بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ الٓر كِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ ٱلنَّاسَ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَمِيدِ
Alif-Laaam-Raa; Kitaabun anzalnaahu ilaika litukhrijan-naasa minaz zulumaati ilan noori bi-izni Rabbihim ilaa siraatil 'Azeezil Hameed
Alif, Lam, Ra. [This is] a Book which We have revealed to you, [O Muhammad], that you might bring mankind out of darknesses into the light by permission of their Lord - to the path of the Exalted in Might, the Praiseworthy -
الٓرٰ۔ (یہ) ایک (پُرنور) کتاب (ہے) اس کو ہم نے تم پر اس لیے نازل کیا ہے کہ لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاؤ (یعنی) ان کے پروردگار کے حکم سے غالب اور قابل تعریف (خدا) کے رستے کی طرف
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حوف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں انکا بیان پہلے گزر چکا ہے اے نبی ﷺ یہ عظیم الشان کتاب ہم نے تیری طرف اتاری ہے۔ یہ کتاب تمام کتابوں سے اعلیٰ ، رسول تمام رسولوں سے افضل وبالا۔ جہاں اتری وہ جگہ دنیا کی تمام جگہوں سے بہترین اور عمدہ۔ اس کتاب کا پہلا وصف یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے تو لوگوں کو اندھیروں سے اجالے میں لاسکتا ہے۔ تیرا پہلا کام یہ ہے کہ گمراہیوں کو ہدایت سے برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے ایمانداروں کا حمایتی خود اللہ ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے میں لاتا ہے اور کافروں کے کے ساتھی اللہ کے سوا اور ہیں جو انہیں نور سے ہٹا کر تاریکیوں میں پھانس دیتے ہیں اللہ اپنے غلام پر اپنی روشن اور واضح نشانیاں اتارتا ہے کہ وہ تمہیں تاریکیوں سے ہٹا کر نور کی طرف پہنچا دے۔ اصل ہادی اللہ ہی ہے رسولوں کے ہاتھوں جن کی ہدایت اسے منظور ہوتی ہے وہ راہ پالیتے ہیں اور غیر مغلوب پر غالب زبردست اور ہر چیز پر بادشاہ بن جاتے ہیں اور ہر حال میں تعریفوں والے اللہ کی راہ کی طرف ان کی رہبری ہوجاتی ہے۔ اللہ کی دوسری قرأت اللہ بھی ہے پہلی قرأت بطور صفت کے ہے اور دوسری بطور نئے جملے کے جیسے آیت (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۠ فَاٰمِنُوْا باللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ باللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ01508) 7۔ الاعراف :158) ، میں۔ جو کافر تیرے مخالف ہیں تجھے نہیں مانتے انہیں قیامت کے دن سخت عذاب ہوں گے۔ یہ لوگ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں دنیا کے لئے پوری کوشش کرتے ہیں اور آخرت کو بھولے بیٹھے ہیں رسولوں کی تابعداری سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں راہ حق جو سیدھی اور صاف ہے اسے ٹیڑھی ترچھی کرنا چاہتے ہیں یہ اسی جہالت ضلالت میں رہیں گے لیکن اللہ کی راہ نہ ٹیڑھی ہوئی نہ ہوگی۔ پھر ایسی حالت میں ان کی صلاحیت کی کیا امید ؟
ٱللَّهِ ٱلَّذِى لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ وَوَيْلٌ لِّلْكَٰفِرِينَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيدٍ
Allaahil lazee lahoo maa fis samaawaati wa maa fill ard; wa wailul lilkaafireena min 'azaabin shadeed
Allah, to whom belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. And woe to the disbelievers from a severe punishment
وہ خدا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور کافروں کے لیے عذاب سخت (کی وجہ) سے خرابی ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حوف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں انکا بیان پہلے گزر چکا ہے اے نبی ﷺ یہ عظیم الشان کتاب ہم نے تیری طرف اتاری ہے۔ یہ کتاب تمام کتابوں سے اعلیٰ ، رسول تمام رسولوں سے افضل وبالا۔ جہاں اتری وہ جگہ دنیا کی تمام جگہوں سے بہترین اور عمدہ۔ اس کتاب کا پہلا وصف یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے تو لوگوں کو اندھیروں سے اجالے میں لاسکتا ہے۔ تیرا پہلا کام یہ ہے کہ گمراہیوں کو ہدایت سے برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے ایمانداروں کا حمایتی خود اللہ ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے میں لاتا ہے اور کافروں کے کے ساتھی اللہ کے سوا اور ہیں جو انہیں نور سے ہٹا کر تاریکیوں میں پھانس دیتے ہیں اللہ اپنے غلام پر اپنی روشن اور واضح نشانیاں اتارتا ہے کہ وہ تمہیں تاریکیوں سے ہٹا کر نور کی طرف پہنچا دے۔ اصل ہادی اللہ ہی ہے رسولوں کے ہاتھوں جن کی ہدایت اسے منظور ہوتی ہے وہ راہ پالیتے ہیں اور غیر مغلوب پر غالب زبردست اور ہر چیز پر بادشاہ بن جاتے ہیں اور ہر حال میں تعریفوں والے اللہ کی راہ کی طرف ان کی رہبری ہوجاتی ہے۔ اللہ کی دوسری قرأت اللہ بھی ہے پہلی قرأت بطور صفت کے ہے اور دوسری بطور نئے جملے کے جیسے آیت (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۠ فَاٰمِنُوْا باللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ باللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ01508) 7۔ الاعراف :158) ، میں۔ جو کافر تیرے مخالف ہیں تجھے نہیں مانتے انہیں قیامت کے دن سخت عذاب ہوں گے۔ یہ لوگ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں دنیا کے لئے پوری کوشش کرتے ہیں اور آخرت کو بھولے بیٹھے ہیں رسولوں کی تابعداری سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں راہ حق جو سیدھی اور صاف ہے اسے ٹیڑھی ترچھی کرنا چاہتے ہیں یہ اسی جہالت ضلالت میں رہیں گے لیکن اللہ کی راہ نہ ٹیڑھی ہوئی نہ ہوگی۔ پھر ایسی حالت میں ان کی صلاحیت کی کیا امید ؟
ٱلَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا عَلَى ٱلْـَٔاخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا أُو۟لَٰٓئِكَ فِى ضَلَٰلٍۭ بَعِيدٍ
Allazeena yastahibboo nal hayaatad dunyaa 'alal aakhirati wa yasuddoona 'ansabeelil laahi wa yabghoonahaa 'iwajaa; ulaaa 'ika fee dalaalim ba'eed
The ones who prefer the worldly life over the Hereafter and avert [people] from the way of Allah, seeking to make it (seem) deviant. Those are in extreme error.
جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے سرے کی گمراہی میں ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حوف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں انکا بیان پہلے گزر چکا ہے اے نبی ﷺ یہ عظیم الشان کتاب ہم نے تیری طرف اتاری ہے۔ یہ کتاب تمام کتابوں سے اعلیٰ ، رسول تمام رسولوں سے افضل وبالا۔ جہاں اتری وہ جگہ دنیا کی تمام جگہوں سے بہترین اور عمدہ۔ اس کتاب کا پہلا وصف یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے تو لوگوں کو اندھیروں سے اجالے میں لاسکتا ہے۔ تیرا پہلا کام یہ ہے کہ گمراہیوں کو ہدایت سے برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے ایمانداروں کا حمایتی خود اللہ ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے میں لاتا ہے اور کافروں کے کے ساتھی اللہ کے سوا اور ہیں جو انہیں نور سے ہٹا کر تاریکیوں میں پھانس دیتے ہیں اللہ اپنے غلام پر اپنی روشن اور واضح نشانیاں اتارتا ہے کہ وہ تمہیں تاریکیوں سے ہٹا کر نور کی طرف پہنچا دے۔ اصل ہادی اللہ ہی ہے رسولوں کے ہاتھوں جن کی ہدایت اسے منظور ہوتی ہے وہ راہ پالیتے ہیں اور غیر مغلوب پر غالب زبردست اور ہر چیز پر بادشاہ بن جاتے ہیں اور ہر حال میں تعریفوں والے اللہ کی راہ کی طرف ان کی رہبری ہوجاتی ہے۔ اللہ کی دوسری قرأت اللہ بھی ہے پہلی قرأت بطور صفت کے ہے اور دوسری بطور نئے جملے کے جیسے آیت (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۠ فَاٰمِنُوْا باللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ باللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ01508) 7۔ الاعراف :158) ، میں۔ جو کافر تیرے مخالف ہیں تجھے نہیں مانتے انہیں قیامت کے دن سخت عذاب ہوں گے۔ یہ لوگ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں دنیا کے لئے پوری کوشش کرتے ہیں اور آخرت کو بھولے بیٹھے ہیں رسولوں کی تابعداری سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں راہ حق جو سیدھی اور صاف ہے اسے ٹیڑھی ترچھی کرنا چاہتے ہیں یہ اسی جہالت ضلالت میں رہیں گے لیکن اللہ کی راہ نہ ٹیڑھی ہوئی نہ ہوگی۔ پھر ایسی حالت میں ان کی صلاحیت کی کیا امید ؟
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِۦ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ
Wa maaa arsalnaa mir Rasoolin illaa bilisaani qawmihee liyubaiyina lahum faiudillul laahu mai yashaaa'u wa yahde mai yashaaa'; wa Huwal 'Azeezul Hakeem
And We did not send any messenger except [speaking] in the language of his people to state clearly for them, and Allah sends astray [thereby] whom He wills and guides whom He wills. And He is the Exalted in Might, the Wise.
اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انہیں (احکام خدا) کھول کھول کر بتا دے۔ پھر خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ہر قوم کی اپنی زبان میں رسول یہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کی انتہائی درجے کی مہربانی ہے کہ ہر نبی کو اس کی قومی زبان میں ہی بھیجا تاکہ سمجھنے سمجھانے کی آسانی رہے۔ مسند میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی رسول کو اللہ تعالیٰ نے اس کی امت کی زبان میں ہی بھیجا ہے۔ حق ان پر کھل تو جاتا ہی ہے پھر ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے، اس کے چاہنے کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ وہ غالب ہے، اس کا ہر کام حکمت سے ہے، گمراہ وہی ہوتے ہیں جو اس کے مستحق ہوں اور ہدایت پر وہی آتے ہیں جو اس کے مستحق ہوں۔ چونکہ ہر نبی صرف اپنی اپنی قوم ہی کی طرف بھیجا جاتا رہا اس لئے اسے اس کی قومی زبان میں ہی کتاب اللہ ملتی تھی اور اس کی اپنی زبان بھی وہی ہوتی تھی۔ آنحضرت محمد بن عبداللہ علیہ صلوات اللہ کی رسالت عام تھی ساری دنیا کی سب قوموں کی طرف آپ رسول اللہ تھے جیسے خود حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ مجھے پانچ چیزیں خصوصیت سے دی گئی ہیں جو کسی نبی کو عطا نہیں ہوئیں مہینے بھر کی راہ کی دوری پر صرف رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے، میرے لئے ساری زمین مسجد اور پاکیزہ قرار دی گئی ہے، مجھ پر مال غنیمت حلال کئے گئے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی پر حلال نہیں تھے، مجھے شفاعت سونپی گئی ہے ہر نبی صرف اپنی قوم ہی کی طرف آتا تھا اور میں تمام عام لوگوں کی طرف رسول اللہ بنایا گیا ہوں۔ قرآن یہی فرماتا ہے کہ اے نبی اعلان کردو کہ میں تم سب کی جانب اللہ کا رسول ہوں ﷺ۔
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَآ أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ وَذَكِّرْهُم بِأَيَّىٰمِ ٱللَّهِ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ
Wa laqad arsalnaa Moosaa bi Aayaatinaa an akhrij qawmaka minaz zulumaati ilan noori wa zak kirhum bi ayyaamil laah; inna fee zaalika la aayaatil likulli sabbaarin shakoor
And We certainly sent Moses with Our signs, [saying], "Bring out your people from darknesses into the light and remind them of the days of Allah." Indeed in that are signs for everyone patient and grateful.
اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ۔ اور ان کو خدا کے دن یاد دلاؤ اس میں ان لوگوں کے لیے جو صابر وشاکر ہیں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
نو 009 نشانیاں جیسے ہم نے تجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور تجھ پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے کہ تو لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئے۔ اسی طرح ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کو بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تھا بہت سی نشانیاں بھی دی تھیں جن کا بیان آیت (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا01001) 17۔ الإسراء :101) میں ہے۔ انہیں بھی یہی حکم تھا کہ لوگوں کو نیکیوں کی دعوت دے انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں اور جہالت و ضلالت سے ہٹا کر علم و ہدایت کی طرف لے آ۔ انہیں اللہ کے احسناتات یاد دلا۔ کہ اللہ نے انہیں فرعون جیسے ظالم و جابر بادشاہ کی غلامی سے آزاد کیا ان کے لئے دریا کو کھڑا کردیا ان پر ابر کا سایہ کردیا ان پر من وسلوی اتارا اور بھی بہت سی نعمتیں عطا فرمائیں۔ مسند کی مرفوع حدیث میں ایام اللہ کی تفسیر اللہ کی نعمتوں سے مروی ہے۔ لکن ابن جریر ؒ میں یہ روایت ابی بن کعب ؓ ہی سے موقوفا بھی آئی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ ہم نے اپنے بندوں بنی اسرائیل کے ساتھ جو احسان کئے فرعون سے نجات دلوانا، اس کے ذلیل عذابوں سے چھڑوانا، اس میں ہر صابر و شاکر کے لئے عبرت ہے۔ جو مصیبت میں صبر کرے اور راحت میں شکر کرے۔ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مومن کا تمام کام عجیب ہے اسے مصیبت پہنچے تو صبر کرتا ہے وہی اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے اور اگر اسے راحت و آرام ملے شکر کرتا ہے اس کا انجام بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے۔
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ أَنجَىٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ
Wa iz qaala Moosaa liqawmihiz kuroo ni'matal laahi 'alaikum iz anjaakum min Aali Fir'awna yasoomoo nakum sooo'al 'azaabi wa yuzabbihoona abnaaa'akum wa yastahyoona nisaaa'akum; wa fee zaalikum balaaa'um mir Rabbikum 'azeem
And [recall, O Children of Israel], when Moses said to His people, "Remember the favor of Allah upon you when He saved you from the people of Pharaoh, who were afflicting you with the worst torment and were slaughtering your [newborn] sons and keeping your females alive. And in that was a great trial from your Lord.
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا نے جو تم پر مہربانیاں کی ہیں ان کو یاد کرو جب کہ تم کو فرعون کی قوم (کے ہاتھ) سے مخلصی دی وہ لوگ تمہیں بُرے عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے تھے اور عورت ذات یعنی تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اولاد کا قاتل فرمان الہٰی کے مطابق حضرت موسیٰ ؑ اپنی قوم کو اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں۔ مثلا قوم فرعون سے انہیں نجات دلوانا جو انہیں بےوقعت کر کے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے تھے یہاں تک کہ تمام نرینہ اولاد قتل کر ڈالتے تھے صرف لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے تھے۔ یہ نعمت اتنی بڑی ہے کہ تم اس کی شکر گزاری کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہ مطلب بھی اس جملے کا ہوسکتا ہے کہ فرعونی ایذاء دراصل تمہاری ایک بہت بڑی آزمائش تھی اور یہ بھی احتمال ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں، واللہ اعلم۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ01608) 7۔ الاعراف :168) یعنی ہم نے انہیں بھلائی برائی سے آزما لیا کہ وہ لوٹ آئیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں آگاہ کردیا۔ اور یہ معنی بھی ممکن ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اپنی عزت و جلالت اور کبریائی کی۔ جیسے آیت (وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ01607) 7۔ الاعراف :167) ، میں۔ پس اللہ کا حتمی وعدہ ہوا اور اس کا اعلان بھی کہ شکر گزاروں کی نعمتیں اور بڑھ جائیں گی اور ناشکروں کی نعمتوں کے منکروں اور ان کے چھپانے والوں کی نعمتیں اور چھن جائیں گی اور انہیں سخت سزا ہوگی۔ حدیث میں ہے بندہ بوجہ گناہ کے اللہ کی روزی سے محروم ہوجاتا ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک سائل گزرا، آپ نے اسے ایک کھجور دی۔ وہ بڑا بگڑا اور کجھور نہ لی۔ پھر دوسرا سائل گزرا آپ نے اسے بھی وہی کجھور دی اس نے اسے بخوشی لے لیا اور کہنے لگا کہ اللہ کے رسول کا عطیہ ہے۔ آپ نے اسے بیس درہم دینے کا حکم فرمایا۔ اور روایت میں ہے کہ آپ نے لونڈی سے فرمایا اسے لے جاؤ اور حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس چالیس درہم ہیں وہ اسے دلوا دو۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ تم سب اور روئے زمین کی تمام مخلوق بھی ناشکری کرنے لگے تو اللہ کا کیا بگاڑے گا ؟ وہ بندوں سے اور ان کی شکر گزاری سے بےنیاز اور بےپرواہ ہے۔ تعریفوں کا مالک اور قابل وہی ہے۔ چناچہ فرمان ہے آیت (اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ ۣ وَلَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۚ وَاِنْ تَشْكُرُوْا يَرْضَهُ لَكُمْ ۭ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۭ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۭ اِنَّهٗ عَلِـيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 39۔ الزمر :7) تم اگر کفر کرو تو اللہ تم سے غنی ہے اور آیت میں ہے آیت (فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ) 64۔ التغابن :6) انہوں نے کفر کیا منہ موڑ لیا تو اللہ نے ان سے مطلقا بےنیازی برتی۔ صحیح مسلم شریف میں قدسی حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو اگر تمہارے اول آخر انسان جن سب مل کر بہترین تقوے والے دل کے شخص جیسے بن جائیں تو اس سے میرا ملک ذرا سا بھی بڑھ نہ جائے گا اور اگر تمہارے سب اگلے پچھلے انسان جنات بدترین دل کے بن جائیں تو اس وجہ سے میرے ملک میں سے ایک ذرہ بہی نہ گھٹے گا۔ اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان جن سب ایک میدان میں کھڑے ہوجائیں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کا سوال پورا کر دوں تو بھی میرے پاس کے خزانوں میں اتنی ہی کمی آئے گی جتنی کمی سمندر میں سوئی ڈالنے سے ہو۔ پس ہمارا رب پاک ہے بلند ہے غنی ہے اور حمید ہے۔
وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِى لَشَدِيدٌ
Wa iz ta azzana Rabbukum la'in shakartum la azeedannakum wa la'in kafartum inn'azaabee lashadeed
And [remember] when your Lord proclaimed, 'If you are grateful, I will surely increase you [in favor]; but if you deny, indeed, My punishment is severe.' "
اور جب تمہارے پروردگار نے (تم کو) آگاہ کیا کہ اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو (یاد رکھو کہ) میرا عذاب بھی سخت ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اولاد کا قاتل فرمان الہٰی کے مطابق حضرت موسیٰ ؑ اپنی قوم کو اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں۔ مثلا قوم فرعون سے انہیں نجات دلوانا جو انہیں بےوقعت کر کے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے تھے یہاں تک کہ تمام نرینہ اولاد قتل کر ڈالتے تھے صرف لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے تھے۔ یہ نعمت اتنی بڑی ہے کہ تم اس کی شکر گزاری کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہ مطلب بھی اس جملے کا ہوسکتا ہے کہ فرعونی ایذاء دراصل تمہاری ایک بہت بڑی آزمائش تھی اور یہ بھی احتمال ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں، واللہ اعلم۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ01608) 7۔ الاعراف :168) یعنی ہم نے انہیں بھلائی برائی سے آزما لیا کہ وہ لوٹ آئیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں آگاہ کردیا۔ اور یہ معنی بھی ممکن ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اپنی عزت و جلالت اور کبریائی کی۔ جیسے آیت (وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ01607) 7۔ الاعراف :167) ، میں۔ پس اللہ کا حتمی وعدہ ہوا اور اس کا اعلان بھی کہ شکر گزاروں کی نعمتیں اور بڑھ جائیں گی اور ناشکروں کی نعمتوں کے منکروں اور ان کے چھپانے والوں کی نعمتیں اور چھن جائیں گی اور انہیں سخت سزا ہوگی۔ حدیث میں ہے بندہ بوجہ گناہ کے اللہ کی روزی سے محروم ہوجاتا ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک سائل گزرا، آپ نے اسے ایک کھجور دی۔ وہ بڑا بگڑا اور کجھور نہ لی۔ پھر دوسرا سائل گزرا آپ نے اسے بھی وہی کجھور دی اس نے اسے بخوشی لے لیا اور کہنے لگا کہ اللہ کے رسول کا عطیہ ہے۔ آپ نے اسے بیس درہم دینے کا حکم فرمایا۔ اور روایت میں ہے کہ آپ نے لونڈی سے فرمایا اسے لے جاؤ اور حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس چالیس درہم ہیں وہ اسے دلوا دو۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ تم سب اور روئے زمین کی تمام مخلوق بھی ناشکری کرنے لگے تو اللہ کا کیا بگاڑے گا ؟ وہ بندوں سے اور ان کی شکر گزاری سے بےنیاز اور بےپرواہ ہے۔ تعریفوں کا مالک اور قابل وہی ہے۔ چناچہ فرمان ہے آیت (اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ ۣ وَلَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۚ وَاِنْ تَشْكُرُوْا يَرْضَهُ لَكُمْ ۭ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۭ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۭ اِنَّهٗ عَلِـيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 39۔ الزمر :7) تم اگر کفر کرو تو اللہ تم سے غنی ہے اور آیت میں ہے آیت (فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ) 64۔ التغابن :6) انہوں نے کفر کیا منہ موڑ لیا تو اللہ نے ان سے مطلقا بےنیازی برتی۔ صحیح مسلم شریف میں قدسی حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو اگر تمہارے اول آخر انسان جن سب مل کر بہترین تقوے والے دل کے شخص جیسے بن جائیں تو اس سے میرا ملک ذرا سا بھی بڑھ نہ جائے گا اور اگر تمہارے سب اگلے پچھلے انسان جنات بدترین دل کے بن جائیں تو اس وجہ سے میرے ملک میں سے ایک ذرہ بہی نہ گھٹے گا۔ اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان جن سب ایک میدان میں کھڑے ہوجائیں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کا سوال پورا کر دوں تو بھی میرے پاس کے خزانوں میں اتنی ہی کمی آئے گی جتنی کمی سمندر میں سوئی ڈالنے سے ہو۔ پس ہمارا رب پاک ہے بلند ہے غنی ہے اور حمید ہے۔
وَقَالَ مُوسَىٰٓ إِن تَكْفُرُوٓا۟ أَنتُمْ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِىٌّ حَمِيدٌ
Wa qaala Moosaaa in takfurooo antum wa man fil ardi jamee'an fa innal laaha la Ghaniyyun Hameed
And Moses said, "If you should disbelieve, you and whoever is on the earth entirely - indeed, Allah is Free of need and Praiseworthy."
اور موسیٰ نے (صاف صاف) کہہ دیا کہ اگر تم اور جتنے اور لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ناشکری کرو تو خدا بھی بےنیاز (اور) قابل تعریف ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
اولاد کا قاتل فرمان الہٰی کے مطابق حضرت موسیٰ ؑ اپنی قوم کو اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں۔ مثلا قوم فرعون سے انہیں نجات دلوانا جو انہیں بےوقعت کر کے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے تھے یہاں تک کہ تمام نرینہ اولاد قتل کر ڈالتے تھے صرف لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے تھے۔ یہ نعمت اتنی بڑی ہے کہ تم اس کی شکر گزاری کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہ مطلب بھی اس جملے کا ہوسکتا ہے کہ فرعونی ایذاء دراصل تمہاری ایک بہت بڑی آزمائش تھی اور یہ بھی احتمال ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں، واللہ اعلم۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ01608) 7۔ الاعراف :168) یعنی ہم نے انہیں بھلائی برائی سے آزما لیا کہ وہ لوٹ آئیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں آگاہ کردیا۔ اور یہ معنی بھی ممکن ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اپنی عزت و جلالت اور کبریائی کی۔ جیسے آیت (وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ01607) 7۔ الاعراف :167) ، میں۔ پس اللہ کا حتمی وعدہ ہوا اور اس کا اعلان بھی کہ شکر گزاروں کی نعمتیں اور بڑھ جائیں گی اور ناشکروں کی نعمتوں کے منکروں اور ان کے چھپانے والوں کی نعمتیں اور چھن جائیں گی اور انہیں سخت سزا ہوگی۔ حدیث میں ہے بندہ بوجہ گناہ کے اللہ کی روزی سے محروم ہوجاتا ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک سائل گزرا، آپ نے اسے ایک کھجور دی۔ وہ بڑا بگڑا اور کجھور نہ لی۔ پھر دوسرا سائل گزرا آپ نے اسے بھی وہی کجھور دی اس نے اسے بخوشی لے لیا اور کہنے لگا کہ اللہ کے رسول کا عطیہ ہے۔ آپ نے اسے بیس درہم دینے کا حکم فرمایا۔ اور روایت میں ہے کہ آپ نے لونڈی سے فرمایا اسے لے جاؤ اور حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس چالیس درہم ہیں وہ اسے دلوا دو۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ تم سب اور روئے زمین کی تمام مخلوق بھی ناشکری کرنے لگے تو اللہ کا کیا بگاڑے گا ؟ وہ بندوں سے اور ان کی شکر گزاری سے بےنیاز اور بےپرواہ ہے۔ تعریفوں کا مالک اور قابل وہی ہے۔ چناچہ فرمان ہے آیت (اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ ۣ وَلَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۚ وَاِنْ تَشْكُرُوْا يَرْضَهُ لَكُمْ ۭ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۭ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۭ اِنَّهٗ عَلِـيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 39۔ الزمر :7) تم اگر کفر کرو تو اللہ تم سے غنی ہے اور آیت میں ہے آیت (فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ) 64۔ التغابن :6) انہوں نے کفر کیا منہ موڑ لیا تو اللہ نے ان سے مطلقا بےنیازی برتی۔ صحیح مسلم شریف میں قدسی حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو اگر تمہارے اول آخر انسان جن سب مل کر بہترین تقوے والے دل کے شخص جیسے بن جائیں تو اس سے میرا ملک ذرا سا بھی بڑھ نہ جائے گا اور اگر تمہارے سب اگلے پچھلے انسان جنات بدترین دل کے بن جائیں تو اس وجہ سے میرے ملک میں سے ایک ذرہ بہی نہ گھٹے گا۔ اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان جن سب ایک میدان میں کھڑے ہوجائیں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کا سوال پورا کر دوں تو بھی میرے پاس کے خزانوں میں اتنی ہی کمی آئے گی جتنی کمی سمندر میں سوئی ڈالنے سے ہو۔ پس ہمارا رب پاک ہے بلند ہے غنی ہے اور حمید ہے۔
أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَؤُا۟ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِمْ لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا ٱللَّهُ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَرَدُّوٓا۟ أَيْدِيَهُمْ فِىٓ أَفْوَٰهِهِمْ وَقَالُوٓا۟ إِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ أُرْسِلْتُم بِهِۦ وَإِنَّا لَفِى شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُونَنَآ إِلَيْهِ مُرِيبٍ
Alam yaatikum naba'ul lazeena min qablikum qawmi Noohinw wa 'Aadinw wa Samood, wallazeena mim ba'dihim; laa ya'lamuhum illallaah; jaaa'at hum Rusuluhum bilbaiyinaati faraddooo aydiyahum feee afwaahihim wa qaalooo innaa kafarnaa bimaaa ursiltum bihee wa innaa lafee shakkim mimmaa tad'oonanaaa ilaihi mureeb
Has there not reached you the news of those before you - the people of Noah and 'Aad and Thamud and those after them? No one knows them but Allah. Their messengers brought them clear proofs, but they returned their hands to their mouths and said, "Indeed, we disbelieve in that with which you have been sent, and indeed we are, about that to which you invite us, in disquieting doubt."
بھلا تم کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے (یعنی) نوح اور عاد اور ثمود کی قوم۔ اور جو ان کے بعد تھے۔ جن کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں (جب) ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دیئے (کہ خاموش رہو) اور کہنے لگے کہ ہم تو تمہاری رسالت کو تسلیم نہیں کرتے اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے قوی شک میں ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حضرت موسیٰ ؑ کا باقی وعظ بیان ہو رہا ہے کہ آپ نے اپنی قوم کو اللہ کی وہ نعمتیں یاد دلاتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو تم سے پہلے کے لوگوں پر رسولوں کے جھٹلانے کی وجہ سے کیسے سخت عذاب آئے ؟ اور کس طرح وہ غارت کئے گئے ؟ یہ قول تو ہے امام ابن جریر ؒ کا لیکن ذرا غور طلب ہے۔ بظاہر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وعظ تو ختم ہوچکا اب یہ نیا بیان قرآن ہے۔ کہا گیا ہے کہ عادیوں اور ثمودیوں کے واقعات تورات شریف میں تھے اور یہ دونوں واقعات بھی تورات میں تھے واللہ اعلم۔ فی الجملہ ان لوگوں کے اور ان جیسے اور بھی بہت سے لوگوں کے واقعات قرآن کریم میں ہمارے سامنے بیان ہوچکے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے پیغمبر اللہ کی آیتیں اور اللہ کے دیئے ہوئے معجزے لے کر پہنچے ان کی گنتی کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں نسب کے بیان کرنے والے غلط گو ہیں بہت سے لوگوں کے واقعات قرآن کریم میں ہمارے سامنے بیان ہوچکے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے پیغمبر اللہ کی آیتیں اور اللہ کے دیئے ہوئے معجزے لے کر پہنچے ان کی گنتی کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ ، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں نسب کے بیان کرنے والے غلط گو ہیں بہت سی امتیں ایسی بھی گزری ہیں جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ معد بن عدنان کے بعد کا نسب نامہ صحیح طور پر کوئی نہیں جانتا۔ وہ اپنے ہاتھ ان کے منہ تک لوٹا لیے گئے کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ رسولوں کے منہ بند کرنے لگے۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھنے لگے کہ محض جھوٹ ہے جو رسول کہتے ہیں۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جواب سے لاچار ہو کر انگلیاں منہ پر رکھ لیں۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اپنے منہ سے انہیں جھٹلانے لگے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہاں پر فی معنی میں " بے " کے ہو جیسے بعض عرب کہتے ہیں ادخلک اللہ بالجنۃ یعنی فی الجنۃ شعر میں بھی یہ محاورہ مستعمل ہے۔ اور بقول مجاہد اس کے بعد کا جملہ اسی کی تفسیر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے مارے غصے کے اپنی انگلیاں اپنے منہ میں ڈال لیں۔ چناچہ اور آیت میں منافقین کے بارے میں ہے کہ آیت (وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ ۭ قُلْ مُوْتُوْا بِغَيْظِكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ01109) 3۔ آل عمران :119) یہ لوگ خلوت میں تمہاری جلن سے اپنی انگلیاں چباتے رہتے ہیں۔ یہ بھی ہے کہ کلام اللہ سن کر تعجب سے اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھ دیتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ ہم تو تمہاری رسالت کے منکر ہیں ہم تمہیں سچا نہیں جانتے بلکہ سخت شبہ میں ہیں۔
قَالَتْ رُسُلُهُمْ أَفِى ٱللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَىٰٓ أَجَلٍ مُّسَمًّى قَالُوٓا۟ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَٰنٍ مُّبِينٍ
Qaalat Rusuluhum afillaahi shakkun faatiris samaawaati wal ardi yad'ookum liyaghfira lakum min zunoobikum wa yu'akhkhirakum ilaaa ajalim musam maa; qaaloo in antum illaa basharum mislunaa tureedoona an tasuddoonaa 'ammaa kaana ya'budu aabaaa'unaa faatoonaa bisul taanim mubeen
Their messengers said, "Can there be doubt about Allah, Creator of the heavens and earth? He invites you that He may forgive you of your sins, and He delays your death for a specified term." They said, "You are not but men like us who wish to avert us from what our fathers were worshipping. So bring us a clear authority."
ان کے پیغمبروں نے کہا کیا (تم کو) خدا (کے بارے) میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ وہ تمہیں اس لیے بلاتا ہے کہ تمہارے گناہ بخشے اور (فائدہ پہنچانے کے لیے) ایک مدت مقرر تک تم کو مہلت دے۔ وہ بولے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تمہارا یہ منشاء ہے کہ جن چیزوں کو ہمارے بڑے پوجتے رہے ہیں ان (کے پوجنے) سے ہم کو بند کر دو تو (اچھا) کوئی کھلی دلیل لاؤ (یعنی معجزہ دکھاؤ)
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
کفار اور انبیاء میں مکالمات رسولوں کی اور اور ان کی قوم کے کافروں کی بات چیت بیان ہو رہے۔ قوم نے اللہ کی عبادت میں شک شبہ کا اظہار کیا اس پر رسولوں نے کہا اللہ کے بارے میں شک ؟ یعنی اس کے وجود میں شک کیسا ؟ فطرت اس کی شاہد عدل ہے انسان کی بنیاد میں اس کا اقرار موجود ہے۔ عقل سلیم اس کے ماننے پر مجبور ہے۔ اچھا اگر دلیل کے بغیر اطمینان نہیں تو دیکھ لو کہ یہ آسمان و زمین کیسے پیدا ہوگئے ؟ موجود کے لئے موجد کا ہونا ضروری ہے۔ انہیں بغیر نمونہ پیدا کرنے والا وہی وحدہ لا شریک لہ ہے اس عالم کی تخلیق تو مطیع و مخلوق ہونا بالکل ظاہر ہے اس سے کیا اتنی موٹی بات بھی سمجھ نہیں آتی ؟ کہ اس کا صانع اس کا خالق ہے اور وہی اللہ تعالیٰ ہے جو ہر چیز کا خالق مالک اور معبود برحق ہے۔ یا کیا تمہیں اس کی الوہیت اور اس کی وحدانیت میں شک ہے ؟ جب تمام موجودات کا خالق اور موجود وہی ہے تو پھر عبادت میں تنہا وہی کیوں نہ ہو ؟ چونکہ اکثر امتیں خالق کے وجود کے قائل تھیں پھر اوروں کی عبادت انہیں واسطہ اور وسیلہ جان کر اللہ سے نزدیک کرنے والے اور نفع دینے والے سمجھ کر کرتی تھیں اس لئے رسول اللہ انہیں ان کی عبادتوں سے یہ سمجھا کر روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی طرف بلا رہا ہے کہ آخرت میں تمہارے گناہ معاف فرما دے اور جو وقت مقرر ہے اس تک تمہیں اچھائی سے پہنچا دے ہر ایک فضیلت والے کو وہ اس کی فضیلت عنایت فرمائے گا۔ اب امتوں نے پہلے مقام کو تسلیم کرنے کے بعد جواب دیا کہ تمہاری رسالت ہم کیسے مان لیں " تم میں انسانیت تو ہم جیسی ہی ہے اچھا اگر سچے ہو تو زبردست معجزہ پیش کرو جو انسانی طاقت سے باہر ہو ؟ اس کے جواب میں پیغمبران رب نے فرمایا کہ یہ تو بالکل مسلم ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں۔ لیکن رسالت و نبوت اللہ کا عطیہ ہے وہ جسے چاہے دے۔ انسانیت رسالت کے منافی نہیں۔ اور جو چیز تم ہمارے ہاتھوں سے دیکھنا چاہتے ہو اس کی نسبت بھی سن لو کہ وہ ہمارے بس کی بات نہیں ہاں ہم اللہ سے طلب کریں گے اگر ہماری دعا مقبول ہوئی تو بیشک ہم دکھا دیں گے مومنوں کو تو ہر کام میں اللہ ہی پر توکل ہے۔ اور خصوصیت کے ساتھ ہمیں اس پر زیادہ توکل اور بھروسہ ہے اس لئے بھی کہ اس نے تمام راہوں میں سے بہترین راہ دکھائی۔ تم جتنا چاہو دکھ دو لیکن انشاء اللہ دامن توکل ہمارے ہاتھ سے چھوٹنے کا نہیں۔ متوکلین کے گروہ کے لئے اللہ کا توکل کافی وافی ہے۔
قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ وَمَا كَانَ لَنَآ أَن نَّأْتِيَكُم بِسُلْطَٰنٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ
Qaalat lahum Rusuluhum in nahnu illaa basharum mislukum wa laakinnal laaha yamunnu 'alaa mai yashaaa'u min 'ibaadihee wa maa kaana lanaaa an naatiyakum bisul taanin illaa bi iznil laah; wa 'alal laahi falyatawakkalil mu'minonn
Their messengers said to them, "We are only men like you, but Allah confers favor upon whom He wills of His servants. It has never been for us to bring you evidence except by permission of Allah. And upon Allah let the believers rely.
