Sahih al-Bukhari 13:5sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَغْدُو يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ. وَقَالَ مُرَجَّى بْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَيَأْكُلُهُنَّ وِتْرًا.
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) never proceeded (for the prayer) on the Day of `Id-ul-Fitr unless he had eaten some dates. Anas also narrated: The Prophet (ﷺ) used to eat odd number of dates
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا کہ ہم کو سعید بن سلیمان نے خبر دی کہ ہمیں ہشیم بن بشیر نے خبر دی، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن ابی بکر بن انس نے خبر دی اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے، آپ نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن نہ نکلتے جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند کھجوریں نہ کھا لیتے اور مرجی بن رجاء نے کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، پھر یہی حدیث بیان کی کہ آپ طاق عدد کھجوریں کھاتے تھے۔
Sahih al-Bukhari 24:61sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةٌ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "No Zakat is imposed on less than five Awsuq of dates; no Zakat is imposed on less than five Awaq of silver, and no Zakat is imposed on less than five camels
ہم عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ مازنی نے ‘ انہیں ان کے باپ نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ وسق سے کم کھجوروں میں زکوٰۃ نہیں اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں۔ اسی طرح پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
Sahih al-Bukhari 24:85sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُؤْتَى بِالتَّمْرِ عِنْدَ صِرَامِ النَّخْلِ فَيَجِيءُ هَذَا بِتَمْرِهِ وَهَذَا مِنْ تَمْرِهِ حَتَّى يَصِيرَ عِنْدَهُ كَوْمًا مِنْ تَمْرٍ، فَجَعَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ـ رضى الله عنهما ـ يَلْعَبَانِ بِذَلِكَ التَّمْرِ، فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا تَمْرَةً، فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْرَجَهَا مِنْ فِيهِ فَقَالَ " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ آلَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم لاَ يَأْكُلُونَ الصَّدَقَةَ ".
Narrated Abu Huraira:Dates used to be brought to Allah's Messenger (ﷺ) immediately after being plucked. Different persons would bring their dates till a big heap collected (in front of the Prophet). Once Al-Hasan and Al-Husain were playing with these dates. One of them took a date and put it in his mouth. Allah's Messenger (ﷺ) looked at him and took it out from his mouth and said, "Don't you know that Muhammad's offspring do not eat what is given in charity?
ہم سے عمر بن محمد بن حسن اسدی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن زیاد نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس توڑنے کے وقت زکوٰۃ کی کھجور لائی جاتی، ہر شخص اپنی زکوٰۃ لاتا اور نوبت یہاں تک پہنچتی کہ کھجور کا ایک ڈھیر لگ جاتا۔ ( ایک مرتبہ ) حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ایسی ہی کھجوروں سے کھیل رہے تھے کہ ایک نے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں رکھ لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جونہی دیکھا تو ان کے منہ سے وہ کھجور نکال لی۔ اور فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد زکوٰۃ کا مال نہیں کھا سکتی۔
Sahih al-Bukhari 24:86sahih
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا. وَكَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلاَحِهَا قَالَ حَتَّى تَذْهَبَ عَاهَتُهُ.
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) had forbidden the sale of dates till they were good (ripe), and when it was asked what it meant, the Prophet (ﷺ) said, "Till there is no danger of blight
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے عبداللہ بن دینار نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو ( درخت پر ) اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک اس کی پختگی ظاہر نہ ہو۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب پوچھتے کہ اس کی پختگی کیا ہے، وہ کہتے کہ جب یہ معلوم ہو جائے کہ اب یہ پھل آفت سے بچ رہے گا۔
Sahih al-Bukhari 24:91sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَخَذَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنهما ـ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " كِخٍ كِخٍ ـ لِيَطْرَحَهَا ثُمَّ قَالَ ـ أَمَا شَعَرْتَ أَنَّا لاَ نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ ".
Narrated Abu Huraira:Al-Hasan bin `Ali took a date from the dates given in charity and put it in his mouth. The Prophet (ﷺ) said, "Expel it from your mouth. Don't you know that we do not eat a thing which is given in charity?
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے زکوٰۃ کی کھجوروں کے ڈھیر سے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چھی چھی! نکالو اسے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم لوگ صدقہ کا مال نہیں کھاتے۔
Sahih al-Bukhari 24:103sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى الْعَبْدِ وَالْحُرِّ، وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى، وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلاَةِ.
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) enjoined the payment of one Sa' of dates or one Sa' of barley as Zakat-ul-Fitr on every Muslim slave or free, male or female, young or old, and he ordered that it be paid before the people went out to offer the `Id prayer. (One Sa' = 3 Kilograms approx)
ہم سے یحییٰ بن محمد بن سکن نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن جھضم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ‘ ان سے عمر بن نافع نے ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطر کی زکوٰۃ ( صدقہ فطر ) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض قرار دی تھی۔ غلام ‘ آزاد ‘ مرد ‘ عورت ‘ چھوٹے اور بڑے تمام مسلمانوں پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم یہ تھا کہ نماز ( عید ) کے لیے جانے سے پہلے یہ صدقہ ادا کر دیا جائے۔
Sahih al-Bukhari 24:104sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، مِنَ الْمُسْلِمِينَ.
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) made it incumbent on all the slave or free Muslims, male or female, to pay one Sa' of dates or barley as Zakat-ul-Fitr
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں نافع نے ‘ اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطر کی زکوٰۃ آزاد یا غلام ‘ مرد یا عورت تمام مسلمانوں پر ایک صاع کھجور یا جَو فرض کی تھی۔
Sahih al-Bukhari 24:106sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ الْعَامِرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ.
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:We used to give one Sa' of meal or one Sa' of barley or one Sa' of dates, or one Sa' of cottage cheese or one Sa' of Raisins (dried grapes) as Zakat-ul-Fitr
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی ‘ ان سے زید بن اسلم نے بیان کیا ‘ ان سے عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح عامری نے بیان کیا ‘ کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ فرماتے تھے کہ ہم فطرہ کی زکوٰۃ ایک صاع اناج یا گیہوں یا ایک صاع جَو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع زبیب ( خشک انگور یا انجیر ) نکالا کرتے تھے۔
Sahih al-Bukhari 24:107sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِزَكَاةِ الْفِطْرِ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ فَجَعَلَ النَّاسُ عِدْلَهُ مُدَّيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ.
Narrated `Abdullah bin `Umar:The Prophet (ﷺ) ordered (Muslims) to give one Sa' of dates or one Sa' of barley as Zakat-ul-Fitr. The people regarded two Mudds of wheat as equal to that
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے نافع کے واسطہ سے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو کی زکوٰۃ فطر دینے کا حکم فرمایا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر لوگوں نے اسی کے برابر دو مد ( آدھا صاع ) گیہوں کر لیا تھا۔
Sahih al-Bukhari 24:108sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ يَزِيدَ الْعَدَنِيَّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا نُعْطِيهَا فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ، فَلَمَّا جَاءَ مُعَاوِيَةُ وَجَاءَتِ السَّمْرَاءُ قَالَ أُرَى مُدًّا مِنْ هَذَا يَعْدِلُ مُدَّيْنِ.
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:In the lifetime of the Prophet (ﷺ) we used to give one Sa' of food or one Sa' of dates or one Sa' of barley or one Sa' of Raisins (dried grapes) as Sadaqat-ul-Fitr. And when Muawiya became the Caliph and the wheat was (available in abundance) he said, "I think (observe) that one Mudd (of wheat) equals two Mudds (of any of the above mentioned things)
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے یزید بن ابی حکیم عدنی سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے زید بن اسلم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صدقہ فطر ایک صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو یا ایک صاع ”زبیب“ ( خشک انگور یا خشک انجیر ) نکالتے تھے۔ پھر جب معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں آئے اور گیہوں کی آمدنی ہوئی تو کہنے لگے میں سمجھتا ہوں اس کا ایک مد دوسرے اناج کے دو مد کے برابر ہے۔
Sahih al-Bukhari 24:110sahih
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ. وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَكَانَ طَعَامَنَا الشَّعِيرُ وَالزَّبِيبُ وَالأَقِطُ وَالتَّمْرُ.
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:In the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) , we used to give one Sa' of food (edible things) as Sadaqat-ul-Fitr (to the poor). Our food used to be either of barley, raisins (dried grapes), cottage cheese or dates
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعمر حفص بن میسرہ نے بیان کیا ‘ ان سے زید بن اسلم نے بیان کیا ‘ ان سے عیاض بن عبداللہ بن سعد نے ‘ ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عیدالفطر کے دن ( کھانے کے غلہ سے ) ایک صاع نکالتے تھے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمارا کھانا ( ان دنوں ) جَو، زبیب، پنیر اور کھجور تھا۔
Sahih al-Bukhari 24:111sahih
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ فَرَضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَدَقَةَ الْفِطْرِ ـ أَوْ قَالَ رَمَضَانَ ـ عَلَى الذَّكَرِ وَالأُنْثَى، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ. فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يُعْطِي التَّمْرَ، فَأَعْوَزَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنَ التَّمْرِ فَأَعْطَى شَعِيرًا، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، حَتَّى إِنْ كَانَ يُعْطِي عَنْ بَنِيَّ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يُعْطِيهَا الَّذِينَ يَقْبَلُونَهَا، وَكَانُوا يُعْطُونَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ.
Narrated Nafi`:Ibn `Umar said, "The Prophet (ﷺ) made incumbent on every male or female, free man or slave, the payment of one Sa' of dates or barley as Sadaqat-ul-Fitr (or said Sadaqa-Ramadan)." The people then substituted half Sa' of wheat for that. Ibn `Umar used to give dates (as Sadaqat-ul-Fitr). Once there was scarcity of dates in Medina and Ibn `Umar gave barley. 'And Ibn `Umar used to give Sadaqat-ul- Fitr for every young and old person. He even used to give on behalf of my children. Ibn `Umar used to give Sadaqat-ul-Fitr to those who had been officially appointed for its collection. People used to give Sadaqat-ul-Fitr (even) a day or two before the `Id
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر یا یہ کہا کہ صدقہ رمضان مرد، عورت، آزاد اور غلام ( سب پر ) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض قرار دیا تھا۔ پھر لوگوں نے آدھا صاع گیہوں اس کے برابر قرار دے لیا۔ لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہما کھجور دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ مدینہ میں کھجور کا قحط پڑا تو آپ نے جو صدقہ میں نکالا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما چھوٹے بڑے سب کی طرف سے یہاں تک کہ میرے بیٹوں کی طرف سے بھی صدقہ فطر نکالتے تھے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما صدقہ فطر ہر فقیر کو جو اسے قبول کرتا، دے دیا کرتے تھے۔ اور لوگ صدقہ فطر ایک یا دو دن پہلے ہی دے دیا کرتے تھے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا میرے بیٹوں سے نافع کے بیٹے مراد ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا وہ عید سے پہلے جو صدقہ دے دیتے تھے تو اکٹھا ہونے کے لیے نہ فقیروں کے لیے ( پھر وہ جمع کر کے فقراء میں تقسیم کر دیا جاتا ) ۔
Sahih al-Bukhari 24:112sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ.
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) has made Sadaqat-ul-Fitr obligatory, (and it was), either one Sa' of barley or one Sa' of dates (and its payment was obligatory) on young and old people, and on free men as well as on slaves
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ قطان نے عبیداللہ عمری کے واسطے سے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع جَو یا ایک صاع کھجور کا صدقہ فطر، چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام سب پر فرض قرار دیا۔
Sahih al-Bukhari 30:42sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ـ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ـ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، أَخْبَرَهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ بْنِ خُوَيْلِدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَقُولُ إِنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّهُ احْتَرَقَ. قَالَ " مَالَكَ ". قَالَ أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ. فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمِكْتَلٍ، يُدْعَى الْعَرَقَ فَقَالَ " أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ ". قَالَ أَنَا. قَالَ " تَصَدَّقْ بِهَذَا ".
Narrated `Aisha:A man came to the Prophet (ﷺ) and said that he had been burnt (ruined). The Prophet (ﷺ) asked him what was the matter. He replied, "I had sexual intercourse with my wife in Ramadan (while I was fasting)." Then a basket full of dates was brought to the Prophet (ﷺ) and he asked, "Where is the burnt (ruined) man?" He replied, "I am present." The Prophet (ﷺ) told him to give that basket in charity (as expiation)
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے یزید بن ہارون سے سنا، ان سے یحییٰ نے (جو سعید کے صاحبزادے ہیں) کہا، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے خبر دی، انہیں محمد بن جعفر بن زبیر بن عوام بن خویلد نے اور انہیں عباد بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ نے کہا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں دوزخ میں جل چکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہوئی؟ اس نے کہا کہ رمضان میں میں نے ( روزے کی حالت میں ) اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی، تھوڑی دیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( کھجور کا ) ایک تھیلہ جس کا نام عرق تھا، پیش کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ میں جلنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ حاضر ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے تو اسے خیرات کر دے۔
Sahih al-Bukhari 30:89sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدٌ ـ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ـ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ، فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ، قَالَ " أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ، وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ، فَإِنِّي صَائِمٌ ". ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَصَلَّى غَيْرَ الْمَكْتُوبَةِ، فَدَعَا لأُمِّ سُلَيْمٍ، وَأَهْلِ بَيْتِهَا، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي خُوَيْصَةً، قَالَ " مَا هِيَ ". قَالَتْ خَادِمُكَ أَنَسٌ. فَمَا تَرَكَ خَيْرَ آخِرَةٍ وَلاَ دُنْيَا إِلاَّ دَعَا لِي بِهِ قَالَ " اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالاً وَوَلَدًا وَبَارِكْ لَهُ ". فَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ الأَنْصَارِ مَالاً. وَحَدَّثَتْنِي ابْنَتِي أُمَيْنَةُ أَنَّهُ دُفِنَ لِصُلْبِي مَقْدَمَ حَجَّاجٍ الْبَصْرَةَ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ وَمِائَةٌ. حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) paid a visit to Um-Sulaim and she placed before him dates and ghee. The Prophet (ﷺ) said, "Replace the ghee and dates in their respective containers for I am fasting." Then he stood somewhere in her house and offered an optional prayer and then he invoked good on Um-Sulaim and her family. Then Um-Sulaim said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have a special request (today)." He said, "What is it?" She replied, "(Please invoke for) your servant Anas." So Allah's Messenger (ﷺ) did not leave anything good in the world or the Hereafter which he did not invoke (Allah to bestow) on me and said, "O Allah! Give him (i.e. Anas) property and children and bless him." Thus I am one of the richest among the Ansar and my daughter Umaina told me that when Al-Hajjaj came to Basra, more than 120 of my offspring had been buried
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خالد نے (جو حارث کے بیٹے ہیں) بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا نامی ایک عورت کے یہاں تشریف لے گئے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور اور گھی پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ گھی اس کے برتن میں رکھ دو اور یہ کھجوریں بھی اس کے برتن میں رکھ دو کیونکہ میں تو روزے سے ہوں، پھر آپ نے گھر کے ایک کنارے میں کھڑے ہو کر نفل نماز پڑھی اور ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ان کے گھر والوں کے لیے دعا کی، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی کہ میرا ایک بچہ لاڈلا بھی تو ہے ( اس کے لیے بھی تو دعا فرما دیجئیے ) فرمایا کون ہے انہوں نے کہا آپ کا خادم انس ( رضی اللہ عنہ ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا اور آخرت کی کوئی خیر و بھلائی نہ چھوڑی جس کی ان کے لیے دعا نہ کی ہو۔ آپ نے دعا میں یہ بھی فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطا فرما اور اس کے لیے برکت عطا کر ( انس رضی اللہ عنہ کا بیان تھا کہ ) چنانچہ میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار ہوں۔ اور مجھ سے میری بیٹی امینہ نے بیان کیا حجاج کے بصرہ آنے تک میری صلبی اولاد میں سے تقریباً ایک سو بیس دفن ہو چکے تھے۔ ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہیں یحییٰ نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے حمید نے بیان کیا، اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ کے ساتھ۔
Sahih al-Bukhari 34:33sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ، وَهْوَ الْخِلْطُ مِنَ التَّمْرِ، وَكُنَّا نَبِيعُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ، وَلاَ دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ ".
