event

Dawn Prayer

Salat al-Fajr, the Dawn Prayer, holds a very special place in the hearts of Muslims worldwide. It is the first of the five daily obligatory prayers, marking the spiritual beginning of a new day. Performed just before sunrise, from the appearance of true dawn, Fajr invites believers to connect with their Creator in the tranquility and quietude before the world fully awakens. This unique timing is highlighted in the Quran, urging us to [establish prayer at the declining of the sun until the darkness of the night and [also] the Quran of dawn. Indeed, the recitation of dawn is ever witnessed]. This verse suggests a profound spiritual presence during this time, often understood as angels witnessing the prayer. Observing Fajr requires discipline and commitment, but it offers immense blessings and a sense of peace that sets a positive tone for the entire day. It's a beautiful opportunity to [glorify Allah when you reach the evening and when you reach the morning], starting the day with remembrance and gratitude. This prayer reminds us that [indeed, prayer has been decreed upon the believers a timed ordinance], emphasizing its importance and fixed times in our daily lives.

Hadith 53 traditions

Sahih Muslim 4:228sahih

حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ الأَشْجَعِيُّ أَبُو أَحْمَدَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ، مَوْلَى آلِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْفَجْرَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ ‏{‏ فَلاَ أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ * الْجَوَارِ الْكُنَّسِ‏}‏ وَكَانَ لاَ يَحْنِي رَجُلٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَسْتَتِمَّ سَاجِدًا ‏.‏

Amr b. Huraith reported:I said the dawn prayer behind the Apostle of (ﷺ) and heard him reciting: 'Nay. I call to witness the stars, running their courses and setting" (al-Qur'an, lxxxi. 15-16) and Done of us bent his back till he completed prostration

حضرت عمرو بن حریث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرمﷺ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی تو میں نے آپ کو ﴿فلا أقسم بالخنس0 الجوار الكنس﴾ ’’میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے ، سیدھے چلنے ، دبک جانے والے ( ستاروں ) کی ‘ ‘ پڑھتے ہوئے سنا اور ہم میں سے کوئی آدمی اپنی پشت نہیں جھکاتا تھا حتیٰ کہ آپ پوری طرح سجدے میں چلے جاتے تھے ۔

Sahih Muslim 5:208sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، وَعَنِ الأَعْرَجِ، حَدَّثُوهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ ‏"‏ ‏

Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who finds one rak'ah at dawn before the rising of the sun, he in fact finds the dawn prayer. and he who finds one rak'ah of the afternoon prayer before sunset, he in fact finds the afternoon prayer

امام مالک نےزید بن اسلم سے روایت کی ، انھیں عطاء بن یسار ، بسربن سعید اور اعرج نے حدیث بیان کی ، ان سب نےحضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے سورج نکلنے سے پہلے صبح کی ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے صبح ( کی نماز ) پالی اورجس نے سورج کے غروب ہونے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے عصر ( کی نماز ) پالی ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:210sahih

وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح قَالَ وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، - وَالسِّيَاقُ لِحَرْمَلَةَ - قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ سَجْدَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَوْ مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ فَقَدْ أَدْرَكَهَا ‏"‏ ‏.‏ وَالسَّجْدَةُ إِنَّمَا هِيَ الرَّكْعَةُ ‏.‏

A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who finds a prostration before sunset or at dawn (prayer) before the rising (of the sun) he in fact finds that (prayer), and prostration implies a rak'ah

معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے ، اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اسی طرح روایت کی جس طرح امام مالک نے زید بن اسلم سے روایت کی ۔

Sahih Muslim 5:211sahih

وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْفَجْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ ‏"‏ ‏.‏

Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who finds (gets) a rak'ah of the afternoon (prayer) before the setting of the sun, he in fact gets (the full prayer), and he who gets a rak'ah of the morning (prayer) before the rising of the sun he in fact gets (the full prayer)

عبداللہ بن مبارک نے معمر سے ، انھوں نے ابن طاوس سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ( عبداللہ ) بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے سورج کے غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز میں سے ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے ( نماز ) پالی اور جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے ( نماز ) پالی ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:219sahih

حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا صَلَّيْتُمُ الْفَجْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ قَرْنُ الشَّمْسِ الأَوَّلُ ثُمَّ إِذَا صَلَّيْتُمُ الظُّهْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَحْضُرَ الْعَصْرُ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْمَغْرِبَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَسْقُطَ الشَّفَقُ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏

It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that the Prophet (ﷺ) said:"When you pray Fajr, its time is until the first part of the sun appears. When you pray Zuhr, its time is until 'Asr comes. When you pray 'Asr, its time is until the sun turns yellow. When you pray Maghrib, its time is until the twilight has disappeared. When you pray 'Isha, its time is until half of the night has passed

معاذ بن ہشام نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے ابو ایوب سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےروایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’جب تم فجر کی نماز پڑھو تو سورج کاپہلا کنارہ نمودار ہونے تک اس کا وقت ہے ، پھر جب تم ظہر پڑھو تو عصر ہونے تک اس کا وقت ہے اور جب تم عصر پڑھو تو سورج کے زرد ہونے تک اس کا وقت ہے اور جب تم مغرب پڑھو تو شفق ( سرخی ) کے ختم ہونے تک اس کا وقت ہے اور جب تم عشاء پڑھو تو آدھی رات ہونے تک اس کا وقت ہے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:358sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ كَثِيرًا كَانَ لاَ يَقُومُ مِنْ مُصَلاَّهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ أَوِ الْغَدَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ ‏.‏

Simak b. Harb reported:I said to Jabir b. Samura: Did you sit in the company of the Messenger of Allah (may peace he upon him)? He said: Yes, very often. He (the Holy Prophet) used to sit at the place where he observed the morning or dawn prayer till the sun rose or when it had risen; he would stand, and they (his Companions) would talk about matters (pertaining to the days) of ignorance, and they would laugh (on these matters) while (the Holy Prophet) only smiled

ابو حثیمہ نے سماک بن حرب سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ، کہا : میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مجالس میں شریک ہوتے تھے؟ کہا : ہاں! بہت ۔ آپ جس جگہ صبح یا دن کے ابتدائی حصے کی نماز ادا فرماتے ، سورج طلوع ہونے تک وہاں سے نہ اٹھتے ۔ جب سورج طلوع ہو جاتا تو اٹھ کھڑے ہوتے ، لوگ دور جاہلیت میں کیے کاموں کے متعلق باتیں کرتے اور ہنستے تھے اور آپ ( بھی ان کی باتیں سن کر ) مسکراتے تھے ۔

Sahih Muslim 5:359sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، كِلاَهُمَا عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ جَلَسَ فِي مُصَلاَّهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسَنًا ‏.‏

Simak narrated on the authority of Jabir b. Samura that when the Messenger of Allah (ﷺ) observed the dawn prayer, he sat at the place of worship till the sun had risen enough

سفیان اور زکریا دونوں نے سماک سے اور انھوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ جب فجر پڑھتے تھے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے حتی کہ سورج اچھی طرح نکل آتا ۔

Sahih Muslim 5:373sahih

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ صَلاَةِ الْفَجْرِ مِنَ الْقِرَاءَةِ وَيُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ ‏"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ ‏"‏ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ اللَّهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ وَرِعْلاً وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ بَلَغَنَا أَنَّهُ تَرَكَ ذَلِكَ لَمَّا أُنْزِلَ ‏{‏ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ‏}‏ ‏.‏

