event

Noon Prayer

صلاة الظهر

The Dhuhr prayer, often known as the Noon Prayer, is the second of the five obligatory daily prayers for Muslims. It is performed after the sun has passed its zenith at midday and continues until the time for the Asr (afternoon) prayer begins. This prayer offers a crucial spiritual pause during the busiest part of the day, providing a moment for tranquility and profound remembrance of Allah. Muslims are commanded to [establish prayer] at its appointed times, affirming the Quranic declaration that [indeed, prayer has been decreed upon the believers a prescribed time]. The Quran also alludes to its timing, instructing believers to [establish prayer at the decline of the sun until the darkness of the night], which is understood to encompass Dhuhr. This daily act of devotion helps Muslims maintain a continuous connection with their Creator, grounding them in faith and mindfulness amidst their worldly responsibilities, [glorifying Allah... and when you at noon].

Hadith 55 traditions

Sahih al-Bukhari 52:50sahih

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلاَّ أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لاَسْتَهَمُوا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If the people knew what is the reward of making the call (for the prayer) and (of being in) the first row (in the prayer), and if they found no other way to get this privilege except by casting lots, they would certainly cast lots for it. If they knew the reward of the noon prayer, they would race for it, and if they knew the reward of the morning (i.e. Fajr) and `Isha prayers, they would present themselves for the prayer even if they had to crawl to reach there

ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوبکر کے غلام سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اذان اور صف اول میں کتنا ثواب ہے اور پھر ( انہیں اس کے حاصل کرنے کے لیے ) قرعہ اندازی کرنی پڑتی، تو وہ قرعہ اندازی بھی کرتے اور اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ نماز سویرے پڑھنے میں کتنا ثواب ہے تو لوگ ایک دوسرے سے سبقت کرنے لگیں اور اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ عشاء اور صبح کی کتنی فضیلتیں ہیں تو اگر گھٹنوں کے بل آنا پڑتا تو پھر بھی آتے۔“

Sahih Muslim 4:49sahih

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الظُّهْرِ - أَوِ الْعَصْرِ - فَقَالَ ‏"‏ أَيُّكُمْ قَرَأَ خَلْفِي بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلاَّ الْخَيْرَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا ‏"‏ ‏.‏

lmrin b. Husain reported:The Messenger of Allah (may peace beupon him) led us In Zuhr or 'Asr prayer (noon or the afternoon prayer). (On concluding it) he said: Who recited behind me (the verses): Sabbih Isma Rabbik al-a'la (Glorify the name of thy Lord, the Most High)? There upon a person said: It was I, but I in- tended nothing but goodness. I felt that some one of you was disputing with me in it (or he was taking out from my tongue what I was reciting), said the Prophet (ﷺ)

ابو عوانہ نے قتادہ سے ، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی ، پھر فرمایا : ’’ تم میں سے کس نے میرے پیچھے ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ پڑھی؟ ‘ ‘ تو ایک آدمی نے کہا : میں نے ، اور خیر کے سوا اس سے میں اورکچھ نہیں چاہتا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ’’مجھے علم ہو گیا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس ( یعنی قراءت ) میں الجھا رہا ہے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 4:50sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى، يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ فَجَعَلَ رَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ‏"‏ أَيُّكُمْ قَرَأَ ‏"‏ أَوْ ‏"‏ أَيُّكُمُ الْقَارِئُ ‏"‏ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا ‏"‏ ‏.‏

Imran b. Husain reported:The Messenger of Allah (ﷺ) observed the Zuhr prayer and a person recited Sabbih Isma Rabbik al-a'la (Glorify the name of thy Lord, the Most High) behind him. When he (the Holy Pro- phet) concluded the prayer he said: Who amongst you recited (the above-mentioned verse) or who amongst you was the reciter? A person said: It was I. Upon this he (the Holy Prophet) observed: I thought as if someone amongst you was disputing with me (in what I was reciting)

شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے سنا ، وہ حضرت عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی تو ایک آدمی نے آپ کے پیچھے ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ پڑھی شروع کر دی ۔ جب آپﷺ نے اسلام پھیرا تو فرمایا : ’’تم میں سے کس نے پڑھا ‘ ‘ یا ( فرمایا : ) ’’تم میں سے پڑھنے والا کون ہے؟ ‘ ‘ ایک آدمی نے کہا : میں ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ میں سمجھا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس میں الجھا رہا ہے

Sahih Muslim 4:51sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ وَقَالَ ‏ "‏ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا ‏"‏ ‏.‏

This hadith has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters that the Messenger of Allah (ﷺ) observed Zuhr prayer and said:I felt that someone amongst you was disputing with me (in what I was reciting)

۔ قتادہ کے ایک اور شاگرد ابن ابی عروبہ نے اسی سند کے ساتھ ( مذکورہ بالا ) روایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور فرمایا : ’’ میں جان گیا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس میں الجھا رہا ہے

Sahih Muslim 4:174sahih

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ الْحَجَّاجِ، - يَعْنِي الصَّوَّافَ - عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِنَا فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطَوِّلُ الرَّكْعَةَ الأُولَى مِنَ الظُّهْرِ وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ ‏.‏

Abu Qatada reported:The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer and recited in the first two rak'ahs of the noon and afternoon prayers Surat al-Fitiha and two (other) surahs. And he would sometimes recite loud enough for us the verses. He would prolong the first rak'ah more than the second. And he acted similarly in the morning prayer

حجاج صواف نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ اور ابو سلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں ( ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد ایک سورت ) پڑھتے اور کبھی کبھار ہمیں کوئی آیت سنا دیتے ۔ ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری رکعت مختصر کرتے اور صبح کی نماز میں بھی ایسا ہی کرتے ۔

Sahih Muslim 4:175sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ‏.‏

Abu Qatada reported it on the authority of his father:The Messenger of Allah (ﷺ) would recite in the first two rak'ahs of the noon and afternoon prayers the opening chapter of the Book and another surah. He would sometimes recite loud enough to make audible to us the verse and would recite in the last two rak'ahs Surat al-Faitiha (only)

(حجاج کے بجائے ) ہمام اور ابان بن یزید نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبیﷺ ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ( سے ہر رکعت میں ) سورۃ فاتحہ اور ایک سورت پڑھتے اور کبھی کبھار ہمیں بھی کوئی آیت سنا دیتے اور آخری دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھا کرتے تھے ۔

Sahih Muslim 4:176sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، - عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كُنَّا نَحْزِرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ قَدْرَ قِرَاءَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ قِيَامِهِ فِي الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَفِي الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ الم تَنْزِيلُ وَقَالَ قَدْرَ ثَلاَثِينَ آيَةً ‏.‏

Abu Sa'id al-Khudri reported:We used to estimate how long Allah's Messenger (ﷺ) stood in the noon and afternoon prayers, and we estimated hat he stood in the first two rak'ahs of the noon prayer as long as it takes to recite Alif Lam Mim, Tanzil, i. e. as-Sajda. We estimated that he stood half that time in the last two rak'ahs; that he stood in the first two of the afternoon as long as he did in the last two at noon; and in the last two of the afternoon prayer about half that time. Abu Bakr in his narration has made no mention of Alif Lam Mim, Tanzil, but said: As long as it takes to recite thirty verses

یحییٰ بن یحییٰ اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے ہشیم سے ، انہوں نے منصور سے ، انہوں نے ولید بن مسلم سے ، انہوں نے ابو صدیق ( ناجی ) سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ر وایت کی ، انہوں نے کہا : ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہﷺ کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے تو ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ ﴿الم 0 تنزيل﴾ ( السجدہ ) کی قراءت کے بقدر لگایا اور اس کی آخری دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ اس سے نصف کے بقدر لگایا اور ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ لگایا کہ وہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر تھا اور عصر کی دو رکعتوں کا قیام اس سے آدھا تھا ۔ امام مسلم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے استادہ ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں ﴿الم 0 تنزيل﴾ ( کا نام ) ذکر نہیں کیا ، انہوں نے کہا : تیس آیات کےبقدر

Sahih Muslim 4:177sahih

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ ثَلاَثِينَ آيَةً وَفِي الأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ خَمْسَ عَشَرَةَ آيَةً أَوْ قَالَ نِصْفَ ذَلِكَ وَفِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً وَفِي الأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِكَ ‏.‏

Abu Sa'id al-Khudri reported:The Apostle of Allah (ﷺ) used to recite in every rak'ah of the first two rak'ahs of the noon prayer about thirty verses and in the last two about fifteen verses or half (of the first rak'ah) and in every rak'ah of the 'Asr prayer of the first two rak'ahs about fifteen verses and in the last two verses half (of the first ones)

۔ ابو عوانہ نے منصور سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کے بقدر قراءت فرماتے تھے اور آخری دو میں پندرہ آیتوں کے بقدر یا یہ کہا : اس ( پہلی دو ) سے نصف ۔ اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر اور آخری دو میں اس سے نصف ۔

Sahih Muslim 4:182sahih

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - عَنْ سَعِيدٍ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ - عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزْعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ لَقَدْ كَانَتْ صَلاَةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَأْتِي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِمَّا يُطَوِّلُهَا ‏.‏

Abu Sa'id al-Khudri reported:The noon prayer would start and one would go to al-Baqi' and after having relieved himself he would perform ablution and then come, while the Messenger of Allah (ﷺ) would be in the first rak'ah, because he would prolong it so much

