Sahih al-Bukhari 43:14sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرَثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ كَلاًّ فَإِلَيْنَا ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "If someone leaves some property, it will be for the inheritors, and if he leaves some weak offspring, it will be for us to support them
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ( اپنے انتقال کے وقت ) مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جو قرض چھوڑے تو وہ ہمارے ذمہ ہے۔
Sahih al-Bukhari 55:39sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَقْتَسِمْ وَرَثَتِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهْوَ صَدَقَةٌ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "My heirs will not inherit a Dinar or a Dirham (i.e. money), for whatever I leave (excluding the adequate support of my wives and the wages of my employees) is given in charity
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں ابوالزناد نے ‘ انہیں اعرج نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو آدمی میرے وارث ہیں ‘ وہ روپیہ اشرفی اگر میں چھوڑ جاؤں تو وہ تقسیم نہ کریں ‘ وہ میری بیویوں کا خرچ اور جائیداد کا اہتمام کرنے والے کا خرچ نکالنے کے بعد صدقہ ہے۔“
Sahih al-Bukhari 56:285sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَكَانَ، عُثْمَانِيًّا فَقَالَ لاِبْنِ عَطِيَّةَ وَكَانَ عَلَوِيًّا إِنِّي لأَعْلَمُ مَا الَّذِي جَرَّأَ صَاحِبَكَ عَلَى الدِّمَاءِ سَمِعْتُهُ يَقُولُ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَالزُّبَيْرَ، فَقَالَ " ائْتُوا رَوْضَةَ كَذَا، وَتَجِدُونَ بِهَا امْرَأَةً أَعْطَاهَا حَاطِبٌ كِتَابًا ". فَأَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَقُلْنَا الْكِتَابَ. قَالَتْ لَمْ يُعْطِنِي. فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ أَوْ لأُجَرِّدَنَّكِ. فَأَخْرَجَتْ مِنْ حُجْزَتِهَا، فَأَرْسَلَ إِلَى حَاطِبٍ فَقَالَ لاَ تَعْجَلْ، وَاللَّهِ مَا كَفَرْتُ وَلاَ ازْدَدْتُ لِلإِسْلاَمِ إِلاَّ حُبًّا، وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ إِلاَّ وَلَهُ بِمَكَّةَ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لِي أَحَدٌ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا. فَصَدَّقَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ عُمَرُ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ، فَإِنَّهُ قَدْ نَافَقَ. فَقَالَ " مَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ". فَهَذَا الَّذِي جَرَّأَهُ.
Narrated Sa`d bin 'Ubaida:Abu `Abdur-Rahman who was one of the supporters of `Uthman said to Abu Talha who was one of the supporters of `Ali, "I perfectly know what encouraged your leader (i.e. `Ali) to shed blood. I heard him saying: Once the Prophet (ﷺ) sent me and Az-Zubair saying, 'Proceed to such-and-such Ar-Roudah (place) where you will find a lady whom Hatib has given a letter. So when we arrived at Ar-Roudah, we requested the lady to hand over the letter to us. She said, 'Hatib has not given me any letter.' We said to her. 'Take out the letter or else we will strip off your clothes.' So she took it out of her braid. So the Prophet (ﷺ) sent for Hatib, (who came) and said, 'Don't hurry in judging me, for, by Allah, I have not become a disbeliever, and my love to Islam is increasing. (The reason for writing this letter was) that there is none of your companions but has relatives in Mecca who look after their families and property, while I have nobody there, so I wanted to do them some favor (so that they might look after my family and property).' The Prophet (ﷺ) believed him. `Umar said, 'Allow me to chop off his (i.e. Hatib's) neck as he has done hypocrisy.' The Prophet (ﷺ) said, (to `Umar), 'Who knows, perhaps Allah has looked at the warriors of Badr and said (to them), 'Do whatever you like, for I have forgiven you.' " Abu `Abdur-Rahman added, "So this is what encouraged him (i.e. `Ali)
مجھ سے محمد بن عبداللہ بن حوشب الطائفی نے بیان کیا ‘ ان سے ہشیم نے بیان کیا ‘ انہیں حصین نے خبر دی ‘ انہیں سعد بن عبیدہ نے اور انہیں ابی عبدالرحمٰن نے اور وہ عثمانی تھے ‘ انہوں نے عطیہ سے کہا ‘ جو علوی تھے ‘ کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تمہارے صاحب ( علی رضی اللہ عنہ ) کو کس چیز سے خون بہانے پر جرات ہوئی ‘ میں نے خود ان سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا۔ اور ہدایت فرمائی کہ روضہ خاخ پر جب تم پہنچو ‘ تو انہیں ایک عورت ( سارہ نامی ) ملے گی۔ جسے حاطب ابن بلتعہ رضی اللہ عنہ نے ایک خط دے کر بھیجا ہے ( تم وہ خط اس سے لے کر آؤ ) چنانچہ جب ہم اس باغ تک پہنچے ہم نے اس عورت سے کہا خط لا۔ اس نے کہا کہ حاطب رضی اللہ عنہ نے مجھے کوئی خط نہیں دیا۔ ہم نے اس سے کہا کہ خط خود بخود نکال کر دیدے ورنہ ( تلاشی کے لیے ) تمہارے کپڑے اتار لیے جائیں گے۔ تب کہیں اس نے خط اپنے نیفے میں سے نکال کر دیا۔ ( جب ہم نے وہ خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا ‘ تو ) آپ نے حاطب رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا انہوں نے ( حاضر ہو کر ) عرض کیا۔ یا رسول اللہ! میرے بارے میں جلدی نہ فرمائیں! اللہ کی قسم! میں نے نہ کفر کیا ہے اور نہ میں اسلام سے ہٹا ہوں ‘ صرف اپنے خاندان کی محبت نے اس پر مجبور کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ( مہاجرین ) میں کوئی شخص ایسا نہیں جس کے رشتہ دار وغیرہ مکہ میں نہ ہوں۔ جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ان کے خاندان والوں اور ان کی جائیداد کی حفاظت نہ کراتا ہو۔ لیکن میرا وہاں کوئی بھی آدمی نہیں ‘ اس لیے میں نے چاہا کہ ان مکہ والوں پر ایک احسان کر دوں ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی بات کی تصدیق فرمائی۔ عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے مجھے اس کا سر اتارنے دیجئیے یہ تو منافق ہو گیا ہے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا معلوم! اللہ تعالیٰ اہل بدر کے حالات سے خوب واقف تھا اور وہ خود اہل بدر کے بارے میں فرما چکا ہے کہ ”جو چاہو کرو۔“ ابوعبدالرحمٰن نے کہا، علی رضی اللہ عنہ کو اسی ارشاد نے ( کہ تم جو چاہو کرو، خون ریزی پر ) دلیر بنا دیا ہے۔
Sahih al-Bukhari 59:103sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَعِنْدَهُ نِسَاءٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُكَلِّمْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَهُ، عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ، قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الْحِجَابَ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَضْحَكُ، فَقَالَ عُمَرُ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلاَءِ اللاَّتِي كُنَّ عِنْدِي، فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ ". قَالَ عُمَرُ فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ أَحَقَّ أَنْ يَهَبْنَ. ثُمَّ قَالَ أَىْ عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ، أَتَهَبْنَنِي وَلاَ تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْنَ نَعَمْ، أَنْتَ أَفَظُّ وَأَغْلَظُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ قَطُّ سَالِكًا فَجًّا إِلاَّ سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ ".