Abu Salama b. Abd al-Rahman b. 'Auf heard Abu Huraira say:(When) Allah's Messenger (ﷺ) (wished to invoke curse or blessing on someone, he would do so at the end) of the recitation in the dawn prayer, when he had pronounced Allah-o-Akbar (for bending) and then lifted his head (saying):" Allah listened to him who praised Him; our Lord! to Thee is all praise" ; he would then stand up and say:" Rescue al-Walid b. Walid, Salama b. Hisham, and 'Ayyash b. Abd Rabi'a, and the helpless among the Muslims. O Allah! trample severely Mudar and cause them a famine (which broke out at the time) of Joseph. O Allah! curse Lihyan, Ri'l, Dhakwan, 'Usayya, for they disobeyed Allah and His Messenger." (The narrator then adds): The news reached us that he abandoned (this) when this verse was revealed:" Thou but no concern in the matter whether He turns to them (mercifully) or chastises them; surely they are wrongdoers" (ill)

یونس بن یزید نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ، کہا : مجھے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمان بن عوف نے بتایا کہ ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز فجر کی قراءت سے فارغ ہوتے اور ( رکوع میں جانے کے لیے ) تکبیر کہتے تو سر اٹھانے کے بعد سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد ( اللہ نے سن لیا جس نے اس کی حمد کی ، اے ہمارے رب! اور ٰحمدتیرے ہی لیے ہے ) کہتے ، پھر حالت قیام ہی میں آپ فرماتے : ‘ ‘ اے اللہ!ولید بن ولید ، سلمہ بن ہشام ، عیاش بن ابی ربیعہ اور مومنوں میں سے ان لوگوں کو جنھیں ( کافروں نے ) کمزور پایا ، نجات عطا فرما ۔ اے اللہ!قبیلہ مضر پر اپنے روندنے کو سخت کر ، ان پر اپنے اس مؤاخذے کو یوسف علیہ السلام کے زمانے کے قحط کی طرح کر د ۔ اے اللہ! الحیان ، رعل ، ذکوان اور عصیہ پر ، جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ، لعنت نازل کر ۔ ’’پھر ہم تک یہ بات پہنچی کہ اس کے بعد جب آپ پر یہ آیت اتری : ‘ ‘ آپ کا اس معاملے سے کوئی سروکار نہیں ، ( اللہ تعالیٰ ) چاہے ان کو توبہ کا موقع عطا کرے ، چاہے ان کو عذاب دے کہ و ہ یقینا ظلم کرنے والے ہیں’’ تو آپ نے یہ دعا چھوڑ دی ۔

Sahih Muslim 5:377sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ وَاللَّهِ لأُقَرِّبَنَّ بِكُمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِي الظُّهْرِ وَالْعِشَاءِ الآخِرَةِ وَصَلاَةِ الصُّبْحِ وَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكُفَّارَ ‏.‏

Abu Salama b. 'Abd al-Rahman is reported to have said that he had heard Abu Huraira saying:I would say prayer along with you which is near to the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). and Abu Huraira recited Qunut in the noon and in the 'Isya' and in the morning prayer, and invoked blessing (of Allah) upon Muslims-and curse upon the unbelievers

ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : اللہ کی قسم! ضرور رسول اللہ ﷺ کی نماز کو تم لوگوں کے بہت قریب کروں گا ، اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ظہر ، عشاء اور صبح کی نماز میں قنوت کرتے اور مسلمانوں کے حق میں ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے

Sahih Muslim 5:378sahih

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوا أَصْحَابَ بِئْرِ مَعُونَةَ ثَلاَثِينَ صَبَاحًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَلِحْيَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الَّذِينَ قُتِلُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قُرْآنًا قَرَأْنَاهُ حَتَّى نُسِخَ بَعْدُ أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَرَضِينَا عَنْهُ ‏.‏

Anas b. Malik reported that the Messenger of Allah (ﷺ) invoked curse in the morning (prayer) for thirty days upon those who killed the Companions (of the Holy Prophet) at Bi'r Ma'una. He cursed (the tribes) of Ri'l, Dhakwan, Lihyan, and Usayya, who had disobeyed Allah and His Messenger (ﷺ). Anas said:Allah the Exalted and Great revealed (a verse) regarding those who were killed at Bi'r Ma'una, and we recited it, till it was abrogated later on (and the verse was like this):, convey to it our people the tidings that we have met our Lord, and He was pleased with us and we were pleased with Him

اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کے خلاف کنھوں نے بئر معونہ والوں کو قتل کیا تھا ، تیس ( دن تک ) صبح ( کی نمازوں ) میں بدعا کی ۔ آپ نے رعل ، ذکوان ، لحیان اور عصیہ کے خلاف ، جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ، بد دعا کی ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ نے ان لوگوں کے متعلق جو بئر معونہ پر قتل ہوئے ، قرآن ( کا کچھ حصہ ) نازل فرمایا جو بعد میں منسوخ ہو نے تک ہم پڑھتے رہے ( اس میں شہداء کا پیغام تھا ) کہ ہماری قوم کو بتا دیں کہ ہم اپنے رب سے جا ملے ہیں ، وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہم اس سے راضی ہیں ۔

Sahih Muslim 5:379sahih

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ قُلْتُ لأَنَسٍ هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ قَالَ نَعَمْ بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا ‏.‏

Muhammad reported:I asked Anas whether the Messenger of Allah (ﷺ) observed Qunut in the dawn prayer. He said: Yes, (he did so) after the ruku', for a short while

محمد ( بن سیرین ) سے روایت ہے ، کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ نے ( کبھی ) صبح کی نماز میں قنو ت کی تھی؟ کہا : ہاں ، رکوع سے تھوڑی دیر بعد ۔

Sahih Muslim 5:380sahih

وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ مُعَاذٍ - حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَيَقُولُ ‏ "‏ عُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏"‏ ‏.‏

Anas b. Malik reported:The Messenger of Allah (ﷺ) observed Qunut for a month in the dawn prayer after ruku' and invoked curse upon Ri'l, Dhakwan, and said that 'Usayya had disobeyed Allah and His Apostle (ﷺ)

ابو مجلز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کو کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے تک صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت کی ، آپ رعل اور ذکوان کے خلاف بددعا فرماتے تھے اور کہتے تھے : ‘ ‘ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔ ’’

Sahih Muslim 5:381sahih

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ يَدْعُو عَلَى بَنِي عُصَيَّةَ ‏.‏

Anas b. Malik reported that the Messenger of Allah (ﷺ) observed Qunut for a month in the dawn prayer after ruku' and invoked curse upon Bani Usayya

انس بن سیرین نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے تک نماز فجر میں رکوع کے بعد قنوت کی ، آپ بنو عصیہ کے خلاف بددعا کرتے رہے

Sahih Muslim 6:79sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِرَجُلٍ يُصَلِّي وَقَدْ أُقِيمَتْ صَلاَةُ الصُّبْحِ فَكَلَّمَهُ بِشَىْءٍ لاَ نَدْرِي مَا هُوَ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا أَحَطْنَا نَقُولُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ لِي ‏ "‏ يُوشِكُ أَنْ يُصَلِّيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ أَرْبَعًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَالِكٍ ابْنُ بُحَيْنَةَ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمٌ وَقَوْلُهُ عَنْ أَبِيهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ خَطَأٌ ‏.‏

Abdullah b. Malik b. Buhaina reported:The Messenger of Allah (ﷺ) happened to pass by a person who was busy in praying while the (Fard of the) dawn prayer had commenced. He said something to him, which we do not know what it was. When we turned back we surrounded him and said: What is it that the Messenger of Allah (ﷺ) said to you? He replied: He (the Holy Prophet) had said to me that he perceived as if one of them was about to observe four (rak'ahs) of the dawn prayer. Qa'nabi reported that 'Abdullah b. Malik b. Buhaina narrated it on the authority of his father. (Abu'l-Husain Muslim said): His assertion that he has narrated this hadith on the authority of his father is not correct

عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا ہمیں ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے حدیث سنائی ۔ انھوں نے حفص بن عاصم سے اور ا نھوں نے عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہاتھا جب صبح کی نماز کے لئے اقامت کہی جاچکی تھی آپ نے کسی چیز کے بارے میں اس سے گفتگو فرمائی ہم نہ جان سکے کہ وہ کیا تھی جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے اسے گھیرلیا ہم پوچھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا؟اس نے بتایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" لگتا ہے کہ تم میں سے کوئی صبح کی چار رکعات پڑھنے لگے گا ۔ "" قعنبی نے کہا : عبداللہ بن مالک ابن بحینہ نے رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی ۔ ابو الحسین مسلم ؒ ( مولف کتاب ) نے کہا : قعنبی کا اس حدیث میں "" عَنْ أَبِيهِ "" ( والد سے روایت کی ) کہنا درست نہیں ۔ ( عبداللہ کے والد صحابی مالک صحابی تو ہیں لیکن ان سے کوئی حدیث مروی نہیں)

Sahih Muslim 6:80sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ أُقِيمَتْ صَلاَةُ الصُّبْحِ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يُصَلِّي وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ فَقَالَ ‏ "‏ أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا ‏"‏ ‏.‏

Ibn Buhaina reported:The dawn prayer had commenced when the Messen- ger of Allah (ﷺ) saw a person observing prayer, whereas the Mu'adhdhin had pronounced the Iqama. Upon this he (the Holy Prophet) remarked: Do you say four (rak'ahs) of Fard in the dawn prayer?

ابو عوانہ نے سعد بن ابراہیم سے ، انہوں نے حفص بن عاصم سے ، اورانہوں نے حضرت ( عبداللہ ) ابن بحینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : صبح کی نماز کی اقامت ( شروع ) ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا جبکہ موذن اقامت کہہ رہا ہے تو آپ نے فرمایا : " کیا تم صبح کی چار رکعتیں پڑھو گے؟

Sahih Muslim 6:81sahih

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةِ الْغَدَاةِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَا فُلاَنُ بِأَىِّ الصَّلاَتَيْنِ اعْتَدَدْتَ أَبِصَلاَتِكَ وَحْدَكَ أَمْ بِصَلاَتِكَ مَعَنَا ‏"‏ ‏.‏

Abdullah b. Sarjis reported:A person entered the mosque, while the Messenger of Allah (ﷺ) was leading the dawn prayer. He observed two rak'ahs in a corner of the mosque, and then joined the Messenger of Allah (ﷺ) in prayer. When the Messenger of Allah (ﷺ) had pronounced salutations (he had concluded the prayer), he said: O, so and so, which one out of these two prayers did you count (as your Fard prayer), the one that you observed alone or the prayer that you observed with us?

حضرت عبداللہ بن سرجس ( المزنی حلیف بنی مخزوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : ایک آدمی مسجد میں آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے ، اس نے مسجد کے ایک کونے میں دو رکعتیں پڑھیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہوگیا ، جب ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا : " اے فلاں! تو نے دو نمازوں میں سے کون سی نماز کو شمار کیا ہے؟اپنی اس نماز کو جو تم نے اکیلے پڑھی ہے یا اس کو جو ہمارے ساتھ پڑھی ہے؟

Sahih Muslim 6:106sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الأَذَانِ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ وَبَدَا الصُّبْحُ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلاَةُ ‏.‏

Ibn 'Umar reported that Hafsa, the Mother of the Believers, informed him that when the Mu'adhdhin became silent after calling (people) to the dawn prayer, the Messenger of Allah (ﷺ) commenced the dawn (prayer) when it dawned by observing two short rak'ahs before the commencement of the (Fard) prayer

امام مالک ؒ نے نافع سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں بتایاکہ جب موذن صبح کی اذان کہہ کر خاموش ہوجاتا اور صبح ظاہر ہوجاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی اقامت سے پہلے دو مختصر رکعتیں پڑھتے ۔

Sahih Muslim 6:108sahih

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ لاَ يُصَلِّي إِلاَّ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ‏.‏

Hafsa reported that when it was dawn, the Messenger of Allah (ﷺ) did not observe (any other prayers) but two short rak'ahs

محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے زید بن محمد سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : میں نے نافع سے سنا ، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے تھے اور وہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت بیان کررہے تھے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : جب فجر طلوع ہوجاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو مختصر رکعتوں کے سوا کوئی نماز نہ پڑھتے تھے ۔

Sahih Muslim 6:113sahih

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالإِقَامَةِ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ ‏.‏

A'isha reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to observe two (supererogatory) rak'ahs in between the call to prayer and the Iqama of the dawn prayer

ابو سلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔

Sahih Muslim 6:114sahih

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَةَ، تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ فَيُخَفِّفُ حَتَّى إِنِّي أَقُولُ هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ‏.‏

A'isha reported that the Messenger of Allah (ﷺ) observed two rak'ahs of the dawn prayer and he shortened them (to the extent) that I (out of surprise) said:Did he recite in them Surah Fatiha (only)?

یحییٰ بن سعید نے کہا : مجھے محمد بن عبدالرحمان نے بتایا کہ انھوں نے عمرہ کوحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی ( سنت ) دورکعتیں پڑھتے اور ان کو اتنا ہلکا پڑھتے کہ میں ( دل میں ) کہتی تھی : کیا آپ نے ان میں فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں؟ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم عموما فاتحہ بھی بہت ٹھر ٹھر کر پڑھتے تھے ۔)

Sahih Muslim 6:116sahih

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَكُنْ عَلَى شَىْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ ‏.‏

A'isha reported that the Apostle (ﷺ) was not so much particular about observing supererogatory rak'ahs as in case of the two rak'ahs of the dawn prayer

یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عطاء بن عبید بن عمیر سے حدیث سنائی اور ا نھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےروایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں سے کسی اور ( نماز ) کی اتنی زیادہ پاسداری نہیں کرتے تھے جتنی آپ صبح سے پہلے کی دو رکعتوں کی کرتے تھے ۔

Sahih Muslim 6:117sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شَىْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَسْرَعَ مِنْهُ إِلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ‏.‏

A'isha reported:I have never seen the Messenger of Allah (ﷺ) hastening as much in observing supererogatory as two rak'ahs before the (Fard) of the dawn prayer

حفص نے ابن جریج سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی نفل ( کی ادائیگی ) کے لئے اسقدر جلدی کرتے نہیں دیکھاجتنی جلدی آپ نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کے لئے کرتے تھے ۔

Sahih Muslim 6:120sahih

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَزِيدَ، - هُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ فِي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ ‏{‏ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ‏}‏ وَ ‏{‏ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ‏}‏

Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) recited in the two (supererogatory) rak'ahs of the dawn (prayer):" Say: O unbelievers," (Qur'an, cix.) and" Say: Allah is one" (cxii)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دو رکعتوں میں ( قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُ‌ونَ ) اور ( قُلْ هُوَ اللہ أَحَدٌ ) تلاوت کیں ۔

Sahih Muslim 6:121sahih

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ، - يَعْنِي مَرْوَانَ بْنَ مُعَاوِيَةَ - عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ فِي الأُولَى مِنْهُمَا ‏{‏ قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا‏}‏ الآيَةَ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ وَفِي الآخِرَةِ مِنْهُمَا ‏{‏ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ‏}‏

Ibn 'Abbas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in first of the two (supererogatory) rak'ahs of the dawn:"Say: We believed in Allah and what was revealed to us..." verse 136 from Surah Baqara, and in the second of the two: "I believe in Allah and I bear testimony that we are Muslims" (iii)

