Zaid bin Thabit Al-Ansari
زيد بن ثابت الأنصاري
Hadith 57 traditions
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ، تَسَحَّرُوا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَامُوا إِلَى الصَّلاَةِ. قُلْتُ كَمْ بَيْنَهُمَا قَالَ قَدْرُ خَمْسِينَ أَوْ سِتِّينَ ـ يَعْنِي آيَةً ـ ح.
Narrated Anas:Zaid bin Thabit said, "We took the "Suhur" (the meal taken before dawn while fasting is observed) with the Prophet (ﷺ) and then stood up for the (morning) prayer." I asked him how long the interval between the two (Suhur and prayer) was. He replied, 'The interval between the two was just sufficient to recite fifty to sixty 'Ayat
ہم سے عمرو بن عاصم نے یہ حدیث بیان کی، کہا ہم سے ہمام نے یہ حدیث بیان کی قتادہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ ان لوگوں نے ( ایک مرتبہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں نے دریافت کیا کہ ان دونوں کے درمیان کس قدر فاصلہ رہا ہو گا۔ فرمایا کہ جتنا پچاس یا ساٹھ آیت پڑھنے میں صرف ہوتا ہے اتنا فاصلہ تھا۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ، سَمِعَ رَوْحًا، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سَحُورِهِمَا قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الصَّلاَةِ فَصَلَّى. قُلْنَا لأَنَسٍ كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سَحُورِهِمَا وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلاَةِ قَالَ قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً.
Narrated Qatada:Anas bin Malik said, "The Prophet (ﷺ) and Zaid bin Thabit took the 'Suhur' together and after finishing the meal, the Prophet (ﷺ) stood up and prayed (Fajr prayer)." I asked Anas, "How long was the interval between finishing their 'Suhur' and starting the prayer?" He replied, "The interval between the two was just sufficient to recite fifty 'Ayat." (Verses of the Qur'an)
ہم سے حسن بن صباح نے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے روح بن عبادہ سے سنا، انہوں نے کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے روایت کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سحری کھائی، پھر جب وہ سحری کھا کر فارغ ہوئے تو نماز کے لیے اٹھے اور نماز پڑھی۔ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کی سحری سے فراغت اور نماز کی ابتداء میں کتنا فاصلہ تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ اتنا کہ ایک شخص پچاس آیتیں پڑھ سکے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اتَّخَذَ حُجْرَةً ـ قَالَ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ ـ مِنْ حَصِيرٍ فِي رَمَضَانَ فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ، فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ " قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلاَةِ صَلاَةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلاَّ الْمَكْتُوبَةَ ". قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى، سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ، عَنْ بُسْرٍ، عَنْ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Zaid bin Thabit:Allah's Messenger (ﷺ) made a small room in the month of Ramadan (Sa`id said, "I think that Zaid bin Thabit said that it was made of a mat") and he prayed there for a few nights, and so some of his companions prayed behind him. When he came to know about it, he kept on sitting. In the morning, he went out to them and said, "I have seen and understood what you did. You should pray in your houses, for the best prayer of a person is that which he prays in his house except the compulsory prayers
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ابوالنضر سالم سے، انہوں نے بسر بن سعید سے، انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں ایک حجرہ بنا لیا یا اوٹ ( پردہ ) بسر بن سعید نے کہا میں سمجھتا ہوں وہ بورئیے کا تھا۔ آپ نے کئی رات اس میں نماز پڑھی۔ صحابہ میں سے بعض حضرات نے ان راتوں میں آپ کی اقتداء کی۔ جب آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے بیٹھ رہنا شروع کیا ( نماز موقوف رکھی ) پھر برآمد ہوئے اور فرمایا تم نے جو کیا وہ مجھ کو معلوم ہے، لیکن لوگو! تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہو کیونکہ بہتر نماز آدمی کی وہی ہے جو اس کے گھر میں ہو۔ مگر فرض نماز ( مسجد میں پڑھنی ضروری ہے ) اور عفان بن مسلم نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوالنضر ابن ابی امیہ سے سنا، وہ بسر بن سعید سے روایت کرتے تھے، وہ زید بن ثابت سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مَا لَكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارٍ، وَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِطُولِ الطُّولَيَيْنِ
Narrated Marwan bin Al-Hakam:Zaid bin Thabit said to me, "Why do you recite very short Suras in the Maghrib prayer while I heard the Prophet (ﷺ) reciting the longer of the two long Suras?
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، انہوں نے عبدالملک ابن جریج سے، انہوں نے ابن ابی ملیکہ (زہیر بن عبداللہ) سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے مروان بن حکم سے، اس نے کہا زید بن ثابت نے مجھے ٹوکا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم مغرب میں چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھتے ہو۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو لمبی سورتوں میں سے ایک سورت پڑھتے ہوئے سنا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ، سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنه ـ فَزَعَمَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم {وَالنَّجْمِ} فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا.
Narrated `Ata' bin Yasar:I asked Zaid bin Thabit about prostration on which he said that he had recited An-Najm before the Prophet, yet he (the Prophet) had not performed a prostration
ہم سے سلیمان بن داؤد ابوالربیع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں یزید بن خصیفہ نے خبر دی، انہیں (یزید بن عبداللہ) ابن قسیط نے، اور انہیں عطاء بن یسار نے کہ انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ آپ نے یقین کے ساتھ اس امر کا اظہار کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۃ النجم کی تلاوت آپ نے کی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم {وَالنَّجْمِ} فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا.
Narrated Zaid bin Thabit:I recited An-Najm before the Prophet, yet he did not perform a prostration
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن عبداللہ بن قسیط نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے، ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۃ النجم کی تلاوت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنه ـ تَسَحَّرَا، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سَحُورِهِمَا قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الصَّلاَةِ فَصَلَّى. قُلْنَا لأَنَسٍ كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سَحُورِهِمَا وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلاَةِ قَالَ كَقَدْرِ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً.
Narrated Qatada:Anas bin Malik said, "The Prophet (ﷺ) and Zaid bin Thabit took their Suhur together. When they finished it, the Prophet (ﷺ) stood for the (Fajr) prayer and offered it." We asked Anas, "What was the interval between their finishing the Suhur and the starting of the morning prayer?" Anas replied, "It was equal to the time taken by a person in reciting fifty verses of the Qur'an
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دونوں نے مل کر سحری کھائی، سحری سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور دونوں نے نماز پڑھی۔ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سحری سے فراغت اور نماز شروع کرنے کے درمیان کتنا فاصلہ رہا ہو گا؟ آپ نے جواب دیا کہ اتنی دیر میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ سکتا ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى أُحُدٍ رَجَعَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَتْ فِرْقَةٌ نَقْتُلُهُمْ. وَقَالَتْ فِرْقَةٌ لاَ نَقْتُلُهُمْ. فَنَزَلَتْ {فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينِ فِئَتَيْنِ} وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهَا تَنْفِي الرِّجَالَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ".
Narrated Zaid bin Thabit:When the Prophet (ﷺ) went out for (the battle of) Uhud, some of his companions (hypocrites) returned (home). A party of the believers remarked that they would kill those (hypocrites) who had returned, but another party said that they would not kill them. So, this Divine Inspiration was revealed: "Then what is the matter with you that you are divided into two parties concerning the hypocrites." (4.88) The Prophet (ﷺ) said, "Medina expels the bad persons from it, as fire expels the impurities of iron
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے، ان سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا کہ میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ احد کے لیے نکلے تو جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ان میں سے کچھ لوگ واپس آ گئے ( یہ منافقین تھے ) پھر بعض نے تو یہ کہا کہ ہم چل کر انہیں قتل کر دیں گے اور ایک جماعت نے کہا کہ قتل نہ کرنا چاہئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی «فما لكم في المنافقين فئتين» اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مدینہ ( برے ) لوگوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جس طرح آگ میل کچیل دور کر دیتی ہے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ. قُلْتُ كَمْ كَانَ بَيْنَ الأَذَانِ وَالسَّحُورِ قَالَ قَدْرُ خَمْسِينَ آيَةً.
Narrated Anas:Zaid bin Thabit said, "We took the Suhur with the Prophet (ﷺ) . Then he stood for the prayer." I asked, "What was the interval between the Suhur and the Adhan?" He replied, "The interval was sufficient to recite fifty verses of the Qur'an
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے سحری کھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ میں نے پوچھا کہ سحری اور اذان میں کتنا فاصلہ ہوتا تھا تو انہوں نے کہا کہ پچاس آیتیں ( پڑھنے ) کے موافق فاصلہ ہوتا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ قَالَ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ الثَّمَرَ بِكَيْلٍ، إِنْ زَادَ فَلِي وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَىَّ. قَالَ وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا.
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) forbade Muzabana; and Muzabana is the selling of fresh fruit (without measuring it) for something by measure on the basis that if that thing turns to be more than the fruit, the increase would be for the seller of the fruit, and if it turns to be less, that would be of his lot. Narrated Ibn `Umar from Zaid bin Thabit that the Prophet (ﷺ) allowed the selling of the fruits on the trees after estimation (when they are ripe)
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ قَالَ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ الثَّمَرَ بِكَيْلٍ، إِنْ زَادَ فَلِي وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَىَّ. قَالَ وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا.
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) forbade Muzabana; and Muzabana is the selling of fresh fruit (without measuring it) for something by measure on the basis that if that thing turns to be more than the fruit, the increase would be for the seller of the fruit, and if it turns to be less, that would be of his lot. Narrated Ibn `Umar from Zaid bin Thabit that the Prophet (ﷺ) allowed the selling of the fruits on the trees after estimation (when they are ripe)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ، وَلاَ تَبِيعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ " قَالَ سَالِمٌ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِالرُّطَبِ أَوْ بِالتَّمْرِ، وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِهِ.
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not sell fruits of dates until they become free from all the dangers of being spoilt or blighted; and do not sell fresh dates for dry dates." Narrated Salim and `Abdullah from Zaid bin Thabit: "Later on Allah's Messenger (ﷺ) permitted the selling of ripe fruits on trees for fresh dates or dried dates in Bai'-al-'Araya, and did not allow it for any other kind of sale
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ، وَلاَ تَبِيعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ " قَالَ سَالِمٌ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِالرُّطَبِ أَوْ بِالتَّمْرِ، وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِهِ.