۔ عطیہ بن قیس نے قزعہ سے ، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ظہر کی نماز اقامت کہی جاتی اور کوئی جانے والا بقیع جاتا ، اپنی ضرورت سے فارغ ہو کر وضو کرتا ، پھر ( مسجد میں ) آتا اور رسول اللہﷺ اسے لمبا کرنے کی وجہ سے ابھی پہلی رکعت میں ہوتے ۔

Sahih Muslim 4:183sahih

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَزْعَةُ، قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ إِنِّي لاَ أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلاَءِ عَنْهُ - قُلْتُ - أَسْأَلُكَ عَنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ مَا لَكَ فِي ذَاكَ مِنْ خَيْرٍ ‏.‏ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ كَانَتْ صَلاَةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى ‏.‏

Qaz'a reported:I came to Abu Sa'id al-Khudri and he was surrounded by people. When the people departed from him I said: I am not going to ask you what these people have been asking you. I want to ask you about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). He (Abu Sa'id) said: There is no good for you in this. He (Qaz'a), however, repeated (his demand). He then said: The noon prayer would start and one of us would go to Baqi' and, having relieved himself, would come to his home, then perform ablution and go to the mosque, and (he would find) The Messenger of Allah (ﷺ) in the first rak'ah

ربیعہ نے کہا : قزعہ نے مجھے حدیث سنائی ، کہا : میں ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی خدمت میں حاضر ہوا ، ان کے پاس ( استفادے کے لیے ) کثرت سے لوگ موجود تھے ۔ جب یہ لوگ ان سے ( رخصت ہو کر ) منتشر ہو گئے تو میں نے عرض کی : میں آپ سے ان چیزوں کے بارے میں سوال نہیں کروں گا جن کے بارے میں لوگ آپ سے سوال کر رہے تھے ۔ میں نے کہا : میں آپ سے رسول اللہﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھتا ہوں ۔ انہوں نے کہا : اس سوال میں تیرے لیے بھلائی نہیں ہے ( کیونکہ تم نماز پڑھانے والے حکمرانوں کے پیچھے ایسے نماز نہیں پڑھ سکو گے ) انہوں نے ان کے سامنے دوبارہ اپنا مسئلہ پیش کیا تو ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ظہر کی نماز کھڑی کی جاتی اور ہم میں سے کوئی بقیع کی طرف جاتا ، اپنی ضرورت پوری کرتا ، پھر اپنے گھر آ کر وضو کرتا ، اس کے بعد واپس مسجد میں آتا تو رسول اللہﷺ ابھی پہلی رکعت میں ہوتے تھے ۔

Sahih Muslim 4:191sahih

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِـ ‏{‏ اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى‏}‏ وَفِي الْعَصْرِ نَحْوَ ذَلِكَ وَفِي الصُّبْحِ أَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏

Jabir b. Samura reported:The Apostle of Allah (ﷺ) used to recite in the noon prayer:" By the night when it envelopes" (xcii.), and in the afternoon like this, but he prolonged the morning prayer as compared to that (noon and afternoon prayers)

عبد الرحمن بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں ﴿واليل اذا يغشى﴾ ( اور رات کی قسم جب چھا جائے ) پڑھتے ، عصر میں بھی ایسی ہی کوئی سورت پڑھتے اور فجر کی نماز میں اس سے لمبی ( سورت پڑھتے ۔)

Sahih Muslim 4:192sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏.‏ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِـ ‏{‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى‏}‏ وَفِي الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏

Jabir b. Samura reported:The Apostle of Allah (ﷺ) used to recite in the noon prayer:" Glorify the name of thy Most High Lord in the morning prayer longer than this" (lxxxvii)

ابو داؤد طیالسی نے شعبہ سے ، انہوں نے سماک سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ ( اور اپنے پروردگار کے اونچے نام کی تسبیح کر ) پڑھتے اور صبح کی نماز میں اس سے لمبی قراءت کرتے تھے ۔

Sahih Muslim 5:108sahih

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَسْدِيِّ، حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ فِي صَلاَةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ فَلَمَّا أَتَمَّ صَلاَتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ ‏.‏

Abdullah b. Buhaina al-Asadi, the ally of Abual-Muttalib, reported:The Messenger of Allah (ﷺ) stood up in the noon prayer (though) he hadith sit (after the two rak'ahs). When he completed the prayer he performed two prostrations and said," Allah is the Most Great" in each prostration, while he was sitting before pronouncing salutation, and the people performed prostration along with him. That was a compensation for he had forgotten to observe jalsa (after two rak'ahs)

لیث نے ابن شہاب سے ، انھوں نےاعرج سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن بحسینہ اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، جو بنو بعدالمطلب کے حلیف تھے ، روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز میں ، جب آپ کو ( دوسری رکعت کےبعد ) بیٹھنا تھا ، کھڑے ہوگئے ، پھر جب آپ نے اپنی نماز مکمل کر لی تو آپ نے بیٹھے بیٹھے ہر سجدے کے لیے تکبیر کہتےہوئے سلام سے پہلے دو سجدے کیے ، اور لوگوں نے بھی ( تشہد کے لیے ) بیٹھے کی جگہ ، جو آپ بھول گئے تھے ، آپ کے ساتھ د و سجدے کیے ۔

Sahih Muslim 5:119sahih

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ قَالَ ‏ "‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا صَلَّيْتَ خَمْسًا ‏.‏ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ‏.‏

Abdullah (b. Mas'ud) reported:The Apostle of Allah (ﷺ) said five rak'ahs of the noon prayer and when he completed the prayer, It was said to him: Has there been (commanded) an addition In prayer? He said: What is it? They said: You have said five rak'ahs, so he performed two prostrations

حکم نے ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺنے ظہر کی نماز ( میں ) پانچ رکعات پڑھا دیں ، جب آپ نے سلام پھیر ا تو آپ سے عرض کی گئی : کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ وہ کیا ہے ؟ ‘ ‘ صحابہ نے کہا : آپ نے پانچ رکعات پڑھی ہیں ۔ توآپ نے دو سجدے کیے ۔

Sahih Muslim 5:121sahih

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ خَمْسًا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ الْقَوْمُ يَا أَبَا شِبْلٍ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا ‏.‏ قَالَ كَلاَّ مَا فَعَلْتُ ‏.‏ قَالُوا بَلَى - قَالَ - وَكُنْتُ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ وَأَنَا غُلاَمٌ فَقُلْتُ بَلَى قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا ‏.‏ قَالَ لِي وَأَنْتَ أَيْضًا يَا أَعْوَرُ تَقُولُ ذَاكَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَمْسًا فَلَمَّا انْفَتَلَ تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ فَقَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ زِيدَ فِي الصَّلاَةِ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا فَإِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا ‏.‏ فَانْفَتَلَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ‏"‏ ‏.‏ وَزَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ ‏"‏ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏

Ibrahim b. Suwaid-reported:'Alqama led us in the noon prayer and be offered five rak'ahs; when the prayer was complete, the people said to him: Abu Shibl, you have offered five rak'ahs. He said: No, I have not done that. They said: Yes (you said five rak'ahs). He (the narrator) said: And I was sitting in a corner among people and I was just a boy. I (also) said: Yes, you have offered five (rak'ahs). He said to me: O, one-eyed, do you say the same thing? I said: Yes. Upon this he turned (his face) and performed two prostrations and then gave salutations, and then reported 'Abdullah as saying: The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer and offered five rak'ahs. And as he turned away the people began to whisper amongst themselves. He (the Holy Prophet) said: What is the matter with you? They said: Has the prayer been extended? He said: No. They said: You have in fact said five rak'ahs. He (the Holy Prophet) then turned his back (and faced the Qibla) and performed two prostrations and then gave salutations and further said: Verily I am a human being like you, I forget just as you forget. Ibn Numair made this addition:" When any one of you forgets, he must perform two prostrations

عثمان بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ لفظ انھی کے ہیں ۔ انھوں نے کہا : ہمیں جریر نے حسن بن عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابراہیم بن سوید سے روایت کی ، کہا : ہمیں علقمہ نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں ۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو لوگوں نے کہا : ابو شبل! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں ۔ انھوں نے کہا : بالکل نہیں ، میں نے ایسا نہیں کیا ۔ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں ! ( آپ نے ایسا ہی کیا ہے ۔ ) ابراہیم نے کہا : میں لوگوں کے کنارے ( والے حصے ) میں تھا اور بچہ تھا ، میں نے کہا : ہاں !آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں ۔ انھوں نے مجھ سے کہا : ایک آنکھ والے ! تو بھی یہی کہتا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! تو وہ مڑے اور دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ، پھر کہا : عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ( بن مسعود ) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھا دیں ، جب آپ مڑے تو لوگوں نے آپس میں کھسر پھسر شروع کر دی ۔ آپ نے پوچھا : ’’ تمھیں کیا ہوا ہے ؟ ‘ ‘ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے ؟آپ نے فرمایا : ’’ نہیں ۔ ‘ ‘ لوگوں نے کہا : آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں ۔ تو آپ پلٹے ، پھر دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ، پھر فرمایا : ’’ میں تمھاری ہی طرح کا انسان ہوں ، میں ( بھی ) بھول جاتا ہوں جس طرح تم لوگ بھول جاتے ہو ۔ ‘ ‘ ابن نمیر نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : ’’جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو وہ دو سجدے کر لے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:129sahih

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْخَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ - حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ ثُمَّ سَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏

Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said two rak'ahs of the noon prayer and then gave salutation when a man from Band Sulaim came to him and said: Messenger of Allah. has the prayer been shortened, or have you forgotten? -and the rest of the hadith is the same

