Sahih al-Bukhari 59:28sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا " يَا عَائِشَةُ، هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ ". فَقَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ. تَرَى مَا لاَ أَرَى. تُرِيدُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Abu Salama:`Aisha said that the Prophet (ﷺ) said to her "O `Aisha' This is Gabriel and he sends his (greetings) salutations to you." `Aisha said, "Salutations (Greetings) to him, and Allah's Mercy and Blessings be on him," and addressing the Prophet (ﷺ) she said, "You see what I don't see
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا ”اے عائشہ! یہ جبرائیل علیہ السلام آئے ہیں، تم کو سلام کہہ رہے ہیں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب میں کہا، کہ وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ وہ چیزیں دیکھتے ہیں جنہیں میں نہیں دیکھ سکتی، عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی۔
Sahih Muslim 4:132sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ابْنُ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْنَا السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَلاَمَ تُومِئُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ " .
Jabir b. Samura reported:When we said prayer with the Messenger of Allah (ﷺ), we pronounced: Peace be upon you and Mercy of Allah, peace be upon you and Mercy of Allah, and made gesture with the hand on both the sides. Upon this the Messenger of Allah (may peace be upon him said: What do you point out with your hands as if they are the tails of headstrong horses? This is enough for you that one should place one's hand on one's thigh and then pronounce salutation upon one's brother on the right side and then on the left)
۔ مسعر نے کہا : مجھ سے عبید اللہ ابن قبطیہ نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ، انہوں نے کہا کہ جب ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم کہتے : السلام عليكم ورحمة الله ، السلام عليكم ورحمة الله اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے دونوں جانب اشارہ کیا ، چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اپنے ہاتھوں کے ساتھ اشارہ کیوں کرتے ہو ، جیسے وہ بدکتے ہوئے سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہوں؟ تم میں سے ( ہر ) ایک کے لیے بس یہی کافی ہے کہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھے ، پھر اپنے بھائی کو سلام کرے جو دائیں جانب ہے اور ( جو ) بائیں جانب ( ہے ۔ ) ‘ ‘
Sahih Muslim 4:133sahih
وَحَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ فُرَاتٍ، - يَعْنِي الْقَزَّازَ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكُنَّا إِذَا سَلَّمْنَا قُلْنَا بِأَيْدِينَا السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا شَأْنُكُمْ تُشِيرُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْتَفِتْ إِلَى صَاحِبِهِ وَلاَ يُومِئْ بِيَدِهِ " .
Jabir b. Samura reported:We said our prayer with the Messenger of Allah (ﷺ) and, while pronouncing salutations, we made gestures with our hands (indicating)" Peace be upon you, peace be upon you." The Messenger of Allah (ﷺ) looked towards us and said: Why is it that you make gestures with your hands like the tails of headstrong horses? When any one of you pro- nounces salutation (in prayer) he should only turn his face towards his companion and should not make a gesture with his hand
۔ فرات قزاز نے عبید اللہ سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہم لوگ جب سلام پھیرتے تو ہاتھوں کے اشارے سے السلام عليكم ، السلام عليكم کہتے تھے ، رسول اللہﷺ نے ہماری طرف دیکھا اور فرمایا : ’’کیا وجہ ہے کہ تم ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہو ، جیسے وہ بدکتے ہوئے سرکش گھوڑوں کی دمیں ہوں؟ تم میں سے کوئی جب سلام پھیرے تو اپنے ساتھی کی طرف رخ کرے اور ہاتھ سے اشارہ نہ کرے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim 5:107sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ كَبَّرَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ ثُمَّ سَلَّمَ .
Abdullah b. Buhaina reported:The Messenger of Allah (ﷺ) led us two rak'ahs of prayer in one of the (obligatory) prayers and then got up and did not sit. and the people stood up along with him. When he finished the prayer and we expected him to pronounce salutation. he said:" Allah is Most Great" while sitting and made two prostrations before salutation and then pronounced (the, final) salutation
مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبدالرحمن اعرج سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن بحسینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کسی ایک نماز کی دو رکعتیں پڑھائیں ، پھر ( تیسری کے لیے ) کھڑے ہو گئے اور ( درمیان کے تشہد کے لیے ) نہ بیٹھے تو لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے ، جب آپ نے نماز پوری کر لی اور ہم آپ کے سلام کے انتظار مین تھے توآپ نے تکبیر کہی اور بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیر دیا ۔
Sahih Muslim 5:108sahih
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَسْدِيِّ، حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ فِي صَلاَةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ فَلَمَّا أَتَمَّ صَلاَتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ .
Abdullah b. Buhaina al-Asadi, the ally of Abual-Muttalib, reported:The Messenger of Allah (ﷺ) stood up in the noon prayer (though) he hadith sit (after the two rak'ahs). When he completed the prayer he performed two prostrations and said," Allah is the Most Great" in each prostration, while he was sitting before pronouncing salutation, and the people performed prostration along with him. That was a compensation for he had forgotten to observe jalsa (after two rak'ahs)
لیث نے ابن شہاب سے ، انھوں نےاعرج سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن بحسینہ اسدی رضی اللہ عنہ سے ، جو بنو بعدالمطلب کے حلیف تھے ، روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز میں ، جب آپ کو ( دوسری رکعت کےبعد ) بیٹھنا تھا ، کھڑے ہوگئے ، پھر جب آپ نے اپنی نماز مکمل کر لی تو آپ نے بیٹھے بیٹھے ہر سجدے کے لیے تکبیر کہتےہوئے سلام سے پہلے دو سجدے کیے ، اور لوگوں نے بھی ( تشہد کے لیے ) بیٹھے کی جگہ ، جو آپ بھول گئے تھے ، آپ کے ساتھ د و سجدے کیے ۔
Sahih Muslim 5:109sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَزْدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ فِي الشَّفْعِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَجْلِسَ فِي صَلاَتِهِ فَمَضَى فِي صَلاَتِهِ فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ الصَّلاَةِ سَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ سَلَّمَ .
Abdullah b. Malik ibn Buhaina al-Asadi reported:The Messenger of Allah (ﷺ) stood up (at the end of two rak'ahs) when he had to sit and proceeded on with the prayer. But when he was at the end of the prayer, he performed a prostration before the salutation and then pronounced the salutation
(ابن شہاب کے بجائے ) یحییٰ بن سعید نے عبدالرحمن اعرج سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مالک ابن بحسینہ ازدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ دو رکعتوں کےبعد جہاں نماز میں آپ کا بیٹھنے کا ارادہ تھا ، ( وہاں ) کھڑے ہو گئے ، آپ نے اپنی نماز جاری رکھی ۔ پھر جب نماز کے آخرمیں پہنچے تو سلا م سے پہلے سجدے کیے ، اس کے بعد سلام پھیرا ۔
Sahih Muslim 5:110sahih
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلاَثًا أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعْنَ لَهُ صَلاَتَهُ وَإِنْ كَانَ صَلَّى إِتْمَامًا لأَرْبَعٍ كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ " .
Abu Sa'id al-Khudri reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: When any one of you is in doubt about his prayer and he does Dot know how much he has prayed, three or four (rak'ahs). he should cast aside his doubt and base his prayer on what he is sure of. then perform two prostrations before giving salutations. If he has prayed five rak'ahs, they will make his prayer an even number for him, and if he has prayed exactly four, they will be humiliation for the devil
سلیمان بن بلال نے زید بن اسلم سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں ؟ تین یا چار ؟ تو وہ شک کو چھوڑ دے اور جتنی رکعتوں پر اسے یقین ہے ان پر بنیاد رکھے ( تین یقینی ہیں تو چوتھی پڑھ لے ) پھر سلام سے پہلے دو سجدے کر لے ، اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لی ہیں تو یہ سجدے اس کی نماز کو جفت ( چھ رکعتیں ) کر دیں گے ارو اگر اس نے چار کی تکمیل کر لی تھی تو یہ سجدے شیطان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوں گے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim 5:111sahih
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي مَعْنَاهُ قَالَ " يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ السَّلاَمِ " . كَمَا قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ .
This hadith has been narrated by Zaid b. Aslam with the same chain of transmitters and he said:He should perform two prostrations before the salutation, as it was mentioned by Sulaiman b. Bilal
داؤد بن قیس نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اس کے معنی کے مطابق یہ کہا : وہ ’’ ( نمازی ) سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کر لے ۔ ‘ ‘ جس طرح سلیمان بن بلال نے کہا ۔
Sahih Muslim 5:112sahih
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، - قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ إِبْرَاهِيمُ زَادَ أَوْ نَقَصَ - فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ قَالَ " وَمَا ذَاكَ " . قَالُوا صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا - قَالَ - فَثَنَى رِجْلَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ " إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ لْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " .
Alqama narrated It on the authority of 'Abdullah (b. Mas'ud) who said:The Messenger of Allah (ﷺ) said the prayer; (the narrator added): He made some act of omission or commission when he pronounced salutation; it was said to him: Messenger of Allah, is there something new about the prayer? He (the Holy Prophet) said: What is it? They said: You said prayer in such and such away. He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) turned his feet and faced the Qibla and performed two prostrations and then pronounced salutations, and then turned his face towards us and said: If there is anything new about prayer (new command from the Lord) I informed you of that. But I am a human being and I forget as you for. get, so when I forget, remind me, and when any one of you is in doubt about his prayer. he should aim at what Is correct. and complete his prayer in that respect and then make two prostrations
جریر نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے منصور سے ، انھوں نے ابراہیم سے اور انھوں نے علقمہ سے روایت کی ، کہا : حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی ۔ ابراہیم نے کہا : آپ نے اس میں زیادتی یا کمی کر دی ۔ پھر جب آپ نے سلام پھرا تو آپ سے عرض کی گئی : اے اللہ کے رسول ! کیانماز میں کوئی نئی چیز ( تبدیلی ) آگئی ہے ؟ آپ نے پوچھا : ’’وہ کیا ؟ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھائی ہیں ۔ ( راوی نے کہا : ) آپ نے اپنے پاؤں موڑے ، قبلہ کی طرف رخ کیا اور دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ، پھر آپ نے ہماری طرف رخ کیا اور فرمایا : ’’اگر نماز میں کوئی نئی بات ہوتی تو میں تمھیں بتا دیتا ، لیکن میں ایک انسان ہوں ، جس طرح تم بھولتے ہومیں بھی بھول جاتا ہوں ، اس لیے جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے تو وہ صحیح کی جستجو کرے اور ا س کے مطابق ( نماز کی ) تکمیل کرے ، پھر ( سہو کے ) دو سجدے کر لے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim 5:124sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلاَمِ وَالْكَلاَمِ .
Abdullah b. Mas'ud reported:The Apostle of Allah (ﷺ) performed two prostrations for forgetfulness after salutation and talking
حفص اور ابو معاویہ نے اعمش سے باقی ماندہ اس سند کے ساتھ حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی ﷺ نے سلام اور گفتگو کےبعد سہو کے دو سجدے کیے ۔
Sahih Muslim 5:126sahih
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِحْدَى صَلاَتَىِ الْعَشِيِّ إِمَّا الظُّهْرَ وَإِمَّا الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَتَى جِذْعًا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَاسْتَنَدَ إِلَيْهَا مُغْضَبًا وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَهَابَا أَنْ يَتَكَلَّمَا وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ قُصِرَتِ الصَّلاَةُ فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَمِينًا وَشِمَالاً فَقَالَ " مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ " . قَالُوا صَدَقَ لَمْ تُصَلِّ إِلاَّ رَكْعَتَيْنِ . فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَسَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ . قَالَ وَأُخْبِرْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ وَسَلَّمَ .
