Sahih al-Bukhari 9:67sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ رَكْعَتَانِ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَعُهُمَا سِرًّا وَلاَ عَلاَنِيَةً رَكْعَتَانِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ، وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْعَصْرِ.
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) never missed two rak`at before the Fajr prayer and after the `Asr prayer openly and secretly
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن اسود نے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ نے فرمایا کہ دو رکعتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ترک نہیں فرمایا، پوشیدہ ہو یا عام لوگوں کے سامنے، صبح کی نماز سے پہلے دو رکعات اور عصر کی نماز کے بعد دو رکعات۔
Sahih al-Bukhari 24:79sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غُرَيْرٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ قَالَ فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ رَجُلاً لَمْ يُعْطِهِ، وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَىَّ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ وَاللَّهِ إِنِّي لأُرَاهُ مُؤْمِنًا. قَالَ " أَوْ مُسْلِمًا " قَالَ فَسَكَتُّ قَلِيلاً ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ فِيهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ وَاللَّهِ إِنِّي لأُرَاهُ مُؤْمِنًا. قَالَ " أَوْ مُسْلِمًا ". قَالَ فَسَكَتُّ قَلِيلاً ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ فِيهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ وَاللَّهِ إِنِّي لأُرَاهُ مُؤْمِنًا. قَالَ " أَوْ مُسْلِمًا ـ يَعْنِي فَقَالَ ـ إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ ". وَعَنْ أَبِيهِ عَنْ صَالِحٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ هَذَا فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ فَجَمَعَ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي ثُمَّ قَالَ " أَقْبِلْ أَىْ سَعْدُ إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ {فَكُبْكِبُوا} قُلِبُوا {مُكِبًّا} أَكَبَّ الرَّجُلُ إِذَا كَانَ فِعْلُهُ غَيْرَ وَاقِعٍ عَلَى أَحَدٍ، فَإِذَا وَقَعَ الْفِعْلُ قُلْتَ كَبَّهُ اللَّهُ لِوَجْهِهِ، وَكَبَبْتُهُ أَنَا.
Narrated Sa`d (bin Abi Waqqas):Allah's Messenger (ﷺ) distributed something (from the resources of Zakat) amongst a group of people while I was sitting amongst them, but he left a man whom I considered the best of the lot. So, I went up to Allah's Messenger (ﷺ) and asked him secretly, "Why have you left that person? By Allah! I consider him a believer." The Prophet (ﷺ) said, "Or merely a Muslim (Who surrender to Allah)." I remained quiet for a while but could not help repeating my question because of what I knew about him. I said, "O Allah's Apostle! Why have you left that person? By Allah! I consider him a believer. " The Prophet (ﷺ) said, "Or merely a Muslim." I remained quiet for a while but could not help repeating my question because of what I knew about him. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Why have you left that person? By Allah! I consider him a believer." The Prophet (ﷺ) said, "Or merely a Muslim." Then Allah's Messenger (ﷺ) said, "I give to a person while another is dearer to me, for fear that he may be thrown in the Hell-fire on his face (by reneging from Islam)
ہم سے محمد بن غریر زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے اپنے باپ سے بیان کیا ‘ ان سے صالح بن کیسان نے ان سے ابن شہاب نے ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص سے خبر دی۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند اشخاص کو کچھ مال دیا۔ اسی جگہ میں بھی بیٹھا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے شخص کو چھوڑ دیا اور انہیں کچھ نہیں دیا۔ حالانکہ ان لوگوں میں وہی مجھے زیادہ پسند تھا۔ آخر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جا کر چپکے سے عرض کیا ‘ فلاں شخص کو آپ نے کچھ بھی نہیں دیا؟ واللہ میں اسے مومن خیال کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ یا مسلمان؟ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں تھوڑی دیر تک خاموش رہا۔ لیکن میں ان کے متعلق جو کچھ جانتا تھا اس نے مجھے مجبور کیا ‘ اور میں نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ! آپ فلاں شخص سے کیوں خفا ہیں ‘ واللہ! میں اسے مومن سمجھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ یا مسلمان؟ تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص کو دیتا ہوں ( اور دوسرے کو نظر انداز کر جاتا ہوں ) حالانکہ وہ دوسرا میری نظر میں پہلے سے زیادہ پیارا ہوتا ہے۔ کیونکہ ( جس کو میں دیتا ہوں نہ دینے کی صورت میں ) مجھے ڈر اس بات کا رہتا ہے کہ کہیں اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں نہ ڈال دیا جائے۔ اور ( یعقوب بن ابراہیم ) اپنے والد سے ‘ وہ صالح سے ‘ وہ اسماعیل بن محمد سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ وہ یہی حدیث بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میری گردن اور مونڈھے کے بیچ میں مارا۔ اور فرمایا۔ سعد! ادھر سنو۔ میں ایک شخص کو دیتا ہوں۔ آخر حدیث تک۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ ( قرآن مجید میں لفظ ) «كبكبوا» اوندھے لٹا دینے کے معنی میں ہے۔ اور سورۃ الملک میں جو «مكبا» کا لفظ ہے وہ «أكب» سے نکلا ہے۔ «أكب» لازم ہے یعنی اوندھا گرا۔ اور اس کا متعدی «كب» ہے۔ کہتے ہیں کہ «كبه الله لوجهه» یعنی اللہ نے اسے اوندھے منہ گرا دیا۔ اور «كببته» یعنی میں نے اس کو اوندھا گرایا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا صالح بن کیسان عمر میں زہری سے بڑے تھے وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملے ہیں۔
Sahih al-Bukhari 34:157sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ هِنْدٌ أُمُّ مُعَاوِيَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، فَهَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ سِرًّا قَالَ " خُذِي أَنْتِ وَبَنُوكِ مَا يَكْفِيكِ بِالْمَعْرُوفِ ".
Narrated `Aisha:Hind, the mother of Mu'awiya said to Allah's Messenger (ﷺ), "Abu Sufyan (her husband) is a miser. Am I allowed to take from his money secretly?" The Prophet (ﷺ) said to her, "You and your sons may take what is sufficient reasonably and fairly
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ہندہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ابوسفیان بخیل آدمی ہے۔ تو کیا اگر میں ان کے مال سے چھپا کر کچھ لے لیا کروں تو کوئی حرج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے لیے اور اپنے بیٹوں کے لیے نیک نیتی کے ساتھ اتنا لے سکتی ہو جو تم سب کے لیے کافی ہو جایا کرے۔
Sahih al-Bukhari 52:2sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ الأَنْصَارِيُّ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، وَهْوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ، وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْرَمَةٌ ـ أَوْ زَمْزَمَةٌ ـ فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لاِبْنِ صَيَّادِ أَىْ صَافِ، هَذَا مُحَمَّدٌ. فَتَنَاهَى ابْنُ صَيَّادٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) and Ubai bin Ka`b Al-Ansari went to the garden where Ibn Saiyad used to live. When Allah's Messenger (ﷺ) entered (the garden), he (i.e. Allah's Messenger (ﷺ) ) started hiding himself behind the date-palms as he wanted to hear secretly the talk of Ibn Saiyad before the latter saw him. Ibn Saiyad wrapped with a soft decorated sheet was lying on his bed murmuring. Ibn Saiyad's mother saw the Prophet hiding behind the stems of the date-palms. She addressed Ibn Saiyad saying, "O Saf, this is Muhammad." Hearing that Ibn Saiyad stopped murmuring (or got cautious), the Prophet (ﷺ) said, "If she had left him undisturbed, he would have revealed his reality." (See Hadith No. 290, Vol 4 for details)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے کہ سالم نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر کھجور کے اس باغ کی طرف تشریف لے گئے جس میں ابن صیاد تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم درختوں کی آڑ میں چھپ کر چلنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ ابن صیاد آپ کو دیکھنے نہ پائے اور اس سے پہلے آپ اس کی باتیں سن سکیں۔ ابن صیاد ایک روئیں دار چادر میں زمین پر لیٹا ہوا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ ابن صیاد کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم درخت کی آڑ لیے چلے آ رہے ہیں تو وہ کہنے لگی اے صاف! یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آ رہے ہیں۔ ابن صیاد ہوشیار ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر اسے اپنے حال پر رہنے دیتی تو بات ظاہر ہو جاتی۔“
Sahih al-Bukhari 52:5sahih
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ إِنَّ أُنَاسًا كَانُوا يُؤْخَذُونَ بِالْوَحْىِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَإِنَّ الْوَحْىَ قَدِ انْقَطَعَ، وَإِنَّمَا نَأْخُذُكُمُ الآنَ بِمَا ظَهَرَ لَنَا مِنْ أَعْمَالِكُمْ، فَمَنْ أَظْهَرَ لَنَا خَيْرًا أَمِنَّاهُ وَقَرَّبْنَاهُ، وَلَيْسَ إِلَيْنَا مِنْ سَرِيرَتِهِ شَىْءٌ، اللَّهُ يُحَاسِبُهُ فِي سَرِيرَتِهِ، وَمَنْ أَظْهَرَ لَنَا سُوءًا لَمْ نَأْمَنْهُ وَلَمْ نُصَدِّقْهُ، وَإِنْ قَالَ إِنَّ سَرِيرَتَهُ حَسَنَةٌ.
