷺ) and said:Messenger of Allah, the camels died and the passages were blocked; so supplicate Allah to send down rain upon us. The Messenger of Allah (ﷺ) raised his hands and then said: (O Allah, send down rain upon us; O Allah, send dowp rain upon us; O Allah, send down rain upon us. Anas said: By Allah, we did not see any cloud or any patch of it, and there was neither any house or building standing between us and the (hillock) Sal'a. There appeared a cloud in the shape of a shield from behind it, and as it (came high) in the sky it spread and then there was a downpour of rain. By Allah, we did not see the sun throughout the week. Then (that very man) came on the coming Friday through the same door when the Messenger of Allah (ﷺ) was standing and delivering the sermon. He stood in front of him and said: Messenger of Allah, our animals died and the passages blocked. Supplicate Allah to stop the rain for us. The Messenger of Allah (ﷺ) again raised his hands and said: O Allah, let it (rain) fall in our suburbs and not on us, O Allah (send it down) on the hillocks and small mountains and the river-beds and at places where trees grow. The rain stopped, and as we stepped out we were walking in sun- shine. He (the narrator) said to Sharik: I asked Anas b. Malik if he was the same man. He said: I do not know

شریک بن ابی نمر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ جمعے کے روز ایک آدمی اس دروازے سے مسجد میں داخل ہوا جو دارالقضاء کی طرف تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ ارشاد فرمارہے تھے ، اس نے کھڑے کھڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کیا ، پھر کہا : اےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مال مویشی ہلاک ہوگئے اور راستے منقطع ہوچکے ، اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہمیں بارش عطا کرے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیئے ، پھر کہا : "" اے اللہ!ہمیں بارش عنایت فرما ، اے اللہ!ہمیں بارش عنایت فرما ، اے اللہ!ہمیں بارش سے نوازدے ۔ "" حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم!ہم آسمان میں نہ کوئی گھٹا دیکھ رہے تھے اور نہ بادل کا کوئی ٹکڑا ۔ ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان کوئی گھر تھا نہ محلہ ۔ پھر اس کے پیچھے سے ڈھال جیسی چھوٹی سی بدلی اٹھی ، جب وہ آسمان کے وسط میں پہنچی تو پھیل گئی ، پھر وہ برسی ، اللہ کی قسم!ہم نے ہفتہ بھر سورج نہ دیکھا ۔ پھر اگلے جمعے اسی دروازے سے ایک آدمی داخل ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ ارشاد فرمارہے تھے ، اس نے کھڑے کھڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کرکے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ( بارش کی کثرت سے ) مال مویشی ہلاک ہوگئے اور راستے بند ہوگئے ، اس لئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہم سے بارش روک لے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھادیے ، پھر فرمایا : "" اے اللہ!ہمارے ارد گرد ( بارش برسا ) ہم پر نہیں ، اے اللہ!پہاڑیوں پر ، ٹیلوں پر ، وادیوں کے اندر ( ندیوں میں ) اور درخت اگنے کے مقامات پر ( برسا ۔ ) "" کہا : "" ( فوراً ) بادل چھٹ گئے اور ہم ( مسجد سے ) نکلے تو دھوپ میں چل رہے تھے ۔ شریک نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : کیا وہ پہلے آدمی تھا؟انھوں نے جواب دیا : میں نہیں جانتا ۔

Sahih Muslim 10:3sahih

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَامَ وَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قِرَاءَةً طَوِيلَةً ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ ‏"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ سَجَدَ - وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو الطَّاهِرِ ثُمَّ سَجَدَ - ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى اسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَافْزَعُوا لِلصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ أَيْضًا ‏"‏ فَصَلُّوا حَتَّى يُفَرِّجَ اللَّهُ عَنْكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا كُلَّ شَىْءٍ وُعِدْتُمْ حَتَّى لَقَدْ رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أُقَدِّمُ - وَقَالَ الْمُرَادِيُّ أَتَقَدَّمُ - وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ وَرَأَيْتُ فِيهَا ابْنَ لُحَىٍّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ ‏"‏ ‏.‏ وَانْتَهَى حَدِيثُ أَبِي الطَّاهِرِ عِنْدَ قَوْلِهِ ‏"‏ فَافْزَعُوا لِلصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ ‏.‏

