Sahih al-Bukhari 3:40sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ـ أَوْ قَالَ عَطَاءٌ أَشْهَدُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ وَمَعَهُ بِلاَلٌ، فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ، وَبِلاَلٌ يَأْخُذُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهِ. وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَطَاءٍ وَقَالَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Ibn 'Abbas: Once Allah's Messenger (ﷺ) came out while Bilal was accompanying him. He went towards the women thinking that they had not heard him (i.e. his sermon). So he preached them and ordered them to pay alms. (Hearing that) the women started giving alms; some donated their ear-rings, some gave their rings and Bilal was collecting them in the corner of his garment
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے ایوب کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے سنا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں، یا عطاء نے کہا کہ میں ابن عباس پر گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک مرتبہ عید کے موقع پر مردوں کی صفوں میں سے ) نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ کو خیال ہوا کہ عورتوں کو ( خطبہ اچھی طرح ) نہیں سنائی دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں علیحدہ نصیحت فرمائی اور صدقے کا حکم دیا ( یہ وعظ سن کر ) کوئی عورت بالی ( اور کوئی عورت ) انگوٹھی ڈالنے لگی اور بلال رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے کے دامن میں ( یہ چیزیں ) لینے لگے۔ اس حدیث کو اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے روایت کیا، انہوں نے عطاء سے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یوں کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں ( اس میں شک نہیں ہے ) ۔ امام بخاری رحمہ اللہ کی غرض یہ ہے کہ اگلا باب عام لوگوں سے متعلق تھا اور یہ حاکم اور امام سے متعلق ہے کہ وہ بھی عورتوں کو وعظ سنائے۔
Sahih al-Bukhari 3:76sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَجُلاً سَأَلَهُ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ فَقَالَ " لاَ يَلْبَسِ الْقَمِيصَ وَلاَ الْعِمَامَةَ وَلاَ السَّرَاوِيلَ وَلاَ الْبُرْنُسَ وَلاَ ثَوْبًا مَسَّهُ الْوَرْسُ أَوِ الزَّعْفَرَانُ، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ ".
Narrated Ibn `Umar:A man asked the Prophet (ﷺ) : "What (kinds of clothes) should a Muhrim (a Muslim intending to perform `Umra or Hajj) wear? He replied, "He should not wear a shirt, a turban, trousers, a head cloak or garment scented with saffron or Wars (kinds of perfumes). And if he has no slippers, then he can use Khuffs (socks made from thick fabric or leather) but the socks should be cut short so as to make the ankles bare." (See Hadith No. 615, Vol)
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ان کو ابن ابی ذئب نے نافع کے واسطے سے خبر دی، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور (دوسری سند میں) زہری سالم سے، کہا وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ احرام باندھنے والے کو کیا پہننا چاہیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ قمیص پہنے نہ صافہ باندھے اور نہ پاجامہ اور نہ کوئی سرپوش اوڑھے اور نہ کوئی زعفران اور ورس سے رنگا ہوا کپڑا پہنے اور اگر جوتے نہ ملیں تو موزے پہن لے اور انہیں ( اس طرح ) کاٹ دے کہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔
Sahih al-Bukhari 4:88sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصَبِيٍّ، فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ إِيَّاهُ.
Narrated `Aisha:(the mother of faithful believers) A child was brought to Allah's Messenger (ﷺ) and it urinated on the garment of the Prophet. The Prophet (ﷺ) asked for water and poured it over the soiled place
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو مالک نے ہشام بن عروہ سے خبر دی، انہوں نے اپنے باپ (عروہ) سے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لایا گیا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پیشاب کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا اور اس پر ڈال دیا۔
Sahih al-Bukhari 4:89sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ، لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حِجْرِهِ، فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ.
Narrated Um Qais bint Mihsin:I brought my young son, who had not started eating (ordinary food) to Allah's Messenger (ﷺ) who took him and made him sit in his lap. The child urinated on the garment of the Prophet, so he asked for water and poured it over the soiled (area) and did not wash it
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہمیں مالک نے ابن شہاب سے خبر دی، وہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ (بن مسعود) سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں، وہ ام قیس بنت محصن نامی ایک خاتون سے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اپنا چھوٹا بچہ لے کر آئیں۔ جو کھانا نہیں کھاتا تھا۔ ( یعنی شیرخوار تھا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ اس بچے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگا کر کپڑے پر چھڑک دیا اور اسے نہیں دھویا۔
Sahih al-Bukhari 5:5sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ وَأَبُوهُ، وَعِنْدَهُ قَوْمٌ فَسَأَلُوهُ عَنِ الْغُسْلِ،. فَقَالَ يَكْفِيكَ صَاعٌ. فَقَالَ رَجُلٌ مَا يَكْفِينِي. فَقَالَ جَابِرٌ كَانَ يَكْفِي مَنْ هُوَ أَوْفَى مِنْكَ شَعَرًا، وَخَيْرٌ مِنْكَ، ثُمَّ أَمَّنَا فِي ثَوْبٍ.
Narrated Abu Ja`far:While I and my father were with Jabir bin `Abdullah, some people asked him about taking a bath. He replied, "A Sa` of water is sufficient for you." A man said, "A Sa` is not sufficient for me." Jabir said, "A Sa` was sufficient for one who had more hair than you and was better than you (meaning the Prophet)." And then Jabir (put on) his garment and led the prayer
ہم سے عبداللہ بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن آدم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہم سے زہیر نے ابواسحاق کے واسطے سے، انہوں نے کہا ہم سے ابوجعفر (محمد باقر) نے بیان کیا کہ وہ اور ان کے والد ( جناب زین العابدین ) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے آپ سے غسل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ ایک صاع کافی ہے۔ اس پر ایک شخص بولا یہ مجھے تو کافی نہ ہو گا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے کافی ہوتا تھا جن کے بال تم سے زیادہ تھے اور جو تم سے بہتر تھے ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) پھر جابر رضی اللہ عنہ نے صرف ایک کپڑا پہن کر ہمیں نماز پڑھائی۔ ( نوٹ: صاع کے اندر 2.488 کلو گرام ہوتا ہے۔)
Sahih al-Bukhari 5:28sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الأَعْمَشَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَتْ مَيْمُونَةُ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غُسْلاً، فَسَتَرْتُهُ بِثَوْبٍ، وَصَبَّ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ صَبَّ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ، فَغَسَلَ فَرْجَهُ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ الأَرْضَ فَمَسَحَهَا، ثُمَّ غَسَلَهَا فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ، وَأَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ، فَنَاوَلْتُهُ ثَوْبًا فَلَمْ يَأْخُذْهُ، فَانْطَلَقَ وَهْوَ يَنْفُضُ يَدَيْهِ.
Narrated Maimuna:I placed water for the bath of the Prophet (ﷺ) and screened him with a garment. He poured water over his hands and washed them. After that he poured water with his right hand over his left and washed his private parts, rubbed his hands with earth and washed them, rinsed his mouth, washed his nose by putting water in it and then blowing it out and then washed his face and forearms. He poured water over his head and body. He then shifted from that place and washed his feet. I gave him a piece of cloth but he did not take it and came out removing the water (from his body) with both his hands
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحمزہ (محمد بن میمون) نے، کہا میں نے اعمش سے سنا، انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے، انہوں نے کریب سے، انہوں نے ابن عباس سے، آپ نے کہا کہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا اور ایک کپڑے سے پردہ کر دیا۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا اور انہیں دھویا۔ پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ میں پانی لیا اور شرمگاہ دھوئی۔ پھر ہاتھ کو زمین پر مارا اور دھویا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرے اور بازو دھوئے۔ پھر سر پر پانی بہایا اور سارے بدن کا غسل کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام غسل سے ایک طرف ہو گئے۔ پھر دونوں پاؤں دھوئے۔ اس کے بعد میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑا دینا چاہا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھوں سے پانی جھاڑنے لگے۔
Sahih al-Bukhari 6:13sahih
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ، ثُمَّ تَقْتَرِصُ الدَّمَ مِنْ ثَوْبِهَا عِنْدَ طُهْرِهَا فَتَغْسِلُهُ، وَتَنْضَحُ عَلَى سَائِرِهِ، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ.
Narrated `Aisha:Whenever anyone of us got her menses, she, on becoming clean, used to take hold of the blood spot and rub the blood off her garment, and pour water over it and wash that portion thoroughly and sprinkle water over the rest of the garment. After that she would pray in (with) it
ہم سے اصبغ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے عمرو بن حارث نے عبدالرحمٰن بن قاسم کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد قاسم بن محمد سے بیان کیا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ نے فرمایا کہ ہمیں حیض آتا تو کپڑے کو پاک کرتے وقت ہم خون کو مل دیتے، پھر اس جگہ کو دھو لیتے اور تمام کپڑے پر پانی بہا دیتے اور اسے پہن کر نماز پڑھتے۔
Sahih al-Bukhari 6:17sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا كَانَ لإِحْدَانَا إِلاَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ تَحِيضُ فِيهِ، فَإِذَا أَصَابَهُ شَىْءٌ مِنْ دَمٍ، قَالَتْ بِرِيقِهَا فَقَصَعَتْهُ بِظُفْرِهَا.
Narrated `Aisha:None of us had more than a single garment and we used to have our menses while wearing it. Whenever it got soiled with blood of menses we used to apply saliva to the blood spot and rub off the blood with our nails
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہمارے پاس صرف ایک کپڑا ہوتا تھا، جسے ہم حیض کے وقت پہنتے تھے۔ جب اس میں خون لگ جاتا تو اس پر تھوک ڈال لیتے اور پھر اسے ناخنوں سے مسل دیتے۔
Sahih al-Bukhari 8:4sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ صَلَّى جَابِرٌ فِي إِزَارٍ قَدْ عَقَدَهُ مِنْ قِبَلِ قَفَاهُ، وَثِيَابُهُ مَوْضُوعَةٌ عَلَى الْمِشْجَبِ قَالَ لَهُ قَائِلٌ تُصَلِّي فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ فَقَالَ إِنَّمَا صَنَعْتُ ذَلِكَ لِيَرَانِي أَحْمَقُ مِثْلُكَ، وَأَيُّنَا كَانَ لَهُ ثَوْبَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
Narrated Muhammad bin Al-Munkadir:Once Jabir prayed with his Izar tied to his back while his clothes were Lying beside him on a wooden peg. Somebody asked him, "Do you offer your prayer in a single Izar?" He replied, "I did so to show it to a fool like you. Had anyone of us two garments in the lifetime of the Prophet?
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے واقد بن محمد نے محمد بن منکدر کے حوالہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے تہبند باندھ کر نماز پڑھی۔ جسے انہوں نے سر تک باندھ رکھا تھا اور آپ کے کپڑے کھونٹی پر ٹنگے ہوئے تھے۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ آپ ایک تہبند میں نماز پڑھتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ میں نے ایسا اس لیے کیا کہ تجھ جیسا کوئی احمق مجھے دیکھے۔ بھلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو کپڑے بھی کس کے پاس تھے؟
Sahih al-Bukhari 8:6sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ.
Narrated `Umar bin Abi Salama:The Prophet (ﷺ) prayed in one garment and crossed its ends
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے حوالہ سے بیان کیا، وہ عمر بن ابی سلمہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی اور آپ نے کپڑے کے دونوں کناروں کو مخالف طرف کے کاندھے پر ڈال لیا۔
Sahih al-Bukhari 8:7sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَدْ أَلْقَى طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ.
Narrated `Umar bin Abi Salama:I saw the Prophet (ﷺ) offering prayers in a single garment in the house of Um-Salama and he had crossed its ends around his shoulders
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے عمر بن ابی سلمہ سے نقل کر کے بیان کیا کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ام سلمہ کے گھر میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا، کپڑے کے دونوں کناروں کو آپ نے دونوں کاندھوں پر ڈال رکھا تھا۔
Sahih al-Bukhari 8:8sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلاً بِهِ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ.
Narrated `Umar bin Abi Salama:In the house of Um-Salama I saw Allah's Messenger (ﷺ) offering prayers, wrapped in a single garment around his body with its ends crossed round his shoulders
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے ہشام کے واسطے سے بیان کیا، وہ اپنے والد سے جن کو عمر بن ابی سلمہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ اسے لپیٹے ہوئے تھے اور اس کے دونوں کناروں کو دونوں کاندھوں پر ڈالے ہوئے تھے۔
Sahih al-Bukhari 8:10sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَائِلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّلاَةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ ".
Narrated Abu Huraira:A person asked Allah's Messenger (ﷺ) about the offering of the prayer in a single garment. Allah's Messenger (ﷺ) replied, "Has every one of you got two garments?
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے ابن شہاب کے حوالہ سے خبر دی، وہ سعید بن مسیب سے نقل کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ ایک پوچھنے والے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کچھ برا نہیں ) بھلا کیا تم سب میں ہر شخص کے پاس دو کپڑے ہیں؟
Sahih al-Bukhari 8:11sahih
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُصَلِّي أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، لَيْسَ عَلَى عَاتِقَيْهِ شَىْءٌ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "None of you should offer prayer in a single garment that does not cover the shoulders
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے امام مالک رحمہ اللہ کے حوالہ سے بیان کیا، انہوں نے ابوالزناد سے، انہوں نے عبدالرحمٰن اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو بھی ایک کپڑے میں نماز اس طرح نہ پڑھنی چاہیے کہ اس کے کندھوں پر کچھ نہ ہو۔
Sahih al-Bukhari 8:12sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ سَمِعْتُهُ ـ أَوْ، كُنْتُ سَأَلْتُهُ ـ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَلْيُخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever prays in a single garment must cross its ends (over the shoulders)
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطہ سے، انہوں نے عکرمہ سے، یحییٰ نے کہا میں نے عکرمہ سے سنایا میں نے ان سے پوچھا تھا تو عکرمہ نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے۔ میں اس کی گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے یہ ارشاد فرماتے سنا تھا کہ جو شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے اسے کپڑے کے دونوں کناروں کو اس کے مخالف سمت کے کندھے پر ڈال لینا چاہیے۔
Sahih al-Bukhari 8:13sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الصَّلاَةِ، فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَقَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَجِئْتُ لَيْلَةً لِبَعْضِ أَمْرِي، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي وَعَلَىَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ، فَاشْتَمَلْتُ بِهِ وَصَلَّيْتُ إِلَى جَانِبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " مَا السُّرَى يَا جَابِرُ ". فَأَخْبَرْتُهُ بِحَاجَتِي، فَلَمَّا فَرَغْتُ قَالَ " مَا هَذَا الاِشْتِمَالُ الَّذِي رَأَيْتُ ". قُلْتُ كَانَ ثَوْبٌ. يَعْنِي ضَاقَ. قَالَ " فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ ".
Narrated Sa`id bin Al-Harith:I asked Jabir bin `Abdullah about praying in a single garment. He said, "I traveled with the Prophet (ﷺ) during some of his journeys, and I came to him at night for some purpose and I found him praying. At that time, I was wearing a single garment with which I covered my shoulders and prayed by his side. When he finished the prayer, he asked, 'O Jabir! What has brought you here?' I told him what I wanted. When I finished, he asked, 'O Jabir! What is this garment which I have seen and with which you covered your shoulders?' I replied, 'It is a (tight) garment.' He said, 'If the garment is large enough, wrap it round the body (covering the shoulders) and if it is tight (too short) then use it as an Izar (tie it around your waist only)
ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے، وہ سعید بن حارث سے، کہا ہم نے جابر بن عبداللہ سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا۔ تو آپ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر ( غزوہ بواط ) میں گیا۔ ایک رات میں کسی ضرورت کی وجہ سے آپ کے پاس آیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں مشغول ہیں، اس وقت میرے بدن پر صرف ایک ہی کپڑا تھا۔ اس لیے میں نے اسے لپیٹ لیا اور آپ کے بازو میں ہو کر میں بھی نماز میں شریک ہو گیا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو دریافت فرمایا جابر اس رات کے وقت کیسے آئے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ضرورت کے متعلق کہا۔ میں جب فارغ ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ تم نے کیا لپیٹ رکھا تھا جسے میں نے دیکھا۔ میں نے عرض کی کہ ( ایک ہی ) کپڑا تھا ( اس طرح نہ لپیٹتا تو کیا کرتا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ کشادہ ہو تو اسے اچھی طرح لپیٹ لیا کر اور اگر تنگ ہو تو اس کو تہبند کے طور پر باندھ لیا کر۔
Sahih al-Bukhari 8:16sahih
حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ الْحِجَارَةَ لِلْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارُهُ. فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي، لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَ عَلَى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ. قَالَ فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ، فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ عُرْيَانًا صلى الله عليه وسلم.
