بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ
'Abasa wa tawallaa.
The Prophet frowned and turned away
(محمد مصطفٰےﷺ) ترش رُو ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ ﷺ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ ﷺ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ ﷺ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہوجائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہوجائے، یہ کیا کہا آپ ﷺ ان بےپرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں ؟ آپ ﷺ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے ؟ وہ اگر آپ ﷺ کی باتیں نہ مانیں تو آپ ﷺ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ ﷺ سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور ﷺ کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور ﷺ ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے (مسند ابو یعلی) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت محمد ﷺ مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ ﷺ کی جلس میں تھے آپ ﷺ نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ ﷺ کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آگئے اور کہنے لگے حضور ﷺ قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ ﷺ کو اس وقت ان کی بات ذرا بےموقع لگی اور منہ پھیرلیا اور ادھر ہی متوجہ رہے، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ ﷺ گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہوگیا اور یہ آیتیں اتریں، پھر تو آپ ﷺ ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو ؟ (ابن جریر وغیرہ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں آیت (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ ۙ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى ۭ) عبس اتری تھی، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (ابن ابی حاتم) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے، واللہ اعلم، انھا تذکرہ یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے، سدی کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کرلے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کرلے، یہ سورت اور یہ وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاس ہاتھوں میں ہیں اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ اصحاب رسول ﷺ کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں، سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں بھی یہی معنی پائے جاتے ہیں، امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں، وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ خوش رو شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کیساتھ ہوگا اور جو باوجود مشقت کبھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا۔
أَن جَآءَهُ ٱلْأَعْمَىٰ
An jaa-ahul 'a-maa
Because there came to him the blind man, [interrupting].
کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ ﷺ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ ﷺ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ ﷺ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہوجائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہوجائے، یہ کیا کہا آپ ﷺ ان بےپرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں ؟ آپ ﷺ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے ؟ وہ اگر آپ ﷺ کی باتیں نہ مانیں تو آپ ﷺ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ ﷺ سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور ﷺ کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور ﷺ ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے (مسند ابو یعلی) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت محمد ﷺ مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ ﷺ کی جلس میں تھے آپ ﷺ نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ ﷺ کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آگئے اور کہنے لگے حضور ﷺ قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ ﷺ کو اس وقت ان کی بات ذرا بےموقع لگی اور منہ پھیرلیا اور ادھر ہی متوجہ رہے، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ ﷺ گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہوگیا اور یہ آیتیں اتریں، پھر تو آپ ﷺ ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو ؟ (ابن جریر وغیرہ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں آیت (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ ۙ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى ۭ) عبس اتری تھی، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (ابن ابی حاتم) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے، واللہ اعلم، انھا تذکرہ یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے، سدی کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کرلے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کرلے، یہ سورت اور یہ وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاس ہاتھوں میں ہیں اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ اصحاب رسول ﷺ کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں، سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں بھی یہی معنی پائے جاتے ہیں، امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں، وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ خوش رو شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کیساتھ ہوگا اور جو باوجود مشقت کبھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا۔
وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ
Wa maa yudreeka la'allahu yaz zakkaa.
But what would make you perceive, [O Muhammad], that perhaps he might be purified
اور تم کو کیا خبر شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ ﷺ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ ﷺ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ ﷺ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہوجائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہوجائے، یہ کیا کہا آپ ﷺ ان بےپرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں ؟ آپ ﷺ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے ؟ وہ اگر آپ ﷺ کی باتیں نہ مانیں تو آپ ﷺ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ ﷺ سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور ﷺ کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور ﷺ ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے (مسند ابو یعلی) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت محمد ﷺ مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ ﷺ کی جلس میں تھے آپ ﷺ نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ ﷺ کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آگئے اور کہنے لگے حضور ﷺ قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ ﷺ کو اس وقت ان کی بات ذرا بےموقع لگی اور منہ پھیرلیا اور ادھر ہی متوجہ رہے، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ ﷺ گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہوگیا اور یہ آیتیں اتریں، پھر تو آپ ﷺ ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو ؟ (ابن جریر وغیرہ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں آیت (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ ۙ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى ۭ) عبس اتری تھی، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (ابن ابی حاتم) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے، واللہ اعلم، انھا تذکرہ یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے، سدی کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کرلے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کرلے، یہ سورت اور یہ وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاس ہاتھوں میں ہیں اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ اصحاب رسول ﷺ کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں، سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں بھی یہی معنی پائے جاتے ہیں، امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں، وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ خوش رو شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کیساتھ ہوگا اور جو باوجود مشقت کبھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا۔
أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكْرَىٰٓ
Au yaz zak karu fatanfa 'ahuz zikraa.
Or be reminded and the remembrance would benefit him?
یا سوچتا تو سمجھانا اسے فائدہ دیتا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ ﷺ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ ﷺ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ ﷺ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہوجائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہوجائے، یہ کیا کہا آپ ﷺ ان بےپرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں ؟ آپ ﷺ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے ؟ وہ اگر آپ ﷺ کی باتیں نہ مانیں تو آپ ﷺ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ ﷺ سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور ﷺ کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور ﷺ ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے (مسند ابو یعلی) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت محمد ﷺ مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ ﷺ کی جلس میں تھے آپ ﷺ نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ ﷺ کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آگئے اور کہنے لگے حضور ﷺ قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ ﷺ کو اس وقت ان کی بات ذرا بےموقع لگی اور منہ پھیرلیا اور ادھر ہی متوجہ رہے، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ ﷺ گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہوگیا اور یہ آیتیں اتریں، پھر تو آپ ﷺ ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو ؟ (ابن جریر وغیرہ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں آیت (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ ۙ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى ۭ) عبس اتری تھی، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (ابن ابی حاتم) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے، واللہ اعلم، انھا تذکرہ یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے، سدی کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کرلے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کرلے، یہ سورت اور یہ وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاس ہاتھوں میں ہیں اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ اصحاب رسول ﷺ کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں، سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں بھی یہی معنی پائے جاتے ہیں، امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں، وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ خوش رو شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کیساتھ ہوگا اور جو باوجود مشقت کبھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا۔
أَمَّا مَنِ ٱسْتَغْنَىٰ
Amma manis taghnaa
As for he who thinks himself without need,
جو پروا نہیں کرتا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ ﷺ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ ﷺ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ ﷺ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہوجائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہوجائے، یہ کیا کہا آپ ﷺ ان بےپرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں ؟ آپ ﷺ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے ؟ وہ اگر آپ ﷺ کی باتیں نہ مانیں تو آپ ﷺ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ ﷺ سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور ﷺ کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور ﷺ ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے (مسند ابو یعلی) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت محمد ﷺ مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ ﷺ کی جلس میں تھے آپ ﷺ نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ ﷺ کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آگئے اور کہنے لگے حضور ﷺ قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ ﷺ کو اس وقت ان کی بات ذرا بےموقع لگی اور منہ پھیرلیا اور ادھر ہی متوجہ رہے، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ ﷺ گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہوگیا اور یہ آیتیں اتریں، پھر تو آپ ﷺ ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو ؟ (ابن جریر وغیرہ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں آیت (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ ۙ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى ۭ) عبس اتری تھی، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (ابن ابی حاتم) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے، واللہ اعلم، انھا تذکرہ یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے، سدی کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کرلے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کرلے، یہ سورت اور یہ وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاس ہاتھوں میں ہیں اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ اصحاب رسول ﷺ کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں، سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں بھی یہی معنی پائے جاتے ہیں، امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں، وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ خوش رو شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کیساتھ ہوگا اور جو باوجود مشقت کبھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا۔
فَأَنتَ لَهُۥ تَصَدَّىٰ
Fa-anta lahu tasaddaa
To him you give attention.
اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ ﷺ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ ﷺ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ ﷺ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہوجائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہوجائے، یہ کیا کہا آپ ﷺ ان بےپرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں ؟ آپ ﷺ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے ؟ وہ اگر آپ ﷺ کی باتیں نہ مانیں تو آپ ﷺ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ ﷺ سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور ﷺ کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور ﷺ ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے (مسند ابو یعلی) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت محمد ﷺ مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ ﷺ کی جلس میں تھے آپ ﷺ نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ ﷺ کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آگئے اور کہنے لگے حضور ﷺ قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ ﷺ کو اس وقت ان کی بات ذرا بےموقع لگی اور منہ پھیرلیا اور ادھر ہی متوجہ رہے، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ ﷺ گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہوگیا اور یہ آیتیں اتریں، پھر تو آپ ﷺ ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو ؟ (ابن جریر وغیرہ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں آیت (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ ۙ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى ۭ) عبس اتری تھی، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (ابن ابی حاتم) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے، واللہ اعلم، انھا تذکرہ یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے، سدی کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کرلے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کرلے، یہ سورت اور یہ وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاس ہاتھوں میں ہیں اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ اصحاب رسول ﷺ کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں، سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں بھی یہی معنی پائے جاتے ہیں، امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں، وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ خوش رو شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کیساتھ ہوگا اور جو باوجود مشقت کبھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا۔
وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ
Wa ma 'alaika allaa yaz zakka.
And not upon you [is any blame] if he will not be purified.
حالانکہ اگر وہ نہ سنورے تو تم پر کچھ (الزام) نہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ ﷺ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ ﷺ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ ﷺ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہوجائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہوجائے، یہ کیا کہا آپ ﷺ ان بےپرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں ؟ آپ ﷺ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے ؟ وہ اگر آپ ﷺ کی باتیں نہ مانیں تو آپ ﷺ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ ﷺ سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور ﷺ کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور ﷺ ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے (مسند ابو یعلی) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت محمد ﷺ مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ ﷺ کی جلس میں تھے آپ ﷺ نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ ﷺ کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آگئے اور کہنے لگے حضور ﷺ قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ ﷺ کو اس وقت ان کی بات ذرا بےموقع لگی اور منہ پھیرلیا اور ادھر ہی متوجہ رہے، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ ﷺ گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہوگیا اور یہ آیتیں اتریں، پھر تو آپ ﷺ ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو ؟ (ابن جریر وغیرہ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں آیت (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ ۙ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى ۭ) عبس اتری تھی، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (ابن ابی حاتم) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے، واللہ اعلم، انھا تذکرہ یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے، سدی کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کرلے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کرلے، یہ سورت اور یہ وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاس ہاتھوں میں ہیں اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ اصحاب رسول ﷺ کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں، سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں بھی یہی معنی پائے جاتے ہیں، امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں، وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ خوش رو شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کیساتھ ہوگا اور جو باوجود مشقت کبھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا۔
وَأَمَّا مَن جَآءَكَ يَسْعَىٰ
Wa amma man jaa-aka yas'a
But as for he who came to you striving [for knowledge]
اور جو تمہارے پاس دوڑتا ہوا آیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ ﷺ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ ﷺ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ ﷺ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہوجائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہوجائے، یہ کیا کہا آپ ﷺ ان بےپرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں ؟ آپ ﷺ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے ؟ وہ اگر آپ ﷺ کی باتیں نہ مانیں تو آپ ﷺ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ ﷺ سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور ﷺ کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور ﷺ ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے (مسند ابو یعلی) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت محمد ﷺ مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ ﷺ کی جلس میں تھے آپ ﷺ نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ ﷺ کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آگئے اور کہنے لگے حضور ﷺ قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ ﷺ کو اس وقت ان کی بات ذرا بےموقع لگی اور منہ پھیرلیا اور ادھر ہی متوجہ رہے، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ ﷺ گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہوگیا اور یہ آیتیں اتریں، پھر تو آپ ﷺ ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو ؟ (ابن جریر وغیرہ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں آیت (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ ۙ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى ۭ) عبس اتری تھی، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (ابن ابی حاتم) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے، واللہ اعلم، انھا تذکرہ یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے، سدی کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کرلے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کرلے، یہ سورت اور یہ وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاس ہاتھوں میں ہیں اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ اصحاب رسول ﷺ کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں، سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں بھی یہی معنی پائے جاتے ہیں، امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں، وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ خوش رو شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کیساتھ ہوگا اور جو باوجود مشقت کبھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا۔
وَهُوَ يَخْشَىٰ
Wahuwa yakhshaa,
While he fears [Allah],
اور (خدا سے) ڈرتا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ ﷺ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ ﷺ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ ﷺ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہوجائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہوجائے، یہ کیا کہا آپ ﷺ ان بےپرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں ؟ آپ ﷺ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے ؟ وہ اگر آپ ﷺ کی باتیں نہ مانیں تو آپ ﷺ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ ﷺ سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور ﷺ کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور ﷺ ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے (مسند ابو یعلی) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت محمد ﷺ مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ ﷺ کی جلس میں تھے آپ ﷺ نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ ﷺ کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آگئے اور کہنے لگے حضور ﷺ قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ ﷺ کو اس وقت ان کی بات ذرا بےموقع لگی اور منہ پھیرلیا اور ادھر ہی متوجہ رہے، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ ﷺ گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہوگیا اور یہ آیتیں اتریں، پھر تو آپ ﷺ ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو ؟ (ابن جریر وغیرہ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں آیت (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ ۙ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى ۭ) عبس اتری تھی، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (ابن ابی حاتم) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے، واللہ اعلم، انھا تذکرہ یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے، سدی کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کرلے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کرلے، یہ سورت اور یہ وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاس ہاتھوں میں ہیں اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ اصحاب رسول ﷺ کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں، سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں بھی یہی معنی پائے جاتے ہیں، امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں، وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ خوش رو شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کیساتھ ہوگا اور جو باوجود مشقت کبھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا۔
فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ
Fa-anta 'anhu talah haa.
