Sahih al-Bukhari 3:26sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ فِي حَجَّتِهِ فَقَالَ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ قَالَ وَلاَ حَرَجَ. قَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ. فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ وَلاَ حَرَجَ.
Narrated Ibn `Abbas:Somebody said to the Prophet (during his last Hajj), "I did the slaughtering before doing the Rami.' The Prophet (ﷺ) beckoned with his hand and said, "There is no harm in that." Then another person said, "I got my head shaved before offering the sacrifice." The Prophet (ﷺ) beckoned with his hand saying, "There is no harm in that
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے وہیب نے، ان سے ایوب نے عکرمہ کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے ( آخری ) حج میں کسی نے پوچھا کہ میں نے رمی کرنے ( یعنی کنکر پھینکنے ) سے پہلے ذبح کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا ( اور ) فرمایا کچھ حرج نہیں۔ کسی نے کہا کہ میں نے ذبح سے پہلے حلق کرا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر سے اشارہ فرما دیا کہ کچھ حرج نہیں۔
Sahih al-Bukhari 11:6sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Any person who takes a bath on Friday like the bath of Janaba and then goes for the prayer (in the first hour i.e. early), it is as if he had sacrificed a camel (in Allah's cause); and whoever goes in the second hour it is as if he had sacrificed a cow; and whoever goes in the third hour, then it is as if he had sacrificed a horned ram; and if one goes in the fourth hour, then it is as if he had sacrificed a hen; and whoever goes in the fifth hour then it is as if he had offered an egg. When the Imam comes out (i.e. starts delivering the Khutba), the angels present themselves to listen to the Khutba
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کے غلام سمی سے خبر دی، جنہیں ابوصالح سمان نے، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کر کے نماز پڑھنے جائے تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی دی ( اگر اول وقت مسجد میں پہنچا ) اور اگر بعد میں گیا تو گویا ایک گائے کی قربانی دی اور جو تیسرے نمبر پر گیا تو گویا اس نے ایک سینگ والے مینڈھے کی قربانی دی۔ اور جو کوئی چوتھے نمبر پر گیا تو اس نے گویا ایک مرغی کی قربانی دی اور جو کوئی پانچویں نمبر پر گیا اس نے گویا انڈا اللہ کی راہ میں دیا۔ لیکن جب امام خطبہ کے لیے باہر آ جاتا ہے تو فرشتے خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
Sahih al-Bukhari 11:53sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، وَقَفَتِ الْمَلاَئِكَةُ عَلَى باب الْمَسْجِدِ يَكْتُبُونَ الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ، وَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ كَبْشًا، ثُمَّ دَجَاجَةً، ثُمَّ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ طَوَوْا صُحُفَهُمْ، وَيَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "When it is a Friday, the angels stand at the gate of the mosque and keep on writing the names of the persons coming to the mosque in succession according to their arrivals. The example of the one who enters the mosque in the earliest hour is that of one offering a camel (in sacrifice). The one coming next is like one offering a cow and then a ram and then a chicken and then an egg respectively. When the Imam comes out (for Jumua prayer) they (i.e. angels) fold their papers and listen to the Khutba
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوعبداللہ سلیمان اغر نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے جامع مسجد کے دروازے پر آنے والوں کے نام لکھتے ہیں، سب سے پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی دینے والے کی طرح لکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی دینے والے کی طرح پھر مینڈھے کی قربانی کا ثواب رہتا ہے۔ اس کے بعد مرغی کا، اس کے بعد انڈے کا۔ لیکن جب امام ( خطبہ دینے کے لیے ) باہر آ جاتا ہے تو یہ فرشتے اپنے دفاتر بند کر دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
Sahih al-Bukhari 13:3sahih
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَالَ " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ مِنْ يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا ".
Narrated Al-Bara':I heard the Prophet (ﷺ) delivering a Khutba saying, "The first thing to be done on this day (first day of `Id ul Adha) is to pray; and after returning from the prayer we slaughter our sacrifices (in the name of Allah) and whoever does so, he acted according to our Sunna (traditions)
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں زبید بن حارث نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ پہلا کام جو ہم آج کے دن ( عید الاضحیٰ ) میں کرتے ہیں، یہ ہے کہ پہلے ہم نماز پڑھیں پھر واپس آ کر قربانی کریں۔ جس نے اس طرح کیا وہ ہمارے طریق پر چلا۔
Sahih al-Bukhari 13:6sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ ". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ. وَذَكَرَ مِنْ جِيرَانِهِ فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَدَّقَهُ، قَالَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ، فَرَخَّصَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلاَ أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لاَ.
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever slaughtered (his sacrifice) before the `Id prayer, should slaughter again." A man stood up and said, "This is the day on which one has desire for meat," and he mentioned something about his neighbors. It seemed that the Prophet (ﷺ) believed him. Then the same man added, "I have a young she-goat which is dearer to me than the meat of two sheep." The Prophet (ﷺ) permitted him to slaughter it as a sacrifice. I do not know whether that permission was valid only for him or for others as well
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص نماز سے پہلے قربانی کر دے اسے دوبارہ کرنی چاہیے۔ اس پر ایک شخص ( ابوبردہ ) نے کھڑے ہو کر کہا کہ یہ ایسا دن ہے جس میں گوشت کی خواہش زیادہ ہوتی ہے اور اس نے اپنے پڑوسیوں کی تنگی کا حال بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سچا سمجھا اس شخص نے کہا کہ میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے بھی مجھے زیادہ پیاری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اسے اجازت دے دی کہ وہی قربانی کرے۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ یہ اجازت دوسروں کے لیے بھی ہے یا نہیں۔
Sahih al-Bukhari 13:7sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَضْحَى بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَالَ " مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَإِنَّهُ قَبْلَ الصَّلاَةِ، وَلاَ نُسُكَ لَهُ ". فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ خَالُ الْبَرَاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنِّي نَسَكْتُ شَاتِي قَبْلَ الصَّلاَةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ، وَأَحْبَبْتُ أَنْ تَكُونَ شَاتِي أَوَّلَ مَا يُذْبَحُ فِي بَيْتِي، فَذَبَحْتُ شَاتِي وَتَغَدَّيْتُ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الصَّلاَةَ. قَالَ " شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّ عِنْدَنَا عَنَاقًا لَنَا جَذَعَةً هِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ شَاتَيْنِ، أَفَتَجْزِي عَنِّي قَالَ " نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ".
Narrated Al-Bara' bin `Azib:The Prophet (ﷺ) delivered the Khutba after offering the prayer on the Day of Nahr and said, "Whoever offers the prayer like us and slaughters like us then his Nusuk (sacrifice) will be accepted by Allah. And whoever slaughters his sacrifice before the `Id prayer then he has not done the sacrifice." Abi Burda bin Niyar, the uncle of Al-Bara' said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have slaughtered my sheep before the `Id prayer and I thought today as a day of eating and drinking (not alcoholic drinks), and I liked that my sheep should be the first to be slaughtered in my house. So I slaughtered my sheep and took my food before coming for the prayer." The Prophet (ﷺ) said, "The sheep which you have slaughtered is just mutton (not a Nusuk)." He (Abu Burda) said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have a young she-goat which is dearer to me than two sheep. Will that be sufficient as a Nusuk on my behalf? "The Prophet (ﷺ) said, "Yes, it will be sufficient for you but it will not be sufficient (as a Nusuk) for anyone else after you
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے، آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کی نماز کے بعد خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی اس کی قربانی صحیح ہوئی لیکن جو شخص نماز سے پہلے قربانی کرے وہ نماز سے پہلے ہی گوشت کھاتا ہے مگر وہ قربانی نہیں۔ براء کے ماموں ابو بردہ بن نیار یہ سن کر بولے کہ یا رسول اللہ! میں نے اپنی بکری کی قربانی نماز سے پہلے کر دی میں نے سوچا کہ یہ کھانے پینے کا دن ہے میری بکری اگر گھر کا پہلا ذبیحہ بنے تو بہت اچھا ہو۔ اس خیال سے میں نے بکری ذبح کر دی اور نماز سے پہلے ہی اس کا گوشت بھی کھا لیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہاری بکری گوشت کی بکری ہوئی۔ ابوبردہ بن نیار نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے اور وہ مجھے گوشت کی دو بکریوں سے بھی عزیز ہے، کیا اس سے میری قربانی ہو جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں لیکن تمہارے بعد کسی کی قربانی اس عمر کے بچے سے کافی نہ ہو گی۔
Sahih al-Bukhari 13:14sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا زُبَيْدٌ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ نَحَرَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسْكِ فِي شَىْءٍ ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَبَحْتُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ. فَقَالَ " اجْعَلْهُ مَكَانَهُ، وَلَنْ تُوفِيَ أَوْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ".
Narrated Al-Bara' bin `Azib:The Prophet (ﷺ) said, "The first thing that we should do on this day of ours is to pray and then return to slaughter the sacrifice. So anyone who does so, he acted according to our Sunna (tradition), and whoever slaughtered the sacrifice before the prayer, it was just meat which he presented to his family and would not be considered as Nusuk." A person from the Ansar named Abu Burda bin Niyar said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I slaughtered the Nusuk (before the prayer) but I have a young shegoat which is better than an older sheep." The Prophet (ﷺ) said, "Sacrifice it in lieu of the first, but it will not be sufficient (as a sacrifice) for anybody else after you
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زبید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، ان سے براء بن عازب نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم اس دن پہلے نماز پڑھیں گے پھر خطبہ کے بعد واپس ہو کر قربانی کریں گے۔ جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق عمل کیا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو اس کا ذبیحہ گوشت کا جانور ہے جسے وہ گھر والوں کے لیے لایا ہے، قربانی سے اس کا کوئی بھی تعلق نہیں۔ ایک انصاری رضی اللہ عنہ جن کا نام ابوبردہ بن نیار تھا بولے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے تو ( نماز سے پہلے ہی ) قربانی کر دی لیکن میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے جو دوندی ہوئی بکری سے بھی اچھی ہے۔ آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ اچھا اسی کو بکری کے بدلہ میں قربانی کر لو اور تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے کافی نہ ہو گی۔
Sahih al-Bukhari 13:17sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ عَجَّلَهُ لأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَىْءٍ ". فَقَامَ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ. قَالَ " اجْعَلْهَا مَكَانَهَا ـ أَوْ قَالَ اذْبَحْهَا ـ وَلَنْ تَجْزِيَ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ".
Narrated Al-Bara':The Prophet (ﷺ) delivered the Khutba on the day of Nahr (`Id-ul-Adha) and said, "The first thing we should do on this day of ours is to pray and then return and slaughter (our sacrifices). So anyone who does so he acted according to our Sunna; and whoever slaughtered before the prayer then it was just meat that he offered to his family and would not be considered as a sacrifice in any way. My uncle Abu Burda bin Niyar got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I slaughtered the sacrifice before the prayer but I have a young she-goat which is better than an older sheep." The Prophet (ﷺ) said, "Slaughter it in lieu of the first and such a goat will not be considered as a sacrifice for anybody else after you
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے زبید سے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس دن سب سے پہلے ہمیں نماز پڑھنی چاہیے پھر ( خطبہ کے بعد ) واپس آ کر قربانی کرنی چاہیے جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق کیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا تو یہ ایک ایسا گوشت ہو گا جسے اس نے اپنے گھر والوں کے لیے جلدی سے تیار کر لیا ہے، یہ قربانی قطعاً نہیں۔ اس پر میرے ماموں ابوبردہ بن نیار نے کھڑے ہو کر کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے تو نماز کے پڑھنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا۔ البتہ میرے پاس ایک سال کی ایک پٹھیا ہے جو دانت نکلی بکری سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بدلہ میں اسے سمجھ لو یا یہ فرمایا کہ اسے ذبح کر لو اور تمہارے بعد یہ ایک سال کی پٹھیا کسی کے لیے کافی نہیں ہو گی۔
Sahih al-Bukhari 13:25sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أَضْحًى إِلَى الْبَقِيعِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَقَالَ " إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِنَا فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نَبْدَأَ بِالصَّلاَةِ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ وَافَقَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ شَىْءٌ عَجَّلَهُ لأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَىْءٍ ". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ذَبَحْتُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ. قَالَ " اذْبَحْهَا، وَلاَ تَفِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ".
Narrated Al-Bara':The Prophet (ﷺ) went towards Al-Baqi (the graveyard at Medina) on the day of Id-ul-Adha and offered a two-rak`at prayer (of `Id-ul-Adha) and then faced us and said, "On this day of ours, our first act of worship is the offering of prayer and then we will return and slaughter the sacrifice, and whoever does this concords with our Sunna; and whoever slaughtered his sacrifice before that (i.e. before the prayer) then that was a thing which he prepared earlier for his family and it would not be considered as a Nusuk (sacrifice.)" A man stood up and said, "O, Allah's Messenger (ﷺ)! I slaughtered (the animal before the prayer) but I have a young she-goat which is better than an older sheep." The Prophet (ﷺ) said to him, "Slaughter it. But a similar sacrifice will not be sufficient for anybody else after you
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے زبید نے، ان سے شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے دن بقیع کی طرف تشریف لے گئے اور دو رکعت عید کی نماز پڑھائی۔ پھر ہماری طرف چہرہ مبارک کر کے فرمایا کہ سب سے مقدم عبادت ہمارے اس دن کی یہ ہے کہ پہلے ہم نماز پڑھیں پھر ( نماز اور خطبے سے ) لوٹ کر قربانی کریں۔ اس لیے جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق کیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا تو وہ ایسی چیز ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے کھلانے کے لیے جلدی سے مہیا کر دیا ہے اور اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس پر ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے تو پہلے ہی ذبح کر دیا۔ لیکن میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے اور وہ دوندی بکری سے زیادہ بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیر تم اسی کو ذبح کر لو لیکن تمہارے بعد کسی کی طرف سے ایسی پٹھیا جائز نہ ہو گی۔
Sahih al-Bukhari 13:31sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْحَرُ أَوْ يَذْبَحُ بِالْمُصَلَّى.
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) used to Nahr or slaughter sacrifices at the Musalla (on `Id-ul-Adha)
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے کثیر بن فرقد نے نافع سے بیان کیا، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ ہی میں نحر اور ذبح کیا کرتے۔
Sahih al-Bukhari 13:32sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَالَ " مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَنَسَكَ نُسْكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ". فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلاَةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ وَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ". قَالَ فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ جَذَعَةٍ، هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ، فَهَلْ تَجْزِي عَنِّي قَالَ " نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ".
Narrated Al-Bara' bin `Azib:On the day of Nahr Allah's Messenger (ﷺ) delivered the Khutba after the `Id prayer and said, "Anyone who prayed like us and slaughtered the sacrifice like we did then he acted according to our (Nusuk) tradition of sacrificing, and whoever slaughtered the sacrifice before the prayer, then that was just mutton (i.e. not sacrifice)." Abu Burda bin Niyar stood up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! By Allah, I slaughtered my sacrifice before I offered the (Id) prayer and thought that today was the day of eating and drinking (non-alcoholic drinks) and so I made haste (in slaughtering) and ate and also fed my family and neighbors." Allah's Messenger (ﷺ) said, "That was just mutton (not a sacrifice)." Then Abu Burda said, "I have a young she-goat and no doubt, it is better than two sheep. Will that be sufficient as a sacrifice for me?" The Prophet (ﷺ) replied, "Yes. But it will not be sufficient for anyone else (as a sacrifice), after you
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوالاحوص سلام بن سلیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے منصور بن معتمر نے بیان کیا کہ ان سے عامر شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے ہماری طرح کی نماز پڑھی اور ہماری طرح کی قربانی کی، اس کی قربانی درست ہوئی۔ لیکن جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو وہ ذبیحہ صرف گوشت کھانے کے لیے ہو گا۔ اس پر ابوبردہ بن نیار نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی میں نے تو نماز کے لیے آنے سے پہلے قربانی کر لی میں نے یہ سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے۔ اسی لیے میں نے جلدی کی اور خود بھی کھایا اور گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہرحال یہ گوشت ( کھانے کا ) ہوا ( قربانی نہیں ) انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک بکری کا سال بھر کا بچہ ہے وہ دو بکریوں کے گوشت سے زیادہ بہتر ہے۔ کیا میری ( طرف سے اس کی ) قربانی درست ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مگر تمہارے بعد کسی کی طرف سے ایسے بچے کی قربانی کافی نہ ہو گی۔
Sahih al-Bukhari 13:33sahih
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ خَطَبَ فَأَمَرَ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ أَنْ يُعِيدَ ذَبْحَهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِيرَانٌ لِي ـ إِمَّا قَالَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ، وَإِمَّا قَالَ بِهِمْ فَقْرٌ ـ وَإِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ الصَّلاَةِ وَعِنْدِي عَنَاقٌ لِي أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ. فَرَخَّصَ لَهُ فِيهَا.