علی بن مبارک نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں ابو سلمہ نےحدیث سنائی ، کہا : ہمیں حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےحدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی دور کعتیں پڑھائیں ، پھر سلام پھیر دیا تو بنو سلیم کا ایک آدمی آپ کے قریب آیا اور عرض یک : اے اللہ کے رسول ! نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟.......اور آگے ( سابقہ ) حدیث بیان کی ۔

Sahih Muslim 5:130sahih

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي، مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الظُّهْرِ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ‏.‏ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ ‏.‏

Abu Huraira reported:I offered with the Messenger of Allah (ﷺ) the noon prayer and the Messenger of Allah (ﷺ) gave salutation after two rak'ahs. A person from Bani Sulaim stood up, and the rest of the hadith was narrated as mentioned above

شیبان نےیحییٰ سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نبی اکر ﷺ کے ساتھ ( اقتدا میں ) ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا ، اس پر بنی سلیم کا ایک آدمی کھڑا ہوا .......آگے ( مذکورہ بالا ) حدیث بیان کی

Sahih Muslim 5:219sahih

حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا صَلَّيْتُمُ الْفَجْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ قَرْنُ الشَّمْسِ الأَوَّلُ ثُمَّ إِذَا صَلَّيْتُمُ الظُّهْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَحْضُرَ الْعَصْرُ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْمَغْرِبَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَسْقُطَ الشَّفَقُ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏

It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that the Prophet (ﷺ) said:"When you pray Fajr, its time is until the first part of the sun appears. When you pray Zuhr, its time is until 'Asr comes. When you pray 'Asr, its time is until the sun turns yellow. When you pray Maghrib, its time is until the twilight has disappeared. When you pray 'Isha, its time is until half of the night has passed

معاذ بن ہشام نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے ابو ایوب سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےروایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’جب تم فجر کی نماز پڑھو تو سورج کاپہلا کنارہ نمودار ہونے تک اس کا وقت ہے ، پھر جب تم ظہر پڑھو تو عصر ہونے تک اس کا وقت ہے اور جب تم عصر پڑھو تو سورج کے زرد ہونے تک اس کا وقت ہے اور جب تم مغرب پڑھو تو شفق ( سرخی ) کے ختم ہونے تک اس کا وقت ہے اور جب تم عشاء پڑھو تو آدھی رات ہونے تک اس کا وقت ہے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:220sahih

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، - وَاسْمُهُ يَحْيَى بْنُ مَالِكٍ الأَزْدِيُّ وَيُقَالُ الْمَرَاغِيُّ وَالْمَرَاغُ حَىٌّ مِنَ الأَزْدِ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَقْتُ الظُّهْرِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَسْقُطْ ثَوْرُ الشَّفَقِ وَوَقْتُ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ وَوَقْتُ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ ‏"‏ ‏.‏

Abdullah b. 'Amr reported the Apostle (ﷺ) saying:The time of the noon prayer (lasts) as long as it is not afternoon, and the time of the afternoon prayer (lasts) as long as the sun does not turn pale and the time of the evening prayer (lasts) as long as the spreading appearance of the redness above the horizon after sunset does not sink down, and the, time of the night prayer (lasts) by midnight and the time of the morning prayer (lasts) as long as the sun dots not rise

معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعب نے قتادہ سے ، انھوں نے ابو ایوب سے حدیث سنائی ۔ ابو ایوب کا نام یحییٰ بن مالک ازدی ہے ۔ ان کو مراغی بھی کہا جاتا ہے اور مراغ قبیلہ ازدہی کی ایک شاخ ہے ۔ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ظہر کا وقت تب تک ہےجب تک عصر کا وقت شروع نہ ہو ، اور عصر کا وقت ہے جب تک سورج زرد نہ ہو ، اور مغرب کا وقت ہے جب تک شفق غروب نہ ہو ، اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے اور فجر کا وقت ہے جب تک سورج طلوع نہ ہو ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:222sahih

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الأَوْسَطِ وَوَقْتُ صَلاَةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلاَةِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَىْ شَيْطَانٍ ‏"‏ ‏.‏

Abdullah b. 'Amr reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: The time of the noon prayer is when the sun passes the meridian and a man's shadow is the same (length) as his height, (and it lasts) as long as the time for the afternoon prayer has not come; the time for the afternoon prayer is as long as the sun has not become pale; the time of the evening prayer is as long as the twilight has not ended; the time of the night prayer is up to the middle of the average night and the time of the morning prayer is from the appearance of dawn, as long as the sun has not risen; but when the sun rises, refrain from prayer for it rises between the horns of the devil

ہمام نے ہمیں حدیث بیان کی ( کہا ) : ہمیں قتادہ نے اوب ایوب سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ ظہر کا وقت ( شروع ہوتا ہے ) جب سورج ڈھل جائے اور آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو ( جانے تک ) ، جب تک عصر کا وقت نہیں ہو جاتا ( رہتا ہے ) اور عصر کا وقت ( ہے ) جب تک سورج زرد نہ ہو جائے اور مغر بکا وقت ( ہے ) جب تک سرغی غائب نے ہو جائے اور عشاء کی نماز کا وقت رات کے پہلے نصف تک ہے اور صبح کی نماز کا وقت طلوع فجر سے اس وقت تک ( ہے ) جب تک سورج طلوع نہیں ہوتا ، جب سورج طلوع ہو نے لگے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:223sahih

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَزِينٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ - عَنِ الْحَجَّاجِ، - وَهُوَ ابْنُ حَجَّاجٍ - عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ فَقَالَ ‏ "‏ وَقْتُ صَلاَةِ الْفَجْرِ مَا لَمْ يَطْلُعْ قَرْنُ الشَّمْسِ الأَوَّلُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَيَسْقُطْ قَرْنُهَا الأَوَّلُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مَا لَمْ يَسْقُطِ الشَّفَقُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏

Abdullah b. 'Amr b. al-'As reported:The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about the times of prayers. He said: The time for the morning prayer (lasts) as long as the first visible part of the rising sun does not appear and the time of the noon prayer is when the sun declines from the zenith and there is not a time for the afternoon prayer and the time for the afternoon prayer is so long as the sun does not become pale and its first visible part does not set, and the time for the evening prayer is that when the sun disappears and (it lasts) till the twilight is no more and the time for the night prayer is up to the midnight

حجاج نے جو حجاج اسلمی کے بیٹے ہیں ، قتادہ سے ، انھوں نے ابو ایوب سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے نمازوںکے اوقات کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : فجر کی نماز کا وقت اس وقت تک ہےجب تک سورج کا پہلا کنارہ نہ نکلے ، اور ظہر کا وقت ہے جب سورج آسمان کی درمیان سے مغرب کی طرف ڈھل جائے یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو جائے اور عصر کی نماز کا وقت ہے جب تک سورج زرد نہ ہو جائے اور اس کا ( غروب ہونے والا ) پہلا کنارہ ڈوبنے لگے ، اور مغرب کی نماز کا وقت تب ہے جب سورج غروب ہو جائےجو سرخی غائب ہونے تک رہتا ہے اور عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:225sahih

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَزْرَقِ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَجُلاً سَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَةِ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الْيَوْمَيْنِ فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَلَمَّا أَنْ كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِي أَمَرَهُ فَأَبْرَدَ بِالظُّهْرِ فَأَبْرَدَ بِهَا فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي كَانَ وَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ بَعْدَ مَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ وَصَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَقْتُ صَلاَتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ ‏"‏ ‏.‏

Sulaiman b. Buraida narrated it on the authority of his father that a person asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the time of prayer. Upon this he said:Pray with us these two, meaning two days. When the sun passed the meridian, he gave command to Bilal who uttered the call to prayer. Then he commanded him and pronounced Iqama for noon prayer (Then at the time of the afternoon prayer) he again commanded and Iqama for the afternoon prayer was pronounced when the sun was high, white and clear. He then commanded and Iqama for the evening prayer was pronounced, when the sun had set. He then commanded him and the Iqama for the night prayer was pronounced when the twilight had disappeared. He then commanded him and the Iqama for the morning prayer was pronounced, when the dawn had appeared. When it was the next day, he commanded him to delay the noon prayer till the extreme heat had passed and he did so, and he allowed it to be delayed till the extreme heat had passed. He observed the afternoon prayer when the sun was high, delaying it beyond the time he had previously observed it. He observed the evening prayer before the twilight had vanished; he observed the night prayer when a third of the night had passed; and he observed the dawn prayer when there was clear daylight. He (the Holy Prophet) then said: Where is the man who inquired about the time of prayer? He (the inquirer) said: Messenger of Allah, here I am. He (the Holy Prophet) said: The time for your prayer is within the limits of what you have seen

سیدنا بریدہ ؓ نے کہا : کہ نبی ﷺ سے ایک شخص نے نماز کا وقت پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم دو روز ہمارے ساتھ نماز پڑھو “ ۔ پھر جب آفتاب ڈھل گیا سیدنا بلال ؓ کو حکم دیا ، انہوں نے اذان دی ، پھر حکم دیا ، انہوں نے اقامت کہی ، پھر عصر پڑھی اور سورج بلند تھا سفید صاف پھر حکم دیا تو اقامت کہی مغرب کی جب آفتاب ڈوب گیا ، پھر حکم دیا تو اقامت کہی عشاء کی جب شفق ڈوب گئی ، پھر حکم دیا اقامت کہی فجر کی جب فجر طلوع ہوئی ، پھر جب دوسرا دن ہوا ، حکم کیا تو ظہر ٹھنڈے وقت پڑھی اور بہت ٹھنڈے وقت پڑھی اور عصر پڑھی اور سورج بلند تھا مگر روز اول سے ذرا تاخیر کی اور مغرب پڑھی شفق ڈوبنے سے پہلے اور عشاء پڑھائی تہائی رات کے بعد اور فجر پڑھی جب خوب روشنی ہو گئی ۔ پھر فرمایا : ” وہ سائل کہاں ہے جو نماز کا وقت پوچھتا تھا ؟ “ ، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں حاضر ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” یہ جو دونوں وقت تم نے دیکھا ان کے بیچ میں تمہاری نماز کا وقت ہے ۔ “