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not sell fruits of dates until they become free from all the dangers of being spoilt or blighted; and do not sell fresh dates for dry dates." Narrated Salim and `Abdullah from Zaid bin Thabit: "Later on Allah's Messenger (ﷺ) permitted the selling of ripe fruits on trees for fresh dates or dried dates in Bai'-al-'Araya, and did not allow it for any other kind of sale
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنهم ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْخَصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا.
Narrated Zaid bin Thabit:Allah's Messenger (ﷺ) allowed the owner of 'Araya to sell the fruits on the trees by means of estimation
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب عریہ کو اس کی اجازت دی کہ اپنا عریہ اس کے اندازے برابر میوے کے بدل بیچ ڈالے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنهم ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا كَيْلاً. قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ وَالْعَرَايَا نَخَلاَتٌ مَعْلُومَاتٌ تَأْتِيهَا فَتَشْتَرِيهَا.
Narrated Ibn `Umar from Zaid bin Thabit:Allah's Messenger (ﷺ) allowed the sale of 'Araya by estimating the dates on them for measured amounts of dried dates. Musa bin `Uqba said, "Al- 'Araya were distinguished date palms; one could come and buy them (i.e. their fruits)
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، انہیں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دی کہ وہ اندازے سے بیچی جا سکتی ہے۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ عرایا کچھ معین درخت جن کا میوہ تو اترے ہوئے میوے کے بدل خریدے۔
وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ الأَنْصَارِيِّ، مِنْ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ، فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ قَالَ الْمُبْتَاعُ إِنَّهُ أَصَابَ الثَّمَرَ الدُّمَانُ أَصَابَهُ مُرَاضٌ أَصَابَهُ قُشَامٌ ـ عَاهَاتٌ يَحْتَجُّونَ بِهَا ـ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا كَثُرَتْ عِنْدَهُ الْخُصُومَةُ فِي ذَلِكَ " فَإِمَّا لاَ فَلاَ يَتَبَايَعُوا حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُ الثَّمَرِ ". كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ. وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَمْ يَكُنْ يَبِيعُ ثِمَارَ أَرْضِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا فَيَتَبَيَّنَ الأَصْفَرُ مِنَ الأَحْمَرِ. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا حَكَّامٌ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ عَنْ زَكَرِيَّاءَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ سَهْلٍ عَنْ زَيْدٍ
Zaid bin Thabit (ra) said, "In the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ), the people used to trade with fruits. When they cut their date-fruits and the purchasers came to recieve their rights, the seller would say, 'My dates have got rotten, they are blighted with disease, they are afflicted with Qusham (a disease which causes the fruit to fall before ripening).' They would go on complaining of defects in their purchases. Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not sell the fruits before their benefit is evident (i.e. free from all the dangers of being spoiled or blighted), by way of advice for they quarrelled too much." Kharija bin Zaid bin Thabit said that Zaid bin Thabit (ra) used not to sell the fruits of his land till Pleiades appeared and one could distinguish the yellow fruits from the red (ripe) ones
لیث بن سعد نے ابوزناد عبداللہ بن ذکوان سے نقل کیا کہ عروہ بن زبیر، بنوحارثہ کے سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے تھے اور وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگ پھلوں کی خرید و فروخت ( درختوں پر پکنے سے پہلے ) کرتے تھے۔ پھر جب پھل توڑنے کا وقت آتا، اور مالک ( قیمت کا ) تقاضا کرنے آتے تو خریدار یہ عذر کرنے لگتے کہ پہلے ہی اس کا گابھا خراب اور کالا ہو گیا، اس کو بیماری ہو گئی، یہ تو ٹھٹھر گیا پھل بہت ہی کم آئے۔ اسی طرح مختلف آفتوں کو بیان کر کے مالکوں سے جھگڑتے ( تاکہ قیمت میں کمی کرا لیں ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح کے مقدمات بکثرت آنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اس طرح جھگڑے ختم نہیں ہو سکتے تو تم لوگ بھی میوہ کے پکنے سے پہلے ان کو نہ بیچا کرو۔ گویا مقدمات کی کثرت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بطور مشورہ فرمایا تھا۔ خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے باغ کے پھل اس وقت تک نہیں بیچتے جب تک ثریا نہ طلوع ہو جاتا اور زردی اور سرخی ظاہر نہ ہو جاتی۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ اس کی روایت علی بن بحر نے بھی کی ہے کہ ہم سے حکام بن سلم نے بیان کیا، ان سے عنبسہ نے بیان کیا، ان سے زکریا نے، ان سے ابوالزناد نے، ان سے عروہ نے اور ان سے سہل بن سعد نے اور ان سے زید بن ثابت نے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنهم ـ قَالَ رَخَّصَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُبَاعَ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا.
Narrated Zaid bin Thabit:The Prophet (ﷺ) permitted selling the dates of the 'Araya for ready dates by estimating the amount of the former (as they are still on the trees)
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کے سلسلہ میں اس کی رخصت دی تھی کہ اندازہ کر کے خشک کھجور کے بدلے بیچا جا سکتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، أُرَاهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَسَخْتُ الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ، فَفَقَدْتُ آيَةً مِنْ سُورَةِ الأَحْزَابِ، كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِهَا، فَلَمْ أَجِدْهَا إِلاَّ مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ، وَهْوَ قَوْلُهُ {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ}
Narrated Kharija bin Zaid:Zaid bin Thabit said, "When the Qur'an was compiled from various written manuscripts, one of the Verses of Surat Al-Ahzab was missing which I used to hear Allah's Messenger (ﷺ) reciting. I could not find it except with Khuza`ima bin Thabit Al-Ansari, whose witness Allah's Messenger (ﷺ) regarded as equal to the witness of two men. And the Verse was:-- "Among the believers are men who have been true to what they covenanted with Allah
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے ‘ دوسری سند اور مجھ سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان نے ‘ میرا خیال ہے کہ محمد بن عتیق کے واسطہ سے ‘ ان سے ابن شہاب (زہری) نے اور ان سے خارجہ بن زید نے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب قرآن مجید کو ایک مصحف ( کتابی ) کی صورت میں جمع کیا جانے لگا تو میں نے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت نہیں پائی جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے برابر آپ کی تلاوت کرتے ہوئے سنتا رہا تھا جب میں نے اسے تلاش کیا تو ) صرف خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے یہاں وہ آیت مجھے ملی۔ یہ خزیمہ رضی اللہ عنہ وہی ہیں جن کی اکیلے کی گواہی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا۔ وہ آیت یہ تھی «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه» ( سورۃ الاحزاب: 23 ) ”مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنہوں نے وہ بات سچ کہی جس پر انہوں نے اللہ سے عہد کیا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ لَمَّا نَزَلَتْ {لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْدًا، فَجَاءَ بِكَتِفٍ فَكَتَبَهَا، وَشَكَا ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ضَرَارَتَهُ فَنَزَلَتْ {لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ }.
Narrated Al-Bara:When the Divine Inspiration: "Those of the believers who sit (at home), was revealed the Prophet (ﷺ) sent for Zaid (bin Thabit) who came with a shoulder-blade and wrote on it. Ibn Um-Maktum complained about his blindness and on that the following revelation came: "Not equal are those believers who sit (at home) except those who are disabled (by injury, or are blind or lame etc.) and those who strive hard and fight in the Way of Allah with their wealth and lives
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ابواسحاق سے کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ کہتے تھے کہ جب آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ( جو کاتب وحی تھے ) کو بلایا ‘ آپ ایک چوڑی ہڈی ساتھ لے کر حاضر ہوئے اور اس آیت کو لکھا اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے جب اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو آیت یوں نازل ہوئی «لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر» ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَأَخْبَرَنَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمْلَى عَلَيْهِ لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَجَاءَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمِلُّهَا عَلَىَّ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ. وَكَانَ رَجُلاً أَعْمَى، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي، فَثَقُلَتْ عَلَىَّ حَتَّى خِفْتُ أَنْ تَرُضَّ فَخِذِي، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ}.
Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`idi:I saw Marwan bin Al-Hakam sitting in the Mosque. So I came forward and sat by his side. He told us that Zaid bin Thabit had told him that Allah's Messenger (ﷺ) had dictated to him the Divine Verse: "Not equal are those believers who sit (at home) and those who strive hard and fight in the Cause of Allah with their wealth and lives.' (4.95) Zaid said, "Ibn Um-Maktum came to the Prophet (ﷺ) while he was dictating to me that very Verse. On that Ibn Um Maktum said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! If I had power, I would surely take part in Jihad." He was a blind man. So Allah sent down revelation to His Apostle while his thigh was on mine and it became so heavy for me that I feared that my thigh would be broken. Then that state of the Prophet (ﷺ) was over after Allah revealed "...except those who are disabled (by injury or are blind or lame etc)
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابراہیم بن سعد زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے صالح بن کیسان نے بیان کیا ابن شہاب سے ‘ انہوں نے سہل بن سعد زہری رضی اللہ عنہ سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں مروان بن حکم ( خلیفہ اور اس وقت کے امیر مدینہ ) کو مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ان کے قریب گیا اور پہلو میں بیٹھ گیا اور پھر انہوں نے ہمیں خبر دی کہ زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے آیت لکھوائی «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله» انہوں نے بیان کیا پھر عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مجھ سے آیت مذکورہ لکھوا رہے تھے، انہوں نے کہا یا رسول اللہ! اگر مجھ میں جہاد کی طاقت ہوتی تو میں جہاد میں شریک ہوتا۔ وہ نابینا تھے ‘ اس پر اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر تھی میں نے آپ پر وحی کی شدت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کا اتنا بوجھ محسوس کیا کہ مجھے ڈر ہو گیا کہ کہیں میری ران پھٹ نہ جائے۔ اس کے بعد وہ کیفیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ختم ہو گئی اور اللہ عزوجل نے فقط «غير أولي الضرر» نازل فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عُثْمَانَ، دَعَا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَنَسَخُوهَا فِي الْمَصَاحِفِ، وَقَالَ عُثْمَانُ لِلرَّهْطِ الْقُرَشِيِّينَ الثَّلاَثَةِ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي شَىْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَاكْتُبُوهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ، فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ. فَفَعَلُوا ذَلِكَ.