Ibn Sirin reported Abu Huraira as saying:The Messenger of Allah (ﷺ) led us in one of the two evening prayers, Zuhr or `Asr, and gave salutations after two rak`ahs and going towards a piece of wood which was placed to the direction of the Qibla in the mosque, leaned on it looking as if he were angry. Abu Bakr and `Umar were among the people and they were too afraid to speak to him and the people came out in haste (saying): The prayer has been shortened. But among them was a man called Dhul-Yadain who said: Messenger of Allah, has the prayer been shortened or have you forgotten? The Apostle of Allah (ﷺ) looked to the right and left and said: What was Dhul-Yadain saying? They said: He is right. You (the Holy Prophet) offered but two rak`ahs. He offered two (more) rak`ahs and gave salutation, then said takbir and prostrated and lifted (his head) and then said takbir and prostrated, then said takbir and lifted (his head). He (the narrator) says: It has been reported to me by `Imran b. Husain that he said: He (then) gave salutation
سفیان بن عیینہ نے کہا : ہم سے ایوب نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے محمد بن سیرین سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہمیں رسول اللہ ﷺ نے دوپہر کے بعد کی ایک نماز ظہر یا عصر پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا ، پھر قبلے کی سمت ( گڑے ہوئے ) کجھور کے ایک تنےکے پاس آئے اور غصے کی کیفیت میں اس سے ٹیک لگا لی ۔ لوگوں میں ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہ موجود ( بھی ) تھے ، انھوں نے آپ کی ہیبت کی بنا پر گفتگو نہ کی جبکہ جلد باز لوگ ( نماز پڑھتے ہی ) نکل گئے ، اور کہنے لگے : نماز میں کمی ہو گئی ہے ۔ تو ذوالیدین ( نامی شخص ) کھڑا ہوا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز مختصر کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے دائیں اور بائیں دیکھ کر پوچھا : ’’ ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے ؟ ‘ ‘ لوگوں نے کہا : سچ کہہ رہا ہے ، آپ نے دو رکعتیں ہی پڑھی ہیں ۔ چنانچہ آپ نے دو رکعتیں ( مزید ) پڑھیں اور سلام پھیر دیا ، پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا ، بھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا ، پھر اللہ اکبر کہا اور سجد ہ کیا ، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا ۔ ( محمد بن سیرین نے ) کہا : عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے بتایا گیا کہ انھوں نے کہا : اور سلام پھیرا ۔
Sahih Muslim 5:128sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ " . فَقَالَ قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ " . فَقَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلاَةِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) led us in the 'Asr prayer and gave salutation after two rak'ahs. Dhu'l-Yadain (the possessor of long arms) stood up and said: Messenger of Allah, has the prayer been shortened or have you forgotten? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Nothing like this has happened (neither the prayer has been shortened nor have I forgotten). He (Dhu'l-Yadain) said: Messenger of Allah, something has definitely happened. The Messenger of Allah (ﷺ) turned towards people and said: Is Dhu'l-Yadain true (in his assertion)? They said: Messenger of Allah, he is true. Then the Messenger of Allah (ﷺ) completed the rest of the prayer. and then performed two prostrations while he was sitting after salutation
ابن ابی احمد کے آزاد کردہ غلام ابو سفیان سے روایت ہے کہ اس نے کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں میں سلام پھیر دیا ۔ ذوالیدین ( نامی شخص ) کھڑا ہوا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ایسا کوئی کام نہیں ہوا ۔ ‘ ‘ اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کوئی ایک کام تو ہوا ہے ۔ تب رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا : ’’ کیا ذوالیدین نے سچ کہا؟ ‘ ‘ انھوں کہا : جی ہاں ! اے اللہ کے رسول ! تو رسول اللہ ﷺ نے جو نماز رہ گئی تھی پوری کی ، پھر بیٹھے بیٹھے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے ۔
Sahih Muslim 5:129sahih
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْخَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ - حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ ثُمَّ سَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said two rak'ahs of the noon prayer and then gave salutation when a man from Band Sulaim came to him and said: Messenger of Allah. has the prayer been shortened, or have you forgotten? -and the rest of the hadith is the same
علی بن مبارک نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں ابو سلمہ نےحدیث سنائی ، کہا : ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نےحدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی دور کعتیں پڑھائیں ، پھر سلام پھیر دیا تو بنو سلیم کا ایک آدمی آپ کے قریب آیا اور عرض یک : اے اللہ کے رسول ! نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟.......اور آگے ( سابقہ ) حدیث بیان کی ۔
Sahih Muslim 5:130sahih
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي، مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الظُّهْرِ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ . وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ .
Abu Huraira reported:I offered with the Messenger of Allah (ﷺ) the noon prayer and the Messenger of Allah (ﷺ) gave salutation after two rak'ahs. A person from Bani Sulaim stood up, and the rest of the hadith was narrated as mentioned above
شیبان نےیحییٰ سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نبی اکر ﷺ کے ساتھ ( اقتدا میں ) ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا ، اس پر بنی سلیم کا ایک آدمی کھڑا ہوا .......آگے ( مذکورہ بالا ) حدیث بیان کی
Sahih Muslim 5:131sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي ثَلاَثِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَكَانَ فِي يَدَيْهِ طُولٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَذَكَرَ لَهُ صَنِيعَهُ . وَخَرَجَ غَضْبَانَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى النَّاسِ فَقَالَ " أَصَدَقَ هَذَا " . قَالُوا نَعَمْ . فَصَلَّى رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ .
Imran b. Husain reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said the afternoon prayer and gave the salutation. at the end of three rak'ahs and then went into his house. A man called al-Khirbaq, who bad long aims, got up and went to him, and addressed him as Messenger of Allah and mentioned to him what he had done. He came out angrily trailing his mantle, and when he came to the people he said: Is this man telling the truth? They said: Yes. He then said one rak'ah and then gave salutation and then performed two prostrations and then gave salutation
اسماعیل بن ابراہیم نے خالد ( حذاء ) سے ، انھوں نے ابو قلابہ سے ، انھوں نے ابو مہلب سے اور انھوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نےعصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعات پر سلام پھیر دیا ، پھر اپنے گھر تشریف لے گئے تو ایک آدمی جسے خرباق کہا جاتا تھا اور اس کے ہاتھ لمبے تھے ، وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہواا ور آپ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! پھر آپ ﷺ سے جو ( سہو ) ہوا تھا اس کا آپ کے سامنے تذکرہ کیا ، آپ غصے کی حالت میں ، چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے حتی کہ لوگوں کے پا س آ پہنچے اور پوچھا : ’’ کیا یہ سچ کہہ رہا ہے ؟ ‘ ‘ لوگوں نے کہا : جی ہاں ! توآپ نے ایک رکعت پڑھائی ، پھر سلام پھیرا ، پھر سہو کے دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ۔
Sahih Muslim 5:132sahih
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ الْحَذَّاءُ - عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ثَلاَثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَةَ فَقَامَ رَجُلٌ بَسِيطُ الْيَدَيْنِ فَقَالَ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَخَرَجَ مُغْضَبًا فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي كَانَ تَرَكَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ ثُمَّ سَلَّمَ .
Imran b. Husain reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said three rak'ahs of the 'Asr prayer and then got up and went to his apartment. A man possessing large arms stood up and said: Messenger of Allah, bias the player been shortened? He came out angrily, and said the rak'ah which he had omitted and then gave salutation. then performed two prostrations of forgetfulness and then gave salutation
عبدالوہاب تقفی نے خالد حذاء سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی تیسری رکعت میں سلام پھیر دیا ، پھر اٹھ کر اپنے حجرے میں داخل ہو گئے ، ایک ( لمبے ) چوڑے ہاتھوں والا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم کر دی گئی ہے ؟ پھر آپ غصے کے عالم میں نکلے اور چھوڑی ہوئی رکعت پڑھائی ، پھر سلام پھیر دیا ، پھر سہو کے دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ۔
Sahih Muslim 6:81sahih
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةِ الْغَدَاةِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَا فُلاَنُ بِأَىِّ الصَّلاَتَيْنِ اعْتَدَدْتَ أَبِصَلاَتِكَ وَحْدَكَ أَمْ بِصَلاَتِكَ مَعَنَا " .
Abdullah b. Sarjis reported:A person entered the mosque, while the Messenger of Allah (ﷺ) was leading the dawn prayer. He observed two rak'ahs in a corner of the mosque, and then joined the Messenger of Allah (ﷺ) in prayer. When the Messenger of Allah (ﷺ) had pronounced salutations (he had concluded the prayer), he said: O, so and so, which one out of these two prayers did you count (as your Fard prayer), the one that you observed alone or the prayer that you observed with us?