Narrated Sa`d bin Abi Waqqas:Once `Umar asked the leave to see Allah's Messenger (ﷺ) in whose company there were some Quraishi women who were talking to him and asking him for more financial support raising their voices. When `Umar asked permission to enter the women got up (quickly) hurrying to screen themselves. When Allah's Messenger (ﷺ) admitted `Umar, Allah's Messenger (ﷺ) was smiling, `Umar asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! May Allah keep you in happiness always." Allah's Messenger (ﷺ) said, "I am astonished at these women who were with me. As soon as they heard your voice, they hastened to screen themselves." `Umar said, "O Allah's Apostle! You have more right to be feared by them." Then he addressed (those women) saying, "O enemies of your own souls! Do you fear me and not Allah's Messenger (ﷺ) ?" They replied. "Yes, for you are a fearful and fierce man as compared with Allah's Messenger (ﷺ)." On that Allah's Messenger (ﷺ) said (to `Umar), "By Him in Whose Hands my life is, whenever Satan sees you taking a path, he follows a path other than yours
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن زید نے خبر دی، انہیں محمد بن سعد بن ابی وقاص (رضی اللہ عنہ) نے خبر دی اور ان سے ان کے والد سعد بن ابی وقاص نے بیان کیا کہ ایک دفعہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی۔ اس وقت چند قریشی عورتیں ( خود آپ کی بیویاں ) آپ کے پاس بیٹھی آپ سے گفتگو کر رہی تھیں اور آپ سے ( خرچ میں ) بڑھانے کا سوال کر رہی تھیں۔ خوب آواز بلند کر کے۔ لیکن جونہی عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی، وہ خواتین جلدی سے پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کو ہنساتا رکھے۔ یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا کہ مجھے ان عورتوں پر تعجب ہوا ابھی ابھی میرے پاس تھیں، لیکن جب تمہاری آواز سنی تو پردے کے پیچھے جلدی سے بھاگ گئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، لیکن آپ یا رسول اللہ! زیادہ اس کے مستحق تھے کہ آپ سے یہ ڈرتیں، پھر انہوں نے کہا: اے اپنی جانوں کے دشمنو! مجھ سے تو تم ڈرتی ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتیں۔ ازواج مطہرات بولیں کہ واقعہ یہی ہے کیونکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برخلاف مزاج میں بہت سخت ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر شیطان بھی کہیں راستے میں تم سے مل جائے، تو جھٹ وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔“
Sahih al-Bukhari 60:46sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نَحْنُ أَحَقُّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "We are more liable to be in doubt than Abraham when he said, 'My Lord! Show me how You give life to the dead." . He (i.e. Allah) said: 'Don't you believe then?' He (i.e. Abraham) said: "Yes, but (I ask) in order to be stronger in Faith." (2.260) And may Allah send His Mercy on Lot! He wished to have a powerful support. If I were to stay in prison for such a long time as Joseph did I would have accepted the offer (of freedom without insisting on having my guiltlessness declared)
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی ‘ انہیں ابن شہاب نے ‘ انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے ‘ انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہم ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ مستحق ہیں جب کہ انہوں نے کہا تھا کہ میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”کہا کیا تم ایمان نہیں لائے ‘ انہوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں ‘ لیکن یہ صرف اس لیے تاکہ میرے دل کو اور زیادہ اطمینان ہو جائے۔“ اور اللہ لوط علیہ السلام پر رحم کر کہ وہ زبردست رکن ( یعنی اللہ تعالیٰ ) کی پناہ لیتے تھے اور اگر میں اتنی مدت تک قید خانے میں رہتا جتنی مدت تک یوسف علیہ السلام رہے تھے تو میں بلانے والے کے بات ضرور مان لیتا۔“
Sahih al-Bukhari 60:49sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ {يَغْفِرُ اللَّهُ لِلُوطٍ إِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ}.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "May Allah forgive Lot: He wanted to have a powerful support
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام کی مغفرت فرمائے کہ وہ زبردست رکن ( یعنی اللہ ) کی پناہ میں گئے تھے۔“
Sahih al-Bukhari 60:61sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ابْنِ أَخِي جُوَيْرِيَةَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَأَبَا، عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ثُمَّ أَتَانِي الدَّاعِي لأَجَبْتُهُ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "May Allah bestow His Mercy on Lot. He wanted to have a powerful support. If I were to stay in prison (for a period equal to) the stay of Joseph (in prison) and then the offer of freedom came to me, then I would have accepted it." (See Hadith No)
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء ابن اخی جویریہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا ‘ ان سے مالک نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ ان کو سعید بن مسیب اور ابوعبیدہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے کہ وہ زبردست رکن ( یعنی اللہ تعالیٰ ) کی پناہ لیتے تھے اور اگر میں اتنی مدت تک قید رہتا جتنی یوسف علیہ السلام رہے تھے اور پھر میرے پاس ( بادشاہ کا آدمی ) بلانے کے لیے آتا تو میں فوراً اس کے ساتھ چلا جاتا۔“
Sahih al-Bukhari 64:28sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَصْحَابَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالُوا لِلزُّبَيْرِ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ أَلاَ تَشُدُّ فَنَشُدَّ مَعَكَ فَقَالَ إِنِّي إِنْ شَدَدْتُ كَذَبْتُمْ. فَقَالُوا لاَ نَفْعَلُ، فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ حَتَّى شَقَّ صُفُوفَهُمْ، فَجَاوَزَهُمْ وَمَا مَعَهُ أَحَدٌ، ثُمَّ رَجَعَ مُقْبِلاً، فَأَخَذُوا بِلِجَامِهِ، فَضَرَبُوهُ ضَرْبَتَيْنِ عَلَى عَاتِقِهِ بَيْنَهُمَا ضَرْبَةٌ ضُرِبَهَا يَوْمَ بَدْرٍ. قَالَ عُرْوَةُ كُنْتُ أُدْخِلُ أَصَابِعِي فِي تِلْكَ الضَّرَبَاتِ أَلْعَبُ وَأَنَا صَغِيرٌ. قَالَ عُرْوَةُ وَكَانَ مَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمَئِذٍ وَهْوَ ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ، فَحَمَلَهُ عَلَى فَرَسٍ وَكَّلَ بِهِ رَجُلاً.
Narrated `Urwa:On the day of (the battle) of Al-Yarmuk, the companions of Allah's Messenger (ﷺ) said to Az-Zubair, "Will you attack the enemy so that we shall attack them with you?" Az-Zubair replied, "If I attack them, you people would not support me." They said, "No, we will support you." So Az-Zubair attacked them (i.e. Byzantines) and pierced through their lines, and went beyond them and none of his companions was with him. Then he returned and the enemy got hold of the bridle of his (horse) and struck him two blows (with the sword) on his shoulder. Between these two wounds there was a scar caused by a blow, he had received on the day of Badr (battle). When I was a child I used to play with those scars by putting my fingers in them. On that day (my brother) "Abdullah bin Az-Zubair was also with him and he was ten years old. Az-Zubair had carried him on a horse and left him to the care of some men
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا ‘ ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ‘ انہیں ہشام بن عروہ نے خبر دی ‘ انہیں ان کے والد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے زبیر رضی اللہ عنہ سے یرموک کی جنگ میں کہا آپ حملہ کرتے تو ہم بھی آپ کے ساتھ حملہ کرتے انہوں نے کہا کہ اگر میں نے ان پر زور کا حملہ کر دیا تو پھر تم لوگ پیچھے رہ جاؤ گے سب بولے کہ ہم ایسا نہیں کریں گے۔ چنانچہ زبیر رضی اللہ عنہ نے دشمن ( رومی فوج ) پر حملہ کیا اور ان کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے نکل گئے۔ اس وقت ان کے ساتھ کوئی ایک بھی ( مسلمان ) نہیں رہا پھر ( مسلمان فوج کی طرف ) آنے لگے تو رومیوں نے ان کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور مونڈھے پر دو کاری زخم لگائے، جو زخم بدر کی لڑائی کے موقع پر ان کو لگا تھا وہ ان دونوں زخموں کے درمیان میں پڑ گیا تھا۔ عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ جب میں چھوٹا تھا تو ان زخموں میں اپنی انگلیاں ڈال کر کھیلا کرتا تھا۔ عروہ نے بیان کیا کہ یرموک کی لڑائی کے موقع پر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ گئے تھے، اس وقت ان کی عمر کل دس سال کی تھی اس لیے ان کو ایک گھوڑے پر سوار کر کے ایک صاحب کی حفاظت میں دے دیا تھا۔
Sahih al-Bukhari 64:134sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رِعْلاً، وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَبَنِي لَحْيَانَ اسْتَمَدُّوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَدُوٍّ، فَأَمَدَّهُمْ بِسَبْعِينَ مِنَ الأَنْصَارِ، كُنَّا نُسَمِّيهِمُ الْقُرَّاءَ فِي زَمَانِهِمْ، كَانُوا يَحْتَطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ، حَتَّى كَانُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قَتَلُوهُمْ، وَغَدَرُوا بِهِمْ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم، فَقَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو فِي الصُّبْحِ عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَبَنِي لَحْيَانَ. قَالَ أَنَسٌ فَقَرَأْنَا فِيهِمْ قُرْآنًا ثُمِّ إِنَّ ذَلِكَ رُفِعَ بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا، أَنَّا لَقِينَا رَبَّنَا، فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا. وَعَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ شَهْرًا فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَبَنِي لَحْيَانَ. زَادَ خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، أَنَّ أُولَئِكَ السَّبْعِينَ، مِنَ الأَنْصَارِ قُتِلُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ، قُرْآنًا كِتَابًا. نَحْوَهُ.
Narrated Anas bin Malik:(The tribes of) Ril, Dhakwan, 'Usaiya and Bani Lihyan asked Allah's Messenger (ﷺ) to provide them with some men to support them against their enemy. He therefore provided them with seventy men from the Ansar whom we used to call Al-Qurra' in their lifetime. They used to collect wood by daytime and pray at night. When they were at the well of Ma'una, the infidels killed them by betraying them. When this news reached the Prophet (ﷺ) , he said Al-Qunut for one month In the morning prayer, invoking evil upon some of the 'Arab tribes, upon Ril, Dhakwan, 'Usaiya and Bani Lihyan. We used to read a verse of the Qur'an revealed in their connection, but later the verse was cancelled. It was: "convey to our people on our behalf the information that we have met our Lord, and He is pleased with us, and has made us pleased." (Anas bin Malik added:) Allah's Prophet said Qunut for one month in the morning prayer, invoking evil upon some of the 'Arab tribes (namely), Ril, Dhakwan, Usaiya, and Bani Lihyan. (Anas added:) Those seventy Ansari men were killed at the well of Mauna
مجھ سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دشمنوں کے مقابل مدد چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر انصاری صحابہ کو ان کی کمک کے لیے روانہ کیا۔ ہم ان حضرات کو قاری کہا کرتے تھے۔ اپنی زندگی میں معاش کے لیے دن میں لکڑیاں جمع کرتے تھے اور رات میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ جب یہ حضرات بئرمعونہ پر پہنچے تو ان قبیلے والوں نے انہیں دھوکا دیا اور انہیں شہید کر دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے صبح کی نماز میں ایک مہینے تک بددعا کی۔ عرب کے انہیں چند قبائل رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے لیے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان صحابہ کے بارے میں قرآن میں ( آیت نازل ہوئی اور ) ہم اس کی تلاوت کرتے تھے۔ پھر وہ آیت منسوخ ہو گئی ( آیت کا ترجمہ ) ”ہماری طرف سے ہماری قوم ( مسلمانوں ) کو خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب کے پاس آ گئے ہیں۔ ہمارا رب ہم سے راضی ہے اور ہمیں بھی ( اپنی نعمتوں سے ) اس نے خوش رکھا ہے۔“ اور قتادہ سے روایت ہے ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک صبح کی نماز میں، عرب کے چند قبائل یعنی رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے لیے بددعا کی تھی۔ خلیفہ بن خیاط ( امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ ) نے یہ اضافہ کیا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ ستر صحابہ قبیلہ انصار سے تھے اور انہیں بئرمعونہ کے پاس شہید کر دیا گیا تھا۔
Sahih al-Bukhari 64:167sahih
حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَدِيٌّ، أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِحَسَّانَ " اهْجُهُمْ ـ أَوْ هَاجِهِمْ ـ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ ".