Narrated Abu Sa`id:We used to be given mixed dates (from the booty) and used to sell (barter) two Sas of those dates) for one Sa (of good dates). The Prophet (ﷺ) said (to us), "No (bartering of) two Sas for one Sa nor two Dirhams for one Dirham is permissible", (as that is a kind of usury). (See Hadith No)
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ) مختلف قسم کی کھجوریں ایک ساتھ ملا کرتی تھیں اور ہم دو صاع کھجور ایک صاع کے بدلے میں بیچ دیا کرتے تھے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو صاع ایک صاع کے بدلہ میں نہ بیچی جائے اور نہ دو درہم ایک درہم کے بدلے بیچے جائیں۔
Sahih al-Bukhari 34:55sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا مِنْ خَرَاجِهِ.
Narrated Anas bin Malik:Abu Taiba cupped Allah's Messenger (ﷺ) so he ordered that he be paid one Sa of dates and ordered his masters to reduce his tax (as he was a slave and had to pay a tax to them)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں حمید نے، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوطیبہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پچھنا لگایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور ( بطور اجرت ) انہیں دینے کے لیے حکم فرمایا۔ اور ان کے مالک کو فرمایا کہ ان کے خراج میں کمی کر دیں۔
Sahih al-Bukhari 34:79sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَاسْتَعَنْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى غُرَمَائِهِ أَنْ يَضَعُوا مِنْ دَيْنِهِ، فَطَلَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهِمْ، فَلَمْ يَفْعَلُوا، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اذْهَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَكَ أَصْنَافًا، الْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ، وَعَذْقَ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَىَّ ". فَفَعَلْتُ، ثُمَّ أَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَلَسَ عَلَى أَعْلاَهُ، أَوْ فِي وَسَطِهِ ثُمَّ قَالَ " كِلْ لِلْقَوْمِ ". فَكِلْتُهُمْ حَتَّى أَوْفَيْتُهُمُ الَّذِي لَهُمْ، وَبَقِيَ تَمْرِي، كَأَنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ شَىْءٌ. وَقَالَ فِرَاسٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ حَدَّثَنِي جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّاهُ، وَقَالَ هِشَامٌ عَنْ وَهْبٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " جُذَّ لَهُ فَأَوْفِ لَهُ ".
Narrated Jabir:`Abdullah bin `Amr bin Haram died and was in debt to others. I asked the Prophet (ﷺ) to intercede with his creditors for some reduction in the debts. The Prophet (ﷺ) requested them (to reduce the debts) but they refused. The Prophet (ﷺ) said to me, "Go and put your dates (In heaps) according to their different kinds. The Ajwa on one side, the cluster of Ibn Zaid on another side, etc.. Then call me." I did that and called the Prophet (ﷺ) He came and sat at the head or in the middle of the heaps and ordered me. Measure (the dates) for the people (creditors)." I measured for them till I paid all the debts. My dates remained as if nothing had been taken from them. In other narrations, Jabir said; The Prophet (ﷺ) said, "He (i.e. `Abdullah) continued measuring for them till he paid all the debts." The Prophet (ﷺ) said (to `Abdullah), "Cut (clusters) for him (i.e. one of the creditors) and measure for him fully
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں جریر نے خبر دی، انہیں مغیرہ نے، انہیں عامر شعبی نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ ( میرے باپ ) شہید ہو گئے تو ان کے ذمے ( لوگوں کا ) کچھ قرض باقی تھا۔ اس لیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کوشش کی کہ قرض خواہ کچھ اپنے قرضوں کو معاف کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی چاہا، لیکن وہ نہیں مانے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اپنی تمام کھجور کی قسموں کو الگ الگ کر لو۔ عجوہ ( ایک خاص قسم کی کھجور ) کو الگ رکھ اور عذق زید ( کھجور کی ایک قسم ) کو الگ کر۔ پھر مجھے بلا بھیج۔ میں نے ایسا ہی کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھجوروں کے ڈھیر پر یا بیچ میں بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اب ان قرض خواہوں کو ناپ کر دو۔ میں نے ناپنا شروع کیا۔ جتنا قرض لوگوں کا تھا۔ میں نے سب کو ادا کر دیا، پھر بھی تمام کھجور جوں کی توں تھی۔ اس میں سے ایک دانہ برابر کی کمی نہیں ہوئی تھی۔ فراس نے بیان کیا کہ ان سے شعبی نے، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ”برابر ان کے لیے تولتے رہے، یہاں تک کہ ان کا پورا قرض ادا ہو گیا۔“ اور ہشام نے کہا، ان سے وہب نے، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کھجور توڑ اور اپنا قرض پورا ادا کر دے۔
Sahih al-Bukhari 34:100sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُصَرُّوا الإِبِلَ وَالْغَنَمَ، فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدُ فَإِنَّهُ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْتَلِبَهَا إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ، وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعَ تَمْرٍ ". وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَمُجَاهِدٍ وَالْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ وَمُوسَى بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " صَاعَ تَمْرٍ ". وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ وَهْوَ بِالْخِيَارِ ثَلاَثًا. وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ. وَلَمْ يَذْكُرْ ثَلاَثًا، وَالتَّمْرُ أَكْثَرُ.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Don't keep camels and sheep unmilked for a long time, for whoever buys such an animal has the option to milk it and then either to keep it or return it to the owner along with one Sa of dates." Some narrated from Ibn Seereen (that the Prophet (ﷺ) had said), "One Sa of wheat, and he has the option for three days." And some narrated from Ibn Seereen, " ... a Sa of dates," not mentioning the option for three days. But a Sa of dates is mentioned in most narrations
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( بیچنے کے لیے ) اونٹنی اور بکری کے تھنوں میں دودھ کو روک کر نہ رکھو۔ اگر کسی نے ( دھوکہ میں آ کر ) کوئی ایسا جانور خرید لیا تو اسے دودھ دوہنے کے بعد دونوں اختیارات ہیں چاہے تو جانور کو رکھ لے، اور چاہے تو واپس کر دے۔ اور ایک صاع کھجور اس کے ساتھ دودھ کے بدل دیدے۔ ابوصالح، مجاہد، ولید بن رباح اور موسیٰ بن یسار سے بواسطہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ایک صاع کھجور ہی کی ہے۔ بعض راویوں نے ابن سیرین سے ایک صاع کھجور کی روایت کی ہے اور یہ کہ خریدار کو ( صورت مذکورہ میں ) تین دن کا اختیار ہو گا۔ اگرچہ بعض دوسرے راویوں نے ابن سیرین ہی سے ایک صاع کھجور کی بھی روایت کی ہے، لیکن تین دن کے اختیار کا ذکر نہیں کیا اور ( تاوان میں ) کھجور دینے کی روایات ہی زیادہ ہیں۔
Sahih al-Bukhari 34:101sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُحَفَّلَةً، فَرَدَّهَا فَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا. وَنَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُلَقَّى الْبُيُوعُ.
Narrated `Abdullah bin Mas`ud:Whoever buys a sheep which has not been milked for a long time, has the option of returning it along with one Sa of dates; and the Prophet (ﷺ) forbade going to meet the seller on the way (as he has no knowledge of the market price and he may sell his goods at a low price)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ہم سے ابوعثمان نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو شخص «مصراة» بکری خریدے اور اسے واپس کرنا چاہے تو ( اصل مالک کو ) اس کے ساتھ ایک صاع بھی دے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ والوں سے ( جو مال بیچنے لائیں ) آگے بڑھ کر خریدنے سے منع فرمایا ہے۔
Sahih al-Bukhari 34:103sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ ثَابِتًا، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ اشْتَرَى غَنَمًا مُصَرَّاةً فَاحْتَلَبَهَا، فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ سَخِطَهَا فَفِي حَلْبَتِهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever buys a sheep which has been kept unmilked for a long period, and milks it, can keep it if he is satisfied, and if he is not satisfied, he can return it, but he should pay one Sa of dates for the milk
ہم سے محمد بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے زیاد نے خبر دی کہ عبدالرحمٰن بن زید کے غلام ثابت نے انہیں خبر دی، کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے «مصراة» بکری خریدی اور اسے دوہا۔ تو اگر وہ اس معاملہ پر راضی ہے تو اسے اپنے لیے روک لے اور اگر راضی نہیں ہے تو ( واپس کر دے اور ) اس کے دودھ کے بدلے میں ایک صاع کھجور دیدے۔
Sahih al-Bukhari 34:115sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنِي التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَنِ اشْتَرَى مُحَفَّلَةً فَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا. قَالَ وَنَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ.
Narrated `Abdullah:Whoever buys an animal which has been kept unmilked for a long time, could return it, but has to pay a Sa of dates along with it. And the Prophet (ﷺ) forbade meeting the owners of goods on the way away from the market
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہ ہم سے تیمی نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جو کوئی دودھ جمع کی ہوئی بکری خریدے ( وہ بکری پھیر دے ) اور اس کے ساتھ ایک صاع دیدے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ والوں سے آگے بڑھ کر ملنے سے منع فرمایا۔
Sahih al-Bukhari 34:121sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، سَمِعَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ ".
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "The selling of wheat for wheat is Riba (usury) except if it is handed from hand to hand and equal in amount. Similarly the selling of barley for barley, is Riba except if it is from hand to hand and equal in amount, and dates for dates is usury except if it is from hand to hand and equal in amount. (See Riba-Fadl in the glossary)
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے مالک بن اوس نے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، گیہوں کو گیہوں کے بدلہ میں بیچنا سود ہے، لیکن یہ کہ سودا ہاتھوں ہاتھ ہو۔ جَو کو جَو کے بدلہ میں بیچنا سود ہے، لیکن یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔ اور کھجور کو کھجور کے بدلہ میں بیچنا سود ہے لیکن یہ کہ سودا ہاتھوں ہاتھ، نقدا نقد ہو۔
Sahih al-Bukhari 34:122sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلاً، وَبَيْعُ الزَّبِيبِ بِالْكَرْمِ كَيْلاً.
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) forbade Muzabana; and Muzabana is the selling of fresh dates for dried old dates by measure, and the selling of fresh grapes for dried grapes by measure
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ یہ کہ درخت پر لگی ہوئی کھجور خشک کھجور کے بدلہ ماپ کر کے بیچی جائے۔ اسی طرح بیل پر لگے ہوئے انگور کو منقیٰ کے بدل بیچنا۔
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ، وَلاَ تَبِيعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ " قَالَ سَالِمٌ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِالرُّطَبِ أَوْ بِالتَّمْرِ، وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِهِ.
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not sell fruits of dates until they become free from all the dangers of being spoilt or blighted; and do not sell fresh dates for dry dates." Narrated Salim and `Abdullah from Zaid bin Thabit: "Later on Allah's Messenger (ﷺ) permitted the selling of ripe fruits on trees for fresh dates or dried dates in Bai'-al-'Araya, and did not allow it for any other kind of sale
Sahih al-Bukhari 34:131sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ، وَلاَ تَبِيعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ " قَالَ سَالِمٌ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِالرُّطَبِ أَوْ بِالتَّمْرِ، وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِهِ.
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not sell fruits of dates until they become free from all the dangers of being spoilt or blighted; and do not sell fresh dates for dry dates." Narrated Salim and `Abdullah from Zaid bin Thabit: "Later on Allah's Messenger (ﷺ) permitted the selling of ripe fruits on trees for fresh dates or dried dates in Bai'-al-'Araya, and did not allow it for any other kind of sale
Sahih al-Bukhari 34:133sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ. وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ.
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) forbade Muzabana and Muhaqala; and Muzabana means the selling of ripe dates for dates still on the trees
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں داؤد بن حصین نے، انہیں ابن ابی احمد کے غلام ابوسفیان نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا، مزابنہ درخت پر لگی کھجور، توڑی ہوئی کھجور کے بدلے میں خریدنے کو کہتے ہیں۔
Sahih al-Bukhari 34:135sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنهم ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْخَصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا.
Narrated Zaid bin Thabit:Allah's Messenger (ﷺ) allowed the owner of 'Araya to sell the fruits on the trees by means of estimation
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب عریہ کو اس کی اجازت دی کہ اپنا عریہ اس کے اندازے برابر میوے کے بدل بیچ ڈالے۔
Sahih al-Bukhari 34:136sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ، وَلاَ يُبَاعُ شَىْءٌ مِنْهُ إِلاَّ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ إِلاَّ الْعَرَايَا.
Narrated Jabir:The Prophet (ﷺ) forbade the selling of fruits unless they get ripe, and none of them should be sold except for Dinar or Dirham (i.e. money), except the 'Araya trees (the dates of which could be sold for dates)
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں عطاء اور ابوزبیر نے اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے پکنے سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے اور یہ کہ اس میں سے ذرہ برابر بھی درہم و دینا کے سوا کسی اور چیز ( سوکھے پھل ) کے بدلے نہ بیچی جائے البتہ عریہ کی اجازت دی۔
Sahih al-Bukhari 34:137sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ مَالِكًا، وَسَأَلَهُ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الرَّبِيعِ أَحَدَّثَكَ دَاوُدُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ قَالَ نَعَمْ.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) allowed the sale of the dates of 'Araya provided they were about five Awsuq (singular: Wasaq which means sixty Sa's) or less (in amount)
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے امام مالک سے سنا، ان سے عبیداللہ بن ربیع نے پوچھا کہ کیا آپ سے داؤد نے سفیان سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق یا اس سے کم میں بیع عریہ کی اجازت دے دی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں
Sahih al-Bukhari 34:139sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنهم ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا كَيْلاً. قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ وَالْعَرَايَا نَخَلاَتٌ مَعْلُومَاتٌ تَأْتِيهَا فَتَشْتَرِيهَا.
Narrated Ibn `Umar from Zaid bin Thabit:Allah's Messenger (ﷺ) allowed the sale of 'Araya by estimating the dates on them for measured amounts of dried dates. Musa bin `Uqba said, "Al- 'Araya were distinguished date palms; one could come and buy them (i.e. their fruits)
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، انہیں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دی کہ وہ اندازے سے بیچی جا سکتی ہے۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ عرایا کچھ معین درخت جن کا میوہ تو اترے ہوئے میوے کے بدل خریدے۔
Sahih al-Bukhari 34:140sahih
وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ الأَنْصَارِيِّ، مِنْ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ، فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ قَالَ الْمُبْتَاعُ إِنَّهُ أَصَابَ الثَّمَرَ الدُّمَانُ أَصَابَهُ مُرَاضٌ أَصَابَهُ قُشَامٌ ـ عَاهَاتٌ يَحْتَجُّونَ بِهَا ـ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا كَثُرَتْ عِنْدَهُ الْخُصُومَةُ فِي ذَلِكَ " فَإِمَّا لاَ فَلاَ يَتَبَايَعُوا حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُ الثَّمَرِ ". كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ. وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَمْ يَكُنْ يَبِيعُ ثِمَارَ أَرْضِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا فَيَتَبَيَّنَ الأَصْفَرُ مِنَ الأَحْمَرِ. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا حَكَّامٌ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ عَنْ زَكَرِيَّاءَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ سَهْلٍ عَنْ زَيْدٍ
Zaid bin Thabit (ra) said, "In the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ), the people used to trade with fruits. When they cut their date-fruits and the purchasers came to recieve their rights, the seller would say, 'My dates have got rotten, they are blighted with disease, they are afflicted with Qusham (a disease which causes the fruit to fall before ripening).' They would go on complaining of defects in their purchases. Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not sell the fruits before their benefit is evident (i.e. free from all the dangers of being spoiled or blighted), by way of advice for they quarrelled too much." Kharija bin Zaid bin Thabit said that Zaid bin Thabit (ra) used not to sell the fruits of his land till Pleiades appeared and one could distinguish the yellow fruits from the red (ripe) ones
لیث بن سعد نے ابوزناد عبداللہ بن ذکوان سے نقل کیا کہ عروہ بن زبیر، بنوحارثہ کے سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے تھے اور وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگ پھلوں کی خرید و فروخت ( درختوں پر پکنے سے پہلے ) کرتے تھے۔ پھر جب پھل توڑنے کا وقت آتا، اور مالک ( قیمت کا ) تقاضا کرنے آتے تو خریدار یہ عذر کرنے لگتے کہ پہلے ہی اس کا گابھا خراب اور کالا ہو گیا، اس کو بیماری ہو گئی، یہ تو ٹھٹھر گیا پھل بہت ہی کم آئے۔ اسی طرح مختلف آفتوں کو بیان کر کے مالکوں سے جھگڑتے ( تاکہ قیمت میں کمی کرا لیں ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح کے مقدمات بکثرت آنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اس طرح جھگڑے ختم نہیں ہو سکتے تو تم لوگ بھی میوہ کے پکنے سے پہلے ان کو نہ بیچا کرو۔ گویا مقدمات کی کثرت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بطور مشورہ فرمایا تھا۔ خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے باغ کے پھل اس وقت تک نہیں بیچتے جب تک ثریا نہ طلوع ہو جاتا اور زردی اور سرخی ظاہر نہ ہو جاتی۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ اس کی روایت علی بن بحر نے بھی کی ہے کہ ہم سے حکام بن سلم نے بیان کیا، ان سے عنبسہ نے بیان کیا، ان سے زکریا نے، ان سے ابوالزناد نے، ان سے عروہ نے اور ان سے سہل بن سعد نے اور ان سے زید بن ثابت نے۔
Sahih al-Bukhari 34:141sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُبْتَاعَ.