Narrated Anas:`Uthman called Zaid bin Thabit, `Abdullah bin Az-Zubair, Sa`id bin Al-`As and `AbdurRahman bin Al-Harith bin Hisham, and then they wrote the manuscripts of the Holy Qur'an in the form of book in several copies. `Uthman said to the three Quraishi persons, "If you differ with Zaid bin Thabit on any point of the Qur'an, then write it in the language of Quraish, as the Qur'an was revealed in their language." So they acted accordingly. (Zaid bin Thabit was an Ansari and not from Quraish)
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت، عبداللہ بن زبیر، سعید بن عاص اور عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو بلایا ( اور ان کو قرآن مجید کی کتابت پر مقرر فرمایا، چنانچہ ان حضرات نے ) قرآن مجید کو کئی مصحفوں میں نقل فرمایا اور عثمان رضی اللہ عنہ نے ( ان چاروں میں سے ) تین قریشی صحابہ سے فرمایا تھا کہ جب آپ لوگوں کا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ( جو مدینہ منورہ کے رہنے والے تھے ) قرآن کے کسی مقام پر ( اس کے کسی محاورے میں ) اختلاف ہو جائے تو اس کو قریش کے محاورے کے مطابق لکھنا، کیونکہ قرآن شریف قریش کے محاورہ میں نازل ہوا ہے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَةٌ، كُلُّهُمْ مِنَ الأَنْصَارِ أُبَىٌّ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَبُو زَيْدٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ. قُلْتُ لأَنَسِ مَنْ أَبُو زَيْدٍ قَالَ أَحَدُ عُمُومَتِي.
Narrated Qatada:Anas said, "The Qur'an was collected in the lifetime of the Prophet (ﷺ) by four (men), all of whom were from the Ansar: Ubai, Mu`adh bin Jabal, Abu Zaid and Zaid bin Thabit." I asked Anas, "Who is Abu Zaid?" He said, "One of my uncles
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چار آدمی جن سب کا تعلق قبیلہ انصار سے تھا، قرآن مجید جمع کرنے والے تھے۔ ابی بن کعب، معاذ بن جبل، ابوزید اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم میں نے پوچھا: ابوزید کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ میرے ایک چچا ہیں۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ فَقَدْتُ آيَةً مِنَ الأَحْزَابِ حِينَ نَسَخْنَا الْمُصْحَفَ، كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِهَا، فَالْتَمَسْنَاهَا فَوَجَدْنَاهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ } فَأَلْحَقْنَاهَا فِي سُورَتِهَا فِي الْمُصْحَفِ.
Narrated Zaid bin Thabit:When we wrote the Holy Qur'an, I missed one of the Verses of Surat-al-Ahzab which I used to hear Allah's Messenger (ﷺ) reciting. Then we searched for it and found it with Khuza`ima bin Thabit Al-Ansari. The Verse was:-- 'Among the Believers are men Who have been true to Their Covenant with Allah, Of them, some have fulfilled Their obligations to Allah (i.e. they have been Killed in Allah's Cause), And some of them are (still) waiting" (33.23) So we wrote this in its place in the Qur'an
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں خارجہ بن زید بن ثابت نے خبر دی انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ جب ہم قرآن مجید کو لکھنے لگے تو مجھے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت ( لکھی ہوئی ) نہیں ملی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی تلاوت کرتے بارہا سنا تھا۔ پھر جب ہم نے اس کی تلاش کی تو وہ آیت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ہمیں ملی ( آیت یہ تھی ) «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر» پھر ہم نے اس آیت کو اس کی سورت میں قرآن مجید میں ملا دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ،، يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى أُحُدٍ، رَجَعَ نَاسٌ مِمَّنْ خَرَجَ مَعَهُ، وَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِرْقَتَيْنِ، فِرْقَةً تَقُولُ نُقَاتِلُهُمْ. وَفِرْقَةً تَقُولُ لاَ نُقَاتِلُهُمْ. فَنَزَلَتْ {فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا} وَقَالَ " إِنَّهَا طَيْبَةُ تَنْفِي الذُّنُوبَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ ".
Narrated Zaid bin Thabit:When the Prophet (ﷺ) set out for (the battle of) Uhud, some of those who had gone out with him, returned. The companions of the Prophet (ﷺ) were divided into two groups. One group said, "We will fight them (i.e. the enemy)," and the other group said, "We will not fight them." So there came the Divine Revelation:-- '(O Muslims!) Then what is the matter within you that you are divided into two parties about the hypocrites? Allah has cast them back (to disbelief) Because of what they have earned.' (4.88) On that, the Prophet (ﷺ) said, "That is Taiba (i.e. the city of Medina) which clears one from one's sins as the fire expels the impurities of silver
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے، میں نے عبداللہ بن یزید سے سنا، وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بیان کیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے لیے نکلے تو کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ تھے ( منافقین، بہانہ بنا کر ) واپس لوٹ گئے۔ پھر صحابہ کی ان واپس ہونے والے منافقین کے بارے میں دو رائیں ہو گئیں تھیں۔ ایک جماعت تو کہتی تھی ہمیں پہلے ان سے جنگ کرنی چاہیے اور دوسری جماعت کہتی تھی کہ ان سے ہمیں جنگ نہ کرنی چاہیے۔ اس پر آیت نازل ہوئی «فما لكم في المنافقين فئتين والله أركسهم بما كسبوا» ”پس تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہاری دو جماعتیں ہو گئیں ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بداعمالی کی وجہ سے انہیں کفر کی طرف لوٹا دیا ہے۔“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ ”طیبہ“ ہے، سرکشوں کو یہ اس طرح اپنے سے دور کر دیتا ہے جیسے آگ کی بھٹی چاندی کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِت ٍ ـ رضى الله عنه ـ {فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ} رَجَعَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ أُحُدٍ، وَكَانَ النَّاسُ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ فَرِيقٌ يَقُولُ اقْتُلْهُمْ. وَفَرِيقٌ يَقُولُ لاَ فَنَزَلَتْ {فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ} وَقَالَ " إِنَّهَا طَيْبَةُ تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ ".
Narrated Zaid bin Thabit:Regarding the Verse:-- "Then what is the matter with you that you are divided into two parties about the hypocrites?" (4.88) Some of the companions of the Prophet (ﷺ) returned from the battle of Uhud (i.e. refused to fight) whereupon the Muslims got divided into two parties; one of them was in favor of their execution and the other was not in favour of it. So there was revealed: "Then what is the matter with you that you are divided into two parties about the hypocrites?" (4.88). Then the Prophet (ﷺ) said "It (i.e. Medina) is Taybah (good), it expels impurities as the fire expels the impurities of silver
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر اور عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی نے، ان سے عبداللہ بن یزید نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے آیت «فما لكم في المنافقين فئتين» ”اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو فریق ہو گئے ہو۔“ کے بارے میں فرمایا کہ کچھ لوگ منافقین جو ( اوپر سے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جنگ احد میں ( آپ چھوڑ کر ) واپس چلے آئے تو ان کے بارے میں مسلمانوں کی دو جماعتیں ہو گئیں۔ ایک جماعت تو یہ کہتی تھی کہ ( یا رسول اللہ! ) ان ( منافقین ) سے قتال کیجئے اور ایک جماعت یہ کہتی تھی کہ ان سے قتال نہ کیجئے۔ اس پر یہ آیت اتری «فما لكم في المنافقين فئتين» کہ ”تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ ہو گئے ہو۔“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مدینہ «طيبة» ہے۔ یہ خباثت کو اس طرح دور کر دیتا ہے جیسے آگ چاندی کی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، أَنَّهُ رَأَى مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَأَخْبَرَنَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمْلَى عَلَيْهِ لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَجَاءَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهْوَ يُمِلُّهَا عَلَىَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ ـ وَكَانَ أَعْمَى ـ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي، فَثَقُلَتْ عَلَىَّ حَتَّى خِفْتُ أَنْ تُرَضَّ فَخِذِي، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {غَيْرَ أُولِي الضَّرَرِ}
Narrated Zaid bin Thabit:That the Prophet (ﷺ) dictated to him: "Not equal are those of the believers who sit (at home) and those who strive and fight in the Cause of Allah." Zaid added: Ibn Um Maktum came while the Prophet (ﷺ) was dictating to me and said, "O Allah's Apostle! By Allah, if I had the power to fight (in Allah's Cause), I would," and he was a blind man. So Allah revealed to His Apostle while his thigh was on my thigh, and his thigh became so heavy that I was afraid it might fracture my thigh. Then that state of the Prophet (ﷺ) passed and Allah revealed:-- "Except those who are disabled (by injury or are blind or lame etc)
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا انہوں نے مروان بن حکم بن عاص کو مسجد میں دیکھا ( بیان کیا کہ ) پھر میں ان کے پاس آیا اور ان کے پہلو میں بیٹھ گیا، انہوں نے مجھے خبر دی اور انہیں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے خبر دی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ آیت لکھوائی «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله» ”مسلمانوں میں سے ( گھر ) بیٹھ رہنے والے اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔“ ابھی آپ یہ آیت لکھوا ہی رہے تھے کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے اور عرض کیا: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! اگر میں جہاد میں شرکت کر سکتا تو یقیناً جہاد کرتا۔ وہ اندھے تھے۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے رسول پر وحی اتاری۔ آپ کی ران میری ران پر تھی ( شدت وحی کی وجہ سے ) اس کا مجھ پر اتنا بوجھ پڑا کہ مجھے اپنی ران کے پھٹ جانے کا اندیشہ ہو گیا۔ آخر یہ کیفیت ختم ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے «غير أولي الضرر» کے الفاظ اور نازل کئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيَّ ـ رضى الله عنه ـ وَكَانَ مِمَّنْ يَكْتُبُ الْوَحْىَ قَالَ أَرْسَلَ إِلَىَّ أَبُو بَكْرٍ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ وَعِنْدَهُ عُمَرُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِالنَّاسِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ فِي الْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبَ كَثِيرٌ مِنَ الْقُرْآنِ، إِلاَّ أَنْ تَجْمَعُوهُ، وَإِنِّي لأَرَى أَنْ تَجْمَعَ الْقُرْآنَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ لِعُمَرَ كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عُمَرُ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ. فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي فِيهِ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ لِذَلِكَ صَدْرِي، وَرَأَيْتُ الَّذِي رَأَى عُمَرُ. قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَعُمَرُ عِنْدَهُ جَالِسٌ لاَ يَتَكَلَّمُ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ وَلاَ نَتَّهِمُكَ، كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْىَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ. فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَىَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ قُلْتُ كَيْفَ تَفْعَلاَنِ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ أَزَلْ أُرَاجِعُهُ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ اللَّهُ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقُمْتُ فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ وَالأَكْتَافِ وَالْعُسُبِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ، حَتَّى وَجَدْتُ مِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ آيَتَيْنِ مَعَ خُزَيْمَةَ الأَنْصَارِيِّ، لَمْ أَجِدْهُمَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ} إِلَى آخِرِهِمَا، وَكَانَتِ الصُّحُفُ الَّتِي جُمِعَ فِيهَا الْقُرْآنُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ. تَابَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ وَاللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ وَقَالَ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الأَنْصَارِيِّ. وَقَالَ مُوسَى عَنْ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ. وَتَابَعَهُ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ. وَقَالَ أَبُو ثَابِتٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ وَقَالَ مَعَ خُزَيْمَةَ، أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ.
