Sahih al-Bukhari 4:32sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا. قَالَ وَمَا هِيَ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُكَ لاَ تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَمَّا الأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمَسُّ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلْبَسُ النَّعْلَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْبُغُ بِهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا، وَأَمَّا الإِهْلاَلُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ.
Narrated `Ubaid Ibn Juraij:I asked `Abdullah bin `Umar, "O Abu `Abdur-Rahman! I saw you doing four things which I never saw being done by anyone of you companions?" `Abdullah bin `Umar said, "What are those, O Ibn Juraij?" I said, "I never saw you touching any corner of the Ka`ba except these (two) facing south (Yemen) and I saw you wearing shoes made of tanned leather and dyeing your hair with Hinna (a kind of red dye). I also noticed that whenever you were in Mecca, the people assume Ihram on seeing the new moon crescent (1st of Dhul-Hijja) while you did not assume the Ihlal (Ihram) -(Ihram is also called Ihlal which means 'Loud calling' because a Muhrim has to recite Talbiya aloud when assuming the state of Ihram) - till the 8th of Dhul-Hijja (Day of Tarwiya). `Abdullah replied, "Regarding the corners of Ka`ba, I never saw Allah's Messenger (ﷺ) touching except those facing south (Yemen) and regarding the tanned leather shoes, no doubt I saw Allah's Messenger (ﷺ) wearing non-hairy shoes and he used to perform ablution while wearing the shoes (i.e. wash his feet and then put on the shoes). So I love to wear similar shoes. And about the dyeing of hair with Hinna; no doubt I saw Allah's Messenger (ﷺ) dyeing his hair with it and that is why I like to dye (my hair with it). Regarding Ihlal, I did not see Allah's Messenger (ﷺ) assuming Ihlal till he set out for Hajj (on the 8th of Dhul-Hijja)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو مالک نے سعید المقبری کے واسطے سے خبر دی، وہ عبیداللہ بن جریج سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر سے کہا اے ابوعبدالرحمٰن! میں نے تمہیں چار ایسے کام کرتے ہوئے دیکھا ہے جنھیں تمہارے ساتھیوں کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ وہ کہنے لگے، اے ابن جریج! وہ کیا ہیں؟ ابن جریج نے کہا کہ میں نے طواف کے وقت آپ کو دیکھا کہ دو یمانی رکنوں کے سوا کسی اور رکن کو آپ نہیں چھوتے ہو۔ ( دوسرے ) میں نے آپ کو بستی جوتے پہنے ہوئے دیکھا اور ( تیسرے ) میں نے دیکھا کہ آپ زرد رنگ استعمال کرتے ہو اور ( چوتھی بات ) میں نے یہ دیکھی کہ جب آپ مکہ میں تھے، لوگ ( ذی الحجہ کا ) چاند دیکھ کر لبیک پکارنے لگتے ہیں۔ ( اور ) حج کا احرام باندھ لیتے ہیں اور آپ آٹھویں تاریخ تک احرام نہیں باندھتے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ ( دوسرے ) ارکان کو تو میں یوں نہیں چھوتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یمانی رکنوں کے علاوہ کسی اور رکن کو چھوتے ہوئے نہیں دیکھا اور رہے جوتے، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جوتے پہنے ہوئے دیکھا کہ جن کے چمڑے پر بال نہیں تھے اور آپ انہیں کو پہنے پہنے وضو فرمایا کرتے تھے، تو میں بھی انہی کو پہننا پسند کرتا ہوں اور زرد رنگ کی بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زرد رنگ رنگتے ہوئے دیکھا ہے۔ تو میں بھی اسی رنگ سے رنگنا پسند کرتا ہوں اور احرام باندھنے کا معاملہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک احرام باندھتے ہوئے نہیں دیکھا جب تک آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر نہ چل پڑتی۔
Sahih al-Bukhari 6:18sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ ـ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَوْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ـ قَالَتْ كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلاَ نَكْتَحِلَ وَلاَ نَتَطَيَّبَ وَلاَ نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ، وَكُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ. قَالَ رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Um-`Atiya:We were forbidden to mourn for a dead person for more than three days except in the case of a husband for whom mourning was allowed for four months and ten days. (During that time) we were not allowed to put kohl (Antimony eye power) in our eyes or to use perfumes or to put on colored clothes except a dress made of `Asb (a kind of Yemen cloth, very coarse and rough). We were allowed very light perfumes at the time of taking a bath after menses and also we were forbidden to go with the funeral procession
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے حفصہ سے، وہ ام عطیہ سے، آپ نے فرمایا کہ ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا جاتا تھا۔ لیکن شوہر کی موت پر چار مہینے دس دن کے سوگ کا حکم تھا۔ ان دنوں میں ہم نہ سرمہ لگاتیں نہ خوشبو اور عصب ( یمن کی بنی ہوئی ایک چادر جو رنگین بھی ہوتی تھی ) کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا ہم استعمال نہیں کرتی تھیں اور ہمیں ( عدت کے دنوں میں ) حیض کے غسل کے بعد کست اظفار استعمال کرنے کی اجازت تھی اور ہمیں جنازہ کے پیچھے چلنے سے منع کیا جاتا تھا۔ اس حدیث کو ہشام بن حسان نے حفصہ سے، انہوں نے ام عطیہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
Sahih al-Bukhari 23:25sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُفِّنَ فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ يَمَانِيَةٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ مِنْ كُرْسُفٍ، لَيْسَ فِيهِنَّ قَمِيصٌ وَلاَ عِمَامَةٌ.
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) was shrouded in three Yemenite white Suhuliya (pieces of cloth) of cotton, and in them there was neither a shirt nor a turban
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے باپ عروہ بن زبیر نے اور انہیں (ان کی خالہ) ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یمن کے تین سفید سوتی دھلے ہوئے کپڑوں میں کفن دیا گیا ان میں نہ قمیص تھی نہ عمامہ۔
Sahih al-Bukhari 24:1sahih
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مُعَاذًا ـ رضى الله عنه ـ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ " ادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ، تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) sent Mu`adh to Yemen and said, "Invite the people to testify that none has the right to be worshipped but Allah and I am Allah's Messenger (ﷺ), and if they obey you to do so, then teach them that Allah has enjoined on them five prayers in every day and night (in twenty-four hours), and if they obey you to do so, then teach them that Allah has made it obligatory for them to pay the Zakat from their property and it is to be taken from the wealthy among them and given to the poor
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا ‘ ان سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے بیان کیا، ان سے ابومعبد نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن ( کا حاکم بنا کر ) بھیجا تو فرمایا کہ تم انہیں اس کلمہ کی گواہی کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ لوگ یہ بات مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ لوگ یہ بات بھی مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر کچھ صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لے کر انہیں کے محتاجوں میں لوٹا دیا جائے گا۔
Sahih al-Bukhari 24:60sahih
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا ـ رضى الله عنه ـ عَلَى الْيَمَنِ قَالَ " إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ، فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، فَإِذَا فَعَلُوا، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهُمْ زَكَاةً {تُؤْخَذُ} مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ، وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ ".