A'isha, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), reported There was an eclipse of the sun during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ). So, the Messenger of Allah (may peace he upon him) went to the mosque and stood up and glorified Allah, and the people formed themselves in rows behind him. The Messenger of Allah (ﷺ) made a long recital (of the Qur'an) and then pronounced takbir and then observed a long ruku'. He then raised his head and said:Allah listened to him who praised Him: our Lord, praise is due to Thee. He then again stood up and made a long recital, which was less than the first recital. He pronounced takbir and observed a long ruku', and it was less than the first one. He again said: Allah listened to him who praised Him; our Lord, praise is due to Thee. (Abu Tahir, one of the narrators) made no mention of:" He then prostrated himself." He did like this in the second rak'ah, till he completed four rak'ahs and four prostrations and the sun became bright before he deported. He then stood up and addressed people, after lauding Allah as He deserved, and then said: The sun and the moon are two signs among the signs of Allah These do not eclipse either on the death of anyone or on his birth. So when you see them, hasten to prayer. He also said this: Observe prayer till Allah dispels the anxiety (of this extraordinary phenomenon) from you. The Messenger of Allah (ﷺ) said: I saw in my place everything which you have been promised. I even saw myself desiring to pluck a bunch (of grapes) from Paradise (and it was at the time) when you saw me moving forward. And I saw Hell and some of its parts crushing the others, when you saw me moving back; and I saw in it Ibn Luhayy and he was the person who made the she-camels loiter about. In the hadith transmitted by Abu Tahir the words are:" He hastened to prayer," and he made no mention of what follows

حرملہ بن یحییٰ نے مجھے حدیث بیان کی ، ( کہا ) مجھے ابن وہب نے یونس سے خبر دی نیز ابو طاہر اور محمد بن سلمہ مرادی نے کہا : ابن وہب نے یو نس سے حدیث بیان کی انھوں نے ابن شہاب سے روا یت کی انھوں نے کہا مجھے عروہ بن زبیر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر مسجد میں تشریف لے گئے آپ نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور تکبیر کہی اور لو گ آپ کے پیچھے صف بستہ ہو گئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قراءت فر ما ئی پھر آپ نےالله اكبرکہا اور ایک لمبا رکو ع کیا پھر آپ نے اپنا سر اٹھا یا اور سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد کہا پھر آپ نے قیام کیا اور ایک طویل قراءت کی یہ پہلی ( قراءت ) سے کچھ کم تھی پھر الله اكبرکہا اور کہہ کر طویل رکوع کیا یہ پہلے رکوع سے کچھ کم تھا پھر سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد کہا پھر سجدہ کیا اور ابو طاہر نے ( ثم سجده ) ( پھر آپنے سجدہ کیا ) کے الفا ظ نہیں کہے ۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا حتیٰ کہ چار رکوع اور چار سجدے مکمل کیے اور آپ کے سلام پھیرنے سے پہلے سورج روشن ہو گیا پھر آپ کھڑے ہو ئے اور لو گوں کو خطاب فر ما یا اور اللہ تعا لیٰ کی ( ایسی ) ثنا بیان کی جو اس کے شایان شان تھی پھر فر ما یا "" سورج اور چاند اللہ تعا لیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں انھیں کسی کی مو ت کی وجہ سے گرہن لگتا ہے نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے جب تم انھیں ( گرہن میں ) دیکھو تو فوراًنماز کی طرف لپکو ۔ "" آپ نے یہ بھی فر ما یا : "" اور نماز پڑھتے رہو یہاں تک کہ اللہ تمھارے لیے کشادگی کر دے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" میں نے اپنی اس جگہ ( پر ہو تے ہو ئے ) ہر وہ چیز دیکھ لی جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے حتیٰ کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت کا ایک گچھا لینا چاہتا ہوں اس وقت جب تم نے مجھے دیکھا تھا کہ میں قدم آگے بڑھا رہا ہوں ۔ اور ( محمد بن سلمہ ) مرادی نے "" آگے بڑھ رہا ہوں "" کہا ۔ ۔ ۔ اور میں نے جہنم بھی دیکھی اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو ریزہ ریزہ کر رہا تھا یہ اس وقت جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹا ۔ اور میں نے جہنم میں عمرو بن لحی کو دیکھا جس نے سب سے پہلے بتوں کی نذر کی اونٹنیاں چھوڑیں ۔ "" ابو طا ہر کی روایت "" نماز کی طرف لپکو پر ختم ہو گئی انھوں نے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا ۔