Narrated Al-Bara:The Prophet (ﷺ) said to Hassan, "Abuse them (with your poems), and Gabriel is with you (i.e, supports you)." (Through another group of sub narrators) Al-Bara bin Azib said, "On the day of Quraiza's (besiege), Allah's Messenger (ﷺ) said to Hassan bin Thabit, 'Abuse them (with your poems), and Gabriel is with you (i.e. supports you)
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی ‘ انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مشرکین کی ہجو کر یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بجائے ) «هاجهم» فرمایا جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔
Sahih al-Bukhari 64:168sahih
وَزَادَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ قُرَيْظَةَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ " اهْجُ الْمُشْرِكِينَ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ ".
Al-Bara' bin `Azib said (through another chain of sub-narrators):"On the day of Quraiza's (siege), Allah's Messenger (ﷺ) said to Hassan bin Thabit, 'Abuse them (with your poems), and Jibril is with you
اور ابراہیم بن طہمان نے شیبانی سے یہ زیادہ کیا ہے ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ مشرکین کی ہجو کرو جبرائیل تمہاری مدد پر ہیں۔
Sahih al-Bukhari 64:458sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ صَحِيحٌ يَقُولُ " إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُحَيَّا أَوْ يُخَيَّرَ ". فَلَمَّا اشْتَكَى وَحَضَرَهُ الْقَبْضُ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِ عَائِشَةَ غُشِيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَفَاقَ شَخَصَ بَصَرُهُ نَحْوَ سَقْفِ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى ". فَقُلْتُ إِذًا لاَ يُجَاوِرُنَا. فَعَرَفْتُ أَنَّهُ حَدِيثُهُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهْوَ صَحِيحٌ.
Narrated Aisha:When Allah's Apostle was in good health, he used to say, "Never does a prophet die unless he is shown his place in Paradise ( before his death ), and then he is made alive or given the option." When the Prophet became ill and his last moments came while his head was on my thigh, he became unconscious, and when he came to his senses, he looked towards the roof of the house and then said, "O Allah! (Please let me be) with the highest companion." Thereupon I said, "Hence he is not going to stay with us?" Then I came to know that his state was the confirmation of the narration he used to mention to us while he was in good health
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہ عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا تندرستی کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جب بھی کسی نبی کی روح قبض کی گئی تو پہلے جنت میں اس کی قیام گاہ اسے ضرور دکھا دی گئی، پھر اسے اختیار دیا گیا ( راوی کو شک تھا کہ لفظ «يحيا» ہے یا «يخير»، دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے ) پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑے اور وقت قریب آ گیا تو سر مبارک عائشہ رضی اللہ عنہا کی ران پر تھا اور آپ پر غشی طاری ہو گئی تھی، جب کچھ ہوش ہوا تو آپ کی آنکھیں گھر کی چھت کی طرف اٹھ گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ «اللهم في الرفيق الأعلى» ۔ میں سمجھ گئی کہ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ( یعنی دنیاوی زندگی کو ) پسند نہیں فرمائیں گے۔ مجھے وہ حدیث یاد آ گئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تندرستی کے زمانے میں فرمائی تھی۔
Sahih al-Bukhari 64:459sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، عَنْ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي، وَمَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سِوَاكٌ رَطْبٌ يَسْتَنُّ بِهِ، فَأَبَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَصَرَهُ، فَأَخَذْتُ السِّوَاكَ فَقَصَمْتُهُ وَنَفَضْتُهُ وَطَيَّبْتُهُ، ثُمَّ دَفَعْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَنَّ بِهِ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَنَّ اسْتِنَانًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ، فَمَا عَدَا أَنْ فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَفَعَ يَدَهُ أَوْ إِصْبَعَهُ ثُمَّ قَالَ " فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى ". ثَلاَثًا ثُمَّ قَضَى، وَكَانَتْ تَقُولُ مَاتَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي.
Narrated Aisha:`Abdur-Rahman bin Abu Bakr entered upon the Prophet (ﷺ) while I was supporting the Prophet (ﷺ) on my chest. `AbdurRahman had a fresh Siwak then and he was cleaning his teeth with it. Allah's Messenger (ﷺ) looked at it, so I took the Siwak, cut it (chewed it with my teeth), shook it and made it soft (with water), and then gave it to the Prophet (ﷺ) who cleaned his teeth with it. I had never seen Allah's Messenger (ﷺ) cleaning his teeth in a better way. After finishing the brushing of his teeth, he lifted his hand or his finger and said thrice, "O Allah! Let me be with the highest companions," and then died. `Aisha used to say, "He died while his head was resting between my chest and chin
ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی نے بیان کیا۔ کہا ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا، ان سے صخر بن جویریہ نے، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد (قاسم بن محمد) نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ( ان کے بھائی ) عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ایک تازہ مسواک استعمال کے لیے تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسواک کی طرف دیکھتے رہے۔ چنانچہ میں نے ان سے مسواک لے لی اور اسے اپنے دانتوں سے چبا کر اچھی طرح جھاڑنے اور صاف کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی۔ آپ نے وہ مسواک استعمال کی جتنے عمدہ طریقہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسواک کر رہے تھے، میں نے آپ کو اتنی اچھی طرح مسواک کرتے کبھی نہیں دیکھا۔ مسواک سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے اپنا ہاتھ یا اپنی انگلی اٹھائی اور فرمایا۔ «في الرفيق الأعلى» تین مرتبہ، اور آپ کا انتقال ہو گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو سر مبارک میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان میں تھا۔
Sahih al-Bukhari 64:461sahih
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْغَتْ إِلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ، وَهْوَ مُسْنِدٌ إِلَىَّ ظَهْرَهُ يَقُولُ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي، وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ ".
Narrated `Aisha:I heard the Prophet (ﷺ) and listened to him before his death while he was leaning his back on me and saying, "O Allah! Forgive me, and bestow Your Mercy on me, and let me meet the (highest) companions (of the Hereafter)." (See the Qur'an (4:69) and Hadith
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے عباد بن عبداللہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، وفات سے کچھ پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پشت سے ان کا سہارا لیے ہوئے تھے۔ آپ نے کان لگا کر سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کر رہے ہیں «اللهم اغفر لي وارحمني، وألحقني بالرفيق» ”اے اللہ! میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم کر اور میرے رفیقوں سے مجھے ملا۔“
Sahih al-Bukhari 65:188sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، دَخَلْنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَلاَ تَعْجَبُونَ لاِبْنِ الزُّبَيْرِ قَامَ فِي أَمْرِهِ هَذَا فَقُلْتُ لأُحَاسِبَنَّ نَفْسِي لَهُ مَا حَاسَبْتُهَا لأَبِي بَكْرٍ وَلاَ لِعُمَرَ، وَلَهُمَا كَانَا أَوْلَى بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْهُ، وَقُلْتُ ابْنُ عَمَّةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَابْنُ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنُ أَخِي خَدِيجَةَ، وَابْنُ أُخْتِ عَائِشَةَ فَإِذَا هُوَ يَتَعَلَّى عَنِّي وَلاَ يُرِيدُ ذَلِكَ فَقُلْتُ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنِّي أَعْرِضُ هَذَا مِنْ نَفْسِي، فَيَدَعُهُ، وَمَا أُرَاهُ يُرِيدُ خَيْرًا، وَإِنْ كَانَ لاَ بُدَّ لأَنْ يَرُبَّنِي بَنُو عَمِّي أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ يَرُبَّنِي غَيْرُهُمْ.