مروان بن معاویہ فزاری نے عثمان بن حکیم انصاری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے سعید بن یسار نے بتایا کہ انھیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبردی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں میں سے پہلی میں ( قرآن مجید سے آیت ) ( قُولُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا ) ( والاحصہ ) پڑھتے جو سورہ بقرہ کی آیت ہے اور دوسری میں ( آل عمران کی آیت ) ( آمَنَّا بِاللہ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ) ( والا حصہ ) پڑھتے ۔

Sahih Muslim 6:122sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ ‏{‏ قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا‏}‏ وَالَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ ‏{‏ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ‏}‏

Ibn 'Abbas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in the two (supererogatory) rak'ahs of the dawn prayer:" Say: We believed in Allah and what was revealed to us" and that which is found in Surah Al-i-'lmran:" Come to that word (creed) which is common between you and us" (iii)

ابو خالد احمر نے عثمان بن حکیم سے ، انھوں نے سعید بن یسار سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں میں ( قرآن مجید میں سے ) ( قُولُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا ) ( والا حصہ ) اور جو سورہ آل عمران میں ہے ( تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ) ( والاحصہ ) پڑھا کرتے تھے ۔

Sahih Muslim 6:147sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ‏.‏

A'isha reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray eleven rak'ahs at night, observing the Witr with a single rak'ah, and when he had finished them, he lay down on his right side, till the Mu'adhdhin came to him and he (the Holy Prophet) then observed two short rak'ahs (of Sunan of the dawn prayer)

مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عروہ سے ، اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کوگیارہ رکعت پڑھتے تھے ، ان میں سے ایک کے ذریعے وتر ادا فرماتے ، جب آپ اس ( ایک رکعت ) سے فارغ ہوجاتے تو آپ اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جاتے یہاں تک کہ آپ کے پاس موذن آجاتا تو آپ دو ( نسبتاً ) ہلکی رکعتیں پڑھتے ۔

Sahih Muslim 0:0sahih

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلاَةِ الْعِشَاءِ - وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ - إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلاَةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ وَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلإِقَامَةِ ‏.‏ وَحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَسَاقَ حَرْمَلَةُ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ وَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ الإِقَامَةَ ‏.‏ وَسَائِرُ الْحَدِيثِ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرٍو سَوَاءً ‏.‏

A'isha, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), said that between the time when the Messenger of Allah (ﷺ) finished the 'Isha' prayer which is called 'Atama by the people, he used to pray eleven rak'ahs, uttering the salutation at the end of every two rak'ahs, and observing the Witr with a single one. And when the Mu'adhdhin had finished the call (for the) dawn prayer and he saw the dawn clearly and the Mu'adhdhin had come to him, he stood up and prayed two short rak'ahs. Then he lay down on his right side till the Mu'adhdhin came to him for lqama. (This hadith has been narrated with the same chain of transmitters by Ibn Shihab, but in it no mention has been made of Iqama)

عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے جس کو لوگ عتمہ کہتے ہیں فراغت کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھتے تھے ۔ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور وتر ایک رکعت پڑھتے ۔ جب موذن صبح کی نماز کی اذان کہہ کر خاموش ہوجاتا آپ کے سامنے صبح واضح ہوجاتی ۔ اور موذن آپ کے پاس آجاتا تو آپ اٹھ کر دو ہلکی رکعتیں پڑھتےپھر اپنے داہنے پہلو کے بل لیٹ جاتے حتیٰ کہ موذن آپ کے پاس اقامت ( کی اطلاع دینے ) کے لئے آجاتا ۔

Sahih Muslim 6:151sahih

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَىِ الْفَجْرِ ‏.‏

A'isha reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray thirteen rak'ahs during the night including the two rak'ahs (Sunan) of the dawn prayer

عروہ بن مالک نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں سمیت تیرہ ر کعتیں پڑھا کرتے تھے ۔

Sahih Muslim 6:153sahih

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّي ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي ثَمَانَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ يُوتِرُ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالإِقَامَةِ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ ‏.‏

Abu Salama asked 'A'isha about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) She said:He observed thirteen rak'ahs (in the night prayer). He observed eight rak'ahs and would then observe Witr and then observe two rak'ahs sitting, and when he wanted to bow he stood up and then bowed down, and then observed two rak'ahs in between the Adhan and lqama of the dawn prayer

ہشام نے یحییٰ سے اور انھوں نے ابو سلمہ سے ر وایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سوا ل کیا تو انھوں نے کہا آپ تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ، آٹھ رکعتیں پڑھتے پھر ( ایک رکعت سے ) وتر ادا فرماتے ، پھر بیٹھے ہوئے دو رکعتیں پڑھتے ، پھر جب رکوع کرنا چاہتے تو اٹھ کھڑے ہوتے اور رکوع کرتے ، پھر صبح کی نماز کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے ۔ ( کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تہجد اور وتر کی ترتیب یہ بن جاتی تھی)

Sahih Muslim 6:155sahih

وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَىْ أُمَّهْ أَخْبِرِينِي عَنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَتْ كَانَتْ صَلاَتُهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِاللَّيْلِ مِنْهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ ‏.‏

Abu Salama is reported to have said. I came to 'A'isha. I said:O mother, inform me about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). She said: His (night prayer) in Ramadan and (during other months) was thirteen rak'ahs at night including two rak'ahs of fajr

عبداللہ بن ابی لبید سے روایت ہے کہ انھوں نے ابو سلمہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : اے میری ماں!مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتایئے ۔ تو انھوں نے کہا : رمضان اور غیر رمضان میں رات کے وقت آپ کی نماز تیرہ رکعتیں تھی ، ان میں فجر کی ( سنت ) دو کعتیں بھی شامل تھیں ۔

Sahih Muslim 6:156sahih

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ عَشَرَ رَكَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِسَجْدَةٍ وَيَرْكَعُ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ فَتِلْكَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ‏.‏

It is reported on the authority of 'A'isha that the prayer of Allah's Messenger (ﷺ) in the night consisted of ten rak'ahs. He observed a Witr and two rak'ahs (of Sunan) of the dawn prayer, and thus the total comes to thirteen rak'ahs

قاسم بن محمد سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، فرمارہی تھی : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز دس رکعتیں تھی اور آپ ایک رکعت وتر ادا کرتے ، پھر فجر کی ( سنتیں ) دو رکعت پڑھتے ۔ اس طرح یہ تیرہ رکعتیں ہوئیں ۔

Sahih Muslim 6:161sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي وَإِلاَّ اضْطَجَعَ ‏.‏

A'isha reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) had prayed the two rak'ahs (Sunan) of the dawn prayer, he would talk to me if I was awake, otherwise he would lie down

ابو نضر نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی سنتیں پڑھ لیتے تو اگر میں جاگتی ہوتی میرے ساتھ گفتگو فرماتے ، ورنہ لیٹ جاتے ۔

Sahih Muslim 6:174sahih

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَىْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلاَةِ الْفَجْرِ وَصَلاَةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏

Umar b. Khattab reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Should anyone fall asleep and fail to recite his portion of the Qur'an, or a part of it, if he recites it between the dawn prayer and the noon prayer, it will be recorded for him as though he had recited it during the night

عبدالرحمان بن عبدالقاری سے روایت ہے ، کہا : میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کسی کا حزب ( قرآن کا 1/7 ) حصہ جو عموما ایک رات میں تہجد کے دوران میں پڑھا جاتا تھا ) یا اس کا کچھ حصہ سوتے رہ جانے کی وجہ سے رہ گیا اور اس نے اسے نماز فجر اور نمازظہر کے درمیان پڑھ لیا تو اس کے حق میں یہ لکھا جائےگا ، جیسے اس نے رات ہی کو اسے پڑھا ۔