From him you are distracted.
اس سے تم بےرخی کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ ﷺ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ ﷺ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ ﷺ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہوجائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہوجائے، یہ کیا کہا آپ ﷺ ان بےپرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں ؟ آپ ﷺ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے ؟ وہ اگر آپ ﷺ کی باتیں نہ مانیں تو آپ ﷺ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ ﷺ سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور ﷺ کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور ﷺ ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے (مسند ابو یعلی) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت محمد ﷺ مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ ﷺ کی جلس میں تھے آپ ﷺ نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ ﷺ کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آگئے اور کہنے لگے حضور ﷺ قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ ﷺ کو اس وقت ان کی بات ذرا بےموقع لگی اور منہ پھیرلیا اور ادھر ہی متوجہ رہے، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ ﷺ گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہوگیا اور یہ آیتیں اتریں، پھر تو آپ ﷺ ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو ؟ (ابن جریر وغیرہ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں آیت (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ ۙ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى ۭ) عبس اتری تھی، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (ابن ابی حاتم) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے، واللہ اعلم، انھا تذکرہ یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے، سدی کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کرلے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کرلے، یہ سورت اور یہ وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاس ہاتھوں میں ہیں اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ اصحاب رسول ﷺ کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں، سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں بھی یہی معنی پائے جاتے ہیں، امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں، وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ خوش رو شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کیساتھ ہوگا اور جو باوجود مشقت کبھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا۔
كَلَّآ إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ
Kalla innaha tazkirah
No! Indeed, these verses are a reminder;
دیکھو یہ (قرآن) نصیحت ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ ﷺ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ ﷺ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ ﷺ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہوجائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہوجائے، یہ کیا کہا آپ ﷺ ان بےپرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں ؟ آپ ﷺ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے ؟ وہ اگر آپ ﷺ کی باتیں نہ مانیں تو آپ ﷺ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ ﷺ سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور ﷺ کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور ﷺ ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے (مسند ابو یعلی) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت محمد ﷺ مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ ﷺ کی جلس میں تھے آپ ﷺ نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ ﷺ کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آگئے اور کہنے لگے حضور ﷺ قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ ﷺ کو اس وقت ان کی بات ذرا بےموقع لگی اور منہ پھیرلیا اور ادھر ہی متوجہ رہے، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ ﷺ گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہوگیا اور یہ آیتیں اتریں، پھر تو آپ ﷺ ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو ؟ (ابن جریر وغیرہ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں آیت (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ ۙ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى ۭ) عبس اتری تھی، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (ابن ابی حاتم) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے، واللہ اعلم، انھا تذکرہ یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے، سدی کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کرلے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کرلے، یہ سورت اور یہ وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاس ہاتھوں میں ہیں اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ اصحاب رسول ﷺ کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں، سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں بھی یہی معنی پائے جاتے ہیں، امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں، وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ خوش رو شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کیساتھ ہوگا اور جو باوجود مشقت کبھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا۔
فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ
Faman shaa a zakarah
So whoever wills may remember it.
پس جو چاہے اسے یاد رکھے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ ﷺ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ ﷺ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ ﷺ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہوجائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہوجائے، یہ کیا کہا آپ ﷺ ان بےپرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں ؟ آپ ﷺ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے ؟ وہ اگر آپ ﷺ کی باتیں نہ مانیں تو آپ ﷺ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ ﷺ سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور ﷺ کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور ﷺ ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے (مسند ابو یعلی) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت محمد ﷺ مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ ﷺ کی جلس میں تھے آپ ﷺ نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ ﷺ کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آگئے اور کہنے لگے حضور ﷺ قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ ﷺ کو اس وقت ان کی بات ذرا بےموقع لگی اور منہ پھیرلیا اور ادھر ہی متوجہ رہے، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ ﷺ گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہوگیا اور یہ آیتیں اتریں، پھر تو آپ ﷺ ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو ؟ (ابن جریر وغیرہ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں آیت (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ ۙ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى ۭ) عبس اتری تھی، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (ابن ابی حاتم) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے، واللہ اعلم، انھا تذکرہ یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے، سدی کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کرلے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کرلے، یہ سورت اور یہ وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاس ہاتھوں میں ہیں اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ اصحاب رسول ﷺ کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں، سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں بھی یہی معنی پائے جاتے ہیں، امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں، وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ خوش رو شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کیساتھ ہوگا اور جو باوجود مشقت کبھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا۔
فِى صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ
Fi suhufim mukar rama,
[It is recorded] in honored sheets,
قابل ادب ورقوں میں (لکھا ہوا)
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ ﷺ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ ﷺ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ ﷺ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہوجائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہوجائے، یہ کیا کہا آپ ﷺ ان بےپرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں ؟ آپ ﷺ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے ؟ وہ اگر آپ ﷺ کی باتیں نہ مانیں تو آپ ﷺ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ ﷺ سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور ﷺ کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور ﷺ ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے (مسند ابو یعلی) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت محمد ﷺ مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ ﷺ کی جلس میں تھے آپ ﷺ نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ ﷺ کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آگئے اور کہنے لگے حضور ﷺ قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ ﷺ کو اس وقت ان کی بات ذرا بےموقع لگی اور منہ پھیرلیا اور ادھر ہی متوجہ رہے، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ ﷺ گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہوگیا اور یہ آیتیں اتریں، پھر تو آپ ﷺ ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو ؟ (ابن جریر وغیرہ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں آیت (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ ۙ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى ۭ) عبس اتری تھی، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (ابن ابی حاتم) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے، واللہ اعلم، انھا تذکرہ یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے، سدی کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کرلے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کرلے، یہ سورت اور یہ وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاس ہاتھوں میں ہیں اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ اصحاب رسول ﷺ کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں، سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں بھی یہی معنی پائے جاتے ہیں، امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں، وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ خوش رو شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کیساتھ ہوگا اور جو باوجود مشقت کبھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا۔
مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ
Marfoo'atim mutah hara,
Exalted and purified,
جو بلند مقام پر رکھے ہوئے (اور) پاک ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ ﷺ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ ﷺ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ ﷺ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہوجائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہوجائے، یہ کیا کہا آپ ﷺ ان بےپرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں ؟ آپ ﷺ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے ؟ وہ اگر آپ ﷺ کی باتیں نہ مانیں تو آپ ﷺ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ ﷺ سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور ﷺ کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور ﷺ ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے (مسند ابو یعلی) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت محمد ﷺ مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ ﷺ کی جلس میں تھے آپ ﷺ نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ ﷺ کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آگئے اور کہنے لگے حضور ﷺ قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ ﷺ کو اس وقت ان کی بات ذرا بےموقع لگی اور منہ پھیرلیا اور ادھر ہی متوجہ رہے، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ ﷺ گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہوگیا اور یہ آیتیں اتریں، پھر تو آپ ﷺ ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو ؟ (ابن جریر وغیرہ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں آیت (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ ۙ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى ۭ) عبس اتری تھی، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (ابن ابی حاتم) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے، واللہ اعلم، انھا تذکرہ یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے، سدی کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کرلے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کرلے، یہ سورت اور یہ وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاس ہاتھوں میں ہیں اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ اصحاب رسول ﷺ کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں، سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں بھی یہی معنی پائے جاتے ہیں، امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں، وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ خوش رو شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کیساتھ ہوگا اور جو باوجود مشقت کبھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا۔
بِأَيْدِى سَفَرَةٍ
Bi'aidee safara
[Carried] by the hands of messenger-angels,
لکھنے والوں کے ہاتھوں میں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ ﷺ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ ﷺ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ ﷺ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہوجائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہوجائے، یہ کیا کہا آپ ﷺ ان بےپرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں ؟ آپ ﷺ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے ؟ وہ اگر آپ ﷺ کی باتیں نہ مانیں تو آپ ﷺ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ ﷺ سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور ﷺ کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور ﷺ ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے (مسند ابو یعلی) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت محمد ﷺ مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ ﷺ کی جلس میں تھے آپ ﷺ نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ ﷺ کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آگئے اور کہنے لگے حضور ﷺ قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ ﷺ کو اس وقت ان کی بات ذرا بےموقع لگی اور منہ پھیرلیا اور ادھر ہی متوجہ رہے، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ ﷺ گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہوگیا اور یہ آیتیں اتریں، پھر تو آپ ﷺ ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو ؟ (ابن جریر وغیرہ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں آیت (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ ۙ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى ۭ) عبس اتری تھی، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (ابن ابی حاتم) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے، واللہ اعلم، انھا تذکرہ یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے، سدی کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کرلے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کرلے، یہ سورت اور یہ وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاس ہاتھوں میں ہیں اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ اصحاب رسول ﷺ کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں، سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں بھی یہی معنی پائے جاتے ہیں، امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں، وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ خوش رو شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کیساتھ ہوگا اور جو باوجود مشقت کبھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا۔
كِرَامٍۭ بَرَرَةٍ
Kiraamim bararah.
Noble and dutiful.
جو سردار اور نیکو کار ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ ﷺ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ ﷺ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ ﷺ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہوجائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہوجائے، یہ کیا کہا آپ ﷺ ان بےپرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں ؟ آپ ﷺ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے ؟ وہ اگر آپ ﷺ کی باتیں نہ مانیں تو آپ ﷺ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ ﷺ سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور ﷺ کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور ﷺ ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے (مسند ابو یعلی) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت محمد ﷺ مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ ﷺ کی جلس میں تھے آپ ﷺ نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ ﷺ کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آگئے اور کہنے لگے حضور ﷺ قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ ﷺ کو اس وقت ان کی بات ذرا بےموقع لگی اور منہ پھیرلیا اور ادھر ہی متوجہ رہے، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ ﷺ گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہوگیا اور یہ آیتیں اتریں، پھر تو آپ ﷺ ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو ؟ (ابن جریر وغیرہ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں آیت (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ ۙ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى ۭ) عبس اتری تھی، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (ابن ابی حاتم) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے، واللہ اعلم، انھا تذکرہ یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے، سدی کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کرلے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کرلے، یہ سورت اور یہ وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاس ہاتھوں میں ہیں اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ اصحاب رسول ﷺ کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں، سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں بھی یہی معنی پائے جاتے ہیں، امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں، وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ خوش رو شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کیساتھ ہوگا اور جو باوجود مشقت کبھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا۔
قُتِلَ ٱلْإِنسَٰنُ مَآ أَكْفَرَهُۥ
Qutilal-insanu maa akfarah.
Cursed is man; how disbelieving is he.