Narrated Ibn Abi Mulaika:We entered upon Ibn `Abbas and he said "Are you not astonished at Ibn Az-Zubair's assuming the caliphate?" I said (to myself), "I will support him and speak of his good traits as I did not do even for Abu Bakr and `Umar though they were more entitled to receive all good than he was." I said "He (i.e Ibn Az-Zubair) is the son of the aunt of the Prophet (ﷺ) and the son of Az-Zubair, and the grandson of Abu Bakr and the son of Khadija's brother, and the son of `Aisha's sister." Nevertheless, he considers himself to be superior to me and does not want me to be one of his friends. So I said, "I never expected that he would refuse my offer to support him, and I don't think he intends to do me any good, therefore, if my cousins should inevitably be my rulers, it will be better for me to be ruled by them than by some others
ہم سے محمد بن عبید بن میمون نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے، ان سے عمر بن سعید نے، انہیں ابن ابی ملیکہ نے خبر دی کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ابن زبیر پر تمہیں حیرت نہیں ہوتی۔ وہ اب خلافت کے لیے کھڑے ہو گئے ہیں تو میں نے ارادہ کر لیا کہ ان کے لیے محنت مشقت کروں گا کہ ایسی محنت اور مشقت میں نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے لیے بھی نہیں کی۔ حالانکہ وہ دونوں ان سے ہر حیثیت سے بہتر تھے۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کی اولاد میں سے ہیں۔ زبیر رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نواسے، خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھائی کے بیٹے، عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن کے بیٹے۔ لیکن عبداللہ بن زبیر نے کیا کیا وہ مجھ سے غرور کرنے لگے۔ انہوں نے نہیں چاہا کہ میں ان کے خاص مصاحبوں میں رہوں ( اپنے دل میں کہا ) مجھ کو ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ میں تو ان سے ایسی عاجزی کروں گا اور وہ اس پر بھی مجھ سے راضی نہ ہوں گے۔ خیر اب مجھے امید نہیں کہ وہ میرے ساتھ بھلائی کریں گے جو ہونا تھا وہ ہوا اب بنی امیہ جو میرے چچا زاد بھائی ہیں اگر مجھ پر حکومت کریں تو یہ مجھ کو اوروں کے حکومت کرنے سے زیادہ پسند ہے۔
Sahih al-Bukhari 65:216sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ، وَنَحْنُ أَحَقُّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ لَهُ {أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي}"
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "May Allah bestow His Mercy on (Prophet) Lot. (When his nation troubled him) he wished if he could betake himself to some powerful support; and if I were to remain in prison for the period Joseph had remained, I would surely respond to the call; and we shall have more right (to be in doubt) than Abraham: When Allah said to him, "Don't you believe?' Abraham said, 'Yes, (I do believe) but to be stronger in faith;
ہم سے سعید بن تلید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے بکر بن مضر نے، ان سے عمرو بن حارث نے، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ لوط علیہ السلام پر اپنی رحمت نازل فرمائے کہ انہوں نے ایک زبردست سہارے کی پناہ لینے کے لیے کہا تھا اور اگر میں قید خانے میں اتنے دنوں تک رہ چکا ہوتا جتنے دن یوسف علیہ السلام رہے تھے تو بلانے والے کی بات رد نہ کرتا اور ہم کو تو ابراہیم علیہ السلام کے بہ نسبت شک ہونا زیادہ سزاوار ہے۔ جب اللہ پاک نے ان سے فرمایا «أولم تؤمن قال بلى ولكن ليطمئن قلبي» کہ کیا تجھ کو یقین نہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں یقین تو ہے پر میں چاہتا ہوں کہ اور اطمینان ہو جائے۔
Sahih al-Bukhari 68:89sahih
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} قَالَ كَانَتْ هَذِهِ الْعِدَّةُ تَعْتَدُّ عِنْدَ أَهْلِ زَوْجِهَا وَاجِبًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ} قَالَ جَعَلَ اللَّهُ لَهَا تَمَامَ السَّنَةِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَصِيَّةً إِنْ شَاءَتْ سَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ، وَهْوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى {غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ} فَالْعِدَّةُ كَمَا هِيَ، وَاجِبٌ عَلَيْهَا، زَعَمَ ذَلِكَ عَنْ مُجَاهِدٍ. وَقَالَ عَطَاءٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَسَخَتْ هَذِهِ الآيَةُ عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى {غَيْرَ إِخْرَاجٍ}. وَقَالَ عَطَاءٌ إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهَا، وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ لِقَوْلِ اللَّهِ {فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ}. قَالَ عَطَاءٌ ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّكْنَى، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَلاَ سُكْنَى لَهَا.
Narrated Mujahid:(regarding the Verse): 'If any of you dies and leaves wives behind,' That was the period of the 'Iddah which the widow was obliged to spend in the house of the late husband. Then Allah revealed: And those of you who die and leave wives should bequeath for their wives a year's maintenance and residence without turning them out, but if they leave, there is no blame on you for what they do of themselves, provided it is honorable (i.e. lawful marriage) (2.240) Mujahid said: Allah has ordered that a widow has the right to stay for seven months and twenty days with her husband's relatives through her husband's will and testament so that she will complete the period of one year (of 'Iddah). But the widow has the right to stay that extra period or go out of her husband's house as is indicated by the statement of Allah: 'But if they leave there is no blame on you,... ' (2.240) Ibn `Abbas said: The above Verse has cancelled the order of spending the period of the 'Iddah at her late husband's house, and so she could spend her period of the 'Iddah wherever she likes. And Allah says: 'Without turning them out.' 'Ata said: If she would, she could spend her period of the 'Iddah at her husband's house, and live there according to her (husband's) will and testament, and if she would, she could go out (of her husband's house) as Allah says: 'There is no blame on you for what they do of themselves.' (2.240) 'Ata added: Then the Verses of inheritance were revealed and the order of residence (for the widow) was cancelled, and she could spend her period of the 'Iddah wherever she would like, and she was no longer entitled to be accommodated by her husband's family
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، کہا ہم سے شبل بن عباد نے، ان سے ابن ابی نجیح نے اور ان سے مجاہد نے آیت کریمہ «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا» الخ، یعنی ”اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں۔“ کے متعلق کہا کہ یہ عدت جو شوہر کے گھر والوں کے پاس گزاری جاتی تھی، پہلے واجب تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن في أنفسهن من معروف» الخ، یعنی ”اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں ( ان پر لازم ہے کہ ) اپنی بیویوں کے حق میں نفع اٹھانے کی وصیت کر جائیں کہ وہ ایک سال تک ( گھر سے ) نہ نکالی جائیں لیکن اگر وہ ( خود ) نکل جائیں تو کوئی گناہ تم پر نہیں۔“ اس باب میں جسے وہ ( بیویاں ) اپنے بارے میں دستور کے مطابق کریں۔ مجاہد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی بیوہ کے لیے سات مہینے بیس دن سال بھر میں سے وصیت قرار دی۔ اگر وہ چاہے تو شوہر کی وصیت کے مطابق وہیں ٹھہری رہے اور اگر چاہے ( چار مہینے دس دن کی عدت ) پوری کر کے وہاں سے چلی جائے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «غير إخراج فإن خرجن فلا جناح عليكم» تک یعنی ”انہیں نکالا نہ جائے۔ البتہ اگر وہ خود چلی جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔“ کا یہی منشا ہے۔ پس عدت تو جیسی کہ پہلے تھی، اب بھی اس پر واجب ہے۔ ابن ابی نجیح نے اسے مجاہد سے بیان کیا اور عطاء نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اس پہلی آیت نے بیوہ کو خاوند کے گھر میں عدت گزارنے کے حکم کو منسوخ کر دیا، اس لیے اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے اور ( اسی طرح اس آیت نے ) اللہ تعالیٰ کے ارشاد «غير إخراج» یعنی ”انہیں نکالا نہ جائے۔“ ( کو بھی منسوخ کر دیا ہے ) ۔ عطاء نے کہا کہ اگر وہ چاہے تو اپنے ( شوہر کے ) گھر والوں کے یہاں ہی عدت گزارے اور وصیت کے مطابق قیام کرے اور اگر چاہے وہاں سے چلی آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «فلا جناح عليكم فيما فعلن» الخ، یعنی ”پس تم پر اس کا کوئی گناہ نہیں، جو وہ اپنی مرضی کے مطابق کریں۔“ عطاء نے کہا کہ اس کے بعد میراث کا حکم نازل ہوا اور اس نے مکان کے حکم کو منسوخ کر دیا۔ پس وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے اور اس کے لیے ( شوہر کی طرف سے ) مکان کا انتظام نہیں ہو گا۔
Sahih al-Bukhari 69:1sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الأَنْصَارِيَّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، فَقُلْتُ عَنِ النَّبِيِّ فَقَالَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَنْفَقَ الْمُسْلِمُ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ وَهْوَ يَحْتَسِبُهَا، كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً ".
Narrated Abu Mas`ud Al-Ansari:The Prophet (ﷺ) said, "When a Muslim spends something on his family intending to receive Allah's reward it is regarded as Sadaqa for him
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا کہا میں نے عبداللہ بن یزید انصاری سے سنا اور انہوں نے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے (عبداللہ بن یزید انصاری نے بیان کیا کہ) میں نے ان سے پوچھا کیا تم اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مسلمان اپنے گھر میں اپنے جورو بال بچوں پر اللہ کا حکم ادا کرنے کی نیت سے خرچ کرے تو اس میں بھی اس کو صدقے کا ثواب ملتا ہے۔
Sahih al-Bukhari 69:2sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَالَ اللَّهُ أَنْفِقْ يَا ابْنَ آدَمَ أُنْفِقْ عَلَيْكَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah said, 'O son of Adam! Spend, and I shall spend on you
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم! تو خرچ کر تو میں تجھ کو دیئے جاؤں گا۔
Sahih al-Bukhari 69:3sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " السَّاعِي عَلَى الأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوِ الْقَائِمِ اللَّيْلَ الصَّائِمِ النَّهَارَ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The one who looks after a widow or a poor person is like a Mujahid (warrior) who fights for Allah's Cause, or like him who performs prayers all the night and fasts all the day
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ثور بن زید نے، ان سے ابوالغیث (سالم) نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیواؤں اور مسکینوں کے کام آنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے، یا رات بھر عبادت اور دن کو روزے رکھنے والے کے برابر ہے۔
Sahih al-Bukhari 69:4sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْد ٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ لِي مَالٌ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ " لاَ ". قُلْتُ فَالشَّطْرُ قَالَ " لاَ ". قُلْتُ فَالثُّلُثُ قَالَ " الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً، يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ فِي أَيْدِيهِمْ، وَمَهْمَا أَنْفَقْتَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا فِي فِي امْرَأَتِكَ، وَلَعَلَّ اللَّهَ يَرْفَعُكَ، يَنْتَفِعُ بِكَ نَاسٌ وَيُضَرُّ بِكَ آخَرُونَ ".