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) offered the prayer on the day of Nahr and then delivered the Khutba and ordered that whoever had slaughtered his sacrifice before the prayer should repeat it, that is, should slaughter another sacrifice. Then a person from the Ansar stood up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! because of my neighbors (he described them as being very needy or poor) I slaughtered before the prayer. I have a young she-goat which, in my opinion, is better than two sheep." The Prophet (ﷺ) gave him the permission for slaughtering it as a sacrifice
ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن نماز پڑھ کر خطبہ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا اسے دوبارہ قربانی کرنی ہو گی۔ اس پر انصار میں سے ایک صاحب اٹھے کہ یا رسول اللہ! میرے کچھ غریب بھوکے پڑوسی ہیں یا یوں کہا وہ محتاج ہیں۔ اس لیے میں نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا البتہ میرے پاس ایک سال کی ایک پٹھیا ہے جو دو بکریوں کے گوشت سے بھی زیادہ مجھے پسند ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔
Sahih al-Bukhari 13:34sahih
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ جُنْدَبٍ، قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ ذَبَحَ فَقَالَ " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ أُخْرَى مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ ".
Narrated Jundab:On the day of Nahr the Prophet (ﷺ) offered the prayer and delivered the Khutba and then slaughtered the sacrifice and said, "Anybody who slaughtered (his sacrifice) before the prayer should slaughter another animal in lieu of it, and the one who has not yet slaughtered should slaughter the sacrifice mentioning Allah's name on it
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے، ان سے جندب نے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیا پھر قربانی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو تو اسے دوسرا جانور بدلہ میں قربانی کرنا چاہیے اور جس نے نماز سے پہلے ذبح نہ کیا ہو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے۔
Sahih al-Bukhari 18:6sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ لِصُبْحِ رَابِعَةٍ يُلَبُّونَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلاَّ مَنْ مَعَهُ الْهَدْىُ. تَابَعَهُ عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ.
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) and his companions reached Mecca in the morning of the 4th Dhul-Hijja reciting Talbiya (O Allah! We are obedient to your orders, we respond to your call) ... intending to perform Hajj. The Prophet (ﷺ) ordered his companions to assume the Ihram for Umra instead of Hajj, excepting those who had Hadi (sacrifice) with them
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا ان سے ابوالعالیہ براء نے ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو ساتھ لے کر تلبیہ کہتے ہوئے ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کو ( مکہ میں ) تشریف لائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن کے پاس ہدی نہیں ہے وہ بجائے حج کے عمرہ کی نیت کر لیں اور عمرہ سے فارغ ہو کر حلال ہو جائیں پھر حج کا احرام باندھیں۔ اس حدیث کی متابعت عطاء نے جابر سے کی ہے۔
Sahih al-Bukhari 27:9sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لَعَلَّكَ آذَاكَ هَوَامُّكَ ". قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " احْلِقْ رَأْسَكَ وَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ بِشَاةٍ ".
Narrated `Abdur-Rahman bin Abu Layla:Ka`b bin 'Ujra said that Allah's Messenger (ﷺ) said to him (Ka`b), "Perhaps your lice have troubled you?" Ka`b replied, "Yes! O Allah's Messenger (ﷺ)." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Have your head shaved and then either fast three days or feed six poor persons or slaughter one sheep as a sacrifice
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں حمید بن قیس نے، انہیں مجاہد نے، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور انہیں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، غالباً جوؤں سے تم کو تکلیف ہے، انہوں نے کہا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنا سر منڈا لے اور تین دن کے روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا ایک بکری ذبح کر۔
Sahih al-Bukhari 30:97sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ هَذَانِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صِيَامِهِمَا يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَالْيَوْمُ الآخَرُ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ مَنْ قَالَ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ فَقَدْ أَصَابَ وَمَنْ قَالَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَدْ أَصَابَ
Narrated Abu `Ubaid:(the slave of Ibn Azhar) I witnessed the `Id with `Umar bin Al-Khattab who said, Allah's Messenger (ﷺ) has forbidden people to fast on the day on which you break fasting (the fasts of Ramadan) and the day on which you eat the meat of your sacrifices (the first day of `Id ul Fitr and `Id ul-Adha)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ازہر کے غلام ابوعبید نے بیان کیا کہ عید کے دن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے خدمت میں حاضر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دو دن ایسے ہیں جن کے روزوں کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے۔ ( رمضان کے ) روزوں کے بعد افطار کا دن ( عیدالفطر ) اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو ( یعنی عید الاضحی کا دن ) ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا سفیان بن عیینہ نے کہا، جس نے ابوعبداللہ کو ابن ازہر کا غلام کہا اس نے بھی ٹھیک کہا، اور جس نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا غلام کہا اس نے بھی ٹھیک کہا۔ ( اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن ازہر اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ دونوں اس غلام میں شریک تھے ) ۔
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عِيسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ،. وَعَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهم ـ قَالاَ لَمْ يُرَخَّصْ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ أَنْ يُصَمْنَ، إِلاَّ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْهَدْىَ.
Narrated `Aisha and Ibn `Umar:Nobody was allowed to fast on the days of Tashriq except those who could not afford the Hadi (Sacrifice)
Sahih al-Bukhari 30:103sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عِيسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ،. وَعَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهم ـ قَالاَ لَمْ يُرَخَّصْ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ أَنْ يُصَمْنَ، إِلاَّ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْهَدْىَ.
Narrated `Aisha and Ibn `Umar:Nobody was allowed to fast on the days of Tashriq except those who could not afford the Hadi (Sacrifice)
Sahih al-Bukhari 40:2sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ، فَبَقِيَ عَتُودٌ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ "ضَحِّ بِهِ أَنْتَ
Narrated `Uqba bin Amir:that the Prophet (ﷺ) had given him sheep to distribute among his companions and a male kid was left (after the distribution). When he informed the Prophet (ﷺ) of it, he said (to him), "Offer it as a sacrifice on your behalf
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ بکریاں ان کے حوالہ کی تھیں تاکہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں ان کو تقسیم کر دیں۔ ایک بکری کا بچہ باقی رہ گیا۔ جب اس کا ذکر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی تو قربانی کر لے۔
Sahih al-Bukhari 40:16sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ، عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ أَنَا فَتَلْتُ، قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَيْهِ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي، فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَىْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ حَتَّى نُحِرَ الْهَدْىُ.
Narrated `Aisha:I twisted the garlands of the Hadis (i.e. animals for sacrifice) of Allah's Messenger (ﷺ) with my own hands. Then Allah's Messenger (ﷺ) put them around their necks with his own hands, and sent them with my father (to Mecca). Nothing legal was regarded illegal for Allah's Messenger (ﷺ) till the animals were slaughtered
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی بکر بن حزم نے، انہیں عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، میں نے اپنے ہاتھوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے بٹے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کو یہ قلادے اپنے ہاتھ سے پہنائے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جانور میرے والد کے ساتھ ( مکہ میں قربانی کے لیے ) بھیجے۔ ان کی قربانی کی گئی۔ لیکن ( اس بھیجنے کی وجہ سے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایسی چیز حرام نہیں ہوئی جسے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کیا تھا۔
Sahih al-Bukhari 47:17sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ ضَحَايَا، فَبَقِيَ عَتُودٌ فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ضَحِّ بِهِ أَنْتَ ".
Narrated `Uqba bin 'Amir:that Allah's Messenger (ﷺ) gave him some sheep to distribute among his companions in order to sacrifice them and a kid was left. He told the Prophet (ﷺ) about it and the Prophet (ﷺ) said to him, "Sacrifice it on your behalf
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بکریاں دی تھیں کہ قربانی کے لیے ان کو صحابہ میں تقسیم کر دیں۔ پھر ایک سال کا بکری کا بچہ بچ گیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ سے فرمایا تو اس کی قربانی کر لے۔
Sahih al-Bukhari 53:11sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مُعْتَمِرًا، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ هَدْيَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَقَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يَعْتَمِرَ الْعَامَ الْمُقْبِلَ، وَلاَ يَحْمِلَ سِلاَحًا عَلَيْهِمْ إِلاَّ سُيُوفًا، وَلاَ يُقِيمَ بِهَا إِلاَّ مَا أَحَبُّوا، فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَدَخَلَهَا كَمَا كَانَ صَالَحَهُمْ، فَلَمَّا أَقَامَ بِهَا ثَلاَثًا أَمَرُوهُ أَنْ يَخْرُجَ فَخَرَجَ.
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) set out for the `Umra but the pagans of Quraish prevented him from reaching the Ka`ba. So, he slaughtered his sacrifice and got his head shaved at Al-Hudaibiya, and agreed with them that he would perform `Umra the following year and would not carry weapons except swords and would not stay in Mecca except for the period they allowed. So, the Prophet (ﷺ) performed the `Umra in the following year and entered Mecca according to the treaty, and when he stayed for three days, the pagans ordered him to depart, and he departed
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے شریح بن نعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کا احرام باندھ کر نکلے، تو کفار قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ جانے سے روک دیا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا جانور حدیبیہ میں ذبح کر دیا اور سر بھی وہیں منڈوا لیا اور کفار مکہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر صلح کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ سال عمرہ کر سکیں گے۔ تلواروں کے سوا اور کوئی ہتھیار ساتھ نہ لائیں گے۔ ( اور وہ بھی نیام میں ہوں گی ) اور قریش جتنے دن چاہیں گے اس سے زیادہ مکہ میں نہ ٹھہر سکیں گے۔ ( یعنی تین دن ) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ سال عمرہ کیا اور شرائط کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے، پھر جب تین دن گزر چکے تو قریش نے مکے سے چلے جانے کے لیے کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس چلے آئے۔
Sahih al-Bukhari 55:17sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ لَهُ " ارْكَبْهَا ". فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ. قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ " ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ، أَوْ وَيْحَكَ ".
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) saw a man driving a Badana (i.e. camel for sacrifice) and said to him, "Ride on it." The man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! It is a Badana." (The Prophet (ﷺ) repeated his order) and on the third or fourth time he said, "Ride it, (woe to you" or said: "May Allah be merciful to you)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص قربانی کا اونٹ ہانکے لیے جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جا۔ اس صاحب نے کہا یا رسول اللہ! یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا افسوس! سوار بھی ہو جا یا آپ نے «ويلك» کی بجائے «ويحك» فرمایا جس کے معنی بھی وہی ہیں۔
Sahih al-Bukhari 56:164sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، وَلاَ نُرَى إِلاَّ الْحَجَّ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَحِلَّ. قَالَتْ عَائِشَةُ فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالَ نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَزْوَاجِهِ. قَالَ يَحْيَى فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَقَالَ أَتَتْكَ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ.
Narrated `Aisha:We set out in the company of Allah's Messenger (ﷺ) five days before the end of Dhul Qa'da intending to perform Hajj only. When we approached Mecca Allah's Messenger (ﷺ) ordered those who did not have the Hadi (i.e. an animal for sacrifice) with them, to perform the Tawaf around the Ka`ba, and between Safa and Marwa and then finish their Ihram. Beef was brought to us on the day of Nahr (i.e. the days of slaughtering) and I asked, "What is this?" Somebody said, Allah's Messenger (ﷺ) has slaughtered (a cow) on behalf of his wives
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا امام مالک سے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مدینہ سے ( حجۃ الوداع کے لیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم اس وقت نکلے جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے۔ ہفتہ کے دن ہمارا مقصد حج کے سوا اور کچھ بھی نہ تھا۔ جب ہم مکہ سے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو جب وہ بیت اللہ کے طواف اور صفا اور مروہ کی سعی سے فارغ ہو جائے تو احرام کھول دے۔ ( پھر حج کے لیے بعد میں احرام باندھے ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ دسویں ذی الحجہ کو ہمارے یہاں گائے کا گوشت آیا، میں نے پوچھا کہ گوشت کیسا ہے؟ تو بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے جو گائے قربانی کی ہے یہ اسی کا گوشت ہے۔ یحییٰ نے بیان کیا کہ میں نے اس کے بعد اس حدیث کا ذکر قاسم بن محمد سے کیا تو انہوں نے بتایا کہ قسم اللہ کی! عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے تم سے یہ حدیث ٹھیک ٹھیک بیان کی ہے۔
Sahih al-Bukhari 56:289sahih
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَقْفَلَهُ مِنْ عُسْفَانَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَقَدْ أَرْدَفَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ، فَعَثَرَتْ نَاقَتُهُ فَصُرِعَا جَمِيعًا، فَاقْتَحَمَ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ. قَالَ " عَلَيْكَ الْمَرْأَةَ ". فَقَلَبَ ثَوْبًا عَلَى وَجْهِهِ وَأَتَاهَا، فَأَلْقَاهَا عَلَيْهَا وَأَصْلَحَ لَهُمَا مَرْكَبَهُمَا فَرَكِبَا، وَاكْتَنَفْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَلَمَّا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ " آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ". فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ.
Narrated Anas bin Malik:We were in the company of the Prophet (ﷺ) while returning from 'Usfan, and Allah's Messenger (ﷺ) was riding his she-camel keeping Safiya bint Huyay riding behind him. His she-camel slipped and both of them fell down. Abu Talha jumped from his camel and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! May Allah sacrifice me for you." The Prophet (ﷺ) said, "Take care of the lady." So, Abu Talha covered his face with a garment and went to Safiya and covered her with it, and then he set right the condition of their she-camel so that both of them rode, and we were encircling Allah's Messenger (ﷺ) like a cover. When we approached Medina, the Prophet (ﷺ) said, "We are returning with repentance and worshipping and praising our Lord." He kept on saying this till he entered Medina
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے بیان کیا ‘ اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ (غزوہ بنو لحیان میں جو 6 ھ میں ہوا) عسفان سے واپس ہوتے ہوئے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور آپ نے سواری پر پیچھے ( ام المؤمنین ) صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو بٹھایا تھا۔ اتفاق سے آپ کی اونٹنی پھسل گئی اور آپ دونوں گر گئے۔ یہ حال دیکھ کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بھی فوراً اپنی سواری سے کود پڑے اور کہا ‘ یا رسول اللہ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے ‘ کچھ چوٹ تو نہیں لگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے عورت کی خبر لو۔“ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لیا ‘ پھر صفیہ رضی اللہ عنہا کے قریب آئے اور وہی کپڑا ان کے اوپر ڈال دیا۔ اس کے بعد دونوں کی سواری درست کی ‘ جب آپ سوار ہو گئے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف جمع ہو گئے۔ پھر جب مدینہ دکھائی دینے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون.» ”ہم اللہ کی طرف واپس ہونے والے ہیں۔ توبہ کرنے والے ‘ اپنے رب کی عبادت کرنے والے اور اس کی حمد پڑھنے والے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا برابر پڑھتے رہے یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہو گئے۔
Sahih al-Bukhari 61:51sahih
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ صَلَّى أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ الْعَصْرَ، ثُمَّ خَرَجَ يَمْشِي فَرَأَى الْحَسَنَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، فَحَمَلَهُ عَلَى عَاتِقِهِ وَقَالَ بِأَبِي شَبِيهٌ بِالنَّبِيِّ لاَ شَبِيهٌ بِعَلِيٍّ. وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ.
Narrated `Uqba bin Al-Harith:(Once) Abu Bakr offered the `Asr prayer and then went out walking and saw Al-Hasan playing with the boys. He lifted him on to his shoulders and said, " Let my parents be sacrificed for your sake! (You) resemble the Prophet (ﷺ) and not `Ali," while `Ali was smiling
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے عمر بن سعید بن ابی حسین نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عقبہ بن حارث نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر مسجد سے باہر نکلے تو دیکھا کہ حسن رضی اللہ عنہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ آپ نے ان کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا اور فرمایا: میرے باپ تم پر قربان ہوں تم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شباہت ہے۔ علی کی نہیں۔ یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ ہنس رہے تھے ( خوش ہو رہے تھے ) ۔
Sahih al-Bukhari 62:95sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ وَحَمَلَ الْحَسَنَ وَهْوَ يَقُولُ بِأَبِي شَبِيهٌ بِالنَّبِيِّ، لَيْسَ شَبِيهٌ بِعَلِيٍّ. وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ.