Narrated Jabir bin `Abdullah:While Allah's Messenger (ﷺ) was carrying stones (along) with the people of Mecca for (the building of) the Ka`ba wearing an Izar (waist-sheet cover), his uncle Al-`Abbas said to him, "O my nephew! (It would be better) if you take off your Izar and put it over your shoulders underneath the stones." So he took off his Izar and put it over his shoulders, but he fell unconscious and since then he had never been seen naked
ہم سے مطر بن فضل نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نبوت سے پہلے ) کعبہ کے لیے قریش کے ساتھ پتھر ڈھو رہے تھے۔ اس وقت آپ تہبند باندھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس نے کہا کہ بھتیجے کیوں نہیں تم تہبند کھول لیتے اور اسے پتھر کے نیچے اپنے کاندھے پر رکھ لیتے ( تاکہ تم پر آسانی ہو جائے ) جابر نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہبند کھول لیا اور کاندھے پر رکھ لیا۔ اسی وقت غشی کھا کر گر پڑے۔ اس کے بعد آپ کبھی ننگے نہیں دیکھے گئے۔ ( صلی اللہ علیہ وسلم)
Sahih al-Bukhari 8:17sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنِ الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَقَالَ " أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ ". ثُمَّ سَأَلَ رَجُلٌ عُمَرَ فَقَالَ إِذَا وَسَّعَ اللَّهُ فَأَوْسِعُوا، جَمَعَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ، صَلَّى رَجُلٌ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ، فِي إِزَارٍ وَقَمِيصٍ، فِي إِزَارٍ وَقَبَاءٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَرِدَاءٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَمِيصٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَبَاءٍ، فِي تُبَّانٍ وَقَبَاءٍ، فِي تُبَّانٍ وَقَمِيصٍ ـ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ ـ فِي تُبَّانٍ وَرِدَاءٍ.
Narrated Abu Huraira:A man stood up and asked the Prophet (ﷺ) about praying in a single garment. The Prophet (ﷺ) said, "Has every one of you two garments?" A man put a similar question to `Umar on which he replied, "When Allah makes you wealthier then you should clothe yourself properly during prayers. Otherwise one can pray with an Izar and a Rida' (a sheet covering the upper part of the body.) Izar and a shirt, Izar and a Qaba', trousers and a Rida, trousers and a shirt or trousers and a Qaba', Tubban and a Qaba' or Tubban and a shirt." (The narrator added, "I think that he also said a Tubban and a Rida)
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہ کہا ہم سے حماد بن زید نے ایوب کے واسطہ سے، انہوں نے محمد سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، آپ نے فرمایا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے صرف ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم سب ہی لوگوں کے پاس دو کپڑے ہو سکتے ہیں؟ پھر ( یہی مسئلہ ) عمر رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا تو انہوں نے کہا جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں فراغت دی ہے تو تم بھی فراغت کے ساتھ رہو۔ آدمی کو چاہیے کہ نماز میں اپنے کپڑے اکٹھا کر لے، کوئی آدمی تہبند اور چادر میں نماز پڑھے، کوئی تہبند اور قمیص، کوئی تہبند اور قباء میں، کوئی پاجامہ اور چادر میں، کوئی پاجامہ اور قمیص میں، کوئی پاجامہ اور قباء میں، کوئی جانگیا اور قباء میں، کوئی جانگیا اور قمیص میں نماز پڑھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے یاد آتا ہے کہ آپ نے یہ بھی کہا کہ کوئی جانگیا اور چادر میں نماز پڑھے۔
Sahih al-Bukhari 8:19sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَىْءٌ.
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) forbade Ishtimal-As-Samma' (wrapping one's body with a garment so that one cannot raise its end or take one's hand out of it). He also forbade Al-Ihtiba' (sitting on buttocks with knees close to `Abdomen and feet apart with the hands circling the knees) while wrapping oneself with a single garment, without having a part of it over the private parts
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے ابن شہاب سے بیان کیا، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے ابو سعید خدری سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صماء کی طرح کپڑا بدن پر لپیٹ لینے سے منع فرمایا اور اس سے بھی منع فرمایا کہ آدمی ایک کپڑے میں احتباء کرے اور اس کی شرمگاہ پر علیحدہ کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو۔
Sahih al-Bukhari 8:22sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الْمَوَالِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ مُلْتَحِفًا بِهِ وَرِدَاؤُهُ مَوْضُوعٌ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْنَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ تُصَلِّي وَرِدَاؤُكَ مَوْضُوعٌ قَالَ نَعَمْ، أَحْبَبْتُ أَنْ يَرَانِي الْجُهَّالُ مِثْلُكُمْ، رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي هَكَذَا.
Narrated Muhammad bin Al-Munkadir:I went to Jabir bin `Abdullah and he was praying wrapped in a garment and his Rida was Lying beside him. When he finished the prayers, I said "O `Abdullah! You pray (in a single garment) while your Rida' is lying beside you." He replied, "Yes, I did it intentionally so that the ignorant ones like you might see me. I saw the Prophet (ﷺ) praying like this
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی الموال نے محمد بن منکدر سے، کہا میں جابر بن عبداللہ انصاری کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ ایک کپڑا اپنے بدن پر لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے، حالانکہ ان کی چادر الگ رکھی ہوئی تھی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے کہا اے ابوعبداللہ! آپ کی چادر رکھی ہوئی ہے اور آپ ( اسے اوڑھے بغیر ) نماز پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا، میں نے چاہا کہ تم جیسے جاہل لوگ مجھے اس طرح نماز پڑھتے دیکھ لیں، میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا تھا۔
Sahih al-Bukhari 8:25sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلاَمٌ، فَنَظَرَ إِلَى أَعْلاَمِهَا نَظْرَةً، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " اذْهَبُوا بِخَمِيصَتِي هَذِهِ إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَائْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةِ أَبِي جَهْمٍ، فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا عَنْ صَلاَتِي ". وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " كُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى عَلَمِهَا وَأَنَا فِي الصَّلاَةِ فَأَخَافُ أَنْ تَفْتِنَنِي ".
Narrated `Aisha:the Prophet (ﷺ) prayed in a Khamisa (a square garment) having marks. During the prayer, he looked at its marks. So when he finished the prayer he said, "Take this Khamisa of mine to Abu Jahm and get me his Inbijaniya (a woolen garment without marks) as it (the Khamisa) has diverted my attention from the prayer." Narrated `Aisha: The Prophet (ﷺ) said, 'I was looking at its (Khamisa's) marks during the prayers and I was afraid that it may put me in trial (by taking away my attention)
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ابراہیم بن سعد نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی۔ جس میں نقش و نگار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مرتبہ دیکھا۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ میری یہ چادر ابوجہم ( عامر بن حذیفہ ) کے پاس لے جاؤ اور ان کی انبجانیہ والی چادر لے آؤ، کیونکہ اس چادر نے ابھی نماز سے مجھ کو غافل کر دیا۔ اور ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نماز میں اس کے نقش و نگار دیکھ رہا تھا، پس میں ڈرا کہ کہیں یہ مجھے غافل نہ کر دے۔
Sahih al-Bukhari 8:164sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي خَالَتِي، مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ قَالَتْ كَانَ فِرَاشِي حِيَالَ مُصَلَّى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرُبَّمَا وَقَعَ ثَوْبُهُ عَلَىَّ وَأَنَا عَلَى فِرَاشِي.
Narrated Maimuna bint Al-Harith:My bed was beside the praying place (Musalla) of the Prophet (ﷺ) and sometimes his garment fell on me while I used to lie in my bed
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشیم نے شیبانی کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن شداد بن ہاد سے، کہا مجھے میری خالہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ میرا بستر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلے کے برابر میں ہوتا تھا۔ اور بعض دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا ( نماز پڑھتے میں ) میرے اوپر آ جاتا اور میں اپنے بستر پر ہی ہوتی تھی۔
Sahih al-Bukhari 8:165sahih
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ سَمِعْتُ مَيْمُونَةَ، تَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ نَائِمَةٌ، فَإِذَا سَجَدَ أَصَابَنِي ثَوْبُهُ، وَأَنَا حَائِضٌ. وَزَادَ مُسَدَّدٌ عَنْ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، وَأَنَا حَائِضٌ.
Narrated Maimuna:The Prophet (ﷺ) used to pray while I used to sleep beside him during my periods (menses) and in prostration his garment used to touch me
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبانی سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن شداد بن ہاد نے بیان کیا، کہا ہم نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرماتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر میں سوتی رہتی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا مجھے چھو جاتا حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔
Sahih al-Bukhari 9:59sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ صَلاَتَيْنِ نَهَى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَعَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَعَنْ الاِحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ يُفْضِي بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ، وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ وَالْمُلاَمَسَةِ.
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) forbade two kinds of sales, two kinds of dresses, and two prayers. He forbade offering prayers after the Fajr prayer till the rising of the sun and after the `Asr prayer till its setting. He also forbade "Ishtimal-Assama [??] " and "al-Ihtiba" in one garment in such a way that one's private parts are exposed towards the sky. He also forbade the sales called "Munabadha" and "Mulamasa." (See Hadith No. 354 and 355 Vol)
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے ابی اسامہ کے واسطے سے بیان کیا۔ انہوں نے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے خبیب بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے حفص بن عاصم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی خرید و فروخت اور دو طرح کے لباس اور دو وقتوں کی نمازوں سے منع فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک اور نماز عصر کے بعد غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ( اور کپڑوں میں ) اشتمال صماء یعنی ایک کپڑا اپنے اوپر اس طرح لپیٹ لینا کہ شرمگاہ کھل جائے۔ اور ( احتباء ) یعنی ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ ( اور خرید و فروخت میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منابذہ اور ملامسہ سے منع فرمایا۔
Sahih al-Bukhari 10:211sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ، لاَ أَكُفُّ شَعَرًا وَلاَ ثَوْبًا ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said, "I have been ordered to prostrate on seven (bones) and not to tuck up the hair or garment
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح نے، عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے طاؤس سے، انہوں نے ابن عباس سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات ہڈیوں پر اس طرح سجدہ کا حکم ہوا ہے کہ نہ بال سمیٹوں اور نہ کپڑے۔
Sahih al-Bukhari 13:27sahih
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفِطْرِ، فَصَلَّى فَبَدَأَ بِالصَّلاَةِ ثُمَّ خَطَبَ، فَلَمَّا فَرَغَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ، فَذَكَّرَهُنَّ وَهْوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلاَلٍ وَبِلاَلٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ، يُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ الصَّدَقَةَ. قُلْتُ لِعَطَاءٍ زَكَاةَ يَوْمِ الْفِطْرِ قَالَ لاَ وَلَكِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ حِينَئِذٍ، تُلْقِي فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ. قُلْتُ أَتُرَى حَقًّا عَلَى الإِمَامِ ذَلِكَ وَيُذَكِّرُهُنَّ قَالَ إِنَّهُ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ، وَمَا لَهُمْ لاَ يَفْعَلُونَهُ
Narrated Ibn Juraij:`Ata' told me that he had heard Jabir bin `Abdullah saying, "The Prophet (ﷺ) stood up to offer the prayer of the `Id ul Fitr. He first offered the prayer and then delivered the Khutba. After finishing it he got down (from the pulpit) and went towards the women and advised them while he was leaning on Bilal's hand. Bilal was spreading out his garment where the women were putting their alms." I asked `Ata' whether it was the Zakat of `Id ul Fitr. He said, "No, it was just alms given at that time. Some lady put her finger ring and the others would do the same." I said, (to `Ata'), "Do you think that it is incumbent upon the Imam to give advice to the women (on `Id day)?" He said, "No doubt, it is incumbent upon the Imams to do so and why should they not do so?
ہم سے اسحاق بن ابراہیم بن نصر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطاء نے خبر دی کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو میں نے یہ کہتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر کی نماز پڑھی۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اس کے بعد خطبہ دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے فارغ ہو گئے تو اترے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں منبر نہیں لے کر جاتے تھے۔ تو اس اترے سے مراد بلند جگہ سے اترے ) اور عورتوں کی طرف آئے۔ پھر انہیں نصیحت فرمائی۔ آپ اس وقت بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا سہارا لیے ہوئے تھے۔ بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا رکھا تھا جس میں عورتیں صدقہ ڈال رہی تھیں۔ میں نے عطاء سے پوچھا کیا یہ صدقہ فطر دے رہی تھیں۔ انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ صدقہ کے طور پر دے رہی تھیں۔ اس وقت عورتیں اپنے چھلے ( وغیرہ ) برابر ڈال رہی تھیں۔ پھر میں نے عطاء سے پوچھا کہ کیا آپ اب بھی امام پر اس کا حق سمجھتے ہیں کہ وہ عورتوں کو نصیحت کرے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ان پر یہ حق ہے اور کیا وجہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے۔
Sahih al-Bukhari 23:139sahih
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ فِي كَمْ كَفَّنْتُمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلاَ عِمَامَةٌ. وَقَالَ لَهَا فِي أَىِّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ. قَالَ فَأَىُّ يَوْمٍ هَذَا قَالَتْ يَوْمُ الاِثْنَيْنِ. قَالَ أَرْجُو فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ. فَنَظَرَ إِلَى ثَوْبٍ عَلَيْهِ كَانَ يُمَرَّضُ فِيهِ، بِهِ رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ فَقَالَ اغْسِلُوا ثَوْبِي هَذَا، وَزِيدُوا عَلَيْهِ ثَوْبَيْنِ فَكَفِّنُونِي فِيهَا. قُلْتُ إِنَّ هَذَا خَلَقٌ. قَالَ إِنَّ الْحَىَّ أَحَقُّ بِالْجَدِيدِ مِنَ الْمَيِّتِ، إِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ. فَلَمْ يُتَوَفَّ حَتَّى أَمْسَى مِنْ لَيْلَةِ الثُّلاَثَاءِ وَدُفِنَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ.
Narrated Hisham's father:Aisha said, "I went to Abu Bakr (during his fatal illness) and he asked me, 'In how many garments was the Prophet (ﷺ) shrouded?' She replied, 'In three Suhuliya pieces of white cloth of cotton, and there was neither a shirt nor a turban among them.' Abu Bakr further asked her, 'On which day did the Prophet die?' She replied, 'He died on Monday.' He asked, 'What is today?' She replied, 'Today is Monday.' He added, 'I hope I shall die sometime between this morning and tonight.' Then he looked at a garment that he was wearing during his illness and it had some stains of saffron. Then he said, 'Wash this garment of mine and add two more garments and shroud me in them.' I said, 'This is worn out.' He said, 'A living person has more right to wear new clothes than a dead one; the shroud is only for the body's pus.' He did not die till it was the night of Tuesday and was buried before the morning
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں ( والد ماجد ) ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ( ان کی مرض الموت میں ) حاضر ہوئی تو آپ نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تم لوگوں نے کتنے کپڑوں کا کفن دیا تھا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ تین سفید دھلے ہوئے کپڑوں کا۔ آپ کو کفن میں قمیض اور عمامہ نہیں دیا گیا تھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کس دن ہوئی تھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ پیر کے دن۔ پھر پوچھا کہ آج کون سا دن ہے؟ انہوں نے کہا آج پیر کا دن ہے۔ آپ نے فرمایا کہ پھر مجھے بھی امید ہے کہ اب سے رات تک میں بھی رخصت ہو جاؤں گا۔ اس کے بعد آپ نے اپنا کپڑا دیکھا جسے مرض کے دوران میں آپ پہن رہے تھے۔ اس کپڑے پر زعفران کا دھبہ لگا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا میرے اس کپڑے کو دھو لینا اور اس کے ساتھ دو اور ملا لینا پھر مجھے کفن انہیں کا دینا۔ میں نے کہا کہ یہ تو پرانا ہے۔ فرمایا کہ زندہ آدمی نئے ( کپڑے ) کا مردے سے زیادہ مستحق ہے ‘ یہ تو پیپ اور خون کی نذر ہو جائے گا۔ پھر منگل کی رات کا کچھ حصہ گزرنے پر آپ کا انتقال ہوا اور صبح ہونے سے پہلے آپ کو دفن کیا گیا۔
Sahih al-Bukhari 24:52sahih
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَأَتَاهُنَّ وَمَعَهُ بِلاَلٌ نَاشِرَ ثَوْبِهِ فَوَعَظَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي، وَأَشَارَ أَيُّوبُ إِلَى أُذُنِهِ وَإِلَى حَلْقِهِ.
Narrated Ibn `Abbas:I am a witness that Allah's Messenger (ﷺ) offered the Id prayer before delivering the sermon and then he thought that the women would not be able to hear him (because of the distance), so he went to them along with Bilal who was spreading his garment. The Prophet (ﷺ) advised and ordered them to give in charity. So the women started giving their ornaments (in charity). (The sub-narrator Aiyub pointed towards his ears and neck meaning that they gave ornaments from those places such as earrings and necklaces)
ہم سے مؤمل بن ہشام نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اسماعیل نے ایوب سے بیان کیا اور ان سے عطاء بن ابی رباح نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا اس وقت میں موجود تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز ( عید ) پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ عورتوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں پہنچی ‘ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس بھی آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے جو اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو وعظ سنایا اور ان سے صدقہ کرنے کے لیے فرمایا اور عورتیں ( اپنا صدقہ بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ) ڈالنے لگیں۔ یہ کہتے وقت ایوب نے اپنے کان اور گلے کی طرف اشارہ کیا۔
Sahih al-Bukhari 28:29sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَوَقَصَتْهُ ـ أَوْ قَالَ فَأَقْعَصَتْهُ ـ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ ـ أَوْ قَالَ ثَوْبَيْهِ ـ وَلاَ تُحَنِّطُوهُ، وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي ".