حضرت عبداللہ بن سرجس ( المزنی حلیف بنی مخزوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : ایک آدمی مسجد میں آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے ، اس نے مسجد کے ایک کونے میں دو رکعتیں پڑھیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہوگیا ، جب ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا : " اے فلاں! تو نے دو نمازوں میں سے کون سی نماز کو شمار کیا ہے؟اپنی اس نماز کو جو تم نے اکیلے پڑھی ہے یا اس کو جو ہمارے ساتھ پڑھی ہے؟
Sahih Muslim 37:7sahih
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، وَلَيْثُ بْنُ، أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، بِإِسْنَادِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ زِيَادَةَ جَرِيرٍ وَابْنِ مُسْهِرٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ، مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ، الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، بِإِسْنَادِهِمْ وَمَعْنَى حَدِيثِهِمْ إِلاَّ قَوْلَهُ وَإِفْشَاءِ السَّلاَمِ . فَإِنَّهُ قَالَ بَدَلَهَا وَرَدِّ السَّلاَمِ . وَقَالَ نَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ .
This hadith has been narrated on the authority of Ash'ath b. Sulaim with the same chain of transmitters but with this difference that instead of the words:Ifsha as-Salam (spreading the salutations), he substituted the words Radd as-Saldm (i. e. responding to the words of salutation) and he said: He forbade (the use of) gold ring
ابن ادریس نے کہا : ہمیں ابو اسحٰق شیبانی اور لیث بن ابی سلیم نے اشعث بن ابی شعثاء سے ان سب کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور جریر اور ابن مسہر کے اضافے کا ذکر نہیں کیا ۔
Sahih Muslim 39:7sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ " .
Anas b. Malik reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When the People of the Book offer you salutations, you should say: The same to you
عبید اللہ بن ابی بکر نے اپنے داداحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہو ئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب اہل کتاب تم کوسلام کریں تو تم ان کے جواب میں " وعلیکم " ( اورتم پر ) کہو ۔
Sahih Muslim 39:8sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ، أَنَّعليه وسلم قَالُوا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ قَالَ " قُولُوا وَعَلَيْكُمْ " .
Anas reported that the Companions of Allah's Apostle (ﷺ) said to him:The People. of the Book offer us salutations (by saying as-Salamu- 'Alaikum). How should we reciprocate them? Thereupon he said: Say: Wa 'Alaikum (and upon you too)
شعبہ نے کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتےہو ئے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں ۔ ہم ان کو کیسے جواب دیں ، آپ نے فر ما یا : " تم لوگ " وعلیکم " ( اور تم پر ) کہو ۔
Sahih Muslim 39:9sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى بْنِ يَحْيَى - قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمُ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ " .
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When the Jews offer you salutations, some of them say as-Sam-u-'Alaikum (death be upon you). You should say (in response to it): Let it be upon you
اسماعیل بن جعفر نے عبد اللہ بن دینار سے روایت کی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : جب یہود تم کو سلام کرتے ہیں تو ان میں سے کو ئی شخص ( اَلسَامُ عَلَيكُم ) ( تم پر موت نازل ہو ) کہتا ہے ۔ " ( اس پر ) تم ( عَلَيكُم ) ( تجھ پر ہو ) کہو ۔
Sahih Muslim 39:16sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَلاَ النَّصَارَى بِالسَّلاَمِ فَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلَى أَضْيَقِهِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not greet the Jews and the Christians before they greet you and when you meet any one of them on the roads force him to go to the narrowest part of it
عبد العزیز دراوردی نے سہیل سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " یہود نصاری ٰکو سلام کہنے میں ابتدانہ کرو اور جب تم ان میں سے کسی کو راستے میں ملو ( تو بجا ئے اس کے وہ یہ کام کرے ) تم اسے راستے کے تنگ حصے کی طرف جا نے پر مجبورکردو ۔
Sahih Muslim 39:18sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ، بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى غِلْمَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ .
Anas b. Malik reported that when Allah's Messenger (ﷺ) happened to pass by young boys he would great them
۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں ہشیم نے سیارے سے خبر دی ، انھوں نے ثابت بنا نی سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( انصار ) کے لڑکوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے ان کو سلام کیا ۔
Sahih Muslim 39:20sahih
وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ . وَحَدَّثَ ثَابِتٌ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ أَنَسٍ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ . وَحَدَّثَ أَنَسٌ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ .
Sayyar reported:I was walking with Thibit al-Bunani that he happened to pass by children and he greeted them. And Thibit reported that he walked with Anas and he happened to pass by children and he greeted them. and Anas reported that he walked with Allah's Apostle (may peace be upon. him) and he happened, to pass by children and he greeted them
شعبہ نے سیار سے روایت کی ، کہا : میں ثابت بنانی کے ساتھ جا رہا تھا وہ کچھ بچوں کے پاس سے گزرے تو انھیں سلام کیا ، پھر ثابت نے یہ حدیث بیان کی کہ وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انھوں نے ان کو سلام کیا ۔ اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کیا ،
Sahih Muslim 43:2sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَىَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ إِنِّي لأَعْرِفُهُ الآنَ " .
Jabir b. Samura reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I recognise the stone in Mecca which used to pay me salutations before my advent as a Prophet and I recognise that even now
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں مکہ میں اس پتھر کو اچھی طرح پہچانتا ہوں جو بعثت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا ، بلاشبہ میں اس پتھر کو اب بھی پہچانتا ہوں ۔
Sahih Muslim 43:179sahih
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ، وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى لَهُمْ صَلاَةَ الظُّهْرِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ السَّاعَةَ وَذَكَرَ أَنَّ قَبْلَهَا أُمُورًا عِظَامًا ثُمَّ قَالَ " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَنِي عَنْ شَىْءٍ فَلْيَسْأَلْنِي عَنْهُ فَوَاللَّهِ لاَ تَسْأَلُونَنِي عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا " . قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَأَكْثَرَ النَّاسُ الْبُكَاءَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَقُولَ " سَلُونِي " . فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ فَقَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " أَبُوكَ حُذَافَةُ " . فَلَمَّا أَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَنْ يَقُولَ " سَلُونِي " . بَرَكَ عُمَرُ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً - قَالَ - فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَوْلَى وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَىَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ قَالَتْ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ مَا سَمِعْتُ بِابْنٍ قَطُّ أَعَقَّ مِنْكَ أَأَمِنْتَ أَنْ تَكُونَ أُمُّكَ قَدْ قَارَفَتْ بَعْضَ مَا تُقَارِفُ نِسَاءُ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ فَتَفْضَحَهَا عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ وَاللَّهِ لَوْ أَلْحَقَنِي بِعَبْدٍ أَسْوَدَ لَلَحِقْتُهُ .
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (may peace be upon him stood when the sun had passed the meridian and he led them noon prayer and after observing salutations (completing the prayer) he stood upon the pulpit and talked about the Last Hour and made a mention of the important facts prior to it and then said:He who desires to ask anything from me let him ask me about it. By Allah, I shall not move from this place so long as I do not inform you about that which you ask. Anas b. Malik said: People began to shed tears profusely when they heard this from Allah's Messenger (ﷺ) and Allah's Messenger (ﷺ) said it repeatedly: You ask me. Thereupon 'Abdullah b. Hudhafa stood up and said: Allah's Messenger, who is my father? He said: Your father is Hudhafa, and Allah's Messenger (ﷺ) said repeatedly: Ask me, and (it was at this juncture that 'Umar knelt down and said): We are well pleased with Allah as our Lord, with Islam as our code of life and with Muhammad as the Messenger (of Allah). Allah's Messenger (ﷺ) kept quiet so long as 'Umar spoke. Then Allah's Messenger (ﷺ) said: (The Doom) is near; by Him, in Whose Hand is the life of Muhammad, there was presented to me the Paradise and Hell in the nook of this enclosure, and I did not see good and evil like that of the present day. Ibn Shihab reported: Ubaidullah b. 'Abdullah b. 'Utba told me that the mother of 'Abdullah b. Hudhafa told 'Abdullah b. Hudhafa: I have never heard of a son more disobedient than you. Do you feel yourself immune from the fact that your mother committed a sin which the women in the pre-Islamic period committed and then you disgrace her in the eyes of the people? 'Abdullah b. Hudhafa said: If my fatherhood were to be attributed to a black slave I would have connected myself with him