Narrated Sa`d:The Prophet (ﷺ) visited me at Mecca while I was ill. I said (to him), "I have property; May I bequeath all my property in Allah's Cause?" He said, "No." I said, "Half of it?" He said, "No." I said, "One third of it?" He said, "One-third (is alright), yet it is still too much, for you'd better leave your inheritors wealthy than leave them poor, begging of others. Whatever you spend will be considered a Sadaqa for you, even the mouthful of food you put in the mouth of your wife. Anyhow Allah may let you recover, so that some people may benefit by you and others be harmed by you
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں سعید بن ابراہیم نے، ان سے عامر بن سعد رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لایے۔ میں اس وقت مکہ مکرمہ میں بیمار تھا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے پاس مال ہے۔ کیا میں اپنے تمام مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے کہا پھر آدھے کی کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں! میں نے کہا، پھر تہائی کی کر دوں ( فرمایا ) تہائی کی کر دو اور تہائی بھی بہت ہے۔ اگر تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ کر جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج و تنگ دست چھوڑو کہ لوگوں کے سامنے وہ ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم جب بھی خرچ کرو گے تو وہ تمہاری طرف سے صدقہ ہو گا۔ یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی ثواب ملے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھنے کے لیے اٹھاؤ گے اور امید ہے کہ ابھی اللہ تمہیں زندہ رکھے گا، تم سے بہت سے لوگوں کو نفع پہنچے گا اور بہت سے دوسرے ( کفار ) نقصان اٹھائیں گے۔
Sahih al-Bukhari 69:5sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا تَرَكَ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ". تَقُولُ الْمَرْأَةُ إِمَّا أَنْ تُطْعِمَنِي وَإِمَّا أَنْ تُطَلِّقَنِي. وَيَقُولُ الْعَبْدُ أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي. وَيَقُولُ الاِبْنُ أَطْعِمْنِي، إِلَى مَنْ تَدَعُنِي فَقَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ لاَ هَذَا مِنْ كِيسِ أَبِي هُرَيْرَةَ.
Narrated Abu Huraira:"The Prophet (ﷺ) said, 'The best alms is that which is given when one is rich, and a giving hand is better than a taking one, and you should start first to support your dependents.' A wife says, 'You should either provide me with food or divorce me.' A slave says, 'Give me food and enjoy my service." A son says, "Give me food; to whom do you leave me?" The people said, "O Abu Huraira! Did you hear that from Allah's Messenger (ﷺ) ?" He said, "No, it is from my own self
ہم سے عمرو بن حفص نے بیان کیا۔ کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جسے دے کر دینے والا مالدار ہی رہے اور ہر حال میں اوپر کا ہاتھ ( دینے والے کا ) نیچے کے ( لینے والے کے ) ہاتھ سے بہتر ہے اور ( خرچ کی ) ابتداء ان سے کرو جو تمہاری نگہبانی میں ہیں۔ عورت کو اس مطالبہ کا حق ہے کہ مجھے کھانا دے ورنہ طلاق دے۔ غلام کو اس مطالبہ کا حق ہے کہ مجھے کھانا دو اور مجھ سے کام لو۔ بیٹا کہہ سکتا ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ یا کسی اور پر چھوڑ دو۔ لوگوں نے کہا: اے ابوہریرہ! کیا ( یہ آخری ٹکڑا بھی ) کہ جورو کہتی ہے آخر تک۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں بلکہ یہ ابوہریرہ کی خود اپنی سمجھ ہے۔
Sahih al-Bukhari 69:6sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The best alms is that which you give when you are rich, and you should start first to support your dependants
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد بن مسافر نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین خیرات وہ ہے جسے دینے پر آدمی مالدار ہی رہے اور ابتداء ان سے کرو جو تمہاری نگرانی میں ہیں جن کے کھلانے پہنانے کے تم ذمہ دار ہو۔
Sahih al-Bukhari 76:31sahih
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَيُونُسُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ، اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، تَخُطُّ رِجْلاَهُ فِي الأَرْضِ بَيْنَ عَبَّاسٍ وَآخَرَ. فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ هَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ قُلْتُ لاَ. قَالَ هُوَ عَلِيٌّ. قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ مَا دَخَلَ بَيْتَهَا وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ " هَرِيقُوا عَلَىَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ، لَعَلِّي أَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ ". قَالَتْ فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ طَفِقْنَا نَصُبُّ عَلَيْهِ مِنْ تِلْكَ الْقِرَبِ، حَتَّى جَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ. قَالَتْ وَخَرَجَ إِلَى النَّاسِ فَصَلَّى لَهُمْ وَخَطَبَهُمْ.
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) When the health of Allah's Messenger (ﷺ) deteriorated and his condition became serious, he asked the permission of all his wives to allow him to be treated In my house, and they allowed him. He came out, supported by two men and his legs were dragging on the ground between `Abbas and another man. (The sub-narrator told Ibn `Abbas who said: Do you know who was the other man whom `Aisha did not mention? The sub-narrator said: No. Ibn `Abbas said: It was `Ali.) `Aisha added: When the Prophet entered my house and his disease became aggravated, he said, "Pour on me seven water skins full of water (the tying ribbons of which had not been untied) so that I may give some advice to the people." So we made him sit in a tub belonging to Hafsa, the wife of the Prophet (ﷺ) and started pouring water on him from those water skins till he waved us to stop. Then he went out to the people and led them in prayer and delivered a speech before them
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر اور یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب ( مرض الموت میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چلنا پھرنا دشوار ہو گیا اور آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو آپ نے بیماری کے دن میرے گھر میں گزارنے کی اجازت اپنی دوسری بیویوں سے مانگی جب اجازت مل گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو اشخاص عباس رضی اللہ عنہ اور ایک صاحب کے درمیان ان کا سہارا لے کر باہر تشریف لائے، آپ کے مبارک قدم زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا تمہیں معلوم ہے وہ دوسرے صاحب کون تھے جن کا عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں بتایا، میں نے کہا کہ نہیں کہا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ان کے حجرے میں داخل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ آپ کا مرض بڑھ گیا تھا کہ مجھ پر سات مشک ڈالو جو پانی سے لبریز ہوں۔ شاید میں لوگوں کو کچھ نصیحت کر سکوں۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم نے ایک لگن میں بٹھایا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حفصہ رضی اللہ عنہ کا تھا اور آپ پر حکم کے مطابق مشکوں سے پانی ڈالنے لگے آخر آپ نے ہمیں اشارہ کیا کہ بس ہو چکا۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے مجمع میں گئے، انہیں نماز پڑھائی اور انہیں خطاب فرمایا۔
Sahih al-Bukhari 77:42sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ رِفَاعَةَ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ الْقُرَظِيُّ، قَالَتْ عَائِشَةُ وَعَلَيْهَا خِمَارٌ أَخْضَرُ. فَشَكَتْ إِلَيْهَا، وَأَرَتْهَا خُضْرَةً بِجِلْدِهَا، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنِّسَاءُ يَنْصُرُ بَعْضُهُنَّ بَعْضًا قَالَتْ عَائِشَةُ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مَا يَلْقَى الْمُؤْمِنَاتُ، لَجِلْدُهَا أَشَدُّ خُضْرَةً مِنْ ثَوْبِهَا. قَالَ وَسَمِعَ أَنَّهَا قَدْ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ وَمَعَهُ ابْنَانِ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا. قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي إِلَيْهِ مِنْ ذَنْبٍ، إِلاَّ أَنَّ مَا مَعَهُ لَيْسَ بِأَغْنَى عَنِّي مِنْ هَذِهِ. وَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ ثَوْبِهَا، فَقَالَ كَذَبَتْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لأَنْفُضُهَا نَفْضَ الأَدِيمِ، وَلَكِنَّهَا نَاشِزٌ تُرِيدُ رِفَاعَةَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ لَمْ تَحِلِّي لَهُ ـ أَوْ لَمْ تَصْلُحِي لَهُ ـ حَتَّى يَذُوقَ مِنْ عُسَيْلَتِكِ ". قَالَ وَأَبْصَرَ مَعَهُ ابْنَيْنِ فَقَالَ " بَنُوكَ هَؤُلاَءِ ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " هَذَا الَّذِي تَزْعُمِينَ مَا تَزْعُمِينَ، فَوَاللَّهِ لَهُمْ أَشْبَهُ بِهِ مِنَ الْغُرَابِ بِالْغُرَابِ ".
Narrated `Ikrima:Rifa`a divorced his wife whereupon `AbdurRahman bin Az-Zubair Al-Qurazi married her. `Aisha said that the lady (came), wearing a green veil (and complained to her (Aisha) of her husband and showed her a green spot on her skin caused by beating). It was the habit of ladies to support each other, so when Allah's Messenger (ﷺ) came, `Aisha said, "I have not seen any woman suffering as much as the believing women. Look! Her skin is greener than her clothes!" When `AbdurRahman heard that his wife had gone to the Prophet, he came with his two sons from another wife. She said, "By Allah! I have done no wrong to him but he is impotent and is as useless to me as this," holding and showing the fringe of her garment, `Abdur-Rahman said, "By Allah, O Allah's Messenger (ﷺ)! She has told a lie! I am very strong and can satisfy her but she is disobedient and wants to go back to Rifa`a." Allah's Messenger (ﷺ) said, to her, "If that is your intention, then know that it is unlawful for you to remarry Rifa`a unless `Abdur-Rahman has had sexual intercourse with you." Then the Prophet (ﷺ) saw two boys with `Abdur- Rahman and asked (him), "Are these your sons?" On that `AbdurRahman said, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "You claim what you claim (i.e.. that he is impotent)? But by Allah, these boys resemble him as a crow resembles a crow
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب بن عبدالمجید ثقفی نے، کہا ہم کو ایوب سختیانی نے خبر دی، انہیں عکرمہ نے اور انہیں رفاعہ رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ پھر ان سے عبدالرحمٰن بن زبیر قرظی رضی اللہ عنہ نے نکاح کر لیا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ خاتون سبز اوڑھنی اورڑھے ہوئے تھیں، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ( اپنے شوہر کی ) شکایت کی اور اپنے جسم پر سبز نشانات ( چوٹ کے ) دکھائے پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ( جیسا کہ عادت ہے ) عکرمہ نے بیان کیا کہ عورتیں آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) کہا کہ کسی ایمان والی عورت کا میں نے اس سے زیادہ برا حال نہیں دیکھا ان کا جسم ان کے کپڑے سے بھی زیادہ برا ہو گیا ہے۔ بیان کیا کہ ان کے شوہر نے بھی سن لیا تھا کہ ( ان کی ) بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی ہے چنانچہ وہ بھی آ گئے اور ان کے ساتھ ان کے دو بچے ان سے پہلی بیوی کے تھے۔ ان کی بیوی نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے ان سے کوئی اور شکایت نہیں البتہ ان کے ساتھ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں جس سے میرا کچھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے اپنے کپڑے کا پلو پکڑ کر اشارہ کیا ( یعنی ان کے شوہر کمزور ہیں ) اس پر ان کے شوہر نے کہا: یا رسول اللہ! واللہ یہ جھوٹ بولتی ہے میں تو اس کو ( جماع کے وقت ) چمڑے کی طرح ادھیڑ کر رکھ دیتا ہوں مگر یہ شریر ہے، یہ مجھے پسند نہیں کرتی اور رفاعہ کے یہاں دوبارہ جانا چاہتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اگر یہ بات ہے تو تمہارے لیے وہ ( رفاعہ ) اس وقت تک حلال نہیں ہو گا جب تک یہ ( عبدالرحمٰن دوسرے شوہر ) تمہارا مزا نہ چکھ لیں۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کے ساتھ دو بچے بھی دیکھے تو دریافت فرمایا کیا یہ تمہارے بچے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا، اس وجہ سے تم یہ باتیں سوچتی ہو۔ اللہ کی قسم یہ بچے ان سے اتنے ہی مشابہ ہیں جتنا کہ کوا کوے سے مشابہ ہوتا ہے۔
Sahih al-Bukhari 78:113sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَسْأَلْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَهُ، عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ عَلَى صَوْتِهِ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ تَبَادَرْنَ الْحِجَابَ، فَأَذِنَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَضْحَكُ فَقَالَ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَقَالَ " عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلاَءِ اللاَّتِي كُنَّ عِنْدِي، لَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ تَبَادَرْنَ الْحِجَابَ ". فَقَالَ أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ يَهَبْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِنَّ فَقَالَ يَا عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلَمْ تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَ إِنَّكَ أَفَظُّ وَأَغْلَظُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِيهٍ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجًّا إِلاَّ سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ ".