Sahih Muslim 6:190sahih

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ أَرَأَيْتَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الْغَدَاةِ أَأُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ - قَالَ - قُلْتُ إِنِّي لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ ‏.‏ قَالَ إِنَّكَ لَضَخْمٌ أَلاَ تَدَعُنِي أَسْتَقْرِئُ لَكَ الْحَدِيثَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ كَأَنَّ الأَذَانَ بِأُذُنَيْهِ ‏.‏ قَالَ خَلَفٌ أَرَأَيْتَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ وَلَمْ يَذْكُرْ صَلاَةِ ‏.‏

Anas b. Sirin reported:I asked Ibn 'Umar to tell me about the practice of the Prophet (ﷺ) in regard to two rak'ahs before the dawn prayer: Should I make lengthy recitation in them? He said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to observe, the night prayer in pairs and then made the number odd by observing one rak'ah. I said: I am not asking you about it. He said: You are a bulky man, will you not show me the patience to narrate to you the hadith completely? The Messenger of Allah (ﷺ) used to observe the night prayer in pairs and then made the number odd by observing one rak'ah, and then he observed two rak'ahs before dawn quite close to the call for prayer (Khalaf said:" Did you see [yourself the Prophet observing] the two rak'ahs before the dawn?" and he made no mention of prayer

خلف بن ہشام اور ابوکامل نے کہا : ہمیں حماد بن زیدنے انس بن سیرن سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی : صبح کی نماز سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ، کیا میں ان میں طویل قراءت کرسکتا ہوں؟انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور ایک رکعت سے اس کو وتر بناتے ، میں نے کہا : میں آپ سے اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا ۔ انھوں نے کہا : تم ایک بوجھل آدمی ہو ( اپنی سوچ کو ترجیح دیتے ہو ) کیا مجھے موقع نہ دو گے کہ میں تمہارے لئے بات کو مکمل کروں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور ایک وتر پڑھتے اور صبح ( کی نماز ) سے پہلے ( مختصر سی ) دو رکعتیں پڑھتے ، گویا کہ اذان ( اقامت ) آ پ کے کانوں میں ( سنائی دے رہی ) ہے ۔ خلف نے اپنی حدیث میں "" صبح سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟کہا اور انھوں نے "" صلاۃ "" کا لفظ بیان نہیں کیا ۔

Sahih Muslim 6:339sahih

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الأَحْدَبُ، عَنْ أَبِي، وَائِلٍ قَالَ غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَوْمًا بَعْدَ مَا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ فَسَلَّمْنَا بِالْبَابِ فَأَذِنَ لَنَا - قَالَ - فَمَكَثْنَا بِالْبَابِ هُنَيَّةً - قَالَ - فَخَرَجَتِ الْجَارِيَةُ فَقَالَتْ أَلاَ تَدْخُلُونَ فَدَخَلْنَا فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ يُسَبِّحُ فَقَالَ مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا وَقَدْ أُذِنَ لَكُمْ فَقُلْنَا لاَ إِلاَّ أَنَّا ظَنَنَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْبَيْتِ نَائِمٌ ‏.‏ قَالَ ظَنَنْتُمْ بِآلِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ غَفْلَةً قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّى ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ فَقَالَ يَا جَارِيَةُ انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ قَالَ فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ لَمْ تَطْلُعْ فَأَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ قَالَ يَا جَارِيَةُ انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ قَدْ طَلَعَتْ ‏.‏ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا - فَقَالَ مَهْدِيٌّ وَأَحْسِبُهُ قَالَ - وَلَمْ يُهْلِكْنَا بِذُنُوبِنَا - قَالَ - فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ كُلَّهُ - قَالَ - فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ إِنَّا لَقَدْ سَمِعْنَا الْقَرَائِنَ وَإِنِّي لأَحْفَظُ الْقَرَائِنَ الَّتِي كَانَ يَقْرَؤُهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِنَ الْمُفَصَّلِ وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم

Abu Wa'il reported:One day we went to 'Abdullah b. Mas'ud after we had observed the dawn prayer and we paid salutation at the door. He permitted us to enter, but we stayed for a while at the door, when the slave-girl came out and said: Why don't you come in? So we went in and (we found 'Abdullah b. Mas'ud) sitting and glorifying Allah (i. e. he was busy in dhikr) and he said: What obstructed you from coming in though you had been granted permission for it? We said: There was nothing (behind it) but we entertained the idea that some inmate of the house might be sleeping. He said: Do you presume any idleness on the part of the family of Ibn Umm 'Abd (the mother of Abdullah b. Mas'ud)? He was again busy with the glorification of Allah till he thought that the sun had risen. He said: Girl, see whether (the sun) has arisen. She glanced but it had not risen (by that time). He was again busy with the glorification (of Allah) and he (again) thought that the sun had arisen. She glanced (and confirmed) that, it had risen. Upon this he ('Abdullah b. Mas'ud) said: Praise be to Allah Who did not call us to account for our sins today. Mahdi said: I think that he said, He did not destroy us for our sins. One among the people said: I recited all the mufassal surahs during the night. 'Abdullah said: (You must have recited them) like the (recitation) of poetry. I heard (the Holy Prophet) combining (the sarahs) and I remember the combinations which the Messenger of Allah (ﷺ) made In the recitation (of surahs). These were constituted of eighteen mufassal surahs and two surahs (commencing with) Ha-Mim

مہدی بن میمون نے کہا : واصل حدب نے ہمیں ابو وائل سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ایک دن ہم صبح کی نماز پڑھنے کے بعدحضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے دروازے سے ( انھیں ) سلام عرض کیا ، انھوں نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دی ، ہم کچھ دیر دروازے پر رکے رہے ، اتنے میں ایک بچی نکلی اور کہنے لگی : کیا آپ لوگ اندر نہیں آئیں گے؟ ہم اندر چلے گئے اور وہ بیٹھے تسبیحات پڑھ رہے تھے ، انھوں نے پوچھا : جب آپ لوگوں کو اجازت دے دی گئی تو پھر آنے میں کیارکاوٹ تھی؟ہم نے عرض کی : نہیں ( رکاوٹ نہیں تھی ) ، البتہ ہم نے سوچا ( کہ شاید ) گھر کے بعض افراد سوئے ہوئے ہوں ۔ انھوں نے فرمایا : تم نے ابن ام عبد کے گھر والوں کے متعلق غفلت کا گمان کیا؟ پھر دوبارہ تسبحات میں مشغول ہوگئے حتیٰ کہ انھوں نے محسوس کیا کہ سورج نکل آیا ہوگا تو فرمایا : اے بچی!دیکھو تو! کیا سورج نکل آیا ہے؟اس نے دیکھا ، ابھی سورج نہیں نکلا تھا ، وہ پھر تسبیح کی طرف متوجہ ہوگئے حتیٰ کہ پھر جب انھوں نے محسوس کیا کہ سورج طلوع ہوگیا ہے تو کہا اے لڑکی!دیکھو کیاسورج طلوع ہوگیا ہے اس نے د یکھا تو سورج طلوع ہوچکا تھا ، انھوں نے فرمایا : اللہ کی حمد جس نے ہمیں یہ دن لوٹا دیا ۔ مہدی نے کہا : میرے خیال میں انھوں نے یہ بھی کہا ۔ ۔ ۔ اور ہمارے گناہوں کی پاداش میں ہمیں ہلاک نہیں کیا ۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : میں نے کل رات تمام مفصل سورتوں کی تلاوت کی ، اس پر عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : تیزی سے ، جس طرح شعر تیز پڑھے جاتے ہیں؟ہم نے باہم ملا کر پڑھی جانے والی سورتوں کی سماعت کی ہے ۔ اور مجھے وہ دو دو سورتیں یاد ہیں جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھےمفصل میں سے اٹھارہ سورتیں اور دوسورتیں حمٰ والی ۔