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) forbade the sale of fruits till their benefit is evident. He forbade both the seller and the buyer (such sale)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو تھی۔
Sahih al-Bukhari 34:142sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ تُبَاعَ ثَمَرَةُ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي حَتَّى تَحْمَرَّ.
Narrated Anas:Allah's Messenger (ﷺ) forbade the sale of date fruits till they were ripe. Abu `Abdullah (Al-Bukhari) said, "That means till they were red (can be eaten)
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے سے پہلے درخت پر کھجور کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ ( «حتى تزهو.» سے ) مراد یہ ہے کہ جب تک وہ پک کر سرخ نہ ہو جائیں۔
Sahih al-Bukhari 34:143sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَلِيمِ بْنِ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَا، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى تُشَقِّحَ. فَقِيلَ مَا تُشَقِّحُ قَالَ تَحْمَارُّ وَتَصْفَارُّ وَيُؤْكَلُ مِنْهَا.
Narrated Jabir bin `Abdullah:The Prophet (ﷺ) forbade the sale of (date) fruits till they were red or yellow and fit for eating
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے سلیم بن حیان نے، ان سے سعید بن مینا نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کا «تشقح.» سے پہلے بیچنے سے منع کیا تھا۔ پوچھا گیا کہ «تشقح.» کسے کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مائل بہ زردی یا مائل بہ سرخی ہونے کو کہتے ہیں کہ اسے کھایا جا سکے ( پھل کا پختہ ہونا مراد ہے ) ۔
Sahih al-Bukhari 34:144sahih
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا مُعَلًّى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا، وَعَنِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ. قِيلَ وَمَا يَزْهُو قَالَ يَحْمَارُّ أَوْ يَصْفَارُّ.
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) forbade the sale of fruits till their benefit is evident; and the sale of date palms till the dates are almost ripe. He was asked what 'are almost ripe' meant. He replied, "Got red and yellow
مجھ سے علی بن ہشیم نے بیان کیا کہ ہم سے معلی بن منصور نے بیان کیا، ان سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں حمید نے خبر دی اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے اور کھجور کے باغ کو «زهو» سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ «زهو» کسے کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا مائل بہ سرخی یا مائل بہ زردی ہونے کو کہتے ہیں۔
Sahih al-Bukhari 34:145sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ. فَقِيلَ لَهُ وَمَا تُزْهِي قَالَ حَتَّى تَحْمَرَّ. فَقَالَ " أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ، بِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ ".
Narrated Anas bin Malik: Allah's Messenger (ﷺ) forbade the sale of fruits till they are almost ripe. He was asked what is meant by 'are almost ripe.' He replied, "Till they become red." Allah's Messenger (ﷺ) further said, "If Allah spoiled the fruits, what right would one have to take the money of one's brother (i.e. other people)?
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں حمید نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو «زهو» سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کہ «زهو» کسے کہتے ہیں تو جواب دیا کہ سرخ ہونے کو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہی بتاؤ، اللہ تعالیٰ کے حکم سے پھلوں پر کوئی آفت آ جائے، تو تم اپنے بھائی کا مال آخر کس چیز کے بدلے لو گے؟
Sahih al-Bukhari 34:146sahih
قَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً، ابْتَاعَ ثَمَرًا قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهُ، ثُمَّ أَصَابَتْهُ عَاهَةٌ، كَانَ مَا أَصَابَهُ عَلَى رَبِّهِ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَتَبَايَعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا، وَلاَ تَبِيعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ ".
Narrated Ibn Shihab:If somebody bought fruits before their benefit is evident and then the fruits were spoiled with blights, the loss would be suffered by the owner (not the buyer). Narrated Salim bin 'Abdullah from Ibn Umar: Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not sell or buy fruits before their benefit was evident and do not sell fresh fruits (dates) for dried dates
لیث نے کہا کہ مجھے سے یونس نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے اگر پختہ ہونے سے پہلے ہی ( درخت پر ) پھل خریدے، پھر ان پر کوئی آفت آ گئی تو جتنا نقصان ہوا، وہ سب اصل مالک کو بھرنا پڑے گا۔ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو نہ بیچو، اور نہ درخت پر لگی ہوئی کھجور کو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے میں بیچو۔
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ". قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاَثَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri and Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) appointed somebody as a governor of Khaibar. That governor brought to him an excellent kind of dates (from Khaibar). The Prophet (ﷺ) asked, "Are all the dates of Khaibar like this?" He replied, "By Allah, no, O Allah's Messenger (ﷺ)! But we barter one Sa of this (type of dates) for two Sas of dates of ours and two Sas of it for three of ours." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not do so (as that is a kind of usury) but sell the mixed dates (of inferior quality) for money, and then buy good dates with that money
Sahih al-Bukhari 34:148sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ". قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاَثَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri and Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) appointed somebody as a governor of Khaibar. That governor brought to him an excellent kind of dates (from Khaibar). The Prophet (ﷺ) asked, "Are all the dates of Khaibar like this?" He replied, "By Allah, no, O Allah's Messenger (ﷺ)! But we barter one Sa of this (type of dates) for two Sas of dates of ours and two Sas of it for three of ours." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not do so (as that is a kind of usury) but sell the mixed dates (of inferior quality) for money, and then buy good dates with that money
Sahih al-Bukhari 34:154sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ التَّمْرِ حَتَّى تَزْهُوَ. فَقُلْنَا لأَنَسٍ مَا زَهْوُهَا قَالَ تَحْمَرُّ وَتَصْفَرُّ، أَرَأَيْتَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ
Narrated Humaid:Anas said, "The Prophet (ﷺ) forbade the selling of dates till they were almost ripe." We asked Anas, "What does 'almost ripe' mean?" He replied, "They get red and yellow. The Prophet (ﷺ) added, 'If Allah destroyed the fruits present on the trees, what right would the seller have to take the money of his brother (somebody else)?
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت کو «زهو.» سے پہلے ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا۔ ہم نے پوچھا کہ «زهو.» کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ پک کے سرخ ہو جائے یا زرد ہو جائے۔ تم ہی بتاؤ کہ اگر اللہ کے حکم سے پھل نہ آ سکا تو تم کس چیز کے بدلے میں اپنے بھائی ( خریدار ) کا مال اپنے لیے حلال کرو گے۔
Sahih al-Bukhari 34:156sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ حَجَمَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبُو طَيْبَةَ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ.
Narrated Anas bin Malik:Abu Taiba cupped Allah's Messenger (ﷺ) and so Allah's Messenger (ﷺ) ordered that a Sa of dates be paid to him and ordered his masters (for he was a slave) to reduce his tax
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوطیبہ نے پچھنا لگایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک صاع کھجور ( مزدوری میں ) دینے کا حکم فرمایا۔ اور اس کے مالکوں سے فرمایا کہ وہ اس کے خراج میں کچھ کمی کر دیں۔
Sahih al-Bukhari 35:1sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ، وَالنَّاسُ يُسْلِفُونَ فِي الثَّمَرِ الْعَامَ وَالْعَامَيْنِ ـ أَوْ قَالَ عَامَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً. شَكَّ إِسْمَاعِيلُ ـ فَقَالَ " مَنْ سَلَّفَ فِي تَمْرٍ فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ ".
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) came to Medina and the people used to pay in advance the price of fruits to be delivered within one or two years. (The sub-narrator is in doubt whether it was one to two years or two to three years.) The Prophet (ﷺ) said, "Whoever pays money in advance for dates (to be delivered later) should pay it for known specified weight and measure (of the dates)
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی، انہیں ابن ابی نجیح نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن کثیر نے، انہیں ابومنہال نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ( مدینہ کے ) لوگ پھلوں میں ایک سال یا دو سال کے لیے بیع سلم کرتے تھے۔ یا انہوں نے یہ کہا کہ دو سال اور تین سال ( کے لیے کرتے تھے ) شک اسماعیل کو ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بھی کھجور میں بیع سلم کرے، اسے مقررہ پیمانے یا مقررہ وزن کے ساتھ کرنی چاہئیے۔
Sahih al-Bukhari 35:3sahih
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ، وَهُمْ يُسْلِفُونَ بِالتَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلاَثَ، فَقَالَ " مَنْ أَسْلَفَ فِي شَىْءٍ فَفِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ، إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) came to Medina and the people used to pay in advance the price of dates to be delivered within two or three years. He said (to them), "Whoever pays in advance the price of a thing to be delivered later should pay it for a specified measure at specified weight for a specified period
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، انہیں سفیان بن عیینہ نے خبر دی، انہیں ابن ابی نجیح نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن کثیر نے، انہیں ابومنہال نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ کھجور میں دو اور تین سال تک کے لیے بیع سلم کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ جسے کسی چیز کی بیع سلم کرنی ہے، اسے مقررہ وزن اور مقررہ مدت کے لیے ٹھہرا کر کرے۔
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ،. وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ،، أَوْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْمُجَالِدِ قَالَ اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَفِ، فَبَعَثُونِي إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنه ـ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ إِنَّا كُنَّا نُسْلِفُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ. وَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ.
Narrated Shu`ba:Muhammad or `Abdullah bin Abu Al-Mujalid said, "Abdullah bin Shaddad and Abu Burda differed regarding As-Salam, so they sent me to Ibn Abi `Aufa and I asked him about it. He replied, 'In the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ), Abu Bakr and `Umar, we used to pay in advance the prices of wheat, barley, dried grapes and dates to be delivered later. I also asked Ibn Abza and he, too, replied as above
Sahih al-Bukhari 35:6sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ،. وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ،، أَوْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْمُجَالِدِ قَالَ اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَفِ، فَبَعَثُونِي إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنه ـ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ إِنَّا كُنَّا نُسْلِفُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ. وَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ.
Narrated Shu`ba:Muhammad or `Abdullah bin Abu Al-Mujalid said, "Abdullah bin Shaddad and Abu Burda differed regarding As-Salam, so they sent me to Ibn Abi `Aufa and I asked him about it. He replied, 'In the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ), Abu Bakr and `Umar, we used to pay in advance the prices of wheat, barley, dried grapes and dates to be delivered later. I also asked Ibn Abza and he, too, replied as above
Sahih al-Bukhari 35:9sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ السَّلَمِ، فِي النَّخْلِ. قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ، حَتَّى يُؤْكَلَ مِنْهُ وَحَتَّى يُوزَنَ. فَقَالَ الرَّجُلُ وَأَىُّ شَىْءٍ يُوزَنُ قَالَ رَجُلٌ إِلَى جَانِبِهِ حَتَّى يُحْرَزَ. وَقَالَ مُعَاذٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ.
Narrated Abu Bakhtari at-Tai:I asked Ibn `Abbas about Salam for (the fruits of) date-palms. He replied "The Prophet (ﷺ) forbade the sale of dates on the trees till they became fit for eating and could be weighed." A man asked what to be weighed (as the dates were still on the trees). Another man sitting beside Ibn `Abbas replied, "Till they are cut and stored." Narrated Abu Al-Bakhtari: I heard Ibn `Abbas (saying) that the Prophet (ﷺ) forbade ... etc. as above
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں عمرو نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوالبختری طائی سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کھجور کے درخت میں بیع سلم کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ درخت پر پھل کو بیچنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک کے لیے منع فرمایا تھا جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے یا اس کا وزن نہ کیا جا سکے۔ ایک شخص نے پوچھا کہ کیا چیز وزن کی جائے گی۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قریب ہی بیٹھے ہوئے ایک شخص نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ اندازہ کرنے کے قابل ہو جائے اور معاذ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے کہ ابوالبختری نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھا۔ پھر یہی حدیث بیان کی۔
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ السَّلَمِ، فِي النَّخْلِ فَقَالَ نُهِيَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ، حَتَّى يَصْلُحَ، وَعَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ، نَسَاءً بِنَاجِزٍ. وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ السَّلَمِ، فِي النَّخْلِ، فَقَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُؤْكَلَ مِنْهُ، أَوْ يَأْكُلَ مِنْهُ، وَحَتَّى يُوزَنَ.
Narrated Abu Al-Bakhtari:I asked Ibn `Umar about Salam (the fruits of) date-palms. He replied, "The Prophet (ﷺ) forbade the sale of dates till their benefit becomes evident and fit for eating and also the sale of silver (for gold) on credit." I asked Ibn `Abbas about Salam for dates and he replied, "The Prophet (ﷺ) forbade the sale of dates till they were fit for eating and could be estimated
Sahih al-Bukhari 35:10sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ السَّلَمِ، فِي النَّخْلِ فَقَالَ نُهِيَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ، حَتَّى يَصْلُحَ، وَعَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ، نَسَاءً بِنَاجِزٍ. وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ السَّلَمِ، فِي النَّخْلِ، فَقَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُؤْكَلَ مِنْهُ، أَوْ يَأْكُلَ مِنْهُ، وَحَتَّى يُوزَنَ.
Narrated Abu Al-Bakhtari:I asked Ibn `Umar about Salam (the fruits of) date-palms. He replied, "The Prophet (ﷺ) forbade the sale of dates till their benefit becomes evident and fit for eating and also the sale of silver (for gold) on credit." I asked Ibn `Abbas about Salam for dates and he replied, "The Prophet (ﷺ) forbade the sale of dates till they were fit for eating and could be estimated
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ السَّلَمِ، فِي النَّخْلِ فَقَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَصْلُحَ، وَنَهَى عَنِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ نَسَاءً بِنَاجِزٍ. وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ أَوْ يُؤْكَلَ، وَحَتَّى يُوزَنَ. قُلْتُ وَمَا يُوزَنُ قَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرَزَ.
Narrated Abu Al-Bakhtari:I asked Ibn `Umar about Salam for dates. Ibn `Umar replied, "The Prophet (ﷺ) forbade the sale (of the fruits) of date-palms until they were fit for eating and also forbade the sale of silver for gold on credit." I also asked Ibn `Abbas about it. Ibn `Abbas replied, "The Prophet (ﷺ) forbade the sale of dates till they were fit for eating, and could be weighed." I asked him, "What is to be weighed (as the dates are on the trees)?" A man sitting by Ibn `Abbas said, "It means till they are cut and stored
Sahih al-Bukhari 35:11sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ السَّلَمِ، فِي النَّخْلِ فَقَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَصْلُحَ، وَنَهَى عَنِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ نَسَاءً بِنَاجِزٍ. وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ أَوْ يُؤْكَلَ، وَحَتَّى يُوزَنَ. قُلْتُ وَمَا يُوزَنُ قَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرَزَ.