Narrated Zaid bin Thabit Al-Ansari:who was one of those who used to write the Divine Revelation: Abu Bakr sent for me after the (heavy) casualties among the warriors (of the battle) of Yamama (where a great number of Qurra' were killed). `Umar was present with Abu Bakr who said, `Umar has come to me and said, The people have suffered heavy casualties on the day of (the battle of) Yamama, and I am afraid that there will be more casualties among the Qurra' (those who know the Qur'an by heart) at other battle-fields, whereby a large part of the Qur'an may be lost, unless you collect it. And I am of the opinion that you should collect the Qur'an." Abu Bakr added, "I said to `Umar, 'How can I do something which Allah's Apostle has not done?' `Umar said (to me), 'By Allah, it is (really) a good thing.' So `Umar kept on pressing, trying to persuade me to accept his proposal, till Allah opened my bosom for it and I had the same opinion as `Umar." (Zaid bin Thabit added:) `Umar was sitting with him (Abu Bakr) and was not speaking to me. "You are a wise young man and we do not suspect you (of telling lies or of forgetfulness): and you used to write the Divine Inspiration for Allah's Messenger (ﷺ). Therefore, look for the Qur'an and collect it (in one manuscript). " By Allah, if he (Abu Bakr) had ordered me to shift one of the mountains (from its place) it would not have been harder for me than what he had ordered me concerning the collection of the Qur'an. I said to both of them, "How dare you do a thing which the Prophet has not done?" Abu Bakr said, "By Allah, it is (really) a good thing. So I kept on arguing with him about it till Allah opened my bosom for that which He had opened the bosoms of Abu Bakr and `Umar. So I started locating Qur'anic material and collecting it from parchments, scapula, leaf-stalks of date palms and from the memories of men (who knew it by heart). I found with Khuza`ima two Verses of Surat-at-Tauba which I had not found with anybody else, (and they were):-- "Verily there has come to you an Apostle (Muhammad) from amongst yourselves. It grieves him that you should receive any injury or difficulty He (Muhammad) is ardently anxious over you (to be rightly guided)" (9.128) The manuscript on which the Qur'an was collected, remained with Abu Bakr till Allah took him unto Him, and then with `Umar till Allah took him unto Him, and finally it remained with Hafsa, `Umar's daughter
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھے عبیداللہ بن سباق نے خبر دی اور ان سے زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے جو کاتب وحی تھے، بیان کیا کہ جب ( 11 ھ ) میں یمامہ کی لڑائی میں ( جو مسلیمہ کذاب سے ہوئی تھی ) بہت سے صحابہ مارے گئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا، ان کے پاس عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا، عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا کہ جنگ یمامہ میں بہت زیادہ مسلمان شہید ہو گئے ہیں اور مجھے خطرہ ہے کہ ( کفار کے ساتھ ) لڑائیوں میں یونہی قرآن کے علماء اور قاری شہید ہوں گے اور اس طرح بہت سا قرآن ضائع ہو جائے گا۔ اب تو ایک ہی صورت ہے کہ آپ قرآن کو ایک جگہ جمع کرا دیں اور میری رائے تو یہ ہے کہ آپ ضرور قرآن کو جمع کرا دیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس پر میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، ایسا کام میں کس طرح کر سکتا ہوں جو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ کی قسم! یہ تو محض ایک نیک کام ہے۔ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے اس معاملہ پر بات کرتے رہے اور آخر میں اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لیے میرا بھی سینہ کھول دیا اور میری بھی رائے وہی ہو گئی جو عمر رضی اللہ عنہ کی تھی۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ وہیں خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جوان اور سمجھدار ہو ہمیں تم پر کسی قسم کا شبہ بھی نہیں اور تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی لکھا بھی کرتے تھے، اس لیے تم ہی قرآن مجید کو جابجا سے تلاش کر کے اسے جمع کر دو۔ اللہ کی قسم! کہ اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے کوئی پہاڑ اٹھا کے لے جانے کے لیے کہتے تو یہ میرے لیے اتنا بھاری نہیں تھا جتنا قرآن کی ترتیب کا حکم۔ میں نے عرض کیا آپ لوگ ایک ایسے کام کے کرنے پر کس طرح آمادہ ہو گئے، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تھا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ ایک نیک کام ہے۔ پھر میں ان سے اس مسئلہ پر گفتگو کرتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لیے میرا بھی سینہ کھول دیا۔ جس طرح ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا سینہ کھولا تھا۔ چنانچہ میں اٹھا اور میں نے کھال، ہڈی اور کھجور کی شاخوں سے ( جن پر قرآن مجید لکھا ہوا تھا، اس دور کے رواج کے مطابق ) قرآن مجید کو جمع کرنا شروع کر دیا اور لوگوں کے ( جو قرآن کے حافظ تھے ) حافظہ سے بھی مدد لی اور سورۃ التوبہ کی دو آیتیں خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس مجھے ملیں۔ ان کے علاوہ کسی کے پاس مجھے نہیں ملی تھی۔ ( وہ آیتیں یہ تھیں ) «لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم» آخر تک۔ پھر مصحف جس میں قرآن مجید جمع کیا گیا تھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، آپ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ رہا، پھر آپ کی وفات کے بعد آپ کی صاحبزادی ( ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہا ) ۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو عثمان بن عمر اور لیث بن سعد نے بھی یونس سے، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا، اور لیث نے کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا اس میں خزیمہ کے بدلے ابوخزیمہ انصاری ہے اور موسیٰ نے ابراہیم سے روایت کی، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، اس روایت میں بھی ابوخزیمہ ہے۔ موسیٰ بن اسماعیل کے ساتھ اس حدیث کو یعقوب بن ابراہیم نے بھی اپنے والد ابراہیم بن سعد سے روایت کیا اور ابوثابت محمد بن عبیداللہ مدنی نے، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا اس روایت میں شک کے ساتھ خزیمہ یا ابوخزیمہ مذکور ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ لَمَّا نَسَخْنَا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ فَقَدْتُ آيَةً مِنْ سُورَةِ الأَحْزَابِ، كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَؤُهَا، لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ إِلاَّ مَعَ خُزَيْمَةَ الأَنْصَارِيِّ، الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ}
Narrated Zaid bin Thabit:When we collected the fragmentary manuscripts of the Qur'an into copies, I missed one of the Verses of Surat al-Ahzab which I used to hear Allah's Messenger (ﷺ) reading. Finally I did not find it with anybody except Khuza`ima Al-Ansari, whose witness was considered by Allah's Messenger (ﷺ) equal to the witness of two men. (And that Verse was:) 'Among the believers are men who have been true to their covenant with Allah
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم قرآن مجید کو مصحف کی صورت میں جمع کر رہے تھے تو مجھے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت ( کہیں لکھی ہوئی ) نہیں مل رہی تھی۔ میں وہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا تھا۔ آخر وہ مجھے خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی جن کی شہادت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مومن مردوں کی شہادت کے برابر قرار دیا تھا۔ وہ آیت یہ تھی «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه» ”اہل ایمان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اس میں وہ سچے اترے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ فَأَمَرَ عُثْمَانُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَسَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنْ يَنْسَخُوهَا، فِي الْمَصَاحِفِ وَقَالَ لَهُمْ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي عَرَبِيَّةٍ مِنْ عَرَبِيَّةِ الْقُرْآنِ فَاكْتُبُوهَا بِلِسَانِ قُرَيْشٍ، فَإِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ بِلِسَانِهِمْ فَفَعَلُوا.
Narrated Anas bin Malik:(The Caliph `Uthman ordered Zaid bin Thabit, Sa`id bin Al-As, `Abdullah bin Az-Zubair and `Abdur- Rahman bin Al-Harith bin Hisham to write the Qur'an in the form of a book (Mushafs) and said to them. "In case you disagree with Zaid bin Thabit (Al-Ansari) regarding any dialectic Arabic utterance of the Qur'an, then write it in the dialect of Quraish, for the Qur'an was revealed in this dialect." So they did it
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، ان سے زہری نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت، سعید بن عاص، عبداللہ بن زبیر، عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ قرآن مجید کو کتابی شکل میں لکھیں اور فرمایا کہ اگر قرآن کے کسی محاورے میں تمہارا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اختلاف ہو تو اس لفظ کو قریش کے محاورہ کے مطابق لکھو، کیونکہ قرآن ان ہی کے محاورے پر نازل ہوا ہے چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَرْسَلَ إِلَىَّ أَبُو بَكْرٍ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عِنْدَهُ قَالَ أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ بِالْمَوَاطِنِ، فَيَذْهَبَ كَثِيرٌ مِنَ الْقُرْآنِ وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ. قُلْتُ لِعُمَرَ كَيْفَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ عُمَرُ هَذَا وَاللَّهِ خَيْرٌ. فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِذَلِكَ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى عُمَرُ. قَالَ زَيْدٌ قَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لاَ نَتَّهِمُكَ، وَقَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْىَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَىَّ مِمَّا أَمَرَنِي مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ قُلْتُ كَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَلَمْ يَزَلْ أَبُو بَكْرٍ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الْعُسُبِ وَاللِّخَافِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ حَتَّى وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرَهُ {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ} حَتَّى خَاتِمَةِ بَرَاءَةَ، فَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَيَاتَهُ ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ.