انسان ہلاک ہو جائے کیسا ناشکرا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر روزی عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کردیا یعنی واضح اور ظاہر کردیا جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) یعنی ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا، حسن اور ابن زید اسی کو راجح بتاتے ہیں واللہ اعلم۔ اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں۔ قبرت الرَّجُلَ اور کہتے ہیں اقبَرُہُ اللہ اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ اب اللہ نے اسے قبر والا بنادیا۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو بعثت بھی کہتے ہیں اور نشور بھی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ 20) 30۔ الروم :20)۔ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے اور جگہ ہے (كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا02509) 2۔ البقرة :259) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑ ھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی۔ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح یہ ناشکرا اور بےقدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کردیا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی۔ حضرت مجاہد کا فرمان ہے کہ کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہوسکتی۔ حسن بصری سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت مقررہ ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو، ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہوچکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہوچکے اس وقت وہ خالق کل دوبارہ زندہ کرے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا، ابن ابی حاتم میں حضرت وہب بن منبہ ؒ سے مروی ہے کہ حضرت عزیز ؑ نے فرمایا میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہوچکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اور قبریں سب بھر جائیں گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مرجائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کرسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا اس میں بھی دلیل ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تر و تازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کردیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کردیں گے، تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے درخت پھوٹا اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں۔ حب کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، عنب کہتے ہیں انگور کو اور قضب کہتے ہیں اس سبز چارے کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے جلایا جاتا ہے تیل نکالا جاتا ہے اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہے، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہیں اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ غالباً " کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ حدائق کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا اور خوب بھرا ہوا اور گہرے سائے والا اور بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب اغلب کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور اب کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، اب جانور کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے فاکَھَہ یعنی پھل، میوہ۔ عطاء کا قول ہے کہ زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے " اب " کہتے ہیں۔ ضحاک فرماتے ہیں سوائے میوؤں کے باقی سب اَبّ ہے۔ ابو السائب فرماتے ہیں اَبّ آدمے کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کونسا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کونسی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں وہ کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے حضرت صدیق کو نہیں پایا، ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے منبر پر سورة عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ فاکھہ کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ اب کیا چیز ہے ؟ پھر خود ہی فرمایا اس تکلیف کو چھوڑ، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے، (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ 10) 31۔ لقمان :10) ، پھر فرمایا ہے تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہیگا اور تم اس سے فیض یاب ہوتے رہو گے۔
مِنْ أَىِّ شَىْءٍ خَلَقَهُۥ
Min aiyyi shai-in Khalaq
From what substance did He create him?
اُسے (خدا نے) کس چیز سے بنایا؟
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر روزی عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کردیا یعنی واضح اور ظاہر کردیا جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) یعنی ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا، حسن اور ابن زید اسی کو راجح بتاتے ہیں واللہ اعلم۔ اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں۔ قبرت الرَّجُلَ اور کہتے ہیں اقبَرُہُ اللہ اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ اب اللہ نے اسے قبر والا بنادیا۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو بعثت بھی کہتے ہیں اور نشور بھی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ 20) 30۔ الروم :20)۔ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے اور جگہ ہے (كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا02509) 2۔ البقرة :259) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑ ھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی۔ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح یہ ناشکرا اور بےقدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کردیا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی۔ حضرت مجاہد کا فرمان ہے کہ کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہوسکتی۔ حسن بصری سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت مقررہ ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو، ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہوچکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہوچکے اس وقت وہ خالق کل دوبارہ زندہ کرے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا، ابن ابی حاتم میں حضرت وہب بن منبہ ؒ سے مروی ہے کہ حضرت عزیز ؑ نے فرمایا میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہوچکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اور قبریں سب بھر جائیں گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مرجائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کرسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا اس میں بھی دلیل ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تر و تازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کردیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کردیں گے، تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے درخت پھوٹا اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں۔ حب کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، عنب کہتے ہیں انگور کو اور قضب کہتے ہیں اس سبز چارے کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے جلایا جاتا ہے تیل نکالا جاتا ہے اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہے، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہیں اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ غالباً " کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ حدائق کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا اور خوب بھرا ہوا اور گہرے سائے والا اور بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب اغلب کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور اب کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، اب جانور کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے فاکَھَہ یعنی پھل، میوہ۔ عطاء کا قول ہے کہ زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے " اب " کہتے ہیں۔ ضحاک فرماتے ہیں سوائے میوؤں کے باقی سب اَبّ ہے۔ ابو السائب فرماتے ہیں اَبّ آدمے کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کونسا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کونسی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں وہ کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے حضرت صدیق کو نہیں پایا، ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے منبر پر سورة عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ فاکھہ کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ اب کیا چیز ہے ؟ پھر خود ہی فرمایا اس تکلیف کو چھوڑ، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے، (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ 10) 31۔ لقمان :10) ، پھر فرمایا ہے تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہیگا اور تم اس سے فیض یاب ہوتے رہو گے۔
مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُۥ فَقَدَّرَهُۥ
Min nutfah; khalaqahu faqad-darah.
From a sperm-drop He created him and destined for him;
نطفے سے بنایا پھر اس کا اندازہ مقرر کیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر روزی عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کردیا یعنی واضح اور ظاہر کردیا جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) یعنی ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا، حسن اور ابن زید اسی کو راجح بتاتے ہیں واللہ اعلم۔ اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں۔ قبرت الرَّجُلَ اور کہتے ہیں اقبَرُہُ اللہ اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ اب اللہ نے اسے قبر والا بنادیا۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو بعثت بھی کہتے ہیں اور نشور بھی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ 20) 30۔ الروم :20)۔ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے اور جگہ ہے (كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا02509) 2۔ البقرة :259) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑ ھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی۔ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح یہ ناشکرا اور بےقدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کردیا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی۔ حضرت مجاہد کا فرمان ہے کہ کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہوسکتی۔ حسن بصری سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت مقررہ ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو، ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہوچکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہوچکے اس وقت وہ خالق کل دوبارہ زندہ کرے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا، ابن ابی حاتم میں حضرت وہب بن منبہ ؒ سے مروی ہے کہ حضرت عزیز ؑ نے فرمایا میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہوچکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اور قبریں سب بھر جائیں گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مرجائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کرسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا اس میں بھی دلیل ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تر و تازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کردیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کردیں گے، تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے درخت پھوٹا اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں۔ حب کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، عنب کہتے ہیں انگور کو اور قضب کہتے ہیں اس سبز چارے کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے جلایا جاتا ہے تیل نکالا جاتا ہے اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہے، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہیں اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ غالباً " کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ حدائق کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا اور خوب بھرا ہوا اور گہرے سائے والا اور بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب اغلب کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور اب کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، اب جانور کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے فاکَھَہ یعنی پھل، میوہ۔ عطاء کا قول ہے کہ زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے " اب " کہتے ہیں۔ ضحاک فرماتے ہیں سوائے میوؤں کے باقی سب اَبّ ہے۔ ابو السائب فرماتے ہیں اَبّ آدمے کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کونسا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کونسی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں وہ کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے حضرت صدیق کو نہیں پایا، ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے منبر پر سورة عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ فاکھہ کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ اب کیا چیز ہے ؟ پھر خود ہی فرمایا اس تکلیف کو چھوڑ، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے، (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ 10) 31۔ لقمان :10) ، پھر فرمایا ہے تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہیگا اور تم اس سے فیض یاب ہوتے رہو گے۔
ثُمَّ ٱلسَّبِيلَ يَسَّرَهُۥ
Thummas sabeela yas-sarah
Then He eased the way for him;
پھر اس کے لیے رستہ آسان کر دیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر روزی عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کردیا یعنی واضح اور ظاہر کردیا جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) یعنی ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا، حسن اور ابن زید اسی کو راجح بتاتے ہیں واللہ اعلم۔ اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں۔ قبرت الرَّجُلَ اور کہتے ہیں اقبَرُہُ اللہ اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ اب اللہ نے اسے قبر والا بنادیا۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو بعثت بھی کہتے ہیں اور نشور بھی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ 20) 30۔ الروم :20)۔ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے اور جگہ ہے (كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا02509) 2۔ البقرة :259) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑ ھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی۔ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح یہ ناشکرا اور بےقدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کردیا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی۔ حضرت مجاہد کا فرمان ہے کہ کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہوسکتی۔ حسن بصری سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت مقررہ ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو، ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہوچکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہوچکے اس وقت وہ خالق کل دوبارہ زندہ کرے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا، ابن ابی حاتم میں حضرت وہب بن منبہ ؒ سے مروی ہے کہ حضرت عزیز ؑ نے فرمایا میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہوچکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اور قبریں سب بھر جائیں گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مرجائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کرسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا اس میں بھی دلیل ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تر و تازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کردیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کردیں گے، تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے درخت پھوٹا اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں۔ حب کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، عنب کہتے ہیں انگور کو اور قضب کہتے ہیں اس سبز چارے کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے جلایا جاتا ہے تیل نکالا جاتا ہے اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہے، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہیں اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ غالباً " کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ حدائق کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا اور خوب بھرا ہوا اور گہرے سائے والا اور بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب اغلب کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور اب کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، اب جانور کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے فاکَھَہ یعنی پھل، میوہ۔ عطاء کا قول ہے کہ زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے " اب " کہتے ہیں۔ ضحاک فرماتے ہیں سوائے میوؤں کے باقی سب اَبّ ہے۔ ابو السائب فرماتے ہیں اَبّ آدمے کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کونسا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کونسی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں وہ کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے حضرت صدیق کو نہیں پایا، ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے منبر پر سورة عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ فاکھہ کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ اب کیا چیز ہے ؟ پھر خود ہی فرمایا اس تکلیف کو چھوڑ، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے، (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ 10) 31۔ لقمان :10) ، پھر فرمایا ہے تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہیگا اور تم اس سے فیض یاب ہوتے رہو گے۔
ثُمَّ أَمَاتَهُۥ فَأَقْبَرَهُۥ
Thumma amatahu fa-aqbarah
Then He causes his death and provides a grave for him.
پھر اس کو موت دی پھر قبر میں دفن کرایا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر روزی عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کردیا یعنی واضح اور ظاہر کردیا جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) یعنی ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا، حسن اور ابن زید اسی کو راجح بتاتے ہیں واللہ اعلم۔ اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں۔ قبرت الرَّجُلَ اور کہتے ہیں اقبَرُہُ اللہ اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ اب اللہ نے اسے قبر والا بنادیا۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو بعثت بھی کہتے ہیں اور نشور بھی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ 20) 30۔ الروم :20)۔ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے اور جگہ ہے (كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا02509) 2۔ البقرة :259) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑ ھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی۔ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح یہ ناشکرا اور بےقدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کردیا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی۔ حضرت مجاہد کا فرمان ہے کہ کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہوسکتی۔ حسن بصری سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت مقررہ ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو، ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہوچکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہوچکے اس وقت وہ خالق کل دوبارہ زندہ کرے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا، ابن ابی حاتم میں حضرت وہب بن منبہ ؒ سے مروی ہے کہ حضرت عزیز ؑ نے فرمایا میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہوچکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اور قبریں سب بھر جائیں گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مرجائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کرسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا اس میں بھی دلیل ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تر و تازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کردیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کردیں گے، تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے درخت پھوٹا اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں۔ حب کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، عنب کہتے ہیں انگور کو اور قضب کہتے ہیں اس سبز چارے کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے جلایا جاتا ہے تیل نکالا جاتا ہے اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہے، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہیں اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ غالباً " کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ حدائق کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا اور خوب بھرا ہوا اور گہرے سائے والا اور بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب اغلب کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور اب کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، اب جانور کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے فاکَھَہ یعنی پھل، میوہ۔ عطاء کا قول ہے کہ زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے " اب " کہتے ہیں۔ ضحاک فرماتے ہیں سوائے میوؤں کے باقی سب اَبّ ہے۔ ابو السائب فرماتے ہیں اَبّ آدمے کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کونسا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کونسی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں وہ کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے حضرت صدیق کو نہیں پایا، ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے منبر پر سورة عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ فاکھہ کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ اب کیا چیز ہے ؟ پھر خود ہی فرمایا اس تکلیف کو چھوڑ، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے، (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ 10) 31۔ لقمان :10) ، پھر فرمایا ہے تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہیگا اور تم اس سے فیض یاب ہوتے رہو گے۔
ثُمَّ إِذَا شَآءَ أَنشَرَهُۥ
Thumma iza shaa-a ansharah
Then when He wills, He will resurrect him.
پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر روزی عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کردیا یعنی واضح اور ظاہر کردیا جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) یعنی ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا، حسن اور ابن زید اسی کو راجح بتاتے ہیں واللہ اعلم۔ اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں۔ قبرت الرَّجُلَ اور کہتے ہیں اقبَرُہُ اللہ اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ اب اللہ نے اسے قبر والا بنادیا۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو بعثت بھی کہتے ہیں اور نشور بھی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ 20) 30۔ الروم :20)۔ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے اور جگہ ہے (كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا02509) 2۔ البقرة :259) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑ ھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی۔ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح یہ ناشکرا اور بےقدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کردیا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی۔ حضرت مجاہد کا فرمان ہے کہ کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہوسکتی۔ حسن بصری سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت مقررہ ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو، ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہوچکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہوچکے اس وقت وہ خالق کل دوبارہ زندہ کرے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا، ابن ابی حاتم میں حضرت وہب بن منبہ ؒ سے مروی ہے کہ حضرت عزیز ؑ نے فرمایا میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہوچکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اور قبریں سب بھر جائیں گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مرجائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کرسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا اس میں بھی دلیل ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تر و تازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کردیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کردیں گے، تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے درخت پھوٹا اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں۔ حب کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، عنب کہتے ہیں انگور کو اور قضب کہتے ہیں اس سبز چارے کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے جلایا جاتا ہے تیل نکالا جاتا ہے اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہے، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہیں اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ غالباً " کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ حدائق کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا اور خوب بھرا ہوا اور گہرے سائے والا اور بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب اغلب کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور اب کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، اب جانور کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے فاکَھَہ یعنی پھل، میوہ۔ عطاء کا قول ہے کہ زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے " اب " کہتے ہیں۔ ضحاک فرماتے ہیں سوائے میوؤں کے باقی سب اَبّ ہے۔ ابو السائب فرماتے ہیں اَبّ آدمے کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کونسا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کونسی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں وہ کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے حضرت صدیق کو نہیں پایا، ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے منبر پر سورة عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ فاکھہ کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ اب کیا چیز ہے ؟ پھر خود ہی فرمایا اس تکلیف کو چھوڑ، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے، (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ 10) 31۔ لقمان :10) ، پھر فرمایا ہے تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہیگا اور تم اس سے فیض یاب ہوتے رہو گے۔
كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ أَمَرَهُۥ
Kalla lamma yaqdi maa amarah.
No! Man has not yet accomplished what He commanded him.
کچھ شک نہیں کہ خدا نے اسے جو حکم دیا اس نے اس پر عمل نہ کیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر روزی عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کردیا یعنی واضح اور ظاہر کردیا جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) یعنی ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا، حسن اور ابن زید اسی کو راجح بتاتے ہیں واللہ اعلم۔ اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں۔ قبرت الرَّجُلَ اور کہتے ہیں اقبَرُہُ اللہ اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ اب اللہ نے اسے قبر والا بنادیا۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو بعثت بھی کہتے ہیں اور نشور بھی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ 20) 30۔ الروم :20)۔ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے اور جگہ ہے (كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا02509) 2۔ البقرة :259) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑ ھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی۔ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح یہ ناشکرا اور بےقدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کردیا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی۔ حضرت مجاہد کا فرمان ہے کہ کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہوسکتی۔ حسن بصری سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت مقررہ ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو، ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہوچکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہوچکے اس وقت وہ خالق کل دوبارہ زندہ کرے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا، ابن ابی حاتم میں حضرت وہب بن منبہ ؒ سے مروی ہے کہ حضرت عزیز ؑ نے فرمایا میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہوچکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اور قبریں سب بھر جائیں گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مرجائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کرسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا اس میں بھی دلیل ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تر و تازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کردیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کردیں گے، تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے درخت پھوٹا اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں۔ حب کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، عنب کہتے ہیں انگور کو اور قضب کہتے ہیں اس سبز چارے کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے جلایا جاتا ہے تیل نکالا جاتا ہے اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہے، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہیں اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ غالباً " کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ حدائق کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا اور خوب بھرا ہوا اور گہرے سائے والا اور بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب اغلب کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور اب کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، اب جانور کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے فاکَھَہ یعنی پھل، میوہ۔ عطاء کا قول ہے کہ زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے " اب " کہتے ہیں۔ ضحاک فرماتے ہیں سوائے میوؤں کے باقی سب اَبّ ہے۔ ابو السائب فرماتے ہیں اَبّ آدمے کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کونسا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کونسی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں وہ کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے حضرت صدیق کو نہیں پایا، ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے منبر پر سورة عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ فاکھہ کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ اب کیا چیز ہے ؟ پھر خود ہی فرمایا اس تکلیف کو چھوڑ، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے، (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ 10) 31۔ لقمان :10) ، پھر فرمایا ہے تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہیگا اور تم اس سے فیض یاب ہوتے رہو گے۔
فَلْيَنظُرِ ٱلْإِنسَٰنُ إِلَىٰ طَعَامِهِۦٓ
Falyanzuril insanu ilaa ta-amih
Then let mankind look at his food -
تو انسان کو چاہیئے کہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر روزی عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کردیا یعنی واضح اور ظاہر کردیا جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) یعنی ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا، حسن اور ابن زید اسی کو راجح بتاتے ہیں واللہ اعلم۔ اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں۔ قبرت الرَّجُلَ اور کہتے ہیں اقبَرُہُ اللہ اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ اب اللہ نے اسے قبر والا بنادیا۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو بعثت بھی کہتے ہیں اور نشور بھی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ 20) 30۔ الروم :20)۔ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے اور جگہ ہے (كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا02509) 2۔ البقرة :259) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑ ھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی۔ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح یہ ناشکرا اور بےقدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کردیا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی۔ حضرت مجاہد کا فرمان ہے کہ کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہوسکتی۔ حسن بصری سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت مقررہ ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو، ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہوچکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہوچکے اس وقت وہ خالق کل دوبارہ زندہ کرے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا، ابن ابی حاتم میں حضرت وہب بن منبہ ؒ سے مروی ہے کہ حضرت عزیز ؑ نے فرمایا میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہوچکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اور قبریں سب بھر جائیں گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مرجائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کرسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا اس میں بھی دلیل ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تر و تازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کردیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کردیں گے، تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے درخت پھوٹا اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں۔ حب کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، عنب کہتے ہیں انگور کو اور قضب کہتے ہیں اس سبز چارے کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے جلایا جاتا ہے تیل نکالا جاتا ہے اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہے، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہیں اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ غالباً " کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ حدائق کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا اور خوب بھرا ہوا اور گہرے سائے والا اور بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب اغلب کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور اب کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، اب جانور کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے فاکَھَہ یعنی پھل، میوہ۔ عطاء کا قول ہے کہ زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے " اب " کہتے ہیں۔ ضحاک فرماتے ہیں سوائے میوؤں کے باقی سب اَبّ ہے۔ ابو السائب فرماتے ہیں اَبّ آدمے کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کونسا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کونسی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں وہ کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے حضرت صدیق کو نہیں پایا، ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے منبر پر سورة عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ فاکھہ کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ اب کیا چیز ہے ؟ پھر خود ہی فرمایا اس تکلیف کو چھوڑ، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے، (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ 10) 31۔ لقمان :10) ، پھر فرمایا ہے تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہیگا اور تم اس سے فیض یاب ہوتے رہو گے۔
أَنَّا صَبَبْنَا ٱلْمَآءَ صَبًّا
Anna sabab nalmaa-a sabba.
How We poured down water in torrents,
بے شک ہم ہی نے پانی برسایا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر روزی عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کردیا یعنی واضح اور ظاہر کردیا جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) یعنی ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا، حسن اور ابن زید اسی کو راجح بتاتے ہیں واللہ اعلم۔ اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں۔ قبرت الرَّجُلَ اور کہتے ہیں اقبَرُہُ اللہ اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ اب اللہ نے اسے قبر والا بنادیا۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو بعثت بھی کہتے ہیں اور نشور بھی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ 20) 30۔ الروم :20)۔ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے اور جگہ ہے (كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا02509) 2۔ البقرة :259) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑ ھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی۔ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح یہ ناشکرا اور بےقدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کردیا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی۔ حضرت مجاہد کا فرمان ہے کہ کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہوسکتی۔ حسن بصری سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت مقررہ ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو، ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہوچکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہوچکے اس وقت وہ خالق کل دوبارہ زندہ کرے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا، ابن ابی حاتم میں حضرت وہب بن منبہ ؒ سے مروی ہے کہ حضرت عزیز ؑ نے فرمایا میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہوچکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اور قبریں سب بھر جائیں گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مرجائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کرسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا اس میں بھی دلیل ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تر و تازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کردیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کردیں گے، تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے درخت پھوٹا اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں۔ حب کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، عنب کہتے ہیں انگور کو اور قضب کہتے ہیں اس سبز چارے کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے جلایا جاتا ہے تیل نکالا جاتا ہے اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہے، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہیں اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ غالباً " کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ حدائق کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا اور خوب بھرا ہوا اور گہرے سائے والا اور بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب اغلب کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور اب کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، اب جانور کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے فاکَھَہ یعنی پھل، میوہ۔ عطاء کا قول ہے کہ زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے " اب " کہتے ہیں۔ ضحاک فرماتے ہیں سوائے میوؤں کے باقی سب اَبّ ہے۔ ابو السائب فرماتے ہیں اَبّ آدمے کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کونسا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کونسی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں وہ کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے حضرت صدیق کو نہیں پایا، ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے منبر پر سورة عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ فاکھہ کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ اب کیا چیز ہے ؟ پھر خود ہی فرمایا اس تکلیف کو چھوڑ، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے، (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ 10) 31۔ لقمان :10) ، پھر فرمایا ہے تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہیگا اور تم اس سے فیض یاب ہوتے رہو گے۔
ثُمَّ شَقَقْنَا ٱلْأَرْضَ شَقًّا
Thumma sha qaqnal-arda shaqqa.