Sahih Muslim 10:17sahih

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَفَزِعَ فَأَخْطَأَ بِدِرْعٍ حَتَّى أُدْرِكَ بِرِدَائِهِ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَتْ فَقَضَيْتُ حَاجَتِي ثُمَّ جِئْتُ وَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمًا فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ أَجْلِسَ ثُمَّ أَلْتَفِتُ إِلَى الْمَرْأَةِ الضَّعِيفَةِ فَأَقُولُ هَذِهِ أَضْعَفُ مِنِّي ‏.‏ فَأَقُومُ فَرَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلاً جَاءَ خُيِّلَ إِلَيْهِ أَنَّهُ لَمْ يَرْكَعْ ‏.‏

Asma' daughter of Abu Bakr reported:The sun eclipsed during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) ; so he felt perturbed and he, by mistake, took hold of the outer garment of a woman till he was given his own cloak. After this I satisfied my need and then came and entered the mosque. I saw the Messenger of Allah (ﷺ) standing in prayer. I stood along with him. He prolonged his qiyam till I wished to sit down. Then I cast a glance towards an old woman. So I said: She is older than I. I, therefore, kept standing. He (the Holy Prophet) then observed ruku', and prolonged his ruku'. He then raised his head. He then prolonged his qiyam to such an extent that if a person happened to come he would have thought that he had not observed the ruku

وہیب نے کہا : ہمیں منصور نے اپنی والدہ ( صفیہ ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کوگرہن لگ گیا تو آپ جلدی سے لپکے ( اور ) غلطی سے زنانہ قمیص اٹھا لی حتیٰ کہ اسکے بعد ( پیچھےسے ) آپ کی چادر آپ کو لاکر دی گئی ۔ کہا : میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوئی اور ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر سے ) مسجد میں داخل ہوئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام کی حالت میں دیکھا ۔ میں بھی آپ کی اقتداء میں کھڑی ہوگئی ۔ آپ نے بہت لمبا قیام کیا حتیٰ کہ میں نے اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ میں بیٹھنا چاہتی تھی ، پھر میں کسی کمزور عورت کی طرف متوجہ ہوتی اور ( دل میں ) کہتی : یہ تو مجھ سے بھی زیادہ کمزور ہے ۔ ( اور کھڑی رہتی ہے ) پھر آپ نے رکوع کیا تو رکوع کو انتہائی لمبا کردیا ، پھر آپ نے ( رکوع سے ) اپناسر اٹھایا تو قیام کو بہت طول دیا ۔ یہاں تک کہ اگر کوئی آدمی ( اس حالت میں ) آتا تو اسے خیال ہوتا کہ ابھی تک آپ نے رکوع نہیں کیا ۔

Sahih Muslim 10:26sahih

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَقَامَ يُصَلِّي بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ فِي صَلاَةٍ قَطُّ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذِهِ الآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لاَ تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْعَلاَءِ كَسَفَتِ الشَّمْسُ وَقَالَ ‏"‏ يُخَوِّفُ عِبَادَهُ ‏"‏ ‏.‏

Abu Musa reported:The sun eclipsed during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He stood in great anxiety fearing that it might be the Doomsday, till he came to the mosque. He stood up to pray with prolonged qiyam, ruku', and prostration which I never saw him doing in prayer; and then he said: These are the signs which Allah sends, not on account of the death of anyone or life of any one, but Allah sends them to frighten thereby His servants. So when you see any such thing, hasten to remember Him, supplicate Him and beg pardon from Him, and in the narration transmitted by Ibn 'Ala the words are:" The sun eclipsed"."" He frightens His servants