Narrated Ibn `Abbas:When Allah's Messenger (ﷺ) sent Mu`adh to Yemen, he said (to him), "YOU are going to people of a (Divine) Book. First of all invite them to worship Allah (alone) and when they come to know Allah, inform them that Allah has enjoined on them, five prayers in every day and night; and if they start offering these prayers, inform them that Allah has enjoined on them, the Zakat. And it is to be taken from the rich amongst them and given to the poor amongst them; and if they obey you in that, take Zakat from them and avoid (don't take) the best property of the people as Zakat
ہم سے امیہ بن بسطام نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے زید بن زریع نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے روح بن قاسم نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن امیہ نے ‘ ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے ‘ ان سے ابومعبد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو ان سے فرمایا کہ دیکھو! تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ( عیسائی یہودی ) ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے انہیں اللہ کی عبادت کی دعوت دینا۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں ( یعنی اسلام قبول کر لیں ) تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ اسے بھی ادا کریں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض قرار دی ہے جو ان کے سرمایہ داروں سے لی جائے گی ( جو صاحب نصاب ہوں گے ) اور انہیں کے فقیروں میں تقسیم کر دی جائے گی۔ جب وہ اسے بھی مان لیں تو ان سے زکوٰۃ وصول کر۔ البتہ ان کی عمدہ چیزیں ( زکوٰۃ کے طور پر لینے سے ) پرہیز کرنا۔
Sahih al-Bukhari 24:96sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ " إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ ".
Narrated Abu Ma`bad:(the slave of Ibn `Abbas) Allah's Messenger (ﷺ) said to Mu`adh when he sent him to Yemen, "You will go to the people of the Scripture. So, when you reach there, invite them to testify that none has the right to be worshipped but Allah, and that Muhammad is His Apostle. And if they obey you in that, tell them that Allah has enjoined on them five prayers in each day and night. And if they obey you in that tell them that Allah has made it obligatory on them to pay the Zakat which will be taken from the rich among them and given to the poor among them. If they obey you in that, then avoid taking the best of their possessions, and be afraid of the curse of an oppressed person because there is no screen between his invocation and Allah
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں زکریا ابن اسحاق نے خبر دی ‘ انہیں یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے ‘ انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابومعبد نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن بھیجا ‘ تو ان سے فرمایا کہ تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں۔ اس لیے جب تم وہاں پہنچو تو پہلے انہیں دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے سچے رسول ہیں۔ وہ اس بات میں جب تمہاری بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ دن رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ دینا ضروری قرار دیا ہے ‘ یہ ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں پر خرچ کی جائے گی۔ پھر جب وہ اس میں بھی تمہاری بات مان لیں تو ان کے اچھے مال لینے سے بچو اور مظلوم کی آہ سے ڈرو کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔
Sahih al-Bukhari 25:12sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَقَّتَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ، وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، هُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ، مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ.
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) made Dhul-Hulaifa as the Miqat for the people of Medina; Al-Juhfa for the people of Sham; Qarn-al-Manazil for the people of Najd; and Yalamlam for the people of Yemen; and these Mawaqit are for the people at those very places, and besides them for those who come through those places with the intention of performing Hajj and `Umra; and whoever is living within these boundaries can assume Ihram from the place he starts, and the people of Mecca can assume Ihram from Mecca
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے احرام کے لیے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لیے حجفہ، نجد والوں کے قرن منزل، یمن والوں کے یلملم متعین کیا۔ یہاں سے ان مقامات والے بھی احرام باندھیں اور ان کے علاوہ وہ لوگ بھی جو ان راستوں سے آئیں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ لیکن جن کا قیام میقات اور مکہ کے درمیان ہے تو وہ احرام اسی جگہ سے باندھیں جہاں سے انہیں سفر شروع کرنا ہے۔ یہاں تک کہ مکہ کے لوگ مکہ ہی سے احرام باندھیں۔
Sahih al-Bukhari 25:13sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشَّأْمِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ".
Narrated Nafi`:`Abdullah bin `Umar said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'The people of Medina should assume Ihram from Dhul-Hulaifa; the people of Sham from Al-Juhfa; and the people of Najd from Qarn." And `Abdullah added, "I was informed that Allah's Messenger (ﷺ) had said, 'The people of Yemen should assume Ihram from Yalamlam
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ کے لوگ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں، شام کے لوگ حجفہ سے اور نجد کے لوگ قرن المنازل سے۔ عبداللہ نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور یمن کے لوگ یلملم سے احرام باندھیں۔
Sahih al-Bukhari 25:14sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ، وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ، لِمَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمُهَلُّهُ مِنْ أَهْلِهِ، وَكَذَاكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا.
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) had fixed Dhul Hulaifa as the Miqat for the people of Medina; Al-Juhfa for the people of Sham; and Qarn Ul-Manazil for the people of Najd; and Yalamlam for the people of Yemen. So, these (above mentioned) are the Mawaqit for all those living at those places, and besides them for those who come through those places with the intention of performing Hajj and `Umra and whoever lives within these places should assume Ihram from his dwelling place, and similarly the people of Mecca can assume Ihram from Mecca
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے طاؤس نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، شام والوں کے لیے حجفہ، نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والوں کے لیے یلملم۔ یہ میقات ان ملک والوں کے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بھی جو ان ملکوں سے گزر کر حرم میں داخل ہوں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ لیکن جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہوں۔ یہاں تک کہ مکہ کے لوگ احرام مکہ ہی سے باندھیں۔
Sahih al-Bukhari 25:16sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ذُو الْحُلَيْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّأْمِ مَهْيَعَةُ وَهِيَ الْجُحْفَةُ، وَأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ ". قَالَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ زَعَمُوا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَلَمْ أَسْمَعْهُ " وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ ".
Narrated Salim bin `Abdullah from his father:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "The Miqat for the people of Medina is Dhul-Hulaifa; for the people of Sham is Mahita; (i.e. Al-Juhfa); and for the people of Najd is Qarn. And said Ibn `Umar, "They claim, but I did not hear personally, that the Prophet (ﷺ) said, "The Miqat for the people of Yemen is Yalamlam
(دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے احمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیاکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مدینہ والوں کے لیے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ اور شام والوں کے لیے مہیعہ یعنی حجفہ اور نجد والوں کے لیے قرن المنازل۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لوگ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یمن والے احرام یلملم سے باندھیں لیکن میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا۔
Sahih al-Bukhari 25:17sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَقَّتَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ، وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ، مِمَّنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمِنْ أَهْلِهِ حَتَّى إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا.