Sahih Muslim 6:348sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ‏.‏

Abu Huraira is reported to have said that the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited to observe prayer after the 'Asr prayer till the sun is set, and after the dawn till the sun rises

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سورج غروب ہو نے تک نماز پڑھنے سے منع فر ما یا ۔ اور صبح کے بعد سورج طلوع ہو نے تک نماز سے منع فر ما یا ۔

Sahih Muslim 6:349sahih

وَحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ، - قَالَ دَاوُدُ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، - أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ غَيْرَ، وَاحِدٍ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَكَانَ أَحَبَّهُمْ إِلَىَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ‏.‏

Ibn 'Abbas reported:I heard it from so many Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) and one among them is 'Umar b. Khattab, and he is most dear to me among them that the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited observing of prayer after the dawn prayer till the sun rose and after the 'Asr till the sun set

منصور نے قتادہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : ہمیں ابو عالیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سے زیادہ ساتھیوں سے سنا ہے ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل ہیں اور وہ مجھے ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہو نے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہو نے تک نماز پڑھنے سے منع فر ما یا ہے ۔

Sahih Muslim 6:351sahih

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ صَلاَةَ بَعْدَ صَلاَةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلاَ صَلاَةَ بَعْدَ صَلاَةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ‏"‏ ‏.‏

Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:No prayer is valid after the 'Asr prayer till the sun sets and no prayer is valid after the dawn prayer till the sun rises

عطاء بن یزید لیثی نے خبر دی کہ انھوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نماز عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے اور نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجائے ۔

Sahih Muslim 7:84sahih

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ‏{‏ الم * تَنْزِيلُ‏}‏ وَ ‏{‏ هَلْ أَتَى‏}‏

Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in the dawn prayer on Friday" Alif-Lam-Mim, Tanzil" and" Surely there came

سفیان نے سعد بن ابراہیم سے ، انہوں نے عبدالرحمان اعرج سے ، انھوں نے ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ جمعے کے دن فجر کی نماز میں الم ﴿﴾ تَنزِيلُ الْكِتَابِ اور هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنسَانِ پڑھتے تھے ۔

Sahih Muslim 7:85sahih

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏.‏ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِـ ‏{‏ الم * تَنْزِيلُ‏}‏ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى وَفِي الثَّانِيَةِ ‏{‏ هَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا‏}‏

Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in the dawn prayer on Friday:" Alif-Lam-Mim, Tanzil" in the first rak'ah, and in the second one:" Surely there came over the man a time when he was nothing that could be mentioned

۔ ابراہیم بن سعد نے اپنے والد ( سعد بن ابراہیم ) سے ، انھوں نے عبدالرحمان اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن صبح کی نماز کی پہلی رکعت میں الم ﴿﴾ تَنزِيلُ الْكِتَابِ اور دوسری رکعت میں هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ‌لَمْ يَكُن شَيْئًا مَّذْكُورً‌ا پڑھتے تھے ۔ ۔

Sahih Muslim 15:218sahih

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، الْبَرَّاءِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ فَقَدِمَ لأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَصَلَّى الصُّبْحَ وَقَالَ لَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ ‏ "‏ مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً ‏"‏ ‏.‏

Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) 'is reported to have said:The Messenger of Allah (ﷺ) put on Ihigm for Hajj. When four days of Dhu'l-Hijja were over, he led the dawn prayer, and when the prayer was complete, he said: He who wants to change it to Umra may do so

نصر بن علی جحضمی نے ہمیں حدیث سنائی ، ( کہا : ) میرے والد نے ہمیں حدیث سنائی ، ( کہا : ) شعبہ نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے ایوب سے ، انھوں نے ابو عالیہ براء سے روایت کی ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کاتلبیہ پکارا اور چار ذوالحجہ کو تشریف لائے اور فجر کی نماز ادا کی ، جب نماز فجر ادا کرچکے تو فرمایا : " جو ( اپنے حج کو ) عمرہ بنانا چاہے ، وہ اسے عمرہ بنا لے ۔

Sahih Muslim 15:250sahih

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَاتَ بِذِي طَوًى حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ سَعِيدٍ حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى أَوْ قَالَ حَتَّى أَصْبَحَ ‏.‏

Ibn Umar (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger may peace be upon him) spent the night at Dhi Tuwa till it was dawn and then entered Mecca. 'Abdullah (b. 'Umar) himself did like it. And in the narration transmitted by Ibn Sa'ld (the words are):Until he obrerved the dawn prayer. Yahya (another narrator) said: Until it was dawn

زہیر بن حرب اور عبید اللہ بن سعید نے مجھے حدیث سنا ئی ۔ دونوں نے کہا : ہمیں یحییٰ القطان نے حدیث بیان کی انھوں نے عبید اللہ سے روایت کی ، ( کہا ) مجھے نافع ذی طویٰ مقام پر رات گزاری کہ صبح کر لی ۔ پھر مکہ میں دا خل ہوئے ۔ ( نافع نے ) کہا : حضرت عبد اللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ) ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔ ابن سعید کی روایت میں ہے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کر لی ۔ یحییٰ نے کہا : یا ( عبید اللہ نے ) کہا تھا : حتی کہ صبح کر لی ۔

Sahih Muslim 15:252sahih

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ، - يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْزِلُ بِذِي طَوًى وَيَبِيتُ بِهِ حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ وَلَكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ ‏.‏

Abdullah (b. 'Umar) reported that whenever Allah's Messenger (ﷺ) entered Mecca, he got down at Dhi Tuwa and spend the night there until he observed the dawn prayer. And Allah's Messenger (ﷺ) observed this prayer on a rough hillock, and not in the mosque which had been then built there, but to the lower side of it (the mosque) on a hillock

انس یعنی ابن عیاض نے موسیٰ بن عقبہ سے انھوں نے نافع سے روایت کی کہ عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے انھیں حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لا تے تو پہلے ذی طویٰ میں پڑاؤ فر ما تے ۔ وہاں رات بسر کرتے یہاں تک کہ صبح کی نماز ادا کرتے ( پھر مکہ میں داخل ہو تے ) اور للہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ چھوٹے مضبوط ٹیلے پر تھی اس مسجد میں نہیں جو وہاں بنا ئی گئی ۔ ہے بلکہ اس سے نیچے مضبوط ٹیلے پر ۔

Sahih Muslim 15:320sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى صَلاَةً إِلاَّ لِمِيقَاتِهَا إِلاَّ صَلاَتَيْنِ صَلاَةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ وَصَلَّى الْفَجْرَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ مِيقَاتِهَا ‏.‏

A'bdullah (b. 'Umar) reported:I have never seen Allah's Messenger, (ﷺ) but observing the prayers at their appointed times except two prayers, sunset and 'Isha, ' at Muzdalifa (where he deferred the sunset prayer to combine it with 'Isha' and he observed the dawn prayer before its stipulated time on that day (10th of Dhu'l-Hijja)

ابو معاویہ نے اعمش سے خبر دی ، انھوں نے عمارہ سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن یزید سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نماز اس کے وقت کے بغیر ادا کرتے نہیں دیکھا ، سوائے دو نمازوں کے ، مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ( جمع کیں ) اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز اس کے ( معمول کے ) وقت سے پہلے ادا کی ۔

Sahih Muslim 15:324sahih

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ فَأُصَلِّي الصُّبْحَ بِمِنًى فَأَرْمِي الْجَمْرَةَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ ‏.‏ فَقِيلَ لِعَائِشَةَ فَكَانَتْ سَوْدَةُ اسْتَأْذَنَتْهُ قَالَتْ نَعَمْ إِنَّهَا كَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَذِنَ لَهَا ‏.‏