Sahih Muslim 5:226sahih

وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ فَقَالَ ‏"‏ اشْهَدْ مَعَنَا الصَّلاَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ بِغَلَسٍ فَصَلَّى الصُّبْحَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ حِينَ وَقَعَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ الْغَدَ فَنَوَّرَ بِالصُّبْحِ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ فَأَبْرَدَ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ لَمْ تُخَالِطْهَا صُفْرَةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ عِنْدَ ذَهَابِ ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ بَعْضِهِ - شَكَّ حَرَمِيٌّ - فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ ‏"‏ أَيْنَ السَّائِلُ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتَ وَقْتٌ ‏"‏ ‏.‏

Buraida narrated on the authority of his father that a man came to the Prophet (ﷺ) and asked about the times of prayer. He said:You observe with us the prayer. He commanded Bilal, and he uttered the call to prayer in the darkness of night preceding daybreak and he said the morning prayer till dawn had appeared. He then commanded him (Bilal) to call for the noon prayer when the sun had declined from the zenith. He then commanded him (Bilal) to call for the afternoon prayer when the sun was high. He then commanded him for the evening prayer when the sun had set. He then commanded him for the night prayer when the twilight had disappeared. Then on the next day he commanded him (to call for prayer) when there was light in the morning. He then commanded him (to call) for the noon prayer when the extreme heat was no more. He then commanded him for the afternoon prayer when the sun was bright and clear and yellowness did not blend with it. He then commanded him to observe the sunset prayer. He then commanded him for the night prayer when a third part of the night bad passed or a bit less than that. Harami (the narrator of this hadith) was in doubt about that part of the mentioned hadith which concerned the portion of the night. When it was dawn, he (the Holy Prophet) said: Where is the inquirer (who inquired about the times of prayer and added): Between (these two extremes) is the time for prayer

حرمی بن عمارہ نے کہا : ہمیں شعبہ نے علقمہ بن مرثد سے حدیث سنائی ، انھوں نےسلیمان بن بریدہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا آب نے فرمایا’’نمازوں میں ہمارے ساتھ موجود رہو ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دیا تو انھوں نے اندھیرے میں اذان کہی ، جب فجر طلوع ہوئی آب نے صبح کی نماز پڑھائی ، پھر جب سورج آسمان کے درمیان سے ڈھلا تو آپ نے انھیں ظہر کا حکم دیا ، پھر جب سورج ( ابھی ) اونچا تھا ، آپ نے انھیں عصر کا حکم دیا ، پھر جب سورج غروب ہوگیا تو آب نے انھیں مغرب کا حکم دیا ، پھر جب شفق نیچے چلی گئی تو انھوں نے صبح کو روشن ہونے دیا ( پھر فجر ادا کی ) ، پھر انھیں ظہر کا حکم دیا تو انھون نے اسے ٹھنڈا ہونے دیا ، پھر انھیں عصر کا حکم دیا جبکہ سورج ابھی سفید اور صاف تھا ، اس میں زردی کی کوئی آمیزش نہ تھی ، پہر انھیں شفق گر ( کر غائب ہو ) جانے سے قبل مغرب کے بارے میں حکم دیا ، پھر تہائی رات یا رات کا کچھ حصہ گزر جانے کے بعد انھیں عشاء کے بارے میں حکم دیا ۔ حرمی کو شک ہو ا ۔ پھر جب صبح ہوئی تو آپ نے پوچھا ۔ سائل کہاں ہے؟ جو تم نے دیکھا ، ان کے درمیان ( نمازوں کا ) وقت ہے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:229sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخ ْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏

Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (may peace he upon him) said:When it is very hot, say (the noon prayer) when the extreme heat passes away, for intensity of heat is from the exhalation of Hell

لیث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے ( سعید ) بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے اور انھوں حضرت ابو ہریرہ ﷺ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول لللہ ﷺنے فرمایا : ’’ جب گرمی شدید ہو جائے تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھوکونکہ گرمی کی شدت دوزخ کی لپٹوں ( گرمی کے پھیلاؤ ) میں سے ہے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:231sahih

وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، وَسَلْمَانَ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا كَانَ الْيَوْمُ الْحَارُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏. قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏. قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ ذَلِكَ

Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: When it is a hot day, (delay) the prayer till the extreme heat passes away, for the intensity of heat is from the exhalation of Hell. Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Refrain from saying (the noon prayer) till the extreme heat passes away, for the Intensity of heat is from the exhalation of Hell. Abu Huraira narrated this hadith from the Messenger of Allah (may peace be up on him) by another chain of transmitters

عمرو ( بن حارث بن یعقوب انصاری ) نے خبر دی کہ بکیر ( بن عبداللہ مخزومی ) نے انھیں بسر بن سعید اور سلیمان اغرّ سے حدیث سنائی اورانھوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب گرم دن ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں ( پڑھو ) کیونکہ گرمی کی شدت دوزخ کی لپٹوں میں سے ہے ۔ ‘ ‘ عمرو نے کہا : اور مجھے ابو یونس نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےحدیث سنائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’نماز کو ٹھنڈے وقت تک موخر کرو کیونکہ گرمی کی سختی جہنم کی گرمی کے پھیلاؤ ( لپٹوں ) میں سے ہے ۔ ‘ ‘ عمرو نے کہا : مجھے ابن شہاب نے بھی ( سعید ) بن مسیب اور ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح اوپر ہے ۔

Sahih Muslim 5:234sahih

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ مُهَاجِرًا أَبَا الْحَسَنِ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالظُّهْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَبْرِدْ أَبْرِدْ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ انْتَظِرِ انْتَظِرْ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو ذَرٍّ حَتَّى رَأَيْنَا فَىْءَ التُّلُولِ ‏.‏

Abu Dharr reported:The Mu'adhdbin (the announcer of the hour of prayer) of the Messenger of Allah (ﷺ) called for the noon prayer. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: Let it cool down, let it cool down, or he said: Wait, wait for the intensity of heat is from the exhalation of Hell. When the heat is intense, delay the prayer till it becomes cooler. Abu Dharr said: (We waited) till we saw the shadow of the mounds

حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کا مؤذن ظہر کے اذان دینے لگا تو آپ نے فرمایا : ’’ ( وقت کو ) ٹھنڈا ہونے دو ، ٹھنڈا ہونے دو ۔ ‘ ‘ یا فرمایا : انتظار کرو ، انتظار کر و ‘ ‘ ۔ اور فرمایا : ’’ بلاشبہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹوں میں سے ہے ، اس لیے جب گرمی شدید ہو جائے تو نماز ٹھنڈے وقت تک مؤخر کرو ۔ ‘ ‘ ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کا قول ہے : ( نماز میں اتنی تاخیر کی گئی ) حتی کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھا ۔

Sahih Muslim 5:236sahih

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا كَانَ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏ وَذَكَرَ ‏"‏ أَنَّ النَّارَ اشْتَكَتْ إِلَى رَبِّهَا فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ ‏"‏ ‏.‏

Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: When it is hot, make delay (in the noon prayer) till it cools down, for the intensity of beat is from the Exhalation of Hell; and he also mentioned that Hellfire complained to the Lord (about the congested atmosphere) and so it was permitted to take two exhalations during the whole year, one exhalation during the winter and one exhalation during the summer

اسود بن سفیان کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن یزید نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب گرمی ہو تو نماز ٹھنڈے وقت تک مؤخر کر کے پڑھوکیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہوتی ہے ۔ ‘ ‘ اور آپ ﷺ نے یہ ( یہ بھی ذکر فرمایا : ) ’’جہنم کی ) آگ نے اپنے رب کےحضور شکایت کی تو اللہ نےاسے سال میں دو سانس لینے کی اجازت دی : ایک سانس سردی مین اور ایک سانس گرمی میں ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:238sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَابْنِ، مَهْدِيٍّ - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، - عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ ‏.‏

Jabir b. Samura reported:The Apostle of Allah (ﷺ) used to offer the noon prayer when the sun declined

حضرت جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھلتا تھا

Sahih Muslim 5:240sahih

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَعَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ، - قَالَ عَوْنٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ يُونُسَ، وَاللَّفْظُ، لَهُ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، - قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ حَرَّ الرَّمْضَاءِ فَلَمْ يُشْكِنَا ‏.‏ قَالَ زُهَيْرٌ قُلْتُ لأَبِي إِسْحَاقَ أَفِي الظُّهْرِ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قُلْتُ أَفِي تَعْجِيلِهَا قَالَ نَعَمْ ‏.‏

Khabbab reported:We came to the Messenger of Allah (ﷺ) and we complained to the Messenger of Allah (ﷺ) about (saying prayer) on the extremely heated ground (or sand), but he paid no heed to us. Zuhair said: I asked Abu Ishaq whether it was about the noon prayer. He said: Yes. I again said whether it concerned the (offering) of the noon (prayer) in earlier hours. He said: Yes. I said: Did it concern expediting it? He said: Yes

