Sahih al-Bukhari 46:28sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَشْرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ قَالَ " هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى إِنِّي أَرَى مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلاَلَ بُيُوتِكُمْ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ ".
Narrated Usama bin Zaid:Once the Prophet (ﷺ) stood at the top of one of the castles (or higher buildings) of Medina and said, "Do you see what I see? No doubt I am seeing the spots of afflictions amongst your houses as numerous as the spots where raindrops fall (during a heavy rain). (See Hadith No)
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا، ان سے عروہ نے بیان کیا، ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ایک بلند مکان پر چڑھے۔ پھر فرمایا، کیا تم لوگ بھی دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں کہ ( عنقریب ) تمہارے گھروں میں فتنے اس طرح برس رہے ہوں گے جیسے بارش برستی ہے۔
Sahih al-Bukhari 63:113sahih
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ} قَالَ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ، أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ. قَالَ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ قَالَ هِيَ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ.
Narrated Ibn `Abbas:Regarding the Statement of Allah" "And We granted the vision (Ascension to the heavens) which We made you see (as an actual eye witness) was only made as a trial for the people." (17.60) Ibn `Abbas added: The sights which Allah's Messenger (ﷺ) was shown on the Night Journey when he was taken to Bait-ulMaqdis (i.e. Jerusalem) were actual sights, (not dreams). And the Cursed Tree (mentioned) in the Qur'an is the tree of Zaqqum (itself)
(ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ کے ارشاد «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھایا اس سے مقصد صرف لوگوں کا امتحان تھا ) فرمایا کہ اس میں رؤیا سے آنکھ سے دیکھنا ہی مراد ہے۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معراج کی رات میں دکھایا گیا تھا جس میں آپ کو بیت المقدس تک لے جایا گیا تھا اور قرآن مجید میں «الشجرة الملعونة» کا ذکر آیا ہے وہ تھوہڑ کا درخت ہے۔
Sahih al-Bukhari 65:103sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ، حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ أُنَاسًا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ، هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ بِالظَّهِيرَةِ، ضَوْءٌ لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ ". قَالُوا لاَ. قَالَ " وَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ضَوْءٌ لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ ". قَالُوا لاَ. قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلاَّ كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا، إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ تَتْبَعُ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ. فَلاَ يَبْقَى مَنْ كَانَ يَعْبُدُ غَيْرَ اللَّهِ مِنَ الأَصْنَامِ وَالأَنْصَابِ إِلاَّ يَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلاَّ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ، بَرٌّ أَوْ فَاجِرٌ وَغُبَّرَاتُ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَيُدْعَى الْيَهُودُ فَيُقَالُ لَهُمْ مَنْ كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ قَالُوا كُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرَ ابْنَ اللَّهِ. فَيُقَالُ لَهُمْ كَذَبْتُمْ، مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلاَ وَلَدٍ، فَمَاذَا تَبْغُونَ فَقَالُوا عَطِشْنَا رَبَّنَا فَاسْقِنَا. فَيُشَارُ أَلاَ تَرِدُونَ، فَيُحْشَرُونَ إِلَى النَّارِ كَأَنَّهَا سَرَابٌ، يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ، ثُمَّ يُدْعَى النَّصَارَى، فَيُقَالُ لَهُمْ مَنْ كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ قَالُوا كُنَّا نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ابْنَ اللَّهِ. فَيُقَالُ لَهُمْ كَذَبْتُمْ، مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلاَ وَلَدٍ. فَيُقَالُ لَهُمْ مَاذَا تَبْغُونَ فَكَذَلِكَ مِثْلَ الأَوَّلِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلاَّ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ، أَتَاهُمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ فِي أَدْنَى صُورَةٍ مِنَ الَّتِي رَأَوْهُ فِيهَا، فَيُقَالُ مَاذَا تَنْتَظِرُونَ تَتْبَعُ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ. قَالُوا فَارَقْنَا النَّاسَ فِي الدُّنْيَا عَلَى أَفْقَرِ مَا كُنَّا إِلَيْهِمْ، وَلَمْ نُصَاحِبْهُمْ، وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ رَبَّنَا الَّذِي كُنَّا نَعْبُدُ. فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ لاَ نُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا. مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:During the lifetime of the Prophet (ﷺ) some people said, : O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall we see our Lord on the Day of Resurrection?" The Prophet (ﷺ) said, "Yes; do you have any difficulty in seeing the sun at midday when it is bright and there is no cloud in the sky?" They replied, "No." He said, "Do you have any difficulty in seeing the moon on a full moon night when it is bright and there is no cloud in the sky?" They replied, "No." The Prophet (ﷺ) said, "(Similarly) you will have no difficulty in seeing Allah on the Day of Resurrection as you have no difficulty in seeing either of them. On the Day of Resurrection, a call-maker will announce, "Let every nation follow that which they used to worship." Then none of those who used to worship anything other than Allah like idols and other deities but will fall in Hell (Fire), till there will remain none but those who used to worship Allah, both those who were obedient (i.e. good) and those who were disobedient (i.e. bad) and the remaining party of the people of the Scripture. Then the Jews will be called upon and it will be said to them, 'Who did you use to worship?' They will say, 'We used to worship Ezra, the son of Allah.' It will be said to them, 'You are liars, for Allah has never taken anyone as a wife or a son. What do you want now?' They will say, 'O our Lord! We are thirsty, so give us something to drink.' They will be directed and addressed thus, 'Will you drink,' whereupon they will be gathered unto Hell (Fire) which will look like a mirage whose different sides will be destroying each other. Then they will fall into the Fire. Afterwards the Christians will be called upon and it will be said to them, 'Who did you use to worship?' They will say, 'We used to worship Jesus, the son of Allah.' It will be said to them, 'You are liars, for Allah has never taken anyone as a wife or a son,' Then it will be said to them, 'What do you want?' They will say what the former people have said. Then, when there remain (in the gathering) none but those who used to worship Allah (Alone, the real Lord of the Worlds) whether they were obedient or disobedient. Then (Allah) the Lord of the worlds will come to them in a shape nearest to the picture they had in their minds about Him. It will be said, 'What are you waiting for?' Every nation has followed what they used to worship.' They will reply, 'We left the people in the world when we were in great need of them and we did not take them as friends. Now we are waiting for our Lord Whom we used to worship.' Allah will say, 'I am your Lord.' They will say twice or thrice, 'We do not worship any besides Allah
مجھ سے محمد بن عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعمر حفص بن میسرہ نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، کیا سورج کو دوپہر کے وقت دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری ہوتی ہے، جبکہ اس پر بادل بھی نہ ہو؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور کیا چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں تمہیں کچھ دشواری پیش آتی ہے، جبکہ اس پر بادل نہ ہو؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بس اسی طرح تم بلا کسی دقت اور رکاوٹ کے اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے۔ قیامت کے دن ایک منادی ندا کرے گا کہ ہر امت اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ حاضر ہو جائے۔ اس وقت اللہ کے سوا جتنے بھی بتوں اور پتھروں کی پوجا ہوتی تھی، سب کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ پھر جب وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جو صرف اللہ کی پوجا کیا کرتے تھے، خواہ نیک ہوں یا گنہگار اور اہل کتاب کے کچھ لوگ، تو پہلے یہود کو بلایا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ تم ( اللہ کے سوا ) کس کی پوجا کرتے تھے؟ وہ عرض کریں گے کہ عزیر ابن اللہ کی، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا لیکن تم جھوٹے تھے، اللہ نے نہ کسی کو اپنی بیوی بنایا اور نہ بیٹا، اب تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے، ہمارے رب! ہم پیاسے ہیں، ہمیں پانی پلا دے۔ انہیں اشارہ کیا جائے گا کہ کیا ادھر نہیں چلتے۔ چنانچہ سب کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ وہاں چمکتی ریت پانی کی طرح نظر آئے گی، بعض بعض کے ٹکڑے کئے دے رہی ہو گی۔ پھر سب کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر نصاریٰ کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے کہ ہم مسیح ابن اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ ان سے بھی کہا جائے گا کہ تم جھوٹے تھے۔ اللہ نے کسی کو بیوی اور بیٹا نہیں بنایا، پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا چاہتے ہو؟ اور ان کے ساتھ یہودیوں کی طرح برتاؤ کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب ان لوگوں کے سوا اور کوئی باقی نہ رہے گا جو صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے، خواہ وہ نیک ہوں یا گنہگار، تو ان کے پاس ان کا رب ایک صورت میں جلوہ گر ہو گا، جو پہلی صورت سے جس کو وہ دیکھ چکے ہوں گے، ملتی جلتی ہو گی ( یہ وہ صورت نہ ہو گی ) اب ان سے کہا جائے گا۔ اب تمہیں کس کا انتظار ہے؟ ہر امت اپنے معبودوں کو ساتھ لے کر جا چکی، وہ جواب دیں گے کہ ہم دنیا میں جب لوگوں سے ( جنہوں نے کفر کیا تھا ) جدا ہوئے تو ہم ان میں سب سے زیادہ محتاج تھے، پھر بھی ہم نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور اب ہمیں اپنے سچے رب کا انتظار ہے جس کی ہم دنیا میں عبادت کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہارا رب میں ہی ہوں۔ اس پر تمام مسلمان بول اٹھیں گے کہ ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے، دو یا تین مرتبہ یوں کہیں گے ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے والے نہیں ہیں۔
Sahih al-Bukhari 65:238sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنه ـ {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ} قَالَ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ {وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ} شَجَرَةُ الزَّقُّومِ.