Narrated Zaid bin Thabit:Abu Bakr As-Siddiq sent for me when the people of Yamama had been killed (i.e., a number of the Prophet's Companions who fought against Musailima). (I went to him) and found `Umar bin Al- Khattab sitting with him. Abu Bakr then said (to me), "`Umar has come to me and said: "Casualties were heavy among the Qurra' of the Qur'an (i.e. those who knew the Qur'an by heart) on the day of the Battle of Yamama, and I am afraid that more heavy casualties may take place among the Qurra' on other battlefields, whereby a large part of the Qur'an may be lost. Therefore I suggest, you (Abu Bakr) order that the Qur'an be collected." I said to `Umar, "How can you do something which Allah's Apostle did not do?" `Umar said, "By Allah, that is a good project." `Umar kept on urging me to accept his proposal till Allah opened my chest for it and I began to realize the good in the idea which `Umar had realized." Then Abu Bakr said (to me). 'You are a wise young man and we do not have any suspicion about you, and you used to write the Divine Inspiration for Allah's Messenger (ﷺ). So you should search for (the fragmentary scripts of) the Qur'an and collect it in one book." By Allah If they had ordered me to shift one of the mountains, it would not have been heavier for me than this ordering me to collect the Qur'an. Then I said to Abu Bakr, "How will you do something which Allah's Messenger (ﷺ) did not do?" Abu Bakr replied, "By Allah, it is a good project." Abu Bakr kept on urging me to accept his idea until Allah opened my chest for what He had opened the chests of Abu Bakr and `Umar. So I started looking for the Qur'an and collecting it from (what was written on) palme stalks, thin white stones and also from the men who knew it by heart, till I found the last Verse of Surat at-Tauba (Repentance) with Abi Khuzaima Al-Ansari, and I did not find it with anybody other than him. The Verse is: 'Verily there has come unto you an Apostle (Muhammad) from amongst yourselves. It grieves him that you should receive any injury or difficulty..(till the end of Surat-Baraa' (at-Tauba) (9.128-129). Then the complete manuscripts (copy) of the Qur'an remained with Abu Bakr till he died, then with `Umar till the end of his life, and then with Hafsa, the daughter of `Umar
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبید بن سباق نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ یمامہ میں ( صحابہ کی بہت بڑی تعداد کے ) شہید ہو جانے کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا۔ اس وقت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ یمامہ کی جنگ میں بہت بڑی تعداد میں قرآن کے قاریوں کی شہادت ہو گئی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ اسی طرح کفار کے ساتھ دوسری جنگوں میں بھی قراء قرآن بڑی تعداد میں قتل ہو جائیں گے اور یوں قرآن کے جاننے والوں کی بہت بڑی تعداد ختم ہو جائے گی۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ آپ قرآن مجید کو ( باقاعدہ کتابی شکل میں ) جمع کرنے کا حکم دے دیں۔ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ایک ایسا کام کس طرح کریں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی زندگی میں ) نہیں کیا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا یہ جواب دیا کہ اللہ کی قسم! یہ تو ایک کارخیر ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ یہ بات مجھ سے باربار کہتے رہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ میں میرا بھی سینہ کھول دیا اور اب میری بھی وہی رائے ہو گئی جو عمر رضی اللہ عنہ کی تھی۔ زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ ( زید رضی اللہ عنہ ) جوان اور عقلمند ہیں، آپ کو معاملہ میں متہم بھی نہیں کیا جا سکتا اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی لکھتے بھی تھے، اس لیے آپ قرآن مجید کو پوری تلاش اور محنت کے ساتھ ایک جگہ جمع کر دیں۔ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ مجھے کسی پہاڑ کو بھی اس کی جگہ سے دوسری جگہ ہٹانے کے لیے کہتے تو میرے لیے یہ کام اتنا مشکل نہیں تھا جتنا کہ ان کا یہ حکم کہ میں قرآن مجید کو جمع کر دوں۔ میں نے اس پر کہا کہ آپ لوگ ایک ایسے کام کو کرنے کی ہمت کیسے کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہیں کیا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ ایک عمل خیر ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ جملہ برابر دہراتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا بھی ان کی اور عمر رضی اللہ عنہ کی طرح سینہ کھول دیا۔ چنانچہ میں نے قرآن مجید ( جو مختلف چیزوں پر لکھا ہوا موجود تھا ) کی تلاش شروع کر دی اور قرآن مجید کو کھجور کی چھلی ہوئی شاخوں، پتلے پتھروں سے، ( جن پر قرآن مجید لکھا گیا تھا ) اور لوگوں کے سینوں کی مدد سے جمع کرنے لگا۔ سورۃ التوبہ کی آخری آیتیں مجھے ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس لکھی ہوئی ملیں، یہ چند آیات مکتوب شکل میں ان کے سوا اور کسی کے پاس نہیں تھیں «لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم» سے سورۃ براۃ ( سورۃ توبہ ) کے خاتمہ تک۔ جمع کے بعد قرآن مجید کے یہ صحیفے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ تھے۔ پھر ان کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے جب تک وہ زندہ رہے اپنے ساتھ رکھا پھر وہ ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہے۔
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ فَقَدْتُ آيَةً مِنَ الأَحْزَابِ حِينَ نَسَخْنَا الْمُصْحَفَ قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِهَا فَالْتَمَسْنَاهَا فَوَجَدْنَاهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ} فَأَلْحَقْنَاهَا فِي سُورَتِهَا فِي الْمُصْحَفِ.
Zaid bin Thabit added, "A verse from Surat Ahzab was missed by me when we copied the Qur'an and I used to hear Allah's Messenger (ﷺ) reciting it. So we searched for it and found it with Khuza`ima bin Thabit Al-Ansari. (That Verse was):'Among the Believers are men who have been true in their covenant with Allah
ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے خارجہ بن زید بن ثابت نے خبر دی، انہوں نے زید بن ثابت سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم ( عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ) مصحف کی صورت میں قرآن مجید کو نقل کر رہے تھے، تو مجھے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت نہیں ملی حالانکہ میں اس آیت کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتا تھا اور آپ اس کی تلاوت کیا کرتے تھے، پھر ہم نے اسے تلاش کیا تو وہ خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی۔ وہ آیت یہ تھی «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه» چنانچہ ہم نے اس آیت کو سورۃ الاحزاب میں لگا دیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ ابْنَ السَّبَّاقِ، قَالَ إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ أَرْسَلَ إِلَىَّ أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ إِنَّكَ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْىَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاتَّبِعِ الْقُرْآنَ. فَتَتَبَّعْتُ حَتَّى وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ آيَتَيْنِ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهُمَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرَهُ {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ} إِلَى آخِرِهِ.
Narrated Zaid bin Thabit:Abu Bakr sent for me and said, "You used to write the Divine Revelations for Allah's Messenger (ﷺ) : So you should search for (the Qur'an and collect) it." I started searching for the Qur'an till I found the last two Verses of Surat at-Tauba with Abi Khuza`ima Al-Ansari and I could not find these Verses with anybody other than him. (They were): 'Verily there has come unto you an Apostle (Muhammad) from amongst yourselves. It grieves him that you should receive any injury or difficulty
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبید ابن سباق نے بیان کیا اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں مجھے بلایا اور کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قرآن لکھتے تھے۔ اس لیے اب بھی قرآن ( جمع کرنے کے لیے ) تم ہی تلاش کرو۔ میں نے تلاش کی اور سورۃ التوبہ کی آخری دو آیتیں مجھے خزیمہ انصاری کے پاس لکھی ہوئی ملیں، ان کے سوا اور کہیں یہ دو آیتیں نہیں مل رہی تھیں۔ وہ آیتیں یہ تھیں «لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم» آخر تک۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَرْبَعَةٌ كُلُّهُمْ مِنَ الأَنْصَارِ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو زَيْدٍ. تَابَعَهُ الْفَضْلُ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ ثُمَامَةَ عَنْ أَنَسٍ.
Narrated Qatada:I asked Anas bin Malik: "Who collected the Qur'an at the time of the Prophet (ﷺ) ?" He replied, "Four, all of whom were from the Ansar: Ubai bin Ka`b, Mu`adh bin Jabal, Zaid bin Thabit and Abu Zaid
ہم سے حفص بن عمر بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن کو کن لوگوں نے جمع کیا تھا، انہوں نے بتلایا کہ چار صحابیوں نے، یہ چاروں قبیلہ انصار سے ہیں۔ ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابوزید۔ اس روایت کی متابعت فضل نے حسین بن واقد سے کی ہے۔ ان سے ثمامہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے۔
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، وَثُمَامَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مَاتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَجْمَعِ الْقُرْآنَ غَيْرُ أَرْبَعَةٍ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَبُو زَيْدٍ. قَالَ وَنَحْنُ وَرِثْنَاهُ.
Narrated Anas bin Malik:When the Prophet (ﷺ) died, none had collected the Qur'an but four persons;: Abu Ad-Darda'. Mu`adh bin Jabal, Zaid bin Thabit and Abu Zaid. We were the inheritor (of Abu Zaid) as he had no offspring
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن مثنی نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ثابت بنانی اور ثمامہ نے بیان کیا اور ان سے انس نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک قرآن مجید کو چار صحابیوں کے سوا اور کسی نے جمع نہیں کیا تھا۔ ابودرداء ‘ معاذ بن جبل ‘ زید بن ثابت اور ابوزید رضی اللہ عنہم۔ انس نے کہا کہ ابوزید کے وارث ہم ہوئے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ قُرِئَ عَلَى أَيُّوبَ مِنْ كُتُبِ أَبِي قِلاَبَةَ، مِنْهُ مَا حَدَّثَ بِهِ وَمِنْهُ مَا قُرِئَ عَلَيْهِ، وَكَانَ هَذَا فِي الْكِتَابِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ وَأَنَسَ بْنَ النَّضْرِ كَوَيَاهُ، وَكَوَاهُ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِهِ. وَقَالَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الأَنْصَارِ أَنْ يَرْقُوا مِنَ الْحُمَةِ وَالأُذُنِ. قَالَ أَنَسٌ كُوِيتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَىٌّ، وَشَهِدَنِي أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو طَلْحَةَ كَوَانِي.
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) allowed one of the Ansar families to treat persons who have taken poison and also who are suffering from ear ailment with Ruqya. Anas added: I got myself branded cauterized) for pleurisy, when Allah's Messenger (ﷺ) was still alive. Abu Talha, Anas bin An-Nadr and Zaid bin Thabit witnessed that, and it was Abu Talha who branded (cauterized) me
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ قُرِئَ عَلَى أَيُّوبَ مِنْ كُتُبِ أَبِي قِلاَبَةَ، مِنْهُ مَا حَدَّثَ بِهِ وَمِنْهُ مَا قُرِئَ عَلَيْهِ، وَكَانَ هَذَا فِي الْكِتَابِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ وَأَنَسَ بْنَ النَّضْرِ كَوَيَاهُ، وَكَوَاهُ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِهِ. وَقَالَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الأَنْصَارِ أَنْ يَرْقُوا مِنَ الْحُمَةِ وَالأُذُنِ. قَالَ أَنَسٌ كُوِيتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَىٌّ، وَشَهِدَنِي أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو طَلْحَةَ كَوَانِي.