Narrated Abu Al-Bakhtari:I asked Ibn `Umar about Salam for dates. Ibn `Umar replied, "The Prophet (ﷺ) forbade the sale (of the fruits) of date-palms until they were fit for eating and also forbade the sale of silver for gold on credit." I also asked Ibn `Abbas about it. Ibn `Abbas replied, "The Prophet (ﷺ) forbade the sale of dates till they were fit for eating, and could be weighed." I asked him, "What is to be weighed (as the dates are on the trees)?" A man sitting by Ibn `Abbas said, "It means till they are cut and stored
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُمْ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ " أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ". فَقَالَ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاَثَةِ. فَقَالَ " لاَ تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ". وَقَالَ فِي الْمِيزَانِ مِثْلَ ذَلِكَ.
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri and Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) employed someone as a governor at Khaibar. When the man came to Medina, he brought with him dates called Janib. The Prophet (ﷺ) asked him, "Are all the dates of Khaibar of this kind?" The man replied, "(No), we exchange two Sa's of bad dates for one Sa of this kind of dates (i.e. Janib), or exchange three Sa's for two." On that, the Prophet (ﷺ) said, "Don't do so, as it is a kind of usury (Riba) but sell the dates of inferior quality for money, and then buy Janib with the money". The Prophet said the same thing about dates sold by weight. (See Hadith No)
Sahih al-Bukhari 40:4sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُمْ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ " أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ". فَقَالَ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاَثَةِ. فَقَالَ " لاَ تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ". وَقَالَ فِي الْمِيزَانِ مِثْلَ ذَلِكَ.
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri and Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) employed someone as a governor at Khaibar. When the man came to Medina, he brought with him dates called Janib. The Prophet (ﷺ) asked him, "Are all the dates of Khaibar of this kind?" The man replied, "(No), we exchange two Sa's of bad dates for one Sa of this kind of dates (i.e. Janib), or exchange three Sa's for two." On that, the Prophet (ﷺ) said, "Don't do so, as it is a kind of usury (Riba) but sell the dates of inferior quality for money, and then buy Janib with the money". The Prophet said the same thing about dates sold by weight. (See Hadith No)
Sahih al-Bukhari 40:12sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ـ هُوَ ابْنُ سَلاَّمٍ ـ عَنْ يَحْيَى، قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَ بِلاَلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مِنْ أَيْنَ هَذَا ". قَالَ بِلاَلٌ كَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ رَدِيٌّ، فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ، لِنُطْعِمَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ ذَلِكَ " أَوَّهْ أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا عَيْنُ الرِّبَا، لاَ تَفْعَلْ، وَلَكِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ فَبِعِ التَّمْرَ بِبَيْعٍ آخَرَ ثُمَّ اشْتَرِهِ ".
Narrated Abu Sa`id al-Khudri:Once Bilal brought Barni (i.e. a kind of dates) to the Prophet (ﷺ) and the Prophet (ﷺ) asked him, "From where have you brought these?" Bilal replied, "I had some inferior type of dates and exchanged two Sas of it for one Sa of Barni dates in order to give it to the Prophet; to eat." Thereupon the Prophet (ﷺ) said, "Beware! Beware! This is definitely Riba (usury)! This is definitely Riba (Usury)! Don't do so, but if you want to buy (a superior kind of dates) sell the inferior dates for money and then buy the superior kind of dates with that money
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن سلام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، کہ میں نے عقبہ بن عبدالغافر سے سنا اور انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ بلال رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں برنی کھجور ( کھجور کی ایک عمدہ قسم ) لے کر آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہاں سے لائے ہو؟ انہوں نے کہا ہمارے پاس خراب کھجور تھی، اس کے دو صاع اس کے ایک صاع کے بدلے میں دے کر ہم اسے لائے ہیں۔ تاکہ ہم یہ آپ کو کھلائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا توبہ توبہ یہ تو سود ہے بالکل سود۔ ایسا نہ کیا کر البتہ ( اچھی کھجور ) خریدنے کا ارادہ ہو تو ( خراب ) کھجور بیچ کر ( اس کی قیمت سے ) عمدہ خریدا کر۔
Sahih al-Bukhari 41:9sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَامَلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ، فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ مِائَةَ وَسْقٍ ثَمَانُونَ وَسْقَ تَمْرٍ وَعِشْرُونَ وَسْقَ شَعِيرٍ، فَقَسَمَ عُمَرُ خَيْبَرَ، فَخَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ مِنَ الْمَاءِ وَالأَرْضِ، أَوْ يُمْضِيَ لَهُنَّ، فَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الأَرْضَ وَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْوَسْقَ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ اخْتَارَتِ الأَرْضَ.
Narrated `Abdullah bin `Umar:The Prophet (ﷺ) concluded a contract with the people of Khaibar to utilize the land on the condition that half the products of fruits or vegetation would be their share. The Prophet (ﷺ) used to give his wives one hundred Wasqs each, eighty Wasqs of dates and twenty Wasqs of barley. (When `Umar became the Caliph) he gave the wives of the Prophet (ﷺ) the option of either having the land and water as their shares, or carrying on the previous practice. Some of them chose the land and some chose the Wasqs, and `Aisha chose the land
ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، ان سے نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خیبر کے یہودیوں سے ) وہاں ( کی زمین میں ) پھل کھیتی اور جو بھی پیداوار ہو اس کے آدھے حصے پر معاملہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنی بیویوں کو سو وسق دیتے تھے۔ جس میں اسی وسق کھجور ہوتی اور بیس وسق جو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے عہد خلافت میں ) جب خیبر کی زمین تقسیم کی تو ازواج مطہرات کو آپ نے اس کا اختیار دیا کہ ( اگر وہ چاہیں تو ) انہیں بھی وہاں کا پانی اور قطعہ زمین دے دیا جائے۔ یا وہی پہلی صورت باقی رکھی جائے۔ چنانچہ بعض نے زمین لینا پسند کیا۔ اور بعض نے ( پیداوار سے ) وسق لینا پسند کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے زمین ہی لینا پسند کیا تھا۔
Sahih al-Bukhari 42:28sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنهم ـ قَالَ رَخَّصَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُبَاعَ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا.
Narrated Zaid bin Thabit:The Prophet (ﷺ) permitted selling the dates of the 'Araya for ready dates by estimating the amount of the former (as they are still on the trees)
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کے سلسلہ میں اس کی رخصت دی تھی کہ اندازہ کر کے خشک کھجور کے بدلے بیچا جا سکتا ہے۔
Sahih al-Bukhari 42:30sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَخَّصَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، شَكَّ دَاوُدُ فِي ذَلِكَ.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) allowed the sale of the dates of the 'Araya for ready dates by estimating the former which should be estimated as less than five Awsuq or five Awsuq. (Dawud, the sub-narrator is not sure as to the right amount)
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں داؤد بن حصین نے، انہیں ابواحمد کے غلام ابوسفیان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا کی اندازہ کر کے خشک کھجور کے بدلے پانچ وسق سے کم، یا ( یہ کہا کہ ) پانچ وسق کے اندر اجازت دی ہے اس میں شک داؤد بن حصین کو ہوا ( بیع عریہ کا بیان پیچھے مفصل ہو چکا ہے ) ۔
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أُصِيبَ عَبْدُ اللَّهِ وَتَرَكَ عِيَالاً وَدَيْنًا، فَطَلَبْتُ إِلَى أَصْحَابِ الدَّيْنِ أَنْ يَضَعُوا بَعْضًا مِنْ دَيْنِهِ فَأَبَوْا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَشْفَعْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا، فَقَالَ " صَنِّفْ تَمْرَكَ كُلَّ شَىْءٍ مِنْهُ عَلَى حِدَتِهِ، عِذْقَ ابْنِ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ، وَاللِّينَ عَلَى حِدَةٍ، وَالْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ، ثُمَّ أَحْضِرْهُمْ حَتَّى آتِيَكَ ". فَفَعَلْتُ، ثُمَّ جَاءَ صلى الله عليه وسلم فَقَعَدَ عَلَيْهِ، وَكَالَ لِكُلِّ رَجُلٍ حَتَّى اسْتَوْفَى، وَبَقِيَ التَّمْرُ كَمَا هُوَ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ. وَغَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى نَاضِحٍ لَنَا، فَأَزْحَفَ الْجَمَلُ فَتَخَلَّفَ عَلَىَّ فَوَكَزَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ خَلْفِهِ، قَالَ " بِعْنِيهِ وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ". فَلَمَّا دَنَوْنَا اسْتَأْذَنْتُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ. قَالَ صلى الله عليه وسلم " فَمَا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ". قُلْتُ ثَيِّبًا، أُصِيبَ عَبْدُ اللَّهِ وَتَرَكَ جَوَارِيَ صِغَارًا، فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا تُعَلِّمُهُنَّ وَتُؤَدِّبُهُنَّ، ثُمَّ قَالَ " ائْتِ أَهْلَكَ ". فَقَدِمْتُ فَأَخْبَرْتُ خَالِي بِبَيْعِ الْجَمَلِ فَلاَمَنِي، فَأَخْبَرْتُهُ بِإِعْيَاءِ الْجَمَلِ، وَبِالَّذِي كَانَ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَوَكْزِهِ إِيَّاهُ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْجَمَلِ، فَأَعْطَانِي ثَمَنَ الْجَمَلِ وَالْجَمَلَ وَسَهْمِي مَعَ الْقَوْمِ.
Narrated Jabir:When `Abdullah (my father) died, he left behind children and debts. I asked the lenders to put down some of his debt, but they refused, so I went to the Prophet (ﷺ) to intercede with them, yet they refused. The Prophet (ﷺ) said (to me), "Classify your dates into their different kinds: 'Adha bin Zaid, Lean and 'Ajwa, each kind alone and call all the creditors and wait till I come to you." I did so and the Prophet (ﷺ) came and sat beside the dates and started measuring to each his due till he paid them fully, and the amount of dates remained as it was before, as if he had not touched them. (On another occasion) I took part in one of Ghazawat along with the Prophet (ﷺ) and I was riding one of our camels. The camel got tired and was lagging behind the others. The Prophet (ﷺ) hit it on its back. He said, "Sell it to me, and you have the right to ride it till Medina.'' When we approached Medina, I took the permission from the Prophet (ﷺ) to go to my house, saying, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have newly married." The Prophet (ﷺ) asked, "Have you married a virgin or a matron (a widow or divorcee)?" I said, "I have married a matron, as `Abdullah (my father) died and left behind daughters small in their ages, so I married a matron who may teach them and bring them up with good manners." The Prophet (ﷺ) then said (to me), "Go to your family." When I went there and told my maternal uncle about the selling of the camel, he admonished me for it. On that I told him about its slowness and exhaustion and about what the Prophet (ﷺ) had done to the camel and his hitting it. When the Prophet (ﷺ) arrived, I went to him with the camel in the morning and he gave me its price, the camel itself, and my share from the war booty as he gave the other people
Sahih al-Bukhari 43:21sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أُصِيبَ عَبْدُ اللَّهِ وَتَرَكَ عِيَالاً وَدَيْنًا، فَطَلَبْتُ إِلَى أَصْحَابِ الدَّيْنِ أَنْ يَضَعُوا بَعْضًا مِنْ دَيْنِهِ فَأَبَوْا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَشْفَعْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا، فَقَالَ " صَنِّفْ تَمْرَكَ كُلَّ شَىْءٍ مِنْهُ عَلَى حِدَتِهِ، عِذْقَ ابْنِ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ، وَاللِّينَ عَلَى حِدَةٍ، وَالْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ، ثُمَّ أَحْضِرْهُمْ حَتَّى آتِيَكَ ". فَفَعَلْتُ، ثُمَّ جَاءَ صلى الله عليه وسلم فَقَعَدَ عَلَيْهِ، وَكَالَ لِكُلِّ رَجُلٍ حَتَّى اسْتَوْفَى، وَبَقِيَ التَّمْرُ كَمَا هُوَ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ. وَغَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى نَاضِحٍ لَنَا، فَأَزْحَفَ الْجَمَلُ فَتَخَلَّفَ عَلَىَّ فَوَكَزَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ خَلْفِهِ، قَالَ " بِعْنِيهِ وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ". فَلَمَّا دَنَوْنَا اسْتَأْذَنْتُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ. قَالَ صلى الله عليه وسلم " فَمَا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ". قُلْتُ ثَيِّبًا، أُصِيبَ عَبْدُ اللَّهِ وَتَرَكَ جَوَارِيَ صِغَارًا، فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا تُعَلِّمُهُنَّ وَتُؤَدِّبُهُنَّ، ثُمَّ قَالَ " ائْتِ أَهْلَكَ ". فَقَدِمْتُ فَأَخْبَرْتُ خَالِي بِبَيْعِ الْجَمَلِ فَلاَمَنِي، فَأَخْبَرْتُهُ بِإِعْيَاءِ الْجَمَلِ، وَبِالَّذِي كَانَ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَوَكْزِهِ إِيَّاهُ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْجَمَلِ، فَأَعْطَانِي ثَمَنَ الْجَمَلِ وَالْجَمَلَ وَسَهْمِي مَعَ الْقَوْمِ.
Narrated Jabir:When `Abdullah (my father) died, he left behind children and debts. I asked the lenders to put down some of his debt, but they refused, so I went to the Prophet (ﷺ) to intercede with them, yet they refused. The Prophet (ﷺ) said (to me), "Classify your dates into their different kinds: 'Adha bin Zaid, Lean and 'Ajwa, each kind alone and call all the creditors and wait till I come to you." I did so and the Prophet (ﷺ) came and sat beside the dates and started measuring to each his due till he paid them fully, and the amount of dates remained as it was before, as if he had not touched them. (On another occasion) I took part in one of Ghazawat along with the Prophet (ﷺ) and I was riding one of our camels. The camel got tired and was lagging behind the others. The Prophet (ﷺ) hit it on its back. He said, "Sell it to me, and you have the right to ride it till Medina.'' When we approached Medina, I took the permission from the Prophet (ﷺ) to go to my house, saying, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have newly married." The Prophet (ﷺ) asked, "Have you married a virgin or a matron (a widow or divorcee)?" I said, "I have married a matron, as `Abdullah (my father) died and left behind daughters small in their ages, so I married a matron who may teach them and bring them up with good manners." The Prophet (ﷺ) then said (to me), "Go to your family." When I went there and told my maternal uncle about the selling of the camel, he admonished me for it. On that I told him about its slowness and exhaustion and about what the Prophet (ﷺ) had done to the camel and his hitting it. When the Prophet (ﷺ) arrived, I went to him with the camel in the morning and he gave me its price, the camel itself, and my share from the war booty as he gave the other people
Sahih al-Bukhari 46:16sahih
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ، كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فِي بَعْضِ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَأَصَابَنَا سَنَةٌ، فَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَمُرُّ بِنَا فَيَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الإِقْرَانِ، إِلاَّ أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ أَخَاهُ.
Narrated Jabala:"We were in Medina with some of the Iraqi people, and we were struck with famine and Ibn Az-Zubair used to give us dates. Ibn `Umar used to pass by and say, "The Prophet (ﷺ) forbade us to eat two dates at a time, unless one takes the permission of one's companions
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے جبلہ نے بیان کیا کہ ہم بعض اہل عراق کے ساتھ مدینہ میں مقیم تھے۔ وہاں ہمیں قحط میں مبتلا ہونا پڑا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کھانے کے لیے ہمارے پاس کھجور بھجوایا کرتے تھے۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب ہماری طرف سے گزرتے تو فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر کھاتے وقت ) دو کھجور کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے اجازت لے لے۔
Sahih al-Bukhari 47:1sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ، فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُمْ ثَلاَثُمِائَةٍ وَأَنَا فِيهِمْ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ، فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ ذَلِكَ الْجَيْشِ فَجُمِعَ ذَلِكَ كُلُّهُ فَكَانَ مِزْوَدَىْ تَمْرٍ، فَكَانَ يُقَوِّتُنَا كُلَّ يَوْمٍ قَلِيلاً قَلِيلاً، حَتَّى فَنِيَ فَلَمْ يَكُنْ يُصِيبُنَا إِلاَّ تَمْرَةٌ تَمْرَةٌ. فَقُلْتُ وَمَا تُغْنِي تَمْرَةٌ فَقَالَ لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَنِيَتْ. قَالَ ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَى الْبَحْرِ فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ، فَأَكَلَ مِنْهُ ذَلِكَ الْجَيْشُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلَعَيْنِ مِنْ أَضْلاَعِهِ فَنُصِبَا، ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ فَرُحِلَتْ ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهُمَا فَلَمْ تُصِبْهُمَا.