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ ( ایک دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد باہر تشریف لائے اور انھیں ظہر کی نماز پڑھائی ، جب آ پ نے سلام پھیرا تو منبر پر کھڑے ہوئے اور قیامت کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس سے پہلے بہت بڑے بڑے امور وقوع پزیر ہوں گے ، پھر فرمایا : "" جو شخص ( ان میں سے ) کسی چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہے تو سوا ل کرلے ۔ اللہ کی قسم!میں جب تک اس جگہ کھڑا ہوں ، تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کروگے میں تمھیں اس کے بارے میں بتاؤں گا ۔ "" حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا اور آپ نے بار بار کہنا شروع کردیا : "" مجھ سے پوچھو "" تو لوگ بہت روئے ، اتنے میں عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میرا باپ کون تھا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تمھارا باپ حذافہ تھا ۔ "" پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ بار "" مجھ سے پوچھو "" فرمانا شروع کیا ( اور پتہ چل گیا کہ آپ غصے میں کہہ رہے ہیں ) توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور کہنے لگے : ہم اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں ۔ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت اختیار فرمالیا ۔ کہا : اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اچھا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے!ابھی ابھی اس دیوار کی چوڑائی کے اندرجنت اور دوزخ کو میرے سامنے پیش کیا گیا تو خیر اورشر کے بارے میں جو میں نے آج دیکھا ، کبھی نہیں دیکھا ۔ "" ابن شہاب نے کہا : عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے بتایاکہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کی یہ بات سن کر ان ) کی والدہ نے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : میں نے کبھی نہیں سنا کہ کوئی بیٹا تم سے زیادہ والدین کا حق پامال کرنے والا ہو ۔ کیا تم خود کو اس بات سے محفوظ سمجھتے تھے کہ ہوسکتا ہے تمہاری ماں سے بھی کوئی ایسا کام ہوگیا ہو کہ جو اہل جاہلیت کی عورتوں سے ہوجاتا تھا تو تم اس طرح ( سوال کرکے ) سب لوگوں کے سامنے اپنی ماں کو رسوا کردیتے؟عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم!اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرا نسب کسی حبشی غلام سے بھی ملا دیتے تو میں اسی کی ولدیت اختیار کرلیتا ۔
Sahih Muslim 44:308sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ صَلاَةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ " أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لاَ يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ " . قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَهَلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تِلْكَ فِيمَا يَتَحَدَّثُونَ مِنْ هَذِهِ الأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ . أَحَدٌ يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يَنْخَرِمَ ذَلِكَ الْقَرْنُ .
Abdullah b. Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) led us 'Isha' prayer at the latter part of the night and when he had concluded it by salutations he stood up and said:Have you seen this night of yours? At the end of one hundred years after this none would survive on the surface of the earth (from amount my Companions). Ibn Umar said: People were (not understanding) these words of the Messenger of Allah (ﷺ) which had been uttered pertaining to one hundred years. Allah's Messenger (ﷺ) in fact meant (by these words) that on that day none from amongst those who had been living upon the earth (from amongst his Companions) would survive (after one hundred years) and that would be the end of this generation
معمر نے زہری سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے سالم بن عبداللہ اور ابو بکر بن سلیمان نے بتا یا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبا رکہ کے آخری حصے میں ایک را ت ہمیں عشاء کی نما ز پڑھا ئی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلا م پھیرا تو کھڑے ہو گئے تو فرما یا : " کیا تم لوگوں نے اپنی اس را ت کو دیکھا ہے؟ ( اسے یا د رکھو ) بلا شبہ اس رات سے سو سال کے بعد جو لو گ ( اس را ت میں ) روئے زمین پر مو جودہیں ان میں سے کو ئی بھی باقی نہیں ہو گا ۔ " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ( بعض ) لو گ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فر ما ن کے متعلق غلط فہمیوں میں مبتلا ہوئے ہیں جو اس میں سو سال کے حوالے سے مختلف باتیں کر رہے ہیں ( کہ سو سال بعد زندگی کا خاتمہ ہو جا ئے گا ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما یا تھا ۔ " آج جو لوگ روئےزمین پر مو جو د ہیں ان میں سے کو ئی باقی نہیں ہو گا ۔ " آپ کا مقصود یہ تھا کہ اس قرن ( اس دور میں رہنے والے لوگوں ) کا خاتمہ ہو جائے گا ۔