Sahih al-Bukhari 8:105sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبٍ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ فَنَادَى " يَا كَعْبُ ". قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا ". وَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَىِ الشَّطْرَ قَالَ لَقَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " قُمْ فَاقْضِهِ ".
Narrated Ka`b:In the mosque, I asked Ibn Abi Hadrad to pay the debts which he owed to me and our voices grew louder. Allah's Messenger (ﷺ) heard that while he was in his house. So he came to us raising the curtain of his room and said, "O Ka`b!" I replied, "Labaik, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "O Ka`b! reduce your debt to one half," gesturing with his hand. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have done so." Then Allah's Apostle said (to Ibn Abi Hadrad), "Get up and pay the debt to him
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر عبدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے یونس بن یزید نے زہری کے واسطہ سے، انہوں نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے، انہوں نے اپنے باپ کعب بن مالک سے کہ انھوں نے مسجد نبوی میں عبداللہ ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا تقاضا کیا اور دونوں کی گفتگو بلند آوازوں سے ہونے لگی۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے حجرے سے سن لیا۔ آپ پردہ ہٹا کر باہر تشریف لائے اور پکارا۔ کعب، کعب ( رضی اللہ عنہ ) بولے، جی یا رسول اللہ! ( حکم ) فرمائیے کیا ارشاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے قرض میں سے اتنا کم کر دو۔ آپ کا اشارہ تھا کہ آدھا کم کر دیں۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! میں نے ( بخوشی ) ایسا کر دیا۔ پھر آپ نے ابن ابی حدرد سے فرمایا، اچھا اب اٹھو اور اس کا قرض ادا کرو۔ ( جو آدھا معاف کر دیا گیا ہے ) ۔
Sahih al-Bukhari 8:119sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ، فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ وَنَادَى " يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ، يَا كَعْبُ ". قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ. قَالَ كَعْبٌ قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قُمْ فَاقْضِهِ ".
Narrated Ka`b bin Malik:During the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) I asked Ibn Abi Hadrad in the mosque to pay the debts which he owed to me and our voices grew so loud that Allah's Messenger (ﷺ) heard them while he was in his house. So he came to us after raising the curtain of his room. The Prophet (ﷺ) said, "O Ka`b bin Malik!" I replied, "Labaik, O Allah's Messenger (ﷺ)." He gestured with his hand to me to reduce the debt to one half. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ), I have done it." Allah's Messenger (ﷺ) said (to Ibn Abi Hadrad), "Get up and pay it
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے یونس بن یزید نے خبر دی، انہوں نے ابن شہاب زہری کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن کعب بن مالک نے بیان کیا، ان کو ان کے باپ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انھوں نے عبداللہ ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے ایک قرض کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسجد نبوی کے اندر تقاضا کیا۔ دونوں کی آواز کچھ اونچی ہو گئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے حجرہ سے سن لیا۔ آپ اٹھے اور حجرہ پر پڑے ہوئے پردہ کو ہٹایا۔ آپ نے کعب بن مالک کو آواز دی، اے کعب! کعب بولے۔ یا رسول اللہ! حاضر ہوں۔ آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ وہ اپنا آدھا قرض معاف کر دے۔ کعب نے عرض کی یا رسول اللہ! میں نے معاف کر دیا۔ آپ نے ابن ابی حدرد سے فرمایا اچھا اب چل اٹھ اس کا قرض ادا کر۔
Sahih al-Bukhari 23:105sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا حَضَرَ أُحُدٌ دَعَانِي أَبِي مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ مَا أُرَانِي إِلاَّ مَقْتُولاً فِي أَوَّلِ مَنْ يُقْتَلُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَإِنِّي لاَ أَتْرُكُ بَعْدِي أَعَزَّ عَلَىَّ مِنْكَ، غَيْرَ نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَإِنَّ عَلَىَّ دَيْنًا فَاقْضِ، وَاسْتَوْصِ بِأَخَوَاتِكَ خَيْرًا. فَأَصْبَحْنَا فَكَانَ أَوَّلَ قَتِيلٍ، وَدُفِنَ مَعَهُ آخَرُ فِي قَبْرٍ، ثُمَّ لَمْ تَطِبْ نَفْسِي أَنْ أَتْرُكَهُ مَعَ الآخَرِ فَاسْتَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا هُوَ كَيَوْمِ وَضَعْتُهُ هُنَيَّةً غَيْرَ أُذُنِهِ.
Narrated Jabir:When the time of the Battle of Uhud approached, my father called me at night and said, "I think that I will be the first amongst the companions of the Prophet (ﷺ) to be martyred. I do not leave anyone after me dearer to me than you, except Allah's Messenger's (ﷺ) soul and I owe some debt and you should repay it and treat your sisters favorably (nicely and politely)." So in the morning he was the first to be martyred and was buried along with another (martyr). I did not like to leave him with the other (martyr) so I took him out of the grave after six months of his burial and he was in the same condition as he was on the day of burial, except a slight change near his ear
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو بشر بن مفضل نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے حسین معلم نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء بن ابی رباح نے ‘ ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب جنگ احد کا وقت قریب آ گیا تو مجھے میرے باپ عبداللہ نے رات کو بلا کر کہا کہ مجھے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سب سے پہلا مقتول میں ہی ہوں گا اور دیکھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا دوسرا کوئی مجھے ( اپنے عزیزوں اور وارثوں میں ) تم سے زیادہ عزیز نہیں ہے ‘ میں مقروض ہوں اس لیے تم میرا قرض ادا کر دینا اور اپنی ( نو ) بہنوں سے اچھا سلوک کرنا۔ چنانچہ جب صبح ہوئی تو سب سے پہلے میرے والد ہی شہید ہوئے۔ قبر میں آپ کے ساتھ میں نے ایک دوسرے شخص کو بھی دفن کیا تھا۔ پر میرا دل نہیں مانا کہ انہیں دوسرے صاحب کے ساتھ یوں ہی قبر میں رہنے دوں۔ چنانچہ چھ مہینے کے بعد میں نے ان کی لاش کو قبر سے نکالا دیکھا تو صرف کان تھوڑا سا گلنے کے سوا باقی سارا جسم اسی طرح تھا جیسے دفن کیا گیا تھا۔
Sahih al-Bukhari 24:98sahih
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَأَلَ بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِأَنْ يُسْلِفَهُ أَلْفَ دِينَارٍ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، فَخَرَجَ فِي الْبَحْرِ، فَلَمْ يَجِدْ مَرْكَبًا، فَأَخَذَ خَشَبَةً فَنَقَرَهَا فَأَدْخَلَ فِيهَا أَلْفَ دِينَارٍ، فَرَمَى بِهَا فِي الْبَحْرِ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ أَسْلَفَهُ، فَإِذَا بِالْخَشَبَةِ فَأَخَذَهَا لأَهْلِهِ حَطَبًا ـ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ـ فَلَمَّا نَشَرَهَا وَجَدَ الْمَالَ ".
Narrated Abu Huraira The Prophet (ﷺ) said, "A man from Bani Israel asked someone from Bani Israel to give him a loan of one thousand Dinars and the later gave it to him. The debtor went on a voyage (when the time for the payment of the debt became due) but he did not find a boat, so he took a piece of wood and bored it and put 1000 Dinars in it and threw it into the sea. The creditor went out and took the piece of wood to his family to be used as fire-wood." (See Hadith No. 488 B, Vol. 3). And the Prophet (ﷺ) narrated the narration (and said), "When he sawed the wood, he found his money
اور لیث نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہرمز سے ‘ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے دوسرے بنی اسرائیل کے شخص سے ہزار اشرفیاں قرض مانگیں۔ اس نے اللہ کے بھروسے پر اس کو دے دیں۔ اب جس نے قرض لیا تھا وہ سمندر پر گیا کہ سوار ہو جائے اور قرض خواہ کا قرض ادا کرے لیکن سواری نہ ملی۔ آخر اس نے قرض خواہ تک پہنچنے سے ناامید ہو کر ایک لکڑی لی اس کو کریدا اور ہزار اشرفیاں اس میں بھر کر وہ لکڑی سمندر میں پھینک دی۔ اتفاق سے قرض خواہ کام کاج کو باہر نکلا ‘ سمندر پر پہنچا تو ایک لکڑی دیکھی اور اس کو گھر میں جلانے کے خیال سے لے آیا۔ پھر پوری حدیث بیان کی۔ جب لکڑی کو چیرا تو اس میں اشرفیاں پائیں۔
Sahih al-Bukhari 28:32sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ جُهَيْنَةَ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، فَلَمْ تَحُجَّ حَتَّى مَاتَتْ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ " نَعَمْ. حُجِّي عَنْهَا، أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَةً اقْضُوا اللَّهَ، فَاللَّهُ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ ".
Narrated Ibn `Abbas:A woman from the tribe of Juhaina came to the Prophet (ﷺ) and said, "My mother had vowed to perform Hajj but she died before performing it. May I perform Hajj on my mother's behalf?" The Prophet (ﷺ) replied, "Perform Hajj on her behalf. Had there been a debt on your mother, would you have paid it or not? So, pay Allah's debt as He has more right to be paid
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ وضاح شکری نے بیان کیا، ان سے ابوبشر جعفر بن ایاس نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ میری والدہ نے حج کی منت مانی تھی لیکن وہ حج نہ کر سکیں اور ان کا انتقال ہو گیا تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ان کی طرف سے تو حج کر۔ کیا تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا نہ کرتیں؟ اللہ تعالیٰ کا قرضہ تو اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کرنا بہت ضروری ہے۔
Sahih al-Bukhari 30:60sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ، وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا قَالَ " نَعَمْ ـ قَالَ ـ فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى ". قَالَ سُلَيْمَانُ فَقَالَ الْحَكَمُ وَسَلَمَةُ، وَنَحْنُ جَمِيعًا جُلُوسٌ حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ ـ قَالاَ ـ سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْحَكَمِ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ. وَقَالَ يَحْيَى وَأَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ. وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ نَذْرٍ. وَقَالَ أَبُو حَرِيزٍ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَاتَتْ أُمِّي وَعَلَيْهَا صَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا.
Narrated Ibn `Abbas:A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My mother died and she ought to have fasted one month (for her missed Ramadan). Shall I fast on her behalf?" The Prophet (ﷺ) replied in the affirmative and said, "Allah's debts have more right to be paid." In another narration a woman is reported to have said, "My sister died..." Narrated Ibn `Abbas: A woman said to the Prophet (ﷺ) "My mother died and she had vowed to fast but she didn't fast." In another narration Ibn `Abbas is reported to have said, "A woman said to the Prophet, "My mother died while she ought to have fasted for fifteen days
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم بطین نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ! میری ماں کا انتقال ہو گیا اور ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے باقی رہ گئے ہیں۔ کیا میں ان کی طرف سے قضاء رکھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ضرور، اللہ تعالیٰ کا قرض اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اسے ادا کر دیا جائے۔ سلیمان اعمش نے بیان کیا کہ حکم اور سلمہ نے کہا جب مسلم بطین نے یہ حدیث بیان کیا تو ہم سب وہیں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان دونوں حضرات نے فرمایا کہ ہم نے مجاہد سے بھی سنا تھا کہ وہ یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے۔ ابوخالد سے روایت ہے کہ اعمش نے بیان کیا ان سے حکم، مسلم بطین اور سلمہ بن کہیل نے، ان سے سعید بن جبیر، عطاء اور مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ”بہن“ کا انتقال ہو گیا ہے پھر یہی قصہ بیان کیا، یحییٰ اور سعید اور ابومعاویہ نے کہا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے مسلم نے، ان سے سعید نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے زید ابن ابی انیسہ نے، ان سے حکم نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور ان پر نذر کا ایک روزہ واجب تھا اور ابوحریز عبداللہ بن حسین نے بیان کیا، کہا ہم سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور ان پر پندرہ دن کے روزے واجب تھے۔
Sahih al-Bukhari 34:29sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَحِمَ اللَّهُ رَجُلاً سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى ".
Narrated Jabir bin `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ) said, "May Allah's mercy be on him who is lenient in his buying, selling, and in demanding back his money
ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت اور خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے۔
Sahih al-Bukhari 34:30sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، أَنَّ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ حُذَيْفَةَ ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " تَلَقَّتِ الْمَلاَئِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ قَالُوا أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا قَالَ كُنْتُ آمُرُ فِتْيَانِي أَنْ يُنْظِرُوا وَيَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُوسِرِ قَالَ قَالَ فَتَجَاوَزُوا عَنْهُ ". وَقَالَ أَبُو مَالِكٍ عَنْ رِبْعِيٍّ " كُنْتُ أُيَسِّرُ عَلَى الْمُوسِرِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ ". وَتَابَعَهُ شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ رِبْعِيٍّ. وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ رِبْعِيٍّ " أُنْظِرُ الْمُوسِرَ، وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ ". وَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ رِبْعِيٍّ " فَأَقْبَلُ مِنَ الْمُوسِرِ، وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ ".
Narrated Hudhaifa:The Prophet (ﷺ) said, "Before your time the angels received the soul of a man and asked him, 'Did you do any good deeds (in your life)?' He replied, 'I used to order my employees to grant time to the rich person to pay his debts at his convenience.' So Allah said to the angels; "Excuse him." Rabi said that (the dead man said), 'I used to be easy to the rich and grant time to the poor.' Or, in another narration, 'grant time to the well-off and forgive the needy,' or, 'accept from the well-off and forgive the needy
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا کہا کہ ہم سے منصور نے، ان سے ربعی بن حراش نے بیان کیا اور ان سے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم سے پہلے گذشتہ امتوں کے کسی شخص کی روح کے پاس ( موت کے وقت ) فرشتے آئے اور پوچھا کہ تو نے کچھ اچھے کام بھی کئے ہیں؟ روح نے جواب دیا کہ میں اپنے نوکروں سے کہا کرتا تھا کہ وہ مالدار لوگوں کو ( جو ان کے مقروض ہوں ) مہت دے دیا کریں اور ان پر سختی نہ کریں۔ اور محتاجوں کو معاف کر دیا کریں۔ راوی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر فرشتوں نے بھی اس سے درگزر کیا اور سختی نہیں کی اور ابومالک نے ربعی سے ( اپنی روایت میں یہ الفاظ ) بیان کئے ہیں ”کھاتے کماتے کے ساتھ ( اپنا حق لیتے وقت ) نرم معاملہ کرتا تھا اور تنگ حال مقروض کو مہلت دیتا تھا۔ اس کی متابعت شعبہ نے کی ہے۔ ان سے عبدالملک نے اور ان سے ربعی نے بیان کیا، ابوعوانہ نے کہا کہ ان سے عبدالملک نے ربعی سے بیان کیا کہ ( اس روح نے یہ الفاظ کہے تھے ) میں کھاتے کماتے کو مہلت دے دیتا تھا اور تنگ حال والے مقروض سے درگزر کرتا تھا اور نعیم بن ابی ہند نے بیان کیا، ان سے ربعی نے ( کہ روح نے یہ الفاظ کہے تھے ) میں کھاتے کماتے لوگوں کے ( جن پر میرا کوئی حق واجب ہوتا ) عذر قبول کر لیا کرتا تھا اور تنگ حال والے سے درگزر کر دیتا تھا۔
Sahih al-Bukhari 34:31sahih
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَانَ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا رَأَى مُعْسِرًا قَالَ لِفِتْيَانِهِ تَجَاوَزُوا عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "There was a merchant who used to lend the people, and whenever his debtor was in straitened circumstances, he would say to his employees, 'Forgive him so that Allah may forgive us.' So, Allah forgave him
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن ولید زبیدی نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے نوکروں سے کہہ دیتا کہ اس سے درگزر کر جاؤ۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے ( آخرت میں ) درگزر فرمائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ( اس کے مرنے کے بعد ) اس کو بخش دیا۔
Sahih al-Bukhari 34:44sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ قَالَ لاَ أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم. فَقُلْتُ لاَ أَكْفُرُ حَتَّى يُمِيتَكَ اللَّهُ، ثُمَّ تُبْعَثَ. قَالَ دَعْنِي حَتَّى أَمُوتَ وَأُبْعَثَ، فَسَأُوتَى مَالاً وَوَلَدًا فَأَقْضِيَكَ فَنَزَلَتْ {أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالاً وَوَلَدًا * أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا }
Narrated Khabbab:I was a blacksmith in the Pre-Islamic period, and 'Asi bin Wail owed me some money, so I went to him to demand it. He said (to me), "I will not pay you unless you disbelieve Muhammad." I said, "I will not disbelieve till Allah kills you and then you get resurrected." He said, "Leave me till I die and get resurrected, then I will be given wealth and children and I will pay you your debt." On that occasion it was revealed to the Prophet: 'Have you seen him who disbelieved in Our signs and says: Surely I will be given wealth and children? Has he known the unseen, or has he taken a covenant from the Beneficent (Allah)?
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے کہ جاہلیت کے زمانہ میں میں لوہار کا کام کیا کرتا تھا۔ عاص بن وائل ( کافر ) پر میرا کچھ قرض تھا میں ایک دن اس پر تقاضا کرنے گیا۔ اس نے کہا کہ جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کرے گا میں تیرا قرض نہیں دوں گا۔ میں نے جواب دیا کہ میں آپ کا انکار اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک اللہ تعالیٰ تیری جان نہ لے لے، پھر تو دوبارہ اٹھایا جائے، اس نے کہا کہ پھر مجھے بھی مہلت دے کہ میں مر جاؤں، پھر دوبارہ اٹھایا جاؤں اور مجھے مال اور اولاد ملے اس وقت میں بھی تمہارا قرض ادا کر دوں گا۔ اس پر آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا * أطلع الغيب أم اتخذ عند الرحمن عهدا» ”کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کو نہ مانا اور کہا ( آخرت میں ) مجھے مال اور دولت دی جائے گی، کیا اسے غیب کی خبر ہے؟ یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کوئی اقرار لے لیا ہے۔“
Sahih al-Bukhari 34:79sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَاسْتَعَنْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى غُرَمَائِهِ أَنْ يَضَعُوا مِنْ دَيْنِهِ، فَطَلَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهِمْ، فَلَمْ يَفْعَلُوا، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اذْهَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَكَ أَصْنَافًا، الْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ، وَعَذْقَ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَىَّ ". فَفَعَلْتُ، ثُمَّ أَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَلَسَ عَلَى أَعْلاَهُ، أَوْ فِي وَسَطِهِ ثُمَّ قَالَ " كِلْ لِلْقَوْمِ ". فَكِلْتُهُمْ حَتَّى أَوْفَيْتُهُمُ الَّذِي لَهُمْ، وَبَقِيَ تَمْرِي، كَأَنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ شَىْءٌ. وَقَالَ فِرَاسٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ حَدَّثَنِي جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّاهُ، وَقَالَ هِشَامٌ عَنْ وَهْبٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " جُذَّ لَهُ فَأَوْفِ لَهُ ".
Narrated Jabir:`Abdullah bin `Amr bin Haram died and was in debt to others. I asked the Prophet (ﷺ) to intercede with his creditors for some reduction in the debts. The Prophet (ﷺ) requested them (to reduce the debts) but they refused. The Prophet (ﷺ) said to me, "Go and put your dates (In heaps) according to their different kinds. The Ajwa on one side, the cluster of Ibn Zaid on another side, etc.. Then call me." I did that and called the Prophet (ﷺ) He came and sat at the head or in the middle of the heaps and ordered me. Measure (the dates) for the people (creditors)." I measured for them till I paid all the debts. My dates remained as if nothing had been taken from them. In other narrations, Jabir said; The Prophet (ﷺ) said, "He (i.e. `Abdullah) continued measuring for them till he paid all the debts." The Prophet (ﷺ) said (to `Abdullah), "Cut (clusters) for him (i.e. one of the creditors) and measure for him fully
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں جریر نے خبر دی، انہیں مغیرہ نے، انہیں عامر شعبی نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ ( میرے باپ ) شہید ہو گئے تو ان کے ذمے ( لوگوں کا ) کچھ قرض باقی تھا۔ اس لیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کوشش کی کہ قرض خواہ کچھ اپنے قرضوں کو معاف کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی چاہا، لیکن وہ نہیں مانے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اپنی تمام کھجور کی قسموں کو الگ الگ کر لو۔ عجوہ ( ایک خاص قسم کی کھجور ) کو الگ رکھ اور عذق زید ( کھجور کی ایک قسم ) کو الگ کر۔ پھر مجھے بلا بھیج۔ میں نے ایسا ہی کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھجوروں کے ڈھیر پر یا بیچ میں بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اب ان قرض خواہوں کو ناپ کر دو۔ میں نے ناپنا شروع کیا۔ جتنا قرض لوگوں کا تھا۔ میں نے سب کو ادا کر دیا، پھر بھی تمام کھجور جوں کی توں تھی۔ اس میں سے ایک دانہ برابر کی کمی نہیں ہوئی تھی۔ فراس نے بیان کیا کہ ان سے شعبی نے، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ”برابر ان کے لیے تولتے رہے، یہاں تک کہ ان کا پورا قرض ادا ہو گیا۔“ اور ہشام نے کہا، ان سے وہب نے، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کھجور توڑ اور اپنا قرض پورا ادا کر دے۔
Sahih al-Bukhari 38:1sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، فَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيٍّ فَلْيَتْبَعْ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Procrastination (delay) in paying debts by a wealthy man is injustice. So, if your debt is transferred from your debtor to a rich debtor, you should agree
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے، انہیں اعرج نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( قرض ادا کرنے میں ) مالدار کی طرف سے ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ اور اگر تم میں سے کسی کا قرض کسی مالدار پر حوالہ دیا جائے تو اسے قبول کرے۔
Sahih al-Bukhari 38:1sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، فَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيٍّ فَلْيَتْبَعْ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Procrastination (delay) in paying debts by a wealthy man is injustice. So, if your debt is transferred from your debtor to a rich debtor, you should agree
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے، انہیں اعرج نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( قرض ادا کرنے میں ) مالدار کی طرف سے ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ اور اگر تم میں سے کسی کا قرض کسی مالدار پر حوالہ دیا جائے تو اسے قبول کرے۔
Sahih al-Bukhari 38:2sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَمَنْ أُتْبِعَ عَلَى مَلِيٍّ فَلْيَتَّبِعْ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Procrastination (delay) in paying debts by a wealthy person is injustice. So, if your debt is transferred from your debtor to a rich debtor, you should agree
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ابن ذکوان نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مالدار کی طرف سے ( قرض ادا کرنے میں ) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ اور اگر کسی کا قرض کسی مالدار کے حوالہ کیا جائے تو وہ اسے قبول کرے۔
Sahih al-Bukhari 38:3sahih
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ، فَقَالُوا صَلِّ عَلَيْهَا. فَقَالَ " هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ". قَالُوا لاَ. قَالَ " فَهَلْ تَرَكَ شَيْئًا ". قَالُوا لاَ. فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى، فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلِّ عَلَيْهَا. قَالَ " هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ". قِيلَ نَعَمْ. قَالَ " فَهَلْ تَرَكَ شَيْئًا ". قَالُوا ثَلاَثَةَ دَنَانِيرَ. فَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ أُتِيَ بِالثَّالِثَةِ، فَقَالُوا صَلِّ عَلَيْهَا. قَالَ " هَلْ تَرَكَ شَيْئًا ". قَالُوا لاَ. قَالَ " فَهَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ". قَالُوا ثَلاَثَةُ دَنَانِيرَ. قَالَ " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ". قَالَ أَبُو قَتَادَةَ صَلِّ عَلَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَعَلَىَّ دَيْنُهُ. فَصَلَّى عَلَيْهِ.