Narrated Jabir bin `Abdullah:"Allah's Messenger (ﷺ) sent an army towards the east coast and appointed Abu 'Ubaida bin Al-Jarrah as their chief, and the army consisted of three-hundred men including myself. We marched on till we reached a place where our food was about to finish. Abu- 'Ubaida ordered us to collect all the journey food and it was collected. My (our) journey food was dates. Abu 'Ubaida kept on giving us our daily ration in small amounts from it, till it was exhausted. The share of everyone of us used to be one date only." I said, "How could one date benefit you?" Jabir replied, "We came to know its value when even that too finished." Jabir added, "When we reached the sea-shore, we saw a huge fish which was like a small mountain. The army ate from it for eighteen days. Then Abu 'Ubaida ordered that two of its ribs be fixed and they were fixed in the ground. Then he ordered that a she-camel be ridden and it passed under the two ribs (forming an arch) without touching them
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں وہب بن کیسان نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( رجب 7 ھ میں ) ساحل بحر کی طرف ایک لشکر بھیجا۔ اور اس کا امیر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ فوجیوں کی تعداد تین سو تھی اور میں بھی ان میں شریک تھا۔ ہم نکلے اور ابھی راستے ہی میں تھے کہ توشہ ختم ہو گیا۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ تمام فوجی اپنے توشے ( جو کچھ بھی باقی رہ گئے ہوں ) ایک جگہ جمع کر دیں۔ سب کچھ جمع کرنے کے بعد کھجوروں کے کل دو تھیلے ہو سکے اور روزانہ ہمیں اسی میں سے تھوڑی تھوڑی کھجور کھانے کے لیے ملنے لگی۔ جب اس کا بھی اکثر حصہ ختم ہو گیا تو ہمیں صرف ایک ایک کھجور ملتی رہی۔ میں ( وہب بن کیسان ) نے جابر رضی اللہ عنہ سے کہا بھلا ایک کھجور سے کیا ہوتا ہو گا؟ انہوں نے بتلایا کہ اس کی قدر ہمیں اس وقت معلوم ہوئی جب وہ بھی ختم ہو گئی تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ آخر ہم سمندر تک پہنچ گئے۔ اتفاق سے سمندر میں ہمیں ایک ایسی مچھلی مل گئی جو ( اپنے جسم میں ) پہاڑ کی طرح معلوم ہوتی تھی۔ سارا لشکر اس مچھلی کو اٹھارہ راتوں تک کھاتا رہا۔ پھر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی دونوں پسلیوں کو کھڑا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد اونٹوں کو ان کے تلے سے چلنے کا حکم دیا۔ اور وہ ان پسلیوں کے نیچے سے ہو کر گزرے، لیکن اونٹ نے ان کو چھوا تک نہیں۔
Sahih al-Bukhari 47:7sahih
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَقْرُنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ جَمِيعًا، حَتَّى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهُ.
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) decreed that one should not eat two dates together at a time unless he gets the permission from his companions (sharing the meal with him)
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے جبلہ بن سحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا کہ کوئی شخص اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر ( دستر خوان پر ) دو دو کھجور ایک ساتھ ملا کر کھائے۔
Sahih al-Bukhari 47:8sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ، قَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَأَصَابَتْنَا سَنَةٌ، فَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِنَا فَيَقُولُ لاَ تَقْرُنُوا فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الإِقْرَانِ، إِلاَّ أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ أَخَاهُ.
Narrated Jabala:"While at Medina we were struck with famine. Ibn Az-Zubair used to provide us with dates as our food. Ibn `Umar used to pass by us and say, "Don't eat two dates together at a time as the Prophet (ﷺ) has forbidden eating two dates together at a time (in a gathering) unless one takes the permission of one's companion brother
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے جبلہ نے بیان کیا کہ ہمارا قیام مدینہ میں تھا اور ہم پر قحط کا دور دورہ ہوا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہمیں کھجور کھانے کے لیے دیتے تھے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گزرتے ہوئے یہ کہہ کر جایا کرتے تھے کہ دو دو کھجور ایک ساتھ ملا کر نہ کھانا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دوسرے ساتھی کی اجازت کے بغیر ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Sahih al-Bukhari 53:19sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ تُوُفِّيَ أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَعَرَضْتُ عَلَى غُرَمَائِهِ أَنْ يَأْخُذُوا التَّمْرَ بِمَا عَلَيْهِ، فَأَبَوْا وَلَمْ يَرَوْا أَنَّ فِيهِ وَفَاءً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ " إِذَا جَدَدْتَهُ فَوَضَعْتَهُ فِي الْمِرْبَدِ آذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ". فَجَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَجَلَسَ عَلَيْهِ، وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ " ادْعُ غُرَمَاءَكَ، فَأَوْفِهِمْ ". فَمَا تَرَكْتُ أَحَدًا لَهُ عَلَى أَبِي دَيْنٌ إِلاَّ قَضَيْتُهُ، وَفَضَلَ ثَلاَثَةَ عَشَرَ وَسْقًا سَبْعَةٌ عَجْوَةٌ، وَسِتَّةٌ لَوْنٌ أَوْ سِتَّةٌ عَجْوَةٌ وَسَبْعَةٌ لَوْنٌ، فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَغْرِبَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَضَحِكَ فَقَالَ " ائْتِ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَأَخْبِرْهُمَا ". فَقَالاَ لَقَدْ عَلِمْنَا إِذْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا صَنَعَ أَنْ سَيَكُونُ ذَلِكَ. وَقَالَ هِشَامٌ عَنْ وَهْبٍ عَنْ جَابِرٍ صَلاَةَ الْعَصْرِ. وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا بَكْرٍ وَلاَ ضَحِكَ، وَقَالَ وَتَرَكَ أَبِي عَلَيْهِ ثَلاَثِينَ وَسْقًا دَيْنًا. وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ وَهْبٍ عَنْ جَابِرٍ صَلاَةَ الظُّهْرِ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:My father died and was in debt. I suggested that his creditors take the fruits (i.e. dates) of my garden in lieu of the debt of my father, but they refused the offer, as they thought that it would not cover the full debt. So, I went to the Prophet (ﷺ) and told him about it. He said (to me), "When you pluck the dates and collect them in the Mirbad (i.e. a place where dates are dried), call me (Allah's Messenger (ﷺ))." Finally he came accompanied by Abu Bakr and `Umar and sat on the dates and invoked Allah to bless them. Then he said, "Call your creditors and give them their full rights." So, I paid all my father's creditors in full and yet thirteen extra Wasqs of dates remained, seven of which were 'Ajwa and six were Laun or six of which were Ajwa and seven were Laun. I met Allah's Messenger (ﷺ) at sunset and informed him about it. On that he smiled and said, "Go to Abu Bakr and `Umar and tell them about it." They said, "We perceived that was going to happen, as Allah's Messenger (ﷺ) did what he did
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے وہب بن کیسان نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میرے والد جب شہید ہوئے تو ان پر قرض تھا۔ میں نے ان کے قرض خواہوں کے سامنے یہ صورت رکھی کہ قرض کے بدلے میں وہ ( اس سال کی کھجور کے ) پھل لے لیں۔ انہوں نے اس سے انکار کیا، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس سے قرض پورا نہیں ہو سکے گا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب پھل توڑ کر مربد ( وہ جگہ جہاں کھجور خشک کرتے تھے ) میں جمع کر دو ( تو مجھے خبر دو ) چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ ساتھ میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھجور کے ڈھیر پر بیٹھے اور اس میں برکت کی دعا فرمائی، پھر فرمایا کہ اب اپنے قرض خواہوں کو بلا لا اور ان کا قرض ادا کر دے، چنانچہ کوئی شخص ایسا باقی نہ رہا جس کا میرے باپ پر قرض رہا اور میں نے اسے ادا نہ کر دیا ہو۔ پھر بھی تیرہ وسق کھجور باقی بچ گئی۔ سات وسق عجوہ میں سے اور چھ وسق لون میں سے، یا چھ وسق عجوہ میں سے اور سات وسق لون میں سے، بعد میں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مغرب کے وقت جا کر ملا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور فرمایا، ابوبکر اور عمر کے یہاں جا کر انہیں بھی یہ واقعہ بتا دو۔ چنانچہ میں نے انہیں بتلایا، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کرنا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کیا۔ ہمیں جبھی معلوم ہو گیا تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔ ہشام نے وہب سے اور انہوں نے جابر سے عصر کے وقت ( جابر رضی اللہ عنہ کی حاضری کا ) ذکر کیا ہے اور انہوں نے نہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور نہ ہنسنے کا، یہ بھی بیان کیا کہ ( جابر رضی اللہ عنہ نے کہا ) میرے والد اپنے اوپر تیس وسق قرض چھوڑ گئے تھے اور ابن اسحاق نے وہب سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے ظہر کی نماز کا ذکر کیا ہے۔
Sahih al-Bukhari 56:277sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، أَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْفَارِسِيَّةِ " كَخٍ كَخٍ، أَمَا تَعْرِفُ أَنَّا لاَ نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ ".
Narrated Abu Huraira:Al-Hasan bin 'Ali took a date from the dates of the Sadaqa and put it in his mouth. The Prophet (ﷺ) said (to him) in Persian, "Kakh, kakh! (i.e. Don't you know that we do not eat the Sadaqa (i.e. what is given in charity) (charity is the dirt of the people)
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے صدقہ کی کھجور میں سے ( جو بیت المال میں آئی تھی ) ایک کھجور اٹھا لی اور اپنے منہ کے قریب لے گئے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فارسی زبان کا یہ لفظ کہہ کر روک دیا کہ «كخ كخ» کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھایا کرتے ہیں۔
Sahih al-Bukhari 63:39sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلاَمٍ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ أَلاَ تَجِيءُ فَأُطْعِمَكَ سَوِيقًا وَتَمْرًا، وَتَدْخُلَ فِي بَيْتٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّكَ بِأَرْضٍ الرِّبَا بِهَا فَاشٍ، إِذَا كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ فَأَهْدَى إِلَيْكَ حِمْلَ تِبْنٍ، أَوْ حِمْلَ شَعِيرٍ أَوْ حِمْلَ قَتٍّ، فَلاَ تَأْخُذْهُ، فَإِنَّهُ رِبًا. وَلَمْ يَذْكُرِ النَّضْرُ وَأَبُو دَاوُدَ وَوَهْبٌ عَنْ شُعْبَةَ الْبَيْتَ.
Narrated Abu Burda:When I came to Medina. I met `Abdullah bin Salam. He said, "Will you come to me so that I may serve you with Sawiq (i.e. powdered barley) and dates, and let you enter a (blessed) house that in which the Prophet (ﷺ) entered?" Then he added, "You are In a country where the practice of Riba (i.e. usury) is prevalent; so if somebody owes you something and he sends you a present of a load of chopped straw or a load of barley or a load of provender then do not take it, as it is Riba
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے سعید بن ابی بردہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تو میں نے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، انہوں نے کہا، آؤ تمہیں میں ستو اور کھجور کھلاؤں گا اور تم ایک ( باعظمت ) مکان میں داخل ہو گے ( کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں تشریف لے گئے تھے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا قیام ایک ایسے ملک میں ہے جہاں سودی معاملات بہت عام ہیں اگر تمہارا کسی شخص پر کوئی حق ہو اور پھر وہ تمہیں ایک تنکے یا جَو کے ایک دانے یا ایک گھاس کے برابر بھی ہدیہ دے تو اسے قبول نہ کرنا کیونکہ وہ بھی سود ہے۔ نضر، ابوداؤد اور وہب نے ( اپنی روایتوں میں ) «البيت.» ( گھر ) کا ذکر نہیں کیا۔
Sahih al-Bukhari 64:92sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا قَالَ " فِي الْجَنَّةِ " فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:On the day of the battle of Uhud, a man came to the Prophet (ﷺ) and said, "Can you tell me where I will be if I should get martyred?" The Prophet (ﷺ) replied, "In Paradise." The man threw away some dates he was carrying in his hand, and fought till he was martyred
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوہ احد کے موقع پر پوچھا: یا رسول اللہ! اگر میں قتل کر دیا گیا تو میں کہاں جاؤں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں۔ انہوں نے کھجور پھینک دی جو ان کے ہاتھ میں تھی اور لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
Sahih al-Bukhari 64:99sahih
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما أَنَّ أَبَاهُ، اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا، وَتَرَكَ سِتَّ بَنَاتٍ، فَلَمَّا حَضَرَ جِذَاذُ النَّخْلِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ وَالِدِي قَدِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ دَيْنًا كَثِيرًا، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَرَاكَ الْغُرَمَاءُ. فَقَالَ " اذْهَبْ فَبَيْدِرْ كُلَّ تَمْرٍ عَلَى نَاحِيَةٍ ". فَفَعَلْتُ ثُمَّ دَعَوْتُهُ، فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ كَأَنَّهُمْ أُغْرُوا بِي تِلْكَ السَّاعَةَ، فَلَمَّا رَأَى مَا يَصْنَعُونَ أَطَافَ حَوْلَ أَعْظَمِهَا بَيْدَرًا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ " ادْعُ لَكَ أَصْحَابَكَ ". فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّى اللَّهُ عَنْ وَالِدِي أَمَانَتَهُ، وَأَنَا أَرْضَى أَنْ يُؤَدِّيَ اللَّهُ أَمَانَةَ وَالِدِي، وَلاَ أَرْجِعَ إِلَى أَخَوَاتِي بِتَمْرَةٍ، فَسَلَّمَ اللَّهُ الْبَيَادِرَ كُلَّهَا وَحَتَّى إِنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْبَيْدَرِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّهَا لَمْ تَنْقُصْ تَمْرَةً وَاحِدَةً.
Narrated Jabir bin `Abdullah:That his father was martyred on the day of the battle of Uhud and was in debt and left six (orphan) daughters. Jabir, added, "When the season of plucking the dates came, I went to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "You know that my father was martyred on the day of Uhud, and he was heavily in debt, and I would like that the creditors should see you." The Prophet (ﷺ) said, "Go and pile every kind of dates apart." I did so and called him (i.e. the Prophet (ﷺ) ). When the creditors saw him, they started claiming their debts from me then in such a harsh manner (as they had never done before). So when he saw their attitude, he went round the biggest heap of dates thrice, and then sat over it and said, 'O Jabir), call your companions (i.e. the creditors).' Then he kept on measuring (and giving) to the creditors (their due) till Allah paid all the debt of my father. I would have been satisfied to retain nothing of those dates for my sisters after Allah had paid the debts of my father. But Allah saved all the heaps (of dates), so that when I looked at the heap where the Prophet (ﷺ) had been sitting, it seemed as if a single date had not been taken away thereof
ہم سے احمد بن ابی شریح نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ بن موسیٰ نے خبر دی، ان سے شیبان نے بیان کیا، ان سے فراس نے، ان سے شعبی نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ان کے والد ( عبداللہ رضی اللہ عنہ ) احد کی لڑائی میں شہید ہو گئے تھے اور قرض چھوڑ گئے تھے اور چھ لڑکیاں بھی۔ جب درختوں سے کھجور اتارے جانے کا وقت قریب آیا تو انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، میرے والد صاحب احد کی لڑائی میں شہید ہو گئے اور قرض چھوڑ گئے ہیں، میں چاہتا تھا کہ قرض خواہ آپ کو دیکھ لیں ( اور کچھ نرمی برتیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور ہر قسم کی کھجور کا الگ الگ ڈھیر لگا لو۔ میں نے حکم کے مطابق عمل کیا اور پھر آپ کو بلانے گیا۔ جب قرض خواہوں نے آپ کو دیکھا تو جیسے اس وقت مجھ پر اور زیادہ بھڑک اٹھے۔ ( کیونکہ وہ یہودی تھے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کا یہ طرز عمل دیکھا تو آپ پہلے سب سے بڑے ڈھیر کے چاروں طرف تین مرتبہ گھومے۔ اس کے بعد اس پر بیٹھ گئے اور فرمایا اپنے قرض خواہوں کو بلا لاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر انہیں ناپ کے دیتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی طرف سے ان کی ساری امانت ادا کر دی۔ میں اس پر خوش تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے والد کی امانت ادا کرا دے اور میں اپنی بہنوں کے لیے ایک کھجور بھی نہ لے جاؤں لیکن اللہ تعالیٰ نے تمام دوسرے ڈھیر بچا دیئے بلکہ اس ڈھیر کو بھی جب دیکھا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ جیسے اس میں سے ایک کھجور کا دانہ بھی کم نہیں ہوا۔
Sahih al-Bukhari 64:200sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مِرْدَاسًا الأَسْلَمِيَّ، يَقُولُ ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ ـ يُقْبَضُ الصَّالِحُونَ الأَوَّلُ فَالأَوَّلُ، وَتَبْقَى حُفَالَةٌ كَحُفَالَةِ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ، لاَ يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِمْ شَيْئًا.