زہیر نے کہا : ہمیں ابو اسحاق نے سعید بن وہب سے حدیث سنائی اور انھوں نے حضرت خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے ریت کی گرمی کی شکایت کی تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہ فرمایا ۔ زہیر نے کہا : میں نے ابو اسحاق سے پوچھا : کیا ظہر کے بارے میں ( شکایت کی ؟ ) انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔ میں نےکہا : کیا اس کو جلد ی پڑھنے ( کی مشقت ) کے بارے میں ؟ انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔

Sahih Muslim 5:241sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شِدَّةِ الْحَرِّ فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ جَبْهَتَهُ مِنَ الأَرْضِ بَسَطَ ثَوْبَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ ‏.‏

Anas b. Malik reported:We used to say (the noonprayer) with the Messenger of Allah (ﷺ) in the intense heat, but when someone amongst us found it hard to place his forehead on the ground, he spread his cloth and prostrated on it

حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ ہم گرمی کی شدت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ، جب ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ سکتا تو اپنا کپڑا پھیلا کر اس پر سجدہ کر لیتا

Sahih Muslim 5:246sahih

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ قَالَ أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ فَقُلْنَا لَهُ إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ ‏.‏ قَالَ فَصَلُّوا الْعَصْرَ ‏.‏ فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ تِلْكَ صَلاَةُ الْمُنَافِقِ يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَىِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا لاَ يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلاَّ قَلِيلاً ‏"‏ ‏.‏

Ala' b. 'Abd al-Rahman reported that they came to the house of Anas b. Malik in Basra after saying the noon prayer. His (Anas) house was situated by the side of the mosque. As revisited him he (Anas) said:Have you said the afternoon prayer? We said to him: It is just a few minutes before that we finished the noon prayer. He said: Offer the afternoon prayer. So we stood up and said our prayer. And when we completed it, he said: I have heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: This is how the hypocrite prays: he sits watching the sun, and when it is between the horns of devil, he rises and strikes the ground four times (in haste) mentioning Allah a little during it

علاء بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ وہ نماز ظہر سے فارغ ہو کر حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ہاں بصرہ میں ان کے گھر حاضر ہوئے ، ان کا گھر مسجد کے پہلو میں تھا ، جب ہم ان کی خدمت میں پہنچے تو انھوں نے پوچھا : کیا تم لوگوں نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے ؟ ہم نے ان سے عرض کی : ہم تو ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر لوٹے ہیں ۔ انھوں نے فرمایا : تو عصر پڑھ لو ۔ ہم نے اٹھ کر ( عصر کی ) نماز پڑھ لی ، جب ہم فارغ ہوئے تو انھوں نےکہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ’’ یہ منافق کی نماز ہے ، وہ بیٹھا ہوا سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ ( جب وہ زرد پڑ کر ) شیطان کے دو سنگوں کے درمیان چلا جاتا ہے تو کھڑا ہو کر اس ( نماز ) کی چار ٹھونگیں مار دیتا ہے اور اس میں اللہ کو بہت ہی کم یاد کرتا ہے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:247sahih

وَحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ، يَقُولُ صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَقُلْتُ يَا عَمِّ مَا هَذِهِ الصَّلاَةُ الَّتِي صَلَّيْتَ قَالَ الْعَصْرُ وَهَذِهِ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله تعالى عليه وسلم الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ ‏.‏

Abu Umama b. Sahl reported:We offered the noon prayer with Umar b. 'Abd al-'Aziz. We then set out till we came to Anas b. Malik and found him busy in saying the afternoon prayer. I said to him: O uncle! which is this prayer that you are offering? He said: It is the afternoon prayer and this is the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) that we offered along with him

حضرت ابو اامامہ بن سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بیان کرتے ہیں : ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی ، پھر ہم باہر نکلے اور انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے انھیں حاصر کی نماز پڑھتے ہوئے پایا ، میں نے پوچھا : چچا جان! یہ کون سی نماز ہےجو آپ نے پڑھی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : عصر کی ہے ، اور یہی رسول اللہ ﷺ کی نماز ہے جو ہم آپ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے ۔

Sahih Muslim 6:10sahih

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ - قَالَ - فَصَلَّى لَنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ وَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى جَاءَ رَحْلَهُ وَجَلَسَ وَجَلَسْنَا مَعَهُ فَحَانَتْ مِنْهُ الْتِفَاتَةٌ نَحْوَ حَيْثُ صَلَّى فَرَأَى نَاسًا قِيَامًا فَقَالَ مَا يَصْنَعُ هَؤُلاَءِ قُلْتُ يُسَبِّحُونَ ‏.‏ قَالَ لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا لأَتْمَمْتُ صَلاَتِي يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السَّفَرِ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ وَصَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ وَصَحِبْتُ عُمَرَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ ثُمَّ صَحِبْتُ عُثْمَانَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ ‏{‏ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ‏}‏ ‏.‏

Hafs b. 'Asim said:I accompanied Ibn 'Umar on the road to Mecca and he led us in two rak'ahs at the noon prayer, then he went forward and we too went along with him to a place where he alighted, and he sat and we sat along with him, and he cast a glance to the side where he said prayer and he saw people standing and asked: What are they doing? I said: They are engaged in glorifying Allah, offering Sunnah prayer. He said: If I had done so I would have perfected my prayer; O my nephew! I accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey, and he made no addittion to two rak'ahs, till Allah called him. I accompanied Abu Bakr and he made no addition to two rak'ahs till Allah caused him to die. I accompanied 'Umar and he made no addition to two rak'ahs till Allah caused him to die. I accompanied 'Uthman and he made no addition to two rak'ahs, till Allah caused him to die, and Allah has said:" There is a model pattern for you in the Messenger of Allah" (al-Qur'an, xxxiii)

عیسیٰ بن حضص بن عاصم بن عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد ( حفص ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے مکہ کے راستے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ سفر کیا ، انھوں نے ہمیں ظہر کی نماز دو رکعتیں پڑھائی ، پھر وہ اور ہم آگے بڑھے اور اپنی قیام گاہ پر آئے اور بیٹھ گئے ، ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ پھر اچانک ان کی توجہ اس طرف ہوئی جہاں انھوں نے نماز پڑھی تھی ، انھوں نے ( وہاں ) لوگوں کو قیام کی حالت میں دیکھاانھوں نےپوچھا ، یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟میں نے کہا : سنتیں پڑھ رہے ہیں ۔ انھوں نے کہا : اگر مجھے سنتیں پڑھنی ہوتیں تو میں نماز ( بھی ) پوری کرتا ( قصر نہ کرتا ) بھتیجے!میں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا آپ نے دو رکعت سے زائد نماز نہ پڑھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا اور میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمرا ہ رہا انھوں نے بھی دو رکعت سے زائد نماز نہ پڑھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی بلا لیا ، اور میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ رہا ، انھوں نے بھی دورکعت نما ز سے زائد نہ پڑھی ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی بلا لیا ۔ پھر میں عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو سے زائد رکعتیں نہیں پڑھیں ، یہا ں تک کہ اللہ نے انھیں بلا لیا اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : " بے شک تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے عمل ) میں بہترین نمونہ ہے ۔

Sahih Muslim 6:12sahih

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏

Anas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said four rak'ahs in the noon prayer while at Medina, but he offered two rak'ahs in the afternoon prayer at Dhu'l-Hulaifa

ابو قلابہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کی چار رکعات پڑھیں اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں پڑھیں ۔

Sahih Muslim 6:13sahih

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏

Anas b. Malik is reported to have said:I observed four rak'ahs in the noon prayer with the Messenger of Allah (ﷺ) at Medina, and said two rak'ahs in the afternoon prayer at Dhu'l-Hulaifa

محمد بن منکدر اور ابراہیم بن میسرہ دونوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں ظہر کی چار رکعات پڑھیں اور آ پ کے ساتھ ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں پڑھیں ۔

Sahih Muslim 6:56sahih

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، - يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ - عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ ‏.‏

Anas b. Malik reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) set out on a journey before the sun declined (from the meridian), he delayed the noon prayer till the afternoon prayer, and then dismounted (his ride) and combined them (noon and afternoon prayers), but if the sun had declined before his setting out on a journey, he observed the noon prayer and then mounted (the ride)

مفضل بن فضالہ نے عقیل سے ، انھوں نے ابن شہاب سے اور انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو اس وقت تک موخر فرماتے کہ عصر کا وقت ہوجاتا ، پھر آپ ( سواری سے ) اترتے ، دونوں نمازوں کوجمع کرتے ، اور اگر آپ کے کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ کر سوار ہوتے ۔

Sahih Muslim 6:57sahih

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ الْمَدَايِنِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي السَّفَرِ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا ‏.‏

Anas reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) intended to combine two prayers on a journey, he delayed the noon prayer till came the early time of the afternoon prayer, and then combined the two

لیس بن سعد نے عقیل بن خالد سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جب دو نمازوں کو جمع کرنا چاہتے توظہر کو موخر کرتے حتیٰ کہ عصر کا اول وقت ہوجاتا ، پھر آپ دونوں نمازوں کو جمع کرتے ۔

Sahih Muslim 6:58sahih

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذَا عَجِلَ عَلَيْهِ السَّفَرُ يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ إِلَى أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ ‏.‏

Anas reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) had to set out on a journey hurriedly, he delayed the noon prayer to the earlier time for the afternoon prayer, and then he would combine them, and he would delay the sunset prayer to the time when the twilight would disappear and then combine it with the 'Isha' prayer