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) allowed one of the Ansar families to treat persons who have taken poison and also who are suffering from ear ailment with Ruqya. Anas added: I got myself branded cauterized) for pleurisy, when Allah's Messenger (ﷺ) was still alive. Abu Talha, Anas bin An-Nadr and Zaid bin Thabit witnessed that, and it was Abu Talha who branded (cauterized) me
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ قُرِئَ عَلَى أَيُّوبَ مِنْ كُتُبِ أَبِي قِلاَبَةَ، مِنْهُ مَا حَدَّثَ بِهِ وَمِنْهُ مَا قُرِئَ عَلَيْهِ، وَكَانَ هَذَا فِي الْكِتَابِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ وَأَنَسَ بْنَ النَّضْرِ كَوَيَاهُ، وَكَوَاهُ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِهِ. وَقَالَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الأَنْصَارِ أَنْ يَرْقُوا مِنَ الْحُمَةِ وَالأُذُنِ. قَالَ أَنَسٌ كُوِيتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَىٌّ، وَشَهِدَنِي أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو طَلْحَةَ كَوَانِي.
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) allowed one of the Ansar families to treat persons who have taken poison and also who are suffering from ear ailment with Ruqya. Anas added: I got myself branded cauterized) for pleurisy, when Allah's Messenger (ﷺ) was still alive. Abu Talha, Anas bin An-Nadr and Zaid bin Thabit witnessed that, and it was Abu Talha who branded (cauterized) me
وَقَالَ الْمَكِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،. وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُجَيْرَةً مُخَصَّفَةً أَوْ حَصِيرًا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِيهَا، فَتَتَبَّعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ وَجَاءُوا يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ، ثُمَّ جَاءُوا لَيْلَةً فَحَضَرُوا وَأَبْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْهُمْ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا الْبَابَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ مُغْضَبًا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُكْتَبُ عَلَيْكُمْ، فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلاَةِ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ خَيْرَ صَلاَةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ، إِلاَّ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ ".
Narrated Zaid bin Thabit:Allah's Messenger (ﷺ) made a small room (with a palm leaf mat). Allah's Messenger (ﷺ) came out (of his house) and prayed in it. Some men came and joined him in his prayer. Then again the next night they came for the prayer, but Allah's Messenger (ﷺ) delayed and did not come out to them. So they raised their voices and knocked the door with small stones (to draw his attention). He came out to them in a state of anger, saying, "You are still insisting (on your deed, i.e. Tarawih prayer in the mosque) that I thought that this prayer (Tarawih) might become obligatory on you. So you people, offer this prayer at your homes, for the best prayer of a person is the one which he offers at home, except the compulsory (congregational) prayer
اور مکی بن ابراہیم نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمر بن عبیداللہ کے غلام سالم ابوالنضر نے بیان کیا، ان سے بسر بن سعید نے بیان کیا اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی شاخوں یا بوریئے سے ایک مکان چھوٹے سے حجرے کی طرح بنا لیا تھا۔ وہاں آ کر آپ تہجد کی نماز پڑھا کرتے تھے، چند لوگ بھی وہاں آ گئے اور انہوں نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی پھر سب لوگ دوسری رات بھی آ گئے اور ٹھہرے رہے لیکن آپ گھر ہی میں رہے اور باہر ان کے پاس تشریف نہیں لائے۔ لوگ آواز بلند کرنے لگے اور دروازے پر کنکریاں ماریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کی حالت میں باہر تشریف لائے اور فرمایا تم چاہتے ہو کہ ہمیشہ یہ نماز پڑھتے رہو تاکہ تم پر فرض ہو جائے ( اس وقت مشکل ہو ) دیکھو تم نفل نمازیں اپنے گھروں میں ہی پڑھا کرو۔ کیونکہ فرض نمازوں کے سوا آدمی کی بہترین نفل نماز وہ ہے جو گھر میں پڑھی جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ بَعَثَ إِلَىَّ أَبُو بَكْرٍ لِمَقْتَلِ أَهْلِ الْيَمَامَةِ وَعِنْدَهُ عُمَرُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ فِي الْمَوَاطِنِ كُلِّهَا، فَيَذْهَبَ قُرْآنٌ كَثِيرٌ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ. قُلْتُ كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عُمَرُ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ. فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ عُمَرَ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى عُمَرُ. قَالَ زَيْدٌ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَإِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لاَ نَتَّهِمُكَ، قَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْىَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ. قَالَ زَيْدٌ فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ بِأَثْقَلَ عَلَىَّ مِمَّا كَلَّفَنِي مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ. قُلْتُ كَيْفَ تَفْعَلاَنِ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَبُو بَكْرٍ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ. فَلَمْ يَزَلْ يَحُثُّ مُرَاجَعَتِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ اللَّهُ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَيَا، فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الْعُسُبِ وَالرِّقَاعِ وَاللِّخَافِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ، فَوَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ} إِلَى آخِرِهَا مَعَ خُزَيْمَةَ أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ فَأَلْحَقْتُهَا فِي سُورَتِهَا، وَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَيَاتَهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَيَاتَهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ اللِّخَافُ يَعْنِي الْخَزَفَ.
Narrated Zaid bin Thabit:Abu Bakr sent for me owing to the large number of casualties in the battle of Al-Yamama, while `Umar was sitting with him. Abu Bakr said (to me), `Umar has come to my and said, 'A great number of Qaris of the Holy Qur'an were killed on the day of the battle of Al-Yamama, and I am afraid that the casualties among the Qaris of the Qur'an may increase on other battle-fields whereby a large part of the Qur'an may be lost. Therefore I consider it advisable that you (Abu Bakr) should have the Qur'an collected.' I said, 'How dare I do something which Allah's Messenger (ﷺ) did not do?' `Umar said, By Allah, it is something beneficial.' `Umar kept on pressing me for that till Allah opened my chest for that for which He had opened the chest of `Umar and I had in that matter, the same opinion as `Umar had." Abu Bakr then said to me (Zaid), "You are a wise young man and we do not have any suspicion about you, and you used to write the Divine Inspiration for Allah's Messenger (ﷺ). So you should search for the fragmentary scripts of the Qur'an and collect it (in one Book)." Zaid further said: By Allah, if Abu Bakr had ordered me to shift a mountain among the mountains from one place to another it would not have been heavier for me than this ordering me to collect the Qur'an. Then I said (to `Umar and Abu Bakr), "How can you do something which Allah's Messenger (ﷺ) did not do?" Abu Bakr said, "By Allah, it is something beneficial." Zaid added: So he (Abu Bakr) kept on pressing me for that until Allah opened my chest for that for which He had opened the chests of Abu Bakr and `Umar, and I had in that matter, the same opinion as theirs. So I started compiling the Qur'an by collecting it from the leafless stalks of the date-palm tree and from the pieces of leather and hides and from the stones, and from the chests of men (who had memorized the Qur'an). I found the last verses of Surat-at-Tauba: ("Verily there has come unto you an Apostle (Muhammad) from amongst yourselves--' (9.128-129) ) from Khuza`ima or Abi Khuza`ima and I added to it the rest of the Sura. The manuscripts of the Qur'an remained with Abu Bakr till Allah took him unto Him. Then it remained with `Umar till Allah took him unto Him, and then with Hafsa bint `Umar
ہم سے محمد بن عبداللہ ابوثابت نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبید بن سابق نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہ جنگ یمامہ میں بکثرت ( قاری صحابہ کی ) شہادت کی وجہ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا۔ ان کے پاس عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ عمر میرے پاس آئے اور کہا کہ جنگ یمامہ میں قرآن کے قاریوں کا قتل بہت ہوا ہے اور میرا خیال ہے کہ دوسری جنگوں میں بھی اسی طرح وہ شہید کئے جائیں گے اور قرآن اکثر ضائع ہو جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ قرآن مجید کو ( کتابی صورت میں ) جمع کرنے کا حکم دیں۔ اس پر میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں کوئی ایسا کام کیسے کر سکتا ہوں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا واللہ! یہ تو کار خیر ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ اس معاملہ میں برابر مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسی طرح اس معاملے میں میرا بھی سینہ کھول دیا جس طرح عمر رضی اللہ عنہ کا تھا اور میں بھی وہی مناسب سمجھنے لگا جسے عمر رضی اللہ عنہ مناسب سمجھتے تھے۔ زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم جوان ہو، عقلمند ہو اور ہم تمہیں کسی بارے میں متہم بھی نہیں سمجھتے تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی بھی لکھتے تھے، پس تم اس قرآن مجید ( کی آیات ) کو تلاش کرو اور ایک جگہ جمع کر دو۔ زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ واللہ! اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے کسی پہاڑ کو اٹھا کر دوسری جگہ رکھنے کا مکلف کرتے تو اس کا بوجھ بھی میں اتنا نہ محسوس کرتا جتنا کہ مجھے قرآن مجید کو جمع کرنے کے حکم سے محسوس ہوا۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ آپ کس طرح ایسا کام کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ ابوبکر نے کہا کہ واللہ! یہ خیر ہے۔ چنانچہ مجھے آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے میرا بھی سینہ کھول دیا جس کے لیے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا سینہ کھولا تھا اور میں بھی وہی مناسب خیال کرنے لگا جسے وہ لوگ مناسب خیال کر رہے تھے۔ چنانچہ میں نے قرآن مجید کی تلاش شروع کی۔ اسے میں کھجور کی چھال، چمڑے وغیرہ کے ٹکڑوں، پتلے پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنے لگا۔ میں نے سورۃ التوبہ کی آخری آیت «لقد جاءكم رسول من أنفسكم» آخر تک خزیمہ یا ابوخزیمہ رضی اللہ عنہ کے پاس پائی اور اس کو سورت میں شامل کر لیا۔ ( قرآن مجید کے یہ مرتب ) صحیفے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے جب تک وہ زندہ ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دی پھر وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے اور آخر وقت تک ان کے پاس رہے۔ جب آپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے وفات دی تو وہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہے۔ محمد بن عبیداللہ نے کہا کہ «اللخاف» کے لفظ سے ٹھیکری مراد ہے جسے «خزف.» کہتے ہیں۔
وَقَالَ خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُ أَنْ يَتَعَلَّمَ كِتَابَ الْيَهُودِ، حَتَّى كَتَبْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كُتُبَهُ، وَأَقْرَأْتُهُ كُتُبَهُمْ إِذَا كَتَبُوا إِلَيْهِ، وَقَالَ عُمَرُ وَعِنْدَهُ عَلِيٌّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعُثْمَانُ مَاذَا تَقُولُ هَذِهِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَاطِبٍ فَقُلْتُ تُخْبِرُكَ بِصَاحِبِهِمَا الَّذِي صَنَعَ بِهِمَا. وَقَالَ أَبُو جَمْرَةَ كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ. وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لاَ بُدَّ لِلْحَاكِمِ مِنْ مُتَرْجِمَيْنِ.
