Sahih Muslim 1:293sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ رَأَيْتُ رَجُلاً مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ سَأَلَ الشَّعْبِيَّ فَقَالَ يَا أَبَا عَمْرٍو إِنَّ مَنْ قِبَلَنَا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ يَقُولُونَ فِي الرَّجُلِ إِذَا أَعْتَقَ أَمَتَهُ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا فَهُوَ كَالرَّاكِبِ بَدَنَتَهُ . فَقَالَ الشَّعْبِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " ثَلاَثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَأَدْرَكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَآمَنَ بِهِ وَاتَّبَعَهُ وَصَدَّقَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ تَعَالَى وَحَقَّ سَيِّدِهِ فَلَهُ أَجْرَانِ وَرَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَغَذَاهَا فَأَحْسَنَ غِذَاءَهَا ثُمَّ أَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ " . ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ لِلْخُرَاسَانِيِّ خُذْ هَذَا الْحَدِيثَ بِغَيْرِ شَىْءٍ . فَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِيمَا دُونَ هَذَا إِلَى الْمَدِينَةِ . وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
It is narrated on the authority of Sha'bi that one among the citizens of Khurasan asked him:0 Abu! some of the people amongst us who belong to Khurasan say that a person who freed his bondswoman and then married her is like one who rode over a sacrificial animal. Sha'bi said: Abu Burda b. Abi Musa narrated it to me on the authority of his father that verily the Messenger of Allah (ﷺ) said: There are three (classes of persons) who would be given a double reward. One who is amongst the People of the Book and believed in his apostle and (lived) to see the time of Apostle Muhammad (ﷺ) and affirmed his faith in him and followed him and attested his truth, for him is the double reward; and the slave of the master who discharges all those obligations that he owes to Allah and discharges his duties that he owes to his master, for him there is a double reward. And a man who had a bondswoman and fed her and fed her well, then taught her good manners, and did that well and later on granted her freedom and married her, for him is the double reward. Then Sha'bi said: Accept this hadith without (giving) anything. Formerly a man was (obliged) to travel to Medina even for a smaller hadith than this. This hadith has been narrated by another chain of transmitters like Abu Bakr b. Abi Shaiba, 'Abda b. Sulaiman Ibn Abi 'Umar Sufyan, 'Ubaidullah b. Mu'adh, Shu'ba; all of them heard it from Salih b. Salih
ہشیم نے صالح بن صالح ہمدانی سے خبر دی ، انہوں نے شعبی سےروایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے اہل خراسان میں سے ایک آدمی کو دیکھا ، اس نے شعبی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور کہا : اے ابو عمرو! ہماری طرف اہل خراسان اس آدمی کے متعلق جو اپنی لونڈی کو آزاد کرے ، پھر اس سے شادی کر لے ( یہ ) کہتے ہیں کہ وہ اپنے قربانی کر کے جانور پر سوار ہونے والے کے مانند ہے ۔ شعبی رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے اپنے والد سے حدیث سنایئ کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا : ’’تین آدمی ہیں جنہیں ان کا اجر دوبار دیا جائے گا : اہل کتاب کاآدمی جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور نبیﷺ ( کے دور ) کو پایا تو آپ پر بھی ایمان لایا ، آپ کی پیروی کی اور آپ کی تصدیق کی تو اس کےلیے دو اجر ہیں ۔ اور وہ غلام جو کسی کی ملکیت میں ہے ، اس نے اللہ کا جو حق اس پر ہے ، ادا کیا اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کیا تو اس کےلیے دو اجر ہیں ۔ اور ایک آدمی جس کی کوئی لونڈی تھی ، اس نے اسے خوراک دی تو بہترین خوراک مہیا کی ، پھر اسے تربیت دی تو بہت اچھی تربیت دی ، پھر اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کر لی تو اس کے لیے بھی دو اجر ہیں ۔ پھر شعبی نے خراسانی سے کہا : یہ حدیث بلا مشقت لے لو ۔ پہلے ایک آدمی اس سے بھی چھوٹی حدیث کے لیے مدینہ کا سفر کرتا تھا ۔
Sahih Muslim 15:94sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَصْبَهَانِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُحْرِمًا فَقَمِلَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَدَعَا الْحَلاَّقَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ " هَلْ عِنْدَكَ نُسُكٌ " . قَالَ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ . فَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ يُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَاصَّةً { فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ} ثُمَّ كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً .
Ka'b b. Ujra (Allah be pleased with him) reported that he went out with the Messenger of Allah (ﷺ) in the state of Ihram, and his (Ka'b's) head and beard were infested with lice. This was conveyed to the Messenger of Allah (ﷺ). He sent for him (Ka'b) and called a barber (who) shaved his head. He (the Holy Prophet) said. Is there any sacrificial animal with you? He (Kalb) said:I cannot afford it. He then commanded him to observe fasts for three days or feed six needy persons, one sa' for every two needy persons. And Allah the Exalted and Majestic revealed this (verse) particular with regard to him:" So whosoever among you is sick and has an ailment of the head.." ; then (its application) became general for the Muslims
زکریا بن ابی زائد ہ سے روایت ہے کہا : ہمیں عبدالرحٰمن بن اصبہانی نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا مجھے عبد اللہ بن معقل نے انھوں نے کہا : مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنا ئیکہ وہ احرا م باندھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ان کے سر اور داڑھی میں ( کثرت سے ) جو ئیں پڑ گئیں ۔ اس ( بات ) کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے انھیں بلا بھیجا اور ھجا م کو بلا کر ان کا سر مونڈ دیا پھر ان سے پو چھا : " کیا تمھا رے پاس کو ئی قربانی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : ( اے اللہ کے رسول ) میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا آپ نے انھیں حکم دیا : تین دن کے روزے عکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھا نا مہیا کر دو مسکینو ں کے لیے ایک صاعہو اللہ عزوجل نے خاص ان کے بارے میں یہ آیت نازل فر ما ئی : " جو شخص تم میں سے مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو ، اس کے بعد یہ ( اجازت ) عمومی طور پر تمام مسلمانوں کے لیے ہے ۔
Sahih Muslim 15:119sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لاَ يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " . قَالَتْ فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ " . قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ " هَذِهِ مَكَانَ عُمْرَتِكِ " . فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا .
A'isha (Allah be pleased with her) said:We went with the Messenger of Allah (ﷺ) during the year of the Farewell Pilgrimage. We entered into the state of Ihram for Umra. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: Who has the sacrificial animal with him, he should put on Ihram for Hajj along with Umra. and should not put it off till he has completed them (both Hajj and Umra). She said: When I came to Mecca. I was having menses, I neither circumambulated the House, nor ran between as-safa' and al-Marwa. I complained about it to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: Undo your hair, comb it, and pronounce Talbiya for Hajj, and give up Umra (for the time being), which I did. When we had performed the Hajj, the Messenger of Allah (way peace he upon him) sent me with Abd al-Rabman b. Abu Bakr to Tan'im saying: This is the place for your Umra. Those who had put on Ihram for Umra circumambulated the House, and ran between al-safa' and al-Marwa. They then put off Ihram and then made the last circuit after they had returned from Mina after performing their Hajj, but those who had combined the Hajj and the Umra made only one circuit (as they had combined Hajj and 'Umra)
مالک نے ابن شہاب سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم حجۃالوداع کے سال ( اس کی ادائیگی کے لیے ) اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہو ئے اور ہم ( میں سے کچھ ) نے عمرے کے لیے ( احرام باندھ کر ) تلبیہ کہا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا : " قربانی کا جا نور جس کے ساتھ ہو وہ عمرے کے ساتھ ہی حج کا بھی تلبیہ پکا رے اور اس وقت تک احرام نہ کھولے جب تک دونوں ( کے لیے عائد کردہ احرا م کی پابندیوں ) سے آزاد نہ ہو جا ئے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا جب میں مکہ پہنچی تو ایا م مخصوصہ میں تھی میں نے حج کا طواف کیا اور نہ صفا مروہ کے درمیان سعی کی میں نے اس ( صورت حال ) کا شکوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فر ما یا : " اپنے سر کے بال کھولو اور کنگھی کرو ( پھر ) حج کا تلبیہ پکارنا شروع کردو اور عمرے کو چھوڑدو ۔ انھوں نے کہا : میں نے ایسا ہی کیا پھر جب ہم نے حج ادا کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا میں نے ( وہاں سے احرا م باندھ کر ) عمرہ کیا ۔ آپ نے فر ما یا : " یہ ( عمرہ ) تمھا رے ( اس رہ جا نے والے ) عمرے کی جگہ ہے ۔ جن لوگوں نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا ۔ انھوں نے بیت اللہ اور صفامروہ کا طواف کیا اور پھر احرام کھول دیے ۔ پھر جب وہ لو گ ( حج کے دورا ن میں ) منیٰ سے لوٹے تو انھوں نے اپنے حج کے لیے دوسری بار طواف کیا البتہ وہ لوگ جنھوں نے حج اور عمرے کو جمع کیا تھا ( حج قران کیا تھا ) تو انھوں نے ( صفامروہ کا ) ایک ہی طواف کیا ۔
Sahih Muslim 15:120sahih
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحْلِلْ وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى فَلاَ يَحِلُّ حَتَّى يَنْحَرَ هَدْيَهُ وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ " . قَالَتْ عَائِشَةُ - رضى الله عنها - فَحِضْتُ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أُهْلِلْ إِلاَّ بِعُمْرَةٍ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ وَأُهِلَّ بِحَجٍّ وَأَتْرُكَ الْعُمْرَةَ - قَالَتْ - فَفَعَلْتُ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا قَضَيْتُ حَجَّتِي بَعَثَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي أَدْرَكَنِي الْحَجُّ وَلَمْ أَحْلِلْ مِنْهَا .
A'isha, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), said:We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) during the year of the Farewell Pilgrimage. There were some amongst us who had put on IHram for Umra and there were some who had put on Ihram for Hajj. (We proceeded on till) we came to Mecca. The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who put on Ihram for 'Umra but did not bring the sacrificial animal with him should put it off. and he who put on Ihram for Umra and he who had brought the sacrificial animal with him should not put it off until he had slaughtered the animal; and he who put on lhram for Hajj should complete it. A'isha (Allah be pleased with her) said: I was in the monthlyperiod, and I remained In this state till the day of 'Arafa, and I had entered into the state of Ihram for 'Umra. The Messenger of Allah (ﷺ) thus commanded me to undo my hair and comb them (again) and enter into the state of Ihram for Hajj, and abandon (the rites of 'Umra). She ('A'isha) said: I did so, and when I had completed my Pilgrimage, the Messenger of Allah (ﷺ) sent with me 'Abd al-Rabman b. Abu Bakr and commanded me to (resume the rites of) 'Umra at Tan'im. the place where (I abandoned) 'Umra and put on Ihram for Hajj (before completing Umra)
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے انھوں نے عروہ بن زبیر سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم حجۃالوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہم میں سے بعض نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا اور بعض نے ( صرف ) حج کے لیے حتیٰ کہ ہم مکہ پہنچ گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" جس نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا وہ قربانی نہیں لا یا ۔ وہ احرا م کھو ل دے ۔ اور جس نے عمرے کا احرا م باندھا تھا اور ساتھ قربانی بھی لا یا ہے وہ جب تک قربانی ذبح نہ کر لے احرا م ختم نہ کرے ۔ اور جس نے صرف حج کے لیے تلبیہ کہا تھا وہ اپنا حج مکمل کرے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا مجھے ( راستے میں ) ایام شروع ہو گئے ۔ میں عرفہ کے دن تک ایام ہی میں رہی اور میں نے صرف عمرے کے لیے تلبیہ پکا را تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے سر کے بال کھولوں لنگھی کروں اور حج کے لیے تلبیہ پکاروں اور عمرے ( کے اعمال ) چھوڑدوں تو میں نے یہی کیا ۔ جب میں نے اپنا حج ادا کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا اور مجھے حکم دیا کہ میں اس عمرے کی جگہ عمرہ کرلوں جسے حج کا دن آجا نے کی بنا پر مکمل کر کے میں اس کاا حرا م نہ کھول پا ئی تھی ۔
Sahih Muslim 15:121sahih
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ أَكُنْ سُقْتُ الْهَدْىَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِهِ ثُمَّ لاَ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " . قَالَتْ فَحِضْتُ فَلَمَّا دَخَلَتْ لَيْلَةُ عَرَفَةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِحَجَّتِي قَالَ " انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَمْسِكِي عَنِ الْعُمْرَةِ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ " . قَالَتْ فَلَمَّا قَضَيْتُ حَجَّتِي أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَنِي فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي أَمْسَكْتُ عَنْهَا .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:We went with the Messenger of Allah (ﷺ) during the year of the Farewell Pilgrimage. I put on Ihram for Umra and did not bring the sacrificial animal. The Apostle of Allah (ﷺ) said: He who has the sacrihcial animal with him should enter into the state of Ihram for Hajj along with 'Umra, and. he should not put the Ihram off till he has completed both of them. She (Hadrat A'isha) said: The monthly period began. When it was the night of Arafa, I said to the Messenger of Allah (ﷺ): I entered into the state of Ihram for 'Umra. but now how should I perform the Hajj? Thereupon he said: Undo your hair and comb them, and desist from performing Umra, and put on Ihram for Hajj She (A'isha, said: When I had completed my Hajj he commanded 'Abd al-Rahman b. Abu Bakr to carry me behind him (on boneback) in order to enable me to resume the rituals of Umra from Tan'im, the place where I abandoned its rituals
معمر نے زہری سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا حجۃ الوداع کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے سفر کے لیے ) نکلے ۔ میں نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا لیکن ( اپنے ) ساتھ قر بانی نہیں لا ئی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس کے ساتھ قربانی کے جا نور ہوں وہ اپنے عمرے کے ساتھ حج کا تلبیہ پکا رے اور اس وقت تک احرا م نہ کھو لے جب تک ان دونوں سے فارغ نہ ہو جا ئے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : مجھے ایا م شروع ہو گئے جب عرفہ کی رات آگئی میں نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے تو عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا ۔ اب میں اپنے حج کا کیا کروں ؟آپ نے فر ما یا : " اپنے سر کے بال کھو لو کنگھی کرو اور عمرے سے رک جا ؤ حج کے لیے تلبیہ پکا رو ۔ انھوں نے کہا : جب میں نے اپنا حج مکمل کر لیا ( تو آپ نے میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھا یا اور مقام تنعیم سے اس عمرے کی جگہ جس سے میں رک گئی تھی ( دوسرا ) عمرہ کروا دیا ۔
Sahih Muslim 15:123sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مُوَافِينَ لِهِلاَلِ ذِي الْحِجَّةِ - قَالَتْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ فَلَوْلاَ أَنِّي أَهْدَيْتُ لأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ " . قَالَتْ فَكَانَ مِنَ الْقَوْمِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ - قَالَتْ - فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " دَعِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ " . قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ - وَقَدْ قَضَى اللَّهُ حَجَّنَا - أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَنِي وَخَرَجَ بِي إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَقَضَى اللَّهُ حَجَّنَا وَعُمْرَتَنَا وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْىٌ وَلاَ صَدَقَةٌ وَلاَ صَوْمٌ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:We went with the Messenger of Allah (ﷺ) (in his) Farewell Pilgrimage near the time of the appearance of the new moon of Dhul-Hijja. The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who amongst you intends to put on Ihram for `Umra may do so; had I not brought sacrificial animals along with me, I would have put on Ihram for `Umra. She (further said). There were some persons who put on Ihram for `Umra, and some persons who put on Ihram for Hajj, and I was one of those who put on Ihram for `Umra. We went on till we reached Mecca, and on the day of `Arafa I found myself in a state of menses, but I did not put off the Ihram for `Umra. I told about (this state of mine) to the Messenger of Allah (ﷺ), whereupon he said: Abandon your `Umra, and undo the hair of your head and comb (them), and put on Ihram for Hajj. She (`A'isha) said: I did accordingly. When it was the night at Hasba and Allah enabled us to complete our Hajj, he (the Holy Prophet) sent with me `Abd al-Rahman b. Abu Bakr, and he mounted me behind him on his camel and took me to Tan`im and I put on Ihram for `Umra, and thus Allah enabled us to complete our Hajj and `Umra and (we were required to observe) neither sacrifice nor alms nor fasting
عبدہ بن سلمیان نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد ( عرو ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا ہم حجۃ الوداع کے موقع پر ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" تم میں سے جو صرف عمرے کے لیے تلبیہ کہنا چا ہے کہے ۔ اگر یہ بات نہ ہو تی کہ میں قر بانی ساتھ لا یا ہوں تو میں بھی عمرے کا تلبیہ کہتا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا اور کچھ ایسے تھے جنھوں نے صرف حج کا تلبیہ کہا اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا ۔ ہم نکل پڑے حتی کہ مکہ آگئے میرے لیے عرفہ کا دن اس طرح آیا کہ میں ایا م میں تھی اور میں نے ( ابھی ) عمرے ( کی تکمیل کر کے اس ) کا احرا م کھو لا نہیں تھا میں نے اس ( بات ) کا شکوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اپنا عمرہ چھوڑدو اپنے سرکی مینڈھیاں کھول دو کنگھی کر لو اور حج کا تلبیہ کہنا شروع کر دو ۔ انھوں نے کہا : میں نے یہی کیا جب حصبہ کی رات آگئی اور اللہ تعا لیٰ نے ہمارا حج مکمل فر ما دیا تھا تو ( آپ نے ) میرے ساتھ ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا انھوں نے نجھے ساتھ بٹھا یا اور مجھے لے کر تنعیم کی طرف نکل پڑے وہاں سے میں نے عمرے کا تلبیہ کہا ۔ اس طرح اللہ نے ہمارا حج پورا کرادیا اور عمرہ بھی ۔ ( ہشام نے کہا : اس ( الگ عمرے ) کے لیے نہ قر بانی کا کو ئی جا نور ( ساتھ لا یا گیا ) تھا نہ صدقہ تھا اور نہ روزہ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ان میں سے کو ئی کا م کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔)