جابر بن اسماعیل نے بھی عقیل بن خالد سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے اول وقت تک موخر کردیتے ، پھر دونوں کو جمع کرلیتے اور مغرب کو موخر کرتے اور عشاء کے ساتھ اکٹھا کرکے پڑھتے جب شفق غائب ہوجاتی ۔

Sahih Muslim 6:59sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلاَ سَفَرٍ ‏.‏

Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) observed the noon and afternoon prayers together, and the sunset and Isha' prayers together without being in a state of fear or in a state of journey

امام مالک ؒ نے ابو زبیر سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کو اکھٹا پڑھا اور مغرب اور عشاء کو اکھٹا پڑھا کسی خوف اور سفر کے بغیر ۔

Sahih Muslim 6:60sahih

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَعَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ، جَمِيعًا عَنْ زُهَيْرٍ، - قَالَ ابْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، - حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلاَ سَفَرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ فَسَأَلْتُ سَعِيدًا لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ كَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ أَرَادَ أَنْ لاَ يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ ‏.‏

Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) observed the noon and afternoon prayers together in Medina without being in a state of fear or in a state of journey. (Abu Zubair said: I asked Sa'id [one of the narrators] why he did that. He said: I asked Ibn 'Abbas as you have asked me, and he replied that he [the Holy Prophet] wanted that no one among his Ummah should be put to [unnecessary] hardship

زہیر نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے سعید بن جبیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کو مدینہ میں کسی خوف اور سفر کے بغیر جمع کرکے پڑھا ۔ ابوزبیر نے کہا : میں نے ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد ) سعید سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ؤ نے ایسا کیوں کیاتھا؟انھوں نےجواب دیا : میں بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوا ل کیاتھا جیسے تم نے مجھ سے سوال کیا ہے تو انھوں نے کہا : آپ نے چاہا کہ اپنی امت کےکسی فرد کو تنگی اور دشواری میں نہ ڈالیں ۔

Sahih Muslim 6:61sahih

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا قُرَّةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاَةِ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ‏.‏ قَالَ سَعِيدٌ فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لاَ يُحْرِجَ أُمَّتَهُ ‏.‏

Ibn 'Abbas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) combined the prayers as he set on a journey in the expedition to Tabuk. He combined the noon prayer with the afternoon prayer and the sunset prayer with the 'Isha' prayer. Sa'id (one of the rawis) said to Ibn 'Abbas:What prompted him to do this? He said: He wanted that his Ummah should not be put to (unnecessary) hardship

قزہ بن خالد نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے حدیث بیا ن کی ، کہا : ہمیں سعید بن جبیر نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیا ن کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے دوران ایک سفر میں نمازوں کو جمع کیا ، ظہراورعصر کو اکھٹا پڑھا اور مغرب اور عشاء کو اکھٹا پڑھا ۔ سعید نے کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟انھوں نے کہا : آپ نے چاہا اپنی امت کو حرج ( اور تنگی ) میں نہ ڈالیں ۔

Sahih Muslim 6:62sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَامِرٍ عَنْ مُعَاذٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ‏.‏

Mu'adh reported:We set out with the Messenger of Allah (ﷺ) on the Tabuk expedition, and he observed the noon and afternoon prayers together and the sunset and 'Isha' prayers together

زہیر نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے ابو طفیل عامر سے حدیث سنائی اور انھوں نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ہم غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ( اس دوران میں ) آپ ظہر اور عصر اکھٹی پڑھتے رہے اور مغرب اور عشاء کو جمع کرتے رہے ۔

Sahih Muslim 6:63sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ أَبُو الطُّفَيْلِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ أَرَادَ أَنْ لاَ يُحْرِجَ أُمَّتَهُ ‏.‏

Mu'adh b. Jabal reported:The Messenger of Allah (ﷺ) combined in the expedition to Tabuk the noon prayer with the afternoon prayer and the sunset prayer with the 'Isha' prayer. He (one of the narrators) said: What prompted him to do that? He (Mu'adh) replied that he (the Holy Prophet) wanted that his Ummah should not be put to (unnecessary) hardship

قرہ بن خالد نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے حدیث بیا ن کی ، کہا : ہمیں عامر بن واثلہ ابو طفیل نے حدیث بیا ن کی ، کہا : ہمیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر ، عصر کو اور مغرب ، عشاء کو جمع کیا ۔ ( عامر بن واثلہ نے ) کہا : میں نے ( حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ) پوچھا : آپ نے ایسا کیوں کیا؟تو انھوں نے کہا : آپ نے چاہا کہ اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں ۔

Sahih Muslim 6:64sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلاَ مَطَرٍ ‏.‏ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ قَالَ كَىْ لاَ يُحْرِجَ أُمَّتَهُ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ قِيلَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لاَ يُحْرِجَ أُمَّتَهُ ‏.‏

Ibn 'Abbas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) combined the noon prayer with the afternoon prayer and the sunset prayer with the 'Isha' prayer in Medina without being in a state of danger or rainfall. And in the hadith transmitted by Waki' (the words are):" I said to Ibn 'Abbas: What prompted him to do that? He said: So that his (Prophet's) Ummah should not be put to (unnecessary) hardship." And in the hadith transmitted by Mu'awiya (the words are):" It was said to Ibn 'Abbas: What did he intend thereby? He said he wanted that his Ummah should not be put to unnecessary hardship

ابو معاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے روایت کی ، انھوں نے حبیب بن ثابت سے انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر ، عصر اور مغرب ، عشاء کو مدینہ میں کسی خوف اور بارش کے بغیر جمع کیا ۔ وکیع کی روایت میں ہے ( سعید نے ) کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے کہا : تاکہ اپنی امت کو دشواری میں مبتلا نہ کریں اور ابو معاویہ کی حدیث میں ہے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا چاہتے ہوئے ایسا کیا؟انھوں نے کہا : آپ نے چاہا اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں ۔

Sahih Muslim 6:128sahih

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ الظُّهْرِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَهَا سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْعِشَاءِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْجُمُعَةِ سَجْدَتَيْنِ فَأَمَّا الْمَغْرِبُ وَالْعِشَاءُ وَالْجُمُعَةُ فَصَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِهِ ‏.‏

Ibn 'Umar reported:I prayed along with Allah's Messenger (ﷺ) two rak'ahs before and two rak'ahs after the noon prayer, two rak'ahs after the sunset prayer and two rak'ahs after the 'Isha' prayer and two rak'ahs after the Friday prayer; and so far as the sunset, 'Isha' and Friday prayers are concerned, I observed (them) along with the Messenger of Allah (ﷺ) in his house

حضرت ابن عمر سے رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہےلے دورکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں اور مغرب کے بعد دورکعتیں اور عشاء کے بعد دورکعتیں اور جمعے کے بعد دو رکعتیں ادا کیں ۔ جہاں تک مغرب ، عشاء اور جمعے ( کی سنتوں ) کا تعلق ہے ، وہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں پڑھیں ۔

Sahih Muslim 6:129sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ تَطَوُّعِهِ فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّي فِي بَيْتِي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَيُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ وَيَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلاً طَوِيلاً قَائِمًا وَلَيْلاً طَوِيلاً قَاعِدًا وَكَانَ إِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ‏.‏

Abdullah b. Shaqiq said:I asked 'A'isha about the Messenger of Allah's (ﷺ) voluntary prayers, and she replied: Before the noon prayer, he used to pray four rak'ahs in my house; then would go out and lead the people in prayer; then come in and pray two rak'ahs. He would then lead the people in the sunset prayer; then come in and pray two rak'ahs. Then he would lead the people in the 'Isha' prayer, and enter my house and pray two rak'ahs. He would pray nine rak'ahs during the night, including Witr. At night he would pray for a long time standing and for a long time sitting, and when he recited the Holy Qur'an while standing, he would bow and prostrate himself from the standing position, and when he recited while sitting, he would bow and prostrate himself from the sitting position, and when it was dawn he would pray two rak'ahs

خالد نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، انھوں نے کہا ، میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں سوال کیا؟تو انھوں نے جوابدیا : آپ میرے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے ، پھر ( گھر سے ) نکلتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے ، پھر گھر واپس آتے اور دو رکعتیں ادا فرماتے ۔ اور آپ لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھاتے پھر گھر آتے اور دو رکعت نماز پڑھتے ، اور لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھاتے اور میرے گھر آتے اور دو رکعتیں پڑھتے ، ان میں وتر شامل ہوتے ، اور طویل رات کھڑے ہوکر اور طویل ر ات بیٹھ کر نماز ادا کرتے اور جب کھڑے ہوکر قراءت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہوکر کرتے اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ کر کرتے اور جب فجر طلوع ہوتی تو دو رکعتیں پڑھتے ۔

Sahih Muslim 6:174sahih

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَىْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلاَةِ الْفَجْرِ وَصَلاَةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏

Umar b. Khattab reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Should anyone fall asleep and fail to recite his portion of the Qur'an, or a part of it, if he recites it between the dawn prayer and the noon prayer, it will be recorded for him as though he had recited it during the night

عبدالرحمان بن عبدالقاری سے روایت ہے ، کہا : میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کسی کا حزب ( قرآن کا 1/7 ) حصہ جو عموما ایک رات میں تہجد کے دوران میں پڑھا جاتا تھا ) یا اس کا کچھ حصہ سوتے رہ جانے کی وجہ سے رہ گیا اور اس نے اسے نماز فجر اور نمازظہر کے درمیان پڑھ لیا تو اس کے حق میں یہ لکھا جائےگا ، جیسے اس نے رات ہی کو اسے پڑھا ۔