Narrated Ibn `Abbas:Regarding: 'And We granted the vision (Ascension to the Heaven "Miraj") which We showed you (O Muhammad as an actual eye witness) but as a trial for mankind.' (17.60) It was an actual eyewitness which was shown to Allah's Messenger (ﷺ) during the night he was taken on a journey (through the heavens). And the cursed tree is the tree of Az-Zaqqum (a bitter pungent tree which grows at the bottom of Hell)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آیت «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» میں «رؤيا» سے آنکھ کا دیکھنا مراد ہے ( بیداری میں نہ کہ خواب میں ) یعنی وہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج میں دکھایا گیا اور «شجرة الملعونة» سے تھوہڑ کا درخت مراد ہے۔
Sahih al-Bukhari 65:376sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ يَا أُمَّتَاهْ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم رَبَّهُ فَقَالَتْ لَقَدْ قَفَّ شَعَرِي مِمَّا قُلْتَ، أَيْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلاَثٍ مَنْ حَدَّثَكَهُنَّ فَقَدْ كَذَبَ، مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ. ثُمَّ قَرَأَتْ {لاَ تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ} {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ {وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا} وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَتَمَ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ} الآيَةَ، وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ فِي صُورَتِهِ مَرَّتَيْنِ.
Narrated Masruq:I said to `Aisha, "O Mother! Did Prophet Muhammad see his Lord?" Aisha said, "What you have said makes my hair stand on end ! Know that if somebody tells you one of the following three things, he is a liar: Whoever tells you that Muhammad saw his Lord, is a liar." Then Aisha recited the Verse: 'No vision can grasp Him, but His grasp is over all vision. He is the Most Courteous Well-Acquainted with all things.' (6.103) 'It is not fitting for a human being that Allah should speak to him except by inspiration or from behind a veil.' (42.51) `Aisha further said, "And whoever tells you that the Prophet knows what is going to happen tomorrow, is a liar." She then recited: 'No soul can know what it will earn tomorrow.' (31.34) She added: "And whoever tells you that he concealed (some of Allah's orders), is a liar." Then she recited: 'O Apostle! Proclaim (the Message) which has been sent down to you from your Lord..' (5.67) `Aisha added, "But the Prophet (ﷺ) saw Gabriel in his true form twice
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے وکیع نے، ان سے اسمٰعیل بن ابی خالد نے، ان سے عامر نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اے ایمان والوں کی ماں! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات میں اپنے رب کو دیکھا تھا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تم نے ایسی بات کہی کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کیا تم ان تین باتوں سے بھی ناواقف ہو؟ جو شخص بھی تم میں سے یہ تین باتیں بیان کرے وہ جھوٹا ہے جو شخص یہ کہتا ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج میں اپنے رب کو دیکھا تھا وہ جھوٹا ہے۔ پھر انہوں نے آیت «لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار وهو اللطيف الخبير» سے لے کر «من وراء حجاب» تک کی تلاوت کی اور کہا کہ کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ سے بات کرے سوا اس کے کہ وحی کے ذریعہ ہو یا پھر پردے کے پیچھے سے ہو اور جو شخص تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے کل کی بات جانتے تھے وہ بھی جھوٹا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے آیت «وما تدري نفس ماذا تكسب غدا» یعنی ”اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل کیا کرے گا۔“ کی تلاوت فرمائی۔ اور جو شخص تم میں سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ دین میں کوئی بات چھپائی تھی وہ بھی جھوٹا ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك» یعنی اے رسول! پہنچا دیجئیے وہ سب کچھ جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے۔ ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا تھا۔
Sahih al-Bukhari 82:19sahih
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ} قَالَ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ. قَالَ {وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ} قَالَ هِيَ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ.
Narrated Ibn `Abbas:(regarding the Verse) "And We granted the vision (Ascension to the heavens "Miraj") which We showed you (O Muhammad as an actual eye witness) but as a trial for mankind.' (17.60): Allah's Apostle actually saw with his own eyes the vision (all the things which were shown to him) on the night of his Night Journey to Jerusalem (and then to the heavens). The cursed tree which is mentioned in the Qur'an is the tree of Az-Zaqqum
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» ”اور وہ رؤیا جو ہم نے تمہیں دکھایا ہے اسے ہم نے صرف لوگوں کے لیے آزمائش بنایا ہے۔“ کے متعلق کہا کہ اس سے مراد آنکھ کا دیکھنا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معراج کی رات دکھایا گیا تھا۔ جب آپ کو بیت المقدس تک رات کو لے جایا گیا تھا، کہا کہ قرآن مجید میں «الشجرة الملعونة» سے مراد «زقوم.» کا درخت ہے۔
Sahih al-Bukhari 97:10sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ وَهْوَ يَقُولُ {لاَ تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ} وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ الْغَيْبَ فَقَدْ كَذَبَ، وَهْوَ يَقُولُ لاَ يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلاَّ اللَّهُ.
Narrated Masruq:`Aisha said, "If anyone tells you that Muhammad has seen his Lord, he is a liar, for Allah says: 'No vision can grasp Him.' (6.103) And if anyone tells you that Muhammad has seen the Unseen, he is a liar, for Allah says: "None has the knowledge of the Unseen but Allah
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے شعبی نے بیان کیا، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اگر تم سے کوئی یہ کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا تو وہ غلط کہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں خود کہتا ہے کہ نظریں اس کو دیکھ نہیں سکتیں اور جو کوئی کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے تھے تو غلط کہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ خود کہتا ہے کہ غیب کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں۔
Sahih Muslim 1:308sahih
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْوَحْىِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةَ فِي النَّوْمِ فَكَانَ لاَ يَرَى رُؤْيَا إِلاَّ جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلاَءُ فَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ يَتَحَنَّثُ فِيهِ - وَهُوَ التَّعَبُّدُ - اللَّيَالِيَ أُولاَتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ اقْرَأْ . قَالَ " مَا أَنَا بِقَارِئٍ - قَالَ - فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ . قَالَ قُلْتُ مَ�� أَنَا بِقَارِئٍ - قَالَ - فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ . فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي . فَقَالَ { اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ * خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ * اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ * الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ * عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ} " . فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ " زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي " . فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ ثُمَّ قَالَ لِخَدِيجَةَ " أَىْ خَدِيجَةُ مَا لِي " . وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ قَالَ " لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي " . قَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ كَلاَّ أَبْشِرْ فَوَاللَّهِ لاَ يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ . فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ وَيَكْتُبُ مِنَ الإِنْجِيلِ بِالْعَرَبِيَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ . فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ أَىْ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ . قَالَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ يَا ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَبَرَ مَا رَآهُ فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى صلى الله عليه وسلم يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَوَمُخْرِجِيَّ هُمْ " . قَالَ وَرَقَةُ نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلاَّ عُودِيَ وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا " .
A'isha, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), reported:The first (form) with which was started the revelation to the Messenger of Allah was the true vision in sleep. And he did not see any vision but it came like the bright gleam of dawn. Thenceforth solitude became dear to him and he used to seclude himself in the cave of Hira', where he would engage in tahannuth (and that is a worship for a number of nights) before returning to his family and getting provisions again for this purpose. He would then return to Khadija and take provisions for a like period, till Truth came upon him while he was in the cave of Hira'. There came to him the angel and said: Recite, to which he replied: I am not lettered. He took hold of me [the Apostle said] and pressed me, till I was hard pressed; thereafter he let me off and said: Recite. I said: I am not lettered. He then again took hold of me and pressed me for the second time till I was hard pressed and then let me off and said: Recite, to which I replied: I am not lettered. He took hold of me and pressed me for the third time, till I was hard pressed and then let me go and said: Recite in the name of your Lord Who created, created man from a clot of blood. Recite. And your most bountiful Lord is He Who taught the use of pen, taught man what he knew not (al-Qur'an, xcvi. 1-4). Then the Prophet returned therewith, his heart was trembling, and he went to Khadija and said: Wrap me up, wrap me up! So they wrapped him till the fear had left him. He then said to Khadija: O Khadija! what has happened to me? and he informed her of the happening, saying: I fear for myself. She replied: It can't be. Be happy. I swear by Allah that He shall never humiliate you. By Allah, you join ties of relationship, you speak the truth, you bear people's burden, you help the destitute, you entertain guests, and you help against the vicissitudes which affect people. Khadija then took him to Waraqa b. Naufal b. Asad b. 'Abd al-'Uzza, and he was the son of Khadija's uncle, i. e., the brother of her father. And he was the man who had embraced Christianity in the Days of Ignorance (i. e. before Islam) and he used to write books in Arabic and, therefore, wrote Injil in Arabic as God willed that he should write. He was very old and had become blind Khadija said to him: O uncle! listen to the son of your brother. Waraqa b. Naufal said: O my nephew! what did you see? The Messenger of Allah (ﷺ), then, informed him what he had seen, and Waraqa said to him: It is namus that God sent down to Musa. Would that I were then (during your prophetic career) a young man. Would that I might be alive when your people would expel you! The Messenger of Allah (ﷺ) said: Will they drive me out? Waraqa said: Yes. Never came a man with a like of what you have brought but met hostilities. If I see your day I shall help you wholeheartedly
یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے حدیث سنائی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کا آغاز سب سے پہلے نیند میں سچےخواب آنے سے ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ جو خواب بھی دیکھتے اس کی تعبیر صبح کے روشن ہونے کی طرح سامنے آ جاتی ، پھر خلوت نشینی آپ کو محبوب ہو گئی ، آپ غار حراء میں خلوت اختیار فرماتے اور گھر واپس جا کر ( دوبارہ ) اسی غرض کے لیے زاد راہ لانے سے پہلے ( مقررہ ) تعداد مں راتیں تحنث میں مصروف رہتے ، تحنث عبادت گزاری کو کہتے ہیں ، ( اس کے بعد ) آپ پھر خدیجہ ؓ کے پاس واپس آ کر ، اتنی ہی راتوں کے لیے زاد ( سامان خور و نوش ) لے جاتے ، ( یہ سلسلہ چلتا رہا ) یہاں تک کہ اچانک آپ کے پاس حق ( کا پیغام ) آ گیا ، اس وقت آ پ غار حراء ہی میں تھے ، چنانچہ آپ کے فرشتہ آیا اور کہا : پڑھیے! آپ نے جواب دیا : میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں ، آپ نے فرمایا : تو اس ( فرشتے ) نے مجھے پکڑ کر زور سے بھینچا یہاں تک کہ ( اس کا دباؤ ) میری برداشت کی آخری حد کو پہنچ گیا ، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا : پڑھیے ! میں میں نے کہا : میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں ، پھر اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی اور دوبارہ بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی ، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا : پڑھیے! میں نے کہا : میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں ، پھر اس نے تیسری دفعہ مجھے پکڑ کر پوری قوت سے بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی ، پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا : ’’اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا ، اس نے انسان کو گوشت کے جونک جیسے لوتھڑے سے پیدا کیا ، پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑھ کر کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے تعلیم دی اور انسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا ۔ ‘ ‘ رسول اللہ ﷺ ان آیات کے ساتھ واپس لوٹے ، ( اس وقت ) آپ کے کندھوں اور گردن کے درمیان کے گوشت کے حصے لرز رہے تھے یہاں تک کہ آپ خدیجہ ؓ کے پاس پہنچے اور فرمایا : ’’مجھے کپڑے اوڑھا ؤ ، مجھے کپڑا اوڑھا ؤ ۔ ‘ ‘ انہوں ( گھر والوں ) نے کپڑا اوڑھا دیا دیا یہاں تک کہ آپ کا خوف زائل ہو گیا تو آپ نے حضرت خدیجہؓ سے کہا : ’’ خدیجہ ! یہ مجھے کیا ہوا ہے ؟ ‘ ‘ خدیجہ نے جواب دیا : ہر گز نہیں ! ( بلکہ ) آپ کو خوش خبری ہو اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا ، اللہ کی قسم ! آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ، سچی بات کہتے ہیں ، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں ، اسے کما کر دیتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو ، مہمان نوازی کرتے ہیں ، حق کے لیے پیش آنےوالی مشکلات میں اعانت کرتے ہیں ، پھر خدیجہؓ آپ کو لے کر ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبد العزیٰ کے پاس پہنچیں ، وہ حضرت خدیجہ ؓ کے چچازاد ، ان کووالد کے بھائی کے بیٹے تھے ، وہ ایسے آدمی تھے جو جاہلیت کے دور میں عیسائی ہو گئے تھے ، عربی خط میں لکھتے تھے ، اور جس قدر الہ کو منظور تھا ، انجیل کوعربی زبان میں لکھتے تھے ، بہت بوڑھے تھے اور بینائی جاتی رہی تھی ۔ خدیجہ ؓ نے ان سےکہا : چچا! اپنے بھتیجے کی بات سنیے ، ورقہ بن نوفل نے پوچھا : برادرز دے! آپ کیا دیکھتے ہیں ؟ رسول ا للہ ﷺ نے جو کچھ دیکھا تھا ، ا س کا حال بتایا تو ورقہ نے آپ سے کہا : یہ وہی ناموس ( رازوں کا محافظ ) ہے جسے موسیٰ علیہ السلام کی طرف بھیجا گیا تھا ، کاش ! اس وقت میں جوان ہوتا ، کا ش! میں اس وقت زندہ ( موجود ) ہوں جب آپ کی قوم آپ کو نکال دیں گی ۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا؟ ’’ تو کیا یہی لوگ مجھے نکالنے والے ہوں گے؟ ‘ ‘ ورقہ نے کہا : ہاں ، کبھی کوئی آدمی آپ جیسا پیغام لے کر نہیں آیا مگر اس سے دشمنی کی گئی اور اگر آپ کا ( وہ ) دن میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی بھر پور مدد کروں گا ۔
Sahih Muslim 1:310sahih
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَجَعَ إِلَى خَدِيجَةَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِمَا مِنْ قَوْلِهِ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْوَحْىِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ . وَتَابَعَ يُونُسَ عَلَى قَوْلِهِ فَوَاللَّهِ لاَ يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا . وَذَكَرَ قَوْلَ خَدِيجَةَ أَىِ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ .
This hadith has been reported from 'A'isha by another chain of transmitters and the words are:He (the Holy Prophet) came to Khadija an his heart was trembling. The rest of the hadith has been narrated like one transmitted by Yunus and Ma'mar, but the first part is not mentioned, i. e. the first thing with which was started the revelation to the Prophet was the true vision. And these words like those transmitted by Yunus are mentioned thus: By Allah, Allah would never humiliate you. And there is also a mention of the words of Khadija: O son of my uncle! Listen to the son of your brother
عقیل بن خالد نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے کہا : میں نے عروہ بن زبیر کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت خدیجہؓ کے پاس آئے ، آپ کا دل شدت سے دھڑک رہا تھا..... پھر ( عقیل نے ) یونس اور معمر کی طرح حدیث بیان کی ۔ اور ان دونوں کی روایت کا ابتدائی حصہ ، یعنی ان کا یہ قول کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کا آغاز سچے خوابوں کی صورت میں ہوا ، بیان ہیں کیا ۔ نیز عقیل بن خالد نے یونس کے ان الفاظ فوالله !لا يخزيك الله أبداً ’’ اللہ کی قسم ! اللہ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا ‘ ‘ میں متابعت کرنے کے ساتھ حضرت خدیجہ ؓ کا یہ قول بھی ذکر کیا ہے : ’’ چچا کے بیٹے ! اپنے بھتیجے کی بات سنیں ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim 1:344sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ يَا أَبَا عَائِشَةَ ثَلاَثٌ مَنْ تَكَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ . قُلْتُ مَا هُنَّ قَالَتْ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ . قَالَ وَكُنْتُ مُتَّكِئًا فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْظِرِينِي وَلاَ تَعْجَلِينِي أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَلَقَدْ رَآهُ بِالأُفُقِ الْمُبِينِ} { وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} . فَقَالَتْ أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الأُمَّةِ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ لَمْ أَرَهُ عَلَى صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ " . فَقَالَتْ أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ { لاَ تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ} أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ { وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولاً فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ} قَالَتْ وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَمَ شَيْئًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ وَاللَّهُ يَقُولُ { يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ} . قَالَتْ وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يُخْبِرُ بِمَا يَكُونُ فِي غَدٍ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ وَاللَّهُ يَقُولُ { قُلْ لاَ يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ الْغَيْبَ إِلاَّ اللَّهُ} .