Narrated `Umar bin Al-Khattab:People were (sometimes) judged by the revealing of a Divine Inspiration during the lifetime of Allah's Apostle but now there is no longer any more (new revelation). Now we judge you by the deeds you practice publicly, so we will trust and favor the one who does good deeds in front of us, and we will not call him to account about what he is really doing in secret, for Allah will judge him for that; but we will not trust or believe the one who presents to us with an evil deed even if he claims that his intentions were good
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے، کہا کہ مجھ سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عتبہ نے اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کا وحی کے ذریعہ مواخذہ ہو جاتا تھا۔ لیکن اب وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا اور ہم صرف انہیں امور میں مواخذہ کریں گے جو تمہارے عمل سے ہمارے سامنے ظاہر ہوں گے۔ اس لیے جو کوئی ظاہر میں ہمارے سامنے خیر کرے گا، ہم اسے امن دیں گے اور اپنے قریب رکھیں گے۔ اس کے باطن سے ہمیں کوئی سروکار نہ ہو گا۔ اس کا حساب تو اللہ تعالیٰ کرے گا اور جو کوئی ہمارے سامنے ظاہر میں برائی کرے گا تو ہم بھی اسے امن نہیں دیں گے اور نہ ہم اس کی تصدیق کریں گے خواہ وہ یہی کہتا رہے کہ اس کا باطن اچھا ہے۔
Sahih al-Bukhari 59:77sahih
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ،، قَالَ قِيلَ لأُسَامَةَ لَوْ أَتَيْتَ فُلاَنًا فَكَلَّمْتَهُ. قَالَ إِنَّكُمْ لَتَرَوْنَ أَنِّي لاَ أُكَلِّمُهُ إِلاَّ أُسْمِعُكُمْ، إِنِّي أُكُلِّمُهُ فِي السِّرِّ دُونَ أَنْ أَفْتَحَ بَابًا لاَ أَكُونُ أَوَّلَ مَنْ فَتَحَهُ، وَلاَ أَقُولُ لِرَجُلٍ أَنْ كَانَ عَلَىَّ أَمِيرًا إِنَّهُ خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ شَىْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالُوا وَمَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ " يُجَاءُ بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ، فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُهُ فِي النَّارِ، فَيَدُورُ كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِرَحَاهُ، فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ عَلَيْهِ، فَيَقُولُونَ أَىْ فُلاَنُ، مَا شَأْنُكَ أَلَيْسَ كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ قَالَ كُنْتُ آمُرُكُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَلاَ آتِيهِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ ". رَوَاهُ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الأَعْمَشِ.
Narrated Abu Wail:Somebody said to Usama, "Will you go to so-and-so (i.e. `Uthman) and talk to him (i.e. advise him regarding ruling the country)?" He said, "You see that I don't talk to him. Really I talk to (advise) him secretly without opening a gate (of affliction), for neither do I want to be the first to open it (i.e. rebellion), nor will I say to a man who is my ruler that he is the best of all the people after I have heard something from Allah's Apostle ." They said, What have you heard him saying? He said, "I have heard him saying, "A man will be brought on the Day of Resurrection and thrown in the (Hell) Fire, so that his intestines will come out, and he will go around like a donkey goes around a millstone. The people of (Hell) Fire will gather around him and say: O so-and-so! What is wrong with you? Didn't you use to order us to do good deeds and forbid us to do bad deeds? He will reply: Yes, I used to order you to do good deeds, but I did not do them myself, and I used to forbid you to do bad deeds, yet I used to do them myself
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کسی نے کہا کہ اگر آپ فلاں صاحب ( عثمان رضی اللہ عنہ ) کے یہاں جا کر ان سے گفتگو کرو تو اچھا ہے ( تاکہ وہ یہ فساد دبانے کی تدبیر کریں ) انہوں نے کہا کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میں ان سے تم کو سنا کر ( تمہارے سامنے ہی ) بات کرتا ہوں، میں تنہائی میں ان سے گفتگو کرتا ہوں اس طرح پر کہ فساد کا دروازہ نہیں کھولتا، میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ سب سے پہلے میں فساد کا دروازہ کھولوں اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سننے کے بعد یہ بھی نہیں کہتا کہ جو شخص میرے اوپر سردار ہو وہ سب لوگوں میں بہتر ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث سنی ہے وہ کیا ہے؟ اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے یہ فرماتے سنا تھا کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ آگ میں اس کی آنتیں باہر نکل آئیں گی اور وہ شخص اس طرح چکر لگانے لگے گا جیسے گدھا اپنی چکی پر گردش کیا کرتا ہے۔ جہنم میں ڈالے جانے والے اس کے قریب آ کر جمع ہو جائیں گے اور اس سے کہیں گے، اے فلاں! آج یہ تمہاری کیا حالت ہے؟ کیا تم ہمیں اچھے کام کرنے کے لیے نہیں کہتے تھے، اور کیا تم برے کاموں سے ہمیں منع نہیں کیا کرتے تھے؟ وہ شخص کہے گا جی ہاں، میں تمہیں تو اچھے کاموں کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا۔ برے کاموں سے تمہیں منع بھی کرتا تھا، لیکن میں اسے خود کیا کرتا تھا۔ اس حدیث کو غندر نے بھی شعبہ سے، انہوں نے اعمش سے روایت کیا ہے۔
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي، كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مَشْىُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَرْحَبًا بِابْنَتِي ". ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا، فَبَكَتْ فَقُلْتُ لَهَا لِمَ تَبْكِينَ ثُمَّ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَضَحِكَتْ فَقُلْتُ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ، فَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ. فَقَالَتْ مَا كُنْتُ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى قُبِضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ أَسَرَّ إِلَىَّ " إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُنِي الْقُرْآنَ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً، وَإِنَّهُ عَارَضَنِي الْعَامَ مَرَّتَيْنِ، وَلاَ أُرَاهُ إِلاَّ حَضَرَ أَجَلِي، وَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِي لَحَاقًا بِي ". فَبَكَيْتُ فَقَالَ " أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ـ أَوْ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ ". فَضَحِكْتُ لِذَلِكَ.
Narrated `Aisha:Once Fatima came walking and her gait resembled the gait of the Prophet (ﷺ) . The Prophet (ﷺ) said, "Welcome, O my daughter!" Then he made her sit on his right or on his left side, and then he told her a secret and she started weeping. I asked her, "Why are you weeping?" He again told her a secret and she started laughing. I said, "I never saw happiness so near to sadness as I saw today." I asked her what the Prophet (ﷺ) had told her. She said, "I would never disclose the secret of Allah's Messenger (ﷺ)." When the Prophet (ﷺ) died, I asked her about it. She replied. "The Prophet (ﷺ) said: 'Every year Gabriel used to revise the Qur'an with me once only, but this year he has done so twice. I think this portends my death, and you will be the first of my family to follow me.' So I started weeping. Then he said. 'Don't you like to be the chief of all the ladies of Paradise or the chief of the believing women? So I laughed for that
Sahih al-Bukhari 61:129sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي، كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مَشْىُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَرْحَبًا بِابْنَتِي ". ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا، فَبَكَتْ فَقُلْتُ لَهَا لِمَ تَبْكِينَ ثُمَّ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَضَحِكَتْ فَقُلْتُ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ، فَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ. فَقَالَتْ مَا كُنْتُ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى قُبِضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ أَسَرَّ إِلَىَّ " إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُنِي الْقُرْآنَ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً، وَإِنَّهُ عَارَضَنِي الْعَامَ مَرَّتَيْنِ، وَلاَ أُرَاهُ إِلاَّ حَضَرَ أَجَلِي، وَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِي لَحَاقًا بِي ". فَبَكَيْتُ فَقَالَ " أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ـ أَوْ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ ". فَضَحِكْتُ لِذَلِكَ.