Sahih Muslim 6:374sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَوْمًا مِنْ جُهَيْنَةَ فَقَاتَلُونَا قِتَالاً شَدِيدًا فَلَمَّا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ قَالَ الْمُشْرِكُونَ لَوْ مِلْنَا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً لاَقْتَطَعْنَاهُمْ ‏.‏ فَأَخْبَرَ جِبْرِيلُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَلِكَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - وَقَالُوا إِنَّهُ سَتَأْتِيهِمْ صَلاَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنَ الأَوْلاَدِ فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ - قَالَ - صَفَّنَا صَفَّيْنِ وَالْمُشْرِكُونَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ - قَالَ - فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَبَّرْنَا وَرَكَعَ فَرَكَعْنَا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الأَوَّلُ فَلَمَّا قَامُوا سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الأَوَّلُ وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الثَّانِي فَقَامُوا مَقَامَ الأَوَّلِ فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَبَّرْنَا وَرَكَعَ فَرَكَعْنَا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الأَوَّلُ وَقَامَ الثَّانِي فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا سَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ ثُمَّ خَصَّ جَابِرٌ أَنْ قَالَ كَمَا يُصَلِّي أُمَرَاؤُكُمْ هَؤُلاَءِ ‏.‏

Jabir reported:We fought In the company of the Messenger of Allah (ﷺ) with the tribe of Juhaina. They fought with us terribly. When we had finished the noon prayer, the polytheists said: Had we attacked them at once. we would have killed them. Gabriel informed the Messenger of Allah (ﷺ) about It (about their evil design). The Messenger of Allah (ﷺ) made a mention of it to us, adding that they (the polytheists) had also said: Shortly there would be time for the 'Asr prayer. which is dearer o them (the Muslims) than even their children. So when the time of the 'Asr prayer came. we formed ourselves into two rows, while the polytheists were between us and the Qibla. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah is Most Great, and we also said so. He bowed and we also bowed. He went down in prostration and the first row prostrated along with him. When they stood up, the second row went down in prostration. Then the first row went into the rear, and the second row came in the front and occupied the place of the first row. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: Allah is Most Great, and we also said so. He then bowed, and we also bowed. He then went down in prostration and along with him the row also (went down in prostration), and the second row remained standing. And when the second row had also prostrated and all of them sat down then the Messenger of Allah (ﷺ) pronounced salutation to them. Abu Zubair said: Jabir made a mention specially of this thing: just as your chiefs observe prayer

ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا؛ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہینہ قبیلے کے لوگوں سے جنگ لڑی ، انھوں نے ہمارے ساتھ بڑی شدیدجنگ کی جب ہم نے ظہر کی نماز پڑھی تو مشرکوں نے کہا : اگر ہم ان پر یکبارگی حملہ کریں تو ان کو کاٹ کررکھ دیں ۔ جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے آگاہ کردیا اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان لوگوں نے کہا ہے کہ ابھی ان کی ایک ایسی نماز کا وقت آنےوالاہے جو ان کو ان کی اولاد سے بھی زیادہ پیاری ہے ۔ جب عصرکا وقت آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری دو صفیں بنائیں جبکہ مشرک ہمارے اور ہمارے قبیلے کے درمیان تھے ۔ کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی اور ہم نے بھی تکبیر کہی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم نے بھی رکوع کیا ، پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف نے بھی سجدہ کیا ۔ جب یہ حضرات کھڑے ہوگئے تو دوسر ی صف والوں نے سجدے کیے ، پھر پہلی صف پیچھے چلی گئی اور دوسری آگے بڑھ گئی اور پہلی صف کی جگہ کھڑی ہوگئی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور ہم نے بھی تکبیرکہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم نے بھی رکوع کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( موجودہ ) پہلی صف نے سجدہ کیا اور دوسری کھڑی رہی ۔ پھر جب دوسری صف نے سجدے کرلیے اور اس کے بعد سب بیٹھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے ساتھ سلام پھیرا ۔ ابو زبیر نے کہا : پھر حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خصوصی طور پر فرمایا : جس طرح تمہارے یہ امیر نماز پڑھتے ہیں ۔

Sahih Muslim 12:89sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي قَالاَ، جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَدْرَ النَّهَارِ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُعَاذٍ مِنَ الزِّيَادَةِ قَالَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ خَطَبَ ‏.‏

This hadith has been narrated on the authority of Mandhir through another chain of transmitters. And the hadith transmitted by Ibn Mu'adh contains an addition:" He then observed the noon prayer and then gave the sermon

ابو اسامہ اور معاذ عنبری دو نوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیا ن کی ، ا نھوں نے کہا مجھے عون بن ابی جحیفہ نے حدیث بیا ن کی انھوں نے کہا : میں منذر بن جریر سے سنا انھوں نے اپنے والد سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم دن کے ابتدا ئی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( حا ضر ) تھے ۔ ۔ ۔ ( آگے ابن جعفر کی حدیث کی طرح ہے ۔ اور ابن معاذ کی حدیث میں اضافہ ہے ، کہا : پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا فرمائی ، پھر خطبہ دیا ۔)

Sahih Muslim 15:369sahih

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى ‏.‏ قَالَ نَافِعٌ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفِيضُ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي الظُّهْرَ بِمِنًى وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَعَلَهُ ‏.‏

Ibn Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) observed the circumambulation of Ifada on the Day of Nabr (10th of Dhu'l-Hijja), and then came back and observed the noon prayer at Mina. Nafi' (one of the narrators) said that Ibn Umar used to observe the circumambulation of Ifada on the Day of Nahr, and then return and observe the noon prayer at Mina, and mentioned that Allah's Apostle (ﷺ) did that

نا فع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قر بانی کے دن طواف افاضہ کیا ۔ پھر واپس آکر ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی ۔ نافع نے کہا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قربانی کے دن طواف افاضہ کرتے پھر واپس آتے ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کرتے اور بیان کیا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا ۔

Sahih Muslim 15:370sahih

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ شَىْءٍ، عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ قَالَ بِمِنًى ‏.‏ قُلْتُ فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ قَالَ بِالأَبْطَحِ - ثُمَّ قَالَ - افْعَلْ مَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ ‏.‏

Abd al-'Aziz b. Rufai' (Allah be pleased with him) said:I asked Anas b. Malik to tell me about something he knew about Allah's Messenger (ﷺ), viz. where he observed the noon prayer on Yaum al-Tarwiya. He said: At Mina. I said: Where did he observe the afternoon prayer on the Yaum an-Nafr? and he said: It was at al-Abtah. He then said: Do as your rulers do

عبد العزیز بن رفیع سے روایت ہے انھوں نے کہا میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا میں نے کہا : مجھے ایسی چیز بتا یئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی ہو ( اور یاد رکھی ہو ) آپ نے تر ویہ کے دن ( آٹھ ذوالحجہ کو ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی ؟ انھوں نے بتا یا منیٰ میں ۔ میں نے پو چھا : آپ نے ( منیٰ سے ) واپسی کے دن عصر کی نماز کہاں ادا کی ؟انھوں نے کہا اَبطح میں ۔ پھر کہا ( لیکن تم ) اسی طرح کرو جیسے تمھا رے امراء کرتے ہیں ۔

Sahih Muslim 15:372sahih

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَرَى التَّحْصِيبَ سُنَّةً وَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ يَوْمَ النَّفْرِ بِالْحَصْبَةِ ‏.‏ قَالَ نَافِعٌ قَدْ حَصَّبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ ‏.‏

Nafi' reported that Ibn 'Umar regarded halt at Muhassab as Sunnah (of the Holy Prophet) and observed the noon prayer on Yaum al-Nafr at that place. Nafi' said:Allah's Messenger (ﷺ) halted at Muhassab and the Caliphs did the same after him

صخر بن جو یریہ نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضر ت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ محصب میں پڑاؤ کرنے کو سنت سمجھتے تھے اور وہ روانگی کے دن ظہر کی نماز حصبہ ( محصب ) میں ادا کرتے تھے ۔ نافع نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفاء نے وادی محصب میں قیام کیا ۔

Sahih Muslim 43:10sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، - وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ، عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَكَانَ يَجْمَعُ الصَّلاَةَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمًا أَخَّرَ الصَّلاَةَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ ذَلِكَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يُضْحِيَ النَّهَارُ فَمَنْ جَاءَهَا مِنْكُمْ فَلاَ يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ ‏"‏ ‏.‏ فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلاَنِ وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَىْءٍ مِنْ مَاءٍ - قَالَ - فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالاَ نَعَمْ ‏.‏ فَسَبَّهُمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ - قَالَ - ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنَ الْعَيْنِ قَلِيلاً قَلِيلاً حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَىْءٍ - قَالَ - وَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهِ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ أَوْ قَالَ غَزِيرٍ - شَكَّ أَبُو عَلِيٍّ أَيُّهُمَا قَالَ - حَتَّى اسْتَقَى النَّاسُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَى مَا هَا هُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا ‏"‏ ‏.‏