ابو عامر اشعری عبداللہ بن براد اور محمد بن علاء نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے برید سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو بردہ سے اور انھوں نے ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا تو آپ تیزی سے اٹھے ، آپ کو خوف لاحق ہوا کہ مبادا قیامت ( آگئی ) ہو ، یہاں تک کہ آپ مسجد میں تشریف لے آئے اور آپ کھڑے ہوئے بہت طویل قیام ، رکوع اورسجدے کے ساتھ نماز پڑھتے رہے ، میں نے کبھی آپ کو نہیں دیکھا تھا کہ کسی نماز میں ( آپ نے ) ایسا کیا ہو ، پھر آپ نے فرمایا : " یہی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے ۔ یہ کسی کی موت یا زندگی کی بناء پر نہیں ہوتیں ، بلکہ اللہ ان کو بھیجتا ہے تاکہ ان کے زریعے سے اپنے بندوں کو ( قیامت سے ) خوف دلائے ، اس لئے جب تم ان میں سے کوئی نشانی دیکھو تو جلد از جلد اس کے ذکر ، دعا اور استغفار کی طرف لپکو ، " ابن علاء کی ر وایت میں " خسفت الشمس " کے بجائے ) كسفت الشمس ( سورج کو گرہن لگا ) کے الفاظ ہیں ( معنی ایک ہی ہے ) اور انھوں نے ( يخوف بها عباده ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے کے بجائے ) يخوف عباده ( اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے ) کہا ۔

Sahih Muslim 12:118sahih

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ ‏.‏ وَقَالَ ‏ "‏ وَرَجُلٌ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏

This hadith has been narrated, on the authority, of Abu Huraira (with this change of words)." A person whose heart is attached to the mosque when he goes out of it till he returns to it

عبید اللہ سے روایت ہے کہا : مجھے خبیب بن عبد الرحمٰن نے حفص بن عاصم سے خبردی انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " سات قسم کے لو گو ں کو اللہ تعا لیٰ اس دن اپنے سائے میں سایہ مہیا کرے گا جس دن کے سائے کے سوا کو ئی سایہ نہیں ہو گا عدل کرنے والا حکمران اور وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت کے ساتھ پروان چڑھا اور وہ آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا ہواہے اور ایسے دو آدمی جنھوں نے اللہ کی خا طر ایک دوسرے سے محبت کی اسی پر اکٹھے ہو ئے اور اسی پر جدا ہو ئے اور ایسا آدمی جسے مرتبے اور حسن والی عورت نے ( گناہ کی ) دعوت دی تو اس ( آدمی ) نے کہا : میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ آدمی جس نے چھپا کر صدقہ کیا حتیٰ کہ اس کا با یا ں ہا تھ جو کچھ خرچ کر رہا ہے اسے دایاں نہیں جا نتا اور وہ آدمی جس نے تنہا ئی میں اللہ کو یا د کیا تو اس کی آنکھیں بہنے لگیں

Sahih Muslim 15:490sahih

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، - وَاللَّفْظُ لِسُرَيْجٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ وَهُوَ فِي مُعَرَّسِهِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي بَطْنِ الْوَادِي فَقِيلَ إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ ‏.‏ قَالَ مُوسَى وَقَدْ أَنَاخَ بِنَا سَالِمٌ بِالْمُنَاخِ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُنِيخُ بِهِ يَتَحَرَّى مُعَرَّسَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ أَسْفَلُ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِبَطْنِ الْوَادِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَسَطًا مِنْ ذَلِكَ ‏.‏

Salim b. Abdullah b. Umar reported on the authority of his father (Allah be pleased with them) that Allah's Apostle (ﷺ) came to Dhu'l- Hulaifa in the heart of the valley at the fag end of the night, and it was said to him:It is a blessed stony ground. Musa (one of the narrators) said: Salim made his came) halt at the mosque where 'Abdullah made his camel halt as seeking the place of stay of Allah's Messenger (ﷺ). It is, in fact, situated at a lower plain than the mosque, which stands in the heart of the valley, and it is between it (the mosque) (and Qibla) that that place (where Allah's Apostle used to get down for rest and prayer) is situated