It is narrated on the authority of Masruq that he said:I was resting at (the house of) 'A'isha that she said: O Abu 'A'isha (kunya of Masruq), there are three things, and he who affirmed even one of them fabricated the greatest lie against Allah. I asked that they were. She said: He who presumed that Muhammad (ﷺ) saw his Lord (with his ocular vision) fabricated the greatest lie against Allah. I was reclining but then sat up and said: Mother of the Faithful, wait a bit and do not be in a haste. Has not Allah (Mighty and Majestic) said:" And truly he saw him on the clear horizon" (Al-Qur'an, Surat at-Takwir, 81:23) and" he saw Him in another descent" (Al-Qur'an, Surat Najm 53:13)? She said: I am the first of this Ummah who asked the Messenger of Allah (ﷺ) about it, and he said: Verily he is Gabriel. I have never seen him in his original form in which he was created except on those two occasions (to which these verses refer); I saw him descending from the heaven and filling (the space) from the sky to the earth with the greatness of his bodily structure. She said: Have you not heard Allah saying: "Eyes comprehend Him not, but He comprehends (all) vision. and He is Subtle, and All-Aware" (Al-Qur'an, Surat al-An`am 6:103)? (She, i.e. 'A'isha, further said): Have you not heard that, verily, Allah says: "And it is not for any human being that Allah should speak to him except by revelation or from behind a partition or that He sends a messenger to reveal, by His permission, what He wills. Indeed, He is Most High and Wise." (Al-Qur'an, Surat ash-Shura, 42:51) She said: He who presumes that the Messenger of Allah (ﷺ) concealed anything from the Book of Allah fabricates the greatest lie against Allah. Allah says: "O Messenger, announce that which has been revealed to you from your Lord, and if you do not, then you have not conveyed His message. And Allah will protect you from the people. Indeed, Allah does not guide the disbelieving people." (Al-Qur'an, Surat al-Ma'idah, 5:67). She said: He who presumes that he would inform about what was going to happen tomorrow fabricates the greatest lie against Allah. And Allah says "Say, 'None in the heavens and earth knows the unseen except Allah , and they do not perceive when they will be resurrected.'" (Al-Qur'an, Surat an-Naml, 27:)
اسماعیل بن ابراہیم نے داود سے ، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا : میں حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا تھا کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : ابو عائشہ ! ( یہ مسروق کی کنیت ہے ) تین چیزیں ہیں جس نے ان میں سے کوئی بات کہی ، اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا ، میں نے پوچھا : وہ باتیں کون سی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : جس نے یہ گمان کیا کہ محمدﷺ نے اپنےرب کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا ۔ انہوں نےکہا : میں ٹیک لگائے ہوئے تھا تو ( یہ بات سنتے ہی ) سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور کہا : ام المومنین !مجھے ( بات کرنے کا ) موقع دیجیے اور جلدی نہ کیجیے ، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا : ’’ بےشک انہوں نے اسے روشن کنارے پر دیکھا ‘ ‘ ( اسی طرح ) ’’اور آپ ﷺ نے اسے ایک بار اترتے ہوئے دیکھا ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : میں اس امت میں سب سے پہلی ہوں جس نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سےسوال کیا تو آپ نے فرمایا : ’’ وہ یقیناً جبرئیل ہیں ، میں انہیں اس شکل میں ، جس میں پیدا کیے گئے ، دو دفعہ کے علاوہ کبھی نہیں دیکھا : ایک دفعہ میں نے انہیں آسمان سے اترتے دیکھا ، ان کے وجود کی بڑائی نے آسمان و زمین کےدرمیان کی وسعت کو بھر دیا تھا ‘ ‘ پھر ام المومنین نے فرمایا : کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا : ’’ آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ آنکھوں کا ادراک کرتا ہے اور وہ باریک بین ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے ‘ ‘ اور کیا تم نے یہ نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’ اور کسی بشر میں طاقت نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے ذریعے سے یا پردے کی اوٹ سے یا وہ کسی پیغام لانےوالا ( فرشتے ) کو بھیجے تو وہ اس کے حکم سے جو چاہے وحی کرے بلاشبہ وہ بہت بلند اوردانا ہے ۔ ‘ ‘ ( ام المومنین نے ) فرمایا : جوشخص یہ سمجھتا ہے کہ رسول ا للہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے کچھ چھپا لیا تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’اے رسول ! پہنچا دیجیے جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا اور اگر ( بالفرض ) آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کا پیغام نہ پہنچایا ( فریضئہ رسالت ادا نہ کیا ۔ ) ‘ ‘ ( اور ) انہوں نے فرمایا : اور جوشخص یہ کہے کہ آپ اس بات کی خبر دے دیتے ہیں کہ کل کیا ہو گا تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’ ( اے نبی! ) فرما دیجیے ! کوئی ایک بھی جو آسمانوں اور زمین میں ہے ، غیب نہیں جانتا ، سوائے اللہ کے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim 1:356sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ نَاسًا قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ " . قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ " . قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ . فَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ وَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ وَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ وَتَبْقَى هَذِهِ الأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي صُورَةٍ غَيْرِ صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ . فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ . فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ تَعَالَى فِي صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ . فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا . فَيَتَّبِعُونَهُ وَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَىْ جَهَنَّمَ فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ وَلاَ يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ إِلاَّ الرُّسُلُ وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ . وَفِي جَهَنَّمَ كَلاَلِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ هَلْ رَأَيْتُمُ السَّعْدَانَ " . قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهُ لاَ يَعْلَمُ مَا قَدْرُ عِظَمِهَا إِلاَّ اللَّهُ تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمُ الْمُؤْمِنُ بَقِيَ بِعَمَلِهِ وَمِنْهُمُ الْمُجَازَى حَتَّى يُنَجَّى حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ بِرَحْمَتِهِ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَمَرَ الْمَلاَئِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا مِمَّنْ أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَرْحَمَهُ مِمَّنْ يَقُولُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . فَيَعْرِفُونَهُمْ فِي النَّارِ يَعْرِفُونَهُمْ بِأَثَرِ السُّجُودِ تَأْكُلُ النَّارُ مِنِ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ أَثَرَ السُّجُودِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ . فَيُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ وَقَدِ امْتَحَشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ مِنْهُ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ ثُمَّ يَفْرُغُ اللَّهُ تَعَالَى مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ وَيَبْقَى رَجُلٌ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ وَهُوَ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولاً الْجَنَّةَ فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ فَإِنَّهُ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا فَيَدْعُو اللَّهَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَهُ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فَعَلْتُ ذَلِكَ بِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ . فَيَقُولُ لاَ أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ . وَيُعْطِي رَبَّهُ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ مَا شَاءَ اللَّهُ فَيَصْرِفُ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ فَإِذَا أَقْبَلَ عَلَى الْجَنَّةِ وَرَآهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ ثُمَّ يَقُولُ أَىْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ . فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ لاَ تَسْأَلُنِي غَيْرَ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ . فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ وَيَدْعُو اللَّهَ حَتَّى يَقُولَ لَهُ فَهَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ . فَيَقُولُ لاَ وَعِزَّتِكَ . فَيُعطِي رَبَّهُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ فَيُقَدِّمُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا قَامَ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ فَرَأَى مَا فِيهَا مِنَ الْخَيْرِ وَالسُّرُورِ فَيَسْكُتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ ثُمَّ يَقُولُ أَىْ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ . فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ أَنْ لاَ تَسْأَلَ غَيْرَ مَا أُعْطِيتَ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ . فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ لاَ أَكُونُ أَشْقَى خَلْقِكَ . فَلاَ يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ فَإِذَا ضَحِكَ اللَّهُ مِنْهُ قَالَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ . فَإِذَا دَخَلَهَا قَالَ اللَّهُ لَهُ تَمَنَّهْ . فَيَسْأَلُ رَبَّهُ وَيَتَمَنَّى حَتَّى إِنَّ اللَّهَ لَيُذَكِّرُهُ مِنْ كَذَا وَكَذَا حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ " . قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ لاَ يَرُدُّ عَلَيْهِ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا . حَتَّى إِذَا حَدَّثَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ اللَّهَ قَالَ لِذَلِكَ الرَّجُلِ وَمِثْلُهُ مَعَهُ . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا حَفِظْتُ إِلاَّ قَوْلَهُ ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَشْهَدُ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَوْلَهُ ذَلِكَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولاً الْجَنَّةَ .