Narrated Ibn `Abbas:While a man was standing with the Prophet (ﷺ) at `Arafat, he fell from his Mount and his neck was crushed by it. The Prophet (ﷺ) said, "Wash the deceased with water and Sidr and shroud him in two pieces of cloth, and neither perfume him nor cover his head, for Allah will resurrect him on the Day of Resurrection and he will be reciting Talbiya
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میدان عرفات میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹھہرا ہوا تھا کہ اپنی اونٹنی سے گر پڑا اور اس اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی اور بیری کے پتوں سے اسے غسل دو اور احرام ہی کے دو کپڑوں کا کفن دو لیکن خوشبو نہ لگانا نہ اس کا سر چھپانا کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت میں اسے لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا۔
Sahih al-Bukhari 28:30sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَوَقَصَتْهُ ـ أَوْ قَالَ فَأَوْقَصَتْهُ ـ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلاَ تَمَسُّوهُ طِيبًا، وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، وَلاَ تُحَنِّطُوهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا ".
Narrated Ibn `Abbas:While a man was standing with the Prophet (ﷺ) at `Arafat, he fell from his Mount and his neck was crushed by it. The Prophet (ﷺ) said, "Wash the deceased with water and Sidr and shroud him in two pieces of cloth, and neither perfume him nor cover his head, for Allah will resurrect him on the Day of Resurrection and he will be reciting Talbiya
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں ٹھہرا ہوا تھا کہ اپنی اونٹنی سے گر پڑا اور اس نے اس کی گردن توڑ دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری سے غسل دے کر دو کپڑوں ( احرام والوں ہی میں ) کفنا دو لیکن خوشبو نہ لگانا، نہ سر چھپانا اور نہ حنوط لگانا کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت میں اسے لبیک پکارتے ہوئے اٹھائے گا۔
Sahih al-Bukhari 28:31sahih
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَجُلاً، كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلاَ تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ، وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا ".
Narrated Ibn `Abbas:A man was in the company of the Prophet (ﷺ) and his she-camel crushed his neck while he was in a state of Ihram and he died Allah's Messenger (ﷺ) said, "Wash him with water and Sidr and shroud him in his two garments; neither perfume him nor cover his head, for he will be resurrected on the Day of Resurrection, reciting Talbiya
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ابوبشر نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں سعید بن جبیر نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان عرفات میں تھا کہ اس کے اونٹ نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی۔ وہ شخص محرم تھا اور مر گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت دی کہ اسے پانی اور بیری کا غسل اور ( احرام کے ) دو کپڑوں کا کفن دیا جائے البتہ اس کو خوشبو نہ لگاؤ نہ اس کا سر چھپاؤ کیونکہ قیامت کے دن وہ لبیک کہتا ہوا اٹھے گا۔
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ، وَعَنِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ. وَعَنْ صَلاَةٍ، بَعْدَ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ.
Narrated Abu Sa`id:The Prophet (ﷺ) forbade the fasting of `Id-ul-Fitr and `Id-ul-Adha (two feast days) and also the wearing of As-Samma' (a single garment covering the whole body), and sitting with one's leg drawn up while being wrapped in one garment. He also forbade the prayers after the Fajr (morning) and the `Asr (afternoon) prayers
Sahih al-Bukhari 30:98sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ، وَعَنِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ. وَعَنْ صَلاَةٍ، بَعْدَ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ.
Narrated Abu Sa`id:The Prophet (ﷺ) forbade the fasting of `Id-ul-Fitr and `Id-ul-Adha (two feast days) and also the wearing of As-Samma' (a single garment covering the whole body), and sitting with one's leg drawn up while being wrapped in one garment. He also forbade the prayers after the Fajr (morning) and the `Asr (afternoon) prayers
Sahih al-Bukhari 34:57sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَرْسَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ بِحُلَّةِ حَرِيرٍ ـ أَوْ سِيرَاءَ ـ فَرَآهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ " إِنِّي لَمْ أُرْسِلْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ، إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِتَسْتَمْتِعَ بِهَا ". يَعْنِي تَبِيعُهَا.
Narrated `Abdullah bin `Umar:Once the Prophet (ﷺ) sent to `Umar a silken two-piece garment, and when he saw `Umar wearing it, he said to him, "I have not sent it to you to wear. It is worn by him who has no share in the Hereafter, and I have sent it to you so that you could benefit by it (i.e. sell it)
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن حفص نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ان کے باپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک ریشمی جبہ بھیجا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ عمر رضی اللہ عنہ اسے ( ایک دن ) پہنے ہوئے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اسے تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم اسے پہن لو، اسے تو وہی لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ میں نے تو اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس سے ( بیچ کر ) فائدہ اٹھاؤ۔
Sahih al-Bukhari 34:96sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُنَابَذَةِ، وَهْىَ طَرْحُ الرَّجُلِ ثَوْبَهُ بِالْبَيْعِ إِلَى الرَّجُلِ، قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ، أَوْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ، وَنَهَى عَنِ الْمُلاَمَسَةِ، وَالْمُلاَمَسَةُ لَمْسُ الثَّوْبِ لاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ.
Narrated Abu Sa`id:Allah's Messenger (ﷺ) forbade the selling by Munabadha, i.e. to sell one's garment by casting it to the buyer not allowing him to examine or see it. Similarly he forbade the selling by Mulamasa. Mulamasa is to buy a garment, for example, by merely touching it, not looking at it
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہ مجھے عامر بن سعید نے خبر دی، اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منابذہ کی بیع سے منع فرمایا تھا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ ایک آدمی بیچنے کے لیے اپنا کپڑا دوسرے شخص کی طرف ( جو خریدار ہوتا ) پھینکتا اور اس سے پہلے کہ وہ اسے الٹے پلٹے یا اس کی طرف دیکھے ( صرف پھینک دینے کی وجہ سے وہ بیع لازم سمجھی جاتی تھی ) اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسۃ سے بھی منع فرمایا۔ اس کا یہ طریقہ تھا کہ ( خریدنے والا ) کپڑے کو بغیر دیکھے صرف اسے چھو دیتا ( اور اسی سے بیع لازم ہو جاتی تھی اسے بھی دھوکہ کی بیع قرار دیا گیا۔)
Sahih al-Bukhari 34:97sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نُهِيَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ، أَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ، فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، ثُمَّ يَرْفَعَهُ عَلَى مَنْكِبِهِ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ اللِّمَاسِ وَالنِّبَاذِ.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) forbade two kinds of dressing; (one of them) is to sit with one's legs drawn up while wrapped in one garment. (The other) is to lift that garment on one's shoulders. And also forbade two kinds of sale: Al-Limais and An-Nibadh
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دو طرح کے لباس پہننے منع ہیں۔ کہ کوئی آدمی ایک ہی کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے، پھر اسے مونڈے پر اٹھا کر ڈال لے ( اور شرمگاہ کھلی رہے ) اور دو طرح کی بیع سے منع کیا ایک بیع ملامسۃ سے اور دوسری بیع منابذہ سے۔
Sahih al-Bukhari 44:9sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقْرَأَنِيهَا، وَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ لِي " أَرْسِلْهُ ". ثُمَّ قَالَ لَهُ " اقْرَأْ ". فَقَرَأَ. قَالَ " هَكَذَا أُنْزِلَتْ ". ثُمَّ قَالَ لِي " اقْرَأْ ". فَقَرَأْتُ فَقَالَ " هَكَذَا أُنْزِلَتْ. إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مِنْهُ مَا تَيَسَّرَ ".
Narrated `Umar bin Al-Khattab:I heard Hisham bin Hakim bin Hizam reciting Surat-al-Furqan in a way different to that of mine. Allah's Messenger (ﷺ) had taught it to me (in a different way). So, I was about to quarrel with him (during the prayer) but I waited till he finished, then I tied his garment round his neck and seized him by it and brought him to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "I have heard him reciting Surat-al-Furqan in a way different to the way you taught it to me." The Prophet (ﷺ) ordered me to release him and asked Hisham to recite it. When he recited it, Allah's Apostle said, "It was revealed in this way." He then asked me to recite it. When I recited it, he said, "It was revealed in this way. The Qur'an has been revealed in seven different ways, so recite it in the way that is easier for you
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے، انہیں عبدالرحمٰن بن عبدالقاری نے کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان ایک دفعہ اس قرآت سے پڑھتے سنا جو اس کے خلاف تھی جو میں پڑھتا تھا۔ حالانکہ میری قرآت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائی تھی۔ قریب تھا کہ میں فوراً ہی ان پر کچھ کر بیٹھوں، لیکن میں نے انہیں مہلت دی کہ وہ ( نماز سے ) فارغ ہو لیں۔ اس کے بعد میں نے ان کے گلے میں چادر ڈال کر ان کو گھسیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں نے انہیں اس قرآت کے خلاف پڑھتے سنا ہے جو آپ نے مجھے سکھائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ پہلے انہیں چھوڑ دے۔ پھر ان سے فرمایا کہ اچھا اب تم قرآت سناؤ۔ انہوں نے وہی اپنی قرآت سنائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح نازل ہوئی تھی۔ اس کے بعد مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب تم بھی پڑھو، میں نے بھی پڑھ کر سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اسی طرح نازل ہوئی۔ قرآن سات قراتوں میں نازل ہوا ہے۔ تم کو جس میں آسانی ہو اسی طرح سے پڑھ لیا کرو۔
Sahih al-Bukhari 52:21sahih
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَقْبِيَةٌ فَقَالَ لِي أَبِي مَخْرَمَةُ انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَى أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا شَيْئًا. فَقَامَ أَبِي عَلَى الْبَابِ فَتَكَلَّمَ، فَعَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَوْتَهُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ قَبَاءٌ وَهُوَ يُرِيهِ مَحَاسِنَهُ وَهُوَ يَقُولَ " خَبَأْتُ هَذَا لَكَ، خَبَأْتُ هَذَا لَكَ ".
Narrated Al-Miswar bin Makhrama:Some outer garments were received by the Prophet (ﷺ) and my father (Makhrama) said to me, "Let us go to the Prophet (ﷺ) so that he may give us something from the garments." So, my father stood at the door and spoke. The Prophet (ﷺ) recognized his voice and came out carrying a garment and telling Makhrama the good qualities of that garment, adding, "I have kept this for you, I have sent this for you
ہم سے زیاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن وردان نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، عبداللہ بن ابی ملیکہ سے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں چند قبائیں آئیں تو مجھ سے میرے باپ مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلو۔ ممکن ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کوئی مجھے بھی عنایت فرمائیں۔ میرے والد ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پہنچ کر ) دروازے پر کھڑے ہو گئے اور باتیں کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی اور باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قباء بھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی خوبیاں بیان کرنے لگے، اور فرمایا ”میں نے یہ تمہارے ہی لیے الگ کر رکھی تھی، میں نے یہ تمہارے ہی لیے الگ کر رکھی تھی۔“
Sahih al-Bukhari 56:96sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ ثَعْلَبَةُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ قَسَمَ مُرُوطًا بَيْنَ نِسَاءٍ مِنْ نِسَاءِ الْمَدِينَةِ، فَبَقِيَ مِرْطٌ جَيِّدٌ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ مَنْ عِنْدَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَعْطِ هَذَا ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّتِي عِنْدَكَ. يُرِيدُونَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ. فَقَالَ عُمَرُ أُمُّ سَلِيطٍ أَحَقُّ. وَأُمُّ سَلِيطٍ مِنْ نِسَاءِ الأَنْصَارِ، مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ عُمَرُ فَإِنَّهَا كَانَتْ تَزْفِرُ لَنَا الْقِرَبَ يَوْمَ أُحُدٍ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ تَزْفِرُ تَخِيطُ.
Narrated Tha`laba bin Abi Malik:`Umar bin Al-Khattab distributed some garments amongst the women of Medina. One good garment remained, and one of those present with him said, "O chief of the believers! Give this garment to your wife, the (grand) daughter of Allah's Messenger (ﷺ)." They meant Um Kulthum, the daughter of `Ali. `Umar said, Um Salit has more right (to have it)." Um Salit was amongst those Ansari women who had given the pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ).' `Umar said, "She (i.e. Um Salit) used to carry the water skins for us on the day of Uhud
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، ان سے ثعلبہ بن ابی مالک نے کہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی خواتین میں کچھ چادریں تقسیم کیں۔ ایک نئی چادر بچ گئی تو بعض حضرات نے جو آپ کے پاس ہی تھے کہا یا امیرالمؤمنین! یہ چادر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی کو دے دیجئیے، جو آپ کے گھر میں ہیں۔ ان کی مراد ( آپ کی بیوی ) ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ سے تھی لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ام سلیط اس کی زیادہ مستحق ہیں۔ یہ ام سلیط رضی اللہ عنہا ان انصاری خواتین میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ احد کی لڑائی کے موقع پر ہمارے لیے مشکیزے ( پانی کے ) اٹھا کر لاتی تھیں۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا ( حدیث میں ) لفظ «تزفر» کا معنی یہ ہے کہ سیتی تھی۔
Sahih al-Bukhari 56:255sahih
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَجَاءَهُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِنِي فَإِنِّي فَادَيْتُ نَفْسِي، وَفَادَيْتُ عَقِيلاً. فَقَالَ " خُذْ ". فَأَعْطَاهُ فِي ثَوْبِهِ.
(In another narration) Anas said:"Some wealth was brought to the Prophet (ﷺ) from Bahrain. Al `Abbas came to him and said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Give me (some of it), as I have paid my and `Aqil's ransom.' The Prophet (ﷺ) said, 'Take,' and gave him in his garment
اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بحرین کا خراج آیا تو عباس رضی اللہ عنہ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس مال سے مجھے بھی دیجئیے کیونکہ ( بدر کے موقع پر ) میں نے اپنا اور عقیل دونوں کا فدیہ ادا کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر آپ لے لیں“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے کپڑے میں نقدی کو بندھوا دیا۔
Sahih al-Bukhari 57:17sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ كِسَاءً مُلَبَّدًا وَقَالَتْ فِي هَذَا نُزِعَ رُوحُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَزَادَ سُلَيْمَانُ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا يُصْنَعُ بِالْيَمَنِ، وَكِسَاءً مِنْ هَذِهِ الَّتِي يَدْعُونَهَا الْمُلَبَّدَةَ.
Narrated Abu Burda:`Aisha brought out to us a patched woollen garment, and she said, "(It chanced that) the soul of Allah's Messenger (ﷺ) was taken away while he was wearing this." Abu-Burda added, "Aisha brought out to us a thick waist sheet like the ones made by the Yemenites, and also a garment of the type called Al-Mulabbada
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ‘ ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے ابوبردہ بن ابوموسیٰ نے بیان کیا کہا عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک پیوند لگی ہوئی چادر نکال کر دکھائی اور بتلایا کہ اسی کپڑے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض ہوئی تھی۔ اور سلیمان بن مغیرہ نے حمید سے بیان کیا ‘ انہوں نے ابوبردہ سے اتنا زیادہ بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یمن کی بنی ہوئی ایک موٹی ازار ( تہمد ) اور ایک کمبل انہیں کمبلوں میں سے جن کو تم ملبہ ( اور موٹا پیوند دار کہتے ہو ) ہمیں نکال کر دکھائی۔
Sahih al-Bukhari 57:56sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ، أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ النَّاسُ مُقْبِلاً مِنْ حُنَيْنٍ عَلِقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ، فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ، فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَعْطُونِي رِدَائِي، فَلَوْ كَانَ عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ، ثُمَّ لاَ تَجِدُونِي بَخِيلاً وَلاَ كَذُوبًا وَلاَ جَبَانًا ".
Narrated Jubair bin Mut`im:That while he was with Allah's Messenger (ﷺ) who was accompanied by the people on their way back from Hunain, the bedouins started begging things of Allah's Messenger (ﷺ) so much so that they forced him to go under a Samura tree where his loose outer garment was snatched away. On that, Allah's Messenger (ﷺ) stood up and said to them, "Return my garment to me. If I had as many camels as these trees, I would have distributed them amongst you; and you will not find me a miser or a liar or a coward
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عمر بن محمد بن جبیر بن مطعم نے خبر دی کہ میرے باپ محمد بن جبیر نے کہا اور انہیں جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ کے ساتھ اور بھی صحابہ تھے۔ حنین کے جہاد سے واپسی ہو رہی تھی۔ راستے میں کچھ بدو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے ( لوٹ کا مال ) آپ سے مانگتے تھے۔ وہ آپ سے ایسا لپٹے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ببول کے درخت کی طرف دھکیل لے گئے۔ آپ کی چادر اس میں اٹک کر رہ گئی۔ اس وقت آپ ٹھہر گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( بھائیو ) میری چادر تو دے دو۔ اگر میرے پاس ان کانٹے دار درختوں کی تعداد میں اونٹ ہوتے تو وہ بھی تم میں تقسیم کر دیتا۔ تم مجھے بخیل، جھوٹا اور بزدل ہرگز نہیں پاؤ گے۔“
Sahih al-Bukhari 57:57sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَذَبَهُ جَذْبَةً شَدِيدَةً، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَثَّرَتْ بِهِ حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَذْبَتِهِ، ثُمَّ قَالَ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ. فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ، فَضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ.