Narrated `Aisha:Once Fatima came walking and her gait resembled the gait of the Prophet (ﷺ) . The Prophet (ﷺ) said, "Welcome, O my daughter!" Then he made her sit on his right or on his left side, and then he told her a secret and she started weeping. I asked her, "Why are you weeping?" He again told her a secret and she started laughing. I said, "I never saw happiness so near to sadness as I saw today." I asked her what the Prophet (ﷺ) had told her. She said, "I would never disclose the secret of Allah's Messenger (ﷺ)." When the Prophet (ﷺ) died, I asked her about it. She replied. "The Prophet (ﷺ) said: 'Every year Gabriel used to revise the Qur'an with me once only, but this year he has done so twice. I think this portends my death, and you will be the first of my family to follow me.' So I started weeping. Then he said. 'Don't you like to be the chief of all the ladies of Paradise or the chief of the believing women? So I laughed for that
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَسَارَّهَا بِشَىْءٍ فَبَكَتْ، ثُمَّ دَعَاهَا، فَسَارَّهَا فَضَحِكَتْ، قَالَتْ فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ. فَقَالَتْ سَارَّنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِهِ أَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ.
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) in his fatal illness, called his daughter Fatima and told her a secret because of which she started weeping. Then he called her and told her another secret, and she started laughing. When I asked her about that, she replied, The Prophet (ﷺ) told me that he would die in his fatal illness, and so I wept, but then he secretly told me that from amongst his family, I would be the first to join him, and so I laughed
Sahih al-Bukhari 61:130sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَسَارَّهَا بِشَىْءٍ فَبَكَتْ، ثُمَّ دَعَاهَا، فَسَارَّهَا فَضَحِكَتْ، قَالَتْ فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ. فَقَالَتْ سَارَّنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِهِ أَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ.
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) in his fatal illness, called his daughter Fatima and told her a secret because of which she started weeping. Then he called her and told her another secret, and she started laughing. When I asked her about that, she replied, The Prophet (ﷺ) told me that he would die in his fatal illness, and so I wept, but then he secretly told me that from amongst his family, I would be the first to join him, and so I laughed
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهَا، فَسَارَّهَا بِشَىْءٍ فَبَكَتْ، ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا فَضَحِكَتْ، قَالَتْ فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ. فَقَالَتْ سَارَّنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِهِ أَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ.
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) called his daughter Fatima during his illness in which he died, and told her a secret whereupon she wept. Then he called her again and told her a secret whereupon she laughed. When I asked her about that, she replied, "The Prophet (ﷺ) spoke to me in secret and informed me that he would die in the course of the illness during which he died, so I wept. He again spoke to me in secret and informed me that I would be the first of his family to follow him (after his death) and on that I laughed
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اس مرض کے موقع پر بلایا جس میں آپ کی وفات ہوئی، پھر آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں، عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا۔
Sahih al-Bukhari 62:64sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهَا، فَسَارَّهَا بِشَىْءٍ فَبَكَتْ، ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا فَضَحِكَتْ، قَالَتْ فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ. فَقَالَتْ سَارَّنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِهِ أَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ.
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) called his daughter Fatima during his illness in which he died, and told her a secret whereupon she wept. Then he called her again and told her a secret whereupon she laughed. When I asked her about that, she replied, "The Prophet (ﷺ) spoke to me in secret and informed me that he would die in the course of the illness during which he died, so I wept. He again spoke to me in secret and informed me that I would be the first of his family to follow him (after his death) and on that I laughed
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اس مرض کے موقع پر بلایا جس میں آپ کی وفات ہوئی، پھر آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں، عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا۔
Sahih al-Bukhari 62:88sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ ذَهَبَ عَلْقَمَةُ إِلَى الشَّأْمِ، فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَالَ اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا. فَجَلَسَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ. قَالَ أَلَيْسَ فِيكُمْ ـ أَوْ مِنْكُمْ ـ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لاَ يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ يَعْنِي حُذَيْفَةَ. قَالَ قُلْتُ بَلَى. قَالَ أَلَيْسَ فِيكُمُ ـ أَوْ مِنْكُمُ ـ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ، يَعْنِي عَمَّارًا. قُلْتُ بَلَى. قَالَ أَلَيْسَ فِيكُمْ ـ أَوْ مِنْكُمْ ـ صَاحِبُ السِّوَاكِ أَوِ السِّرَارِ قَالَ بَلَى. قَالَ كَيْفَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى * وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى} قُلْتُ {وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى}. قَالَ مَا زَالَ بِي هَؤُلاَءِ حَتَّى كَادُوا يَسْتَنْزِلُونِي عَنْ شَىْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Ibrahim:'Alqama went to Sham and when he entered the mosque, he said, "O Allah ! Bless me with a pious companion." So he sat with Abu Ad-Darda. Abu Ad-Darda' asked him, "Where are you from?" 'Alqama replied, "From the people of Kufa." Abu Ad-Darda said, "Isn't there amongst you the Keeper of the secret which nobody else knows i.e. Hudhaifa?" Al-qama said, "Yes." Then Abu Ad-Darda further said, "Isn't there amongst you the person whom Allah gave Refuge from Satan through the invocation of His Prophet namely `Ammar?" Alqama replied in the affirmative Abu Ad-Darda said, "Isn't there amongst you the person who carries the Siwak (or the Secret) (i.e. of the Prophet (ﷺ) namely `Abdullah bin Mas'ud)?" Alqama said, "Yes." Then Abu Ad-Darda asked, "How (Abdullah bin Masud) used to recite the Sura starting with: "By the night as it envelopes; By the day as it appears in brightness?" (92.1-2). Alqama said "And by male and female." Abu Ad-Darda then said, "These people (of Sham) tried hard to make me accept something other than what I had heard from the Prophet
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے بیان کیا کہ علقمہ رضی اللہ عنہ شام میں تشریف لے گئے اور مسجد میں جا کر یہ دعا کی۔ اے اللہ! مجھے ایک نیک ساتھی عطا فرما، چنانچہ آپ کو ابودرداء رضی اللہ عنہ کی صحبت نصیب ہوئی۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ عرض کیا کہ کوفہ سے، اس پر انہوں نے کہا: کیا تمہارے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راز دار نہیں ہیں کہ ان رازوں کو ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا؟ ( ان کی مراد ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ سے تھی ) انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا جی ہاں موجود ہیں، پھر انہوں نے کہا کیا تم میں وہ شخص نہیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی شیطان سے اپنی پناہ دی تھی۔ ان کی مراد عمار رضی اللہ عنہ سے تھی۔ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں وہ بھی موجود ہیں، اس کے بعد انہوں نے دریافت کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آیت «والليل إذا يغشى * والنهار إذا تجلى» کی قرآت کس طرح کرتے تھے؟ میں نے کہا کہ وہ ( «وما خلق» کے حذف کے ساتھ ) «والذكر والأنثى» پڑھا کرتے تھے۔ اس پر انہوں نے کہا یہ شام والے ہمیشہ اس کوشش میں رہے کہ اس آیت کی تلاوت کو جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا اس سے مجھے ہٹا دیں۔
Sahih al-Bukhari 63:26sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَالنَّاسُ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ ".
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "The Ansar are my near companions to whom I confided my private secrets, People will go on increasing but the Ansar will go on decreasing; so accept the good of the good-doers amongst them and excuse the wrong-doers amongst them
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انصار میرے جسم و جان ہیں، ایک دور آئے گا کہ دوسرے لوگ تو بہت ہو جائیں گے، لیکن انصار کم رہ جائیں گے، اس لیے ان کے نیکو کاروں کی پذیرائی کیا کرنا، اور خطا کاروں سے درگزر کیا کرنا۔“
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَسَارَّهَا بِشَىْءٍ، فَبَكَتْ، ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا بِشَىْءٍ فَضَحِكَتْ فَسَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ. فَقَالَتْ سَارَّنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ يَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ.
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) called Fatima during his fatal illness and told her something secretly and she wept. Then he called her again and told her something secretly, and she started laughing. When we asked her about that, she said, "The Prophet (ﷺ) first told me secretly that he would expire in that disease in which he died, so I wept; then he told me secretly that I would be the first of his family to follow him, so I laughed ( at that time)
Sahih al-Bukhari 64:455sahih
حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَسَارَّهَا بِشَىْءٍ، فَبَكَتْ، ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا بِشَىْءٍ فَضَحِكَتْ فَسَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ. فَقَالَتْ سَارَّنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ يَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ.