Abu Haraira reported:The people said to the Messenger of Allah (ﷺ): Messenger of Allah, shall we see our Lord on the Day of Resurrection? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do you feel any trouble in seeing the moon on the night when it is full? They said: Messenger of Allah, no. He (the Messenger) further said: Do you feel any trouble in seeing the sun, when there is no cloud over it? They said: Messenger of Allah. no. He (the Holy Prophet) said: Verily you would see Him like this (as you see the sun and the moon). God will gather people on the Day of Resurrection and say: Let every people follow what they worshipped. Those who worshipped the sun would follow the sun, and those who worshipped the moon would follow the moon, and those who worshipped the devils would follow the devils. This Ummah (of Islam) alone would be left behind and there would be hypocrites too amongst it. Allah would then come to them in a form other than His own Form, recognisable to them, and would say: I am your Lord. They would say: We take refuge with Allah from thee. We will stay here till our Lord comes to us. and when our Lord would come we would recognise Him. Subsequently Allah would come to them in His own Form, recognisable to them, and say: I am your Lord. They would say: Thou art our Lord. And they would follow Him, and a bridge would be set over the Hell; and I (the Holy Prophet) and my Ummah would be the first to pass over it; and none but the messengers would speak on that day, and the prayer of the messengers on that day would be: O Allah! grant safety, grant safety. In Hell, there would be long spits like the thorns of Sa'dan He (the Holy Prophet) said: Have you seen Sa'dan? They replied: Yes, Messenger of Allah. He said: Verily those (hooks) would be like the thorns of Sa'dan, but no one knows their size except Allah. These would seize people for their misdeeds. Some of them would escape for their (good) deeds, and some would be rewarded for their deeds till they get salvation. When Allah would finish judging His bondsmen and because of His mercy decide to take out of Hell such people as He pleases. He would command the angels to bring out those who had not associated anything with Allah; to whom Allah decided to show mercy. those who would say: There is no god but Allah. They (the angels) would recognise them in the Fire by the marks of prostration, for Hell-fire will devour everything (limb) of the sons of Adam except the marks of prostration. Allah has forbidden the fire to consume the marks of prostration. They will be taken out of the Fire having been burnt, and the water of life would be poured over them, and they will sprout as seed does In the silt carried by flood. Then Allah would finish judging amongst His bondsmen; but a man who will be the last to enter Paradise will remain facing Hell and will say: O my Lord I turn my face away from Hell, for its air has poisoned me ard its blaze has burnt me. He will then call to Allah as long as Allah would wish that he should call to Him. Then Allah, Blessed and Exalted, would say: If I did that, perhaps you would ask for more than that. He would say: I would not ask You more than this, and he would give his Lord covenants and agreements as Allah wished, and so He would turn his face away from the Fire When he turns towards the Paradise and sees it, he will remain silent as long as Allah wishes him to remain so. He will then say: O my Lord I bring me forward to the gate of the Paradise. Allah would say to him: Did you not give covenants and agreements that you would not ask for anything besides what I had given you. Woe to thee! O son of Adam, how treacherous you are! He would say: O my Lord! and would continue calling to Allah till He would say to him: If I grant you that, perhaps you will ask for more. He will reply: No, by Thy greatness, and he will give His Lord promises and covenants as Allah had wished. He would then bring him to the gate of the Paradise, and when he would stand at the gate of the Paradise, it would lay open before him. and he would see the bounty and the joy that there is in it. He would remain quiet as long as Allah would desire him to remain silent. He would then say: O my Lord, admit me to Paradise. Allah. Blessed and Exalted, would say: Did you not give covenants and agreements that you would not ask for anything more than what I had granted you? Woe to you! son of Adam, how treacherous you are! And he would say: O my Lord, I do not wish to be the most miserable of Thy creatures. He would continue calling upon Allah till Allah, Blessed and Exalted, would laugh. When Allah would laugh at him, He would say: Enter the Paradise. When he would enter, Allah would say: State your wish. He would express his wishes till Allah would remind him (the desire of) such and such (things). When his desires would be exhausted Allah would say: That is for thee and, besides it, the like of it also. 'Ata' b. Yazid said: Abu Sa'id al-Khudri was with Abu Huraira and be did not reject anything from the hadith narrated by him, but when Abu Huraira narrated:" Allah said to that man; ind its like along with it," Abu Sa'id said:" Ten like it along with it," O Abu Huraira. Abu Huraira said: I do not remember except the words:" That is for you and a similar one along with it." Abu Sa'id said: I bear witness to the fact that I remembered from the Messenger of Allah (ﷺ) his words:" That is for thee and ten like it." Abu Huraira said: That man was the last of those deserving of Paradise to enter Paradise
یعقوب بن ابراہیم نے حدیث بیان کی ، کہا : میرے والد نے ہمیں ابن شہاب زہری سے حدیث سنائی ، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے روایت کی کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا : کچھ لوگوں نے رسو ل اللہ ﷺ سے عرض کی کہ اللہ کے رسول ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کیا تمہیں پورے چاند کی رات کو چاند دیکھنے میں کوئی دقت محسوس ہوتی ہے ؟ ‘ ‘ لوگوں نے کہا : نہیں ، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا : ’’ جب بادل حائل نہ ہوں تو کیا سورج دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت محسوس ہوتی ہے ؟ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : نہیں ، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ’’ تم اسے ( اللہ ) اسی طرح دیکھو گے ، اللہ تعالیٰ قیامت کےدن تمام لوگوں کو جمع کرے گا ، پھر فرمائے گا : جو شخص جس چیز کی عبادت کرتا تھا اسی کے پیچھے چلا جائے ، چنانچہ جوسورج کی پوجا کرتا تھا وہ سورج کے پیچھے چلا جائے گا ، جو چاند کی پرستش کرتا تھا وہ ا س کے پیچھے چلا جائے گااور جو طاغوتوں ( شیطانوں ، بتوں وغیرہ ) کی پوجا کرتا تھا وہ طاغوتی کے پیچھے چلا جائے گا اور صرف یہ امت ، اپنے منافقوں سمیت ، باقی رہ جائے گی ۔ اس پر اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے پاس اپنی اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچان سکتےہوں گے ، پھر فرمائے گا : میں تمہارارب ہوں ۔ وہ کہیں گے : ہم تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ، ہم اسی جگہ ٹھہرے رہیں گے یہاں تک کہ ہمارارب ہمارے پاس آ جائے ، جب ہمارا رب آئے گا ہم اسے پہچان لیں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جس میں وہ اس کو پہچانتے ہوں گے اور فرمائے گا : میں تمہارا پروردگار ہوں ۔ وہ کہیں گے ، تو ( ہی ) ہمارا رب ہے اور اس کے ساتھ ہو جائیں گے ، پھر ( پل ) صراط جہنم کے درمیانی حصے پر رکھ دیا جائے گاتو میں اور امت سب سے پہلے ہوں گے جو اس سے گزریں گے ۔ اس دن رسولوں کے سوا کوئی بول نہ سکے گا ۔ اور رسولوں کو پکار ( بھی ) اس دن یہی ہو گی : اے اللہ ! سلامت رکھ ، سلامت رکھ ۔ اور دوزخ میں سعدان کے کانٹوں کی طرح مڑے ہوئے سروں والے آنکڑے ہوں گے ، کیا تم نے سعدان دیکھا ہے ؟ ‘ ‘ صحابہ نے جواب دیا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول !آپ نے فرمایا : ’’وہ ( آنکڑے ) سعدان کے کانٹوں کی طرح کے ہوں گے لیکن وہ کتنے بڑے ہوں گے اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ، وہ لوگ کو ان کے اعمال کا بدلہ چکانا ہوگا ۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہو جائے گا اور ارادہ فرمائے گا کہ اپنی رحمت سے ، جن دوزخیوں کو چاہتا ہے ، آگ سے نکالے تو وہ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ان لوگوں میں سے جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے ، لا الہ الا اللہ کہنے والوں میں سے جن پر اللہ تعالیٰ رحمت کرنا چاہے گا انہیں آگ سے نکال لیں ۔ فرشتے ان کو آگ میں پہچان لیں گے ۔ وہ ا نہیں سجدوں کے نشان سے پہچانیں گے ۔ آگ سجدے کے نشانات کے سوا ، آدم کے بیٹے ( کی ہر چیز ) کو کھا جائے گی ۔ ( کیونکہ ) اللہ تعالیٰ نے آگ پر سجدے کے نشانات کو کھانا حرام کر دیا ہے ، چنانچہ وہ اس حال میں آگ سے نکالے جائیں گےکہ جل کر کوئلہ بن گئے ہوں گے ، ان پر آپ حیات ڈالا جائے گا تو وہ اس کے ذریعے سے اس طرح اگ آئیں گے ، جیسے سیلاب کی لائی ہوئی مٹی میں گھاس کا بیج پھوٹ کر اگ آتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہو جائے گا ۔ بس ایک شخص باقی ہو گا ، جس نے آگ کی طرف منہ کیا ہو ا ہو گا ، یہی آدمی ، تمام اہل جنت میں سے ، جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہو گا ۔ وہ عرض کرے گا : میرا باپ ! میرا چہرہ آگ سے پھیر دے کیونکہ اس کی بدبونے میری سانسوں میں زہر بھر دیا ہے اور اس کی تپش نے مجھے جلا ڈالا ہے ، چنانچہ جب تک اللہ کو منظور ہو گا ، وہ اللہ کو پکارتا رہے گاپھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا : کیا ایسا ہو گا کہ اگر میں تمہارے ساتھ یہ ( حسن سلوک ) کر دوں تو تم کچھ اور مانگنا شروع کر دو گے؟وہ عرض کرے گا : میں تجھ سے اور کچھ نہیں مانگوں گا ۔ وہ اپنے رب عز وجل کو جو عہد و پیمان وہ ( لینا ) چاہے گا ، دے گا ، تو اللہ اس کا چہرہ دوزخ سے پھیر دے گاجب وہ جنت کی طرف رخ کرے گا اور اسے دیکھا گا تو جتنی دیر اللہ چاہے گا کہ وہ چپ رہے ( اتنی دیر ) چپ رہے گا ، پھر کہے گا : میرا رب! مجھے جنت کے دروازے تک آگے کر دے ، اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا : کیا تم نے عہد و پیمان نہیں دیے تھے کہ جو کچھ میں نے تمہیں عطاکر دیا ہے اس کےسوا مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے؟ تجھ پر ا فسوس ہے ! آدم کے بیٹے ! تم کس قدر عہد شکن ہو ! وہ کہے گا : اے میرے رب ! اور اللہ سے دعا کرتا رہے گا حتی کہ اللہ اس سے کہے گا : کیا ایسا ہو گا کہ اگر میں نے تمہیں یہ عطا کر دیا تو اس کے بعد تو اور کچھ مانگنا شروع کر دے گا؟ وہ کہے گا : تیری عزت کی قسم ! ( اور کچھ ) نہیں ( مانگوں گا ۔ ) وہ اپنے رب کو ، جواللہ چاہے گا ، عہد و پیمان دے گا ، اس پر اللہ اسے جنت کے دروازے تک آگے کر دے گا ، پھرجب وہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہو گا تو جنت اس کے سامنے کھل جائے گی ۔ اس میں جو خیر اور سرور ہے وہ اس کو ( اپنی آنکھوں سے ) دیکھے گا ۔ تو جب تک اللہ کو منظور ہو گا وہ خاموش رہے گا ، پھر کہے گا : میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے ، تو اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا ، کیا تو نے پختہ عہد و پیمان نہ کیے تھے کہ جو کچھ تجھے دے دیا گیا ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں مانگے گا؟ ابن آدم تجھ پر افسوس! تو کتنا بڑا وعدہ شکن ہے ۔ وہ کہے گا : اے میرے رب ! میں تیری مخلوق کا سب سے زیادہ بدنصیب شخص نہ بنوں ، وہ اللہ تعالیٰ کو پکارتا رہے گا حتی کہ اللہ عزوجل اس پر ہنسے گا اور جب اللہ تعالیٰ ہنسے گا ( تو ) فرمائے گا : جنت میں داخل ہو جا ۔ جب وہ اس میں داخل ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، تمنا کر ! تو وہ اپنے رب سے مانگے گا اور تمنا کرے گا یہاں تک کہ اللہ اسے یاد دلائے گا ، فلاں چیز ( مانگ ) فلاں چیز ( مانگ ) حتی کہ جب اس کی تمام آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تواللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ سب کچھ تیرا ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی ۔ ‘ ‘ عطاء بن یزید نے کہا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے ، انہوں نے ان کی کسی بات کی تردید نہ کی لیکن جب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے فرمائے گا : ’’ یہ سب کچھ تیرا ہوا اور اس کے ساتھ اتناہی اور بھی ‘ ‘ تو ابوسعید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : ابو ہریرہ! اس کے ساتھ اس سے دس گنا ( اور بھی ) ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے تو آپ کا یہی فرمان یاد ہے : ’’یہ سب کچھ تیرا ہے اور اس کے ساتھ اتناہی اور بھی ۔ ‘ ‘ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن کر آپ کا یہ فرمان دیکھا ہے : ’’ یہ سب تیرا ہوا اور اس سے دس گنا اور بھی ۔ ‘ ‘ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ جنت میں داخل ہونے والا سب سے آخری شخص ہو گا
Sahih Muslim 4:236sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ أَلاَ وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ " .
Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) drew aside the curtain (of his apartment) and (he saw) people in rows (saying prayer) behind Aba Bakr. And he said: Nothing remains of the glad tidings of apostlehood, except good visions which a Muslim sees or someone is made to see for him. And see that I have been forbidden to recite the Qur'an in the state of bowing and prostration. So far as Ruk'u is concerned, extol in it the Great and Glorious Lord, and while prostrating yourselves be earnest in supplication, for it is fitting that your supplications should be answered
سعید بن منصور ، ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی کہ مجھے سلیمان بن سحیم نے خبر دی ، انہوں نے ابراہیم بن عبد اللہ بن معبد سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے ( دروازے کا ) پردہ اٹھایا ( اس وقت ) لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف بستہ تھے ۔ آپ نے فرمایا : ’’لوگو! نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں جو مسلمان خود دیکھے گا یا اس کے لیے کسی دوسرے کو ) دکھایا جائے گا ۔ خبردار رہو! بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ، جہاں تک رکوع کا تعلق ہے اس میں اپنے رب عزوجل کی عظمت وکبریائی بیان کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے اس میں خوب دعا کرو ، ( یہ دع اس ) لائق ہے کہ تمہارے حق میں قبول کر لی جائے ۔ ‘ ‘ امام مسلم کے اساتذہ میں سے ایک استاد ابو بکر بن ابی شیبہ نے حدیث یبان کرتے ہوئے ( ’’مجھے سلیمان نے خبر دی ‘ ‘ کے بجائے ) سلیمان سے روایت ہے ، کہا ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim 4:237sahih
قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السِّتْرَ وَرَأْسُهُ مَعْصُوبٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ " . ثَلاَثَ مَرَّاتٍ " إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الرُّؤْيَا يَرَاهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ أَوْ تُرَى لَهُ " . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُفْيَانَ .
Abdullah b. 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) drew aside the curtain and his head was bandaged on account of illness in which he died. He said: O Allah, have I not delivered (Thy Message)? (He repeated it) three times. Nothing has been left out of the glad tidings of apostlebood, but good vision. which a pious servant (of Allah) sees or someone else is made to see for him. He then narrated like the hadith transmitted by Sufyan
۔ اسماعیل بن جعفر نے سلیمان سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے پردہ اٹھایا ، اس مرض کے عالم میں جس میں آپ کا انتقال ہوا ، آپ کا سر پٹی سے بندھا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : ’’اے اللہ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ ‘ ‘ تین بار ( یہ الفاظ کہے ، پھر فرمایا : ) ’’نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں جو کوئی نیک انسان خود دیکھے گا یا اس کے لیے ( دوسرے کو ) دکھائے جائیں گے ... ‘ ‘ اس کے بعد اسماعیل نے سفیان کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Sahih Muslim 42:1sahih
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا أُعْرَى مِنْهَا غَيْرَ أَنِّي لاَ أُزَمَّلُ حَتَّى لَقِيتُ أَبَا قَتَادَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ حُلْمًا يَكْرَهُهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلاَثًا وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ " .
Abu Salama reported:I used to see dreams (and was so much perturbed) that I began to quiver and have temperature, but did not cover myself with a mantle. I met Abu Qatada and made a mention of that to him. He said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: A good vision comes from Allah and a (bad) dream (hulm) from devil. So when one of you sees a bad dream (hulm) which he does not like, he should spit on his left side thrice and seek refuge with Allah from its evil; then it will not harm him
عمرو ناقد ، اسحٰق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر ، سب نے ابن عیینہ سے روایت کی ، الفاظ ابن ابی عمر کے ہیں ، کہا : ہمیں سفیان نے زہریسے ، انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی ، کہا : میں خواب دیکھتا تھا اور اس سے بخار اور کپکپی جیسی کیفیت میں مبتلا ہو جا تا تھا ، بس میں چادرنہیں اوڑھتا تھا یہاں تک کہ میں حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور انھیں یہ بات بتا ئی تو انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا ، آپ نے فر مارہے تھے : " ( سچا ) خواب اللہ کی طرف سے ہے اور ( برا ) خواب شیطان کی طرف سے ، تم میں سے کو ئی شخص جب ایسا خواب دیکھے جو اسے برالگے تو وہ اپنی بائیں جانب تین بار تھوک دے اور ( جو اس نے دیکھا ) اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرے تو وہ اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچائے گا ۔
Sahih Muslim 42:4sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَنْفِثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ " . فَقَالَ إِنْ كُنْتُ لأَرَى الرُّؤْيَا أَثْقَلَ عَلَىَّ مِنْ جَبَلٍ فَمَا هُوَ إِلاَّ أَنْ سَمِعْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَمَا أُبَالِيهَا .
Abu Qatada reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A good vision is from Allah and a bad dream (hulm) is from the satan; so if one of you sees anything (in a dream) which he dislikes, he should spit on his left side thrice and seek refuge with Allah from its evil, and then it will never harm him. Abu Salama said: I used to see dreams weighing more heavily upon me than a mountain; but since I heard this hadith I don't care for it (its burden)
ابو سلمہ بن عبد الرحمان نے کہا : میں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہتے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہوئے سنا ، " ( سچا ) خواب اللہ کی جانب سے ہے اور ( برا ) خواب شیطا ن کی طرف سے ہے ، جب تم میں سے کو ئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے برا لگے تو وہ اپنی بائیں جانب تین بار تھوک دے اور اس ( خواب ) کے شر سے اللہ کی پناہ مانگےتو وہ خواب اسے ہر گز نقصان نہیں پہنچاسکے گا ۔ " تو ( ابو سلمہ نے ) کہا : بعض اوقات میں ایسا خواب دیکھتا جو مجھ پر پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہو تا تھا ، پھر یہی ہوا کہ میں نے یہ حدیث سنی تو اب میں اس کی پروانہیں کرتا ۔
Sahih Muslim 42:6sahih
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ وَالرُّؤْيَا السَّوْءُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَمَنْ رَأَى رُؤْيَا فَكَرِهَ مِنْهَا شَيْئًا فَلْيَنْفِثْ عَنْ يَسَارِهِ وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ لاَ تَضُرُّهُ وَلاَ يُخْبِرْ بِهَا أَحَدًا فَإِنْ رَأَى رُؤْيَا حَسَنَةً فَلْيُبْشِرْ وَلاَ يُخْبِرْ إِلاَّ مَنْ يُحِبُّ " .