Narrated `Uqba bin Al-Harith:I saw Abu Bakr carrying Al-Hasan and saying, "Let my father be sacrificed for you; you resemble the Prophet and not `Ali," while `Ali was laughing at this
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے عمر بن سعید بن ابی حسین نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے، ان سے عقبہ بن حارث نے بیان کیا کہ میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھائے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں: میرے باپ ان پر فدا ہوں، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ ہیں، علی سے نہیں اور علی رضی اللہ عنہ مسکرا رہے تھے۔
Sahih al-Bukhari 63:4sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ أَنَّ الأَنْصَارَ سَلَكُوا وَادِيًا أَوْ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ فِي وَادِي الأَنْصَارِ، وَلَوْلاَ الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ ". فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا ظَلَمَ بِأَبِي وَأُمِّي، آوَوْهُ وَنَصَرُوهُ. أَوْ كَلِمَةً أُخْرَى.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) or Abul-Qasim said, "If the Ansar took their way through a valley or a mountain pass, I would take Ansar's valley. And but for the migration, I would have been one of the Ansar." Abu Huraira used to say, "The Prophet (ﷺ) is not unjust (by saying so). May my parents be sacrificed for him, for the Ansar sheltered and helped him," or said a similar sentence
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یا ( یوں بیان کیا کہ ) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار جس وادی یا گھاٹی میں جائیں تو میں بھی انہیں کی وادی میں جاؤں گا۔ اور اگر میں ہجرت نہ کرتا تو میں انصار کا ایک فرد ہونا پسند کرتا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپ نے یہ کوئی ظلم والی بات نہیں فرمائی آپ کو انصار نے اپنے یہاں ٹھہرایا اور آپ کی مدد کی تھی یا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ( اس کے ہم معنی ) اور کوئی دوسرا کلمہ کہا۔
Sahih al-Bukhari 63:129sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عُبَيْدٍ ـ يَعْنِي ابْنَ حُنَيْنٍ ـ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ " إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ، وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ ". فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا. فَعَجِبْنَا لَهُ، وَقَالَ النَّاسُ انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ، يُخْبِرُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ وَهْوَ يَقُولُ فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا. فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هُوَ الْمُخَيَّرَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ هُوَ أَعْلَمَنَا بِهِ. وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَىَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبَا بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً مِنْ أُمَّتِي لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ، إِلاَّ خُلَّةَ الإِسْلاَمِ، لاَ يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلاَّ خَوْخَةُ أَبِي بَكْرٍ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) sat on the pulpit and said, "Allah has given one of His Slaves the choice of receiving the splendor and luxury of the worldly life whatever he likes or to accept the good (of the Hereafter) which is with Allah. So he has chosen that good which is with Allah." On that Abu Bakr wept and said, "Our fathers and mothers be sacrificed for you." We became astonished at this. The people said, "Look at this old man! Allah's Messenger (ﷺ) talks about a Slave of Allah to whom He has given the option to choose either the splendor of this worldly life or the good which is with Him, while he says. 'our fathers and mothers be sacrificed for you." But it was Allah's Messenger (ﷺ) who had been given the option, and Abu Bakr knew it better than we. Allah's Messenger (ﷺ) added, "No doubt, I am indebted to Abu Bakr more than to anybody else regarding both his companionship and his wealth. And if I had to take a Khalil from my followers, I would certainly have taken Abu Bakr, but the fraternity of Islam is. sufficient. Let no door (i.e. Khoukha) of the Mosque remain open, except the door of Abu Bakr
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا، ان سے عمر بن عبیداللہ کے مولیٰ ابوالنضر نے، ان سے عبید یعنی ابن حنین نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے، فرمایا ”اپنے ایک نیک بندے کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا کہ دنیا کی نعمتوں میں سے جو وہ چاہے اسے اپنے لیے پسند کر لے یا جو اللہ تعالیٰ کے یہاں ہے ( آخرت میں ) اسے پسند کر لے۔ اس بندے نے اللہ تعالیٰ کے ہاں ملنے والی چیز کو پسند کر لیا۔“ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کیا ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ ( ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) ہمیں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس رونے پر حیرت ہوئی، بعض لوگوں نے کہا اس بزرگ کو دیکھئیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی نعمتوں اور جو اللہ کے پاس ہے اس میں سے کسی کے پسند کرنے کا اختیار دیا تھا اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو ان دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ اس بات سے واقف تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پر احسان کرنے والے ابوبکر ہیں۔ اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بنا سکتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا البتہ اسلامی رشتہ ان کے ساتھ کافی ہے۔ مسجد میں کوئی دروازہ اب کھلا ہوا باقی نہ رکھا جائے سوائے ابوبکر کے گھر کی طرف کھلنے والے دروازے کے۔
Sahih al-Bukhari 64:101sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ نَثَلَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كِنَانَتَهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ " ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ".
Narrated Sa`d bin Abi Waqqas:The Prophet (ﷺ) took out a quiver (of arrows) for me on the day of Uhud and said, "Throw (arrows); let my father and mother be sacrificed for you
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم سعدی نے بیان کیا، کہا میں نے سعید بن مسیب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش کے تیر مجھے نکال کر دیئے اور فرمایا کہ خوب تیر برسائے جا۔ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔
Sahih al-Bukhari 64:103sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ـ رضى الله عنه ـ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ أَبَوَيْهِ كِلَيْهِمَا. يُرِيدُ حِينَ قَالَ " فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ". وَهُوَ يُقَاتِلُ.
Narrated Ibn Al Musaiyab:Sa`d bin Abi Waqqas said, "Allah's Messenger (ﷺ) mentioned both his father and mother for me on the day of the battle of Uhud." He meant when the Prophet (ﷺ) said (to Sa`d) while the latter was fighting. "Let my father and mother be sacrificed for you
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن کثیر نے بیان کیا، ان سے ابن المسیب نے، انہوں نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے موقع پر ( میری ہمت بڑھانے کے لیے ) اپنے والد اور والدہ دونوں کو جمع فرمایا۔ ان کی مراد آپ کے اس ارشاد سے تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا تھا جب وہ جنگ کر رہے تھے کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔
Sahih al-Bukhari 64:105sahih
حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَمَعَ أَبَوَيْهِ لأَحَدٍ إِلاَّ لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ " يَا سَعْدُ ارْمِ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ".
Narrated `Ali:I have never heard the Prophet (ﷺ) mentioning his father and mother for anybody other than Sa`d bin Malik. I heard him saying on the day of Uhud, "O Sa`d throw (arrows)! Let my father and mother be sacrificed for you
ہم سے بسرہ بن صفوان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عبداللہ بن شداد نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سعد بن مالک کے سوا میں نے اور کسی کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے والدین کا ایک ساتھ ذکر کرتے نہیں سنا، میں نے خود سنا کہ احد کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ سعد! خوب تیر برساؤ۔ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔
Sahih al-Bukhari 64:230sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَى عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي فَقَالَ {أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ}. قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " فَاحْلِقْ، وَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً ". قَالَ أَيُّوبُ لاَ أَدْرِي بِأَىِّ هَذَا بَدَأَ.
Narrated Ka`b bin Ujra:The Prophet (ﷺ) came to me at the time of Al-Hudaibiya Pledge while lice were falling on my face. He said, "Are the lice of your head troubling you?" I said, "Yes." He said, "Shave your head and fast for three days, or feed six poor persons, or slaughter a sheep as sacrifice." (The sub-narrator, Aiyub said, "I do not know with which of these three options he started)
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے مجاہد نے ‘ ان سے ابن ابی لیلیٰ نے ‘ ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ عمرہ حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ جوئیں جو تمہارے سر سے گر رہی ہیں ‘ تکلیف دے رہی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سر منڈوا لو اور تین دن روزہ رکھ لو یا چھ مسکینوں کا کھانا کھلا دو یا پھر کوئی قربانی کر ڈالو۔ ( سر منڈوانے کا فدیہ ہو گا ) ایوب سختیانی نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ ان تینوں امور میں سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی بات ارشاد فرمائی تھی۔
Sahih al-Bukhari 64:419sahih
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ. فَقُلْتُ مِنْ أَيْنَ قَالَ هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ مِنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ} وَمِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ أَنْ يَحِلُّوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ. قُلْتُ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ. قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرَاهُ قَبْلُ وَبَعْدُ.
Narrated Ibn Juraij:`Ata' said, "Ibn `Abbas said, 'If he (i.e. the one intending to perform `Umra) has performed the Tawaf around the Ka`ba, his Ihram is considered to have finished.' I said, 'What proof does Ibn `Abbas has as to this saying?" `Ata' said, "(The proof is taken) from the Statement of Allah:-- "And afterwards they are brought For sacrifice unto Ancient House (Ka`ba at Mecca)" (22.33) and from the order of the Prophet to his companions to finish their Ihram during Hajjat-ul-Wada`." I said (to `Ata'), "That (i.e. finishing the Ihram) was after coming from `Arafat." `Ata' said, "Ibn `Abbas used to allow it before going to `Arafat (after finishing the `Umra) and after coming from it (i.e. after performing the Hajj)
مجھ سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا مجھ سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ( عمرہ کرنے والا ) صرف بیت اللہ کے طواف سے حلال ہو سکتا ہے۔ ( ابن جریج نے کہا ) میں نے عطاء سے پوچھا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ مسئلہ کہاں سے نکالا؟ انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «ثم محلها إلى البيت العتيق» ( سورۃ الحج ) سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی وجہ سے جو آپ نے اپنے اصحاب کو حجۃ الوداع میں احرام کھول دینے کے لیے دیا تھا میں نے کہا کہ یہ حکم تو عرفات میں ٹھہرنے کے بعد کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ مذہب تھا کہ عرفات میں ٹھہرنے سے پہلے اور بعد ہر حال میں جب طواف کر لے تو احرام کھول ڈالنا درست ہے۔
Sahih al-Bukhari 71:8sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ فَرَعَ وَلاَ عَتِيرَةَ ". وَالْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ، كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لَطِوَاغِيتِهِمْ، وَالْعَتِيرَةُ فِي رَجَبٍ.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Neither Fara' nor 'Atira (is permissible):" Al-Fara' nor 'Atira (is permissible):" Al- Fara' was the first offspring (of camels or sheep) which the pagans used to offer (as a sacrifice) to their idols. And Al-`Atira was (a sheep which was to be slaughtered) during the month of Rajab
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے خبر دی، انہیں ابن مسیب نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اسلام میں ) «فرع» اور «عتيرة» نہیں ہیں۔ «فرع» ( اونٹنی کے ) سب سے پہلے بچہ کو کہتے تھے جسے ( جاہلیت میں ) لوگ اپنے بتوں کے لیے ذبح کرتے تھے اور «عتيرة» کو رجب میں ذبح کیا جاتا تھا۔
Sahih al-Bukhari 71:9sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ فَرَعَ وَلاَ عَتِيرَةَ ". قَالَ وَالْفَرَعَ أَوَّلُ نِتَاجٍ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ، كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِطَوَاغِيتِهِمْ، وَالْعَتِيرَةُ فِي رَجَبٍ.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Neither Fara' nor 'Atira) is permissible)." Al-Fara' was the first offspring (they got of camels or sheep) which they (pagans) used to offer (as a sacrifice) to their idols. 'Atira was (a sheep which used to be slaughtered) during the month of Rajab
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «فرع» اور «عتيرة» ( اسلام میں ) نہیں ہیں۔ بیان کیا کہ «فرع» سب سے پہلے بچہ کو کہتے تھے جو ان کے یہاں ( اونٹنی سے ) پیدا ہوتا تھا، اسے وہ اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے اور «عتيرة» وہ قربانی جسے وہ رجب میں کرتے تھے ( اور اس کی کھال درخت پر ڈال دیتے ) ۔
Sahih al-Bukhari 72:26sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ، قَالَ ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُضْحِيَّةً ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا أُنَاسٌ قَدْ ذَبَحُوا ضَحَايَاهُمْ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَآهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمْ قَدْ ذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلاَةِ فَقَالَ " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ حَتَّى صَلَّيْنَا فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ ".
Narrated Jundub bin Sufyan Al-Bajali:Once during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) we offered some animals as sacrifices. Some people slaughtered their sacrifices before the (Id) prayer, so when the Prophet (ﷺ) finished his prayer, he saw that they had slaughtered their sacrifices before the prayer. He said, "Whoever has slaughtered (his sacrifice) before the prayer, should slaughter (another sacrifice) in lieu of it; and whoever has not yet slaughtered it till we have prayed; should slaughter (it) by mentioning Allah's Name
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے اسود بن قیس نے، ان سے جندب بن سفیان بجلی نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ قربانی کی۔ کچھ لوگوں نے عید کی نماز سے پہلے ہی قربانی کر لی تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز پڑھ کر ) واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ لوگوں نے اپنی قربانیاں نماز سے پہلے ہی ذبح کر لی ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی ذبح کر لی ہو، اسے چاہیئے کہ اس کی جگہ دوسری ذبح کرے اور جس نے نماز پڑھنے سے پہلے نہ ذبح کی ہو اسے چاہیئے کہ اللہ کے نام پر ذبح کرے۔
Sahih al-Bukhari 73:1sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ الإِيَامِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، مَنْ فَعَلَهُ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلُ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَىْءٍ ". فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ وَقَدْ ذَبَحَ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً. فَقَالَ " اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ". قَالَ مُطَرِّفٌ عَنْ عَامِرٍ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَةِ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ ".
Narrated Al-Bara:The Prophet (ﷺ) said (on the day of Idal-Adha), "The first thing we will do on this day of ours, is to offer the (`Id) prayer and then return to slaughter the sacrifice. Whoever does so, he acted according to our Sunna (tradition), and whoever slaughtered (the sacrifice) before the prayer, what he offered was just meat he presented to his family, and that will not be considered as Nusak (sacrifice)." (On hearing that) Abu Burda bin Niyar got up, for he had slaughtered the sacrifice before the prayer, and said, "I have got a six month old ram." The Prophet (ﷺ) said, 'Slaughter it (as a sacrifice) but it will not be sufficient for any-one else (as a sacrifice after you). Al-Bara' added: The Prophet (ﷺ) said, "Whoever slaughtered (the sacrifice) after the prayer, he slaughtered it at the right time and followed the tradition of the Muslims
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے زبید ایامی نے، ان سے شعبی نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج ( عید الاضحی کے دن ) کی ابتداء ہم نماز ( عید ) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے جو اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کے مطابق کرے گا لیکن جو شخص ( نماز عید سے ) پہلے ذبح کرے گا تو اس کی حیثیت صرف گوشت کی ہو گی جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کر لیا ہے قربانی وہ قطعاً بھی نہیں۔ اس پر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے ( نماز عید سے پہلے ہی ) ذبح کر لیا تھا اور عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بکرا ہے ( کیا اس کی دوبارہ قربانی اب نماز کے بعد کر لوں؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قربانی کر لو لیکن تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے کافی نہیں ہو گا۔ مطرف نے عامر سے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہو گی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کے مطابق عمل کیا۔
Sahih al-Bukhari 73:2sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ ".
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever slaughtered the sacrifice before the prayer, he just slaughtered it for himself, and whoever slaughtered it after the prayer, he slaughtered it at the right time and followed the tradition of the Muslims
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی اس نے اپنی ذات کے لیے جانور ذبح کیا اور جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہوئی۔ اس نے مسلمانوں کی سنت کو پا لیا۔
Sahih al-Bukhari 73:3sahih
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَصَارَتْ لِعُقْبَةَ جَذَعَةٌ. فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَارَتْ جَذَعَةٌ. قَالَ " ضَحِّ بِهَا ".
Narrated `Uqba bin 'Amir Al-Juhani:that the Prophet (ﷺ) distributed among his companions some animals for sacrifice (to be slaughtered on `Id-al-Adha). `Uqba's share was a Jadha'a (a six month old goat). `Uqba said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I get in my share of Jadha'a (a six month old ram)." The Prophet (ﷺ) said, "Slaughter it as a sacrifice
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے اور ان سے بعجہ الجہنی نے اور ان سے عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں قربانی کے جانور تقسیم کئے۔ عقبہ رضی اللہ عنہ کے حصہ میں ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ آیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے حصہ میں تو ایک سال سے کم کا بچہ آیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کی قربانی کر لو۔
Sahih al-Bukhari 73:5sahih
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ ". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ ـ وَذَكَرَ جِيرَانَهُ ـ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ. فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَلاَ أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لاَ، ثُمَّ انْكَفَأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، وَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا.
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said on the day of Nahr, "Whoever has slaughtered his sacrifice before the prayer, should repeat it (slaughter another sacrifice)." A man got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This is a day on which meat is desired." He then mentioned his neighbors saying, "I have a six month old ram which is to me better than the meat of two sheep." The Prophet (ﷺ) allowed him to slaughter it as a sacrifice, but I do not know whether this permission was valid for other than that man or not. The Prophet (ﷺ) then went towards two rams and slaughtered them, and then the people went towards some sheep and distributed them among themselves
ہم سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن علیہ نے خبر دی، انہیں ایوب نے، انہیں محمد بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے اس پر ایک صاحب نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ وہ دن ہے جس میں گوشت کھانے کی خواہش ہوتی ہے پھر انہوں نے اپنے پڑوسیوں کا ذکر کیا اور ( کہا کہ ) میرے پاس ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ ہے جس کا گوشت دو بکریوں کے گوشت سے بہتر ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی ہے یا نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف مڑے اور انہیں ذبح کیا پھر لوگ بکریوں کی طرف بڑھے اور انہیں تقسیم کر کے ( ذبح کیا ) ۔
Sahih al-Bukhari 73:7sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَنْحَرُ فِي الْمَنْحَرِ. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي مَنْحَرَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Nafi': 'Abdullah (bin 'Umar) used to slaughter his sacrifice at the slaughtering place (i.e the slaughtering place of the Prophet (ﷺ)
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا اور ان سے نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قربان گاہ میں نحر کیا کرتے تھے اور عبیداللہ نے بیان کیا کہ مراد وہ جگہ ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرتے تھے۔
Sahih al-Bukhari 73:8sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْبَحُ وَيَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى.