Sahih Muslim 15:123sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مُوَافِينَ لِهِلاَلِ ذِي الْحِجَّةِ - قَالَتْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ فَلَوْلاَ أَنِّي أَهْدَيْتُ لأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ " . قَالَتْ فَكَانَ مِنَ الْقَوْمِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ - قَالَتْ - فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " دَعِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ " . قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ - وَقَدْ قَضَى اللَّهُ حَجَّنَا - أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَنِي وَخَرَجَ بِي إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَقَضَى اللَّهُ حَجَّنَا وَعُمْرَتَنَا وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْىٌ وَلاَ صَدَقَةٌ وَلاَ صَوْمٌ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:We went with the Messenger of Allah (ﷺ) (in his) Farewell Pilgrimage near the time of the appearance of the new moon of Dhul-Hijja. The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who amongst you intends to put on Ihram for `Umra may do so; had I not brought sacrificial animals along with me, I would have put on Ihram for `Umra. She (further said). There were some persons who put on Ihram for `Umra, and some persons who put on Ihram for Hajj, and I was one of those who put on Ihram for `Umra. We went on till we reached Mecca, and on the day of `Arafa I found myself in a state of menses, but I did not put off the Ihram for `Umra. I told about (this state of mine) to the Messenger of Allah (ﷺ), whereupon he said: Abandon your `Umra, and undo the hair of your head and comb (them), and put on Ihram for Hajj. She (`A'isha) said: I did accordingly. When it was the night at Hasba and Allah enabled us to complete our Hajj, he (the Holy Prophet) sent with me `Abd al-Rahman b. Abu Bakr, and he mounted me behind him on his camel and took me to Tan`im and I put on Ihram for `Umra, and thus Allah enabled us to complete our Hajj and `Umra and (we were required to observe) neither sacrifice nor alms nor fasting
عبدہ بن سلمیان نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد ( عرو ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا ہم حجۃ الوداع کے موقع پر ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" تم میں سے جو صرف عمرے کے لیے تلبیہ کہنا چا ہے کہے ۔ اگر یہ بات نہ ہو تی کہ میں قر بانی ساتھ لا یا ہوں تو میں بھی عمرے کا تلبیہ کہتا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا اور کچھ ایسے تھے جنھوں نے صرف حج کا تلبیہ کہا اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا ۔ ہم نکل پڑے حتی کہ مکہ آگئے میرے لیے عرفہ کا دن اس طرح آیا کہ میں ایا م میں تھی اور میں نے ( ابھی ) عمرے ( کی تکمیل کر کے اس ) کا احرا م کھو لا نہیں تھا میں نے اس ( بات ) کا شکوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اپنا عمرہ چھوڑدو اپنے سرکی مینڈھیاں کھول دو کنگھی کر لو اور حج کا تلبیہ کہنا شروع کر دو ۔ انھوں نے کہا : میں نے یہی کیا جب حصبہ کی رات آگئی اور اللہ تعا لیٰ نے ہمارا حج مکمل فر ما دیا تھا تو ( آپ نے ) میرے ساتھ ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا انھوں نے نجھے ساتھ بٹھا یا اور مجھے لے کر تنعیم کی طرف نکل پڑے وہاں سے میں نے عمرے کا تلبیہ کہا ۔ اس طرح اللہ نے ہمارا حج پورا کرادیا اور عمرہ بھی ۔ ( ہشام نے کہا : اس ( الگ عمرے ) کے لیے نہ قر بانی کا کو ئی جا نور ( ساتھ لا یا گیا ) تھا نہ صدقہ تھا اور نہ روزہ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ان میں سے کو ئی کا م کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔)
Sahih Muslim 15:129sahih
وَحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ الْمَاجِشُونِ . غَيْرَ أَنَّ حَمَّادًا لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ فَكَانَ الْهَدْىُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَذَوِي الْيَسَارَةِ ثُمَّ أَهَلُّوا حِينَ رَاحُوا وَلاَ قَوْلُهَا وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ أَنْعُسُ فَتُصِيبُ وَجْهِي مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:We entered into the state of. Ihram for Hajj till we were at Sarif and I was in menses. The Messenger of Allah (ﷺ) came to me and I was weeping. The rest of the hadith is the same but (with this portion) that there were sacrificial animals with Allah's Apostle (ﷺ) and with Abu Bakr, Umar and with rich persons. And they pronounced Talbiya as they proceeded on. And there is no mention of this (too):" I was a girl of tender age and I dozed off and my face touched the bind part of the Haudaj
حماد ( بن سلمہ ) نے عبد الرحمٰن سے حدیث بیان کی انھوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم نے حج کا تلبیہ پکا را جب ہم سرف مقام پر تھے میرے ایام شروع ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( میرے حجرے میں ) داخل ہو ئے تو میں رورہی تھی ( حماد نے ) اس سے آگے ماجثون کی حدیث کی طرح بیان کیا مگر حماد کی حدیث میں یہ ( الفا ظ ) نہیں : قربانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر و عمر اور اصحاب ثروت رضوان اللہ عنھم اجمعین ہی کے پاس تھی ۔ پھر جب وہ چلے تو انھوں نے تلبیہ پکارا ۔ اور نہ یہ قول ( ان کی حدیث میں ہے ) کہ میں نو عمر لڑکی تھی مجھے اونگھ آتی تو میرا سر ( بار بار ) پالان کی پچھلی لکڑی کو لگتا تھا ۔
Sahih Muslim 15:131sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَفْلَحَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَفِي حُرُمِ الْحَجِّ وَلَيَالِي الْحَجِّ حَتَّى نَزَلْنَا بِسَرِفَ فَخَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ مِنْكُمْ هَدْىٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلاَ " . فَمِنْهُمُ الآخِذُ بِهَا وَالتَّارِكُ لَهَا مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ مَعَهُ الْهَدْىُ وَمَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ لَهُمْ قُوَّةٌ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ " مَا يُبْكِيكِ " . قُلْتُ سَمِعْتُ كَلاَمَكَ مَعَ أَصْحَابِكَ فَسَمِعْتُ بِالْعُمْرَةِ فَمُنِعْتُ الْعُمْرَةَ . قَالَ " وَمَا لَكِ " . قُلْتُ لاَ أُصَلِّي . قَالَ " فَلاَ يَضُرُّكِ فَكُونِي فِي حَجِّكِ فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَرْزُقَكِيهَا وَإِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ " . قَالَتْ فَخَرَجْتُ فِي حَجَّتِي حَتَّى نَزَلْنَا مِنًى فَتَطَهَّرْتُ ثُمَّ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُحَصَّبَ فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ " اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ لْتَطُفْ بِالْبَيْتِ فَإِنِّي أَنْتَظِرُكُمَا هَا هُنَا " . قَالَتْ فَخَرَجْنَا فَأَهْلَلْتُ ثُمَّ طُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَجِئْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَقَالَ " هَلْ فَرَغْتِ " . قُلْتُ نَعَمْ . فَآذَنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:We proceeded with the Messenger of Allah (ﷺ) putting on the Ihram for Hajj during the months of Hajj and the night of Hajj till we encamped at Sarif. He (the Holy Prophet) went to his Companions and said: He who has no sacrificial animal with him, in his case I wish that he should perform Umra (with this Ihram), and he who has the sacrificial animal with him should not do it. So some of them performed Hajj whereas others who had no sacrificial animals with them did not do (Hajj, but performed only 'Umra). The Messenger of Allah (ﷺ) had a sacrificial animal with him and those too who could afford it (performed) Hajj). The Messenger of Allah (ﷺ) came to me (i. e. A'isha) while I was weeping, and he said: What makes you weep? I said: I heard your talk with Companions about Umra. He said: What has happened to you? I said: I do not observe prayer (due to the monthly period), whereupon he said: It would not harm you; you should perform (during this time) the rituals of Hajj (which you can do outside the House). Maybe Allah will compensate you for this. You are one among the daughters of Adam and Allah has ordained for you as He has ordained for them. So I proceeded on (with the rituals of Hajj) till we came to Mina. I washed myself and then circumambulated the House, and the Messenger of Allah (ﷺ) encamped at Muhassab and called, Abd al-Rahman b. Abu Bakr. and said: Take out your sister from the precincts of the Ka'ba in order to put on Ihram for Umra and circumambulate the House. and I shall wait for you here. She said: So I went out and put on Ihram and then circumambulated the House, and (ran) between al-Safa and al-Marwa, and then we came to the Messenger of Allah (ﷺ) and he was in his house in the middle of the night. He said: Have you completed your (rituals)? I said: Yes. He then announced to his Companions to march on. He came out, and went to the House and circumambulated it before the dawn prayer and then proceeded to Medina
افلح بن حمید نے قاسم سے انھوں نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم حج کا تلبیہ کہتے ہو ئے حج کے مہینوں میں حج کی حرمتوں ( پابندیوں ) میں اور حج کے ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں روانہ ہو ئے حتی کہ سرف کے مقا م پر اترے ۔ ( وہاں پہنچ کر ) آپ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے پاس تشریف لے گئے اور فر ما یا : "" تم میں سے جس کے ہمرا ہ قربانی نہیں ہے ۔ اور وہ اپنے حج کو عمرے میں بدلنا چاہتا ہے توا یسا کر لے اور جس کے ساتھ قربانی کے جا نور ہیں وہ ( ایسا ) نہ کرے ۔ ان میں سے کچھ نے جن کے پاس قربانی نہیں تھی اس ( عمرے ) کو اختیار کر لیا اور کچھ لوگوں نے رہنے دیا ۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور آپ کے ساتھ بعض صاحب استطاعت صحابہ کے ساتھ قربانیاں تھیں ۔ پھر آپ میرے پاس تشریف لا ئے تو میں رو رہی تھی ۔ آپ نے فر ما یا : "" کیوں روتی ہو؟ میں نے جواب دیا میں نے آپ کی آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ گفتگو سنی ہے اور عمرے کے متعلق بھی سن لیا ہے میں عمرے سے روک دی گئی ہوں ۔ آپ نے پو چھا : ( کیوں ) تمھیں کیا ہے ؟میں نے جواب دیا : میں نماز ادا نہیں کر سکتی ۔ آپ نے فر ما یا : "" یہ ( ایام عمرے حج میں ) تمھارے لیے نقصان دہ نہیں تم اپنے حج میں ( لگی ) رہو امید ہے کہ اللہ تعا لیٰ تمھیں یہ ( عمرے کا ) اجر بھی دے گا تم آدم ؑکی بیٹیوں میں سے ہو ۔ اللہ تعا لیٰ نے تمھارے لیے بھی وہی کچھ لکھ دیا ہے جو ان کی قسمت میں لکھا ہے کہا ( پھر ) میں احرا م ہی کی حا لت میں ) اپنے حج کے سفر میں نکلی حتیٰ کہ ہم منیٰ میں جا اترے اور ( تب ) میں ایام سے پاک ہو گئی پھر ہم سب نے بیت اللہ کا طواف ( افاضہ ) کیا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محصب میں پڑاؤ ڈالا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( میرے بھا ئی ) کو بلا یا اور ان سے ) فر ما یا : "" اپنی بہن کو حرم سے باہر ( تنعیم ) لے جاؤ تا کہ یہ ( احرام باندھ کر ) عمرے کا تلبیہ کہے اور ( عمرے کے لیے بیت اللہ ( اور صفامروہ ) کا طواف کر لے ۔ میں ( تمھا ری واپسی تک ) تم دونوں کا یہیں انتظار کروں گا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : ہم نکل پڑے میں نے ( احرا م باندھ کر ) بیت اللہ اور صفامروہ کا طواف کیا ۔ ہم لوٹ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کے وقت اپنی منزل ہی پر تھے ۔ آپ نے ( مجھ سے ) پو چھا : "" کیا تم ( عمرے سے ) فارغ ہو گئی ہو؟ میں نے کہا جی ہاں پھر آپ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں کو چ کے اعلان کا حکم دیا ۔ آپ ( وہاں سے ) نکلے بیت اللہ کے پاس سے گزرے اور فجر کی نماز سے پہلے اس کا طواف ( وداع ) کیا پھر مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے ۔
Sahih Muslim 15:134sahih
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ عَمْرَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - تَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَلاَ نُرَى إِلاَّ أَنَّهُ الْحَجُّ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَحِلَّ . قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقِيِلَ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَزْوَاجِهِ . قَالَ يَحْيَى فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَقَالَ أَتَتْكَ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ .
Umra reported:I heard A'isha (Allah be pleased with her) as saying: We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) five days before the end of Dhi Qa'dah, and we did see but that he intended to perform Hajj (only), but as we came near Mecca the Messenger of Allah (ﷺ) commanded that he who did not have the sacrificial animal with him should put off Ihram after circumambulating the House and running between al-Safa and aI-Marwa (and thus convert his Ihram from that of Hajj to 'Umra). 'A'isha (Allah be pleased with her) said: The flesh of cow was sent to us on the Day of Sacrifice (10th of Dhu'I-Hijja). I said. What is this? It was said: The Messenger of Allah (ﷺ) sacrificed (the cow) on behalf of his wives. Yahya said: I made a mention of this hadith (what has been stated by Umra) to Qasim b. Muhammad, whereupon be said: By Allah, she has rightly narrated it to you
یحییٰ بن سعید نے عمرہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، وہ فرما رہی تھیں : ذوالعقدہ کے پانچ دن باقی تھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلے ، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا ۔ جب ہم مکہ کہ قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فر مایا : "" "" جس کے ہمراہ قربانی نہیں ہے وہ جب بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر لے تو احرا م کھول دے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : عید کے دن ہمارے پاس گا ئے گو شت لا یا گیا ۔ میں نے پوچھا : یہ کیا ہے؟بتا یا گیا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف سے ( یہ گا ئے ) ذبح کی ہے یحییٰ نے کہا : میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد بن قاسم کے سامنے پیش کی تو ( انھوں نے ) فر ما یا : اللہ کی قسم اس ( عمرہ ) نے تمھیں یہ حدیث بالکل صحیح صورت میں پہنچا ئی ہے ۔
Sahih Muslim 15:138sahih
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ نَرَى إِلاَّ أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ أَنْ يَحِلَّ - قَالَتْ - فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ الْهَدْىَ فَأَحْلَلْنَ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَحِضْتُ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ - قَالَتْ - قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ قَالَ " أَوَمَا كُنْتِ طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَكَّةَ " . قَالَتْ قُلْتُ لاَ . قَالَ " فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ ثُمَّ مَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا " . قَالَتْ صَفِيَّةُ مَا أُرَانِي إِلاَّ حَابِسَتَكُمْ قَالَ " عَقْرَى حَلْقَى أَوَمَا كُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ " . قَالَتْ بَلَى . قَالَ " لاَ بَأْسَ انْفِرِي " . قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَكَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهَا أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ مِنْهَا . وَقَالَ إِسْحَاقُ مُتَهَبِّطَةٌ وَمُتَهَبِّطٌ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:We went with the Messenger of Allah (ﷺ) and we did not see but that he (intended to perform) Hajj (only), but when we reached Mecca we circumambulated the House; and the Messenger of Allah (ﷺ) commanded that he who did not have with him a sacrificial animal should put off Ihram. She (A'isha) said: (And consequently) those who did not bring the sacrificial animals with them put off Ihram; and among his wives (too) who had not brought the sacrificial animals with them put off Ihram. A'isha said: I entered my period and could not (therefore) circumambulate the House. When it was the night of Hasba she said: Messenger of Allah, people are coming back (after having performed both) Hajj and'Umra, whereas I am coming back only with Hajj, whereupon he said: Did you not circumambulate (the Ka'ba) that very night we entered Mecca? She (A'isha) said: No, whereupon he said: Go along with your brother to Tan'im and put on the Ihram for Umra, and it is at such and such a place that you can meet (us). (In the meanwhile) Safiyya (the wife of the Holy Prophet) said: I think, I will detain you (since I have entered in the monthly) period and you shall have to wait for me for the farewell circuit). Thereupon he (the Holy Prophet) said: May you be wounded and your head shorn did you not circumambulate on the Day of Sacrifice (10th of Dhu'l-Hijja)? She said: Yes. The Prophet (ﷺ) said: There is no harm. You should go forward. 'A'isha said: The Messenger of Allah (ﷺ) was going upwards to the side of Mecca, whereas I was coming down from it, or I was going upward, whereas he was coming down. Isbiq said: She was climbing down, and he was climbing down
منصور نے ابرا ہیم سے ، انھوں نے اسود سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہم اس کو حج ہی سمجھتے تھے ۔ جب ہم مکہ پہنچے اور بیت اللہ کا طواف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا : جو اپنے ساتھ قربانی نہیں لا یا وہ احرا م کھو ل دے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : جتنے لو گ بھی قربانی ساتھ نہیں لا ئے تھے ۔ انھوں نے احرا م ختم کر دیا ۔ آپ کی ازواج بھی اپنے ساتھ قربانیا ں نہیں لا ئیں تھیں تو وہ بھی احرا م سے باہر آگئیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ( لیکن ) میرے ایام شروع ہو گئے تھے اور میں بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی جب حصبہ کی رات آئی ، کہا : تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !لوگ حج اور عمرہ کر کے لو ٹیں اور میں صرف حج کر کے لو ٹو ں گی؟آپ نے فرمایا : "" جن راتوں ( تاریخوں ) میں ہم مکہ آئے تھے کیا تم نے طواف نہیں کیا تھا؟ میں نے کہا ۔ جی نہیں آپ نے فر ما یا : "" تو پھر اپنے بھا ئی ( عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے ساتھ مقام تنعیم تک چلی جا ؤ اور وہاں سے ( عمرے کا حرا م باندھ کر ) عمرے کا تلبیہ پکارو ( اور عمرہ کر لو ) پھر تم فلاں مقام پر آملنا ۔ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہنے لگیں : میں اپنے بارے میں سمجھتی ہوں کہ میں ( بھی ) آپ کو روکنے والی ہوں گی ۔ آپ نے فرمایا : "" ( اپنی قوم کی زبان میں عقریٰ حلقٰی ( بے اولاد ، بے بال ، یہود حائضہ عورت کے لیے یہی لفظ بو لتے تھے ) کیا تم نے عید کے دن طواف نہیں کیا تھا ؟کہا : کیوں نہیں ( کیا تھا! ) آپ نے فر ما یا : "" ( تو پھر ) کو ئی بات نہیں ، اب چل پڑو ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : دوسری صبح ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ( اس وقت ) ملے جب آپ مکہ سے چڑھا ئی پر آرہے تھے اور میں مکہ کی سمت اتر رہی تھی ۔ ۔ ۔ یا میں چڑھا ئی پر جا رہی تھی اور آپ اس سے اتر رہے تھے ( واپس آرہے تھے ) ۔ ۔ ۔ اور اسحاق نے متهبطه ( اترنےوالی ) اور متهبط ( اترنے والے ) کے الفاظ کہے ۔ ( مفہوم وہی ہے)
Sahih Muslim 15:149sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، - رضى الله عنه - ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، - رضى الله عنه - قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ مَعَنَا النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيَحْلِلْ " . قَالَ قُلْنَا أَىُّ الْحِلِّ قَالَ " الْحِلُّ كُلُّهُ " . قَالَ فَأَتَيْنَا النِّسَاءَ وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ وَمَسِسْنَا الطِّيبَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ وَكَفَانَا الطَّوَافُ الأَوَّلُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الإِبِلِ وَالْبَقَرِ كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ
Jabir (Allah be pleased with him) said.:We went with Allah's Messenger (ﷺ) in 'a state of Ihram for the Hajj. There were women and children with us. When we reached Mecca we circumambulated the House and (ran) between al-Safa and al-Marwa. The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who has no sacrificial animal with him should put off lhram. We said: What kind of putting off? He said: Getting out of lhram completely. So we came to our wives, and put on our clothes and applied perfume. When it was the day of Tarwiya, we put on Ihram for Hajj. and the first circumambulation and (running) between al-Safa and al-Marwa sufficed us.. Allah's Messenger (ﷺ) commanded us to become seven partners (in the sacrifice) of a camel and a cow
Sahih Muslim 15:155sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، الْمَخْزُومِيُّ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَنَحِلَّ - قَالَ - وَكَانَ مَعَهُ الْهَدْىُ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported:We set out with Allah's Messenger (ﷺ) as Muhrim for Hajj. The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to make this Ihram for Umra, and some put it off (after performing 'Umra), but the Prophet (ﷺ) had sacrificial animals with him, so he could not make it (this Ihram) as that of Umra
Sahih Muslim 15:161sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرٍ، فِي حَدِيثِهِ ذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نَحَرْتُ هَا هُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ وَوَقَفْتُ هَا هُنَا وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ وَوَقَفْتُ هَا هُنَا وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ " .
Jabir reported Allah's Messenger (May peace be upon him) as saying:I have sacrificed (the animals) here, and the whole of Mini is a place for sacrifice; so sacrifice your animals at your places. 1 have stayed here (near these rocks), and the whole of Arafat is a place for stay. And I have stayed here (at Muzdalifa near Mash'ar al-Haram and the whole of Muzdalifa) is a place for stay (i. e. one is permitted to spend night in any part of it, as one likes)
حضرت جعفر ؒ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے میرے والد نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کردہ اپنی اس حدیث میں یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے یہاں قربانی کی ہے ۔ ( لیکن ) پورا منیٰ قربان گاہ ہے ، اس لئے تم اپنے اپنے پڑاؤ ہی پر قربانی کرو ، میں نے اسی جگہ وقوف کیا ہے ( لیکن ) پورا عرفہ ہے مقام وقوف ہے اور میں نے ( مزدلفہ میں ) یہاں وقوف کیا ہے ( ٹھہرا ہوں ۔ ) اور پورا مزدلفہ موقف ہے ( اس میں کہیں بھی پڑاؤ کیا جاسکتاہے ۔)
Sahih Muslim 15:168sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، - رضى الله عنه - قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ " بِمَ أَهْلَلْتَ " . قَالَ قُلْتُ أَهْلَلْتُ بِإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " هَلْ سُقْتَ مِنْ هَدْىٍ " . قُلْتُ لاَ . قَالَ " فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حِلَّ " . فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي فَمَشَطَتْنِي وَغَسَلَتْ رَأْسِي فَكُنْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِكَ فِي إِمَارَةِ أَبِي بَكْرٍ وَإِمَارَةِ عُمَرَ فَإِنِّي لَقَائِمٌ بِالْمَوْسِمِ إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ . فَقُلْتُ أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ بِشَىْءٍ فَلْيَتَّئِدْ فَهَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ فَائْتَمُّوا فَلَمَّا قَدِمَ قُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا هَذَا الَّذِي أَحْدَثْتَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ قَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ { وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ} وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَحِلَّ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْىَ .
Abu Musa (Allah be pleased with him) reported:I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and he was encamping at Batha. He (the Holy Prophet) said: With what purpose have you entered into the state of Ihram? I said: I have entered into the state of Ihram in accordance with the Ihram of Allah's Apostle (ﷺ). He said: Have you brought sacrificial animals along with you? I said: No. whereupon he said: Then circumambulate the House and run between al-Safa' and al-Marwa and put off Ihram. So I circumambulated the House, ran between al-Safa' and al-Marwa, and then came to a woman of my tribe. She combed and washed my head. I used to give religious verdict (according to the above mentioned command of the Holy Prophet) during the Caliphate of Abu Bakr and also during that of 'Umar. And it was during the Hajj season that a person came to me and said: You (perhaps) do not know what the Commander of the Believers has introduced in the rites (of Hajj). I said: 0 people, those whom we have given religious verdict about a certain thing should wait, for the Commander of the Believers is about to arrive among you, so follow him. When the Commander of the Believers arrived, I said: What is this that you have introduced in the rites (of Hajj)? -where upon he said: If we abide by the Book of Allah (we find) that there Allah, Exalted and Majestic, has said: Complete Hajj and 'Umra for Allah." And if we abide by the Sunnah of our Apostle (ﷺ) (we find) that the Messenger of Allah (May peace be upon him) did not put off Ihram till he had sacrificed the animals
سفیان ثوری نے قیس ( بن مسلم ) سے ، انھوں نے طارق بن شہاب سے ، انھوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ سے باہروادی ) بطحاء میں سواریاں بٹھائے ہوئے ( پڑاؤڈالے ہوئے ) تھےتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ " تم نے کون سا تلبیہ پکارا ہے؟ ( حج کا ، عمرے کا ، یا دونوں کا؟ ) " میں نے عرض کی : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم والا تلبیہ پکارا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم قربانی ساتھ لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر کے احرام کھول ڈالو ۔ پس میں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی ، پھر میں اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا ( یہ ان کی محرم تھی ) تو اس نے میرے سر میں کنگھی کی اور میرا سر دھو دیا ۔ پھر میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت میں لوگوں کو یہی فتویٰ دینے لگا ۔ ( یعنی جو بغیر قربانی کے حج پر آئے تو وہ عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دے ، پھر یوم الترویہ 8 ۔ ذوالحج کو دوبارہ حج کا احرام باندھے لیکن ) ایک مرتبہ میں حج کے مقام پر کھڑا تھا کہ اچانک ایک شخص آیا ، اس نے کہا کہ ( تو تو احرام کھولنے کا فتویٰ دیتا ہے ) آپ جانتے ہیں کہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قربانی کے متعلق نیا کام شروع کر دیا ۔ ( یعنی عمر رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ عمرہ کر کے احرام کو کھولنا نہیں چاہئے ) تو میں نے کہا اے لوگو! ہم نے جس کو اس مسئلے کا فتویٰ دیا ہے اس کو رک جانا چاہئے ۔ کیونکہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آنے والے ہیں لہٰذا ان کی پیروی کرو ۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے کہا ، امیرالمؤمنین آپ نے قربانی کے متعلق یہ کیا نیا مسئلہ بتایا ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر آپ اللہ کی کتاب قرآن پر عمل کریں تو قرآن کہتا ہے : ( ( وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّـهِ ۚ ) ) یعنی حج اور عمرہ کو اللہ کے لئے پورا کرو ( یعنی احرام نہ کھولو ) اور اگر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کریں تو ان کا اپنا طریقہ یہ تھا کہ انہوں نے احرام اس وقت تک نہ کھولا جب تک قربانی نہ کر لی ۔
Sahih Muslim 15:190sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ وَأَهْدَى فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْىَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى فَسَاقَ الْهَدْىَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لْيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ " . وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَىْءٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ رَكَعَ - حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ - رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْىَ مِنَ النَّاسِ .
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) reported:Allah's Messenger (ﷺ) observed Tamattu' in Hajjat-ul-Wada'. He first put on Ihram for 'Umra and then for Hajj. and then offered animal sacrifice. So he drove the sacrificial animals with him from Dhu'l-Hulaifa. Allah's Messenger (ﷺ) commenced Ihram of Umra and thus pronounced Talbiya for 'Umra. and then (put on Ihram for Hajj) and pronounced Talbiya for Hajj. And the people performed Tamattu' in the company of Allah's Messenger (ﷺ). They put on Ihram for Umra (first) and then for Hajj. Some of them had sacrificial animals which they had brought with them, whereas some of them had none to sacrifice. So when Allah's Messenger (ﷺ) came to Mecca, he said to the people: He who amongst you has brought sacrificial animals along with him must not treat as lawful anything which has become unlawful for him till he has completed the Hajj; and he, who amongst you has not brought the sacrificial animals should circumambulate the House, and run between al-Safa' and al-Marwa and clip (his hair) and put off the Ihram, and then again put on the Ihram for Hajj and offer sacrifice of animals. But he who does not find the sacrificial animal, he should observe fast for three days during the Hajj and for seven days when he returns to his family. Allah's Messenger (ﷺ) circumambulated (the House) when he came to Mecca: he first kissed the corner (of the Ka'ba containing the Black Stone), then ran in three circuits out of seven and walked in four circuits. And then when he had finished the circumambulation of the House he observed two rak'ahs of prayer at the Station (of Ibrahim), and then pronounced Salaam (for concluding the rak'ahs), and departed and came to al-Safa' and ran seven times between al-Safa' and al-Marwa. After that he did not treat anything as lawful which had become unlawful till he had completed his Hajj and sacrificed his animal on the day of sacrifice (10th of Dhu'l-Hijja). and then went back quickly (to Mecca) and performed circumambulation of the House (known as tawaf ifada) after which all that was unlawful for him became lawful; and those who had brought the sacrificial animals along with them did as Allah's Messenger (ﷺ) had done
سالم بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تک عمرے سے تمتع فرمایا اور ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا آپ ذوالحلیفہ سے قربانی کے جا نور اپنے ساتھ چلا کر لا ئے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آغا ز فرمایا تو ( پہلے ) عمرے کا تلبیہ پکا را پھر حج کا تلبیہ پکا را اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ حج تک عمرے سے تمتع کیا ۔ لوگوں میں کچھ ایسے تھے انھوں نے ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا اور قربانی کے جانور چلا کر ساتھ لا ئے تھے اور کچھ ایسے تھے جو قربانیاں لے کر نہیں چلے تھے ۔ جب آپ مکہ تشریف لے آئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا : "" تم میں سے جو قربانی لے چلا وہ ان چیزوں سے جنھیں اس نے ( احرا م بندھ کر ) حرام کیا اس وقت تک حلال نہیں ہو گا جب تک کہ حج پو را نہ کرے ۔ اور جو شخص قربا نی نہیں لا یا وہ بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کرے اور بال کتروا کر حلال ہو جا ئے ( اور آٹھ ذوالحجہ کو ) پھر حج کا ( احرا م باندھ کر ) تلبیہ پکا رے ( اور رمی کے بعد ) قر بانی کرے ۔ اور جسے قربانی میسر نہ ہو وہ تین دن حج کے دورا ن میں اور سات دن گھر لو ٹ کر روزے رکھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف فر ما یا ۔ سب سے پہلے حجرا سود کا استلام کیا ۔ پھر تین چکروں میں تیز چلے اور چار چکر معمول کی رفتار سے چل کر لگا ئے ۔ جب آپ نے بیت اللہ کا طواف مکمل کر لیا تو مقام ابرا ہیم کے پاس دو رکعتیں ادا فرمائیں ۔ پھر سلام پھیر ااور رخ بد لیا ۔ صفا پر تشریف لا ئے اور صفا مروہ کے ( درمیا ن ) ساتھ چکر لگا ئے ۔ پھر جب تک آپ نے اپنا حج مکمل نہ کیا آپ نے ایسی کسی چیز کو ( اپنے لیے ) حلال نہ کیا جسے آپ نے حرا م کیا تھا قربانی کے دن آپ نے اپنے قربانی کے اونٹ نحر کیے اور ( طواف ) افاضہ فر ما یا ۔ پھر آپ نے ہر وہ چیز ( اپنے لیے ) حلال کر لی جو احرام کی وجہ سے ) حرام ٹھہرائی تھی ۔ اور لوگوں میں سے جنھوں نے ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا تھا اور لوگو ں کے ساتھ قربانی کے جا نور ہانک کر لے آئے تھے ۔ انھوں نے بھی ویسا ہی کیا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۔
Sahih Muslim 15:192sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ، - رضى الله عنهم - زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ قَالَ " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ " .
Hafsa (Allah be pleased with her), the wife of Allah's Apostle (ﷺ), said:Messenger of Allah. what about people who have put off Ihram whereas you have not put it off after your 'Umra? He said: I have stuck my hair and have driven my sacrificial animal, and would not, therefore, put off Ihram until I have sacrificed the animal
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے پڑھا ، انھوں نے نافع سے روایت کی ، انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں کا معاملہ کیا ہے؟ انھوں نے ( عمرے کے بعد ) احرا م کھول دیا ہے ۔ اور آپ نے اپنے عمرے ( آتے ہی طواف وسعی جو عمرے کے منسک کے برابر ہے ) کے بعد احرا م نہیں کھولا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے اپنے سر ( کے بالوں ) کو گوند یا خطمی بوٹی سے ) چپکالیا اور اپنی قربانیوں کو ہار ڈا ل دیے ۔ اس لیے میں جب تک قربانی نہ کر لوں ۔ احرا م نہیں کھول سکتا ۔
Sahih Muslim 15:194sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، - رضى الله عنهم - قَالَتْ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ قَالَ " إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي وَلَبَّدْتُ رَأْسِي فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ " .
Hafsa (Allah be pleased with her) reported:I said to Allah's Messenger (ﷺ): What is the matter with people that they have put off Ihram, whereas you have not put it off after your Umra'? He said: I have driven my sacrificial animal and stuck my hair, and it is not permissible for me to put off Ihram unless I have completed the Hajj
عبید اللہ نے کہا : مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : لوگوں کا کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے احرا م کھول دیا ہے اور آپ نے ( مناسک ) ادا ہو جا نے کے باوجود ) ابھی تک عمرے کا احرا م نہیں کھولا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے اپنی قربانی کے اونٹوں کو ہار پہنائے اور اپنے سر ( کے بالوں ) کو گوند ( جیلی ) سے چپکا یا میں جب تک حج سے فارغ نہ ہو جاؤں ۔ احرام سے فارغ نہیں ہو سکتا ۔
Sahih Muslim 15:195sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ " فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ " .
Hafsa (Allah be pleased with her) said:Messenger of Allah; the rest of the hadith is the same and (the concluding words of the Holy Prophet):" I won't put off Ihram until I have sacrificed the animal
عبید اللہ نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ( اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ( آگے ) مالک کی ھدیث کے مانند ہے ( البتہ الفاظ یوں ہیں ) : " میں جب تک قربانی نہ کر لوں ۔ احرا م سے فارغ نہیں ہو سکتا ۔
Sahih Muslim 15:196sahih
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، - رضى الله عنها - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ . قَالَتْ حَفْصَةُ فَقُلْتُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَحِلَّ قَالَ " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي " .
Hafsa (Allah be pleased with her) said that Allah's Apostle (ﷺ) commanded his wives that they should put off Ihram during the year of Hajj (at-ul-Wada'). whereupon she (Hafsa) said:What hinders you that you have not put off Ihram? Thereupon he said: I have stuck my hair and driven my sacrificial animal along with men and it is not permissible to put off Ihram (under this condition until I have sacrificed the animal)
ابن جریج نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حدیث بیان فرمائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو حجۃ الوداع کے سال حکم دیا تھا کہ وہ ( عمرہ کرنے کے بعد ) احرا م کھول دیں ۔ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے عرض کی : آپ کو احرا م کھو لنے سے کیا چیز مانع ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں اپنے سر ( کے بالوں کو ) چپکا چکا ہو ں ۔ اور اپنی قربانی کے اونٹ نحر نہ کر لوں ۔ احرام نہیں کھو ل سکتا ۔
Sahih Muslim 15:210sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ، بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، - رضى الله عنهما - قَالَتْ خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيَحْلِلْ " . فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْىٌ فَحَلَلْتُ وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْىٌ فَلَمْ يَحْلِلْ . قَالَتْ فَلَبِسْتُ ثِيَابِي ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَلَسْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ فَقَالَ قُومِي عَنِّي . فَقُلْتُ أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ
Asma bint Abu Bakr (Allah be pleased with both of them) reported:We set out (to Mecca) in a state of Ihram. Allah's Messenger (ﷺ) said: He who has the sacrificial animal with him should remain in the state of Ihram, but he who has not the sacrificial animal with him should put off Ihram. As I had not the sacrificial animal with me, I put off Ihram. And since Zubair (her husband) - had the sacrificial animal with him, he did not put off Ihram. She (Asma) said: I put on my clothes and then went out and sat by Zabair, whereupon he said: Go away from me, whereupon I said: Do you fear that I would jump upon you?
ابن جریج نے کہا : مجھے منصور بن عبدالرحمان نے اپنی والدہ صفیہ بنت شیبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ۔ انھوں نے کہا : ہم ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ) احرام باندھے ہوئے روانہ ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جس کے ساتھ قربانی ہے وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور جس کے ساتھ قربانی نہیں ہے ( وہ عمرے کےبعد ) احرام کھول دے ۔ "" میرے ساتھ قربانی نہیں تھی میں نے احرام کھول دیا اور ( میرے شوہر ) زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ قربانی تھی ، انھوں نے نہیں کھولا ۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ( عمرے کے بعد ) میں نے ( دوسرے ) کپڑے پہن لئے اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آبیٹھی ، وہ کہنے لگے : میرے پاس سے اٹھ جاؤ ، میں نے کہا : آپ کو خدشہ ہے کہ میں آپ پر جھپٹ پڑوں گی ۔
Sahih Muslim 15:215sahih
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ الْقُرِّيُّ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ أَهَلَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعُمْرَةٍ وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِحَجٍّ فَلَمْ يَحِلَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ مَنْ سَاقَ الْهَدْىَ مِنْ أَصْحَابِهِ وَحَلَّ بَقِيَّتُهُمْ فَكَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فِيمَنْ سَاقَ الْهَدْىَ فَلَمْ يَحِلَّ .