پیغمبروں نے ان سے کہا کہ ہاں ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں۔ لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے (نبوت کا) احسان کرتا ہے اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم خدا کے حکم کے بغیر تم کو (تمہاری فرمائش کے مطابق) معجزہ دکھائیں اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیئے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
کفار اور انبیاء میں مکالمات رسولوں کی اور اور ان کی قوم کے کافروں کی بات چیت بیان ہو رہے۔ قوم نے اللہ کی عبادت میں شک شبہ کا اظہار کیا اس پر رسولوں نے کہا اللہ کے بارے میں شک ؟ یعنی اس کے وجود میں شک کیسا ؟ فطرت اس کی شاہد عدل ہے انسان کی بنیاد میں اس کا اقرار موجود ہے۔ عقل سلیم اس کے ماننے پر مجبور ہے۔ اچھا اگر دلیل کے بغیر اطمینان نہیں تو دیکھ لو کہ یہ آسمان و زمین کیسے پیدا ہوگئے ؟ موجود کے لئے موجد کا ہونا ضروری ہے۔ انہیں بغیر نمونہ پیدا کرنے والا وہی وحدہ لا شریک لہ ہے اس عالم کی تخلیق تو مطیع و مخلوق ہونا بالکل ظاہر ہے اس سے کیا اتنی موٹی بات بھی سمجھ نہیں آتی ؟ کہ اس کا صانع اس کا خالق ہے اور وہی اللہ تعالیٰ ہے جو ہر چیز کا خالق مالک اور معبود برحق ہے۔ یا کیا تمہیں اس کی الوہیت اور اس کی وحدانیت میں شک ہے ؟ جب تمام موجودات کا خالق اور موجود وہی ہے تو پھر عبادت میں تنہا وہی کیوں نہ ہو ؟ چونکہ اکثر امتیں خالق کے وجود کے قائل تھیں پھر اوروں کی عبادت انہیں واسطہ اور وسیلہ جان کر اللہ سے نزدیک کرنے والے اور نفع دینے والے سمجھ کر کرتی تھیں اس لئے رسول اللہ انہیں ان کی عبادتوں سے یہ سمجھا کر روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی طرف بلا رہا ہے کہ آخرت میں تمہارے گناہ معاف فرما دے اور جو وقت مقرر ہے اس تک تمہیں اچھائی سے پہنچا دے ہر ایک فضیلت والے کو وہ اس کی فضیلت عنایت فرمائے گا۔ اب امتوں نے پہلے مقام کو تسلیم کرنے کے بعد جواب دیا کہ تمہاری رسالت ہم کیسے مان لیں " تم میں انسانیت تو ہم جیسی ہی ہے اچھا اگر سچے ہو تو زبردست معجزہ پیش کرو جو انسانی طاقت سے باہر ہو ؟ اس کے جواب میں پیغمبران رب نے فرمایا کہ یہ تو بالکل مسلم ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں۔ لیکن رسالت و نبوت اللہ کا عطیہ ہے وہ جسے چاہے دے۔ انسانیت رسالت کے منافی نہیں۔ اور جو چیز تم ہمارے ہاتھوں سے دیکھنا چاہتے ہو اس کی نسبت بھی سن لو کہ وہ ہمارے بس کی بات نہیں ہاں ہم اللہ سے طلب کریں گے اگر ہماری دعا مقبول ہوئی تو بیشک ہم دکھا دیں گے مومنوں کو تو ہر کام میں اللہ ہی پر توکل ہے۔ اور خصوصیت کے ساتھ ہمیں اس پر زیادہ توکل اور بھروسہ ہے اس لئے بھی کہ اس نے تمام راہوں میں سے بہترین راہ دکھائی۔ تم جتنا چاہو دکھ دو لیکن انشاء اللہ دامن توکل ہمارے ہاتھ سے چھوٹنے کا نہیں۔ متوکلین کے گروہ کے لئے اللہ کا توکل کافی وافی ہے۔
وَمَا لَنَآ أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى ٱللَّهِ وَقَدْ هَدَىٰنَا سُبُلَنَا وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَآ ءَاذَيْتُمُونَا وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ
Wa maa lanaa allaa natawakkala 'alal laahi wa qad hadaanaa subulanaa; wa lanasbiranna 'alaa maaa aazaitumoonaa; wa 'alal laahi falyatawakkalil mutawakkiloon
And why should we not rely upon Allah while He has guided us to our [good] ways. And we will surely be patient against whatever harm you should cause us. And upon Allah let those who would rely [indeed] rely."
اور ہم کیونکر خدا پر بھروسہ نہ رکھیں حالانکہ اس نے ہم کو ہمارے (دین کے سیدھے) رستے بتائے ہیں۔ جو تکلیفیں تم ہم کو دیتے ہو اس پر صبر کریں گے۔ اور اہل توکل کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
کفار اور انبیاء میں مکالمات رسولوں کی اور اور ان کی قوم کے کافروں کی بات چیت بیان ہو رہے۔ قوم نے اللہ کی عبادت میں شک شبہ کا اظہار کیا اس پر رسولوں نے کہا اللہ کے بارے میں شک ؟ یعنی اس کے وجود میں شک کیسا ؟ فطرت اس کی شاہد عدل ہے انسان کی بنیاد میں اس کا اقرار موجود ہے۔ عقل سلیم اس کے ماننے پر مجبور ہے۔ اچھا اگر دلیل کے بغیر اطمینان نہیں تو دیکھ لو کہ یہ آسمان و زمین کیسے پیدا ہوگئے ؟ موجود کے لئے موجد کا ہونا ضروری ہے۔ انہیں بغیر نمونہ پیدا کرنے والا وہی وحدہ لا شریک لہ ہے اس عالم کی تخلیق تو مطیع و مخلوق ہونا بالکل ظاہر ہے اس سے کیا اتنی موٹی بات بھی سمجھ نہیں آتی ؟ کہ اس کا صانع اس کا خالق ہے اور وہی اللہ تعالیٰ ہے جو ہر چیز کا خالق مالک اور معبود برحق ہے۔ یا کیا تمہیں اس کی الوہیت اور اس کی وحدانیت میں شک ہے ؟ جب تمام موجودات کا خالق اور موجود وہی ہے تو پھر عبادت میں تنہا وہی کیوں نہ ہو ؟ چونکہ اکثر امتیں خالق کے وجود کے قائل تھیں پھر اوروں کی عبادت انہیں واسطہ اور وسیلہ جان کر اللہ سے نزدیک کرنے والے اور نفع دینے والے سمجھ کر کرتی تھیں اس لئے رسول اللہ انہیں ان کی عبادتوں سے یہ سمجھا کر روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی طرف بلا رہا ہے کہ آخرت میں تمہارے گناہ معاف فرما دے اور جو وقت مقرر ہے اس تک تمہیں اچھائی سے پہنچا دے ہر ایک فضیلت والے کو وہ اس کی فضیلت عنایت فرمائے گا۔ اب امتوں نے پہلے مقام کو تسلیم کرنے کے بعد جواب دیا کہ تمہاری رسالت ہم کیسے مان لیں " تم میں انسانیت تو ہم جیسی ہی ہے اچھا اگر سچے ہو تو زبردست معجزہ پیش کرو جو انسانی طاقت سے باہر ہو ؟ اس کے جواب میں پیغمبران رب نے فرمایا کہ یہ تو بالکل مسلم ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں۔ لیکن رسالت و نبوت اللہ کا عطیہ ہے وہ جسے چاہے دے۔ انسانیت رسالت کے منافی نہیں۔ اور جو چیز تم ہمارے ہاتھوں سے دیکھنا چاہتے ہو اس کی نسبت بھی سن لو کہ وہ ہمارے بس کی بات نہیں ہاں ہم اللہ سے طلب کریں گے اگر ہماری دعا مقبول ہوئی تو بیشک ہم دکھا دیں گے مومنوں کو تو ہر کام میں اللہ ہی پر توکل ہے۔ اور خصوصیت کے ساتھ ہمیں اس پر زیادہ توکل اور بھروسہ ہے اس لئے بھی کہ اس نے تمام راہوں میں سے بہترین راہ دکھائی۔ تم جتنا چاہو دکھ دو لیکن انشاء اللہ دامن توکل ہمارے ہاتھ سے چھوٹنے کا نہیں۔ متوکلین کے گروہ کے لئے اللہ کا توکل کافی وافی ہے۔
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُم مِّنْ أَرْضِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِى مِلَّتِنَا فَأَوْحَىٰٓ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ
Wa qaalal lazeena kafaroo li Rusulihim lanukhrijanna kum min aardinaaa aw lata'oo dunna fee millatinaa fa awhaaa ilaihim Rabbuhum lanuhlikannaz zalimeen
And those who disbelieved said to their messengers, "We will surely drive you out of our land, or you must return to our religion." So their Lord inspired to them, "We will surely destroy the wrongdoers.
اور جو کافر تھے انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ (یا تو) ہم تم کو اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے یا ہمارے مذہب میں داخل ہو جاؤ۔ تو پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کر دیں گے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
آل لوط کافر جب تنگ ہوئے، کوئی حجت باقی نہ رہی تو نبیوں کو دھمکانے لگے اور دیس نکالنے سے ڈرانے لگے۔ قوم شعیب نے بھی اپنے نبی اور مومنوں سے یہی کہا تھا کہ ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ لوطیوں نے بھی یہی کہا تھا کہ آل لوط کو اپنے شہر سے نکال دو۔ وہ اگرچہ مکر کرتے تھے لیکن اللہ بھی ان کے داؤ میں تھا۔ اپنے نبی کو سلامتی کے ساتھ مکہ سے لے گیا مدینے والوں کو آپ کا انصار و مددگار بنادیا وہ آپ کے لشکر میں شامل ہو کر آپ کے جھنڈے تلے کافروں سے لڑے اور بتدریج اللہ تعالیٰ نے آپ کو ترقیاں دیں یہاں تک کہ بالاخر آپ نے مکہ بھی فتح کرلیا اب تو دشمنان دین کے منصوبے خاک میں مل گئے ان کی امیدوں پر اوس پڑگئی ان کی آرزویں پامال ہوگئیں۔ اللہ کا دین لوگوں کے دلوں میں مضبوط ہوگیا، جماعتوں کی جماعتیں دین میں داخل ہونے لگیں، تمام روئے زمین کے ادیان پر دین اسلام چھا گیا، کلمہ حق بلند وبالا ہوگیا اور تھوڑے سے زمانے میں مشرق سے مغرب تک اشاعت اسلام ہوگئی فالحمد للہ۔ یہاں فرمان ہے کہ ادھر کفار نے نبیوں کو دھمکایا ادھر اللہ نے ان سے سچا وعدہ فرمایا کہ یہی ہلاک ہوں گے اور زمین کے مالک تم بنو گے۔ جسے فرمان ہے کہ ہمارا کلمہ ہمارے رسولوں کے بارے میں سبقت کرچکا ہے کہ وہی کامیاب ہوں گے اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا اور آیت میں ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ہی غالب آئیں گے، اللہ قوت والا اور عزت والا ہے۔ اور آیت میں ارشاد ہے کہ ذکر کے بعد زبور میں بھی یہی تحریر ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا کہ تم اللہ سے مدد طلب کرو، صبر و برداشت کرو، زمین اللہ ہی کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے وارث بنائے انجام کار پرہیزگاروں کا ہی ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے۔ آیت (وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا01307) 7۔ الاعراف :137) ضعیف اور کمزور لوگوں کو ہم نے زمین کی مشرق و مغرب کا وارث بنادیا جہاں ہماری برکتیں تھیں بنی اسرائیل کے صبر کی وجہ سے ہمارا ان سے جو بہترین وعدہ تھا وہ پورا ہوگیا ان کے دشمن فرعون اور فرعونی اور ان کی تمام تیاریاں سب یکمشت خاک میں مل گئیں۔ نبیوں سے فرما دیا گیا کہ یہ زمین تمہارے قبضے میں آئے گی یہ وعدے ان کے لئے ہیں جو قیامت کے دن میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہیں اور میرے ڈراوے اور عذاب سے خوف کھاتے رہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (فَاَمَّا مَنْ طَغٰى 37ۙ) 79۔ النازعات :37) ، یعنی جس نے سرکشی اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور آیت میں ہے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف جس نے کیا اسے دوہری جنتیں ہیں۔ رسولوں نے اپنے رب سے مدد و فتح اور فیصلہ طلب کیا یا یہ کہ ان کی قوم نے اسے طلب کیا جیسے قریش مکہ نے کہا تھا کہ الہٰی اگر یہ حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب ہمیں کر۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ادھر سے کفار کا مطالبہ ہوا ادھر سے رسولوں نے بھی اللہ سے دعا کی جیسے بدر والے دن ہوا تھا کہ ایک طرف رسول اللہ ﷺ دعا مانگ رہے تھے دوسری جانب سرداران کفر بھی کہہ رہے تھے کہ الہٰی آج سچے کو غا لب کر یہی ہوا بھی۔ مشرکین سے کلام اللہ میں اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ تم فتح طلب کیا کرتے تھے لو اب وہ آگئی اب بھی اگر باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے الخ نقصان یافتہ وہ ہیں جو متکبر ہوں اپنے تئیں کچھ گنتے ہوں حق سے عناد رکھتے ہوں قیامت کے روز فرمان ہوگا کہ ہر ایک کافر سرکش اور بھلائی سے روکنے والے کو جہنم میں داخل کرو جو اللہ کے ساتھ دوسروں کی پوجا کرتا تھا اسے سخت عذاب میں لے جاؤ۔ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن جہنم کو لایا جائے گا وہ تمام مخلوق کو ندا کر کے کہے گی کہ میں ہر ایک سرکش ضدی کے لئے مقرر کی گئی ہوں۔ الخ اس وقت ان بد لوگوں کا کیا ہی برا حال ہوگا جب کہ انبیا تک اللہ کے سا منے گڑگڑا رہے ہوں گے۔ وراء یہاں پر معنی " امام " سامنے کے ہیں جیسے آیت (وکان ورائھم ملک) میں ہے ابن عباس کی قرأت ہی وکان امامھم ملک ہے غرض سامنے سے جہنم اس کی تاک میں ہوگی جس میں جا کر پھر نکلنا ناممکن ہوگا قیامت کے دن تک تو صبح شام وہ پیش ہوتی رہی اب وہی ٹھکانا بن گئی پھر و ہاں اس کے لئے پانی کے بدلے آگ جیسا پیپ ہے اور حد سے زیادہ ٹھنڈا اور بدبو دار وہ پانی ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے رستا ہے۔ جیسے فرما آیت (ھٰذَا ۙ فَلْيَذُوْقُوْهُ حَمِيْمٌ وَّغَسَّاقٌ 57ۙ) 38۔ ص :57) پس ایک گرمی میں حد سے گزرا ہوا ایک سردی میں حد سے گزرا ہوا۔ صدید کہتے ہیں پیپ اور خون کو جو دوزخیوں کے گوشت سے اور ان کی کھالوں سے بہا ہوا ہوگا۔ اسی کو طینۃ الخبال بھی کہا جاتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ جب اس کے پاس لایا جائے گا تو اسے سخت تکلیف ہوگی منہ کے پاس پہنچتے ہی سارے چہرے کی کھال جھلس کر اس میں گرپڑے گی۔ ایک گھونٹ لیتے ہی پیٹ کی آنتیں پاخانے کے راستے باہر نکل پڑیں گی۔ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ کھولتا ہوا گرم پانی پلائے جائیں گے جو چہرہ جھلسا دے الخ۔ جبرا گھونٹ گھونٹ کر کے اتارے گا، فرشتے لو ہے کے گرز مار مار کر پلائیں گے، بدمزگی، بدبو، حرارت، گرمی کی تیزی یا سردی کی تیزی کی وجہ سے گلے سے اترنا محال ہوگا۔ بدن میں، اعضا میں، جوڑ جوڑ میں وہ درد اور تکلیف ہوگی کہ موت کا مزہ آئے لیکن موت آنے کی نہیں۔ رگ رگ پر عذاب ہے لیکن جان نہیں نکلتی۔ ایک ایک رواں ناقابل برداشت مصیبت میں جکڑا ہوا ہے لیکن روح بدن سے جدا نہیں ہوسکتی۔ آگے پیچھے دائیں بائیں سے موت آرہی ہے لیکن آتی نہیں۔ طرح طرح کے عذاب دوزخ کی آگ گھیرے ہوئے ہے مگر موت بلائے سے بھی نہیں آتی۔ نہ موت آئے نہ عذاب جائے۔ ہر سزا ایسی ہے کہ موت کے لئے کافی سے زیادہ ہے لیکن وہاں تو موت کو موت آگئی ہے تاکہ سزا دوام والی ہوتی رہے۔ ان تمام باتوں کے ساتھ پھر سخت تر مصیبت ناک الم افزا عذاب اور ہیں۔ جیسے زقوم کے درخت کے بارے میں فرمایا کہ وہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے شگوفے شیطانوں کے سروں جیسے ہیں وہ اسے کھائیں گے اور پیٹ بھر کے کھائیں گے پھر کھولتا ہوا تیز گرم پانی پیٹ میں جا کر اس سے ملے گا پھر ان کا لوٹنا جہنم کی جانب ہے۔ الغرض کبھی زقوم کھانے کا کبھی آگ میں جلنے کا کبھی صدید پینے کا عذاب انہیں ہوتا رہے گا۔ اللہ کی پناہ۔ فرمان رب عالیشان ہے آیت (هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَ 43ۘ) 55۔ الرحمن :43) یہی وہ جہنم ہے جسے کافر جھٹلاتے رہے۔ آج جہنم کے اور ابلتے ہوئے تیز گرم پانی کے درمیان وہ چکر کھاتے پھریں گے۔ اور آیت میں ہے کہ زقوم کا درخت گنہگاروں کی غذا ہے جو پگھلتے ہوئے تانبے جیسا ہوگا، پیٹ میں جا کر ابلے گا اور ایسے جوش مارے گا جیسے گرم پانی کھول رہا ہو۔ اسے پکڑو اور اسے بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر گرم پانی کے تریڑے کا عذاب بہاؤ مزہ چکھ تو اپنے خیال میں بڑا عزیز تھا اور اکرام والا تھا یہی جس سے تم ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ سورة واقعہ میں فرمایا کہ وہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دئے جائیں گے یہ بائیں ہاتھ والے کیسے بد لوگ ہیں گرم ہوا اور گرم پانی میں پڑے ہوئے ہوں گے اور دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا نہ باعزت دوسری آیت میں ہے سرکشوں کے لئے جہنم کا برا ٹھکانا ہے جس میں داخل ہوں گے اور وہ رہائش کی بدترین جگہ ہے اس مصیبت کے ساتھ تیز گرم پانی اور پیپ لہو اور اسی کے ہم شکل اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوں گے جو دوزخیوں کو بھگتنے پڑیں گے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہوگا نہ کہ اللہ کا ظلم۔
وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ ٱلْأَرْضَ مِنۢ بَعْدِهِمْ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِى وَخَافَ وَعِيدِ
Wa lanuskinan nakumul arda mim ba'dihim; zaalika liman khaafa maqaamee wa khaafa wa'eed
And We will surely cause you to dwell in the land after them. That is for he who fears My position and fears My threat."
اور ان کے بعد تم کو اس زمین میں آباد کریں گے۔ یہ اس شخص کے لیے ہے جو (قیامت کے روز) میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے اور میرے عذاب سے خوف کرے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
آل لوط کافر جب تنگ ہوئے، کوئی حجت باقی نہ رہی تو نبیوں کو دھمکانے لگے اور دیس نکالنے سے ڈرانے لگے۔ قوم شعیب نے بھی اپنے نبی اور مومنوں سے یہی کہا تھا کہ ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ لوطیوں نے بھی یہی کہا تھا کہ آل لوط کو اپنے شہر سے نکال دو۔ وہ اگرچہ مکر کرتے تھے لیکن اللہ بھی ان کے داؤ میں تھا۔ اپنے نبی کو سلامتی کے ساتھ مکہ سے لے گیا مدینے والوں کو آپ کا انصار و مددگار بنادیا وہ آپ کے لشکر میں شامل ہو کر آپ کے جھنڈے تلے کافروں سے لڑے اور بتدریج اللہ تعالیٰ نے آپ کو ترقیاں دیں یہاں تک کہ بالاخر آپ نے مکہ بھی فتح کرلیا اب تو دشمنان دین کے منصوبے خاک میں مل گئے ان کی امیدوں پر اوس پڑگئی ان کی آرزویں پامال ہوگئیں۔ اللہ کا دین لوگوں کے دلوں میں مضبوط ہوگیا، جماعتوں کی جماعتیں دین میں داخل ہونے لگیں، تمام روئے زمین کے ادیان پر دین اسلام چھا گیا، کلمہ حق بلند وبالا ہوگیا اور تھوڑے سے زمانے میں مشرق سے مغرب تک اشاعت اسلام ہوگئی فالحمد للہ۔ یہاں فرمان ہے کہ ادھر کفار نے نبیوں کو دھمکایا ادھر اللہ نے ان سے سچا وعدہ فرمایا کہ یہی ہلاک ہوں گے اور زمین کے مالک تم بنو گے۔ جسے فرمان ہے کہ ہمارا کلمہ ہمارے رسولوں کے بارے میں سبقت کرچکا ہے کہ وہی کامیاب ہوں گے اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا اور آیت میں ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ہی غالب آئیں گے، اللہ قوت والا اور عزت والا ہے۔ اور آیت میں ارشاد ہے کہ ذکر کے بعد زبور میں بھی یہی تحریر ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا کہ تم اللہ سے مدد طلب کرو، صبر و برداشت کرو، زمین اللہ ہی کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے وارث بنائے انجام کار پرہیزگاروں کا ہی ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے۔ آیت (وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا01307) 7۔ الاعراف :137) ضعیف اور کمزور لوگوں کو ہم نے زمین کی مشرق و مغرب کا وارث بنادیا جہاں ہماری برکتیں تھیں بنی اسرائیل کے صبر کی وجہ سے ہمارا ان سے جو بہترین وعدہ تھا وہ پورا ہوگیا ان کے دشمن فرعون اور فرعونی اور ان کی تمام تیاریاں سب یکمشت خاک میں مل گئیں۔ نبیوں سے فرما دیا گیا کہ یہ زمین تمہارے قبضے میں آئے گی یہ وعدے ان کے لئے ہیں جو قیامت کے دن میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہیں اور میرے ڈراوے اور عذاب سے خوف کھاتے رہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (فَاَمَّا مَنْ طَغٰى 37ۙ) 79۔ النازعات :37) ، یعنی جس نے سرکشی اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور آیت میں ہے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف جس نے کیا اسے دوہری جنتیں ہیں۔ رسولوں نے اپنے رب سے مدد و فتح اور فیصلہ طلب کیا یا یہ کہ ان کی قوم نے اسے طلب کیا جیسے قریش مکہ نے کہا تھا کہ الہٰی اگر یہ حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب ہمیں کر۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ادھر سے کفار کا مطالبہ ہوا ادھر سے رسولوں نے بھی اللہ سے دعا کی جیسے بدر والے دن ہوا تھا کہ ایک طرف رسول اللہ ﷺ دعا مانگ رہے تھے دوسری جانب سرداران کفر بھی کہہ رہے تھے کہ الہٰی آج سچے کو غا لب کر یہی ہوا بھی۔ مشرکین سے کلام اللہ میں اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ تم فتح طلب کیا کرتے تھے لو اب وہ آگئی اب بھی اگر باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے الخ نقصان یافتہ وہ ہیں جو متکبر ہوں اپنے تئیں کچھ گنتے ہوں حق سے عناد رکھتے ہوں قیامت کے روز فرمان ہوگا کہ ہر ایک کافر سرکش اور بھلائی سے روکنے والے کو جہنم میں داخل کرو جو اللہ کے ساتھ دوسروں کی پوجا کرتا تھا اسے سخت عذاب میں لے جاؤ۔ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن جہنم کو لایا جائے گا وہ تمام مخلوق کو ندا کر کے کہے گی کہ میں ہر ایک سرکش ضدی کے لئے مقرر کی گئی ہوں۔ الخ اس وقت ان بد لوگوں کا کیا ہی برا حال ہوگا جب کہ انبیا تک اللہ کے سا منے گڑگڑا رہے ہوں گے۔ وراء یہاں پر معنی " امام " سامنے کے ہیں جیسے آیت (وکان ورائھم ملک) میں ہے ابن عباس کی قرأت ہی وکان امامھم ملک ہے غرض سامنے سے جہنم اس کی تاک میں ہوگی جس میں جا کر پھر نکلنا ناممکن ہوگا قیامت کے دن تک تو صبح شام وہ پیش ہوتی رہی اب وہی ٹھکانا بن گئی پھر و ہاں اس کے لئے پانی کے بدلے آگ جیسا پیپ ہے اور حد سے زیادہ ٹھنڈا اور بدبو دار وہ پانی ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے رستا ہے۔ جیسے فرما آیت (ھٰذَا ۙ فَلْيَذُوْقُوْهُ حَمِيْمٌ وَّغَسَّاقٌ 57ۙ) 38۔ ص :57) پس ایک گرمی میں حد سے گزرا ہوا ایک سردی میں حد سے گزرا ہوا۔ صدید کہتے ہیں پیپ اور خون کو جو دوزخیوں کے گوشت سے اور ان کی کھالوں سے بہا ہوا ہوگا۔ اسی کو طینۃ الخبال بھی کہا جاتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ جب اس کے پاس لایا جائے گا تو اسے سخت تکلیف ہوگی منہ کے پاس پہنچتے ہی سارے چہرے کی کھال جھلس کر اس میں گرپڑے گی۔ ایک گھونٹ لیتے ہی پیٹ کی آنتیں پاخانے کے راستے باہر نکل پڑیں گی۔ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ کھولتا ہوا گرم پانی پلائے جائیں گے جو چہرہ جھلسا دے الخ۔ جبرا گھونٹ گھونٹ کر کے اتارے گا، فرشتے لو ہے کے گرز مار مار کر پلائیں گے، بدمزگی، بدبو، حرارت، گرمی کی تیزی یا سردی کی تیزی کی وجہ سے گلے سے اترنا محال ہوگا۔ بدن میں، اعضا میں، جوڑ جوڑ میں وہ درد اور تکلیف ہوگی کہ موت کا مزہ آئے لیکن موت آنے کی نہیں۔ رگ رگ پر عذاب ہے لیکن جان نہیں نکلتی۔ ایک ایک رواں ناقابل برداشت مصیبت میں جکڑا ہوا ہے لیکن روح بدن سے جدا نہیں ہوسکتی۔ آگے پیچھے دائیں بائیں سے موت آرہی ہے لیکن آتی نہیں۔ طرح طرح کے عذاب دوزخ کی آگ گھیرے ہوئے ہے مگر موت بلائے سے بھی نہیں آتی۔ نہ موت آئے نہ عذاب جائے۔ ہر سزا ایسی ہے کہ موت کے لئے کافی سے زیادہ ہے لیکن وہاں تو موت کو موت آگئی ہے تاکہ سزا دوام والی ہوتی رہے۔ ان تمام باتوں کے ساتھ پھر سخت تر مصیبت ناک الم افزا عذاب اور ہیں۔ جیسے زقوم کے درخت کے بارے میں فرمایا کہ وہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے شگوفے شیطانوں کے سروں جیسے ہیں وہ اسے کھائیں گے اور پیٹ بھر کے کھائیں گے پھر کھولتا ہوا تیز گرم پانی پیٹ میں جا کر اس سے ملے گا پھر ان کا لوٹنا جہنم کی جانب ہے۔ الغرض کبھی زقوم کھانے کا کبھی آگ میں جلنے کا کبھی صدید پینے کا عذاب انہیں ہوتا رہے گا۔ اللہ کی پناہ۔ فرمان رب عالیشان ہے آیت (هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَ 43ۘ) 55۔ الرحمن :43) یہی وہ جہنم ہے جسے کافر جھٹلاتے رہے۔ آج جہنم کے اور ابلتے ہوئے تیز گرم پانی کے درمیان وہ چکر کھاتے پھریں گے۔ اور آیت میں ہے کہ زقوم کا درخت گنہگاروں کی غذا ہے جو پگھلتے ہوئے تانبے جیسا ہوگا، پیٹ میں جا کر ابلے گا اور ایسے جوش مارے گا جیسے گرم پانی کھول رہا ہو۔ اسے پکڑو اور اسے بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر گرم پانی کے تریڑے کا عذاب بہاؤ مزہ چکھ تو اپنے خیال میں بڑا عزیز تھا اور اکرام والا تھا یہی جس سے تم ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ سورة واقعہ میں فرمایا کہ وہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دئے جائیں گے یہ بائیں ہاتھ والے کیسے بد لوگ ہیں گرم ہوا اور گرم پانی میں پڑے ہوئے ہوں گے اور دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا نہ باعزت دوسری آیت میں ہے سرکشوں کے لئے جہنم کا برا ٹھکانا ہے جس میں داخل ہوں گے اور وہ رہائش کی بدترین جگہ ہے اس مصیبت کے ساتھ تیز گرم پانی اور پیپ لہو اور اسی کے ہم شکل اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوں گے جو دوزخیوں کو بھگتنے پڑیں گے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہوگا نہ کہ اللہ کا ظلم۔
وَٱسْتَفْتَحُوا۟ وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ
Wastaftahoo wa khaaba kullu jabbaarin 'aneed
And they requested victory from Allah, and disappointed, [therefore], was every obstinate tyrant.
اور پیغمبروں نے (خدا سے اپنی) فتح چاہی تو ہر سرکش ضدی نامراد رہ گیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
آل لوط کافر جب تنگ ہوئے، کوئی حجت باقی نہ رہی تو نبیوں کو دھمکانے لگے اور دیس نکالنے سے ڈرانے لگے۔ قوم شعیب نے بھی اپنے نبی اور مومنوں سے یہی کہا تھا کہ ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ لوطیوں نے بھی یہی کہا تھا کہ آل لوط کو اپنے شہر سے نکال دو۔ وہ اگرچہ مکر کرتے تھے لیکن اللہ بھی ان کے داؤ میں تھا۔ اپنے نبی کو سلامتی کے ساتھ مکہ سے لے گیا مدینے والوں کو آپ کا انصار و مددگار بنادیا وہ آپ کے لشکر میں شامل ہو کر آپ کے جھنڈے تلے کافروں سے لڑے اور بتدریج اللہ تعالیٰ نے آپ کو ترقیاں دیں یہاں تک کہ بالاخر آپ نے مکہ بھی فتح کرلیا اب تو دشمنان دین کے منصوبے خاک میں مل گئے ان کی امیدوں پر اوس پڑگئی ان کی آرزویں پامال ہوگئیں۔ اللہ کا دین لوگوں کے دلوں میں مضبوط ہوگیا، جماعتوں کی جماعتیں دین میں داخل ہونے لگیں، تمام روئے زمین کے ادیان پر دین اسلام چھا گیا، کلمہ حق بلند وبالا ہوگیا اور تھوڑے سے زمانے میں مشرق سے مغرب تک اشاعت اسلام ہوگئی فالحمد للہ۔ یہاں فرمان ہے کہ ادھر کفار نے نبیوں کو دھمکایا ادھر اللہ نے ان سے سچا وعدہ فرمایا کہ یہی ہلاک ہوں گے اور زمین کے مالک تم بنو گے۔ جسے فرمان ہے کہ ہمارا کلمہ ہمارے رسولوں کے بارے میں سبقت کرچکا ہے کہ وہی کامیاب ہوں گے اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا اور آیت میں ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ہی غالب آئیں گے، اللہ قوت والا اور عزت والا ہے۔ اور آیت میں ارشاد ہے کہ ذکر کے بعد زبور میں بھی یہی تحریر ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا کہ تم اللہ سے مدد طلب کرو، صبر و برداشت کرو، زمین اللہ ہی کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے وارث بنائے انجام کار پرہیزگاروں کا ہی ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے۔ آیت (وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا01307) 7۔ الاعراف :137) ضعیف اور کمزور لوگوں کو ہم نے زمین کی مشرق و مغرب کا وارث بنادیا جہاں ہماری برکتیں تھیں بنی اسرائیل کے صبر کی وجہ سے ہمارا ان سے جو بہترین وعدہ تھا وہ پورا ہوگیا ان کے دشمن فرعون اور فرعونی اور ان کی تمام تیاریاں سب یکمشت خاک میں مل گئیں۔ نبیوں سے فرما دیا گیا کہ یہ زمین تمہارے قبضے میں آئے گی یہ وعدے ان کے لئے ہیں جو قیامت کے دن میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہیں اور میرے ڈراوے اور عذاب سے خوف کھاتے رہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (فَاَمَّا مَنْ طَغٰى 37ۙ) 79۔ النازعات :37) ، یعنی جس نے سرکشی اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور آیت میں ہے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف جس نے کیا اسے دوہری جنتیں ہیں۔ رسولوں نے اپنے رب سے مدد و فتح اور فیصلہ طلب کیا یا یہ کہ ان کی قوم نے اسے طلب کیا جیسے قریش مکہ نے کہا تھا کہ الہٰی اگر یہ حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب ہمیں کر۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ادھر سے کفار کا مطالبہ ہوا ادھر سے رسولوں نے بھی اللہ سے دعا کی جیسے بدر والے دن ہوا تھا کہ ایک طرف رسول اللہ ﷺ دعا مانگ رہے تھے دوسری جانب سرداران کفر بھی کہہ رہے تھے کہ الہٰی آج سچے کو غا لب کر یہی ہوا بھی۔ مشرکین سے کلام اللہ میں اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ تم فتح طلب کیا کرتے تھے لو اب وہ آگئی اب بھی اگر باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے الخ نقصان یافتہ وہ ہیں جو متکبر ہوں اپنے تئیں کچھ گنتے ہوں حق سے عناد رکھتے ہوں قیامت کے روز فرمان ہوگا کہ ہر ایک کافر سرکش اور بھلائی سے روکنے والے کو جہنم میں داخل کرو جو اللہ کے ساتھ دوسروں کی پوجا کرتا تھا اسے سخت عذاب میں لے جاؤ۔ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن جہنم کو لایا جائے گا وہ تمام مخلوق کو ندا کر کے کہے گی کہ میں ہر ایک سرکش ضدی کے لئے مقرر کی گئی ہوں۔ الخ اس وقت ان بد لوگوں کا کیا ہی برا حال ہوگا جب کہ انبیا تک اللہ کے سا منے گڑگڑا رہے ہوں گے۔ وراء یہاں پر معنی " امام " سامنے کے ہیں جیسے آیت (وکان ورائھم ملک) میں ہے ابن عباس کی قرأت ہی وکان امامھم ملک ہے غرض سامنے سے جہنم اس کی تاک میں ہوگی جس میں جا کر پھر نکلنا ناممکن ہوگا قیامت کے دن تک تو صبح شام وہ پیش ہوتی رہی اب وہی ٹھکانا بن گئی پھر و ہاں اس کے لئے پانی کے بدلے آگ جیسا پیپ ہے اور حد سے زیادہ ٹھنڈا اور بدبو دار وہ پانی ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے رستا ہے۔ جیسے فرما آیت (ھٰذَا ۙ فَلْيَذُوْقُوْهُ حَمِيْمٌ وَّغَسَّاقٌ 57ۙ) 38۔ ص :57) پس ایک گرمی میں حد سے گزرا ہوا ایک سردی میں حد سے گزرا ہوا۔ صدید کہتے ہیں پیپ اور خون کو جو دوزخیوں کے گوشت سے اور ان کی کھالوں سے بہا ہوا ہوگا۔ اسی کو طینۃ الخبال بھی کہا جاتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ جب اس کے پاس لایا جائے گا تو اسے سخت تکلیف ہوگی منہ کے پاس پہنچتے ہی سارے چہرے کی کھال جھلس کر اس میں گرپڑے گی۔ ایک گھونٹ لیتے ہی پیٹ کی آنتیں پاخانے کے راستے باہر نکل پڑیں گی۔ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ کھولتا ہوا گرم پانی پلائے جائیں گے جو چہرہ جھلسا دے الخ۔ جبرا گھونٹ گھونٹ کر کے اتارے گا، فرشتے لو ہے کے گرز مار مار کر پلائیں گے، بدمزگی، بدبو، حرارت، گرمی کی تیزی یا سردی کی تیزی کی وجہ سے گلے سے اترنا محال ہوگا۔ بدن میں، اعضا میں، جوڑ جوڑ میں وہ درد اور تکلیف ہوگی کہ موت کا مزہ آئے لیکن موت آنے کی نہیں۔ رگ رگ پر عذاب ہے لیکن جان نہیں نکلتی۔ ایک ایک رواں ناقابل برداشت مصیبت میں جکڑا ہوا ہے لیکن روح بدن سے جدا نہیں ہوسکتی۔ آگے پیچھے دائیں بائیں سے موت آرہی ہے لیکن آتی نہیں۔ طرح طرح کے عذاب دوزخ کی آگ گھیرے ہوئے ہے مگر موت بلائے سے بھی نہیں آتی۔ نہ موت آئے نہ عذاب جائے۔ ہر سزا ایسی ہے کہ موت کے لئے کافی سے زیادہ ہے لیکن وہاں تو موت کو موت آگئی ہے تاکہ سزا دوام والی ہوتی رہے۔ ان تمام باتوں کے ساتھ پھر سخت تر مصیبت ناک الم افزا عذاب اور ہیں۔ جیسے زقوم کے درخت کے بارے میں فرمایا کہ وہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے شگوفے شیطانوں کے سروں جیسے ہیں وہ اسے کھائیں گے اور پیٹ بھر کے کھائیں گے پھر کھولتا ہوا تیز گرم پانی پیٹ میں جا کر اس سے ملے گا پھر ان کا لوٹنا جہنم کی جانب ہے۔ الغرض کبھی زقوم کھانے کا کبھی آگ میں جلنے کا کبھی صدید پینے کا عذاب انہیں ہوتا رہے گا۔ اللہ کی پناہ۔ فرمان رب عالیشان ہے آیت (هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَ 43ۘ) 55۔ الرحمن :43) یہی وہ جہنم ہے جسے کافر جھٹلاتے رہے۔ آج جہنم کے اور ابلتے ہوئے تیز گرم پانی کے درمیان وہ چکر کھاتے پھریں گے۔ اور آیت میں ہے کہ زقوم کا درخت گنہگاروں کی غذا ہے جو پگھلتے ہوئے تانبے جیسا ہوگا، پیٹ میں جا کر ابلے گا اور ایسے جوش مارے گا جیسے گرم پانی کھول رہا ہو۔ اسے پکڑو اور اسے بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر گرم پانی کے تریڑے کا عذاب بہاؤ مزہ چکھ تو اپنے خیال میں بڑا عزیز تھا اور اکرام والا تھا یہی جس سے تم ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ سورة واقعہ میں فرمایا کہ وہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دئے جائیں گے یہ بائیں ہاتھ والے کیسے بد لوگ ہیں گرم ہوا اور گرم پانی میں پڑے ہوئے ہوں گے اور دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا نہ باعزت دوسری آیت میں ہے سرکشوں کے لئے جہنم کا برا ٹھکانا ہے جس میں داخل ہوں گے اور وہ رہائش کی بدترین جگہ ہے اس مصیبت کے ساتھ تیز گرم پانی اور پیپ لہو اور اسی کے ہم شکل اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوں گے جو دوزخیوں کو بھگتنے پڑیں گے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہوگا نہ کہ اللہ کا ظلم۔
مِّن وَرَآئِهِۦ جَهَنَّمُ وَيُسْقَىٰ مِن مَّآءٍ صَدِيدٍ
Minw waraaa'ihee jahannamu wa yusqaa mim maaa'in sadeed
Before him is Hell, and he will be given a drink of purulent water.
اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
آل لوط کافر جب تنگ ہوئے، کوئی حجت باقی نہ رہی تو نبیوں کو دھمکانے لگے اور دیس نکالنے سے ڈرانے لگے۔ قوم شعیب نے بھی اپنے نبی اور مومنوں سے یہی کہا تھا کہ ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ لوطیوں نے بھی یہی کہا تھا کہ آل لوط کو اپنے شہر سے نکال دو۔ وہ اگرچہ مکر کرتے تھے لیکن اللہ بھی ان کے داؤ میں تھا۔ اپنے نبی کو سلامتی کے ساتھ مکہ سے لے گیا مدینے والوں کو آپ کا انصار و مددگار بنادیا وہ آپ کے لشکر میں شامل ہو کر آپ کے جھنڈے تلے کافروں سے لڑے اور بتدریج اللہ تعالیٰ نے آپ کو ترقیاں دیں یہاں تک کہ بالاخر آپ نے مکہ بھی فتح کرلیا اب تو دشمنان دین کے منصوبے خاک میں مل گئے ان کی امیدوں پر اوس پڑگئی ان کی آرزویں پامال ہوگئیں۔ اللہ کا دین لوگوں کے دلوں میں مضبوط ہوگیا، جماعتوں کی جماعتیں دین میں داخل ہونے لگیں، تمام روئے زمین کے ادیان پر دین اسلام چھا گیا، کلمہ حق بلند وبالا ہوگیا اور تھوڑے سے زمانے میں مشرق سے مغرب تک اشاعت اسلام ہوگئی فالحمد للہ۔ یہاں فرمان ہے کہ ادھر کفار نے نبیوں کو دھمکایا ادھر اللہ نے ان سے سچا وعدہ فرمایا کہ یہی ہلاک ہوں گے اور زمین کے مالک تم بنو گے۔ جسے فرمان ہے کہ ہمارا کلمہ ہمارے رسولوں کے بارے میں سبقت کرچکا ہے کہ وہی کامیاب ہوں گے اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا اور آیت میں ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ہی غالب آئیں گے، اللہ قوت والا اور عزت والا ہے۔ اور آیت میں ارشاد ہے کہ ذکر کے بعد زبور میں بھی یہی تحریر ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا کہ تم اللہ سے مدد طلب کرو، صبر و برداشت کرو، زمین اللہ ہی کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے وارث بنائے انجام کار پرہیزگاروں کا ہی ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے۔ آیت (وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا01307) 7۔ الاعراف :137) ضعیف اور کمزور لوگوں کو ہم نے زمین کی مشرق و مغرب کا وارث بنادیا جہاں ہماری برکتیں تھیں بنی اسرائیل کے صبر کی وجہ سے ہمارا ان سے جو بہترین وعدہ تھا وہ پورا ہوگیا ان کے دشمن فرعون اور فرعونی اور ان کی تمام تیاریاں سب یکمشت خاک میں مل گئیں۔ نبیوں سے فرما دیا گیا کہ یہ زمین تمہارے قبضے میں آئے گی یہ وعدے ان کے لئے ہیں جو قیامت کے دن میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہیں اور میرے ڈراوے اور عذاب سے خوف کھاتے رہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (فَاَمَّا مَنْ طَغٰى 37ۙ) 79۔ النازعات :37) ، یعنی جس نے سرکشی اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور آیت میں ہے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف جس نے کیا اسے دوہری جنتیں ہیں۔ رسولوں نے اپنے رب سے مدد و فتح اور فیصلہ طلب کیا یا یہ کہ ان کی قوم نے اسے طلب کیا جیسے قریش مکہ نے کہا تھا کہ الہٰی اگر یہ حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب ہمیں کر۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ادھر سے کفار کا مطالبہ ہوا ادھر سے رسولوں نے بھی اللہ سے دعا کی جیسے بدر والے دن ہوا تھا کہ ایک طرف رسول اللہ ﷺ دعا مانگ رہے تھے دوسری جانب سرداران کفر بھی کہہ رہے تھے کہ الہٰی آج سچے کو غا لب کر یہی ہوا بھی۔ مشرکین سے کلام اللہ میں اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ تم فتح طلب کیا کرتے تھے لو اب وہ آگئی اب بھی اگر باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے الخ نقصان یافتہ وہ ہیں جو متکبر ہوں اپنے تئیں کچھ گنتے ہوں حق سے عناد رکھتے ہوں قیامت کے روز فرمان ہوگا کہ ہر ایک کافر سرکش اور بھلائی سے روکنے والے کو جہنم میں داخل کرو جو اللہ کے ساتھ دوسروں کی پوجا کرتا تھا اسے سخت عذاب میں لے جاؤ۔ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن جہنم کو لایا جائے گا وہ تمام مخلوق کو ندا کر کے کہے گی کہ میں ہر ایک سرکش ضدی کے لئے مقرر کی گئی ہوں۔ الخ اس وقت ان بد لوگوں کا کیا ہی برا حال ہوگا جب کہ انبیا تک اللہ کے سا منے گڑگڑا رہے ہوں گے۔ وراء یہاں پر معنی " امام " سامنے کے ہیں جیسے آیت (وکان ورائھم ملک) میں ہے ابن عباس کی قرأت ہی وکان امامھم ملک ہے غرض سامنے سے جہنم اس کی تاک میں ہوگی جس میں جا کر پھر نکلنا ناممکن ہوگا قیامت کے دن تک تو صبح شام وہ پیش ہوتی رہی اب وہی ٹھکانا بن گئی پھر و ہاں اس کے لئے پانی کے بدلے آگ جیسا پیپ ہے اور حد سے زیادہ ٹھنڈا اور بدبو دار وہ پانی ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے رستا ہے۔ جیسے فرما آیت (ھٰذَا ۙ فَلْيَذُوْقُوْهُ حَمِيْمٌ وَّغَسَّاقٌ 57ۙ) 38۔ ص :57) پس ایک گرمی میں حد سے گزرا ہوا ایک سردی میں حد سے گزرا ہوا۔ صدید کہتے ہیں پیپ اور خون کو جو دوزخیوں کے گوشت سے اور ان کی کھالوں سے بہا ہوا ہوگا۔ اسی کو طینۃ الخبال بھی کہا جاتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ جب اس کے پاس لایا جائے گا تو اسے سخت تکلیف ہوگی منہ کے پاس پہنچتے ہی سارے چہرے کی کھال جھلس کر اس میں گرپڑے گی۔ ایک گھونٹ لیتے ہی پیٹ کی آنتیں پاخانے کے راستے باہر نکل پڑیں گی۔ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ کھولتا ہوا گرم پانی پلائے جائیں گے جو چہرہ جھلسا دے الخ۔ جبرا گھونٹ گھونٹ کر کے اتارے گا، فرشتے لو ہے کے گرز مار مار کر پلائیں گے، بدمزگی، بدبو، حرارت، گرمی کی تیزی یا سردی کی تیزی کی وجہ سے گلے سے اترنا محال ہوگا۔ بدن میں، اعضا میں، جوڑ جوڑ میں وہ درد اور تکلیف ہوگی کہ موت کا مزہ آئے لیکن موت آنے کی نہیں۔ رگ رگ پر عذاب ہے لیکن جان نہیں نکلتی۔ ایک ایک رواں ناقابل برداشت مصیبت میں جکڑا ہوا ہے لیکن روح بدن سے جدا نہیں ہوسکتی۔ آگے پیچھے دائیں بائیں سے موت آرہی ہے لیکن آتی نہیں۔ طرح طرح کے عذاب دوزخ کی آگ گھیرے ہوئے ہے مگر موت بلائے سے بھی نہیں آتی۔ نہ موت آئے نہ عذاب جائے۔ ہر سزا ایسی ہے کہ موت کے لئے کافی سے زیادہ ہے لیکن وہاں تو موت کو موت آگئی ہے تاکہ سزا دوام والی ہوتی رہے۔ ان تمام باتوں کے ساتھ پھر سخت تر مصیبت ناک الم افزا عذاب اور ہیں۔ جیسے زقوم کے درخت کے بارے میں فرمایا کہ وہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے شگوفے شیطانوں کے سروں جیسے ہیں وہ اسے کھائیں گے اور پیٹ بھر کے کھائیں گے پھر کھولتا ہوا تیز گرم پانی پیٹ میں جا کر اس سے ملے گا پھر ان کا لوٹنا جہنم کی جانب ہے۔ الغرض کبھی زقوم کھانے کا کبھی آگ میں جلنے کا کبھی صدید پینے کا عذاب انہیں ہوتا رہے گا۔ اللہ کی پناہ۔ فرمان رب عالیشان ہے آیت (هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَ 43ۘ) 55۔ الرحمن :43) یہی وہ جہنم ہے جسے کافر جھٹلاتے رہے۔ آج جہنم کے اور ابلتے ہوئے تیز گرم پانی کے درمیان وہ چکر کھاتے پھریں گے۔ اور آیت میں ہے کہ زقوم کا درخت گنہگاروں کی غذا ہے جو پگھلتے ہوئے تانبے جیسا ہوگا، پیٹ میں جا کر ابلے گا اور ایسے جوش مارے گا جیسے گرم پانی کھول رہا ہو۔ اسے پکڑو اور اسے بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر گرم پانی کے تریڑے کا عذاب بہاؤ مزہ چکھ تو اپنے خیال میں بڑا عزیز تھا اور اکرام والا تھا یہی جس سے تم ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ سورة واقعہ میں فرمایا کہ وہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دئے جائیں گے یہ بائیں ہاتھ والے کیسے بد لوگ ہیں گرم ہوا اور گرم پانی میں پڑے ہوئے ہوں گے اور دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا نہ باعزت دوسری آیت میں ہے سرکشوں کے لئے جہنم کا برا ٹھکانا ہے جس میں داخل ہوں گے اور وہ رہائش کی بدترین جگہ ہے اس مصیبت کے ساتھ تیز گرم پانی اور پیپ لہو اور اسی کے ہم شکل اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوں گے جو دوزخیوں کو بھگتنے پڑیں گے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہوگا نہ کہ اللہ کا ظلم۔
يَتَجَرَّعُهُۥ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُۥ وَيَأْتِيهِ ٱلْمَوْتُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٍ وَمِن وَرَآئِهِۦ عَذَابٌ غَلِيظٌ
Yatajarra'uhoo wa laa yakaadu yuseeghuhoo wa yaateehil mawtu min kulli makaaninw wa maa huwa bimaiyitinw wa minw waraaa'ihee 'azaabun ghaleez
He will gulp it but will hardly [be able to] swallow it. And death will come to him from everywhere, but he is not to die. And before him is a massive punishment.
وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پیئے گا اور گلے سے نہیں اتار سکے گا اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا۔ اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
آل لوط کافر جب تنگ ہوئے، کوئی حجت باقی نہ رہی تو نبیوں کو دھمکانے لگے اور دیس نکالنے سے ڈرانے لگے۔ قوم شعیب نے بھی اپنے نبی اور مومنوں سے یہی کہا تھا کہ ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ لوطیوں نے بھی یہی کہا تھا کہ آل لوط کو اپنے شہر سے نکال دو۔ وہ اگرچہ مکر کرتے تھے لیکن اللہ بھی ان کے داؤ میں تھا۔ اپنے نبی کو سلامتی کے ساتھ مکہ سے لے گیا مدینے والوں کو آپ کا انصار و مددگار بنادیا وہ آپ کے لشکر میں شامل ہو کر آپ کے جھنڈے تلے کافروں سے لڑے اور بتدریج اللہ تعالیٰ نے آپ کو ترقیاں دیں یہاں تک کہ بالاخر آپ نے مکہ بھی فتح کرلیا اب تو دشمنان دین کے منصوبے خاک میں مل گئے ان کی امیدوں پر اوس پڑگئی ان کی آرزویں پامال ہوگئیں۔ اللہ کا دین لوگوں کے دلوں میں مضبوط ہوگیا، جماعتوں کی جماعتیں دین میں داخل ہونے لگیں، تمام روئے زمین کے ادیان پر دین اسلام چھا گیا، کلمہ حق بلند وبالا ہوگیا اور تھوڑے سے زمانے میں مشرق سے مغرب تک اشاعت اسلام ہوگئی فالحمد للہ۔ یہاں فرمان ہے کہ ادھر کفار نے نبیوں کو دھمکایا ادھر اللہ نے ان سے سچا وعدہ فرمایا کہ یہی ہلاک ہوں گے اور زمین کے مالک تم بنو گے۔ جسے فرمان ہے کہ ہمارا کلمہ ہمارے رسولوں کے بارے میں سبقت کرچکا ہے کہ وہی کامیاب ہوں گے اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا اور آیت میں ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ہی غالب آئیں گے، اللہ قوت والا اور عزت والا ہے۔ اور آیت میں ارشاد ہے کہ ذکر کے بعد زبور میں بھی یہی تحریر ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا کہ تم اللہ سے مدد طلب کرو، صبر و برداشت کرو، زمین اللہ ہی کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے وارث بنائے انجام کار پرہیزگاروں کا ہی ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے۔ آیت (وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا01307) 7۔ الاعراف :137) ضعیف اور کمزور لوگوں کو ہم نے زمین کی مشرق و مغرب کا وارث بنادیا جہاں ہماری برکتیں تھیں بنی اسرائیل کے صبر کی وجہ سے ہمارا ان سے جو بہترین وعدہ تھا وہ پورا ہوگیا ان کے دشمن فرعون اور فرعونی اور ان کی تمام تیاریاں سب یکمشت خاک میں مل گئیں۔ نبیوں سے فرما دیا گیا کہ یہ زمین تمہارے قبضے میں آئے گی یہ وعدے ان کے لئے ہیں جو قیامت کے دن میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہیں اور میرے ڈراوے اور عذاب سے خوف کھاتے رہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (فَاَمَّا مَنْ طَغٰى 37ۙ) 79۔ النازعات :37) ، یعنی جس نے سرکشی اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور آیت میں ہے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف جس نے کیا اسے دوہری جنتیں ہیں۔ رسولوں نے اپنے رب سے مدد و فتح اور فیصلہ طلب کیا یا یہ کہ ان کی قوم نے اسے طلب کیا جیسے قریش مکہ نے کہا تھا کہ الہٰی اگر یہ حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب ہمیں کر۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ادھر سے کفار کا مطالبہ ہوا ادھر سے رسولوں نے بھی اللہ سے دعا کی جیسے بدر والے دن ہوا تھا کہ ایک طرف رسول اللہ ﷺ دعا مانگ رہے تھے دوسری جانب سرداران کفر بھی کہہ رہے تھے کہ الہٰی آج سچے کو غا لب کر یہی ہوا بھی۔ مشرکین سے کلام اللہ میں اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ تم فتح طلب کیا کرتے تھے لو اب وہ آگئی اب بھی اگر باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے الخ نقصان یافتہ وہ ہیں جو متکبر ہوں اپنے تئیں کچھ گنتے ہوں حق سے عناد رکھتے ہوں قیامت کے روز فرمان ہوگا کہ ہر ایک کافر سرکش اور بھلائی سے روکنے والے کو جہنم میں داخل کرو جو اللہ کے ساتھ دوسروں کی پوجا کرتا تھا اسے سخت عذاب میں لے جاؤ۔ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن جہنم کو لایا جائے گا وہ تمام مخلوق کو ندا کر کے کہے گی کہ میں ہر ایک سرکش ضدی کے لئے مقرر کی گئی ہوں۔ الخ اس وقت ان بد لوگوں کا کیا ہی برا حال ہوگا جب کہ انبیا تک اللہ کے سا منے گڑگڑا رہے ہوں گے۔ وراء یہاں پر معنی " امام " سامنے کے ہیں جیسے آیت (وکان ورائھم ملک) میں ہے ابن عباس کی قرأت ہی وکان امامھم ملک ہے غرض سامنے سے جہنم اس کی تاک میں ہوگی جس میں جا کر پھر نکلنا ناممکن ہوگا قیامت کے دن تک تو صبح شام وہ پیش ہوتی رہی اب وہی ٹھکانا بن گئی پھر و ہاں اس کے لئے پانی کے بدلے آگ جیسا پیپ ہے اور حد سے زیادہ ٹھنڈا اور بدبو دار وہ پانی ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے رستا ہے۔ جیسے فرما آیت (ھٰذَا ۙ فَلْيَذُوْقُوْهُ حَمِيْمٌ وَّغَسَّاقٌ 57ۙ) 38۔ ص :57) پس ایک گرمی میں حد سے گزرا ہوا ایک سردی میں حد سے گزرا ہوا۔ صدید کہتے ہیں پیپ اور خون کو جو دوزخیوں کے گوشت سے اور ان کی کھالوں سے بہا ہوا ہوگا۔ اسی کو طینۃ الخبال بھی کہا جاتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ جب اس کے پاس لایا جائے گا تو اسے سخت تکلیف ہوگی منہ کے پاس پہنچتے ہی سارے چہرے کی کھال جھلس کر اس میں گرپڑے گی۔ ایک گھونٹ لیتے ہی پیٹ کی آنتیں پاخانے کے راستے باہر نکل پڑیں گی۔ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ کھولتا ہوا گرم پانی پلائے جائیں گے جو چہرہ جھلسا دے الخ۔ جبرا گھونٹ گھونٹ کر کے اتارے گا، فرشتے لو ہے کے گرز مار مار کر پلائیں گے، بدمزگی، بدبو، حرارت، گرمی کی تیزی یا سردی کی تیزی کی وجہ سے گلے سے اترنا محال ہوگا۔ بدن میں، اعضا میں، جوڑ جوڑ میں وہ درد اور تکلیف ہوگی کہ موت کا مزہ آئے لیکن موت آنے کی نہیں۔ رگ رگ پر عذاب ہے لیکن جان نہیں نکلتی۔ ایک ایک رواں ناقابل برداشت مصیبت میں جکڑا ہوا ہے لیکن روح بدن سے جدا نہیں ہوسکتی۔ آگے پیچھے دائیں بائیں سے موت آرہی ہے لیکن آتی نہیں۔ طرح طرح کے عذاب دوزخ کی آگ گھیرے ہوئے ہے مگر موت بلائے سے بھی نہیں آتی۔ نہ موت آئے نہ عذاب جائے۔ ہر سزا ایسی ہے کہ موت کے لئے کافی سے زیادہ ہے لیکن وہاں تو موت کو موت آگئی ہے تاکہ سزا دوام والی ہوتی رہے۔ ان تمام باتوں کے ساتھ پھر سخت تر مصیبت ناک الم افزا عذاب اور ہیں۔ جیسے زقوم کے درخت کے بارے میں فرمایا کہ وہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے شگوفے شیطانوں کے سروں جیسے ہیں وہ اسے کھائیں گے اور پیٹ بھر کے کھائیں گے پھر کھولتا ہوا تیز گرم پانی پیٹ میں جا کر اس سے ملے گا پھر ان کا لوٹنا جہنم کی جانب ہے۔ الغرض کبھی زقوم کھانے کا کبھی آگ میں جلنے کا کبھی صدید پینے کا عذاب انہیں ہوتا رہے گا۔ اللہ کی پناہ۔ فرمان رب عالیشان ہے آیت (هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَ 43ۘ) 55۔ الرحمن :43) یہی وہ جہنم ہے جسے کافر جھٹلاتے رہے۔ آج جہنم کے اور ابلتے ہوئے تیز گرم پانی کے درمیان وہ چکر کھاتے پھریں گے۔ اور آیت میں ہے کہ زقوم کا درخت گنہگاروں کی غذا ہے جو پگھلتے ہوئے تانبے جیسا ہوگا، پیٹ میں جا کر ابلے گا اور ایسے جوش مارے گا جیسے گرم پانی کھول رہا ہو۔ اسے پکڑو اور اسے بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر گرم پانی کے تریڑے کا عذاب بہاؤ مزہ چکھ تو اپنے خیال میں بڑا عزیز تھا اور اکرام والا تھا یہی جس سے تم ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ سورة واقعہ میں فرمایا کہ وہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دئے جائیں گے یہ بائیں ہاتھ والے کیسے بد لوگ ہیں گرم ہوا اور گرم پانی میں پڑے ہوئے ہوں گے اور دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا نہ باعزت دوسری آیت میں ہے سرکشوں کے لئے جہنم کا برا ٹھکانا ہے جس میں داخل ہوں گے اور وہ رہائش کی بدترین جگہ ہے اس مصیبت کے ساتھ تیز گرم پانی اور پیپ لہو اور اسی کے ہم شکل اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوں گے جو دوزخیوں کو بھگتنے پڑیں گے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہوگا نہ کہ اللہ کا ظلم۔
مَّثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ أَعْمَٰلُهُمْ كَرَمَادٍ ٱشْتَدَّتْ بِهِ ٱلرِّيحُ فِى يَوْمٍ عَاصِفٍ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا۟ عَلَىٰ شَىْءٍ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلضَّلَٰلُ ٱلْبَعِيدُ
Masalul lazeena kafaroo bi Rabbihim a'maaluhum karamaadinish taddat bihir reehu fee yawmin 'aasif; laa yaqdiroona mimmaa kasaboo 'alaa shai'; zaalika huwad dalaalul ba'eed
The example of those who disbelieve in their Lord is [that] their deeds are like ashes which the wind blows forcefully on a stormy day; they are unable [to keep] from what they earned a [single] thing. That is what is extreme error.
جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال راکھ کی سی ہے کہ آندھی کے دن اس پر زور کی ہوا چلے (اور) اسے اڑا لے جائے (اس طرح) جو کام وہ کرتے رہے ان پر ان کو کچھ دسترس نہ ہوگی۔ یہی تو پرلے سرے کی گمراہی ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
بےسود اعمال کافر جو اللہ کے ساتھ دوسروں کی عبادتوں کے خوگر تھے پیغمبروں کی نہیں مانتے تھے جن کے اعمال ایسے تھے جیسے بنیاد کے بغیر عمارت ہو جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ سخت ضرورت کے وقت خالی ہاتھ کھڑے رہ گئے۔ پس فرمان ہے کہ ان کافروں کی یعنی ان کے اعمال کی مثال۔ قیامت کے دن جب کہ یہ پورے محتاج ہوں گے سمجھ رہے ہوں گے کہ اب ابھی ہماری بھلائیوں کا بدلہ ہمیں ملے گا لیکن کچھ نہ پائیں گے، مایوس رہ جائیں گے، حسرت سے منہ تکنے لگیں گے جیسے تیز آندھی والے دن ہوا راکھ کو اڑا کر ذرہ ذرہ ادھر ادھر بکھیر دے اسی طرح ان کے اعمال محض اکارت ہوگئے جیسے اس بکھری ہوئی اور اڑی ہوئی راکھ کا جمع کرنا محال ایسے ہی ان کے بےسود اعمال کا بدلہ محال۔ وہ تو وہاں ہوں گے ہی نہیں ان کے آنے سے پہلے ہی ھبا منشورا ہوگئے۔ آیت (مَثَلُ مَا يُنْفِقُوْنَ فِيْ ھٰذِهِ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيْحٍ فِيْھَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ فَاَھْلَكَتْهُ01107) 3۔ آل عمران :117) یہ کفار جو کچھ اس حیات دنیا میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس آگ کے گولے جیسی ہے جو ظالموں کی کھیتی جھلسا دے۔ اللہ ظالم نہیں لیکن وہ اپنے اوپر خود ظلم کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے کہ ایمان والو اپنے صدقے خیرات احسان رکھ کر اور ایذاء دے کر برباد نہ کرو جیسے وہ جو ریا کاری کے لئے خرچ کرتا ہو اور اللہ پر اور قیامت پر ایمان نہ رکھتا ہو اس کی مثال اس چٹان کی طرح ہے جس پر مٹی تھی لیکن بارش کے پانی نے اسے دھو دیا اب وہ بالکل صاف ہوگیا یہ لوگ اپنی کمائی میں سے کسی چیز پر قادر نہیں اللہ تعالیٰ کافروں کی رہبری نہیں فرماتا۔ اس آیت میں ارشاد ہوا کہ یہ دور کی گمراہی ہے ان کی کوشش ان کے کام بےپایہ اور بےثبات ہیں سخت حاجت مندی کے وقت ثواب گم پائیں گے یہی انتہائی بدقسمتی ہے۔
أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِٱلْحَقِّ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ
Alam tara annal laaha khalaqas samaawaati wal arda bilhaqq; iny yashaa yuzhibkum wa yaati bikhalqin jadeed
Have you not seen that Allah created the heavens and the earth in truth? If He wills, He can do away with you and produce a new creation.
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم کو نابود کر دے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق پیدا کر دے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حیات ثانیہ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ قیامت کے دن کی دوبارہ پیدائش پر میں قادر ہوں۔ جب میں نے آسمان زمین کی پیدائش کردی تو انسان کی پیدائش مجھ پر کیا مشکل ہے۔ آسمان کی اونچائی کشادگی بڑائی پھر اس میں ٹھیرے ہوئے اور چلتے پھرتے ستارے۔ اور یہ زمین پہاڑوں اور جنگلوں درختوں اور حیوانوں والی سب اللہ ہی کی بنائی ہوئی ہے جو ان کی پیدائش سے عاجز نہ آیا وہ کیا مردوں کے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ؟ بیشک قادر ہے۔ سورة یاسین میں فرمایا کہ کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ جھگڑا لو بن بیٹھا۔ ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اپنی پیدائش بھول گیا اور کہنے لگا ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا ؟ کہہ دے کہ وہی اللہ جس نے انہیں اول بار پیدا کیا وہ ہر چیز کی پیدائش کو بخوبی جانتا ہے اسی نے سبز درخت سے تمہارے لئے آگ بنائی ہے کہ تم اسے جلاتے ہو۔ کیا آسمان و زمین کا خالق ان جیسوں کی پیدائش پر قادر نہیں ؟ بیشک ہے، وہی بڑا خالق اور بہت بڑا عالم ہے اس کے ارادے کے بعد اس کا صرف اتنا حکم بس ہے کہ ہوجا اسی وقت وہ ہوجاتا ہے وہ اللہ پاک ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور جس کی طرف تمہارا سب کا لوٹنا ہے۔ اس کے قبضے میں ہے کہ اگر چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق تمہارے قائم مقام یہاں آباد کر دے اس پر یہ کام بھی بھاری نہیں تم اس کے امر کا خلاف کرو گے تو یہی ہوگا جیسے فرمایا اگر تم منہ موڑ لو گے تو وہ تمہارے بدلے اور قوم لائے گا جو تمہاری طرح کی نہ ہوگی۔ اور آیت میں ہے اے ایمان والو تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھرجائے تو اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم کو لائے گا جو اس کی پسندیدہ ہوگی اور اس سے محبت رکھنے والی ہوگی۔ اور جگہ ہے اگر وہ چاہے تمہیں برباد کر دے اور دوسرے لائے اللہ اس پر قادر ہے۔
وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ بِعَزِيزٍ
Wa maa zaalika 'alal laahi bi 'azeez
And that is not difficult for Allah.
اور یہ خدا کو کچھ بھی مشکل نہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حیات ثانیہ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ قیامت کے دن کی دوبارہ پیدائش پر میں قادر ہوں۔ جب میں نے آسمان زمین کی پیدائش کردی تو انسان کی پیدائش مجھ پر کیا مشکل ہے۔ آسمان کی اونچائی کشادگی بڑائی پھر اس میں ٹھیرے ہوئے اور چلتے پھرتے ستارے۔ اور یہ زمین پہاڑوں اور جنگلوں درختوں اور حیوانوں والی سب اللہ ہی کی بنائی ہوئی ہے جو ان کی پیدائش سے عاجز نہ آیا وہ کیا مردوں کے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ؟ بیشک قادر ہے۔ سورة یاسین میں فرمایا کہ کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ جھگڑا لو بن بیٹھا۔ ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اپنی پیدائش بھول گیا اور کہنے لگا ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا ؟ کہہ دے کہ وہی اللہ جس نے انہیں اول بار پیدا کیا وہ ہر چیز کی پیدائش کو بخوبی جانتا ہے اسی نے سبز درخت سے تمہارے لئے آگ بنائی ہے کہ تم اسے جلاتے ہو۔ کیا آسمان و زمین کا خالق ان جیسوں کی پیدائش پر قادر نہیں ؟ بیشک ہے، وہی بڑا خالق اور بہت بڑا عالم ہے اس کے ارادے کے بعد اس کا صرف اتنا حکم بس ہے کہ ہوجا اسی وقت وہ ہوجاتا ہے وہ اللہ پاک ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور جس کی طرف تمہارا سب کا لوٹنا ہے۔ اس کے قبضے میں ہے کہ اگر چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق تمہارے قائم مقام یہاں آباد کر دے اس پر یہ کام بھی بھاری نہیں تم اس کے امر کا خلاف کرو گے تو یہی ہوگا جیسے فرمایا اگر تم منہ موڑ لو گے تو وہ تمہارے بدلے اور قوم لائے گا جو تمہاری طرح کی نہ ہوگی۔ اور آیت میں ہے اے ایمان والو تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھرجائے تو اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم کو لائے گا جو اس کی پسندیدہ ہوگی اور اس سے محبت رکھنے والی ہوگی۔ اور جگہ ہے اگر وہ چاہے تمہیں برباد کر دے اور دوسرے لائے اللہ اس پر قادر ہے۔
وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ جَمِيعًا فَقَالَ ٱلضُّعَفَٰٓؤُا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ قَالُوا۟ لَوْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ لَهَدَيْنَٰكُمْ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَجَزِعْنَآ أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٍ
Wa barazoo lillaahi jamee'an faqaalad du'afaaa'u lillazeenas takbarooo innaa kunnaa lakum taba'an fahal antum mughnoona 'annaa min 'azaabil laahi min shai'; qaaloo law hadaanal laahu lahadai naakum sawaaa'un 'alainaaa ajazi'naa am sabarnaa maa lanaa mim mahees
And they will come out [for judgement] before Allah all together, and the weak will say to those who were arrogant, "Indeed, we were your followers, so can you avail us anything against the punishment of Allah?" They will say, "If Allah had guided us, we would have guided you. It is all the same for us whether we show intolerance or are patient: there is for us no place of escape."
اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف (العقل متبع اپنے رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو۔ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا ضد کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لیے نہیں ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
چٹیل میدان اور مخلوقات صاف چٹیل میدان میں ساری مخلوق نیک و بد اللہ کے سامنے موجود ہوگی۔ اس وقت جو لوگ ماتحت تھے ان سے کہیں گے جو سردار اور بڑے تھے۔ اور جو انہیں اللہ کی عبادت اور رسول کی اطاعت سے روکتے تھے۔ کہ ہم تمہارے تابع فرمان تھے جو حکم تم دیتے تھے ہم بجا لاتے تھے۔ جو تم فرماتے تھے ہم مانتے تھے پس جیسے کہ تم ہم سے وعدے کرتے تھے اور ہمیں تمنائیں دلاتے تھے کیا آج اللہ کے عذابوں کو ہم سے ہٹاؤ گے ؟ اس وقت یہ پیشوا اور سردار کہیں گے کہ ہم تو خود راہ راست پر نہ تھے تمہاری رہبری کیسے کرتے ؟ ہم پر اللہ کا کلمہ سبقت کر گیا، عذاب کے مستحق ہم سب ہوگئے اب نہ ہائے وائے اور نہ بےقراری نفع دے اور نہ صبر و برداشت۔ عذاب کے بچاؤ کی تمام صورتیں ناپید ہیں۔ حضرت عبدالرحمن بن زید فرماتے ہیں کہ دوزخی لوگ کہیں گے کہ دیکھو یہ مسلمان اللہ کے سامنے روتے دھوتے تھے اس وجہ سے وہ جنت میں پہنچے، آؤ ہم بھی اللہ کے سامنے روئیں گڑگڑائیں۔ خوب روئیں پیٹیں گے، چیخیں چلائیں گے لیکن بےسود رہے گا تو کہیں گے جنتیوں کے جنت میں جانے کی ایک وجہ صبر کرنا تھی۔ آؤ ہم بھی خاموش اور صبر اختیار کریں اب ایسا صبر کریں گے کہ ایسا صبر کبھی دیکھا نہیں گیا لیکن یہ بھی لا حاصل رہے گا اس وقت کہیں گے ہائے صبر بھی بےسود اور بےقراری بھی بےنفع۔ ظاہر تو یہ ہے کہ پیشواؤں اور تابعداروں کی یہ بات چیت جہنم میں جانے کے بعد ہوگی جیسے آیت (واذ یتحآجون فی النار) الخ، جب کہ وہ جہنم میں جھگڑیں گے اس وقت ضعیف لوگ تکبر والوں سے کہیں گے کہ ہم تمہارے ماتحت تھے تو کیا آگ کے کسی حصہ سے تم ہمیں نجات دلا سکو گے ؟ وہ متکبر لوگ کہیں گے ہم تو سب جہنم میں موجود ہیں اللہ کے فیصلے بندوں میں ہوچکے ہیں اور آیت میں ہے (قَالَ ادْخُلُوْا فِيْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِي النَّار 38) 7۔ الاعراف :38) فرمائے گا کہ جاؤ ان لوگوں میں شامل ہوجاؤ جو انسان جنات تم سے پہلے جہنم میں پہنچ چکے ہیں جو گروہ جائے گا وہ دوسرے کو لعنت کرتا جائے گا۔ جب سب کے سب جمع ہوجائیں گے تو پچھلے پہلوں کی نسبت جناب باری میں عرض کریں گے کہ پروردگار ان لوگوں نے ہمیں تو بہکا دیا۔ انہیں دوہرا عذاب کر۔ جواب ملے گا کہ ہر ایک کو دوہرا ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ اور اگلے پچھلوں سے کہیں گے کہ تمہیں ہم پر فضیلت نہیں تھی اپنے کئے ہوئے کاموں کے بدلے کا عذاب چکھو۔ اور آیت میں ہے کہ وہ کہیں گے آیت (وَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاۗءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِيْلَا 67) 33۔ الأحزاب :67) الخ، اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے پیشواؤں اور بڑوں کی اطاعت کی جنہوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا اے ہمارے پالنہار تو انہیں دوہرا عذاب کر اور بڑی لعنت کر یہ لوگ محشر میں بھی جھگڑیں گے فرمان ہے آیت (وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ 31) 34۔ سبأ :31) کاش کہ تو دیکھتا جب کہ ظالم لوگ اللہ کے سامنے کھڑے ہوئے ایک دوسرے سے لڑ جھگڑ رہے ہوں گے تابعدار لوگ اپنے بڑوں سے کہتے ہوں گے کہ کیا ہدایت آجانے کے بعد ہم نے تمہیں اس سے روک دیا ؟ نہیں بلکہ تم تو آپ گنہگار بدکار تھے۔ یہ کمزور لوگ پھر ان زور اوروں سے کہیں گے کہ تمہارے رات دن کے داؤ گھات اور ہمیں یہ حکم دینا کہ ہم اللہ سے کفر کریں اس کے شریک ٹھرائیں اب سب لوگ پوشیدہ طور پر اپنی اپنی جگہ نادم ہوجائیں گے جب کہ عذابوں کو سامنے دیکھ لیں گے ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے انہیں ان کے اعمال کا بدلہ ضرور ملے گا۔
وَقَالَ ٱلشَّيْطَٰنُ لَمَّا قُضِىَ ٱلْأَمْرُ إِنَّ ٱللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ ٱلْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِىَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَٰنٍ إِلَّآ أَن دَعَوْتُكُمْ فَٱسْتَجَبْتُمْ لِى فَلَا تَلُومُونِى وَلُومُوٓا۟ أَنفُسَكُم مَّآ أَنَا۠ بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ أَنتُم بِمُصْرِخِىَّ إِنِّى كَفَرْتُ بِمَآ أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
Wa qaalash Shaitaanu lammaa qudiyal amru innal laaha wa'adakum wa'dal haqqi wa wa'attukum faakhlaftukum wa maa kaana liya 'alaikum min sultaanin illaaa an da'awtukum fastajabtum lee falaa taloomoonee wa loomooo anfusakum maaa ana bimusrikhikum wa maaa antum bimusrikhiyya innee kafartu bimaaa ashraktumooni min qabl; innaz zaalimeena lahum azaabun aleem
And Satan will say when the matter has been concluded, "Indeed, Allah had promised you the promise of truth. And I promised you, but I betrayed you. But I had no authority over you except that I invited you, and you responded to me. So do not blame me; but blame yourselves. I cannot be called to your aid, nor can you be called to my aid. Indeed, I deny your association of me [with Allah] before. Indeed, for the wrongdoers is a painful punishment."
جب (حساب کتاب کا) کام فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی طرف) بلایا تو تم نے (جلدی سے اور بےدلیل) میرا کہا مان لیا۔ تو (آج) مجھے ملامت نہ کرو۔ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے۔ بےشک جو ظالم ہیں ان کے لیے درد دینے والا عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
طوطا چشم دشمن شیطان اللہ تعالیٰ جب بندوں کی قضا سے فارغ ہوگا، مومن جنت میں کافر دوزخ میں پہنچ جائیں گے، اس وقت ابلیس ملعون جہنم میں کھڑا ہو کر ان سے کہے گا کہ اللہ کے وعدے سچے اور برحق تھے، رسولوں کی تابعداری میں ہی نجات اور سلامتی تھی، میرے وعدے تو دھوکے تھے میں تو تمہیں غلط راہ پر ڈالنے کے لئے سبز باغ دکھایا کرتا تھا۔ میری باتیں بےدلیل تھیں میرا کلام بےحجت تھا۔ میرا کوئی زور غلبہ تم پر نہ تھا تم تو خواہ مخواہ میری ایک آواز پر دوڑ پڑے۔ میں نے کہا تم نے مان لیا رسولوں کی سچے وعدے ان کی بادلیل آواز ان کی کامل حجت والی دلیلیں تم نے ترک کردیں۔ ان کی مخالفت اور میری موافقت کی۔ جس کا نتیجہ آج اپنی آنکھوں سے تم نے دیکھ لیا یہ تمہارے اپنے کرتوتوں کا بدلہ ہے مجھے ملامت نہ کرنا بلکہ اپنے نفس کو ہی الزام دینا، گناہ تمہارا اپنا ہے خود تم نے دلیلیں چھوڑیں تم نے میری بات مانی آج میں تمہارے کچھ کام نہ آؤں گا نہ تمہیں بچا سکوں نہ نفع پہنچا سکوں۔ میں تو تمہارے شرک کے باعث تمہارا منکر ہوں میں صاف کہتا ہوں کہ میں شریک اللہ نہیں جیسے فرمان الہٰی ہے آیت (ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ من لا یستجیب لہ) الخ، اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے ؟ جو اللہ کے سوا اوروں کو پکارے جو قیامت تک اس کی پکار کو قبول نہ کرسکیں بلکہ اس کے پکارنے سے محض غافل ہوں اور محشر کے دن ان کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر بن جائیں۔ اور آیت میں ہے آیت (کلا سیکفرون بعبادتہم) الخ، یقینا وہ لوگ ان کی عبادتوں سے منکر ہوجائیں گے اور ان کے دشمن بن جائیں گے یہ ظالم لوگ ہیں اس لئے کہ حق سے منہ پھیرلیا باطل کے پیرو کار بن گئے ایسے ظالموں کے لئے المناک عذاب ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ ابلیس کا یہ کلام دوزخیوں سے دوزخ میں داخل ہونے کے بعد ہوگا۔ تاکہ وہ حسرت و افسوس میں اور بڑھ جائیں۔ لیکن ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جب اگلوں پچھلوں کو اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان میں فیصلے کر دے گا فیصلوں کے وقت عام گھبراہٹ ہوگی۔ مومن کہیں گے ہم میں فیصلے ہو رہے ہیں، اب ہماری سفارش کے لئے کون کھڑا ہوگا ؟ پس حضرت آدم حضرت نوح حضرت ابراہیم حضرت موسیٰ حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کے پاس جائیں گے۔ حضرت عیسیٰ فرمائیں گے نبی امی ﷺ کے پاس پہنچو چناچہ وہ میرے پاس آئیں گے۔ مجھے کھڑا ہونے کی اللہ تبارک و تعالیٰ اجازت دے گا اسی وقت میری مجلس سے پاکیزہ تیز اور عمد خوشبو پھیلے گی کہ اس سے بہتر اور عمدہ خوشبو کھبی کسی نے نہ سونگھی ہوگی میں چل کر رب العالمین کے پاس آؤں گا میرے سر کے بالوں سے لے کر میرے پیر کے انگوٹھے تک نورانی ہوجائے گا۔ اب میں سفارش کروں گا اور جناب حق تبارک و تعالیٰ قبول فرمائے گا یہ دیکھ کر کافر لوگ کہیں گے کہ چلو بھئی ہم بھی کسی کو سفارشی بنا کرلے چلیں اور اس کے لئے ہمارے پاس سوائے ابلیس کے اور کون ہے ؟ اسی نے ہم کو بہکایا تھا۔ چلو اسی سے عرض کریں۔ آئیں گے ابلیس سے کہیں گے کہ مومنوں نے تو شفیع پالیا اب تو ہماری طرف سے شفیع بن جا۔ اس لئے کہ ہمیں گمراہ بھی تو نے ہی کیا ہے یہ سن کر یہ ملعون کھڑا ہوگا۔ اس کی مجلس سے ایسی گندی بدبو پھیلے گی کہ اس سے پہلے کسی ناک میں ایسی بدبو نہ پہنچی ہو۔ پھر وہ کہے گا جس کا بیان اس آیت میں ہے۔ محمد بن کعب قرظی ؒ فرماتے ہیں کہ جب جہنمی اپنا صبر اور بےصبری یکساں بتلائیں گے اس وقت ابلیس ان سے یہ کہے کا اس وقت وہ اپنی جانوں سے بھی بیزار ہوجائیں گے ندا آئے گی کہ تمہاری اس وقت کی اس بےزاری سے بھی زیادہ بےزاری اللہ کی تم سے اس وقت تھی جب کہ تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم کفر کرتے تھے۔ عامر شعبی ؒ فرماتے ہیں تمام لوگوں کے سامنے اس دن دو شخص خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ تم اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لینا یہ آیتیں (ھذا یوم ینفع الصادقین) الخ تک اسی بیان میں ہیں اور ابلیس کھڑا ہو کر کہے گا آیت (وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ 22۔) 14۔ ابراھیم :22)برے لوگوں کے انجام کا اور ان کے درد و غم اور ابلیس کے جواب کا ذکر فرما کر اب نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ایمان دار نیک اعمال لوگ جنتوں میں جائیں گے جہاں چاہیں جائیں آئیں چلیں پھریں کھائیں پیئیں ہمیشہ ہمیش کے لیے وہیں رہیں۔ یہاں نہ آزردہ ہوں نہ دل بھرے نہ طبیعت بھرے نہ مارے جائیں نہ نکالے جائیں نہ نعمتیں کم ہوں۔ وہاں ان کا تحفہ سلام ہی سلام ہوگا جیسے فرمان ہے آیت (حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ 71) 39۔ الزمر :71) ، یعنی جب جنتی جنت میں جائیں گے اور اس کے دروازے ان کے لئے کھولے جائیں گے اور وہاں کے داروغہ انہیں سلام علیک کہیں گے، الخ۔ اور آیت میں ہے ہر دروازے سے ان کے پاس فرشتے آئیں گے اور سلام علیکم کہیں گے اور آیت میں ہے کہ وہاں تحیۃ اور سلام ہی سنائے جائیں گے۔ اور آیت میں ہے آیت (دَعْوٰىھُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَتَحِيَّتُھُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ ۚ وَاٰخِرُ دَعْوٰىھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ0010 ) 10۔ یونس :10) ان کی پکار وہاں اللہ کی پاکیزگی کا بیان ہوگا اور ان کا تحفہ وہاں سلام ہوگا۔ اور ان کی آخر آواز اللہ رب العالمین کی حمد ہوگی۔
وَأُدْخِلَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جَنَّٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَٰمٌ
Wa udkhilal lazeena aamanoo wa 'amilus saalihaati Jannaatin tajree min tahtihal anhaaru khaalideena feehaa bi izni Rabbihim tahiyyatuhum feeha salaam
And those who believed and did righteous deeds will be admitted to gardens beneath which rivers flow, abiding eternally therein by permission of their Lord; and their greeting therein will be, "Peace!"
اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کیے وہ بہشتوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ وہاں ان کی صاحب سلامت سلام ہوگا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
طوطا چشم دشمن شیطان اللہ تعالیٰ جب بندوں کی قضا سے فارغ ہوگا، مومن جنت میں کافر دوزخ میں پہنچ جائیں گے، اس وقت ابلیس ملعون جہنم میں کھڑا ہو کر ان سے کہے گا کہ اللہ کے وعدے سچے اور برحق تھے، رسولوں کی تابعداری میں ہی نجات اور سلامتی تھی، میرے وعدے تو دھوکے تھے میں تو تمہیں غلط راہ پر ڈالنے کے لئے سبز باغ دکھایا کرتا تھا۔ میری باتیں بےدلیل تھیں میرا کلام بےحجت تھا۔ میرا کوئی زور غلبہ تم پر نہ تھا تم تو خواہ مخواہ میری ایک آواز پر دوڑ پڑے۔ میں نے کہا تم نے مان لیا رسولوں کی سچے وعدے ان کی بادلیل آواز ان کی کامل حجت والی دلیلیں تم نے ترک کردیں۔ ان کی مخالفت اور میری موافقت کی۔ جس کا نتیجہ آج اپنی آنکھوں سے تم نے دیکھ لیا یہ تمہارے اپنے کرتوتوں کا بدلہ ہے مجھے ملامت نہ کرنا بلکہ اپنے نفس کو ہی الزام دینا، گناہ تمہارا اپنا ہے خود تم نے دلیلیں چھوڑیں تم نے میری بات مانی آج میں تمہارے کچھ کام نہ آؤں گا نہ تمہیں بچا سکوں نہ نفع پہنچا سکوں۔ میں تو تمہارے شرک کے باعث تمہارا منکر ہوں میں صاف کہتا ہوں کہ میں شریک اللہ نہیں جیسے فرمان الہٰی ہے آیت (ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ من لا یستجیب لہ) الخ، اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے ؟ جو اللہ کے سوا اوروں کو پکارے جو قیامت تک اس کی پکار کو قبول نہ کرسکیں بلکہ اس کے پکارنے سے محض غافل ہوں اور محشر کے دن ان کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر بن جائیں۔ اور آیت میں ہے آیت (کلا سیکفرون بعبادتہم) الخ، یقینا وہ لوگ ان کی عبادتوں سے منکر ہوجائیں گے اور ان کے دشمن بن جائیں گے یہ ظالم لوگ ہیں اس لئے کہ حق سے منہ پھیرلیا باطل کے پیرو کار بن گئے ایسے ظالموں کے لئے المناک عذاب ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ ابلیس کا یہ کلام دوزخیوں سے دوزخ میں داخل ہونے کے بعد ہوگا۔ تاکہ وہ حسرت و افسوس میں اور بڑھ جائیں۔ لیکن ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جب اگلوں پچھلوں کو اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان میں فیصلے کر دے گا فیصلوں کے وقت عام گھبراہٹ ہوگی۔ مومن کہیں گے ہم میں فیصلے ہو رہے ہیں، اب ہماری سفارش کے لئے کون کھڑا ہوگا ؟ پس حضرت آدم حضرت نوح حضرت ابراہیم حضرت موسیٰ حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کے پاس جائیں گے۔ حضرت عیسیٰ فرمائیں گے نبی امی ﷺ کے پاس پہنچو چناچہ وہ میرے پاس آئیں گے۔ مجھے کھڑا ہونے کی اللہ تبارک و تعالیٰ اجازت دے گا اسی وقت میری مجلس سے پاکیزہ تیز اور عمد خوشبو پھیلے گی کہ اس سے بہتر اور عمدہ خوشبو کھبی کسی نے نہ سونگھی ہوگی میں چل کر رب العالمین کے پاس آؤں گا میرے سر کے بالوں سے لے کر میرے پیر کے انگوٹھے تک نورانی ہوجائے گا۔ اب میں سفارش کروں گا اور جناب حق تبارک و تعالیٰ قبول فرمائے گا یہ دیکھ کر کافر لوگ کہیں گے کہ چلو بھئی ہم بھی کسی کو سفارشی بنا کرلے چلیں اور اس کے لئے ہمارے پاس سوائے ابلیس کے اور کون ہے ؟ اسی نے ہم کو بہکایا تھا۔ چلو اسی سے عرض کریں۔ آئیں گے ابلیس سے کہیں گے کہ مومنوں نے تو شفیع پالیا اب تو ہماری طرف سے شفیع بن جا۔ اس لئے کہ ہمیں گمراہ بھی تو نے ہی کیا ہے یہ سن کر یہ ملعون کھڑا ہوگا۔ اس کی مجلس سے ایسی گندی بدبو پھیلے گی کہ اس سے پہلے کسی ناک میں ایسی بدبو نہ پہنچی ہو۔ پھر وہ کہے گا جس کا بیان اس آیت میں ہے۔ محمد بن کعب قرظی ؒ فرماتے ہیں کہ جب جہنمی اپنا صبر اور بےصبری یکساں بتلائیں گے اس وقت ابلیس ان سے یہ کہے کا اس وقت وہ اپنی جانوں سے بھی بیزار ہوجائیں گے ندا آئے گی کہ تمہاری اس وقت کی اس بےزاری سے بھی زیادہ بےزاری اللہ کی تم سے اس وقت تھی جب کہ تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم کفر کرتے تھے۔ عامر شعبی ؒ فرماتے ہیں تمام لوگوں کے سامنے اس دن دو شخص خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ تم اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لینا یہ آیتیں (ھذا یوم ینفع الصادقین) الخ تک اسی بیان میں ہیں اور ابلیس کھڑا ہو کر کہے گا آیت (وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ 22۔) 14۔ ابراھیم :22)برے لوگوں کے انجام کا اور ان کے درد و غم اور ابلیس کے جواب کا ذکر فرما کر اب نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ایمان دار نیک اعمال لوگ جنتوں میں جائیں گے جہاں چاہیں جائیں آئیں چلیں پھریں کھائیں پیئیں ہمیشہ ہمیش کے لیے وہیں رہیں۔ یہاں نہ آزردہ ہوں نہ دل بھرے نہ طبیعت بھرے نہ مارے جائیں نہ نکالے جائیں نہ نعمتیں کم ہوں۔ وہاں ان کا تحفہ سلام ہی سلام ہوگا جیسے فرمان ہے آیت (حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ 71) 39۔ الزمر :71) ، یعنی جب جنتی جنت میں جائیں گے اور اس کے دروازے ان کے لئے کھولے جائیں گے اور وہاں کے داروغہ انہیں سلام علیک کہیں گے، الخ۔ اور آیت میں ہے ہر دروازے سے ان کے پاس فرشتے آئیں گے اور سلام علیکم کہیں گے اور آیت میں ہے کہ وہاں تحیۃ اور سلام ہی سنائے جائیں گے۔ اور آیت میں ہے آیت (دَعْوٰىھُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَتَحِيَّتُھُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ ۚ وَاٰخِرُ دَعْوٰىھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ0010 ) 10۔ یونس :10) ان کی پکار وہاں اللہ کی پاکیزگی کا بیان ہوگا اور ان کا تحفہ وہاں سلام ہوگا۔ اور ان کی آخر آواز اللہ رب العالمین کی حمد ہوگی۔
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِى ٱلسَّمَآءِ
Alam tara kaifa darabal laahu masalan kalimatan taiyibatan kashajaratin taiyibatin asluhaa saabitunw wa far'uhaa fis samaaa'
Have you not considered how Allah presents an example, [making] a good word like a good tree, whose root is firmly fixed and its branches [high] in the sky?
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے (وہ ایسی ہے) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
لا الہ الا اللہ کی شہادت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ کلمہ طیبہ سے مراد لا الہ الا اللہ کی شہادت ہے۔ پاکیزہ درخت کی طرح کا مومن ہے اس کی جڑ مضبوط ہے۔ یعنی مومن کے دل میں لا الہ الا اللہ جما ہوا ہے اس کی شاخ آسمان میں ہے۔ یعنی اس توحید کے کلمہ کی وجہ سے اس کے اعمال آسمان کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور بھی بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہیں۔ کہ مراد اس سے مومن کے اعمال ہیں اور اس کے پاک اقوال اور نیک کام۔ مومن مثل کھجور کے درخت کے ہے۔ ہر وقت ہر صبح ہر شام اس کے اعمال آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجور کا ایک خوشہ لایا گیا۔ تو آپ نے اسی آیت کا پہلا حصہ تلاوت فرمایا اور فرمایا کہ پاک درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے منقول ہے کہ ہم آنحضور ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ جو آپ نے فرمایا مجھے بتلاؤ وہ کون سا درخت ہے جو مسلمان کے مشابہ ہے۔ جس کے پتے نہیں جھڑتے نہ جاڑوں میں نہ گرمیوں میں جو اپنا پھل ہر موسم میں لاتا رہتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں وہ درخت کھجور کا ہے۔ لیکن میں نے دیکھا کہ مجلس میں حضرت ابوبکر ہیں حضرت عمر ہیں اور وہ خاموش ہیں تو میں بھی چپ کا ہو رہا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ درخت کھجور کا ہے۔ جب یہاں سے اٹھ کر چلے تو میں نے اپنے والد حضرت عمر ؓ سے یہ ذکر کیا۔ تو آپ نے فرمایا پیارے بچے اگر تم یہ جواب دے دیتے تو مجھے تو تمام چیزوں کے مل جانے سے بھی زیادہ محبوب تھا۔ حضرت مجاہد ؒ کا بیان ہے کہ میں مدینہ شریف تک حضرت ابن عمر ؓ کے ساتھ رہا لیکن سوائے ایک حدیث کے اور کوئی روایت انہیں رسول اللہ ﷺ سے کرتے ہوئے نہیں سنا اس میں ہے کہ یہ سوال آپ نے اس وقت کیا۔ جب آپ کے سامنے کھجور کے درخت کے بیچ کا گودا لایا گیا تھا۔ میں اس لئے خاموش رہا کہ میں اس مجلس میں سب سے کم عمر تھا۔ اور روایت میں ہے کہ جواب دینے والوں کا خیال اس وقت جنگلی درختوں کی طرف چلا گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ کسی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ حضور مالدار لوگ درجات میں بہت بڑھ گئے۔ آپ نے فرمایا کہ یاد رکھو اگر تمام دنیا کی چیزیں لگ کر انبار لگا دو تو بھی وہ آسمان تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ تجھے ایسا عمل بتلاؤں جس کی جڑ مضبوط اور جس کی شاخیں آسمان میں ہیں اس نے پوچھا وہ کیا ؟ فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ واللہ اکبر و سبحان اللہ والحمد للہ) ہر فرض نماز کے بعد دس بار کہہ لیا کرو جس کی اصل مضبوط اور جس کی فرع آسمان میں ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ پاکیزہ درخت جنت میں ہے۔ ہر وقت اپنا پھل لائے یعنی صبح شام یا ہر ماہ میں یا ہر دو ماہ میں یا ہر ششماہی میں یا ہر ساتویں مہینے یا ہر سال۔ لیکن الفاظ کا ظاہری مطلب تو یہ ہے کہ مومن کی مثال اس درخت جیسی ہے جس کے پھل ہر وقت جاڑے گرمی میں دن رات میں اترتے رہتے ہیں اسی طرح مومن کے نیک اعمال دن رات کے ہر وقت چڑھتے رہتے ہیں اس کے رب کے حکم سے یعنی کامل، اچھے، بہت اور عمدہ۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی عبرت ان کی سوچ سمجھ اور ان کی نصیحت کے لئے مثالیں واضح فرماتا ہے۔ پھر برے کلمہ کی یعنی کافر کی مثال بیان فرمائی۔ جس کی کوئی اصل نہیں، جو مضبوط نہیں، اس کی مثال اندرائن کے درخت سے دی۔ جسے حنظل اور شریان کہتے ہیں۔ ایک موقوف روایت میں حضرت انس ؓ سے بھی آیا ہے اور یہی روایت مرفوعا بھی آئی ہے۔ اس درخت کی جڑ زمین کی تہ میں نہیں ہوتی جھٹکا مارا اور اکھڑ آیا۔ اسی طرح سے کفر بےجڑ اور بےشاخ ہے، کافر کا نہ کوئی نیک عمل چڑھے نہ مقبول ہو۔
تُؤْتِىٓ أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍۭ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَيَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
Tu'teee ukulahaa kulla heenim bi izni Rabbihaa; wa yadribul laahul amsaala linnaasi la'allahum yatazak karoon
It produces its fruit all the time, by permission of its Lord. And Allah presents examples for the people that perhaps they will be reminded.
اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا (اور میوے دیتا) ہو۔ اور خدا لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
لا الہ الا اللہ کی شہادت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ کلمہ طیبہ سے مراد لا الہ الا اللہ کی شہادت ہے۔ پاکیزہ درخت کی طرح کا مومن ہے اس کی جڑ مضبوط ہے۔ یعنی مومن کے دل میں لا الہ الا اللہ جما ہوا ہے اس کی شاخ آسمان میں ہے۔ یعنی اس توحید کے کلمہ کی وجہ سے اس کے اعمال آسمان کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور بھی بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہیں۔ کہ مراد اس سے مومن کے اعمال ہیں اور اس کے پاک اقوال اور نیک کام۔ مومن مثل کھجور کے درخت کے ہے۔ ہر وقت ہر صبح ہر شام اس کے اعمال آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجور کا ایک خوشہ لایا گیا۔ تو آپ نے اسی آیت کا پہلا حصہ تلاوت فرمایا اور فرمایا کہ پاک درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے منقول ہے کہ ہم آنحضور ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ جو آپ نے فرمایا مجھے بتلاؤ وہ کون سا درخت ہے جو مسلمان کے مشابہ ہے۔ جس کے پتے نہیں جھڑتے نہ جاڑوں میں نہ گرمیوں میں جو اپنا پھل ہر موسم میں لاتا رہتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں وہ درخت کھجور کا ہے۔ لیکن میں نے دیکھا کہ مجلس میں حضرت ابوبکر ہیں حضرت عمر ہیں اور وہ خاموش ہیں تو میں بھی چپ کا ہو رہا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ درخت کھجور کا ہے۔ جب یہاں سے اٹھ کر چلے تو میں نے اپنے والد حضرت عمر ؓ سے یہ ذکر کیا۔ تو آپ نے فرمایا پیارے بچے اگر تم یہ جواب دے دیتے تو مجھے تو تمام چیزوں کے مل جانے سے بھی زیادہ محبوب تھا۔ حضرت مجاہد ؒ کا بیان ہے کہ میں مدینہ شریف تک حضرت ابن عمر ؓ کے ساتھ رہا لیکن سوائے ایک حدیث کے اور کوئی روایت انہیں رسول اللہ ﷺ سے کرتے ہوئے نہیں سنا اس میں ہے کہ یہ سوال آپ نے اس وقت کیا۔ جب آپ کے سامنے کھجور کے درخت کے بیچ کا گودا لایا گیا تھا۔ میں اس لئے خاموش رہا کہ میں اس مجلس میں سب سے کم عمر تھا۔ اور روایت میں ہے کہ جواب دینے والوں کا خیال اس وقت جنگلی درختوں کی طرف چلا گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ کسی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ حضور مالدار لوگ درجات میں بہت بڑھ گئے۔ آپ نے فرمایا کہ یاد رکھو اگر تمام دنیا کی چیزیں لگ کر انبار لگا دو تو بھی وہ آسمان تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ تجھے ایسا عمل بتلاؤں جس کی جڑ مضبوط اور جس کی شاخیں آسمان میں ہیں اس نے پوچھا وہ کیا ؟ فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ واللہ اکبر و سبحان اللہ والحمد للہ) ہر فرض نماز کے بعد دس بار کہہ لیا کرو جس کی اصل مضبوط اور جس کی فرع آسمان میں ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ پاکیزہ درخت جنت میں ہے۔ ہر وقت اپنا پھل لائے یعنی صبح شام یا ہر ماہ میں یا ہر دو ماہ میں یا ہر ششماہی میں یا ہر ساتویں مہینے یا ہر سال۔ لیکن الفاظ کا ظاہری مطلب تو یہ ہے کہ مومن کی مثال اس درخت جیسی ہے جس کے پھل ہر وقت جاڑے گرمی میں دن رات میں اترتے رہتے ہیں اسی طرح مومن کے نیک اعمال دن رات کے ہر وقت چڑھتے رہتے ہیں اس کے رب کے حکم سے یعنی کامل، اچھے، بہت اور عمدہ۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی عبرت ان کی سوچ سمجھ اور ان کی نصیحت کے لئے مثالیں واضح فرماتا ہے۔ پھر برے کلمہ کی یعنی کافر کی مثال بیان فرمائی۔ جس کی کوئی اصل نہیں، جو مضبوط نہیں، اس کی مثال اندرائن کے درخت سے دی۔ جسے حنظل اور شریان کہتے ہیں۔ ایک موقوف روایت میں حضرت انس ؓ سے بھی آیا ہے اور یہی روایت مرفوعا بھی آئی ہے۔ اس درخت کی جڑ زمین کی تہ میں نہیں ہوتی جھٹکا مارا اور اکھڑ آیا۔ اسی طرح سے کفر بےجڑ اور بےشاخ ہے، کافر کا نہ کوئی نیک عمل چڑھے نہ مقبول ہو۔
وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ ٱجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ ٱلْأَرْضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٍ
Wa masalu kalimatin khabeesatin kashajaratin khabee satinij tussat min fawqil ardi maa lahaa min qaraar
And the example of a bad word is like a bad tree, uprooted from the surface of the earth, not having any stability.
اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے (نہ جڑ مستحکم نہ شاخیں بلند) زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے گا اس کو ذرا بھی قرار (وثبات) نہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
لا الہ الا اللہ کی شہادت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ کلمہ طیبہ سے مراد لا الہ الا اللہ کی شہادت ہے۔ پاکیزہ درخت کی طرح کا مومن ہے اس کی جڑ مضبوط ہے۔ یعنی مومن کے دل میں لا الہ الا اللہ جما ہوا ہے اس کی شاخ آسمان میں ہے۔ یعنی اس توحید کے کلمہ کی وجہ سے اس کے اعمال آسمان کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور بھی بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہیں۔ کہ مراد اس سے مومن کے اعمال ہیں اور اس کے پاک اقوال اور نیک کام۔ مومن مثل کھجور کے درخت کے ہے۔ ہر وقت ہر صبح ہر شام اس کے اعمال آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجور کا ایک خوشہ لایا گیا۔ تو آپ نے اسی آیت کا پہلا حصہ تلاوت فرمایا اور فرمایا کہ پاک درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے منقول ہے کہ ہم آنحضور ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ جو آپ نے فرمایا مجھے بتلاؤ وہ کون سا درخت ہے جو مسلمان کے مشابہ ہے۔ جس کے پتے نہیں جھڑتے نہ جاڑوں میں نہ گرمیوں میں جو اپنا پھل ہر موسم میں لاتا رہتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں وہ درخت کھجور کا ہے۔ لیکن میں نے دیکھا کہ مجلس میں حضرت ابوبکر ہیں حضرت عمر ہیں اور وہ خاموش ہیں تو میں بھی چپ کا ہو رہا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ درخت کھجور کا ہے۔ جب یہاں سے اٹھ کر چلے تو میں نے اپنے والد حضرت عمر ؓ سے یہ ذکر کیا۔ تو آپ نے فرمایا پیارے بچے اگر تم یہ جواب دے دیتے تو مجھے تو تمام چیزوں کے مل جانے سے بھی زیادہ محبوب تھا۔ حضرت مجاہد ؒ کا بیان ہے کہ میں مدینہ شریف تک حضرت ابن عمر ؓ کے ساتھ رہا لیکن سوائے ایک حدیث کے اور کوئی روایت انہیں رسول اللہ ﷺ سے کرتے ہوئے نہیں سنا اس میں ہے کہ یہ سوال آپ نے اس وقت کیا۔ جب آپ کے سامنے کھجور کے درخت کے بیچ کا گودا لایا گیا تھا۔ میں اس لئے خاموش رہا کہ میں اس مجلس میں سب سے کم عمر تھا۔ اور روایت میں ہے کہ جواب دینے والوں کا خیال اس وقت جنگلی درختوں کی طرف چلا گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ کسی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ حضور مالدار لوگ درجات میں بہت بڑھ گئے۔ آپ نے فرمایا کہ یاد رکھو اگر تمام دنیا کی چیزیں لگ کر انبار لگا دو تو بھی وہ آسمان تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ تجھے ایسا عمل بتلاؤں جس کی جڑ مضبوط اور جس کی شاخیں آسمان میں ہیں اس نے پوچھا وہ کیا ؟ فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ واللہ اکبر و سبحان اللہ والحمد للہ) ہر فرض نماز کے بعد دس بار کہہ لیا کرو جس کی اصل مضبوط اور جس کی فرع آسمان میں ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ پاکیزہ درخت جنت میں ہے۔ ہر وقت اپنا پھل لائے یعنی صبح شام یا ہر ماہ میں یا ہر دو ماہ میں یا ہر ششماہی میں یا ہر ساتویں مہینے یا ہر سال۔ لیکن الفاظ کا ظاہری مطلب تو یہ ہے کہ مومن کی مثال اس درخت جیسی ہے جس کے پھل ہر وقت جاڑے گرمی میں دن رات میں اترتے رہتے ہیں اسی طرح مومن کے نیک اعمال دن رات کے ہر وقت چڑھتے رہتے ہیں اس کے رب کے حکم سے یعنی کامل، اچھے، بہت اور عمدہ۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی عبرت ان کی سوچ سمجھ اور ان کی نصیحت کے لئے مثالیں واضح فرماتا ہے۔ پھر برے کلمہ کی یعنی کافر کی مثال بیان فرمائی۔ جس کی کوئی اصل نہیں، جو مضبوط نہیں، اس کی مثال اندرائن کے درخت سے دی۔ جسے حنظل اور شریان کہتے ہیں۔ ایک موقوف روایت میں حضرت انس ؓ سے بھی آیا ہے اور یہی روایت مرفوعا بھی آئی ہے۔ اس درخت کی جڑ زمین کی تہ میں نہیں ہوتی جھٹکا مارا اور اکھڑ آیا۔ اسی طرح سے کفر بےجڑ اور بےشاخ ہے، کافر کا نہ کوئی نیک عمل چڑھے نہ مقبول ہو۔
يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱلْقَوْلِ ٱلثَّابِتِ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَفِى ٱلْـَٔاخِرَةِ وَيُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلظَّٰلِمِينَ وَيَفْعَلُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ
Yusabbitul laahul lazeena aamanoo bilqawlis saabiti fil hayaatid dunyaa wa fil Aakhirati wa yudillul laahuz zaalimeen; wa yaf'alul laahu maa yashaaa'
Allah keeps firm those who believe, with the firm word, in worldly life and in the Hereafter. And Allah sends astray the wrongdoers. And Allah does what He wills.