Then We broke open the earth, splitting [it with sprouts],
پھر ہم ہی نے زمین کو چیرا پھاڑا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر روزی عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کردیا یعنی واضح اور ظاہر کردیا جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) یعنی ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا، حسن اور ابن زید اسی کو راجح بتاتے ہیں واللہ اعلم۔ اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں۔ قبرت الرَّجُلَ اور کہتے ہیں اقبَرُہُ اللہ اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ اب اللہ نے اسے قبر والا بنادیا۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو بعثت بھی کہتے ہیں اور نشور بھی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ 20) 30۔ الروم :20)۔ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے اور جگہ ہے (كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا02509) 2۔ البقرة :259) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑ ھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی۔ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح یہ ناشکرا اور بےقدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کردیا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی۔ حضرت مجاہد کا فرمان ہے کہ کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہوسکتی۔ حسن بصری سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت مقررہ ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو، ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہوچکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہوچکے اس وقت وہ خالق کل دوبارہ زندہ کرے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا، ابن ابی حاتم میں حضرت وہب بن منبہ ؒ سے مروی ہے کہ حضرت عزیز ؑ نے فرمایا میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہوچکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اور قبریں سب بھر جائیں گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مرجائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کرسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا اس میں بھی دلیل ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تر و تازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کردیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کردیں گے، تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے درخت پھوٹا اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں۔ حب کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، عنب کہتے ہیں انگور کو اور قضب کہتے ہیں اس سبز چارے کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے جلایا جاتا ہے تیل نکالا جاتا ہے اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہے، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہیں اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ غالباً " کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ حدائق کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا اور خوب بھرا ہوا اور گہرے سائے والا اور بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب اغلب کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور اب کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، اب جانور کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے فاکَھَہ یعنی پھل، میوہ۔ عطاء کا قول ہے کہ زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے " اب " کہتے ہیں۔ ضحاک فرماتے ہیں سوائے میوؤں کے باقی سب اَبّ ہے۔ ابو السائب فرماتے ہیں اَبّ آدمے کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کونسا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کونسی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں وہ کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے حضرت صدیق کو نہیں پایا، ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے منبر پر سورة عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ فاکھہ کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ اب کیا چیز ہے ؟ پھر خود ہی فرمایا اس تکلیف کو چھوڑ، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے، (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ 10) 31۔ لقمان :10) ، پھر فرمایا ہے تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہیگا اور تم اس سے فیض یاب ہوتے رہو گے۔
فَأَنۢبَتْنَا فِيهَا حَبًّا
Fa ambatna feeha habba
And caused to grow within it grain
پھر ہم ہی نے اس میں اناج اگایا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر روزی عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کردیا یعنی واضح اور ظاہر کردیا جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) یعنی ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا، حسن اور ابن زید اسی کو راجح بتاتے ہیں واللہ اعلم۔ اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں۔ قبرت الرَّجُلَ اور کہتے ہیں اقبَرُہُ اللہ اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ اب اللہ نے اسے قبر والا بنادیا۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو بعثت بھی کہتے ہیں اور نشور بھی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ 20) 30۔ الروم :20)۔ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے اور جگہ ہے (كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا02509) 2۔ البقرة :259) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑ ھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی۔ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح یہ ناشکرا اور بےقدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کردیا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی۔ حضرت مجاہد کا فرمان ہے کہ کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہوسکتی۔ حسن بصری سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت مقررہ ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو، ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہوچکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہوچکے اس وقت وہ خالق کل دوبارہ زندہ کرے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا، ابن ابی حاتم میں حضرت وہب بن منبہ ؒ سے مروی ہے کہ حضرت عزیز ؑ نے فرمایا میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہوچکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اور قبریں سب بھر جائیں گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مرجائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کرسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا اس میں بھی دلیل ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تر و تازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کردیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کردیں گے، تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے درخت پھوٹا اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں۔ حب کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، عنب کہتے ہیں انگور کو اور قضب کہتے ہیں اس سبز چارے کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے جلایا جاتا ہے تیل نکالا جاتا ہے اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہے، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہیں اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ غالباً " کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ حدائق کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا اور خوب بھرا ہوا اور گہرے سائے والا اور بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب اغلب کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور اب کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، اب جانور کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے فاکَھَہ یعنی پھل، میوہ۔ عطاء کا قول ہے کہ زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے " اب " کہتے ہیں۔ ضحاک فرماتے ہیں سوائے میوؤں کے باقی سب اَبّ ہے۔ ابو السائب فرماتے ہیں اَبّ آدمے کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کونسا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کونسی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں وہ کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے حضرت صدیق کو نہیں پایا، ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے منبر پر سورة عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ فاکھہ کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ اب کیا چیز ہے ؟ پھر خود ہی فرمایا اس تکلیف کو چھوڑ، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے، (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ 10) 31۔ لقمان :10) ، پھر فرمایا ہے تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہیگا اور تم اس سے فیض یاب ہوتے رہو گے۔
وَعِنَبًا وَقَضْبًا
Wa 'inabaw-wa qadba
And grapes and herbage
اور انگور اور ترکاری
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر روزی عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کردیا یعنی واضح اور ظاہر کردیا جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) یعنی ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا، حسن اور ابن زید اسی کو راجح بتاتے ہیں واللہ اعلم۔ اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں۔ قبرت الرَّجُلَ اور کہتے ہیں اقبَرُہُ اللہ اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ اب اللہ نے اسے قبر والا بنادیا۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو بعثت بھی کہتے ہیں اور نشور بھی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ 20) 30۔ الروم :20)۔ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے اور جگہ ہے (كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا02509) 2۔ البقرة :259) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑ ھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی۔ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح یہ ناشکرا اور بےقدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کردیا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی۔ حضرت مجاہد کا فرمان ہے کہ کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہوسکتی۔ حسن بصری سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت مقررہ ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو، ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہوچکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہوچکے اس وقت وہ خالق کل دوبارہ زندہ کرے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا، ابن ابی حاتم میں حضرت وہب بن منبہ ؒ سے مروی ہے کہ حضرت عزیز ؑ نے فرمایا میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہوچکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اور قبریں سب بھر جائیں گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مرجائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کرسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا اس میں بھی دلیل ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تر و تازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کردیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کردیں گے، تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے درخت پھوٹا اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں۔ حب کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، عنب کہتے ہیں انگور کو اور قضب کہتے ہیں اس سبز چارے کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے جلایا جاتا ہے تیل نکالا جاتا ہے اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہے، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہیں اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ غالباً " کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ حدائق کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا اور خوب بھرا ہوا اور گہرے سائے والا اور بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب اغلب کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور اب کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، اب جانور کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے فاکَھَہ یعنی پھل، میوہ۔ عطاء کا قول ہے کہ زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے " اب " کہتے ہیں۔ ضحاک فرماتے ہیں سوائے میوؤں کے باقی سب اَبّ ہے۔ ابو السائب فرماتے ہیں اَبّ آدمے کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کونسا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کونسی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں وہ کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے حضرت صدیق کو نہیں پایا، ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے منبر پر سورة عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ فاکھہ کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ اب کیا چیز ہے ؟ پھر خود ہی فرمایا اس تکلیف کو چھوڑ، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے، (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ 10) 31۔ لقمان :10) ، پھر فرمایا ہے تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہیگا اور تم اس سے فیض یاب ہوتے رہو گے۔
وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا
Wa zaitoonaw wanakh la'
And olive and palm trees
اور زیتون اور کھجوریں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر روزی عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کردیا یعنی واضح اور ظاہر کردیا جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) یعنی ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا، حسن اور ابن زید اسی کو راجح بتاتے ہیں واللہ اعلم۔ اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں۔ قبرت الرَّجُلَ اور کہتے ہیں اقبَرُہُ اللہ اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ اب اللہ نے اسے قبر والا بنادیا۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو بعثت بھی کہتے ہیں اور نشور بھی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ 20) 30۔ الروم :20)۔ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے اور جگہ ہے (كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا02509) 2۔ البقرة :259) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑ ھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی۔ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح یہ ناشکرا اور بےقدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کردیا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی۔ حضرت مجاہد کا فرمان ہے کہ کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہوسکتی۔ حسن بصری سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت مقررہ ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو، ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہوچکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہوچکے اس وقت وہ خالق کل دوبارہ زندہ کرے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا، ابن ابی حاتم میں حضرت وہب بن منبہ ؒ سے مروی ہے کہ حضرت عزیز ؑ نے فرمایا میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہوچکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اور قبریں سب بھر جائیں گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مرجائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کرسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا اس میں بھی دلیل ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تر و تازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کردیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کردیں گے، تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے درخت پھوٹا اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں۔ حب کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، عنب کہتے ہیں انگور کو اور قضب کہتے ہیں اس سبز چارے کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے جلایا جاتا ہے تیل نکالا جاتا ہے اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہے، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہیں اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ غالباً " کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ حدائق کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا اور خوب بھرا ہوا اور گہرے سائے والا اور بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب اغلب کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور اب کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، اب جانور کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے فاکَھَہ یعنی پھل، میوہ۔ عطاء کا قول ہے کہ زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے " اب " کہتے ہیں۔ ضحاک فرماتے ہیں سوائے میوؤں کے باقی سب اَبّ ہے۔ ابو السائب فرماتے ہیں اَبّ آدمے کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کونسا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کونسی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں وہ کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے حضرت صدیق کو نہیں پایا، ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے منبر پر سورة عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ فاکھہ کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ اب کیا چیز ہے ؟ پھر خود ہی فرمایا اس تکلیف کو چھوڑ، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے، (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ 10) 31۔ لقمان :10) ، پھر فرمایا ہے تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہیگا اور تم اس سے فیض یاب ہوتے رہو گے۔
وَحَدَآئِقَ غُلْبًا
Wa hadaa-iqa ghulba
And gardens of dense shrubbery
اور گھنے گھنے باغ
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر روزی عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کردیا یعنی واضح اور ظاہر کردیا جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) یعنی ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا، حسن اور ابن زید اسی کو راجح بتاتے ہیں واللہ اعلم۔ اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں۔ قبرت الرَّجُلَ اور کہتے ہیں اقبَرُہُ اللہ اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ اب اللہ نے اسے قبر والا بنادیا۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو بعثت بھی کہتے ہیں اور نشور بھی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ 20) 30۔ الروم :20)۔ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے اور جگہ ہے (كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا02509) 2۔ البقرة :259) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑ ھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی۔ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح یہ ناشکرا اور بےقدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کردیا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی۔ حضرت مجاہد کا فرمان ہے کہ کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہوسکتی۔ حسن بصری سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت مقررہ ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو، ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہوچکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہوچکے اس وقت وہ خالق کل دوبارہ زندہ کرے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا، ابن ابی حاتم میں حضرت وہب بن منبہ ؒ سے مروی ہے کہ حضرت عزیز ؑ نے فرمایا میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہوچکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اور قبریں سب بھر جائیں گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مرجائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کرسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا اس میں بھی دلیل ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تر و تازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کردیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کردیں گے، تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے درخت پھوٹا اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں۔ حب کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، عنب کہتے ہیں انگور کو اور قضب کہتے ہیں اس سبز چارے کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے جلایا جاتا ہے تیل نکالا جاتا ہے اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہے، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہیں اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ غالباً " کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ حدائق کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا اور خوب بھرا ہوا اور گہرے سائے والا اور بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب اغلب کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور اب کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، اب جانور کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے فاکَھَہ یعنی پھل، میوہ۔ عطاء کا قول ہے کہ زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے " اب " کہتے ہیں۔ ضحاک فرماتے ہیں سوائے میوؤں کے باقی سب اَبّ ہے۔ ابو السائب فرماتے ہیں اَبّ آدمے کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کونسا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کونسی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں وہ کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے حضرت صدیق کو نہیں پایا، ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے منبر پر سورة عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ فاکھہ کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ اب کیا چیز ہے ؟ پھر خود ہی فرمایا اس تکلیف کو چھوڑ، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے، (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ 10) 31۔ لقمان :10) ، پھر فرمایا ہے تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہیگا اور تم اس سے فیض یاب ہوتے رہو گے۔
وَفَٰكِهَةً وَأَبًّا
Wa faki hataw-wa abba.
And fruit and grass -
اور میوے اور چارا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر روزی عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کردیا یعنی واضح اور ظاہر کردیا جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) یعنی ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا، حسن اور ابن زید اسی کو راجح بتاتے ہیں واللہ اعلم۔ اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں۔ قبرت الرَّجُلَ اور کہتے ہیں اقبَرُہُ اللہ اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ اب اللہ نے اسے قبر والا بنادیا۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو بعثت بھی کہتے ہیں اور نشور بھی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ 20) 30۔ الروم :20)۔ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے اور جگہ ہے (كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا02509) 2۔ البقرة :259) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑ ھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی۔ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح یہ ناشکرا اور بےقدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کردیا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی۔ حضرت مجاہد کا فرمان ہے کہ کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہوسکتی۔ حسن بصری سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت مقررہ ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو، ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہوچکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہوچکے اس وقت وہ خالق کل دوبارہ زندہ کرے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا، ابن ابی حاتم میں حضرت وہب بن منبہ ؒ سے مروی ہے کہ حضرت عزیز ؑ نے فرمایا میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہوچکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اور قبریں سب بھر جائیں گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مرجائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کرسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا اس میں بھی دلیل ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تر و تازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کردیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کردیں گے، تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے درخت پھوٹا اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں۔ حب کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، عنب کہتے ہیں انگور کو اور قضب کہتے ہیں اس سبز چارے کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے جلایا جاتا ہے تیل نکالا جاتا ہے اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہے، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہیں اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ غالباً " کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ حدائق کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا اور خوب بھرا ہوا اور گہرے سائے والا اور بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب اغلب کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور اب کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، اب جانور کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے فاکَھَہ یعنی پھل، میوہ۔ عطاء کا قول ہے کہ زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے " اب " کہتے ہیں۔ ضحاک فرماتے ہیں سوائے میوؤں کے باقی سب اَبّ ہے۔ ابو السائب فرماتے ہیں اَبّ آدمے کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کونسا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کونسی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں وہ کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے حضرت صدیق کو نہیں پایا، ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے منبر پر سورة عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ فاکھہ کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ اب کیا چیز ہے ؟ پھر خود ہی فرمایا اس تکلیف کو چھوڑ، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے، (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ 10) 31۔ لقمان :10) ، پھر فرمایا ہے تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہیگا اور تم اس سے فیض یاب ہوتے رہو گے۔
مَّتَٰعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَٰمِكُمْ
Mata'al-lakum wa li-an'amikum.
[As] enjoyment for you and your grazing livestock.
(یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے لیے بنایا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر روزی عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کردیا یعنی واضح اور ظاہر کردیا جیسے اور جگہ ہے آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) یعنی ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا، حسن اور ابن زید اسی کو راجح بتاتے ہیں واللہ اعلم۔ اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں۔ قبرت الرَّجُلَ اور کہتے ہیں اقبَرُہُ اللہ اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ اب اللہ نے اسے قبر والا بنادیا۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو بعثت بھی کہتے ہیں اور نشور بھی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ 20) 30۔ الروم :20)۔ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے اور جگہ ہے (كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا02509) 2۔ البقرة :259) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑ ھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی۔ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح یہ ناشکرا اور بےقدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کردیا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی۔ حضرت مجاہد کا فرمان ہے کہ کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہوسکتی۔ حسن بصری سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت مقررہ ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو، ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہوچکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہوچکے اس وقت وہ خالق کل دوبارہ زندہ کرے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا، ابن ابی حاتم میں حضرت وہب بن منبہ ؒ سے مروی ہے کہ حضرت عزیز ؑ نے فرمایا میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہوچکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اور قبریں سب بھر جائیں گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مرجائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کرسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا اس میں بھی دلیل ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تر و تازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کردیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کردیں گے، تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے درخت پھوٹا اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں۔ حب کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، عنب کہتے ہیں انگور کو اور قضب کہتے ہیں اس سبز چارے کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے جلایا جاتا ہے تیل نکالا جاتا ہے اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہے، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہیں اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ غالباً " کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ حدائق کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا اور خوب بھرا ہوا اور گہرے سائے والا اور بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب اغلب کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور اب کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جیسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، اب جانور کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے فاکَھَہ یعنی پھل، میوہ۔ عطاء کا قول ہے کہ زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے " اب " کہتے ہیں۔ ضحاک فرماتے ہیں سوائے میوؤں کے باقی سب اَبّ ہے۔ ابو السائب فرماتے ہیں اَبّ آدمے کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کونسا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کونسی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں وہ کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے حضرت صدیق کو نہیں پایا، ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے منبر پر سورة عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ فاکھہ کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ اب کیا چیز ہے ؟ پھر خود ہی فرمایا اس تکلیف کو چھوڑ، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے، (فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ 10) 31۔ لقمان :10) ، پھر فرمایا ہے تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہیگا اور تم اس سے فیض یاب ہوتے رہو گے۔
فَإِذَا جَآءَتِ ٱلصَّآخَّةُ
Faiza jaa-atis saakhah.
But when there comes the Deafening Blast
تو جب (قیامت کا) غل مچے گا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ننگے پاؤں، ننگے بدن۔۔ پسینے کا لباس حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صاختہ قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شور و غل کانوں کے پردے پھاڑ دیگا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئیگا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بیشک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا خوف مجھے لگ رہا ہے میں تو نیکی نہیں دے سکتی، بیٹا باپ سے ملے گا یہی کہے گا اور یہی جواب پائے گا، صحیح حدیث میں شفاعت کا بیان فرماتے ہوئے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اولولعزم پیغمبروں سے لوگ شفاعت کی طلب کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ نفسی نفسی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ صلوات اللہ بھی یہی فرمائیں گے کہ آج میں اللہ کے سوائے اپنی جان کے اور کسی کے لیے کچھ نہ کہوں گا میں تو آج اپنی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کیلئے بھی کچھ نہ کہوں گا جن کے بطن سے میں پیدا ہوا ہوں، الغرض دوست دوست سے رشتہ دار رشتہ دار سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ ہر ایک آپ ﷺ ادھاپی میں لگا ہوگا، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ ہوگا، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم ننگے پیروں ننگے بدن اور بےختنہ اللہ کے ہاں جمع کیے جاؤ گے آپ ﷺ کی بیوی صاحبہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ پھر تو ایک دوسروں کی شرمگاہوں پر نظریں پڑیں گی فرمایا اس روز گھبراہٹ کا حیرت انگیز ہنگامہ ہر شخص کو مشغول کیے ہوئے ہوگا، بھلا کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا موقعہ اس دن کہاں ؟ (ابن ابی حاتم) بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی لکل امری الخ دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیوی صاحبہ حضرت ام المومنین حضرت عائشہ ؓ عہما تھیں اور روایت میں ہے کہ ایک دن حضرت صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں میں ایک بات پوچھتی ہوں ذرا بتا دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں جانتا ہوں تو ضرور بتاؤں گا پوچھا حضور ﷺ لوگوں کا حشر کس طرح ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا ننگے پیروں اور ننگے بدن تھوڑی دیر کے بعد پوچھا کیا عورتیں بھی اسی حالت میں ہوں گی ؟ فرمایا ہاں۔ یہ سن کر ام المومنین افسوس کرنے لگیں آپ ﷺ نے فرمایا عائشہ اس آیت کو سن لو پھر تمہیں اس کا کوئی رنج و غم نہ رہے گا کہ کپڑے پہنے یا نہیں ؟ پوچھا حضور ﷺ وہ آیت کونسی ہے فرمایا لکل امری الخ، ایک روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ نے پوچھا یہ سن کر کہ لوگ اس طرح ننگے بدن ننگے پاؤں بےختنہ جمع کیے جائیں گے پسینے میں غرض ہوں گے کسی کے منہ تک پسینہ پہنچ جائے گا اور کسی کے کانوں تک تو آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھ سنائی، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ وہاں لوگوں کے دو گروہ ہوں گے بعض تو وہ ہوں گے جن کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہوں گے دل خوشی سے مطمئن ہوں گے منہ خوبصورت اور نورانی ہوں گے یہ تو جتنی جماعت ہے دوسرا گروہ جہنمیوں کا ہوگا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے گرد آلود ہوں گے، حدیث میں ہے کہ ان کا پسینہ مثل لگا کے ہو رہا ہوگا پھر گرد و غبار پڑا ہوا ہوگا جن کے دلوں میں کفر تھا اور اعما میں بدکاری تھی جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا 27) 71۔ نوح :27) یعنی ان کفار کی اولاد بھی بدکار کافر ہی ہوگی۔ سورة عبس کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ !
يَوْمَ يَفِرُّ ٱلْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ
Yauma yafir-rul mar-u min akheeh
On the Day a man will flee from his brother
اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ننگے پاؤں، ننگے بدن۔۔ پسینے کا لباس حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صاختہ قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شور و غل کانوں کے پردے پھاڑ دیگا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئیگا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بیشک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا خوف مجھے لگ رہا ہے میں تو نیکی نہیں دے سکتی، بیٹا باپ سے ملے گا یہی کہے گا اور یہی جواب پائے گا، صحیح حدیث میں شفاعت کا بیان فرماتے ہوئے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اولولعزم پیغمبروں سے لوگ شفاعت کی طلب کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ نفسی نفسی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ صلوات اللہ بھی یہی فرمائیں گے کہ آج میں اللہ کے سوائے اپنی جان کے اور کسی کے لیے کچھ نہ کہوں گا میں تو آج اپنی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کیلئے بھی کچھ نہ کہوں گا جن کے بطن سے میں پیدا ہوا ہوں، الغرض دوست دوست سے رشتہ دار رشتہ دار سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ ہر ایک آپ ﷺ ادھاپی میں لگا ہوگا، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ ہوگا، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم ننگے پیروں ننگے بدن اور بےختنہ اللہ کے ہاں جمع کیے جاؤ گے آپ ﷺ کی بیوی صاحبہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ پھر تو ایک دوسروں کی شرمگاہوں پر نظریں پڑیں گی فرمایا اس روز گھبراہٹ کا حیرت انگیز ہنگامہ ہر شخص کو مشغول کیے ہوئے ہوگا، بھلا کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا موقعہ اس دن کہاں ؟ (ابن ابی حاتم) بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی لکل امری الخ دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیوی صاحبہ حضرت ام المومنین حضرت عائشہ ؓ عہما تھیں اور روایت میں ہے کہ ایک دن حضرت صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں میں ایک بات پوچھتی ہوں ذرا بتا دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں جانتا ہوں تو ضرور بتاؤں گا پوچھا حضور ﷺ لوگوں کا حشر کس طرح ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا ننگے پیروں اور ننگے بدن تھوڑی دیر کے بعد پوچھا کیا عورتیں بھی اسی حالت میں ہوں گی ؟ فرمایا ہاں۔ یہ سن کر ام المومنین افسوس کرنے لگیں آپ ﷺ نے فرمایا عائشہ اس آیت کو سن لو پھر تمہیں اس کا کوئی رنج و غم نہ رہے گا کہ کپڑے پہنے یا نہیں ؟ پوچھا حضور ﷺ وہ آیت کونسی ہے فرمایا لکل امری الخ، ایک روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ نے پوچھا یہ سن کر کہ لوگ اس طرح ننگے بدن ننگے پاؤں بےختنہ جمع کیے جائیں گے پسینے میں غرض ہوں گے کسی کے منہ تک پسینہ پہنچ جائے گا اور کسی کے کانوں تک تو آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھ سنائی، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ وہاں لوگوں کے دو گروہ ہوں گے بعض تو وہ ہوں گے جن کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہوں گے دل خوشی سے مطمئن ہوں گے منہ خوبصورت اور نورانی ہوں گے یہ تو جتنی جماعت ہے دوسرا گروہ جہنمیوں کا ہوگا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے گرد آلود ہوں گے، حدیث میں ہے کہ ان کا پسینہ مثل لگا کے ہو رہا ہوگا پھر گرد و غبار پڑا ہوا ہوگا جن کے دلوں میں کفر تھا اور اعما میں بدکاری تھی جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا 27) 71۔ نوح :27) یعنی ان کفار کی اولاد بھی بدکار کافر ہی ہوگی۔ سورة عبس کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ !
وَأُمِّهِۦ وَأَبِيهِ
Wa ummihee wa abeeh
And his mother and his father
اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ننگے پاؤں، ننگے بدن۔۔ پسینے کا لباس حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صاختہ قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شور و غل کانوں کے پردے پھاڑ دیگا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئیگا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بیشک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا خوف مجھے لگ رہا ہے میں تو نیکی نہیں دے سکتی، بیٹا باپ سے ملے گا یہی کہے گا اور یہی جواب پائے گا، صحیح حدیث میں شفاعت کا بیان فرماتے ہوئے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اولولعزم پیغمبروں سے لوگ شفاعت کی طلب کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ نفسی نفسی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ صلوات اللہ بھی یہی فرمائیں گے کہ آج میں اللہ کے سوائے اپنی جان کے اور کسی کے لیے کچھ نہ کہوں گا میں تو آج اپنی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کیلئے بھی کچھ نہ کہوں گا جن کے بطن سے میں پیدا ہوا ہوں، الغرض دوست دوست سے رشتہ دار رشتہ دار سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ ہر ایک آپ ﷺ ادھاپی میں لگا ہوگا، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ ہوگا، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم ننگے پیروں ننگے بدن اور بےختنہ اللہ کے ہاں جمع کیے جاؤ گے آپ ﷺ کی بیوی صاحبہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ پھر تو ایک دوسروں کی شرمگاہوں پر نظریں پڑیں گی فرمایا اس روز گھبراہٹ کا حیرت انگیز ہنگامہ ہر شخص کو مشغول کیے ہوئے ہوگا، بھلا کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا موقعہ اس دن کہاں ؟ (ابن ابی حاتم) بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی لکل امری الخ دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیوی صاحبہ حضرت ام المومنین حضرت عائشہ ؓ عہما تھیں اور روایت میں ہے کہ ایک دن حضرت صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں میں ایک بات پوچھتی ہوں ذرا بتا دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں جانتا ہوں تو ضرور بتاؤں گا پوچھا حضور ﷺ لوگوں کا حشر کس طرح ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا ننگے پیروں اور ننگے بدن تھوڑی دیر کے بعد پوچھا کیا عورتیں بھی اسی حالت میں ہوں گی ؟ فرمایا ہاں۔ یہ سن کر ام المومنین افسوس کرنے لگیں آپ ﷺ نے فرمایا عائشہ اس آیت کو سن لو پھر تمہیں اس کا کوئی رنج و غم نہ رہے گا کہ کپڑے پہنے یا نہیں ؟ پوچھا حضور ﷺ وہ آیت کونسی ہے فرمایا لکل امری الخ، ایک روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ نے پوچھا یہ سن کر کہ لوگ اس طرح ننگے بدن ننگے پاؤں بےختنہ جمع کیے جائیں گے پسینے میں غرض ہوں گے کسی کے منہ تک پسینہ پہنچ جائے گا اور کسی کے کانوں تک تو آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھ سنائی، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ وہاں لوگوں کے دو گروہ ہوں گے بعض تو وہ ہوں گے جن کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہوں گے دل خوشی سے مطمئن ہوں گے منہ خوبصورت اور نورانی ہوں گے یہ تو جتنی جماعت ہے دوسرا گروہ جہنمیوں کا ہوگا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے گرد آلود ہوں گے، حدیث میں ہے کہ ان کا پسینہ مثل لگا کے ہو رہا ہوگا پھر گرد و غبار پڑا ہوا ہوگا جن کے دلوں میں کفر تھا اور اعما میں بدکاری تھی جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا 27) 71۔ نوح :27) یعنی ان کفار کی اولاد بھی بدکار کافر ہی ہوگی۔ سورة عبس کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ !
وَصَٰحِبَتِهِۦ وَبَنِيهِ
Wa sahi batihee wa baneeh.