Abu Qatada reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The good vision are from Allah and the evil dreams are from the satan. If one sees a dream which one does not like, one should spit on one's left side and seek the refuge of Allah from the satan; it will not do one any harm, and one should not disclose it to anyone and if one sees a good vision one should feel pleased but should not disclose it to anyone but whom one loves
عمرو بن حارث نے عبد ربہ بن سعید سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے ، انھوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فر ما یا : " اچھا خواب اللہ تعا لیٰ کی طرف سے ہے ، اور برا خواب شیطان کی جانب سے ہے ، جس شخص نے کو ئی خواب دیکھا اور اس میں سے کو ئی چیز اس کو بری لگی تو وہ ( تین بار ) اپنی بائیں جانب تھوکے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے تو وہ خواب اس کو کو ئی نقصان نہیں پہنچا ئے گا اور یہ خواب وہ کسی کو بیان نہ کرے ۔ اگر اچھا خواب دیکھے تو خوش ہو اورصرف اس کو بتا ئے جو اس سے محبت کرتا ہے ۔
Sahih Muslim 42:9sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ تَكْذِبُ وَأَصْدَقُكُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ وَالرُّؤْيَا ثَلاَثَةٌ فَرُؤْيَا الصَّالِحَةِ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ الْمَرْءُ نَفْسَهُ فَإِنْ رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ وَلاَ يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ " . قَالَ " وَأُحِبُّ الْقَيْدَ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ " . فَلاَ أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ أَمْ قَالَهُ ابْنُ سِيرِينَ .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When the time draws near (when the Resurrection is near) a believer's dream can hardly be false. And the truest vision will be of one who is himself the most truthful in speech, for the vision of a Muslim is the forty-fifth part of Prophecy, and dreams are of three types: one good dream which is a sort of good tidings from Allah; the evil dream which causes pain is from the satan; and the third one is a suggestion of one's own mind; so if any one of you sees a dream which he does not like he should stand up and offer prayer and he should not relate it to people, and he said: I would love to see fetters (in the dream), but I dislike wearing of necklace, for the fetters is (an indication of) one's steadfastness in religion. The narrator said: I do not know whether this is a part of the hadith or the words of Ibn Sirin
عبد الو ہاب ثقفیٰ نے ایوب سختیانی سے ، انھوں نے محمد بن سیرین سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرما یا : " ( قیامت کا ) زمانہ قریب آجا ئے گا تو کسی مسلمان کا خواب جھوٹا نہ نکلے گا ۔ تم میں سے ان کے خواب زیادہ سچے ہوں گے جو بات میں زیادہ سچے ہوں گے ۔ ۔ مسلمان کا خواب نبوت کے پنتالیس حصوں میں سے ایک ( پنتالیسواں ) حصہ ہے خواب تین طرح کے ہو تے ہیں ۔ اچھا خواب اللہ کی طرف سے خوش خبری ہو تی ہے ۔ ایک خواب شیطان کی طرف سے غمگین کرنے کے لیے ہوتا ہے ۔ اور ایک خواب وہ جس میں انسان خود اپنے آپ سے بات کرتا ہے ۔ ( اس کے اپنے تخیل کی کا ر فرما ئی ہو تی ہے ۔ ) اگر تم میں سے کو ئی شخص ناپسندیدہ سخواب دیکھے تو کھڑا ہو جا ئے اور نماز پڑھے اور لوگوں کو اس کے بارے میں کچھ نہ بتا ئے ۔ " فرما یا : " ( پاؤں کی ) بیڑی خواب میں دیکھنا ) مجھے پسند ہے اور گلے کا ) طوق ناپسند ہے ۔ بیڑی دین میں ثابت قدمی ( کی علامت ) ہے ۔ " ( ثقفی نے ایوب سختیانی سے نقل کرتے ہو ئے کہا : ) تو مجھے معلوم نہیں کہ یہ بات حدیث ( نبوی ) میں ہے یا بن سیرین نے کہی ہے ۔
Sahih Muslim 42:10sahih
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَيُعْجِبُنِي الْقَيْدُ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ . وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
Abu Huraira reported:I love to see fetters but I hate necklace (in a dream), for fetters signifies one's steadfastness in religion, and he also reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying: The vision of a believer is forty-sixth part of Prophecy
معمر نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور حدیث میں کہا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : تو مجھے بیڑی ( خواب میں دیکھنی ) اچھی لگتی ہے ۔ اور طوق ناپسند ہے ۔ بیڑی دین میں ثابت قدمی ( کو طاہر کرتی ) ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مسلمان کا ( سچا ) خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک ( چھیا لیسواں ) حصہ ہے ۔
Sahih Muslim 42:12sahih
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَأَدْرَجَ فِي الْحَدِيثِ قَوْلَهُ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ . إِلَى تَمَامِ الْكَلاَمِ وَلَمْ يَذْكُرِ " الرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
Muhammad b. Sirin reported from Abu Huraira a hadith from Allah's Apostle (ﷺ) and he mentioned in his hadith his words:"I dislike shackles," up to the end of his statement, but he made no mention of this: "A vision is a forty-sixth part of Prophecy
قتادہ نے محمد بن سیرین سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، انھوں نے ( قتادہ ) نے ان ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے اس قول کو حدیث کے ساتھ ملا دیا : " مجھے طوق ناپسند ہے " حدیث کے آخر تک اور انھوں نے یہ نہیں کہا : " ( اچھا ) کواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے ۔
Sahih Muslim 42:13sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ، اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
Ubada b. as-Samit reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The vision of a believer is the forty-sixth part of Prophecy
محمد بن جعفر ، ابو داود عبد الرحمٰن بن مہدی اور معاذ عنبری ۔ الفاظ انھی کے ہیں ۔ ان سب نے شعبہ سے روایت کی ، انھوں نے قتادہ سے انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے عباد د بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ایک مو من کا رؤیا نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے ۔
Sahih Muslim 42:15sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ، الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Verily the vision of a believer is one of the forty-sixth part of Prophecy
ابن مسیب نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " بلا شبہ مو من کا ( سچا ) خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے ۔
Sahih Muslim 42:16sahih
وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رُؤْيَا الْمُسْلِمِ يَرَاهَا أَوْ تُرَى لَهُ " . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The vision of a Muslim which he sees or which is shown to him, and in the hadith transmitted on the authority of Ibn Mushir (the words are): "The pious dream is the forty-sixth part of Prophecy
علی بن مسہر اور عبدا للہ بن نمیر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مسلمان کا ( سچا ) خواب خواہ وہ خود دیکھے یا اس کے متعلق ( کو ئی اور ) دیکھے ۔ " اور ابن مسہر کی روایت میں ہے : " اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے ۔
Sahih Muslim 42:17sahih
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رُؤْيَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The vision of a pious man is the forty-sixth part of Prophecy
عبد اللہ بن یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا : میں نے اپنے والد سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہمیں ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرما یا : " نیک انسان کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے ۔
Sahih Muslim 42:23sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَهِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَتَمَثَّلُ بِي " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who saw me in a dream in fact saw me, for the satan does not appear in my form
محمد ( بن سیرین ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو اس نے مجھی کو دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا ۔
Sahih Muslim 42:24sahih
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ أَوْ لَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ لاَ يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي " .
Abu Huraira reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: He who saw me in a dream would soon see me in the state of wakefulness, or as if he saw me in a state of wakefulness, for the satan does not appear in my form
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہو ئے سنا ، " جس شخص نے خواب میں مجھے دیکھا وہ عنقریب بیداری میں بھی مجھے دیکھ لے گا یا ( فرما یا : ) گو یا اس نے مجھ کو بیداری کے عالم میں دیکھا ، شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔
Sahih Muslim 42:25sahih
وَقَالَ فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ " .
Abu Qatada reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who saw me in dream in fact saw the truth (what is true)
۔ ( ابن شہاب نے ) کہا : ابو سلمہ نے کہا : حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس نے مجھے دیکھا اس نے سچ مچ ( سچا خواب ) دیکھا ۔
Sahih Muslim 42:35sahih
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ كَثِيرٍ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ مِمَّا يَقُولُ لأَصْحَابِهِ " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا فَلْيَقُصَّهَا أَعْبُرْهَا لَهُ " . قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ ظُلَّةً . بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
Ibn `Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) used to say to his Companions:He who amongst you sees a vision should narrate it and I would interpret it for him, and a person came and said: Allah's Messenger, I saw a canopy. The rest of the hadith is the same
سلمان بن کثیر نے زہری سے ، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رویت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین سے یہ فرمایا کرتے تھے : " تم میں سے جس شخص نے خواب دیکھا ہے ، وہ بیان کرے ، میں اس کی تعبیر بتاؤں گا ۔ " کہا : تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے ایک بادل کو سایہ فگن دیکھا ۔ جس طرح ان سب ( بیان کرنے والوں ) کی حدیث ہے ۔
Sahih Muslim 42:41sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ الْبَارِحَةَ رُؤْيَا " .