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) called Fatima during his fatal illness and told her something secretly and she wept. Then he called her again and told her something secretly, and she started laughing. When we asked her about that, she said, "The Prophet (ﷺ) first told me secretly that he would expire in that disease in which he died, so I wept; then he told me secretly that I would be the first of his family to follow him, so I laughed ( at that time)
Sahih al-Bukhari 65:156sahih
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ " لاَ أَحَدَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ، وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَلاَ شَىْءَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ، لِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ ". قُلْتُ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ. قُلْتُ وَرَفَعَهُ قَالَ نَعَمْ.
Narrated Abu Wail:`Abdullah (bin Mas`ud) said, "None has more sense of ghaira than Allah therefore - He prohibits shameful sins (illegal sexual intercourse, etc.) whether committed openly or secretly. And none loves to be praised more than Allah does, and for this reason He praises Himself." I asked Abu Wail, "Did you hear it from `Abdullah?" He said, "Yes," I said, "Did `Abdullah ascribe it to Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "Yes
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ سے زیادہ اور کوئی غیرت مند نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نے بےحیائیوں کو حرام قرار دیا ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ اور اللہ کو اپنی تعریف سے زیادہ اور کوئی چیز پسند نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنی خود مدح کی ہے۔ ( عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ ) میں نے پوچھا آپ نے یہ حدیث خود عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنی تھی انہوں نے بیان کیا کہ ہاں، میں نے پوچھا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے حدیث بیان کی تھی؟ کہا کہ ہاں۔
Sahih al-Bukhari 65:159sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ، وَرَفَعَهُ. قَالَ " لاَ أَحَدَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ، فَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَلاَ أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللَّهِ، فَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ ".
Narrated `Abdullah bin Mas`ud:Allah's Messenger (ﷺ) said, "None has more sense of ghaira than Allah, and for this He has forbidden shameful sins whether committed openly or secretly, and none loves to be praised more than Allah does, and this is why He Praises Himself
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ( عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ ) میں نے ( ابووائل سے ) پوچھا، کیا تم نے یہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے زیادہ اور کوئی غیرت مند نہیں ہے۔ اسی لیے اس نے بےحیائیوں کو حرام کیا خواہ ظاہر میں ہوں یا پوشیدہ اور اللہ سے زیادہ اپنی مدح کو پسند کرنے والا اور کوئی نہیں، اسی لیے اس نے اپنے نفس کی خود تعریف کی ہے۔
Sahih al-Bukhari 65:432sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَشْرَبُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ وَيَمْكُثُ عِنْدَهَا فَوَاطَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ عَنْ أَيَّتُنَا دَخَلَ عَلَيْهَا فَلْتَقُلْ لَهُ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ. قَالَ " لاَ وَلَكِنِّي كُنْتُ أَشْرَبُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ فَلَنْ أَعُودَ لَهُ وَقَدْ حَلَفْتُ لاَ تُخْبِرِي بِذَلِكِ أَحَدًا ".
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) used to drink honey in the house of Zainab, the daughter of Jahsh, and would stay there with her. So Hafsa and I agreed secretly that, if he come to either of us, she would say to him. "It seems you have eaten Maghafir (a kind of bad-smelling resin), for I smell in you the smell of Maghafir," (We did so) and he replied. "No, but I was drinking honey in the house of Zainab, the daughter of Jahsh, and I shall never take it again. I have taken an oath as to that, and you should not tell anybody about it
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے، انہیں عطاء نے، انہیں عبید بن عمیر اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے گھر میں شہد پیتے اور وہاں ٹھہرتے تھے پھر میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے ایسے کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( زینب کے یہاں سے شہد پی کر آنے کے بعد ) داخل ہوں تو وہ کہے کہ کیا آپ نے پیاز کھائی ہے۔ آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو منصوبہ بندی کے تحت یہی کہا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بدبو کو بہت ناپسند فرماتے تھے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے مغافیر نہیں کھائی ہے البتہ زینب بنت جحش کے یہاں سے شہد پیا تھا لیکن اب اسے بھی ہرگز نہیں پیوں گا۔ میں نے اس کی قسم کھا لی ہے لیکن تم کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا۔
Sahih al-Bukhari 79:52sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّهُ قَدِمَ الشَّأْمَ. وَحَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ ذَهَبَ عَلْقَمَةُ إِلَى الشَّأْمِ، فَأَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا. فَقَعَدَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ. قَالَ أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي كَانَ لاَ يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ ـ يَعْنِي حُذَيْفَةَ ـ أَلَيْسَ فِيكُمْ ـ أَوْ كَانَ فِيكُمُ ـ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الشَّيْطَانِ ـ يَعْنِي عَمَّارًا ـ أَوَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّوَاكِ وَالْوِسَادِ ـ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ ـ كَيْفَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى}. قَالَ {وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى}. فَقَالَ مَا زَالَ هَؤُلاَءِ حَتَّى كَادُوا يُشَكِّكُونِي، وَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Ibrahim:'Alaqama went to Sham and came to the mosque and offered a two-rak`at prayer, and invoked Allah: "O Allah! Bless me with a (pious) good companion." So he sat beside Abu Ad-Darda' who asked, "From where are you?" He said, "From the people of Kufa." Abu Darda' said, "Wasn't there among you the person who keeps the secrets (of the Prophet (ﷺ) ) which nobody knew except him (i.e., Hudhaifa (bin Al-Yaman)). And isn't there among you the person whom Allah gave refuge from Satan through the request (tongue) of Allah's Messenger (ﷺ)? (i.e., `Ammar). Isn't there among you the one who used to carry the Siwak and the cushion (or pillows (of the Prophets)? (i.e., Ibn Mas`ud). How did Ibn Mas`ud use to recite 'By the night as it conceals (the light)?" (Sura 92). 'Alqama said, "Wadhdhakari Wal Untha' (And by male and female.") Abu Ad-Darda added. 'These people continued to argue with me regarding it till they were about to cause me to have doubts although I heard it from Allah's Messenger (ﷺ)
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے مغیرہ بن مقسم نے، ان سے ابراہیم نخعی نے اور ان سے علقمہ بن قیس نے کہ آپ ملک شام میں پہنچے ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ نے اور ان سے ابراہیم نے بیان کیا کہ علقمہ ملک شام گئے اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھی پھر یہ دعا کی اے اللہ! مجھے ایک ہم نشین عطا فرما۔ چنانچہ وہ ابودرداء رضی اللہ عنہ کی مجلس میں جا بیٹھے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا۔ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ کہا کہ اہل کوفہ سے، پوچھا کیا تمہارے یہاں ( نفاق اور منافقین کے ) بھیدوں کے جاننے والے وہ صحابی نہیں ہیں جن کے سوا کوئی اور ان سے واقف نہیں ہے؟ ان کا اشارہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ کیا تمہارے یہاں وہ نہیں ہیں ( یا یوں کہا کہ ) تمہارے وہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی شیطان سے پناہ دی تھی؟ اشارہ عمار رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ کیا تمہارے یہاں مسواک اور گدے والے نہیں ہیں؟ ان کا اشارہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورۃ «والليل إذا يغشى» کس طرح پڑھتے تھے۔ علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ «والذكر والأنثى» پڑھتے تھے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ یہ لوگ کوفہ والے اپنے مسلسل عمل سے قریب تھا کہ مجھے شبہ میں ڈال دیتے حالانکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود اسے سنا تھا۔
Sahih al-Bukhari 79:60sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ،. وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا كَانُوا ثَلاَثَةٌ فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ ".
Narrated `Abdullah:the Prophet (ﷺ) said "When three persons are together, then no two of them should hold secret counsel excluding the third person
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تین آدمی ساتھ ہوں تو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر دو آپس میں کانا پھوسی ( سرگوشی ) نہ کریں۔“
Sahih al-Bukhari 79:61sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، أَسَرَّ إِلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سِرًّا فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدَهُ، وَلَقَدْ سَأَلَتْنِي أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ.
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) confided to me a secret which I did not disclose to anybody after him. And Um Sulaim asked me (about that secret) but I did not tell her
ہم سے عبداللہ بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک راز کی بات کہی تھی اور میں نے وہ راز کسی کو نہیں بتایا ( ان کی والدہ ) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بھی مجھ سے اس کے متعلق پوچھا لیکن میں نے انہیں بھی نہیں بتایا۔
Sahih al-Bukhari 79:62sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم {إِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً فَلاَ يَتَنَاجَى رَجُلاَنِ دُونَ الآخَرِ، حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ، أَجْلَ أَنْ يُحْزِنَهُ}.