Mu'adh b. Jabal reported that he went along with Allah's Apostle (ﷺ) in the expedition of Tabuk and he (the Holy Prophet) combined the prayers. He offered the noon and afternoon prayers together and the sunset and night prayers together and on the other day he deferred the prayers; he then came out and offered the noon and afternoon prayers together. He then went in and (later on) came out and then after that offered the sunset and night prayers together and then said:God willing, you would reach by tomorrow the fountain of Tabuk and you should not come to that until it is dawn, and he who amongst you happens to go there should not touch its water until I come. We came to that and two persons (amongst) us reached that fountain ahead of us. It was a thin flow of water like the shoelace. Allah's Messenger (ﷺ) asked them whether they had touched the water. They said: Yes. Allah's Apostle (ﷺ) scolded them, and he said to them what he had to say by the will of God. The people then took water of the fountain in their palms until it became somewhat significant and Allah's Messenger (ﷺ) washed his hands and his face too in it, and then, took it again in that (fountain) and there gushed forth abundant water from that fountain, until all the people drank to their fill. He then said: Mu'adh, it is likely that if you live long that you see what is here filled with gardens

ہمیں ابو علی حنفی نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں مالک بن انس نے ابو زبیر مکی سے حدیث بیان کی کہ ابو طفیل عامر بن واثلہ نے انھیں خبردی ، انھیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا ، کہا : کہ ہم غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس سال نکلے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں دو نمازوں کو جمع کرتے تھے ۔ پس ظہر اور عصر دونوں ملا کر پڑھیں اور مغرب اور عشاء ملا کر پڑھیں ۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دیر کی ۔ پھر نکلے اور ظہر اور عصر ملا کر پڑھیں پھر اندر چلے گئے ۔ پھر اس کے بعد نکلے تو مغرب اور عشاء ملا کر پڑھیں اس کے بعد فرمایا کہ کل تم لوگ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تبوک کے چشمے پر پہنچو گے اور دن نکلنے سے پہلے نہیں پہنچ سکو گے اور جو کوئی تم میں سے اس چشمے کے پاس جائے ، تو اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے جب تک میں نہ آؤں ۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ہم اس چشمے پر پہنچے اور ہم سے پہلے وہاں دو آدمی پہنچ گئے تھے ۔ چشمہ کے پانی کا یہ حال تھا کہ جوتی کے تسمہ کے برابر ہو گا ، وہ بھی آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں آدمیوں سے پوچھا کہ تم نے اس کے پانی میں ہاتھ لگایا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا کہا ( اس لئے کہ انہوں نے حکم کے خلاف کیا تھا ) اور اللہ تعالیٰ کو جو منظور تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سنایا ۔ پھر لوگوں نے چلوؤں سے تھوڑا تھوڑا پانی ایک برتن میں جمع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اور منہ اس میں دھویا ، پھر وہ پانی اس چشمہ میں ڈال دیا تو وہ چشمہ جوش مار کر بہنے لگا اور لوگوں نے ( اپنے جانوروں اور آدمیوں کو ) پانی پلانا شروع کیا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے معاذ! اگر تیری زندگی رہی تو تو دیکھے گا کہ یہاں جو جگہ ہے وہ گھنے باغات سے لہلہااٹھے گی ۔

Sahih Muslim 43:179sahih

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ، وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى لَهُمْ صَلاَةَ الظُّهْرِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ السَّاعَةَ وَذَكَرَ أَنَّ قَبْلَهَا أُمُورًا عِظَامًا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَنِي عَنْ شَىْءٍ فَلْيَسْأَلْنِي عَنْهُ فَوَاللَّهِ لاَ تَسْأَلُونَنِي عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَأَكْثَرَ النَّاسُ الْبُكَاءَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَقُولَ ‏"‏ سَلُونِي ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ فَقَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ أَبُوكَ حُذَافَةُ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا أَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَنْ يَقُولَ ‏"‏ سَلُونِي ‏"‏ ‏.‏ بَرَكَ عُمَرُ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً - قَالَ - فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَوْلَى وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَىَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ قَالَتْ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ مَا سَمِعْتُ بِابْنٍ قَطُّ أَعَقَّ مِنْكَ أَأَمِنْتَ أَنْ تَكُونَ أُمُّكَ قَدْ قَارَفَتْ بَعْضَ مَا تُقَارِفُ نِسَاءُ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ فَتَفْضَحَهَا عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ وَاللَّهِ لَوْ أَلْحَقَنِي بِعَبْدٍ أَسْوَدَ لَلَحِقْتُهُ ‏.‏

Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (may peace be upon him stood when the sun had passed the meridian and he led them noon prayer and after observing salutations (completing the prayer) he stood upon the pulpit and talked about the Last Hour and made a mention of the important facts prior to it and then said:He who desires to ask anything from me let him ask me about it. By Allah, I shall not move from this place so long as I do not inform you about that which you ask. Anas b. Malik said: People began to shed tears profusely when they heard this from Allah's Messenger (ﷺ) and Allah's Messenger (ﷺ) said it repeatedly: You ask me. Thereupon 'Abdullah b. Hudhafa stood up and said: Allah's Messenger, who is my father? He said: Your father is Hudhafa, and Allah's Messenger (ﷺ) said repeatedly: Ask me, and (it was at this juncture that 'Umar knelt down and said): We are well pleased with Allah as our Lord, with Islam as our code of life and with Muhammad as the Messenger (of Allah). Allah's Messenger (ﷺ) kept quiet so long as 'Umar spoke. Then Allah's Messenger (ﷺ) said: (The Doom) is near; by Him, in Whose Hand is the life of Muhammad, there was presented to me the Paradise and Hell in the nook of this enclosure, and I did not see good and evil like that of the present day. Ibn Shihab reported: Ubaidullah b. 'Abdullah b. 'Utba told me that the mother of 'Abdullah b. Hudhafa told 'Abdullah b. Hudhafa: I have never heard of a son more disobedient than you. Do you feel yourself immune from the fact that your mother committed a sin which the women in the pre-Islamic period committed and then you disgrace her in the eyes of the people? 'Abdullah b. Hudhafa said: If my fatherhood were to be attributed to a black slave I would have connected myself with him

یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ ( ایک دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد باہر تشریف لائے اور انھیں ظہر کی نماز پڑھائی ، جب آ پ نے سلام پھیرا تو منبر پر کھڑے ہوئے اور قیامت کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس سے پہلے بہت بڑے بڑے امور وقوع پزیر ہوں گے ، پھر فرمایا : "" جو شخص ( ان میں سے ) کسی چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہے تو سوا ل کرلے ۔ اللہ کی قسم!میں جب تک اس جگہ کھڑا ہوں ، تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کروگے میں تمھیں اس کے بارے میں بتاؤں گا ۔ "" حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا اور آپ نے بار بار کہنا شروع کردیا : "" مجھ سے پوچھو "" تو لوگ بہت روئے ، اتنے میں عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میرا باپ کون تھا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تمھارا باپ حذافہ تھا ۔ "" پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ بار "" مجھ سے پوچھو "" فرمانا شروع کیا ( اور پتہ چل گیا کہ آپ غصے میں کہہ رہے ہیں ) توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور کہنے لگے : ہم اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں ۔ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت اختیار فرمالیا ۔ کہا : اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اچھا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے!ابھی ابھی اس دیوار کی چوڑائی کے اندرجنت اور دوزخ کو میرے سامنے پیش کیا گیا تو خیر اورشر کے بارے میں جو میں نے آج دیکھا ، کبھی نہیں دیکھا ۔ "" ابن شہاب نے کہا : عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے بتایاکہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کی یہ بات سن کر ان ) کی والدہ نے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : میں نے کبھی نہیں سنا کہ کوئی بیٹا تم سے زیادہ والدین کا حق پامال کرنے والا ہو ۔ کیا تم خود کو اس بات سے محفوظ سمجھتے تھے کہ ہوسکتا ہے تمہاری ماں سے بھی کوئی ایسا کام ہوگیا ہو کہ جو اہل جاہلیت کی عورتوں سے ہوجاتا تھا تو تم اس طرح ( سوال کرکے ) سب لوگوں کے سامنے اپنی ماں کو رسوا کردیتے؟عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم!اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرا نسب کسی حبشی غلام سے بھی ملا دیتے تو میں اسی کی ولدیت اختیار کرلیتا ۔

Sahih Muslim 54:33sahih

وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، - قَالَ حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، - أَخْبَرَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، حَدَّثَنِي أَبُو زَيْدٍ، - يَعْنِي عَمْرَو بْنَ أَخْطَبَ - قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْفَجْرَ وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ فَنَزَلَ فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَأَخْبَرَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا ‏.‏

Abu Zaid (viz. Amr b. Akhtab) reported:Allah's Messenger (ﷺ) led us in the dawn prayer and then mounted the pulpit and addressed us until it was (time for the) noon prayer. He then came down the pulpit and observed prayer and then again mounted the pulpit and again addressed us until it was time for the 'Asr prayer. He then again came down and observed the prayer and again mounted the pulpit and addressed us until the sun was set and he informed (about) everything (pertaining to turmoil) that lay hidden in the past and what lies in (the womb) of) the future and the most learned amongst us is one who remembers them well

علباء بن احمر نے کہا : حضرت ابو زید عمرو بن اخطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے بیان کیا کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہوئے تو ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا آپ ( منبرسے ) اترے ہمیں نماز پڑھائی پھر دوبارہ منبر پر رونق افروز ہوئے اور ( آگے ) خطبہ ارشاد فرمایا : یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہوگیا پھر آپ اترے نماز پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ۔ آپ نے جو کچھ ہوا اور جو ہونے والاتھا ( سب ) ہمیں بتادیا ہم میں سے زیادہ جاننے والا وہی ہے جو یا دواشت میں دوسروں سے بڑھ کر ہے ۔

A detailed scholarly analysis for this topic is not yet available. Get in touch to request one.