A'isha said:I wish I had sought permission from Allah's Messenger (ﷺ) as Sauda had sought, and observed the dawn prayer at Mina and stoned at al-Jamra before the people had come there. It was said to 'A'isha (Allah be pleased with her): Did Sauda seek permission from him (the Holy Prophet)? She said: Yes. She was a bulky lady and so she sought permission from Allah's Messenger (ﷺ) (to proceed to mina from Muzdalifa ahead of him), and he granted her permission

عبیداللہ بن عمر نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے قاسم سے ، اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میری آرزو تھی کہ جیسے حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لی تھی ، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی ، میں بھی صبح کی نماز منیٰ میں ادا کیاکرتی اور لوگوں کے منیٰ آنے سے پہلے جمرہ ( عقبہ ) کو کنکریاں مارلیتی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا گیا : ( کیا ) حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لی تھی؟انھوں نے کہا : ہاں ۔ وہ بھاری کم حرکت کرسکنے والی خاتون تھیں ۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اجازت دے دی ۔

Sahih Muslim 15:334sahih

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ فَيَقِفُونَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِاللَّيْلِ فَيَذْكُرُونَ اللَّهَ مَا بَدَا لَهُمْ ثُمَّ يَدْفَعُونَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ الإِمَامُ وَقَبْلَ أَنْ يَدْفَعَ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ مِنًى لِصَلاَةِ الْفَجْرِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ بَعْدَ ذَلِكَ فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوُا الْجَمْرَةَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ أَرْخَصَ فِي أُولَئِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Salim b. 'Abdullah reported that 'Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) used to send ahead of him the weak members of his household to stay during the night at Mash'ar al-Haram at Muzdalifa. They remembered Allah so long as they could afford, and then they proceeded before the stay of the Imam, and before his return. So some of them reached Mina for the dawn prayer and some of them reached there after that; and as they reached there, they stoned al-Jamra; and Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) used to say:Allah's Messenger (ﷺ) has granted this concession to them

(سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر کے کمزور افراد کو پہلے روانہ کر دیتے تھے ۔ وہ لوگ رات کو مزدلفہ میں مشعر حرام کے پاس ہی وقوف کرتے ، اور جتنا میسر ہو تا اللہ کا ذکر کرتے ، اس کے بعد وہ امام کے مشعر حرام کے سامنے وقوف اور اس کی روانگی سے پہلے ہی روانہ ہو جا تے ۔ ان میں سے کچھ فجر کی نماز اداکرنے ) کے لیے منیٰ آجا تے اور کچھ اس کے بعد آتے ۔ پھر جب وہ ( سب لو گ منیٰ آجا تے تو جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان ( کمزور لوگوں ) کو رخصت دی ہے ۔

Sahih Muslim 29:60sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَيْرُوزَ، مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ الدَّانَاجِ حَدَّثَنَا حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ أَبُو سَاسَانَ، قَالَ شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ قَدْ صَلَّى الصُّبْحَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ أَزِيدُكُمْ فَشَهِدَ عَلَيْهِ رَجُلاَنِ أَحَدُهُمَا حُمْرَانُ أَنَّهُ شَرِبَ الْخَمْرَ وَشَهِدَ آخَرُ أَنَّهُ رَآهُ يَتَقَيَّأُ فَقَالَ عُثْمَانُ إِنَّهُ لَمْ يَتَقَيَّأْ حَتَّى شَرِبَهَا فَقَالَ يَا عَلِيُّ قُمْ فَاجْلِدْهُ ‏.‏ فَقَالَ عَلِيٌّ قُمْ يَا حَسَنُ فَاجْلِدْهُ ‏.‏ فَقَالَ الْحَسَنُ وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا - فَكَأَنَّهُ وَجَدَ عَلَيْهِ - فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ قُمْ فَاجْلِدْهُ ‏.‏ فَجَلَدَهُ وَعَلِيٌّ يَعُدُّ حَتَّى بَلَغَ أَرْبَعِينَ فَقَالَ أَمْسِكْ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ جَلَدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعِينَ وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَعُمَرُ ثَمَانِينَ وَكُلٌّ سُنَّةٌ وَهَذَا أَحَبُّ إِلَىَّ ‏.‏ زَادَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ إِسْمَاعِيلُ وَقَدْ سَمِعْتُ حَدِيثَ الدَّانَاجِ مِنْهُ فَلَمْ أَحْفَظْهُ ‏.‏

Hudain b. al-Mundhir Abu Sasan reported:I saw that Walid was brought to Uthmin b. 'Affan as he had prayed two rak'ahs of the dawn prayer, and then he said: I make an increase for you. And two men bore witness against him. One of them was Humran who said that he had drunk wine. The second one gave witness that he had seen him vomiting. Uthman said: He would not have vomited (wine) unless he had drunk it. He said: 'Ali, stand up and lash him. 'Ali said: Hasan, stand up and lash him. Thereupon Hasan said: Let him suffer the heat (of Caliphate) who has enjoyed its coolness. ('Ali felt annoyed at this remark) and he said: 'Abdullah b. Ja'far, stand up and flog him, and he began to flog him and 'Ali counted the stripes until these were forty. He (Hadrat 'Ali) said: Stop now, and then said: Allah's Apostle (ﷺ) gave forty stripes, and Abu Bakr also gave forty stripes, and Umar gave eighty stripes, and all these fall under the category of the Sunnab, but this one (forty stripes) is dearer to me

ابوبکر بن ابی شیبہ ، زہیر بن حرب اور علی بن حجر سب نے کہا : ہمیں اسماعیل بن علیہ نے ابن ابی عروبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ داناج ( فارسی کے لفظ دانا کو عرب اسی طرح پڑھتے تھے ) سے روایت کی ، نیز اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے ۔ ۔ الفاظ انہی کے ہیں ۔ ۔ کہا : ہمیں یحییٰ بن حماد نے خبر دی ، کہا : ہمیں عبدالعزیز بن مختار نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ان عامر داناج کے مولیٰ عبداللہ بن فیروز نے حدیث بیان کی : ہمیں ابو ساسان حُضین بن منذر نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا ، ان کے پاس ولید ( بن عقبہ بن ابی معیط ) کو لایا گیا ، اس نے صبح کی دو رکعتیں پڑھائیں ، پھر کہا : کیا تمہیں اور ( نماز ) پڑھاؤں؟ تو دو آدمیوں نے اس کے خلاف گواہی دی ۔ ان میں سے ایک حمران تھا ( اس نے کہا ) کہ اس نے شراب پی ہے اور دوسرے نے گواہی دی کہ اس نے اسے ( شراب کی ) قے کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : اس نے شراب پی ہے تو ( اس کی ) قے کی ہے ۔ اور کہا : علی! اٹھو اور اسے کوڑے مارو ۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : حسن! اٹھیں اور اسے کوڑے ماریں ۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کہا : اس ( خلافت ) کی ناگوار باتیں بھی انہی کے سپرد کیجیے جن کے سپرد اس کی خوش گوار ہیں ۔ تو ایسے لگا کہ انہیں ناگوار محسوس ہوا ہے ، تب انہوں نے کہا : عبداللہ بن جعفر! اٹھو اور اسے کوڑے مارو ۔ تو انہوں نے اسے کوڑے لگائے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ شمار کرتے رہے حتی کہ وہ چالیس تک پہنچے تو کہا : رک جاؤ ۔ پھر کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے لگوائے ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس لگوائے اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی ( کوڑے ) لگوائے ، یہ سب سنت ہیں اور یہ ( چالیس کوڑے لگانا ) مجھے زیادہ پسند ہے ۔ علی بن حجر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا : اسماعیل نے کہا : میں نے داناج کی حدیث ان سے سنی تھی لیکن اسے یاد نہ رکھ سکا

Sahih Muslim 42:41sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ ‏ "‏ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ الْبَارِحَةَ رُؤْيَا ‏"‏ ‏.‏

Samura b. Jundab reported that when Allah's Messenger (ﷺ) had performed his dawn prayer he turned his face towards them (that is towards his Companions) and said:Did any one of you see any vision last night?