Narrated Salama bin Al-Akwa: Once, while we were sitting in the company of Prophet, a dead man was brought. The Prophet (ﷺ) was requested to lead the funeral prayer for the deceased. He said, "Is he in debt?" The people replied in the negative. He said, "Has he left any wealth?" They said, "No." So, he led his funeral prayer. Another dead man was brought and the people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Lead his funeral prayer." The Prophet (ﷺ) said, "Is he in debt?" They said, "Yes." He said, "Has he left any wealth?" They said, ''Three Dinars." So, he led the prayer. Then a third dead man was brought and the people said (to the Prophet (ﷺ) ), Please lead his funeral prayer." He said, "Has he left any wealth?" They said, "No." He asked, "Is he in debt?" They said, ("Yes! He has to pay) three Dinars.', He (refused to pray and) said, "Then pray for your (dead) companion." Abu Qatada said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Lead his funeral prayer, and I will pay his debt." So, he led the prayer
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اس کی نماز پڑھا دیجئیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا اس پر کوئی قرض ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ نہیں کوئی قرض نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ میت نے کچھ مال بھی چھوڑا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کوئی مال بھی نہیں چھوڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اس کے بعد ایک دوسرا جنازہ لایا گیا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ان کی بھی نماز جنازہ پڑھا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کسی کا قرض بھی میت پر ہے؟ عرض کیا گیا کہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کچھ مال بھی چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ تین دینار چھوڑے ہیں۔ آپ نے ان کی بھی نماز جنازہ پڑھائی۔ پھر تیسرا جنازہ لایا گیا۔ لوگوں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ اس کی نماز پڑھا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق بھی وہی دریافت فرمایا، کیا کوئی مال ترکہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، اور اس پر کسی کا قرض بھی ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں تین دینار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر اپنے ساتھی کی تم ہی لوگ نماز پڑھ لو۔ ابوقتادۃ رضی اللہ عنہ بولے، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی نماز پڑھا دیجئیے، ان کا قرض میں ادا کر دوں گا۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھائی۔
Sahih al-Bukhari 39:2sahih
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلاً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَأَلَ بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يُسْلِفَهُ أَلْفَ دِينَارٍ، فَقَالَ ائْتِنِي بِالشُّهَدَاءِ أُشْهِدُهُمْ. فَقَالَ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا. قَالَ فَأْتِنِي بِالْكَفِيلِ. قَالَ كَفَى بِاللَّهِ كَفِيلاً. قَالَ صَدَقْتَ. فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، فَخَرَجَ فِي الْبَحْرِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ الْتَمَسَ مَرْكَبًا يَرْكَبُهَا، يَقْدَمُ عَلَيْهِ لِلأَجَلِ الَّذِي أَجَّلَهُ، فَلَمْ يَجِدْ مَرْكَبًا، فَأَخَذَ خَشَبَةً، فَنَقَرَهَا فَأَدْخَلَ فِيهَا أَلْفَ دِينَارٍ، وَصَحِيفَةً مِنْهُ إِلَى صَاحِبِهِ، ثُمَّ زَجَّجَ مَوْضِعَهَا، ثُمَّ أَتَى بِهَا إِلَى الْبَحْرِ، فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ تَسَلَّفْتُ فُلاَنًا أَلْفَ دِينَارٍ، فَسَأَلَنِي كَفِيلاً، فَقُلْتُ كَفَى بِاللَّهِ كَفِيلاً، فَرَضِيَ بِكَ، وَسَأَلَنِي شَهِيدًا، فَقُلْتُ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا، فَرَضِيَ بِكَ، وَأَنِّي جَهَدْتُ أَنْ أَجِدَ مَرْكَبًا، أَبْعَثُ إِلَيْهِ الَّذِي لَهُ فَلَمْ أَقْدِرْ، وَإِنِّي أَسْتَوْدِعُكَهَا. فَرَمَى بِهَا فِي الْبَحْرِ حَتَّى وَلَجَتْ فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَهْوَ فِي ذَلِكَ يَلْتَمِسُ مَرْكَبًا، يَخْرُجُ إِلَى بَلَدِهِ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ أَسْلَفَهُ، يَنْظُرُ لَعَلَّ مَرْكَبًا قَدْ جَاءَ بِمَالِهِ، فَإِذَا بِالْخَشَبَةِ الَّتِي فِيهَا الْمَالُ، فَأَخَذَهَا لأَهْلِهِ حَطَبًا، فَلَمَّا نَشَرَهَا وَجَدَ الْمَالَ وَالصَّحِيفَةَ، ثُمَّ قَدِمَ الَّذِي كَانَ أَسْلَفَهُ، فَأَتَى بِالأَلْفِ دِينَارٍ، فَقَالَ وَاللَّهِ مَا زِلْتُ جَاهِدًا فِي طَلَبِ مَرْكَبٍ لآتِيَكَ بِمَالِكَ، فَمَا وَجَدْتُ مَرْكَبًا قَبْلَ الَّذِي أَتَيْتُ فِيهِ. قَالَ هَلْ كُنْتَ بَعَثْتَ إِلَىَّ بِشَىْءٍ قَالَ أُخْبِرُكَ أَنِّي لَمْ أَجِدْ مَرْكَبًا قَبْلَ الَّذِي جِئْتُ فِيهِ. قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَدَّى عَنْكَ الَّذِي بَعَثْتَ فِي الْخَشَبَةِ فَانْصَرِفْ بِالأَلْفِ الدِّينَارِ رَاشِدًا ".
Narrated Abu Huraira: The Prophet (ﷺ) said, "An Israeli man asked another Israeli to lend him one thousand Dinars. The second man required witnesses. The former replied, 'Allah is sufficient as a witness.' The second said, 'I want a surety.' The former replied, 'Allah is sufficient as a surety.' The second said, 'You are right,' and lent him the money for a certain period. The debtor went across the sea. When he finished his job, he searched for a conveyance so that he might reach in time for the repayment of the debt, but he could not find any. So, he took a piece of wood and made a hole in it, inserted in it one thousand Dinars and a letter to the lender and then closed (i.e. sealed) the hole tightly. He took the piece of wood to the sea and said. 'O Allah! You know well that I took a loan of one thousand Dinars from so-and-so. He demanded a surety from me but I told him that Allah's Guarantee was sufficient and he accepted Your guarantee. He then asked for a witness and I told him that Allah was sufficient as a Witness, and he accepted You as a Witness. No doubt, I tried hard to find a conveyance so that I could pay his money but could not find, so I hand over this money to You.' Saying that, he threw the piece of wood into the sea till it went out far into it, and then he went away. Meanwhile he started searching for a conveyance in order to reach the creditor's country. One day the lender came out of his house to see whether a ship had arrived bringing his money, and all of a sudden he saw the piece of wood in which his money had been deposited. He took it home to use for fire. When he sawed it, he found his money and the letter inside it. Shortly after that, the debtor came bringing one thousand Dinars to him and said, 'By Allah, I had been trying hard to get a boat so that I could bring you your money, but failed to get one before the one I have come by.' The lender asked, 'Have you sent something to me?' The debtor replied, 'I have told you I could not get a boat other than the one I have come by.' The lender said, 'Allah has delivered on your behalf the money you sent in the piece of wood. So, you may keep your one thousand Dinars and depart guided on the right path
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ لیث نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے بنی اسرائیل کے ایک دوسرے آدمی سے ایک ہزار دینار قرض مانگے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ایسے گواہ لا جن کی گواہی پر مجھے اعتبار ہو۔ قرض مانگنے والا بولا کہ گواہ تو بس اللہ ہی کافی ہے پھر انہوں نے کہا کہ اچھا کوئی ضامن لا۔ قرض مانگنے والا بولا کہ ضامن بھی اللہ ہی کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تو نے سچی بات کہی۔ چنانچہ اس نے ایک مقررہ مدت کے لیے اس کو قرض دے دیا۔ یہ صاحب قرض لے کر دریائی سفر پر روانہ ہوئے اور پھر اپنی ضرورت پوری کر کے کسی سواری ( کشتی وغیرہ ) کی تلاش کی تاکہ اس سے دریا پار کر کے اس مقررہ مدت تک قرض دینے والے کے پاس پہنچ سکے جو اس سے طے پائی تھی۔ ( اور اس کا قرض ادا کر دے ) لیکن کوئی سواری نہیں ملی۔ آخر ایک لکڑی لی اور اس میں سوراخ کیا۔ پھر ایک ہزار دینار اور ایک ( اس مضمون کا ) خط کہ اس کی طرف سے قرض دینے والے کی طرف ( یہ دینار بھیجے جا رہے ہیں ) اور اس کا منہ بند کر دیا۔ اور اسے دریا پر لے آئے، پھر کہا، اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار دینار قرض لیے تھے۔ اس نے مجھ سے ضامن مانگا تو میں نے کہہ دیا تھا کہ میرا ضامن اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بھی تجھ پر راضی ہوا۔ اس نے مجھ سے گواہ مانگا تو اس کا بھی جواب میں نے یہی دیا کہ اللہ پاک گواہ کافی ہے تو وہ مجھ پر راضی ہو گیا اور ( تو جانتا ہے کہ ) میں نے بہت کوشش کی کہ کوئی سواری ملے جس کے ذریعہ میں اس کا قرض اس تک ( مدت مقررہ میں ) پہنچا سکوں۔ لیکن مجھے اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔ اس لیے اب میں اس کو تیرے ہی حوالے کرتا ہوں ( کہ تو اس تک پہنچا دے ) چنانچہ اس نے وہ لکڑی جس میں رقم تھی دریا میں بہا دی۔ اب وہ دریا میں تھی اور وہ صاحب ( قرض دار ) واپس ہو چکے تھے۔ اگرچہ فکر اب بھی یہی تھا کہ کس طرح کوئی جہاز ملے۔ جس کے ذریعہ وہ اپنے شہر میں جا سکیں۔ دوسری طرف وہ صاحب جنہوں نے قرض دیا تھا اسی تلاش میں ( بندرگاہ ) آئے کہ ممکن ہے کوئی جہاز ان کا مال لے کر آیا ہو۔ لیکن وہاں انہیں ایک لکڑی ملی۔ وہی جس میں مال تھا۔ انہوں نے لکڑی اپنے گھر میں ایندھن کے لیے لے لی۔ لیکن جب اسے چیرا تو اس میں سے دینار نکلے اور ایک خط بھی نکلا۔ ( کچھ دنوں کے بعد جب وہ صاحب اپنے شہر آئے ) تو قرض خواہ کے گھر آئے۔ اور ( یہ خیال کر کے کہ شاید وہ لکڑی نہ مل سکی ہو دوبارہ ) ایک ہزار دینا ان کی خدمت میں پیش کر دیئے۔ اور کہا کہ قسم اللہ کی! میں تو برابر اسی کوشش میں رہا کہ کوئی جہاز ملے تو تمہارے پاس تمہارا مال لے کر پہنچوں لیکن اس دن سے پہلے جب کہ میں یہاں پہنچنے کے لیے سوار ہوا۔ مجھے اپنی کوششوں میں کامیابی نہیں ہوئی۔ پھر انہوں نے پوچھا اچھا یہ تو بتاؤ کہ کوئی چیز کبھی تم نے میرے نام بھیجی تھی؟ مقروض نے جواب دیا بتا تو رہا ہوں آپ کو کہ کوئی جہاز مجھے اس جہاز سے پہلے نہیں ملا جس سے میں آج پہنچا ہوں۔ اس پر قرض خواہ نے کہا کہ پھر اللہ نے بھی آپ کا وہ قرضا ادا کر دیا۔ جسے آپ نے لکڑی میں بھیجا تھا۔ چنانچہ وہ صاحب اپنا ہزار دینار لے کر خوش خوش واپس لوٹ گئے۔
Sahih al-Bukhari 39:6sahih
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِجَنَازَةٍ، لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَقَالَ " هَلْ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ ". قَالُوا لاَ. فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى، فَقَالَ " هَلْ عَلَيْهِ مَنْ دَيْنٍ ". قَالُوا نَعَمْ. قَالَ " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ". قَالَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَىَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَصَلَّى عَلَيْهِ.
Narrated Salama bin Al-Akwa`:A dead person was brought to the Prophet (ﷺ) so that he might lead the funeral prayer for him. He asked, "Is he in debt?" When the people replied in the negative, he led the funeral prayer. Another dead person was brought and he asked, "Is he in debt?" They said, "Yes." He (refused to lead the prayer and) said, "Lead the prayer of your friend." Abu Qatada said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I undertake to pay his debt." Allah's Messenger (ﷺ) then led his funeral prayer
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے، ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں نماز پڑھنے کے لیے کسی کا جنازہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا۔ کیا اس میت پر کسی کا قرض تھا؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھا دی۔ پھر ایک اور جنازہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، میت پر کسی کا قرض تھا؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں تھا۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ پھر اپنے ساتھی کی تم ہی نماز پڑھ لو۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ان کا قرض میں ادا کر دوں گا۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔
Sahih al-Bukhari 39:9sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى عَلَيْهِ الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ " هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ فَضْلاً ". فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ لِدَيْنِهِ وَفَاءً صَلَّى، وَإِلاَّ قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ". فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَالَ " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ تُوُفِّيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَتَرَكَ دَيْنًا فَعَلَىَّ قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرَثَتِهِ ".
Narrated Abu Huraira:Whenever a dead man in debt was brought to Allah's Messenger (ﷺ) he would ask, "Has he left anything to repay his debt?" If he was informed that he had left something to repay his debts, he would offer his funeral prayer, otherwise he would tell the Muslims to offer their friend's funeral prayer. When Allah made the Prophet (ﷺ) wealthy through conquests, he said, "I am more rightful than other believers to be the guardian of the believers, so if a Muslim dies while in debt, I am responsible for the repayment of his debt, and whoever leaves wealth (after his death) it will belong to his heirs
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کسی ایسی میت کو لایا جاتا جس پر کسی کا قرض ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ کیا اس نے اپنے قرض کے ادا کرنے کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے؟ پھر اگر کوئی آپ کو بتا دیتا کہ ہاں اتنا مال ہے جس سے قرض ادا ہو سکتا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز پڑھاتے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں ہی سے فرما دیتے کہ اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح کے دروازے کھول دیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں مسلمانوں کا خود ان کی ذات سے بھی زیادہ مستحق ہوں۔ اس لیے اب جو بھی مسلمان وفات پا جائے اور وہ مقروض رہا ہو تو اس کا قرض ادا کرنا میرے ذمے ہے اور جو مسلمان مال چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کا حق ہے۔
Sahih al-Bukhari 40:6sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سِنٌّ مِنَ الإِبِلِ فَجَاءَهُ يَتَقَاضَاهُ فَقَالَ " أَعْطُوهُ ". فَطَلَبُوا سِنَّهُ فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ إِلاَّ سِنًّا فَوْقَهَا. فَقَالَ " أَعْطُوهُ ". فَقَالَ أَوْفَيْتَنِي أَوْفَى اللَّهُ بِكَ. قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) owed somebody a camel of a certain age. When he came to demand it back, the Prophet (ﷺ) said (to some people), "Give him (his due)." When the people searched for a camel of that age, they found none, but found a camel one year older. The Prophet (ﷺ) said, "Give (it to) him." On that, the man remarked, "You have given me my right in full. May Allah give you in full." The Prophet (ﷺ) said, "The best amongst you is the one who pays the rights of others generously
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن کہیل نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک شخص کا ایک خاص عمر کا اونٹ قرض تھا۔ وہ شخص تقاضا کرنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنے صحابہ سے ) فرمایا کہ ادا کر دو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس عمر کا اونٹ تلاش کیا لیکن نہیں ملا۔ البتہ اس سے زیادہ عمر کا ( مل سکا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی انہیں دے دو۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ آپ نے مجھے پورا پورا حق دے دیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی پورا بدلہ دے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرض وغیرہ کو پوری طرح ادا کر دیتے ہیں۔
Sahih al-Bukhari 40:7sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَقَاضَاهُ، فَأَغْلَظَ، فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالاً ". ثُمَّ قَالَ " أَعْطُوهُ سِنًّا مِثْلَ سِنِّهِ ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لاَ نَجِدُ إِلاَّ أَمْثَلَ مِنْ سِنِّهِ. فَقَالَ " أَعْطُوهُ فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً ".
Narrated Abu Huraira:A man came to the Prophet (ﷺ) demanding his debts and behaved rudely. The companions of the Prophet (ﷺ) intended to harm him, but Allah's Messenger (ﷺ) said (to them), "Leave him, for the creditor (i.e. owner of a right) has the right to speak." Allah's Messenger (ﷺ) then said, "Give him a camel of the same age as that of his." The people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! There is only a camel that is older than his." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Give (it to) him, for the best amongst you is he who pays the rights of others handsomely
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن کہیل نے بیان کیا، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے سنا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اپنے قرض کا ) تقاضا کرنے آیا، اور سخت گفتگو کرنے لگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غصہ ہو کر اس کی طرف بڑھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو۔ کیونکہ جس کا کسی پر حق ہو تو وہ ( بات ) کہنے کا بھی حق رکھتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قرض والے جانور کی عمر کا ایک جانور اسے دے دو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس سے زیادہ عمر کا جانور تو موجود ہے۔ ( لیکن اس عمر کا نہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے وہی دے دو۔ کیونکہ سب سے اچھا آدمی وہ ہے جو دوسروں کا حق پوری طرح ادا کر دے۔
Sahih al-Bukhari 43:2sahih
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ تَذَاكَرْنَا عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ الرَّهْنَ فِي السَّلَمِ فَقَالَ حَدَّثَنِي الأَسْوَدُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اشْتَرَى طَعَامًا مِنْ يَهُودِيٍّ إِلَى أَجَلٍ، وَرَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ.
Narrated Al-A`mash:When we were with Ibrahim, we talked about mortgaging in deals of Salam. Ibrahim narrated from Aswad that `Aisha had said, "The Prophet (ﷺ) bought some foodstuff on credit from a Jew and mortgaged an iron armor to him
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، ان سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ ابراہیم کی خدمت میں ہم نے بیع سلم میں رہن کا ذکر کیا، تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے اسود نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ ایک خاص مدت ( کے قرض پر ) خریدا، اور اپنی لوہے کی زرہ اس کے پاس رہن رکھ دی۔
Sahih al-Bukhari 43:3sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَدَّى اللَّهُ عَنْهُ، وَمَنْ أَخَذَ يُرِيدُ إِتْلاَفَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever takes the money of the people with the intention of repaying it, Allah will repay it on his behalf, and whoever takes it in order to spoil it, then Allah will spoil him
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ثور بن زید نے، ان سے ابوغیث نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی لوگوں کا مال قرض کے طور پر ادا کرنے کی نیت سے لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی طرف سے ادا کرے گا اور جو کوئی نہ دینے کے لیے لے، تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو تباہ کر دے گا۔
Sahih al-Bukhari 43:4sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَبْصَرَ ـ يَعْنِي أُحُدًا ـ قَالَ " مَا أُحِبُّ أَنَّهُ يُحَوَّلُ لِي ذَهَبًا يَمْكُثُ عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ دِينَارًا أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ ". ثُمَّ قَالَ " إِنَّ الأَكْثَرِينَ هُمُ الأَقَلُّونَ، إِلاَّ مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا ". وَأَشَارَ أَبُو شِهَابٍ بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ـ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ـ وَقَالَ مَكَانَكَ. وَتَقَدَّمَ غَيْرَ بَعِيدٍ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا، فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ مَكَانَكَ حَتَّى آتِيَكَ، فَلَمَّا جَاءَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، الَّذِي سَمِعْتُ أَوْ قَالَ الصَّوْتُ الَّذِي سَمِعْتُ قَالَ " وَهَلْ سَمِعْتَ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " أَتَانِي جِبْرِيلُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ فَقَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ". قُلْتُ وَإِنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا قَالَ " نَعَمْ ".
Narrated Abu Dhar:Once, while I was in the company of the Prophet, he saw the mountain of Uhud and said, "I would not like to have this mountain turned into gold for me unless nothing of it, not even a single Dinar remains of it with me for more than three days (i.e. I will spend all of it in Allah's Cause), except that Dinar which I will keep for repaying debts." Then he said, "Those who are rich in this world would have little reward in the Hereafter except those who spend their money here and there (in Allah's Cause), and they are few in number." Then he ordered me to stay at my place and went not far away. I heard a voice and intended to go to him but I remembered his order, "Stay at your place till I return." On his return I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! (What was) that noise which I heard?" He said, "Did you hear anything?" I said, "Yes." He said, "Gabriel came and said to me, 'Whoever amongst your followers dies, worshipping none along with Allah, will enter Paradise.' " I said, "Even if he did such-and-such things (i.e. even if he stole or committed illegal sexual intercourse)" He said, "Yes
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوشہاب نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے زید بن وہب نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا، آپ کی مراد احد پہاڑ ( کو دیکھنے ) سے تھی۔ تو فرمایا کہ میں یہ بھی پسند نہیں کروں گا کہ احد پہاڑ سونے کا ہو جائے تو اس میں سے میرے پاس ایک دینار کے برابر بھی تین دن سے زیادہ باقی رہے۔ سوا اس دینار کے جو میں کسی کا قرض ادا کرنے کے لیے رکھ لوں۔ پھر فرمایا، ( دنیا میں ) دیکھو جو زیادہ ( مال ) والے ہیں وہی محتاج ہیں۔ سوا ان کے جو اپنے مال و دولت کو یوں اور یوں خرچ کریں۔ ابوشہاب راوی نے اپنے سامنے اور دائیں طرف اور بائیں طرف اشارہ کیا، لیکن ایسے لوگوں کی تعداد کم ہوتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہیں ٹھہرے رہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دور آگے کی طرف بڑھے۔ میں نے کچھ آواز سنی ( جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سے باتیں کر رہے ہوں ) میں نے چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آیا کہ ”یہیں اس وقت تک ٹھہرے رہنا جب تک میں نہ آ جاؤں“ اس کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے پوچھا یا رسول اللہ! ابھی میں نے کچھ سنا تھا۔ یا ( راوی نے یہ کہا کہ ) میں نے کوئی آواز سنی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم نے بھی سنا! میں نے عرض کیا کہ ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے تھے اور کہہ گئے ہیں کہ تمہاری امت کا جو شخص بھی اس حالت میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے پوچھا کہ اگرچہ وہ اس طرح ( کے گناہ ) کرتا رہا ہو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ ہاں۔
Sahih al-Bukhari 43:5sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا يَسُرُّنِي أَنْ لاَ يَمُرَّ عَلَىَّ ثَلاَثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ شَىْءٌ، إِلاَّ شَىْءٌ أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ ". رَوَاهُ صَالِحٌ وَعُقَيْلٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If I had gold equal to the mountain of Uhud, it would not please me that it should remain with me for more than three days, except an amount which I would keep for repaying debts
ہم سے احمد بن شبیب بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے یونس نے کہ ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تب بھی مجھے یہ پسند نہیں کہ تین دن گزر جائیں اور اس ( سونے ) کا کوئی حصہ میرے پاس رہ جائے۔ سوا اس کے جو میں کسی قرض کے دینے کے لیے رکھ چھوڑوں۔ اس کی روایت صالح اور عقیل نے زہری سے کی ہے۔
Sahih al-Bukhari 43:6sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، بِبَيْتِنَا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً، تَقَاضَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَأَغْلَظَ لَهُ، فَهَمَّ أَصْحَابُهُ، فَقَالَ " دَعُوهُ، فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالاً. وَاشْتَرُوا لَهُ بَعِيرًا، فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ ". وَقَالُوا لاَ نَجِدُ إِلاَّ أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ. قَالَ " اشْتَرُوهُ فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ، فَإِنَّ خَيْرَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً ".
Narrated Abu Huraira:A man demanded his debts from Allah's Messenger (ﷺ) in such a rude manner that the companions of the Prophet intended to harm him, but the Prophet (ﷺ) said, "Leave him, no doubt, for he (the creditor) has the right to demand it (harshly). Buy a camel and give it to him." They said, "The camel that is available is older than the camel he demands. "The Prophet (ﷺ) said, "Buy it and give it to him, for the best among you are those who repay their debts handsomely
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں سلمہ بن کہیل نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا، وہ ہمارے گھر میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے قرض کا تقاضا کیا اور سخت سست کہا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کو سزا دینی چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کہنے دو۔ صاحب حق کے لیے کہنے کا حق ہوتا ہے اور اسے ایک اونٹ خرید کر دے دو۔ لوگوں نے عرض کیا کہ اس کے اونٹ سے ( جو اس نے آپ کو قرض دیا تھا ) اچھی عمر ہی کا اونٹ مل رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہی خرید کے اسے دے دو۔ کیونکہ تم میں اچھا وہی ہے جو قرض ادا کرنے میں سب سے اچھا ہو۔ ( حدیث اور باب کی مطابقت ظاہر ہے)
Sahih al-Bukhari 43:7sahih
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَاتَ رَجُلٌ، فَقِيلَ لَهُ قَالَ كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ، فَأَتَجَوَّزُ عَنِ الْمُوسِرِ، وَأُخَفِّفُ عَنِ الْمُعْسِرِ، فَغُفِرَ لَهُ ". قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Hudhaifa:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Once a man died and was asked, 'What did you use to say (or do) (in your life time)?' He replied, 'I was a businessman and used to give time to the rich to repay his debt and (used to) deduct part of the debt of the poor.' So he was forgiven (his sins.)" Abu Mas`ud said, "I heard the same (Hadith) from the Prophet
ہم سے مسلم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے، ان سے ربعی بن حراش نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص کا انتقال ہوا ( قبر میں ) اس سے سوال ہوا، تمہارے پاس کوئی نیکی ہے؟ اس نے کہا کہ میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا تھا۔ ( اور جب کسی پر میرا قرض ہوتا ) تو میں مالداروں کو مہلت دیا کرتا تھا اور تنگ دستوں کے قرض کو معاف کر دیا کرتا تھا اس پر اس کی بخشش ہو گئی۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
Sahih al-Bukhari 43:8sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَقَاضَاهُ بَعِيرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعْطُوهُ ". فَقَالُوا مَا نَجِدُ إِلاَّ سِنًّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ. فَقَالَ الرَّجُلُ أَوْفَيْتَنِي أَوْفَاكَ اللَّهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعْطُوهُ فَإِنَّ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ أَحْسَنَهُمْ قَضَاءً ".