Muslim al-Qurri heardlbn 'Abbas (Allah be pleased with them) saying that Allah's Apostle (ﷺ) entered into the state of Ihram for Umra and his Companions for Hajj. Neither Allah's Apostle (ﷺ) nor those among his Companions who had brought sacrificial animals with them put off Ihram, whereas the rest (of the pilgrims) did so. Talha b. Ubaidullah was one of those who had brought the sacrificial animals along with them so he did not put off Ihram
معاذ ( بن معاذ ) نے ہمیں شعبہ سے حدیث سنائی ، ( کہا : ) مسلم قریؒ نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے : ( حجۃ الوداع کے موقع پر اولاً ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حج کے ساتھ ملاکر ) عمرہ کرنے کا تلبیہ پکاراتھا ، اور آپ کے ( بعض ) صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے حج کا تلبیہ پکارا تھا ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین جو قربانیاں ساتھ لائے تھے ، انھوں نے ( جب تک حج مکمل نہ کرلیا ) احرام نہ کھولا ، باقی صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ( جن کےہمراہ قربانیاں نہ تھیں ) احرام کھول دیا ۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی انھی لوگوں میں سے تھے جو قربانیاں ساتھ لائے تھے ، لہذا انھوں نے احرام نہ کھولا ۔
Sahih Muslim 15:216sahih
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَكَانَ مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْىُ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَحَلاَّ .
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters but with this variation (of words):" Talha and another person also were among those who had not brought the sacrificial animals with them and so they put off Ihram
محمد ، یعنی ابن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی ، البتہ انھوں نے کہا : جن کے پاس قربانیاں نہ تھیں ان میں طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک دوسرے صاحب تھے ، لہذا ان دونوں نے ( عمرے کے بعد ) احرام کھول دیا ۔
Sahih Muslim 15:221sahih
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ بِذِي طَوًى وَقَدِمَ لأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُحَوِّلُوا إِحْرَامَهُمْ بِعُمْرَةٍ إِلاَّ مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْىُ .
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (ﷺ) observed the morning prayer at Dhu Tawa (a valley near Mecca) and arrived (in Mecca) when four days of Dhul-Hijja had passed and he commanded his Companions that they should change their Ihram (of Hajj) to that of Umra, except those who had brought sacrificial animals with them
معمر نے ہمیں ہمیں خبردی انھوں نے ایوب سے انھوں نے ابو عالیہ سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ذی طوی میں ادا فر ما ئی اور ذوالحجہ کی چا ر راتیں گزری تھیں کہ تشریف لا ئے اور اپنے صحا بہ کرام حکم فرمایا کہ جس کے پاس قربانی ہے ان کے علاوہ باقی سب لو گ اپنے ( حج کے ) احرام کوعمرے میں بدل دیں ۔
Sahih Muslim 15:222sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ الْهَدْىُ فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ فَإِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:This is the 'Umra of which we have taken advantage. So he who has not the sacrificial animal with him should get out of the state of Ihram completely, for 'Umra has been incorporated in Hajj until the Day of Resurrection
محمد بن جعفر نے اور عبید اللہ بن معاذ نے اپنے والد کے واسطے سے حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ لفظ عبید اللہ کے ہیں ۔ ۔ ۔ کہا شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حکم سے ، انھوں نے مجا ہد سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " یہ عمرہ ( اداہوا ) ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھا لیا ہے ( اب ) جس کے پاس قربانی کا جا نور نہ ہو وہ مکمل طور پر حلال ہو جا ئے ۔ ( احرا م کھول دے ) یقیناً ( اب ) قیامت کے دن تک کے لیے عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے ( دونوں ایک ساتھ ادا کیے جا سکتے ہیں)
Sahih Muslim 0:0sahih
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أَمَرَنَا أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً إِلاَّ مَنْ سَاقَ الْهَدْىَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَرُحْنَا إِلَى مِنًى أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ .
Abu Sa'id (Allah be pleased with him) reported:We went out with Allah's messenger (ﷺ) pronouncing loudly the Talbiya for Hajj When we came to Mecca, he commanded us that we should change this (Ihram for Hajj) to that of Umra except one who had brought the sacrificial animal with him. When it was the day of Tarwiya (8th of Dhul-Hijja) and we went to Mini, we (again) pronounced Talbiya for Hajj
عبد الاعلی بن عبد الاعلی نے حدیث بیان کی ، ( کہا ) ہمیں داود نے ابو نضر ہ سے انھوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیا ن کی ، کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتہائی بلند آواز سے حج کا تلبیہ پکا رتے ہو ئے نکلے ۔ جب ہم مکہ پہنچے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ جن کے پاس قربانی ہے ان کے علاوہ ہم تمام اسے ( حج کو ) عمرے میں بدل دیں ۔ جب ( ترویہ ) آٹھ ذوالحجہ کا دن آیا تو ہم نے احرا م باندھا منیٰ کی طرف روانہ ہو ئے اور حج کا تلبیہ پکا را ۔
Sahih Muslim 15:234sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ مَرْوَانَ الأَصْفَرِ، عَنْ أَنَسٍ، - رضى الله عنه - أَنَّ عَلِيًّا، قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بِمَ أَهْلَلْتَ " . فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ " لَوْلاَ أَنَّ مَعِيَ الْهَدْىَ لأَحْلَلْتُ " .
Anas (Allah be pleased with him) reported that 'Ali (Allah be pleased with him) came from the Yemen, and the Apostle (ﷺ) said:With (what intention) have you put on Ihram? He said: I have put on Ibram in accordance with the intention with which Allah's Apostle (ﷺ) has put on Ibram, whereupon he (the Holy Prophet) said: Had there not been the sacrificial animals with me, I would have put off Ihram (after performing 'Umra)
(عبد الرحمٰن ) بن مہدی نے ہمیں حدیث سنا ئی ( کہا ) مجھے سلیم بن حیا ن نے مروان اصغر سے حدیث سنا ئی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) یمن سے مکہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : " تم نے کیا تلبیہ پکا را ؟انھوں نے جواب دیا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیے کے مطا بق تلبیہ پکا را ۔ آپ نے فرمایا : " اگر میرے پاس قربانی نہ ہو تی تو میں ضرور احلال ( احرا م سے فراغت ) اختیا ر کر لیتا ۔
Sahih Muslim 15:348sahih
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَلَقَ طَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ - مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ - وَالْمُقَصِّرِينَ " .
Abdullah reported that Allah's Messenger (ﷺ) got his head shaved (after slaughtering the sacrificial animal on the 10th of Dhu'l-Hijja), and so did a group of Companions, while some of them got their hair clipped. Abdullah said:Allah's Messenger (may peace'be upon him) observed once or twice:" May Allah have mercy upon those who get their heads shaved." And he also said:" Upon those too who got their hair clipped
لیث نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت نے سر منڈایا ، اور ان میں سے کچھ نے بال کٹوائے ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" اللہ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے ۔ "" ایک یادو مرتبہ ( دعا کی ) پھر فرمایا : "" اور بال کٹوانے والوں پر بھی "" ( ان کے لئے صرف ایک بار دعا کی ۔)
Sahih Muslim 15:356sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى مِنًى فَأَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتَى مَنْزِلَهُ بِمِنًى وَنَحَرَ ثُمَّ قَالَ لِلْحَلاَّقِ " خُذْ " . وَأَشَارَ إِلَى جَانِبِهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ الأَيْسَرِ ثُمَّ جَعَلَ يُعْطِيهِ النَّاسَ .
Anas b. Malik (Allah be pleased wish him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) came to Mina; he went to the Jamra and threw pebbles at it, after which he went to his lodging in Mina, and sacrificed the animal. He then called for a barber and, turning his right side to him, let him shave him; after which he tiimed his left side. He then gave (these hair) to the people
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں حفص بن غیاث نے ہشام سے خبر دی انھوں نے محمد بن سیرین سے اور انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ تشر یف لا ئے پھر جمرہ عقبہ کے پاس آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر منیٰ میں اپنے پڑاؤ پر آئے اور قر با نی کی ، پھر بال مونڈنے والے سے فر ما یا : " پکڑو ۔ " اور آپ نے اپنے ( سر کی ) دائیں طرف اشاراہ کیا پھر بائیں طرف پھر آپ ( اپنے موئے مبارک ) لوگوں کو دینے لگے ۔
Sahih Muslim 15:356sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى مِنًى فَأَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتَى مَنْزِلَهُ بِمِنًى وَنَحَرَ ثُمَّ قَالَ لِلْحَلاَّقِ " خُذْ " . وَأَشَارَ إِلَى جَانِبِهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ الأَيْسَرِ ثُمَّ جَعَلَ يُعْطِيهِ النَّاسَ .
Anas b. Malik (Allah be pleased wish him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) came to Mina; he went to the Jamra and threw pebbles at it, after which he went to his lodging in Mina, and sacrificed the animal. He then called for a barber and, turning his right side to him, let him shave him; after which he tiimed his left side. He then gave (these hair) to the people
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں حفص بن غیاث نے ہشام سے خبر دی انھوں نے محمد بن سیرین سے اور انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ تشر یف لا ئے پھر جمرہ عقبہ کے پاس آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر منیٰ میں اپنے پڑاؤ پر آئے اور قر با نی کی ، پھر بال مونڈنے والے سے فر ما یا : " پکڑو ۔ " اور آپ نے اپنے ( سر کی ) دائیں طرف اشاراہ کیا پھر بائیں طرف پھر آپ ( اپنے موئے مبارک ) لوگوں کو دینے لگے ۔
Sahih Muslim 15:358sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ، بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْبُدْنِ فَنَحَرَهَا وَالْحَجَّامُ جَالِسٌ وَقَالَ بِيَدِهِ عَنْ رَأْسِهِ فَحَلَقَ شِقَّهُ الأَيْمَنَ فَقَسَمَهُ فِيمَنْ يَلِيهِ ثُمَّ قَالَ " احْلِقِ الشِّقَّ الآخَرَ " . فَقَالَ " أَيْنَ أَبُو طَلْحَةَ " . فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ .
Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) threw stones at Jamrat al-'Aqaba. He then want to his sacrificial animal and sacrificed it, and there was sitting the barber, and he pointed with his hand towards his head, and he shaved the right half of it, and he (the Holy Prophet) distributed them (the hair) among those who were near him. And he again said:Shave the other half, and said: Where is Abu Talha and gave it (the hair) to him
ہمیں عبد الاعلیٰ نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ہشام ( بن حسان ) نے محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی انھوں نے انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہعقبہ کو کنکریاں ماریں پھر قربانی کے اونٹوں کی طرف تشریف لے گئے اور انھیں نحر کیا اور حجام ( آپ کے لیے ) بیٹھا ہوا تھا آپ نے ( اسے ) اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے سر سے ( بالاتارنے کا ) اشارہ کیا تو اس نے آپ ( کے سر ) کی دائیں طرف کے بال اتاردیے ۔ آپ نے وہ بال ان لو گوں میں بانٹ دیے جو آُ کے قریب موجود تھے ۔ پھر فر ما یا : " دوسری طرف کے بال ( بھی ) اتار دو ۔ اس کے بعد آپ نے فر ما یا : " ابو طلحہ کہاں ہیں ؟اور آپ نے وہ ( موئے مبارک ) انھیں دے دیے ۔
Sahih Muslim 15:358sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ، بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْبُدْنِ فَنَحَرَهَا وَالْحَجَّامُ جَالِسٌ وَقَالَ بِيَدِهِ عَنْ رَأْسِهِ فَحَلَقَ شِقَّهُ الأَيْمَنَ فَقَسَمَهُ فِيمَنْ يَلِيهِ ثُمَّ قَالَ " احْلِقِ الشِّقَّ الآخَرَ " . فَقَالَ " أَيْنَ أَبُو طَلْحَةَ " . فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ .
Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) threw stones at Jamrat al-'Aqaba. He then want to his sacrificial animal and sacrificed it, and there was sitting the barber, and he pointed with his hand towards his head, and he shaved the right half of it, and he (the Holy Prophet) distributed them (the hair) among those who were near him. And he again said:Shave the other half, and said: Where is Abu Talha and gave it (the hair) to him
ہمیں عبد الاعلیٰ نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ہشام ( بن حسان ) نے محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی انھوں نے انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہعقبہ کو کنکریاں ماریں پھر قربانی کے اونٹوں کی طرف تشریف لے گئے اور انھیں نحر کیا اور حجام ( آپ کے لیے ) بیٹھا ہوا تھا آپ نے ( اسے ) اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے سر سے ( بالاتارنے کا ) اشارہ کیا تو اس نے آپ ( کے سر ) کی دائیں طرف کے بال اتاردیے ۔ آپ نے وہ بال ان لو گوں میں بانٹ دیے جو آُ کے قریب موجود تھے ۔ پھر فر ما یا : " دوسری طرف کے بال ( بھی ) اتار دو ۔ اس کے بعد آپ نے فر ما یا : " ابو طلحہ کہاں ہیں ؟اور آپ نے وہ ( موئے مبارک ) انھیں دے دیے ۔
Sahih Muslim 15:359sahih
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْجَمْرَةَ وَنَحَرَ نُسُكَهُ وَحَلَقَ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَةَ الأَنْصَارِيَّ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الأَيْسَرَ فَقَالَ " احْلِقْ " . فَحَلَقَهُ فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ " اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ ".
Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported:When Allah's Messenger (ﷺ) had thrown pebbles at the Jamra and had sacrificed the animal, he turned (the right side) of his head towards the barber, and i. e shaved it. He then called Abu Talha al-Ansari and gave it to him. He then turned his left side and asked him (the barber) to shave. And he (the barber) shaved. and gave it to Abu Talha and told him to distribute it amongst the people
ہم سے سفیان نے حدیث بیان کی ( کہا ) میں نے ہشام بن حسان سے سنا وہ ابن سیرین سے خبر دے رہے تھے انھوں نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اپنی قربانی ( کے اونٹوں ) کو نحر کیا اور پھر سر منڈوانے لگے تو آپ نے اپنے سر کی دائیں جا نب مونڈنے والے کی طرف کی تو اس نے اس طرف کے بال اتار دیے آپ نے طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا یا اور وہ ( بال ) ان کے حوالے کر دیے ۔ پھر آپ نے ( سر کی ) بائیں جا نب اس کی طرف کی اور فر ما یا ۔ ( اس کے ) بالاتاردو ۔ اس نے وہ بال اتاردیے تو آپ نے وہ بھی ابو طلحہ کو دے دیے اور فر ما یا ان ( بائیں طرف والے بالوں ) کولوگوں میں تقسیم کر دو
Sahih Muslim 15:359sahih
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْجَمْرَةَ وَنَحَرَ نُسُكَهُ وَحَلَقَ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَةَ الأَنْصَارِيَّ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الأَيْسَرَ فَقَالَ " احْلِقْ " . فَحَلَقَهُ فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ " اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ ".
Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported:When Allah's Messenger (ﷺ) had thrown pebbles at the Jamra and had sacrificed the animal, he turned (the right side) of his head towards the barber, and i. e shaved it. He then called Abu Talha al-Ansari and gave it to him. He then turned his left side and asked him (the barber) to shave. And he (the barber) shaved. and gave it to Abu Talha and told him to distribute it amongst the people
ہم سے سفیان نے حدیث بیان کی ( کہا ) میں نے ہشام بن حسان سے سنا وہ ابن سیرین سے خبر دے رہے تھے انھوں نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اپنی قربانی ( کے اونٹوں ) کو نحر کیا اور پھر سر منڈوانے لگے تو آپ نے اپنے سر کی دائیں جا نب مونڈنے والے کی طرف کی تو اس نے اس طرف کے بال اتار دیے آپ نے طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا یا اور وہ ( بال ) ان کے حوالے کر دیے ۔ پھر آپ نے ( سر کی ) بائیں جا نب اس کی طرف کی اور فر ما یا ۔ ( اس کے ) بالاتاردو ۔ اس نے وہ بال اتاردیے تو آپ نے وہ بھی ابو طلحہ کو دے دیے اور فر ما یا ان ( بائیں طرف والے بالوں ) کولوگوں میں تقسیم کر دو
Sahih Muslim 15:360sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ، طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ . فَقَالَ " اذْبَحْ وَلاَ حَرَجَ " . ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ فَقَالَ " ارْمِ وَلاَ حَرَجَ " . قَالَ فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَىْءٍ قُدِّمَ وَلاَ أُخِّرَ إِلاَّ قَالَ " افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ " .
Abdullah b. 'Amr b. al-'As said that Allah's Messenger (ﷺ) stopped during the Farewell Pilgrimage at Mina for people who had something to ask. A man came and said:Messenger of Allah, being ignorant. I shaved before sacrificing, whereupon he (the Holy Prophet) said: Now sacrifice (the animal) and there is no harm (for you). Then another man came and he said: Messenger of Allah, being ignorant, I sacrificed before throwing the pebbles, whereupon he (the Holy Prophet) said: (Now) throw the pebbles, and there is no harm (for you). Allah's Messenger (ﷺ) was not asked about anything which had been done before or after (its proper time) but he said: Do it, and no harm is there (for you)
امام مالک نے ابن شہاب سے انھوں نے عیسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ سے انھوں نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کے لیے ٹھہرے رہے وہ آپ سے مسائل پوچھ رہے تھے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں سمجھ نہ سکا ( کہ پہلے کیا ہے ) اور میں نے قر با نی کرنے سے پہلے سر منڈوالیا ہے ؟ آپ نے فر ما یا ؛ ( اب ) قر با نی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ پھر ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے پتہ نہ چلا اور میں نے رمی کرنے سے پہلے قر با نی کر لی ؟ آپ نے فر ما یا : " ( اب ) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق جس میں تقدیم یا تا خیر کی گئی نہیں پو چھا گیا مگر آپ نے ( یہی ) فر ما یا : " ( اب ) کر لو کو ئی حرج نہیں ۔
Sahih Muslim 15:361sahih
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَاحِلَتِهِ فَطَفِقَ نَاسٌ يَسْأَلُونَهُ فَيَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَشْعُرُ أَنَّ الرَّمْىَ قَبْلَ النَّحْرِ فَنَحَرْتُ قَبْلَ الرَّمْىِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَارْمِ وَلاَ حَرَجَ " . قَالَ وَطَفِقَ آخَرُ يَقُولُ إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ أَنَّ النَّحْرَ قَبْلَ الْحَلْقِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ . فَيَقُولُ " انْحَرْ وَلاَ حَرَجَ " . قَالَ فَمَا سَمِعْتُهُ يُسْأَلُ يَوْمَئِذٍ عَنْ أَمْرٍ مِمَّا يَنْسَى الْمَرْءُ وَيَجْهَلُ مِنْ تَقْدِيمِ بَعْضِ الأُمُورِ قَبْلَ بَعْضٍ وَأَشْبَاهِهَا إِلاَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " افْعَلُوا ذَلِكَ وَلاَ حَرَجَ " .