خدا مومنوں (کے دلوں) کو (صحیح اور) پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی (رکھے گا) اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کر دیتا ہے اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مسلمان سے جب اس کی قبر میں سوال ہوتا ہے تو وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد رسول اللہ ہیں یہی مراد اس آیت کی ہے۔ مسند میں ہے کہ ایک انصاری کے جنازے میں ہم آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھے قبرستان پہنچے ابھی تک قبر تیار نہ تھی۔ آپ بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے آس پاس ایسے بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر پرند ہیں۔ آپ کے ہاتھ میں جو تنکا تھا اس سے آپ زمین پر لکیریں نکال رہے تھے جو سر اٹھا کردو تین مرتبہ فرمایا کہ عذاب قبر سے اللہ کی پناہ چاہو بندہ جب دنیا کی آخرت اور آخرت کی پہلی گھڑی میں ہوتا ہے تو اس کے پاس آسمان سے نورانی چہرے والے فرشتے آتے ہیں۔ گویا کہ ان کے چہرے والے فرشتے آتے ہیں۔ گویا کہ ان کے چہرے سورج جیسے ہیں ان کے ساتھ جنتی کفن اور جنتی خوشبو ہوتی ہے اس کے پاس جہاں تک اس کی نگاہ کام کرے وہاں تک بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آ کر اس کے سرھانے بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں اے پاک روح اللہ تعالیٰ کی مغفرت اس کی رضامندی کی طرف چل وہ اس آسانی سے نکل آتی ہے جیسے کسی مشک سے پانی کا قطرہ ٹپ آیا ہو ایک آنکھ جھپکے کے برابر کی دیر ہی میں وہ فرشتے اسے ان کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے فورا لے لیتے ہیں اور جنتی کفن اور جنتی خوشبو میں رکھ لیتے ہیں۔ خود اس روح میں سے بھی مشک سے بھی عمدہ خوشبو نکلتی ہے کہ روئے زمین پر ایسی عمدہ خوشبو نہ سونگھی گئی ہو۔ وہ اسے لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں۔ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں وہ پوچھتے ہیں کہ یہ پاک روح کس کی ہے ؟ یہ اس کا جو بہترین نام دنیا میں مشہور تھا۔ وہ بتلاتے ہیں اور اس کے باپ کا نام بھی۔ آسمان دنیا تک پہنچ کر دروازے کھلواتے ہیں آسمان کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اور وہاں کے فرشتے اسے دوسرے آسمان تک اور دوسرے آسمان کے تیسرے آسمان تک۔ اسی طرح ساتویں آسمان پر وہ پہنچتا ہے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے میرے بندے کو کتاب علیین میں لکھ لو اور اسے زمین کی طرف لوٹا دو۔ میں نے اسی سے اسے پیدا کیا ہے اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا۔ پس اس کی روح اسی کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے اٹھا بٹھاتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے اللہ تعالیٰ۔ پھر پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ اسلام۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ وہ شخص کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا ؟ یہ کہتا ہے وہ رسول اللہ تھے۔ فرشتے پوچھتے ہیں تجھے کیسے معلوم ہوا ؟ وہ کہتا ہے میں نے کتاب اللہ پڑھی اس پر ایمان لایا اسے سچا مانا۔ اسی وقت آسمان سے ایک منادی ندا دیتا ہے۔ کہ میرا بندہ سچا ہے۔ اس کے لئے جنتی فرش بچھا دو اور جنتی لباس پہنا دو اور جنت کی طرف کا دروازہ کھول دو پس جنت کی روح پرور خوشبو دار ہواؤں کی لپٹیں اسے آنے لگتی ہیں اس کی قبر بقدر درازگی نظر کے وسیع کردی جاتی ہے۔ اس کے پاس ایک شخص خوبصورت نورانی چہرے والا عمدہ کپڑوں والا اچھی خوشبو والا آتا ہے اور اس سے کہتا ہے۔ آپ خوش ہوجائیں اسی دن کا وعدہ آپ دئے جاتے تھے۔ یہ اس سے پوچھتا ہے کہ آپ کون ہیں ؟ آپ کے چہرے سے بھلائی ہی بھلائی نظر آتی ہے۔ وہ جواب دیتا ہے۔ کہ تیرا نیک عمل ہوں۔ اس وقت مسلمان آرزو کرتا ہے کہ یا اللہ قیامت جلد قائم ہوجائے تو میں اپنے اہل و عیال اور ملک و مال کی طرف لوٹ جاؤں اور کافر بندہ جب دنیا کی آخری ساعت اور آخرت کی اول ساعت میں ہوتا ہے اس کے پاس سیاہ چہرے کے آسمانی فرشتے آتے ہیں اور ان کے ساتھ جہنمی ٹاٹ ہوتا ہے جہاں تک نگاہ پہنچے وہاں تک وہ بیٹھ جاتے ہیں پہر حضرت ملک الموت ؑ آ کر اس کے سرہانے بیٹھ کر فرماتے ہیں اے خبیث روح اللہ تعالیٰ کے غضب و قہر کی طرف چل۔ اس کی روح جسم میں چھپتی پھرتی ہے جسے بہت سختی کے ساتھ نکالا جاتا ہے۔ اسی وقت ایک آنکھ جھپکنے جتنی دیر میں اسے فرشتے ان کے ہاتھوں سے لے لیتے ہیں اور اس جہنمی بورے میں لپیٹ لیتے ہیں اس میں سے ایسی بدبو نکلتی ہے کہ روئے زمین پر اس سے زیادہ بدبو نہیں پائی گئی اب یہ اسے لے کر اوپر کو چڑھتے ہیں۔ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں وہ پوچھتے ہیں یہ خبیث روح کس کی ہے ؟ وہ اس کا بدترین نام جو دنیا میں تھا بتلاتے ہیں اور اس کے باپ کا نام بھی۔ آسمان دنیا تک پہنچ کر دروازہ کھلوانا چاہتے ہیں لیکن کھولا نہیں جاتا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے آیت (لا تفتح لہم ابو اب السما الخ کی تلاوت فرمائی کہ نہ ان کے لئے آسمان کے دروازے کھلیں نہ وہ جنت میں جاسکیں یہاں تک کہ سوئی کے ناکے میں سے اونٹ گزر جائے۔ اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے کہ اس کو کتاب سجین میں لکھ لو جو سب سے نیچے کی زمین میں ہے پس اس کو روح وہیں پھینک دی جاتی ہے۔ پھر آپ نے آیت (ومن یشرک باللہ فکانما خر من السماء) الخ، کی تلاوت فرمائی یعنی اللہ کے ساتھ جو شرک کرے گویا کہ وہ آسمان سے گرپڑا۔ یا تو اسے پرند اچک لے جائیں گے یا آندھی اسے کسی دور کے گڑھے میں پھینک مارے گی۔ پھر اس کی روح اسی جسم میں لوٹائی جاتی ہے اس کے پاس دو فرشتے پہنچتے ہیں جو اسے اٹھا بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ ہائے ہائے مجھے نہیں معلوم۔ پھر پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے مجھے اس کا بھی علم نہیں۔ پھر پوچھتے ہیں وہ کون تھا جو تم میں بھیجا گیا تھا ؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے مجھے معلوم نہیں اسی وقت آسمان سے ایک منادی کی ندا آتی ہے کہ میرا بندہ جھوٹا ہے اس کے لئے جہنم کی آگ کا فرش کردو اور دوزخ کی جانب کا دروازہ کھول دو وہیں سے اسے دوزخی ہوا اور دوزخ کا جھونکا پہنچتا رہتا ہے اور اس کی قبر اس پر اتنی تنگ ہوجاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں۔ بڑی بری اور ڈراؤنی صورت والا برے میلے کچیلے خراب کپڑوں والا بڑی بدبو والا ایک شخص اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اب غمناک ہوجاؤ۔ اسی دن کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ یہ پوچھتا ہے تو کون ہے ؟ تیرے چہرے سے برائی برستی ہے۔ وہ کہتا ہے میں تیرے بداعمال کا مجسمہ ہوں تو یہ دعا کرتا ہے کہ یا اللہ قیامت قائم نہ ہو۔ (ابو داؤد نسائی ابن ماجہ وغیرہ) مسند میں ہے کہ نیک بندے کی روح نکلنے کے وقت آسمان و زمین کے درمیان کے فرشتے اور آسمانوں کے فرشتے سب اس پر رحمت بھیجتے ہیں اور آسمانوں کے دروازے اس کے لئے کھل جاتے ہیں ہر دروازے کے فرشتوں کی دعا ہوتی ہے کی اس کی پاک اور نیک روح ان کے دروازے سے چڑھائی جائے الخ اور برے شخص کے بارے میں اس میں ہے کہ اس کی قبر میں ایک اندھا بہرا گونگا فرشتہ مقرر ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں ایک گرز ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی بڑے پہاڑ پر مار دیا جائے تو وہ مٹی بن جائے۔ اس سے وہ اسے مارتا ہے یہ مٹی ہوجاتا ہے اسے اللہ عزوجل پھر لوٹاتا ہے۔ جیسا تھا ویسا ہی ہوجاتا ہے وہ اسے پھر وہی گرز ماتا ہے یہ ایسا چیختا ہے کہ اس کی چیخ کو سوائے انسانوں اور جن کے ہر کوئی سنتا ہے۔ قبر کا عذاب حضرت براء ؓ فرماتے ہیں اسی آیت سے قبر کے عذاب کا ثبوت ملتا ہے۔ حضرت عبداللہ اسی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں مراد اس سے قبر کے سوالوں کے جواب میں مومن کو استقامت کا ملنا ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جب بندہ قبر میں رکھا جاتا ہے لوگ منہ پھیرتے ہیں ابھی ان کی واپسی کی چال کی جوتیوں کی آہٹ اس کے کانوں ہی میں ہے جو دو فرشتے اس کے پاس پہنچ کر اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں کہ اس شخص کے بارے میں تو کیا کہتا ہے مومن جواب دیتا ہے کہ میری گواہی ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو اسے کہا جاتا ہے کہ دیکھ جہنم میں تیرا یہ ٹھکانا تھا۔ لیکن اب اسے بدل کر اللہ نے جنت کی یہ جگہ تجھے عنایت فرمائی ہے۔ فرماتے ہیں کہ اسے دونوں جگہ نظر آتی ہیں۔ حضرت قتادہ ؒ کا فرمان ہے کہ اس کی قبر ستر گز چوڑی کردی جاتی ہے اور قیامت تک سرسبزی سے بھری رہتی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اس امت کی آزمائش ان کی قبروں میں سے ہوتی ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ مومن اس وقت آرزو کرتا ہے کہ مجھے چھوڑ دو میں اپنے لوگوں کو یہ خوشخبری سنا دوں وہ کہتے ہیں ٹھہر جاؤ اس میں یہ بھی ہے کہ منافق کو بھی اس کی دونوں جگہیں دکھا دی جاتی ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ہر شخص جس پر مرا ہے اسی پر اٹھایا جاتا ہے۔ مومن اپنے ایمان پر منافق اپنے نفاق پر۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ فرشتہ جو آتا ہے اس کے ہاتھ میں لوہے کا ہتھوڑا ہوتا ہے مومن اللہ کی معبودیت اور توحید کی اور محمد ﷺ کی عبدیت اور رسالت کی گواہی دیتا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ اپنا جنت کا مکان دیکھ کر اس میں جانا چاہتا ہے۔ لیکن اسے کہا جاتا ہے ابھی یہیں آرام کرو۔ اس کے آخر میں ہے کہ صحابہ ؓ نے کہا یا رسول اللہ جب ایک فرشتے کو ہاتھ میں گرز لئے دیکھیں گے تو حواس کیسے قائم رہیں گے ؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھی۔ یعنی اللہ کی طرف سے انہیں ثابت قدمی ملتی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ روح نکلنے کے وقت مومن سے کہا جاتا ہے کہ اے اطمینان والی روح جو پاک جسم میں تھی۔ نکل تعریفوں والی ہو کر اور خوش ہوجا۔ راحت و آرام اور پھل پھول اور رحیم و کریم اللہ کی رحمت کے ساتھ۔ اس میں ہے کہ آسمان کے فرشتے اس روح کو مرحبا کہتے ہیں اور یہی خوشخبری سناتے ہیں۔ اس میں ہے کہ برے انسان کی روح کو کہا جاتا ہے کہ اے خبیث روح جو خبیث جسم میں تھی نکل بری بن کر اور تیار ہوجا آگ جیسا پانی پینے کے لئے اور لہو پیپ کھانے کے لئے اور اسی جیسے اور بیشمار عذابوں کے لئے اس میں ہے کہ آسمان کے فرشتے اس کے لئے دروازہ نہیں کھولتے اور کہتے ہیں بری ہو کر مذمت کے ساتھ لوٹ جا تیرے لئے دروازے نہیں کھلیں گے۔ اور روایت میں ہے کہ آسمانی فرشتے نیک روح کے لئے کہتے ہیں اللہ تجھ پر رحمت کرے اور اس جسم پر بھی جس میں تو تھی۔ یہاں تک کہ اسے اللہ عزوجل کے پاس پہنچاتے ہیں وہاں سے ارشاد ہوتا ہے کہ اسے آخری مدت تک کے لئے لے جاؤ۔ اس میں ہے کہ کافر کی روح کی بدبو کا بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے اپنی چادر مبارک اپنی ناک پر رکھ لی اور روایت میں ہے کہ رحمت کے فرشتے مومن کی روح کے لئے جنتی سفید ریشم لے کر اترتے ہیں۔ ایک ایک کے ہاتھ سے اس روح کو لینا چاہتا ہے۔ جب یہ پہلے کے مومنوں کی ارواح سے ملتی ہے۔ تو جیسے کوئی نیا آدمی سفر سے آئے اور اس کے گھر والے خوش ہوتے ہیں اس سے زیادہ یہ روحیں اس روح سے مل کر راضی ہوتی ہیں پھر پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے ؟ لیکن ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ ابھی سوال جواب نہ کرو ذرا آرام تو کرلینے دو۔ یہ تو غم سے ابھی ہی چھوٹی ہے۔ اور روایت میں ہے کہ کافر کی روح کو جب زمین کے دروازے کے پاس لاتے ہیں تو وہاں داروغہ فرشتے اس کی بدبو سے گھبراتے ہیں آخر اسے سب سے نیچے کی زمین میں پہنچاتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ مومنوں کی روحیں جابین میں اور کافروں کی روحیں برھوت نامی حضرموت کے قید خانے میں جمع رہتی ہیں۔ اس کی قبر بہت تنگ ہوجاتی ہے ترمذی میں ہے کہ میت کے قبر میں رکھے جانے کے بعد اس کے پاس دو سیاہ فام کیری آنکھوں والے فرشتے آتے ہیں ایک منکر دوسرا نکیر۔ اس کے جواب کو سن کر وہ کہتے ہیں کہ ہمیں علم تھا کہ تم ایسے ہی جواب دو گے پھر اس کی قبر کشادہ کردی جاتی ہے اور نورانی بنادی جاتی ہے۔ اور کہا جاتا ہے سوجا۔ یہ کہتا ہے کہ میں تو اپنے گھر والوں سے کہوں گا۔ لیکن وہ دونوں کہتے ہیں کہ دلہن کی سی بےفکری کی نیند سو جا۔ جسے اس کے اہل میں سے وہی جگاتا ہے جو اسے سب سے زیادہ پیارا ہو۔ یہاں تک کہ اللہ خود اسے اس خواب گاہ سے جگائے۔ منافق جواب میں کہتا ہے کہ لوگ جو کچھ کہتے تھے میں بھی کہتا رہا لیکن جانتا نہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم تو جانتے ہی تھے کہ تیرا یہ جواب ہوگا۔ اسی وقت زمین کو حکم دیا جاتا ہے کہ سمٹ جا۔ وہ سمٹتی ہے یہاں تک کہ اس پسلیاں ادھر ادھر گھس جاتی ہیں پھر اسے عذاب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت قائم کرے اور اسے اس کی قبر سے اٹھائے اور حدیث میں ہے کہ مومن کے جواب پر کہا جاتا ہے کہ اسی پر تو جیا اسی پر تیری موت ہوئی اور اسی پر تو اٹھایا جائے گا۔ ابن جریر میں فرمان رسول کریم ﷺ ہے۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میت تمہاری جوتیوں کی آہٹ سنتی ہے جب کہ تم اسے دفنا کر واپس لوٹتے ہو اگر وہ ایمان پر مرا ہے تو نماز اس کے سرہانے ہوتی ہے زکوٰۃ دائیں جانب ہوتی ہے روزہ بائیں طرف ہوتا ہے۔ نیکیاں مثلا صدقہ خیرات صلہ رحمی بھلائی لوگوں سے احسان وغیرہ اس کے پیروں کی طرف ہوتے ہیں جب اس کے سر کی طرف سے کوئی آتا ہے تو نماز کہتی ہے یہاں سے جانے کی جگہ نہیں۔ دائیں طرف سے زکوٰۃ روکتی ہے۔ بائیں طرف سے روزہ۔ پیروں کی طرف سے اور نیکیاں۔ پس اس سے کہا جاتا ہے بیٹھ جاؤ۔ وہ بیٹھ جاتا ہے اور اسے ایسا معلوم دیتا ہے کہ گویا سورج ڈوبنے کے قریب ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دیکھو جو ہم پوچھیں اس کا جواب دو۔ وہ کہتا ہے تم چھوڑو پہلے میں نماز ادا کرلوں۔ وہ کہتے ہیں وہ تو تو کرے گا ہی۔ ابھی تو ہمیں ہمارے سوالوں کا جواب دے۔ وہ کہتا ہے اچھا تم کیا پوچھتے ہو ؟ وہ کہتے ہیں اس شخص کے بارے میں تو کیا کہتا ہے اور کیا شہادت دیتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کیا حضرت محمد ﷺ کے بارے میں ؟ جواب ملتا ہے کہ ہاں آپ ہی کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میری گواہی ہے کہ آپ رسول اللہ ہیں آپ اللہ کے پاس سے ہمارے پاس دلیلیں لے کر آئے ہم نے آپ کو سچا مانا۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ تو اسی پر زندہ رکھا گیا اور اسی پر مرا اور انشاء اللہ اسی پر دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ پھر اس کی قبر ستر ہاتھ پھیلا دی جاتی ہے اور نورانی کردی جاتی ہے اور جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے دیکھ یہ ہے تیرا اصلی ٹھکانا۔ اب تو اسے خوشی اور راحت ہی راحت ہوتی ہے۔ پھر اس کی روح پاک روحوں میں سبز پرندوں کے قالب میں جنتی درختوں میں رہتی ہے۔ اور اس کا جسم جس سے اس کی ابتداء کی گئی تھی اسی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ یعنی مٹی کی طرف یہی اس آیت کا مطلب ہے اور روایت میں ہے کہ موت کے وقت کی راحت و نور کو دیکھ کر مومن اپنی روح کے نکل جانے کی تمنا کرتا ہے اور اللہ کو بھی اسی کی ملاقات محبوب ہوتی ہے۔ جب اس کی روح آسمان پر چڑھ جاتی ہے تو اس کے پاس مومنوں کی اور روحیں آتی ہیں اور اپنی جان پہچان کے لوگوں کی بابت اس سے سوالات کرتے ہیں۔ اگر یہ کہتا ہے کہ فلاں تو زندہ ہے تو خیر۔ اور اگر یہ کہتا ہے کہ فلاں تو مرچکا ہے تو یہ ناراض ہو کر کہتے ہیں یہاں نہیں لایا گیا۔ مومن کو اس کی قبر میں بیٹھا دیا جاتا ہے۔ پھر اس سے پوچھا جاتا ہے۔ تیرا نبی کون ہے ؟ یہ کہتا ہے میرے نبی محمد ﷺ ہیں۔ فرشتہ کہتا ہے کہ تیرا دین کیا ہے ؟ یہ جواب دیتا ہے میرا دین اسلام ہے۔ اسی میں ہے کہ اللہ کے دشمن کو جب موت آنے لگتی ہے اور یہ اللہ کی ناراضگی کے اسباب دیکھ لیتا ہے تو نہیں چاہتا کہ اس کی روح نکلے۔ اللہ بھی اس کی ملاقات سے ناخوش ہوتا ہے۔ اس میں ہے کہ اسے سوال جواب اور مارپیٹ کے بعد کہا جاتا ہے ایسا سو جیسے سانپ کٹا ہوا۔ اور روایت میں ہے کہ جب یہ حضور ﷺ کی رسالت کی گواہی دیتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تجھے کیسے معلوم ہوگیا کیا تو نے آپ کے زمانہ کو پایا ہے ؟ اس میں ہے کہ کافر کی قبر میں ایسا بہرا فرشتہ عذاب کرنے والا ہوتا ہے کہ جو نہ کبھی سنے نہ رحم کرے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں موت کے وقت مومن کے پاس فرشتے آ کر سلام کرتے ہیں جنت کی بشارت دیتے ہیں اس کے جنازے کے ساتھ چلتے ہیں لوگوں کے ساتھ اس کے جنازے کی نماز میں شرکت کرتے ہیں۔ اس میں ہے کہ کافروں کے پاس فرشتے آتے ہیں۔ ان کے چہروں پر ان کی کمر پر مار مارتے ہیں۔ اسے اس کی قبر میں جواب بھلا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ظالموں کو اللہ گمراہ کردیتا ہے۔ حضرت ابو قتادہ انصاری ؓ سے بھی ایسا ہی قول مروی ہے۔ اس میں ہے کہ مومن کہتا ہے کہ میرے نبی حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ ہیں کئی دفعہ اس سے سوال ہوتا ہے اور یہ یہی جواب دیتا ہے اسے جہنم کا ٹھکانا دکھا کر کہا جاتا ہے کہ اگر ٹیڑھا چلتا تو تیری یہ جگہ تھی۔ اور جنت کا ٹھکانا دکھا کر کہا جاتا ہے کہ توبہ کی وجہ سے یہ ٹھکانہ ہے۔ حضرت طاؤس ؒ فرماتے ہیں دنیا میں ثابت قدمی کلمہ توحید پر استقامت ہے اور آخرت میں ثابت قدمی منکر نکیر کے جواب کی ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں خیر اور عمل صالح کے ساتھ دنیا میں رکھے جاتے ہیں اور قبر میں بھی۔ ابو عبداللہ حکیم ترمذی اپنی کتاب نوادر الاصول میں لائے ہیں کہ صحابہ کی جماعت کے پاس آ کر حضور ﷺ نے مدینہ کی مسجد میں فرمایا کہ گزشتہ رات میں نے عجیب باتیں دیکھیں دیکھا کہ میرے ایک امتی کو عذاب قبر نے گھیر رکھا ہے آخر اس کے وضو نے آ کر اسے چھڑا لیا میرے ایک امتی کو دیکھا کہ شیطان اسے وحشی بنائے ہوئے ہیں لیکن ذکر اللہ نے آ کر اسے خلاصی دلوائی۔ ایک امتی کو دیکھا کہ عذاب کے فرشتوں نے اسے گھیر رکھا ہے۔ اس کی نماز نے آ کر اسے بچا لیا۔ ایک امتی کو دیکھا کہ پیاس کے مارے ہلاک ہو رہا ہے جب حوض پر جاتا ہے دھکے لگتے ہیں۔ اس کا روزہ آیا اور اس نے اسے پانی پلا دیا۔ اور آسودہ کردیا۔ آپ نے ایک اور امتی کو دیکھا کہ انبیاء حلقے باندھ باندھ کر بیٹھے ہیں یہ جس حلقے میں بیٹھنا چاہتا ہے وہاں والے اسے اٹھا دیتے ہیں۔ اسی وقت اس کی جنابت کا غسل آیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر میرے پاس بٹھا دیا۔ ایک امتی کو دیکھا کہ چاروں طرف سے اسے اندھیرا گھیرے ہوئے ہے اور اوپر نیچے سے بھی وہ اسی میں گھرا ہوا ہے جو اس کا حج اور عمرہ آیا اور اسے اس اندھیرے میں سے نکال کر نور میں پہنچا دیا۔ ایک امتی کو دیکھا کہ وہ مومنوں سے کلام کرنا چاہتا ہے لیکن وہ اس سے بولتے نہیں اسی وقت صلہ رحمی آئی اور اعلان کیا کہ اس سے بات چیت کرو چناچہ وہ بولنے چالنے لگے ایک امتی کو دیکھا کہ وہ اپنے منہ پر سے آگ کے شعلے ہٹانے کو ہاتھ بڑھا رہا ہے اتنے میں اس کی خیرات آئی اور اس کے منہ پر پردہ اور اوٹ ہوگئی اور اس کے سر پر سایہ بن گئی اپنے ایک امتی کو دیکھا کہ عذاب کے فرشتوں نے اسے ہر طرف سے قید کرلیا ہے۔ لیکن اس کا نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرنا آیا اور ان کے ہاتھوں سے چھڑا کر رحمت کے فرشتوں سے ملا دیا۔ اپنے ایک ایک امتی کو دیکھا کہ گھٹنوں گے بل گرا ہوا ہے۔ اور اللہ میں اور اس میں حجاب ہے اس کے اچھے اخلاق آئے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اللہ کے پاس پہنچا آئے۔ اپنے ایک امتی کو دیکھا کہ اس کا نامہ اعمال اس کی بائیں طرف سے آ رہا ہے لیکن اس کے خوف الہٰی نے آ کر اسے اس کے سامنے کردیا۔ اپنے ایک امتی کو میں نے جہنم کے کنارے کھڑا دیکھا اسی وقت اس کا اللہ سے کپکپانا آیا اور اسے جہنم سے بچا لے گیا۔ میں نے ایک امتی کو دیکھا کہ پل صراط پر لڑھکنیاں کھا رہا ہے کہ اس کا مجھ پر درود پڑھانا آیا اور ہاتھ تھام کر سیدھا کردیا۔ اور وہ پار اتر گیا ایک کو دیکھا کہ جنت کے دروازے پر پہنچا لیکن دروازہ بند ہوگیا۔ اسی وقت لا الہ الا اللہ کی شہادت پہنچی دروازے کھلوا دئے اور اسے جنت میں پہنچا دیا۔ قرطبی اس حدیث کو وارد کر کے فرماتے ہیں یہ حدیث بہت بڑی ہے اس میں ان مخصوص اعمال کا ذکر ہے جو مخصوص مصیبتوں سے نجات دلوانے والے ہیں (تذکرہ) اسی بارے میں حافظ ابو یعلی موصلی ؒ نے بھی ایک غریب مطول حدیث روایت کی ہے جس میں ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ملک الموت سے فرماتا ہے تو میرے دوست کے پاس جا۔ میں نے اسے آسانی اور سختی دونوں طرح سے آزما لیا ہر ایک حالت میں اسے اپنی خوشی میں خوش پایا تو جا اور اسے میرے پاس لے آ۔ کہ میں اسے ہر طرح کا آرام و عیش دوں۔ ملک الموت ؑ اپنے ساتھ پانچ سو فرشتوں کو لے کر چلتے ہیں ان کے پاس جنتی کفن وہاں کی خوشبو اور ریحان کے خوشے ہوتے ہیں جس کے سرے پر بیس رنگ ہوتے ہیں ہر رنگ کی خوشبو الگ الگ ہوتی ہے سفید ریشمی کپڑے میں اعلیٰ مشک بہ تکلف لپٹی ہوئی ہوتی ہے یہ سب آتے ہیں ملک الموت ؑ تو اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور فرشتے اس کے چاروں طرف بیٹھ جاتے ہیں ہر ایک کے ساتھ جو کچھ جنتی تحفہ ہے وہ اس کے اعضا پر رکھ دیا جاتا ہے اور سفید ریشم اور مشک اذفر اس کی ٹھوڑی تلے رکھ دیا جاتا ہے اس کے لئے جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور اس کی روح کبھی جنتی پھولوں سے کبھی جنتی لباسوں سے کبھی جنتی پھلوں سے اس طرح بہلائی جاتی ہے جیسے روتے ہوئے بچہ کو لوگ بہلاتے ہیں۔ اس وقت اس کی حوریں ہنس ہنس کر اس کی چاہت کرتی ہیں روح ان مناظر کو دیکھ کر بہت جلد جسمانی قید سے نکل جانے کا قصد کرتی ہے ملک الموت فرماتے ہیں ہاں اے پاک روح بغیر کانٹے کی بیریوں کی طرف اور لدے ہوئے کیلوں کی طرف اور لمبی لمبی چھاؤں کی طرف اور پانی کے جھرنوں کی طرف چل۔ واللہ ماں جس قدر بچے پر مہربان ہوتی ہے اس سے بھی زیادہ ملک الموت اس پر شفقت و رحمت کرتا ہے۔ اس لئے کہ اسے علم ہے کہ یہ محبوب الہٰی ہے اگر اسے ذرا سی بھی تکلیف پہنچی تو میرے رب کی ناراضگی مجھ پر ہوگی۔ بس اس طرح اس روح کو اس جسم سے الگ کرلیتا ہے جیسے گوندھے ہوئے آٹے میں سے بال۔ انہیں کے بارے میں فرمان الہٰی ہے کہ ان کی روح کو پاک فرشتے فوت کرتے ہیں۔ اور جگہ فرمان ہے کہ اگر وہ مقربین میں سے ہے تو اس کے لئے آرام و آسائش ہے۔ یعنی موت آرام کی اور آسائش کی ملنے والی اور دنیا کے بدلے کی جنت ہے۔ ملک الموت کے روح کو قبض کرتے ہی روح جسم سے کہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ عزوجل تجھے جزا خیر دے تو اللہ کی اطاعت کی طرف جلدی کرنے والا اور اللہ کی معصیت سے دیر کرنے والا تھا۔ تو نے آپ بھی نجات پائی اور مجھے بھی نجات دلوائی جسم بھی روح کو ایسا ہی جواب دیتا ہے۔ زمین کے وہ تمام حصے جن پر یہ عبادت الہٰی کرتا تھا اس کے مرنے سے چالیس دن تک روتے ہیں اسی طرح آسمان کے وہ کل دروازے جن سے اس کے نیک اعمال چڑھتے تھے اور جن سے اس کی روزیاں اترتی تھیں اس پر روتے ہیں۔ اس وقت وہ پانچ سو فرشتے اس جسم کے ارد گرد کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس کے نہلانے میں شامل رہتے ہیں انسان اس کی کروٹ بدلے اس سے پہلے خود فرشتے بدلے اس سے پہلے خود فرشتے بدل دیتے ہیں اور اسے نہلا کر انسانی کفن سے پہلے اپنا ساتھ لایا ہوا کفن پہنا دیتے ہیں ان کی خوشبو سے پہلے اپنی خوشبو لگا دیتے ہیں اور اس کے گھر کے دروازے سے لے کر اس کی قبر تک دو طرفہ صفیں باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس کے لئے استغفار کرنے لگتے ہیں اس وقت شیطان اس زور سے رنج کے ساتھ چیختا ہے کہ اس کے جسم کی ہڈیاں ٹوٹ جائیں اور کہتا ہے میرے لشکریو تم برباد ہوجاؤ ہائے یہ تمہارے ہاتھوں سے کیسے بچ گیا ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ یہ تو معصوم تھا۔ جب اس کی روح کو لے کر ملک الموت چڑھتے ہیں تو حضرت جبرائیل ؑ ستر ہزار فرشتوں کو لے کر اس کا استقبال کرتے ہیں ہر ایک اسے جدگانہ بشارت الہٰی سناتا ہے یہاں تک کہ اس کی روح عرش الہٰی کے پاس پہنچتی ہے وہاں جاتے ہی سجدے میں گر پڑتی ہے۔ اسی وقت جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ میرے بندے کی روح کو بغیر کانٹوں کی بیروں میں اور تہ بہ تہ کیلوں کے درختوں میں اور لمبے لمبے سایوں میں اور بہتے پانیوں میں جگہ دو۔ پھر جب اسے قبر میں رکھا جاتا ہے تو دائیں طرف نماز کھڑی ہوجاتی ہے بائیں جانب روزہ کھڑا ہوجاتا ہے سر کی طرف قرآن آجاتا ہے نمازوں کو چل کر جانا پیروں کی طرف ہوتا ہے ایک کنارے صبر کھڑا ہوجاتا ہے، عذاب کی ایک گردن لپکتی آتی ہے لیکن دائیں جانب سے نماز اسے روک دیتی ہے کہ یہ ہمیشہ چوکنا رہا اب اس قبر میں آ کر ذرا راحت پائی ہے وہ بائیں طرف سے آتی ہے یہاں سے روزہ یہی کہہ کر اسے آنے نہیں دیتا سرہانے سے آتی ہے یہاں سے قرآن اور ذکر یہی کہہ کر آڑے آتے ہیں وہ پائنتیوں سے آتی ہے یہاں اسے اس کا نمازوں کے لئے چل کر جانا اسے روک دیتا ہے غرض چاروں طرف سے اللہ کے محبوب کے لئے روک ہوجاتی ہے اور عذاب کو کہیں سے راہ نہیں ملتی وہ واپس چلا جاتا ہے اس وقت صبر کہتا ہے کہ میں دیکھ رہا تھا کہ اگر تم سے ہی یہ عذاب دفع ہوجائے تو مجھے بولنے کی کیا ضرورت ؟ ورنہ میں بھی اس کی حمایت کرتا اب میں پل صراط پر اور میزان کے وقت اس کے کام آؤں گا۔ اب دو فرشتے بھیجے جاتے ہیں ایک کو نکیر کہا جاتا ہے دوسرے کو منکر۔ یہ اچک لے جانے والی بجلی جیسے ہوتے ہیں ان کے دانت سیہ جیسے ہوتے ہیں ان کے سانس سے شعلے نکلتے ہیں ان کے بال پیروں تلے لٹکتے ہوتے ہیں ان کے دو کندھوں کے درمیان اتنی اتنی مسافت ہوتی ہے۔ ان کے دل نرمی اور رحمت سے بالکل خالی ہوتے ہیں ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ہتھوڑے ہوتے ہیں کہ اگر قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر جمع ہو کر اسے اٹھانا چاہیں تو ناممکن۔ وہ آتے ہی اسے کہتے ہیں اٹھ بیٹھ۔ یہ اٹھ کر سیدھے طرح بیٹھ جاتا ہے اس کا کفن اس کے پہلو پر آجاتا ہے وہ اس سے پوچھتے ہیں تیرا رب کون ہے ؟ تیرا دین کیا ہے تیرا نبی کون ہے ؟ صحابہ سے نہ رہا گیا انہوں نے کہا رسول اللہ ایسے ڈراؤنے فرشتوں کو کون جواب دے سکے گا ؟ آپ نے اسی آیت (يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي 27) 14۔ ابراھیم :27) کی تلاوت فرمائی اور فرمایا وہ بےجھجک جواب دیتا ہے کہ میرا رب اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے اور میرا دین اسلام ہے جو فرشتوں کا بھی دین ہے اور میرے نبی محمد ہیں جو خاتم الانبیاء تھے ﷺ وہ کہتے ہیں آپ نے صحیح جواب دیا۔ اب تو وہ اس کے لئے اس کی قبر کو اس کے آگے سے اس کے دائیں سے اس کے بائیں سے اس کے پیچھے سے اس کے سر کی طرف سے اس کے پاؤں کی طرف سے چالیس چالیس ہاتھ کشادہ کردیتے ہیں دو سو ہاتھ کی وسعت کردیتے ہیں اور چالیس ہاتھ کا احاطہ کردیتے ہیں اور اس سے فرماتے ہیں اپنے اوپر نظریں اٹھا یہ دیکھتا ہے کہ جنت کا دروازہ کھلا ہوا ہے وہ کہتے ہیں اے اللہ کے دوست چونکہ تو نے اللہ کی بات مان لی تیری منزل یہ ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے اس وقت جو سرور و راحت اس کے دل کو ہوتی ہے وہ لازوال ہوتی ہے۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے اب اپنے نیچے کی طرف دیکھ۔ یہ دیکھتا ہے کہ جہنم کا دروازہ کھلا ہوا ہے فرشتے کہتے ہیں کہ دیکھ اس سے اللہ نے تجھے ہمیشہ کے لئے نجات بخشی پھر تو اس کا دل اتنا خوش ہوتا ہے کہ یہ خوشی ابد الا باد تک ہٹتی نہیں۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس کے لئے ستر دروازے جنت کے کھل جاتے ہیں جہاں سے باد صبا کی لپٹیں خوشبو اور ٹھنڈک کے ساتھ آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ اسے اللہ عزوجل اس کی اس خواب گاہ سے قیامت کے قائم ہوجانے پر اٹھائے۔ اسی اسناد سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ برے بندے کے لئے ملک الموت سے فرماتا ہے جا اور اس میرے دشمن کو لے آ۔ اسے میں نے تیری زندگی میں برکت دے رکھی تھی اپنی نعمتیں عطا فرما رکھی تھیں لیکن پھر بھی یہ میری نافرمانیوں سے نہ بچا اسے لے آتا کہ میں اس سے انتقام لوں اسی وقت حضرت ملک الموت ؑ اس کے سامنے انتہائی بد اور ڈراؤنی صورت میں آتے ہیں اسی کہ کسی نے اتنی بھیانک اور گھناؤنی صورت نہ دیکھی ہو بارہ آنکھیں ہوتی ہیں جہنم کا خار دار لباس ساتھ ہوتا ہے پانچ سو فرشتے جو جہنمی آگ کے انگارے اور آگ کے کوڑے اپنے ساتھ لئے ہوئے ہوتے ہیں ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ملک الموت وہ خار دار کھال جو جہنم کی آگ کی ہے اس کے جسم پر مارتے ہیں روئیں روئیں میں آگ کے کانٹے گھس جاتے ہیں پھر اس طرح گہماتے ہیں کہ اس کا جوڑ جوڑ ڈھیلا پڑجاتا ہے پھر اس کی ورح اس کے پاؤں کے انگوٹھوں سے کھینچتے ہیں اور اس کے گھٹنوں پر ڈال دیتے ہیں اس وقت اللہ کا دشمن بیہوش ہوجاتا ہے پس ملک الموت اسے اٹھا لیتے ہیں فرشتے اپنے جہنمی کوڑے اس کے چہرے پر اور پیٹھ پر مارتے ہیں پھر اس کے تہ بند باندھنے کی جگہ پر ڈال دیتے ہیں یہ دشمن رب اس وقت پھر بےتاب ہوجاتا ہے فرشتہ موت پھر اس بیہوشی کو اٹھا لیتا ہے اور فرشتے پھر اس کے چہرے پر اور کمر پر کوڑے برسانے لگتے ہیں آخر یہاں تک کہ روح سینے پر چڑھ جاتی ہے پھر حلق تک پہنچتی ہے پھر فرشتے جہنمی تانبے اور جہنمی انگاروں کو اس کو ٹھوڑی کے نیچے رکھ دیتے ہیں اور ملک الموت ؑ فرماتے ہیں اے لعین و ملعون روح چل سینک میں اور جھلستے پانی اور کالے سیاہ دھویں کے غبار میں جس میں نہ تو خنکی ہے نہ اچھی جگہ۔ جب یہ روح قبض ہوجاتی ہے تو اپنے جسم سے کہتی ہے اللہ تجھ سے سمجھے تو مجھے اللہ کی نافرمانیوں کی طرف بھگائے لئے جا رہا تھا۔ خود بھی ہلاک ہوا اور مجھے بھی برباد کیا۔ جسم بھی روح سے یہی کہتا ہے۔ زمین کے وہ تمام حصے جہاں یہ اللہ کی معصیت کرتا تھا اس پر لعنت کرنے لگتے ہیں شیطانی لشکر دوڑتا ہوا شیطان کے پاس پہنچتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم نے آج ایک کو جہنم میں پہنچا دیا۔ اس کی قبر اس قدر تنگ ہوجاتی ہے کہ اس کی دائیں پسلیاں بائیں میں اور بائیں دائیں میں گھس جاتی ہے کالے ناگ بختی اونٹوں کے برابر اس کی قبر میں بھیجے جاتے ہیں جو اس کے کانوں اور اس کے پاؤں کے انگوٹھوں سے اسے ڈسنا شروع کرتے ہیں اور اوپر چڑھتے آتے ہیں یہاں تک کہ وسط جسم میں مل جاتے ہیں۔ دو فرشتے بھیجے جاتے ہیں جن کی آنکھیں تیز بجلی جیسی جن کی آواز گرج جیسی جن کے دانت درندے جیسے جن کے لانس آگ کے شعلے جیسے جن کے بال پیروں کے نیچے تک جن کے دو مونڈھوں کے درمیان اتنی اتنی مسافت ہے جن کے دل میں رحمت و رحم کا نام نشان بھی نہیں جن کا نام ہی منکر نکیر ہے جن کے ہاتھ میں لوہے کے اتنے بڑے ہتھوڑے ہیں جنہیں ربیعہ اور مضرم مل کر بھی نہیں اٹھا سکتے وہ اسے کہتے ہیں اٹھ بیٹھ یہ سیدھا بیٹھ جاتا ہے اور تہ بند باندھنے کی جگہ اس کا کفن آپڑتا ہے وہ اس سے پوچھتے ہیں تیرا رب کون ہے ؟ تیرا دین کیا ہے ؟ تیرا نبی کون ہے ؟ یہ کہتا ہے مجھے تو کچھ خبر نہیں وہ کہتے ہیں ہاں نہ تو نے معلوم کیا نہ تو نے پڑھا پھر اس زور سے اسے ہتھوڑا مارتے ہیں کہ اس کے شرارے اس کی قبر کو پر کردیتے ہیں پھر لوٹ کر اس سے کہتے ہیں اپنے اوپر کو دیکھ یہ ایک کھلا ہوا دروازہ دیکھتا ہے وہ کہتے ہیں واللہ اگر تو اللہ کا فرمانبردار رہتا تو تیری یہ جگہ تھی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اب تو اسے وہ حسرت ہوتی ہے جو کبھی اس کے دل سے جدا نہیں ہونے کی۔ پھر وہ کہتے ہیں اب اپنے نیچے دیکھ وہ دیکھتا ہے کہ ایک دروازہ جہنم کا کھلا ہوا ہے فرشتے کہتے ہیں اے دشمن رب چونکہ تو نے اللہ کی مرضی کے خلاف کام کئے ہیں اب تیری جگہ یہ ہے واللہ اس وقت اس کا دل رنج و افسوس سے بیٹھ جاتا ہے جو صدمہ اسے کبھی بھولنے کا نہیں اس کے لئے ستر دروازے جہنم کے کھل جاتے ہیں جہاں سے گرم ہوا اور بھاپ اسے ہمیشہ ہی آیا کرتی ہے یہاں تک کہ اسے اللہ تعالیٰ اٹھا بٹھائے۔ یہ حدیث بہت غریب ہے اور یہ سیاق بہت عجیب ہے اور اس کا راوی یزید رقاضی جو حضرت انس ؓ کے نیچے کا راوی ہے اس کی غرائب و منکرات بہت ہیں اور ائمہ کے نزدیک وہ ضعیف الروایت ہے واللہ اعلم۔ ابو داؤد میں ہے حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کسی شخص کے دفن سے فارغ ہوتے تو وہاں ٹھیر جاتے اور فرماتے اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو اور اس کے لئے ثابت قدمی طلب کرو اس وقت اس سے سوال ہو رہا ہے۔ حافظ ابن مردویہ نے فرمان باری (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ 93) 6۔ الانعام :93) کی تفسیر میں ایک بہت لمبی حدیث وارد کی ہے وہ بھی غرائب سے پر ہے۔
أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ بَدَّلُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا۟ قَوْمَهُمْ دَارَ ٱلْبَوَارِ
Alam tara ilal lazeena baddaloo ni'matal laahi kufranw wa ahalloo qawmahum daaral bawaar
Have you not considered those who exchanged the favor of Allah for disbelief and settled their people [in] the home of ruin?