اسماعیل بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں موسیٰ عقبہ نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ، جب آپ ذوالحلیفہ میں اپنی آرام گاہ میں جو وادی کے درمیان تھی ، ( کسی آنے والے کو ) بھیجا گیا ، اور آپ سے کہا گیا : آپ مبارک وادی میں ہیں ۔ موسیٰ ( بن عقبہ ) نے کہا : سالم نے ہمارے ساتھ مسجد کے قریب اسی جگہ اونٹ بٹھائے جہاں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بٹھایا کرتے تھے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کے پچھلے پہر کی استراحت کی جگہ تلاش کرتے تھے ، اور وہ جگہ اسی مسجد سے نیچے تھی ، جو وادی کے درمیان میں تھی ، اس ( مسجد ) کے اور قبلے کے درمیان ، اس کے وسط میں ۔ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں موسیٰ عقبہ نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ، جب آپ ذوالحلیفہ میں اپنی آرام گاہ میں جو وادی کے درمیان تھی ، ( کسی آنے والے کو ) بھیجا گیا ، اور آپ سے کہا گیا : آپ مبارک وادی میں ہیں ۔ موسیٰ ( بن عقبہ ) نے کہا : سالم نے ہمارے ساتھ مسجد کے قریب اسی جگہ اونٹ بٹھائے جہاں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بٹھایا کرتے تھے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کے پچھلے پہر کی استراحت کی جگہ تلاش کرتے تھے ، اور وہ جگہ اسی مسجد سے نیچے تھی ، جو وادی کے درمیان میں تھی ، اس ( مسجد ) کے اور قبلے کے درمیان ، اس کے وسط میں ۔

Sahih Muslim 15:583sahih

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ صَلاَةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلاَةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلاَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ‏"‏ ‏.‏

Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Prayer in this mosque of mine is better than a thousand prayers (observed in other mosque.) besides it, except that of Masjid al-Haram

یحییٰ قطان نے ہمیں عبید اللہ ( بن عمر ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میریاس مسجد میں ایک نماز اس کے سوا ( دوسری مسجدوں میں ) ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے افضل ہے سوائےمسجد حرام کے ۔

Sahih Muslim 15:588sahih

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِي هَذَا وَمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الأَقْصَى ‏"‏ ‏.‏

Abu Hurairah (Allah be pleased with him) reported it directly from Allah's Apostle (ﷺ) that he said:Do not undertake a journey to visit any Mosque, but three: this Mosque of mine, the Mosque of al-Haram and the Mosque of Aqsa (Bait al-Maqdis)

سفیان نے زہری سے انھوں نے سعید ( بن مسیب ) سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی وہ اس ( سلسلہ روایت ) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے کہ ( عبادت کے لیے ) تین مسجدوں کے سوا رخت سفر نہ باندھا جائے : میری یہ مسجد ، مسجد حرا م اور مسجد اقصیٰ ۔

Sahih Muslim 22:144sahih

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعِيرًا بِوُقِيَّتَيْنِ وَدِرْهَمٍ أَوْ دِرْهَمَيْنِ - قَاَلَ - فَلَمَّا قَدِمَ صِرَارًا أَمَرَ بِبَقَرَةٍ فَذُبِحَتْ فَأَكَلُوا مِنْهَا فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ فَأُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَوَزَنَ لِي ثَمَنَ الْبَعِيرِ فَأَرْجَحَ لِي ‏.‏

Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported:Allah's Messenger (ﷺ) bought a camel from me for two 'uqiyas and a dirham or two dirhams. As he reached Sirar (a village near Medina), he commanded a cow to be slaughtered and it was slaughtered, and they ate of that, and as he (the Holy Prophet) reached Medina he ordered me to go to the mosque and offer two rak'ahs of prayer, and he measured for me the price of the camel and even made an excess payment to me

معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے محارب سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دو اوقیہ اور ایک یا دو درہموں میں اونٹ خریدا ۔ جب آپ صرار ( کے مقام پر ) آئے تو آپ نے گائے ( ذبح کرنے ) کا حکم دیا ، وہ ذبح کی گئی ، لوگوں نے اسے کھایا ، جب آپ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجد آؤں اور دو رکعتیں پڑھوں ۔ آپ نے میرے لیے اونٹ کی قیمت ( کے برابر سونے یا چاندی ) کا وزن کیا اور میرے لیے پلڑا جھکا دیا ۔ فائدہ : قیمت کے حوالے سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے راوی محارب ( بن وثار ) کو وہم ہوا ہے جس طرح اگلی حدیث سے ثابت ہوتا ہے ، وہ اصل قیمت کو صحیح طور پر یاد نہیں رکھ سکے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے جب چاندی کے حساب سے اونٹ کی قیمت بتائی تو اس وقت چاندی کا ایک اوقیہ زائد دیے جانے کی بات کی ہے ۔ ( دیکھیے ، حدیث : 4103 ) چاندی کے اس اوقیے کو غلطی سے سونے کے ایک اوقیے کے ساتھ ملا کر دو اوقیے کر دیا گیا ہے ، ان احادیث میں قیمت یا سونے میں بیان کی گئی ہے یا اس کی قیمت کے برابر چاندی میں یا اسی کے برابر دیناروں میں ۔ بعض نے اضافے کو قیمت کے ساتھ شامل کر دیا ہے جس سے التباس پیدا ہوا ہے ۔ البتہ سب احادیث اصل مسئلہ میں ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں ۔

Sahih Muslim 32:70sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْلاً قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ ‏.‏ فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ ‏.‏ فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ فَقَالَ ‏"‏ مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَا قُلْتُ لَكَ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ ‏.‏ فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى كَانَ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ ‏"‏ مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ‏.‏ يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى الأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَىَّ مِنْ وَجْهِكَ فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ كُلِّهَا إِلَىَّ وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَىَّ مِنْ دِينِكَ فَأَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الدِّينِ كُلِّهِ إِلَىَّ وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلَىَّ مِنْ بَلَدِكَ فَأَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلاَدِ كُلِّهَا إِلَىَّ وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ فَمَاذَا تَرَى فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ قَالَ لَهُ قَائِلٌ أَصَبَوْتَ فَقَالَ لاَ وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ وَاللَّهِ لاَ يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

It has been narrated on the authority of Abu Huraira who said:The Messenger of Allah (ﷺ) sent some horsemen to Najd. They captured a man. He was from the tribe of Banu Hanifa and was called Thumama b. Uthal. He was the chief of the people of Yamama. People bound him with one of the pillars of the mosque. The Messenger of Allah (ﷺ) came out to (see) him. He said: O Thumama, what do you think? He replied: Muhammad, I have good opinion of you. If you kill me, you will kill a person who has spilt blood. If you do me a favour, you will do a favour to a grateful person. If you want wealth, ask and you will get what you will demand. The Messenger of Allah (may peace be pon him) lefthim (in this condition) for two days, (and came to him again) and said: What do you think, O Thumama? He replied: What I have already told you. If you do a favour, you will do a favour to a grateful person. If you kill me, you will kill a person who has spilt blood. If you want wealth, ask and you will get what you will demand. The Messenger of Allah (ﷺ) left him until the next day when he (came to him again) and said: What do you think, O Thumama? He replied: What I have already told you. If you do me a favour, you will do a favour to a grateful person. If you kill me, you will kill a person who has spilt blood. If you want wealth ask and you will get what you will demand. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Set Thumama free. He went to a palm-grove near the mosque and took a bath. Then he entered the mosque and said: I bear testimony (to the truth) that there is no god but Allah and I testify that Muhammad is His bondman and His messenger. O Muhammad, by Allah, there was no face on the earth more hateful to me than your face, but (now) your face has become to me the dearest of all faces. By Allah, there was no religion more hateful to me than your religion, but (now) your religion has become the dearest of all religions to me. By Allah, there was no city more hateful to me than your city, but (now) your city has become the dearest of all cities to me. Your horsemen captured me when I intended going for Umra. Now what is your opinion (in the matter)? The Messenger of Allah (ﷺ) announced good tidings to him and told him to go on 'Umra. When he reached Mecca, somebody said to him: Have you changed your religion? He said: No! I have rather embraced Islam with the Messenger of Allah (ﷺ). By Allah, you will not get a single grain of wheat from Yamama until it is permitted by the Messenger of Allah (ﷺ)