Narrated Mirdas Al-Aslami:Who was among those (who had given the Pledge of allegiance) under the Tree: Pious people will die in succession, and there will remain the dregs of society who will be like the useless residues of dates and barley and Allah will pay no attention to them
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ‘ انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے ‘ انہیں قیس بن ابی حازم نے اور انہوں نے مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ اصحاب شجرہ (غزوہ حدیبیہ میں شریک ہونے والوں) میں سے تھے ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ پہلے صالحین قبض کئے جائیں گے۔ جو زیادہ صالح ہو گا اس کی روح سب سے پہلے اور جو اس کے بعد کے درجے کا ہو گا اس کی اس کے بعد پھر ردی اور بےکار کھجور اور جَو کی طرح بےکار لوگ باقی رہ جائیں گے جن کی اللہ کے نزدیک کوئی قدر نہیں ہو گی۔
Sahih al-Bukhari 64:253sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ أَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلاَثَ لَيَالٍ يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، وَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلاَ لَحْمٍ، وَمَا كَانَ فِيهَا إِلاَّ أَنْ أَمَرَ بِلاَلاً بِالأَنْطَاعِ فَبُسِطَتْ، فَأَلْقَى عَلَيْهَا التَّمْرَ وَالأَقِطَ وَالسَّمْنَ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ قَالُوا إِنْ حَجَبَهَا فَهْىَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهْىَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ. فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ، وَمَدَّ الْحِجَابَ.
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) stayed for three nights between Khaibar and Medina and was married to Safiya. I invited the Muslim to his marriage banquet and there waa neither meat nor bread in that banquet but the Prophet ordered Bilal to spread the leather mats on which dates, dried yogurt and butter were put. The Muslims said amongst themselves, "Will she (i.e. Safiya) be one of the mothers of the believers, (i.e. one of the wives of the Prophet (ﷺ) ) or just (a lady captive) of what his right-hand possesses" Some of them said, "If the Prophet (ﷺ) makes her observe the veil, then she will be one of the mothers of the believers (i.e. one of the Prophet's wives), and if he does not make her observe the veil, then she will be his lady slave." So when he departed, he made a place for her behind him (on his camel and made her observe the veil)
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو محمد بن جعفر بن ابی کثیر نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے حمید نے خبر دی اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان ( مقام سد الصہباء میں ) تین دن تک قیام فرمایا اور وہیں صفیہ رضی اللہ عنہا سے خلوت کی تھی پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسلمانوں کو ولیمہ کی دعوت دی۔ آپ کے ولیمہ میں نہ روٹی تھی ‘ نہ گوشت تھا صرف اتنا ہوا کہ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور وہ بچھا دیا گیا۔ پھر اس پر کھجور ‘ پنیر اور گھی ( کا ملیدہ ) رکھ دیا۔ مسلمانوں نے کہا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا امہات المؤمنین میں سے ہیں یا باندی ہیں؟ کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پردے میں رکھا تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہوں گی اور اگر آپ نے انہیں پردے میں نہیں رکھا تو پھر یہ اس کی علامت ہو گی کہ وہ باندی ہیں۔ آخر جب کوچ کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے بیٹھنے کی جگہ بنائی اور ان کے لیے پردہ کیا۔
Sahih al-Bukhari 64:279sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَرَمِيٌّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَارَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ وَلَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ قُلْنَا الآنَ نَشْبَعُ مِنَ التَّمْرِ.
Narrated `Aisha:When Khaibar was conquered, we said, "Now we will eat our fill of dates
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے حرمی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے عمارہ نے خبر دی ‘ انہیں عکرمہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب خیبر فتح ہوا تو ہم نے کہا اب کھجوروں سے ہمارا جی بھر جائے گا۔
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ". فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ {وَالصَّاعَيْنِ} بِالثَّلاَثَةِ. فَقَالَ " لاَ تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri and Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) appointed a man as the ruler of Khaibar who later brought some Janib (i.e. dates of good quality) to the Prophet. On that, Allah's Messenger (ﷺ) said (to him). "Are all the dates of Khaibar like this?" He said, "No, by Allah, O Allah's Messenger (ﷺ)! But we take one Sa of these (dates of good quality) for two or three Sa's of other dates (of inferior quality)." On that, Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not do so, but first sell the inferior quality dates for money and then with that money, buy Janib
Sahih al-Bukhari 64:281sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ". فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ {وَالصَّاعَيْنِ} بِالثَّلاَثَةِ. فَقَالَ " لاَ تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri and Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) appointed a man as the ruler of Khaibar who later brought some Janib (i.e. dates of good quality) to the Prophet. On that, Allah's Messenger (ﷺ) said (to him). "Are all the dates of Khaibar like this?" He said, "No, by Allah, O Allah's Messenger (ﷺ)! But we take one Sa of these (dates of good quality) for two or three Sa's of other dates (of inferior quality)." On that, Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not do so, but first sell the inferior quality dates for money and then with that money, buy Janib
Sahih al-Bukhari 64:394sahih
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ إِنَّ لِي جَرَّةً يُنْتَبَذُ لِي نَبِيذٌ، فَأَشْرَبُهُ حُلْوًا فِي جَرٍّ إِنْ أَكْثَرْتُ مِنْهُ، فَجَالَسْتُ الْقَوْمَ، فَأَطَلْتُ الْجُلُوسَ خَشِيتُ أَنْ أَفْتَضِحَ فَقَالَ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ غَيْرَ خَزَايَا وَلاَ النَّدَامَى ". فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ مُضَرَ، وَإِنَّا لاَ نَصِلُ إِلَيْكَ إِلاَّ فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ، حَدِّثْنَا بِجُمَلٍ مِنَ الأَمْرِ، إِنْ عَمِلْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ، وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا. قَالَ " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، الإِيمَانِ بِاللَّهِ، هَلْ تَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ بِاللَّهِ شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَإِقَامُ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ مَا انْتُبِذَ فِي الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ ".
Narrated Abu Jamra:I said to Ibn `Abbas, "I have an earthenware pot containing Nabidh (i.e. water and dates or grapes) for me, and I drink of it while it is sweet. If I drink much of it and stay with the people for a long time, I get afraid that they may discover it (for I will appear as if I were drunk). Ibn `Abbas said, "A delegation of `Abdul Qais came to Allah's Messenger (ﷺ) and he said, "Welcome, O people! Neither will you have disgrace nor will you regret." They said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! There are the Mudar pagans between you and us, so we cannot come to you except in the sacred Months. So please teach us some orders on acting upon which we will enter Paradise. Besides, we will preach that to our people who are behind us." The Prophet (ﷺ) said, "I order you to do four things and forbid you from four things (I order you): To believe in Allah...Do you know what is to believe in Allah? That is to testify that None has the right to be worshipped except Allah: (I order you also to offer prayers perfectly to pay Zakat; and to fast the month of Ramadan and to give the Khumus (i.e. one-fifth of the booty) (for Allah's Sake). I forbid you from four other things (i.e. the wine that is prepared in) Ad-Dubba, An-Naqir, Al-Hantam and Al-Muzaffat. (See Hadith No. 50 Vol)
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوعامر عقدی نے خبر دی، کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میرے پاس ایک گھڑا ہے جس میں میرے لیے نبیذ یعنی کھجور کا شربت بنایا جاتا ہے۔ میں وہ میٹھے رہنے تک پیا کرتا ہوں۔ بعض وقت بہت پی لیتا ہوں اور لوگوں کے پاس دیر تک بیٹھا رہتا ہوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں فضیحت نہ ہو۔ ( لوگ کہنے لگیں کہ یہ نشہ باز ہے ) اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے آئے نہ ذلیل ہوئے، نہ شرمندہ ( خوشی سے مسلمان ہو گئے نہ ہوتے تو ذلت اور شرمندگی حاصل ہوتی ) انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے اور آپ کے درمیان میں مشرکین کے قبائل پڑتے ہیں۔ اس لیے ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینے ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں وہ احکام و ہدایات سنا دیں کہ اگر ہم ان پر عمل کرتے رہیں تو جنت میں داخل ہوں اور جو لوگ ہمارے ساتھ نہیں آ سکے ہیں انہیں بھی وہ ہدایات پہنچا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں۔ میں تمہیں حکم دیتا ہوں اللہ پر ایمان لانے کا، تمہیں معلوم ہے اللہ پر ایمان لانا کسے کہتے ہیں؟ اس کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، نماز قائم کرنے کا، زکٰوۃ دینے کا، رمضان کے روزے رکھنے اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ( بیت المال کو ) ادا کرنے کا حکم دیتا ہوں اور میں تمہیں چار چیزوں سے روکتا ہوں یعنی کدو کے تونبے میں اور کریدی ہوئی لکڑی کے برتن میں اور سبز لاکھی برتن میں اور روغنی برتن میں نبیذ بھگونے سے منع کرتا ہوں۔
Sahih al-Bukhari 65:191sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ أَحَدَّثَكُمْ زَائِدَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَب��ي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ بِالصَّدَقَةِ، فَيَحْتَالُ أَحَدُنَا حَتَّى يَجِيءَ بِالْمُدِّ، وَإِنَّ لأَحَدِهِمِ الْيَوْمَ مِائَةَ أَلْفٍ. كَأَنَّهُ يُعَرِّضُ بِنَفْسِهِ.
Narrated Shaqiq:Abu Mas`ud Al-Ansari said, "Allah's Messenger (ﷺ), used to order us to give alms. So one of us would exert himself to earn one Mud (special measure of wheat or dates, etc.,) to give in charity; while today one of us may have one hundred thousand." Shaqiq said: As if Abu Masud referred to himself
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابواسامہ (حماد بن اسامہ) سے پوچھا، آپ حضرات سے زائدہ بن قدامہ نے بیان کیا تھا کہ ان سے سلیمان نے، ان سے شقیق نے اور ان سے ابومسعود انصاری نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کی ترغیب دیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ مزدوری کر کے لاتے اور ( بڑی مشکل سے ) ایک مد کا صدقہ کر سکتے لیکن آج انہیں میں بعض ایسے ہیں جن کے پاس لاکھوں درہم ہیں۔ غالباً ان کا اشارہ خود اپنی طرف تھا ( حماد نے کہا ہاں سچ ہے ) ۔
Sahih al-Bukhari 67:94sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلاَثًا يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلاَ لَحْمٍ، أَمَرَ بِالأَنْطَاعِ فَأُلْقِيَ فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالأَقِطِ وَالسَّمْنِ فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ فَقَالُوا إِنْ حَجَبَهَا فَهْىَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهْىَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّى لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ.
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) stayed for three days at a place between Khaibar and Medina, and there he consummated his marriage with Safiyya bint Huyay. I invited the Muslims to a banquet which included neither meat nor bread. The Prophet (ﷺ) ordered for the leather dining sheets to be spread, and then dates, dried yogurt and butter were provided over it, and that was the Walima (banquet) of the Prophet. The Muslims asked whether Safiyya would be considered as his wife or as a slave girl of what his right hands possessed. Then they said, "If the Prophet (ﷺ) screens her from the people, then she Is the Prophet's wife but if he does not screen her, then she is a slave girl." So when the Prophet (ﷺ) proceeded, he made a place for her (on the camel) behind him and screened her from people
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے خبر دی، انہیں حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان ( راستہ میں ) تین دن تک قیام کیا اور وہاں ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی۔ میں نے مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ پر بلایا لیکن اس دعوت میں روٹی اور گوشت نہیں تھا۔ آپ نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ مسلمانوں نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ( کہا کہ ) امہات المؤمنین میں سے ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لونڈی ہی رکھا ہے ( کیونکہ وہ بھی جنگ خیبر کے قیدیوں میں سے تھیں۔ اس پر بعض نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے پردہ کرائیں پھر تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر آپ ان کے لیے پردہ نہ کرائیں تو پھر وہ لونڈی کی حیثیت سے ہیں۔ جب سفر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے جگہ بنائی اور لوگوں کے اور ان کے درمیان پردہ ڈلوایا۔)
Sahih al-Bukhari 67:98sahih
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ـ وَاسْمُهُ الْجَعْدُ ـ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَرَّ بِنَا فِي مَسْجِدِ بَنِي رِفَاعَةَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا مَرَّ بِجَنَبَاتِ أُمِّ سُلَيْمٍ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَلَّمَ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَرُوسًا بِزَيْنَبَ فَقَالَتْ لِي أُمُّ سُلَيْمٍ لَوْ أَهْدَيْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَدِيَّةً فَقُلْتُ لَهَا افْعَلِي. فَعَمَدَتْ إِلَى تَمْرٍ وَسَمْنٍ وَأَقِطٍ، فَاتَّخَذَتْ حَيْسَةً فِي بُرْمَةٍ، فَأَرْسَلَتْ بِهَا مَعِي إِلَيْهِ، فَانْطَلَقْتُ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ لِي " ضَعْهَا ". ثُمَّ أَمَرَنِي فَقَالَ " ادْعُ لِي رِجَالاً ـ سَمَّاهُمْ ـ وَادْعُ لِي مَنْ لَقِيتَ ". قَالَ فَفَعَلْتُ الَّذِي أَمَرَنِي فَرَجَعْتُ فَإِذَا الْبَيْتُ غَاصٌّ بِأَهْلِهِ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى تِلْكَ الْحَيْسَةِ، وَتَكَلَّمَ بِهَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ جَعَلَ يَدْعُو عَشَرَةً عَشَرَةً، يَأْكُلُونَ مِنْهُ، وَيَقُولُ لَهُمُ " اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، وَلْيَأْكُلْ كُلُّ رَجُلٍ مِمَّا يَلِيهِ ". قَالَ حَتَّى تَصَدَّعُوا كُلُّهُمْ عَنْهَا، فَخَرَجَ مِنْهُمْ مَنْ خَرَجَ، وَبَقِيَ نَفَرٌ يَتَحَدَّثُونَ قَالَ وَجَعَلْتُ أَغْتَمُّ، ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ الْحُجُرَاتِ، وَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ فَقُلْتُ إِنَّهُمْ قَدْ ذَهَبُوا. فَرَجَعَ فَدَخَلَ الْبَيْتَ، وَأَرْخَى السِّتْرَ، وَإِنِّي لَفِي الْحُجْرَةِ، وَهْوَ يَقُولُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلاَ مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ}. قَالَ أَبُو عُثْمَانَ قَالَ أَنَسٌ إِنَّهُ خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَشْرَ سِنِينَ.