Narrated Anas bin Malik:While I was walking with the Prophet (ﷺ) who was wearing a Najrani outer garment with a thick hem, a bedouin came upon the Prophet (ﷺ) and pulled his garment so violently that I could recognize the impress of the hem of the garment on his shoulder, caused by the violence of his pull. Then the bedouin said, "Order for me something from Allah's Fortune which you have." The Prophet (ﷺ) turned to him and smiled, and ordered that a gift be given to him
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نجران کی بنی ہوئی چوڑے حاشیہ کی ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک دیہاتی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا اور زور سے آپ کو کھینچا، میں نے آپ کے شانے کو دیکھا، اس پر چادر کے کونے کا نشان پڑ گیا، ایسا کھینچا۔ پھر کہنے لگا۔ اللہ کا مال جو آپ کے پاس ہے اس میں سے کچھ مجھ کو دلائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور ہنس دئیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دینے کا حکم فرمایا ( آخری جملہ میں سے ترجمۃ الباب نکلتا ہے ) ۔
Sahih al-Bukhari 58:13sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ ابْنَةِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ ابْنَةَ أَبِي طَالِبٍ، تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ " مَنْ هَذِهِ ". فَقُلْتُ أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ. فَقَالَ " مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ ". فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ، فَصَلَّى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيٌّ أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلاً قَدْ أَجَرْتُهُ فُلاَنُ بْنُ هُبَيْرَةَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ ". قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ وَذَلِكَ ضُحًى.
Narrated Um Hani:the daughter of Abu Talib: I went to Allah's Messenger (ﷺ) on the day of the conquest of Mecca and found him taking a bath, and his daughter Fatima was screening him. I greeted him and he asked, "Who is that?" I said, "I, Um Hani bint Abi Talib." He said, "Welcome, O Um Hani." When he had finished his bath, he stood up and offered eight rak`at while dressed in one garment. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My brother `Ali has declared that he will kill a man to whom I have granted asylum. The man is so and-so bin Hubaira." Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Um Hani! We will grant asylum to the one whom you have granted asylum." (Um Hani said, "That (visit) took place in the Duha (i.e. forenoon)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عمرو بن عبداللہ کے غلام ابوالنضر نے، انہیں ام ہانی بنت ابی طالب کے غلام ابومرہ نے خبر دی، انہوں نے ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ بیان کرتی تھیں کہ فتح مکہ کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ( مکہ میں ) میں نے دیکھا کہ آپ غسل کر رہے تھے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کی صاحبزادی پردہ کئے ہوئے تھیں۔ میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے دریافت فرمایا کہ کون صاحبہ ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میں ام ہانی بنت ابی طالب ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آؤ اچھی آئیں، ام ہانی! پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل سے فارغ ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر آٹھ رکعت چاشت کی نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک کپڑا جسم اطہر پر لپیٹے ہوئے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری ماں کے بیٹے علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ ایک شخص کو جسے میں پناہ دے چکی ہوں، قتل کئے بغیر نہیں رہیں گے۔ یہ شخص ہبیرہ کا فلاں لڑکا ( جعدہ ) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ام ہانی! جسے تم نے پناہ دی، اسے ہماری طرف سے بھی پناہ ہے۔ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ وقت چاشت کا تھا۔
Sahih al-Bukhari 59:60sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِثَوْبٍ مِنْ حَرِيرٍ، فَجَعَلُوا يَعْجَبُونَ مِنْ حُسْنِهِ وَلِينِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَفْضَلُ مِنْ هَذَا ".
Narrated Al-Bara bin Azib:Allah's Messenger (ﷺ) was given a silken garment, and its beauty and delicacy astonished the people. On that, Allah's Messenger (ﷺ) said, "No doubt, the handkerchiefs of Sa`d bin Mu`adh in Paradise are better than this
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشم کا ایک کپڑا پیش کیا گیا اس کی خوبصورتی اور نزاکت نے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بہتر اور افضل ہیں۔
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَكَشَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ، وَتِلْكَ الأَيَّامُ أَيَّامُ مِنًى ". وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْتُرُنِي، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ، وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ فَزَجَرَهُمْ {عُمَرُ} فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " دَعْهُمْ أَمْنًا بَنِي أَرْفَدَةَ ". يَعْنِي مِنَ الأَمْنِ.
Narrated `Aisha:That during the Mina days, Abu Bakr came to her, while there were two girls with her, beating drums, and the Prophet (ﷺ) was (lying) covering himself with his garment. Abu Bakr rebuked the two girls, but the Prophet (ﷺ) uncovered his face and said, "O Abu Bakr! Leave them, for these are the days of Id (festival)." Those days were the days of Mina-. `Aisha added, "I was being screened by the Prophet (ﷺ) while I was watching the Ethiopians playing in the Mosque. `Umar rebuked them, but the Prophet (ﷺ) said, "Leave them, O Bani Arfida! Play. (for) you are safe
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ( انصار کی ) دو لڑکیاں دف بجا کر گا رہی تھیں۔ یہ حج کے ایام منیٰ کا واقعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روئے مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے لیٹے ہوئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا ”ابوبکر! انہیں چھوڑ دو، یہ عید کے دن ہیں، یہ منیٰ میں ٹھہرنے کے دن تھے۔“
Sahih al-Bukhari 61:39sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَكَشَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ، وَتِلْكَ الأَيَّامُ أَيَّامُ مِنًى ". وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْتُرُنِي، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ، وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ فَزَجَرَهُمْ {عُمَرُ} فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " دَعْهُمْ أَمْنًا بَنِي أَرْفَدَةَ ". يَعْنِي مِنَ الأَمْنِ.
Narrated `Aisha:That during the Mina days, Abu Bakr came to her, while there were two girls with her, beating drums, and the Prophet (ﷺ) was (lying) covering himself with his garment. Abu Bakr rebuked the two girls, but the Prophet (ﷺ) uncovered his face and said, "O Abu Bakr! Leave them, for these are the days of Id (festival)." Those days were the days of Mina-. `Aisha added, "I was being screened by the Prophet (ﷺ) while I was watching the Ethiopians playing in the Mosque. `Umar rebuked them, but the Prophet (ﷺ) said, "Leave them, O Bani Arfida! Play. (for) you are safe
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ( انصار کی ) دو لڑکیاں دف بجا کر گا رہی تھیں۔ یہ حج کے ایام منیٰ کا واقعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روئے مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے لیٹے ہوئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا ”ابوبکر! انہیں چھوڑ دو، یہ عید کے دن ہیں، یہ منیٰ میں ٹھہرنے کے دن تھے۔“
Sahih al-Bukhari 61:151sahih
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْفُدَيْكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ مِنْكَ كَثِيرًا فَأَنْسَاهُ. قَالَ " ابْسُطْ رِدَاءَكَ ". فَبَسَطْتُ فَغَرَفَ بِيَدِهِ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ " ضُمَّهُ " فَضَمَمْتُهُ، فَمَا نَسِيتُ حَدِيثًا بَعْدُ.
Narrated Abu Huraira:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I hear many narrations from you but I forget them." He said, "Spread your covering sheet." I spread my sheet and he moved both his hands as if scooping something and emptied them in the sheet and said, "Wrap it." I wrapped it round my body, and since then I have never forgotten
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا مجھ سے محمد بن اسماعیل ابن ابی الفدیک نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن ابن ابی ذئب نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ سے بہت سی احادیث اب تک سنی ہیں لیکن میں انہیں بھول جاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی چادر پھیلاؤ، میں نے چادر پھیلا دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لپ بھر کر ڈال دی اور فرمایا کہ اسے اپنے بدن سے لگا لو۔ چنانچہ میں نے لگا لیا اور اس کے بعد کبھی کوئی حدیث نہیں بھولا۔
Sahih al-Bukhari 62:17sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاَءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ أَحَدَ شِقَّىْ ثَوْبِي يَسْتَرْخِي إِلاَّ أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكَ لَسْتَ تَصْنَعُ ذَلِكَ خُيَلاَءَ " قَالَ مُوسَى فَقُلْتُ لِسَالِمٍ أَذَكَرَ عَبْدُ اللَّهِ مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ قَالَ لَمْ أَسْمَعْهُ ذَكَرَ إِلاَّ ثَوْبَهُ.
Narrated `Abdullah bin `Umar:That Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah will not look on the Day of Judgment at him who drags his robe (behind him) out of pride." Abu Bakr said "One side of my robe slacks down unless I get very cautious about it." Allah's Messenger (ﷺ) said, "But you do not do that with pride
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں سالم بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنا کپڑا ( پاجامہ یا تہبند وغیرہ ) تکبر اور غرور کی وجہ سے زمین پر گھسیٹتا چلے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا بھی نہیں، اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے کپڑے کا ایک حصہ لٹک جایا کرتا ہے۔ البتہ اگر میں پوری طرح خیال رکھوں تو وہ نہیں لٹک سکے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ تو ایسا تکبر کے خیال سے نہیں کرتے ( اس لیے آپ اس حکم میں داخل نہیں ہیں ) موسیٰ نے کہا کہ میں نے سالم سے پوچھا، کیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس حدیث میں یہ فرمایا تھا کہ جو اپنی ازار کو گھسیٹتے ہوئے چلے، تو انہوں نے کہا کہ میں نے تو ان سے یہی سنا کہ جو کوئی اپنا کپڑا لٹکائے۔
Sahih al-Bukhari 63:81sahih
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَخْبِرْنِي بِأَشَدِّ، شَىْءٍ صَنَعَهُ الْمُشْرِكُونَ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي حِجْرِ الْكَعْبَةِ إِذْ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ، فَوَضَعَ ثَوْبَهُ فِي عُنُقِهِ فَخَنَقَهُ خَنْقًا شَدِيدًا، فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى أَخَذَ بِمَنْكِبِهِ وَدَفَعَهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ {أَتَقْتُلُونَ رَجُلاً أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ} الآيَةَ. تَابَعَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ، قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. وَقَالَ عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قِيلَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ.
Narrated `Urwa bin Az-Zubair:I asked Ibn `Amr bin Al-As, "Tell me of the worst thing which the pagans did to the Prophet." He said, "While the Prophet (ﷺ) was praying in the Hijr of the Ka`ba; `Uqba bin Abi Mu'ait came and put his garment around the Prophet's neck and throttled him violently. Abu Bakr came and caught him by his shoulder and pushed him away from the Prophet (ﷺ) and said, "Do you want to kill a man just because he says, 'My Lord is Allah?
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا مجھ سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم تیمی نے بیان کیا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ مجھے مشرکیں کے سب سے سخت ظلم کے متعلق بتاؤ جو مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حطیم میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور ظالم اپنا کپڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں پھنسا کر زور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گلا گھونٹنے لگا اتنے میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آ گئے اور انہوں نے اس بدبخت کا کندھا پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اسے ہٹا دیا اور کہا کہ تم لوگ ایک شخص کو صرف اس لیے مار ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے الآیۃ۔ عیاش بن ولید کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابن اسحاق نے کی ( اور بیان کیا کہ ) مجھ سے یحییٰ بن عروہ نے بیان کیا اور ان سے عروہ نے کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے پوچھا اور عبدہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا گیا اور محمد بن عمرو نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے، اس میں یوں ہے کہ مجھ سے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔
Sahih al-Bukhari 64:164sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، وَحَدَّثَنِي خَلِيفَةُ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم النَّخَلاَتِ حَتَّى افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرَ، وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَسْأَلَهُ الَّذِينَ كَانُوا أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ. وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ، فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي تَقُولُ كَلاَّ وَالَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ لاَ يُعْطِيكَهُمْ وَقَدْ أَعْطَانِيهَا، أَوْ كَمَا قَالَتْ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَكِ كَذَا ". وَتَقُولُ كَلاَّ وَاللَّهِ. حَتَّى أَعْطَاهَا، حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ " عَشَرَةَ أَمْثَالِهِ ". أَوْ كَمَا قَالَ.
Narrated Anas:Some (of the Ansar) used to present date palm trees to the Prophet (ﷺ) till Banu Quraiza and Banu An- Nadir were conquered (then he returned to the people their date palms). My people ordered me to ask the Prophet (ﷺ) to return some or all the date palms they had given to him, but the Prophet (ﷺ) had given those trees to Um Aiman. On that, Um Aiman came and put the garment around my neck and said, "No, by Him except Whom none has the right to be worshipped, he will not return those trees to you as he (i.e. the Prophet (ﷺ) ) has given them to me." The Prophet (ﷺ) said (to her), "Return those trees and I will give you so much (instead of them)." But she kept on refusing, saying, "No, by Allah," till he gave her ten times the number of her date palms
ہم سے عبداللہ ابی الاسود نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں) اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ‘ کہ میں نے اپنے والد سے سنا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بطور ہدیہ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے باغ میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چند کھجور کے درخت مقرر کر دیئے تھے یہاں تک کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے قبائل فتح ہو گئے ( تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہدایا کو واپس کر دیا ) میرے گھر والوں نے بھی مجھے اس کھجور کو، تمام کی تمام یا اس کا کچھ حصہ لینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھجور ام ایمن رضی اللہ عنہا کو دے دی تھی۔ اتنے میں وہ بھی آ گئیں اور کپڑا میری گردن میں ڈال کر کہنے لگیں ‘ قطعاً نہیں۔ اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہ پھل تمہیں نہیں ملیں گے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عنایت فرما چکے ہیں۔ یا اسی طرح کے الفاظ انہوں نے بیان کئے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم مجھ سے اس کے بدلے میں اتنے لے لو۔ ( اور ان کا مال انہیں واپس کر دو ) لیکن وہ اب بھی یہی کہے جا رہی تھیں کہ قطعاً نہیں، خدا کی قسم! یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں، میرا خیال ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس کا دس گنا دینے کا وعدہ فرمایا ( پھر انہوں نے مجھے چھوڑا ) یا اسی طرح کے الفاظ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کئے۔
Sahih al-Bukhari 65:137sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رضى الله عنه قَالَ كُنَّا نَغْزُو مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَيْسَ مَعَنَا نِسَاءٌ فَقُلْنَا أَلاَ نَخْتَصِي فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، فَرَخَّصَ لَنَا بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ نَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ، ثُمَّ قَرَأَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ }
Narrated `Abdullah:We used to participate in the holy wars carried on by the Prophet (ﷺ) and we had no women (wives) with us. So we said (to the Prophet (ﷺ) ). "Shall we castrate ourselves?" But the Prophet (ﷺ) forbade us to do that and thenceforth he allowed us to marry a woman (temporarily) by giving her even a garment, and then he recited: "O you who believe! Do not make unlawful the good things which Allah has made lawful for you
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر جہاد کیا کرتے تھے اور ہمارے ساتھ ہماری بیویاں نہیں ہوتی تھیں۔ اس پر ہم نے عرض کیا کہ ہم اپنے آپ کو خصی کیوں نہ کر لیں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روک دیا اور اس کے بعد ہمیں اس کی اجازت دی کہ ہم کسی عورت سے کپڑے ( یا کسی بھی چیز ) کے بدلے میں نکاح کر سکتے ہیں۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی «يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل الله لكم» ”اے ایمان والو! اپنے اوپر ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو جو اللہ نے تمہارے لیے جائز کی ہیں۔“
Sahih al-Bukhari 65:192sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ قَمِيصَهُ يُكَفِّنُ فِيهِ أَبَاهُ فَأَعْطَاهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُصَلِّيَ فَقَامَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاكَ رَبُّكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ فَقَالَ {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً} وَسَأَزِيدُهُ عَلَى السَّبْعِينَ ". قَالَ إِنَّهُ مُنَافِقٌ. قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ}.