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کے احسان کو ناشکری سے بدل دیا۔ اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
منافقین قریش صحیح بخاری میں ہے الم تر معنی میں الم تعلم کے ہے یعنی کیا تو نہیں جانتا بوار کے معنی ہلاکت کے ہیں باریبوربورا سے بورا کے معنی ہلکین کے ہیں مراد ان لوگوں سے بقول ابن عباس ؓ کفار اہل مکہ ہیں اور قول ہے کہ مراد اس سے جبلہ بن ابہم اور اس کی اطاعت کرنے والے وہ عرب ہیں جو رومیوں سے مل گئے تھے لیکن مشہور اور صحیح قول ابن عباس ؓ کا اول ہی ہے۔ گو الفاظ اپنے عموم کے اعتبار سے تمام کفار مشتمل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو تمام عالم کے لئے رحمت بنا کر اور کل لوگوں کے لئے نعمت بنا کر بھیجا ہے جس نے اس رحمت و نعمت کی قدر دانی کی وہ جنتی ہے اور جس نے ناقدری کی وہ جہنمی ہے۔ حضرت علی ؓ سے بھی ایک قول حضرت ابن عباس کے پہلے قول کی موافقت میں مروی ہے ابن کوا کے جواب میں آپ نے یہی فرمایا تھا کہ یہ بدر کے دن کے کفار قریش ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ ایک شخص کے سوال پر آپ نے فرمایا مراد اس سے منافقین قریش ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت علی ؓ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ کیا مجھ سے قرآن کی بابت کوئی کچھ بات دریافت نہیں کرتا ؟ واللہ میرے علم میں اگر آج کوئی مجھ سے زیادہ قرآن کا عالم ہوتا تو چاہے وہ سمندروں پار ہوتا لیکن میں ضرور اس کے پاس پہنچتا۔ یہ سن کر عبداللہ بن کوا کھڑا ہوگیا اور کہا یہ کون لوگ ہیں جن کے بارے میں فرمان الہٰی ہے کہ انہوں نے اللہ کی نعمت ایمان پہنچی لیکن اس نعمت کو کفر سے بدلا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیا آپ نے فرمایا یہ مشریکن قریش ہیں ان کے پاس اللہ کی نعمت ایمان پہنچی لیکن اس نعمت کو انہوں نے کفر سے بدل دیا۔ اور روایت میں آپ سے مروی ہے کہ اس سے مراد قریش کے دو فاجر ہیں بنو امیہ اور بنو مغیرہ۔ بنو مغیرہ نے اپنی قوم کو بدر میں لا کھڑا کیا اور انہیں ہلاکت میں ڈالا اور بنو امیہ نے احد والے دن اپنے والوں کو غارت کیا۔ بدر میں ابو جہل تھا اور احد میں ابو سفیان اور ہلاکت کے گھر سے مراد جہنم ہے۔ اور روایت میں ہے کہ بنو مغیرہ تو بدر میں ہلاک ہوئے اور بنو امیہ کو کچھ دنوں کا فائدہ مل گیا۔ حضرت عمر ؓ سے بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی مروی ہے۔ ابن عباس ؓ نے جب آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا یہ دونوں قریش کے بدکار ہیں۔ میرے ماموں اور تیرے چچا، میری ممیاں والے تو بدر کے دن ناپید ہوگئے اور تیرے چچا والوں کو اللہ نے مہلت دے رکھی ہے۔ یہ جہنم میں جائیں گے جو بری جگہ ہے۔ انہوں نے خود شرک کیا دوسروں کو شرک کی طرف بلایا۔ اے نبی ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ دینا میں کچھ کھا پی لو پہن اوڑھ لو آخر ٹھکانا تو تمہارا جہنم ہے۔ جیسے فرمان ہے ہم انہیں یونہی سا آرام دے دیں گے پھر سخت عذابوں کی طرف بےبس کردیں گے دنیاوی نفع اگرچہ ہوگا لیکن لوٹیں گے تو ہماری ہی طرف اس وقت ہم انہیں ان کے کفر کی وجہ سے سخت عذاب کریں گے۔
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ ٱلْقَرَارُ
Jahannama yaslawnahaa wa bi'sal qaraar
[It is] Hell, which they will [enter to] burn, and wretched is the settlement.
(وہ گھر) دوزخ ہے۔ (سب ناشکرے) اس میں داخل ہوں گے۔ اور وہ برا ٹھکانہ ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
منافقین قریش صحیح بخاری میں ہے الم تر معنی میں الم تعلم کے ہے یعنی کیا تو نہیں جانتا بوار کے معنی ہلاکت کے ہیں باریبوربورا سے بورا کے معنی ہلکین کے ہیں مراد ان لوگوں سے بقول ابن عباس ؓ کفار اہل مکہ ہیں اور قول ہے کہ مراد اس سے جبلہ بن ابہم اور اس کی اطاعت کرنے والے وہ عرب ہیں جو رومیوں سے مل گئے تھے لیکن مشہور اور صحیح قول ابن عباس ؓ کا اول ہی ہے۔ گو الفاظ اپنے عموم کے اعتبار سے تمام کفار مشتمل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو تمام عالم کے لئے رحمت بنا کر اور کل لوگوں کے لئے نعمت بنا کر بھیجا ہے جس نے اس رحمت و نعمت کی قدر دانی کی وہ جنتی ہے اور جس نے ناقدری کی وہ جہنمی ہے۔ حضرت علی ؓ سے بھی ایک قول حضرت ابن عباس کے پہلے قول کی موافقت میں مروی ہے ابن کوا کے جواب میں آپ نے یہی فرمایا تھا کہ یہ بدر کے دن کے کفار قریش ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ ایک شخص کے سوال پر آپ نے فرمایا مراد اس سے منافقین قریش ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت علی ؓ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ کیا مجھ سے قرآن کی بابت کوئی کچھ بات دریافت نہیں کرتا ؟ واللہ میرے علم میں اگر آج کوئی مجھ سے زیادہ قرآن کا عالم ہوتا تو چاہے وہ سمندروں پار ہوتا لیکن میں ضرور اس کے پاس پہنچتا۔ یہ سن کر عبداللہ بن کوا کھڑا ہوگیا اور کہا یہ کون لوگ ہیں جن کے بارے میں فرمان الہٰی ہے کہ انہوں نے اللہ کی نعمت ایمان پہنچی لیکن اس نعمت کو کفر سے بدلا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیا آپ نے فرمایا یہ مشریکن قریش ہیں ان کے پاس اللہ کی نعمت ایمان پہنچی لیکن اس نعمت کو انہوں نے کفر سے بدل دیا۔ اور روایت میں آپ سے مروی ہے کہ اس سے مراد قریش کے دو فاجر ہیں بنو امیہ اور بنو مغیرہ۔ بنو مغیرہ نے اپنی قوم کو بدر میں لا کھڑا کیا اور انہیں ہلاکت میں ڈالا اور بنو امیہ نے احد والے دن اپنے والوں کو غارت کیا۔ بدر میں ابو جہل تھا اور احد میں ابو سفیان اور ہلاکت کے گھر سے مراد جہنم ہے۔ اور روایت میں ہے کہ بنو مغیرہ تو بدر میں ہلاک ہوئے اور بنو امیہ کو کچھ دنوں کا فائدہ مل گیا۔ حضرت عمر ؓ سے بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی مروی ہے۔ ابن عباس ؓ نے جب آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا یہ دونوں قریش کے بدکار ہیں۔ میرے ماموں اور تیرے چچا، میری ممیاں والے تو بدر کے دن ناپید ہوگئے اور تیرے چچا والوں کو اللہ نے مہلت دے رکھی ہے۔ یہ جہنم میں جائیں گے جو بری جگہ ہے۔ انہوں نے خود شرک کیا دوسروں کو شرک کی طرف بلایا۔ اے نبی ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ دینا میں کچھ کھا پی لو پہن اوڑھ لو آخر ٹھکانا تو تمہارا جہنم ہے۔ جیسے فرمان ہے ہم انہیں یونہی سا آرام دے دیں گے پھر سخت عذابوں کی طرف بےبس کردیں گے دنیاوی نفع اگرچہ ہوگا لیکن لوٹیں گے تو ہماری ہی طرف اس وقت ہم انہیں ان کے کفر کی وجہ سے سخت عذاب کریں گے۔
وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ أَندَادًا لِّيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِهِۦ قُلْ تَمَتَّعُوا۟ فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى ٱلنَّارِ
Wa ja'aloo lillaahi andaadal liyudilloo 'an sabeelih; qul tamatta'oo fa innaa maseerakum ilan Naar
And they have attributed to Allah equals to mislead [people] from His way. Say, "Enjoy yourselves, for indeed, your destination is the Fire."
اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کئے کہ (لوگوں کو) اس کے رستے سے گمراہ کریں۔ کہہ دو کہ (چند روز) فائدے اٹھا لو آخرکار تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
منافقین قریش صحیح بخاری میں ہے الم تر معنی میں الم تعلم کے ہے یعنی کیا تو نہیں جانتا بوار کے معنی ہلاکت کے ہیں باریبوربورا سے بورا کے معنی ہلکین کے ہیں مراد ان لوگوں سے بقول ابن عباس ؓ کفار اہل مکہ ہیں اور قول ہے کہ مراد اس سے جبلہ بن ابہم اور اس کی اطاعت کرنے والے وہ عرب ہیں جو رومیوں سے مل گئے تھے لیکن مشہور اور صحیح قول ابن عباس ؓ کا اول ہی ہے۔ گو الفاظ اپنے عموم کے اعتبار سے تمام کفار مشتمل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو تمام عالم کے لئے رحمت بنا کر اور کل لوگوں کے لئے نعمت بنا کر بھیجا ہے جس نے اس رحمت و نعمت کی قدر دانی کی وہ جنتی ہے اور جس نے ناقدری کی وہ جہنمی ہے۔ حضرت علی ؓ سے بھی ایک قول حضرت ابن عباس کے پہلے قول کی موافقت میں مروی ہے ابن کوا کے جواب میں آپ نے یہی فرمایا تھا کہ یہ بدر کے دن کے کفار قریش ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ ایک شخص کے سوال پر آپ نے فرمایا مراد اس سے منافقین قریش ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت علی ؓ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ کیا مجھ سے قرآن کی بابت کوئی کچھ بات دریافت نہیں کرتا ؟ واللہ میرے علم میں اگر آج کوئی مجھ سے زیادہ قرآن کا عالم ہوتا تو چاہے وہ سمندروں پار ہوتا لیکن میں ضرور اس کے پاس پہنچتا۔ یہ سن کر عبداللہ بن کوا کھڑا ہوگیا اور کہا یہ کون لوگ ہیں جن کے بارے میں فرمان الہٰی ہے کہ انہوں نے اللہ کی نعمت ایمان پہنچی لیکن اس نعمت کو کفر سے بدلا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیا آپ نے فرمایا یہ مشریکن قریش ہیں ان کے پاس اللہ کی نعمت ایمان پہنچی لیکن اس نعمت کو انہوں نے کفر سے بدل دیا۔ اور روایت میں آپ سے مروی ہے کہ اس سے مراد قریش کے دو فاجر ہیں بنو امیہ اور بنو مغیرہ۔ بنو مغیرہ نے اپنی قوم کو بدر میں لا کھڑا کیا اور انہیں ہلاکت میں ڈالا اور بنو امیہ نے احد والے دن اپنے والوں کو غارت کیا۔ بدر میں ابو جہل تھا اور احد میں ابو سفیان اور ہلاکت کے گھر سے مراد جہنم ہے۔ اور روایت میں ہے کہ بنو مغیرہ تو بدر میں ہلاک ہوئے اور بنو امیہ کو کچھ دنوں کا فائدہ مل گیا۔ حضرت عمر ؓ سے بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی مروی ہے۔ ابن عباس ؓ نے جب آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا یہ دونوں قریش کے بدکار ہیں۔ میرے ماموں اور تیرے چچا، میری ممیاں والے تو بدر کے دن ناپید ہوگئے اور تیرے چچا والوں کو اللہ نے مہلت دے رکھی ہے۔ یہ جہنم میں جائیں گے جو بری جگہ ہے۔ انہوں نے خود شرک کیا دوسروں کو شرک کی طرف بلایا۔ اے نبی ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ دینا میں کچھ کھا پی لو پہن اوڑھ لو آخر ٹھکانا تو تمہارا جہنم ہے۔ جیسے فرمان ہے ہم انہیں یونہی سا آرام دے دیں گے پھر سخت عذابوں کی طرف بےبس کردیں گے دنیاوی نفع اگرچہ ہوگا لیکن لوٹیں گے تو ہماری ہی طرف اس وقت ہم انہیں ان کے کفر کی وجہ سے سخت عذاب کریں گے۔
قُل لِّعِبَادِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خِلَٰلٌ
Qul li'ibaadiyal lazeena aamanoo yuqeemus Salaata wa yunfiqoo mimmaa razaqnaahum sirranw wa 'alaaniyatam min qabli any yaatiya Yawmul laa bai'un feehi wa laa khilaal
[O Muhammad], tell My servants who have believed to establish prayer and spend from what We have provided them, secretly and publicly, before a Day comes in which there will be no exchange, nor any friendships.
(اے پیغمبر) میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ نماز پڑھا کریں اور اس دن کے آنے سے پیشتر جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہوگا اور نہ دوستی (کام آئے گی) ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے درپردہ اور ظاہر خرچ کرتے رہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
احسان اور احسن سلوک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی اطاعت کا اور اپنے حق ماننے کا اور مخلوق رب سے احسان وسلوک کرنے کا حکم دے رہا ہے فرماتا ہے کہ نماز برابر پڑھتے رہیں جو اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت ہے اور زکوٰۃ ضرور دیتے رہیں قرابت داروں کو بھی اور انجان لوگوں کو بھی۔ اقامت سے مراد وقت کی، حد کی، رکوع کی، خشوع کی، سجدے کی حفاظت کرنا ہے۔ اللہ کی دی ہوئی روزی اس کی راہ میں پوشیدہ اور کھلے طور پر اس کی خوشنودی کے لئے اوروں کو بھی دینی چاہئے تاکہ اس دن نجات ملے جس دن کوئی خریدو فروخت نہ ہوگی نہ کوئی دوستی آشنائی ہوگی۔ کوئی اپنے آپ کو بطور فدیے کے بیچنا بھی چاہے تو بھی ناممکن جیسے فرمان ہے آیت (فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ ۭ هِىَ مَوْلٰىكُمْ ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ 15) 57۔ الحدید :15) یعنی آج تم سے اور کافروں سے کوئی فدیہ اور بدلہ نہ لیا جائے گا۔ وہاں کسی کی دوستی کی وجہ سے کوئی چھوٹے گا نہیں بلکہ وہاں عدل و انصاف ہی ہوگا۔ خلال مصدر ہے۔ امراء لقیس کے شعر میں بھی یہ لفظ ہے۔ دنیا میں لین دین، محبت دوستی کام آجاتی ہے لیکن وہاں یہ چیز اگر اللہ کے لئے نہ ہو تو محض بےسود رہے گی۔ کوئی سودا گری۔ کوئی شناسا وہاں کام نہ آئے گا۔ زمین بھر کر سونا فدیے میں دینا چاہے لیکن رد ہے کسی کی دوستی کسی کی سفارش کافر کو کام نہ دے گی۔ فرمان الہٰی ہے آیت (وَاتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِىْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ 48) 2۔ البقرة :48) اس دن کے عذاب سے بچنے کی کوشش کرو، جس دن کوئی کسی کو کچھ کام نہ آئے گا، نہ کسی سے فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ کسی کو کسی کی شفاعت نفع دے گی نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا۔ فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ ۭ وَالْكٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ02504) 2۔ البقرة :254) ایمان دارو جو ہم نے تمہیں دے رکھا ہے، تم اس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ بیوپار ہے نہ دوستی نہ شفاعت۔ کافر ہی دراصل ظالم ہیں۔
ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَأَخْرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلْفُلْكَ لِتَجْرِىَ فِى ٱلْبَحْرِ بِأَمْرِهِۦ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلْأَنْهَٰرَ
Allaahul lazee khalaqas samaawaati wal arda wa anzala minas samaaa'i maaa'an faakhraja bihee minas samaraati rizqal lakum wa sakhkhara lakumul fulka litajriya fil bahri bi amrihee wa sakhkhara lakumul anhaar
It is Allah who created the heavens and the earth and sent down rain from the sky and produced thereby some fruits as provision for you and subjected for you the ships to sail through the sea by His command and subjected for you the rivers.
خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے مینہ برسایا پھر اس سے تمہارے کھانے کے لیے پھل پیدا کئے۔ اور کشتیوں (اور جہازوں) کو تمہارے زیر فرمان کیا تاکہ دریا (اور سمندر) میں اس کے حکم سے چلیں۔ اور نہروں کو بھی تمہارے زیر فرمان کیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
سب کچھ تمہارا مطیع ہے اللہ کی طرح طرح کی بیشمار نعمتوں کو دیکھو۔ آسمان کو اس نے ایک محفوظ چھت بنا رکھا ہے زمین کو بہترین فرش بنا رکھا ہے آسمان سے بارش برسا کر زمین سے مزے مزے کے پھل کھیتیاں باغات تیار کردیتا ہے۔ اسی کے حکم سے کشتیاں پانی کے اوپر تیرتی پھرتی ہیں کہ تمہیں ایک کنارے سے دوسرے کنارے اور ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچائیں تم وہاں کا مال یہاں، یہاں کا وہاں لے جاؤ، لے آؤ، نفع حاصل کرو، تجربہ بڑھاؤ۔ نہریں بھی اسی نے تمہارے کام میں لگا رکھی ہیں، تم ان کا پانی پیو، پلاؤ، اس سے کھیتیاں کرو، نہاؤ دھوؤ اور طرح طرح کے فائدے حاصل کرو۔ ہمیشہ چلتے پھرتے اور کبھی نہ تھکتے سورج چاند بھی تمہارے فائدے کے کاموں میں مشغول ہیں مقرر چال پر مقرر جگہ پر گردش میں لگے ہوئے ہیں۔ نہ ان میں تکرار ہو نہ آگا پیچھا، دن رات انہی کے آنے جانے سے پے درپے آتے جاتے رہتے ہیں ستارے اسی کے حکم کے ماتحت ہیں اور رب العالمین بابرکت ہے۔ کبھی دنوں کو بڑے کردیتا ہے کبھی راتوں کو بڑھا دیتا ہے، ہر چیز اپنے کام میں سر جھکائے مشغول ہے، وہ اللہ عزیز و غفار ہے۔ تمہاری ضرورت کی تمام چیزیں اس نے تمہارے لئے مہیا کردی ہیں تم اپنے حال و قال سے جن جن چیزوں کے محتاج تھے، اس نے سب کچھ تمہیں دے دی ہیں، مانگنے پر بھی وہ دیتا ہے اور بےمانگے بھی اس کا ہاتھ نہیں رکھتا۔ تم بھلا رب کی تمام نعمتوں کا شکریہ تو ادا کرو گے ؟ تم سے تو ان کی پوری گنتی بھی محال ہے۔ طلق بن حبیب ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ کا حق اس سے بہت بھاری ہے کہ بندے اسے ادا کرسکیں اور اللہ کی نعمتیں اس سے بہت زیادہ ہیں کہ بندے ان کی گنتی کرسکیں لوگو صبح شام توبہ استغفار کرتے رہو۔ صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ تیرے ہی لئے سب حمد و ثنا سزا وار ہے، ہماری ثنائیں ناکافی ہیں، پوری اور بےپرواہ کرنے والی نہیں اے اللہ تو معاف فرما۔ بزار میں آپ کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن انسان کے تین دیوان نکلیں گے ایک میں نیکیاں لکھی ہوئی ہوں گی اور دوسرے میں گناہ ہوں گے، تیسرے میں اللہ کی نعمتیں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں میں سے سب سے چھوٹی نعمت سے فرمائے گا کہ اٹھ اور اپنا معاوضہ اس کے نیک اعمال سے لے لے، اس سے اس کے سارے ہی عمل ختم ہوجائیں گے پھر بھی وہ یکسو ہو کر کہے گی کہ باری تعالیٰ میری پوری قیمت وصول نہیں ہوئی خیال کیجئے ابھی گناہوں کا دیوان یونہی الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ اگر بندے پر اللہ کا ارادہ رحم و کرم کا ہوا تو اب وہ اس کی نیکیاں بڑھا دے گا اور اس کے گناہوں سے تجاوز کرلے گا اور اس سے فرما دے گا کہ میں نے اپنی نعمتیں تجھے بغیر بدلے کے بخش دیں۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ مروی ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے اللہ تعالیٰ جل و علا سے دریافت کیا کہ میں تیرا شکر کیسے ادا کروں ؟ شکر کرنا خود بھی تو تیری ایک نعمت ہے جواب ملا کہ داؤد اب تو شکر ادا کرچکا جب کہ تو نے یہ جان لیا اور اس کا اقرار کرلیا کہ تو میری نعمتوں میں سے ایک نعمت کا شرک بھی بغیر ایک نئی نعمت کے ہم ادا نہیں کرسکتے کہ اس نئی نعمت پر پھر ایک شکر واجب ہوجاتا ہے پھر اس نعمت کی شکر گزاری کی ادائیگی کی توفیق پر پھر نعمت ملی، جس کا شکریہ واجب ہوا۔ ایک شاعر نے یہی مضمون اپنے شعروں میں باندھا ہے کہ رونگٹے رونگٹے پر زبان ہو تو بھی تیری ایک نعمت کا شکر بھی پورا ادا نہیں ہوسکتا تیرے احسانات اور انعامات بیشمار ہیں۔
وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ دَآئِبَيْنِ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ
Wa sakhkhara lakumush shamsa walqamara daaa'ibaini wa sakhkhara lakumul laila wannahaar
And He subjected for you the sun and the moon, continuous [in orbit], and subjected for you the night and the day.
اور سورج اور چاند کو تمہارے لیے کام میں لگا دیا کہ دونوں (دن رات) ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ اور رات اور دن کو بھی تمہاری خاطر کام میں لگا دیا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
سب کچھ تمہارا مطیع ہے اللہ کی طرح طرح کی بیشمار نعمتوں کو دیکھو۔ آسمان کو اس نے ایک محفوظ چھت بنا رکھا ہے زمین کو بہترین فرش بنا رکھا ہے آسمان سے بارش برسا کر زمین سے مزے مزے کے پھل کھیتیاں باغات تیار کردیتا ہے۔ اسی کے حکم سے کشتیاں پانی کے اوپر تیرتی پھرتی ہیں کہ تمہیں ایک کنارے سے دوسرے کنارے اور ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچائیں تم وہاں کا مال یہاں، یہاں کا وہاں لے جاؤ، لے آؤ، نفع حاصل کرو، تجربہ بڑھاؤ۔ نہریں بھی اسی نے تمہارے کام میں لگا رکھی ہیں، تم ان کا پانی پیو، پلاؤ، اس سے کھیتیاں کرو، نہاؤ دھوؤ اور طرح طرح کے فائدے حاصل کرو۔ ہمیشہ چلتے پھرتے اور کبھی نہ تھکتے سورج چاند بھی تمہارے فائدے کے کاموں میں مشغول ہیں مقرر چال پر مقرر جگہ پر گردش میں لگے ہوئے ہیں۔ نہ ان میں تکرار ہو نہ آگا پیچھا، دن رات انہی کے آنے جانے سے پے درپے آتے جاتے رہتے ہیں ستارے اسی کے حکم کے ماتحت ہیں اور رب العالمین بابرکت ہے۔ کبھی دنوں کو بڑے کردیتا ہے کبھی راتوں کو بڑھا دیتا ہے، ہر چیز اپنے کام میں سر جھکائے مشغول ہے، وہ اللہ عزیز و غفار ہے۔ تمہاری ضرورت کی تمام چیزیں اس نے تمہارے لئے مہیا کردی ہیں تم اپنے حال و قال سے جن جن چیزوں کے محتاج تھے، اس نے سب کچھ تمہیں دے دی ہیں، مانگنے پر بھی وہ دیتا ہے اور بےمانگے بھی اس کا ہاتھ نہیں رکھتا۔ تم بھلا رب کی تمام نعمتوں کا شکریہ تو ادا کرو گے ؟ تم سے تو ان کی پوری گنتی بھی محال ہے۔ طلق بن حبیب ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ کا حق اس سے بہت بھاری ہے کہ بندے اسے ادا کرسکیں اور اللہ کی نعمتیں اس سے بہت زیادہ ہیں کہ بندے ان کی گنتی کرسکیں لوگو صبح شام توبہ استغفار کرتے رہو۔ صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ تیرے ہی لئے سب حمد و ثنا سزا وار ہے، ہماری ثنائیں ناکافی ہیں، پوری اور بےپرواہ کرنے والی نہیں اے اللہ تو معاف فرما۔ بزار میں آپ کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن انسان کے تین دیوان نکلیں گے ایک میں نیکیاں لکھی ہوئی ہوں گی اور دوسرے میں گناہ ہوں گے، تیسرے میں اللہ کی نعمتیں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں میں سے سب سے چھوٹی نعمت سے فرمائے گا کہ اٹھ اور اپنا معاوضہ اس کے نیک اعمال سے لے لے، اس سے اس کے سارے ہی عمل ختم ہوجائیں گے پھر بھی وہ یکسو ہو کر کہے گی کہ باری تعالیٰ میری پوری قیمت وصول نہیں ہوئی خیال کیجئے ابھی گناہوں کا دیوان یونہی الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ اگر بندے پر اللہ کا ارادہ رحم و کرم کا ہوا تو اب وہ اس کی نیکیاں بڑھا دے گا اور اس کے گناہوں سے تجاوز کرلے گا اور اس سے فرما دے گا کہ میں نے اپنی نعمتیں تجھے بغیر بدلے کے بخش دیں۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ مروی ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے اللہ تعالیٰ جل و علا سے دریافت کیا کہ میں تیرا شکر کیسے ادا کروں ؟ شکر کرنا خود بھی تو تیری ایک نعمت ہے جواب ملا کہ داؤد اب تو شکر ادا کرچکا جب کہ تو نے یہ جان لیا اور اس کا اقرار کرلیا کہ تو میری نعمتوں میں سے ایک نعمت کا شرک بھی بغیر ایک نئی نعمت کے ہم ادا نہیں کرسکتے کہ اس نئی نعمت پر پھر ایک شکر واجب ہوجاتا ہے پھر اس نعمت کی شکر گزاری کی ادائیگی کی توفیق پر پھر نعمت ملی، جس کا شکریہ واجب ہوا۔ ایک شاعر نے یہی مضمون اپنے شعروں میں باندھا ہے کہ رونگٹے رونگٹے پر زبان ہو تو بھی تیری ایک نعمت کا شکر بھی پورا ادا نہیں ہوسکتا تیرے احسانات اور انعامات بیشمار ہیں۔
وَءَاتَىٰكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَإِن تَعُدُّوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ لَا تُحْصُوهَآ إِنَّ ٱلْإِنسَٰنَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ
Wa aataakum min kulli maa sa altumooh; wa in ta'uddoo ni'matal laahi laa tuhsoohaa; innal insaana lazaloo mun kaffaar
And He gave you from all you asked of Him. And if you should count the favor of Allah, you could not enumerate them. Indeed, mankind is [generally] most unjust and ungrateful.
اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں سے تم کو عنایت کیا۔ اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو۔ (مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
سب کچھ تمہارا مطیع ہے اللہ کی طرح طرح کی بیشمار نعمتوں کو دیکھو۔ آسمان کو اس نے ایک محفوظ چھت بنا رکھا ہے زمین کو بہترین فرش بنا رکھا ہے آسمان سے بارش برسا کر زمین سے مزے مزے کے پھل کھیتیاں باغات تیار کردیتا ہے۔ اسی کے حکم سے کشتیاں پانی کے اوپر تیرتی پھرتی ہیں کہ تمہیں ایک کنارے سے دوسرے کنارے اور ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچائیں تم وہاں کا مال یہاں، یہاں کا وہاں لے جاؤ، لے آؤ، نفع حاصل کرو، تجربہ بڑھاؤ۔ نہریں بھی اسی نے تمہارے کام میں لگا رکھی ہیں، تم ان کا پانی پیو، پلاؤ، اس سے کھیتیاں کرو، نہاؤ دھوؤ اور طرح طرح کے فائدے حاصل کرو۔ ہمیشہ چلتے پھرتے اور کبھی نہ تھکتے سورج چاند بھی تمہارے فائدے کے کاموں میں مشغول ہیں مقرر چال پر مقرر جگہ پر گردش میں لگے ہوئے ہیں۔ نہ ان میں تکرار ہو نہ آگا پیچھا، دن رات انہی کے آنے جانے سے پے درپے آتے جاتے رہتے ہیں ستارے اسی کے حکم کے ماتحت ہیں اور رب العالمین بابرکت ہے۔ کبھی دنوں کو بڑے کردیتا ہے کبھی راتوں کو بڑھا دیتا ہے، ہر چیز اپنے کام میں سر جھکائے مشغول ہے، وہ اللہ عزیز و غفار ہے۔ تمہاری ضرورت کی تمام چیزیں اس نے تمہارے لئے مہیا کردی ہیں تم اپنے حال و قال سے جن جن چیزوں کے محتاج تھے، اس نے سب کچھ تمہیں دے دی ہیں، مانگنے پر بھی وہ دیتا ہے اور بےمانگے بھی اس کا ہاتھ نہیں رکھتا۔ تم بھلا رب کی تمام نعمتوں کا شکریہ تو ادا کرو گے ؟ تم سے تو ان کی پوری گنتی بھی محال ہے۔ طلق بن حبیب ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ کا حق اس سے بہت بھاری ہے کہ بندے اسے ادا کرسکیں اور اللہ کی نعمتیں اس سے بہت زیادہ ہیں کہ بندے ان کی گنتی کرسکیں لوگو صبح شام توبہ استغفار کرتے رہو۔ صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ تیرے ہی لئے سب حمد و ثنا سزا وار ہے، ہماری ثنائیں ناکافی ہیں، پوری اور بےپرواہ کرنے والی نہیں اے اللہ تو معاف فرما۔ بزار میں آپ کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن انسان کے تین دیوان نکلیں گے ایک میں نیکیاں لکھی ہوئی ہوں گی اور دوسرے میں گناہ ہوں گے، تیسرے میں اللہ کی نعمتیں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں میں سے سب سے چھوٹی نعمت سے فرمائے گا کہ اٹھ اور اپنا معاوضہ اس کے نیک اعمال سے لے لے، اس سے اس کے سارے ہی عمل ختم ہوجائیں گے پھر بھی وہ یکسو ہو کر کہے گی کہ باری تعالیٰ میری پوری قیمت وصول نہیں ہوئی خیال کیجئے ابھی گناہوں کا دیوان یونہی الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ اگر بندے پر اللہ کا ارادہ رحم و کرم کا ہوا تو اب وہ اس کی نیکیاں بڑھا دے گا اور اس کے گناہوں سے تجاوز کرلے گا اور اس سے فرما دے گا کہ میں نے اپنی نعمتیں تجھے بغیر بدلے کے بخش دیں۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ مروی ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے اللہ تعالیٰ جل و علا سے دریافت کیا کہ میں تیرا شکر کیسے ادا کروں ؟ شکر کرنا خود بھی تو تیری ایک نعمت ہے جواب ملا کہ داؤد اب تو شکر ادا کرچکا جب کہ تو نے یہ جان لیا اور اس کا اقرار کرلیا کہ تو میری نعمتوں میں سے ایک نعمت کا شرک بھی بغیر ایک نئی نعمت کے ہم ادا نہیں کرسکتے کہ اس نئی نعمت پر پھر ایک شکر واجب ہوجاتا ہے پھر اس نعمت کی شکر گزاری کی ادائیگی کی توفیق پر پھر نعمت ملی، جس کا شکریہ واجب ہوا۔ ایک شاعر نے یہی مضمون اپنے شعروں میں باندھا ہے کہ رونگٹے رونگٹے پر زبان ہو تو بھی تیری ایک نعمت کا شکر بھی پورا ادا نہیں ہوسکتا تیرے احسانات اور انعامات بیشمار ہیں۔
وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِيمُ رَبِّ ٱجْعَلْ هَٰذَا ٱلْبَلَدَ ءَامِنًا وَٱجْنُبْنِى وَبَنِىَّ أَن نَّعْبُدَ ٱلْأَصْنَامَ
Wa iz qaala Ibraaheemu Rabbij 'al haazal balada aaminanw wajnubnee wa baniyya an na'budal asnaam
And [mention, O Muhammad], when Abraham said, "My Lord, make this city [Makkah] secure and keep me and my sons away from worshipping idols.
اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ میرے پروردگار اس شہر کو (لوگوں کے لیے) امن کی جگہ بنا دے۔ اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ بتوں کی پرستش کرنے لگیں بچائے رکھ
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حرمت و عظمت کا مالک شہر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ حرمت والا شہر مکہ ابتداء میں اللہ کی توحید پر ہی بنایا گیا تھا۔ اس کے اول بانی خلیل اللہ ؑ اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے بری تھے۔ انہی نے اس شہر کے باامن ہونے کی دعا کی تھی۔ جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ سب سے پہلا بابرکت اور باہدایت اللہ کا گھر مکہ شریف کا ہی ہے، جس میں بہت سی واضح نشانیوں کے علاوہ مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس شہر میں جو پہنچ گیا، امن وامان میں آگیا۔ اس شہر کو بنانے کے بعد خلیل اللہ نے دعا کی کہ اے اللہ اس شہر کو پر امن بنا۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسے بچے عطا فرمائے۔ حضرت اسماعیل کو دودھ پیتا اس کی والدہ کے ساتھ لے کر یہاں آئے تھے تب بھی آپ نے اس شہر کے باامن ہونے کی دعا کی تھی لیکن اس وقت کے الفاظ یہ تھے آیت (رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ 35ۭ) 14۔ ابراھیم :35) پس اس دعا میں بلد پر لام نہیں ہے، اس لئے کہ یہ دعا شہر کی آبادی سے پہلے کی ہے اور اب چونکہ شہر بس چکا تھا۔ بلد کو معرف بلام لائے۔ سورة بقرہ میں ہم ان چیزوں کو وضاحت و تفصیل کے ساتھ ذکر کر آئے ہیں۔ پھر دوسری دعا میں اپنی اولاد کو بھی شریک کیا۔ انسان کو لازم ہے کہ اپنی دعاؤں میں اپنے ماں باپ کو اور اولاد کو بھی شامل رکھے۔ پھر آپ نے بتوں کی گمراہی ان کا فتنہ اکثر لوگوں کا بہکا جانا بیان فرما کر ان سے اپنی بےزاری کا اظہار کیا اور انہیں اللہ کے حوالے کیا کہ وہ چاہے بخشے، چاہے سزا دے۔ جیسے روح اللہ ؑ بروز قیامت کہیں گے کیا اگر تو انہیں عذاب کر تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو تو عزیز و حکیم ہے۔ یہ یاد رہے کہ اس میں صرف اللہ کی مشیت اور اس کے ارادے کی طرف لوٹنا ہے نہ کہ اس کے واقع ہونے کو جائز سمجھنا ہے۔حضور ﷺ نے حضرت خلیل اللہ کا یہ قول اور حضرت روح اللہ کا قول آیت (اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ01108) 5۔ المآئدہ :118) ، تلاوت کر کے رو رو کر اپنی امت کو یاد کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل ؑ کو حکم فرمایا کہ جا کر دریافت کرو کہ کیوں رو رہے ہو ؟ آپ نے سبب بیان کیا حکم ہوا کہ جاؤ اور کہہ دو کہ آپ کو ہم آپ کی امت کے بارے میں خوش کردیں گے ناراض نہ کریں گے۔
رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ ٱلنَّاسِ فَمَن تَبِعَنِى فَإِنَّهُۥ مِنِّى وَمَنْ عَصَانِى فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
Rabbi innahunna adlalna kaseeram minan naasi faman tabi'anee fa innahoo minnee wa man 'asaanee fa innaka Ghafoorur Raheem
My Lord, indeed they have led astray many among the people. So whoever follows me - then he is of me; and whoever disobeys me - indeed, You are [yet] Forgiving and Merciful.
اے پروردگار انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سو جس شخص نے میرا کہا مانا وہ میرا ہے۔ اور جس نے میری نافرمانی کی تو تُو بخشنے والا مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
حرمت و عظمت کا مالک شہر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ حرمت والا شہر مکہ ابتداء میں اللہ کی توحید پر ہی بنایا گیا تھا۔ اس کے اول بانی خلیل اللہ ؑ اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے بری تھے۔ انہی نے اس شہر کے باامن ہونے کی دعا کی تھی۔ جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ سب سے پہلا بابرکت اور باہدایت اللہ کا گھر مکہ شریف کا ہی ہے، جس میں بہت سی واضح نشانیوں کے علاوہ مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس شہر میں جو پہنچ گیا، امن وامان میں آگیا۔ اس شہر کو بنانے کے بعد خلیل اللہ نے دعا کی کہ اے اللہ اس شہر کو پر امن بنا۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسے بچے عطا فرمائے۔ حضرت اسماعیل کو دودھ پیتا اس کی والدہ کے ساتھ لے کر یہاں آئے تھے تب بھی آپ نے اس شہر کے باامن ہونے کی دعا کی تھی لیکن اس وقت کے الفاظ یہ تھے آیت (رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ 35ۭ) 14۔ ابراھیم :35) پس اس دعا میں بلد پر لام نہیں ہے، اس لئے کہ یہ دعا شہر کی آبادی سے پہلے کی ہے اور اب چونکہ شہر بس چکا تھا۔ بلد کو معرف بلام لائے۔ سورة بقرہ میں ہم ان چیزوں کو وضاحت و تفصیل کے ساتھ ذکر کر آئے ہیں۔ پھر دوسری دعا میں اپنی اولاد کو بھی شریک کیا۔ انسان کو لازم ہے کہ اپنی دعاؤں میں اپنے ماں باپ کو اور اولاد کو بھی شامل رکھے۔ پھر آپ نے بتوں کی گمراہی ان کا فتنہ اکثر لوگوں کا بہکا جانا بیان فرما کر ان سے اپنی بےزاری کا اظہار کیا اور انہیں اللہ کے حوالے کیا کہ وہ چاہے بخشے، چاہے سزا دے۔ جیسے روح اللہ ؑ بروز قیامت کہیں گے کیا اگر تو انہیں عذاب کر تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو تو عزیز و حکیم ہے۔ یہ یاد رہے کہ اس میں صرف اللہ کی مشیت اور اس کے ارادے کی طرف لوٹنا ہے نہ کہ اس کے واقع ہونے کو جائز سمجھنا ہے۔حضور ﷺ نے حضرت خلیل اللہ کا یہ قول اور حضرت روح اللہ کا قول آیت (اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ01108) 5۔ المآئدہ :118) ، تلاوت کر کے رو رو کر اپنی امت کو یاد کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل ؑ کو حکم فرمایا کہ جا کر دریافت کرو کہ کیوں رو رہے ہو ؟ آپ نے سبب بیان کیا حکم ہوا کہ جاؤ اور کہہ دو کہ آپ کو ہم آپ کی امت کے بارے میں خوش کردیں گے ناراض نہ کریں گے۔
رَّبَّنَآ إِنِّىٓ أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِى بِوَادٍ غَيْرِ ذِى زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ ٱلْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ فَٱجْعَلْ أَفْـِٔدَةً مِّنَ ٱلنَّاسِ تَهْوِىٓ إِلَيْهِمْ وَٱرْزُقْهُم مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ
Rabbanaaa inneee askantu min zurriyyatee biwaadin ghairi zee zar'in 'inda Baitikal Muharrami Rabbanaa liyuqeemus Salaata faj'al af'idatam minan naasi tahweee ilaihim warzuqhum minas samaraati la'allahum yashkuroon
Our Lord, I have settled some of my descendants in an uncultivated valley near Your sacred House, our Lord, that they may establish prayer. So make hearts among the people incline toward them and provide for them from the fruits that they might be grateful.
اے پروردگار میں نے اپنی اولاد کو میدان (مکہ) میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت (وادب) والے گھر کے پاس لابسائی ہے۔ اے پروردگار تاکہ یہ نماز پڑھیں تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میوؤں سے روزی دے تاکہ (تیرا) شکر کریں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
دوسری دعا یہ دوسری دعا ہے پہلی دعا اس شہر کے آباد ہونے سے پہلے جب آپ حضرت اسماعیل ؑ کو مع ان کی والدہ صاحبہ کے یہاں چھوڑ کر گئے تھے۔ تب کی تھی اور یہ دعا اس شہر کے آباد ہوجانے کے بعد کی اسی لئے یہاں بیتک المحرم کا لفظ لائے اور نماز کے قائم کرنے کا بھی ذکر فرمایا۔ ابن جریر رحمۃ اللہ عیہ فرماتے ہیں یہ متعلق ہے لفظ المحرم ساتھ یعنی اسے باحرمت اس لئے بنایا ہے کہ یہاں والے باطمینان یہاں نمازیں ادا کرسکیں۔ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آپ نے فرمایا کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف جھکا دے، اگر سب لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکانے کی دعا ہوتی تو فارس و روم یہود و نصاری غرض تمام دنیا کے لوگ یہاں الٹ پڑتے۔ آپ نے صرف مسلمانوں کے لئے یہ دعا کی۔ اور دعا کرتے ہیں کہ انہیں پھل بھی عنایت فرما۔ یہ زمین زراعت کے قابل بھی نہیں اور دعا ہو رہی ہے پھلوں کی زوزی کی اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی جیسے ارشاد ہے آیت (اَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْــبٰٓى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 57) 28۔ القصص :57) یعنی کیا ہم نے انہیں حرمت و امن والی ایسی جگہ عنایت نہیں فرمائی ؟ جہاں ہر چیز کے پھل ان کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں جو خاص ہمارے پاس کی روزی ہے۔ پس یہ بھی اللہ کا خاص لطف و کرم عنایت و رحم ہے کہ شہر کی پیداوار کچھ بھی نہیں اور پھل ہر قسم کے وہاں موجود، چاروں طرف سے وہاں چلے آئیں۔ یہ ہے حضرت ابراہیم خلیل الرحمن صلوات اللہ وسلامہ علیہ کی دعا کی قبولیت۔
رَبَّنَآ إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِى وَمَا نُعْلِنُ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِى ٱلسَّمَآءِ
Rabbanaaa innaka ta'lamu maa nukhfee wa maa nu'lin; wa maa yakhfaa 'alal laahi min shai'in fil ardi wa laa fis samaaa'
Our Lord, indeed You know what we conceal and what we declare, and nothing is hidden from Allah on the earth or in the heaven.
اے پروردگار جو بات ہم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں تو سب جانتا ہے۔ اور خدا سے کوئی چیز مخفی نہیں (نہ) زمین میں نہ آسمان میں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
مناجات خلیل الرحمن ﷺ اپنی مناجات میں فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو میرے ارادے اور میرے مقصود کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری چاہت ہے کہ یہاں کے رہنے والے تیری رضا کے طالب اور فقط تیری طرف راغب رہیں۔ ظاہر و باطن تجھ پر روشن ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کا حل تجھ پر کھلا ہے۔ تیرا احسان ہے کہ اس پورے بڑھاپے میں تو نے میرے ہاں اولاد عطا فرمائی اور ایک پر ایک بچہ دیا۔ اسماعیل بھی، اسحاق بھی۔ تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے میں نے مانگا تو نے دیا پس تیرا شکر ہے۔ اے اللہ مجھے نمازوں کا پابند بنا اور میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ قائم رکھ۔ میری تمام دعائیں قبول فرما۔ ولوادی کی قرأت بعض نے والوالدی بھی کی ہے یہ بھی یاد رہے کہ یہ دعا اس سے پھلے کی ہے کہ آپ کو اللہ کی طرف سے معلوم ہوجائے کہ آپ کا والد اللہ کی دشمنی پر ہی مرا ہے۔ جب یہ ظاہر ہوگیا تو آپ اپنے والد سے بیزار ہوگئے۔ پس یہاں آپ اپنے ماں باپ کی اور تمام مومنوں کی خطاؤں کی معافی اللہ سے چاہتے ہیں کہ اعمال کے حساب اور بدلے کے دن قصور معاف ہوں۔
ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى وَهَبَ لِى عَلَى ٱلْكِبَرِ إِسْمَٰعِيلَ وَإِسْحَٰقَ إِنَّ رَبِّى لَسَمِيعُ ٱلدُّعَآءِ
Alhamdu lillaahil lazee wahaba lee 'alal kibari Ismaa'eela wa Ishaaq; inna Rabbee lasamee'ud du'aaa
Praise to Allah, who has granted to me in old age Ishmael and Isaac. Indeed, my Lord is the Hearer of supplication.
خدا کا شکر ہے جس نے مجھ کو بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے۔ بےشک میرا پروردگار سننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
مناجات خلیل الرحمن ﷺ اپنی مناجات میں فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو میرے ارادے اور میرے مقصود کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری چاہت ہے کہ یہاں کے رہنے والے تیری رضا کے طالب اور فقط تیری طرف راغب رہیں۔ ظاہر و باطن تجھ پر روشن ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کا حل تجھ پر کھلا ہے۔ تیرا احسان ہے کہ اس پورے بڑھاپے میں تو نے میرے ہاں اولاد عطا فرمائی اور ایک پر ایک بچہ دیا۔ اسماعیل بھی، اسحاق بھی۔ تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے میں نے مانگا تو نے دیا پس تیرا شکر ہے۔ اے اللہ مجھے نمازوں کا پابند بنا اور میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ قائم رکھ۔ میری تمام دعائیں قبول فرما۔ ولوادی کی قرأت بعض نے والوالدی بھی کی ہے یہ بھی یاد رہے کہ یہ دعا اس سے پھلے کی ہے کہ آپ کو اللہ کی طرف سے معلوم ہوجائے کہ آپ کا والد اللہ کی دشمنی پر ہی مرا ہے۔ جب یہ ظاہر ہوگیا تو آپ اپنے والد سے بیزار ہوگئے۔ پس یہاں آپ اپنے ماں باپ کی اور تمام مومنوں کی خطاؤں کی معافی اللہ سے چاہتے ہیں کہ اعمال کے حساب اور بدلے کے دن قصور معاف ہوں۔
رَبِّ ٱجْعَلْنِى مُقِيمَ ٱلصَّلَوٰةِ وَمِن ذُرِّيَّتِى رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ
Rabbij 'alnee muqeemas Salaati wa min zurriyyatee Rabbanaa wa taqabbal du'aaa'
My Lord, make me an establisher of prayer, and [many] from my descendants. Our Lord, and accept my supplication.
اے پروردگار مجھ کو (ایسی توفیق عنایت) کر کہ نماز پڑھتا رہوں اور میری اولاد کو بھی (یہ توفیق بخش) اے پروردگار میری دعا قبول فرما
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
مناجات خلیل الرحمن ﷺ اپنی مناجات میں فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو میرے ارادے اور میرے مقصود کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری چاہت ہے کہ یہاں کے رہنے والے تیری رضا کے طالب اور فقط تیری طرف راغب رہیں۔ ظاہر و باطن تجھ پر روشن ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کا حل تجھ پر کھلا ہے۔ تیرا احسان ہے کہ اس پورے بڑھاپے میں تو نے میرے ہاں اولاد عطا فرمائی اور ایک پر ایک بچہ دیا۔ اسماعیل بھی، اسحاق بھی۔ تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے میں نے مانگا تو نے دیا پس تیرا شکر ہے۔ اے اللہ مجھے نمازوں کا پابند بنا اور میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ قائم رکھ۔ میری تمام دعائیں قبول فرما۔ ولوادی کی قرأت بعض نے والوالدی بھی کی ہے یہ بھی یاد رہے کہ یہ دعا اس سے پھلے کی ہے کہ آپ کو اللہ کی طرف سے معلوم ہوجائے کہ آپ کا والد اللہ کی دشمنی پر ہی مرا ہے۔ جب یہ ظاہر ہوگیا تو آپ اپنے والد سے بیزار ہوگئے۔ پس یہاں آپ اپنے ماں باپ کی اور تمام مومنوں کی خطاؤں کی معافی اللہ سے چاہتے ہیں کہ اعمال کے حساب اور بدلے کے دن قصور معاف ہوں۔
رَبَّنَا ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ ٱلْحِسَابُ
Rabbanagh fir lee wa liwaalidaiya wa lilmu'mineena Yawma yaqoomul hisaab
Our Lord, forgive me and my parents and the believers the Day the account is established."
اے پروردگار حساب (کتاب) کے دن مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو مغفرت کیجیو
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
مناجات خلیل الرحمن ﷺ اپنی مناجات میں فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو میرے ارادے اور میرے مقصود کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری چاہت ہے کہ یہاں کے رہنے والے تیری رضا کے طالب اور فقط تیری طرف راغب رہیں۔ ظاہر و باطن تجھ پر روشن ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کا حل تجھ پر کھلا ہے۔ تیرا احسان ہے کہ اس پورے بڑھاپے میں تو نے میرے ہاں اولاد عطا فرمائی اور ایک پر ایک بچہ دیا۔ اسماعیل بھی، اسحاق بھی۔ تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے میں نے مانگا تو نے دیا پس تیرا شکر ہے۔ اے اللہ مجھے نمازوں کا پابند بنا اور میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ قائم رکھ۔ میری تمام دعائیں قبول فرما۔ ولوادی کی قرأت بعض نے والوالدی بھی کی ہے یہ بھی یاد رہے کہ یہ دعا اس سے پھلے کی ہے کہ آپ کو اللہ کی طرف سے معلوم ہوجائے کہ آپ کا والد اللہ کی دشمنی پر ہی مرا ہے۔ جب یہ ظاہر ہوگیا تو آپ اپنے والد سے بیزار ہوگئے۔ پس یہاں آپ اپنے ماں باپ کی اور تمام مومنوں کی خطاؤں کی معافی اللہ سے چاہتے ہیں کہ اعمال کے حساب اور بدلے کے دن قصور معاف ہوں۔
وَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ غَٰفِلًا عَمَّا يَعْمَلُ ٱلظَّٰلِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ ٱلْأَبْصَٰرُ
Wa laa tahsabannal laaha ghaafilan 'ammaa ya'maluz zaalimoon; innamaa yu'akh khiruhum li Yawmin tashkhasu feehil absaar
And never think that Allah is unaware of what the wrongdoers do. He only delays them for a Day when eyes will stare [in horror].
اور (مومنو) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں خدا ان سے بےخبر ہے۔ وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ (دہشت کے سبب) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ہولناک منظر ہوگا کوئی یہ نہ سمجھے کہ برائی کرنے والوں کی برائی کا اللہ کو علم ہی نہیں اس لئے یہ دنیا میں پھل پھول رہے ہیں، نہیں اللہ ایک ایک کے ایک ایک گھڑی کے برے بھلے اعمال سے بخوبی واقف ہے یہ ڈھیل خود اسکی دی ہوئی ہے کہ یا تو اس میں واپس ہوجائے یا پھر گناہوں میں بڑھ جائے یہاں تک کہ قیامت کا دن آجائے۔ جس دن کی ہولناکیاں آنکھیں پتھرا دیں گی، دیدے چڑھا دیں گی، سر اٹھائے پکارنے والے کی آواز کی طرف دوڑے چلے جائیں گے، کہیں ادھر ادھر نہ ہوں گے۔ سب کے سب پورے اطاعت گزار بن جائیں گے، دوڑے بھاگے حضور کی حاضری کیلئے بےتابانہ آئیں گے، آنکھیں نیچے کو نہ جھکیں گی، گھبراہٹ اور فکر کے مارے پلک سے پلک نہ جھپکے گی۔ دلوں کا یہ حال ہوگا کہ گویا اڑے جاتے ہیں۔ خالی پڑے ہیں۔ خوف کے سوا کوئی چیز نہیں۔ وہ حلقوم تک پہنچے ہوئے ہیں، اپنی جگہ سے ہٹے ہوئے ہیں، دہشت سے خراب ہو رہے ہیں۔
مُهْطِعِينَ مُقْنِعِى رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَأَفْـِٔدَتُهُمْ هَوَآءٌ
Muhti'eena muqni'ee ru'oosihim laa yartaddu ilaihim tarfuhum wa af'idatuhum hawaaa'
Racing ahead, their heads raised up, their glance does not come back to them, and their hearts are void.
(اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور ان کے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
ہولناک منظر ہوگا کوئی یہ نہ سمجھے کہ برائی کرنے والوں کی برائی کا اللہ کو علم ہی نہیں اس لئے یہ دنیا میں پھل پھول رہے ہیں، نہیں اللہ ایک ایک کے ایک ایک گھڑی کے برے بھلے اعمال سے بخوبی واقف ہے یہ ڈھیل خود اسکی دی ہوئی ہے کہ یا تو اس میں واپس ہوجائے یا پھر گناہوں میں بڑھ جائے یہاں تک کہ قیامت کا دن آجائے۔ جس دن کی ہولناکیاں آنکھیں پتھرا دیں گی، دیدے چڑھا دیں گی، سر اٹھائے پکارنے والے کی آواز کی طرف دوڑے چلے جائیں گے، کہیں ادھر ادھر نہ ہوں گے۔ سب کے سب پورے اطاعت گزار بن جائیں گے، دوڑے بھاگے حضور کی حاضری کیلئے بےتابانہ آئیں گے، آنکھیں نیچے کو نہ جھکیں گی، گھبراہٹ اور فکر کے مارے پلک سے پلک نہ جھپکے گی۔ دلوں کا یہ حال ہوگا کہ گویا اڑے جاتے ہیں۔ خالی پڑے ہیں۔ خوف کے سوا کوئی چیز نہیں۔ وہ حلقوم تک پہنچے ہوئے ہیں، اپنی جگہ سے ہٹے ہوئے ہیں، دہشت سے خراب ہو رہے ہیں۔
وَأَنذِرِ ٱلنَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ ٱلْعَذَابُ فَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَىٰٓ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ ٱلرُّسُلَ أَوَلَمْ تَكُونُوٓا۟ أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍ
Wa anzirin naasa Yawma yaateehimul 'azaabu fa yaqoolul lazeena zalamoo Rabbanaaa akhkhirnaaa ilaaa ajalin qareebin nujib da'wataka wa nattabi 'ir Rusul; awalam takoonooo aqsamtum min qablu maa lakum min zawaal
And, [O Muhammad], warn the people of a Day when the punishment will come to them and those who did wrong will say, "Our Lord, delay us for a short term; we will answer Your call and follow the messengers." [But it will be said], "Had you not sworn, before, that for you there would be no cessation?
اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کردو جب ان پر عذاب آجائے گا تب ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مدت مہلت عطا کر۔ تاکہ تیری دعوت (توحید) قبول کریں اور (تیرے) پیغمبروں کے پیچھے چلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے کہ تم کو (اس حال سے جس میں تم ہو) زوال (اور قیامت کو حساب اعمال) نہیں ہوگا
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
عذاب دیکھنے کے بعد ظالم اور ناانصاف لوگ اللہ کا عذاب دیکھ کر تمنائیں کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں کہ ہمیں ذرا سی مہلت مل جائے کہ ہم فرمابرداری کرلیں اور پیغمبروں کی اطاعت بھی کرلیں۔ اور آیت میں ہے موت کو دیکھ کر کہتے ہیں آیت (رب ارجعون) اے اللہ اب واپس لوٹا دے الخ یہی مضمون آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ) 63۔ المنافقون :9) میں ہے یعنی اے مسلمانوں تمہیں تمہارے مال اولاد یاد الہٰی سے غافل نہ کردیں۔ ایسا کرنے والے لوگ ظاہری خسارے میں ہیں۔ ہمارا دیا ہوا ہماری راہ میں دیتے رہو ایسا نہ ہو کہ موت کے وقت آرزو کرنے لگو کہ مجھے ذرا سی مہلت نہیں مل جائے تو میں خیرات ہی کرلوں اور نیک لوگوں میں مل جاؤں۔ یاد رکھو اجل آنے کے بعد کسی کو مہلت نہیں ملتی اور اللہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ محشر میں بھی ان کا یہی حال ہوگا۔ چناچہ سورة سجدہ کی آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِم 12 ) 32۔ السجدة :12) میں ہے کہ کاش کے تم گنہگاروں کو دیکھتے کہ وہ اپنے پروردگار کے روبرو سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہمیں ایک بار دنیا میں پھر بھیج دے کہ ہم یقین والے ہو کر نیک اعمال کرلیں۔ یہی بیان آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) اور آیت (وَهُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا 37) 35۔ فاطر :37) وغیرہ میں بھی ہے۔ یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ تم تو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ تمہاری نعمتوں کو زوال ہی نہیں قیامت کوئی چیز ہی نہیں مر کر اٹھنا ہی نہیں اب اس کا مزہ چکھو۔ یہ کہا کرتے تھے اور خوب مضبوط قسمیں کھا کھا کر دوسروں کو بھی یقین دلاتے تھے کہ مردوں کو اللہ زندہ نہ کرے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ تم دیکھ چکے کہ تم سے پہلے کے تم جیسوں کے ساتھ ہم نے کیا کیا ؟ ان کی مثالیں ہم تم سے بیان بھی کرچکے کہ ہمارے عذابوں نے کیسے انہیں غارت کردیا ؟ باوجود اس کے تم ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے اور چوکنا نہیں ہوتے۔ یہ گو کتنے ہی چلاک ہوں لیکن ظاہر ہے کہ اللہ کے سامنے کسی کی چالاکی نہیں چلتی۔ حضرت ابراہیم ؑ سے جس نے جھگڑا کیا تھا اس نے دو بچے گدھ کے پالے جب وہ بڑے ہوگئے۔ جوانی کو پہنچے قوت والے ہوگئے تو ایک چھوٹی سی چوکی کے ایک پائے سے ایک کو باندھ دیا دوسرے سے دوسرے کو باندھ دیا انہیں کھانے کو کچھ نہ دیا خود اپنے ایک ساتھی سمیت اس چوکی پر بیٹھ گیا اور ایک لکڑی کے سرے پر گوشت باندھ کر اسے اوپر کو اٹھایا بھوکے گدھ وہ کھانے کے لئے اوپر کو اڑے اور اپنے زور سے چوکی کو بھی لے اڑے اب جب کہ یہ اتنی بلندی پر پہنچ گئے کہ ہر چیز انہیں مکھی کی طرح کی نظر آنے لگی تو اس نے لکڑی جگا دی اب گوشت نیچے دکھائی دینے لگا اس لئے جانوروں نے پر سمیٹ کر گوشت لینے کے لئے نیچے اترنا شروع کیا اور تخت بھی نیچا ہونے لگا یہاں تک کہ زمین تک پہنچ گیا پس یہ ہیں وہ مکاریاں جن سے پہاڑوں کا زوال بھی ممکن سا ہوجائے۔ عبداللہ کی قرأت میں کاد مکرہم ہے حضرت علی ؓ حضرت ابی بن کعب ؓ اور حضرت عمر ؓ کی قرأت بھی یہی ہے یہ قصہ نمرود کا ہے جو کنعان کا بادشاہ تھا اس نے اس حیلے سے آسمان کا قبض چاہا تھا اس کے بعد قبطیوں کے بادشاہ فرعون کو بھی یہی خبط سمایا تھا بڑا بلند منارہ تعمیر کرایا تھا لیکن دونوں کی ناتوانی ضعیفی اور عاجزی ظاہر ہوگئی۔ اور ذلت و خواری پستی و تنزل کے ساتھ حقیر و ذلیل ہوئے۔ کہتے ہیں کہ جب بخت نصر اس حیلہ سے اپنے تخت کو بہت اونچا لے گیا یہاں تک کہ زمین اور زمین والے اس کی نظروں سے غائب ہوگئے تو اسے ایک قدرتی آواز آئی کہ اے سرکش طاغی کیا ارادہ ہے ؟ یہ ڈر گیا ذرا سی دیر بعد پھر اسے یہی غیب ندا سنائی دی اب تو اس کا پتہ پانی ہوگیا اور جلدی سے نیزہ جھکا کر اترنا شروع کردیا۔ حضرت مجاہد ؒ کی قرأت میں لتزول ہے بدلے میں لتزول کے ابن عباس ؓ ان کو نافیہ مانتے ہیں یعنی ان کے مکر پہاڑوں کو زائل نہیں کرسکتے۔ حسن بصری بھی یہی کہتے ہیں۔ ابن جریر ؒ اس کی توجیہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ ان کا شرک و کفر پہاڑوں وغیرہ کو ہٹا نہیں سکتا کوئی ضرر دے نہیں سکتا صرف اس کا وبال انہی کی جانوں پر ہے۔ میں کہتا ہوں اسی کے مشابہ یہ فرمان الہٰی بھی ہے آیت (ولا تمش فی الارض مرحا انک لن تخرق الارض ولن تبلغ الجبار طولا) زمین پر اکڑفوں سے نہ چل نہ تو تو زمین کو چیر سکتا ہے نہ پہاڑوں کی بلند کو پہنچ سکتا ہے۔ دوسرا قول ابن عباس ؓ کا یہ ہے کہ ان کا شرک پہاڑوں کو زائل کردینے والا ہے۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے آیت (تَكَاد السَّمٰوٰتُ يَــتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا 90 ۙ) 19۔ مریم :90) اس سے تو آسمانوں کا پھٹ جانا ممکن ہے۔ ضحاک و قتادہ کا بھی یہی قول ہے۔
وَسَكَنتُمْ فِى مَسَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ ٱلْأَمْثَالَ
Wa sakantum fee masaakinil lazeena zalamooo anfusahum wa tabaiyana lakum kaifa fa'alnaa bihim wa darabnaa lakumul amsaal
And you lived among the dwellings of those who wronged themselves, and it had become clear to you how We dealt with them. And We presented for you [many] examples."
اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے) کے لیے مثالیں بیان کر دی تھیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
عذاب دیکھنے کے بعد ظالم اور ناانصاف لوگ اللہ کا عذاب دیکھ کر تمنائیں کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں کہ ہمیں ذرا سی مہلت مل جائے کہ ہم فرمابرداری کرلیں اور پیغمبروں کی اطاعت بھی کرلیں۔ اور آیت میں ہے موت کو دیکھ کر کہتے ہیں آیت (رب ارجعون) اے اللہ اب واپس لوٹا دے الخ یہی مضمون آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ) 63۔ المنافقون :9) میں ہے یعنی اے مسلمانوں تمہیں تمہارے مال اولاد یاد الہٰی سے غافل نہ کردیں۔ ایسا کرنے والے لوگ ظاہری خسارے میں ہیں۔ ہمارا دیا ہوا ہماری راہ میں دیتے رہو ایسا نہ ہو کہ موت کے وقت آرزو کرنے لگو کہ مجھے ذرا سی مہلت نہیں مل جائے تو میں خیرات ہی کرلوں اور نیک لوگوں میں مل جاؤں۔ یاد رکھو اجل آنے کے بعد کسی کو مہلت نہیں ملتی اور اللہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ محشر میں بھی ان کا یہی حال ہوگا۔ چناچہ سورة سجدہ کی آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِم 12 ) 32۔ السجدة :12) میں ہے کہ کاش کے تم گنہگاروں کو دیکھتے کہ وہ اپنے پروردگار کے روبرو سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہمیں ایک بار دنیا میں پھر بھیج دے کہ ہم یقین والے ہو کر نیک اعمال کرلیں۔ یہی بیان آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) اور آیت (وَهُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا 37) 35۔ فاطر :37) وغیرہ میں بھی ہے۔ یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ تم تو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ تمہاری نعمتوں کو زوال ہی نہیں قیامت کوئی چیز ہی نہیں مر کر اٹھنا ہی نہیں اب اس کا مزہ چکھو۔ یہ کہا کرتے تھے اور خوب مضبوط قسمیں کھا کھا کر دوسروں کو بھی یقین دلاتے تھے کہ مردوں کو اللہ زندہ نہ کرے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ تم دیکھ چکے کہ تم سے پہلے کے تم جیسوں کے ساتھ ہم نے کیا کیا ؟ ان کی مثالیں ہم تم سے بیان بھی کرچکے کہ ہمارے عذابوں نے کیسے انہیں غارت کردیا ؟ باوجود اس کے تم ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے اور چوکنا نہیں ہوتے۔ یہ گو کتنے ہی چلاک ہوں لیکن ظاہر ہے کہ اللہ کے سامنے کسی کی چالاکی نہیں چلتی۔ حضرت ابراہیم ؑ سے جس نے جھگڑا کیا تھا اس نے دو بچے گدھ کے پالے جب وہ بڑے ہوگئے۔ جوانی کو پہنچے قوت والے ہوگئے تو ایک چھوٹی سی چوکی کے ایک پائے سے ایک کو باندھ دیا دوسرے سے دوسرے کو باندھ دیا انہیں کھانے کو کچھ نہ دیا خود اپنے ایک ساتھی سمیت اس چوکی پر بیٹھ گیا اور ایک لکڑی کے سرے پر گوشت باندھ کر اسے اوپر کو اٹھایا بھوکے گدھ وہ کھانے کے لئے اوپر کو اڑے اور اپنے زور سے چوکی کو بھی لے اڑے اب جب کہ یہ اتنی بلندی پر پہنچ گئے کہ ہر چیز انہیں مکھی کی طرح کی نظر آنے لگی تو اس نے لکڑی جگا دی اب گوشت نیچے دکھائی دینے لگا اس لئے جانوروں نے پر سمیٹ کر گوشت لینے کے لئے نیچے اترنا شروع کیا اور تخت بھی نیچا ہونے لگا یہاں تک کہ زمین تک پہنچ گیا پس یہ ہیں وہ مکاریاں جن سے پہاڑوں کا زوال بھی ممکن سا ہوجائے۔ عبداللہ کی قرأت میں کاد مکرہم ہے حضرت علی ؓ حضرت ابی بن کعب ؓ اور حضرت عمر ؓ کی قرأت بھی یہی ہے یہ قصہ نمرود کا ہے جو کنعان کا بادشاہ تھا اس نے اس حیلے سے آسمان کا قبض چاہا تھا اس کے بعد قبطیوں کے بادشاہ فرعون کو بھی یہی خبط سمایا تھا بڑا بلند منارہ تعمیر کرایا تھا لیکن دونوں کی ناتوانی ضعیفی اور عاجزی ظاہر ہوگئی۔ اور ذلت و خواری پستی و تنزل کے ساتھ حقیر و ذلیل ہوئے۔ کہتے ہیں کہ جب بخت نصر اس حیلہ سے اپنے تخت کو بہت اونچا لے گیا یہاں تک کہ زمین اور زمین والے اس کی نظروں سے غائب ہوگئے تو اسے ایک قدرتی آواز آئی کہ اے سرکش طاغی کیا ارادہ ہے ؟ یہ ڈر گیا ذرا سی دیر بعد پھر اسے یہی غیب ندا سنائی دی اب تو اس کا پتہ پانی ہوگیا اور جلدی سے نیزہ جھکا کر اترنا شروع کردیا۔ حضرت مجاہد ؒ کی قرأت میں لتزول ہے بدلے میں لتزول کے ابن عباس ؓ ان کو نافیہ مانتے ہیں یعنی ان کے مکر پہاڑوں کو زائل نہیں کرسکتے۔ حسن بصری بھی یہی کہتے ہیں۔ ابن جریر ؒ اس کی توجیہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ ان کا شرک و کفر پہاڑوں وغیرہ کو ہٹا نہیں سکتا کوئی ضرر دے نہیں سکتا صرف اس کا وبال انہی کی جانوں پر ہے۔ میں کہتا ہوں اسی کے مشابہ یہ فرمان الہٰی بھی ہے آیت (ولا تمش فی الارض مرحا انک لن تخرق الارض ولن تبلغ الجبار طولا) زمین پر اکڑفوں سے نہ چل نہ تو تو زمین کو چیر سکتا ہے نہ پہاڑوں کی بلند کو پہنچ سکتا ہے۔ دوسرا قول ابن عباس ؓ کا یہ ہے کہ ان کا شرک پہاڑوں کو زائل کردینے والا ہے۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے آیت (تَكَاد السَّمٰوٰتُ يَــتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا 90 ۙ) 19۔ مریم :90) اس سے تو آسمانوں کا پھٹ جانا ممکن ہے۔ ضحاک و قتادہ کا بھی یہی قول ہے۔
وَقَدْ مَكَرُوا۟ مَكْرَهُمْ وَعِندَ ٱللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ ٱلْجِبَالُ
Wa qad makaroo makrahum wa 'indal laahi makruhum wa in kaana makruhum litazoola minhul jibaal
And they had planned their plan, but with Allah is [recorded] their plan, even if their plan had been [sufficient] to do away with the mountains.