Narrated Anas bin Malik: "Whenever the Prophet (ﷺ) passed by (my mother Um-Sulaim) he used to enter her and greet her. Anas further said: Once the Prophet (ﷺ) way a bridegroom during his marriage with Zainab, Um Sulaim said to me, "Let us give a gift to Allah's Messenger (ﷺ) ." I said to her, "Do it." So she prepared Haisa (a sweet dish) made from dates, butter and dried yoghurt and she sent it with me to him. I took it to him and he said, "Put it down," and ordered me to call some men whom he named, and to invite whomever I would meet. I did what he ordered me to do, and when I returned, I found the house crowded with people and saw the Prophet (ﷺ) keeping his hand over the Haisa and saying over it whatever Allah wished (him to say). Then he called the men in batches of ten to eat of it, and he said to them, "Mention the Name of Allah, and each man should eat of the dish the nearest to him." When all of them had finished their meals, some of them left and a few remained there talking, over which I felt unhappy. Then the Prophet (ﷺ) went out towards the dwelling places (of his wives) and I too, went out after him and told him that those people had left. Then he returned and entered his dwelling place and let the curtains fall while I was in (his) dwelling place, and he was reciting the Verses:-- 'O you who believe! Enter not the Prophet's house until leave is given you for a meal, (and then) not (as early as) to what for its preparation. But when you are invited, enter, and when you have taken your meals, disperse without sitting for a talk. Verily such (behavior) annoys the Prophet; and he would be shy of (asking) you (to go), but Allah is not shy of (telling you) the Truth.' (33-53) Abu Uthman said: Anas said, "I served the Prophet for ten years
اور ابراہیم بن طہمان نے ابوعثمان جعد بن دینار سے روایت کیا، انہوں نے انس بن مالک سے، ابوعثمان کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے سے بنی رفاعہ کی مسجد میں ( جو بصرہ میں ہے ) گزرے۔ میں نے ان سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا آپ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف سے گزرتے تو ان کے پاس جاتے، ان کو سلام کرتے ( وہ آپ کی رضاعی خالہ ہوتی تھیں ) ۔ پھر انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک بار ایسا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے۔ آپ نے زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تھا تو ام سلیم ( میری ماں ) مجھ سے کہنے لگیں اس وقت ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ تحفہ بھیجیں تو اچھا ہے۔ میں نے کہا مناسب ہے۔ انہوں نے کھجور اور گھی اور پنیر ملا کر ایک ہانڈی میں حلوہ بنایا اور میرے ہاتھ میں دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھجوایا، میں لے کر آپ کے پاس چلا، جب پہنچا تو آپ نے فرمایا رکھ دے اور جا کر فلاں فلاں لوگوں کو بلا لا آپ نے ان کا نام لیا اور جو بھی کوئی تجھ کو راستے میں ملے اس کو بلا لے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کے حکم کے موافق لوگوں کو دعوت دینے گیا۔ لوٹ کر جو آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سارا گھر لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس حلوے پر رکھے اور جو اللہ کو منظور تھا وہ زبان سے کہا ( برکت کی دعا فرمائی ) ۔ پھر دس دس آدمیوں کو کھانے کے لیے بلانا شروع کیا۔ آپ ان سے فرماتے جاتے تھے اللہ کا نام لو اور ہر ایک آدمی اپنے آگے سے کھائے۔ ( رکابی کے بیچ میں ہاتھ نہ ڈالے ) یہاں تک کہ سب لوگ کھا کر گھر کے باہر چل دئیے۔ تین آدمی گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے اور مجھ کو ان کے نہ جانے سے رنج پیدا ہوا ( اس خیال سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہو گی ) آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے حجروں پر گئے میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے گیا پھر راستے میں میں نے آپ سے کہا اب وہ تین آدمی بھی چلے گئے ہیں۔ اس وقت آپ لوٹے اور ( زینب رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ) آئے۔ میں بھی حجرے ہی میں تھا لیکن آپ نے میرے اور اپنے بیچ میں پردہ ڈال لیا۔ آپ سورۃ الاحزاب کی یہ آیت پڑھ رہے تھے۔ ”مسلمانو! نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر جب کھانے کے لیے تم کو اندر آنے کی اجازت دی جائے اس وقت جاؤ وہ بھی ایسا ٹھیک وقت دیکھ کر کہ کھانے کے پکنے کا انتظار نہ کرنا پڑے البتہ جب بلائے جاؤ تو اندر آ جاؤ اور کھانے سے فارغ ہوتے ہی چل دو۔ باتوں میں لگ کر وہاں بیٹھے نہ رہا کرو، ایسا کرنے سے پیغمبر کو تکلیف ہوتی تھی، اس کو تم سے شرم آتی تھی ( کہ تم سے کہے کہ چلے جاؤ ) اللہ تعالیٰ حق بات میں نہیں شرماتا۔“ ابوعثمان ( جعدی بن دینار ) کہتے تھے کہ انس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے۔
Sahih al-Bukhari 67:104sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَتَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا، وَأَوْلَمَ عَلَيْهَا بِحَيْسٍ.
Narrated Anas:Allah's Messenger (ﷺ) manumitted Safiyya and then married her, and her Mahr was her manumission, and he gave a wedding banquet with Hais (a sort of sweet dish made from butter, cheese and dates)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے شعیب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور پھر ان سے نکاح کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا اور ان کا ولیمہ ملیدہ سے کیا۔
Sahih al-Bukhari 67:111sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي عُرْسِهِ، وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ يَوْمَئِذٍ خَادِمَهُمْ وَهْىَ الْعَرُوسُ، قَالَ سَهْلٌ تَدْرُونَ مَا سَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا أَكَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ.
Narrated Sahl bin Sa`d:Abu Usaid As-Sa'di invited Allah's Messenger (ﷺ) to his wedding party and his wife who was the bride, served them on that day. Do you know what drink she gave Allah's Messenger (ﷺ)? She had soaked some dates for him (in water) overnight, and when he had finished his meal she gave him that drink (of soaked dates)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی پر دعوت دی، ان کی دلہن ام اسید سلامہ بنت وہب ضروری جو کام کاج کر رہی تھیں اور وہی دلہن بنی تھیں۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا تمہیں معلوم ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس موقع پر کیا پلایا تھا؟ رات کے وقت انہوں نے کچھ کھجوریں پانی میں بھگو دی تھیں ( صبح کو ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ کو وہی پلایا۔
Sahih al-Bukhari 67:117sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ لَمَّا عَرَّسَ أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ دَعَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابَهُ، فَمَا صَنَعَ لَهُمْ طَعَامًا وَلاَ قَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ إِلاَّ امْرَأَتُهُ أُمُّ أُسَيْدٍ، بَلَّتْ تَمَرَاتٍ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الطَّعَامِ أَمَاثَتْهُ لَهُ فَسَقَتْهُ، تُتْحِفُهُ بِذَلِكَ.
Narrated Sahl:When Abu Usaid As-Sa`idi got married, he invited the Prophet (ﷺ) and his companions. None prepared the food for them and brought it to them but his wife. She soaked some dates in water in a stone pot overnight, and when the Prophet (ﷺ) had finished his food, she provided him with that drink (of soaked dates)
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم (سلمہ بن دینار) نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے شادی کی تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو دعوت دی، اس موقعہ پر کھانا ان کی دلہن ام اسید ہی نے تیار کیا تھا اور انہوں نے ہی مردوں کے سامنے کھانا رکھا۔ انہوں نے پتھر کے ایک بڑے پیالے میں رات کے وقت کھجوریں بھگو دی تھی اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو انہوں نے ہی اس کا شربت بنایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( تحفہ کے طور پر ) پینے کے لیے پیش کیا۔
Sahih al-Bukhari 67:118sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، دَعَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لِعُرْسِهِ، فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ خَادِمَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَهْىَ الْعَرُوسُ، فَقَالَتْ أَوْ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا أَنْقَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ.
Narrated Sahl bin Sa`d:Abu Usaid As-Sa`idi invited the Prophet (ﷺ) to his wedding party and his wife served him on that day, and she was the bride. She said (or Sahl said), "Do you know what she soaked for Allah's Messenger (ﷺ)? She soaked some dates for him (in water) in a drinking bowl overnight
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن القاری نے بیان کیا، ان سے ابوالحازم نے، کہا کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ابواسید ساعدی نے اپنی شادی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی۔ اس دن ان کی بیوی ہی سب کی خدمت کر رہی تھیں، حالانکہ وہ دلہن تھیں بیوی نے کہا یا سہل نے ( راوی کو شک تھا ) کہ تمہیں معلوم ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا تیار کیا تھا؟ میں نے آپ کے لیے ایک بڑے پیالے میں رات کے وقت سے کھجور کا شربت تیار کیا تھا۔
Sahih al-Bukhari 69:7sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ قَالَ لِي مَعْمَرٌ قَالَ لِي الثَّوْرِيُّ هَلْ سَمِعْتَ فِي الرَّجُلِ يَجْمَعُ لأَهْلِهِ قُوتَ سَنَتِهِمْ أَوْ بَعْضِ السَّنَةِ قَالَ مَعْمَرٌ فَلَمْ يَحْضُرْنِي، ثُمَّ ذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَبِيعُ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ، وَيَحْبِسُ لأَهْلِهِ قُوتَ سَنَتِهِمْ.
Narrated `Umar:The Prophet (ﷺ) used to sell the dates of the garden of Bani An-Nadir and store for his family so much food as would cover their needs for a whole year
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے خبر دی، ان سے ابن عیینہ نے کہا کہ مجھ سے معمر نے بیان کیا کہ ان سے ثوری نے پوچھا کہ تم نے ایسے شخص کے بارے میں بھی سنا ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کا یا سال سے کم کا خرچ جمع کر لے۔ معمر نے بیان کیا کہ اس وقت مجھے یاد نہیں آیا پھر بعد میں یاد آیا کہ اس بارے میں ایک حدیث ابن شہاب نے ہم سے بیان کی تھی، ان سے مالک بن اوس نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی نضیر کے باغ کی کھجوریں بیچ کر اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کی روزی جمع کر دیا کرتے تھے۔
Sahih al-Bukhari 70:11sahih
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حِينَ شَبِعْنَا مِنَ الأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ.
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) died when we had satisfied our hunger with the two black things, i.e. dates and water
ہم سے مسلم بن ابراہیم قصاب نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ان کی والدہ (صفیہ بن شبیہ) نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، ان دنوں ہم پانی اور کھجور سے سیر ہو جانے لگے تھے۔
Sahih al-Bukhari 70:15sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا، يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَبْنِي بِصَفِيَّةَ فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ أَمَرَ بِالأَنْطَاعِ فَبُسِطَتْ فَأُلْقِيَ عَلَيْهَا التَّمْرُ وَالأَقِطُ وَالسَّمْنُ. وَقَالَ عَمْرٌو عَنْ أَنَسٍ بَنَى بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ.
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) halted to consummate his marriage with Safiyya. I invited the Muslims to his wedding banquet. He ordered that leather dining sheets be spread. Then dates, dried yoghurt and butter were put on those sheets. Anas added: The Prophet (ﷺ) consummated his marriage with Safiyya (during a journey) whereupon Hais (sweet dish) was served on a leather dining sheet
ہم سے سعید بن مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا مجھ کو حمید نے خبر دی اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد ان کے ساتھ راستے میں قیام کیا اور میں نے مسلمانوں کو آپ کے ولیمہ کی دعوت میں بلایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور وہ بچھایا گیا، پھر آپ نے اس پر کھجور، پنیر اور گھی ڈال دیا اور عمرو بن ابی عمرو نے کہا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ صحبت کی، پھر ایک چمڑے کے دستر خوان پر ( کھجور، گھی، پنیر ملا کر بنا ہوا ) حلوہ رکھا۔
Sahih al-Bukhari 70:39sahih
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا بَيْنَ أَصْحَابِهِ تَمْرًا، فَأَعْطَى كُلَّ إِنْسَانٍ سَبْعَ تَمَرَاتٍ، فَأَعْطَانِي سَبْعَ تَمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ، فَلَمْ يَكُنْ فِيهِنَّ تَمْرَةٌ أَعْجَبَ إِلَىَّ مِنْهَا، شَدَّتْ فِي مَضَاغِي.
Narrated Abu Huraira:Once the Prophet (ﷺ) distributed dates among his companions and gave each one seven dates. He gave me seven dates too, one of which was dry and hard, but none of the other dates was more liked by me than that one, for it prolonged my chewing it
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عباس جریری نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کھجور تقسیم کی اور ہر شخص کو سات کھجوریں دیں۔ مجھے بھی سات کھجوریں عنایت فرمائیں۔ ان میں ایک خراب تھی ( اور سخت تھی ) لیکن مجھے وہی سب سے زیادہ اچھی معلوم ہوئی کیونکہ اس کا چبانا مجھ کو مشکل ہو گیا۔
Sahih al-Bukhari 70:55sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم "مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الأُتْرُجَّةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لاَ رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ، لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ ".
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The example of a Believer who recites the Qur'an, is that of a citron which smells good and tastes good; And the example of a Believer who does not recite the Qur'an, is that of a date which has no smell but tastes sweet; and the example of a hypocrite who recites the Qur'an, is that of an aromatic plant which smells good but tastes bitter; and the example of a hypocrite who does not recite the Qur'an, is that of a colocynth plant which has no smell and is bitter in taste
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو سنگترے جیسی ہے جس کی خوشبو بھی پاکیزہ ہے اور مزہ بھی پاکیزہ ہے اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی لیکن مزہ میٹھا ہوتا ہے اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، ریحانہ ( پھول ) جیسی ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن مزہ کڑوا ہوتا ہے اور جو منافق قرآن بھی نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی اور جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔
Sahih al-Bukhari 70:69sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ تَضَيَّفْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَبْعًا، فَكَانَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَخَادِمُهُ يَعْتَقِبُونَ اللَّيْلَ أَثْلاَثًا، يُصَلِّي هَذَا، ثُمَّ يُوقِظُ هَذَا. وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنِ أَصْحَابِهِ تَمْرًا، فَأَصَابَنِي سَبْعُ تَمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ.
Narrated Abu `Uthman:I was a guest of Abu Huraira for seven days. Abu Huraira, his wife and his slave used to get up and remain awake for one-third of the night by turns. Each would offer the night prayer and then awaken the other. I heard Abu Huraira saying, "Allah's Messenger (ﷺ) distributed dates among his companions and my share was seven dates, one of which was a Hashafa (a date which dried on the tree before it was fully ripe)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن یزید نے بیان کیا، ان سے عباس جریری نے اور ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں سات دن تک مہمان رہا، وہ اور ان کی بیوی اور ان کے خادم نے رات میں ( جاگنے کی ) باری مقرر کر رکھی تھی۔ رات کے ایک تہائی حصہ میں ایک صاحب نماز پڑھتے رہے پھر وہ دوسرے کو جگا دیتے اور میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں ایک مرتبہ کھجور تقسیم کی اور مجھے بھی سات کھجوریں دیں، ایک ان میں خراب تھی۔
Sahih al-Bukhari 70:70sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَنَا تَمْرًا فَأَصَابَنِي مِنْهُ خَمْسٌ أَرْبَعُ تَمَرَاتٍ وَحَشَفَةٌ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْحَشَفَةَ هِيَ أَشَدُّهُنَّ لِضِرْسِي.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) distributed dates among us, and my share was five dates, four of which were good, and one was a ,Hashafa, and I found the Hashafa the hardest for my teeth
Sahih al-Bukhari 70:71sahih
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ، حَدَّثَتْنِي أُمِّي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ شَبِعْنَا مِنَ الأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ.