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) fixed Dhul-Hulaifa as the Miqat for the people of Medina, Al-Juhfa, for the people of Sham, Yalamlam for the people of Yemen, and Qarn for the people of Najd. And these Mawaqit are for those living at those very places, and besides them for those who come through those places with the intention of performing Hajj and Umra; and whoever is living inside these places can assume Ihram from his own dwelling place, and the people of Mecca can assume Ihram from Mecca
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمرو بن دینار نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ میقات ٹھہرایا اور شام والوں کے لیے حجفہ، یمن والوں کے لیے یلملم اور نجد والوں کے لیے قرن المنازل۔ یہ ان ملکوں کے لوگوں کے لیے ہیں اور دوسرے ان تمام لوگوں کے لیے بھی جو ان ملکوں سے گزریں۔ اور حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ لیکن جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہوں۔ تو وہ اپنے شہروں سے احرام باندھیں، تاآنکہ مکہ کے لوگ مکہ ہی سے احرام باندھیں۔
Sahih al-Bukhari 25:18sahih
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَقَّتَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ، وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، هُنَّ لأَهْلِهِنَّ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ، فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ.
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) fixed Dhul-Hulaifa as the Miqat for the people of Medina, Al-Juhfa for the people of Sham, Qarn-al-Manazil for the people of Najd, and Yalamlam for the people of Yemen; and these Mawaqit are for those living at those very places, and besides them for those whom come through them with the intention of performing Hajj and Umra; and whoever is living within these Mawaqit should assume Ihram from where he starts, and the people of Mecca can assume Ihram from Mecca
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، شام والوں کے لیے حجفہ، نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والوں کے لیے یلملم۔ یہ ان ملکوں کے باشندوں کے میقات ہیں اور تمام ان دوسرے مسلمانوں کے بھی جو ان ملکوں سے گزر کر آئیں اور حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ لیکن جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہیں تو ( وہ احرام وہیں سے باندھیں ) جہاں سے سفر شروع کریں تاآنکہ مکہ کے لوگ احرام مکہ ہی سے باندھیں۔
Sahih al-Bukhari 25:44sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ الْهُذَلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ سَمِعْتُ مَرْوَانَ الأَصْفَرَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمَ عَلِيٌّ ـ رضى الله عنه ـ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ " بِمَا أَهْلَلْتَ ". قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. فَقَالَ " لَوْلاَ أَنَّ مَعِي الْهَدْىَ لأَحْلَلْتُ ". وَزَادَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بِمَا أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ ". قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ ".
Narrated Anas bin Malik:`Ali came to the Prophet (ﷺ) from Yemen (to Mecca). The Prophet (ﷺ) asked `Ali, "With what intention have you assumed Ihram?" `Ali replied, "I have assumed Ihram with the same intention as that of the Prophet." The Prophet (ﷺ) said, "If I had not the Hadi with me I would have finished the Ihram." Muhammad bin Bakr narrated extra from Ibn Juraij, "The Prophet (ﷺ) said to `Ali, "With what intention have you assumed the Ihram, O `Ali?" He replied, "With the same (intention) as that of the Prophet." The Prophet (ﷺ) said, "Have a Hadi and keep your Ihram as it is
ہم سے حسن بن علی خلال ہذلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سلیم بن حیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے مروان اصفر سے سنا اور ان سے انس بن مالک نے بیان کیا تھا کہ علی رضی اللہ عنہ یمن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کس طرح کا احرام باندھا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جس طرح کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہو۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے ساتھ قربانی نہ ہوتی تو میں حلال ہو جاتا۔
Sahih al-Bukhari 25:45sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى قَوْمٍ بِالْيَمَنِ فَجِئْتُ وَهْوَ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ " بِمَا أَهْلَلْتَ ". قُلْتُ أَهْلَلْتُ كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " هَلْ مَعَكَ مِنْ هَدْىٍ ". قُلْتُ لاَ. فَأَمَرَنِي فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَحْلَلْتُ فَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي فَمَشَطَتْنِي، أَوْ غَسَلَتْ رَأْسِي، فَقَدِمَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ قَالَ اللَّهُ {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ} وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْىَ.
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) sent me to some people in Yemen and when I returned, I found him at Al-Batha. He asked me, "With what intention have you assumed Ihram (i.e. for Hajj or for Umra or for both?") I replied, "I have assumed Ihram with an intention like that of the Prophet." He asked, "Have you a Hadi with you?" I replied in the negative. He ordered me to perform Tawaf round the Ka`ba and between Safa and Marwa and then to finish my Ihram. I did so and went to a woman from my tribe who combed my hair or washed my head. Then, when `Umar came (i.e. became Caliph) he said, "If we follow Allah's Book, it orders us to complete Hajj and Umra; as Allah says: "Perform the Hajj and Umra for Allah." (2.196). And if we follow the tradition of the Prophet (ﷺ) who did not finish his Ihram till he sacrificed his Hadi
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے قیس بن مسلم نے، ان سے طارق بن شہاب نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری نے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری قوم کے پاس یمن بھیجا تھا۔ جب ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بطحاء میں ملاقات ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کس کا احرام باندھا ہے؟ میں نے عرض کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کا باندھا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے ساتھ قربانی ہے؟ میں نے عرض کی کہ نہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں بیت اللہ کا طواف، صفا اور مروہ کی سعی کروں چنانچہ میں اپنی قوم کی ایک خاتون کے پاس آیا۔ انہوں نے میرے سر کا کنگھا کیا یا میرا سر دھویا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر ہم اللہ کی کتاب پر عمل کریں تو وہ یہ حکم دیتی ہے کہ حج اور عمرہ پورا کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”اور حج اور عمرہ پورا کرو اللہ کی رضا کے لیے۔“ اور اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک احرام نہیں کھولا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی سے فراغت نہیں حاصل فرمائی۔
Sahih al-Bukhari 25:51sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. فَأَمَرَهُ بِالْحِلِّ.
Narrated Abu Musa: I came to the Prophet (from Yemen and was assuming Ihram for Hajj) and he ordered me to finish the Ihram (after performing the `Umra)
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قیس بن مسلم نے، ان سے طارق بن شہاب نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( حجتہ الوداع کے موقع پر یمن سے ) حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجھ کو عمرہ کے بعد ) احرام کھول دینے کا حکم دیا۔
Sahih al-Bukhari 25:97sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ اسْتِلاَمِ الْحَجَرِ،. فَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ. قَالَ قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِنْ زُحِمْتُ أَرَأَيْتَ إِنْ غُلِبْتُ قَالَ اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِالْيَمَنِ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ.