Narrated Sa`d:`Umar bin Al-Khattab asked permission of Allah's Messenger (ﷺ) to see him while some Quraishi women were sitting with him and they were asking him to give them more financial support while raising their voices over the voice of the Prophet. When `Umar asked permission to enter, all of them hurried to screen themselves the Prophet (ﷺ) admitted `Umar and he entered, while the Prophet (ﷺ) was smiling. `Umar said, "May Allah always keep you smiling, O Allah's Messenger (ﷺ)! Let my father and mother be sacrificed for you !" The Prophet (ﷺ) said, "I am astonished at these women who were with me. As soon as they heard your voice, they hastened to screen themselves." `Umar said, "You have more right, that they should be afraid of you, O Allah's Messenger (ﷺ)!" And then he (`Umar) turned towards them and said, "O enemies of your souls! You are afraid of me and not of Allah's Messenger (ﷺ)?" The women replied, "Yes, for you are sterner and harsher than Allah's Messenger (ﷺ)." Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Ibn Al-Khattab! By Him in Whose Hands my life is, whenever Satan sees you taking a way, he follows a way other than yours
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب نے، ان سے محمد بن سعد نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی کئی بیویاں جو قریش سے تعلق رکھتی تھیں آپ سے خرچ دینے کے لیے تقاضا کر رہی تھیں اور اونچی آواز میں باتیں کر رہی تھیں۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو وہ جلدی سے بھاگ کر پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دی اور وہ داخل ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہنس رہے تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ آپ کو خوش رکھے، یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان پر مجھے حیرت ہوئی، جو ابھی میرے پاس تقاضا کر رہی تھیں، جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو فوراً بھاگ کر پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپ سے ڈرا جائے، پھر عورتوں کو مخاطب کر کے انہوں نے کہا، اپنی جانوں کی دشمن! مجھ سے تو تم ڈرتی ہو او اللہ کے رسول سے نہیں ڈرتیں۔ انہوں نے عرض کیا: آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سخت ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اے ابن خطاب! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر شیطان بھی تمہیں راستے پر آتا ہوا دیکھے گا تو تمہارا راستہ چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلا جائے گا۔
Sahih al-Bukhari 78:178sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ،. وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيَّ، يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَيَقُولُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَا حَسَّانُ أَجِبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ.
Narrated Abu Salama bin `Abdur-Rahman bin `Auf:that he heard Hassan bin Thabit Al-Ansari asking the witness of Abu Huraira, saying, "O Abu- Huraira! I beseech you by Allah (to tell me). Did you hear Allah's Messenger (ﷺ) saying' 'O Hassan ! Reply on behalf of Allah's Messenger (ﷺ). O Allah ! Support him (Hassan) with the Holy Spirit (Gabriel).'?" Abu Huraira said, "Yes
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے محمد بن ابی عتیق نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، انہوں نے حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو گواہ بنا کر کہہ رہے تھے کہ اے ابوہریرہ! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے حسان! اللہ کے رسول کی طرف سے مشرکوں کو جواب دو، اے اللہ! روح القدس کے ذریعہ ان کی مدد کر۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں۔
Sahih al-Bukhari 83:78sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ ". وَرَآهُ يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ. وَقَالَ الْفَزَارِيُّ عَنْ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said, "Allah is not in need of this man) torturing himself," when he saw the man walking between his two sons (who were supporting him)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے حمید نے، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ اس سے بےپروا ہے کہ یہ شخص اپنی جان کو عذاب میں ڈالے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چل رہا تھا اور فزاری نے بیان کیا، ان سے حمید نے، ان سے ثابت نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے۔
Sahih al-Bukhari 85:22sahih
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ مَاتَ وَتَرَكَ مَالاً فَمَالُهُ لِمَوَالِي الْعَصَبَةِ، وَمَنْ تَرَكَ كَلاًّ أَوْ ضَيَاعًا، فَأَنَا وَلِيُّهُ فَلأُدْعَى لَهُ ". لكل: العيال
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "I am more closer to the believers than their ownselves, so whoever (among them) dies leaving some inheritance, his inheritance will be given to his 'Asaba, and whoever dies leaving a debt or dependants or destitute children, then I am their supporter
ہم سے محمود نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی، انہیں ابوحصین نے، انہیں ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں مسلمانوں کا خود ان کی ذات سے بھی زیادہ ولی ہوں۔ پس جو شخص مر جائے اور مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے اور جس نے بیوی بچے چھوڑے ہوں یا قرض ہو، تو میں ان کا ولی ہوں، ان کے لیے مجھ سے مانگا جائے۔“
Sahih Muslim 1:289sahih
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ صلى الله عليه وسلم إِذْ قَالَ { رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} قَالَ " وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ لَبْثِ يُوسُفَ لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ " .
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:We have more claim to doubt than Ibrahim (ﷺ) when he said: My Lord! Show me how Thou wilt quicken the dead. He said: Believeth thou not? He said: Yes! But that my heart may rest at ease. He (the Holy Prophet) observed: May Lord take mercy on Lot, that he wanted a strong support, and had I stayed (in the prison) as long as Yusuf stayed, I would have responded to him who invited me
یونس نے ابن شہاب زہری سے خبر دی ، انہوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن اور سعید بن مسیب سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ہم ابراہیم سے زیادہ شک کرنے کا حق رکھتے ہیں ، جب انہوں نے کہا تھا : ’’ اے میرے رب ! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا تمہیں یقین نہیں ؟ کہا : کیوں نہیں ! لیکن ( میں اس لیے جاننا چاہتا ہوں ) تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے ۔ ‘ ‘ آپ نے فرمایا : ’’ اور اللہ لوط رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے ، ( وہ کسی سہارے کی تمنا کر رہے تھے ) حالانکہ انہوں نے ایک مضبوط سہارے کی پناہ لی ہوئی تھی ۔ اور اگر میں قید خانے میں یوسف علیہ السلام جتنا طویل عرصہ ٹھہرتا تو ( ہوسکتا ہے ) بلانے والے کی بات مان لیتا ۔ ‘ ‘ ( عملاً آپ نے دوسرے انبیاء سے بڑھ کر ہی صبر و تحمل سے کام لیا ۔)
Sahih Muslim 1:432sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا أَوْ سَبْعُمِائَةِ أَلْفٍ - لاَ يَدْرِي أَبُو حَازِمٍ أَيَّهُمَا قَالَ - مُتَمَاسِكُونَ آخِذٌ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لاَ يَدْخُلُ أَوَّلُهُمْ حَتَّى يَدْخُلَ آخِرُهُمْ وُجُوهُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ " .
Abu Hazim narrated it on the authority of Ibn Sa'd that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Seventy thousand persons or seven hundred thousand persons (Abu Hazim does not remember the exact number) would enter Paradise holding and supporting one another, and the first among them would not enter till the last among them would enter (therein) ; (they would enter simultaneously) and their faces would be bright like the full moon
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میری امت میں سے ستر ہزار یا سات لاکھ افراد ( ابو حازم کو شک ہے کہ سہل رضی اللہ عنہ نے کون سا عدد بتایا ) اس طرح جنت میں داخل ہوں گے کہ وہ یکجا ہوں گے ، ایک دوسرےکو پکڑے ہوئے ، ان میں سے پہلا فرد اس وقت تک داخل نہیں ہو گا جب تک آخری فرد ( بھی ساتھ ہی ) داخل نہ ہو گا ، اکٹھے ہی ( جنت کے وسیع دروازے سے ) اندر جائیں گے ۔ ان کے چہرے چو دھویں رات کے چاندجیسے ہوں گے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim 4:99sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ، أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَاسْـتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِهَا وَأَذِنَّ لَهُ - قَالَتْ - فَخَرَجَ وَيَدٌ لَهُ عَلَى الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَيَدٌ لَهُ عَلَى رَجُلٍ آخَرَ وَهُوَ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ فِي الأَرْضِ . فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ هُوَ عَلِيٌّ .