Ibn 'Umar said, "Allah's Messenger (ﷺ) used to slaughter (camels and sheep, etc.,) as sacrifices at the Musalla
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے کثیر بن فرقد نے، ان سے نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( قربانی ) ذبح اور نحر عیدگاہ میں کیا کرتے تھے۔
Sahih al-Bukhari 73:9sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ وَأَنَا أُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ.
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) used to offer two rams as sacrifices, and I also used to offer two rams
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا تھا۔
Sahih al-Bukhari 73:10sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ. تَابَعَهُ وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ. وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ وَحَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسٍ.
Narrated Anas:Allah's Messenger (ﷺ) came towards two horned rams having black and white colors and slaughtered them with his own hands
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ اس کی متابعت وہیب نے کی، ان سے ایوب نے اور اسماعیل اور حاکم بن وردان نے بیان کیا کہ ان سے ایوب نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔
Sahih al-Bukhari 73:11sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ ضَحَايَا، فَبَقِيَ عَتُودٌ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ضَحِّ أَنْتَ بِهِ ".
Narrated `Uqba bin 'Amir:that the Prophet (ﷺ) gave him some sheep to distribute among his companions to slaughter as sacrifices (`Id--al--Adha). A kid goat was left and he told the Prophet (ﷺ) of that whereupon he said to him, "Slaughter it as a sacrifice (on your behalf)
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں تقسیم کرنے کے لیے آپ کو کچھ قربانی کی بکریاں دیں انہوں نے انہیں تقسیم کیا پھر ایک سال سے کم کا ایک بچہ بچ گیا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قربانی تم کر لو۔
Sahih al-Bukhari 73:12sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ ضَحَّى خَالٌ لِي يُقَالُ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلاَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ ". فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِي دَاجِنًا جَذَعَةً مِنَ الْمَعَزِ. قَالَ " اذْبَحْهَا وَلَنْ تَصْلُحَ لِغَيْرِكَ ". ثُمَّ قَالَ " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَإِنَّمَا يَذْبَحُ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ ". تَابَعَهُ عُبَيْدَةُ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَإِبْرَاهِيمَ. وَتَابَعَهُ وَكِيعٌ عَنْ حُرَيْثٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ. وَقَالَ عَاصِمٌ وَدَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ. وَقَالَ زُبَيْدٌ وَفِرَاسٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عِنْدِي جَذَعَةٌ. وَقَالَ أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنَاقٌ جَذَعَةٌ. وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ عَنَاقٌ جَذَعٌ، عَنَاقُ لَبَنٍ.
Narrated Al-Bara' bin `Azib:An uncle of mine called Abu Burda, slaughtered his sacrifice before the `Id prayer. So Allah's Messenger (ﷺ) said to him, "Your (slaughtered) sheep was just mutton (not a sacrifice)." Abu Burda said, "O Allah's Apostle! I have got a domestic kid goat." The Prophet (ﷺ) said, "Slaughter it (as a sacrifice) but it will not be permissible for anybody other than you" The Prophet (ﷺ) added, "Whoever slaughtered his sacrifice before the (`Id) prayer, he only slaughtered for himself, and whoever slaughtered it after the prayer, he offered his sacrifice properly and followed the tradition of the Muslims
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مطرف نے بیان کیا، ان سے عامر نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ میرے ماموں ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عید کی نماز سے پہلے ہی قربانی کر لی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہاری بکری صرف گوشت کی بکری ہے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا ایک بکری کا بچہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسے ہی ذبح کر لو لیکن تمہارے بعد ( اس کی قربانی ) کسی اور کے لیے جائز نہیں ہو گی پھر فرمایا جو شخص نماز عید سے پہلے قربانی کر لیتا ہے وہ صرف اپنے کھانے کو جانور ذبح کرتا ہے اور جو عید کی نماز کے بعد قربانی کرے اس کی قربانی پوری ہوتی ہے اور وہ مسلمانوں کی سنت کو پا لیتا ہے۔ اس روایت کی متابعت عبیدہ نے شعبی اور ابراہیم نے کی اور اس کی متابعت وکیع نے کی، ان سے حریث نے اور ان سے شعبی نے ( بیان کیا ) اور عاصم اور داؤد نے شعبی سے بیان کیا کہ ”میرے پاس ایک دودھ پیتی پٹھیا ہے۔“ اور زبید اور فراس نے شعبی سے بیان کیا کہ ”میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بچہ ہے۔“ اور ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا کہ ”ایک سال سے کم کی پٹھیا۔“ اور ابن العون نے بیان کیا کہ ”ایک سال سے کم عمر کی دودھ پیتی پٹھیا ہے۔“
Sahih al-Bukhari 73:13sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ ذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَبْدِلْهَا ". قَالَ لَيْسَ عِنْدِي إِلاَّ جَذَعَةٌ ـ قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ ـ هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ. قَالَ " اجْعَلْهَا مَكَانَهَا، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ". وَقَالَ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ عَنَاقٌ جَذَعَةٌ.
Narrated Al-Bara':Abu Burda slaughtered (the sacrifice) before the (`Id) prayer whereupon the Prophet (ﷺ) said to him, "Slaughter another sacrifice instead of that." Abu Burda said, "I have nothing except a Jadha'a." (Shu`ba said: Perhaps Abu Burda also said that Jadha'a was better than an old sheep in his opinion.) The Prophet (ﷺ) said, "(Never mind), slaughter it to make up for the other one, but it will not be sufficient for anyone else after you
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلمہ نے، ان سے ابوجحیفہ نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کر لی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اس کے بدلے میں دوسری قربانی کر لو۔ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کے بچے کے سوا اور کوئی جانور نہیں۔ شعبہ نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ایک سال کی بکری سے بھی عمدہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسی کی اس کے بدلے میں قربانی کر دو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گی۔ اور حاتم بن وردان نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آخر حدیث تک ( اس روایت میں یہ لفظ ہیں ) کہ ”ایک سال سے کم عمر کی بچی ہے۔“
Sahih al-Bukhari 73:14sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ ضَحَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، فَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا يُسَمِّي وَيُكَبِّرُ، فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ.
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) slaughtered two rams, black and white in color (as sacrifices), and I saw him putting his foot on their sides and mentioning Allah's Name and Takbir (Allahu Akbar). Then he slaughtered them with his own hands
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاؤں جانور کے اوپر رکھے ہوئے ہیں اور بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ رہے ہیں۔ اس طرح آپ نے دونوں مینڈھوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔
Sahih al-Bukhari 73:16sahih
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَالَ " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ مِنْ يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ هَذَا فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ نَحَرَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ يُقَدِّمُهُ لأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَىْءٍ ". فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ، وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ. فَقَالَ " اجْعَلْهَا مَكَانَهَا، وَلَنْ تَجْزِيَ أَوْ تُوفِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ".
Narrated Al-Bara':I heard the Prophet (ﷺ) delivering a sermon, and he said (on the Day of `Id-Allah. a), "The first thing we will do on this day of ours is that we will offer the `Id prayer, then we will return and slaughter our sacrifices; and whoever does so, then indeed he has followed our tradition, and whoever slaughtered his sacrifice (before the prayer), what he offered was just meat that he presented to his family, and that was not a sacrifice." Abu Burda got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I slaughtered the sacrifice before the prayer and I have got a Jadha'a which is better than an old sheep." The Prophet (ﷺ) said, "Slaughter it to make up for that, but it will not be sufficient for anybody else after you
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے زبید نے خبر دی، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کے دن کی ابتداء ہم نماز ( عید ) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے جو شخص اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کو پا لے گا لیکن جس نے ( عید کی نماز سے پہلے ) جانور ذبح کر لیا تو وہ ایسا گوشت ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے کھانے کے لیے تیار کیا ہے وہ قربانی کسی درجہ میں بھی نہیں۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تو عید کی نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے البتہ میرے پاس ابھی ایک سال سے کم عمر کا ایک بکری کا بچہ ہے اور سال بھر کی بکری سے بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کی قربانی اس کے بدلہ میں کرو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہ ہو گا۔
Sahih al-Bukhari 73:17sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ ". فَقَالَ رَجُلٌ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ ـ وَذَكَرَ مِنْ جِيرَانِهِ فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَذَرَهُ ـ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْنِ فَرَخَّصَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلاَ أَدْرِي بَلَغَتِ الرُّخْصَةُ أَمْ لاَ، ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ ـ يَعْنِي فَذَبَحَهُمَا ـ ثُمَّ انْكَفَأَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَذَبَحُوهَا.
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever slaughtered the sacrifice before the `Id prayer, should repeat it (slaughter another one)." A man said "This is the day on which meat is desired." Then he mentioned the need of his neighbors (for meat) and the Prophet (ﷺ) seemed to accept his excuse. The man said, "I have a Jadha'a which is to me better than two sheep." The Prophet (ﷺ) allowed him (to slaughter it as a sacrifice). But I do not know whether this permission was general for all Muslims or not. The Prophet (ﷺ) then went towards two rams and slaughtered them, and the people went towards their sheep and slaughtered them
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ دوبارہ قربانی کرے۔ اس پر ایک صحابی اٹھے اور عرض کیا: ( یا رسول اللہ! ) اس دن گوشت کی لوگوں کو خواہش زیادہ ہوتی ہے پھر انہوں نے اپنے پڑوسیوں کی محتاجی کا ذکر کیا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا عذر قبول کر لیا ہو ( انہوں نے یہ بھی کہا کہ ) میرے پاس ایک سال کا ایک بچہ ہے اور بکریوں سے بھی اچھا ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے قربانی کی اجازت دے دی لیکن مجھے اس کا علم نہیں کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی تھی یا نہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ ان کی مراد یہ تھی کہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کیا پھر لوگ بکریوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح کیا۔
Sahih al-Bukhari 73:18sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، سَمِعْتُ جُنْدَبَ بْنَ سُفْيَانَ الْبَجَلِيَّ، قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ ".
Narrated Jundab bin Sufyan Al-Bajali:I witnessed the Prophet (ﷺ) on the Day of Nahr. He said, "Whoever slaughtered the sacrifice before offering the `Id prayer, should slaughter another sacrifice in its place; and whoever has not slaughtered their sacrifice yet, should slaughter now
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسود بن قیس نے بیان کیا، کہا میں نے جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ قربانی کے دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ کرے اور جس نے قربانی ابھی نہ کی ہو وہ کرے۔
Sahih al-Bukhari 73:19sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ " مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، فَلاَ يَذْبَحْ حَتَّى يَنْصَرِفَ ". فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلْتُ. فَقَالَ " هُوَ شَىْءٌ عَجَّلْتَهُ ". قَالَ فَإِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّتَيْنِ آذْبَحُهَا قَالَ " نَعَمْ، ثُمَّ لاَ تَجْزِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ". قَالَ عَامِرٌ هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتِهِ.
Narrated Al-Bara':One day Allah's Messenger (ﷺ) offered the `Id prayer and said, "Whoever offers our prayer and faces our Qibla should not slaughter the sacrifice till he finishes the `Id prayer." Abu Burda bin Niyar got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have already done it. The Prophet (ﷺ) said, "That is something you have done before its due time." Abu Burda said, "I have a Jadha'a which is better than two old sheep; shall I slaughter it?" The Prophet (ﷺ) said, "Yes, but it will not be sufficient for anyone after you
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے فراس نے، ان سے عامر نے، ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز عید پڑھی اور فرمایا کہ جو ہماری طرح نماز پڑھتا ہو اور ہمارے قبلہ کو قبلہ بناتا ہو وہ نماز عید سے فارغ ہونے سے پہلے قربانی نہ کرے۔ اس پر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تو قربانی کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہ ایک ایسی چیز ہوئی جسے تم نے وقت سے پہلے ہی کر لیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا ایک بچہ ہے جو ایک سال کی دو بکریوں سے عمدہ ہے کیا میں اسے ذبح کر لوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کر لو لیکن تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے جائز نہیں ہے۔ عامر نے بیان کیا کہ یہ ان کی بہترین قربانی تھی۔
Sahih al-Bukhari 73:20sahih
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صَفْحَتِهِمَا، وَيَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ.
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) used to offer as sacrifices, two horned rams, black and white in color, and used to put his foot on their sides and slaughter them with his own hands
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا پاؤں ان کی گردنوں کے اوپر رکھتے اور انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے۔
Sahih al-Bukhari 73:21sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ ضَحَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا.
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) offered as sacrifices, two horned rams, black and white in color. He slaughtered them with his own hands and mentioned Allah's Name over them and said Takbir and put his foot on their sides
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی۔ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ بسم اللہ اور اللہ اکبر پڑھا اور اپنا پاؤں ان کی گردن کے اوپر رکھ کر ذبح کیا۔
Sahih al-Bukhari 73:23sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الأَضَاحِيِّ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَدِينَةِ، وَقَالَ غَيْرَ مَرَّةٍ لُحُومَ الْهَدْىِ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:During the lifetime of the Prophet (ﷺ) we used to take with us the meat of the sacrifices (of Id al Adha) to Medina. (The narrator often said. The meat of the Hadi)
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا کہ عمرو نے بیان کیا، انہیں عطاء نے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مدینہ پہنچنے تک ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کا گوشت جمع کرتے تھے اور کئی مرتبہ ( بجائے «لحوم الأضاحي» کے ) «لحوم الهدى.» کا لفظ استعمال کیا۔
Sahih al-Bukhari 73:24sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، أَنَّ ابْنَ خَبَّابٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَ غَائِبًا، فَقَدِمَ فَقُدِّمَ إِلَيْهِ لَحْمٌ. قَالَ وَهَذَا مِنْ لَحْمِ ضَحَايَانَا. فَقَالَ أَخِّرُوهُ لاَ أَذُوقُهُ. قَالَ ثُمَّ قُمْتُ فَخَرَجْتُ حَتَّى آتِيَ أَخِي قَتَادَةَ ـ وَكَانَ أَخَاهُ لأُمِّهِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا ـ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ بَعْدَكَ أَمْرٌ.
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:that once he was not present (at the time of `Id-al-Adha) and when he came. some meat was presented to him. and the people said (to him), 'This is the meat of our sacrifices" He said. 'Take it away; I shall not taste it. (In his narration) Abu Sa`id added: I got up and went to my brother, Abu Qatada (who was his maternal brother and was one of the warriors of the battle of Badr) and mentioned that to him He Sa`d. 'A new verdict was given in your absence (i.e., meat of sacrifices was allowed to be stored and eaten later on)
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے قاسم نے، انہیں ابن خزیمہ نے خبر دی، انہوں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ وہ سفر میں تھے جب واپس آئے تو ان کے سامنے گوشت لایا گیا۔ کہا گیا کہ یہ ہماری قربانی کا گوشت ہے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اسے ہٹاؤ میں اسے نہیں چکھوں گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر اٹھ گیا اور گھر سے باہر نکل کر اپنے بھائی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا وہ ماں کی طرف سے ان کے بھائی تھے اور بدر کی لڑائی میں شرکت کرنے والوں میں سے تھے۔ میں نے ان سے اس کا ذکر کیا اور انہوں نے کہا کہ تمہارے بعد حکم بدل گیا ہے۔
Sahih al-Bukhari 73:25sahih
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلاَ يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَةٍ وَفِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَىْءٌ ". فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا عَامَ الْمَاضِي قَالَ " كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا فَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامَ كَانَ بِالنَّاسِ جَهْدٌ فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهَا ".
Narrated Salama bin Al-Aqua':The Prophet (ﷺ) said, "Whoever has slaughtered a sacrifice should not keep anything of Its meat after three days." When it was the next year the people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall we do as we did last year?" He said, ' Eat of it and feed of it to others and store of it for in that year the people were having a hard time and I wanted you to help (the needy)
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے تم میں سے قربانی کی تو تیسرے دن وہ اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہ ہو۔ دوسرے سال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا۔ ( کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت بھی نہ رکھیں ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب کھاؤ، کھلاؤ اور جمع کرو۔ پچھلے سال تو چونکہ لوگ تنگی میں مبتلا تھے، اس لیے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میں ان کی مدد کرو۔
Sahih al-Bukhari 76:23sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبٍ، هُوَ ابْنُ عُجْرَةَ قَالَ أَتَى عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ بُرْمَةٍ، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَنْ رَأْسِي فَقَالَ " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " فَاحْلِقْ وَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةً، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً ". قَالَ أَيُّوبُ لاَ أَدْرِي بِأَيَّتِهِنَّ بَدَأَ.