Narrated Az-Zubair bin 'Arabi:A man asked Ibn `Umar about the touching of the Black Stone. Ibn `Umar said, "I saw Allah's Messenger (ﷺ) touching and kissing it." The questioner said, "But if there were a throng (much rush) round the Ka`ba and the people overpowered me, (what would I do?)" He replied angrily, "Stay in Yemen (as that man was from Yemen). I saw Allah's Messenger (ﷺ) touching and kissing it
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے زبیر بن عربی نے بیان کیا کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حجر اسود کے بوسہ دینے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کو بوسہ دیتے دیکھا ہے۔“ اس پر اس شخص نے کہا اگر ہجوم ہو جائے اور میں عاجز ہو جاؤں تو کیا کروں؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ”اس اگر وگر کو یمن میں جا کر رکھو میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس کو بوسہ دیتے تھے۔“
Sahih al-Bukhari 25:132sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ،. قَالَ وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَهَلَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ، وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ هَدْىٌ، غَيْرَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَطَلْحَةَ، وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ، وَمَعَهُ هَدْىٌ فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، وَيَطُوفُوا، ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا، إِلاَّ مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْىُ، فَقَالُوا نَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى، وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، وَلَوْلاَ أَنَّ مَعِي الْهَدْىَ لأَحْلَلْتُ ". وَحَاضَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا، غَيْرَ أَنَّهَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا طَهُرَتْ طَافَتْ بِالْبَيْتِ. قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَنْطَلِقُونَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ، وَأَنْطَلِقُ بِحَجٍّ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:The Prophet (ﷺ) and his companions assumed Ihram for Hajj and none except the Prophet (ﷺ) and Talha had the Hadi (sacrifice) with them. `Ali arrived from Yemen and had a Hadi with him. `Ali said, "I have assumed Ihram for what the Prophet (ﷺ) has done." The Prophet (ﷺ) ordered his companions to perform the `Umra with the Ihram which they had assumed, and after finishing Tawaf (of Ka`ba, Safa and Marwa) to cut short their hair, and to finish their Ihram except those who had Hadi with them. They (the people) said, "How can we proceed to Mina (for Hajj) after having sexual relations with our wives?" When that news reached the Prophet (ﷺ) he said, "If I had formerly known what I came to know lately, I would not have brought the Hadi with me. Had there been no Hadi with me, I would have finished the state of Ihram." `Aisha got her menses, so she performed all the ceremonies of Hajj except Tawaf of the Ka`ba, and when she got clean (from her menses), she performed Tawaf of the Ka`ba. She said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! (All of you) are returning with the Hajj and `Umra, but I am returning after performing Hajj only." So the Prophet (ﷺ) ordered `Abdur-Rahman bin Abu Bakr to accompany her to Tan`im and thus she performed the `Umra after the Hajj
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا۔ (دوسری سند) اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حبیب معلم نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے حج کا احرام باندھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ کے سوا اور کسی کے ساتھ قربانی نہیں تھی، علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے اور ان کے ساتھ بھی قربانی تھی۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ( سب لوگ اپنے حج کے احرام کو ) عمرہ کا کر لیں۔ پھر طواف اور سعی کے بعد بال ترشوا لیں اور احرام کھول ڈالیں لیکن وہ لوگ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جن کے ساتھ قربانی ہو۔ اس پر صحابہ نے کہا کہ ہم منیٰ میں اس طرح جائیں گے کہ ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو۔ یہ بات جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا، اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور جب قربانی کا جانور ساتھ نہ ہوتا تو میں بھی ( عمرہ اور حج کے درمیان ) احرام کھول ڈالتا اور عائشہ رضی اللہ عنہا ( اس حج میں ) حائضہ ہو گئی تھیں۔ اس لیے انہوں نے بیت اللہ کہ طواف کے سوا اور دوسرے ارکان حج ادا کئے۔ پھر پاک ہو لیں تو طواف بھی کیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ آپ سب لوگ تو حج اور عمرہ دونوں کر کے جا رہے ہیں لیکن میں نے صرف حج ہی کیا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو حکم دیا کہ انہیں تنعیم لیے جائیں ( اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھیں ) اس طرح عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کے بعد عمرہ کیا۔
Sahih al-Bukhari 26:12sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَطَاءٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ هَدْىٌ، غَيْرَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَطَلْحَةَ، وَكَانَ عَلِيٌّ قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ، وَمَعَهُ الْهَدْىُ فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. وَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَذِنَ لأَصْحَابِهِ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ، ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا، إِلاَّ مَنْ مَعَهُ الْهَدْىُ، فَقَالُوا نَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، وَلَوْلاَ أَنَّ مَعِي الْهَدْىَ لأَحْلَلْتُ ". وَأَنَّ عَائِشَةَ حَاضَتْ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا، غَيْرَ أَنَّهَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ قَالَ فَلَمَّا طَهُرَتْ وَطَافَتْ، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنْطَلِقُونَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحَجَّةِ، وَأَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ لَقِيَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِالْعَقَبَةِ، وَهُوَ يَرْمِيهَا، فَقَالَ أَلَكُمْ هَذِهِ خَاصَّةً، يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " لاَ، بَلْ لِلأَبَدِ ".
Narrated Jabir bin `Abdullah:The Prophet (ﷺ) and his companions assumed Ihram for Hajj and none except the Prophet (ﷺ) and Talha had the Hadi with them. `Ali had come from Yemen and he had the Hadi with him. He (`Ali) said, "I have assumed Ihram with an intention like that of Allah's Messenger (ﷺ) has assumed it." The Prophet (ﷺ) ordered his companions to intend the Ihram with which they had come for `Umra, to perform the Tawaf of the Ka`ba (and between Safa and Marwa), to get their hair cut short and then to finish their Ihram with the exception of those who had the Hadi with them. They asked, "Shall we go to Mina and the private organs of some of us are dribbling (if we finish Ihram and have sexual relations with our wives)?" The Prophet heard that and said, "Had I known what I know now, I would not have brought the Hadi. If I did not have the Hadi with me I would have finished my Ihram." `Aisha got her menses and performed all the ceremonies (of Hajj) except the Tawaf . So when she became clean from her menses, and she had performed the Tawaf of the Ka`ba, she said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You (people) are returning with both Hajj and `Umra and I am returning only with Hajj!" So, he ordered `Abdur Rahman bin Abu Bakr to go with her to at-Tan`im. Thus she performed `Umra after the Hajj in the month of Dhi-l-Hijja. Suraqa bin Malik bin Ju'shum met the Prophet (ﷺ) at Al-`Aqaba (Jamrat-ul 'Aqaba) while the latter was stoning it and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Is this permissible only for you?" The Prophet replied, "No, it is for ever (i.e. it is permissible for all Muslims to perform `Umra before Hajj)
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، ان سے عبدالوہاب بن عبدالمجید نے، ان سے حبیب معلم نے، ان سے عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے حج کا احرام باندھا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ رضی اللہ عنہ کے سوا قربانی کسی کے پاس نہیں تھی۔ ان ہی دنوں میں علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو ان کے ساتھ بھی قربانی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جس چیز کا احرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے میرا بھی احرام وہی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ( مکہ میں پہنچ کر ) اس کی اجازت دے دی تھی کہ اپنے حج کو عمرہ میں تبدیل کر دیں اور بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر کے بال ترشوا لیں اور احرام کھول دیں، لیکن وہ لوگ ایسا نہ کریں جن کے ساتھ قربانی ہو۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ ہم منیٰ سے حج کے لیے اس طرح سے جائیں گے کہ ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بات اب ہوئی اگر پہلے سے معلوم ہوتی تو میں اپنے ساتھ ہدی نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو ( افعال عمرہ ادا کرنے کے بعد ) میں بھی احرام کھول دیتا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ( اس حج میں ) حائضہ ہو گئی تھیں اس لیے انہوں نے اگرچہ تمام مناسک ادا کئے لیکن بیت اللہ کا طواف نہیں کیا۔ پھر جب وہ پاک ہو گئیں اور طواف کر لیا تو عرض کی یا رسول اللہ! سب لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں لیکن میں صرف حج کر سکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ انہیں ہمراہ لے کر تنعیم جائیں اور عمرہ کرا لائیں، یہ عمرہ حج کے بعد ذی الحجہ کے ہی مہینہ میں ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جمرہ عقبہ کی رمی کر رہے تھے تو سراقہ بن مالک بن جعشم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا یہ ( عمرہ اور حج کے درمیان احرام کھول دینا ) صرف آپ ہی کے لیے ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔
Sahih al-Bukhari 28:25sahih
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَقَّتَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، هُنَّ لَهُنَّ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ.