And his wife and his children,
اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹے سے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ننگے پاؤں، ننگے بدن۔۔ پسینے کا لباس حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صاختہ قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شور و غل کانوں کے پردے پھاڑ دیگا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئیگا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بیشک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا خوف مجھے لگ رہا ہے میں تو نیکی نہیں دے سکتی، بیٹا باپ سے ملے گا یہی کہے گا اور یہی جواب پائے گا، صحیح حدیث میں شفاعت کا بیان فرماتے ہوئے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اولولعزم پیغمبروں سے لوگ شفاعت کی طلب کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ نفسی نفسی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ صلوات اللہ بھی یہی فرمائیں گے کہ آج میں اللہ کے سوائے اپنی جان کے اور کسی کے لیے کچھ نہ کہوں گا میں تو آج اپنی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کیلئے بھی کچھ نہ کہوں گا جن کے بطن سے میں پیدا ہوا ہوں، الغرض دوست دوست سے رشتہ دار رشتہ دار سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ ہر ایک آپ ﷺ ادھاپی میں لگا ہوگا، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ ہوگا، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم ننگے پیروں ننگے بدن اور بےختنہ اللہ کے ہاں جمع کیے جاؤ گے آپ ﷺ کی بیوی صاحبہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ پھر تو ایک دوسروں کی شرمگاہوں پر نظریں پڑیں گی فرمایا اس روز گھبراہٹ کا حیرت انگیز ہنگامہ ہر شخص کو مشغول کیے ہوئے ہوگا، بھلا کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا موقعہ اس دن کہاں ؟ (ابن ابی حاتم) بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی لکل امری الخ دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیوی صاحبہ حضرت ام المومنین حضرت عائشہ ؓ عہما تھیں اور روایت میں ہے کہ ایک دن حضرت صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں میں ایک بات پوچھتی ہوں ذرا بتا دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں جانتا ہوں تو ضرور بتاؤں گا پوچھا حضور ﷺ لوگوں کا حشر کس طرح ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا ننگے پیروں اور ننگے بدن تھوڑی دیر کے بعد پوچھا کیا عورتیں بھی اسی حالت میں ہوں گی ؟ فرمایا ہاں۔ یہ سن کر ام المومنین افسوس کرنے لگیں آپ ﷺ نے فرمایا عائشہ اس آیت کو سن لو پھر تمہیں اس کا کوئی رنج و غم نہ رہے گا کہ کپڑے پہنے یا نہیں ؟ پوچھا حضور ﷺ وہ آیت کونسی ہے فرمایا لکل امری الخ، ایک روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ نے پوچھا یہ سن کر کہ لوگ اس طرح ننگے بدن ننگے پاؤں بےختنہ جمع کیے جائیں گے پسینے میں غرض ہوں گے کسی کے منہ تک پسینہ پہنچ جائے گا اور کسی کے کانوں تک تو آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھ سنائی، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ وہاں لوگوں کے دو گروہ ہوں گے بعض تو وہ ہوں گے جن کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہوں گے دل خوشی سے مطمئن ہوں گے منہ خوبصورت اور نورانی ہوں گے یہ تو جتنی جماعت ہے دوسرا گروہ جہنمیوں کا ہوگا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے گرد آلود ہوں گے، حدیث میں ہے کہ ان کا پسینہ مثل لگا کے ہو رہا ہوگا پھر گرد و غبار پڑا ہوا ہوگا جن کے دلوں میں کفر تھا اور اعما میں بدکاری تھی جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا 27) 71۔ نوح :27) یعنی ان کفار کی اولاد بھی بدکار کافر ہی ہوگی۔ سورة عبس کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ !
لِكُلِّ ٱمْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ
Likul limri-im-minuhm yaumaa-izin shaa nuy-yughneeh
For every man, that Day, will be a matter adequate for him.
ہر شخص اس روز ایک فکر میں ہو گا جو اسے (مصروفیت کے لیے) بس کرے گا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ننگے پاؤں، ننگے بدن۔۔ پسینے کا لباس حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صاختہ قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شور و غل کانوں کے پردے پھاڑ دیگا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئیگا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بیشک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا خوف مجھے لگ رہا ہے میں تو نیکی نہیں دے سکتی، بیٹا باپ سے ملے گا یہی کہے گا اور یہی جواب پائے گا، صحیح حدیث میں شفاعت کا بیان فرماتے ہوئے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اولولعزم پیغمبروں سے لوگ شفاعت کی طلب کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ نفسی نفسی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ صلوات اللہ بھی یہی فرمائیں گے کہ آج میں اللہ کے سوائے اپنی جان کے اور کسی کے لیے کچھ نہ کہوں گا میں تو آج اپنی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کیلئے بھی کچھ نہ کہوں گا جن کے بطن سے میں پیدا ہوا ہوں، الغرض دوست دوست سے رشتہ دار رشتہ دار سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ ہر ایک آپ ﷺ ادھاپی میں لگا ہوگا، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ ہوگا، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم ننگے پیروں ننگے بدن اور بےختنہ اللہ کے ہاں جمع کیے جاؤ گے آپ ﷺ کی بیوی صاحبہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ پھر تو ایک دوسروں کی شرمگاہوں پر نظریں پڑیں گی فرمایا اس روز گھبراہٹ کا حیرت انگیز ہنگامہ ہر شخص کو مشغول کیے ہوئے ہوگا، بھلا کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا موقعہ اس دن کہاں ؟ (ابن ابی حاتم) بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی لکل امری الخ دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیوی صاحبہ حضرت ام المومنین حضرت عائشہ ؓ عہما تھیں اور روایت میں ہے کہ ایک دن حضرت صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں میں ایک بات پوچھتی ہوں ذرا بتا دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں جانتا ہوں تو ضرور بتاؤں گا پوچھا حضور ﷺ لوگوں کا حشر کس طرح ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا ننگے پیروں اور ننگے بدن تھوڑی دیر کے بعد پوچھا کیا عورتیں بھی اسی حالت میں ہوں گی ؟ فرمایا ہاں۔ یہ سن کر ام المومنین افسوس کرنے لگیں آپ ﷺ نے فرمایا عائشہ اس آیت کو سن لو پھر تمہیں اس کا کوئی رنج و غم نہ رہے گا کہ کپڑے پہنے یا نہیں ؟ پوچھا حضور ﷺ وہ آیت کونسی ہے فرمایا لکل امری الخ، ایک روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ نے پوچھا یہ سن کر کہ لوگ اس طرح ننگے بدن ننگے پاؤں بےختنہ جمع کیے جائیں گے پسینے میں غرض ہوں گے کسی کے منہ تک پسینہ پہنچ جائے گا اور کسی کے کانوں تک تو آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھ سنائی، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ وہاں لوگوں کے دو گروہ ہوں گے بعض تو وہ ہوں گے جن کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہوں گے دل خوشی سے مطمئن ہوں گے منہ خوبصورت اور نورانی ہوں گے یہ تو جتنی جماعت ہے دوسرا گروہ جہنمیوں کا ہوگا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے گرد آلود ہوں گے، حدیث میں ہے کہ ان کا پسینہ مثل لگا کے ہو رہا ہوگا پھر گرد و غبار پڑا ہوا ہوگا جن کے دلوں میں کفر تھا اور اعما میں بدکاری تھی جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا 27) 71۔ نوح :27) یعنی ان کفار کی اولاد بھی بدکار کافر ہی ہوگی۔ سورة عبس کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ !
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ
Wujoo huny-yauma-izim-musfira;
[Some] faces, that Day, will be bright -
اور کتنے منہ اس روز چمک رہے ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ننگے پاؤں، ننگے بدن۔۔ پسینے کا لباس حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صاختہ قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شور و غل کانوں کے پردے پھاڑ دیگا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئیگا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بیشک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا خوف مجھے لگ رہا ہے میں تو نیکی نہیں دے سکتی، بیٹا باپ سے ملے گا یہی کہے گا اور یہی جواب پائے گا، صحیح حدیث میں شفاعت کا بیان فرماتے ہوئے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اولولعزم پیغمبروں سے لوگ شفاعت کی طلب کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ نفسی نفسی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ صلوات اللہ بھی یہی فرمائیں گے کہ آج میں اللہ کے سوائے اپنی جان کے اور کسی کے لیے کچھ نہ کہوں گا میں تو آج اپنی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کیلئے بھی کچھ نہ کہوں گا جن کے بطن سے میں پیدا ہوا ہوں، الغرض دوست دوست سے رشتہ دار رشتہ دار سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ ہر ایک آپ ﷺ ادھاپی میں لگا ہوگا، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ ہوگا، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم ننگے پیروں ننگے بدن اور بےختنہ اللہ کے ہاں جمع کیے جاؤ گے آپ ﷺ کی بیوی صاحبہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ پھر تو ایک دوسروں کی شرمگاہوں پر نظریں پڑیں گی فرمایا اس روز گھبراہٹ کا حیرت انگیز ہنگامہ ہر شخص کو مشغول کیے ہوئے ہوگا، بھلا کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا موقعہ اس دن کہاں ؟ (ابن ابی حاتم) بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی لکل امری الخ دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیوی صاحبہ حضرت ام المومنین حضرت عائشہ ؓ عہما تھیں اور روایت میں ہے کہ ایک دن حضرت صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں میں ایک بات پوچھتی ہوں ذرا بتا دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں جانتا ہوں تو ضرور بتاؤں گا پوچھا حضور ﷺ لوگوں کا حشر کس طرح ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا ننگے پیروں اور ننگے بدن تھوڑی دیر کے بعد پوچھا کیا عورتیں بھی اسی حالت میں ہوں گی ؟ فرمایا ہاں۔ یہ سن کر ام المومنین افسوس کرنے لگیں آپ ﷺ نے فرمایا عائشہ اس آیت کو سن لو پھر تمہیں اس کا کوئی رنج و غم نہ رہے گا کہ کپڑے پہنے یا نہیں ؟ پوچھا حضور ﷺ وہ آیت کونسی ہے فرمایا لکل امری الخ، ایک روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ نے پوچھا یہ سن کر کہ لوگ اس طرح ننگے بدن ننگے پاؤں بےختنہ جمع کیے جائیں گے پسینے میں غرض ہوں گے کسی کے منہ تک پسینہ پہنچ جائے گا اور کسی کے کانوں تک تو آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھ سنائی، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ وہاں لوگوں کے دو گروہ ہوں گے بعض تو وہ ہوں گے جن کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہوں گے دل خوشی سے مطمئن ہوں گے منہ خوبصورت اور نورانی ہوں گے یہ تو جتنی جماعت ہے دوسرا گروہ جہنمیوں کا ہوگا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے گرد آلود ہوں گے، حدیث میں ہے کہ ان کا پسینہ مثل لگا کے ہو رہا ہوگا پھر گرد و غبار پڑا ہوا ہوگا جن کے دلوں میں کفر تھا اور اعما میں بدکاری تھی جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا 27) 71۔ نوح :27) یعنی ان کفار کی اولاد بھی بدکار کافر ہی ہوگی۔ سورة عبس کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ !
ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ
Dahi katum mustab shirah
Laughing, rejoicing at good news.
خنداں و شاداں (یہ مومنان نیکو کار ہیں)
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ننگے پاؤں، ننگے بدن۔۔ پسینے کا لباس حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صاختہ قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شور و غل کانوں کے پردے پھاڑ دیگا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئیگا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بیشک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا خوف مجھے لگ رہا ہے میں تو نیکی نہیں دے سکتی، بیٹا باپ سے ملے گا یہی کہے گا اور یہی جواب پائے گا، صحیح حدیث میں شفاعت کا بیان فرماتے ہوئے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اولولعزم پیغمبروں سے لوگ شفاعت کی طلب کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ نفسی نفسی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ صلوات اللہ بھی یہی فرمائیں گے کہ آج میں اللہ کے سوائے اپنی جان کے اور کسی کے لیے کچھ نہ کہوں گا میں تو آج اپنی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کیلئے بھی کچھ نہ کہوں گا جن کے بطن سے میں پیدا ہوا ہوں، الغرض دوست دوست سے رشتہ دار رشتہ دار سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ ہر ایک آپ ﷺ ادھاپی میں لگا ہوگا، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ ہوگا، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم ننگے پیروں ننگے بدن اور بےختنہ اللہ کے ہاں جمع کیے جاؤ گے آپ ﷺ کی بیوی صاحبہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ پھر تو ایک دوسروں کی شرمگاہوں پر نظریں پڑیں گی فرمایا اس روز گھبراہٹ کا حیرت انگیز ہنگامہ ہر شخص کو مشغول کیے ہوئے ہوگا، بھلا کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا موقعہ اس دن کہاں ؟ (ابن ابی حاتم) بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی لکل امری الخ دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیوی صاحبہ حضرت ام المومنین حضرت عائشہ ؓ عہما تھیں اور روایت میں ہے کہ ایک دن حضرت صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں میں ایک بات پوچھتی ہوں ذرا بتا دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں جانتا ہوں تو ضرور بتاؤں گا پوچھا حضور ﷺ لوگوں کا حشر کس طرح ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا ننگے پیروں اور ننگے بدن تھوڑی دیر کے بعد پوچھا کیا عورتیں بھی اسی حالت میں ہوں گی ؟ فرمایا ہاں۔ یہ سن کر ام المومنین افسوس کرنے لگیں آپ ﷺ نے فرمایا عائشہ اس آیت کو سن لو پھر تمہیں اس کا کوئی رنج و غم نہ رہے گا کہ کپڑے پہنے یا نہیں ؟ پوچھا حضور ﷺ وہ آیت کونسی ہے فرمایا لکل امری الخ، ایک روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ نے پوچھا یہ سن کر کہ لوگ اس طرح ننگے بدن ننگے پاؤں بےختنہ جمع کیے جائیں گے پسینے میں غرض ہوں گے کسی کے منہ تک پسینہ پہنچ جائے گا اور کسی کے کانوں تک تو آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھ سنائی، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ وہاں لوگوں کے دو گروہ ہوں گے بعض تو وہ ہوں گے جن کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہوں گے دل خوشی سے مطمئن ہوں گے منہ خوبصورت اور نورانی ہوں گے یہ تو جتنی جماعت ہے دوسرا گروہ جہنمیوں کا ہوگا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے گرد آلود ہوں گے، حدیث میں ہے کہ ان کا پسینہ مثل لگا کے ہو رہا ہوگا پھر گرد و غبار پڑا ہوا ہوگا جن کے دلوں میں کفر تھا اور اعما میں بدکاری تھی جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا 27) 71۔ نوح :27) یعنی ان کفار کی اولاد بھی بدکار کافر ہی ہوگی۔ سورة عبس کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ !
وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ
Wa wujoohuy yauma-izin 'alaiha ghabar a
And [other] faces, that Day, will have upon them dust.
اور کتنے منہ ہوں گے جن پر گرد پڑ رہی ہو گی
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ننگے پاؤں، ننگے بدن۔۔ پسینے کا لباس حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صاختہ قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شور و غل کانوں کے پردے پھاڑ دیگا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئیگا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بیشک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا خوف مجھے لگ رہا ہے میں تو نیکی نہیں دے سکتی، بیٹا باپ سے ملے گا یہی کہے گا اور یہی جواب پائے گا، صحیح حدیث میں شفاعت کا بیان فرماتے ہوئے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اولولعزم پیغمبروں سے لوگ شفاعت کی طلب کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ نفسی نفسی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ صلوات اللہ بھی یہی فرمائیں گے کہ آج میں اللہ کے سوائے اپنی جان کے اور کسی کے لیے کچھ نہ کہوں گا میں تو آج اپنی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کیلئے بھی کچھ نہ کہوں گا جن کے بطن سے میں پیدا ہوا ہوں، الغرض دوست دوست سے رشتہ دار رشتہ دار سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ ہر ایک آپ ﷺ ادھاپی میں لگا ہوگا، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ ہوگا، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم ننگے پیروں ننگے بدن اور بےختنہ اللہ کے ہاں جمع کیے جاؤ گے آپ ﷺ کی بیوی صاحبہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ پھر تو ایک دوسروں کی شرمگاہوں پر نظریں پڑیں گی فرمایا اس روز گھبراہٹ کا حیرت انگیز ہنگامہ ہر شخص کو مشغول کیے ہوئے ہوگا، بھلا کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا موقعہ اس دن کہاں ؟ (ابن ابی حاتم) بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی لکل امری الخ دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیوی صاحبہ حضرت ام المومنین حضرت عائشہ ؓ عہما تھیں اور روایت میں ہے کہ ایک دن حضرت صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں میں ایک بات پوچھتی ہوں ذرا بتا دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں جانتا ہوں تو ضرور بتاؤں گا پوچھا حضور ﷺ لوگوں کا حشر کس طرح ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا ننگے پیروں اور ننگے بدن تھوڑی دیر کے بعد پوچھا کیا عورتیں بھی اسی حالت میں ہوں گی ؟ فرمایا ہاں۔ یہ سن کر ام المومنین افسوس کرنے لگیں آپ ﷺ نے فرمایا عائشہ اس آیت کو سن لو پھر تمہیں اس کا کوئی رنج و غم نہ رہے گا کہ کپڑے پہنے یا نہیں ؟ پوچھا حضور ﷺ وہ آیت کونسی ہے فرمایا لکل امری الخ، ایک روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ نے پوچھا یہ سن کر کہ لوگ اس طرح ننگے بدن ننگے پاؤں بےختنہ جمع کیے جائیں گے پسینے میں غرض ہوں گے کسی کے منہ تک پسینہ پہنچ جائے گا اور کسی کے کانوں تک تو آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھ سنائی، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ وہاں لوگوں کے دو گروہ ہوں گے بعض تو وہ ہوں گے جن کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہوں گے دل خوشی سے مطمئن ہوں گے منہ خوبصورت اور نورانی ہوں گے یہ تو جتنی جماعت ہے دوسرا گروہ جہنمیوں کا ہوگا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے گرد آلود ہوں گے، حدیث میں ہے کہ ان کا پسینہ مثل لگا کے ہو رہا ہوگا پھر گرد و غبار پڑا ہوا ہوگا جن کے دلوں میں کفر تھا اور اعما میں بدکاری تھی جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا 27) 71۔ نوح :27) یعنی ان کفار کی اولاد بھی بدکار کافر ہی ہوگی۔ سورة عبس کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ !
تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ
Tarhaquha qatarah.
Blackness will cover them.
(اور) سیاہی چڑھ رہی ہو گی
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ننگے پاؤں، ننگے بدن۔۔ پسینے کا لباس حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صاختہ قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شور و غل کانوں کے پردے پھاڑ دیگا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئیگا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بیشک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا خوف مجھے لگ رہا ہے میں تو نیکی نہیں دے سکتی، بیٹا باپ سے ملے گا یہی کہے گا اور یہی جواب پائے گا، صحیح حدیث میں شفاعت کا بیان فرماتے ہوئے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اولولعزم پیغمبروں سے لوگ شفاعت کی طلب کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ نفسی نفسی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ صلوات اللہ بھی یہی فرمائیں گے کہ آج میں اللہ کے سوائے اپنی جان کے اور کسی کے لیے کچھ نہ کہوں گا میں تو آج اپنی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کیلئے بھی کچھ نہ کہوں گا جن کے بطن سے میں پیدا ہوا ہوں، الغرض دوست دوست سے رشتہ دار رشتہ دار سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ ہر ایک آپ ﷺ ادھاپی میں لگا ہوگا، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ ہوگا، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم ننگے پیروں ننگے بدن اور بےختنہ اللہ کے ہاں جمع کیے جاؤ گے آپ ﷺ کی بیوی صاحبہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ پھر تو ایک دوسروں کی شرمگاہوں پر نظریں پڑیں گی فرمایا اس روز گھبراہٹ کا حیرت انگیز ہنگامہ ہر شخص کو مشغول کیے ہوئے ہوگا، بھلا کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا موقعہ اس دن کہاں ؟ (ابن ابی حاتم) بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی لکل امری الخ دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیوی صاحبہ حضرت ام المومنین حضرت عائشہ ؓ عہما تھیں اور روایت میں ہے کہ ایک دن حضرت صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں میں ایک بات پوچھتی ہوں ذرا بتا دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں جانتا ہوں تو ضرور بتاؤں گا پوچھا حضور ﷺ لوگوں کا حشر کس طرح ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا ننگے پیروں اور ننگے بدن تھوڑی دیر کے بعد پوچھا کیا عورتیں بھی اسی حالت میں ہوں گی ؟ فرمایا ہاں۔ یہ سن کر ام المومنین افسوس کرنے لگیں آپ ﷺ نے فرمایا عائشہ اس آیت کو سن لو پھر تمہیں اس کا کوئی رنج و غم نہ رہے گا کہ کپڑے پہنے یا نہیں ؟ پوچھا حضور ﷺ وہ آیت کونسی ہے فرمایا لکل امری الخ، ایک روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ نے پوچھا یہ سن کر کہ لوگ اس طرح ننگے بدن ننگے پاؤں بےختنہ جمع کیے جائیں گے پسینے میں غرض ہوں گے کسی کے منہ تک پسینہ پہنچ جائے گا اور کسی کے کانوں تک تو آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھ سنائی، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ وہاں لوگوں کے دو گروہ ہوں گے بعض تو وہ ہوں گے جن کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہوں گے دل خوشی سے مطمئن ہوں گے منہ خوبصورت اور نورانی ہوں گے یہ تو جتنی جماعت ہے دوسرا گروہ جہنمیوں کا ہوگا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے گرد آلود ہوں گے، حدیث میں ہے کہ ان کا پسینہ مثل لگا کے ہو رہا ہوگا پھر گرد و غبار پڑا ہوا ہوگا جن کے دلوں میں کفر تھا اور اعما میں بدکاری تھی جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا 27) 71۔ نوح :27) یعنی ان کفار کی اولاد بھی بدکار کافر ہی ہوگی۔ سورة عبس کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ !
أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَفَرَةُ ٱلْفَجَرَةُ
Ulaa-ika humul-kafa ratul-fajarah.
Those are the disbelievers, the wicked ones.
یہ کفار بدکردار ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ننگے پاؤں، ننگے بدن۔۔ پسینے کا لباس حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صاختہ قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شور و غل کانوں کے پردے پھاڑ دیگا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئیگا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بیشک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا خوف مجھے لگ رہا ہے میں تو نیکی نہیں دے سکتی، بیٹا باپ سے ملے گا یہی کہے گا اور یہی جواب پائے گا، صحیح حدیث میں شفاعت کا بیان فرماتے ہوئے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اولولعزم پیغمبروں سے لوگ شفاعت کی طلب کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ نفسی نفسی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ صلوات اللہ بھی یہی فرمائیں گے کہ آج میں اللہ کے سوائے اپنی جان کے اور کسی کے لیے کچھ نہ کہوں گا میں تو آج اپنی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کیلئے بھی کچھ نہ کہوں گا جن کے بطن سے میں پیدا ہوا ہوں، الغرض دوست دوست سے رشتہ دار رشتہ دار سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ ہر ایک آپ ﷺ ادھاپی میں لگا ہوگا، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ ہوگا، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم ننگے پیروں ننگے بدن اور بےختنہ اللہ کے ہاں جمع کیے جاؤ گے آپ ﷺ کی بیوی صاحبہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ پھر تو ایک دوسروں کی شرمگاہوں پر نظریں پڑیں گی فرمایا اس روز گھبراہٹ کا حیرت انگیز ہنگامہ ہر شخص کو مشغول کیے ہوئے ہوگا، بھلا کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا موقعہ اس دن کہاں ؟ (ابن ابی حاتم) بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی لکل امری الخ دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیوی صاحبہ حضرت ام المومنین حضرت عائشہ ؓ عہما تھیں اور روایت میں ہے کہ ایک دن حضرت صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں میں ایک بات پوچھتی ہوں ذرا بتا دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں جانتا ہوں تو ضرور بتاؤں گا پوچھا حضور ﷺ لوگوں کا حشر کس طرح ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا ننگے پیروں اور ننگے بدن تھوڑی دیر کے بعد پوچھا کیا عورتیں بھی اسی حالت میں ہوں گی ؟ فرمایا ہاں۔ یہ سن کر ام المومنین افسوس کرنے لگیں آپ ﷺ نے فرمایا عائشہ اس آیت کو سن لو پھر تمہیں اس کا کوئی رنج و غم نہ رہے گا کہ کپڑے پہنے یا نہیں ؟ پوچھا حضور ﷺ وہ آیت کونسی ہے فرمایا لکل امری الخ، ایک روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ نے پوچھا یہ سن کر کہ لوگ اس طرح ننگے بدن ننگے پاؤں بےختنہ جمع کیے جائیں گے پسینے میں غرض ہوں گے کسی کے منہ تک پسینہ پہنچ جائے گا اور کسی کے کانوں تک تو آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھ سنائی، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ وہاں لوگوں کے دو گروہ ہوں گے بعض تو وہ ہوں گے جن کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہوں گے دل خوشی سے مطمئن ہوں گے منہ خوبصورت اور نورانی ہوں گے یہ تو جتنی جماعت ہے دوسرا گروہ جہنمیوں کا ہوگا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے گرد آلود ہوں گے، حدیث میں ہے کہ ان کا پسینہ مثل لگا کے ہو رہا ہوگا پھر گرد و غبار پڑا ہوا ہوگا جن کے دلوں میں کفر تھا اور اعما میں بدکاری تھی جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا 27) 71۔ نوح :27) یعنی ان کفار کی اولاد بھی بدکار کافر ہی ہوگی۔ سورة عبس کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ !