VisualDhikr|

Battle of Siffin

View in graph
event

Battle of Siffin

معركة صفين

The Battle of Siffin was a deeply poignant and significant conflict in early Islamic history, taking place in 657 CE (37 AH) during the turbulent period known as the First Fitna. It pitted the forces of Ali ibn Abi Talib, the fourth Rightly Guided Caliph, against those of Mu'awiya ibn Abi Sufyan, the governor of Syria. The dispute centered on the demand for justice for the assassination of the previous Caliph, Uthman, and the legitimacy of Ali's caliphate. After intense fighting, the battle famously concluded not with a decisive victory, but with an agreement for arbitration, where both sides pledged to [refer their dispute to Allah and His Messenger]. However, this attempt at reconciliation, intended to uphold the principle that [if two parties of believers fight, make peace between them], ultimately led to further fragmentation. A significant group, later known as the Kharijites, vehemently rejected the arbitration, famously asserting that "[judgment belongs to Allah alone]," believing human arbitration undermined divine sovereignty. Siffin profoundly impacted the Muslim community, deepening internal divisions and shaping the political and theological landscape for centuries. It stands as a powerful historical reminder of the immense challenges of leadership and the critical importance of [holding firmly to the rope of Allah and not becoming divided].

Hadith 5 traditions

Sahih al-Bukhari 58:23sahih

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الأَعْمَشَ، قَالَ سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ شَهِدْتَ صِفِّينَ قَالَ نَعَمْ، فَسَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، يَقُولُ اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ، رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ، أَمْرَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَرَدَدْتُهُ، وَمَا وَضَعْنَا أَسْيَافَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا لأَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلاَّ أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ، نَعْرِفُهُ غَيْرِ أَمْرِنَا هَذَا‏.‏

Narrated Al-A`mash:I asked Abu Wail, "Did you take part in the battle of Siffin?" He said, 'Yes, and I heard Sahl bin Hunaif (when he was blamed for lack of zeal for fighting) saying, "You'd better blame your wrong opinions. I wish you had seen me on the day of Abu Jandal. If I had the courage to disobey the Prophet's orders, I would have done so. We had kept out swords on our necks and shoulders, for a thing which frightened us. And we did so, we found it easier for us, except in the case of the above battle (of ours)

ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوحمزہ نے خبر دی، کہا کہ میں نے اعمش سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابووائل سے پوچھا، کیا آپ صفین کی جنگ میں موجود تھے؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہاں ( میں تھا ) اور میں نے سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا تھا کہ تم لوگ خود اپنی رائے کو غلط سمجھو، جو آپس میں لڑتے مرتے ہو۔ میں نے اپنے تئیں دیکھا جس دن ابوجندل آیا ( یعنی حدیبیہ کے دن ) اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پھیر دیتا اور ہم نے جب کسی مصیبت میں ڈر کر تلواریں اپنے کندھوں پر رکھیں تو وہ مصیبت آسان ہو گئی۔ ہم کو اس کا انجام معلوم ہو گیا۔ مگر یہی ایک لڑائی ہے ( جو سخت مشکل ہے اس کا انجام بہتر نہیں معلوم ہوتا ) ۔

Sahih al-Bukhari 69:12sahih

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ مُجَاهِدًا، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَقَالَ ‏ "‏ أَلاَ أُخْبِرُكِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْهُ، تُسَبِّحِينَ اللَّهَ عِنْدَ مَنَامِكِ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، وَتَحْمَدِينَ اللَّهَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، وَتُكَبِّرِينَ اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ ‏"‏‏.‏ ـ ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ إِحْدَاهُنَّ أَرْبَعٌ وَثَلاَثُونَ ـ فَمَا تَرَكْتُهَا بَعْدُ، قِيلَ وَلاَ لَيْلَةَ صِفِّينَ قَالَ وَلاَ لَيْلَةَ صِفِّينَ‏.‏

Narrated `Ali bin Abi Talib:Fatima came to the Prophet (ﷺ) asking for a servant. He said, "May I inform you of something better than that? When you go to bed, recite "Subhan Allah' thirty three times, 'Al hamduli l-lah' thirty three times, and 'Allahu Akbar' thirty four times. `Ali added, 'I have never failed to recite it ever since." Somebody asked, "Even on the night of the battle of Siffin?" He said, "Even on the night of the battle of Siffin

ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن ابی یزید نے بیان کیا، انہوں نے مجاہد سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن ابی لیلیٰ سے سنا، ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تھیں اور آپ سے ایک خادم مانگا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتا دوں جو تمہارے لیے اس سے بہتر ہو۔ سوتے وقت تینتیس ( 33 ) مرتبہ «سبحان الله»،‏‏‏‏ تینتیس ( 33 ) مرتبہ «الحمد الله» اور چونتیس ( 34 ) مرتبہ «الله اكبر» پڑھ لیا کرو۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ ان میں سے ایک کلمہ چونتیس بار کہہ لے۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں نے ان کلموں کو کبھی نہیں چھوڑا۔ ان سے پوچھا گیا جنگ صفین کی راتوں میں بھی نہیں؟ کہا کہ صفین کی راتوں میں بھی نہیں۔

Sahih al-Bukhari 96:39sahih

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ، سَمِعْتُ الأَعْمَشَ، قَالَ سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ هَلْ شَهِدْتَ صِفِّينَ قَالَ نَعَمْ‏.‏ فَسَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، يَقُولُ ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ قَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنَّ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَرَدَدْتُهُ، وَمَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا إِلَى أَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلاَّ أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ غَيْرَ هَذَا الأَمْرِ‏.‏ قَالَ وَقَالَ أَبُو وَائِلٍ شَهِدْتُ صِفِّينَ وَبِئْسَتْ صِفُّونَ‏.‏

Narrated Al-A`mash:I asked Abu Wail, "Did you witness the battle of Siffin between `Ali and Muawiya?" He said, "Yes," and added, "Then I heard Sahl bin Hunaif saying, 'O people! Blame your personal opinions in your religion. No doubt, I remember myself on the day of Abi Jandal; if I had the power to refuse the order of Allah's Messenger (ﷺ), I would have refused it. We have never put our swords on our shoulders to get involved in a situation that might have been horrible for us, but those swords brought us to victory and peace, except this present situation.' " Abu Wail said, "I witnessed the battle of Siffin, and how nasty Siffin was

ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوحمزہ نے خبر دی، کہا میں نے اعمش سے سنا، کہا کہ میں نے ابووائل سے پوچھا تم صفین کی لڑائی میں شریک تھے؟ کہا کہ ہاں، پھر میں نے سہل بن حنیف کو کہتے سنا ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے ( جنگ صفین کے موقع پر ) کہا کہ لوگوں! اپنے دین کے مقابلہ میں اپنی رائے کو بےحقیقت سمجھو میں نے اپنے آپ کو ابوجندل رضی اللہ عنہ کے واقعہ کے دن ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) دیکھا کہ اگر میرے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہٹنے کی طاقت ہوتی تو میں اس دن آپ سے انحراف کرتا ( اور کفار قریش کے ساتھ ان شرائط کو قبول نہ کرتا ) اور ہم نے جب کسی مہم پر اپنی تلواریں کاندھوں پر رکھیں ( لڑائی شروع کی ) تو ان تلواروں کی بدولت ہم کو ایک آسانی مل گئی جسے ہم پہچانتے تھے مگر اس مہم میں ( یعنی جنگ صفین میں مشکل میں گرفتار ہیں دونوں طرف والے اپنے اپنے دلائل پیش کرتے ہیں ) ابواعمش نے کہا کہ ابووائل نے بتایا کہ میں صفین میں موجود تھا اور صفین کی لڑائی بھی کیا بری لڑائی تھی جس میں مسلمان آپس میں کٹ مرے۔

Sahih Muslim 48:110sahih

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِنَحْوِ حَدِيثِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَزَادَ، فِي الْحَدِيثِ قَالَ عَلِيٌّ مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قِيلَ لَهُ وَلاَ لَيْلَةَ صِفِّينَ قَالَ وَلاَ لَيْلَةَ صِفِّينِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ عَطَاءٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ قُلْتُ لَهُ وَلاَ لَيْلَةَ صِفِّينَ