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "When you are three persons sitting together, then no two of you should hold secret counsel excluding the third person until you are with some other people too, for that would grieve him
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تین آدمی ہوں تو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر تم آپس میں کانا پھوسی ( سرگوشی ) نہ کیا کرو۔ اس لیے کہ لوگوں کو رنج ہو گا البتہ اگر دوسرے آدمی بھی ہوں تو مضائقہ نہیں۔“
Sahih al-Bukhari 79:63sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا قِسْمَةً فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ. قُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ لآتِيَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ وَهْوَ فِي مَلأٍ، فَسَارَرْتُهُ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ " رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى، أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ".
Narrated `Abdullah:One day the Prophet (ﷺ) divided and distributed something amongst the people whereupon an Ansari man said, "In this division Allah's Countenance has not been sought." I said, "By Allah! I will go (and inform) the Prophet." So I went to him while he was with a group of people, and I secretly informed him of that, whereupon he became so angry that his face became red, and he then said, "May Allah bestow His Mercy on Moses (for) he was hurt more than that, yet he remained patient
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ محمد بن میمون نے، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کچھ مال تقسیم فرمایا اس پر انصار کے ایک شخص نے کہا کہ یہ ایسی تقسیم ہے جس سے اللہ کی خوشنودی مقصود نہ تھی میں نے کہا کہ ہاں! اللہ کی قسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا۔ چنانچہ میں گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں چپکے سے یہ بات کہی تو آپ غصہ ہو گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا پھر آپ نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام پر اللہ کی رحمت ہو انہیں اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچائی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا ( پس میں بھی صبر کروں گا ) ۔
Sahih al-Bukhari 79:64sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَس ٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَرَجُلٌ يُنَاجِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَا زَالَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ أَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى.
Narrated Anas:The Iqama for the prayer was announced while a man was talking to Allah's Messenger (ﷺ) privately. He continued talking in that way till the Prophet's companions slept, and afterwards the Prophet (ﷺ) got up and offered the prayer with them
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نماز کی تکبیر کہی گئی اور ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرتے رہے، پھر وہ دیر تک سرگوشی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کے صحابہ سونے لگے اس کے بعد آپ اٹھے اور نماز پڑھائی۔
Sahih al-Bukhari 82:24sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، وَبِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لاِبْنِ صَيَّادٍ " خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا ". قَالَ الدُّخُّ. قَالَ " اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ". قَالَ عُمَرُ ائْذَنْ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ. قَالَ " دَعْهُ، إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلاَ تُطِيقُهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَلاَ خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ ".
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said to Ibn Saiyad, "I have kept for you a secret." Ibn Saiyad said, "Ad-Dukh." The Prophet said, "Keep quiet, for you cannot go beyond your limits (or you cannot exceed what has been foreordained for you)." On that, `Umar said (to the Prophet (ﷺ) ), "Allow me to chop off his neck!" The Prophet said, "Leave him, for if he is he (i.e., Ad-Dajjal), then you will not be able to overcome him, and if he is not, then you gain no good by killing him
ہم سے علی بن حفص اور بشر بن محمد نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ عبداللہ نے ہمیں خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا کہ میں نے تیرے لیے ایک بات دل میں چھپا رکھی ہے ( بتا وہ کیا ہے؟ ) اس نے کہا کہ ”دھواں“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدبخت! اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، اگر یہ وہی ( دجال ) ہوا تو تم اس پر قابو نہیں پا سکتے اور اگر یہ وہ نہ ہوا تو اسے قتل کرنے میں تمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں۔
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ الأَعْرَجَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". وَبِإِسْنَادِهِ " لَوِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِكَ أَحَدٌ وَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ، خَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ، مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ ".
Narrated Abu Huraira:That he heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "We (Muslims) are the last (to come) but (will be) the foremost (on the Day of Resurrection)." And added, "If someone is peeping (looking secretly) into your house without your permission, and you throw a stone at him and destroy his eyes, there will be no blame on you
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم آخری امت ہیں لیکن ( قیامت کے دن ) سب سے آگے رہنے والے ہیں۔
Sahih al-Bukhari 87:26sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ الأَعْرَجَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". وَبِإِسْنَادِهِ " لَوِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِكَ أَحَدٌ وَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ، خَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ، مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ ".
Narrated Abu Huraira:That he heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "We (Muslims) are the last (to come) but (will be) the foremost (on the Day of Resurrection)." And added, "If someone is peeping (looking secretly) into your house without your permission, and you throw a stone at him and destroy his eyes, there will be no blame on you
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم آخری امت ہیں لیکن ( قیامت کے دن ) سب سے آگے رہنے والے ہیں۔
Sahih al-Bukhari 97:31sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ ـ حَلِيفٌ لِبَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَشْرَةً مِنْهُمْ خُبَيْبٌ الأَنْصَارِيُّ، فَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِيَاضٍ أَنَّ ابْنَةَ الْحَارِثِ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمْ حِينَ اجْتَمَعُوا اسْتَعَارَ مِنْهَا مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا، فَلَمَّا خَرَجُوا مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ قَالَ خُبَيْبٌ الأَنْصَارِيُّ وَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا ** عَلَى أَيِّ شِقٍّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ ** يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ فَقَتَلَهُ ابْنُ الْحَارِثِ فَأَخْبَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ خَبَرَهُمْ يَوْمَ أُصِيبُوا.
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) sent ten persons to bring the enemy's secrets and Khubaib Al-Ansari was one of them. 'Ubaidullah bin 'Iyad told me that the daughter of Al-Harith told him that when they gathered (to kill Khubaib Al Ansari) he asked for a razor to clean his pubic region, and when they had taken him outside the sanctuary of Mecca in order to kill him, he said in verse, "I don't care if I am killed as a Muslim, on any side (of my body) I may be killed in Allah's Cause; for that is for the sake of Allah's very Self; and if He will, He will bestow His Blessings upon the torn pieces of my body." Then Ibn Al-Harith killed him, and the Prophet (ﷺ) informed his companions of the death of those (ten men) on the very day they were killed
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی نے خبر دی جو بنی زہرہ کے حلیف تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں تھے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عضل اور قارہ والوں کی درخواست پر دس اکابر صحابہ کو جن میں خبیب رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کے ہاں بھیجا۔ ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عیاض نے خبر دی کہ حارث کی صاحبزادی زینب نے انہیں بتایا کہ جب لوگ خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے لیے آمادہ ہوئے ( اور قید میں تھے ) تو اسی زمانے میں انہوں نے ان سے صفائی کرنے کے لیے استرہ لیا تھا، جب وہ لوگ خبیب رضی اللہ عنہ کو حرم سے باہر قتل کرنے لے گئے تو انہوں نے یہ اشعار کہے۔ ”اور جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے اس کی پروا نہیں کہ مجھے کس پہلو پر قتل کیا جائے گا اور میرا یہ مرنا اللہ کے لیے ہے اور اگر وہ چاہے گا تو میرے ٹکڑے ٹکڑے کئے ہوئے اعضاء پر برکت نازل کرے گا۔“ پھر ابن الحارث نے انہیں قتل کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو اس حادثہ کی اطلاع اسی دن دی جس دن یہ حضرات شہید کئے گئے تھے۔
Sahih Muslim 1:425sahih
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ يَقُولُ " أَلاَ إِنَّ آلَ أَبِي - يَعْنِي فُلاَنًا - لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَاءَ إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللَّهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ " .
Amr b. 'As reported:I heard it from the Messenger of Allah (ﷺ) quite audibly and not secretly: Behold! the posterity of my fathers, that is, so and so, are not my friends. Verily Allah and the pious believers are my friends
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بلند آواز سے برسرعام یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ یقیناآل ابی ، یعنی فلاں میرے ولی نہیں ، میرا ولی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے اور نیک مومن ہیں
Sahih Muslim 3:96sahih
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، - وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ فَأَسَرَّ إِلَىَّ حَدِيثًا لاَ أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ وَكَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ . قَالَ ابْنُ أَسْمَاءَ فِي حَدِيثِهِ يَعْنِي حَائِطَ نَخْلٍ .