A'isha reported:It was in the house ofMaimuna that the Messenger of Allah (ﷺ) first fell ill. He asked permission from his wives to stay in her ('A'isha's) house during his illness. They granted him permission. She ('A'isha) narrated: He (the Holy Prophet) went out (for prayer) with his hand over al-Fadl b. 'Abbas and on the other hand there was another person and (due to weakness) his feet dragged on the earth. 'Ubaidullah said: I narrated this hadith to the son of 'Abbas ('Abdullah b. 'Abbas) and he said: Do you know who the man was whose name 'A'isha did not mention? It was 'Ali
معمر نے بیان کیا کہ زہری نے کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے خبر کہ رسول اللہﷺ کی بیماری کا آغاز میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے ہوا ، آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت مانگی کہ آپ کی تیمار داری میرے گھر میں کی جائے ، انہوں نے اجازت دے دی ۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) فرمایا : آپ اس طرح نکلے کہ آپ کا ایک ہاتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ ( کے کندھے ) پر اور دوسرا ہاتھ ایک دوسرے آدمی پر تھا اور ( نقاہت کی وجہ سے ) آپ اپنے باؤں سے زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے ۔ عبید اللہ نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ کو سنائی تو انہوں نے کہا : کیا تم جانتے ہو وہ آدمی ، جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا ، کون تھے؟ وہ علی رضی اللہ عنہ تھا
Sahih Muslim 4:100sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلاَهُ فِي الأَرْضِ بَيْنَ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ . قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بِالَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ هَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ قَالَ قُلْتُ لاَ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هُوَ عَلِيٌّ .
A'isha, the wife of the Apostle (ﷺ), said:When the Messenger of Allah (ﷺ) fell ill and his illness became serious, he asked permission from his wives to stay in my house during his illness. They gave him permission to do so. He stepped out (of'A'isha's apartment for prayer) supported by two persons. (He was so much weak) that his feet dragged on the ground and he was being supported by 'Abbas b. 'Abd al-Muttalib and another person. 'Ubaidullah said: I informed 'Abdullah (b. 'Abbas) about that which 'A'isha had said. 'Abdullah b. 'Abbas said: Do you know the man whose name 'A'isha did not mention? He said: No. Ibn 'Abbas said: It was 'Ali
عقیل بن خالد نے کہا : ابن شہاب ( زہری ) نے کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ رسول اللہﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : جب رسول اللہﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور آپ کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تو آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ ان کی تیمار داری میرے گھر میں ہو ، انہوں نے اجازت دے دی ، پھر آپ دو آدمیوں کے درمیان ( ان کا سہارا لے کر ) نکلے ، آپ کے دونوں پاؤں زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے ( اور آپ ) عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے آدمی کے درمیان تھے ۔ ( حدیث کے راوی ) عبید اللہ نے کہا : عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو کچھ کہا تھا ، میں نے اس کا تذکرہ عبد اللہ ( بن عباس ) رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا : کیا تم جانتے ہو وہ آدمی کون تھا جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا؟ انہوں نے کہا : میں نے کہا : نہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے ۔
Sahih Muslim 12:48sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Of the dinar you spend as a contribution in Allah's path, or to set free a slave, or as a sadaqa given to a needy, or to support your family, the one yielding the greatest reward is that which you spent on your family
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا " ( جن دیناروں پر اجر ملتا ہے ان میں سے ) ایک دینا وہ ہے جسےتو نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا ایک دیناروہ ہے جسے تو نے کسی کی گردن ( کی آزادی ) کے لیے خرچ کیا ایک دینا ر وہ ہے جسے تو نے مسکین پر صدقہ کیا اور ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اپنے گھر والوں پر صرف کیا ان میں سب سے عظیم اجر اس دینار کا ہے جسے تو نے اپنے اہل پر خرچ کیا ۔
Sahih Muslim 15:540sahih
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي، إِسْحَاقَ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، مَوْلَى الْمَهْرِيِّ أَنَّهُ أَصَابَهُمْ بِالْمَدِينَةِ جَهْدٌ وَشِدَّةٌ وَأَنَّهُ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقَالَ لَهُ إِنِّي كَثِيرُ الْعِيَالِ وَقَدْ أَصَابَتْنَا شِدَّةٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْقُلَ عِيَالِي إِلَى بَعْضِ الرِّيفِ . فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ لاَ تَفْعَلِ الْزَمِ الْمَدِينَةَ فَإِنَّا خَرَجْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - أَظُنُّ أَنَّهُ قَالَ - حَتَّى قَدِمْنَا عُسْفَانَ فَأَقَامَ بِهَا لَيَالِيَ فَقَالَ النَّاسُ وَاللَّهِ مَا نَحْنُ هَا هُنَا فِي شَىْءٍ وَإِنَّ عِيَالَنَا لَخُلُوفٌ مَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ . فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِكُمْ - مَا أَدْرِي كَيْفَ قَالَ - وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ إِنْ شِئْتُمْ - لاَ أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ - لآمُرَنَّ بِنَاقَتِي تُرْحَلُ ثُمَّ لاَ أَحُلُّ لَهَا عُقْدَةً حَتَّى أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ - وَقَالَ - اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ فَجَعَلَهَا حَرَمًا وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا أَنْ لاَ يُهَرَاقَ فِيهَا دَمٌ وَلاَ يُحْمَلَ فِيهَا سِلاَحٌ لِقِتَالٍ وَلاَ يُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلاَّ لِعَلْفٍ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنَ الْمَدِينَةِ شِعْبٌ وَلاَ نَقْبٌ إِلاَّ عَلَيْهِ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا حَتَّى تَقْدَمُوا إِلَيْهَا - ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ - ارْتَحِلُوا " . فَارْتَحَلْنَا فَأَقْبَلْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَالَّذِي نَحْلِفُ بِهِ أَوْ يُحْلَفُ بِهِ - الشَّكُّ مِنْ حَمَّادٍ - مَا وَضَعْنَا رِحَالَنَا حِينَ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى أَغَارَ عَلَيْنَا بَنُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ وَمَا يَهِيجُهُمْ قَبْلَ ذَلِكَ شَىْءٌ .
Abu Sa'id Maula al-Mahri reported that they were hard pressed by the distress and hardship of Medina, and he come to AbU Sa'Id al-Khudri and said to him:I have a large family (to support) and we are enduring hardships; I have, therefore, made up my mind to take my family to some fertile land. Thereupon Abu Sa'id said: Don't do that, stick to Medina, for we have come out with Allah's Apostle (ﷺ), and (I think that he also said) until we reached 'Usfan, and he (the Prophet along with his Companions) stayed there for some nights. There the people said: By Allah, we are lying here idle, whereas our children are unprotected behind us, and we do not feel secure about them. This (apprehension of theirs) reached Allah's Apostle (ﷺ), whereupon he said: What is this matter concerning you that has reached me? (I do not retain how he said it, whether he said like this: ) By Him (in the name of Whom) I take oath, (or he said like this: ) By Him in Whose Hand is my life, I made up my mind or if you like (I do not retain what word did he actually say), I should command my camel to proceed and not to let it halt until it comes to Medina and then said: Ibrahim declared Mecca as the sacred territory and it became sacred, and I declare Medina as the sacred territory-the area between the two mountains ('Air and Uhud). Thus no blood is to be shed within its (bounds) and no weapon is to be carried for fighting, and the leaves of the trees there should not be beaten off except for fodder. O Allah, bless us in our city; O Allah, bless us in our sil; O Allah, bless us in our mudd; O Allah, bless us in our sa; O Allah, bless us in our mudd. O Allah, bless us in our city. O Allah, bless with this blessing two more blessings. By Him in Whose Hand is my life, there is no ravine or mountain path of Medina which is not protected by two angels until you reach there. (He then said to the people: ) Proceed, and we, therefore, proceeded and we came to Medina By Him (in Whose name) we take oath and (in Whose name) oath is taken (Hammad is in doubt about it), we had hardly put down our camel saddles on arriving at Medina that we were attacked by the people of the tribe of 'Abdullah b. Ghatafan but none dared to do it before
حماد بن اسماعیل بن علیہ نے ہمیں ہمیں حدیث بیا ن کی ، ( کہا : ) ہمیں میرے والد نے وہیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے روایت کی کہ انھوں نےمہری کےمولیٰ ابو سعید سے حدیث بیان کی کہ انھیں مدینہ میں بدحالی اورسختی نےآلیا ، وہ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا : میں کثیر العیال ہوں اورہمیں تنگدستی نے آلیا ہے ، میرا ارادہ ہے کہ میں ا پنے افراد خانہ کو کسی سر سبز وشاداب علاقے کی طرف منتقل کردوں ۔ تو ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : ایسا مت کرنا ، مدینہ میں ہی ٹھہرے رہو ، کیونکہ ہم اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( سفر پر ) نکلے ۔ میرا خیال ہے انھوں نےکہا ۔ حتیٰ کہ ہم عسفان پہنچے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں چند راتیں قیام فرمایا ، تو لوگوں نے کہا : ہم یہاں کسی خاص مقصد کے تحت نہیں ٹھہر ے ہوئے ، اور ہمارے افراد خانہ پیچھے ( اکیلے ) ہیں ہم انھیں محفوظ نہیں سمجھتے ، ان کی یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ کیا بات ہے جو تمھاری طرف سے مجھے پہنچی ہے؟ " ۔ میں نہیں جانتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےکس طرح فرمایا ۔ " اس ذات کی قسم جس کی میں قسم کھاتا ہوں ۔ " یا ( فرمایا ) " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!میں نےارادہ کیایا ( فرمایا ) اگرتم چاہو ۔ میں نہیں جانتا کہ آپ نے ان دونوں میں سے کون سا جملہ ارشاد فرمایا : میں اپنی اونٹنی پر پالان رکھنے کا حکم د وں ، پھر اس کی ایک گرہ بھی نہ کھولوں یہاں تک کہ مدینہ پہنچ جاؤں ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اے اللہ!بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کی حرمت کا اعلان کیا ، اور اسے حرم بنایا ، اور میں نے مدینہ کو اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیان کو حرمت والا قرار دیا کہ اس میں خون نہ بہایا جائے ، اس میں لڑائی کے لئے اسلحہ نہ اٹھایا جائے اور اس میں چارے کے سوا ( کسی اورغرض سے ) اس کے درختوں کے پتے نہ جھاڑے جائیں ۔ اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے شہر ( مدینہ ) میں برکت عطا فرما ۔ اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما ، اے اللہ!ہمارے لیے ہمارے مد میں برکت عطا فرما ، اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما ، اے اللہ!ہمارے لیے ہمارے مد میں برکت عطا فرما ، اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے شہر ( مدینہ ) میں برکت عطا فرما ۔ اور اس برکت کے ساتھ دو برکتیں ( مزید عطا ) کردے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!مدینہ کی کوئی گھاٹی اور درہ نہیں مگر اس پر دوفرشتے ہیں جو اس کی حفاظت کریں گے یہاں تکہ کہ تم اس میں واپس آجاؤ ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا " کوچ کرو ۔ " تو ہم نے کوچ کیا اور مدینہ آگئے ۔ اس ذات کی قسم جس کی ہم قسم کھاتے ہیں! یا جس کی قسم کھائی جاتی ہے ۔ یہ شک حماد کی طرف سےہے ۔ مدینہ میں داخل ہوکر ہم نے اپنی سواریوں کے پالان بھی نہیں اتارے تھے کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے ہم پر حملہ کردیا اور اس سے پہلے کوئی چیز انھیں مشتعل نہیں کررہی تھی ۔
Sahih Muslim 25:28sahih
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ وَصِيًّا فَقَالَتْ مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ فَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي - أَوْ قَالَتْ حَجْرِي - فَدَعَا بِالطَّسْتِ فَلَقَدِ انْخَنَثَ فِي حَجْرِي وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ مَاتَ فَمَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ
Aswad b. Yazid reported:It was mentioned before A'isha that will had been made (by the Holy Prophet) in favour of 'Ali (as the Prophet's first caliph), whereupon she said: When did he make will in his favour? I had been providing support to him (to the Holy Prophet) with my chest (or with my lap). He asked for a tray, when he fell in my lap (relaxing his body), and I did not realise that he had breathed his last. When did he make any will in his ('Ali's) favour?