Narrated Abu Huraira:A man came to the Prophet (ﷺ) and demanded a camel (the Prophet (ﷺ) owed him). Allah's Messenger (ﷺ) told his companions to give him (a camel). They said, "We do not find except an older camel (than what he demands). (The Prophet (ﷺ) ordered them to give him that camel). The man said, "You have paid me in full and may Allah also pay you in full." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Give him, for the best amongst the people is he who repays his debts in the most handsome manner
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ قطان نے، ان سے سفیان ثوری نے کہ مجھ سے سلمہ بن کہیل نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا قرض کا اونٹ مانگنے آیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اسے اس کا اونٹ دے دو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ قرض خواہ کے اونٹ سے اچھی عمر کا ہی اونٹ مل رہا ہے۔ اس پر اس شخص ( قرض خواہ ) نے کہا مجھے تم نے میرا پورا حق دیا۔ تمہیں اللہ تمہارا حق پورا پورا دے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے وہی اونٹ دے دو کیونکہ بہترین شخص وہ ہے جو سب سے زیادہ بہتر طریقہ پر اپنا قرض ادا کرتا ہو۔
Sahih al-Bukhari 43:9sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سِنٌّ مِنَ الإِبِلِ فَجَاءَهُ يَتَقَاضَاهُ فَقَالَ صلى الله عليه وسلم " أَعْطُوهُ ". فَطَلَبُوا سِنَّهُ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ إِلاَّ سِنًّا فَوْقَهَا. فَقَالَ " أَعْطُوهُ ". فَقَالَ أَوْفَيْتَنِي، وَفَّى اللَّهُ بِكَ. قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) owed a camel of a certain age to a man who came to demand it back. The Prophet (ﷺ) ordered his companions to give him. They looked for a camel of the same age but found nothing but a camel one year older. The Prophet (ﷺ) told them to give it to him. The man said, "You have paid me in full, and may Allah pay you in full." The Prophet (ﷺ) said, "The best amongst you is he who pays his debts in the most handsome manner
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک شخص کا ایک خاص عمر کا اونٹ قرض تھا۔ وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقاضا کرنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اونٹ دے دو۔ صحابہ نے تلاش کیا لیکن ایسا ہی اونٹ مل سکا جو قرض خواہ کے اونٹ سے اچھی عمر کا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہی دے دو۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ آپ نے مجھے میرا حق پوری طرح دیا اللہ آپ کو بھی اس کا بدلہ پورا پورا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں بہتر آدمی وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں بھی سب سے بہتر ہو۔
Sahih al-Bukhari 43:10sahih
حَدَّثَنَا خَلاَّدٌ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي الْمَسْجِدِ ـ قَالَ مِسْعَرٌ أُرَاهُ قَالَ ضُحًى ـ فَقَالَ " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ". وَكَانَ لِي عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي.
Narrated Jabir bin `Abdullah:I went to the Prophet (ﷺ) while he was in the Mosque. (Mis`ar thinks that Jabir went in the forenoon.) After the Prophet (ﷺ) told me to pray two rak`at, he repaid me the debt he owed me and gave me an extra amount
ہم سے خلاد نے بیان کیا، ان سے مسعر نے بیان کیا، ان سے محارب بن دثار نے بیان کیا، اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف رکھتے تھے۔ مسعر نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے چاشت کے وقت کا ذکر کیا۔ ( کہ اس وقت خدمت نبوی میں حاضر ہوا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو رکعت نماز پڑھ لو۔ میرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ادا کیا، بلکہ زیادہ بھی دے دیا۔
Sahih al-Bukhari 43:11sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَاشْتَدَّ الْغُرَمَاءُ فِي حُقُوقِهِمْ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُمْ أَنْ يَقْبَلُوا تَمْرَ حَائِطِي وَيُحَلِّلُوا أَبِي فَأَبَوْا، فَلَمْ يُعْطِهِمِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَائِطِي، وَقَالَ " سَنَغْدُو عَلَيْكَ ". فَغَدَا عَلَيْنَا حِينَ أَصْبَحَ، فَطَافَ فِي النَّخْلِ، وَدَعَا فِي ثَمَرِهَا بِالْبَرَكَةِ، فَجَدَدْتُهَا فَقَضَيْتُهُمْ، وَبَقِيَ لَنَا مِنْ تَمْرِهَا.
Narrated Jabir bin `Abdullah:My father was martyred on the day (of the battle) of Uhud, and he was in debt. His creditors demanded their rights persistently. I went to the Prophet (and informed him about it). He told them to take the fruits of my garden and exempt my father from the debts but they refused to do so. So, the Prophet did not give them my garden and told me that he would come to me the next morning. He came to us early in the morning and wandered among the date-palms and invoked Allah to bless their fruits. I then plucked the dates and paid the creditors, and there remained some of the dates for us
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے بیان کیا، ان سے کعب بن مالک نے بیان کیا، اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ان کے والد ( عبداللہ رضی اللہ عنہ ) احد کے دن شہید کر دیئے گئے تھے۔ ان پر قرض چلا آ رہا تھا۔ قرض خواہوں نے اپنے حق کے مطالبے میں سختی اختیار کی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرما لیا کہ وہ میرے باغ کی کھجور لے لیں۔ اور میرے والد کو معاف کر دیں۔ لیکن قرض خواہوں نے اس سے انکار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں میرے باغ کا میوہ نہیں دیا۔ اور فرمایا کہ ہم صبح کو تمہارے باغ میں آئیں گے۔ چنانچہ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے باغ میں تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم درختوں میں پھرتے رہے۔ اور اس کے میوے میں برکت کی دعا فرماتے رہے۔ پھر میں نے کھجور توڑی اور ان کا تمام قرض ادا کرنے کے بعد بھی کھجور باقی بچ گئی۔
Sahih al-Bukhari 43:12sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ، وَتَرَكَ عَلَيْهِ ثَلاَثِينَ وَسْقًا لِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ، فَاسْتَنْظَرَهُ جَابِرٌ، فَأَبَى أَنْ يُنْظِرَهُ، فَكَلَّمَ جَابِرٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيَشْفَعَ لَهُ إِلَيْهِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ لِيَأْخُذَ ثَمَرَ نَخْلِهِ بِالَّذِي لَهُ فَأَبَى، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّخْلَ، فَمَشَى فِيهَا ثُمَّ قَالَ لِجَابِرٍ " جُدَّ لَهُ فَأَوْفِ لَهُ الَّذِي لَهُ ". فَجَدَّهُ بَعْدَ مَا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَوْفَاهُ ثَلاَثِينَ وَسْقًا، وَفَضَلَتْ لَهُ سَبْعَةَ عَشَرَ وَسْقًا، فَجَاءَ جَابِرٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُخْبِرَهُ بِالَّذِي كَانَ، فَوَجَدَهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخْبَرَهُ بِالْفَضْلِ، فَقَالَ " أَخْبِرْ ذَلِكَ ابْنَ الْخَطَّابِ ". فَذَهَبَ جَابِرٌ إِلَى عُمَرَ، فَأَخْبَرَهُ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ لَقَدْ عَلِمْتُ حِينَ مَشَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُبَارَكَنَّ فِيهَا.
Narrated Jabir bin `Abdullah:When my father died he owed a Jew thirty Awsuq (of dates). I requested him to give me respite for repaying but he refused. I requested Allah's Messenger (ﷺ) to intercede with the Jew. Allah's Messenger (ﷺ) went to the Jew and asked him to accept the fruits of my trees in place of the debt but the Jew refused. Allah's Apostle entered the garden of the date-palms, wandering among the trees and ordered me (saying), "Pluck (the fruits) and give him his due." So, I plucked the fruits for him after the departure of Allah's Apostle and gave his thirty Awsuq, and still had seventeen Awsuq extra for myself. Jabir said: I went to Allah's Messenger (ﷺ) to inform of what had happened, but found him praying the `Asr prayer. After the prayer I told him about the extra fruits which remained. Allah's Messenger (ﷺ) told me to inform (`Umar) Ibn Al-Khattab about it. When I went to `Umar and told him about it, `Umar said, "When Allah's Messenger (ﷺ) walked in your garden, I was sure that Allah would definitely bless it
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے کہا کہ ہم سے انس نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے وہب بن کیسان نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ جب ان کے والد شہید ہوئے تو ایک یہودی کا تیس وسق قرض اپنے اوپر چھوڑ گئے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے اس سے مہلت مانگی، لیکن وہ نہیں مانا۔ پھر جابر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی ( ابوشحم ) سے ( مہلت دینے کی ) سفارش کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور یہودی سے یہ فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ کے باغ کے پھل ( جو بھی ہوں ) اس قرض کے بدلے میں لے لے۔ جو ان کے والد کے اوپر اس کا ہے، اس نے اس سے بھی انکار کیا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہوئے اور اس میں چلتے رہے پھر جابر رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ باغ کا پھل توڑ کے اس کا قرض ادا کرو۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو انہوں نے باغ کی کھجوریں توڑیں اور یہودی کا تیس وسق ادا کر دیا۔ سترہ وسق اس میں سے بچ بھی رہا۔ جابر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ کو بھی یہ اطلاع دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عصر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی خبر ابن خطاب کو بھی کر دو۔ چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں تو اسی وقت سمجھ گیا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں چل رہے تھے کہ اس میں ضرور برکت ہو گئی۔
Sahih al-Bukhari 43:13sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلاَةِ وَيَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ". فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنَ الْمَغْرَمِ قَالَ " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ ".
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) used to invoke Allah in the prayer saying, "O Allah, I seek refuge with you from all sins, and from being in debt." Someone said, O Allah's Messenger (ﷺ)! (I see) very often you seek refuge with Allah from being in debt. He replied, "If a person is in debt, he tells lies when he speaks, and breaks his promises when he promises
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، وہ زہری سے روایت کرتے ہیں (دوسری سند) ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے محمد بن ابی عتیق نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ نے بیان کیا، اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دعا کرتے تو یہ بھی کہتے ”اے اللہ! میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ قرض سے اتنی پناہ مانگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ جب آدمی مقروض ہوتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کر کے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
Sahih al-Bukhari 43:15sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلاَّ وَأَنَا أَوْلَى بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ} فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ مَاتَ وَتَرَكَ مَالاً فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانُوا، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَلْيَأْتِنِي فَأَنَا مَوْلاَهُ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "I am closer to the believers than their selves in this world and in the Hereafter, and if you like, you can read Allah's Statement: "The Prophet (ﷺ) is closer to the believers than their own selves." (33.6) So, if a true believer dies and leaves behind some property, it will be for his inheritors (from the father's side), and if he leaves behind some debt to be paid or needy offspring, then they should come to me as I am the guardian of the deceased
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، ان سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ہلال بن علی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہر مومن کا میں دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ قریب ہوں۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم» ”نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مومنوں سے ان کی جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔“ اس لیے جو مومن بھی انتقال کر جائے اور مال چھوڑ جائے تو چاہئے کہ ورثاء اس کے مالک ہوں۔ وہ جو بھی ہوں اور جو شخص قرض چھوڑ جائے یا اولاد چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آ جائیں کہ ان کا ولی میں ہوں۔
Sahih al-Bukhari 43:16sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Procrastination (delay) in repaying debts by a wealthy person is injustice
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام بن منبہ، وہب بن منبہ کے بھائی نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مالدار کی طرف سے ( قرض کی ادائیگی میں ) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔
Sahih al-Bukhari 43:17sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ يَتَقَاضَاهُ فَأَغْلَظَ لَهُ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ. فَقَالَ " دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالاً ".
Narrated Abu Huraira:A man came to the Prophet (ﷺ) and demanded his debts and used harsh words. The companions of the Prophet wanted to harm him, but the Prophet (ﷺ) said, "Leave him, as the creditor (owner of the right) has the right to speak
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلمہ نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص قرض مانگنے اور سخت تقاضا کرنے لگا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کی گوشمالی کرنی چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، حقدار ایسی باتیں کہہ سکتا ہے۔
Sahih al-Bukhari 43:20sahih
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلاً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، سَأَلَ بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يُسْلِفَهُ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
Narrated Abu Hurairah (ra):Allah's Messenger (ﷺ) mentioned an Israeli man who asked another Israeli to lend him money, and the latter gave it to him for a fixed period. (Abu Hurairah mentioned the rest of narration) [See chapter: Kafala in loans and debts. Hadith]
لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اسرائیلی شخص کا تذکرہ فرمایا جس نے دوسرے اسرائیلی شخص سے قرض مانگا تھا اور اس نے ایک مقررہ مدت کے لیے اسے قرض دے دیا۔ ( جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے ) ۔
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أُصِيبَ عَبْدُ اللَّهِ وَتَرَكَ عِيَالاً وَدَيْنًا، فَطَلَبْتُ إِلَى أَصْحَابِ الدَّيْنِ أَنْ يَضَعُوا بَعْضًا مِنْ دَيْنِهِ فَأَبَوْا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَشْفَعْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا، فَقَالَ " صَنِّفْ تَمْرَكَ كُلَّ شَىْءٍ مِنْهُ عَلَى حِدَتِهِ، عِذْقَ ابْنِ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ، وَاللِّينَ عَلَى حِدَةٍ، وَالْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ، ثُمَّ أَحْضِرْهُمْ حَتَّى آتِيَكَ ". فَفَعَلْتُ، ثُمَّ جَاءَ صلى الله عليه وسلم فَقَعَدَ عَلَيْهِ، وَكَالَ لِكُلِّ رَجُلٍ حَتَّى اسْتَوْفَى، وَبَقِيَ التَّمْرُ كَمَا هُوَ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ. وَغَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى نَاضِحٍ لَنَا، فَأَزْحَفَ الْجَمَلُ فَتَخَلَّفَ عَلَىَّ فَوَكَزَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ خَلْفِهِ، قَالَ " بِعْنِيهِ وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ". فَلَمَّا دَنَوْنَا اسْتَأْذَنْتُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ. قَالَ صلى الله عليه وسلم " فَمَا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ". قُلْتُ ثَيِّبًا، أُصِيبَ عَبْدُ اللَّهِ وَتَرَكَ جَوَارِيَ صِغَارًا، فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا تُعَلِّمُهُنَّ وَتُؤَدِّبُهُنَّ، ثُمَّ قَالَ " ائْتِ أَهْلَكَ ". فَقَدِمْتُ فَأَخْبَرْتُ خَالِي بِبَيْعِ الْجَمَلِ فَلاَمَنِي، فَأَخْبَرْتُهُ بِإِعْيَاءِ الْجَمَلِ، وَبِالَّذِي كَانَ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَوَكْزِهِ إِيَّاهُ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْجَمَلِ، فَأَعْطَانِي ثَمَنَ الْجَمَلِ وَالْجَمَلَ وَسَهْمِي مَعَ الْقَوْمِ.
Narrated Jabir:When `Abdullah (my father) died, he left behind children and debts. I asked the lenders to put down some of his debt, but they refused, so I went to the Prophet (ﷺ) to intercede with them, yet they refused. The Prophet (ﷺ) said (to me), "Classify your dates into their different kinds: 'Adha bin Zaid, Lean and 'Ajwa, each kind alone and call all the creditors and wait till I come to you." I did so and the Prophet (ﷺ) came and sat beside the dates and started measuring to each his due till he paid them fully, and the amount of dates remained as it was before, as if he had not touched them. (On another occasion) I took part in one of Ghazawat along with the Prophet (ﷺ) and I was riding one of our camels. The camel got tired and was lagging behind the others. The Prophet (ﷺ) hit it on its back. He said, "Sell it to me, and you have the right to ride it till Medina.'' When we approached Medina, I took the permission from the Prophet (ﷺ) to go to my house, saying, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have newly married." The Prophet (ﷺ) asked, "Have you married a virgin or a matron (a widow or divorcee)?" I said, "I have married a matron, as `Abdullah (my father) died and left behind daughters small in their ages, so I married a matron who may teach them and bring them up with good manners." The Prophet (ﷺ) then said (to me), "Go to your family." When I went there and told my maternal uncle about the selling of the camel, he admonished me for it. On that I told him about its slowness and exhaustion and about what the Prophet (ﷺ) had done to the camel and his hitting it. When the Prophet (ﷺ) arrived, I went to him with the camel in the morning and he gave me its price, the camel itself, and my share from the war booty as he gave the other people
Sahih al-Bukhari 43:21sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أُصِيبَ عَبْدُ اللَّهِ وَتَرَكَ عِيَالاً وَدَيْنًا، فَطَلَبْتُ إِلَى أَصْحَابِ الدَّيْنِ أَنْ يَضَعُوا بَعْضًا مِنْ دَيْنِهِ فَأَبَوْا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَشْفَعْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا، فَقَالَ " صَنِّفْ تَمْرَكَ كُلَّ شَىْءٍ مِنْهُ عَلَى حِدَتِهِ، عِذْقَ ابْنِ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ، وَاللِّينَ عَلَى حِدَةٍ، وَالْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ، ثُمَّ أَحْضِرْهُمْ حَتَّى آتِيَكَ ". فَفَعَلْتُ، ثُمَّ جَاءَ صلى الله عليه وسلم فَقَعَدَ عَلَيْهِ، وَكَالَ لِكُلِّ رَجُلٍ حَتَّى اسْتَوْفَى، وَبَقِيَ التَّمْرُ كَمَا هُوَ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ. وَغَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى نَاضِحٍ لَنَا، فَأَزْحَفَ الْجَمَلُ فَتَخَلَّفَ عَلَىَّ فَوَكَزَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ خَلْفِهِ، قَالَ " بِعْنِيهِ وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ". فَلَمَّا دَنَوْنَا اسْتَأْذَنْتُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ. قَالَ صلى الله عليه وسلم " فَمَا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ". قُلْتُ ثَيِّبًا، أُصِيبَ عَبْدُ اللَّهِ وَتَرَكَ جَوَارِيَ صِغَارًا، فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا تُعَلِّمُهُنَّ وَتُؤَدِّبُهُنَّ، ثُمَّ قَالَ " ائْتِ أَهْلَكَ ". فَقَدِمْتُ فَأَخْبَرْتُ خَالِي بِبَيْعِ الْجَمَلِ فَلاَمَنِي، فَأَخْبَرْتُهُ بِإِعْيَاءِ الْجَمَلِ، وَبِالَّذِي كَانَ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَوَكْزِهِ إِيَّاهُ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْجَمَلِ، فَأَعْطَانِي ثَمَنَ الْجَمَلِ وَالْجَمَلَ وَسَهْمِي مَعَ الْقَوْمِ.
Narrated Jabir:When `Abdullah (my father) died, he left behind children and debts. I asked the lenders to put down some of his debt, but they refused, so I went to the Prophet (ﷺ) to intercede with them, yet they refused. The Prophet (ﷺ) said (to me), "Classify your dates into their different kinds: 'Adha bin Zaid, Lean and 'Ajwa, each kind alone and call all the creditors and wait till I come to you." I did so and the Prophet (ﷺ) came and sat beside the dates and started measuring to each his due till he paid them fully, and the amount of dates remained as it was before, as if he had not touched them. (On another occasion) I took part in one of Ghazawat along with the Prophet (ﷺ) and I was riding one of our camels. The camel got tired and was lagging behind the others. The Prophet (ﷺ) hit it on its back. He said, "Sell it to me, and you have the right to ride it till Medina.'' When we approached Medina, I took the permission from the Prophet (ﷺ) to go to my house, saying, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have newly married." The Prophet (ﷺ) asked, "Have you married a virgin or a matron (a widow or divorcee)?" I said, "I have married a matron, as `Abdullah (my father) died and left behind daughters small in their ages, so I married a matron who may teach them and bring them up with good manners." The Prophet (ﷺ) then said (to me), "Go to your family." When I went there and told my maternal uncle about the selling of the camel, he admonished me for it. On that I told him about its slowness and exhaustion and about what the Prophet (ﷺ) had done to the camel and his hitting it. When the Prophet (ﷺ) arrived, I went to him with the camel in the morning and he gave me its price, the camel itself, and my share from the war booty as he gave the other people
Sahih al-Bukhari 44:8sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا، حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ فَنَادَى " يَا كَعْبُ ". قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا ". فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ، أَىِ الشَّطْرَ. قَالَ لَقَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " قُمْ فَاقْضِهِ ".
Narrated `Abdullah bin Ka`b bin Malik:Ka`b demanded his debt back from Ibn Abi Hadrad in the Mosque and their voices grew louder till Allah's Messenger (ﷺ) heard them while he was in his house. He came out to them raising the curtain of his room and addressed Ka`b, "O Ka`b!" Ka`b replied, "Labaik, O Allah's Messenger (ﷺ)." (He said to him), "Reduce your debt to one half," gesturing with his hand. Ka`b said, "I have done so, O Allah's Apostle!" On that the Prophet (ﷺ) said to Ibn Abi Hadrad, "Get up and repay the debt, to him
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے مسجد میں اپنے قرض کا تقاضا کیا۔ اور دونوں کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی گھر میں سن لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرہ مبارک کا پردہ اٹھا کر پکارا اے کعب! انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے قرض میں سے اتنا کم کر دے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھا قرض کم کر دینے کا اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کم کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اٹھ اب قرض ادا کر دے۔
Sahih al-Bukhari 44:14sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ،. وَقَالَ غَيْرُهُ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ كَانَ لَهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الأَسْلَمِيِّ دَيْنٌ، فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ، فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَمَرَّ بِهِمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا كَعْبُ ". وَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ النِّصْفَ، فَأَخَذَ نِصْفَ مَا عَلَيْهِ وَتَرَكَ نِصْفًا.