Abdullah b. Ja'far reported:The Messenger of Allah (ﷺ) one day made me mount behind him and he confided to me something secret which I would not disclose to anybody; and the Messenger of Allah (ﷺ) liked the concealment provided by a lofty place or cluster of dates (while answering the call of nature), Ibn Asma' said in his narration: It implied an enclosure of the date-trees
شیبان بن فروخ اور عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی نے کہا : ہمیں مہدی بن میمون نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں محمد بن عبداللہ بن ابی یعقوب نے حسن بن علی کے آزاد کر دہ غلام حسن بن سعد کے حوالےسے حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نےکہا : ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا ، پھر مجھے ایک راز کی بات بتائی جو میں کسی شخص کو نہیں بتاؤں گا ، قضائے حاجت کے لیے آپ کی محبوب ترین اوٹ ٹیلایا کھجور کا جھنڈ تھا ۔ ( حدیث کے ایک راوی محمد ) ابن اسماء نے اپنی حدیث میں کہا : حائش نخل سے مراد حائط نخل ’’کھجور کا باغ یا جھنڈ ‘ ‘ ہے ۔
Sahih Muslim 4:246sahih
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ وَجِلَّهُ وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ وَعَلاَنِيَتَهُ وَسِرَّهُ " .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) used to say while prostrating himself: O Lord, forgive me all my sins, small and great, first and last, open and secret
ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ سجدے میں کہا کرتے تھے : ’’ اللہ! میرے سارے گناہ بخش دے ، چھوٹے بھی اور بڑے بھی ، پہلے بھی اور پچھلے بھی ، کھلے بھی اور چھپے بھی ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim 6:237sahih
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، كِلاَهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ فَاتَّفَقَ لَفْظُهُ مَعَ حَدِيثِ مَالِكٍ لَمْ يَخْتَلِفَا إِلاَّ فِي حَرْفَيْنِ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ مَكَانَ قَيَّامُ قَيِّمُ وَقَالَ وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ فَفِيهِ بَعْضُ زِيَادَةٍ وَيُخَالِفُ مَالِكًا وَابْنَ جُرَيْجٍ فِي أَحْرُفٍ .
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Abbas through another chain of transmitters and with slight alteration of two words. Instead of the word Qayyam (Supporter, as used in the above hadith here the word) Qayyim (the Custodian) has been used, and he (further said):" What I did in secret." And in the hadith narrated by Ibn 'Uyaina there is some addition
سفیان اور ابن جریج دونوں نے سلیمان ا حول سے ، انھوں نے طاؤس سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ابن جریج اور امام مالک ؒ کی ( گزشتہ ) حدیث کے الفاظ ایک جیسے ہیں ، دو جملوں کے سوا کوئی اختلاف نہیں ، ابن جریج نے قيام کے بجائے قيم کہا ( معنی ایک ہیں ) اور واسررت کی جگہ وما اسررت کہا ۔ ( سفیان ) ابن عینیہ کی حدیث میں کچھ اضافہ ہے ، وہ متعدد جملوں میں امام مالکؒ اور ابن جریج سے اختلاف کرتے ہیں ۔
Sahih Muslim 6:364sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ صَلاَتَانِ مَا تَرَكَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِي قَطُّ سِرًّا وَلاَ عَلاَنِيَةً رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ .
A'isha reported:Two are the prayers which the Messenger of Allah (ﷺ) always observed in my house-openly or secretly-two rak'ahs before the dawn and two rak'ahs after the 'Asr
عبدالرحمان بن اسود نے اپنے والد اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : دو نمازیں ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں انھیں رازداری سے اور اعلانیہ کبھی ترک نہیں کیا : دو رکعتیں فجر سے پہلے اور دو رکعتیں عصر کے بعد ۔
Sahih Muslim 16:144sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ الْعُمَرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا " .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah he pleased with him) reported that Allah's Messenger (may peace be upoin him) said:The most wicked among the people in the eye of Allah on the Day of judgment is the men who goes to his wife and she comes to him, and then he divulges her secret
مروان بن معاویہ نے عمر بن حمزہ عمری سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن سعد نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن ، اللہ کے ہاں لوگوں میں مرتبے کے اعتبار سے بدترین وہ آدمی ہو گا جو اپنی بیوی کے پاس خلوت میں جاتا ہے اور وہ اس کے پاس خلوت میں آتی ہے پھر وہ ( آدمی ) اس کا راز افشا کر دیتا ہے
Sahih Muslim 16:145sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُمَرَ، بْنِ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الأَمَانَةِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا " . وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ " إِنَّ أَعْظَمَ " .
Abu Sirma al-Khudri (Allah he pleased with him ) reported Allah's Messen- ger (ﷺ) as saying:The most important of the trusts in the sight of Allah on the Day of judgment is that a man goes to his wife and she goes to him (and the breach of this trust is) that he should divulge her secret Ibn Numair narrates this hadith with a slight change of wording
محمد بن عبیداللہ بن نمیر اور ابوکریب نے کہا : ہمیں ابواسامہ نے عمر بن حمزہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن سعد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں امانت کے حوالے سے سب سے بڑے ( سنگین ) معاملات میں سے اس آدمی ( کا معاملہ ) ہو گا جو خلوت میں بیوی کے پاس جائے اور وہ اس کے پاس آئے ، پھر وہ اس ( بیوی ) کا راز افشا کر دے ۔ " ابن نمیر نے کہا : سب سے بڑا ( سنگین ) معاملہ ۔ " ( یہ بڑی خیانت ہے)
Sahih Muslim 35:60sahih
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنْ مَرْوَانَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ، عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُسِرُّ إِلَيْكَ قَالَ فَغَضِبَ وَقَالَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُسِرُّ إِلَىَّ شَيْئًا يَكْتُمُهُ النَّاسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ حَدَّثَنِي بِكَلِمَاتٍ أَرْبَعٍ . قَالَ فَقَالَ مَا هُنَّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ قَالَ " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الأَرْضِ " .
Abu Tufail 'Amir b. Withila reported:I was in the company of 'Ali b. Abi Talib, when a person came to him, and said: What was it that Allah's Apostle (ﷺ) told you in secret? Thereupon he (liadrat 'All) was enraged and said: Allah's Apostle (ﷺ) did not tell me anything in secret that he hid from people, except that he told me four things. He said: Com- mader of Faithful, what are these? He said: Allah cursed him who cursed his father; Allah cursed him who sacrificed for anyone besides Allah; and Allah cursed him who accommodates an innovator (in religion) ; and Allah cursed him who changed the minarets (the boundary lines) of the land
مروان بن معاویہ فزاری نے کہا : ہمیں منصور بن حیان نے حدیث بیان کی کہا : ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں بیان کیا کہا : میں حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو راز داری سے کیا فر ما تے تھے؟ آپ ناراض ہو ئے اور کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کو ئی راز نہیں بتا یا جس کو اور لوگوں سے چھپایا ہو ۔ البتہ آپ نے مجھے چار باتیں ارشاد فر ما ئی تھیں ۔ اس نے پو چھا : امیر المومنین ! وہ کیا باتیں ہیں ؟ انھوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جو شخص اپنے والد پر لعنت کرے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جو شخص غیر اللہ کے نام پر ذبح کرے اس پر اللہ لعنت کرے اور جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ لعنت کرے اور جس شخص نے زمین ( کی حد بندی ) کا نشان بدلا اس پر اللہ لعنت کرے ۔
Sahih Muslim 35:61sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ مَنْصُورِ، بْنِ حَيَّانَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ قُلْنَا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبِرْنَا بِشَىْءٍ، أَسَرَّهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا أَسَرَّ إِلَىَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ الْمَنَارَ " .
Abu Tufail reported:We said to 'Ali b. Abi Talib: Inform us about something which Allah's Messenger (ﷺ) told you in secret, whereupon he said: He told me nothing in secret which he bid from people, but I heard him say: Allah cursed him who sacrificed for anyone besides Allah; and cursed him who accommodated an innovator; and Allah cursed him who cursed his parents and Allah cursed him who changed the boundary lines (of the land possessed by him)
ابوخالد احمر سلیمان بن حیان نے منصور بن حیان سے انھوں نے ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی : کہا : ہم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی ، ہمیں کو ئی ایسی چیز بتا ئیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راز داری سے آپ کو بتا ئی ہو ۔ انھوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے راز داری سے کو ئی بات نہیں بتا ئی جو لوگوں سے چھپائی ہو البتہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرما تے ہو ئے سنا : " جس شخص نے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا اس پر اللہ لعنت کرے ۔ اور اللہ اس پر لعنت کرے جس نے کسی بدعتی کو پناہ دی اور اللہ اس پر لعنت کرے ۔ جس نے اپنے والدین پر لعنت کی اور اللہ اس پر لعنت کرے کرے جس نے ( زمین کی حد بندی کا ) نشان تبدیل کیا ۔
Sahih Muslim 35:62sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ سُئِلَ عَلِيٌّ أَخَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَىْءٍ فَقَالَ مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَىْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً إِلاَّ مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا - قَالَ - فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَكْتُوبٌ فِيهَا " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الأَرْضِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا " .
Abu Tufail reported:'Ali was asked whether Allah's Messenger (ﷺ) had showed special favour (by disclosing to him) a thing (which he kept secret from others). Thereupon he said: Allah's Messenger (ﷺ) singled us not for (disclosing to us) anything (secret) which he did not make public, (but those few things) which lie in the sheath of my sword. He drew out the written document contained in it and on that (it was mentioned): Allah cursed him who sacrificed for anyone else besides Allah; and Allah cursed him who stole the signposts (demarcating the boundary lines of the) land; and Allah cursed him who cursed his father; and Allah cursed him who accommodated an innovator (in religion)
شعبہ نے کہا : میں نے قاسم بن ابی بزہ کو ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا کہا : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ سوال کیا گیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طور پر کو ئی چیز آپ کو عطا فرمائی ؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کو ئی چیز خاص ہمارے لیے نہیں بتا ئی جو آپ نے تمام لوگوں میں عام نہ کی ہو ۔ البتہ میری اس تلوار کی نیام میں کچھ احکا م ہیں ۔ پھر آپ نے ایک صحیفہ نکا لا جس میں لکھا ہوا تھا : " جو شخص غیر اللہ کے لیے ذبح کرے اس پر اللہ لعنت کرے اور جو شخص زمین کی ( حد بندی کی ) نشانی چرا ئے اللہ اس پر لعنت کرے اور جو شخص اپنے والد پر لعنت کرے اللہ اس پر لعنت کرے ، اور جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے اللہ اس پر لعنت کرے ۔
Sahih Muslim 39:48sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا كَانَ ثَلاَثَةٌ فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ " .
Ibn Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When there are three (persons), two should not converse secretly between themselves to the exclusion of the (third) one
مالک نےنافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تین شخص ( موجود ) ہوں تو ایک کو چھوڑ کر دو آدمی آ پس میں سرگوشی نہ کریں ۔
Sahih Muslim 39:50sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا - جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الآخَرِ حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ مِنْ أَجْلِ أَنْ يُحْزِنَهُ " .
Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If you are three, two amongst you should not converse secretly between yourselves to the exclusion of the other (third one), unti some other people join him (and dispel his loneliness), for it may hurt his feelings
منصور نے ابو وائل ( شقیق ) سے ، انھوں نے عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم تین لوگ ( ایک ساتھ ) ہوتو ایک کو چھوڑ کردو آدمی باہم سرگوشی نہ کریں ، یہاں تک کہ تم بہت سے لوگوں میں مل جاؤ ، کہیں ایسا نہ ہوکہ یہ ( دوکی سرگوشی ) اسے غمزدہ کردے ۔
Sahih Muslim 39:51sahih
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ " .
Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If you are three, two should not converse secretly to the exclusion of your companion for that hurts his feelings
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے شقیق سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جب تم تین لوگ ہوتو اپنے ساتھی کو چھوڑ کر دو آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ چیز اس کو غم زدہ کردے گی ۔
Sahih Muslim 44:100sahih
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي يَعْقُوبَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ فَأَسَرَّ إِلَىَّ ��َدِيثًا لاَ أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ .
Abdullah b. Ja'far reported that one day Allah's Messenger (ﷺ) mounted me behind him and narrated to me something in secret which I would narrate to none amongst people
حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام حسن بن سعد نے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا ، پھر مجھے راز داری سے ایک بات بتائی جو میں لوگوں میں سے کسی بھی شخص کو نہیں سناؤں گا ۔
Sahih Muslim 44:142sahih
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَعَا فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فَسَارَّهَا فَبَكَتْ ثُمَّ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ مَا هَذَا الَّذِي سَارَّكِ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَكَيْتِ ثُمَّ سَارَّكِ فَضَحِكْتِ قَالَتْ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي بِمَوْتِهِ فَبَكَيْتُ ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ مَنْ يَتْبَعُهُ مِنْ أَهْلِهِ فَضَحِكْتُ .
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) called his daughter Fatima (during his last illness). He said. to her something secretly and she wept. He again said to her something secretly and she laughed. 'A'isha further reported that she said to Fatima:What is that which Allah's Messenger (ﷺ) said to you secretly and you wept and then said to you something secretly and you laughed? Thereupon she said: He informed me secretly of his death and so I wept. He then again informed me secretly that I would be the first amongst the members of his family to follow him and so I laughed
عروہ بن زبیر نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بلا یا اور ان کو راز داری سے ( سر گوشی کرتے ہو ئے ) کو ئی بات کہی تو حضرت فاطمہ روپڑیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ان کو رازداری سے کو ئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا : یہ کیا بات تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو راز داری سے کہی اور آپ روپڑیں ، پھر دوبارہ رازداری سے بات کی تو ہنس دیں ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کا ن میں بات کی اور اپنی موت کی خبر دی تو میں روپڑی ، پھر دوسری بار میرے کان میں بات کی اور مجھے بتا یا کہ ان کے گھر والوں میں سے پہلی میں ہو ں گی جو ان سے جا ملوں گی تو میں ہنس دی ۔
Sahih Muslim 44:143sahih
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنَّ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَهُ لَمْ يُغَادِرْ مِنْهُنَّ وَاحِدَةً فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي مَا تُخْطِئُ مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ بِهَا فَقَالَ " مَرْحَبًا بِابْنَتِي " . ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ سَارَّهَا فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا فَلَمَّا رَأَى جَزَعَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ فَضَحِكَتْ . فَقُلْتُ لَهَا خَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ بِالسِّرَارِ ثُمَّ أَنْتِ تَبْكِينَ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلْتُهَا مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ مَا كُنْتُ أُفْشِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِرَّهُ . قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ لَمَا حَدَّثْتِنِي مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ أَمَّا الآنَ فَنَعَمْ أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الْمَرَّةِ الأُولَى فَأَخْبَرَنِي " أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ وَإِنَّهُ عَارَضَهُ الآنَ مَرَّتَيْنِ وَإِنِّي لاَ أُرَى الأَجَلَ إِلاَّ قَدِ اقْتَرَبَ فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي فَإِنَّهُ نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ " . قَالَتْ فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِي رَأَيْتِ فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ فَقَالَ " يَا فَاطِمَةُ أَمَا تَرْضَىْ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الأُمَّةِ " . قَالَتْ فَضَحِكْتُ ضَحِكِي الَّذِي رَأَيْتِ .