This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abi Laili but with this addition:" Ali said: Ever since I heard this (supplication) from Allah's Apostle (ﷺ), I never abandoned it. It was said to him, Not even in the night of Siffin (battle of Siffin)? He sad: Yes, not even in the night of Siffin

عبیداللہ بن ابی یزید اور عطاء بن ابی رباح نے مجاہد سے ، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے ، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح حکم نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی ۔ انہوں نے حدیث میں مزید یہ بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی میں نے کبھی اسے ترک نہیں کیا ۔ ان سے پوچھا کیا : جنگ صفین کی رات بھی نہیں چھوڑا؟ انہوں نے جواب دیا : جنگ صفین کی رات بھی ( اسے نہیں چھوڑا ۔ ) عطاء نے جو حدیث مجاہد سے اور انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی ، انہوں ( ابن ابی لیلیٰ ) نے کہا : میں نے ان ( حضرت علی رضی اللہ عنہ ) سے عرض کی : صفین کی رات بھی نہ چھوڑا؟

Sahih Muslim 51:13sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ قُلْنَا لِعَمَّارٍ أَرَأَيْتَ قِتَالَكُمْ أَرَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ فَإِنَّ الرَّأْىَ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ أَوْ عَهْدًا عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً ‏.‏ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ فِي أُمَّتِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ ‏.‏ وَقَالَ غُنْدَرٌ أُرَاهُ قَالَ ‏"‏ فِي أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا لاَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلاَ يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ سِرَاجٌ مِنَ النَّارِ يَظْهَرُ فِي أَكْتَافِهِمْ حَتَّى يَنْجُمَ مِنْ صُدُورِهِمْ ‏"‏ ‏.‏

Qais b. 'Ubad reported:We said to 'Ammar: Was your fighting (on the side of 'Ali in the Battle of Siffin) a matter of your own choice or you got its hints from Allah's Messenger (ﷺ) for it, is likely for one to err in one's own discretion or was it because of any covenant that Allah's Messenger (ﷺ) got from you? He said: It was not because of any covenant that Allah's Messenger (ﷺ) got from us which he did get from other people, and he further said that Allah's Messenger (ﷺ) said:" In my Ummah." And I think that Hudhaifa reported to me and according to Ghundar (the words are) that he said: In my Ummah, there would be twelve hypocrites and they would not be admitted to Paradise and they would not smell its odour, until the camel would pass through a needle's hole. Dubaila (ulcer) would be enough to (torment them) -a kind of flame of Fire which would appear in their shoulders and it would protrude from their chest

محمد بن جعفر ( غندر ) نے کہا؛ ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابونضرہ سے اور انہوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم لوگوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ( حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حمایت میں ) اپنی جنگ کو کیسے دیکھتے ہیں ، کیا یہ ایک رائے ہے جو آپ نے غوروفکر سے اختیار کی ہے؟ تو رائے غلط بھی ہو سکتی ہے اور صحیح بھی ، یا کوئی ذمہ داری ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی ایسی ( خصوصی ) ذمہ داری نہیں دی تھی جو تمام لوگوں کے سپرد نہ کی ہو اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : "" بےشک میری امت میں ۔ ۔ ۔ "" شعبہ نے کہا : اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے کہا تھا : مجھے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ( یہ ) حدیث سنائی ۔ اور غندر نے کہا : مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے کہا : "" میری امت میں بارہ منافق ہیں ، وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے ، جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہ ہو جائے ۔ ان میں سے آٹھ ایسے ہیں ( کہ ان کے شر سے بچاؤ کے لیے ) تمہاری کفایت ایک ایسا پھوڑا کرے گا جو آگ کے جلتے ہوئے دیے کی طرح ( اوپر سے سرک ) ہو گا ، ان کے کندھوں میں طاہر ہو گا یہاں تک کہ ان کے سینوں سے نکل آئے گا ۔

A detailed scholarly analysis for this topic is not yet available. Get in touch to request one.

Related Topics