Narrated `Abdullah bin Ka`b bin Malik Al-Ansari from Ka`b bin Malik:That `Abdullah bin Abi Hadrad Al-Aslami owed him some debt. Ka`b met him and caught hold of him and they started talking and their voices grew loudest. The Prophet (ﷺ) passed by them and addressed Ka`b, pointing out to him to reduce the debt to one half. So, Ka`b got one half of the debt and exempted the debtor from the other half
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، اور یحییٰ بن بکیر کے علاوہ نے بیان کیا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے، ان سے عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری نے، اور ان سے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ پر ان کا قرض تھا، ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان کا پیچھا کیا۔ پھر دونوں کی گفتگو تیز ہونے لگی۔ اور آواز بلند ہو گئی۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے کعب! اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے گویا یہ فرمایا کہ آدھے قرض کی کمی کر دے۔ چنانچہ انہوں نے آدھا لے لیا اور آدھا قرض معاف کر دیا۔
Sahih al-Bukhari 51:35sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ،. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا، فَاشْتَدَّ الْغُرَمَاءُ فِي حُقُوقِهِمْ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَلَّمْتُهُ، فَسَأَلَهُمْ أَنْ يَقْبَلُوا ثَمَرَ حَائِطِي، وَيُحَلِّلُوا أَبِي، فَأَبَوْا، فَلَمْ يُعْطِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَائِطِي، وَلَمْ يَكْسِرْهُ لَهُمْ، وَلَكِنْ قَالَ " سَأَغْدُو عَلَيْكَ ". فَغَدَا عَلَيْنَا حَتَّى أَصْبَحَ، فَطَافَ فِي النَّخْلِ، وَدَعَا فِي ثَمَرِهِ بِالْبَرَكَةِ، فَجَدَدْتُهَا، فَقَضَيْتُهُمْ حُقُوقَهُمْ، وَبَقِيَ لَنَا مِنْ ثَمَرِهَا بَقِيَّةٌ، ثُمَّ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ جَالِسٌ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعُمَرَ " اسْمَعْ ـ وَهْوَ جَالِسٌ ـ يَا عُمَرُ ". فَقَالَ أَلاَّ يَكُونُ قَدْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:My father was martyred on the day (of the battle) of Uhud and his creditors demanded the debt back in a harsh manner. So I went to Allah's Messenger (ﷺ) and informed him of that, he asked them to accept the fruits of my garden and excuse my father, but they refused. So, Allah's Messenger (ﷺ) did not give them the fruits, nor did he cut them and distribute them among them, but said, "I will come to you tomorrow morning." So, he came to us the next morning and walked about in between the date-palms and invoked Allah to bless their fruits. I plucked the fruits and gave back all the rights of the creditors in full, and a lot of fruits were left for us. Then I went to Allah's Messenger (ﷺ), who was sitting, and informed him about what happened. Allah's Messenger (ﷺ) told `Umar, who was sitting there, to listen to the story. `Umar said, "Don't we know that you are Allah's Messenger (ﷺ)? By Allah! you are Allah's Messenger (ﷺ)
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا ابن شہاب سے، وہ ابن کعب بن مالک سے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ احد کی لڑائی میں ان کے باپ شہید ہو گئے ( اور قرض چھوڑ گئے ) قرض خواہوں نے تقاضے میں بڑی شدت کی، تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں گفتگو کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ وہ میرے باغ کی کھجور لے لیں ( جو بھی ہوں ) اور میرے والد کو ( جو باقی رہ جائے وہ قرض ) معاف کر دیں۔ لیکن انہوں نے انکار کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا باغ انہیں نہیں دیا اور نہ ان کے لیے پھل تڑوائے۔ بلکہ فرمایا کہ کل صبح میں تمہارے یہاں آؤں گا۔ صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھجور کے درختوں میں ٹہلتے رہے اور برکت کی دعا فرماتے رہے پھر میں نے پھل توڑ کر قرض خواہوں کے سارے قرض ادا کر دئیے اور میرے پاس کھجور بچ بھی گئی۔ اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعہ کی اطلاع دی۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی وہیں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، عمر! سن رہے ہو؟ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، ہمیں تو پہلے سے معلوم ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ قسم اللہ کی! اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔
Sahih al-Bukhari 51:37sahih
حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ مُحَارِبٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَضَانِي وَزَادَنِي
Jabir (ra) said, "I went to the Prophet (ﷺ) in the mosque and he paid me my right and gave me more than he owed me
اور ثابت بن محمد نے بیان کیا کہ ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے محارب نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ اور ثابت بن محمد نے بیان کیا کہ ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے محارب نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ
Sahih al-Bukhari 51:40sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَيْنٌ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَقَالَ " دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالاً. وَقَالَ اشْتَرُوا لَهُ سِنًّا فَأَعْطُوهَا إِيَّاهُ ". فَقَالُوا إِنَّا لاَ نَجِدُ سِنًّا إِلاَّ سِنًّا هِيَ أَفْضَلُ مِنْ سِنِّهِ. قَالَ " فَاشْتَرُوهَا فَأَعْطُوهَا إِيَّاهُ، فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) owed a man some debt (and that man demanded it very harshly). The companions of the Prophet (ﷺ) wanted to harm him, but the Prophet (ﷺ) said to them, "Leave him, as the creditor has the right to speak harshly." He then added, "Buy (a camel) of the same age and give it to him." They said, "We cannot get except a camel of an older age than that of his." He said, "Buy it and give it to him, as the best amongst you is he who pays back his debt in the most handsome way
ہم سے عبداللہ بن عثمان بن جبلہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے باپ نے خبر دی شعبہ سے، ان سے سلمہ نے بیان کیا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض تھا ( اس نے سختی کے ساتھ تقاضا کیا ) تو صحابہ اس کی طرف بڑھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو، حق والے کو کچھ نہ کچھ کہنے کی گنجائش ہوتی ہی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے لیے ایک اونٹ اسی کے اونٹ کی عمر کا خرید کر اسے دے دو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اس سے اچھی عمر کا ہی اونٹ مل رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی کو خرید کر دے دو کہ تم میں سب سے اچھا آدمی وہ ہے جو قرض کے ادا کرنے میں سب سے اچھا ہو۔
Sahih al-Bukhari 51:42sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَخَذَ سِنًّا فَجَاءَ صَاحِبُهُ يَتَقَاضَاهُ فَقَالَ " إِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالاً ". ثُمَّ قَضَاهُ أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ وَقَالَ " أَفْضَلُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) took a camel of special age from somebody on credit. Its owner came and demanded it back (harshly). The Prophet (ﷺ) said, "No doubt, he who has a right, can demand it." Then the Prophet (ﷺ) gave him an older camel than his camel and said, "The best amongst you is he who repays his debts in the most handsome way
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی شعبہ سے، انہیں ابوسلمہ بن کہیل نے، انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ بطور قرض لیا، قرض خواہ تقاضا کرنے آیا ( اور نازیبا گفتگو کی ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حق والے کو کہنے کا حق ہوتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اچھی عمر کا اونٹ اسے دلا دیا اور فرمایا ”تم میں افضل وہ ہے جو ادا کرنے میں سب سے بہتر ہو۔“
Sahih al-Bukhari 51:42sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَخَذَ سِنًّا فَجَاءَ صَاحِبُهُ يَتَقَاضَاهُ فَقَالَ " إِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالاً ". ثُمَّ قَضَاهُ أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ وَقَالَ " أَفْضَلُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) took a camel of special age from somebody on credit. Its owner came and demanded it back (harshly). The Prophet (ﷺ) said, "No doubt, he who has a right, can demand it." Then the Prophet (ﷺ) gave him an older camel than his camel and said, "The best amongst you is he who repays his debts in the most handsome way
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی شعبہ سے، انہیں ابوسلمہ بن کہیل نے، انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ بطور قرض لیا، قرض خواہ تقاضا کرنے آیا ( اور نازیبا گفتگو کی ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حق والے کو کہنے کا حق ہوتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اچھی عمر کا اونٹ اسے دلا دیا اور فرمایا ”تم میں افضل وہ ہے جو ادا کرنے میں سب سے بہتر ہو۔“
Sahih al-Bukhari 53:15sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أُمَّهُ، عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَقُولُ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ أَصْوَاتُهُمَا، وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الآخَرَ، وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَىْءٍ وَهْوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لاَ أَفْعَلُ. فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَيْنَ الْمُتَأَلِّي عَلَى اللَّهِ لاَ يَفْعَلُ الْمَعْرُوفَ ". فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَهُ أَىُّ ذَلِكَ أَحَبَّ.
Narrated Aisha:Once Allah's Messenger (ﷺ) heard the loud voices of some opponents quarreling at the door. One of them was appealing to the other to deduct his debt and asking him to be lenient but the other was saying, "By Allah I will not do so." Allah's Messenger (ﷺ) went out to them and said, "Who is the one who was swearing by Allah that he would not do a favor?" That man said, "I am that person, O Allah's Messenger (ﷺ)! I will give my opponent whatever he wishes
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن ہلال نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے ابوالرجال، محمد بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ان کی والدہ عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر دو جھگڑا کرنے والوں کی آواز سنی جو بلند ہو گئی تھی۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک آدمی دوسرے سے قرض میں کچھ کمی کرنے اور تقاضے میں کچھ نرمی برتنے کے لیے کہہ رہا تھا اور دوسرا کہتا تھا کہ اللہ کی قسم! میں یہ نہیں کروں گا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے اور فرمایا کہ اس بات پر اللہ کی قسم کھانے والے صاحب کہاں ہیں؟ کہ وہ ایک اچھا کام نہیں کریں گے۔ ان صحابی نے عرض کیا، میں ہی ہوں یا رسول اللہ! اب میرا بھائی جو چاہتا ہے وہی مجھ کو بھی پسند ہے۔
Sahih al-Bukhari 53:16sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الأَسْلَمِيِّ مَالٌ، فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَمَرَّ بِهِمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا كَعْبُ ". فَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ النِّصْفَ. فَأَخَذَ نِصْفَ مَا عَلَيْهِ وَتَرَكَ نِصْفًا.
Narrated `Abdullah bin Ka`b bin Malik from Ka`b bin Malik:`Abdullah bin Abu Hadrad Al-Aslami owed Ka`b bin Malik some money. One day the latter met the former and demanded his right, and their voices grew very loud. The Prophet (ﷺ) passed by them and said, "O Ka`b," beckoning with his hand as if intending to say, "Deduct half the debts." So, Ka`b took half what the other owed him and remitted the other half
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے اعرج نے بیان کیا کہ مجھ سے عبداللہ بن کعب بن مالک نے بیان کیا اور ان سے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ عبداللہ بن حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ پر ان کا قرض تھا، ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان کا پیچھا کیا، ( آخر تکرار میں ) دونوں کی آواز بلند ہو گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے کعب! اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، جیسے آپ کہہ رہے ہوں کہ آدھا ( قرض کم کر دے ) چنانچہ انہوں نے آدھا قرض چھوڑ دیا اور آدھا لیا۔
Sahih al-Bukhari 53:19sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ تُوُفِّيَ أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَعَرَضْتُ عَلَى غُرَمَائِهِ أَنْ يَأْخُذُوا التَّمْرَ بِمَا عَلَيْهِ، فَأَبَوْا وَلَمْ يَرَوْا أَنَّ فِيهِ وَفَاءً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ " إِذَا جَدَدْتَهُ فَوَضَعْتَهُ فِي الْمِرْبَدِ آذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ". فَجَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَجَلَسَ عَلَيْهِ، وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ " ادْعُ غُرَمَاءَكَ، فَأَوْفِهِمْ ". فَمَا تَرَكْتُ أَحَدًا لَهُ عَلَى أَبِي دَيْنٌ إِلاَّ قَضَيْتُهُ، وَفَضَلَ ثَلاَثَةَ عَشَرَ وَسْقًا سَبْعَةٌ عَجْوَةٌ، وَسِتَّةٌ لَوْنٌ أَوْ سِتَّةٌ عَجْوَةٌ وَسَبْعَةٌ لَوْنٌ، فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَغْرِبَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَضَحِكَ فَقَالَ " ائْتِ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَأَخْبِرْهُمَا ". فَقَالاَ لَقَدْ عَلِمْنَا إِذْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا صَنَعَ أَنْ سَيَكُونُ ذَلِكَ. وَقَالَ هِشَامٌ عَنْ وَهْبٍ عَنْ جَابِرٍ صَلاَةَ الْعَصْرِ. وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا بَكْرٍ وَلاَ ضَحِكَ، وَقَالَ وَتَرَكَ أَبِي عَلَيْهِ ثَلاَثِينَ وَسْقًا دَيْنًا. وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ وَهْبٍ عَنْ جَابِرٍ صَلاَةَ الظُّهْرِ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:My father died and was in debt. I suggested that his creditors take the fruits (i.e. dates) of my garden in lieu of the debt of my father, but they refused the offer, as they thought that it would not cover the full debt. So, I went to the Prophet (ﷺ) and told him about it. He said (to me), "When you pluck the dates and collect them in the Mirbad (i.e. a place where dates are dried), call me (Allah's Messenger (ﷺ))." Finally he came accompanied by Abu Bakr and `Umar and sat on the dates and invoked Allah to bless them. Then he said, "Call your creditors and give them their full rights." So, I paid all my father's creditors in full and yet thirteen extra Wasqs of dates remained, seven of which were 'Ajwa and six were Laun or six of which were Ajwa and seven were Laun. I met Allah's Messenger (ﷺ) at sunset and informed him about it. On that he smiled and said, "Go to Abu Bakr and `Umar and tell them about it." They said, "We perceived that was going to happen, as Allah's Messenger (ﷺ) did what he did
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے وہب بن کیسان نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میرے والد جب شہید ہوئے تو ان پر قرض تھا۔ میں نے ان کے قرض خواہوں کے سامنے یہ صورت رکھی کہ قرض کے بدلے میں وہ ( اس سال کی کھجور کے ) پھل لے لیں۔ انہوں نے اس سے انکار کیا، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس سے قرض پورا نہیں ہو سکے گا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب پھل توڑ کر مربد ( وہ جگہ جہاں کھجور خشک کرتے تھے ) میں جمع کر دو ( تو مجھے خبر دو ) چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ ساتھ میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھجور کے ڈھیر پر بیٹھے اور اس میں برکت کی دعا فرمائی، پھر فرمایا کہ اب اپنے قرض خواہوں کو بلا لا اور ان کا قرض ادا کر دے، چنانچہ کوئی شخص ایسا باقی نہ رہا جس کا میرے باپ پر قرض رہا اور میں نے اسے ادا نہ کر دیا ہو۔ پھر بھی تیرہ وسق کھجور باقی بچ گئی۔ سات وسق عجوہ میں سے اور چھ وسق لون میں سے، یا چھ وسق عجوہ میں سے اور سات وسق لون میں سے، بعد میں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مغرب کے وقت جا کر ملا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور فرمایا، ابوبکر اور عمر کے یہاں جا کر انہیں بھی یہ واقعہ بتا دو۔ چنانچہ میں نے انہیں بتلایا، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کرنا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کیا۔ ہمیں جبھی معلوم ہو گیا تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔ ہشام نے وہب سے اور انہوں نے جابر سے عصر کے وقت ( جابر رضی اللہ عنہ کی حاضری کا ) ذکر کیا ہے اور انہوں نے نہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور نہ ہنسنے کا، یہ بھی بیان کیا کہ ( جابر رضی اللہ عنہ نے کہا ) میرے والد اپنے اوپر تیس وسق قرض چھوڑ گئے تھے اور ابن اسحاق نے وہب سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے ظہر کی نماز کا ذکر کیا ہے۔
Sahih al-Bukhari 53:20sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ،. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي بَيْتٍ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهِمَا حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ، فَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ " يَا كَعْبُ ". فَقَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ. فَقَالَ كَعْبٌ قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قُمْ فَاقْضِهِ ".
Narrated `Abdullah bin Ka`b:That Ka`b bin Malik told him that in the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) he demanded his debt from Ibn Abu Hadrad in the Mosque. Their voices grew louder till Allah's Messenger (ﷺ) heard them while he was in his house. So he lifted the curtain of his room and called Ka`b bin Malik saying, "O Ka`b!" He replied, "Labbaik! O Allah's Messenger (ﷺ)!" He beckoned to him with his hand suggesting that he deduct half the debt. Ka`b said, "I agree, O Allah's Messenger (ﷺ)!" Allah's Messenger (ﷺ) then said (to Ibn Abu Hadrad), "Get up and pay him the rest
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہیں یونس نے خبر دی اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عبداللہ بن کعب نے خبر دی اور انہیں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنا قرض طلب کیا، جو ان کے ذمہ تھا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کا واقعہ ہے۔ مسجد کے اندر ان دونوں کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے حجرے میں تشریف رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور اپنے حجرہ کا پردہ اٹھا کر کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو آواز دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا اے کعب! انہوں نے کہا یا رسول اللہ، میں حاضر ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ آدھا معاف کر دے۔ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کر دیا یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا کہ اب اٹھو اور قرض ادا کر دو۔
Sahih al-Bukhari 55:44sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، أَوِ الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ عَنْهُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، قَالَ قَالَ الشَّعْبِيُّ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ أَبَاهُ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ سِتَّ بَنَاتٍ، وَتَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا، فَلَمَّا حَضَرَ جِدَادُ النَّخْلِ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ وَالِدِي اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا كَثِيرًا، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَرَاكَ الْغُرَمَاءُ قَالَ " اذْهَبْ فَبَيْدِرْ كُلَّ تَمْرٍ عَلَى نَاحِيَتِهِ ". فَفَعَلْتُ ثُمَّ دَعَوْتُهُ، فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ أُغْرُوا بِي تِلْكَ السَّاعَةَ، فَلَمَّا رَأَى مَا يَصْنَعُونَ أَطَافَ حَوْلَ أَعْظَمِهَا بَيْدَرًا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " ادْعُ أَصْحَابَكَ ". فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّى اللَّهُ أَمَانَةَ وَالِدِي، وَأَنَا وَاللَّهِ رَاضٍ أَنْ يُؤَدِّيَ اللَّهُ أَمَانَةَ وَالِدِي وَلاَ أَرْجِعَ إِلَى أَخَوَاتِي بِتَمْرَةٍ، فَسَلِمَ وَاللَّهِ الْبَيَادِرُ كُلُّهَا حَتَّى أَنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْبَيْدَرِ الَّذِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ تَمْرَةً وَاحِدَةً. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ أُغْرُوا بِي يَعْنِي هِيجُوا بِي فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمْ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ
Narrated Jabir bin `Abdullah Al-Ansari:My father was martyred on the day (of the Ghazwa) of Uhud and left six daughters and some debts to be paid. When the time of plucking the date-fruits came, I went to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Apostle! you know that my father was martyred on Uhud's day and owed much debt, and I wish that the creditors would see you." The Prophet (ﷺ) said, "Go and collect the various kinds of dates and place them separately in heaps"' I did accordingly and called him. On seeing him, the creditors started claiming their rights pressingly at that time. When the Prophet (ﷺ) saw how they behaved, he went round the biggest heap for three times and sat over it and said, "Call your companions (i.e. the creditors)." Then he kept on measuring and giving them, till Allah cleared all my father's debts. By Allah, it would have pleased me that Allah would clear the debts of my father even though I had not taken a single date to my sisters. But by Allah, all the heaps were complete, (as they were) and I looked at the heap where Allah's Messenger (ﷺ) was sitting and noticed as if not a single date had been taken thereof
ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا یا فضل بن یعقوب نے محمد بن سابق سے (یہ شک خود امام بخاری رحمہ اللہ کو ہے) کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن ابومعاویہ نے بیان کیا ‘ ان سے فراس بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ ان سے شعبی نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے والد ( عبداللہ رضی اللہ عنہ ) احد کی لڑائی میں شہید ہو گئے تھے۔ اپنے پیچھے چھ لڑکیاں چھوڑی تھیں اور قرض بھی۔ جب کھجور کے پھل توڑنے کا وقت آیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کو یہ معلوم ہی ہے کہ میرے والد ماجد احد کی لڑائی میں شہید ہو چکے ہیں اور بہت زیادہ قرض چھوڑ گئے ہیں ‘ میں چاہتا تھا کہ قرض خواہ آپ کو دیکھ لیں ( تاکہ قرض میں کچھ رعایت کر دیں ) لیکن وہ یہودی تھے اور وہ نہیں مانے ‘ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور کھلیان میں ہر قسم کی کھجور الگ الگ کر لو جب میں نے ایسا ہی کر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا ‘ قرض خواہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اور زیادہ سختی شروع کر دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ طرز عمل ملاحظہ فرمایا تو سب سے بڑے کھجور کے ڈھیر کے گرد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چکر لگائے اور وہیں بیٹھ گئے پھر فرمایا کہ اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپ ناپ کر دینا شروع کیا اور واللہ میرے والد کی تمام امانت ادا کر دی ‘ اللہ گواہ ہے کہ میں اتنے پر بھی راضی تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے والد کا تمام قرض ادا کر دے اور میں اپنی بہنوں کیلئے ایک کھجور بھی اس میں سے نہ لے جاؤں لیکن ہوا یہ کہ ڈھیر کے ڈھیر بچ رہے اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس ڈھیر پر بیٹھے ہوئے تھے اس میں سے تو ایک کھجور بھی نہیں دی گئی تھی۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ «أغروا بي» ( حدیث میں الفاظ ) کے معنی ہیں کہ مجھ پر بھڑکنے اور سختی کرنے لگے۔ اسی معنی میں قرآن مجید کی آیت «فأغرينا بينهم العداوة والبغضاء» میں «فأغرينا» ہے۔
Sahih al-Bukhari 57:38sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ أَحَدَّثَكُمْ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ لَمَّا وَقَفَ الزُّبَيْرُ يَوْمَ الْجَمَلِ دَعَانِي، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَقَالَ يَا بُنَىِّ، إِنَّهُ لاَ يُقْتَلُ الْيَوْمَ إِلاَّ ظَالِمٌ أَوْ مَظْلُومٌ، وَإِنِّي لاَ أُرَانِي إِلاَّ سَأُقْتَلُ الْيَوْمَ مَظْلُومًا، وَإِنَّ مِنْ أَكْبَرِ هَمِّي لَدَيْنِي، أَفَتُرَى يُبْقِي دَيْنُنَا مِنْ مَالِنَا شَيْئًا فَقَالَ يَا بُنَىِّ بِعْ مَالَنَا فَاقْضِ دَيْنِي. وَأَوْصَى بِالثُّلُثِ، وَثُلُثِهِ لِبَنِيهِ، يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ ثُلُثُ الثُّلُثِ، فَإِنْ فَضَلَ مِنْ مَالِنَا فَضْلٌ بَعْدَ قَضَاءِ الدَّيْنِ شَىْءٌ فَثُلُثُهُ لِوَلَدِكَ. قَالَ هِشَامٌ وَكَانَ بَعْضُ وَلَدِ عَبْدِ اللَّهِ قَدْ وَازَى بَعْضَ بَنِي الزُّبَيْرِ خُبَيْبٌ وَعَبَّادٌ، وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَةُ بَنِينَ وَتِسْعُ بَنَاتٍ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَجَعَلَ يُوصِينِي بِدَيْنِهِ وَيَقُولُ يَا بُنَىِّ، إِنْ عَجَزْتَ عَنْهُ فِي شَىْءٍ فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ مَوْلاَىَ. قَالَ فَوَاللَّهِ مَا دَرَيْتُ مَا أَرَادَ حَتَّى قُلْتُ يَا أَبَتِ مَنْ مَوْلاَكَ قَالَ اللَّهُ. قَالَ فَوَاللَّهِ مَا وَقَعْتُ فِي كُرْبَةٍ مِنْ دَيْنِهِ إِلاَّ قُلْتُ يَا مَوْلَى الزُّبَيْرِ، اقْضِ عَنْهُ دَيْنَهُ. فَيَقْضِيهِ، فَقُتِلَ الزُّبَيْرُ ـ رضى الله عنه ـ وَلَمْ يَدَعْ دِينَارًا وَلاَ دِرْهَمًا، إِلاَّ أَرَضِينَ مِنْهَا الْغَابَةُ، وَإِحْدَى عَشْرَةَ دَارًا بِالْمَدِينَةِ، وَدَارَيْنِ بِالْبَصْرَةِ، وَدَارًا بِالْكُوفَةِ، وَدَارًا بِمِصْرَ. قَالَ وَإِنَّمَا كَانَ دَيْنُهُ الَّذِي عَلَيْهِ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَأْتِيهِ بِالْمَالِ فَيَسْتَوْدِعُهُ إِيَّاهُ فَيَقُولُ الزُّبَيْرُ لاَ وَلَكِنَّهُ سَلَفٌ، فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْهِ الضَّيْعَةَ، وَمَا وَلِيَ إِمَارَةً قَطُّ وَلاَ جِبَايَةَ خَرَاجٍ وَلاَ شَيْئًا، إِلاَّ أَنْ يَكُونَ فِي غَزْوَةٍ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ ـ رضى الله عنهم ـ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَحَسَبْتُ مَا عَلَيْهِ مِنَ الدَّيْنِ فَوَجَدْتُهُ أَلْفَىْ أَلْفٍ وَمِائَتَىْ أَلْفٍ قَالَ فَلَقِيَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي، كَمْ عَلَى أَخِي مِنَ الدَّيْنِ فَكَتَمَهُ. فَقَالَ مِائَةُ أَلْفٍ. فَقَالَ حَكِيمٌ وَاللَّهِ مَا أُرَى أَمْوَالَكُمْ تَسَعُ لِهَذِهِ. فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَكَ إِنْ كَانَتْ أَلْفَىْ أَلْفٍ وَمِائَتَىْ أَلْفٍ قَالَ مَا أُرَاكُمْ تُطِيقُونَ هَذَا، فَإِنْ عَجَزْتُمْ عَنْ شَىْءٍ مِنْهُ فَاسْتَعِينُوا بِي. قَالَ وَكَانَ الزُّبَيْرُ اشْتَرَى الْغَابَةَ بِسَبْعِينَ وَمِائَةِ أَلْفٍ، فَبَاعَهَا عَبْدُ اللَّهِ بِأَلْفِ أَلْفٍ وَسِتِّمِائَةِ أَلْفٍ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ حَقٌّ فَلْيُوَافِنَا بِالْغَابَةِ، فَأَتَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَكَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ أَرْبَعُمِائَةِ أَلْفٍ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ إِنْ شِئْتُمْ تَرَكْتُهَا لَكُمْ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ. قَالَ فَإِنْ شِئْتُمْ جَعَلْتُمُوهَا فِيمَا تُؤَخِّرُونَ إِنْ أَخَّرْتُمْ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ. قَالَ قَالَ فَاقْطَعُوا لِي قِطْعَةً. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَكَ مِنْ هَا هُنَا إِلَى هَا هُنَا. قَالَ فَبَاعَ مِنْهَا فَقَضَى دَيْنَهُ فَأَوْفَاهُ، وَبَقِيَ مِنْهَا أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ وَنِصْفٌ، فَقَدِمَ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ وَالْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَابْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ كَمْ قُوِّمَتِ الْغَابَةُ قَالَ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ أَلْفٍ. قَالَ كَمْ بَقِيَ قَالَ أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ وَنِصْفٌ. قَالَ الْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ. قَالَ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ. وَقَالَ ابْنُ زَمْعَةَ قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمْ بَقِيَ فَقَالَ سَهْمٌ وَنِصْفٌ. قَالَ أَخَذْتُهُ بِخَمْسِينَ وَمِائَةِ أَلْفٍ. قَالَ وَبَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ نَصِيبَهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ بِسِتِّمِائَةِ أَلْفٍ، فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ قَضَاءِ دَيْنِهِ قَالَ بَنُو الزُّبَيْرِ اقْسِمْ بَيْنَنَا مِيرَاثَنَا. قَالَ لاَ، وَاللَّهِ لاَ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ حَتَّى أُنَادِيَ بِالْمَوْسِمِ أَرْبَعَ سِنِينَ أَلاَ مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا فَلْنَقْضِهِ. قَالَ فَجَعَلَ كَلَّ سَنَةٍ يُنَادِي بِالْمَوْسِمِ، فَلَمَّا مَضَى أَرْبَعُ سِنِينَ قَسَمَ بَيْنَهُمْ قَالَ فَكَانَ لِلزُّبَيْرِ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ، وَرَفَعَ الثُّلُثَ، فَأَصَابَ كُلَّ امْرَأَةٍ أَلْفُ أَلْفٍ وَمِائَتَا أَلْفٍ، فَجَمِيعُ مَالِهِ خَمْسُونَ أَلْفَ أَلْفٍ وَمِائَتَا أَلْفٍ.