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) fixed Dhul-Hulaifa as the Miqat (the place for assuming Ihram) for the people of Medina, and Qaran-al-Manazil for the people of Najd, and Yalamlam for the people of Yemen. These Mawaqit are for those people and also for those who come through these Mawaqit (from places other than the above-mentioned) with the intention of (performing) Hajj and Umra. And those living inside these Mawaqit can assume Ihram from the place where they start; even the people of Mecca can assume Ihram from Mecca
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذو الحلیفہ کو میقات بنایا، نجد والوں کے لیے قرن المنازل کو اور یمن والوں کے لیے یلملم کو۔ یہ میقات ان ملکوں کے باشندوں کے لیے ہے اور دوسرے ان تمام لوگوں کے لیے بھی جو ان ملکوں سے ہو کر مکہ آئیں اور حج اور عمرہ کا بھی ارادہ رکھتے ہوں، لیکن جو لوگ ان حدود کے اندر ہوں تو ان کی میقات وہی جگہ ہے جہاں سے وہ اپنا سفر شروع کریں یہاں تک کہ مکہ والوں کی میقات مکہ ہی ہے۔
Sahih al-Bukhari 29:9sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " تُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يُبِسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، وَتُفْتَحُ الشَّأْمُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يُبِسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، وَتُفْتَحُ الْعِرَاقُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يُبِسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ. وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ".
Narrated Sufyan b. Abu Zuhair:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "Yemen will be conquered and some people will migrate (from Medina) and will urge their families, and those who will obey them to migrate (to Yemen) although Medina will be better for them; if they but knew. Sham will also be conquered and some people will migrate (from Medina) and will urge their families and those who will obey them, to migrate (to Sham) although Medina will be better for them; if they but knew. 'Iraq will be conquered and some people will migrate (from Medina) and will urge their families and those who will obey them to migrate (to 'Iraq) although Medina will be better for them; if they but knew
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا کہ یمن فتح ہو گا تو لوگ اپنی سواریوں کو دوڑاتے ہوئے لائیں گے اور اپنے گھر والوں کو اور ان کو جو ان کی بات مان جائیں گے سوار کر کے مدینہ سے ( واپس یمن کو ) لے جائیں گے کاش! انہیں معلوم ہوتا کہ مدینہ ہی ان کے لیے بہتر تھا اور عراق فتح ہو گا تو کچھ لوگ اپنی سواریوں کو تیز دوڑاتے ہوئے لائیں گے اور اپنے گھر والوں کو اور جو ان کی بات مانیں گے اپنے ساتھ ( عراق واپس ) لے جائیں گے کاش! انہیں معلوم ہوتا کہ مدینہ ہی ان کے لیے بہتر تھا۔
Sahih al-Bukhari 46:9sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ " اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) sent Mu`adh to Yemen and said, "Be afraid, from the curse of the oppressed as there is no screen between his invocation and Allah
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا بن اسحاق مکی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن عبداللہ صیفی نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابومعبد نے، اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب ( عامل بنا کر ) یمن بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا کہ اس ( دعا ) کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔
Sahih al-Bukhari 56:244sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مُعَاذًا وَأَبَا مُوسَى إِلَى الْيَمَنِ قَالَ " يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا وَلاَ تَخْتَلِفَا ".
Narrated Abu Burda:That his father said, "The Prophet (ﷺ) sent Mu`adh and Abu Musa to Yemen telling them. 'Treat the people with ease and don't be hard on them; give them glad tidings and don't fill them with aversion; and love each other, and don't differ
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے سعید بن ابی بردہ نے ‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ان کے دادا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ کو یمن بھیجا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر یہ ہدایت فرمائی تھی کہ ( لوگوں کے لیے ) آسانی پیدا کرنا ‘ انہیں سختیوں میں مبتلا نہ کرنا ‘ ان کو خوش رکھنا ‘ نفرت نہ دلانا ‘ اور تم دونوں آپس میں اتفاق رکھنا ‘ اختلاف نہ پیدا کرنا۔
Sahih al-Bukhari 57:17sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ كِسَاءً مُلَبَّدًا وَقَالَتْ فِي هَذَا نُزِعَ رُوحُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَزَادَ سُلَيْمَانُ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا يُصْنَعُ بِالْيَمَنِ، وَكِسَاءً مِنْ هَذِهِ الَّتِي يَدْعُونَهَا الْمُلَبَّدَةَ.
Narrated Abu Burda:`Aisha brought out to us a patched woollen garment, and she said, "(It chanced that) the soul of Allah's Messenger (ﷺ) was taken away while he was wearing this." Abu-Burda added, "Aisha brought out to us a thick waist sheet like the ones made by the Yemenites, and also a garment of the type called Al-Mulabbada
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ‘ ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے ابوبردہ بن ابوموسیٰ نے بیان کیا کہا عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک پیوند لگی ہوئی چادر نکال کر دکھائی اور بتلایا کہ اسی کپڑے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض ہوئی تھی۔ اور سلیمان بن مغیرہ نے حمید سے بیان کیا ‘ انہوں نے ابوبردہ سے اتنا زیادہ بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یمن کی بنی ہوئی ایک موٹی ازار ( تہمد ) اور ایک کمبل انہیں کمبلوں میں سے جن کو تم ملبہ ( اور موٹا پیوند دار کہتے ہو ) ہمیں نکال کر دکھائی۔
Sahih al-Bukhari 57:44sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ، أَنَا وَأَخَوَانِ لِي، أَنَا أَصْغَرُهُمْ، أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالآخَرُ أَبُو رُهْمٍ، إِمَّا قَالَ فِي بِضْعٍ، وَإِمَّا قَالَ فِي ثَلاَثَةٍ وَخَمْسِينَ أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلاً مِنْ قَوْمِي فَرَكِبْنَا سَفِينَةً، فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ، وَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابَهُ عِنْدَهُ فَقَالَ جَعْفَرٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَنَا هَا هُنَا، وَأَمَرَنَا بِالإِقَامَةِ فَأَقِيمُوا مَعَنَا. فَأَقَمْنَا مَعَهُ، حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا، فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَأَسْهَمَ لَنَا. أَوْ قَالَ فَأَعْطَانَا مِنْهَا. وَمَا قَسَمَ لأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا، إِلاَّ لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ، إِلاَّ أَصْحَابَ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ، قَسَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ.