Narrated Ibn `Abbas:When `Abdullah bin 'Ubai died, his son `Abdullah bin `Abdullah came to Allah's Messenger (ﷺ) and asked him to give him his shirt in order to shroud his father in it. He gave it to him and then `Abdullah asked the Prophet (ﷺ) to offer the funeral prayer for him (his father). Allah's Messenger (ﷺ) got up to offer the funeral prayer for him, but `Umar got up too and got hold of the garment of Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ) Will you offer the funeral prayer for him though your Lord has forbidden you to offer the prayer for him" Allah's Messenger (ﷺ) said, "But Allah has given me the choice by saying: '(Whether you) ask forgiveness for them, or do not ask forgiveness for them; even if you ask forgiveness for them seventy times..' (9.80) so I will ask more than seventy times." `Umar said, "But he (`Abdullah bin 'Ubai) is a hypocrite!" However, Allah's Messenger (ﷺ) did offer the funeral prayer for him whereupon Allah revealed: 'And never (O Muhammad) pray for anyone of them that dies, nor stand at his grave
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے، ان سے عبیداللہ بن عمری نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ جب عبداللہ بن ابی ( منافق ) کا انتقال ہوا تو اس کے لڑکے عبداللہ بن عبداللہ ( جو پختہ مسلمان تھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ اپنی قمیص ان کے والد کے کفن کے لیے عنایت فرما دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قمیص عنایت فرمائی۔ پھر انہوں نے عرض کی کہ آپ نماز جنازہ بھی پڑھا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ پڑھانے کے لیے بھی آگے بڑھ گئے۔ اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کی نماز جنازہ پڑھانے جا رہے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے منع بھی فرما دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے فرمایا ہے «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة» کہ ”آپ ان کے لیے استغفار کریں خواہ نہ کریں۔ اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں گے ( تب بھی اللہ انہیں نہیں بخشے گا ) ۔“ اس لیے میں ستر مرتبہ سے بھی زیادہ استغفار کروں گا۔ ( ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ زیادہ استغفار کرنے سے معاف کر دے ) عمر رضی اللہ عنہ بولے لیکن یہ شخص تو منافق ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» کہ ”اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس پر کبھی بھی نماز نہ پڑھئے اور نہ اس کی قبر پر کھڑا ہوئیے۔“
Sahih al-Bukhari 65:194sahih
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّنَهُ فِيهِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي عَلَيْهِ، فَأَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِثَوْبِهِ فَقَالَ تُصَلِّي عَلَيْهِ وَهْوَ مُنَافِقٌ وَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لَهُمْ. قَالَ " إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ أَوْ أَخْبَرَنِي فَقَالَ {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ} فَقَالَ سَأَزِيدُهُ عَلَى سَبْعِينَ ". قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ {وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ}
Narrated Ibn `Umar:When `Abdullah bin Ubai died, his son `Abdullah bin `Abdullah came to Allah's Messenger (ﷺ) who gave his shirt to him and ordered him to shroud his father in it. Then he stood up to offer the funeral prayer for the deceased, but `Umar bin Al-Khattab took hold of his garment and said, "Do you offer the funeral prayer for him though he was a hypocrite and Allah has forbidden you to ask forgiveness for hypocrites?" The Prophet (ﷺ) said, "Allah has given me the choice (or Allah has informed me) saying: "Whether you, O Muhammad, ask forgiveness for them, or do not ask forgiveness for them, even if you ask forgiveness for them seventy times, Allah will not forgive them," (9.80) Then he added, "I will (appeal to Allah for his sake) more than seventy times." So Allah's Messenger (ﷺ) offered the funeral prayer for him and we too, offered the prayer along with him. Then Allah revealed: "And never, O Muhammad, pray (funeral prayer) for anyone of them that dies, nor stand at his grave. Certainly they disbelieved in Allah and His Apostle and died in a state of rebellion
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ بن ابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا کرتہ عنایت فرمایا اور فرمایا کہ اس کرتے سے اسے کفن دیا جائے پھر آپ اس پر نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا آپ اس پر نماز پڑھانے کے لیے تیار ہو گئے حالانکہ یہ منافق ہے، اللہ تعالیٰ بھی آپ کو ان کے لیے استغفار سے منع کر چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے۔ یا راوی نے «خيرني» کی جگہ لفظ «أخبرني» نقل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم» کہ ”آپ ان کے لیے استغفار کریں خواہ نہ کریں۔ اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں گے جب بھی اللہ انہیں نہیں بخشے گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ستر مرتبہ سے بھی زیادہ استغفار کروں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور ہم نے بھی ان کے ساتھ پڑھی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره إنهم كفروا بالله ورسوله وماتوا وهم فاسقون» کہ ”اور ان میں سے جو کوئی مر جائے، آپ اس پر کبھی بھی جنازہ نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔ بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ اس حال میں مرے ہیں کہ وہ نافرمان تھے۔“
Sahih al-Bukhari 65:205sahih
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، قَالَ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ {أَلاَ إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلاَ حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ} وَقَالَ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {يَسْتَغْشُونَ} يُغَطُّونَ رُءُوسَهُمْ {سِيءَ بِهِمْ} سَاءَ ظَنُّهُ بِقَوْمِهِ. {وَضَاقَ بِهِمْ} بِأَضْيَافِهِ {بِقِطْعٍ مِنَ اللَّيْلِ} بِسَوَادٍ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ {أُنِيبُ} أَرْجِعُ.
Narrated `Amr:Ibn `Abbas recited:-- "No doubt! They fold up their breasts in order to hide from Him. Surely! Even when they cover themselves with their garments
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کی قرآت اس طرح کی تھی «ألا إنهم يثنون صدورهم ليستخفوا منه ألا حين يستغشون ثيابهم» اور عمرو بن دینار کے علاوہ اوروں نے بیان کیا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ «يستغشون» یعنی اپنے سر چھپا لیتے ہیں۔ «سيء بهم» یعنی اپنی قوم سے وہ بدگمان ہوا۔ «وضاق بهم» یعنی اپنے مہمانوں کو دیکھ کر وہ بدگمان ہوا کہ ان کی قوم انہیں بھی پریشان کرے گی۔ «بقطع من الليل» یعنی رات کی سیاہی میں اور مجاہد نے کہا «أنيب» کے معنی میں رجوع کرتا ہوں ( متوجہ ہوتا ہوں ) ۔
Sahih al-Bukhari 65:337sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَخْبِرْنِي بِأَشَدِّ، مَا صَنَعَ الْمُشْرِكُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ، إِذْ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ، فَأَخَذَ بِمَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوَى ثَوْبَهُ فِي عُنُقِهِ فَخَنَقَهُ خَنْقًا شَدِيدًا، فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِهِ، وَدَفَعَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ {أَتَقْتُلُونَ رَجُلاً أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ}
Narrated `Urwa bin Az-Zubair:I asked `Abdullah bin `Amr bin Al-`As to inform me of the worst thing the pagans had done to Allah's Apostle. He said: "While Allah's Messenger (ﷺ) was praying in the courtyard of the Ka`ba, `Uqba bin Abi Mu'ait came and seized Allah's Messenger (ﷺ) by the shoulder and twisted his garment round his neck and throttled him severely. Abu Bakr came and seized `Uqba's shoulder and threw him away from Allah's Apostle and said, "Would you kill a man because he says: 'My Lord is Allah,' and has come to you with clear Signs from your Lord?
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن ابراہیم تیمی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، آپ نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ سخت معاملہ مشرکین نے کیا کیا تھا؟ عبداللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے قریب نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اس نے آپ کا شانہ مبارک پکڑ کر آپ کی گردن میں اپنا کپڑا لپیٹ دیا اور اس کپڑے سے آپ کا گلا بڑی سختی کے ساتھ گھونٹنے لگا۔ اتنے میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور انہوں نے اس بدبخت کا مونڈھا پکڑ کر اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا کیا اور کہا کہ کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کر دینا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کے پاس سے اپنی سچائی کے لیے روشن دلائل بھی ساتھ لایا ہے۔
Sahih al-Bukhari 66:51sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا لِي فِي النِّسَاءِ مِنْ حَاجَةٍ ". فَقَالَ رَجُلٌ زَوِّجْنِيهَا. قَالَ " أَعْطِهَا ثَوْبًا ". قَالَ لاَ أَجِدُ. قَالَ " أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ". فَاعْتَلَّ لَهُ. فَقَالَ " مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ". قَالَ كَذَا وَكَذَا. قَالَ " فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ".
Narrated Sahl bin Sa`d:A lady came to the Prophet (ﷺ) and declared that she had decided to offer herself to Allah and His Apostle. The Prophet (ﷺ) said, "I am not in need of women." A man said (to the Prophet) "Please marry her to me." The Prophet (ﷺ) said (to him), "Give her a garment." The man said, "I cannot afford it." The Prophet said, "Give her anything, even if it were an iron ring." The man apologized again. The Prophet then asked him, "What do you know by heart of the Qur'an?" He replied, "I know such-andsuch portion of the Qur'an (by heart)." The Prophet (ﷺ) said, "Then I marry her to you for that much of the Qur'an which you know by heart
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ انہوں نے اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول ( کی رضا ) کے لیے ہبہ کر دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب مجھے عورتوں سے نکاح کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ ایک صاحب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر انہیں ( مہر میں ) ایک کپڑا لا کے دے دو۔ انہوں نے عرض کیا کہ مجھے تو یہ بھی میسر نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر انہیں کچھ تو دو ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی۔ وہ اس پر بہت پریشان ہوئے ( کیونکہ ان کے پاس یہ بھی نہ تھی ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تم کو قرآن کتنا یاد ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں نے تمہارا ان سے قرآن کی ان سورتوں پر نکاح کیا جو تمہیں یاد ہیں۔
Sahih al-Bukhari 67:152sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي ضَرَّةً، فَهَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ مِنْ زَوْجِي غَيْرَ الَّذِي يُعْطِينِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلاَبِسِ ثَوْبَىْ زُورٍ ".
Narrated Asma:Some lady said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My husband has another wife, so it is sinful of me to claim that he has given me what he has not given me (in order to tease her)?" Allah's Messenger (ﷺ) said, The one who pretends that he has been given what he has not been given, is just like the (false) one who wears two garments of falsehood
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن مثنٰی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے فاطمہ بنت منذر نے بیان کیا اور ان سے اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری سوکن ہے اگر اپنے شوہر کی طرف سے ان چیزوں کے حاصل ہونے کی بھی داستانیں اسے سناؤں جو حقیقت میں میرا شوہر مجھے نہیں دیتا تو کیا اس میں کوئی حرج ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ جو چیز حاصل نہ ہو اس پر فخر کرنے والا اس شخص جیسا ہے جو فریب کا جوڑا یعنی ( دوسروں کے کپڑے ) مانگ کر پہنے۔
Sahih al-Bukhari 68:86sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلاَ نَكْتَحِلَ، وَلاَ نَطَّيَّبَ، وَلاَ نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا، إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ، وَكُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ.
Narrated Um 'Atiyya:We were forbidden to mourn for more than three days for a dead person, except for a husband, for whom a wife should mourn for four months and ten days (while in the mourning period) we were not allowed to put kohl in our eyes, nor perfume our-selves, nor wear dyed clothes, except a garment of 'Asb (special clothes made in Yemen). But it was permissible for us that when one of us became clean from her menses and took a bath, she could use a piece of a certain kind of incense. And it was forbidden for us to follow funeral processions
مجھ سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے حفصہ نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہمیں اس سے منع کیا گیا کہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ منائیں سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن کی عدت تھی۔ اس عرصہ میں ہم نہ سرمہ لگاتے نہ خوشبو استعمال کرتے اور نہ رنگا کپڑا پہنتے تھے۔ البتہ وہ کپڑا اس سے الگ تھا جس کا ( دھاگا ) بننے سے پہلے ہی رنگ دیا گیا ہو۔ ہمیں اس کی اجازت تھی کہ اگر کوئی حیض کے بعد غسل کرے تو اس وقت اظفار کا تھوڑا سا عود استعمال کر لے اور ہمیں جنازہ کے پیچھے چلنے کی بھی ممانعت تھی۔
Sahih al-Bukhari 68:87sahih
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا لاَ تَكْتَحِلُ وَلاَ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ ".
Narrated Um 'Atiyya:The Prophet (ﷺ) said, "It is not lawful for a lady who believes in Allah and the Last Day, to mourn for more than three days for a dead person, except for her husband, in which case she should neither put kohl in her eyes, nor perfume herself, nor wear dyed clothes, except a garment of 'Asb
ہم سے فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالسلام بن حرب نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے، ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ کسی کا سوگ منائے سوا شوہر کے وہ اس کے سوگ میں نہ سرمہ لگائے نہ رنگا ہوا کپڑا پہنے مگر یمن کا دھاری دار کپڑا ( جو بننے سے پہلے ہی رنگا گیا ہو ) ۔
Sahih al-Bukhari 70:9sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَىْءٍ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ، ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ ثَوْبِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ ". فَقُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " بِطَعَامٍ ". قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَنْ مَعَهُ " قُومُوا ". فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالنَّاسِ، وَلَيْسَ عِنْدَنَا مِنَ الطَّعَامِ مَا نُطْعِمُهُمْ. فَقَالَتِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَقْبَلَ أَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى دَخَلاَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ ". فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ فَفُتَّ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا فَأَدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ". فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ". فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ". فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ أَذِنَ لِعَشَرَةٍ، فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا، وَالْقَوْمُ ثَمَانُونَ رَجُلاً.
Narrated Anas bin Malik:Abu Talha said to Um Sulaim, "I have heard the voice of Allah's Messenger (ﷺ) which was feeble, and I think that he is hungry. Have you got something (to eat)?" She took out some loaves of barley bread, then took her face-covering sheet and wrapped the bread in part of it, and pushed it under my garment and turned the rest of it around my body and sent me to Allah's Messenger (ﷺ) . I went with that, and found Allah's Messenger (ﷺ) in the mosque with some people. I stood up near them, and Allah's Messenger (ﷺ) asked me, "Have you been sent by Abu Talha?" I said, "Yes." He asked, "With some food (for us)?" I said, "Yes." Then Allah's Messenger (ﷺ) said to all those who were with him, "Get up!" He set out (and all the people accompanied him) and I proceeded ahead of them till I came to Abu Talha. Abu Talha then said, "O Um Sulaim! Allah's Messenger (ﷺ) has arrived along with the people, and we do not have food enough to feed them all." She said, "Allah and His Apostle know better." So Abu Talha went out till he met Allah's Messenger (ﷺ). Then Abu Talha and Allah's Messenger (ﷺ) came and entered the house. Allah's Apostle said, "Um Sulaim ! Bring whatever you have." She brought that very bread. The Prophet (ﷺ) ordered that it be crushed into small pieces, and Um Sulaim pressed a skin of butter on it. Then Allah's Apostle said whatever Allah wished him to say (to bless the food) and then added, "Admit ten (men)." So they were admitted, ate their fill and went out. The Prophet (ﷺ) then said, "Admit ten (more)." They were admitted, ate their full, and went out. He then again said, "Admit ten more!" They were admitted, ate their fill, and went out. He admitted ten more, and so all those people ate their fill, and they were eighty men
ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز میں ضعف و نقاہت کو محسوس کیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ آپ فاقہ سے ہیں۔ کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ چنانچہ انہوں نے جَو کی چند روٹیاں نکالیں، پھر اپنا دوپٹہ نکالا اور اس کے ایک حصہ میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ( یعنی انس رضی اللہ عنہ کے ) کپڑے کے نیچے چھپا دیا اور ایک حصہ مجھے چادر کی طرح اوڑھا دیا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ بیان کیا کہ میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو مسجد میں پایا اور آپ کے ساتھ صحابہ تھے۔ میں ان سب حضرات کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اے انس! تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہو گا۔ میں نے عرض کی جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کھانے کے ساتھ؟ میں نے عرض کی، جی ہاں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ کھڑے ہو جاؤ۔ چنانچہ آپ روانہ ہوئے۔ میں سب کے آگے آگے چلتا رہا۔ جب ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس پہنچا تو انہوں نے کہا: ام سلیم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو ساتھ لے کر تشریف لائے ہیں، حالانکہ ہمارے پاس کھانے کا اتنا سامان نہیں جو سب کو کافی ہو سکے۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا اس پر بولیں کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔ بیان کیا کہ پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ( استقبال کے لیے ) نکلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی۔ اس کے بعد ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کی طرف متوجہ ہوئے اور گھر میں داخل ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام سلیم! جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ یہاں لاؤ۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا روٹی لائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا چورا کر لیا گیا۔ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے اپنے گھی کے ڈبہ میں سے گھی نچوڑ کر اس کا ملیدہ بنا لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ سے دعا کرانی چاہی، اس کے بعد فرمایا کہ ان دس دس آدمیوں کو کھانے کے لیے بلا لو۔ چنانچہ دس صحابہ کو بلایا۔ سب نے کھایا اور شکم سیر ہو کر باہر چلے گئے۔ پھر فرمایا کہ دس کو اور بلا لو، انہیں بلایا گیا اور سب نے شکم سیر ہو کر کھایا اور باہر چلے گئے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ دس صحابہ کو اور بلا لو، پھر دس صحابہ کو بلایا گیا اور ان لوگوں نے بھی خوب پیٹ بھر کر کھایا اور باہر تشریف لے گئے۔ اس کے بعد پھر دس صحابہ کو بلایا گیا اس طرح تمام صحابہ نے پیٹ بھر کر کھایا، اس وقت اسی ( 80 ) صحابہ کی جماعت وہاں موجود تھی۔
Sahih al-Bukhari 77:1sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، يُخْبِرُونَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاَءَ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Allah will not look at the person who drags his garment (behind him) out of conceit
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے، انہوں نے نافع اور عبداللہ بن دینار اور زید بن اسلم سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ اس کی طرف قیامت کے دن نظر رحمت نہیں کرے گا جو اپنا کپڑا تکبر و غرور سے زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے۔“
Sahih al-Bukhari 77:2sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاَءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَحَدَ شِقَّىْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي، إِلاَّ أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُهُ خُيَلاَءَ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:The Prophet (ﷺ) said Allah will not look, on the Day of Resurrection at the person who drags his garment (behind him) out of conceit. On that Abu Bakr said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! One side of my Izar hangs low if I do not take care of it." The Prophet (ﷺ) said, 'You are not one of those who do that out of conceit
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص تکبر کی وجہ سے تہبند گھسیٹتا ہوا چلے گا تو اللہ پاک اس کی طرف قیامت کے دن نظر بھی نہیں کرے گا۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے تہمد کا ایک حصہ کبھی لٹک جاتا ہے مگر یہ کہ خاص طور سے اس کا خیال رکھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو ایسا تکبر سے کرتے ہیں۔“
Sahih al-Bukhari 77:3sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ وَنَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ مُسْتَعْجِلاً، حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ وَثَابَ النَّاسُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَجُلِّيَ عَنْهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا وَقَالَ " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَصَلُّوا وَادْعُوا اللَّهَ حَتَّى يَكْشِفَهَا ".