لیث نے ہمیں سعید بن ابی سعید سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی جانب گھڑ سواروں کا ایک دستہ بھیجا تو وہ بنوحنفیہ کے ایک آدمی کو پکڑ لائے ، جسے ثمامہ بن اثال کہا جاتا تھا ، وہ اہل یمامہ کا سردار تھا ، انہوں نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( گھر سے ) نکل کر اس کے پاس آئے اور پوچھا : " ثمامہ! تمہارے پاس کیا ( خبر ) ہے؟ " اس نے جواب دیا : اے محمد! میرے پاس اچھی بات ہے ، اگر آپ قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا حق مانگا جاتا ہے اور اگر احسان کریں گے تو اس پر احسان کریں گے جو شکر کرنے والا ہے ۔ اور اگر مال چاہتے ہیں تو طلب کیجئے ، آپ جو چاہتے ہیں ، آپ کو دیا جائے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( اس کے حال پر ) چھوڑ دیا حتی کہ جب اگلے سے بعد کا دن ( آئندہ پرسوں ) ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " ثمامہ! تمہارے پاس ( کہنے کو ) کیا ہے؟ " اس نے جواب دیا : ( وہی ) جو میں نے آپ سے کہا تھا ، اگر احسان کریں گے تو ایک شکر کرنے والے پر احسان کریں گے اور اگر قتل کریں گے تو ایک خون والے کو قتل کریں گے اور اگر مال چاہتے ہیں تو طلب کیجئے ، آپ جو چاہتے ہیں آپ کو وہی دیا جائے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( اسی حال میں ) چھوڑ دیا حتی کہ جب اگلا دن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟ " اس نے جواب دیا : میرے پاس وہی ہے جو میں نے آپ سے کہا تھا : اگر احسان کریں گے تو ایک احسان شناس پر احسان کریں گے اور اگر قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کا خون ضائع نہیں جاتا ، اور اگر مال چاہتے ہیں تو طلب کیجیے ، آپ جو چاہتے ہیں وہی آپ کو دیا جائے گا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ثمامہ کو آزاد کر دو ۔ " وہ مسجد کے قریب کھجوروں کے ایک باغ کی طرف گیا ، غسل کیا ، پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ اے محمد! اللہ کی قسم! روئے زمین پر آپ کے چہرے سے بڑھ کر کوئی چہرہ نہیں تھا جس سے مجھے بغض ہو اور اب آپ کے چہرے سے بڑھ کر کوئی چہرہ نہیں جو مجھے زیادہ محبوب ہو ۔ اللہ کی قسم! آپ کے دین سے بڑھ کر کوئی دین مجھے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا ، اب آپ کا دین سب سے بڑھ کر محبوب دین ہو گیا ہے ۔ اللہ کی قسم! مجھے آپ کے شہر سے بڑھ کر کوئی شہر برا نہیں لگتا تھا ، اب مجھے آپ کے شہر سے بڑھ کو کوئی اور شہر محبوب نہیں ۔ آپ کے گھڑسواروں نے مجھے ( اس وقت ) پکڑا تھا جب میں عمرہ کرنا چاہتا تھا ۔ اب آپ کیا ( صحیح ) سمجھتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ایمان کی قبولیت کی ) خوشخبری دی اور حکم دیا کہ عمرہ ادا کرے ۔ جب وہ مکہ آئے تو کسی کہنے والے نے ان سے کہا : کیا بے دین ہو گئے ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا : نہیں ، بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسلام میں داخل ہو گیا ہوں ، اور اللہ کی قسم! یمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی تمہارے پاس نہیں پہنچے گا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت دے دیں

A detailed scholarly analysis for this topic is not yet available. Get in touch to request one.