Abdullah b. 'Amr b. al-'As (Allah be pleased with them) reported:Allah's Messenger (ﷺ) stopped while riding his camel and the people began to ask him. One of the inquirers said: Messenger of Allah, I did not know that pebbles should be thrown before sacrificing the animal, and by mistake I sacrificed the animal before throwing pebbles, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: (Now) throw pebbles and there is no harm in it. Then another (person) came saying: I did not know that the animal was to be sacrificed before shaving, but I got myself shaved before sacrificing the animal, whereupon he (the Holy Prophet) said: Sacrifice the animal (now) and there is no harm in it. He (the narrator) said: I did not hear that anything was asked on that day (shout a matter) which a person forgot and could not observe the sequence or anything like it either due to forgetfulness or ignorance, but Allah's Messenger (ﷺ) said (about that): Do it; there is no harm in it
یو نس نے ابن شہاب سے باقی ماند ہ اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہہ رہے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( منیٰ میں ) اپنی سواری پر ٹھہر گئے اور لوگوں نے آپ سے سوالات شروع کر دیے ان میں سے ایک کہنے والا کہہ رہا تھا ۔ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے معلوم نہ تھا کہ رمی ( کا عمل ) قربانی سے پہلے ہے میں نے رمی سے پہلے قربا نی کر لی ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تو ( اب ) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ کو ئی اور شخص کہتا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے معلوم نہ تھا کہ قر با نی سر منڈوانے سے پہلے ہے میں نے قر بانی کر نے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے ؟تو آپ فر ما تے ( اب ) قر بانی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ ( عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا میں نے آپ سے نہیں سنا کہ اس دن آپ سے ان اعمال کے بارے میں جن میں آدمی بھول سکتا ہے یا لا علم رہ سکتا ہے ان میں سے بعض امور کی تقدیم ( وتاخیر ) یا ان سے ملتی جلتی باتوں کے بارے میں نہیں پو چھا گیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہی ) فر ما یا : " ( اب ) کر لو کو ئی حرج نہیں ۔
Sahih Muslim 15:364sahih
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ح وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَمَّا رِوَايَةُ ابْنِ بَكْرٍ فَكَرِوَايَةِ عِيسَى إِلاَّ قَوْلَهُ لِهَؤُلاَءِ الثَّلاَثِ . فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ وَأَمَّا يَحْيَى الأُمَوِيُّ فَفِي رِوَايَتِهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ . وَأَشْبَاهَ ذَلِكَ .
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters. And the narration of Ibn Bakr is like one transmitted by 'Isa but with this (variation):" There are not these words in it: To all these three rites (throwing of pebbles sacrificing of animal and shaving of one's head)." And so far as the narration of Yahya al-Umawi (the words are): I got (my head) shaved before I sacrificed the animal, and I sacrified the animal before throwing pebbles, and like that
محمد بن بکر اور سعید بن یحییٰ اموی نے اپنے والد ( یحییٰ اموی ) کے واسطے سے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ، ابن بکر کی روایت عیسیٰ کی گزشتہ روایت کی طرح ہے سوائے ان کے اس قول کے " ان تین چیزوں کے بارے میں " اور ہے یحییٰ اموی تو ان کی روایت میں ہے میں نے قر بانی کرنے سے پہلے سر منڈوالیا میں نے رمی کرنے سے پہلے قر با نی کر لی اور اسی سے ملتی جلتی باتیں
Sahih Muslim 15:365sahih
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَقَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ . قَالَ " فَاذْبَحْ وَلاَ حَرَجَ " . قَالَ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ . قَالَ " ارْمِ وَلاَ حَرَجَ " .
Adullah b. 'Amr (b. al-'As) (Allah be pleased with him) reported that a person came to Allah's Apostle (ﷺ) and said:I got (my head) shaved before sacrificing the, animal, whereupon be (the Holy Prophet) said: Sacrifice the animal (now) ; there is no harm in it. He (the person said): I sacripced the animal before throwingpebbles. whereupon he said: Throw pebbles (now) ; there is no harm in it
ہمیں ( سفیان ) بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انھوں نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کو ئی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : میں نے قر با نی کر نے سے پہلے سر منڈوالیا ہے آپ نے فر ما یا ( اب ) قربانی کرلو رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ ( کسی اور نے ) کہا : میں رمی سے پہلے قر با نی کر لی ہے تو آپ نے فر ما یا : " ( اب ) رمی کر لو کوئی حرج نہیں ۔
Sahih Muslim 15:367sahih
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ . فَقَالَ " ارْمِ وَلاَ حَرَجَ " وَأَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ . قَالَ " ارْمِ وَلاَ حَرَجَ " . وَأَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ إِنِّي أَفَضْتُ إِلَى الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ . قَالَ " ارْمِ وَلاَ حَرَجَ " . قَالَ فَمَا رَأَيْتُهُ سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ قَالَ " افْعَلُوا وَلاَ حَرَجَ " .
Abdullah b. 'Amr b. al-As (Allah be pleased with them) said:As Allah's Messenger (may peace be'upon him) was standing near the jamra, a person came to him on the Day of Nahr and said: Messenger of Allah, I got (my head shaved) before throwing pebbles, whereupon he (the Holy Prophet) said: Throw pebbles (now) ; there is no harm in it. Another man (then) came and said: I have sacrificed before throwing the stones. He said: Throw stones (now) and there is no harm. Another came to him and said: I have observed the circumambulation of Ifada of the House before throwing pebbles. He said: Throw pebbles (now) ; there is no harm in it, He (the narrator) said: I did not see that he (the Holy Prophet) was asked about anything on that day, but he said: Do, and there is no harm in it
محمد بن ابی حفصہ نے ہمیں زہری سے خبر دی انھوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انھوں نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جب آپ کے پاس قر بانی کے دن ایک آدمی آیا آپ جمرہ عقبہ کے پاس رکے ہو ئے تھے ۔ اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے رمی کر نے سے پہلے سر منڈوالیا ہے آپ نے فر ما یا : " ( اب رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ ایک اور آدمی آیا ۔ وہ کہنے لگا : میں نے رمی سے پہلے قر با نی کر لی ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " ( اب ) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں پھر آپ کے پاس ایک اور آدمی آیا اور کہا میں نے رمی سے پہلے طواف افاضہ کر لیا ؟ ہے ؟فر ما یا : " ( اب ) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ کہا : میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ اس دن آپ سے کسی بھی چیز ( کی تقدیمو تا خیر ) کے بارے میں سوال کیا گیا ہو مگر آپ نے یہی فر ما یا : " کر لو کو ئی حرج نہیں ۔
Sahih Muslim 15:368sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قِيلَ لَهُ فِي الذَّبْحِ وَالْحَلْقِ وَالرَّمْىِ وَالتَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فَقَالَ " لاَ حَرَجَ " .
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that it was said to Allah's Apostle (ﷺ) about sacrificing of animals, shaving of one's head, throwing of pebbles, and (the order of) precedence and succession, and he said:There is no harm in it
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قر با نی کرنے سر منڈوانے رمی کرنے اور ( کا موں کی ) تقدیم و تا خیر کے بارے میں پو چھا گیا تو آپ نے فر ما یا : " کو ئی حرج نہیں ۔
Sahih Muslim 15:384sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا وَأَنْ لاَ أُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْهَا قَالَ " نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا " .
All (Allah be pleased with him) reperted:Allah's Messenger (ﷺ) put me in charge of his sacrificial animals, that I should give their flesh. skins and saddle cloths as sadaqa, but not to give anything to the butcher, saying: We would pay him ourselves
(ابو خثیمہ نے ہمیں عبد الکریم سے خبر دی انھوں نے مجاہدسے انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے اور انھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے قر با نی کے اونٹوں کی نگرا نی کروں اور یہ کہ ان گو کا گو شت کھا لیں اور جھولیں صدقہ کروں نیز ان میں سے قصاب کو بطور اجرتکچھ بھی ) نہ دو ں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہم اس کو اپنے پاس سے ( اجرت ) دیں گے ۔
Sahih Muslim 15:387sahih
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ مُجَاهِدًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ . أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلاَلَهَا فِي الْمَسَاكِينِ وَلاَ يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا مِنْهَا شَيْئًا .
Ali b. Abi Talib (Allah be pleased with him) reported:Allah's Apostle (ﷺ) put him in charge of his sacrificial animals, and commanded him to distribute the whole of their meat, hides, and saddle cloths to the poor, and not to give to the butcher anything out of them
حسن بن مسلم نے خبر دی کہ انھیں مجا ہد نے خبر دی انھیں عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے خبردی انھیں علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبردی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ وہ آپ کی قر بانی کے اونٹوں کی نگرانی کریں اور انھیں حکم دیا کہ آپ کی پو ری قر با نیوں کو ( یعنی ) ان کے گو شت کھالوں اور ( ان کی پشت پر ڈالی ہو ئی ) جھولوں کو مسکینوں میں تقسیم کر دیں اور ان میں سے کچھ بھی ذبح کی اجرت کے طور پر نہ دیں ۔
Sahih Muslim 15:389sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with him) reported:In the year of Hudaibiya (6 H ), we, along with Allah's Messenger (way peace be upon him), sacrificed a camel for seven persons and a cow for seven persons
امام ما لک نے ابو زبیر سے اور انھوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ہم نے ساتھ افراد کی طرف سے ایک اونٹ ساتھ کی طرف سے ایک گا ئے کی قربانیاں دیں ۔
Sahih Muslim 15:390sahih
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح. وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الإِبِلِ وَالْبَقَرِ كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ .
Jabir (Allah be pleased with him) reported:We set out in the state of Ihram for Hajj along, with Allah's Messenger (ﷺ). He commanded us that seven persons should join in a camel and a cow for offering sacrifice
ہمیں زہیر نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں ابو زبیر نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ کہتے ہو ئے نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گا ئے میں شریک ہو جا ئیں ہم میں سے ساتھ آدمی ایک قر با نی میں شر یک ہوں ۔
Sahih Muslim 15:398sahih
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهْدِي مِنَ الْمَدِينَةِ فَأَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْيِهِ ثُمَّ لاَ يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Messenger (ﷺ) sent the sacrificial animals from Medina. I wove garlands for his sacrificial animals (and then he hung them round their necks), and he would not avoid doing anything which the Muhrim avoids
ہمیں لیث نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی انھوں نے عروہ بن زبیر اور عمر ہ بنت عبد الرحمٰن سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے قر بانی کے جا نوروں کا ہدیہ بھیجا کرتے تھے اور میں آپ کے ہدیے ( کے جانوروں ) کے لیے ہار بٹتی تھی پھر آپ کسی بھی ایسی چیز سے اجتناب نہ کرتے جس سے ایک احرام والا شخص اجتناب کرتا ہے ۔
Sahih Muslim 15:400sahih
وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح. وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا أَخْبَرَنَا حَمَّادُ، بْنُ زَيْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَىَّ أَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ .
A'isha narrated (in another hadith narrated through another chain of transmitters) these words:"As if I am seeing myself weaving the garlands for the sacrificial animals of Allah's Messenger (ﷺ)
ہمیں سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی نیز ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا جیسے میں خود کو دیکھتی رہی ہوں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر بانی کے ہار بٹ رہی ہوں ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی طرح ہے ۔
Sahih Muslim 15:401sahih
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ هَاتَيْنِ ثُمَّ لاَ يَعْتَزِلُ شَيْئًا وَلاَ يَتْرُكُهُ
Abd al-Rahman b. al-Qasim reported on the authority of his father that he heard 'A'isha (Allah be pleased with her) saying:I used to weave garlands for the sacrificial animals of Allah's Messenger (ﷺ) with these hands of mine, but he (Allah's Apostle) neither avoided anything nor gave up anything (which a Muhrim should avoid or give up)
عبد الرحمٰن بن قاسم نے اپنے والد سے روایت کی انھوں نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ فر ما رہی تھیں : میں اپنے ان دونوں ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھیجے جا نے والے جانوروں کے ہا ر بٹتی تھی پھر آپ نہ ( ایسی ) کسی چیز سے الگ ہو تے اور نہ ( ایسی کوئی چیز ) ترک کرتے تھے ( جو احرام کے بغیر آپ کیا کرتے تھے)
Sahih Muslim 15:402sahih
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ فَتَلْتُ قَلاَئِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى الْبَيْتِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَىْءٌ كَانَ لَهُ حِلاًّ .
A'isha reported:I wove the garlands for the sacrificial animals of Allah's Messenger (ﷺ) with my own bands, and then he (the Holy Prophet) marked them, and garlanded them, and then sent them to the House, and stayed at Medina and nothing was forbidden to him which was lawful for him (before)
افلح نے ہمیں قاسم سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر بینوں کے ہار بٹے پھر آپ نے ان کا اشعار کیا ( کوہان پر چیر لگا ئے ) اور ہا ر پہنائے پھر انھیں بیت اللہ کی طرف بھیج دیا اور ( خود ) مدینہ میں مقیم رہے اور آپ پر ( انکی وجہ سے ) کو ئی چیز جو ( پہلے ) آپ کے لیے حلال تھی حرا م نہ ہو ئی ۔
Sahih Muslim 15:403sahih
وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ، وَأَبِي، قِلاَبَةَ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَبْعَثُ بِالْهَدْىِ أَفْتِلُ قَلاَئِدَهَا بِيَدَىَّ ثُمَّ لاَ يُمْسِكُ عَنْ شَىْءٍ لاَ يُمْسِكُ عَنْهُ الْحَلاَلُ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:Allah's Messenger (ﷺ) sent the sacrificial animals and I wove garlands for them with my own 'hands, and he did not refrain from doing anything which he did not avoid in the state of non-Muhrim
ایوب نے قاسم اور ابو قلابہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بیت اللہ کی طرف ) ہدی بھیجتے تھے میں اپنے دونوں ہاتھوں سے ان کے ہار بٹتی تھی پھر آپ کسی بھی ایسی چیز سے اجتنا ب نہ کرتے تھے جس سے کو ئی بھی غیر محرم ( بغیر احرام والا شخص ) اجتناب نہیں کرتا ۔
Sahih Muslim 15:405sahih
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْتِلُ الْقَلاَئِدَ لِهَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْغَنَمِ فَيَبْعَثُ بِهِ ثُمَّ يُقِيمُ فِينَا حَلاَلاً .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:I recall how I wove garlands for the sacrificial animals (the goats) of Allah's Messenger (ﷺ). He sent them and then stayed with us as a non-Muhrim
منصور نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے خود دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی ( قر بانی ) کے لیے بکریوں کے ہار بٹ رہی ہوں اس کے بعد آپ انھیں ( مکہ ) بھیجتے پھر ہمارے درمیان احرا م کے بغیر ہی رہتے ۔
Sahih Muslim 15:406sahih
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ رُبَّمَا فَتَلْتُ الْقَلاَئِدَ لِهَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيُقَلِّدُ هَدْيَهُ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ ثُمَّ يُقِيمُ لاَ يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ .
A'isha (Allah, be pleased, with her) reported:I often wove garlands for the sacrificial animals of Allah's Messenger (ﷺ), and he garlanded his sacrificial animals, and then he sent them and stayed in the ouse) avoiding nothing which a Muhrim avoids
یحییٰ بن یحییٰ ابو بکر بن ابی شیبہ اور بو کریب میں یحییٰ نے کہا : ابو معاویہ نے ہمیں خبردی اور دوسرے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے اعمش سے انھوں نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں کہا : ایسا ہوا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی ( قربانی کے لیے بیت اللہ بھیجے جا نے والے جا نور ) کے لیے ہار تیار کرتی آپ وہ ( ہار ) ان جانوروں کو ڈالتے پھر انھیں ( مکہ ) بھیجتے پھر آپ ( مدینہ ہی میں ) ٹھہرتے آپ ان میں سے کسی چیز سے اجتناب نہ فر ما تے جن سے احرام باندھنے والا شخص اجتناب کرتا ہے ۔
Sahih Muslim 15:407sahih
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّةً إِلَى الْبَيْتِ غَنَمًا فَقَلَّدَهَا .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:Allah's Messenger (may peace be upon, him) sent some goats as sacrificial animals to the House and He garlanded them
یحییٰ بن یحییٰ ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بیت اللہ کی طرف ہدی ( قر بانی ) کی بکریاں بھیجیں تو آپ نے انھیں ہار ڈالے ۔
Sahih Muslim 15:408sahih
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنَّا نُقَلِّدُ الشَّاءَ فَنُرْسِلُ بِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَلاَلٌ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ مِنْهُ شَىْءٌ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:We used to garland the goats and send them (to Mecca), and Allah's Messenger (ﷺ) stayed back in Medina as a non-Muhrim ard nothing was forbidden for him (which is forbidden for a Muhrim)
حکم نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا ہم بکریوں کو ہار پہناتے پھر انھیں ( بیت اللہ کی طرف ) بھیجتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیر محرم رہتے اس سے کوئی چیز ( جو پہلے آپ پر حلا ل تھی ) حرام نہ ہو تی تھی ۔
Sahih Muslim 15:409sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ ابْنَ زِيَادٍ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ حَتَّى يُنْحَرَ الْهَدْىُ وَقَدْ بَعَثْتُ بِهَدْيِي فَاكْتُبِي إِلَىَّ بِأَمْرِكِ . قَالَتْ عَمْرَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا فَتَلْتُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَىْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ حَتَّى نُحِرَ الْهَدْىُ .