Kharija bin Zaid bin Thabit said that Zaid bin Thabit said, "The Prophet (ﷺ) ordered me to learn the writing of the Jews. I even wrote letters for the Prophet (ﷺ) (to the Jews) and also read their letters when they wrote to him." And 'Umar said in the presence of 'Ali, 'Abdur-Rahman, and 'Uthman, "What is this woman saying?" (the woman was non-Arab) 'Abdur-Rahman bin Hatib said:"She is informing you about her companion who has committed illegal sexual intercourse with her." Abu Jamra said, "I was an interpreter between Ibn 'Abbas and the people." Some people said, "A ruler should have two interpreters
خارجہ بن زید بن ثابت نے اپنے والد زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ یہودیوں کی تحریر سیکھیں، یہاں تک کہ میں یہودیوں کے نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط لکھتا تھا اور جب یہودی آپ کو لکھتے تو ان کے خطوط آپ کو پڑھ کر سناتا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن حاطب سے پوچھا، اس وقت ان کے پاس علی، عبدالرحمٰن اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے کہ یہ لونڈی کیا کہتی ہے؟ عبدالرحمٰن بن حاطب نے کہا کہ امیرالمؤمنین یہ آپ کو اس کے متعلق بتاتی ہے جس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے۔ ( جو یرغوس نام کا غلام تھا ) اور ابوجمرہ نے کہا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما اور لوگوں کے درمیان ترجمانی کرتا تھا اور بعض لوگوں ( امام محمد اور امام شافعی ) نے کہا کہ حاکم کے لیے دو ترجموں کا ہونا ضروری ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا لَيَالِيَ، حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ، ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ لَيْلَةً فَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ نَامَ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ " مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ، وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلاَةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ، إِلاَّ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ ".
Narrated Zaid bin Thabit:The Prophet (ﷺ) took a room made of date palm leaves mats in the mosque. Allah's Messenger (ﷺ) prayed in it for a few nights till the people gathered (to pray the night prayer (Tarawih) (behind him.) Then on the 4th night the people did not hear his voice and they thought he had slept, so some of them started humming in order that he might come out. The Prophet (ﷺ) then said, "You continued doing what I saw you doing till I was afraid that this (Tarawih prayer) might be enjoined on you, and if it were enjoined on you, you would not continue performing it. Therefore, O people! Perform your prayers at your homes, for the best prayer of a person is what is performed at his home except the compulsory congregational) prayer." (See Hadith No. 229,Vol. 3) (See Hadith No. 134, Vol)
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عفان بن مسلم نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ ابن عقبہ نے بیان کیا، کہا میں نے ابوالنضر سے سنا، انہوں نے بسر بن سعید سے بیان کیا، ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں چٹائی سے گھیر کر ایک حجرہ بنا لیا اور رمضان کی راتوں میں اس کے اندر نماز پڑھنے لگے پھر اور لوگ بھی جمع ہو گئے تو ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں آئی۔ لوگوں نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ہیں۔ اس لیے ان میں سے بعض کھنگارنے لگے تاکہ آپ باہر تشریف لائیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کے کام سے واقف ہوں، یہاں تک کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں تم پر یہ نماز تراویح فرض نہ کر دی جائے اور اگر فرض کر دی جائے تو تم اسے قائم نہیں رکھ سکو گے۔ پس اے لوگو! اپنے گھروں میں یہ نماز پڑھو کیونکہ فرض نماز کے سوا انسان کی سب سے افضل نماز اس کے گھر میں ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ،. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، حَدَّثَهُ قَالَ أَرْسَلَ إِلَىَّ أَبُو بَكْرٍ فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ حَتَّى وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ} حَتَّى خَاتِمَةِ بَرَاءَةٌ. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، بِهَذَا وَقَالَ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الأَنْصَارِيِّ.
Narrated Zaid bin Thabit:Abu Bakr sent for me, so I collected the Qur'an till I found the last part of Surat-at-Tauba with Abi Khuza`ima Al-Ansari and did not find it with anybody else. (The Verses are): -- 'Verily, there has come to you an Apostle (Muhammad) from amongst yourselves..(till the end of Surat Bara'a) (i.e., at- Tauba).' (9.128-129) Yunus also narrated as above
ہم سے موسیٰ بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم نے، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبید بن سباق نے بیان کیا اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ اور لیث نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن سباق نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا، پھر میں نے قرآن کی تلاش کی اور سورۃ التوبہ کی آخری آیت ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پائی۔ یہ آیات مجھے کسی اور کے پاس نہیں ملی تھیں «لقد جاءكم رسول من أنفسكم» سورۃ برات کے آخر تک۔ ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا اور ان سے یونس نے یہی بیان کیا کہ ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس سورۃ توبہ کی آخری آیات پائیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنِ الْقِرَاءَةِ، مَعَ الإِمَامِ فَقَالَ لاَ قِرَاءَةَ مَعَ الإِمَامِ فِي شَىْءٍ . وَزَعَمَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى} فَلَمْ يَسْجُدْ .
ta' b. Yasar reported that he had asked Zaid b. Thabit about recital along with the Imam, to which he said:There should be no recital along with the Imam in anything, and alleged that he recited:" By the star when it sets" (Surah Najm) before the Messenger of Allah (ﷺ) and he did not prostrate himself
عطاء بن یسار نے ( اپنے شاگرد ابن قسیط کو ) بتایا کہ انھوں نے امام کے ساتھ ( قرآن کی کسی سورت کی ) قراءت کرنے کے بارے میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ؟ انھوں نے کہا : امام کے ساتھ ( فاتحہ کے سوا ) کچھ نہ پڑھے اور کہا : انھوں ( زید رضی اللہ عنہ ) نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ( والنجم اذا ھویٰ ) پڑھی تو آپ نے سجدہ نہ کیا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُجَيْرَةً بِخَصَفَةٍ أَوْ حَصِيرٍ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِيهَا - قَالَ - فَتَتَبَّعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ وَجَاءُوا يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ - قَالَ - ثُمَّ جَاءُوا لَيْلَةً فَحَضَرُوا وَأَبْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْهُمْ - قَالَ - فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا الْبَابَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُغْضَبًا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُكْتَبُ عَلَيْكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلاَةِ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ خَيْرَ صَلاَةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلاَّ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ " .
Zaid b. Thabit reported:The Messenger of Allah (ﷺ) made an apartment with the help of the leaves of date trees or of mats. The Messenger of Allah (ﷺ) went out to pray in it. People followed him and came to pray with him. Then they again came one night and waited (for him), but the Messenger of Allah (ﷺ) delayed in coming out to them. And when he did not come out, they cried aloud and threw pebbles at the door. The Messenger of Allah (ﷺ) came out in anger and said to them: By what you have been constantly doing, I was inclined to think that it (prayer) might not become obligatory for you. So you must observe prayer (optional) in your houses, for the prayer observed by a man in the house is better except an obligatory prayer
عبد اللہ سعید نے کہا : عمر بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم ابو نضرنے ہمیں بسربن سعید سے حدیث بیان کی اور انھوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی کا ایک چھوٹا سا حجرہ بنوایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( گھر سے ) باہر آکر اس میں نماز پڑھنے لگے لو گ اس ( حجرے ) تک آپ کے پیچھے پیچھے آئے اور آکر آپ کی اقتدامیں نماز پڑھنے لگے ، پھر ایک اور رات لو گ آئے اور ( حجرےکے ) پاس آگئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس آنے میں تا خیر کر دی ۔ کہا : آپ ان کے پاس تشریف نہ لا ئےصحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اپنی آوازیں بلند کیں ( تاکہ آپ آوازیں سن کر تشریف لے آئیں ) اور دروازے پر چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں ان کی طرف تشریف لا ئے اور ان سے فر ما یا : تم مسلسل یہ عمل کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے خیال ہوا کہ یہ نماز تم پر لازم قراردے دی جا ئے گی ، اس لیے تم اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو کیونکہ انسان کی فرض نماز کے سوا وہی بہتر ہےجو گھر میں پڑھے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا لَيَالِيَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ " وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ " .
Zaid b. Thabit reported that the Messenger of Allah (ﷺ) made an apartment in the mosque of mats, and he observed in it prayers for many nights till people began to gather around him, and the rest of the hadith is the same but with this addition:" Had this (Nafl) prayer become obligatory for you, you would not be able to observe it
موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو نضرسے سنا انھوں نے بسر بن سعید سے اور انھوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں چٹائی سے ایک حجرہ بنوایا اور آپ نے اس میں چند راتیں نماز پڑھی حتیٰ کہ آپ کے پاس لو گ جمع ہو گئے ۔ ۔ ۔ پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ) " اگر تم پر نماز فرض کر دی گئی تو تم ( سب ) اس کی پابندی نہیں کر سکو گے ۔ " ( یہ حجرہ اعتکاف کے لیے تھا ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، - رضى الله عنه - قَالَ تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلاَةِ . قُلْتُ كَمْ كَانَ قَدْرُ مَا بَيْنَهُمَا قَالَ خَمْسِينَ آيَةً .
Zaid b. Thabit (Allah be pleased with him) said:We took meal shortly before dawn along with the Messenger of Allah (ﷺ). We then stood up for prayer. I said: How much span of time was there between the two (acts, i. e. taking of Sahri and observing of prayer)? He said (a span of reciting) fifty verses
ہشام ، قتادہ ، انس ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر نماز کےلئے کھڑے ہوئے میں نے عرض کیا کہ سحری کھانے اور نماز کے درمیان کتنا وقفہ تھا آپ نے فرمایا پچاس آیات کے برابر ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ، بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ، قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ . فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ إِمَّا لاَ فَسَلْ فُلاَنَةَ الأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَرَجَعَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَضْحَكُ وَهُوَ يَقُولُ مَا أَرَاكَ إِلاَّ قَدْ صَدَقْتَ .