Narrated Ka`b bin Ujrah:The Prophet (ﷺ) came to me during the period of Al-Hudaibiya, while I was lighting fire underneath a cooking pot and lice were falling down my head. He said, "Do your lice hurt your?" I said, "Yes." He said, "Shave your head and fast for three days or feed six poor persons or slaughter a sheep as a sacrifice:
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے مجاہد سے سنا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوویں میرے سر سے گر رہی تھی ( اور میں احرام باندھے ہوئے تھا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ سر کی یہ جوویں تمہیں تکلیف پہنچاتی ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ فرمایا کہ پھر سر منڈوا لے اور ( کفارہ کے طور پر ) تین دن کے روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا یا ایک قربانی کر دے۔ ایوب نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ ( ان تین چیزوں میں سے ) کس کا ذکر سب سے پہلے کیا تھا۔
Sahih al-Bukhari 77:25sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ هَاجَرَ إِلَى الْحَبَشَةِ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَى رِسْلِكَ، فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَوَ تَرْجُوهُ بِأَبِي أَنْتَ قَالَ " نَعَمْ ". فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ نَفْسَهُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِصُحْبَتِهِ، وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا عِنْدَهُ وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ. قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَبَيْنَا نَحْنُ يَوْمًا جُلُوسٌ فِي بَيْتِنَا فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ فَقَالَ قَائِلٌ لأَبِي بَكْرٍ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُقْبِلاً مُتَقَنِّعًا، فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِدًا لَهُ بِأَبِي وَأُمِّي، وَاللَّهِ إِنْ جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلاَّ لأَمْرٍ. فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْذَنَ، فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ، فَقَالَ حِينَ دَخَلَ لأَبِي بَكْرٍ " أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ ". قَالَ إِنَّمَا هُمْ أَهْلُكَ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " فَإِنِّي قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ ". قَالَ فَالصُّحْبَةُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " نَعَمْ ". قَالَ فَخُذْ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَى رَاحِلَتَىَّ هَاتَيْنِ. قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بِالثَّمَنِ ". قَالَتْ فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَثَّ الْجِهَازِ، وَضَعْنَا لَهُمَا سُفْرَةً فِي جِرَابٍ، فَقَطَعَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قِطْعَةً مِنْ نِطَاقِهَا، فَأَوْكَتْ بِهِ الْجِرَابَ، وَلِذَلِكَ كَانَتْ تُسَمَّى ذَاتَ النِّطَاقِ، ثُمَّ لَحِقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ بِغَارٍ فِي جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ ثَوْرٌ، فَمَكُثَ فِيهِ ثَلاَثَ لَيَالٍ يَبِيتُ عِنْدَهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَهْوَ غُلاَمٌ شَابٌّ لَقِنٌ ثَقِفٌ، فَيَرْحَلُ مِنْ عِنْدِهِمَا سَحَرًا، فَيُصْبِحُ مَعَ قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ كَبَائِتٍ، فَلاَ يَسْمَعُ أَمْرًا يُكَادَانِ بِهِ إِلاَّ وَعَاهُ، حَتَّى يَأْتِيَهُمَا بِخَبَرِ ذَلِكَ حِينَ يَخْتَلِطُ الظَّلاَمُ، وَيَرْعَى عَلَيْهِمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ مِنْحَةً مِنْ غَنَمٍ، فَيُرِيحُهَا عَلَيْهِمَا حِينَ تَذْهَبُ سَاعَةٌ مِنَ الْعِشَاءِ، فَيَبِيتَانِ فِي رِسْلِهَا حَتَّى يَنْعِقَ بِهَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ بِغَلَسٍ، يَفْعَلُ ذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ مِنْ تِلْكَ اللَّيَالِي الثَّلاَثِ.
Narrated `Aisha:Some Muslim men emigrated to Ethiopia whereupon Abu Bakr also prepared himself for the emigration, but the Prophet (ﷺ) said (to him), "Wait, for I hope that Allah will allow me also to emigrate." Abu Bakr said, "Let my father and mother be sacrificed for you. Do you hope that (emigration)?" The Prophet said, 'Yes." So Abu Bakr waited to accompany the Prophet (ﷺ) and fed two she-camels he had on the leaves of As-Samur tree regularly for four months One day while we were sitting in our house at midday, someone said to Abu Bakr, "Here is Allah's Messenger (ﷺ), coming with his head and a part of his face covered with a cloth-covering at an hour he never used to come to us." Abu Bakr said, "Let my father and mother be sacrificed for you, (O Prophet)! An urgent matter must have brought you here at this hour." The Prophet (ﷺ) came and asked the permission to enter, and he was allowed. The Prophet (ﷺ) entered and said to Abu Bakr, "Let those who are with you, go out." Abu Bakr replied, "(There is no stranger); they are your family. Let my father be sacrificed for you, O Allah's Apostle!" The Prophet (ﷺ) said, "I have been allowed to leave (Mecca)." Abu Bakr said, " I shall accompany you, O Allah's Messenger (ﷺ), Let my father be sacrificed for you!" The Prophet (ﷺ) said, "Yes," Abu Bakr said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Let my father be sacrificed for you. Take one of these two shecamels of mine" The Prophet (ﷺ) said. I will take it only after paying its price." So we prepared their baggage and put their journey food In a leather bag. And Asma' bint Abu Bakr cut a piece of her girdle and tied the mouth of the leather bag with it. That is why she was called Dhatan- Nitaqaln. Then the Prophet (ﷺ) and Abu Bakr went to a cave in a mountain called Thour and remained there for three nights. `Abdullah bin Abu Bakr. who was a young intelligent man. used to stay with them at night and leave before dawn so that in the morning, he would he with the Quraish at Mecca as if he had spent the night among them. If he heard of any plot contrived by the Quraish against the Prophet and Abu Bakr, he would understand it and (return to) inform them of it when it became dark. 'Amir bin Fuhaira, the freed slave of Abu Bakr used to graze a flock of milch sheep for them and he used to take those sheep to them when an hour had passed after the `Isha prayer. They would sleep soundly till 'Amir bin Fuhaira awakened them when it was still dark. He used to do that in each of those three nights
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بہت سے مسلمان حبشہ ہجرت کر کے چلے گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ہجرت کی تیاریاں کرنے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ٹھہر جاؤ کیونکہ مجھے بھی امید ہے کہ مجھے ( ہجرت کی ) اجازت دی جائے گی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا آپ کو بھی امید ہے؟ میرا باپ آپ پر قربان۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کے خیال سے رک گئے اور اپنی دو اونٹنیوں کو ببول کے پتے کھلا کر چار مہینے تک انہیں خوب تیار کرتے رہے۔ عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہم ایک دن دوپہر کے وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر ڈھکے ہوئے تشریف لا رہے ہیں۔ اس وقت عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف نہیں لاتے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا میرے ماں باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت کسی وجہ ہی سے تشریف لا سکتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکان پر پہنچ کر اجازت چاہی اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور اندر داخل ہوتے ہی ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جو لوگ تمہارے پاس اس وقت ہیں انہیں اٹھا دو۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی میرا باپ آپ پر قربان ہو یا رسول اللہ! یہ سب آپ کے گھر ہی کے افراد ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی پھر یا رسول اللہ! مجھے رفاقت کا شرف حاصل رہے گا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ عرض کی یا رسول اللہ! میرے باپ آپ پر قربان ہوں ان دو اونٹنیوں میں سے ایک آپ لے لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن قیمت سے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ہم نے بہت جلدی جلدی سامان سفر تیار کیا اور سفر کا ناشتہ ایک تھیلے میں رکھا۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنے پٹکے کے ایک ٹکڑے سے تھیلہ کے منہ کو باندھا۔ اسی وجہ سے انہیں ”ذات النطاق“ ( پٹکے والی ) کہنے لگے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ثور نامی پہاڑ کی ایک غار میں جا کر چھپ گئے اور تین دن تک اسی میں ٹھہرے رہے۔ عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما رات آپ حضرات کے پاس ہی گزارتے تھے۔ وہ نوجوان ذہین اور سمجھدار تھے۔ صبح تڑکے میں وہاں سے چل دیتے تھے اور صبح ہوتے ہوتے مکہ کے قریش میں پہنچ جاتے تھے۔ جیسے رات میں مکہ ہی میں رہے ہوں۔ مکہ مکرمہ میں جو بات بھی ان حضرات کے خلاف ہوتی اسے محفوظ رکھتے اور جوں ہی رات کا اندھیرا چھا جاتا غار ثور میں ان حضرات کے پاس پہنچ کر تمام تفصیلات کی اطلاع دیتے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ دودھ دینے والی بکریاں چراتے تھے اور جب رات کا ایک حصہ گزر جاتا تو ان بکریوں کو غار ثور کی طرف ہانک لاتے تھے۔ آپ حضرات بکریوں کے دودھ پر رات گزارتے اور صبح کی پو پھٹتے ہی عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ وہاں سے روانہ ہو جاتے۔ ان تین راتوں میں انہوں نے ہر رات ایسا ہی کیا۔
Sahih al-Bukhari 79:2sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَرْدَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ يَوْمَ النَّحْرِ خَلْفَهُ عَلَى عَجُزِ رَاحِلَتِهِ، وَكَانَ الْفَضْلُ رَجُلاً وَضِيئًا، فَوَقَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلنَّاسِ يُفْتِيهِمْ، وَأَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ وَضِيئَةٌ تَسْتَفْتِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، وَأَعْجَبَهُ حُسْنُهَا، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ إِلَيْهَا، فَأَخْلَفَ بِيَدِهِ فَأَخَذَ بِذَقَنِ الْفَضْلِ، فَعَدَلَ وَجْهَهُ عَنِ النَّظَرِ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ " نَعَمْ ".
Narrated `Abdullah bin `Abbas:Al-Fadl bin `Abbas rode behind the Prophet (ﷺ) as his companion rider on the back portion of his she camel on the Day of Nahr (slaughtering of sacrifice, 10th Dhul-Hijja) and Al-Fadl was a handsome man. The Prophet (ﷺ) stopped to give the people verdicts. In the meantime, a beautiful woman From the tribe of Khath'am came, asking the verdict of Allah's Messenger (ﷺ). Al-Fadl started looking at her as her beauty attracted him. The Prophet (ﷺ) looked behind while Al-Fadl was looking at her; so the Prophet (ﷺ) held out his hand backwards and caught the chin of Al-Fadl and turned his face (to the owner sides in order that he should not gaze at her. She said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The obligation of Performing Hajj enjoined by Allah on His worshipers, has become due (compulsory) on my father who is an old man and who cannot sit firmly on the riding animal. Will it be sufficient that I perform Hajj on his behalf?" He said, "Yes
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں سلیمان بن یسار نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو قربانی کے دن اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا۔ وہ خوبصورت گورے مرد تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو مسائل بتانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اسی دوران میں قبیلہ خثعم کی ایک خوبصورت عورت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھنے آئی۔ فضل بھی اس عورت کو دیکھنے لگے۔ اس کا حسن و جمال ان کو بھلا معلوم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر دیکھا تو فضل اسے دیکھ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے لے جا کر فضل کی ٹھوڑی پکڑی اور ان کا چہرہ دوسری طرف کر دیا۔ پھر اس عورت نے کہا: یا رسول اللہ! حج کے بارے میں اللہ کا جو اپنے بندوں پر فریضہ ہے وہ میرے والد پر لاگو ہوتا ہے، جو بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اور سواری پر سیدھے نہیں بیٹھ سکتے۔ کیا اگر میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو ان کا حج ادا ہو جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ہو جائے گا۔
Sahih al-Bukhari 83:51sahih
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ كَتَبَ إِلَىَّ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ وَكَانَ عِنْدَهُمْ ضَيْفٌ لَهُمْ فَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يَذْبَحُوا قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ، لِيَأْكُلَ ضَيْفُهُمْ، فَذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلاَةِ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الذَّبْحَ. فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي عَنَاقٌ جَذَعٌ، عَنَاقُ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ. فَكَانَ ابْنُ عَوْنٍ يَقِفُ فِي هَذَا الْمَكَانِ عَنْ حَدِيثِ الشَّعْبِيِّ، وَيُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَيَقِفُ فِي هَذَا الْمَكَانِ وَيَقُولُ لاَ أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ غَيْرَهُ أَمْ لاَ. رَوَاهُ أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Al-Bara bin Azib that once he had a guest, so he told his family (on the Day of Id-ul-Adha) that they should slaughter the animal for sacrifice before he returned from the ('Id) prayer in order that their guest could take his meal. So his family slaughtered (the animal ) before the prayer. Then they mentioned that event to the Prophet who ordered Al-Bara to slaughter another sacrifice. Al-Bara' said to the Prophet (ﷺ) , "I have a young milch she-goat which is better than two sheep for slaughtering." (The sub-narrator, Ibn 'Aun used to say, "I don't know whether the permission (to slaughter a she-goat as a sacrifice) was especially given to Al-Bara' or if it was in general for all the Muslims.") (See Hadith No. 99, Vol)
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ محمد بن بشار نے مجھے لکھا کہ ہم سے معاذ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے شعبی نے بیان کیا، کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ان کے یہاں کچھ ان کے مہمان ٹھہرے ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ ان کے واپس آنے سے پہلے جانور ذبح کر لیں تاکہ ان کے مہمان کھائیں، چنانچہ انہوں نے نماز عید الاضحی سے پہلے جانور ذبح کر لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نماز کے بعد دوبارہ ذبح کریں۔ براء رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے پاس ایک سال سے زیادہ دودھ والی بکری ہے جو دو بکریوں کے گوشت سے بڑھ کر ہے۔ ابن عوف شعبی کی حدیث کے اس مقام پر ٹھہر جاتے تھے اور محمد بن سیرین سے اسی حدیث کی طرح حدیث بیان کرتے تھے اور اس مقام پر رک کر کہتے تھے کہ مجھے معلوم نہیں، یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے یا صرف براء رضی اللہ عنہ کے لیے ہی تھی۔ اس کی روایت ایوب نے ابن سیرین سے کی ہے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
Sahih al-Bukhari 83:52sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا، قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى يَوْمَ عِيدٍ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ قَالَ " مَنْ ذَبَحَ فَلْيُبَدِّلْ مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ ".
Narrated Jundub:I witnessed the Prophet (ﷺ) offering the `Id prayer (and after finishing it) he delivered a sermon and said, "Whoever has slaughtered his sacrifice (before the prayer) should make up for it (i.e. slaughter another animal) and whoever has not slaughtered his sacrifice yet, should slaughter it by mentioning Allah's Name over it
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے اسود بن قیس نے کہا کہ میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں اس وقت تک موجود تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو اسے چاہئے کہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ابھی ذبح نہ کیا ہو اسے چاہئے کہ اللہ کا نام لے کر جانور ذبح کرے۔
Sahih al-Bukhari 84:1sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ أَتَيْتُهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ادْنُ ". فَدَنَوْتُ فَقَالَ " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ". وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَوْنٍ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ صِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ، وَالنُّسُكُ شَاةٌ، وَالْمَسَاكِينُ سِتَّةٌ.
Narrated Ka`b bin 'Ujra:I came to the Prophet (ﷺ) and he said to me, "Come near." So I went near to him and he said, "Are your lice troubling you?" I replied, "Yes." He said, "(Shave your head and) make expiation in the form of fasting, Sadaqa (giving in charity), or offering a sacrifice." (The sub-narrator) Aiyub said, "Fasting should be for three days, and the Nusuk (sacrifice) is to be a sheep, and the Sadaqa is to be given to six poor persons
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوشہاب عبداللہ بن نافع نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے، ان سے مجاہد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے، ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریب ہو جا، میں قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے سر کے کپڑے تکلیف دے رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزے صدقہ یا قربانی کا فدیہ دیدے۔ اور مجھے ابن عون نے خبر دی، ان سے ایوب نے بیان کیا کہ روزے تین دن کے ہوں گے اور قربانی ایک بکری کی اور ( کھانے کے لیے ) چھ مسکین ہوں گے۔
Sahih al-Bukhari 97:28sahih
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ ضَحَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِكَبْشَيْنِ، يُسَمِّي وَيُكَبِّرُ.
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) slaughtered two rams as sacrifice and mentioned Allah's Name and said, "Allahu-Akbar" while slaughtering
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کی قربانی کی اور ذبح کرتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر پڑھا۔
Sahih al-Bukhari 97:29sahih
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدَبٍ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ صَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ ".
Narrated Jundab:That he witnessed the Prophet (ﷺ) on the Day of Nahr. The Prophet (ﷺ) offered prayer and then delivered a sermon saying, "Whoever slaughtered his sacrifice before offering prayer, should slaughter another animal in place of the first; and whoever has not yet slaughtered any, should slaughter a sacrifice and mention Allah's Name while doing so
ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے اور ان سے جندب رضی اللہ عنہ نے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا ”جس نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا تو اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح ابھی نہ کیا ہو تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔“
Sahih Muslim 6:240sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْمَاجِشُونُ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ قَالَ " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ . أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاَقِ لاَ يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلاَّ أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لاَ يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلاَّ أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " . وَإِذَا رَكَعَ قَالَ " اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي " . وَإِذَا رَفَعَ قَالَ " اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ " . وَإِذَا سَجَدَ قَالَ " اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ " . ثُمَّ يَكُونُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ " .
Ali b. Abu Talib reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) got up at night for prayer he would say:I turn my face in complete devotion to One Who is the Originator of the heaven and the earth and I am not of the polytheists. Verily my prayer, my sacrifice, my living and my dying are for Allah, the Lord of the worlds; There is no partner with Him and this is what I have been commanded (to profess and believe) and I am of the believers. O Allah, Thou art the King, there is no god but Thee, Thou art my Lord, and I am Thy bondman. I wronged myself and make a confession of my Sin. Forgive all my sins, for no one forgives the sins but Thee, and guide me in the best of conduct for none but Thee guideth anyone (in) good conduct. Remove sins from me, for none else but Thou can remove sins from me. Here I am at Thy service, and Grace is to Thee and the whole of good is in Thine hand, and one cannot get nearneststo Thee through evil. My (power as well as existence) is due to Thee (Thine grace) and I turn to Thee (for supplication). Thou art blessed and Thou art exalted. I seek forgiveness from Thee and turn to Thee in repentance: and when he would bow, he would say: O Allah, it is for Thee that I bowed. I affirm my faith in Thee and I submit to Thee, and submit humbly before Thee my hearing, my eyesight, my marrow, my bone, my sinew; and when he would raise his head, he would say: O Allah, our Lord, praise is due to Thee, (the praise) with which is filled the heavens and the earth, and with which is filled that (space) which exists between them, and filled with anything that Thou desireth afterward. And when he prostrated himself, he (the Holy Prophet) would say: O Allah, it is to Thee that I prostrate myself and it is in Thee that I affirm my faith, and I submit to Thee. My face is submitted before One Who created it, and shaped it, and opened his faculties of hearing and seeing. Blessed is Allah, the best of Creators; and he would then say between Tashahhud and the pronouncing of salutation: Forgive me of the earlier and later open and secret (sins) and that where I made transgression and that Thou knowest better than I. Thou art the First and the Last. There is no god, but Thee
یوسف ماجثون نے کہا : مجھ سے میرے والد ( یعقوب بن ابی سلمہ ماجثون ) نے عبدالرحمان اعرج سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبیداللہ بن ابی رافع سے ، انھوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ر وایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑ ے ہوتے تھے تو فرماتے : "" میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کردیا ہے ۔ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ، ہر طرف سے یکسو ہوکر ، اور میں اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں میں سے نہیں ، میری نماز اور میری ہر ( بدنی ومالی ) عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لئے ہے جو کائنات کا رب ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم ملا ہے اور میں فرمانبرداری کرونے والوں میں سے ہوں ۔ اے اللہ ! تو ہی بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ، تو میرا رب ہے میں تیرا بندہ ہوں اور میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اپنے گناہ کا اعتراف کیا ہے ، اس لئے میرے سارے گناہ بخش دے کیونکہ گناہوں کو بخشنے والا تیرے سوا کوئی نہیں ، اور میری بہترین اخلاق کی طرف راہنمائی فرما ، تیرے سوا بہترین اخلاق کی راہ پر چلانے والا کوئی نہیں ، اور برے اخلاق مجھ سے ہٹا دے ، تیرے سوا برے اخلاق کو مجھ سے دور کرنے والا کوئی نہیں ، میں تیرے حضور حاضر ہوں اور دونوں جہانوں کی سعادتیں تجھ سے ہیں ہر طرح کی بھلائی تیر ے ہاتھ میں ہے اور برائی کا تیر ی طرف کوئی گزر نہیں ہے میں تیرے ہی سہارے ہوں ، اور تیری ہی طرف میرا رخ ہے ، تو برکت والا رفعت والا اور بلندی والا ہے میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کر تا ہوں ۔ "" اور جب آپ رکوع کرتے تو فرماتے : "" اے اللہ ! میں تیرے سامنے جھکا ہوا ہوں اور میں تجھ ہی پر ایمان لایاہوں ، اپنے آپ کو تیرے ہی سپرد کر دیا ہے ، میرے کان اور میری آنکھیں اور میرا مغز اور میری ہڈیاں اور میری رگیں اور میرے پٹھے تیرے ہی حضور جھکے ہوئے ہیں ۔ "" اور جب رکوع سے اٹھتے تو کہتے : "" اے اللہ! ہمارے رب ، تیرے ہی لئے حمد ہے جس سے آ سمانوں اور زمین کی وسعتیں بھر جائیں اور اس کے بعد جو تو چاہے اس کی وسعتیں بھر جائیں ۔ "" اور جب آپ سجدہ کرتے تو کہتے : "" اے اللہ!میں نے تیرے ہی حضور سجدہ کیااور تجھ ہی پر ایمان لایا اور ا پنے آپ کو تیرے ہی حوالے کیا ، میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہے جس نےاسے پیدا کیا ، اس کی صورت گری کی اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں تراشیں ، برکت والاہے اللہ جو بہترین خالق ہے ۔ "" پھر تشہد اور سلام کے درمیان میں یہ دعا پڑھتے ۔ "" اے اللہ ! بخش دے جو خطائیں میں نے پہلے کیں یا بعد میں کیں اور چھپا کر کہیں یا علانیہ کیں اور جو بھی زیادتی میں نے کی اور جس کا مجھ سے زیادہ تمھیں علم ہے ( اطاعت اور خیر میں ) تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کا حقدار نہیں ۔
Sahih Muslim 7:14sahih
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ " .
Abu Huraira reported that the Messenger of, Allah (ﷺ) said. He who takes a bath on Friday, the bath which is obligatory after the sexual discharge and then goes (to the mosque), he is like one who offers a she-camel as a sacrifice, and he who comes at the second hour would be like one who offers a cow, and he who comes at the third hour is live one who offers a ram with horns, and he who comes at the fourth hour is like one who offers a hen, and he who comes at the fifth hour is like one who offers an egg. And when the Imam comes out, the angels are also present and listen to the mention of God (the sermon)
ابو صالح سمنان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس نے جمعے کے دن غسل جنابت ( جیسا غسل ) کیا پھر مسجد ) چلا گیا تو اس نے گو یا ایک اونٹ قربان کیا اور جودوسری گھڑی میں گیا تو گو یا اس نے گا ئے قربان کی اور جو تیسری گھڑی میں گیا گو یا اس نے سینگوں والا ایک مینڈھا قربان کیا اور جو چوتھی گھڑی میں گیا اس نے گو یا ایک مرغ اللہ کے تقرب کے لیے پیش کیا اور جو پانچویں گھڑی میں گیا اس نے گو یا ایک انڈا تقرب کے لیے پیش کیا اس کے بعد جب امام آجا تا ہے تو فرشتے ذکر ( عبادتاور امور خیر کی یاد دہانی ) سنتے ہیں ۔
Sahih Muslim 15:87sahih
وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ أَتَى عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ - قَالَ الْقْوَارِيرِيُّ قِدْرٍ لِي . وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ بُرْمَةٍ لِي - وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي فَقَالَ " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ " . قَالَ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " فَاحْلِقْ وَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً " . قَالَ أَيُّوبُ فَلاَ أَدْرِي بِأَىِّ ذَلِكَ بَدَأَ .
Ka'b b. 'Ujra (Allah be pleased with him) reported:The Messenger of Allah (ﷺ) came to me on the occasion of Hudaibiya and I was kindling fire under my cooking pot and lice were creeping on my face. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Do the vermins harm your head? I said: Yes. He said: Get your head shaved and (in lieu of it) observe fasts for three days or feed six needy persons, or offer sacrifice (of an animal). Ayyub said: I do not know with what (type of expiation) did he commence (the statement)
مجھے عبید اللہ بن عمر قواریری اور ابو ربیع نے حدیث بیان کی ( دونوں نے کہا ) ہمیں حما د بن زید نے حدیث سنائی ( حماد بن زید نے کہا ) ہمیں ایو ب نے حدیث بیا ن کی ، کہا : میں نے مجا ہد سے سنا ، وہ عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے حدیث بیان کر رہے تھے انھوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حدیبیہ کے د نوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشر یف لا ئے میں ۔ ۔ ۔ قواریری کے بقول اپنی ہنڈیا کے نیچے اور ابو ربیع کے بقول ۔ ۔ ۔ اپنی پتھر کی دیگ کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور ( میرے سر کی ) جو ئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فر ما یا : " کیا تمھا رے سر کی مخلوق ( جوئیں رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمھا رے لیے با عث اذیت ہیں؟کہا : میں نے جواب دیا جی ہاں ، آپ نے فر ما یا : " تو اپنا سر منڈوادو ( اور فدیے کے طور پر ) تین دن کے روزےرکھو ۔ یا چھ مسکینوں کو کھا نا کھلا ؤ یا ( ایک ) قربا نی دے دو ۔ ایو ب نے کہا : مجھے علم نہیں ان ( فدیے کی صورتوں میں ) سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس چیز کا پہلے ذکر کیا ۔
Sahih Muslim 15:89sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ " ادْنُهْ " . فَدَنَوْتُ فَقَالَ " ادْنُهْ " . فَدَنَوْتُ . فَقَالَ صلى الله عليه وسلم " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ " . قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَأَظُنُّهُ قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَأَمَرَنِي بِفِدْيَةٍ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ مَا تَيَسَّرَ .
Kalb b. Ujra (Allah be pleased with him) reported:It was I for whom this verse was revealed (to the Holy Prophet):" Whoever among you is sick or has an ail- ment of the head, he (may effect) a compensation by lasting or alms or a sacrifice" He said: I came to him (the Holy Prophet) and he said: Come Dear. So I went near. He (again) said: Come near. So I went near. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: Do the vermins trouble you? Ibn Aun (one of the narrators) said: I think he (Ka'b b. Ujra) replied in the affirmative. He (the Holy Prophet) then commanded to do compensation by fasting or by giving sadaqa (feeding six needy persons) or by sacrifice (of a animal) that is available
ابن عون نے مجا ہد سے انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے انھوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : یہ آیت میرے بارے میں نا زل ہوئی : پھر اگر تم میں سے کو ئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو ( اور وہ سر منڈوالے ) تو فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے ۔ کہا میں آپ کی خدمت میں حا ضر ہوا آپ نے فر ما یا : "" ذرا قریب آؤ ۔ میں آپ کے ( کچھ ) قیریب ہو گیا آپ نے فر ما یا : "" اور قریب آؤ ۔ تو میں آپ کے اور قریب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا : کیا تمھا ری جو ئیں تمھیں ایذا دیتی ہیں ؟ ابن عون نے کہا : میرا خیال ہے کہ انھوں ( کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا جی ہاں ( کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو آپ نے مجھے حکم دیا کے روزے صدقے یا قر بانی میں سے جو آسان ہو بطور فدیہ دوں ۔
Sahih Muslim 15:92sahih
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَهُ " آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ " . قَالَ نَعَمْ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " احْلِقْ رَأْسَكَ ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا أَوْ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ ثَلاَثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ " .
Ka'b b. Ujra (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) happened to pass by him during the period of Hudaibiya. Thereupon he (the Holy Prophet) said to him (Ka'b b. Ujra):Do these vermins trouble your head? He said: Yes. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Shave your head. Then sacrifice a goat or observe fasts for three days or give three sits of dates to feed six needy persons
ابو قلا بہ نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے انھوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے دنو میں ان کے پاس گزرے اور ان سے پو چھا تمھا رے سر کی جوؤں نے تمھیں اذیت دی ہے ؟انھوں نے کہا : جی ہاں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فر ما یا : " سر منڈوادو ۔ پھر ایک بکری بطور قر بانی ذبح کرو یا تین دن کے روزے رکھو یا کھجوروں کے تین صاع چھ مسکینوں کو کھلا دو ۔
Sahih Muslim 15:93sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ قَعَدْتُ إِلَى كَعْبٍ - رضى الله عنه - وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ { فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} فَقَالَ كَعْبٌ رضى الله عنه نَزَلَتْ فِيَّ كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي فَقَالَ " مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ مَا أَرَى أَتَجِدُ شَاةً " . فَقُلْتُ لاَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} قَالَ صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ أَوْ إِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ نِصْفَ صَاعٍ طَعَامًا لِكُلِّ مِسْكِينٍ - قَالَ - فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً وَهْىَ لَكُمْ عَامَّةً .
Abdullah b. Ma'qil said:I sat with Ka'b (Allah be pleased with him) and he was in the mosque. I asked him about this verse:" Compensation in (the form of) fasting, or Sadaqa or sacrifice." Ka'b (Allah be pleased with him) said: It was reveal- ed In my case. There was some trouble in my head. I was taken to the Messenger of Allah (ﷺ) and lice were creeping upon my face. Thereupon he said: I did not think that your trouble had become so unbearable as I see. Would you be able to afford (the sacrificing) of a goat? I (Ka'b) said: Then this verse was revealed:" Com- pensation (in the form of) fasting or alms or a sacrifice." He (the Holy Prophet) said: (It Implies) fasting for three days, or feeding six needy perscins, half sa' of food for every needy person. This verse was revealed particularly for me and (now) Its applica- tion is general for all of you
شعبہ نے عبد الرحمٰن بن اصبہانی سے حدیث بیان کی انھوں نے عبد اللہ بن معقل سے انھوں نے کہا : میں کعب ( بن عجرہ ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جا بیٹھا وہ اس وقت ( کو فہ کی ایک ) مسجد میں تشریف فر ما تھے میں نے ان سے اس آیت کے متعلق سوال کیا : فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ۚ " تو روزوں یا صدقہ یا قر بانی سے فدیہ دے ۔ حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہو ئی تھی ۔ میرے سر میں تکلیف تھی مجھے اس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جا یا گیا کہ جو ئیں میرے چہرے پر پڑرہی تھیں تو آپ نے فر ما یا : " میرا خیال نہیں تھا کہ تمھا ری تکلیف اس حد تک پہنچ گئی ہے جیسے میں دیکھ رہا ہوں ۔ کیا تمھارے پاس کو ئی بکری ہے ؟میں نے عرض کی نہیں اس پر یہ آیت نازل ہو ئی ۔ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ۚ " ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فر ما یا : " ( تمھا رے ذمے ) تین دنوں کے روزے ہیں یا چھ مسکینوں کا کھا نا ہر مسکین کے لیے آدھا صاع کھا نا ۔ ( پھر کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : یہ آیت خصوصی طور پر میرے لیے اتری اور عمومی طور پر یہ تمھا رے لیے بھی ہے ۔
Sahih Muslim 15:161sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرٍ، فِي حَدِيثِهِ ذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نَحَرْتُ هَا هُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ وَوَقَفْتُ هَا هُنَا وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ وَوَقَفْتُ هَا هُنَا وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ " .
Jabir reported Allah's Messenger (May peace be upon him) as saying:I have sacrificed (the animals) here, and the whole of Mini is a place for sacrifice; so sacrifice your animals at your places. 1 have stayed here (near these rocks), and the whole of Arafat is a place for stay. And I have stayed here (at Muzdalifa near Mash'ar al-Haram and the whole of Muzdalifa) is a place for stay (i. e. one is permitted to spend night in any part of it, as one likes)
حضرت جعفر ؒ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے میرے والد نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کردہ اپنی اس حدیث میں یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے یہاں قربانی کی ہے ۔ ( لیکن ) پورا منیٰ قربان گاہ ہے ، اس لئے تم اپنے اپنے پڑاؤ ہی پر قربانی کرو ، میں نے اسی جگہ وقوف کیا ہے ( لیکن ) پورا عرفہ ہے مقام وقوف ہے اور میں نے ( مزدلفہ میں ) یہاں وقوف کیا ہے ( ٹھہرا ہوں ۔ ) اور پورا مزدلفہ موقف ہے ( اس میں کہیں بھی پڑاؤ کیا جاسکتاہے ۔)
Sahih Muslim 15:190sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ وَأَهْدَى فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْىَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى فَسَاقَ الْهَدْىَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لْيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ " . وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَىْءٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ رَكَعَ - حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ - رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْىَ مِنَ النَّاسِ .