Narrated Abu Bakra:The solar eclipse occurred while we were sitting with the Prophet (ﷺ) He got up dragging his garment (on the ground) hurriedly till he reached the mosque The people turned (to the mosque) and he offered a two-rak`at prayer whereupon the eclipse was over and he traced us and said, "The sun and the moon are two signs among the signs of Allah, so if you see a thing like this (eclipse) then offer the prayer and invoke Allah till He remove that state
مجھ سے بیکندی محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالاعلیٰ نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں امام حسن بصری نے اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سورج گرہن ہوا تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ جلدی میں کپڑا گھسیٹتے ہوئے مسجد میں تشریف لائے لوگ بھی جمع ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی، گرہن ختم ہو گیا، تب آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اس لیے جب تم ان نشانیوں میں سے کوئی نشانی دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو یہاں تک کہ وہ ختم ہو جائے۔“
Sahih al-Bukhari 77:7sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ ـ أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ ـ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي حُلَّةٍ، تُعْجِبُهُ نَفْسُهُ مُرَجِّلٌ جُمَّتَهُ، إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ، فَهْوَ يَتَجَلَّلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (or 'Abul Qasim) said, "While a man was walking, clad in a two-piece garment and proud of himself with his hair well-combed, suddenly Allah made him sink into the earth and he will go on sinking into it till the Day of Resurrection
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی یا ( یہ بیان کیا کہ ) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( بنی اسرائیل میں ) ایک شخص ایک جوڑا پہن کر کبر و غرور میں سر مست، سر کے بالوں میں کنگھی کئے ہوئے اکڑ کر اتراتا جا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک اس میں تڑپتا رہے گا یا دھنستا رہے گا۔“
Sahih al-Bukhari 77:10sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا جَالِسَةٌ وَعِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ تَحْتَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلاَقِي، فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ مِثْلُ هَذِهِ الْهُدْبَةِ. وَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ جِلْبَابِهَا، فَسَمِعَ خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ قَوْلَهَا وَهْوَ بِالْبَابِ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، قَالَتْ فَقَالَ خَالِدٌ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلاَ تَنْهَى هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلاَ وَاللَّهِ مَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى التَّبَسُّمِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ، لاَ، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ ". فَصَارَ سُنَّةً بَعْدُ.
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) The wife of Rifa`a Al-Qurazi came to Allah's Messenger (ﷺ) while I was sitting, and Abu Bakr was also there. She said, 'O Allah's Apostle! I was the wife of Rifa`a and he divorced me irrevocably. Then I married `AbdurRahman bin Az-Zubair who, by Allah, O Allah's Messenger (ﷺ), has only something like a fringe of a garment, Showing the fringe of her veil. Khalid bin Sa`id, who was standing at the door, for he had not been admitted, heard her statement and said, "O Abu Bakr! Why do you not stop this lady from saying such things openly before Allah's Messenger (ﷺ)?" No, by Allah, Allah's Messenger (ﷺ) did nothing but smiled. Then he said to the lady, "Perhaps you want to return to Rifa`a? That is impossible unless `Abdur-Rahman consummates his marriage with you." That became the tradition after him
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھ کو عروہ بن زبیر اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ میں بھی بیٹھی ہوئی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں رفاعہ کے نکاح میں تھی لیکن انہوں نے مجھے تین طلاق دے دی ہیں۔ ( مغلظہ ) ۔ اس کے بعد میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا اور اللہ کی قسم کہ ان کے ساتھ یا رسول اللہ! صرف اس جھالر جیسا ہے۔ انہوں نے اپنی چادر کے جھالر کو اپنے ہاتھ میں لے کر اشارہ کیا۔ خالد بن سعید رضی اللہ عنہ جو دروازے پر کھڑے تھے اور انہیں ابھی اندر آنے کی اجازت نہیں ہوئی تھی، اس نے بھی ان کی بات سنی۔ بیان کیا کہ خالد رضی اللہ عنہ ( وہیں سے ) بولے۔ ابوبکر! آپ اس عورت کو روکتے نہیں کہ کس طرح کی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھول کر بیان کرتی ہے لیکن اللہ کی قسم اس بات پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تبسم اور بڑھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ غالباً تم دوبارہ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟ لیکن ایسا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ ( تمہارے دوسرے شوہر عبدالرحمٰن بن زبیر ) تمہارا مزا نہ چکھ لیں اور تم ان کا مزا نہ چکھ لو پھر بعد میں یہی قانون بن گیا۔
Sahih al-Bukhari 77:11sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ فَدَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرِدَائِهِ، ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي، وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، حَتَّى جَاءَ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ، فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنُوا لَهُمْ.
Narrated `Ali:The Prophet (ﷺ) asked for his Rida, put it on and set out walking. Zaid bin Haritha and I followed him till he reached the house where Harnza (bin `Abdul Muttalib) was present and asked for permission to enter, and they gave us permission
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے، انہیں زہری نے، انہیں علی بن حسین نے خبر دی، انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ( کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے حرمت شراب سے پہلے شراب کے نشہ میں جب ان کی اونٹنی ذبح کر دی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر اس کی شکایت کی تو ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوائی اور اسے اوڑھ کر تشریف لے چلنے لگے۔ میں اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے پیچھے تھے۔ آخر آپ اس گھر میں پہنچے جس میں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے، آپ نے اندر آنے کی اجازت مانگی اور انہوں نے آپ حضرات کو اجازت دی۔
Sahih al-Bukhari 77:19sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُّوجُ حَرِيرٍ، فَلَبِسَهُ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ ثُمَّ قَالَ " لاَ يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ ". تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ عَنِ اللَّيْثِ، وَقَالَ غَيْرُهُ فَرُّوجٌ حَرِيرٌ.
Narrated `Uqba bin 'Amir:A silken Farruj was presented to Allah's Messenger (ﷺ) and he put it on and offered the prayer in it. When he finished the prayer, he took it off violently as if he disliked it and said, "This (garment) does not befit those who fear Allah
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کی فروج ( قباء ) ہدیہ میں دی گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا ( ریشم کا مردوں کے لیے حرمت کے حکم سے پہلے ) اور اسی کو پہنے ہوئے نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بڑی تیزی کے ساتھ اتار ڈالا جیسے آپ اس سے ناگواری محسوس کرتے ہوں پھر فرمایا کہ یہ متقیوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔ اس روایت کی متابعت عبداللہ بن یوسف نے کی ان سے لیث نے اور عبداللہ بن یوسف کے علاوہ دوسروں نے کہا کہ «فروج حرير.» ۔
Sahih al-Bukhari 77:24sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْقَمِيصَ، وَلاَ الْعِمَامَةَ، وَلاَ السَّرَاوِيلَ، وَلاَ الْبُرْنُسَ، وَلاَ ثَوْبًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ، وَلاَ وَرْسٌ، وَلاَ الْخُفَّيْنِ، إِلاَّ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْهُمَا فَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "A Muhrim should not wear a shirt, a turban, trousers, hooded cloaks, a garment touched with (perfumes) of saffron or wars, or Khuffs (socks made from thick fabric or leather) except if one has no sandals in which case he should cut short the Khuffs below the ankles
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی، انہیں ان کے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم قمیص نہ پہنے , نہ عمامہ پہنے , نہ پاجامہ , نہ برنس اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنے جس میں زعفران اور ورس لگا ہو اور نہ موزے پہنے البتہ اگر کسی کو چپل نہ ملیں تو موزوں کو ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ دے ( پھر پہنے ) ۔
Sahih al-Bukhari 77:31sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ أَحَبُّ الثِّيَابِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَلْبَسَهَا الْحِبَرَةَ.
Narrated Anas bin Malik:The most beloved garment to the Prophet (ﷺ) to wear was the Hibra (a kind of Yemenese cloth)
مجھ سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معاذ دستوائی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام کپڑوں میں یمنی سبز چادر پہننا بہت پسند تھی۔
Sahih al-Bukhari 77:35sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ كِسَاءً وَإِزَارًا غَلِيظًا فَقَالَتْ قُبِضَ رُوحُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَيْنِ.
Narrated Abu Burda:Aisha brought out to us a Kisa and an Izar and said, "The Prophet (ﷺ) died while wearing these two." (Kisa, a square black piece of woolen cloth. Izar, a sheet cloth garment covering the lower half of the body)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے ابوبردہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک موٹی کملی ( «كساء» ) اور ایک موٹی ازار نکال کر دکھائی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح ان ہی دو کپڑوں میں قبض ہوئی تھی۔
Sahih al-Bukhari 77:36sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُلاَمَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ، وَعَنْ صَلاَتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ، لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَىْءٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) had forbidden: (A) the Mulamasa and Munabadha (bargains), (B) the offering of two prayers, one after the morning compulsory prayer till the sun rises, and the others, after the `Asr prayer till the sun sets (C) He also forbade that one should sit wearing one garment, nothing of which covers his private parts (D) and prevent them from exposure to the sky; (E) he also forbade Ishtimalas- Samma
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب بن عبدالمجید ثقفی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا اور دو وقت نمازوں سے بھی آپ نے منع فرمایا، نماز فجر کے بعد سورج بلند ہونے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک اور اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص صرف ایک کپڑا جسم پر لپیٹ کر گھٹنے اوپر اٹھا کر اس طرح بیٹھ جائے کہ اس کی شرمگاہ پر آسمان و زمین کے درمیان کوئی چیز نہ ہو اور اشتمال صماء سے منع فرمایا۔
Sahih al-Bukhari 77:37sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ، نَهَى عَنِ الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ فِي الْبَيْعِ، وَالْمُلاَمَسَةُ لَمْسُ الرَّجُلِ ثَوْبَ الآخَرِ بِيَدِهِ بِاللَّيْلِ أَوْ بِالنَّهَارِ، وَلاَ يُقَلِّبُهُ إِلاَّ بِذَلِكَ، وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ بِثَوْبِهِ، وَيَنْبِذَ الآخَرُ ثَوْبَهُ، وَيَكُونَ ذَلِكَ بَيْعَهُمَا، عَنْ غَيْرِ نَظَرٍ وَلاَ تَرَاضٍ، وَاللِّبْسَتَيْنِ اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ، وَالصَّمَّاءُ أَنْ يَجْعَلَ ثَوْبَهُ عَلَى أَحَدِ عَاتِقَيْهِ، فَيَبْدُو أَحَدُ شِقَّيْهِ لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ، وَاللِّبْسَةُ الأُخْرَى احْتِبَاؤُهُ بِثَوْبِهِ وَهْوَ جَالِسٌ، لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَىْءٌ.
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) forbade two ways of wearing clothes and two kinds of dealings. (A) He forbade the dealings of the Mulamasa and the Munabadha. In the Mulamasa transaction the buyer just touches the garment he wants to buy at night or by daytime, and that touch would oblige him to buy it. In the Munabadha, one man throws his garment at another and the latter throws his at the former and the barter is complete and valid without examining the two objects or being satisfied with them (B) The two ways of wearing clothes were Ishtimal-as-Samma, i e., to cover one's shoulder with one's garment and leave the other bare: and the other way was to wrap oneself with a garment while one was sitting in such a way that nothing of that garment would cover one's private part
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عامر بن سعد نے خبر دی، اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے اور دو طرح کی خرید و فروخت سے منع فرمایا۔ خرید و فروخت میں ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا۔ ملامسہ کی صورت یہ تھی کہ ایک شخص ( خریدار ) دوسرے ( بیچنے والے ) کے کپڑے کو رات یا دن میں کسی بھی وقت بس چھو دیتا ( اور دیکھے بغیر صرف چھونے سے بیع ہو جاتی ) صرف چھونا ہی کافی تھا کھول کر دیکھا نہیں جاتا تھا۔ منابذہ کی صورت یہ تھی کہ ایک شخص اپنی ملکیت کا کپڑا دوسرے کی طرف پھینکتا اور دوسرا اپنا کپڑا پھینکتا اور بغیر دیکھے اور بغیر باہمی رضا مندی کے صرف اسی سے بیع منعقد ہو جاتی اور دو کپڑے ( جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا انہیں میں سے ایک ) اشتمال صماء ہے۔ صماء کی صورت یہ تھی کہ اپنا کپڑا ( ایک چادر ) اپنے ایک شانے پر اس طرح ڈالا جاتا کہ ایک کنارہ سے ( شرمگاہ ) کھل جاتی اور کوئی دوسرا کپڑا وہاں نہیں ہوتا تھا۔ دوسرے پہناوے کا طریقہ یہ تھا کہ بیٹھ کر اپنے ایک کپڑے سے کمر اور پنڈلی باندھ لیتے تھے اور شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہیں ہوتا تھا۔
Sahih al-Bukhari 77:38sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ لِبْسَتَيْنِ أَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَىْءٌ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ، لَيْسَ عَلَى أَحَدِ شِقَّيْهِ، وَعَنِ الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ.
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) forbade two types of dresses: (A) To sit in an Ihtiba' posture in one garment nothing of which covers his private parts. (B) to cover one side of his body with one garment and leave the other side bare The Prophet (ﷺ) also forbade the Mulamasa and Munabadha
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا یہ کہ کوئی شخص ایک ہی کپڑے سے اپنی کمر اور پنڈلی کو ملا کر باندھ لے اور شرمگاہ پر کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو اور یہ کہ کوئی شخص ایک کپڑے کو اس طرح جسم پر لپیٹے کہ ایک طرف کپڑے کا کوئی حصہ نہ ہو اور آپ نے ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا۔
Sahih al-Bukhari 77:39sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَخْلَدٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَىْءٌ.
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) forbade Ishtimal-as-Samma' and that a man should sit in an Ihtiba' posture in one garment, nothing of which covers his private parts
مجھ سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مخلد نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریح نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں عبیداللہ بن عبداللہ نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشتمال صماء سے منع فرمایا اور اس سے بھی کہ کوئی شخص ایک کپڑے سے پنڈلی اور کمر کو ملا لے اور شرمگاہ پر کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو۔
Sahih al-Bukhari 77:53sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثَوْبُ حَرِيرٍ، فَجَعَلْنَا نَلْمُسُهُ، وَنَتَعَجَّبُ مِنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا ". قُلْنَا نَعَمْ. قَالَ " مَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ هَذَا ".
Narrated Al-Bara:The Prophet (ﷺ) was given a silk garment as a gift and we started touching it with our hands and admiring it. On that the Prophet (ﷺ) said, "Do you wonder at this?" We said, "Yes." He said, "The handkerchiefs of Sa`d bin Mu`adh in Paradise are better than this
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کا ایک کپڑا ہدیہ میں پیش ہوا تو ہم اسے چھونے لگے اور اس کی ( نرمی و ملائمت پر ) حیرت زدہ ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں اس پر حیرت ہے۔ ہم نے عرض کیا جی ہاں فرمایا، جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بھی اچھے ہیں۔
Sahih al-Bukhari 77:59sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّهُ رَأَى عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بُرْدَ حَرِيرٍ سِيَرَاءَ.
Narrated Anas bin Malik:that he had seen Um Kulthum, the daughter of Allah's Messenger (ﷺ) , wearing a red silk garment
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو زرد دھاری دار ریشمی جوڑا پہنے دیکھا۔
Sahih al-Bukhari 77:97sahih
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ. وَزَادَ ابْنُ وَهْبٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ فَأَتَى النِّسَاءَ فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلاَلٍ.
Narrated Ibn `Abbas:I offered the `Id prayer with the Prophet (ﷺ) and he offered prayer before the Khutba (sermon). ibn `Abbas added: After the prayer the Prophet (ﷺ) came towards (the rows of) the women and ordered them to give alms, and the women started putting their big and small rings in the garment of Bilal
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو حسن بن مسلم نے خبر دی، انہیں طاؤس نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ میں عیدالفطر کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور ابن وہب نے جریج سے یہ لفظ بڑھائے کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے مجمع کی طرف گئے ( اور صدقہ کی ترغیب دلائی ) تو عورتیں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چھلے دار انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔
Sahih al-Bukhari 78:80sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ رَأَيْتُ عَلَيْهِ بُرْدًا وَعَلَى غُلاَمِهِ بُرْدًا فَقُلْتُ لَوْ أَخَذْتَ هَذَا فَلَبِسْتَهُ كَانَتْ حُلَّةً، وَأَعْطَيْتَهُ ثَوْبًا آخَرَ. فَقَالَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ كَلاَمٌ، وَكَانَتْ أُمُّهُ أَعْجَمِيَّةً، فَنِلْتُ مِنْهَا فَذَكَرَنِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي " أَسَابَبْتَ فُلاَنًا ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " أَفَنِلْتَ مِنْ أُمِّهِ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ ". قُلْتُ عَلَى حِينِ سَاعَتِي هَذِهِ مِنْ كِبَرِ السِّنِّ قَالَ " نَعَمْ، هُمْ إِخْوَانُكُمْ، جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ جَعَلَ اللَّهُ أَخَاهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلاَ يُكَلِّفُهُ مِنَ الْعَمَلِ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ ".
Narrated Ma'rur:I saw Abu Dhar wearing a Burd (garment) and his slave too was wearing a Burd, so I said (to Abu Dhar), "If you take this (Burda of your slave) and wear it (along with yours), you will have a nice suit (costume) and you may give him another garment." Abu Dhar said, "There was a quarrel between me and another man whose mother was a non-Arab and I called her bad names. The man mentioned (complained about) me to the Prophet. The Prophet (ﷺ) said, "Did you abuse so-and-so?" I said, "Yes" He said, "Did you call his mother bad names?" I said, "Yes". He said, "You still have the traits of (the Pre-Islamic period of) ignorance." I said. "(Do I still have ignorance) even now in my old age?" He said, "Yes, they (slaves or servants) are your brothers, and Allah has put them under your command. So the one under whose hand Allah has put his brother, should feed him of what he eats, and give him dresses of what he wears, and should not ask him to do a thing beyond his capacity. And if at all he asks him to do a hard task, he should help him therein
مجھ سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے معرور نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے، معرور نے بیان کیا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک چادر دیکھی اور ان کے غلام کے جسم پر بھی ایک ویسی ہی چادر تھی، میں نے عرض کیا: اگر اپنے غلام کی چادر لے لیں اور اسے بھی پہن لیں تو ایک رنگ کا جوڑا ہو جائے غلام کو دوسرا کپڑا دے دیں۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ مجھ میں اور ایک صاحب ( بلال رضی اللہ عنہ ) میں تکرار ہو گئی تھی تو ان کی ماں عجمی تھیں، میں نے اس بارے میں ان کو طعنہ دے دیا انہوں نے جا کر یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کیا تم نے اس سے جھگڑا کیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ دریافت کیا تم نے اسے اس کی ماں کی وجہ سے طعنہ دیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اندر ابھی جاہلیت کی بو باقی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس بڑھاپے میں بھی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یاد رکھو یہ ( غلام بھی ) تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دیا ہے، پس اللہ تعالیٰ جس کی ماتحتی میں بھی اس کے بھائی کو رکھے اسے چاہئے کہ جو وہ کھائے اسے بھی کھلائے اور جو وہ پہنے اسے بھی پہنائے اور اسے ایسا کام کرنے کے لیے نہ کہے، جو اس کے بس میں نہ ہو اگر اسے کوئی ایسا کام کرنے کے لیے کہنا ہی پڑے تو اس کام میں اس کی مدد کرے۔
Sahih al-Bukhari 78:159sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُهْدِيَتْ لَهُ أَقْبِيَةٌ مِنْ دِيبَاجٍ مُزَرَّرَةٌ بِالذَّهَبِ، فَقَسَمَهَا فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَعَزَلَ مِنْهَا وَاحِدًا لِمَخْرَمَةَ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ " خَبَأْتُ هَذَا لَكَ ". قَالَ أَيُّوبُ بِثَوْبِهِ أَنَّهُ يُرِيهِ إِيَّاهُ، وَكَانَ فِي خُلُقِهِ شَىْءٌ. رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ وَقَالَ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ، قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَقْبِيَةٌ.
Narrated `Abdullah bin Abu Mulaika:The Prophet (ﷺ) was given a gift of a few silken cloaks with gold buttons. He distributed them amongst some of his companions and put aside one of them for Makhrama. When Makhrama came, the Prophet said, "I kept this for you." (Aiyub, the sub-narrator held his garment to show how the Prophet (ﷺ) showed the cloak to Makhrama who had something unfavorable about his temper
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن علیہ نے خبر دی، کہا ہم کو ایوب نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی ملیکہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ میں دیبا کی چند قبائیں آئیں، ان میں سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قبائیں اپنے صحابہ میں تقسیم کر دیں اور مخرمہ کے لیے باقی رکھی، جب مخرمہ آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے لیے چھپا رکھی تھی۔ ایوب نے کہا یعنی اپنے کپڑے میں چھپا رکھی تھی آپ مخرمہ کو خوش کرنے کے لیے اس کے تکمے یا گھنڈی کو دکھلا رہے تھے کیونکہ وہ ذرا سخت مزاج آدمی تھے۔ اس حدیث کو حماد بن زید نے بھی ایوب کے واسطہ سے روایت کیا مرسلات میں اور حاتم بن وردان نے کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند قبائیں تحفہ میں آئیں پھر ایسی ہی حدیث بیان کی۔
Sahih al-Bukhari 79:57sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ لِبْسَتَيْنِ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَالاِحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، لَيْسَ عَلَى فَرْجِ الإِنْسَانِ مِنْهُ شَىْءٌ، وَالْمُلاَمَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ. تَابَعَهُ مَعْمَرٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُدَيْلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) forbade two kinds of dresses and two kinds of bargains; Ishtimal As-Samma and Al- Ihtiba in one garment with no part of it covering one's private parts. (The two kinds of bargains were:) Al-Mulamasa and Al-Munabadha
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے اور دو طرح کی خرید و فروخت سے منع فرمایا تھا۔ اشتمال صماء اور ایک کپڑے میں اس طرح احتباء کرنے سے کہ انسان کی شرمگاہ پر کوئی چیز نہ ہو اور ملامست اور منابذت سے۔ اس روایت کی متابعت معمر، محمد بن ابی حفصہ اور عبداللہ بن بدیل نے زہری سے کی ہے۔
Sahih al-Bukhari 80:40sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى هَذَا الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي، فَدَعَا وَاسْتَسْقَى ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ.
Narrated `Abdullah bin Zaid:Allah's Messenger (ﷺ) went out to this Musalla (praying place) to offer the prayer of Istisqa.' He invoked Allah for rain and then faced the Qibla and turned his Rida' (upper garment) inside out
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبادہ بن تمیم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس عیدگاہ میں استسقاء کی دعا کے لیے نکلے اور بارش کی دعا کی، پھر آپ قبلہ رخ ہو گئے اور اپنی چادر کو پلٹا۔
Sahih al-Bukhari 86:6sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، أَنَسٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ قَالَ " اضْرِبُوهُ ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ، وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ، وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ أَخْزَاكَ اللَّهُ. قَالَ " لاَ تَقُولُوا هَكَذَا لاَ تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ ".
Narrated Abu Salama:Abu Huraira said, "A man who drank wine was brought to the Prophet. The Prophet (ﷺ) said, 'Beat him!" Abu Huraira added, "So some of us beat him with our hands, and some with their shoes, and some with their garments (by twisting it) like a lash, and then when we finished, someone said to him, 'May Allah disgrace you!' On that the Prophet (ﷺ) said, 'Do not say so, for you are helping Satan to overpower him
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے ابوضمرہ نے بیان کیا، ان سے انس نے بیان کیا، ان سے یزید بن الہاد نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جو شراب پیے ہوئے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مارو، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم میں بعض وہ تھے جنہوں نے اسے ہاتھ سے مارا، بعض نے جوتے سے مارا اور بعض نے اپنے کپڑے سے مارا۔ جب مار چکے تو کسی نے کہا کہ اللہ تجھے رسوا کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کے جملے نہ کہو، اس کے معاملہ میں شیطان کی مدد نہ کر۔
Sahih al-Bukhari 86:10sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِسَكْرَانَ، فَأَمَرَ بِضَرْبِهِ، فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُهُ بِيَدِهِ، وَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُهُ بِنَعْلِهِ، وَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُهُ بِثَوْبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ رَجُلٌ مَالَهُ أَخْزَاهُ اللَّهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَكُونُوا عَوْنَ الشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ ".
Narrated Abu Huraira:A drunk was brought to the Prophet (ﷺ) and he ordered him to be beaten (lashed). Some of us beat him with our hands, and some with their shoes, and some with their garments (twisted in the form of a lash). When that drunk had left, a man said, "What is wrong with him? May Allah disgrace him!" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not help Satan against your (Muslim) brother
ہم سے علی بن عبداللہ بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے ابن الہاد نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم نے، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نشہ میں لایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے کا حکم دیا۔ ہم میں سے بعض نے انہیں ہاتھ سے مارا، بعض نے جوتے سے مارا اور بعض نے کپڑے سے مارا۔ جب مار چکے تو ایک شخص نے کہا، کیا ہو گیا اسے؟ اللہ اسے رسوا کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔
Sahih al-Bukhari 92:40sahih
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَأَلُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَحْفَوْهُ بِالْمَسْأَلَةِ، فَصَعِدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ الْمِنْبَرَ فَقَالَ " لاَ تَسْأَلُونِي عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ بَيَّنْتُ لَكُمْ ". فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ يَمِينًا وَشِمَالاً، فَإِذَا كُلُّ رَجُلٍ رَأْسُهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي، فَأَنْشَأَ رَجُلٌ كَانَ إِذَا لاَحَى يُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ أَبِي فَقَالَ " أَبُوكَ حُذَافَةُ ". ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا رَأَيْتُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَالْيَوْمِ قَطُّ، إِنَّهُ صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَتَّى رَأَيْتُهُمَا دُونَ الْحَائِطِ ". قَالَ قَتَادَةُ يُذْكَرُ هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدَ هَذِهِ الآيَةِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ}
Narrated Anas:The people started asking the Prophet (ﷺ) too many questions importunately. So one day he ascended the pulpit and said, "You will not ask me any question but I will explain it to you." I looked right and left, and behold, every man was covering his head with his garment and weeping. Then got up a man who, whenever quarreling with somebody, used to be accused of not being the son of his father. He said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who is my father?" The Prophet (ﷺ) replied, "Your father is Hudhaifa." Then `Umar got up and said, "We accept Allah as our Lord, Islam as our religion and Muhammad as our Apostle and we seek refuge with Allah from the evil of afflictions." The Prophet (ﷺ) said, " I have never seen the good and bad like on this day. No doubt, Paradise and Hell was displayed in front of me till I saw them in front of that wall," Qatada said: This Hadith used to be mentioned as an explanation of this Verse:-- 'O you who believe! Ask not questions about things which, if made plain to you, may cause you trouble
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے سوالات کئے آخر جب لوگ باربار سوال کرنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر ایک دن چڑھے اور فرمایا کہ آج تم مجھ سے جو سوال بھی کرو گے میں تمہیں اس کا جواب دوں گا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں دائیں بائیں دیکھنے لگا تو ہر شخص کا سر اس کے کپڑے میں چھپا ہوا تھا اور وہ رو رہا تھا۔ آخر ایک شخص نے خاموشی توڑی۔ اس کا جب کسی سے جھگڑا ہوتا تو انہیں ان کے باپ کے سوا دوسرے باپ کی طرف پکارا جاتا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے والد کون ہیں؟ فرمایا تمہارے والد حذافہ ہیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ سامنے آئے اور عرض کیا ہم اللہ سے کہ وہ رب ہے، اسلام سے کہ وہ دین ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ وہ رسول ہیں راضی ہیں اور آزمائش کی برائی سے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خیر و شر آج جیسا دیکھا، کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میرے سامنے جنت و دوزخ کی صورت پیش کی گئی اور میں نے انہیں دیوار کے قریب دیکھا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ یہ بات اس آیت کے ساتھ ذکر کی جاتی ہے «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» کہ ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو اگر وہ ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری معلوم ہوں۔“
Sahih al-Bukhari 92:41sahih
وَقَالَ عَبَّاسٌ النَّرْسِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا وَقَالَ كُلُّ رَجُلٍ لاَفًّا رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي. وَقَالَ عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ. أَوْ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ.
The the above hadith was narrated by Anas through another chain and said (with the wording) "and every man had his head wrapped in his garment and weeping". And he said (with the wording) "seeking refuge with Allah from the evil of afflictions" or he said "I seek refuge with Allah from the evil of afflictions
اور عباس النرسی نے بیان کیا، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا ہر شخص کپڑے میں اپنا سر لپیٹے ہوئے رو رہا تھا اور فتنے سے اللہ کی پناہ مانگ رہا تھا یا یوں کہہ رہا تھا کہ میں اللہ سے فتنہ کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں۔
Sahih al-Bukhari 96:54sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُمَشَّقَانِ مِنْ كَتَّانٍ فَتَمَخَّطَ فَقَالَ بَخْ بَخْ أَبُو هُرَيْرَةَ يَتَمَخَّطُ فِي الْكَتَّانِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لأَخِرُّ فِيمَا بَيْنَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ مَغْشِيًّا عَلَىَّ، فَيَجِيءُ الْجَائِي فَيَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى عُنُقِي، وَيُرَى أَنِّي مَجْنُونٌ، وَمَا بِي مِنْ جُنُونٍ، مَا بِي إِلاَّ الْجُوعُ.
Narrated Muhammad:We were with Abu Huraira while he was wearing two linen garments dyed with red clay. He cleaned his nose with his garment, saying, "Bravo! Bravo! Abu Huraira is cleaning his nose with linen! There came a time when I would fall senseless between the pulpit of Allah's Messenger (ﷺ) and `Aisha's dwelling whereupon a passerby would come and put his foot on my neck, considering me a mad man, but in fact, I had no madness, I suffered nothing but hunger
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور ان کے جسم پر کتان کے دو کپڑے گیرو میں رنگے ہوئے تھے۔ انہوں نے ان ہی کپڑوں میں ناک صاف کی اور کہا واہ واہ دیکھو ابوہریرہ کتان کے کپڑوں میں ناک صاف کرتا ہے، اب ایسا مالدار ہو گیا حالانکہ میں نے اپنے آپ کو ایک زمانہ میں ایسا پایا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے درمیان بیہوش ہو کر گڑ پڑتا تھا اور گزرنے والا میری گردن پر یہ سمجھ کر پاؤں رکھتا تھا کہ میں پاگل ہو گیا ہوں، حالانکہ مجھے جنون نہیں ہوتا تھا، بلکہ صرف بھوک کی وجہ سے میری یہ حالت ہو جاتی تھی۔
Sahih al-Bukhari 97:22sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ فِرَاشَهُ فَلْيَنْفُضْهُ بِصَنِفَةِ ثَوْبِهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، وَلْيَقُلْ بِاسْمِكَ رَبِّ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ ". تَابَعَهُ يَحْيَى وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَزَادَ زُهَيْرٌ وَأَبُو ضَمْرَةَ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَرَوَاهُ ابْنُ عَجْلاَنَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "When anyone of you goes to bed, he should dust it off thrice with the edge of his garment, and say: Bismika Rabbi Wada`tu janbi, wa bika arfa'hu. In amsakta nafsi faghfir laha, wa in arsaltaha fahfazha bima tahfaz bihi 'ibadaka-s-salihin
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اپنے بستر پر جائے تو اسے چاہئے کہ اسے اپنے کپڑے کے کنارے سے تین مرتبہ صاف کر لے اور یہ دعا پڑھے «باسمك رب وضعت جنبي وبك أرفعه، إن أمسكت نفسي فاغفر لها، وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» ”اے میرے رب! تیرا نام لے کر میں اپنی کروٹ رکھتا ہوں اور تیرے نام ہی کے ساتھ اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو نے میری جان کو باقی رکھا تو اسے معاف کرنا اور اگر اسے ( اپنی طرف سوتے ہی میں ) اٹھا لیا تو اس کی حفاظت اس طرح کرنا جس طرح تو اپنے نیکوکار بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔“ اس روایت کی متابعت یحییٰ اور بشر بن الفضل نے عبیداللہ سے کی ہے، ان سے سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ اور زہیر، ابوضمرہ اور اسماعیل بن زکریا نے عبیداللہ سے یہ اضافہ کیا کہ ان سے سعید نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اس کی روایت ابن عجلان نے کی، ان سے سعید نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ اس کی متابعت محمد بن عبدالرحمٰن الداوردی اور اسامہ بن حفص نے کی۔
Sahih Muslim 1:216sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ أَبُو زُمَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا فُلاَنٌ شَهِيدٌ فُلاَنٌ شَهِيدٌ حَتَّى مَرُّوا عَلَى رَجُلٍ فَقَالُوا فُلاَنٌ شَهِيدٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَلاَّ إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا أَوْ عَبَاءَةٍ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ إِنَّهُ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ الْمُؤْمِنُونَ " . قَالَ فَخَرَجْتُ فَنَادَيْتُ " أَلاَ إِنَّهُ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ الْمُؤْمِنُونَ " .
It is narrated on the authority of 'Umar b. Khattab that when it was the day of Khaibar a party of Companions of the Apostle (ﷺ) came there and said:So and so is a martyr, till they happened to pass by a man and said: So and so is a martyr. Upon this the Messenger of Allah remarked: Nay, not so verily I have seen him in the Fire for the garment or cloak that he had stolen from the booty, Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: Umar son of Khattab, go and announce to the people that none but the believers shall enter Paradise. He ('Umar b. Khattab) narrated: I went out and proclaimed: Verily none but the believers would enter Paradise
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : خیبر ( کی جنگ ) کا دن تھا ، نبی ﷺ کے کچھ صحابہ آئے اور کہنے لگے : فلاں شہید ہے ، فلاں شہید ہے ، یہاں تک کہ ایک آدمی کا تذکرہ ہوا تو کہنے لگے : وہ شہید ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ہرگز نہیں ، میں نے اسے ایک دھاری دار چادر یا عبا ( چوری کرنے ) کی نبا پر آگ میں دیکھا ہے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اے خطاب کے بیتے ! جاکر لوگوں میں ا علان کر دو کہ جنت میں مومنوں کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا ۔ ‘ ‘ انہوں نے کہا : میں باہر نکلا اور ( لوگوں میں ) اعلان کیا : متنبہ رہو! جنت میں مومنوں کے سوا اور کوئی داخل نہ ہو گا ۔
Sahih Muslim 2:128sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ وَيُحَنِّكُهُمْ فَأُتِيَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ بَوْلَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ .
A'isha, the wife of the Apostle (ﷺ) said:Babies were brought to the Messenger of Allah (ﷺ) and he blessed them, and after having chewed (something, e. g. dates or any other sweet thing) he rubbed there with their soft palates. A baby was brought to him and he passed water over him (over his garment), so he asked water to be brought and sprinkled it, but he did not wash it
عبداللہ بن نمیر نےہشام سے ، انہوں نے اپنے والد ( عروج بن زبیر ) سے اور انہوں نے نبی ﷺ کی زوجہ ( اپنی خالہ ) حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بچوں کو لایا جاتا تھا ، آپ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے اور ان کو گھٹی دیتے ۔ آپ کے پاس ایک بچہ لایا گیا ، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوایا اور اس کے پیشاب پر بہا دیا اور اسے ( رگڑ کر ) دھویا نہیں ۔
Sahih Muslim 2:134sahih
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، أَنَّ رَجُلاً، نَزَلَ بِعَائِشَةَ فَأَصْبَحَ يَغْسِلُ ثَوْبَهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّمَا كَانَ يُجْزِئُكَ إِنْ رَأَيْتَهُ أَنْ تَغْسِلَ مَكَانَهُ فَإِنْ لَمْ تَرَ نَضَحْتَ حَوْلَهُ وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرْكًا فَيُصَلِّي فِيهِ .
Alqama and Aswad reported:A person stayed in the house of A'isha and in the morning began to wash his garment. A'isha said: In case you saw it (i. e. drop of semen), it would have served the purpose (of purifying the garment) if you had simply washed that spot; and in case you did not see it, it would have been enough to sprinkle water around it, for when I saw that on the garment of the Messenger of Allah (ﷺ). I simply scraped it off and he offered prayer, while putting that on
خالد نے ابومعشر سے ، انہوں نے ابراہیم نخعی سے ، انہوں نے علقمہ اور اسود سے روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عائشہ ؓ کے پاس ٹھہرا ، صبح کو وہ اپنا کپڑا دھو رہا تھا توعائشہ ؓ نے فرمایا : تیرے لیے کافی تھا کہ اگر تو نے کچھ دیکھا تھا تو اس کی جگہ کو دھودیتا اور اگر تو نے اسے نہیں دیکھا تو اس کے اردگرد ( تک ) پانی چھڑک دیتا ۔ میں نے اپنے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ میں اسے ( مادہ منویہ کو ) رسول اللہ ﷺ کےکپڑے سے اچھی طرح کھرچتی تھی ، پھر آپ اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے ۔
Sahih Muslim 2:135sahih
وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَهَمَّامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي الْمَنِيِّ قَالَتْ كُنْتُ أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Al-Aawad and Hammam reported A'isha as saying:I used to scrape off the (drop of) semen from the garment of the Messenger of Allah (ﷺ)
اعمش نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود اور ہمام سے ، انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے مادہ منویہ کے بارے میں روایت کی ، کہا : میں اسے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے کھرچ دیتی تھی ۔
Sahih Muslim 2:136sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ، ح وَحَدَّثَنِي ابْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَمُغِيرَةَ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي حَتِّ الْمَنِيِّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ .
Qutaiba b. Sa'id, Ishaq b. Ibrahim, Ibn Abi 'Aruba, Abu Ma'shar, Abu Bakr b. Abu Shaiba, Mansur and Mughira have all transmitted from Ibrahim, who transmitted it on the authority of A'isha's narration pertaining to the scraping off of the (drop) of semen from the garment of the Messenger of Allah (ﷺ) like the hadith of Khalid on the authority of Abu Ma'shar
(خالد کی بجائے ) ابومعشر کے دوسرے شاگرد ہشام بن حسان اور ابن ابی عروبہ نے خالد کے ہم معنی روایت کی ۔ اسی طرح ابراہیم نخعی کےمتعدد دیگر شاگردوں مغیرہ ، واصل احدب اور منصور نے اپنی اپنی مختلف سندوں سے ابراہیم نخعی سے ، انہوں نے ابو اسود کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی کھرچنے کی روایت حضرت عائشہ ؓ سے اسی طرح بیان کی جس طرح خالد کی ابو معشر سے روایت ( : 668 ) ہے ۔
Sahih Muslim 2:138sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنِ الْمَنِيِّ، يُصِيبُ ثَوْبَ الرَّجُلِ أَيَغْسِلُهُ أَمْ يَغْسِلُ الثَّوْبَ فَقَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَغْسِلُ الْمَنِيَّ ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ فِي ذَلِكَ الثَّوْبِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْغَسْلِ فِيهِ .
Amr b. Maimun said:I asked Sulaiman b. Yasar whether the semen that gets on to the garment of a person should be washed or not. He replied: A'isha told me: The Messenger of Allah (ﷺ) washed the semen, and then went out for prayer in that very garment and I saw the mark of washing on it
محمد بن بشر نے عمرو بن میمون سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے آدمی کے کپڑے کو لگ جانےوالی منی کے بارے میں پوچھا کہ انسان اس جگہ کو دھوئے یا ( پورے ) کپڑے کو دھوئے؟ تو انہوں نے ( سلیمان بن یسار ) نے کہا : مجھے عائشہ ؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ ( کپڑے سے ) منی کو دھوتے ، پھر اسی کپڑے میں نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور میں اس میں دھونے کا نشان دیکھ رہی ہوتی ۔
Sahih Muslim 2:139sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَمَّا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ فَحَدِيثُهُ كَمَا قَالَ ابْنُ بِشْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَغْسِلُ الْمَنِيَّ وَأَمَّا ابْنُ الْمُبَارَكِ وَعَبْدُ الْوَاحِدِ فَفِي حَدِيثِهِمَا قَالَتْ كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Abu Kuraib, Ibn al-Mubarak, Ibn Abu Za'ida all of them narrated from Amr b. Maimun with the same chain of transmitters. Ibn Abu Za'ida narrated as was transmitted from Ibn Bishr that the Messenger of Allah (ﷺ) washed semen, and in the hadith transmitted on the authority of Ibn Mabarak and Abdul Wahid the words are:" She (A'isha) reported: I used to wash it from the garment of the Messenger of Allah (ﷺ)
عبدالواحد بن زیاد ، ابن مبارک اور ابن ابی زائدہ نے عمرو بن میمون سے سابقہ سندکے ساتھ یہی حدیث بیان کی ، البتہ ابن ابی زائدہ کی حدیث کے الفاظ ابن بشر کی طرح ( یہ ) ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ منی ( خود ) دھوتے تھے جبکہ ابن مبارک اور عبد الواحد کی حدیث میں اس طرح ہے کہ عائشہؓ نے کہا : میں اسے نبی اکرمﷺ کے کپڑے سے دھوتی تھی ۔
Sahih Muslim 2:140sahih
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ الْخَوْلاَنِيِّ، قَالَ كُنْتُ نَازِلاً عَلَى عَائِشَةَ فَاحْتَلَمْتُ فِي ثَوْبَىَّ فَغَمَسْتُهُمَا فِي الْمَاءِ فَرَأَتْنِي جَارِيَةٌ لِعَائِشَةَ فَأَخْبَرَتْهَا فَبَعَثَتْ إِلَىَّ عَائِشَةُ فَقَالَتْ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ بِثَوْبَيْكَ قَالَ قُلْتُ رَأَيْتُ مَا يَرَى النَّائِمُ فِي مَنَامِهِ . قَالَتْ هَلْ رَأَيْتَ فِيهِمَا شَيْئًا . قُلْتُ لاَ . قَالَتْ فَلَوْ رَأَيْتَ شَيْئًا غَسَلْتَهُ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لأَحُكُّهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَابِسًا بِظُفُرِي .
Abdullah b. Shihab al-Khaulani reported:I stayed in the house of 'A'isha and had a wet dream (and perceived its effect on my garment), so (in the morning) I dipped both (the clothes) in water. This (act of mine) was watched by a maid-servant of A'isha and she informed her. She (Hadrat A'isha) sent me a message: Whatprompted you to act like this with your clothes? He (the narrator) said: I told that I saw in a dream what a sleeper sees. She said: Did you find (any mark of the fluid) on your clothes? I said: No. She said: Had you found anything you should have washed it. Incase I found that (semen) on the garment of the Messenger of Allah (ﷺ) dried up, I scraped it off with my nails
عبد اللہ بن شہاب خولانی سےر وایت ہے ، کہا : میں حضرت عائشہ ؓ کا مہمان تھا ، مجھے اپنے دونوں کپڑوں میں احتلام ہو گیا تو میں نے وہ دونوں پانی میں ڈبو دیے ، مجھے حضرت عائشہ ؓ کی ایک کنیز نے دیکھ لیا اور انہیں بتا دیا تو انہوں نے میری طرف پیغام بھجوایا اور فرمایا : تو نے اپنے دونوں کپڑوں کے ساتھ ایسا کیوں کیا ؟ میں نے کہا : میں نے نیند میں وہ دیکھا جو سونےوالا اپنی نیند میں دیکھتا ہے ۔ انہوں نے پوچھا : کیا تمہیں ان دونوں ( کپڑوں ) میں کچھ نظر آیا؟ میں نے کہا : نہیں ۔ انہوں نے فرمایا : اگر تم کچھ دیکھتے تو اسے دھو ڈالتے ۔ میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہﷺ کے کپڑے سے اس کو خشک حالت میں اپنے ناخن سے کھرچ رہی ہوں ۔
Sahih Muslim 2:141sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِحْدَانَا يُصِيبُ ثَوْبَهَا مِنْ دَمِ الْحَيْضَةِ كَيْفَ تَصْنَعُ بِهِ قَالَ " تَحُتُّهُ ثُمَّ تَقْرُصُهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ تَنْضَحُهُ ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ " .
Asma (daughter of Abu Bakr) reported:A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: What should one do if the blood of menses smears the garment of one amongst us? He (the Holy Prophet) replied: She should scrape it, then rub it with water, then pour water over it and then offer prayer in it
وکیع نے بیان کیا ، ہمیں ہشام نے حدیث سنائی : اور یحییٰ بن سعید نے ہشام بن عروہ سے روایت کی ، کہا : مجھے فاطمہ ( بنت منذر ) نے حدیث سنائی ، انہوں نے ( اپنی اور ہشام دونوں کی دادی ) حضرت اسماء ؓ سے روایت کی کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور پوچھا : ہم میں سے کسی کو کپڑے کو حیض کا خون لگ جاتا ہے تو وہ اس کے بارے میں کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا : ’’اسے کھرچ ڈالے ، پھر پانی ڈال کر اسے رگڑے ، پھر اس پر پانی بہا دے ( دھولے ) ، پھر اس میں نماز پڑھ لے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim 3:13sahih
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كَامِلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ " يَا عَائِشَةُ نَاوِلِينِي الثَّوْبَ " . فَقَالَتْ إِنِّي حَائِضٌ . فَقَالَ " إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ " فَنَاوَلَتْهُ .
Abu Huraira reported:While the Messenger of Allah (ﷺ) was in the mosque, he said: O 'A'isha, get me that garment. She said: I am menstruating. Upon this he remarked: Your menstruation is not in your hand, and she, therefore, got him that
حضرت ابو ہریرہ ﷺ سے روایت ہے ، انہو ں نے کہا : ایک بار رسول اللہ ﷺ مسجد میں موجود تھے تو آپ نے فرمایا : ’’اے عائشہ ! مجھے ( نماز کا ) کپڑا پکڑا دو ۔ ‘ ‘ تو انہوں نے کہا : میں حائضہ ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ ‘ ‘ چنانچہ انہوں نے آپ کو کپڑا پکڑا دیا ۔
Sahih Muslim 3:87sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَتْهُ أَنَّهُ، لَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِأَعْلَى مَكَّةَ . قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى غُسْلِهِ فَسَتَرَتْ عَلَيْهِ فَاطِمَةُ ثُمَّ أَخَذَ ثَوْبَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ ثُمَّ صَلَّى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ سُبْحَةَ الضُّحَى .
Umm Hani b. Abu Talib reported:It was the day of the conquest (of Mecca) that she went to the Messenger of Allah (ﷺ) and he was staying at a higher part (of that city). The Messenger of Allah (ﷺ) got up for his bath. Fatimah held a curtain around him (in order to provide him privacy). He then put on his garments and wrapped himself with that and then offered eight rak'ahs of the forenoon prayer
یزید بن ابی حبیب نے سعید بن ابی ہند سے روایت کی کہ عقیل بن ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ ام ہانی بنت ابی طالبؓ نے انہیں بتایا کہ جس سال مکہ فتح ہوا وہ ےپ کے پاس حاضر ہوئیں ، آپ مکہ کے بالائی حصے میں تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نہانے کےلیے اٹھے تو فاطمہ ؓ نےآپ کے آگے پردہ تان دیا ، پھر ( غسل کے بعد ) آپ نے اپنا کپڑا لے کر اپنے گرد لپیٹا ، پھر آٹھ رکعتیں چاشت کی نفل پڑھیں ۔
Sahih Muslim 3:93sahih
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَاللَّفْظُ، لَهُمَا - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، - أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ لَمَّا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ ذَهَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَعَبَّاسٌ يَنْقُلاَنِ حِجَارَةً فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اجْعَلْ إِزَارَكَ عَلَى عَاتِقِكَ مِنَ الْحِجَارَةِ . فَفَعَلَ فَخَرَّ إِلَى الأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ " إِزَارِي إِزَارِي " . فَشَدَّ عَلَيْهِ إِزَارَهُ . قَالَ ابْنُ رَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ عَلَى رَقَبَتِكَ . وَلَمْ يَقُلْ عَلَى عَاتِقِكَ .
Jabir b. 'Abdullah reported:When the Ka'ba was constructed the Messenger of Allah (ﷺ) and Abbas went and lifted stones. Abbas said to the Messenger of Allah (ﷺ): Place your lower garment on your shoulder (so that you may protect yourself from the roughness and hardness of stones). He (the Holy Prophet) did this, but fell down upon the ground in a state of unconciousness and his eyes were turned towards the sky. He then stood up and said: My lower garment, my lower garment; and this wrapper was tied around him. In the hadith transmitted by Ibn Rafi', there is the word:" On his neck" and he did not say:" Upon his shoulder
اسحاق بن ابراہیم حنظلی اور محمد بن حاتم نے محمد بن بکر سے روایت کی ، دونوں نےکہا : ہمیں ابن جریج نےخبر دی ، نیز اسحاق بن منصور اور محمد بن رافع نے ( اور یہ الفاظ ان دونوں کے ہیں ) عبد الرزاق کے حوالے سے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انہوں ( ابن جریج ) نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : جب کعبہ تعمیر کیا گیا توعبا رضی اللہ عنہ اور نبی ﷺ پتھر ڈھونے لگے ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے کہا : پتھروں سے حفاظت کے لیے اپنا تہبند اٹھا کر کندھے پر رکھ لیجیے ۔ آپ نے ایسا کیا تو آپ زمین پر گر گئے اورآنکھیں ( اوپر ہو کر ) آسمان پر ٹک گئیں ، پھر آپ اٹھے اور کہا : ’’میرا تہبند ، میرا تہبند ۔ ‘ ‘ تو آپ کا تہبند آپ کو کس کر باندھ دیا گیا ۔ ابن رافع کی روایت میں على رقبتك ( اپنی گردن پر ) کے الفاظ ہیں ، انہوں علی عاتقک ( اپنے کندھے پر ) نہیں کہا ۔