Tawus reported:I was in the company of Ibn Abbas (Allah be pleased with them) when Zaid b. Thabit said: Do you give religious verdict that the woman who is in menses is allowed to go without performing the last circumambulation of the House? Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) said to him: Ask such and such woman of the Ansar, if you do not (believe my religious verdict) whether Allah's Messenger (ﷺ) had coimmanded her this. Zaid b Thabit (went to that lady and after getting this verdict attested by her) came back to Ibn Abbas (Allah be pleased with them) smilingly and said: I did not find you but telling the truth
حسن بن مسلم نے طاؤس سے خبر دی انھوں نے کہا : میں حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا کہ زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : آپ فتویٰ دیتے ہیں کہ حائضہ عورت آخری وقت میں بیت اللہ کی حاضری ( طواف ) سے پہلے ( اس کے بغیر ) لو ٹ سکتی ہے ؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : اگر ( آپ کو یقین ) نہیں تو فلاں انصار یہ سے پو چھ لیں کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس بات کا حکم دیا تھا ؟ کہا : اس کے بعد زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس آئے وہ ہنس رہے تھے اور کہہ رہے تھے میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے سچ ہی کہا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، - وَهُوَ الْعَنْبَرِيُّ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، - وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ - سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّهَا طَيْبَةُ - يَعْنِي الْمَدِينَةَ - وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ" .
Zaid b. Thabit reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:It is Taiba, thereby meaning Medina. It drives away impurity just as fire removes the impurity of silver
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلا شبہ یہ طیبہ ( پاک ) ہے ، ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ سے تھی ۔ یہ میل کچیل کو اس طرح دور کردیتا ہے جیسےآگ چاندی کے میل کچیل کو نکال دیتی ہے ۔
قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَحَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا . زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ أَنْ تُبَاعَ .
Zaid b. Thabit (Allah be pleased with him) said that Allah's Messenger (ﷺ) gave a concession in case of the sale known as al-araya, there is an addition of the word an tuba'a in the hadith transmitted by Ibn Numair
ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہمیں زید بن ثابت نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا کی اجازت دی ۔ ابن نمیر نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : ( اجازت دی ) کہ اسے بیچا ( یا خریدا ) جائے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ، بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ .
Zaid b. Thabit (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (may peace he upon him) having given concession in case of 'ariyya for selling dry dates (with) fresh dates after measuring them out
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ والے کو اجازت دی کہ وہ اسے ( اس پر موجود پھل کو ) مقدار کا اندازہ کرتے ہوئے خشک کھجور کے عوض بیچ لے
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ يَأْخُذُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا .
Zaid b. Thabit reported that Allah's Messenger (ﷺ) give concession in case of 'ariyya transactions according to which the members of the household give dry dates according to a measure and then eat fresh dates (in exchange for it)
سلیمان بن بلال نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی کہا : مجھے نافع نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کے بارے میں رخصت دی ( عریہ یہ ہے ) کہ گھر والے ( اپنی طرف سے دیے گئے درخت کے پھل کا ) خشک کھجور کے حوالے سے اندازہ لگا کر اسے لے لیں تاکہ وہ تازہ کھجور کھا سکیں
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا . قَالَ يَحْيَى الْعَرِيَّةُ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ ثَمَرَ النَّخَلاَتِ لِطَعَامِ أَهْلِهِ رُطَبًا بِخَرْصِهَا تَمْرًا .
Zaid b Thabit (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) gave concession in case of al-'ariyya transactions (for exchanging dates) for dates with measure. Yahya said:'Ariyya implies that a person should buy fresh dates on the tree for his family to eat against a measure of dry dates
لیث نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کو ( اس سے حاصل ہونے والی ) خشک کھجور کی مقدار کے اندازے سے فروخت کرنے کی اجازت دی ۔ یحییٰ نے کہا : عریہ یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے گھر والوں کی خوراک کے لیے کھجور کا تازہ پھل ( اس سے حاصل ہونے والی ) خشک کھجور کے اندازے کے عوض خرید لے ۔ ( یہ تعریف تازہ پھل لینے والے کے نقطہ نظر سے ہے ۔ مفہوم ایک ہی ہے)
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا كَيْلاً .
Zaid b. Thabit (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) granting concession in case of 'ariyya transactions and that implies selling of (dry dates for fresh dates) according to a measure
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا میں رخصت دی کہ اس ( کے پھل ) کا اندازہ کرتے ہوئے اسے کھجور کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض فروخت کر دیا جائے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَةٌ كُلُّهُمْ مِنَ الأَنْصَارِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَبُو زَيْدٍ . قَالَ قَتَادَةُ قُلْتُ لأَنَسٍ مَنْ أَبُو زَيْدٍ قَالَ أَحَدُ عُمُومَتِي .
Anas is reported to have said:Four persons collected the Qur'an during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) and all of them were Ansar: Mu'adh b. Jabal, Ubayy b. Ka'b, Zaid b. Thabit, Abu Zaid. Qatada said: Anas, who was Abu Zaid? He said: He was one of my uncles
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےعہد میں چاراشخاص نے قرآن مجید جمع کیا اور وہ سب کے سب انصار میں سے تھے : حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ قتادہ نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : ابو زید کون؟فرمایا : وہ میرے ایک چچا ہیں ۔
حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَرْبَعَةٌ كُلُّهُمْ مِنَ الأَنْصَارِ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُكْنَى أَبَا زَيْدٍ .
Hammam said:I said to Anas b. Malik: Who collected the Qur'an during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ)? He said: Four (persons), all of them belonging to Ansir: Ubayy b. Ka'b, Mu'adh b. Jabal, Zaid b. Thabit and a person from the Ansar whose Kunya was Abu Zaid
ہمام نے کہا : قتادہ نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قرآن کس نے جمع کیا تھا؟انھوں نے کہا : چار آدمیوں نے اور وہ چاروں انصار میں سے تھے : حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، اور انصار کے ایک شخص جن کی کنیت ابو زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھی ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، - وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ - قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى أُحُدٍ فَرَجَعَ نَاسٌ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ قَالَ بَعْضُهُمْ نَقْتُلُهُمْ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ . فَنَزَلَتْ { فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ}
Zaid b. Thabit reported that Allah's Apostle (ﷺ) set out for Uhud. Some of those persons who were with them came back. The Companions of Allah's Apostle (ﷺ) were divided in two groups. One group said:We would kill them, and the other one said: No, this should not be done, and it was on this occasion that this verse was revealed:" Why should you, then, be two parties in relation to hypocrites?" (iv)
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن یزید کو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( جنگ کے لئے ) اُحد کی جانب روانہ ہوئے ۔ جو لوگ آپ کے ساتھ تھے ان میں سے کچھ واپس آ گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ان کے بارے میں دو حصوں میں تقسیم ہو گئے ۔ بعض نے کہا : ہم انہیں قتل کر دیں اور بعض نے کہا : نہیں ۔ تو ( یہ آیت ) نازل ہوئی : " تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تم وہ دو گروہ بن گئے ہو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ وَأَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَلَمْ أَشْهَدْهُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنْ حَدَّثَنِيهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ حَادَتْ بِهِ فَكَادَتْ تُلْقِيهِ وَإِذَا أَقْبُرٌ سِتَّةٌ أَوْ خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ - قَالَ كَذَا كَانَ يَقُولُ الْجُرَيْرِيُّ - فَقَالَ " مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هَذِهِ الأَقْبُرِ " . فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا . قَالَ " فَمَتَى مَاتَ هَؤُلاَءِ " . قَالَ مَاتُوا فِي الإِشْرَاكِ . فَقَالَ " إِنَّ هَذِهِ الأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا فَلَوْلاَ أَنْ لاَ تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ " . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ " . قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ فَقَالَ " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " . قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ . قَالَ " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ " . قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالَ " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ " . قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ .
Abu Sa'id al-Khudri reported:I did not hear this hadith from Allah's Apostle (ﷺ) directly but it was Zaid b. Thabit who narrated it from him. As Allah's Apostle (ﷺ) was going along with us towards the dwellings of Bani an-Najjar, riding upon his pony, it shied and he was about to fall. He found four, five or six graves there. He said: Who amongst you knows about those lying in the graves? A person said: It is I. Thereupon he (the Holy Prophet) said: In what state did they die? He said: They died as polytheists. He said: These people are passing through the ordeal in the graves. If it were not the reason that you would stop burying (your dead) in the graves on listening to the torment in the grave which I am listening to, I would have certainly made you hear that. Then turning his face towards us, he said: Seek refuge with Allah from the torment of Hell. They said: We seek refuge with Allah from the torment of Hell. He said: Seek refuge with Allah from the torment of the grave. They said: We seek refuge with Allah from the torment of the grave. He said: Seek refuge with Allah from turmoil, its visible and invisible (aspects), and they said: We seek refuge with Allah from turmoil and its visible and invisible aspects and he said: Seek refuge with Allah from the turmoil of the Dajjal, and they said We seek refuge with Allah from the turmoil of the Dajjal
ابن علیہ نے کہا : ہمیں سعید جریری نے ابو نضرہ سے روایت کی ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ( ابو نضرہ نے ) کہا : حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو حاضر ہوکر نہیں سنی ، بلکہ مجھےحضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کی ، انھوں نے کہا : ایک دفعہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنونجار کے ایک باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے ، ہم آپ کے ساتھ تھے کہ اچانک وہ بدک گیا وہ آپ کو گرانے لگا تھا ( دیکھا تو ) وہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں تھیں ( ابن علیہ نے ) کہا : جریری اسی طرح کہا کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ان قبروں والوں کو کو ن جانتاہے؟ "" ایک آدمی نے کہا : میں ، آپ نے فرمایا : "" یہ لو گ کب مرے تھے؟اس نے کہا : شرک ( کے عالم ) میں مرے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ لو گ اپنی قبروں میں مبتلائے عذاب ہیں اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم ( اپنے مردوں کو ) دفن نہ کرو گےتو میں اللہ سے دعا کرتا کہ قبر کے جس عذاب ( کی آوازوں ) کومیں سن رہا ہوں وہ تمھیں بھی سنادے ۔ "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف رخ انور پھیرا اور فرمایا : "" آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا ہم آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا : ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "" ( تمام ) فتنوں سے جوان میں سے ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا : ہم فتنوں سے جو ظاہر ہیں اور پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا : ہم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ۔
A detailed scholarly analysis for this topic is not yet available. Get in touch to request one.