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) reported:Allah's Messenger (ﷺ) observed Tamattu' in Hajjat-ul-Wada'. He first put on Ihram for 'Umra and then for Hajj. and then offered animal sacrifice. So he drove the sacrificial animals with him from Dhu'l-Hulaifa. Allah's Messenger (ﷺ) commenced Ihram of Umra and thus pronounced Talbiya for 'Umra. and then (put on Ihram for Hajj) and pronounced Talbiya for Hajj. And the people performed Tamattu' in the company of Allah's Messenger (ﷺ). They put on Ihram for Umra (first) and then for Hajj. Some of them had sacrificial animals which they had brought with them, whereas some of them had none to sacrifice. So when Allah's Messenger (ﷺ) came to Mecca, he said to the people: He who amongst you has brought sacrificial animals along with him must not treat as lawful anything which has become unlawful for him till he has completed the Hajj; and he, who amongst you has not brought the sacrificial animals should circumambulate the House, and run between al-Safa' and al-Marwa and clip (his hair) and put off the Ihram, and then again put on the Ihram for Hajj and offer sacrifice of animals. But he who does not find the sacrificial animal, he should observe fast for three days during the Hajj and for seven days when he returns to his family. Allah's Messenger (ﷺ) circumambulated (the House) when he came to Mecca: he first kissed the corner (of the Ka'ba containing the Black Stone), then ran in three circuits out of seven and walked in four circuits. And then when he had finished the circumambulation of the House he observed two rak'ahs of prayer at the Station (of Ibrahim), and then pronounced Salaam (for concluding the rak'ahs), and departed and came to al-Safa' and ran seven times between al-Safa' and al-Marwa. After that he did not treat anything as lawful which had become unlawful till he had completed his Hajj and sacrificed his animal on the day of sacrifice (10th of Dhu'l-Hijja). and then went back quickly (to Mecca) and performed circumambulation of the House (known as tawaf ifada) after which all that was unlawful for him became lawful; and those who had brought the sacrificial animals along with them did as Allah's Messenger (ﷺ) had done
سالم بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تک عمرے سے تمتع فرمایا اور ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا آپ ذوالحلیفہ سے قربانی کے جا نور اپنے ساتھ چلا کر لا ئے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آغا ز فرمایا تو ( پہلے ) عمرے کا تلبیہ پکا را پھر حج کا تلبیہ پکا را اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ حج تک عمرے سے تمتع کیا ۔ لوگوں میں کچھ ایسے تھے انھوں نے ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا اور قربانی کے جانور چلا کر ساتھ لا ئے تھے اور کچھ ایسے تھے جو قربانیاں لے کر نہیں چلے تھے ۔ جب آپ مکہ تشریف لے آئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا : "" تم میں سے جو قربانی لے چلا وہ ان چیزوں سے جنھیں اس نے ( احرا م بندھ کر ) حرام کیا اس وقت تک حلال نہیں ہو گا جب تک کہ حج پو را نہ کرے ۔ اور جو شخص قربا نی نہیں لا یا وہ بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کرے اور بال کتروا کر حلال ہو جا ئے ( اور آٹھ ذوالحجہ کو ) پھر حج کا ( احرا م باندھ کر ) تلبیہ پکا رے ( اور رمی کے بعد ) قر بانی کرے ۔ اور جسے قربانی میسر نہ ہو وہ تین دن حج کے دورا ن میں اور سات دن گھر لو ٹ کر روزے رکھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف فر ما یا ۔ سب سے پہلے حجرا سود کا استلام کیا ۔ پھر تین چکروں میں تیز چلے اور چار چکر معمول کی رفتار سے چل کر لگا ئے ۔ جب آپ نے بیت اللہ کا طواف مکمل کر لیا تو مقام ابرا ہیم کے پاس دو رکعتیں ادا فرمائیں ۔ پھر سلام پھیر ااور رخ بد لیا ۔ صفا پر تشریف لا ئے اور صفا مروہ کے ( درمیا ن ) ساتھ چکر لگا ئے ۔ پھر جب تک آپ نے اپنا حج مکمل نہ کیا آپ نے ایسی کسی چیز کو ( اپنے لیے ) حلال نہ کیا جسے آپ نے حرا م کیا تھا قربانی کے دن آپ نے اپنے قربانی کے اونٹ نحر کیے اور ( طواف ) افاضہ فر ما یا ۔ پھر آپ نے ہر وہ چیز ( اپنے لیے ) حلال کر لی جو احرام کی وجہ سے ) حرام ٹھہرائی تھی ۔ اور لوگوں میں سے جنھوں نے ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا تھا اور لوگو ں کے ساتھ قربانی کے جا نور ہانک کر لے آئے تھے ۔ انھوں نے بھی ویسا ہی کیا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۔
Sahih Muslim 15:195sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ " فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ " .
Hafsa (Allah be pleased with her) said:Messenger of Allah; the rest of the hadith is the same and (the concluding words of the Holy Prophet):" I won't put off Ihram until I have sacrificed the animal
عبید اللہ نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ( اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ( آگے ) مالک کی ھدیث کے مانند ہے ( البتہ الفاظ یوں ہیں ) : " میں جب تک قربانی نہ کر لوں ۔ احرا م سے فارغ نہیں ہو سکتا ۔
Sahih Muslim 15:391sahih
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَحَرْنَا الْبَعِيرَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with him) reported:We performed Hajj along with Allah's Messenger (ﷺ), and we sacrificed a camel on behalf of seven persons, and a cow on behalf of seven persons
ہمیں عزرہ بن ثابت نے ابو زبیر سے حدیث بیان کی انھوں نے جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا ہم نے ساتھ آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ نحر کیا اور سات آدمیوں کی طرف سے ایک گا ئے ( ذبح کی)
Sahih Muslim 15:392sahih
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ اشْتَرَكْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كُلُّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ لِجَابِرٍ أَيُشْتَرَكُ فِي الْبَدَنَةِ مَا يُشْتَرَكُ فِي الْجَزُورِ قَالَ مَا هِيَ إِلاَّ مِنَ الْبُدْنِ . وَحَضَرَ جَابِرٌ الْحُدَيْبِيَةَ قَالَ نَحَرْنَا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ بَدَنَةً اشْتَرَكْنَا كُلُّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported:We joined Allah's Apostle (may pea, @. e be upon him) in Hajj and Umra and seven persons shared in the sacrifice of an animal. A person said to Jabir (Allah be pleased with him): Can seven persons share in the sacrifice of al-Badnah (a camel) as he shares in al- Jazur (a cow)? He, (Jabir) said: It (al-Jazur) is nothing but one among the budun. Jabir was present at Hudaibiya and he said: We sacrificed on that day seventy camel, and seven men shared in each sacrifice (of camel)
یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ( کہا ) مجھے ابو زبیر نے خبرد ی کہ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا انھوں نے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج و عمرے میں سات آدمی ایک قربانی میں شر یک ہو ئے تو ایک آدمی نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا کیا احرام کے وقت سے ساتھ لا ئے گئے قر با نی کے جانوروں میں بھی اس طرح شراکت کی جا سکتی ہے جیسے بعد میں خریدے گئے جا نوروں میں شراکت ہو سکتی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : وہ بھی ساتھ لا ئے گئے قربانی کے جانوروں ہی کی طرح ہیں ۔ اور جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیبیہ کے موقع پر موجود تھے انھوں نے کہا ہم نے اس دن ستر اونٹ نحر کیے ہم سات سات آدمی ( قربانی کے ایک ) اونٹمیں شر یک ہو ئے تھے ۔
Sahih Muslim 15:393sahih
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُحَدِّثُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم قَالَ فَأَمَرَنَا إِذَا أَحْلَلْنَا أَنْ نُهْدِيَ وَيَجْتَمِعَ النَّفَرُ مِنَّا فِي الْهَدِيَّةِ وَذَلِكَ حِينَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا مِنْ . حَجِّهِمْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them), describing the Hajj of Allah's Apostle (ﷺ) said:He (the Holy Prophet) commanded us as we had entered into the state of Ihram to sacrifice the animals (as a rite of Hajj) and a group (of person; amongst us, i. e. seven) shared in the sacrifice of one (camel or cow), and it happened at that time when he commanded them to put off Ihram for Hajj (after performing 'Umra)
ہمیں محمد بن بکر نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ابن جریج نے خبردی ( کہا ) ہمیں ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا حال سنا رہے تھے انھوں نے اس حدیث میں کہا : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) ہمیں حکم دیا کہ جب ہم احرا م کھولیں تو قر بانی کریں اور ہم میں سے چند ( سات ) آدمی ایک قر بانی میں شر یک ہو جا ئیں اور یہ ( حکم اس وقت دیا ) جب آپ نے ہمیں اپنے حج کے احرا م کھولنے کا حکم دیا ، یہ بات بھی اس حدیث میں ہے ۔
Sahih Muslim 15:395sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ عَائِشَةَ بَقَرَةً يَوْمَ النَّحْرِ .
Jabir reported that Allah's Messenger (ﷺ) sacrificed a cow on behalf of 'A'isha on the Day of Nahr (10th of Dhu'l-Hijja)
ہمیں یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے ابن جریج سے حدیث بیان کی انھوں نے ابو زبیر سے انھوں نے جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : قر بانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( اور دیگر امہارت المومنین ) کی طرف سے ایک گا ئے ذبح کی ۔
Sahih Muslim 15:396sahih
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ، بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ، اللَّهِ يَقُولُ نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نِسَائِهِ . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بَكْرٍ عَنْ عَائِشَةَ بَقَرَةً فِي حَجَّتِهِ .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (ﷺ) sacrificed (animals) on behalf of his wives, and in the hadith transmitted by Ibn Abu Bakr (the words are):" A cow on behalf of 'A'isha on the occasion of the Hajj
محمد بن بکر اور یحییٰ بن سعید نے کہا ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی کہا ہمیں ابو زبیر نے خبردی کہ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے اور ابن بکر کی حدیث میں ہے اپنے حج میں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف سے ایک گا ئے ذبح کی ۔
Sahih Muslim 16:106sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، - وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ سَمِعْتُ أَنَسًا، - قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْلَمَ عَلَى امْرَأَةٍ - وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ عَلَى شَىْءٍ - مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ فَإِنَّهُ ذَبَحَ شَاةً .
Anas (Allah be pleased with him) reported:I did not see Allah's Messenger (ﷺ) giving a wedding feast (on the marriage) of any one (of his wives) as he did in the case of (his marriage with) Zainab, for then he sacrificed a goat (on this occasion)
عبدالعزیز بن صہیب سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی کا اس سے بڑھ کر یااس سے بہتر ولیمہ نہیں کیا جیسا ولیمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا کیا ۔ ثابت بنانی نے پوچھا : آپ نے کس چیز سے ولیمہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا : آپ نے انہیں روٹی اور گوشت کھلایا حتیٰ کہ انہوں نے ( سیر ہو کر کھانا ) چھوڑ دیا
Sahih Muslim 28:43sahih
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ قَعَدَ عَلَى بَعِيرِهِ وَأَخَذَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ فَقَالَ " أَتَدْرُونَ أَىَّ يَوْمٍ هَذَا " . قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ . فَقَالَ " أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ " . قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " فَأَىُّ شَهْرٍ هَذَا " . قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ " . قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " فَأَىُّ بَلَدٍ هَذَا " . قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ - قَالَ - حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ . قَالَ " أَلَيْسَ بِالْبَلْدَةِ " . قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ " . قَالَ ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا وَإِلَى جُزَيْعَةٍ مِنَ الْغَنَمِ فَقَسَمَهَا بَيْنَنَا .
Abu Bakra reported that when it was that day (the 10th of Dhu'l-Hijja) he mounted his camel and a person caught its nosestring, whereupon he said:Do you know which day is this? They said: Allah and His Messenger know best. (The Prophet [may peace be upon him] kept silent) until we thought that he would give that another name. He said: Is it not the day of Nahr (Sacrifice) (10th of Dhu'l- Hijja)? We said: Allah's Messenger, yes. He (again) said: Which month is it? We said: Allah and His Messenger knows best. He said: Is it not Dhu'l-Hijja? We said: Allah's Messenger, yes. He said: Which city is this? We said: Allah and His Messenger know best. He (the narrator) said (that the Prophet kept silent until we thought that he would give it another name besides its (original) name. He said: Is it not Balda (the city of Mecca)? We said: Yes, Allah's Messenger. He (then) said: Verily your blood (lives) and your property and your honour are as sacred unto you as sacred is this day of yours, in this month of yours, in this city of yours. Let him who is present convey it to one who is absent. He then turned his attention towards two multicoloured (black and white) rams and slaughtered them, and two goats, and distributed them amongst us
یزید بن زریع نے کہا : ہمیں عبداللہ بن عون نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب وہ دن تھا ، ( جس کا آگے ذکر ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر بیٹھے اور ایک انسان نے اس کی لگام پکڑ لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ "" لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ۔ حتی کہ ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کے نام کے سوا اسے کوئی اور نام دیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا یہ قربانی کا دن نہیں؟ "" ہم نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! فرمایا : یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ، فرمایا : "" کیا یہ ذوالحجہ نہیں؟ "" ہم نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" یہ کون سا شہر ہے؟ "" ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ۔ کہا : ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کے ( معروف ) نام کے سوا اسے کوئی اور نام دیں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا یہ البلدہ ( حرمت والا شہر ) نہیں؟ "" ہم نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بلاشبہ تمہارے خوب ، تمہارے مال اور تمہاری ناموس ( عزتیں ) تمہارے لیے اسی طرح حرمت والے ہیں جس طرح اس شہر میں ، اس مہینے میں تمہارا یہ دن حرمت والا ہے ، یہاں موجود شخص غیر موجود کو یہ پیغام پہنچا دے ۔ "" کہا : پھر آپ دو چتکبرے ( سفید و سیاہ ) مینڈھوں کی طرف مڑے ، انہیں ذبح کیا اور بکریوں کے گلے کی طرف ( آئے ) اور انہیں ہمارے درمیان تقسیم فرمایا ۔
Sahih Muslim 28:45sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، وَعَنْ رَجُلٍ، آخَرَ هُوَ فِي نَفْسِي أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا قُرَّةُ بِإِسْنَادِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ - وَسَمَّى الرَّجُلَ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ " أَىُّ يَوْمٍ هَذَا " . وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ غَيْرَ أَنَّهُ لاَ يَذْكُرُ " وَأَعْرَاضَكُمْ " . وَلاَ يَذْكُرُ ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ وَمَا بَعْدَهُ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ " كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " .
This hadith has been narrated on the authority of Abu Bakra through another chain of transmitters (and the words are):" Allah's Messenger (ﷺ) addressed us on the day of Nahr (Sacrifice) and said: What day is this? And the rest of the hadith is the same except that he did not make mention of" your honour," and also did not make mention of this: He then turned his attention towards two rams and what follows, and in a hadith (the words pertaining to sacred- ness are recorded in this way):" Like the sacredness of this day of yours, in this month of yours, in this city of yours to the day when you will meet your Lord. Behold, have I not conveyed (the Message of God)? They said: Yes. He said: O Allah, bear witness
یحییٰ بن سعید نے کہا : ہمیں قرہ بن خالد نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں محمد بن سیرین نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے اور ایک اور آدمی سے ، جو میرے خیال میں عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے افضل ہے ، حدیث بیان کی ، نیز ابو عامر عبدالملک بن عمرو نے کہا : ہمیں قرہ نے یحییٰ بن سعید کی ( مذکورہ ) سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ ۔ اور انہوں ( ابو عامر ) نے اس آدمی کا نام حمید بن عبدالرحمان بتایا ( یہ بصرہ کے فقیہ ترین راوی ہیں ) ۔ ۔ انہوں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن خطبہ دیا اور پوچھا : " یہ کون سا دن ہے؟ " ۔ ۔ اور انہوں ( قرہ ) نے ابن عون کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے " عزت و ناموس " کا تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی : " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف مڑے " اور اس کے بعد والا حصہ بیان کیا ۔ انہوں نے ( اپنی ) حدیث میں کہا : " جیسے تمہارے اس شہر میں ، تمہارے اس مہینے میں تمہارا یہ دن اس وقت تک قابل احترام ہے جب تم اپنے رب سے ملو گے ۔ سنو! کیا میں نے ( اللہ کا پیغام ) پہنچا دیا؟ " لوگوں نے کہا : جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ! گواہ رہنا
Sahih Muslim 35:14sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ ذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَبْدِلْهَا " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ عِنْدِي إِلاَّ جَذَعَةٌ - قَالَ شُعْبَةُ وَأَظُنُّهُ قَالَ - وَهِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
Al-Bara' b. 'Azib reported that Abu Burda slaughtered the animal as a sacrifice before the ('Id) prayer. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said:Offer a substitute for it (since it does not absolve you of the responsibility of sacrifice). Thereupon he said: Allah's Messenger. I have nothing with me but a goat of less than six months. Shu'ba (one of the narrators) said: I think he (al-Bara' b. 'Azib also) said: And it is better than a goat of one year. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Make it a substitute for that (and sacrifice it), but it will not suffice for anyone (as a sacrifice) after you
محمد بن جریر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سلمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : حضرت ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نما ز سے پہلے قربانی کا جا نورذبح کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " اس کے بدلے میں دوسری قربانی کرو ۔ انھوں نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس ایک سالہ بکری ہے ۔ شعبہ نے کہا : میرا خیال ہے کہ انھوں نے کہا : ۔ ۔ ۔ اور وہ دو دانتی بکری سے بہتر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے اس کی جگہ ( ذبح ) کرلو لیکن یہ تمھارے بعد کسی کے لیے کافی نہ ہو گی ۔
Sahih Muslim 35:16sahih
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ . وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَدَّقَهُ قَالَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ أَفَأَذْبَحُهَا قَالَ فَرَخَّصَ لَهُ فَقَالَ لاَ أَدْرِي أَبَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لاَ قَالَ وَانْكَفَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا فَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا . أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا .
Anas (b. Malik) reported Allah's Messenger (ﷺ) having said on the day of Nahr (Sacrifice):He who slaughtered (the animal as a sacrifice) before the ('Id) prayer. should repeat it (i. e. offer another animal). Thereupon a person stood up and said: Messenger of Allah, that is the day when meat is much desired, and he also made a mention of the need of his neighbour, and perhaps Allah's Messenger (ﷺ) attested it. He (the person who had sacrificed the animal before the 'Id prayer) said: I have a goat of less than one year of age with me and I like it more than two fleshy goats; should I offer it as a sacrifice? He permitted him to do so. He (the narrator) said: I do not know whether this permission was granted to anyone else besides him or not. Allah's Messenger (ﷺ) then turned towards two rams. and he slaughtered them, and the people' came to the goats and got them distributed amongst themselves (for offering them as sacrifice)
اسماعیل بن ابرا ہیم ( ابن علیہ ) نے ایوب سے ، انھوں نے محمد ( بن سیرین ) سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فر ما یا : " جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے وہ پھر اسے کرے ۔ " تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ایسا دن ہے کہ اس میں گوشت کی خواہش ہو تی ہے ۔ اس نے اپنے ہمسایوں کی ضرورت مندی کا بھی ذکر کیا ۔ ( ایسا لگا ) جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی تصدیق کی ہو ۔ اس نے ( مزید ) کہا : اور میرے پاس ایک سالہ بکری ہے وہ مجھے گو شت والی دوبکریوں سے زیادہ پسند ہے کیا میں اسے ذبح کردوں ؟کہا : آپ نے اسے اس کی اجازت دے دی ۔ ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : مجھے معلوم نہیں کہ آپ کی دی ہو ئی رخصت اس ( شخص ) کے علاوہ دوسروں کے لیے بھی ہے یا نہیں ؟پھر ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کا رخ کیا اور ان کو ذبحفر ما یا ۔ لوگ کھڑے ہو کر بکریوں کے ایک چھوٹے سے ریوڑ کی طرف متوجہ ہو ئے اور اس کو آپس میں تقسیم کرلیا ۔ ۔ ۔ یا کہا : اس کے حصے کر لیے ۔ ۔ ۔ ۔
Sahih Muslim 35:17sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَهِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَأَمَرَ مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ أَنْ يُعِيدَ ذِبْحًا ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ .
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) offered the 'Id prayer and then delivered the sermon giving the command:He who slaughtered the animal before prayer should slaughter (another animal as a sacrifice). The rest of the hadith is the same
حماد بن زید نے کہا : ہمیں ایوب اور ہشام نے محمد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھا ئی پھر خطبہ دیا ، پھر آپ نے حکم دیا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کی ہے وہ دوبارہ کرے ، اس کے بعد ابن علیہ کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
Sahih Muslim 35:18sahih
وَحَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ وَرْدَانَ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أَضْحًى - قَالَ - فَوَجَدَ رِيحَ لَحْمٍ فَنَهَاهُمْ أَنْ يَذْبَحُوا قَالَ " مَنْ كَانَ ضَحَّى فَلْيُعِدْ " . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا .
Anas b. Malik reported:Allah's Messenger (ﷺ) addressed us on the day of 'Id al-Adha. He smelt the odour of flesh and he prohibited thern from slaughtering (the animals before the 'Id prayer), saying: He who slaughtered the animals (before the 'Id prayer) should do that again (as it is not valid as a sacrifice)
حاتم بن وردان نے کہا : ہمیں ایو ب نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن خطبہ دیا کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کی بو محسوس ہو ئی تو آپ نے ان کو ذبح کرنے سے منع کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس نے ( نماز سے پہلے ) ذبح لیا ہے وہ دوبارہ ( قربانی ) کرے ۔ " پھر ( حاتم نے ) ان دونوں ( ابن علیہ اور حمادبن زید ) کی حدیثٖ کے مانند بیان کیا ۔
Sahih Muslim 35:19sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَذْبَحُوا إِلاَّ مُسِنَّةً إِلاَّ أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ " .
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Sacrifice only a grown-up animal, unless it is difficult for you, in which case sacrifice a ram (of even less than a year, but more than six months' age)
حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : صرف مسنہ ( دودانتا ) جا نور کی قربانی کرو ہاں ! اگر تم کو دشوار ہو تو ایک سالہ دنبہ یا مینڈھا ذبح کر دو ۔
Sahih Muslim 35:20sahih
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ نَحَرَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَنْ كَانَ نَحَرَ قَبْلَهُ أَنْ يُعِيدَ بِنَحْرٍ آخَرَ وَلاَ يَنْحَرُوا حَتَّى يَنْحَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
Jabir b. 'Abdullah reported:Allah's Messenger (ﷺ) led us in the 'Id prayer in Medina on the Day of Sacrifice. Some persons slaughtered their animals ahead of him under the impression that Allah's Apostle (ﷺ) had-already offered sacrifice. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Those who had slaughtered their animals ahead of him should slaughter the other ones in their stead. And they should not sacrifice the animal before Allah's Messenger (ﷺ) had sacrificed (his animal)
ابو زبیر نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن مدینہ میں نما ز پڑھا ئی کچھ لوگوں نے جلدی کی اور قربانی کر لی ۔ ان کا خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کر لی ہو ئی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس نے آپ ( کے نماز اور خطبے سے فارغ ہو نے ) سے پہلے قربانی کر لی وہ ایک اور قربانی کریں ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کو ئی شخص قربانی نہ کرے ۔
Sahih Muslim 35:21sahih
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا فَبَقِيَ عَتُودٌ فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ضَحِّ بِهِ أَنْتَ " . قَالَ قُتَيْبَةُ عَلَى صَحَابَتِهِ .
Uqba b. 'Amir reported that Allah's Messenger (ﷺ) gave the gifts of goats to be distributed amongst his Companions. They sacrificed them, but a lamb of one year of age was left. (Someone) made a mention of that to the Messenger of Allah (ﷺ), whereupon he said:You sacrifice it
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے انھوں نے یزید بن ابی حبیب سے انھوں نے ابو خیر سے انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کچھ بکریاں عطا کیں کہ وہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں قربانی کے لیے تقسیم کر دیں ۔ آخر میں بکری کا ایک سالہ بچہ رہ گیا انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرما یا : " اس کی قربانی تم کر لو ۔ قتیبہ نے ( اصحابه کے بجا ئے ) علي صحابته آپ کے صحابہ میں ( تقسیم کردیں ۔ ) " کے الفاظ کہے ۔
Sahih Muslim 35:22sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِينَا ضَحَايَا فَأَصَابَنِي جَذَعٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَصَابَنِي جَذَعٌ . فَقَالَ " ضَحِّ بِهِ " .
Amir al-Juhani reported:Allah's Messenger (ﷺ) distributed sacrificial animals (amongst us for sacrificing them on 'Id al-Adha). So we sacrificed them. There fell to my lot a lamb of less than one year I said: Allah's Messenger, there has fallen to my lot a lamb (Jadha'a), whereupon he said: Sacrifice that
ہشام دستوائی یحییٰ بن ابی کیثر سے انھوں نے بعجہ جہنی سے انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان قربانی کے کچھ جا نور بانٹے تو مجھے ایک سالہ بھیڑ یا بکری ملی ۔ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے حصے میں ایک سالہ بھیڑ یا بکری آئی ہے آپ نے فرما یا : " اسی کی قربانی کردو ۔
Sahih Muslim 35:24sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ ضَحَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا .
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) sacrificed with his own hands two horned rams which were white with black markings reciting the name of Allah and glorifying Him (saying Allah-o-Akbar). He placed his foot on their sides (while sacrificing)
ابو عوانہ نے قتادہ سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سفید رنگ کے بڑے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی ۔ آپ نے انھیں اپنے ہا تھ سے ذبح کیا بسم اللہ پڑھی اور تکبیر کہی ۔ آپ نے ( قربانی کے وقت انھیں لٹا کر ) ان کے رخسار پر اپنا قدم مبارک رکھا ۔
Sahih Muslim 35:25sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ قَالَ وَرَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا قَالَ وَسَمَّى وَكَبَّرَ .
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) sacrificed two horned rams of white colour with black markings over them. He also stated:I saw him sacrificing them with his own hand and saw him placing his foot on their sides, and recited the name of Allah and Glorified Him
وکیع نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی : کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خوبصورت سفید رنگ کے بڑے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی ۔ کہا : میں نے دیکھا کہ آپ انھیں اپنے ہاتھوں سے ذبح کر رہے تھے ۔ اور میں نے دیکھا آپ نے ان کے رخسار پر قدم رکھا ہوا تھا ( اور ) کہا : آپ نے اللہ کا نام لیا ( بسم اللہ پڑھی ) اور تکبیر کہی ۔
Sahih Muslim 35:26sahih
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ . قَالَ قُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ نَعَمْ .
Shu'ba reported:Qatada informed me that he had heard Anas saying that Allah's Messenger (may peace be npon him) sacrificed (the horned rams) and like that. I said: Did you (Qatada) hear from Anas? He said. Yes
خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی : کہا : مجھے قتادہ نے بتا یا کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی دی اس ( پچھلی حدیث ) کے مانند ۔ ( شعبہ نے ) کہا : میں نے قتادہ سے پو چھا : کیا آپ نے ( خود ) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا تھا ؟ کہا : ہاں ۔
Sahih Muslim 35:28sahih
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ قَالَ حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ فَقَالَ لَهَا " يَا عَائِشَةُ هَلُمِّي الْمُدْيَةَ " . ثُمَّ قَالَ " اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ " . فَفَعَلَتْ ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهُ ثُمَّ ذَبَحَهُ ثُمَّ قَالَ " بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ " . ثُمَّ ضَحَّى بِهِ .
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) commanded that a ram with black legs, black belly and black (circles) round the eyes should be brought to him, so that he should sacrifice it. He said to 'A'isha:Give me the large knife, and then said: Sharpen it on a stone. She did that. He then took it (the knife) and then the ram; he placed it on the ground and then sacrificed it, saying: Bismillah, Allah-humma Taqabbal min Muhammadin wa Al-i-Muhammadin, wa min Ummati Muhammadin (In the name of Allah," O Allah, accept [this sacrifice] on behalf of Muhammad and the family of Muhammad and the Umma of Muhammad
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا ہو ، سیاہی میں بیٹھتا ہو اور سیاہی میں دیکھتا ہو ( یعنی پاؤں ، پیٹ اور آنکھیں سیاہ ہوں ) ۔ پھر ایک ایسا مینڈھا قربانی کے لئے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! چھری لا ۔ پھر فرمایا کہ اس کو پتھر سے تیز کر لے ۔ میں نے تیز کر دی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی ، مینڈھے کو پکڑا ، اس کو لٹایا ، پھر ذبح کرتے وقت فرمایا کہ بسم اللہ ، اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آل کی طرف سے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی امت کی طرف سے اس کو قبول کر ، پھر اس کی قربانی کی ۔
Sahih Muslim 35:46sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، بْنِ الأَكْوَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلاَ يُصْبِحَنَّ فِي بَيْتِهِ بَعْدَ ثَالِثَةٍ شَيْئًا " . فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا عَامَ أَوَّلَ فَقَالَ " لاَ إِنَّ ذَاكَ عَامٌ كَانَ النَّاسُ فِيهِ بِجَهْدٍ فَأَرَدْتُ أَنْ يَفْشُوَ فِيهِمْ " .
Salama b. al-Akwa' reported Allah's Messenger (way peace be upon him) having said:He who sacrifices (animal) among you nothing should be left in his house (out of its flesh) on the morning of the third day. When it was the next year they (his Companions) said: Should we do this year as we did daring the previous year? Thereupon he said: Don't do that, for that was a year when the people were hard pressed (on account of poverty). so I wanted that the (flesh) might be distributed amongst them
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے جو شخص قربانی کرے تو تین دن کے بعد اس کے گھر میں ( اس گوشت میں سے ) کوئی چیز نہ رہے ۔ " جب اگلے سال ( میں عید کادن ) آیاتو صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا ہم اسی طرح کریں جس طرح پچھلے سال کیاتھا؟آپ نے فرمایا : " نہیں ، وہ ایسا سال تھا کہ اس میں لوگ سخت ضرورت مند تھے تو میں نے چاہا کہ ( قربانی کا گوشت ) ان میں پھیل ( کر ہر ایک تک پہنچ ) جائے ۔
Sahih Muslim 0:0sahih
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ " أَصْلِحْ هَذَا اللَّحْمَ " . قَالَ فَأَصْلَحْتُهُ فَلَمْ يَزَلْ يَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى بَلَغَ الْمَدِينَةَ . وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ حَمْزَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَقُلْ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ .
Thauban, the freed slave of Allah's Messenger (ﷺ), reported:Allah's Messenger (ﷺ) said to me on the occasion of Hajjat-al-Wada' (the Farewell Pilgrimage): Make the flesh usable. So I made it usable (for him) and he ate it constantly until he reached Medina. This hadith has been narrated on the authority of Yabya b. Hamza with the same chain of transmitters, but he did not say: On the occasion of Hajjat-al-Wada
ابو مسہر نے کہا : ہمیں یحییٰ بن حمزہ نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے زبیدی نے عبدالرحمان بن جبیر بن نفیر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر مجھ سے فرمایا : " اس گوشت کو ( ساتھ لے جانے کے لئے ) درست کرلو ۔ " انھوں نے کہا : پھر میں نے اس کو تیار کیا اورآپ اس گوشت کو تناول فرماتے رہے یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گئے ۔
Sahih Muslim 0:0sahih
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ " أَصْلِحْ هَذَا اللَّحْمَ " . قَالَ فَأَصْلَحْتُهُ فَلَمْ يَزَلْ يَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى بَلَغَ الْمَدِينَةَ . وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ حَمْزَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَقُلْ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ .
Thauban, the freed slave of Allah's Messenger (ﷺ), reported:Allah's Messenger (ﷺ) said to me on the occasion of Hajjat-al-Wada' (the Farewell Pilgrimage): Make the flesh usable. So I made it usable (for him) and he ate it constantly until he reached Medina. This hadith has been narrated on the authority of Yabya b. Hamza with the same chain of transmitters, but he did not say: On the occasion of Hajjat-al-Wada
ابو مسہر نے کہا : ہمیں یحییٰ بن حمزہ نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے زبیدی نے عبدالرحمان بن جبیر بن نفیر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر مجھ سے فرمایا : " اس گوشت کو ( ساتھ لے جانے کے لئے ) درست کرلو ۔ " انھوں نے کہا : پھر میں نے اس کو تیار کیا اورآپ اس گوشت کو تناول فرماتے رہے یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گئے ۔
Sahih Muslim 35:52sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ فَرَعَ وَلاَ عَتِيرَةَ " . زَادَ ابْنُ رَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ وَالْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ فَيَذْبَحُونَهُ .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:(The sacrifice of Fara' and 'Atira) has no (sanction in Islam). Ibn Rafi' made this addition in his narration that Fara' means the first-born young one of a camel
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے ہمیں سفیان بن عینیہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے زہری سے روایت کی ، انھوں نے سعید ( بن مسیب ) سے ، انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےاور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، نیز محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے کہا : ہمیں عبدالرزاق نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی ، انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" نہ جانور کا پہلوٹھا بچہ ذبح کرنا ( واجب/جائز ) ہے ، نہ رجب کے شروع میں جانور قربان کرنا درست ہے ۔ "" ابن رافع نے اپنی روایت میں اضافہ کیا : فرع سے مراد پہلوٹھی کا بچہ تھا ، جب وہ جنم پاتا تو وہ اسے ذبح کرتے تھے ۔
Sahih Muslim 35:50sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ أَبِي سِنَانٍ، وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُحَارِبٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ، أَبُو سِنَانٍ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلاَثٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلاَّ فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الأَسْقِيَةِ كُلِّهَا وَلاَ تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " .
Abdullah b. Buraida reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) said this:I prohibited you from visiting the graves, but (now) you may visit them, and I prohibited you (from eating) the flesh of sacrific- ed animals beyond three days, but now keep it as long as you like. I prohibited you from the use of Nabidh except (that preoared) in dry waterskins. Now drink (Nabidh prepared in any utensil), but do not drink when it becomes intoxicant
ابن ابی عمر مکی نے کہا : ہمیں سفیان نے عبدالرحمان بن حمید بن عبدالرحمان بن عوف سے حدیث سنائی : انھوں نے سعید بن مسیب سے سنا ، وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث روایت کررہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جب عشرہ ( ذوالحجہ ) شروع ہوجائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتاہو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹے ۔ "" سفیان سے کہا گیا کہ بعض راوی اس حدیث کو مرفوعاً ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) بیان نہیں کرتے ( حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قول بتاتے ہیں ) ، انھوں نے کہا : لیکن میں اس کو مرفوعاً بیان کرتا ہوں ۔