A'isha reported:We, the wives of Allah's Apostle (ﷺ), were with him (during his last illness) and none was absent therefrom that Fatima, who walked after the style of Allah's Messenger (ﷺ), came there, and when he saw her he welcomed her saying: You are welcome, my daughter. He their made her sit on his right side or on his left side. Then he said something secretly to her and she wept bitterly and when he found her (plunged) in grief he said to her something secretly for the second time and she laughed. I ('A'isha) said to her: Allah's Messenger has singled you amongst the women (of the family) for talking (to you something secretly) and you wept. When Allah's Messenger (ﷺ) recovered from illness, I said to her. What did Allah's Messenger (ﷺ) say to you? Thereupon she said: I am not going to disclose the secret of Allah's Messenger (ﷺ). When Allah's Messenger (ﷺ) died, I said to her: I adjure you by the right that I have upon you that you should narrate to me what Allah's Messenger (ﷺ) said to you. She said: Yes, now I can do that (so listen to it). When he talked to me secretly for the first time he informed me that Gabirel was in the habit of reciting the Qur'an along with him once or twice every year, but this year it had been twice and so he perceived his death quite near, so fear Allah and be patient (and he told me) that he would be a befitting forerunner for me and so I wept as you saw me. And when he saw me in grief he talked to me secretly for the second time and said: Fatima, are you not pleased that you should be at the head of the believing women or the head of this Umma? I laughed and it was that laughter which you saw
ابو عوانہ نے فراس سے ، انھوں نے عامر سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سب ازواج آپ کے پاس موجود تھیں ، ان میں سے کو ئی ( وہاں سے ) غیر حاضر نہیں ہوئی تھی ، اتنے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا چلتی ہو ئی آئیں ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے ذرہ برابر مختلف نہ تھی ۔ جب آپ نے انھیں دیکھا تو ان کو خوش آمدید کہا اور فر ما یا : " میری بیٹی کو خوش آمدید ! " پھر انہیں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھا یا ، پھر رازی داری سے ان کے ساتھ بات کی تو وہ شدت سے رونے لگیں ۔ جب آپ نے ان کی شدید نے قراری دیکھی تو آپ نے دوبارہ ان کے کا ن میں کو ئی بات کہی تو ہنس پڑیں ۔ ( بعد میں ) میں نے ان سے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو چھوڑ کر خاص طور پر آپ سے راز داری کی بات کی ، آپ روئیں ( کیوں ؟ ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس جگہ سے ) تشریف لے گئے تو میں نے ان سے پو چھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کیا کہا : ؟ انھوں نے کہا : میں ایسی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کردوں ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو میں نے ان سے کہا : میرا آپ پر جو حق ہے میں اس کی بنا پر اصرار کرتی ہوں ( اور یہ اصرار جاری رہے گا ) الایہ کہ آپ مجھے بتا ئیں کہ آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کہا تھا؟انھوں نےکہا : اب ( اگر آپ پوچھتی ہیں ) تو ہاں ، پہلی بار جب آپ نے سرگوشی کی تو مجھے بتایا : " جبریل علیہ السلام آپ کے ساتھ سال میں ایک یا دو مرتبہ قرآن کادور کیا کرتے تھے اور ابھی انھوں نے ایک ساتھ دوبارہ دور کیا ہے اور مجھے اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا کہ اجل ( مقررہ وقت ) قریب آگیا ہے ، اس لئے تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے صبرکرنا ، میں تمھارے لیے بہترین پیش رو ہوں گا ۔ " ( حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : اس پر میں اس طرح روئی جیسا آپ نے دیکھا ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری شدید بے قراری دیکھی تو دوسری بار میرے کان میں بات کی اور فرمایا : " فاطمہ!کیا تم اس پرراضی نہیں ہوکہ تم ایماندار عورتوں کی سردار بنو یا ( فرمایا : ) اس امت کی عورتوں کی سردار بنو؟ " کہا : تو اس پر میں اس طرح سے ہنس پڑی جیسے آپ نے دیکھا ۔
Sahih Muslim 44:144sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يُغَادِرْ مِنْهُنَّ امْرَأَةً فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مِشْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَرْحَبًا بِابْنَتِي " . فَأَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَبَكَتْ فَاطِمَةُ ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ أَيْضًا فَقُلْتُ لَهَا مَا يُبْكِيكِ فَقَالَتْ مَا كُنْتُ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقُلْتُ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ . فَقُلْتُ لَهَا حِينَ بَكَتْ أَخَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحَدِيثِهِ دُونَنَا ثُمَّ تَبْكِينَ وَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ فَقَالَتْ مَا كُنْتُ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . حَتَّى إِذَا قُبِضَ سَأَلْتُهَا فَقَالَتْ إِنَّهُ كَانَ حَدَّثَنِي " أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً وَإِنَّهُ عَارَضَهُ بِهِ فِي الْعَامِ مَرَّتَيْنِ وَلاَ أُرَانِي إِلاَّ قَدْ حَضَرَ أَجَلِي وَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لُحُوقًا بِي وَنِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ " . فَبَكَيْتُ لِذَلِكِ ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّنِي فَقَالَ " أَلاَ تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الأُمَّةِ " . فَضَحِكْتُ لِذَلِكِ .
A'isha reported that all the wives of Allah's Apostle (ﷺ) had gathered (in her apartment) during the days of his (Prophet's) last illness and no woman was left behind that Fatima, who walked after the style of Allah's Messenger (ﷺ), came there. He welcomed her by saying:You are welcome, my daughter, and made her sit on his right side or on his left side, and then talked something secretly to her and Fatima wept. Then he talked something secretly to her and she laughed. I said to her: What makes you weep? She said: I am not going to divulge the secret of Allah's Messenger (ﷺ). I (`A'isha) said: I have not seen (anything happening) like today, the happiness being more close to grief (as I see today) when she wept. I said to her: Has Allah's Messenger (ﷺ) singled you out for saying something leaving us aside? She then wept and I asked her what he said, and she said: I am not going to divulge the secrets of Allah's Messenger (ﷺ). And when he died I again asked her and she said that he (the Holy Prophet) told her: Gabriel used to recite the Qur'an to me once a year and for this year it was twice and so I perceived that my death had drawn near, and that I (Fatima) would be the first amongst the members of his family who would meet him (in the Hereafter). He shall be my good forerunner and it made me weep. He again talked to me secretly (saying): Aren't you pleased that you should be the sovereign amongst the believing women or the head of women of this Ummah? And this made me laugh
زکریا نے فراس سے ، انھوں نے عامر سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں ) ، کوئی بیوی ایسی نہ تھیں جو پاس نہ ہو کہ اتنے میں سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا آئیں اور وہ بالکل اسی طرح چلتی تھیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں دیکھا تو مرحبا کہا اور فرمایا کہ مرحبا میری بیٹی ۔ پھر ان کو اپنے دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھایا اور ان کے کان میں آہستہ سے کچھ فرمایا تو وہ بہت روئیں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا یہ حال دیکھا تو دوبارہ ان کے کان میں کچھ فرمایا تو وہ ہنسیں ۔ میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص تم سے راز کی باتیں کیں ، پھر تم روتی ہو ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کرنے والی نہیں ہوں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے ان کو قسم دی اس حق کی جو میرا ان پر تھا اور کہا کہ مجھ سے بیان کرو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے فرمایا تھا ، تو انہوں نے کہا کہ اب البتہ میں بیان کروں گی ۔ پہلی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان میں یہ فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام ہر سال ایک بار یا دو بار مجھ سے قرآن کا دور کرتے تھے اور اس سال انہوں نے دوبار دور کیا ، اور میں خیال کرتا ہوں کہ میرا ( دنیا سے جانے کا ) وقت قریب آ گیا ہے ، پس اللہ سے ڈرتی رہ اور صبر کر ، میں تیرا بہت اچھا منتظر ہوں ۔ یہ سن کر میں رونے لگی جیسے تم نے دیکھا تھا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا رونا دیکھا تو دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی اور فرمایا کہ اے فاطمہ! تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ تو مومنوں کی عورتوں کی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو؟ یہ سن کر میں ہنسی جیسے کہ تم نے دیکھا تھا ۔
Sahih Muslim 44:208sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَتَى عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ - قَالَ - فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ فَأَبْطَأْتُ عَلَى أُمِّي فَلَمَّا جِئْتُ قَالَتْ مَا حَبَسَكَ قُلْتُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحَاجَةٍ . قَالَتْ مَا حَاجَتُهُ قُلْتُ إِنَّهَا سِرٌّ . قَالَتْ لاَ تُحَدِّثَنَّ بِسِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَدًا . قَالَ أَنَسٌ وَاللَّهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ يَا ثَابِتُ .
Anas reported:Allah's Messenger (ﷺ) came to me as I was playing with playmates. He greeted and sent me on an errand and I made delay in going to my mother. When I came to her she said: What detained you? I said: Allah's Messenger (ﷺ) sent me on an errand. She said: What was the purpose? I said: It is something secret. Therupon she said: Do not then divulge the secret of Allah's Messenger (ﷺ) to anyone. Anas said: By Allah, if I were to divulge it to anyone, then, O Thabit, I would have divulged it to you
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لا ئے اس وقت میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہا : آپ نے ہم سب کو سلام کیا اور مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا تو میں اپنی والد ہ کے پاس تا خیر سے پہنچا ، جب میں آیا تو والدہ نے پو چھا : تمھیں دیر کیوں ہوئی ۔ ؟میں نے کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کا م سے بھیجا تھا ۔ انھوں نے پو چھا : آپ کا وہ کام کیا تھا؟ میں نے کہا : وہ ایک راز ہے ۔ میری والدہ نے کہا : تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز کسی پر افشانہ کرنا ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم! ثابت !اگر میں وہ راز کسی کو بتاتاتو تمہیں ( جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے طلبگار ہو ) ضرور بتا تا ۔
Sahih Muslim 44:209sahih
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَسَرَّ إِلَىَّ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِرًّا فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدُ . وَلَقَدْ سَأَلَتْنِي عَنْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ .
Anas b. Malik reported that Allah's Apostle (ﷺ) told me something secretly. I informed none about that and Umm Sulaim asked me about it, but I did not tell her even
معتمر بن سلیمان نے کہا : میں نے اپنے والد سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ۔ ( کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک راز میں مجھے شریک کیا ۔ میں نے اب تک وہ راز کسی کو نہیں بتا یا میری والد ہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس کے متعلق پو چھا ، میں نے وہ راز ان کو بھی نہیں بتا یا ۔