Narrated Abu Musa:We got the news of the migration of the Prophet (ﷺ) while we were in Yemen, so we set out migrating to him. We were, I and my two brothers, I being the youngest, and one of my brothers was Abu Burda and the other was Abu Ruhm. We were over fifty (or fifty-three or fifty two) men from our people. We got on board a ship which took us to An-Najashi in Ethiopia, and there we found Ja`far bin Abu Talib and his companions with An-Najashi. Ja`far said (to us), "Allah's Messenger (ﷺ) has sent us here and ordered us to stay here, so you too, stay with us." We stayed with him till we all left (Ethiopia) and met the Prophet (ﷺ) at the time when he had conquered Khaibar. He gave us a share from its booty (or gave us from its booty). He gave only to those who had taken part in the Ghazwa with him. but he did not give any share to any person who had not participated in Khaibar's conquest except the people of our ship, besides Ja`far and his companions, whom he gave a share as he did them (i.e. the people of the ship)
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی خبر ہمیں ملی ‘ تو ہم یمن میں تھے۔ اس لیے ہم بھی آپ کی خدمت میں مہاجر کی حیثیت سے حاضر ہونے کے لیے روانہ ہوئے۔ میں تھا ‘ میرے بھائی تھے۔ ( میری عمران دونوں سے کم تھی ‘ دونوں بھائیوں میں ) ایک ابوبردہ رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرے ابورہم۔ یا انہوں نے یہ کہا کہ اپنی قوم کے چند افراد کے ساتھ یا یہ کہا تریپن یا باون آدمیوں کے ساتھ ( یہ لوگ روانہ ہوئے تھے ) ہم کشتی میں سوار ہوئے تو ہماری کشتی نجاشی کے ملک حبشہ پہنچ گئی اور وہاں ہمیں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ملے۔ جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں بھیجا تھا اور حکم دیا تھا کہ ہم یہیں رہیں۔ چنانچہ ہم بھی وہیں ٹھہر گئے۔ اور پھر سب ایک ساتھ ( مدینہ ) حاضر ہوئے ‘ جب ہم خدمت نبوی میں پہنچے ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر فتح کر چکے تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دوسرے مجاہدوں کے ساتھ ) ہمارا بھی حصہ مال غنیمت میں لگایا۔ یا انہوں نے یہ کہا کہ آپ نے غنیمت میں سے ہمیں بھی عطا فرمایا ‘ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسے شخص کا غنیمت میں حصہ نہیں لگایا جو لڑائی میں شریک نہ رہا ہو۔ صرف انہی لوگوں کو حصہ ملا تھا ‘ جو لڑائی میں شریک تھے۔ البتہ ہمارے کشتی کے ساتھیوں اور جعفر اور ان کے ساتھیوں کو بھی آپ نے غنیمت میں شریک کیا تھا ( حالانکہ ہم لوگ لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے ) ۔
Sahih al-Bukhari 59:1sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ جَاءَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا بَنِي تَمِيمٍ، أَبْشِرُوا ". قَالُوا بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا. فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ، فَجَاءَهُ أَهْلُ الْيَمَنِ، فَقَالَ " يَا أَهْلَ الْيَمَنِ، اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ". قَالُوا قَبِلْنَا. فَأَخَذَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُحَدِّثُ بَدْءَ الْخَلْقِ وَالْعَرْشِ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا عِمْرَانُ، رَاحِلَتُكَ تَفَلَّتَتْ، لَيْتَنِي لَمْ أَقُمْ.
Narrated `Imran bin Husain:Some people of Bani Tamim came to the Prophet (ﷺ) and he said (to them), "O Bani Tamim! rejoice with glad tidings." They said, "You have given us glad tidings, now give us something." On hearing that the color of his face changed then the people of Yemen came to him and he said, "O people of Yemen ! Accept the good tidings, as Bani Tamim has refused them." The Yemenites said, "We accept them. Then the Prophet (ﷺ) started taking about the beginning of creation and about Allah's Throne. In the mean time a man came saying, "O `Imran! Your she-camel has run away!'' (I got up and went away), but I wish I had not left that place (for I missed what Allah's Messenger (ﷺ) had said
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں جامع بن شداد نے، انہیں صفوان بن محرز نے اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنی تمیم کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ اے بنی تمیم کے لوگو! تمہیں بشارت ہو۔ وہ کہنے لگے کہ بشارت جب آپ نے ہم کو دی ہے تو اب ہمیں کچھ مال بھی دیجئیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا، پھر آپ کی خدمت میں یمن کے لوگ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی فرمایا کہ اے یمن والو! بنو تمیم کے لوگوں نے تو خوشخبری کو قبول نہیں کیا، اب تم اسے قبول کر لو۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے قبول کیا۔ پھر آپ مخلوق اور عرش الٰہی کی ابتداء کے بارے میں گفتگو فرمانے لگے۔ اتنے میں ایک ( نامعلوم ) شخص آیا اور کہا کہ عمران! تمہاری اونٹنی بھاگ گئی۔ ( عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) کاش، میں آپ کی مجلس سے نہ اٹھتا تو بہتر ہوتا۔
Sahih al-Bukhari 59:2sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَقَلْتُ نَاقَتِي بِالْبَابِ، فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ " اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ ". قَالُوا قَدْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا. مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ " اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ، إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ". قَالُوا قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالُوا جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ هَذَا الأَمْرِ قَالَ " كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَىْءٌ غَيْرُهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَىْءٍ، وَخَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ ". فَنَادَى مُنَادٍ ذَهَبَتْ نَاقَتُكَ يَا ابْنَ الْحُصَيْنِ. فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا هِيَ يَقْطَعُ دُونَهَا السَّرَابُ، فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ تَرَكْتُهَا.
Narrated Imran bin Husain: I went to the Prophet (ﷺ) and tied my she-camel at the gate. The people of Bani Tamim came to the Prophet (ﷺ) who said "O Bani Tamim! Accept the good tidings." They said twice, 'You have given us the good tidings, now give us something" Then some Yemenites came to him and he said, "Accept the good tidings, O people of Yemen, for Bani Tamim refused them." They said, "We accept it, O Allah's Messenger (ﷺ)! We have come to ask you about this matter (i.e. the start of creations)." He said, "First of all, there was nothing but Allah, and (then He created His Throne). His throne was over the water, and He wrote everything in the Book (in the Heaven) and created the Heavens and the Earth." Then a man shouted, "O Ibn Husain! Your she-camel has gone away!" So, I went away and could not see the she-camel because of the mirage. By Allah, I wished I had left that she-camel (but not that gathering)
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے جامع بن شداد نے بیان کیا، ان سے صفوان بن محرز نے اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور اپنے اونٹ کو میں نے دروازے ہی پر باندھ دیا۔ اس کے بعد بنی تمیم کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”اے بنو تمیم! خوشخبری قبول کرو۔“ انہوں نے دوبار کہا کہ جب آپ نے ہمیں خوشخبری دی ہے تو اب مال بھی دیجئیے۔ پھر یمن کے چند لوگ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی یہی فرمایا کہ خوشخبری قبول کر لو اے یمن والو! بنو تمیم والوں نے تو نہیں قبول کی۔ وہ بولے: یا رسول اللہ! خوشخبری ہم نے قبول کی۔ پھر وہ کہنے لگے ہم اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ آپ سے اس ( عالم کی پیدائش ) کا حال پوچھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ ازل سے موجود تھا اور اس کے سوا کوئی چیز موجود نہ تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ لوح محفوظ میں اس نے ہر چیز کو لکھ لیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔“ ( ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ ابن الحصین! تمہاری اونٹنی بھاگ گئی۔ میں اس کے پیچھے دوڑا۔ دیکھا تو وہ سراب کی آڑ میں ہے ( میرے اور اس کے بیچ میں سراب حائل ہے یعنی وہ ریتی جو دھوپ میں پانی کی طرح چمکتی ہے ) اللہ تعالیٰ کی قسم، میرا دل بہت پچھتایا کہ کاش، میں نے اسے چھوڑ دیا ہوتا ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنی ہوتی ) ۔
Sahih al-Bukhari 59:110sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ أَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ فَقَالَ " الإِيمَانُ يَمَانٍ هَا هُنَا، أَلاَ إِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الإِبِلِ، حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ ".