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھنے کےبعد لوگوں کی طرف رخ کرتے اور فرماتے : " تم میں سے کسی نے گزشتہ رات کوئی خواب دیکھا؟

Sahih Muslim 43:93sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ كَثِيرًا كَانَ لاَ يَقُومُ مِنْ مُصَلاَّهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Simak b. Harb reported:I said to Jabir b. Samura: Did you have the privilege of sitting in the company of Allah's Messenger (ﷺ)? He said: Yes, very frequently, and added: He did not stand up (and go) from the place where he offered the dawn prayer until the sun rose, and after the rising of the sun he stood up, and they (his Companions) entered into conversation with one another and they talked of the things (that they did during the Days of Ignorance), and they laughed (on their unreasonable and ridiculous acts). Allah's Messenger (ﷺ) smiled only

سماک بن حرب سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شرکت کرتے تھے؟انھوں نے کہا : ہاں ، بہت شرکت کی ، آپ جس جگہ پر صبح کی نماز پڑھتے تھے تو سورج نکلنے سے پہلے وہاں نہیں اٹھتے تھے ۔ جب سورج نکل آیا تو آپ وہاں سے اٹھتے ، صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین جاہلیت کے ( کسی نہ کسی ) معاملے کو لیتے اور ( اس پر باہم ) بات چیت کرتے تو ہنسی مذاق بھی کرتے ، ( لیکن ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( صرف ) مسکراتے تھے ۔

Sahih Muslim 43:100sahih

حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ جَمِيعًا عَنْ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، - يَعْنِي هَاشِمَ بْنَ الْقَاسِمِ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ فَمَا يُؤْتَى بِإِنَاءٍ إِلاَّ غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا فَرُبَّمَا جَاءُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ فَيَغْمِسُ يَدَهُ فِيهَا ‏.‏

Anas b. Malik reported that when Allah's Messenger (ﷺ) had completed his dawn prayer, the servants of Medina came to him with utensils containing water, and no utensil was brought in which he did not dip his hand; and sometime they came in the cold dawn (and he did not feel reluctant in acceding to their request even in the cold weather) and dipped his hand in them

ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو مدینہ کے خادم ( غلام ) اپنے برتن لے آتے جن میں پانی ہوتا ، جو بھی برتن آپ کے سامنے لایاجاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دست مبارک اس میں ڈبو تے ، بسا اوقات سخت ٹھنڈی صبح میں برتن لائے جاتے تو آپ ( پھر بھی ) ان میں اپنا ہاتھ ڈبودیتے ۔

Sahih Muslim 48:106sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى وَهِيَ جَالِسَةٌ فَقَالَ ‏"‏ مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ ‏"‏ ‏.‏

Juwairiya reported that Allah's Messenger (ﷺ) came out from (her apartment) in the morning as she was busy in observing her dawn prayer in her place of worship. He came back in the forenoon and she was still sitting there. He (the Holy Prophet) said to her:You have been in the same seat since I left you. She said: Yes. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: I recited four words three times after I left you and if these are to be weighed against what you have recited since morning these would outweigh them and (these words) are:" Hallowed be Allah and praise is due to Him according to the number of His creation and according to the pleasure of His Self and according to the weight of His Throne and according to the ink (used in recording) words (for His Praise)

کُریب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھنے کے بعد صبح سویرے ان کے ہاں سے باہر تشریف لے گئے ، اس وقت وہ اپنی نماز پڑھنے والی جگہ میں تھیں ، پھر دن چڑھنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس واپس تشریف لائے تو وہ ( اسی طرح ) بیٹھی ہوئی تھیں ۔ آپ نے فرمایا : " تم اب تک اسی حالت میں بیٹھی ہوئی ہو جس پر میں تمہیں چھوڑ کر گیا تھا؟ " انہوں نے عرض کی : جی ہاں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے ( ہاں سے جانے کے ) بعد میں نے چار کلمے تین بار کہے ہیں ، اگر ان کو ان کے ساتھ تولا جائے جو تم نے آج کے دن اب تک کہا ہے تو یہ ان سے وزن میں بڑھ جائیں : " سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته " پاکیزگی ہے اللہ کی اور اس کی تعریف کے ساتھ ، جتنی اس کی مخلوق کی گنتی ہے اور جتنی اس کو پسند ہے اور جتنا اس کے عرش کا وزن اور جتنی اس کے کلمات کی سیاہی ہے ۔

Sahih Muslim 48:107sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي رِشْدِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ، قَالَتْ مَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ صَلَّى صَلاَةَ الْغَدَاةِ أَوْ بَعْدَ مَا صَلَّى الْغَدَاةَ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ ‏"‏ ‏.‏

Juwairiya reported that Allah's Messenger (ﷺ) happened to pass by her as she was observing her dawn prayer; or after she had observed her dawn prayer. The rest of the hadith is the same but with this variation that he said:" Hallowed be Allah according to the number of His creation, hallowed be Allah according to the pleasure of His Self, hallowed be Allah according to the weight of His Throne, hallowed be Allah according to the ink used in recording His words

ابورشدین نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : صبح کی نماز کے وقت یا صبح کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرتے ہوئے ان کے ہاں تشریف لائے ۔ ۔ پھر اس ( پچھلی حدیث ) کے مطابق بیان کیا ۔ ۔ مگر انہوں نے ( اپنے کلموں کو اس طرح ) بیان کیا : " میں اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہوں جتنی اس کی مخلوقات کی گنتی ہے ، میں اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہوں جتنی اس کی رضا ہے ، میں اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہوں جتنا اس کے عرش کا وزن ہے ، میں اللہ کی تسبیح کرتا ہوں جتنی اس کے کلمات کی سیاہی ہے ۔

Sahih Muslim 54:33sahih

وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، - قَالَ حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، - أَخْبَرَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، حَدَّثَنِي أَبُو زَيْدٍ، - يَعْنِي عَمْرَو بْنَ أَخْطَبَ - قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْفَجْرَ وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ فَنَزَلَ فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَأَخْبَرَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا ‏.‏

Abu Zaid (viz. Amr b. Akhtab) reported:Allah's Messenger (ﷺ) led us in the dawn prayer and then mounted the pulpit and addressed us until it was (time for the) noon prayer. He then came down the pulpit and observed prayer and then again mounted the pulpit and again addressed us until it was time for the 'Asr prayer. He then again came down and observed the prayer and again mounted the pulpit and addressed us until the sun was set and he informed (about) everything (pertaining to turmoil) that lay hidden in the past and what lies in (the womb) of) the future and the most learned amongst us is one who remembers them well

علباء بن احمر نے کہا : حضرت ابو زید عمرو بن اخطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے بیان کیا کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہوئے تو ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا آپ ( منبرسے ) اترے ہمیں نماز پڑھائی پھر دوبارہ منبر پر رونق افروز ہوئے اور ( آگے ) خطبہ ارشاد فرمایا : یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہوگیا پھر آپ اترے نماز پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ۔ آپ نے جو کچھ ہوا اور جو ہونے والاتھا ( سب ) ہمیں بتادیا ہم میں سے زیادہ جاننے والا وہی ہے جو یا دواشت میں دوسروں سے بڑھ کر ہے ۔

A detailed scholarly analysis for this topic is not yet available. Get in touch to request one.