Narrated `Abdullah bin Az-Zubair:When Az-Zubair got up during the battle of Al-Jamal, he called me and I stood up beside him, and he said to me, "O my son! Today one will be killed either as an oppressor or as an oppressed one. I see that I will be killed as an oppressed one. My biggest worry is my debts. Do you think, if we pay the debts, there will be something left for us from our money?" Az-Zubair added, "O my son! Sell our property and pay my debts." Az-Zubair then willed one-third of his property and willed one-third of that portion to his sons; namely, `Abdullah's sons. He said, "One-third of the one third. If any property is left after the payment of the debts, one-third (of the one-third of what is left) is to be given to your sons." (Hisham, a sub-narrator added, "Some of the sons of `Abdullah were equal in age to the sons of Az-Zubair e.g. Khubaib and `Abbas. `Abdullah had nine sons and nine daughters at that time." (The narrator `Abdullah added:) My father (Az-Zubair) went on drawing my attention to his debts saying, "If you should fail to pay part of the debts, appeal to my Master to help you." By Allah! I could not understand what he meant till I asked, "O father! Who is your Master?" He replied, "Allah (is my Master)." By Allah, whenever I had any difficulty regarding his debts, I would say, "Master of Az-Zubair! Pay his debts on his behalf ." and Allah would (help me to) pay it. Az-Zubair was martyred leaving no Dinar or Dirham but two pieces of land, one of which was (called) Al-Ghaba, and eleven houses in Medina, two in Basra, one in Kufa and one in Egypt. In fact, the source of the debt which he owed was, that if somebody brought some money to deposit with him. Az-Zubair would say, "No, (i won't keep it as a trust), but I take it as a debt, for I am afraid it might be lost." Az-Zubair was never appointed governor or collector of the tax of Kharaj or any other similar thing, but he collected his wealth (from the war booty he gained) during the holy battles he took part in, in the company of the Prophet, Abu Bakr, `Umar, and `Uthman. (`Abdullah bin Az-Zubair added:) When I counted his debt, it turned to be two million and two hundred thousand. (The sub-narrator added:) Hakim bin Hizam met `Abdullah bin Zubair and asked, "O my nephew! How much is the debt of my brother?" `Abdullah kept it as a secret and said, "One hundred thousand," Hakim said, "By Allah! I don't think your property will cover it." On that `Abdullah said to him, "What if it is two million and two hundred thousand?" Hakim said, "I don't think you can pay it; so if you are unable to pay all of it, I will help you." Az-Zubair had already bought Al-Ghaba for one hundred and seventy thousand. `Abdullah sold it for one million and six hundred thousand. Then he called the people saying, "Any person who has any money claim on Az-Zubair should come to us in Al-Ghaba." There came to him `Abdullah bin Ja`far whom Az-Zubair owed four hundred thousand. He said to `Abdullah bin Az-Zubair, "If you wish I will forgive you the debt." `Abdullah (bin Az-Zubair) said, "No." Then Ibn Ja`far said, "If you wish you can defer the payment if you should defer the payment of any debt." Ibn Az-Zubair said, "No." `Abdullah bin Ja`far said, "Give me a piece of the land." `Abdullah bin Az-Zubair said (to him), "Yours is the land extending from this place to this place." So, `Abdullah bin Az-Zubair sold some of the property (including the houses) and paid his debt perfectly, retaining four and a half shares from the land (i.e. Al-Ghaba). He then went to Mu'awiya while `Amr bin `Uthman, Al-Mundhir bin Az-Zubair and Ibn Zam`a were sitting with him. Mu'awiya asked, "At what price have you appraised Al-Ghaba?" He said, "One hundred thousand for each share," Muawiya asked, "How many shares have been left?" `Abdullah replied, "Four and a half shares." Al-Mundhir bin Az-Zubair said, "I would like to buy one share for one hundred thousand." `Amr bin `Uthman said, "I would like to buy one share for one hundred thousand." Ibn Zam`a said, "I would like to buy one share for one hundred thousand." Muawiya said, "How much is left now?" `Abdullah replied, "One share and a half." Muawiya said, "I would like to buy it for one hundred and fifty thousand." `Abdullah also sold his part to Muawiya for six hundred thousand. When Ibn Az-Zubair had paid all the debts. Az-Zubair's sons said to him, "Distribute our inheritance among us." He said, "No, by Allah, I will not distribute it among you till I announce in four successive Hajj seasons, 'Would those who have money claims on Az-Zubair come so that we may pay them their debt." So, he started to announce that in public in every Hajj season, and when four years had elapsed, he distributed the inheritance among the inheritors. Az-Zubair had four wives, and after the one-third of his property was excluded (according to the will), each of his wives received one million and two hundred thousand. So the total amount of his property was fifty million and two hundred thousand
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا ‘ کیا آپ لوگوں سے ہشام بن عروہ نے یہ حدیث اپنے والد سے بیان کی ہے کہ ان سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جمل کی جنگ کے موقع پر جب زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تو مجھے بلایا میں ان کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا ‘ انہوں نے کہا بیٹے! آج کی لڑائی میں ظالم مارا جائے گا یا مظلوم میں سمجھتا ہوں کہ آج میں مظلوم قتل کیا جاؤں گا اور مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے قرضوں کی ہے۔ کیا تمہیں بھی کچھ اندازہ ہے کہ قرض ادا کرنے کے بعد ہمارا کچھ مال بچ سکے گا؟ پھر انہوں نے کہا بیٹے! ہمارا مال فروخت کر کے اس سے قرض ادا کر دینا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک تہائی کی میرے لیے اور اس تہائی کے تیسرے حصہ کی وصیت میرے بچوں کے لیے کی ‘ یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بچوں کے لیے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ اس تہائی کے تین حصے کر لینا اور اگر قرض کی ادائیگی کے بعد ہمارے اموال میں سے کچھ بچ جائے تو اس کا ایک تہائی تمہارے بچوں کے لیے ہو گا۔ ہشام راوی نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بعض لڑکے زبیر رضی اللہ عنہ کے لڑکوں کے ہم عمر تھے۔ جیسے خبیب اور عباد۔ اور زبیر رضی اللہ عنہ کے اس وقت نو لڑکے اور نو لڑکیاں تھیں۔ عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا کہ پھر زبیر رضی اللہ عنہ مجھے اپنے قرض کے سلسلے میں وصیت کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ بیٹا! اگر قرض ادا کرنے سے عاجز ہو جاؤ تو میرے مالک و مولا سے اس میں مدد چاہنا۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ قسم اللہ کی! میں ان کی بات نہ سمجھ سکا ‘ میں نے پوچھا کہ بابا آپ کے مولا کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ پاک! عبداللہ نے بیان کیا ‘ قسم اللہ کی! قرض ادا کرنے میں جو بھی دشواری سامنے آئی تو میں نے اسی طرح دعا کی ‘ کہ اے زبیر کے مولا! ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کرا دے اور ادائیگی کی صورت پیدا ہو جاتی تھی۔ چنانچہ جب زبیر رضی اللہ عنہ ( اسی موقع پر ) شہید ہو گئے تو انہوں نے ترکہ میں درہم و دینار نہیں چھوڑے بلکہ ان کا ترکہ کچھ تو اراضی کی صورت میں تھا اور اسی میں غابہ کی زمین بھی شامل تھی۔ گیارہ مکانات مدینہ میں تھے ‘ دو مکان بصرہ میں تھے ‘ ایک مکان کوفہ میں تھا اور ایک مصر میں تھا۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ ان پر جو اتنا سارا قرض ہو گیا تھا اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ جب ان کے پاس کوئی شخص اپنا مال لے کر امانت رکھنے آتا تو آپ اسے کہتے کہ نہیں البتہ اس صورت میں رکھ سکتا ہوں کہ یہ میرے ذمے بطور قرض رہے۔ کیونکہ مجھے اس کے ضائع ہو جانے کا بھی خوف ہے۔ زبیر رضی اللہ عنہ کسی علاقے کے امیر کبھی نہیں بنے تھے۔ نہ وہ خراج وصول کرنے پر کبھی مقرر ہوئے اور نہ کوئی دوسرا عہدہ انہوں نے قبول کیا ‘ البتہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سات
Sahih al-Bukhari 57:38sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ أَحَدَّثَكُمْ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ لَمَّا وَقَفَ الزُّبَيْرُ يَوْمَ الْجَمَلِ دَعَانِي، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَقَالَ يَا بُنَىِّ، إِنَّهُ لاَ يُقْتَلُ الْيَوْمَ إِلاَّ ظَالِمٌ أَوْ مَظْلُومٌ، وَإِنِّي لاَ أُرَانِي إِلاَّ سَأُقْتَلُ الْيَوْمَ مَظْلُومًا، وَإِنَّ مِنْ أَكْبَرِ هَمِّي لَدَيْنِي، أَفَتُرَى يُبْقِي دَيْنُنَا مِنْ مَالِنَا شَيْئًا فَقَالَ يَا بُنَىِّ بِعْ مَالَنَا فَاقْضِ دَيْنِي. وَأَوْصَى بِالثُّلُثِ، وَثُلُثِهِ لِبَنِيهِ، يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ ثُلُثُ الثُّلُثِ، فَإِنْ فَضَلَ مِنْ مَالِنَا فَضْلٌ بَعْدَ قَضَاءِ الدَّيْنِ شَىْءٌ فَثُلُثُهُ لِوَلَدِكَ. قَالَ هِشَامٌ وَكَانَ بَعْضُ وَلَدِ عَبْدِ اللَّهِ قَدْ وَازَى بَعْضَ بَنِي الزُّبَيْرِ خُبَيْبٌ وَعَبَّادٌ، وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَةُ بَنِينَ وَتِسْعُ بَنَاتٍ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَجَعَلَ يُوصِينِي بِدَيْنِهِ وَيَقُولُ يَا بُنَىِّ، إِنْ عَجَزْتَ عَنْهُ فِي شَىْءٍ فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ مَوْلاَىَ. قَالَ فَوَاللَّهِ مَا دَرَيْتُ مَا أَرَادَ حَتَّى قُلْتُ يَا أَبَتِ مَنْ مَوْلاَكَ قَالَ اللَّهُ. قَالَ فَوَاللَّهِ مَا وَقَعْتُ فِي كُرْبَةٍ مِنْ دَيْنِهِ إِلاَّ قُلْتُ يَا مَوْلَى الزُّبَيْرِ، اقْضِ عَنْهُ دَيْنَهُ. فَيَقْضِيهِ، فَقُتِلَ الزُّبَيْرُ ـ رضى الله عنه ـ وَلَمْ يَدَعْ دِينَارًا وَلاَ دِرْهَمًا، إِلاَّ أَرَضِينَ مِنْهَا الْغَابَةُ، وَإِحْدَى عَشْرَةَ دَارًا بِالْمَدِينَةِ، وَدَارَيْنِ بِالْبَصْرَةِ، وَدَارًا بِالْكُوفَةِ، وَدَارًا بِمِصْرَ. قَالَ وَإِنَّمَا كَانَ دَيْنُهُ الَّذِي عَلَيْهِ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَأْتِيهِ بِالْمَالِ فَيَسْتَوْدِعُهُ إِيَّاهُ فَيَقُولُ الزُّبَيْرُ لاَ وَلَكِنَّهُ سَلَفٌ، فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْهِ الضَّيْعَةَ، وَمَا وَلِيَ إِمَارَةً قَطُّ وَلاَ جِبَايَةَ خَرَاجٍ وَلاَ شَيْئًا، إِلاَّ أَنْ يَكُونَ فِي غَزْوَةٍ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ ـ رضى الله عنهم ـ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَحَسَبْتُ مَا عَلَيْهِ مِنَ الدَّيْنِ فَوَجَدْتُهُ أَلْفَىْ أَلْفٍ وَمِائَتَىْ أَلْفٍ قَالَ فَلَقِيَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي، كَمْ عَلَى أَخِي مِنَ الدَّيْنِ فَكَتَمَهُ. فَقَالَ مِائَةُ أَلْفٍ. فَقَالَ حَكِيمٌ وَاللَّهِ مَا أُرَى أَمْوَالَكُمْ تَسَعُ لِهَذِهِ. فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَكَ إِنْ كَانَتْ أَلْفَىْ أَلْفٍ وَمِائَتَىْ أَلْفٍ قَالَ مَا أُرَاكُمْ تُطِيقُونَ هَذَا، فَإِنْ عَجَزْتُمْ عَنْ شَىْءٍ مِنْهُ فَاسْتَعِينُوا بِي. قَالَ وَكَانَ الزُّبَيْرُ اشْتَرَى الْغَابَةَ بِسَبْعِينَ وَمِائَةِ أَلْفٍ، فَبَاعَهَا عَبْدُ اللَّهِ بِأَلْفِ أَلْفٍ وَسِتِّمِائَةِ أَلْفٍ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ حَقٌّ فَلْيُوَافِنَا بِالْغَابَةِ، فَأَتَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَكَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ أَرْبَعُمِائَةِ أَلْفٍ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ إِنْ شِئْتُمْ تَرَكْتُهَا لَكُمْ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ. قَالَ فَإِنْ شِئْتُمْ جَعَلْتُمُوهَا فِيمَا تُؤَخِّرُونَ إِنْ أَخَّرْتُمْ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ. قَالَ قَالَ فَاقْطَعُوا لِي قِطْعَةً. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَكَ مِنْ هَا هُنَا إِلَى هَا هُنَا. قَالَ فَبَاعَ مِنْهَا فَقَضَى دَيْنَهُ فَأَوْفَاهُ، وَبَقِيَ مِنْهَا أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ وَنِصْفٌ، فَقَدِمَ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ وَالْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَابْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ كَمْ قُوِّمَتِ الْغَابَةُ قَالَ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ أَلْفٍ. قَالَ كَمْ بَقِيَ قَالَ أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ وَنِصْفٌ. قَالَ الْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ. قَالَ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ. وَقَالَ ابْنُ زَمْعَةَ قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمْ بَقِيَ فَقَالَ سَهْمٌ وَنِصْفٌ. قَالَ أَخَذْتُهُ بِخَمْسِينَ وَمِائَةِ أَلْفٍ. قَالَ وَبَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ نَصِيبَهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ بِسِتِّمِائَةِ أَلْفٍ، فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ قَضَاءِ دَيْنِهِ قَالَ بَنُو الزُّبَيْرِ اقْسِمْ بَيْنَنَا مِيرَاثَنَا. قَالَ لاَ، وَاللَّهِ لاَ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ حَتَّى أُنَادِيَ بِالْمَوْسِمِ أَرْبَعَ سِنِينَ أَلاَ مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا فَلْنَقْضِهِ. قَالَ فَجَعَلَ كَلَّ سَنَةٍ يُنَادِي بِالْمَوْسِمِ، فَلَمَّا مَضَى أَرْبَعُ سِنِينَ قَسَمَ بَيْنَهُمْ قَالَ فَكَانَ لِلزُّبَيْرِ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ، وَرَفَعَ الثُّلُثَ، فَأَصَابَ كُلَّ امْرَأَةٍ أَلْفُ أَلْفٍ وَمِائَتَا أَلْفٍ، فَجَمِيعُ مَالِهِ خَمْسُونَ أَلْفَ أَلْفٍ وَمِائَتَا أَلْفٍ.
Narrated `Abdullah bin Az-Zubair:When Az-Zubair got up during the battle of Al-Jamal, he called me and I stood up beside him, and he said to me, "O my son! Today one will be killed either as an oppressor or as an oppressed one. I see that I will be killed as an oppressed one. My biggest worry is my debts. Do you think, if we pay the debts, there will be something left for us from our money?" Az-Zubair added, "O my son! Sell our property and pay my debts." Az-Zubair then willed one-third of his property and willed one-third of that portion to his sons; namely, `Abdullah's sons. He said, "One-third of the one third. If any property is left after the payment of the debts, one-third (of the one-third of what is left) is to be given to your sons." (Hisham, a sub-narrator added, "Some of the sons of `Abdullah were equal in age to the sons of Az-Zubair e.g. Khubaib and `Abbas. `Abdullah had nine sons and nine daughters at that time." (The narrator `Abdullah added:) My father (Az-Zubair) went on drawing my attention to his debts saying, "If you should fail to pay part of the debts, appeal to my Master to help you." By Allah! I could not understand what he meant till I asked, "O father! Who is your Master?" He replied, "Allah (is my Master)." By Allah, whenever I had any difficulty regarding his debts, I would say, "Master of Az-Zubair! Pay his debts on his behalf ." and Allah would (help me to) pay it. Az-Zubair was martyred leaving no Dinar or Dirham but two pieces of land, one of which was (called) Al-Ghaba, and eleven houses in Medina, two in Basra, one in Kufa and one in Egypt. In fact, the source of the debt which he owed was, that if somebody brought some money to deposit with him. Az-Zubair would say, "No, (i won't keep it as a trust), but I take it as a debt, for I am afraid it might be lost." Az-Zubair was never appointed governor or collector of the tax of Kharaj or any other similar thing, but he collected his wealth (from the war booty he gained) during the holy battles he took part in, in the company of the Prophet, Abu Bakr, `Umar, and `Uthman. (`Abdullah bin Az-Zubair added:) When I counted his debt, it turned to be two million and two hundred thousand. (The sub-narrator added:) Hakim bin Hizam met `Abdullah bin Zubair and asked, "O my nephew! How much is the debt of my brother?" `Abdullah kept it as a secret and said, "One hundred thousand," Hakim said, "By Allah! I don't think your property will cover it." On that `Abdullah said to him, "What if it is two million and two hundred thousand?" Hakim said, "I don't think you can pay it; so if you are unable to pay all of it, I will help you." Az-Zubair had already bought Al-Ghaba for one hundred and seventy thousand. `Abdullah sold it for one million and six hundred thousand. Then he called the people saying, "Any person who has any money claim on Az-Zubair should come to us in Al-Ghaba." There came to him `Abdullah bin Ja`far whom Az-Zubair owed four hundred thousand. He said to `Abdullah bin Az-Zubair, "If you wish I will forgive you the debt." `Abdullah (bin Az-Zubair) said, "No." Then Ibn Ja`far said, "If you wish you can defer the payment if you should defer the payment of any debt." Ibn Az-Zubair said, "No." `Abdullah bin Ja`far said, "Give me a piece of the land." `Abdullah bin Az-Zubair said (to him), "Yours is the land extending from this place to this place." So, `Abdullah bin Az-Zubair sold some of the property (including the houses) and paid his debt perfectly, retaining four and a half shares from the land (i.e. Al-Ghaba). He then went to Mu'awiya while `Amr bin `Uthman, Al-Mundhir bin Az-Zubair and Ibn Zam`a were sitting with him. Mu'awiya asked, "At what price have you appraised Al-Ghaba?" He said, "One hundred thousand for each share," Muawiya asked, "How many shares have been left?" `Abdullah replied, "Four and a half shares." Al-Mundhir bin Az-Zubair said, "I would like to buy one share for one hundred thousand." `Amr bin `Uthman said, "I would like to buy one share for one hundred thousand." Ibn Zam`a said, "I would like to buy one share for one hundred thousand." Muawiya said, "How much is left now?" `Abdullah replied, "One share and a half." Muawiya said, "I would like to buy it for one hundred and fifty thousand." `Abdullah also sold his part to Muawiya for six hundred thousand. When Ibn Az-Zubair had paid all the debts. Az-Zubair's sons said to him, "Distribute our inheritance among us." He said, "No, by Allah, I will not distribute it among you till I announce in four successive Hajj seasons, 'Would those who have money claims on Az-Zubair come so that we may pay them their debt." So, he started to announce that in public in every Hajj season, and when four years had elapsed, he distributed the inheritance among the inheritors. Az-Zubair had four wives, and after the one-third of his property was excluded (according to the will), each of his wives received one million and two hundred thousand. So the total amount of his property was fifty million and two hundred thousand
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا ‘ کیا آپ لوگوں سے ہشام بن عروہ نے یہ حدیث اپنے والد سے بیان کی ہے کہ ان سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جمل کی جنگ کے موقع پر جب زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تو مجھے بلایا میں ان کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا ‘ انہوں نے کہا بیٹے! آج کی لڑائی میں ظالم مارا جائے گا یا مظلوم میں سمجھتا ہوں کہ آج میں مظلوم قتل کیا جاؤں گا اور مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے قرضوں کی ہے۔ کیا تمہیں بھی کچھ اندازہ ہے کہ قرض ادا کرنے کے بعد ہمارا کچھ مال بچ سکے گا؟ پھر انہوں نے کہا بیٹے! ہمارا مال فروخت کر کے اس سے قرض ادا کر دینا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک تہائی کی میرے لیے اور اس تہائی کے تیسرے حصہ کی وصیت میرے بچوں کے لیے کی ‘ یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بچوں کے لیے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ اس تہائی کے تین حصے کر لینا اور اگر قرض کی ادائیگی کے بعد ہمارے اموال میں سے کچھ بچ جائے تو اس کا ایک تہائی تمہارے بچوں کے لیے ہو گا۔ ہشام راوی نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بعض لڑکے زبیر رضی اللہ عنہ کے لڑکوں کے ہم عمر تھے۔ جیسے خبیب اور عباد۔ اور زبیر رضی اللہ عنہ کے اس وقت نو لڑکے اور نو لڑکیاں تھیں۔ عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا کہ پھر زبیر رضی اللہ عنہ مجھے اپنے قرض کے سلسلے میں وصیت کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ بیٹا! اگر قرض ادا کرنے سے عاجز ہو جاؤ تو میرے مالک و مولا سے اس میں مدد چاہنا۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ قسم اللہ کی! میں ان کی بات نہ سمجھ سکا ‘ میں نے پوچھا کہ بابا آپ کے مولا کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ پاک! عبداللہ نے بیان کیا ‘ قسم اللہ کی! قرض ادا کرنے میں جو بھی دشواری سامنے آئی تو میں نے اسی طرح دعا کی ‘ کہ اے زبیر کے مولا! ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کرا دے اور ادائیگی کی صورت پیدا ہو جاتی تھی۔ چنانچہ جب زبیر رضی اللہ عنہ ( اسی موقع پر ) شہید ہو گئے تو انہوں نے ترکہ میں درہم و دینار نہیں چھوڑے بلکہ ان کا ترکہ کچھ تو اراضی کی صورت میں تھا اور اسی میں غابہ کی زمین بھی شامل تھی۔ گیارہ مکانات مدینہ میں تھے ‘ دو مکان بصرہ میں تھے ‘ ایک مکان کوفہ میں تھا اور ایک مصر میں تھا۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ ان پر جو اتنا سارا قرض ہو گیا تھا اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ جب ان کے پاس کوئی شخص اپنا مال لے کر امانت رکھنے آتا تو آپ اسے کہتے کہ نہیں البتہ اس صورت میں رکھ سکتا ہوں کہ یہ میرے ذمے بطور قرض رہے۔ کیونکہ مجھے اس کے ضائع ہو جانے کا بھی خوف ہے۔ زبیر رضی اللہ عنہ کسی علاقے کے امیر کبھی نہیں بنے تھے۔ نہ وہ خراج وصول کرنے پر کبھی مقرر ہوئے اور نہ کوئی دوسرا عہدہ انہوں نے قبول کیا ‘ البتہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سات
Sahih al-Bukhari 60:147sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَانَ الرَّجُلُ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهُ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا. قَالَ فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "A man used to give loans to the people and used to say to his servant, 'If the debtor is poor, forgive him, so that Allah may forgive us.' So when he met Allah (after his death), Allah forgave him
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ان سے ابن شہاب نے ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوکروں کو اس نے یہ کہہ رکھا تھا کہ جب تم کسی کو مفلس پاؤ ( جو میرا قرض دار ہو ) تو اسے معاف کر دیا کرو۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ بھی ہمیں معاف فرما دے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملا تو اللہ نے اسے بخش دیا۔“
Sahih al-Bukhari 61:89sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرٌ، قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرٌ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ أَبَاهُ، تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ إِنَّ أَبِي تَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا وَلَيْسَ عِنْدِي إِلاَّ مَا يُخْرِجُ نَخْلُهُ، وَلاَ يَبْلُغُ مَا يُخْرِجُ سِنِينَ مَا عَلَيْهِ، فَانْطَلِقْ مَعِي لِكَىْ لاَ يُفْحِشَ عَلَىَّ الْغُرَمَاءُ. فَمَشَى حَوْلَ بَيْدَرٍ مِنْ بَيَادِرِ التَّمْرِ فَدَعَا ثَمَّ آخَرَ، ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ فَقَالَ " انْزِعُوهُ ". فَأَوْفَاهُمُ الَّذِي لَهُمْ، وَبَقِيَ مِثْلُ مَا أَعْطَاهُمْ.