Narrated `Uqba bin `Umar and Abu Mas`ud:Allah's Messenger (ﷺ) pointed with his hand towards Yemen and said, "(True) Belief is Yemenite, towards here (i.e. the Yemenites had True Belief and embraced Islam readily). Certainly sternness and mercilessness are the qualities of those who are loud and at the base of the tails of camels, where the two horns of Satan will appear. Such qualities belong to the tribes of Rabi`a and Mudar
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا کہ مجھ سے قیس نے بیان کیا اور ان سے عقبہ بن عمرو ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایمان تو ادھر ہے یمن میں! ہاں، اور قساوت اور سخت دلی ان لوگوں میں ہے جو اونٹوں کی دمیں پکڑے چلاتے رہتے ہیں۔ جہاں سے شیطان کی چوٹیاں نمودار ہوں گی، یعنی ربیعہ اور مضر کی قوموں میں۔
Sahih al-Bukhari 61:9sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْفَخْرُ وَالْخُيَلاَءُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ، وَالإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ ". سُمِّيَتِ الْيَمَنَ لأَنَّهَا عَنْ يَمِينِ الْكَعْبَةِ، وَالشَّأْمَ عَنْ يَسَارِ الْكَعْبَةِ، وَالْمَشْأَمَةُ الْمَيْسَرَةُ، وَالْيَدُ الْيُسْرَى الشُّؤْمَى، وَالْجَانِبُ الأَيْسَرُ الأَشْأَمُ.
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "Pride and arrogance are characteristics of the rural bedouins while calmness is found among the owners of sheep. Belief is Yemenite, and wisdom is also Yemenite i.e. the Yemenites are well-known for their true belief and wisdom)." Abu `Abdullah (Al-Bukhari) said, "Yemen was called so because it is situated to the right of the Ka`ba, and Sham was called so because it is situated to the left of the Ka`ba
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ فخر اور تکبر ان چیخنے اور شور مچانے والے اونٹ والوں میں ہے اور بکری چرانے والوں میں نرم دلی اور ملائمت ہوتی ہے اور ایمان تو یمن میں ہے حکمت ( حدیث ) بھی یمنی ہے، ابوعبداللہ یعنی ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ یمن کا نام یمن اس لیے ہوا کہ یہ کعبہ کے دائیں جانب ہے اور شام کو شام اس لیے کہتے ہیں کہ یہ کعبہ کے بائیں جانب ہے۔ «المشأمة» بائیں جانب کو کہتے ہیں۔ بائیں ہاتھ کو «الشؤمى» کہتے ہیں اور بائیں جانب کو «الأشأم.» کہتے ہیں۔
Sahih al-Bukhari 62:108sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي الأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنَ الْيَمَنِ، فَمَكُثْنَا حِينًا مَا نُرَى إِلاَّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، لِمَا نَرَى مِنْ دُخُولِهِ وَدُخُولِ أُمِّهِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari:My brother and I came from Yemen, and for some time we continued to consider `Abdullah bin Mas`ud as one of the members of the family of the Prophet (ﷺ) because we used to see him and his mother going in the house of the Prophet (ﷺ) very often
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف بن ابی اسحٰق نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، کہا کہ مجھ سے اسود بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے سنا: انہوں نے بیان کیا کہ میں اور میرے بھائی یمن سے ( مدینہ طیبہ ) حاضر ہوئے اور ایک زمانے تک یہاں قیام کیا، ہم اس پورے عرصہ میں یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے ہی کے ایک فرد ہیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ کا ( بکثرت ) آنا جانا ہم خود دیکھا کرتے تھے۔
Sahih al-Bukhari 63:101sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَرَكِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا، فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَكُمْ أَنْتُمْ يَا أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ ".
Narrated Abu Musa:We received the news of the departure of the Prophet (to Medina) while we were in Yemen. So we went on board a ship but our ship took us away to An-Najashi (the Negus) in Ethiopia. There we met Ja`far bin Abi Talib and stayed with him till we came (to Medina) by the time when the Prophet (ﷺ) had conquered Khaibar. The Prophet (ﷺ) said, "O you people of the ship! You will have (the reward of) two migrations
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کی اطلاع ملی تو ہم یمن میں تھے۔ پھر ہم کشتی پر سوار ہوئے لیکن اتفاق سے ہوا نے ہماری کشتی کا رخ نجاشی کے ملک حبشہ کی طرف کر دیا۔ ہماری ملاقات وہاں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوئی ( جو ہجرت کر کے وہاں موجود تھے ) ہم انہیں کے ساتھ وہاں ٹھہرے رہے، پھر مدینہ کا رخ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملاقات ہوئی جب آپ خیبر فتح کر چکے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اے کشتی والو! دو ہجرتیں کی ہیں۔
Sahih al-Bukhari 64:268sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ، فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا، وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمْ، أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ، وَالآخَرُ أَبُو رُهْمٍ ـ إِمَّا قَالَ بِضْعٌ وَإِمَّا قَالَ ـ فِي ثَلاَثَةٍ وَخَمْسِينَ أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلاً مِنْ قَوْمِي، فَرَكِبْنَا سَفِينَةً، فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا، فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، وَكَانَ أُنَاسٌ مِنَ النَّاسِ يَقُولُونَ لَنَا ـ يَعْنِي لأَهْلِ السَّفِينَةِ ـ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ، وَدَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ، وَهْىَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا، عَلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زَائِرَةً، وَقَدْ كَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ، فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَأَسْمَاءُ عِنْدَهَا، فَقَالَ عُمَرُ حِينَ رَأَى أَسْمَاءَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ. قَالَ عُمَرُ الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ قَالَتْ أَسْمَاءُ نَعَمْ. قَالَ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ، فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْكُمْ. فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ كَلاَّ وَاللَّهِ، كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ، وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ، وَكُنَّا فِي دَارِ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ بِالْحَبَشَةِ، وَذَلِكَ فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم وَايْمُ اللَّهِ، لاَ أَطْعَمُ طَعَامًا، وَلاَ أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنُخَافُ، وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَسْأَلُهُ، وَاللَّهِ لاَ أَكْذِبُ وَلاَ أَزِيغُ وَلاَ أَزِيدُ عَلَيْهِ.