اور انہوں نے (بڑی بڑی) تدبیریں کیں اور ان کی (سب) تدبیریں خدا کے ہاں (لکھی ہوئی) ہیں گو وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
عذاب دیکھنے کے بعد ظالم اور ناانصاف لوگ اللہ کا عذاب دیکھ کر تمنائیں کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں کہ ہمیں ذرا سی مہلت مل جائے کہ ہم فرمابرداری کرلیں اور پیغمبروں کی اطاعت بھی کرلیں۔ اور آیت میں ہے موت کو دیکھ کر کہتے ہیں آیت (رب ارجعون) اے اللہ اب واپس لوٹا دے الخ یہی مضمون آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ) 63۔ المنافقون :9) میں ہے یعنی اے مسلمانوں تمہیں تمہارے مال اولاد یاد الہٰی سے غافل نہ کردیں۔ ایسا کرنے والے لوگ ظاہری خسارے میں ہیں۔ ہمارا دیا ہوا ہماری راہ میں دیتے رہو ایسا نہ ہو کہ موت کے وقت آرزو کرنے لگو کہ مجھے ذرا سی مہلت نہیں مل جائے تو میں خیرات ہی کرلوں اور نیک لوگوں میں مل جاؤں۔ یاد رکھو اجل آنے کے بعد کسی کو مہلت نہیں ملتی اور اللہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ محشر میں بھی ان کا یہی حال ہوگا۔ چناچہ سورة سجدہ کی آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِم 12 ) 32۔ السجدة :12) میں ہے کہ کاش کے تم گنہگاروں کو دیکھتے کہ وہ اپنے پروردگار کے روبرو سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہمیں ایک بار دنیا میں پھر بھیج دے کہ ہم یقین والے ہو کر نیک اعمال کرلیں۔ یہی بیان آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) اور آیت (وَهُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا 37) 35۔ فاطر :37) وغیرہ میں بھی ہے۔ یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ تم تو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ تمہاری نعمتوں کو زوال ہی نہیں قیامت کوئی چیز ہی نہیں مر کر اٹھنا ہی نہیں اب اس کا مزہ چکھو۔ یہ کہا کرتے تھے اور خوب مضبوط قسمیں کھا کھا کر دوسروں کو بھی یقین دلاتے تھے کہ مردوں کو اللہ زندہ نہ کرے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ تم دیکھ چکے کہ تم سے پہلے کے تم جیسوں کے ساتھ ہم نے کیا کیا ؟ ان کی مثالیں ہم تم سے بیان بھی کرچکے کہ ہمارے عذابوں نے کیسے انہیں غارت کردیا ؟ باوجود اس کے تم ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے اور چوکنا نہیں ہوتے۔ یہ گو کتنے ہی چلاک ہوں لیکن ظاہر ہے کہ اللہ کے سامنے کسی کی چالاکی نہیں چلتی۔ حضرت ابراہیم ؑ سے جس نے جھگڑا کیا تھا اس نے دو بچے گدھ کے پالے جب وہ بڑے ہوگئے۔ جوانی کو پہنچے قوت والے ہوگئے تو ایک چھوٹی سی چوکی کے ایک پائے سے ایک کو باندھ دیا دوسرے سے دوسرے کو باندھ دیا انہیں کھانے کو کچھ نہ دیا خود اپنے ایک ساتھی سمیت اس چوکی پر بیٹھ گیا اور ایک لکڑی کے سرے پر گوشت باندھ کر اسے اوپر کو اٹھایا بھوکے گدھ وہ کھانے کے لئے اوپر کو اڑے اور اپنے زور سے چوکی کو بھی لے اڑے اب جب کہ یہ اتنی بلندی پر پہنچ گئے کہ ہر چیز انہیں مکھی کی طرح کی نظر آنے لگی تو اس نے لکڑی جگا دی اب گوشت نیچے دکھائی دینے لگا اس لئے جانوروں نے پر سمیٹ کر گوشت لینے کے لئے نیچے اترنا شروع کیا اور تخت بھی نیچا ہونے لگا یہاں تک کہ زمین تک پہنچ گیا پس یہ ہیں وہ مکاریاں جن سے پہاڑوں کا زوال بھی ممکن سا ہوجائے۔ عبداللہ کی قرأت میں کاد مکرہم ہے حضرت علی ؓ حضرت ابی بن کعب ؓ اور حضرت عمر ؓ کی قرأت بھی یہی ہے یہ قصہ نمرود کا ہے جو کنعان کا بادشاہ تھا اس نے اس حیلے سے آسمان کا قبض چاہا تھا اس کے بعد قبطیوں کے بادشاہ فرعون کو بھی یہی خبط سمایا تھا بڑا بلند منارہ تعمیر کرایا تھا لیکن دونوں کی ناتوانی ضعیفی اور عاجزی ظاہر ہوگئی۔ اور ذلت و خواری پستی و تنزل کے ساتھ حقیر و ذلیل ہوئے۔ کہتے ہیں کہ جب بخت نصر اس حیلہ سے اپنے تخت کو بہت اونچا لے گیا یہاں تک کہ زمین اور زمین والے اس کی نظروں سے غائب ہوگئے تو اسے ایک قدرتی آواز آئی کہ اے سرکش طاغی کیا ارادہ ہے ؟ یہ ڈر گیا ذرا سی دیر بعد پھر اسے یہی غیب ندا سنائی دی اب تو اس کا پتہ پانی ہوگیا اور جلدی سے نیزہ جھکا کر اترنا شروع کردیا۔ حضرت مجاہد ؒ کی قرأت میں لتزول ہے بدلے میں لتزول کے ابن عباس ؓ ان کو نافیہ مانتے ہیں یعنی ان کے مکر پہاڑوں کو زائل نہیں کرسکتے۔ حسن بصری بھی یہی کہتے ہیں۔ ابن جریر ؒ اس کی توجیہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ ان کا شرک و کفر پہاڑوں وغیرہ کو ہٹا نہیں سکتا کوئی ضرر دے نہیں سکتا صرف اس کا وبال انہی کی جانوں پر ہے۔ میں کہتا ہوں اسی کے مشابہ یہ فرمان الہٰی بھی ہے آیت (ولا تمش فی الارض مرحا انک لن تخرق الارض ولن تبلغ الجبار طولا) زمین پر اکڑفوں سے نہ چل نہ تو تو زمین کو چیر سکتا ہے نہ پہاڑوں کی بلند کو پہنچ سکتا ہے۔ دوسرا قول ابن عباس ؓ کا یہ ہے کہ ان کا شرک پہاڑوں کو زائل کردینے والا ہے۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے آیت (تَكَاد السَّمٰوٰتُ يَــتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا 90 ۙ) 19۔ مریم :90) اس سے تو آسمانوں کا پھٹ جانا ممکن ہے۔ ضحاک و قتادہ کا بھی یہی قول ہے۔
فَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِۦ رُسُلَهُۥٓ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ ذُو ٱنتِقَامٍ
Falaa tahsabannal laaha mukhlifa wa'dihee Rusulah; innal laaha 'azeezun zuntiqaam
So never think that Allah will fail in His promise to His messengers. Indeed, Allah is Exalted in Might and Owner of Retribution.
تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا بےشک خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
انبیاء کی مدد اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کو مقرر اور موکد کر رہا ہے کہ دنیا آخرت میں دو اس نے اپنے رسولوں کی مدد کا وعدہ کیا ہے وہ کبھی اس کے خلاف کرنے والا نہیں۔ اس پر کوئی اور غالب نہیں وہ سب پر غالب ہے اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں اس کا چاہا ہو کر رہتا ہے۔ وہ کافروں سے ان کے کفر کا بدلہ ضرور لے گا قیامت کے دن ان پر حسرت و مایوسی طاری ہوگی۔ اس دن زمین ہوگی لیکن اس کے سوا اور ہوگی اسی طرح آسمان بھی بدل دئے جائیں گے۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ایسی سفید صاف زمین پر حشر کئے جائیں گے جیسے میدے کی سفید ٹکیا ہو جس پر کوئی نشان اور اونچ نہ ہوگی۔ مسند احمد میں ہے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں سب سے پہلے میں نے ہی اس آیت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا کہ اس وقت لوگ کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا پل صراط پر۔ اور روایت میں ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تم نے وہ بات پوچھی کہ میری امت میں سے کسی اور نے یہ بات مجھ سے نہیں پوچھی۔ اور روایت میں ہے کہ یہی سوال مائی صاحبہ ؓ کا آیت (وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 67) 39۔ الزمر :67) کے متعلق تھا اور آپ نے یہی جواب دیا تھا۔ حضرت ثوبان ؓ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا ایک یہودی عالم آیا اور اس نے آپ کا نام لے کر سلام علیک کہا میں نے اسے ایسے زور سے دھکا دیا کہ قریب تھا کہ گرپڑے اس نے مجھ سے کہا تو نے مجھے دھکا دیا ؟ میں نے کہا بےادب یا رسول اللہ نہیں کہتا ؟ اور آپ کا نام لیتا ہے اس نے کہا ہم تو جو نام ان کا ان کے گھرانے کے لوگوں نے رکھا ہے اسی نام سے پکاریں گے آپ نے فرمایا میرے خاندان نے میرا نام محمد ہی رکھا ہے۔ یہودی نے کہا سنئے میں آپ سے ایک بات دریافت کرنے آیا ہوں آپ نے فرمایا پھر میرا جواب تجھے کوئی نفع بھی دے گا ؟ اس نے کہا سن تو لوں گا آپ کے ہاتھ میں جو تنکا تھا اسے آپ نے زمین پر پھراتے ہوئے فرمایا کہ اچھا دریافت کرلو اس نے کہا سب سے پہلے پل صراط سے پار کون لوگ ہوں گے ؟ فرمایا مہاجرین فقراء اس نے پوچھا انہیں سب سے پہلے تحفہ کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا مچھلی کی کلیجی کی زیادتی۔ اس نے پوچھا اس کے بعد انہیں کیا غذا ملے گی۔ ؟ فرمایا جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت کے اطراف میں چرتا چگتا رہا تھا۔ اس نے پوچھا پھر پینے کو کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا جنتی نہر سلسبیل کا پانی۔ یہودی نے کہا آپ کے سب جواب برحق ہیں۔ اچھا اب میں ایک بات اور پوچھتا ہوں جسے یا تو نبی جانتا ہے یا دنیا کے اور دو ایک آدمی آپ نے فرمایا کیا میرا جواب تجھے کچھ فائدہ دے گا ؟ اس نے کہا سن تو لوں گا۔ بچے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا مرد کا خاص پانی سفید رنک کا ہوتا ہے اور جب عورت کا خاص پانی زرد رنگ کا۔ جب یہ دونوں جمع ہوتے ہیں تو اگر مرد کا پانی غالب آجائے تو بحکم الہٰی لڑکا ہوتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو اللہ کے حکم سے لڑکی ہوتی ہے۔ یہودی نے کہا بیشک آپ سچے ہیں اور یقینا آپ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ پھر وہ وآپس چلا گیا۔ اس وقت حضور ﷺ نے مجھے جواب سکھا دیا۔ (مسند احمد) ابن جریر طبری میں ہے کہ یہودی عالم کے پہلے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا اس وقت مخلوق اللہ کی مہمانی میں ہوگی پس اس کے پاس کی چیز ان سے عاجز نہ ہوگی۔ عمرو بن میمون ؒ کہتے ہیں یہ زمین بدل دی جائے گی اور زمین سفید میدے کی ٹکیا جیسی ہو کی جس میں نہ کوئی خون بہا ہوگا جس پر نہ کوئی خطا ہوئی ہوگی آنکھیں تیز ہوں گی داعی کی آواز کانوں میں ہوگی سب ننگے پاؤں ننگے بدن کھڑے ہوئے ہوں گے یہاں تک کہ پسینہ مثل لگام کے ہوجائے گا حضرت ابن مسعود ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ ایک مرفوع روایت میں ہے کہ سفید رنگ کی وہ زمین ہوگی جس پر نہ خون کا قطرہ گرا ہوگا نہ اس پر کسی گناہ کا عمل ہوا ہوگا۔ اسے مرفوع کرنے والا ایک ہی راوی ہے یعنی جریر بن ایوب اور وہ قوی نہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہودیوں کے پاس اپنا آدمی بھیجا پھر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھا جانتے ہو میں نے آدمی کیوں بھیجا ہے ؟ انہوں نے کہا اللہ ہی کو علم ہے اور اس کے رسول کو آپ نے فرمایا آیت (يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 48۔) 14۔ ابراھیم :48) کے بارے میں یاد رکھو وہ اس دن چاندی کی طرح سفید ہوگی۔ جب وہ لوگ آئے آپ نے ان سے پوچھا انہوں نے کہا کہ سفید ہوگی جیسے میدہ۔ اور بھی سلف سے مروی ہے کہ چاندی کی زمین ہوگی حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ آسمان سونے کا ہوگا۔ ابی فرماتے ہیں وہ باغات بنا ہوا ہوگا۔ محمد بن قیس کہتے ہیں زمین روٹی بن جائے گی کہ مومن اپنے قدموں تلے سے ہی کھا لیں۔ سعید بن جبیر ؓ بھی یہی فرماتے ہیں کہ زمین بدل کر روٹی بن جائے گی۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں قیامت کے دن ساری زمین آگ بن جائے گی اس کے پیچھے جنت ہوگی جس کی نعمتیں باہر سے ہی نظر آرہی ہوں گی لوگ اپنے پسینوں میں ڈوبے ہوئے ہوں گے ابھی حساب کتاب شروع نہ ہوا ہوگا۔ انسان کا پسینہ پہلے قدموں میں ہی ہوگا پھر بڑھ کر ناک تک پہنچ جائے گا بوجہ اس سختی اور گھبراہٹ اور خوفناک منظر کے جو اس کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ کعب ؒ کہتے ہیں آسمان باغات بن جائیں گے سمندر آگ ہوجائیں گے زمین بدل دی جائے گی۔ ابو داؤد کی حدیث میں ہے سمندر کا سفر صرف غازی یا حاجی یا عمرہ کرنے والے ہی کریں۔ کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے یا آگ کے نیچے سمندر ہے۔ صور کی مشہور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ زمین کو بسیط کر کے عکاظی چمڑے کی طرح کھینچے گا اس میں کوئی اونچ نیچ نظر نہ آئے پھر ایک ہی آواز کے ساتھ تمام مخلوق اس نئی زمین پر پھیل جائے گی پھر ارشاد ہے کہ تمام ہے کہ تمام مخلوق اپنی قبروں سے نکل کر اللہ تعالیٰ واحد وقہار کے سامنے رو برو ہوجائے گی وہ اللہ جو اکیلا ہے اور جو ہر چیز پر غالب ہے سب کی گردنیں اس کے سامنے خم ہیں اور سب اس کے تابع فرمان ہیں۔
يَوْمَ تُبَدَّلُ ٱلْأَرْضُ غَيْرَ ٱلْأَرْضِ وَٱلسَّمَٰوَٰتُ وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ ٱلْوَٰحِدِ ٱلْقَهَّارِ
Yawma tubaddalul ardu ghairal ardi wassamaawaatu wa barazoo lillaahil Waahidil Qahhaar
[It will be] on the Day the earth will be replaced by another earth, and the heavens [as well], and all creatures will come out before Allah, the One, the Prevailing.
جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی (بدل دیئے جائیں گے) اور سب لوگ خدائے یگانہ وزبردست کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
انبیاء کی مدد اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کو مقرر اور موکد کر رہا ہے کہ دنیا آخرت میں دو اس نے اپنے رسولوں کی مدد کا وعدہ کیا ہے وہ کبھی اس کے خلاف کرنے والا نہیں۔ اس پر کوئی اور غالب نہیں وہ سب پر غالب ہے اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں اس کا چاہا ہو کر رہتا ہے۔ وہ کافروں سے ان کے کفر کا بدلہ ضرور لے گا قیامت کے دن ان پر حسرت و مایوسی طاری ہوگی۔ اس دن زمین ہوگی لیکن اس کے سوا اور ہوگی اسی طرح آسمان بھی بدل دئے جائیں گے۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ایسی سفید صاف زمین پر حشر کئے جائیں گے جیسے میدے کی سفید ٹکیا ہو جس پر کوئی نشان اور اونچ نہ ہوگی۔ مسند احمد میں ہے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں سب سے پہلے میں نے ہی اس آیت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا کہ اس وقت لوگ کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا پل صراط پر۔ اور روایت میں ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تم نے وہ بات پوچھی کہ میری امت میں سے کسی اور نے یہ بات مجھ سے نہیں پوچھی۔ اور روایت میں ہے کہ یہی سوال مائی صاحبہ ؓ کا آیت (وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 67) 39۔ الزمر :67) کے متعلق تھا اور آپ نے یہی جواب دیا تھا۔ حضرت ثوبان ؓ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا ایک یہودی عالم آیا اور اس نے آپ کا نام لے کر سلام علیک کہا میں نے اسے ایسے زور سے دھکا دیا کہ قریب تھا کہ گرپڑے اس نے مجھ سے کہا تو نے مجھے دھکا دیا ؟ میں نے کہا بےادب یا رسول اللہ نہیں کہتا ؟ اور آپ کا نام لیتا ہے اس نے کہا ہم تو جو نام ان کا ان کے گھرانے کے لوگوں نے رکھا ہے اسی نام سے پکاریں گے آپ نے فرمایا میرے خاندان نے میرا نام محمد ہی رکھا ہے۔ یہودی نے کہا سنئے میں آپ سے ایک بات دریافت کرنے آیا ہوں آپ نے فرمایا پھر میرا جواب تجھے کوئی نفع بھی دے گا ؟ اس نے کہا سن تو لوں گا آپ کے ہاتھ میں جو تنکا تھا اسے آپ نے زمین پر پھراتے ہوئے فرمایا کہ اچھا دریافت کرلو اس نے کہا سب سے پہلے پل صراط سے پار کون لوگ ہوں گے ؟ فرمایا مہاجرین فقراء اس نے پوچھا انہیں سب سے پہلے تحفہ کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا مچھلی کی کلیجی کی زیادتی۔ اس نے پوچھا اس کے بعد انہیں کیا غذا ملے گی۔ ؟ فرمایا جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت کے اطراف میں چرتا چگتا رہا تھا۔ اس نے پوچھا پھر پینے کو کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا جنتی نہر سلسبیل کا پانی۔ یہودی نے کہا آپ کے سب جواب برحق ہیں۔ اچھا اب میں ایک بات اور پوچھتا ہوں جسے یا تو نبی جانتا ہے یا دنیا کے اور دو ایک آدمی آپ نے فرمایا کیا میرا جواب تجھے کچھ فائدہ دے گا ؟ اس نے کہا سن تو لوں گا۔ بچے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا مرد کا خاص پانی سفید رنک کا ہوتا ہے اور جب عورت کا خاص پانی زرد رنگ کا۔ جب یہ دونوں جمع ہوتے ہیں تو اگر مرد کا پانی غالب آجائے تو بحکم الہٰی لڑکا ہوتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو اللہ کے حکم سے لڑکی ہوتی ہے۔ یہودی نے کہا بیشک آپ سچے ہیں اور یقینا آپ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ پھر وہ وآپس چلا گیا۔ اس وقت حضور ﷺ نے مجھے جواب سکھا دیا۔ (مسند احمد) ابن جریر طبری میں ہے کہ یہودی عالم کے پہلے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا اس وقت مخلوق اللہ کی مہمانی میں ہوگی پس اس کے پاس کی چیز ان سے عاجز نہ ہوگی۔ عمرو بن میمون ؒ کہتے ہیں یہ زمین بدل دی جائے گی اور زمین سفید میدے کی ٹکیا جیسی ہو کی جس میں نہ کوئی خون بہا ہوگا جس پر نہ کوئی خطا ہوئی ہوگی آنکھیں تیز ہوں گی داعی کی آواز کانوں میں ہوگی سب ننگے پاؤں ننگے بدن کھڑے ہوئے ہوں گے یہاں تک کہ پسینہ مثل لگام کے ہوجائے گا حضرت ابن مسعود ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ ایک مرفوع روایت میں ہے کہ سفید رنگ کی وہ زمین ہوگی جس پر نہ خون کا قطرہ گرا ہوگا نہ اس پر کسی گناہ کا عمل ہوا ہوگا۔ اسے مرفوع کرنے والا ایک ہی راوی ہے یعنی جریر بن ایوب اور وہ قوی نہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہودیوں کے پاس اپنا آدمی بھیجا پھر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھا جانتے ہو میں نے آدمی کیوں بھیجا ہے ؟ انہوں نے کہا اللہ ہی کو علم ہے اور اس کے رسول کو آپ نے فرمایا آیت (يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 48۔) 14۔ ابراھیم :48) کے بارے میں یاد رکھو وہ اس دن چاندی کی طرح سفید ہوگی۔ جب وہ لوگ آئے آپ نے ان سے پوچھا انہوں نے کہا کہ سفید ہوگی جیسے میدہ۔ اور بھی سلف سے مروی ہے کہ چاندی کی زمین ہوگی حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ آسمان سونے کا ہوگا۔ ابی فرماتے ہیں وہ باغات بنا ہوا ہوگا۔ محمد بن قیس کہتے ہیں زمین روٹی بن جائے گی کہ مومن اپنے قدموں تلے سے ہی کھا لیں۔ سعید بن جبیر ؓ بھی یہی فرماتے ہیں کہ زمین بدل کر روٹی بن جائے گی۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں قیامت کے دن ساری زمین آگ بن جائے گی اس کے پیچھے جنت ہوگی جس کی نعمتیں باہر سے ہی نظر آرہی ہوں گی لوگ اپنے پسینوں میں ڈوبے ہوئے ہوں گے ابھی حساب کتاب شروع نہ ہوا ہوگا۔ انسان کا پسینہ پہلے قدموں میں ہی ہوگا پھر بڑھ کر ناک تک پہنچ جائے گا بوجہ اس سختی اور گھبراہٹ اور خوفناک منظر کے جو اس کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ کعب ؒ کہتے ہیں آسمان باغات بن جائیں گے سمندر آگ ہوجائیں گے زمین بدل دی جائے گی۔ ابو داؤد کی حدیث میں ہے سمندر کا سفر صرف غازی یا حاجی یا عمرہ کرنے والے ہی کریں۔ کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے یا آگ کے نیچے سمندر ہے۔ صور کی مشہور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ زمین کو بسیط کر کے عکاظی چمڑے کی طرح کھینچے گا اس میں کوئی اونچ نیچ نظر نہ آئے پھر ایک ہی آواز کے ساتھ تمام مخلوق اس نئی زمین پر پھیل جائے گی پھر ارشاد ہے کہ تمام ہے کہ تمام مخلوق اپنی قبروں سے نکل کر اللہ تعالیٰ واحد وقہار کے سامنے رو برو ہوجائے گی وہ اللہ جو اکیلا ہے اور جو ہر چیز پر غالب ہے سب کی گردنیں اس کے سامنے خم ہیں اور سب اس کے تابع فرمان ہیں۔
وَتَرَى ٱلْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِينَ فِى ٱلْأَصْفَادِ
Wa taral mujrimeena Yawma 'izim muqarraneena filasfaad
And you will see the criminals that Day bound together in shackles,
اور اس دن تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
جکڑے ہوئے مفسد انسان زمین و آسمان بدلے ہوئے ہیں۔ مخلوق اللہ کے سامنے کھڑی ہے، اس دن اے نبی ﷺ تم دیکھو گے کہ کفر و فساد کرنے والے گنہگار آپس میں جکڑے بندھے ہوئے ہوں گے ہر ہر قسم کے گنہگار دوسروں سے ملے جلے ہوئے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کی جوڑ کے لوگوں کو اکٹھا کرو اور آیت میں ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفس کے جوڑے ملا دئے جائیں۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا 13ۭ) 25۔ الفرقان :13) یعنی جب کہ جہنم کے تنگ مکان میں وہ ملے جلے ڈالے جائیں گے تو ہاں وہ موت موت پکاریں گے۔ حضرت سلیمان ؑ کے جنات کی بابت بھی آیت (وَّاٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ 38) 38۔ ص :38) کا لفظ ہے۔ اصفاد کہتے ہیں قید کی زنجیروں کو عمرو بن کلثوم کے شعر میں مصفد زنجیروں میں جکڑے ہوئے قیدی کے معنی میں آیا ہے۔ جو کپڑے انہیں پہنائے جائیں گے وہ گندھک کے ہوں گے جو اونٹوں کو لگایا جاتا ہے اسے آگ تیزی اور سرعت سے پکڑتی ہے یہ لفظ قطران بھی ہے قطران بھی ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ پگھلے ہوئے تانبے کو قطران کہتے ہیں اس سخت گرم آگ جیسے تانبے کے ان دوزخیوں کے لباس ہوں گے۔ ان کے منہ بھی آپ میں ڈھکے ہوئے ہوں گے چہروں تک آگ چڑھی ہوئی ہوگی۔ سر سے شعلے بلند ہو رہے ہوں گے۔ منہ بگڑ گئے ہوں گے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میری امت میں چار کام جاہلیت کے ہیں جو ان سے نہ چھوٹیں گے حسب پر فخر۔ نسب میں طعنہ زنی۔ ستاروں سے بارش کی طلبی۔ میت پر نوحہ کرنے والی نے اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرلی تو اسے قیامت کے دن گندھک کا کرتا اور کھجلی کا دوپٹا پہنایا جائے گا۔ مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ اور روایت میں ہے کہ وہ جنت دوزخ کے درمیان کھڑی کی جائے گی گندھک کا کرتا ہوگا اور منہ پر آگ کھیل رہی ہوگی۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کے کاموں کا بدلہ دے گا۔ بروں کی برائیاں سامنے آجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ بہت ہی جلد ساری مخلوق کے حساب سے فارغ ہوجائے گا۔ ممکن ہے یہ آیت بھی مثل آیت (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ ۚ) 21۔ الأنبیاء :1) کے ہو یعنی لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا لیکن پھر بھی وہ غفلت کے ساتھ منہ پھیرے ہوئے ہی ہیں۔ اور ممکن ہے کہ بندے کے حساب کے وقت کا بیان ہو۔ یعنی بہت جلد حساب سے فارغ ہوجائے گا۔ کیونکہ وہ تمام باتوں کا جاننے والا ہے اس پر ایک بات بھی پوشیدہ نہیں۔ جیسے ایک ویسے ہی ساری مخلوق۔ جیسے فرمان ہے (مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 28) 31۔ لقمان :28) تم سب کی پیدائش اور مرنے کے بعد کا زندہ کردینا مجھ پر ایسا ہی ہے جیسے ایک کو مارنا اور جلانا۔ یہی معنی مجاہد ؒ کے قول کے ہیں کہ حساب کے احاطے میں اللہ تعالیٰ بہت جلدی کرنے والا ہے۔ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں یعنی وقت حساب بھی قریب اور اللہ کو حساب میں دیر بھی نہیں۔ ادھر شروع ہوا ادھر ختم ہوا واللہ اعلم۔
سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ ٱلنَّارُ
Saraabeeluhum min qatiraaninw wa taghshaa wujoohahumun Naar
Their garments of liquid pitch and their faces covered by the Fire.
ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے اور ان کے مونہوں کو آگ لپیٹ رہی ہوگی
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
جکڑے ہوئے مفسد انسان زمین و آسمان بدلے ہوئے ہیں۔ مخلوق اللہ کے سامنے کھڑی ہے، اس دن اے نبی ﷺ تم دیکھو گے کہ کفر و فساد کرنے والے گنہگار آپس میں جکڑے بندھے ہوئے ہوں گے ہر ہر قسم کے گنہگار دوسروں سے ملے جلے ہوئے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کی جوڑ کے لوگوں کو اکٹھا کرو اور آیت میں ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفس کے جوڑے ملا دئے جائیں۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا 13ۭ) 25۔ الفرقان :13) یعنی جب کہ جہنم کے تنگ مکان میں وہ ملے جلے ڈالے جائیں گے تو ہاں وہ موت موت پکاریں گے۔ حضرت سلیمان ؑ کے جنات کی بابت بھی آیت (وَّاٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ 38) 38۔ ص :38) کا لفظ ہے۔ اصفاد کہتے ہیں قید کی زنجیروں کو عمرو بن کلثوم کے شعر میں مصفد زنجیروں میں جکڑے ہوئے قیدی کے معنی میں آیا ہے۔ جو کپڑے انہیں پہنائے جائیں گے وہ گندھک کے ہوں گے جو اونٹوں کو لگایا جاتا ہے اسے آگ تیزی اور سرعت سے پکڑتی ہے یہ لفظ قطران بھی ہے قطران بھی ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ پگھلے ہوئے تانبے کو قطران کہتے ہیں اس سخت گرم آگ جیسے تانبے کے ان دوزخیوں کے لباس ہوں گے۔ ان کے منہ بھی آپ میں ڈھکے ہوئے ہوں گے چہروں تک آگ چڑھی ہوئی ہوگی۔ سر سے شعلے بلند ہو رہے ہوں گے۔ منہ بگڑ گئے ہوں گے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میری امت میں چار کام جاہلیت کے ہیں جو ان سے نہ چھوٹیں گے حسب پر فخر۔ نسب میں طعنہ زنی۔ ستاروں سے بارش کی طلبی۔ میت پر نوحہ کرنے والی نے اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرلی تو اسے قیامت کے دن گندھک کا کرتا اور کھجلی کا دوپٹا پہنایا جائے گا۔ مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ اور روایت میں ہے کہ وہ جنت دوزخ کے درمیان کھڑی کی جائے گی گندھک کا کرتا ہوگا اور منہ پر آگ کھیل رہی ہوگی۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کے کاموں کا بدلہ دے گا۔ بروں کی برائیاں سامنے آجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ بہت ہی جلد ساری مخلوق کے حساب سے فارغ ہوجائے گا۔ ممکن ہے یہ آیت بھی مثل آیت (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ ۚ) 21۔ الأنبیاء :1) کے ہو یعنی لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا لیکن پھر بھی وہ غفلت کے ساتھ منہ پھیرے ہوئے ہی ہیں۔ اور ممکن ہے کہ بندے کے حساب کے وقت کا بیان ہو۔ یعنی بہت جلد حساب سے فارغ ہوجائے گا۔ کیونکہ وہ تمام باتوں کا جاننے والا ہے اس پر ایک بات بھی پوشیدہ نہیں۔ جیسے ایک ویسے ہی ساری مخلوق۔ جیسے فرمان ہے (مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 28) 31۔ لقمان :28) تم سب کی پیدائش اور مرنے کے بعد کا زندہ کردینا مجھ پر ایسا ہی ہے جیسے ایک کو مارنا اور جلانا۔ یہی معنی مجاہد ؒ کے قول کے ہیں کہ حساب کے احاطے میں اللہ تعالیٰ بہت جلدی کرنے والا ہے۔ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں یعنی وقت حساب بھی قریب اور اللہ کو حساب میں دیر بھی نہیں۔ ادھر شروع ہوا ادھر ختم ہوا واللہ اعلم۔
لِيَجْزِىَ ٱللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ
Liyajziyal laahu kulla nafsim maa kasabat; innal laaha saree'ul hisaab
So that Allah will recompense every soul for what it earned. Indeed, Allah is swift in account.
یہ اس لیے کہ خدا ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دے۔ بےشک خدا جلد حساب لینے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
جکڑے ہوئے مفسد انسان زمین و آسمان بدلے ہوئے ہیں۔ مخلوق اللہ کے سامنے کھڑی ہے، اس دن اے نبی ﷺ تم دیکھو گے کہ کفر و فساد کرنے والے گنہگار آپس میں جکڑے بندھے ہوئے ہوں گے ہر ہر قسم کے گنہگار دوسروں سے ملے جلے ہوئے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کی جوڑ کے لوگوں کو اکٹھا کرو اور آیت میں ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفس کے جوڑے ملا دئے جائیں۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا 13ۭ) 25۔ الفرقان :13) یعنی جب کہ جہنم کے تنگ مکان میں وہ ملے جلے ڈالے جائیں گے تو ہاں وہ موت موت پکاریں گے۔ حضرت سلیمان ؑ کے جنات کی بابت بھی آیت (وَّاٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ 38) 38۔ ص :38) کا لفظ ہے۔ اصفاد کہتے ہیں قید کی زنجیروں کو عمرو بن کلثوم کے شعر میں مصفد زنجیروں میں جکڑے ہوئے قیدی کے معنی میں آیا ہے۔ جو کپڑے انہیں پہنائے جائیں گے وہ گندھک کے ہوں گے جو اونٹوں کو لگایا جاتا ہے اسے آگ تیزی اور سرعت سے پکڑتی ہے یہ لفظ قطران بھی ہے قطران بھی ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ پگھلے ہوئے تانبے کو قطران کہتے ہیں اس سخت گرم آگ جیسے تانبے کے ان دوزخیوں کے لباس ہوں گے۔ ان کے منہ بھی آپ میں ڈھکے ہوئے ہوں گے چہروں تک آگ چڑھی ہوئی ہوگی۔ سر سے شعلے بلند ہو رہے ہوں گے۔ منہ بگڑ گئے ہوں گے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میری امت میں چار کام جاہلیت کے ہیں جو ان سے نہ چھوٹیں گے حسب پر فخر۔ نسب میں طعنہ زنی۔ ستاروں سے بارش کی طلبی۔ میت پر نوحہ کرنے والی نے اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرلی تو اسے قیامت کے دن گندھک کا کرتا اور کھجلی کا دوپٹا پہنایا جائے گا۔ مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ اور روایت میں ہے کہ وہ جنت دوزخ کے درمیان کھڑی کی جائے گی گندھک کا کرتا ہوگا اور منہ پر آگ کھیل رہی ہوگی۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کے کاموں کا بدلہ دے گا۔ بروں کی برائیاں سامنے آجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ بہت ہی جلد ساری مخلوق کے حساب سے فارغ ہوجائے گا۔ ممکن ہے یہ آیت بھی مثل آیت (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ ۚ) 21۔ الأنبیاء :1) کے ہو یعنی لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا لیکن پھر بھی وہ غفلت کے ساتھ منہ پھیرے ہوئے ہی ہیں۔ اور ممکن ہے کہ بندے کے حساب کے وقت کا بیان ہو۔ یعنی بہت جلد حساب سے فارغ ہوجائے گا۔ کیونکہ وہ تمام باتوں کا جاننے والا ہے اس پر ایک بات بھی پوشیدہ نہیں۔ جیسے ایک ویسے ہی ساری مخلوق۔ جیسے فرمان ہے (مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 28) 31۔ لقمان :28) تم سب کی پیدائش اور مرنے کے بعد کا زندہ کردینا مجھ پر ایسا ہی ہے جیسے ایک کو مارنا اور جلانا۔ یہی معنی مجاہد ؒ کے قول کے ہیں کہ حساب کے احاطے میں اللہ تعالیٰ بہت جلدی کرنے والا ہے۔ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں یعنی وقت حساب بھی قریب اور اللہ کو حساب میں دیر بھی نہیں۔ ادھر شروع ہوا ادھر ختم ہوا واللہ اعلم۔
هَٰذَا بَلَٰغٌ لِّلنَّاسِ وَلِيُنذَرُوا۟ بِهِۦ وَلِيَعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ
Haaza balaaghul linnaasi wa liyunzaroo bihee wa liya'lamooo annamaa Huwa Illaahunw Waahidunw wa liyaz zakkara ulul albaab
This [Qur'an] is notification for the people that they may be warned thereby and that they may know that He is but one God and that those of understanding will be reminded.
یہ قرآن لوگوں کے نام (خدا کا پیغام) ہے تاکہ ان کو اس سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں
Tafsir Ibn Kathir (Urdu)
تمام انسان اور جن پابند اطاعت ہیں ارشاد ہے کہ یہ قرآن دنیا کی طرف اللہ کا کھلا پیغام ہے جسے اور آیت میں نبی ﷺ کی زبانی کہلوایا گیا ہے کہ لا نذرکم بہ ومن بلغ یعنی تاکہ میں اس قرآن سے تمہیں بھی ہوشیار کر دوں اور جسے جسے یہ پہنچے یعنی کل انسان اور تمام جنات جیسے اس سورت کے شروع میں فرمایا کہ اس کتاب کو ہم نے ہی تیری طرف نازل فرمایا ہے کہ تو لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لائے الخ۔ اس قرآن کریم کی غرض یہ ہے کہ لوگ ہوشیار کر دئے جائیں ڈرا دئے جائیں۔ اور اس کی دلیلیں حجتیں دیکھ سن کر پڑھ پڑھا کر تحقیق سے معلوم کرلیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور عقلمند لوگ نصیحت و عبرت وعظ و پند حاصل کرلیں۔