Narrated Jabir:My father had died in debt. So I came to the Prophet (ﷺ) and said, "My father (died) leaving unpaid debts, and I have nothing except the yield of his date palms; and their yield for many years will not cover his debts. So please come with me, so that the creditors may not misbehave with me." The Prophet (ﷺ) went round one of the heaps of dates and invoked (Allah), and then did the same with another heap and sat on it and said, "Measure (for them)." He paid them their rights and what remained was as much as had been paid to them
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے عامر نے، کہا کہ مجھ سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے والد ( عبداللہ بن عمرو بن حرام، جنگ احد میں ) شہید ہو گئے تھے۔ اور وہ مقروض تھے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا کہ میرے والد اپنے اوپر قرض چھوڑ گئے۔ ادھر میرے پاس سوا اس پیداوار کے جو کھجوروں سے ہو گی اور کچھ نہیں ہے اور اس کی پیداوار سے تو برسوں میں قرض ادا نہیں ہو سکتا۔ اس لیے آپ میرے ساتھ تشریف لے چلیے تاکہ قرض خواہ آپ کو دیکھ کر زیادہ منہ نہ پھاڑیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ( لیکن وہ نہیں مانے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے جو ڈھیر لگے ہوئے تھے پہلے ان میں سے ایک کے چاروں طرف چلے اور دعا کی۔ اسی طرح دوسرے ڈھیر کے بھی۔ پھر آپ اس پر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ کھجوریں نکال کر انہیں دو۔ چنانچہ سارا قرض ادا ہو گیا اور جتنی کھجوریں قرض میں دی تھیں اتنی ہی بچ گئیں۔
Sahih al-Bukhari 64:99sahih
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما أَنَّ أَبَاهُ، اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا، وَتَرَكَ سِتَّ بَنَاتٍ، فَلَمَّا حَضَرَ جِذَاذُ النَّخْلِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ وَالِدِي قَدِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ دَيْنًا كَثِيرًا، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَرَاكَ الْغُرَمَاءُ. فَقَالَ " اذْهَبْ فَبَيْدِرْ كُلَّ تَمْرٍ عَلَى نَاحِيَةٍ ". فَفَعَلْتُ ثُمَّ دَعَوْتُهُ، فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ كَأَنَّهُمْ أُغْرُوا بِي تِلْكَ السَّاعَةَ، فَلَمَّا رَأَى مَا يَصْنَعُونَ أَطَافَ حَوْلَ أَعْظَمِهَا بَيْدَرًا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ " ادْعُ لَكَ أَصْحَابَكَ ". فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّى اللَّهُ عَنْ وَالِدِي أَمَانَتَهُ، وَأَنَا أَرْضَى أَنْ يُؤَدِّيَ اللَّهُ أَمَانَةَ وَالِدِي، وَلاَ أَرْجِعَ إِلَى أَخَوَاتِي بِتَمْرَةٍ، فَسَلَّمَ اللَّهُ الْبَيَادِرَ كُلَّهَا وَحَتَّى إِنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْبَيْدَرِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّهَا لَمْ تَنْقُصْ تَمْرَةً وَاحِدَةً.
Narrated Jabir bin `Abdullah:That his father was martyred on the day of the battle of Uhud and was in debt and left six (orphan) daughters. Jabir, added, "When the season of plucking the dates came, I went to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "You know that my father was martyred on the day of Uhud, and he was heavily in debt, and I would like that the creditors should see you." The Prophet (ﷺ) said, "Go and pile every kind of dates apart." I did so and called him (i.e. the Prophet (ﷺ) ). When the creditors saw him, they started claiming their debts from me then in such a harsh manner (as they had never done before). So when he saw their attitude, he went round the biggest heap of dates thrice, and then sat over it and said, 'O Jabir), call your companions (i.e. the creditors).' Then he kept on measuring (and giving) to the creditors (their due) till Allah paid all the debt of my father. I would have been satisfied to retain nothing of those dates for my sisters after Allah had paid the debts of my father. But Allah saved all the heaps (of dates), so that when I looked at the heap where the Prophet (ﷺ) had been sitting, it seemed as if a single date had not been taken away thereof
ہم سے احمد بن ابی شریح نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ بن موسیٰ نے خبر دی، ان سے شیبان نے بیان کیا، ان سے فراس نے، ان سے شعبی نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ان کے والد ( عبداللہ رضی اللہ عنہ ) احد کی لڑائی میں شہید ہو گئے تھے اور قرض چھوڑ گئے تھے اور چھ لڑکیاں بھی۔ جب درختوں سے کھجور اتارے جانے کا وقت قریب آیا تو انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، میرے والد صاحب احد کی لڑائی میں شہید ہو گئے اور قرض چھوڑ گئے ہیں، میں چاہتا تھا کہ قرض خواہ آپ کو دیکھ لیں ( اور کچھ نرمی برتیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور ہر قسم کی کھجور کا الگ الگ ڈھیر لگا لو۔ میں نے حکم کے مطابق عمل کیا اور پھر آپ کو بلانے گیا۔ جب قرض خواہوں نے آپ کو دیکھا تو جیسے اس وقت مجھ پر اور زیادہ بھڑک اٹھے۔ ( کیونکہ وہ یہودی تھے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کا یہ طرز عمل دیکھا تو آپ پہلے سب سے بڑے ڈھیر کے چاروں طرف تین مرتبہ گھومے۔ اس کے بعد اس پر بیٹھ گئے اور فرمایا اپنے قرض خواہوں کو بلا لاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر انہیں ناپ کے دیتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی طرف سے ان کی ساری امانت ادا کر دی۔ میں اس پر خوش تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے والد کی امانت ادا کرا دے اور میں اپنی بہنوں کے لیے ایک کھجور بھی نہ لے جاؤں لیکن اللہ تعالیٰ نے تمام دوسرے ڈھیر بچا دیئے بلکہ اس ڈھیر کو بھی جب دیکھا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ جیسے اس میں سے ایک کھجور کا دانہ بھی کم نہیں ہوا۔
Sahih al-Bukhari 64:406sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، سَمِعَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ قَدْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا ثَلاَثًا ". فَلَمْ يَقْدَمْ مَالُ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم دَيْنٌ أَوْ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنِي. قَالَ جَابِرٌ فَجِئْتُ أَبَا بَكْرٍ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا ثَلاَثًا ". قَالَ فَأَعْطَانِي. قَالَ جَابِرٌ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ فَسَأَلْتُهُ، فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ الثَّالِثَةَ فَلَمْ يُعْطِنِي، فَقُلْتُ لَهُ قَدْ أَتَيْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، فَإِمَّا أَنْ تُعْطِيَنِي، وَإِمَّا أَنْ تَبْخَلَ عَنِّي. فَقَالَ أَقُلْتَ تَبْخَلُ عَنِّي وَأَىُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ ـ قَالَهَا ثَلاَثًا ـ مَا مَنَعْتُكَ مِنْ مَرَّةٍ إِلاَّ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَكَ. وَعَنْ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ جِئْتُهُ، فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ عُدَّهَا. فَعَدَدْتُهَا فَوَجَدْتُهَا خَمْسَمِائَةٍ، فَقَالَ خُذْ مِثْلَهَا مَرَّتَيْنِ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ) said to me, "If the revenue of Al-Bahrain should come, I will give you so much and so much," repeating "so much" thrice. But the revenue of Al-Bahrain did not come till Allah's Messenger (ﷺ) had died. When the revenue came during the rule of Abu Bakr. Abu Bakr ordered an announcer to announce, "Whoever had any debt or promise due upon the Prophet, should present himself to me (i.e. Abu Bakr). I came to Abu Bakr and informed him that the Prophet (ﷺ) had said (to me), "If the revenue of Al-Bahrain should come, I will give you so-much and so much," repeating "so much" thrice. So Abu Bakr gave me. (In another narration Jabir said:) I met Abu Bakr after that and asked him (to give me what the Prophet (ﷺ) had promised me) but he did not give me. I again went to him but he did not give me. I again went to him (for the third time) but he did not give me, On that I said to him, "I came to you but you did not give me, then I came to you and you did not give me, and then again I came to you, but you did not give me; so you should either give me or else you are like a miserly to me. On that, Abu Bakr said, "Do you say, 'You are like a miserly to me?' There is no worse disease than miserliness." Abu Bakr said it thrice and added, "Whenever I refused to give you, I had the intention of giving you." (In another narration) Jabir bin `Abdullah said, "I went to Abu Bakr (and he gave me a handful of money) and told me to count it, I counted and found it five-hundred, and then Abu Bakr said (to me), "Take the same amount twice
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ انہوں نے محمد بن المنکدر سے سنا، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا جب میرے پاس بحرین سے روپیہ آئے گا تو میں تمہیں اتنا اتنا تین لپ بھر کر روپیہ دوں گا، لیکن بحرین سے جس وقت روپیہ آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی تھی۔ اس لیے وہ روپیہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہوں نے اعلان کروا دیا کہ اگر کسی کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض یا کسی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی وعدہ ہو تو وہ میرے پاس آئے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ان کے یہاں آ گیا اور انہیں بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر بحرین سے میرے پاس روپیہ آیا تو میں تمہیں اتنا اتنا تین لپ بھر کر دوں گا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے ان سے ملاقات کی اور ان سے اس کے متعلق کہا لیکن انہوں نے اس مرتبہ مجھے نہیں دیا۔ میں پھر ان کے یہاں گیا اس مرتبہ بھی انہوں نے نہیں دیا۔ میں تیسری مرتبہ گیا، اس مرتبہ بھی انہوں نے نہیں دیا۔ اس لیے میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کے یہاں ایک مرتبہ آیا۔ آپ نے نہیں دیا، پھر آیا اور آپ نے نہیں دیا۔ پھر تیسری مرتبہ آیا ہوں اور آپ اس مرتبہ بھی نہیں دے رہے ہیں۔ اگر آپ کو مجھے دینا ہے تو دے دیجئیے ورنہ صاف کہہ دیجئیے کہ میرا دل دینے کو نہیں چاہتا، میں بخیل ہوں۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے کہا ہے کہ میرے معاملہ میں بخل کر لو، بھلا بخل سے بڑھ کر اور کیا عیب ہو سکتا ہے۔ تین مرتبہ انہوں نے یہ جملہ دہرایا اور کہا میں نے تمہیں جب بھی ٹالا تو میرا ارادہ یہی تھا کہ بہرحال تمہیں دینا ہے۔ اور اسی سند سے عمرو بن دینار سے روایت ہے، ان سے محمد بن علی باقر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں حاضر ہوا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک لپ بھر کر روپیہ دیا اور کہا کہ اسے گن لو۔ میں نے گنا تو پانچ سو تھا۔ فرمایا کہ دو مرتبہ اتنا ہی اور لے لو۔
Sahih al-Bukhari 65:254sahih
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَمِعْتُ خَبَّابًا، قَالَ جِئْتُ الْعَاصِيَ بْنَ وَائِلٍ السَّهْمِيَّ أَتَقَاضَاهُ حَقًّا لِي عِنْدَهُ، فَقَالَ لاَ أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ فَقُلْتُ لاَ حَتَّى تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ. قَالَ وَإِنِّي لَمَيِّتٌ ثُمَّ مَبْعُوثٌ قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ إِنَّ لِي هُنَاكَ مَالاً وَوَلَدًا فَأَقْضِيكَهُ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالاً وَوَلَدًا} رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ وَحَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ عَنِ الأَعْمَشِ.
Narrated Khabbab:I came to Al-`Asi bin Wail As-Sahmi and demanded something which he owed me. He said, "I will not give you (your money) till you disbelieve in Muhammad." I said, "No, I shall not disbelieve in Muhammad till you die and then be resurrected." He said, "Will I die and then be resurrected?" I said, 'Yes'. He said', "Then I will have wealth and children there, and I will pay you (there)." So this Verse was revealed:-- 'Have you then seen him who disbelieved in Our Signs and (yet) says: I shall certainly be given wealth and children?
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوالضحیٰ (مسلم بن صبیح) نے، ان سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا کہ میں نے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں عاص بن وائل سہمی کے پاس اپنا حق مانگنے گیا تو وہ کہنے لگا کہ جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کفر نہیں کرو گے میں تمہیں مزدوری نہیں دوں گا۔ میں نے اس پر کہا کہ یہ کبھی نہیں کر سکتا۔ یہاں تک کہ تم مرنے کے بعد پھر زندہ کئے جاؤ۔ اس پر وہ بولا، کیا مرنے کے بعد پھر مجھے زندہ کیا جائے گا؟ میں نے کہا ہاں، ضرور، کہنے لگا کہ پھر وہاں بھی میرے پاس مال اولاد ہو گی اور میں وہیں تمہاری مزدوری بھی دے دوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا» کہ ”بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جو ہماری نشانیوں سے کفر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے مال اور اولاد مل کر رہیں گے۔“ اس حدیث کو سفیان ثوری اور شعبہ اور حفص اور ابومعاویہ اور وکیع نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے۔
Sahih al-Bukhari 65:256sahih
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ لِي دَيْنٌ عَلَى الْعَاصِي بْنِ وَائِلٍ قَالَ فَأَتَاهُ يَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ لاَ أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ فَقَالَ وَاللَّهِ لاَ أَكْفُرُ حَتَّى يُمِيتَكَ اللَّهُ ثُمَّ تُبْعَثَ. قَالَ فَذَرْنِي حَتَّى أَمُوتَ ثُمَّ أُبْعَثَ، فَسَوْفَ أُوتَى مَالاً وَوَلَدًا، فَأَقْضِيكَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالاً وَوَلَدًا}
Narrated Masruq:Khabbab said, "During the pre-Islamic period, I was a blacksmith and Al-Asi bin Wail owed me a debt." So Khabbab went to him to demand the debt. He said, "I will not give you (your due) till you disbelieve in Muhammad." Khabbab said, "By Allah, I shall not disbelieve in Muhammad till Allah makes you die and then resurrects you." Al-Asi said, "So leave me till I die and then be resurrected, for I will be given wealth and children whereupon I will pay you your debt." So this Verse was revealed:-- 'Have you seen him who disbelieved in Our Signs and, (yet) says: I shall certainly be given wealth and children
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان اعمش نے، انہوں نے ابوالضحیٰ سے سنا، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں زمانہ جاہلیت میں لوہاری کا کام کرتا تھا اور عاص بن وائل پر میرا کچھ قرض تھا۔ بیان کیا کہ میں اس کے پاس اپنا قرض مانگنے گیا تو وہ کہنے لگا کہ جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کرتے، تمہاری مزدوری نہیں مل سکتی۔ میں نے اس پر جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں ہرگز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کر سکتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تجھے مار دے اور پھر تجھے دوبارہ زندہ کر دے۔ عاص کہنے لگا کہ پھر مرنے تک مجھ سے قرض نہ مانگو۔ مرنے کے بعد جب میں زندہ رہوں گا تو مجھے مال و اولاد بھی ملیں گے اور اس وقت تمہارا قرض ادا کر دوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا» لخ۔
Sahih al-Bukhari 65:257sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ كُنْتُ رَجُلاً قَيْنًا، وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِي بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ لِي لاَ أَقْضِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ. قَالَ قُلْتُ لَنْ أَكْفُرَ بِهِ حَتَّى تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ. قَالَ وَإِنِّي لَمَبْعُوثٌ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ فَسَوْفَ أَقْضِيكَ إِذَا رَجَعْتُ إِلَى مَالٍ وَوَلَدٍ. قَالَ فَنَزَلَتْ {أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالاً وَوَلَدًا * أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا * كَلاَّ سَنَكْتُبُ مَا يَقُولُ وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا * وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا}.
Narrated Khabbab:I was a blacksmith and Al-Asi Bin Wail owed me a debt, so I went to him to demand it. He said to me. "I will not pay you your debt till you disbelieve in Muhammad." I said, "I will not disbelieve in Muhammad till you die and then be resurrected." He said, "Will I be resurrected after my death? If so, I shall pay you (there) if I should find wealth and children." So there was revealed:-- 'Have you seen him who disbelieved in Our Signs, and yet says: I shall certainly be given wealth and children? Has he, known to the unseen or has he taken a covenant from (Allah) the Beneficent? Nay ! We shall record what he says, and we shall add and add to his punishment. And We shall inherit from him all that he talks of, and he shall appear before Us alone
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ بلخی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے خباب بن ارت نے بیان کیا کہ میں پہلے لوہار تھا اور عاص بن وائل پر میرا قرض چاہئے تھا۔ میں اس کے پاس تقاضا کرنے گیا تو کہنے لگا کہ جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پھر جاؤ گے تمہارا قرض نہیں دوں گا، میں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے ہرگز نہیں پھروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تجھے مار دے اور پھر زندہ کر دے۔ اس نے کہا کیا موت کے بعد میں دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا پھر تو مجھے مال و اولاد بھی مل جائیں گے اور اسی وقت تمہارا قرض بھی ادا کر دوں گا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس کے متعلق آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا * أطلع الغيب أم اتخذ عند الرحمن عهدا * كلا سنكتب ما يقول ونمد له من العذاب مدا * ونرثه ما يقول ويأتينا فردا» کہ ”بھلا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جو ہماری آیتوں کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے تو مال اور اولاد مل کر رہیں گے، تو کیا یہ غیب پر آگاہ ہو گیا ہے۔ یا اس نے خدائے رحمن سے کوئی عہد کر لیا ہے؟ ہرگز نہیں، البتہ ہم اس کا کہا ہوا بھی لکھ لیتے ہیں اور اس کے لیے عذاب بڑھاتے ہی چلے جائیں گے اور اس کی کہی ہوئی کے ہم ہی مالک ہوں گے اور وہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا۔“
Sahih al-Bukhari 65:303sahih
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ هِلاَلِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلاَّ وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ} فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ تَرَكَ مَالاً فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانُوا، فَإِنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضِيَاعًا فَلْيَأْتِنِي وَأَنَا مَوْلاَهُ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "There is no believer but I, of all the people, I am the closest to him both in this world and in the Hereafter. Recite if you wish: 'The Prophet (ﷺ) is closer to the believers than their own selves.' (33.6) so if a believer (dies) leaves some property then his relatives will inherit that property; but if he is in debt or he leaves poor children, let those (creditors and children) come to me (that I may pay the debt and provide for the children), for them I am his sponsor (surely)
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے، کہا مجھ سے میرے والد نے، ان سے ہلال بن علی نے اور ان سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مومن ایسا نہیں کہ میں خود اس کے نفس سے بھی زیادہ اس سے اور آخرت میں تعلق نہ رکھتا ہوں، اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو «النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم» کہ ”نبی مؤمنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہے۔“ پس جو مومن بھی ( مرنے کے بعد ) ترکہ مال و اسباب چھوڑے اور کوئی ان کا ولی وارث نہیں ہے اس کے عزیز و اقارب جو بھی ہوں، اس کے مال کے وارث ہوں گے، لیکن اگر کسی مومن نے کوئی قرض چھوڑا ہے یا اولاد چھوڑی ہے تو وہ میرے پاس آ جائیں ان کا ذمہ دار میں ہوں۔
Sahih al-Bukhari 69:21sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى عَلَيْهِ الدَّيْنُ، فَيَسْأَلُ " هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ فَضْلاً ". فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى، وَإِلاَّ قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ". فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَالَ " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ تُوُفِّيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَتَرَكَ دَيْنًا فَعَلَىَّ قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرَثَتِهِ ".
Narrated Abu Huraira:A dead man in debt used to be brought to Allah's Messenger (ﷺ) who would ask, "Has he left anything to re pay his debts?" If he was informed that he had left something to cover his debts the Prophet (ﷺ) would offer the funeral prayer for him; otherwise he would say to the Muslims present there), "Offer the funeral prayer for your friend:"but when Allah helped the Prophet (ﷺ) to gain victory (on his expeditions), he said, "I am closer to the Believers than themselves, so. if one of the Believers dies in debt, I will repay it, but if he leaves wealth, it will be for his heirs
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کسی ایسے شخص کا جنازہ لایا جاتا جس پر قرض ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے کہ مرنے والے نے قرض کی ادائیگی کے لیے ترکہ چھوڑا ہے یا نہیں۔ اگر کہا جاتا کہ اتنا چھوڑا ہے جس سے ان کا قرض ادا ہو سکتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی نماز پڑھتے، ورنہ مسلمانوں سے کہتے کہ اپنے ساتھی پر تم ہی نماز پڑھ لو۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر فتوحات کے دروازے کھول دیئے تو فرمایا کہ میں مسلمانوں سے ان کی خود اپنی ذات سے بھی زیادہ قریب ہوں اس لیے ان مسلمانوں میں جو کوئی وفات پائے اور قرض چھوڑے تو اس کی ادائیگی کی ذمہ داری میری ہے اور جو کوئی مال چھوڑے وہ اس کے ورثاء کا ہے۔
Sahih al-Bukhari 70:72sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رضى الله عنهما قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ يَهُودِيٌّ وَكَانَ يُسْلِفُنِي فِي تَمْرِي إِلَى الْجِدَادِ، وَكَانَتْ لِجَابِرٍ الأَرْضُ الَّتِي بِطَرِيقِ رُومَةَ فَجَلَسَتْ، فَخَلاَ عَامًا فَجَاءَنِي الْيَهُودِيُّ عِنْدَ الْجَدَادِ، وَلَمْ أَجُدَّ مِنْهَا شَيْئًا، فَجَعَلْتُ أَسْتَنْظِرُهُ إِلَى قَابِلٍ فَيَأْبَى، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لأَصْحَابِهِ " امْشُوا نَسْتَنْظِرْ لِجَابِرٍ مِنَ الْيَهُودِيِّ ". فَجَاءُونِي فِي نَخْلِي فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُكَلِّمُ الْيَهُودِيَّ فَيَقُولُ أَبَا الْقَاسِمِ لاَ أُنْظِرُهُ. فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَامَ فَطَافَ فِي النَّخْلِ، ثُمَّ جَاءَهُ فَكَلَّمَهُ فَأَبَى فَقُمْتُ فَجِئْتُ بِقَلِيلِ رُطَبٍ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَكَلَ ثُمَّ قَالَ " أَيْنَ عَرِيشُكَ يَا جَابِرُ ". فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ " افْرُشْ لِي فِيهِ ". فَفَرَشْتُهُ فَدَخَلَ فَرَقَدَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَجِئْتُهُ بِقَبْضَةٍ أُخْرَى فَأَكَلَ مِنْهَا، ثُمَّ قَامَ فَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ فَأَبَى عَلَيْهِ فَقَامَ فِي الرِّطَابِ فِي النَّخْلِ الثَّانِيَةَ ثُمَّ قَالَ " يَا جَابِرُ جُدَّ وَاقْضِ ". فَوَقَفَ فِي الْجَدَادِ فَجَدَدْتُ مِنْهَا مَا قَضَيْتُهُ وَفَضَلَ مِنْهُ فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَبَشَّرْتُهُ فَقَالَ " أَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ". عُرُوشٌ وَعَرِيشٌ بِنَاءٌ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَعْرُوشَاتٍ مَا يُعَرَّشُ مِنْ الْكُرُومِ وَغَيْرِ ذَلِكَ يُقَالُ عُرُوشُهَا أَبْنِيَتُهَا
Narrated Jabir bin `Abdullah:There was a Jew in Medina who used to lend me money up to the season of plucking dates. (Jabir had a piece of land which was on the way to Ruma). That year the land was not promising, so the payment of the debt was delayed one year. The Jew came to me at the time of plucking, but gathered nothing from my land. I asked him to give me one year respite, but he refused. This news reached the Prophet (ﷺ) whereupon he said to his companions, "Let us go and ask the Jew for respite for Jabir." All of them came to me in my garden, and the Prophet (ﷺ) started speaking to the Jew, but he Jew said, "O Abu Qasim! I will not grant him respite." When the Prophet (ﷺ) saw the Jew's attitude, he stood up and walked all around the garden and came again and talked to the Jew, but the Jew refused his request. I got up and brought some ripe fresh dates and put it in front of the Prophet. He ate and then said to me, "Where is your hut, O Jabir?" I informed him, and he said, "Spread out a bed for me in it." I spread out a bed, and he entered and slept. When he woke up, I brought some dates to him again and he ate of it and then got up and talked to the Jew again, but the Jew again refused his request. Then the Prophet (ﷺ) got up for the second time amidst the palm trees loaded with fresh dates, and said, "O Jabir! Pluck dates to repay your debt." The Jew remained with me while I was plucking the dates, till I paid him all his right, yet there remained extra quantity of dates. So I went out and proceeded till I reached the Prophet and informed him of the good news, whereupon he said, "I testify that I am Allah's Messenger (ﷺ)
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مدینہ میں ایک یہودی تھا اور وہ مجھے قرض اس شرط پر دیا کرتا تھا کہ میری کھجوریں تیار ہونے کے وقت لے لے گا۔ جابر رضی اللہ عنہ کی ایک زمین بئررومہ کے راستہ میں تھی۔ ایک سال کھجور کے باغ میں پھل نہیں آئے۔ پھل چنے جانے کا جب وقت آیا تو وہ یہودی میرے پاس آیا لیکن میں نے تو باغ سے کچھ بھی نہیں توڑا تھا۔ اس لیے میں آئندہ سال کے لیے مہلت مانگنے لگا لیکن اس نے مہلت دینے سے انکار کیا۔ اس کی خبر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ چلو، یہودی سے جابر رضی اللہ عنہ کے لیے ہم مہلت مانگیں گے۔ چنانچہ یہ سب میرے باغ میں تشریف لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی سے گفتگو فرماتے رہے لیکن وہ یہی کہتا رہا کہ ابوالقاسم میں مہلت نہیں دے سکتا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے اور کھجور کے باغ میں چاروں طرف پھرے پھر تشریف لائے اور اس سے گفتگو کی لیکن اس نے اب بھی انکار کیا پھر میں کھڑا ہوا اور تھوڑی سی تازہ کھجور لا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تناول فرمایا پھر فرمایا جابر! تمہاری جھونپڑی کہاں ہے؟ میں نے آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں میرے لیے کچھ فرش بچھا دو۔ میں نے بچھا دیا تو آپ داخل ہوئے اور آرام فرمایا پھر بیدار ہوئے تو میں ایک مٹھی اور کھجور لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے بھی تناول فرمایا پھر آپ کھڑے ہوئے اور یہودی سے گفتگو فرمائی۔ اس نے اب بھی انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ باغ میں کھڑے ہوئے پھر فرمایا کہ جابر! جاؤ اب پھل توڑو اور قرض ادا کر دو۔ آپ کھجوروں کے توڑے جانے کی جگہ کھڑے ہو گئے اور میں نے باغ میں سے اتنی کھجوریں توڑ لیں جن سے میں نے قرض ادا کر دیا اور اس میں سے کھجوریں بچ بھی گئی پھر میں وہاں سے نکلا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خوشخبری سنائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اس حدیث میں جو «عروش» کا لفظ ہے «عروش» اور «عريش» عمارت کی چھت کو کہتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ( سورۃ الانعام میں لفظ ) «معروشات» سے مراد انگور وغیرہ کی ٹٹیاں ہیں۔ دوسری آیت ( سورۃ البقرہ ) «عروشها خاویة علی» یعنی اپنی چھتوں پر گرے ہوئے۔
Sahih al-Bukhari 79:24sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي فَدَقَقْتُ الْبَابَ فَقَالَ " مَنْ ذَا ". فَقُلْتُ أَنَا. فَقَالَ " أَنَا أَنَا ". كَأَنَّهُ كَرِهَهَا.