Amra daughter of Abd al-Rahman reported that Ibn Ziyad had written to 'A'isha (Allah be pleased with him) that 'Abdullah b. Abbas (Allah be pleased with them) bad said that he who sent a sacrificial animal (to Mecca) for him was forbidden what is forbidden for a pilgrim (in the state of Ihram) until the animal is sacrificed I have myself sent my sacrificial animal (to Mecca), so write to me your opinion. Amra reported 'A'isha (Allah be pleased with her) as saying:It is not as Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) had asserted, for I wove the garlands for the sacrificial animals of Allah's Messenger (ﷺ) with my own hands. Allah's Messenger (ﷺ) then garlanded them with his own hands, and then sent them with my father, and nothing was forbidden for Allah's Messenger (ﷺ) which had been made lawful for him by Allah until the animals were sacrificed
عمرہ بنت عبد الرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبردی کہ ابن زیاد نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لکھا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہے جس نے ہدی ( بیت اللہ کے لیے قربانی ) بھیجی اس پر وہ سب کچھ حرا م ہو جا ئے گا جو حج کرنے والے کے لیے حرا م ہو تا ہے یہاں تک کہ ہدی کو ذبح کر دیا جا ئے ۔ اور میں نے اپنی ہدی بھیجی ہے تو مجھے ( اس بارے میں ) اپنا حکم لکھ بھیجیے عمرہ نے کہا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ( بات ) اس طرح نہیں جیسے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہے میں نے خود اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر بانیوں کے ہار بٹے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے وہ ( ہار ) انھیں پہنائے پھر انھیں میرے والد کے ساتھ ( مکہ ) بھیجا اس کے بعد ہدی نحر ( قر بان ) ہو نے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ( ایسی ) کو ئی چیز حرا م نہ ہو ئی جو اللہ نے آپ کے لیے حلا ل کی تھی ۔
Sahih Muslim 15:409sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ ابْنَ زِيَادٍ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ حَتَّى يُنْحَرَ الْهَدْىُ وَقَدْ بَعَثْتُ بِهَدْيِي فَاكْتُبِي إِلَىَّ بِأَمْرِكِ . قَالَتْ عَمْرَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا فَتَلْتُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَىْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ حَتَّى نُحِرَ الْهَدْىُ .
Amra daughter of Abd al-Rahman reported that Ibn Ziyad had written to 'A'isha (Allah be pleased with him) that 'Abdullah b. Abbas (Allah be pleased with them) bad said that he who sent a sacrificial animal (to Mecca) for him was forbidden what is forbidden for a pilgrim (in the state of Ihram) until the animal is sacrificed I have myself sent my sacrificial animal (to Mecca), so write to me your opinion. Amra reported 'A'isha (Allah be pleased with her) as saying:It is not as Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) had asserted, for I wove the garlands for the sacrificial animals of Allah's Messenger (ﷺ) with my own hands. Allah's Messenger (ﷺ) then garlanded them with his own hands, and then sent them with my father, and nothing was forbidden for Allah's Messenger (ﷺ) which had been made lawful for him by Allah until the animals were sacrificed
عمرہ بنت عبد الرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبردی کہ ابن زیاد نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لکھا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہے جس نے ہدی ( بیت اللہ کے لیے قربانی ) بھیجی اس پر وہ سب کچھ حرا م ہو جا ئے گا جو حج کرنے والے کے لیے حرا م ہو تا ہے یہاں تک کہ ہدی کو ذبح کر دیا جا ئے ۔ اور میں نے اپنی ہدی بھیجی ہے تو مجھے ( اس بارے میں ) اپنا حکم لکھ بھیجیے عمرہ نے کہا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ( بات ) اس طرح نہیں جیسے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہے میں نے خود اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر بانیوں کے ہار بٹے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے وہ ( ہار ) انھیں پہنائے پھر انھیں میرے والد کے ساتھ ( مکہ ) بھیجا اس کے بعد ہدی نحر ( قر بان ) ہو نے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ( ایسی ) کو ئی چیز حرا م نہ ہو ئی جو اللہ نے آپ کے لیے حلا ل کی تھی ۔
Sahih Muslim 15:410sahih
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، وَهْىَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ تُصَفِّقُ وَتَقُولُ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا وَمَا يُمْسِكُ عَنْ شَىْءٍ مِمَّا يُمْسِكُ عَنْهُ الْمُحْرِمُ حَتَّى يُنْحَرَ هَدْيُهُ
Masruq reported:I heard 'A'isha (Allah be pleased with her) clapping her hands behind the curtain and saying: I used to weave garlands for the sacrificial animals of Allah's Messenger (ﷺ) with my own hands, and then he (the Holy Prophet) sent them (to Mecca), and he did not avoid doing anything which a Muhritn avoids until his animal was sacrificed
اسما عیل بن ابی خالد نے ہمیں خبردی انھوں نے شعبی سے اور انھوں نے مسروق سے روایت کی ، انھوں نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ پردے کی اوٹ سے ہاتھ پر ہا تھ مار رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں میں اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر با نیوں کے ہار بٹا کرتی تھی ، پھر آپ انھیں ( مکہ ) بھیجتے اور ہدی کو ذبح کرنے ( کے وقت ) تک آپ ان میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہ فر ما تے جس سے احرام والا شخص اجتناب کرتا ہے
Sahih Muslim 15:410sahih
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، وَهْىَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ تُصَفِّقُ وَتَقُولُ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا وَمَا يُمْسِكُ عَنْ شَىْءٍ مِمَّا يُمْسِكُ عَنْهُ الْمُحْرِمُ حَتَّى يُنْحَرَ هَدْيُهُ
Masruq reported:I heard 'A'isha (Allah be pleased with her) clapping her hands behind the curtain and saying: I used to weave garlands for the sacrificial animals of Allah's Messenger (ﷺ) with my own hands, and then he (the Holy Prophet) sent them (to Mecca), and he did not avoid doing anything which a Muhritn avoids until his animal was sacrificed
اسما عیل بن ابی خالد نے ہمیں خبردی انھوں نے شعبی سے اور انھوں نے مسروق سے روایت کی ، انھوں نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ پردے کی اوٹ سے ہاتھ پر ہا تھ مار رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں میں اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر با نیوں کے ہار بٹا کرتی تھی ، پھر آپ انھیں ( مکہ ) بھیجتے اور ہدی کو ذبح کرنے ( کے وقت ) تک آپ ان میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہ فر ما تے جس سے احرام والا شخص اجتناب کرتا ہے
Sahih Muslim 15:412sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ " ارْكَبْهَا " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ . فَقَالَ " ارْكَبْهَا وَيْلَكَ " . فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) rerorted that Allah's Messenger (ﷺ) saw a person who was driving a sacrificial camel (and told him to ride on it. Thereupon he said:Messenger of Allah, it is a sacrificial camel. He told him again to ride on it; (when he received the same reply) he said: Woe to you, (he uttered these words on the second or the third reply)
امام مالک نے ابو زناد سے انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا وہ قربانی کا اونٹ ہانک رہا ہے تو آپ نے فر ما یا : " اس پر سوار ہو جا ؤ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ قر بانی کا اونٹ ہے آپ نے فر ما یا : " تمھا ری ہلا کت !اس پر سوار ہو جاؤ ۔ دوسری یا تیسری مرتبہ ( یہ الفاظ کہے)
Sahih Muslim 15:412sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ " ارْكَبْهَا " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ . فَقَالَ " ارْكَبْهَا وَيْلَكَ " . فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) rerorted that Allah's Messenger (ﷺ) saw a person who was driving a sacrificial camel (and told him to ride on it. Thereupon he said:Messenger of Allah, it is a sacrificial camel. He told him again to ride on it; (when he received the same reply) he said: Woe to you, (he uttered these words on the second or the third reply)
امام مالک نے ابو زناد سے انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا وہ قربانی کا اونٹ ہانک رہا ہے تو آپ نے فر ما یا : " اس پر سوار ہو جا ؤ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ قر بانی کا اونٹ ہے آپ نے فر ما یا : " تمھا ری ہلا کت !اس پر سوار ہو جاؤ ۔ دوسری یا تیسری مرتبہ ( یہ الفاظ کہے)
Sahih Muslim 15:413sahih
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَدَنَةً مُقَلَّدَةً .
This hadith has been narrated by A'raj with the same chain of transmitters (and the words are):" Whereas the person was driving a sacrificial camel which was garlanded
مغیرہ بن عبد الرحمٰن حزامی نے ابو زناد سے اور انھوں نے اعرج سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا اس اثنا میں کہ ایک آدمی ہار ڈالے گئے اونٹ کو ہانک رہاتھا ۔
Sahih Muslim 15:413sahih
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَدَنَةً مُقَلَّدَةً .
This hadith has been narrated by A'raj with the same chain of transmitters (and the words are):" Whereas the person was driving a sacrificial camel which was garlanded
مغیرہ بن عبد الرحمٰن حزامی نے ابو زناد سے اور انھوں نے اعرج سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا اس اثنا میں کہ ایک آدمی ہار ڈالے گئے اونٹ کو ہانک رہاتھا ۔
Sahih Muslim 15:414sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَدَنَةً مُقَلَّدَةً قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَيْلَكَ ارْكَبْهَا " . فَقَالَ بَدَنَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " وَيْلَكَ ارْكَبْهَا وَيْلَكَ ارْكَبْهَا " .
Hammam b. Munabbih reported:It is one out of these (narrations) that Abu Huraira (Allah be pleased with him) narrated to us from Muhammad the Messenger of Allah (ﷺ), and he narrated to us traditions out of which is that he said: When there was a person who was driving a garlanded sacrificial camel, Allah's Messenger (ﷺ) said to him: Woe to you; ride on it. He said: Messenger of Allah, it is a sacrificial animal, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Woe to you, ride on it; woe to you, ride on it
ہمام بن منبہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : یہ احا دیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انھوں نے چند احادیث ذکر کیں ان میں سے ایک یہ ہے اور کہا اس اثنا میں کہ ایک شخص ہار والے قربانی کے اونٹ کو ہانک رہاتھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فر ما یا : " تمھا ری ہلا کت ! اس پر سوار ہو جا ؤ ۔ اس نے کہا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ قر بانی کا اونٹ ہے آپ نے فر ما یا : " تمھاری ہلاکت ! اس پر سوار ہو جاؤ ۔ تمھاری ہلا کت ! اس پر سوار ہو جاؤ ۔
Sahih Muslim 15:414sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَدَنَةً مُقَلَّدَةً قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَيْلَكَ ارْكَبْهَا " . فَقَالَ بَدَنَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " وَيْلَكَ ارْكَبْهَا وَيْلَكَ ارْكَبْهَا " .
Hammam b. Munabbih reported:It is one out of these (narrations) that Abu Huraira (Allah be pleased with him) narrated to us from Muhammad the Messenger of Allah (ﷺ), and he narrated to us traditions out of which is that he said: When there was a person who was driving a garlanded sacrificial camel, Allah's Messenger (ﷺ) said to him: Woe to you; ride on it. He said: Messenger of Allah, it is a sacrificial animal, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Woe to you, ride on it; woe to you, ride on it
ہمام بن منبہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : یہ احا دیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انھوں نے چند احادیث ذکر کیں ان میں سے ایک یہ ہے اور کہا اس اثنا میں کہ ایک شخص ہار والے قربانی کے اونٹ کو ہانک رہاتھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فر ما یا : " تمھا ری ہلا کت ! اس پر سوار ہو جا ؤ ۔ اس نے کہا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ قر بانی کا اونٹ ہے آپ نے فر ما یا : " تمھاری ہلاکت ! اس پر سوار ہو جاؤ ۔ تمھاری ہلا کت ! اس پر سوار ہو جاؤ ۔
Sahih Muslim 15:415sahih
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ وَأَظُنُّنِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ، أَنَسٍ ح. وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ " ارْكَبْهَا " . فَقَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ . قَالَ " ارْكَبْهَا " . مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا .
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) happened to pass by a person who was driving a sacrificial camel, whereupon he (the Holy Prophet) said:Ride on It. He said: It is a sacrificial camel. Thereupon he (the Holy Prophet) said twice or thrice: Ride on it
ثابت بنا نی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو قربانی کا اونٹ ہانک کر لے جا رہا تھا تو آپ نے فر ما یا : " اس پر سوار ہو جاؤ ۔ اس نے جواب دیا یہ قر بانی کا اونٹ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اس پر سوار ہو جا ؤ ۔ دویا تین مرتبہ ( فر ما یا)
Sahih Muslim 15:415sahih
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ وَأَظُنُّنِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ، أَنَسٍ ح. وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ " ارْكَبْهَا " . فَقَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ . قَالَ " ارْكَبْهَا " . مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا .
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) happened to pass by a person who was driving a sacrificial camel, whereupon he (the Holy Prophet) said:Ride on It. He said: It is a sacrificial camel. Thereupon he (the Holy Prophet) said twice or thrice: Ride on it
ثابت بنا نی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو قربانی کا اونٹ ہانک کر لے جا رہا تھا تو آپ نے فر ما یا : " اس پر سوار ہو جاؤ ۔ اس نے جواب دیا یہ قر بانی کا اونٹ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اس پر سوار ہو جا ؤ ۔ دویا تین مرتبہ ( فر ما یا)
Sahih Muslim 15:416sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِبَدَنَةٍ أَوْ هَدِيَّةٍ فَقَالَ " ارْكَبْهَا " . قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ أَوْ هَدِيَّةٌ . فَقَالَ " وَإِنْ " .
Anas reported:Someone happened to pass by Allah's Apostle (ﷺ) with a sacrificial camel, or a sacrificial animal, whereupon he said: Ride on it. He said: It is a sacrificial camel, or animal, whereupon he said: (Ride) even if (it is a sacrificial camel)
ہمیں وکیع نے مسعر سے حدیث بیان کی انھوں نے بکیر بن اخنس سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے ان ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا کہہ رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قر با نی کے ایک اونٹ یا ( حرم کے لیے ) ہدیہ کیے جا نے والے ایک جا نور کا گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اس پر سوار ہو جا ؤ اس نے کہا : یہ قر بانی کا اونٹ یا ہدی کا جا نور ہے آپ نے فر ما یا : " چا ہے ( ایسا ہی ہے)
Sahih Muslim 15:416sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِبَدَنَةٍ أَوْ هَدِيَّةٍ فَقَالَ " ارْكَبْهَا " . قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ أَوْ هَدِيَّةٌ . فَقَالَ " وَإِنْ " .
Anas reported:Someone happened to pass by Allah's Apostle (ﷺ) with a sacrificial camel, or a sacrificial animal, whereupon he said: Ride on it. He said: It is a sacrificial camel, or animal, whereupon he said: (Ride) even if (it is a sacrificial camel)
ہمیں وکیع نے مسعر سے حدیث بیان کی انھوں نے بکیر بن اخنس سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے ان ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا کہہ رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قر با نی کے ایک اونٹ یا ( حرم کے لیے ) ہدیہ کیے جا نے والے ایک جا نور کا گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اس پر سوار ہو جا ؤ اس نے کہا : یہ قر بانی کا اونٹ یا ہدی کا جا نور ہے آپ نے فر ما یا : " چا ہے ( ایسا ہی ہے)
Sahih Muslim 15:417sahih
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ الأَخْنَسِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِبَدَنَةٍ . فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
Anas (Allah be pleased with him) reported:There happened to pass (a person) with a sacrificial camel by Allah's Apostle (ﷺ) and the rest of the hadith is the same
ہمیں ابن بشر نے مسعر سے حدیث بیان کی ، ( کہا ) مجھے بکیر بن اخنس نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قر با نی کا ایک اونٹ گزارا گیا آگے اسی کے مانند بیان کیا ۔
Sahih Muslim 15:417sahih
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ الأَخْنَسِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِبَدَنَةٍ . فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
Anas (Allah be pleased with him) reported:There happened to pass (a person) with a sacrificial camel by Allah's Apostle (ﷺ) and the rest of the hadith is the same
ہمیں ابن بشر نے مسعر سے حدیث بیان کی ، ( کہا ) مجھے بکیر بن اخنس نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قر با نی کا ایک اونٹ گزارا گیا آگے اسی کے مانند بیان کیا ۔
Sahih Muslim 15:418sahih
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، سُئِلَ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْىِ، فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا " .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported that he was asked about riding on a sacrificial animal, and he said:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Ride on it gently, when you have need for it, until you find (another) mount
ابن جریج سے روایت ہے ( انھوں نے کہا ) مجھے زبیر نے خبر دی کہا میں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ان سے ہدی پر سواری کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فر ما رہے تھے " جب اس ( پر سوار ہو نے ) کی ضرورت ہو تو اور سواری ملنے تک معروف ( قابل قبول ) طریقے سے اس پر سواری کرو ۔
Sahih Muslim 15:418sahih
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، سُئِلَ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْىِ، فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا " .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported that he was asked about riding on a sacrificial animal, and he said:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Ride on it gently, when you have need for it, until you find (another) mount
ابن جریج سے روایت ہے ( انھوں نے کہا ) مجھے زبیر نے خبر دی کہا میں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ان سے ہدی پر سواری کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فر ما رہے تھے " جب اس ( پر سوار ہو نے ) کی ضرورت ہو تو اور سواری ملنے تک معروف ( قابل قبول ) طریقے سے اس پر سواری کرو ۔
Sahih Muslim 15:419sahih
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ رُكُوبِ الْهَدْىِ، فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا " .
Abu Zubair reported:I asked Jabir (Allah be pleased with him) about riding on the sacrificial animal, to which he replied: I heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying: Ride on them gently until you find another mount
ہمیں معقل نے ابو زبیر سے حدیث بیان کی کہا : میں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہدی ( بیت اللہ کی طرف بھیجے گئے ہدیہ قر بانی ) پر سواری کے بارے میں پو چھا تو انھوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا : " دوسری سواری ملنے تک اس پر معروف طریقے سے سوار ہو جاؤ
Sahih Muslim 15:419sahih
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ رُكُوبِ الْهَدْىِ، فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا " .
Abu Zubair reported:I asked Jabir (Allah be pleased with him) about riding on the sacrificial animal, to which he replied: I heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying: Ride on them gently until you find another mount
ہمیں معقل نے ابو زبیر سے حدیث بیان کی کہا : میں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہدی ( بیت اللہ کی طرف بھیجے گئے ہدیہ قر بانی ) پر سواری کے بارے میں پو چھا تو انھوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا : " دوسری سواری ملنے تک اس پر معروف طریقے سے سوار ہو جاؤ
Sahih Muslim 15:420sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ، قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ، مُعْتَمِرَيْنِ قَالَ وَانْطَلَقَ سِنَانٌ مَعَهُ بِبَدَنَةٍ يَسُوقُهَا فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ بِالطَّرِيقِ فَعَيِيَ بِشَأْنِهَا إِنْ هِيَ أُبْدِعَتْ كَيْفَ يَأْتِي بِهَا . فَقَالَ لَئِنْ قَدِمْتُ الْبَلَدَ لأَسْتَحْفِيَنَّ عَنْ ذَلِكَ . قَالَ فَأَضْحَيْتُ فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ قَالَ انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ نَتَحَدَّثْ إِلَيْهِ . قَالَ فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ بَدَنَتِهِ . فَقَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسِتَّ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ وَأَمَّرَهُ فِيهَا - قَالَ - فَمَضَى ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَىَّ مِنْهَا قَالَ " انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَيْهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا وَلاَ تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ " .
Musa b. Salama al-Hudhali reported:I and Sinan b. Salama proceeded (to Mecca to perform Umra. Sinan had a sacrificial camel with him which he was driving. The camel stopped in the way being completely exhausted and this state of it made him (Sinan) helpless. (He thought) if it stops proceeding further how he would be able to take it, along with him and said: I would definitely find out (the religious verdict) about it. I moved on in the morning and as we encamped at al-Batha', (Sinan) said: Come (along with me) to Ibn 'Abbis (Allah be pleased with them) so that we should narrate to him (this incident), and he (Sinan) reported to him the incident of the sacrificial camel. He (Ibn Abbas) said: You have referred (the matter) to the well informed person. (Now listen) Allah's Messenger (ﷺ) sent sixteen sacrificial camels with a man whom he put in change of them. He set out and came back and said: Messenger of Allah, what should I do with those who are completely exhausted and become powerless to move on, whereupon he said: Slaughter them, and dye their hoofs in their blood, and put them on the sides of their humps, but neither you nor anyone among those who are with you must eat any part of them
ہمیں عبد الوارث بن سعید نے ابو تیاح ضبعی سے خبر دی ( کہا ) مجھ سے موسیٰ بن سلمہ ہذلی نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا میں اور سنان بن سلمہ عمرہ ادا کرنے کے لیے نکلے اور سنان اپنے ساتھ قر بانی کا اونٹ لے کر چلے وہ اسے ہانک رہے تھے تو راستے ہی میں تھک کر رک گیا وہ اس کی حالت کے سبب سے ( یہ سمجھنے سے ) عاجز آگئے کہ اگر وہ بالکل ہی رہ گیا تو اسے مکہ ) کیسے لا ئیں ۔ انھوں نے کہا : اگر میں بلد ( امین مکہ ) پہنچ گیا تو میں ہر صورت اس کے بارے میں اچھی طرح پو چھوں گا ۔ ( موسیٰ نے ) کہا تو مجھے دن چڑھ گیا جب ہم نے بطحاء میں قیام کیا تو انھوں نے کہا بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس چلیں تا کہ ہم ان سے بات کریں ۔ کہا انھوں نے ان کو اپنی قر بانی کے جانور کا حال بتا یا تو انھوں نے کہا تم جاننے والے کے پاس آپہنچے ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ساتھ بیت اللہ کے پا س قر بانی کے لیے سولہ اونٹ روانہ کیے اور اسے ان کا نگران بنا یا ۔ کہا وہ تھوڑی دور ) گیا پھر واپس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ان میں سے کو ئی تھک کر رک جا ئے اس کے ساتھ میں کیا کروں ؟آپ نے فر مایا : " اسے نحر کر دینا پھر اس کے ( گلے میں ڈالے گئے ) دونوں جوتے اس کے خون سے رنگ دینا پھر انھیں ( بطور نشانی ) اس کے پہلو پر رکھ دینا ۔ اور ( احرام کی حالت میں ) تم اور تمھا رے ساتھ جا نے والوں میں سے کو ئی اس ( کے گو شت میں ) سے کچھ نہ کھا ئے ۔
Sahih Muslim 15:420sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ، قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ، مُعْتَمِرَيْنِ قَالَ وَانْطَلَقَ سِنَانٌ مَعَهُ بِبَدَنَةٍ يَسُوقُهَا فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ بِالطَّرِيقِ فَعَيِيَ بِشَأْنِهَا إِنْ هِيَ أُبْدِعَتْ كَيْفَ يَأْتِي بِهَا . فَقَالَ لَئِنْ قَدِمْتُ الْبَلَدَ لأَسْتَحْفِيَنَّ عَنْ ذَلِكَ . قَالَ فَأَضْحَيْتُ فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ قَالَ انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ نَتَحَدَّثْ إِلَيْهِ . قَالَ فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ بَدَنَتِهِ . فَقَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسِتَّ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ وَأَمَّرَهُ فِيهَا - قَالَ - فَمَضَى ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَىَّ مِنْهَا قَالَ " انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَيْهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا وَلاَ تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ " .
Musa b. Salama al-Hudhali reported:I and Sinan b. Salama proceeded (to Mecca to perform Umra. Sinan had a sacrificial camel with him which he was driving. The camel stopped in the way being completely exhausted and this state of it made him (Sinan) helpless. (He thought) if it stops proceeding further how he would be able to take it, along with him and said: I would definitely find out (the religious verdict) about it. I moved on in the morning and as we encamped at al-Batha', (Sinan) said: Come (along with me) to Ibn 'Abbis (Allah be pleased with them) so that we should narrate to him (this incident), and he (Sinan) reported to him the incident of the sacrificial camel. He (Ibn Abbas) said: You have referred (the matter) to the well informed person. (Now listen) Allah's Messenger (ﷺ) sent sixteen sacrificial camels with a man whom he put in change of them. He set out and came back and said: Messenger of Allah, what should I do with those who are completely exhausted and become powerless to move on, whereupon he said: Slaughter them, and dye their hoofs in their blood, and put them on the sides of their humps, but neither you nor anyone among those who are with you must eat any part of them
ہمیں عبد الوارث بن سعید نے ابو تیاح ضبعی سے خبر دی ( کہا ) مجھ سے موسیٰ بن سلمہ ہذلی نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا میں اور سنان بن سلمہ عمرہ ادا کرنے کے لیے نکلے اور سنان اپنے ساتھ قر بانی کا اونٹ لے کر چلے وہ اسے ہانک رہے تھے تو راستے ہی میں تھک کر رک گیا وہ اس کی حالت کے سبب سے ( یہ سمجھنے سے ) عاجز آگئے کہ اگر وہ بالکل ہی رہ گیا تو اسے مکہ ) کیسے لا ئیں ۔ انھوں نے کہا : اگر میں بلد ( امین مکہ ) پہنچ گیا تو میں ہر صورت اس کے بارے میں اچھی طرح پو چھوں گا ۔ ( موسیٰ نے ) کہا تو مجھے دن چڑھ گیا جب ہم نے بطحاء میں قیام کیا تو انھوں نے کہا بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس چلیں تا کہ ہم ان سے بات کریں ۔ کہا انھوں نے ان کو اپنی قر بانی کے جانور کا حال بتا یا تو انھوں نے کہا تم جاننے والے کے پاس آپہنچے ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ساتھ بیت اللہ کے پا س قر بانی کے لیے سولہ اونٹ روانہ کیے اور اسے ان کا نگران بنا یا ۔ کہا وہ تھوڑی دور ) گیا پھر واپس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ان میں سے کو ئی تھک کر رک جا ئے اس کے ساتھ میں کیا کروں ؟آپ نے فر مایا : " اسے نحر کر دینا پھر اس کے ( گلے میں ڈالے گئے ) دونوں جوتے اس کے خون سے رنگ دینا پھر انھیں ( بطور نشانی ) اس کے پہلو پر رکھ دینا ۔ اور ( احرام کی حالت میں ) تم اور تمھا رے ساتھ جا نے والوں میں سے کو ئی اس ( کے گو شت میں ) سے کچھ نہ کھا ئے ۔
Sahih Muslim 15:421sahih
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ بِثَمَانَ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ .
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (ﷺ) sent eighteen sacrificial camels with a person. The rest of the hadith is the same, and the first part (of the above-mentioned hadith) is not mentioned
اسماعیل بن علیہ نے ابو تیاح سے حدیث بیان کی انھوں نے موسیٰ بن سلمہ سے اور انھوں نے ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قر بانی کے اٹھارہ اونٹ ایک آدمی کے ساتھ روانہ کیے ۔ ۔ ۔ پھر عبد الوارث کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، اور انھوں نے حدیث کا ابتدا ئی حصہ بیان نہیں کیا ۔
Sahih Muslim 15:421sahih
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ بِثَمَانَ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ .
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (ﷺ) sent eighteen sacrificial camels with a person. The rest of the hadith is the same, and the first part (of the above-mentioned hadith) is not mentioned
اسماعیل بن علیہ نے ابو تیاح سے حدیث بیان کی انھوں نے موسیٰ بن سلمہ سے اور انھوں نے ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قر بانی کے اٹھارہ اونٹ ایک آدمی کے ساتھ روانہ کیے ۔ ۔ ۔ پھر عبد الوارث کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، اور انھوں نے حدیث کا ابتدا ئی حصہ بیان نہیں کیا ۔
Sahih Muslim 15:422sahih
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ذُؤَيْبًا أَبَا قَبِيصَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَبْعَثُ مَعَهُ بِالْبُدْنِ ثُمَّ يَقُولُ " إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَىْءٌ فَخَشِيتَ عَلَيْهِ مَوْتًا فَانْحَرْهَا ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَهَا وَلاَ تَطْعَمْهَا أَنْتَ وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ " .
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that Dhuwaib, father of Qabisa (Allah be pleased with him) narrated to him that Allah's Messenger (ﷺ) sent under his charge the sacrificial camels, and said:If any of these is completely exhausted and you apprehend its death, then slaughter it, then dip its hoofs in its blood and imprint it on its hump; but neither you nor any one of your comrades should eat it
ابو قبیصہ ذؤیب نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ قر بانی کے اونٹ بھیجتے پھر فر ما تے اگر ان میں سے کو ئی تھک کر رک جا ئے اور تمھیں اس کے مر جا نے کا خدشہ ہو تو اسے نحر کر دینا پھر اس کے ( گلے میں لٹکا ئے گئے ) جوتے کو اس کے خون میں ڈبونا پھر اسے اس کے پہلو پر ڈال دینا پھر تم اس میں سے ( کچھ ) کھا نا نہ تمھا رے ساتھیوں میں سے کو ئی ( اس میں کھا ئے ۔)
Sahih Muslim 15:422sahih
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ذُؤَيْبًا أَبَا قَبِيصَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَبْعَثُ مَعَهُ بِالْبُدْنِ ثُمَّ يَقُولُ " إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَىْءٌ فَخَشِيتَ عَلَيْهِ مَوْتًا فَانْحَرْهَا ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَهَا وَلاَ تَطْعَمْهَا أَنْتَ وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ " .
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that Dhuwaib, father of Qabisa (Allah be pleased with him) narrated to him that Allah's Messenger (ﷺ) sent under his charge the sacrificial camels, and said:If any of these is completely exhausted and you apprehend its death, then slaughter it, then dip its hoofs in its blood and imprint it on its hump; but neither you nor any one of your comrades should eat it
ابو قبیصہ ذؤیب نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ قر بانی کے اونٹ بھیجتے پھر فر ما تے اگر ان میں سے کو ئی تھک کر رک جا ئے اور تمھیں اس کے مر جا نے کا خدشہ ہو تو اسے نحر کر دینا پھر اس کے ( گلے میں لٹکا ئے گئے ) جوتے کو اس کے خون میں ڈبونا پھر اسے اس کے پہلو پر ڈال دینا پھر تم اس میں سے ( کچھ ) کھا نا نہ تمھا رے ساتھیوں میں سے کو ئی ( اس میں کھا ئے ۔)
Sahih Muslim 32:119sahih
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي، عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ { إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا * لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ} إِلَى قَوْلِهِ { فَوْزًا عَظِيمًا} مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَهُمْ يُخَالِطُهُمُ الْحُزْنُ وَالْكَآبَةُ وَقَدْ نَحَرَ الْهَدْىَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ " لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَىَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا " .
It has been narrated on the authority of Anas b. Malik who said:When they (Companions of the Holy Prophet) were overwhelmed with grief and distress on his return from Hudaibiya where he had slaughtered his sacrificial beasts (not being allowed to proceed to Mecca), the Qur'anic verse: Inna fatahna... laka fathan mobinan to fauzan 'aziman, was revealed to him. (At this) he said: On me has descended a verse that is dearer to me than the whole world
سعید بن ابی عروبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث سنائی کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی ، کہا : جب آیت : ( إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ لِّيَغْفِرَ لَكَ ٱللَّـهُ ۔ ۔ ۔ فَوْزًا عَظِيمًا ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ ) تک اتری ( تو یہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیبیہ سے واپسی کا موقع تھا اور لوگوں کے دلوں میں غم اور دکھ کی کیفیت طاری تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں قربانی کے اونٹ نحر کر دیے تھے تو ( اس موقع پر ) آپ نے فرمایا : " مجھ پر ایک ایسی آیت نازل کی گئی ہے جو مجھے پوری دنیا سے زیادہ محبوب ہے
Sahih Muslim 35:1sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى، بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، حَدَّثَنِي جُنْدَبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ شَهِدْتُ الأَضْحَى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَعْدُ أَنْ صَلَّى وَفَرَغَ مِنْ صَلاَتِهِ سَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يَرَى لَحْمَ أَضَاحِيَّ قَدْ ذُبِحَتْ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلاَتِهِ فَقَالَ " مَنْ كَانَ ذَبَحَ أُضْحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ - أَوْ نُصَلِّيَ - فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ " .
Jundab b. Sufyan reported:I was with Allah's Messenger (ﷺ) on the day of 'Id al-Adha. While he had not returned after having offered (the Id prayer) and finished it, he saw the flesh of the sacrificial animals which had been slaughtered before he had completed the prayer. Thereupon he (the Holy Prophet) said: One who slaughtered his sacrificial animal before his prayer or our prayer ('Id), he should slaughter another one in its stead, and he who did not slaughter, he should slaughter by reciting the name of Allah
ابوخثیمہ زہیر ( بن معاویہ ) نے اسود بن قیس سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت جندب بن سفیان ( بجلی ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الاضحیٰ منائی ، آپ نے نماز پڑھی اور آپ اس ( نماز کے بعدخطبہ ، دعا وغیرہ ) سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ آپ نے قربانی کے جانوروں کاگوشت دیکھا جو نماز پڑھے جانے سے پہلے ذبح کردیے گئے تھے ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : : جس شخص نے نماز پڑھنے سے ۔ یا ( فرمایا : ) ہمارے نماز پڑھنے سے ۔ پہلے اپناقربانی کا جانور ذبح کرلیا وہ اس کی جگہ دوسرا ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا ، وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے ۔
Sahih Muslim 35:2sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، سَلاَّمُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنِ الأَسْوَدِ، بْنِ قَيْسٍ عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ شَهِدْتُ الأَضْحَى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ بِالنَّاسِ نَظَرَ إِلَى غَنَمٍ قَدْ ذُبِحَتْ فَقَالَ " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيَذْبَحْ شَاةً مَكَانَهَا وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ " .
Jundab b. Sufyan reported:I was with Allah's Messenger (ﷺ) (on the occasion) of 'Id al-Adha. After he had completed the prayer with people, he found that the goats had been slaughtered, whereupon he said: He who slaughtered sacrificial animal before the prayer should slaughter a goat (again) in its stead and he who has not slaughtered he should slaughter it by reciting the name of Allah
ابو احوص سلام بن سلیم نے اسود بن قیس سے ، انھوں نے حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدالاضحی میں شریک ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی کچھ بھی نہ کیا تھا سوائے اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عید کی ) نماز پڑھائی ۔ نماز سے فارغ ہوئے ، سلام پھیرا کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی بکری دیکھی کہ وہ نماز سے پہلے ذبح کی جا چکی ہے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے قربانی نمازعید سے پہلے کر لی تو اس قربانی کی جگہ دوسری قربانی کرے اور جس نے قربانی نہیں کی تو وہ اللہ کے نام کے ساتھ قربانی ذبح کر دے ۔
Sahih Muslim 35:4sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَسْوَدِ، سَمِعَ جُنْدَبًا الْبَجَلِيَّ، قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى يَوْمَ أَضْحًى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ " .
Jundab al-Bajali reported:I saw Allah's Messenger (ﷺ) observing ('Id) prayer on the Day of Sacrifice (10th of Dhu'l-Hijja) and then delivering a sermon and he said: He who sacrificed the (animal) before offering ('Id) prayer, he should offer again in its stead, and he who did not sacrifice the animal should slaughter it by reciting the name of Allah
عبیداللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسود بن قیس سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے جندب بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عید الاضحیٰ کے دن دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ، پھر خطبہ د یا اور فرمایا : " جس نے نماز پڑھنے سے پہلے ( اپنی قربانی کا جانور ) ذبح کردیا تھا ، وہ اس کی جگہ دوسرا ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا وہ اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کرے ۔
Sahih Muslim 35:7sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ خَالَهُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ، ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ النَّبِيُّ، صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَكْرُوهٌ وَإِنِّي عَجَّلْتُ نَسِيكَتِي لأُطْعِمَ أَهْلِي وَجِيرَانِي وَأَهْلَ دَارِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعِدْ نُسُكًا " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ . فَقَالَ " هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ وَلاَ تَجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
Al-Bara' b. 'Azib reported that his maternal'uncle Abu Burda b. Niyar sacrificed his animal earlier than the Prophet (ﷺ) had sacrificed. Thereupon he said:Apostle of Allah, it is the day of meat and it is not desirable (to have longing for it and not to make use of it immediately), so I hastened in offering my animal as a sacrifice, so that I might feed my family and neighbours and my kith and kin. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Offer again your sacrifice. He said: Messenger of Allah, I have a small milch goat of less than one year, and that is better than two dry goats (from which only) meat (can be acquired). Thereupon he said: That is better than the two animals of sacrifice on your behalf, and the sacrifice of a goat, of less than six months shall not be accepted as a sacrifice on behalf of anyone after your (sacrifice)
ہشیم نے داود سے ، انھوں نے ( عامر ) شعبی سے ، انھوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ان کے ماموں حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذبح کرنے سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کردیا اور کہنے لگے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ وہ دن ہے جس میں گوشت سے دل بھر جاتاہے ۔ ( اور اس کی چاہت باقی نہیں ر ہتی ) اور میں نے اپنے بچوں ، ہمسایوں اور گھروالوں ( کو کھلانے ) کےلیے قربانی کا جانور جلدی ذبح کردیاہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی اور ( جانور ) ذبح کرو ۔ " انھوں نےکہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک سالہ دودھ پیتی ( کھیری ) بکری ہے ۔ وہ گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ تمہاری بہترین قربانی ہے ( تم اسی کی قربانی کرلو ) اور تمہارے بعد کسی کی طرف سے بھی ایک سالہ بکری کی قربانی کافی نہیں ہوگی ۔
Sahih Muslim 35:8sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، بْنِ عَازِبٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ " لاَ يَذْبَحَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يُصَلِّيَ " . قَالَ فَقَالَ خَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَكْرُوهٌ . ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ هُشَيْمٍ .
Al-Bara' b. 'Azib reported:Allah's Messenger (ﷺ) delivered an address on the day (of Nahr) in which he said: None of you should offer sacrifice of animals until he has completed the ('Id) prayer. Thereupon my maternal uncle said: Messenger of Allah, it is the day of meat, so it is not desirable (to keep my family in the state of longing). The rest of the hadith is the same
ابن ابی عدی داؤد سے ، انھوں نے ( عامر ) شعبی سے اور انھوں نے حضرت ابراء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا اور فرما یا : " کو ئی شخص بھی نماسز سے پہلے ہر گز ( قربانی کا جا نور ) ذبح نہ کرے ۔ " تو میرے ماموں نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ ایسا دن ہے جس میں گوشت سے دل بھر جا تا ہے ۔ پھر ہشیم کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
Sahih Muslim 35:9sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَوَجَّهَ قِبْلَتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَلاَ يَذْبَحْ حَتَّى يُصَلِّيَ " . فَقَالَ خَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ نَسَكْتُ عَنِ ابْنٍ لِي . فَقَالَ " ذَاكَ شَىْءٌ عَجَّلْتَهُ لأَهْلِكَ " . فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي شَاةً خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْنِ قَالَ " ضَحِّ بِهَا فَإِنَّهَا خَيْرُ نَسِيكَةٍ " .
Al-Bara' reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:He who observes prayer like our prayer and turns his face towards our Qibla (in prayer) and who offers sacrifices (of animals) as we do, he must not slaughter the (animal as a sacrifice) until he has completed the prayer. Thereupon my maternal uncle said: Messenger of Allah, I have sacrificed the animal on behalf of my son. The Messenger of Allah (ﷺ) said: This is the thing in which you have made haste for your family. He said: I have a goat with me better than two goats. Thereupon he said: Sacrifice it for that is the best
(فراس نے عامر سے ، انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جو ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارے قبلے کی طرف منہ کرے اور ہماری قربانی کرے ، وہ نماز پڑھنے سے پہلے ذبح نہ کرے ۔ " میرے ماموں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے ایک بیٹے کی طرف سے قربانی کر چکا ہوں ۔ آپ نے فر ما یا : " یہ وہ ذبیحہ ) ہے جسے تم نے اپنے گھر والوں ( کو کھلا نے ) کے لیے جلد ذبح کر لیا ۔ " انھوں نے کہا : میرے پاس ایک بکری ہے جو بکریوں سے بہتر ہے آپ نے فر ما یا : " تم اس کی قربانی کر دو وہ بہترین قربانی ہے ۔
Sahih Muslim 35:10sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ الإِيَامِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا نُصَلِّي ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَنْحَرُ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَىْءٍ " . وَكَانَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ قَدْ ذَبَحَ فَقَالَ عِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ فَقَالَ " اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
Al-Bara' b. 'Azib reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:The first (act) with which we started our day (the day of 'Id-ul Adha) was that we offered prayer. We then returned and sacrificed the animals and he who did that in fact adhered to our Sunnah (practice). And he who slaughtered the (animal on that day before the 'Id prayer), for him (the slaughtering of animal was directed to the acquiring of) meat for his family, and there is nothing of the sort of sacrifice in it. It was Abu Burda b. Niyar who had slaughtered (the animal before the 'Id prayer). He said: I have a small lamb, of less than one year, but better than that of more than a year. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) qaid: Sacrifice it, but it will not suffice (as a sacrifice) for anyone after you
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے زبید یا می سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " آج کے دن ہم جس کا م سے آغاز کریں گے ( وہ یہ ہے ) کہ ہم نماز پڑھیں گے ، پھر لوٹیں گے ، اور قربانی کریں گے ۔ جس نے ایسا کیا ، اس نے ہمارا طریقہ پالیا اور جس نے ( پہلے ) ذبح کر لیا تو وہ گو شت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کو پیش کیا ہے ۔ وہ کسی طرح بھی قربانی نہیں ہے ۔ " حضرت ابو بردہ بن دینار رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( اس سے پہلے ) ذبح کر چکے تھے انھوں نے کہا : میرے پاس بکری کا ایک سالہ بچہ ہے جو دودانتی بکری دودانتا بکرے سے بہتر ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : تم اس کو ذبح کردو ، اور تمھا رے بعد یہ کسی کی طرف سے کا فی نہ ہو گی ۔
Sahih Muslim 35:13sahih
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، بْنُ عَازِبٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي يَوْمِ نَحْرٍ فَقَالَ " لاَ يُضَحِّيَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يُصَلِّيَ " . قَالَ رَجُلٌ عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ قَالَ " فَضَحِّ بِهَا وَلاَ تَجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
Al-Bara' b. 'Azib reported:Allah's Messenger (ﷺ) addressed us on the day of Nahr and said: None should sacrifice the animal unless he has completed the ('Id) prayer. A person said: I have a milch goat of less than one year, better than two fat goats. Thereupon he said: Sacrifice it, and no goat of less than a year of age will be accepted as sacrifice after you
عاصم احول نے شعبی سے روایت کی ، کہا : مجھے حضرت برا ء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنا ئی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن خطبہ دیا اور فرما یا : " کو ئی شخص نماز پڑھنے سے پہلے قربانی نہ کرے ۔ " ایک شخص نے کہا : میرے پاس ایک سالہ دودھ پینے والی ( کھیری ) بکری ہے جو گوشت والی دوبکریوں سے بہترہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم اس کی قربانی کردو ، تمھا رے بعد ایک سالہ بکری کسی کے لیے کا فی نہ ہو گی ۔
Sahih Muslim 35:19sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَذْبَحُوا إِلاَّ مُسِنَّةً إِلاَّ أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ " .
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Sacrifice only a grown-up animal, unless it is difficult for you, in which case sacrifice a ram (of even less than a year, but more than six months' age)
حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : صرف مسنہ ( دودانتا ) جا نور کی قربانی کرو ہاں ! اگر تم کو دشوار ہو تو ایک سالہ دنبہ یا مینڈھا ذبح کر دو ۔
Sahih Muslim 35:20sahih
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ نَحَرَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَنْ كَانَ نَحَرَ قَبْلَهُ أَنْ يُعِيدَ بِنَحْرٍ آخَرَ وَلاَ يَنْحَرُوا حَتَّى يَنْحَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
Jabir b. 'Abdullah reported:Allah's Messenger (ﷺ) led us in the 'Id prayer in Medina on the Day of Sacrifice. Some persons slaughtered their animals ahead of him under the impression that Allah's Apostle (ﷺ) had-already offered sacrifice. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Those who had slaughtered their animals ahead of him should slaughter the other ones in their stead. And they should not sacrifice the animal before Allah's Messenger (ﷺ) had sacrificed (his animal)
ابو زبیر نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن مدینہ میں نما ز پڑھا ئی کچھ لوگوں نے جلدی کی اور قربانی کر لی ۔ ان کا خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کر لی ہو ئی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس نے آپ ( کے نماز اور خطبے سے فارغ ہو نے ) سے پہلے قربانی کر لی وہ ایک اور قربانی کریں ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کو ئی شخص قربانی نہ کرے ۔
Sahih Muslim 35:22sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِينَا ضَحَايَا فَأَصَابَنِي جَذَعٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَصَابَنِي جَذَعٌ . فَقَالَ " ضَحِّ بِهِ " .
Amir al-Juhani reported:Allah's Messenger (ﷺ) distributed sacrificial animals (amongst us for sacrificing them on 'Id al-Adha). So we sacrificed them. There fell to my lot a lamb of less than one year I said: Allah's Messenger, there has fallen to my lot a lamb (Jadha'a), whereupon he said: Sacrifice that
ہشام دستوائی یحییٰ بن ابی کیثر سے انھوں نے بعجہ جہنی سے انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان قربانی کے کچھ جا نور بانٹے تو مجھے ایک سالہ بھیڑ یا بکری ملی ۔ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے حصے میں ایک سالہ بھیڑ یا بکری آئی ہے آپ نے فرما یا : " اسی کی قربانی کردو ۔
Sahih Muslim 35:37sahih
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لاَ يَأْكُلْ أَحَدٌ مِنْ لَحْمِ أُضْحِيَّتِهِ فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ " .
Ibn 'Umar reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:None of you should eat the flesh of his sacrificial animal beyond three days
لیث نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص اپنی قربانی کے گو شت میں سے تین دن کے بعد ( کچھ ) نہ کھائے ۔
Sahih Muslim 35:39sahih
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الأَضَاحِي بَعْدَ ثَلاَثٍ . قَالَ سَالِمٌ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لاَ يَأْكُلُ لُحُومَ الأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلاَثٍ . وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ بَعْدَ ثَلاَثٍ .
Ibn 'Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade that the flesh of sacrificial animals be eaten beyond three (days) Salim (son of Ibn Umar) said:Ibn 'Umar did not eat the flesh of the sacrificial animals beyond three (days). Ibn Abu 'Umar said:" Beyond three days
ابن ابی عمر اور عبد بن حمید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : عبد الرزاق نے کہا : معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انھوں نے سالم سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس بات سے ) منع کیا کہ تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھا یا جا ئے ۔ سالم نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین دن سے اوپر قربانی کا گوشت نہیں کھا تے تھے اور ابن ابی عمر نے ( تین دن سے اوپر کے بجائے ) " تین کے بعد " کے الفا ظ کہے ۔
Sahih Muslim 35:42sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ، عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كُنَّا لاَ نَأْكُلُ مِنْ لُحُومِ بُدْنِنَا فَوْقَ ثَلاَثِ مِنًى فَأَرْخَصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " كُلُوا وَتَزَوَّدُوا " . قُلْتُ لِعَطَاءٍ قَالَ جَابِرٌ حَتَّى جِئْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ نَعَمْ .
Jabir b. Abdullah reported:We did not eat the flesh of our sacrificial animals beyond three days in Mina. Then Allah's Messenger (ﷺ) permitted us saying: Eat and make it a provision (for journey). I asked 'Ata' whether Jabir had also said: Till we came to Medina. He said: Yes
۔ ابن جریج نے کہا : ہمیں عطاء نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ( پہلے ) ہم منیٰ کے تین دنوں سے زیادہ اپنے اونٹوں کی قربانیوں کا گوشت نہیں کھاتے تھے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اجازت دے دی اور فرمایا : "" کھاؤ اور ساتھ لے جاؤ ۔ ( اور صدقہ کرو جس طرح دوسری احادیث میں ہے ۔ ) "" میں نے عطاء سے کہا : حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کہا تھا کہ یہاں تک کہ ہم مدینہ آگئے؟ ( مدینہ تک پہنچنے کے آٹھ دنوں تک بطور زاد راہ استعمال کرتے رہے؟ ) انھوں نے کہا : ہاں ۔
Sahih Muslim 35:46sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، بْنِ الأَكْوَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلاَ يُصْبِحَنَّ فِي بَيْتِهِ بَعْدَ ثَالِثَةٍ شَيْئًا " . فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا عَامَ أَوَّلَ فَقَالَ " لاَ إِنَّ ذَاكَ عَامٌ كَانَ النَّاسُ فِيهِ بِجَهْدٍ فَأَرَدْتُ أَنْ يَفْشُوَ فِيهِمْ " .
Salama b. al-Akwa' reported Allah's Messenger (way peace be upon him) having said:He who sacrifices (animal) among you nothing should be left in his house (out of its flesh) on the morning of the third day. When it was the next year they (his Companions) said: Should we do this year as we did daring the previous year? Thereupon he said: Don't do that, for that was a year when the people were hard pressed (on account of poverty). so I wanted that the (flesh) might be distributed amongst them
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے جو شخص قربانی کرے تو تین دن کے بعد اس کے گھر میں ( اس گوشت میں سے ) کوئی چیز نہ رہے ۔ " جب اگلے سال ( میں عید کادن ) آیاتو صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا ہم اسی طرح کریں جس طرح پچھلے سال کیاتھا؟آپ نے فرمایا : " نہیں ، وہ ایسا سال تھا کہ اس میں لوگ سخت ضرورت مند تھے تو میں نے چاہا کہ ( قربانی کا گوشت ) ان میں پھیل ( کر ہر ایک تک پہنچ ) جائے ۔
Sahih Muslim 35:47sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي، الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَحِيَّتَهُ ثُمَّ قَالَ " يَا ثَوْبَانُ أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ " . فَلَمْ أَزَلْ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ .
Thauban reported that Allah's Messenger (way peace be upon him) slaughtered his sacrificial animal and then said:Thauban, make his meat usable (for journey), and I continuously served him that until he arrived in Medina
معن بن عیسیٰ نے کہا : ہمیں معاویہ بن صالح نے ابوزاہریہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے جبیر بن نفیر سے ، انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنے قربانی کے جانوروں میں سے ) قربانی کا ایک جانور ذبح کرکے فرمایا : "" ثوبان! اس کے گوشت کو درست کرلو ( ساتھ لے جانے کے لیے تیار کرلو ۔ ) "" پھرمیں وہ گوشت آپ کو کھلاتا رہا یہاں تک کہ آپ مدینہ تشریف لے آئے ۔
Sahih Muslim 35:50sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ أَبِي سِنَانٍ، وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُحَارِبٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ، أَبُو سِنَانٍ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلاَثٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلاَّ فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الأَسْقِيَةِ كُلِّهَا وَلاَ تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " .
Abdullah b. Buraida reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) said this:I prohibited you from visiting the graves, but (now) you may visit them, and I prohibited you (from eating) the flesh of sacrific- ed animals beyond three days, but now keep it as long as you like. I prohibited you from the use of Nabidh except (that preoared) in dry waterskins. Now drink (Nabidh prepared in any utensil), but do not drink when it becomes intoxicant
ابن ابی عمر مکی نے کہا : ہمیں سفیان نے عبدالرحمان بن حمید بن عبدالرحمان بن عوف سے حدیث سنائی : انھوں نے سعید بن مسیب سے سنا ، وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث روایت کررہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جب عشرہ ( ذوالحجہ ) شروع ہوجائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتاہو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹے ۔ "" سفیان سے کہا گیا کہ بعض راوی اس حدیث کو مرفوعاً ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) بیان نہیں کرتے ( حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قول بتاتے ہیں ) ، انھوں نے کہا : لیکن میں اس کو مرفوعاً بیان کرتا ہوں ۔
Sahih Muslim 35:51sahih
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، بْنِ مَرْثَدٍ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ " . فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي سِنَانٍ .
Ibn Buraida, on the authority of his father, reported Allah's Messenger (ﷺ) having said this:I used to forbid you. The rest of the hadith is the same
اسحاق بن ابراہیم نے کہا : سفیان نے ہمیں خبر دی ، کہا : مجھے عبدالرحمان بن حمید بن عبدالرحمان بن عوف نے سعید بن مسیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مرفوعاً روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب عشرہ ( ذوالحجہ ) شروع ہوجائے تو جس شخص کے پاس قر بانی ہو اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتاہو ، وہ اپنے بال اتارے نہ ناخن تراشے ۔
Sahih Muslim 35:53sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ عَوْفٍ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلاَ يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا " . قِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ بَعْضَهُمْ لاَ يَرْفَعُهُ قَالَ لَكِنِّي أَرْفَعُهُ .
Umm Salama reported Allah's Messenger (ﷺ) having said this:When any one of you intending to sacrifice the animal enters in the month (of Dhu'l-Hijja) he should not get his hair or nails touched (cut). It was said to Sufyan that some of the (scholars) did not deem this hadith to be Maffu'. He said: But I deem it as Marfu' (i. e. chain of narration traceable right up to the Holy Prophet)
یحییٰ بن کثیر عنبری ابو غسان نے کہا : ہمیں شعبہ نے مالک بن انس سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمر بن مسلم سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے ، انھوں نے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کاا رادہ رکھتا ہو ، وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو ( نہ کاٹے ) اپنے حال پر رہنے دے ۔
Sahih Muslim 35:55sahih
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا رَأَيْتُمْ هِلاَلَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ " .
Umm Salama reported (these words) directly from Allah's Messenger (ﷺ):If anyone has in his possession a sacrificial animal to offer as a sacrifice (on 'Id al-Adha), he should not get his hair cut and nails trimmed after he has entered the first days of Dhu'l Hijja
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں محمد بن عمر ولیثی نے عمر بن مسلم بن عمارہ بن اُکیمہ لیثی سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے سعید بن مسیب کو یہ کہتے ہوئے سنا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، وہ کہہ رہی تھیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص کے پاس ذ بح کرنے کے لئے کوئی ذبیحہ ہوتو جب ذوالحجہ کا چاند نظر آجائے ، وہ ہرگز اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے ، یہاں تک کہ قربانی کرلے ( پھر بال اور ناخن کاٹے ۔)