Aishah (ra) said, "When Allah's Messenger (ﷺ) died, we had been satisfied by the two black things, i.e., dates and water
اور محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے منصور ابن صفیہ نے، ان سے ان کی والدہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور ہم پانی اور کھجور ہی سے ( اکثر دنوں میں ) پیٹ بھرتے رہے۔
Sahih al-Bukhari 70:72sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رضى الله عنهما قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ يَهُودِيٌّ وَكَانَ يُسْلِفُنِي فِي تَمْرِي إِلَى الْجِدَادِ، وَكَانَتْ لِجَابِرٍ الأَرْضُ الَّتِي بِطَرِيقِ رُومَةَ فَجَلَسَتْ، فَخَلاَ عَامًا فَجَاءَنِي الْيَهُودِيُّ عِنْدَ الْجَدَادِ، وَلَمْ أَجُدَّ مِنْهَا شَيْئًا، فَجَعَلْتُ أَسْتَنْظِرُهُ إِلَى قَابِلٍ فَيَأْبَى، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لأَصْحَابِهِ " امْشُوا نَسْتَنْظِرْ لِجَابِرٍ مِنَ الْيَهُودِيِّ ". فَجَاءُونِي فِي نَخْلِي فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُكَلِّمُ الْيَهُودِيَّ فَيَقُولُ أَبَا الْقَاسِمِ لاَ أُنْظِرُهُ. فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَامَ فَطَافَ فِي النَّخْلِ، ثُمَّ جَاءَهُ فَكَلَّمَهُ فَأَبَى فَقُمْتُ فَجِئْتُ بِقَلِيلِ رُطَبٍ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَكَلَ ثُمَّ قَالَ " أَيْنَ عَرِيشُكَ يَا جَابِرُ ". فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ " افْرُشْ لِي فِيهِ ". فَفَرَشْتُهُ فَدَخَلَ فَرَقَدَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَجِئْتُهُ بِقَبْضَةٍ أُخْرَى فَأَكَلَ مِنْهَا، ثُمَّ قَامَ فَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ فَأَبَى عَلَيْهِ فَقَامَ فِي الرِّطَابِ فِي النَّخْلِ الثَّانِيَةَ ثُمَّ قَالَ " يَا جَابِرُ جُدَّ وَاقْضِ ". فَوَقَفَ فِي الْجَدَادِ فَجَدَدْتُ مِنْهَا مَا قَضَيْتُهُ وَفَضَلَ مِنْهُ فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَبَشَّرْتُهُ فَقَالَ " أَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ". عُرُوشٌ وَعَرِيشٌ بِنَاءٌ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَعْرُوشَاتٍ مَا يُعَرَّشُ مِنْ الْكُرُومِ وَغَيْرِ ذَلِكَ يُقَالُ عُرُوشُهَا أَبْنِيَتُهَا
Narrated Jabir bin `Abdullah:There was a Jew in Medina who used to lend me money up to the season of plucking dates. (Jabir had a piece of land which was on the way to Ruma). That year the land was not promising, so the payment of the debt was delayed one year. The Jew came to me at the time of plucking, but gathered nothing from my land. I asked him to give me one year respite, but he refused. This news reached the Prophet (ﷺ) whereupon he said to his companions, "Let us go and ask the Jew for respite for Jabir." All of them came to me in my garden, and the Prophet (ﷺ) started speaking to the Jew, but he Jew said, "O Abu Qasim! I will not grant him respite." When the Prophet (ﷺ) saw the Jew's attitude, he stood up and walked all around the garden and came again and talked to the Jew, but the Jew refused his request. I got up and brought some ripe fresh dates and put it in front of the Prophet. He ate and then said to me, "Where is your hut, O Jabir?" I informed him, and he said, "Spread out a bed for me in it." I spread out a bed, and he entered and slept. When he woke up, I brought some dates to him again and he ate of it and then got up and talked to the Jew again, but the Jew again refused his request. Then the Prophet (ﷺ) got up for the second time amidst the palm trees loaded with fresh dates, and said, "O Jabir! Pluck dates to repay your debt." The Jew remained with me while I was plucking the dates, till I paid him all his right, yet there remained extra quantity of dates. So I went out and proceeded till I reached the Prophet and informed him of the good news, whereupon he said, "I testify that I am Allah's Messenger (ﷺ)
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مدینہ میں ایک یہودی تھا اور وہ مجھے قرض اس شرط پر دیا کرتا تھا کہ میری کھجوریں تیار ہونے کے وقت لے لے گا۔ جابر رضی اللہ عنہ کی ایک زمین بئررومہ کے راستہ میں تھی۔ ایک سال کھجور کے باغ میں پھل نہیں آئے۔ پھل چنے جانے کا جب وقت آیا تو وہ یہودی میرے پاس آیا لیکن میں نے تو باغ سے کچھ بھی نہیں توڑا تھا۔ اس لیے میں آئندہ سال کے لیے مہلت مانگنے لگا لیکن اس نے مہلت دینے سے انکار کیا۔ اس کی خبر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ چلو، یہودی سے جابر رضی اللہ عنہ کے لیے ہم مہلت مانگیں گے۔ چنانچہ یہ سب میرے باغ میں تشریف لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی سے گفتگو فرماتے رہے لیکن وہ یہی کہتا رہا کہ ابوالقاسم میں مہلت نہیں دے سکتا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے اور کھجور کے باغ میں چاروں طرف پھرے پھر تشریف لائے اور اس سے گفتگو کی لیکن اس نے اب بھی انکار کیا پھر میں کھڑا ہوا اور تھوڑی سی تازہ کھجور لا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تناول فرمایا پھر فرمایا جابر! تمہاری جھونپڑی کہاں ہے؟ میں نے آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں میرے لیے کچھ فرش بچھا دو۔ میں نے بچھا دیا تو آپ داخل ہوئے اور آرام فرمایا پھر بیدار ہوئے تو میں ایک مٹھی اور کھجور لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے بھی تناول فرمایا پھر آپ کھڑے ہوئے اور یہودی سے گفتگو فرمائی۔ اس نے اب بھی انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ باغ میں کھڑے ہوئے پھر فرمایا کہ جابر! جاؤ اب پھل توڑو اور قرض ادا کر دو۔ آپ کھجوروں کے توڑے جانے کی جگہ کھڑے ہو گئے اور میں نے باغ میں سے اتنی کھجوریں توڑ لیں جن سے میں نے قرض ادا کر دیا اور اس میں سے کھجوریں بچ بھی گئی پھر میں وہاں سے نکلا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خوشخبری سنائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اس حدیث میں جو «عروش» کا لفظ ہے «عروش» اور «عريش» عمارت کی چھت کو کہتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ( سورۃ الانعام میں لفظ ) «معروشات» سے مراد انگور وغیرہ کی ٹٹیاں ہیں۔ دوسری آیت ( سورۃ البقرہ ) «عروشها خاویة علی» یعنی اپنی چھتوں پر گرے ہوئے۔
Sahih al-Bukhari 70:75sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، قَالَ أَصَابَنَا عَامُ سَنَةٍ مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَرَزَقَنَا تَمْرًا، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِنَا وَنَحْنُ نَأْكُلُ وَيَقُولُ لاَ تُقَارِنُوا فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْقِرَانِ. ثُمَّ يَقُولُ إِلاَّ أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ. قَالَ شُعْبَةُ الإِذْنُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ.
Narrated Jabala bin Suhaim.:At the time of Ibn Az-Zubair, we were struck with famine, and he provided us with dates for our food. `Abdullah bin `Umar used to pass by us while we were eating, and say, "Do not eat two dates together at a time, for the Prophet (ﷺ) forbade the taking of two dates together at a time (in a gathering)." Ibn `Umar used to add, "Unless one takes the permission of one's companions
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جبلہ بن سحیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ( جب وہ حجاز کے خلیفہ تھے ) ایک سال قحط کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے راشن میں ہمیں کھانے کے لیے کھجوریں دیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گزرتے اور ہم کھجور کھاتے ہوتے تو وہ فرماتے کہ دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر نہ کھاؤ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع کیا ہے۔ پھر فرمایا سوا اس صورت کے جب اس کو کھانے والا شخص اپنے ساتھی سے ( جو کھانے میں شریک ہے ) اس کی اجازت لے لے۔ شعبہ نے بیان کیا کہ اجازت والا ٹکڑا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔
Sahih al-Bukhari 74:7sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَامَ عُمَرُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ أَمَّا بَعْدُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهْىَ مِنْ خَمْسَةٍ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ.
Narrated Ibn `Umar:`Umar stood up on the pulpit and said, "Now then, prohibition of alcoholic drinks have been revealed, and these drinks are prepared from five things, i.e.. grapes, dates, honey, wheat or barley And an alcoholic drink is that, that disturbs the mind
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ان سے ابوحیان نے، کہا ہم سے عامر نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ ممبر پر کھڑے ہوئے اور کہا امابعد! جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جَو اور شراب ( خمر ) وہ ہے جو عقل کو زائل کر دے۔
Sahih al-Bukhari 74:9sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَىِّ أَسْقِيهِمْ ـ عُمُومَتِي وَأَنَا أَصْغَرُهُمُ ـ الْفَضِيخَ، فَقِيلَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ. فَقَالُوا أَكْفِئْهَا. فَكَفَأْتُهَا. قُلْتُ لأَنَسٍ مَا شَرَابُهُمْ قَالَ رُطَبٌ وَبُسْرٌ. فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ وَكَانَتْ خَمْرَهُمْ. فَلَمْ يُنْكِرْ أَنَسٌ. وَحَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِي أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا يَقُولُ كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ.
Narrated Anas:While I was waiting on my uncles and serving them with (wine prepared from) dates----and I was the youngest of them----it was said, "Alcoholic drinks have been prohibited." So they said (to me), "Throw it away." So I threw it away
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک قبیلہ میں کھڑا میں اپنے چچاؤں کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا میں ان میں سب سے کم عمر تھا۔ کسی نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی۔ ان حضرات نے کہا کہ اب اسے پھینک دو۔ چنانچہ ہم نے شراب پھینک دی۔ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ کس چیز کی شراب بنتی تھی؟ فرمایا کہ تازہ پکی ہوئی اور کچی کھجوروں کی۔ ابوبکر بن انس نے کہا کہ ان کی شراب ( کھجور کی ) ہوتی تھی تو انس رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہیں کیا اور مجھ سے میرے بعض اصحاب نے بیان کیا کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اس زمانہ میں ان کی شراب اکثر کچی اور پکی کھجور سے تیار کی جاتی تھی۔
Sahih al-Bukhari 74:14sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَطَبَ عُمَرُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، وَهْىَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالْعَسَلِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ، وَثَلاَثٌ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يُفَارِقْنَا حَتَّى يَعْهَدَ إِلَيْنَا عَهْدًا الْجَدُّ وَالْكَلاَلَةُ وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا. قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا عَمْرٍو فَشَىْءٌ يُصْنَعُ بِالسِّنْدِ مِنَ الرُّزِّ. قَالَ ذَاكَ لَمْ يَكُنْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ قَالَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ. وَقَالَ حَجَّاجُ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ أَبِي حَيَّانَ مَكَانَ الْعِنَبِ الزَّبِيبَ.
Narrated Ibn `Umar:`Umar delivered a sermon on the pulpit of Allah's Messenger (ﷺ), saying, "Alcoholic drinks were prohibited by Divine Order, and these drinks used to be prepared from five things, i.e., grapes, dates, wheat, barley and honey. Alcoholic drink is that, that disturbs the mind." `Umar added, "I wish Allah's Apostle had not left us before he had given us definite verdicts concerning three matters, i.e., how much a grandfather may inherit (of his grandson), the inheritance of Al-Kalala (the deceased person among whose heirs there is no father or son), and various types of Riba(1 ) (usury)
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ابوحیان تمیمی نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہا جب شراب کی حرمت کا حکم ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی۔ انگور سے، کھجور سے، گیہوں سے، جَو اور شہد سے اور «خمر» ( شراب ) وہ ہے جو عقل کو مخمور کر دے اور تین مسائل ایسے ہیں کہ میری تمنا تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جدا ہونے سے پہلے ہمیں ان کا حکم بتا جاتے، دادا کا مسئلہ، کلالہ کا مسئلہ اور سود کے چند مسائل۔ ابوحیان نے بیان کیا کہ میں نے شعبی سے پوچھا: اے ابوعمرو! ایک ایسا شربت ہے جو سندھ میں چاول سے بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں پائی جاتی تھی یا کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نہ تھی اور فرج ابن منہال نے بھی اس حدیث کو حماد بن سلمہ سے بیان کیا اور ان سے ابوحیان نے اس میں انگور کے بجائے کشمش ہے۔
Sahih al-Bukhari 74:15sahih
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ الْخَمْرُ يُصْنَعُ مِنْ خَمْسَةٍ مِنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالْعَسَلِ.
Narrated 'Umar: "Alcoholic drinks are prepared from five things, i.e., raisins, dates. wheat, barley and honey
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی السفر نے بیان کیا، ان سے شعبی نے ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ شراب پانچ چیزوں سے بنتی تھی کشمش، کھجور، گیہوں، جَو اور شہد سے۔
Sahih al-Bukhari 74:17sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَهْلاً، يَقُولُ أَتَى أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي عُرْسِهِ، فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ خَادِمَهُمْ وَهْىَ الْعَرُوسُ. قَالَتْ أَتَدْرُونَ مَا سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْقَعْتُ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ.
Narrated Sahl:Abu Usaid As-Sa`idi came and invited Allah's Messenger (ﷺ) on the occasion of his wedding. His wife who was the bride, was serving them. Do you know what drink she prepared for Allah's Messenger (ﷺ) ? She had soaked some dates in water in a Tur overnight
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن سعد ساعدی سے سنا، انہوں نے کہا کہ ابواسید مالک بن ربیع آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ولیمہ کی دعوت دی، ان کی بیوی ہی سب کام کر رہی تھیں حالانکہ وہ نئی دلہن تھیں۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے انہوں نے پتھر کے کونڈے میں رات کے وقت کھجور بھگو دی تھی۔
Sahih al-Bukhari 74:23sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، دَعَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لِعُرْسِهِ، فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ خَادِمَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَهْىَ الْعَرُوسُ. فَقَالَتْ مَا تَدْرُونَ مَا أَنْقَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْقَعْتُ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ.
Narrated Sahl bin Sa`d:Abu Usaid As Sa`idi invited the Prophet (ﷺ) to his wedding banquet. At that time his wife was serving them and she was the bride. She said, ''Do you know what (kind of syrup) I soaked (made) for Allah's Apostle? I soaked some dates in water in a Tur (bowl) overnight
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن القاری نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے، انہوں نے سہیل بن سعد سے سنا کہ ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے اپنے ولیمہ کی دعوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی، اس دن ان کی بیوی ( ام اسید سلامہ ) ہی مہمانوں کی خدمت کر رہی تھیں۔ زوجہ ابواسید نے کہا تم جانتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کس چیز کا شربت تیار کیا تھا پتھر کے کونڈے میں رات کے وقت کچھ کھجوریں بھگو دی تھیں اور دوسرے دن صبح کو آپ کو پلا دی تھی۔
Sahih al-Bukhari 74:27sahih
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالرُّطَبِ.
Narrated Jabir:The Prophet (ﷺ) forbade the drinking of alcoholic drinks prepared from raisins, dates, unripe dates and fresh ripe dates
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، کہا مجھ کو عطاء بن ابی رباح نے خبر دی، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور کھجور ( کے شیرہ ) کو اور تازہ ( پختہ، پکی ہوئی ) کھجور اور نیم پختہ ( کچی، گدری ہوئی ) کھجور کو ملا کر بھگونے سے منع فرمایا تھا، اس طور اس میں نشہ جلدی پیدا ہو جاتا ہے۔
Sahih al-Bukhari 74:28sahih
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ التَّمْرِ وَالزَّهْوِ، وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ، وَلْيُنْبَذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَةٍ.
Narrated Abu Qatada:The Prophet (ﷺ) forbade the mixing of ripe and unripe dates and also the mixing of dates and raisins (for preparing a syrup) but the syrup of each kind of fruit should be prepared separately. ( One may have such drinks as long as it is fresh)
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن ابی کثیر نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی قتادہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت کی تھی کہ پختہ اور گدرائی ہوئی کھجور، پختہ کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنایا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کو جدا جدا بھگونے کا حکم دیا۔
Sahih al-Bukhari 76:82sahih
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، أَخْبَرَنَا هَاشِمٌ، أَخْبَرَنَا عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنِ اصْطَبَحَ كُلَّ يَوْمٍ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً، لَمْ يَضُرُّهُ سَمٌّ وَلاَ سِحْرٌ ذَلِكَ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ ". وَقَالَ غَيْرُهُ " سَبْعَ تَمَرَاتٍ ".
Narrated Saud:The Prophet (ﷺ) said, "If somebody takes some `Ajwa dates every morning, he will not be affected by poison or magic on that day till night." (Another narrator said seven dates)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن معاویہ فزاری نے بیان کیا، کہا ہم کو ہاشم بن ہاشم بن عقبہ نے خبر دی، کہا ہم کو عامر بن سعد نے خبر دی اور ان سے ان کے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص روزانہ چند عجوہ کھجوریں کھا لیا کرے اسے اس دن رات تک زہر اور جادو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ علی بن عبداللہ مدینی کے سوا دوسرے راوی نے بیان کیا کہ سات کھجوریں کھا لیا کرے۔