اسود بن یزید سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ذکر کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ وصی ( جسے وصیت کی جائے ) تھے ۔ تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کب وصیت کی؟ بلاشبہ آپ کو اپنے سینے سے ۔ ۔ یا کہا : اپنی گود سے ۔ ۔ سہارا دینے والی میں تھی ، آپ نے برتن منگوایا ، اس کے بعد آپ ( کمزوری سے ) میری گود ہی میں جھک گئے اور مجھے پتہ بھی نہ چلا کہ آپ کی وفات ہو گئی ، تو آپ نے انہیں کب وصیت کی
Sahih Muslim 27:28sahih
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، بْنُ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ لاَ تَسْأَلِ الإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " . قَالَ أَبُو أَحْمَدَ الْجُلُودِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَاسَرْجَسِيُّ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، . بِهَذَا الْحَدِيثِ .
Abd al-Rahman b. Samura reported that Allah's Messenger (ﷺ) said to me:Abd al-Rahman b. Samura, don't ask for authority for if it is granted to you for asking for it, you would be commissioned for it (without having the support of Allah), but if you are granted it without your asking for it. You would be helped (by Allah) in it. And when you take an oath and find something else better than that, expiate for (breaking) your oath, and do that which is better. This hadith has also been transmitted on the authority of Ibn Farrukh. The above hadith is narratted through another chain of transmitters
شیبان بن فروخ نے کہا : ہمیں جریر بن حازم نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں حسن نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" عبدالرحمان بن سمرہ! تم ( خود ) امارت کی درخواست مت کرو ، ( کیونکہ ) اگر وہ تمہیں مانگنے پر دی گئی تو تم اس کے حوالے کر دیے جاؤ گے اور اگر تمہیں بن مانگے ملے گی تو ( اللہ کی طرف سے ) تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی کام پر قسم کھاؤ ، پھر اس کے بجائے کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دو اور وہی اختیار کرو جو بہتر ہے ۔ "" ( امام مسلم کے شاگرد ) ابو احمد جلودی نے کہا : ہمیں ابو عباس ماسرجسی نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں شیبان بن فروخ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں جریر بن حازم نے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی
Sahih Muslim 33:89sahih
حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي، مِجْلَزٍ عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يَدْعُو عَصَبِيَّةً أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ " .
It has been narrated on the authority of Ibn 'Abdullah al-Bajali that the Messenger of Allah (ﷺ) said:One who is killed under the banner of a man who is blind (to his just cause), who raises the slogan of family or supports his own tribe, dies the death of one belonging to the days of Jahiliyya
جندب بن عبداﷲ بجلی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اندھے جھندے کے تلے مارا جاوے اور وہ بلاتا ہو تعصب اور قومی طرفداری کی طرف یا مدد کرتا ہو قومی تعصب کی تو اس کا قتل جاہلیت کا سا ہوگا۔
Sahih Muslim 37:114sahih
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، - فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلَ بِشِمَالِهِ أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ .
Jabir reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade that a man should eat with the left hand or walk with one sandal or wrap himself completely leaving no opening for the arms (to draw out) or support himself when sitting with a single garment wrapped round his knees which may expose his private parts
مالک بن انس نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی اپنے بائیں ہاتھ سے کھائے ، یا ایک جوتا پہن کرچلے اور ایسا کپڑا پہنے جس میں باہر نکالنے والے اعضاء ( سر ، ہاتھ ، پاؤں ) کےلیے سوراخ نہ ہوں اور ایک ہی کپڑا اس طرح کمر اور گھٹنوں کے گرد باندھے کہ اس کی شرمگاہ ظاہر ہو ۔
Sahih Muslim 37:116sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَالاِحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَأَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ .
Jabir reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the wrapping of oneself completely leaving no room for the arm and supporting oneself when sitting with a single garment wrapped round one's knees and a person raising one of his feet and placing it on the other while lying on his back
لیث نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ پاؤں وغیرہ کو بندکردینے والا لباس پہننے ، ایک کپڑے سےکمر اور گھٹنوں کو باندھنے اور چت لیٹ کر ایک پاؤں کو دوسرے کے اوپر ( رکھتے ہوئے اس کو ) اٹھانے سے منع فرمایا ۔
Sahih Muslim 45:83sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَأَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَابْنُ، إِدْرِيسَ وَأَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا " .
Abu Musa reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A believer is like a brick for another believer, the one supporting the other
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے ایک عمارت کے مانند ہے ، جس کی ایک ( اینٹ ) دوسری ( اینٹ ) کو مضبوط کرتی ہے ۔
Sahih Muslim 52:15sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي، مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَرْثٍ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ إِذْ مَرَّ بِنَفَرٍ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ فَقَالُوا مَا رَابَكُمْ إِلَيْهِ لاَ يَسْتَقْبِلُكُمْ بِشَىْءٍ تَكْرَهُونَهُ . فَقَالُوا سَلُوهُ فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ فَسَأَلَهُ عَنِ الرُّوحِ - قَالَ - فَأَسْكَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ - قَالَ - فَقُمْتُ مَكَانِي فَلَمَّا نَزَلَ الْوَحْىُ قَالَ { وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً}
Abdullah (b. Mas`ud) reported:As I was going along with Allah's Apostle (ﷺ) in a cultivable land and he (the Holy Prophet) was walking with the support of a wood, a group of Jews happened to meet him. Some of them said to the others: Ask him about the Soul. They said: What is your doubt about it? There is a possibility that you may ask him about anything (the answer of) which you may not like. They said: Ask him. So one amongst them asked him about the Soul. Allah's Messenger (ﷺ) kept quiet and he gave no reply and I came to know that revelation was being sent to him, so I stood at my place and thus this revelation descended upon him:" They ask thee about the Soul. Say: The Soul is by the Commandment of my Lord, and of Knowledge you are given but a little" (xvii)
حفص بن غیاث نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابراہیم نے علقمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک کھیت میں چلا جارہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ایک شاخ کا سہارا لے ( کر چل ) رہے تھے کہ آپ کا یہود کے چند لوگوں کے قریب سے گزر ہوا ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : ان سے روح کے بارے میں سوال کرو پھر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے : ان کے بارے میں تمھیں شک کس بات کا ہے؟ایسا نہ ہو کہ وہ آگے سے ایسی بات کہہ دیں جو تمھیں بری لگے پھر ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوکر آپ کے پاس آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے بارے میں سوال کیا ۔ ( حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( تھوڑی دیر کے لیے ) خاموش ہو گئے اور ان کو کو ئی جواب نہ دیا ۔ مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ پروحی نازل ہو رہی ہے ۔ کہا میں بھی اپنی جگہ پر ( رک کر ) کھڑا ہو گیا ۔ جب وحی نازل ہو چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ پڑھتے ہوئے ) فرمایا : " یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں ۔ کہہ دیجیے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تم ( انسانوں ) کو بہت کم علم دیا گیا ہے ۔