Samura b. Jundab reported that when Allah's Messenger (ﷺ) had performed his dawn prayer he turned his face towards them (that is towards his Companions) and said:Did any one of you see any vision last night?
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھنے کےبعد لوگوں کی طرف رخ کرتے اور فرماتے : " تم میں سے کسی نے گزشتہ رات کوئی خواب دیکھا؟
Sahih Muslim 55:22sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ " هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ " . قَالُوا لاَ . قَالَ " فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ " . قَالُوا لاَ . قَالَ " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ إِلاَّ كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا - قَالَ - فَيَلْقَى الْعَبْدَ فَيَقُولُ أَىْ فُلْ أَلَمْ أُكْرِمْكَ وَأُسَوِّدْكَ وَأُزَوِّجْكَ وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِبِلَ وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ فَيَقُولُ بَلَى . قَالَ فَيَقُولُ أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلاَقِيَّ فَيَقُولُ لاَ . فَيَقُولُ فَإِنِّي أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي . ثُمَّ يَلْقَى الثَّانِيَ فَيَقُولُ أَىْ فُلْ أَلَمْ أُكْرِمْكَ وَأُسَوِّدْكَ وَأُزَوِّجْكَ وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِبِلَ وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ فَيَقُولُ بَلَى أَىْ رَبِّ . فَيَقُولُ أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلاَقِيَّ فَيَقُولُ لاَ . فَيَقُولُ فَإِنِّي أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي . ثُمَّ يَلْقَى الثَّالِثَ فَيَقُولُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ آمَنْتُ بِكَ وَبِكِتَابِكَ وَبِرُسُلِكَ وَصَلَّيْتُ وَصُمْتُ وَتَصَدَّقْتُ . وَيُثْنِي بِخَيْرٍ مَا اسْتَطَاعَ فَيَقُولُ هَا هُنَا إِذًا - قَالَ - ثُمَّ يُقَالُ لَهُ الآنَ نَبْعَثُ شَاهِدَنَا عَلَيْكَ . وَيَتَفَكَّرُ فِي نَفْسِهِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْهَدُ عَلَىَّ فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ وَلَحْمِهِ وَعِظَامِهِ انْطِقِي فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ وَلَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِعَمَلِهِ وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ . وَذَلِكَ الْمُنَافِقُ وَذَلِكَ الَّذِي يَسْخَطُ اللَّهُ عَلَيْهِ " .
Abu Huraira reported that they (the Companions of the Holy Prophet) said:Allah's Messenger, will we be able to see our Lord on the Day of Judgment? He said: Do you feel any difficulty in seeing the sun in the noon when there is no cloud over it? They said: No. He again said: Do you feel any difficulty in seeing the moon on the fourteenth night when there is no cloud over it? They said: No. Thereupon he said: By Allah Who is One in Whose Hand is my life. you will not face any difficulty in seeing your Lord but only so much as you feel in seeing one of them. Then Allah would sit in judgment upon the servant and would say: O, so and so, did I not honour you and make you the chief and provide you the spouse and subdue for you horses, camels, and afforded you an opportunity to rule over your subjects? He would say: Yes. And then it would be said: Did you not think that you would meet Us? And he would say: No. Thereupon He (Allah) would say: Well, We forget you as you forgot Us. Then the second person would be brought for judgment. (And Allah would) say: 0, so and so. did We not honour you and make you the chief and make you pair and subdue for you horses and camels and afford you an opportunity to rule over your subjects? He would say: Yes, my Lord. And He (the Lord) would say: Did you not think that you would be meeting Us? And he would say: No. And then He (Allah) would say: Well, I forget you today as you forgot Us. Then the third -one would be brought and He (Allah) would say to him as He said before. And he (the third person) would say: O, my Lord, I affirmed my faith in Thee and in Thy Book and in Thy Messenger and I observed prayer and fasts and gave charity, and he would speak in good terms like this as he would be able to do. And He (Allah) would say: Well, We will bring our witnesses to you. And the man would think in his mind who would bear witness upon him and then his mouth would be sealed and it would be said to his thighs, to his flesh and to his bones to speak and his thighs. flesh and bones would bear witness to his deeds and it would be done so that he should not be able to make any excuse for himself and he would be a hypocrite and Allah would be annoyed with him
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : انھوں نے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا دوپہر کے وقت جب بادل نہ ہوں تمھیں سورج کودیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے ۔ ؟ "" انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : "" چودھویں کی رات کو جب بادل نہ ہوں تو کیا تمھیں چاند کو دیکھنے میں کو ئی زحمت ہوتی ہے؟ "" انھوں نے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : "" مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ !تمھیں اپنے رب کو دیکھنے میں اس سے زیادہ زحمت نہیں ہو گی جتنی زحمت تمھیں ان دونوں کو دیکھنے میں ہو تی ہے ۔ "" آپ نے فرمایا : "" وہ ( رب ) بندے سے ملا قات فرمائے گا تو کہے گا ۔ اے فلاں !کیا میں نے تمھیں عزت نہ دی تھی ، تمھیں سردار نہ بنایا تھا تمھاری شادی نہ کرائی تھی گھوڑے اور اونٹ تمھارے اختیار میں نہ دیے تھے اور تمھیں ایسا نہیں بنا چھوڑا تھا کہ تم سرداری کرتے تھے اور لوگوں کی آمدنی میں سے چوتھائی حصہ لیتے تھے ؟وہ جواب میں کہے گا ۔ کیوں نہیں ! ( بالکل ایسا ہی تھا ۔ ) تو وہ فرمائے گا ۔ کیا تم سمجھتے تھے کہ تم مجھ سے ملوگے؟ وہ کہے گا ۔ نہیں ۔ تووہ فرمائے گا ۔ آج میں اسی طرح تمھیں بھول جاؤں گا ۔ جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے پھر دوسرے سے ملاقات کرے گا ۔ اے فلاں !کیا میں نے تمھیں عز ت اور سیادت سے نہیں نوازا تھا تمھاری شادی نہیں کرائی تھی تمھارے لیے اونٹ اور گھوڑے مسخر نہیں کیے تھے اور تمھیں اس طرح نہیں بنا چھوڑا تھا کہ تم ریاست کے مزے لیتے تھے ۔ اور لوگوں کے مالوں میں سے چوتھا ئی حصہ وصول کرتے تھے ۔ ؟وہ کہے گا کیوں نہیں میرے رب!تو وہ فرمائے گا ۔ تمھیں اس بات کا کوئی گمان بھی تھا کہ تم مجھ سے ملا قات کروگے؟ وہ کہے گا ۔ نہیں تو وہ فرمائے گا اب میں بھی اسی طرح تمھیں بھول جاؤں گا جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے ۔ پھر تیسرے سے ملے گا ۔ اس سے بھی وہی فرمائے گا ۔ وہ کہے گا ۔ اے میرے رب !میں تجھ پر تیری کتابوں اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا تھا اور نمازیں پڑھی تھیں روزے رکھے تھے اور صدقہ دیا کرتا تھا جتنا اس کے بس میں ہو گا ( اپنی نیکی کی ) تعریف کرے گا ، چنانچہ وہ فرمائے گا ۔ تب تم یہیں ٹھہرو ۔ فرمایا : پھر اس سے کہا جا ئے گا ۔ اب تم تمھارے خلاف اپنا گواہ لائیں گے ۔ وہ دل میں سوچے گا میرے خلاف کون گواہی دے گا ۔ ؟پھر اس کے منہ پر مہر لگادی جا ئے گیاور اس کی ران گوشت اور ہڈیوں سے کہا جائے گا ۔ بولو تو اس کی ران اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے عمل کے متعلق بتائیں گی ۔ یہ ( اس لیے ) کہا جا ئے گا کہ وہ ( اللہ ) اس کی ذات سے اس کا عذر دور کردے ۔ اور وہ منافق ہو گا اور وہی شخص ہو گا جس پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہو گا ۔
Sahih Muslim 55:90sahih
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا صَخْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ جُوَيْرِيَةَ - عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَرَانِي فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ فَجَذَبَنِي رَجُلاَنِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الأَصْغَرَ مِنْهُمَا فَقِيلَ لِي كَبِّرْ . فَدَفَعْتُهُ إِلَى الأَكْبَرِ " .
Abdullah b. Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:It was shown in a vision that I was rinsing my mouth with miswak and two persons began to contend with one another for getting that miswak. One was older than the other. I gave the miswak to the younger one amongst them, but it was said to me: (Let it be given) to the older one. So I gave it to the older one
نافع سے روایت ہے ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسواک کررہا ہوں ، دو آدمیوں نے مجھے اپنی اپنی جانب کھینچا ، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا ، میں نے مسواک چھوٹے کو پکڑا دی تو مجھ سے کہا گیا : بڑے کو دیں ، چنانچہ میں نے وہ بڑے کے حوالے کردی ۔