Narrated Jabir:I came to the Prophet (ﷺ) in order to consult him regarding my father's debt. When I knocked on the door, he asked, "Who is that?" I replied, "I" He said, "I, I?" He repeated it as if he disliked it
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے کہا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس قرض کے بارے میں حاضر ہوا جو میرے والد پر تھا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کون ہیں؟ میں نے کہا ”میں“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں، میں“ جیسے آپ نے اس جواب کو ناپسند فرمایا۔
Sahih al-Bukhari 80:65sahih
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ، وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ عَنِّي خَطَايَاىَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا، كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ".
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) used to say, "O Allah! I seek refuge with You from laziness and geriatric old age, from all kinds of sins and from being in debt; from the trial and affliction of the grave and from the punishment in the grave; from the affliction of the Fire and from the punishment of the Fire; and from the evil of the affliction of wealth; and I seek refuge with You from the affliction of poverty, and I seek refuge with You from the affliction of Al-Mesiah Ad-Dajjal. O Allah! Wash away my sins with the water of snow and hail, and cleanse my heart from all the sins as a white garment is cleansed from the filth, and let there be a long distance between me and my sins, as You made East and West far from each other
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم، والمأثم والمغرم، ومن فتنة القبر وعذاب القبر، ومن فتنة النار وعذاب النار، ومن شر فتنة الغنى، وأعوذ بك من فتنة الفقر، وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال، اللهم اغسل عني خطاياى بماء الثلج والبرد، ونق قلبي من الخطايا، كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وباعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے، بہت زیادہ بڑھاپے سے، گناہ سے، قرض سے اور قبر کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب سے اور دوزخ کی آزمائش سے اور دوزخ کے عذاب سے اور مالداری کی آزمائش سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں محتاجی کی آزمائش سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کی آزمائش سے۔ اے اللہ! مجھ سے میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے اور میرے دل کو خطاؤں سے اس طرح پاک و صاف کر دے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک صاف کر دیا اور مجھ میں اور میرے گناہوں میں اتنی دوری کر دے جتنی مشرق اور مغرب میں دوری ہے۔“
Sahih al-Bukhari 80:66sahih
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ".
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) used to say, "O Allah! I seek refuge with You from worry and grief, from incapacity and laziness, from cowardice and miserliness, from being heavily in debt and from being overpowered by (other) men." (See Hadith No)
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن، والعجز والكسل، والجبن والبخل، وضلع الدين، وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم و الم سے، عاجزی سے، سستی سے، بزدلی سے، بخل، قرض چڑھ جانے اور لوگوں کے غلبہ سے۔“
Sahih al-Bukhari 80:72sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَاىَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا، كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ".
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) used to say, "O Allah! I seek refuge with You from laziness from geriatric old age, from being in debt, and from committing sins. O Allah! I seek refuge with You from the punishment of the Fire, the afflictions of the grave, the punishment in the grave, and the evil of the affliction of poverty and from the evil of the affliction caused by Al-Masih Ad-Dajjal. O Allah! Wash away my sins with the water of snow and hail, and cleanse my heart from the sins as a white garment is cleansed of filth, and let there be a far away distance between me and my sins as You have set far away the East and the West from each other
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے کہا «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمغرم والمأثم، اللهم إني أعوذ بك من عذاب النار وفتنة النار وعذاب القبر، وشر فتنة الغنى، وشر فتنة الفقر، ومن شر فتنة المسيح الدجال، اللهم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد، ونق قلبي من الخطايا، كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس، وباعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے، ناکارہ عمر سے، بڑھاپے سے، قرض سے اور گناہ سے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دوزخ کے عذاب سے، دوزخ کی آزمائش سے، قبر کے عذاب سے، مالداری کی بری آزمائش سے، محتاجی کی بری آزمائش سے اور مسیح دجال کی بری آزمائش سے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے اور میرے دل کو خطاؤں سے پاک کر دے، جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کر دیا جاتا ہے اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جتنا فاصلہ مشرق و مغرب میں ہے۔“
Sahih al-Bukhari 81:33sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ فَاسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ فَقَالَ " يَا أَبَا ذَرٍّ ". قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ عِنْدِي مِثْلَ أُحُدٍ هَذَا ذَهَبًا، تَمْضِي عَلَىَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ، إِلاَّ شَيْئًا أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ، إِلاَّ أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ". عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَمِنْ خَلْفِهِ. ثُمَّ مَشَى فَقَالَ " إِنَّ الأَكْثَرِينَ هُمُ الأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلاَّ مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ـ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَمِنْ خَلْفِهِ ـ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ". ثُمَّ قَالَ لِي " مَكَانَكَ لاَ تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ ". ثُمَّ انْطَلَقَ فِي سَوَادِ اللَّيْلِ حَتَّى تَوَارَى فَسَمِعْتُ صَوْتًا قَدِ ارْتَفَعَ، فَتَخَوَّفْتُ أَنْ يَكُونَ قَدْ عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ فَذَكَرْتُ قَوْلَهُ لِي " لاَ تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ " فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أَتَانِي، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتًا تَخَوَّفْتُ، فَذَكَرْتُ لَهُ فَقَالَ " وَهَلْ سَمِعْتَهُ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي فَقَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ". قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ".
Narrated Abu Dhar:While I was walking with the Prophet (ﷺ) in the Harra of Medina, Uhud came in sight. The Prophet (ﷺ) said, "O Abu Dhar!" I said, "Labbaik, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "I would not like to have gold equal to this mountain of Uhud, unless nothing of it, not even a single Dinar of it remains with me for more than three days, except something which I will keep for repaying debts. I would have spent all of it (distributed it) amongst Allah's Slaves like this, and like this, and like this." The Prophet (ﷺ) pointed out with his hand towards his right, his left and his back (while illustrating it). He proceeded with his walk and said, "The rich are in fact the poor (little rewarded) on the Day of Resurrection except those who spend their wealth like this, and like this, and like this, to their right, left and back, but such people are few in number." Then he said to me, "Stay at your place and do not leave it till I come back." Then he proceeded in the darkness of the night till he went out of sight, and then I heard a loud voice, and was afraid that something might have happened to the Prophet (ﷺ) .1 intended to go to him, but I remembered what he had said to me, i.e. 'Don't leave your place till I come back to you,' so I remained at my place till he came back to me. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I heard a voice and I was afraid." So I mentioned the whole story to him. He said, "Did you hear it?" I replied, "Yes." He said, "It was Gabriel who came to me and said, 'Whoever died without joining others in worship with Allah, will enter Paradise.' I asked (Gabriel), 'Even if he had committed theft or committed illegal sexual intercourse? Gabriel said, 'Yes, even if he had committed theft or committed illegal sexual intercourse
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص (سلام بن سلیم) نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے زید بن وہب نے کہ ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے کہا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے پتھریلے علاقہ میں چل رہا تھا کہ احد پہاڑ ہمارے سامنے آ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ابوذر! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس سے بالکل خوشی نہیں ہو گی کہ میرے پاس اس احد کے برابر سونا ہو اور اس پر تین دن اس طرح گذر جائیں کہ اس میں سے ایک دینار بھی باقی رہ جائے سوا اس تھوڑی سی رقم کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے چھوڑ دوں بلکہ میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح خرچ کروں اپنی دائیں طرف سے، بائیں طرف سے اور پیچھے سے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا، زیادہ مال جمع رکھنے والے ہی قیامت کے دن مفلس ہوں گے سوا اس شخص کے جو اس مال کو اس اس طرح دائیں طرف سے، بائیں طرف سے اور پیچھے سے خرچ کرے اور ایسے لوگ کم ہیں۔ پھر مجھ سے فرمایا، یہیں ٹھہرے رہو، یہاں سے اس وقت تک نہ جانا جب تک میں آ نہ جاؤں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی تاریکی میں چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ اس کے بعد میں نے آواز سنی جو بلند تھی۔ مجھے ڈر لگا کہ کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی دشواری نہ پیش آ گئی ہو۔ میں نے آپ کی خدمت میں پہنچنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کا ارشاد یاد آیا کہ اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، جب تک میں نہ آ جاؤں۔ چنانچہ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائے میں وہاں سے نہیں ہٹا۔ پھر آپ آئے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے ایک آواز سنی تھی، مجھے ڈر لگا لیکن پھر آپ کا ارشاد یاد آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم نے سنا تھا؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں۔ فرمایا کہ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے اور انہوں نے کہا کہ آپ کی امت کا جو شخص اس حال میں مر جائے کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو جنت میں جائے گا۔ میں نے پوچھا خواہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو؟ انہوں نے کہا ہاں زنا اور چوری ہی کیوں نہ کی ہو۔
Sahih al-Bukhari 81:33sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ فَاسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ فَقَالَ " يَا أَبَا ذَرٍّ ". قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ عِنْدِي مِثْلَ أُحُدٍ هَذَا ذَهَبًا، تَمْضِي عَلَىَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ، إِلاَّ شَيْئًا أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ، إِلاَّ أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ". عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَمِنْ خَلْفِهِ. ثُمَّ مَشَى فَقَالَ " إِنَّ الأَكْثَرِينَ هُمُ الأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلاَّ مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ـ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَمِنْ خَلْفِهِ ـ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ". ثُمَّ قَالَ لِي " مَكَانَكَ لاَ تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ ". ثُمَّ انْطَلَقَ فِي سَوَادِ اللَّيْلِ حَتَّى تَوَارَى فَسَمِعْتُ صَوْتًا قَدِ ارْتَفَعَ، فَتَخَوَّفْتُ أَنْ يَكُونَ قَدْ عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ فَذَكَرْتُ قَوْلَهُ لِي " لاَ تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ " فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أَتَانِي، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتًا تَخَوَّفْتُ، فَذَكَرْتُ لَهُ فَقَالَ " وَهَلْ سَمِعْتَهُ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي فَقَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ". قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ".
Narrated Abu Dhar:While I was walking with the Prophet (ﷺ) in the Harra of Medina, Uhud came in sight. The Prophet (ﷺ) said, "O Abu Dhar!" I said, "Labbaik, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "I would not like to have gold equal to this mountain of Uhud, unless nothing of it, not even a single Dinar of it remains with me for more than three days, except something which I will keep for repaying debts. I would have spent all of it (distributed it) amongst Allah's Slaves like this, and like this, and like this." The Prophet (ﷺ) pointed out with his hand towards his right, his left and his back (while illustrating it). He proceeded with his walk and said, "The rich are in fact the poor (little rewarded) on the Day of Resurrection except those who spend their wealth like this, and like this, and like this, to their right, left and back, but such people are few in number." Then he said to me, "Stay at your place and do not leave it till I come back." Then he proceeded in the darkness of the night till he went out of sight, and then I heard a loud voice, and was afraid that something might have happened to the Prophet (ﷺ) .1 intended to go to him, but I remembered what he had said to me, i.e. 'Don't leave your place till I come back to you,' so I remained at my place till he came back to me. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I heard a voice and I was afraid." So I mentioned the whole story to him. He said, "Did you hear it?" I replied, "Yes." He said, "It was Gabriel who came to me and said, 'Whoever died without joining others in worship with Allah, will enter Paradise.' I asked (Gabriel), 'Even if he had committed theft or committed illegal sexual intercourse? Gabriel said, 'Yes, even if he had committed theft or committed illegal sexual intercourse
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص (سلام بن سلیم) نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے زید بن وہب نے کہ ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے کہا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے پتھریلے علاقہ میں چل رہا تھا کہ احد پہاڑ ہمارے سامنے آ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ابوذر! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس سے بالکل خوشی نہیں ہو گی کہ میرے پاس اس احد کے برابر سونا ہو اور اس پر تین دن اس طرح گذر جائیں کہ اس میں سے ایک دینار بھی باقی رہ جائے سوا اس تھوڑی سی رقم کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے چھوڑ دوں بلکہ میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح خرچ کروں اپنی دائیں طرف سے، بائیں طرف سے اور پیچھے سے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا، زیادہ مال جمع رکھنے والے ہی قیامت کے دن مفلس ہوں گے سوا اس شخص کے جو اس مال کو اس اس طرح دائیں طرف سے، بائیں طرف سے اور پیچھے سے خرچ کرے اور ایسے لوگ کم ہیں۔ پھر مجھ سے فرمایا، یہیں ٹھہرے رہو، یہاں سے اس وقت تک نہ جانا جب تک میں آ نہ جاؤں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی تاریکی میں چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ اس کے بعد میں نے آواز سنی جو بلند تھی۔ مجھے ڈر لگا کہ کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی دشواری نہ پیش آ گئی ہو۔ میں نے آپ کی خدمت میں پہنچنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کا ارشاد یاد آیا کہ اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، جب تک میں نہ آ جاؤں۔ چنانچہ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائے میں وہاں سے نہیں ہٹا۔ پھر آپ آئے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے ایک آواز سنی تھی، مجھے ڈر لگا لیکن پھر آپ کا ارشاد یاد آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم نے سنا تھا؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں۔ فرمایا کہ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے اور انہوں نے کہا کہ آپ کی امت کا جو شخص اس حال میں مر جائے کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو جنت میں جائے گا۔ میں نے پوچھا خواہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو؟ انہوں نے کہا ہاں زنا اور چوری ہی کیوں نہ کی ہو۔
Sahih al-Bukhari 81:34sahih
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ،. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا لَسَرَّنِي أَنْ لاَ تَمُرَّ عَلَىَّ ثَلاَثُ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ شَىْءٌ، إِلاَّ شَيْئًا أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Apostle said, "If I had gold equal to the mountain of Uhud, it would not please me that anything of it should remain with me after three nights (i.e., I would spend all of it in Allah's Cause) except what I would keep for repaying debts
مجھ سے احمد بن شبیب نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے یونس نے اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب زہری نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے اس میں خوشی ہو گی کہ تین دن بھی مجھ پر اس حال میں نہ گزرنے پائیں کہ اس میں سے میرے پاس کچھ بھی باقی بچے۔ البتہ اگر کسی کا قرض دور کرنے کے لیے کچھ رکھ چھوڑوں تو یہ اور بات ہے۔
Sahih al-Bukhari 83:76sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّهَا مَاتَتْ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " فَاقْضِ اللَّهَ، فَهْوَ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ ".
Narrated Ibn `Abbas:A man came to the Prophet (ﷺ) and said to him, "My sister vowed to perform the Hajj, but she died (before fulfilling it)." The Prophet (ﷺ) said, "Would you not have paid her debts if she had any?" The man said, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "So pay Allah's Rights, as He is more entitled to receive His rights
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ میری بہن نے نذر مانی تھی کہ حج کریں گی لیکن اب ان کا انتقال ہو چکا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ان پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟ انہوں نے عرض کی ضرور ادا کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو کیونکہ وہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کا قرض پورا ادا کیا جائے۔
Sahih al-Bukhari 85:8sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَنَا أَوْلَى، بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، وَلَمْ يَتْرُكْ وَفَاءً، فَعَلَيْنَا قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرَثَتِهِ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "I am more closer to the believers than their own selves, so whoever (of them) dies while being in debt and leaves nothing for its repayment, then we are to pay his debts on his behalf and whoever (among the believers) dies leaving some property, then that property is for his heirs
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس بن یزید ایلی نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، کہا مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں مومنوں کا خود ان سے زیادہ حقدار ہوں۔ پس ان میں سے جو کوئی قرض دار مرے گا اور ادائیگی کے لیے کچھ نہ چھوڑے گا تو ہم پر اس کی ادائیگی کی ذمہ داری ہے اور جس نے کوئی مال چھوڑا ہو گا وہ اس کے وارثوں کا حصہ ہے۔“
Sahih al-Bukhari 85:22sahih
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ مَاتَ وَتَرَكَ مَالاً فَمَالُهُ لِمَوَالِي الْعَصَبَةِ، وَمَنْ تَرَكَ كَلاًّ أَوْ ضَيَاعًا، فَأَنَا وَلِيُّهُ فَلأُدْعَى لَهُ ". لكل: العيال
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "I am more closer to the believers than their ownselves, so whoever (among them) dies leaving some inheritance, his inheritance will be given to his 'Asaba, and whoever dies leaving a debt or dependants or destitute children, then I am their supporter
ہم سے محمود نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی، انہیں ابوحصین نے، انہیں ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں مسلمانوں کا خود ان کی ذات سے بھی زیادہ ولی ہوں۔ پس جو شخص مر جائے اور مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے اور جس نے بیوی بچے چھوڑے ہوں یا قرض ہو، تو میں ان کا ولی ہوں، ان کے لیے مجھ سے مانگا جائے۔“
Sahih al-Bukhari 85:40sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرَثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ كَلاًّ فَإِلَيْنَا ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, " If somebody dies (among the Muslims) leaving some property, the property will go to his heirs; and if he leaves a debt or dependants, we will take care of them
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مال چھوڑا ( اپنی موت کے بعد ) وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جس نے قرض چھوڑا ہے وہ ہمارے ذمہ ہے۔“
Sahih al-Bukhari 94:3sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْ كَانَ عِنْدِي أُحُدٌ ذَهَبًا، لأَحْبَبْتُ أَنْ لاَ يَأْتِيَ ثَلاَثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ، لَيْسَ شَىْءٌ أُرْصِدُهُ فِي دَيْنٍ عَلَىَّ أَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهُ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "If I had gold equal to the mountain of Uhud, I would love that, before three days had passed, not a single Dinar thereof remained with me if I found somebody to accept it excluding some amount that I would keep for the payment of my debts
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام بن منبہ نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہوتا تو میں پسند کرتا کہ اگر ان کے لینے والے مل جائیں تو تین دن گزرنے سے پہلے ہی میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی نہ بچے، سوا اس کے جسے میں اپنے اوپر قرض کی ادائیگی کے لیے روک لوں۔“
Sahih al-Bukhari 96:46sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ أَفَأَحُجَّ عَنْهَا قَالَ " نَعَمْ حُجِّي عَنْهَا، أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ ". قَالَتْ نَعَمْ. فَقَالَ " فَاقْضُوا الَّذِي لَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ ".
Narrated Ibn `Abbas:A woman came to the Prophet (ﷺ) and said, "My mother vowed to perform the Hajj but she died before performing it. Should I perform the Hajj on her behalf?" He said, "Yes! Perform the Hajj on her behalf. See, if your mother had been in debt, would you have paid her debt?" She said, "Yes." He said, "So you should pay what is for Him as Allah has more right that one should fulfill one's obligations to Him
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ میری والدہ نے حج کرنے کی نذر مانی تھی اور وہ ( ادائیگی سے پہلے ہی ) وفات پا گئیں۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ان کی طرف سے حج کر لو۔ تمہارا کیا خیال ہے، اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو تم اسے پورا کرتیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس قرض کو بھی پورا کر جو اللہ تعالیٰ کا ہے کیونکہ اس قرض کا پورا کرنا زیادہ ضروری ہے۔
Sahih Muslim 5:163sahih
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلاَةِ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ " . قَالَتْ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ " .
A'isha, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ) reported:The Apostle of Allah (ﷺ) used to supplicate in prayer thus:" O Allah! I seek refuge with Thee from the torment of the grave, and I seek refuge with Thee from the trial of the Masih al-Dajjal (Antichrist) and I seek refuge with Thee from the trial of life and death. O Allah! I seek refuge with Thee from sin and debt." She ('A'isha) reported: Someone said to him - (the Holy Prophet): Messenger of Allah! why is it that you so often seek refuge from debt? He said: When a (person) incurs debt, (he is obliged) to tell lies and break promise
نبی کریم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ ؓ نے خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ نماز میں ( یہ ) دعا مانگتے تھے : اے اللہ ! میں قبر کے عذاب سے تیری پنا ہ چاہتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ کا طالب ہوں ، میں زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! میں گناہ اور قرض ( میں پھنس جانے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ ‘ ‘ ) حضرت عائشہ ؓ نے کہا : کسی کہنے والے نے کہا : اللہ رسول ﷺ آپ قرض سے کس قدر پناہ مانگتے ہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا : ”جب آدمی مقروض ہو جائے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے ‘ ‘
Sahih Muslim 6:86sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ الْمَسْجِدَ فَقَالَ لِي " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ " .
Jabir b. 'Abdullah reported:The Apostle of Allah (ﷺ) owed me a debt; he paid me back and made an addition (of this). I entered the mosque and he (the Holy Prophet) said to me: Observe two rak'ahs of prayer
سفیان بن محارب بن وثار سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے قرض تھا ، آپ نے اسے ادا کیا اور مجھے زائد رقم دی اور جب میں آپ کی مسجد میں داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " دو رکعت نماز ادا کرلو ۔
Sahih Muslim 12:39sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا تَأْتِي عَلَىَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلاَّ دِينَارٌ أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ عَلَىَّ " .
Abu Huraira reported that the Prophet (ﷺ) said:Nothing is more delighting to me than this that Uhud should be of gold for me, and no dinar is left with me out of it before three nights pass except a dinar which I would set aside for the repayment of debt upon me
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیادسے اور انھوں نے حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے لئے یہ بات خوشی کاباعث نہیں کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تیسرا دن مجھ پر اس طرح آئے کہ میرے پاس اس میں سے کوئی دینار بچا ہوا موجود ہوسوائے اس دینار کے جس کو میں اپنا قرض چکانے کے لئے رکھ لوں ۔
Sahih Muslim 12:40sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
Abu Huraira reported the same from the Prophet (ﷺ)
شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے سنا ۔ ۔ ۔ اسی کے مانند ۔
Sahih Muslim 12:141sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ، حَدَّثَنِي كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ، مُخَارِقٍ الْهِلاَلِيِّ قَالَ تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْأَلُهُ فِيهَا فَقَالَ " أَقِمْ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا " . قَالَ ثُمَّ قَالَ " يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لاَ تَحِلُّ إِلاَّ لأَحَدِ ثَلاَثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ - أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ - وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُومَ ثَلاَثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ لَقَدْ أَصَابَتْ فُلاَنًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ - أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ - فَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتًا يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا " .
Qabisa b. Mukhariq al-Hilali said:I was under debt and I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and begged from him regarding it. He said: Wait till we receive Sadaqa, so that we order that to be given to you. He again said: Qabisa, begging is not permissible but for one of the three (classes) of persons: one who has incurred debt, for him begging is permissible till he pays that off, after which he must stop it; a man whose property has been destroyed by a calamity which has smitten him, for him begging is permissible till he gets what will support life, or will provide him reasonable subsistence; and a person who has been smitten by poverty. the genuineness of which is confirmed by three intelligent members of this peoples for him begging is permissible till he gets what will support him, or will provide him subsistence. Qabisa, besides these three (every other reason) for begging is forbidden, and one who engages in such consumes that what is forbidden
حضرت قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے ( لوگوں کے معاملات میں اصلاح کے لئے ) ادائیگی کی ایک ذمہ داری قبول کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا کہ آپ سے اس کے لئے کچھ مانگوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ٹھہرو حتیٰ کہ ہمارے پاس صدقہ آجائے تو ہم وہ تمھیں دے دینے کا حکم دیں ۔ " پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے قبیصہ!تین قسم کے افراد میں سے کسی ایک کے سوا اور کسی کے لئے سوال کرناجائز نہیں : ایک وہ آدمی جس نے کسی بڑی ادائیگی کی ذمہ داری قبول کرلی ، اس کے لئے اس وقت تک سوال کرنا حلال ہوجاتا ہے حتیٰ کہ اس کو حاصل کرلے ، اس کے بعد ( سوال سے ) رک جائے ، دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی آفت آپڑی ہو جس نے اس کا مال تباہ کردیا ہو ، اس کے لئے سوال کرنا حلال ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ زندگی کی گزران درست کرلے ۔ یا فرمایا : زندگی کی بقا کاسامان کرلے ۔ اور تیسرا وہ آدمی جو فاقے کا شکار ہوگیا ، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقلمند افراد کھڑے ہوجائیں ( اور کہہ دیں ) کہ فلاں آدمی فاقہ زدہ ہوگیا ہے تو اس کے لئے بھی مانگنا حلال ہوگیا یہاں تک کہ وہ درست گزران حاصل کرلے ۔ ۔ ۔ یا فرمایا : زندگی باقی رکھنے جتنا حاصل کرلے ۔ ۔ ۔ اے قبیصہ!ان صورتوں کے سوا سوال کرناحرام ہے اور سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے ۔
Sahih Muslim 13:199sahih
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ . فَقَالَ " أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ " . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ " فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ " .
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with both of them) reported:A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: My mother has died, and fasts of a month are due from her. Thereupon he said: Don't you see that if debt was due from her, would you not pay it? She said: Yes (I would pay on her behalf). Thereupon he said: The debt of Allah deserves its payment more than (the payment of anyone else)
اسحاق بن ابراہیم ، عیسیٰ بن یونس ، اعمش ، مسلم ، سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی کہ میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس پر ایک مہینےکے روزے لازم ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرا کیا خیال ہے کہ اگر اس پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتی؟اس نے عرض کیا ہاں!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے قرض کا زیادہ حق ہے کہ اسے ادا کیا جائے ۔
Sahih Muslim 13:200sahih
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا فَقَالَ " لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى " . قَالَ سُلَيْمَانُ فَقَالَ الْحَكَمُ وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ جَمِيعًا وَنَحْنُ جُلُوسٌ حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَقَالاَ سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported:A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah, my mother has died (in a state) that she had to observe fasts of a month (of Ramadan). Should I complete (them) on her behalf? thereupon he (the Holy Prophet) said: Would you not pay the debt if your mother had died (without paying it)? He said: Yes. He (the Holy Prophet) said: The debt of Allah deserves more that it should he paid
۔ احمد بن عمر وکیعی ، حسین بن علی ، زائدہ ، سلیمان ، مسلم ، سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس پر ایک مہینے کے روزوں کی قضا لازم ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تیری ما ں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو وہ قرض اس کی طرف سے ادا کرتی؟عرض کیا کہ ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا قرض زیادہ اس کا حقدار ہے کہ اسے اداکیا جائے ۔
Sahih Muslim 13:202sahih
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ زَكَرِيَّاءَ، بْنِ عَدِيٍّ - قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، - أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ، بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ نَذْرٍ أَفَأَصُومُ عَنْهَا قَالَ " أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ فَقَضَيْتِيهِ أَكَانَ يُؤَدِّي ذَلِكِ عَنْهَا " . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ " فَصُومِي عَنْ أُمِّكِ " .
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported:A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah, my mother has died and there is due from her a fast of vow; should I fast on her behalf? Thereupon he said: You see that if your mother had died in debt, would it not have been paid on her behalf? She said: Yes. He (the Holy Prophet) said: Then observe fast on behalf of your mother
اسحاق بن منصور ، ابن ابی خلف ، عبد بن حمید ، زکریا بن عدی ، عبیداللہ بن عمرو ، زید بن ابی انیسہ ، حکم بن عتیبہ ، سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کرنے لگی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اس پر منت کا روزہ لازم تھا تو کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا کیا خیال ہے؟کہ اگر تیری ماں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اس کی طرف سے ادا کرتی؟اس نے عرض کیا ہاں!آپ نے فرمایا کہ اللہ کا قرض اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اسے ادا کیا جائے آپ نے فرمایاکہ تو اپنی ماں کی طرف سے روزہ رکھ ۔
Sahih Muslim 22:19sahih
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ، - وَاللَّفْظُ لِبِشْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّوسلم أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ - وَهْوَ صَاحِبُ مُسْلِمٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا .
Jabir (Allah be pleased with him) reported that Allah's Apostle (ﷺ) commanded to make deductions in the payment of that stricken with a Calamity
بشر بن حکم ، ابراہیم بن دینار اور عبدالجبار بن علاء سے روایت ہے ، الفاظ بشر کے ہیں ، سب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حمید اعرج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سلیمان بن عتیق سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آفات سے پہنچنے والے نقصان کی صورت میں ( قیمت ) ساقط کر دینے کا حکم دیا ہے ۔ ابواسحاق ابراہیم نے ، وہ امام مسلم کے شاگرد ہیں ، کہا : مجھے عبدالرحمٰن بن بشر نے بھی سفیان سے یہی حدیث بیان کی
Sahih Muslim 22:20sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي، سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ " . فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِغُرَمَائِهِ " خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلاَّ ذَلِكَ " .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleeased with him) reported that in the time of Allah's Messenger (ﷺ) a man suffered loss in fruits he had bought and his debt increased; so Allah's Messenger (ﷺ) told (the people) to give him charity and they gave him charity, but that was not enough to pay the debt in full, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said to his creditors:" Take what you find, you will have nothing but alms
لیث نے ہمیں بکیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عیاض بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی کا ان پھلوں میں نقصان ہو گیا جو اس نے خریدے تھے ، اس کا قرض بڑھ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس پر صدقہ کرو ۔ " لوگوں نے اس پر صدقہ کیا لیکن وہ بھی قرض کی ادائیگی ( جتنی مالیت ) تک نہ پہنچا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض داروں سے فرمایا : " جو تمہیں مل جائے ، وہ لے لو ، تمہارے لیے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں
Sahih Muslim 22:22sahih
وَحَدَّثَنِي غَيْرُ، وَاحِدٍ، مِنْ أَصْحَابِنَا قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أُمَّهُ، عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُمَا وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الآخَرَ وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَىْءٍ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لاَ أَفْعَلُ . فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمَا فَقَالَ " أَيْنَ الْمُتَأَلِّي عَلَى اللَّهِ لاَ يَفْعَلُ الْمَعْرُوفَ " . قَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَهُ أَىُّ ذَلِكَ أَحَبَّ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:Allah's Messenger (ﷺ) heard the voices of altercation of two disputants at the door; both the voices were quite loud. The one demanded some remission and desired that the other one should show leniency to him, whereupon the (other one) was saying: By Allah will not do that. Then there came Allah's Messenger (ﷺ) to them and said: Where is he who swears by Allah that he would not do good? He said: Massenger of Allah, it is I. He may do as he desires
عمرہ بنت عبدالرحمان ( بن عوف ) نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے کے پاس جھگڑا کرنے والوں کی آواز سنی ، ان دونوں کی آوازیں بلند تھیں اور ان میں سے ایک دوسرے سے کچھ کمی کرنے کی اور کسی چیز میں نرمی کی درخواست کر رہا تھا اور وہ ( دوسرا ) کہہ رہا تھا : اللہ کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے پاس باہر تشریف لے گئے اور فرمانے لگے : " اللہ ( کے نام ) پر قسم اٹھانے والا کہاں ہے کہ وہ نیکی کا کام نہیں کرے گا؟ " اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں ہوں ، اس شخص کے لیے وی صورت ہے جو یہ پسند کرے ۔ ( وہ فورا اپنے بھائی کا مطالبہ مان گیا)
Sahih Muslim 22:23sahih
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ وَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ " يَا كَعْبُ " . فَقَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَأَشَارَ إِلَيْهِ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ . قَالَ كَعْبٌ قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قُمْ فَاقْضِهِ " .
Abdullah b. Ka'ab b. Malik reported from his father that he pressed in the mosque Ibn Abu Hadrad for the payment of the debt that he owed to him during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ). (In this altercation) their voices became loud, until Allah's Messenger (ﷺ) heard them, while he was in the house, so Allah's Messenger (ﷺ) came out towards them, and he lifted the curtain of his apartment and he called upon Ka'b b. Malik and said:O Ka'b. He said: At thy beck and call, Allah's Messenger. He pointed out with the help of his hand to remit half of the loan due to him. Ka'b said: Allah's Messenger, I am ready to do that, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said (to Ibn Abu Hadrad): Stand up and make him the payment (of the rest)
عبداللہ بن وہب نے ہمیں خبر دی ، کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے عبداللہ بن کعب بن مالک نے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ، مسجد میں ، ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے قرض کا مطالبہ کیا جو ان کے ذمے تھا تو ان کی آوازیں بلند ہو گئیں ، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے اندر ان کی آوازیں سنیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف گئے یہاں تک کہ آپ نے اپنے حجرے کا پردہ ہٹایا اور کعب بن مالک کو آواز دی : " کعب! " انہوں نے عرض کی : حاضر ہوں ، اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنے ہاتھ سے انہیں اشارہ کیا کہ اپنے قرض کا آدھا حصہ معاف کر دو ۔ کعب نے کہا : اللہ کے رسول! کر دیا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دوسرے سے ) فرمایا : " اٹھو اور اس کا قرض چکا دو
Sahih Muslim 22:25sahih
قَالَ مُسْلِمٌ وَرَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ، هُرْمُزَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ مَالٌ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الأَسْلَمِيِّ فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَمَرَّ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا كَعْبُ " . فَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ النِّصْفَ فَأَخَذَ نِصْفًا مِمَّا عَلَيْهِ وَتَرَكَ نِصْفًا .
Ka'b b. Malik reported that he made a demand for the payment of the debt that Ibn Abu Hadrad owed to him. This hadith is narrated through another chain of transmitters and (the words are):" He had to get the loan from Abdullah b. Hadrad al-Aslami. He met him and pressed him for payment. There was an altercation between them, until their voices became loud. There happened to pass by them Allah's Messenger (ﷺ) and he said: O Ka'b, and pointed out with his hand in such a way as he meant half. So he got half of what he (Ibn Abu Hadrad) owed to him and remitted the half
عبدالرحمٰن بن ہُرمز نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے اور انہوں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ان کا کچھ مال عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ کے ذمے تھا ۔ وہ انہیں ملے تو کعب رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ لگ گئے ، ان کی باہم تکرار ہوئی حتی کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے پاس سے گزرا تو آپ نے فرمایا : " کعب! " پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا ، گویا آپ فرما رہے تھے کہ آدھا لے لو ، چنانچہ انہوں نے اس مال میں سے جو اس ( ابن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ ) کے ذمے تھا ، آدھا لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا
Sahih Muslim 22:26sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ - " مَنْ أَدْرَكَ مَالَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ - أَوْ إِنْسَانٍ قَدْ أَفْلَسَ - فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who found his property intact with a person (who bought it but who later on) became insolvent (or a person who became insolvent), he (the seller) is entitled to get it more than anyone else
زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے خبر دی کہ انہیں عمر بن عبدالعزیز نے خبر دی ، انہیں ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ یا ( اس طرح کہا : ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے ۔ ۔ : " جس نے اپنا مال جوں کا توں اس شخص کے پاس پایا جو مفلس ہو چکا ہے ۔ ۔ یا اس انسان کے پاس جو مفلس ہو چکا ہے ۔ ۔ تو وہ دوسروں کی نسبت اس ( مال ) کا زیادہ حق دار ہے
Sahih Muslim 22:27sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، جَمِيعًا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ . بِمَعْنَى حَدِيثِ زُهَيْرٍ وَقَالَ ابْنُ رُمْحٍ مِنْ بَيْنِهِمْ فِي رِوَايَتِهِ أَيُّمَا امْرِئٍ فُلِّسَ .
This hadith has been narrated on the authority of Yahya b. Sa'id with the same chain of transmitters (but with a slight variation of words and these are)" Whenever a man becomes poor
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہشیم نے خبر دی ، ( اسی طرح ) قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح دونوں نے لیث بن سعد سے روایت کی اور ( اسی طرح ) ابوربیع اور یحییٰ بن حبیب حارثی نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی ۔ محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا : ہمیں عبدالوہاب ، یحییٰ بن سعید ( القطان ) اور حفص بن غیاث ، سب نے یحییٰ بن سعید سے ، اسی سند کے ساتھ زہیر کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، البتہ ان میں سے ابن رمح نے اپنی روایت میں کہا : " جس کسی آدمی کو مفلس قرار دیا گیا ہو
Sahih Muslim 22:28sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، - وَهُوَ ابْنُ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَهُ عَنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الرَّجُلِ الَّذِي يُعْدِمُ إِذَا وُجِدَ عِنْدَهُ الْمَتَاعُ وَلَمْ يُفَرِّقْهُ " أَنَّهُ لِصَاحِبِهِ الَّذِي بَاعَهُ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) saying about a person who becomes insolvent and (the thing bought by him) is found intact with him, that belongs to one who sold it
ابن ابی حسین نے مجھے حدیث بیان کی کہ انہیں ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے خبر دی کہ انہیں عمر بن عبدالعزیز نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کی ( روایت کردہ ) حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ( روایت کردہ ) حدیث بیان کی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں روایت کی جو کنگال ہو جائے ، جب اس کے پاس سامان ملے اور اس نے اس میں تصرف نہ کیا ہو ، ( فرمایا : ) " تو وہ اس کے مالک کا ہے ، جس نے اسے فروخت کیا تھا
Sahih Muslim 22:29sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:When a man becomes insolvent (and the other) man (the seller) finds his commodity intact with him, he is more entitled to get it (than anyone else)
شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہیں نے نضر بن انس سے ، انہوں نے بشیر بن نہیک سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " جب کوئی آدمی مفلس ہو جائے اور کوئی آدمی ( اس کے پاس ) اپنا مال جوں کا توں پائے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے
Sahih Muslim 22:31sahih
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، الْخُزَاعِيُّ - قَالَ حَجَّاجٌ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ - أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ عِنْدَهُ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When a inan becomes insolvent, and the other person (seller) finds his goods intact with him, he is more entitled to get them than anyone else
عراک بن مالک نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب کوئی آدمی مفلس قرار دیا جائے اور ( کسی بیچنےوالے ) شخص کو اس کے ہاں اپنا سامان جوں کا توں مل جائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے ۔
Sahih Muslim 22:32sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ، حِرَاشٍ أَنَّ حُذَيْفَةَ، حَدَّثَهُمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَلَقَّتِ الْمَلاَئِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَقَالُوا أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا قَالَ لاَ . قَالُوا تَذَكَّرْ . قَالَ كُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَآمُرُ فِتْيَانِي أَنْ يُنْظِرُوا الْمُعْسِرَ وَيَتَجَوَّزُوا عَنِ الْمُوسِرِ - قَالَ - قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَجَوَّزُوا عَنْهُ " .
Hudhaifa reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying The angels took away the soul of a person who had lived among people who were before you. They (the angels) said:Did you do anything good? He said: No. they said: Try to recall. He said: I used to lend to people and order my servants to give respite to one in straitened circumstances and give allowance to the solvent, for Allah, the Exalted and Majestic, said (to the angels): You should ignore (his failing)
منصور نے ہمیں ربعی بن حراش سے حدیث بیان کی کہ حضرت حذیفہ ( بن یمان رضی اللہ عنہ ) نے انہیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کی روح کا فرشتوں نے استقبال کیا تو انہوں نے پوچھا : " کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ اس نے کہا : نہیں ، انہوں نے کہا : یاد کر ، اس نے کہا : میں ( دنیا میں ) لوگوں کے ساتھ قرض کا معاملہ کرتا تو اپنے خادموں کو حکم دیتا تھا کہ وہ تنگدست کو مہلت دیں اور خوشحال سے نرمی برتیں ۔ ( انہوں نے ) کہا : اللہ عزوجل نے فرمایا ہے : ( تم بھی ) اس کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو ۔
Sahih Muslim 22:33sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حُجْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ وَأَبُو مَسْعُودٍ فَقَالَ حُذَيْفَةُ " رَجُلٌ لَقِيَ رَبَّهُ فَقَالَ مَا عَمِلْتَ قَالَ مَا عَمِلْتُ مِنَ الْخَيْرِ إِلاَّ أَنِّي كُنْتُ رَجُلاً ذَا مَالٍ فَكُنْتُ أُطَالِبُ بِهِ النَّاسَ فَكُنْتُ أَقْبَلُ الْمَيْسُورَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمَعْسُورِ . فَقَالَ تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي " . قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ .
Hudhaifa reported:A person met his Lord (after death) and He said: What (good) did you do? He said: I did no good except this that I was a rich man, and I demanded from the people (the repayment of debt that I advanced to them). I, however, accepted that which the solvent gave and remitted (the debt) of the insolvent, whereupon He (the Lord) said: You should ignore (the faults) of My servant. Abu Mas'ud (Allah be pleased with him) said: This is what I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying
نُعَیم بن ابی ہند نے ربعی بن حراش سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت حذیفہ اور حضرت ابومسعود ( انصاری ) رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ایک آدمی اللہ عزوجل کے حضور پیش ہوا تو اللہ نے پوچھا : " تو نے کیا عمل کیا؟ " اس نے کہا : میں نے کوئی نیکی نہیں کی ، سوائے اس کے کہ میں مالدار آدمی تھا ، میں لوگوں سے اس ( میں سے دیے ہوئے قرض ) کا مطالبہ کرتا تو مالدار سے خوش دلی سے قبول کرتا اور تنگ دست سے درگزر ( مزید مہلت دیتا یا نہ دے سکتا تو معاف ) کرتا ۔ فرمایا : " ( تم بھی ) میرے بندے سے درگزر کرو ۔ " ( یہ سن کر ) حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے ۔
Sahih Muslim 22:34sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ، عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " أَنَّ رَجُلاً مَاتَ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ فَقِيلَ لَهُ مَا كُنْتَ تَعْمَلُ قَالَ فَإِمَّا ذَكَرَ وَإِمَّا ذُكِّرَ . فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ فَكُنْتُ أُنْظِرُ الْمُعْسِرَ وَأَتَجَوَّزُ فِي السِّكَّةِ أَوْ فِي النَّقْدِ . فَغُفِرَ لَهُ " . فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Hudhaifa (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:A person died and he entered Paradise. It was said to him What (act) did you do? (Either he recalled it himself or he was made to recall), he said I used to enter into transactions with people and I gave respite to the insolvent and did not show any strictness in case of accepting a coin or demanding cash payment. (For these acts of his) he was granted pardon. Abu Mas'ud said: I heard this from Allah's Messenger (ﷺ)
عبدالملک بن عمیر نے ربعی بن حراش سے ، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : " ایک آدمی فوت ہوا اور جنت میں داخل ہوا تو اس سے کہا گیا : تو کیا عمل کرتا تھا؟ ۔ ۔ کہا : اس نے خود یاد کیا یا اسے یاد کرایا گیا ۔ ۔ اس نے کہا : ( اے میرے پروردگار! ) میں لوگوں سے ( قرض پر ) خرید و فروخت کرتا تھا ، تو میں تنگ دست کو مہلت دیتا اور سکہ اور نقدی وصول کرنے میں نرمی کرتا تھا ، تو اس کی مغفرت کر دی گئی " اس پر حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے بھی یہی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی ۔
Sahih Muslim 22:35sahih
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ رِبْعِيِّ، بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ " أُتِيَ اللَّهُ بِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِهِ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَقَالَ لَهُ مَاذَا عَمِلْتَ فِي الدُّنْيَا - قَالَ وَلاَ يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا - قَالَ يَا رَبِّ آتَيْتَنِي مَالَكَ فَكُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ وَكَانَ مِنْ خُلُقِي الْجَوَازُ فَكُنْتُ أَتَيَسَّرُ عَلَى الْمُوسِرِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ . فَقَالَ اللَّهُ أَنَا أَحَقُّ بِذَا مِنْكَ تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي " . فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ وَأَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ هَكَذَا سَمِعْنَاهُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Hudhaifa (Allah be pleased with him) reported:A servant from amongst the servants of Allah was brought to Him whom Allah had endowed with riches. He (Allah) said to him: What (did you do) in the world? (They cannot conceal anything from Allah) He (the person) said: O my Lord, You endowed me with Your riches. I used to enter into transactions with people. It was my nature to be lenient to (my debtors). I showed leniency to the solvent and gave respite to the insolvent, whereupon Allah said: I have more right than you to do this to connive at My servant. 'Uqba b. 'Amir al-Juhani and Abu Mas'ud said: This is what we heard from Allah's Messenger (ﷺ)
حذیفہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے اﷲ عزوجل کے پس اس کا ایک بندہ لایا گیا جس کو اس نے مال دیا تھا تو اﷲ تعالیٰ نے اس سے پوچھا تو نے دنیا میں کیا عمل کیا؟ اور اﷲ سے کچھ نہیں چھپا سکتے ۔ بندے نے کہا اے میرے مالک! تونے اپنامال مجھ کو دیا تھا میں لوگوں کے ہاتھ بیچتا تھا اور میری عادت تھی درگزر کرنے کی ( اور معاف کرنے کی ) تو میں آسانی کرتا تھا مالدار پر اور مہلت دیتا تھا نادار کو ۔ تب ﷲا نے فرمایا پھر میں تو زیادہ لائق ہوں معاف کرنے کے لیے تجھ سے ، درگزر کرو میرے بندے سے ۔ پھر عقبہ بن عامرجہنیؓ اور ابومسعود انصاری رضی اﷲ عنہ نے کہا ہم نے ایسا ہی سُنا ہے رسول اﷲ ﷺ کے منہ مبارک سے ۔
Sahih Muslim 22:36sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ شَىْءٌ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ يُخَالِطُ النَّاسَ وَكَانَ مُوسِرًا فَكَانَ يَأْمُرُ غِلْمَانَهُ أَنْ يَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ تَجَاوَزُوا عَنْهُ " .
Abu Mas'ud (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A person from people who lived before you was called to account (by Allah at the Day of Judgment) and no good was found in his account except this that lie being a rich man had (financial) dealings with people and had commanded his servants to show leniency to the straitened ones. Upon this Allah, the Exalted and Majestic, said: We have more right to this, so overlook (his faults)
حضرت ابی مسعود رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے ایک شخص کا حساب ہوا تو اس کی کوئی نیکی نہ نکلی مگر اتنی کہ وہ لوگوں سے معاملہ کرتا تھا اور مالدار تھا تو اپنے غلاموں کو حکم کرتا نادار کو معاف کردینے کا ۔ تب اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہم زیادہ حق رکھتے ہیں معاف کرنے کا تجھ سے اور حکم دیا کہ معاف کرو اس کے گناہوں کو ۔
Sahih Muslim 22:37sahih
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، - قَالَ مَنْصُورٌ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ عَنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا . فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There was a person who gave loans to the people and said to his men: When an insolvent comes to you show him leniency that Allah may overlook our (faults). So when he met Allah, He overlooked his faults (forgave him)
ابوہریرہؓ سے روایت ہے رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا اور وہ اپنے نوکروں سے کہتا جو مفلس ہو اس کو معاف کردینا شاید اﷲ تعالیٰ اس کے بدلے ہم کو معاف کرے ۔ پھر وہ اﷲ تعالیٰ سے ملا اﷲ نے اس کو بخش دیا ۔ باب : حد لگانے سے گناہ مٹ جاتا ہے ۔
Sahih Muslim 22:39sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْهَيْثَمِ، خَالِدُ بْنُ خِدَاشِ بْنِ عَجْلاَنَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، طَلَبَ غَرِيمًا لَهُ فَتَوَارَى عَنْهُ ثُمَّ وَجَدَهُ فَقَالَ إِنِّي مُعْسِرٌ . فَقَالَ آللَّهِ قَالَ آللَّهِ . قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللَّهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ أَوْ يَضَعْ عَنْهُ " .
Abdullah b. Abu Qatada reported that Abu Qatada (Allah be pleased with him) demanded (the payment of his debt) from his debtor but he disappeared; later on he found him and he said:I am hard up financially, whereupon he said: (Do you state it) by God? He said: By God. Upon this he (Qatada) said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: He who loves that Allah saves him from the torments of the Day of Resurrection should give respite to the insolvent or remit (his debt)
حماد بن زید نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اور انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت کی کہ حضرت ابو قتادہ نے اپنے ایک قرض دار کو تلاش کیا تو وہ ان سے چھپ گیا ، پھر ( بعد میں ) انہوں نے اسے پا لیا تو اس نے کہا : میں تنگ دست ہوں ۔ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم؟ اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم! انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جسے یہ بات اچھی لگے کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی سختیوں سے نجات دے تو وہ تنگ دست کو سہولت دے یا اسے معاف کر دے ۔