Narrated Abu Musa:The news of the migration of the Prophet (from Mecca to Medina) reached us while we were in Yemen. So we set out as emigrants towards him. We were (three) I and my two brothers. I was the youngest of them, and one of the two was Abu Burda, and the other, Abu Ruhm, and our total number was either 53 or 52 men from my people. We got on board a boat and our boat took us to Negus in Ethiopia. There we met Ja`far bin Abi Talib and stayed with him. Then we all came (to Medina) and met the Prophet (ﷺ) at the time of the conquest of Khaibar. Some of the people used to say to us, namely the people of the ship, "We have migrated before you." Asma' bint 'Umais who was one of those who had come with us, came as a visitor to Hafsa, the wife of the Prophet (ﷺ). She had migrated along with those other Muslims who migrated to Negus. `Umar came to Hafsa while Asma' bint 'Umais was with her. `Umar, on seeing Asma,' said, "Who is this?" She said, "Asma' bint 'Umais," `Umar said, "Is she the Ethiopian? Is she the sea-faring lady?" Asma' replied, "Yes." `Umar said, "We have migrated before you (people of the boat), so we have got more right than you over Allah's Messenger (ﷺ) " On that Asma' became angry and said, "No, by Allah, while you were with Allah's Messenger (ﷺ) who was feeding the hungry ones amongst you, and advised the ignorant ones amongst you, we were in the far-off hated land of Ethiopia, and all that was for the sake of Allah's Messenger (ﷺ) . By Allah, I will neither eat any food nor drink anything till I inform Allah's Messenger (ﷺ) of all that you have said. There we were harmed and frightened. I will mention this to the Prophet (ﷺ) and will not tell a lie or curtail your saying or add something to it
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے متعلق خبر ملی تو ہم یمن میں تھے۔ اس لیے ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت کی نیت سے نکل پڑے۔ میں اور میرے دو بھائی ‘ میں دونوں سے چھوٹا تھا۔ میرے ایک بھائی کا نام ابوبردہ رضی اللہ عنہ تھا اور دوسرے کا ابو رہم۔ انہوں نے کہا کہ کچھ اوپر پچاس یا انہوں نے یوں بیان کیا کہ تریپن ( 53 ) یا باون ( 52 ) میری قوم کے لوگ ساتھ تھے۔ ہم کشتی پر سوار ہوئے لیکن ہماری کشتی نے ہمیں نجاشی کے ملک حبشہ میں لا ڈالا۔ وہاں ہماری ملاقات جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہو گئی ‘ جو پہلے ہی مکہ سے ہجرت کر کے وہاں پہنچ چکے تھے۔ ہم نے وہاں انہیں کے ساتھ قیام کیا ‘ پھر ہم سب مدینہ ساتھ روانہ ہوئے۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت پہنچے جب آپ خیبر فتح کر چکے تھے۔ کچھ لوگ ہم کشتی والوں سے کہنے لگے کہ ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے اور اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا جو ہمارے ساتھ مدینہ آئی تھیں ‘ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں ‘ ان سے ملاقات کے لیے وہ بھی نجاشی کے ملک میں ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ہجرت کر کے چلی گئی تھیں۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے۔ اس وقت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا وہیں تھیں۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو دریافت فرمایا کہ یہ کون ہیں؟ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ اسماء بنت عمیس۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا اچھا وہی جو حبشہ سے بحری سفر کر کے آئی ہیں۔۔ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جی ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ہم تم لوگوں سے ہجرت میں آگے ہیں اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تمہارے مقابلہ میں زیادہ قریب ہیں۔ اسماء رضی اللہ عنہا اس پر بہت غصہ ہو گئیں اور کہا ہرگز نہیں: اللہ کی قسم! تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہو ‘ تم میں جو بھوکے ہوتے تھے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھلاتے تھے اور جو ناواقف ہوتے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت و موعظت کیا کرتے تھے۔ لیکن ہم بہت دور حبشہ میں غیروں اور دشمنوں کے ملک میں رہتے تھے ‘ یہ سب کچھ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کے راستے ہی میں تو کیا اور اللہ کی قسم! میں اس وقت تک نہ کھانا کھاؤں گی نہ پانی پیوں گی جب تک تمہاری بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ کہہ لوں۔ ہمیں اذیت دی جاتی تھی ‘ دھمکایا ڈرایا جاتا تھا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کروں گی اور آپ سے اس کے متعلق پوچھوں گی۔ اللہ کی قسم نہ میں جھوٹ بولوں گی ‘ نہ کج روی اختیار کروں گی اور نہ کسی ( خلاف واقعہ بات کا ) اضافہ کروں گی۔
Sahih al-Bukhari 64:299sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، يَقُولُ لَقَدِ انْقَطَعَتْ فِي يَدِي يَوْمَ مُوتَةَ تِسْعَةُ أَسْيَافٍ، فَمَا بَقِيَ فِي يَدِي إِلاَّ صَفِيحَةٌ يَمَانِيَةٌ.
Narrated Khalid bin Al-Walid:On the day (of the battle of) Mu'tah, nine swords were broken in my hand, and nothing was left in my hand except a Yemenite sword of mine
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے ‘ ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ میں نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ نو تلواریں ٹوٹی تھیں۔ صرف ایک یمن کا بنا ہوا چوڑے پھل کا تیغہ باقی رہ گیا تھا۔
Sahih al-Bukhari 64:300sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، يَقُولُ لَقَدْ دُقَّ فِي يَدِي يَوْمَ مُوتَةَ تِسْعَةُ أَسْيَافٍ، وَصَبَرَتْ فِي يَدِي صَفِيحَةٌ لِي يَمَانِيَةٌ.
Narrated Khalid bin Al-Walid:On the day of Mu'tah, nine swords were broken in my hand and only a Yemenite sword of mine remained in my hand
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ‘ ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹی تھیں ‘ صرف ایک یمنی تیغہ میرے ہاتھ میں باقی رہ گیا تھا۔
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا مُوسَى وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ وَبَعَثَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى مِخْلاَفٍ قَالَ وَالْيَمَنُ مِخْلاَفَانِ ثُمَّ قَالَ " يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا ". فَانْطَلَقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى عَمَلِهِ، وَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِذَا سَارَ فِي أَرْضِهِ كَانَ قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ أَحْدَثَ بِهِ عَهْدًا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَارَ مُعَاذٌ فِي أَرْضِهِ قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ أَبِي مُوسَى، فَجَاءَ يَسِيرُ عَلَى بَغْلَتِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ، وَإِذَا هُوَ جَالِسٌ، وَقَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ، وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ قَدْ جُمِعَتْ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، أَيَّمَ هَذَا قَالَ هَذَا رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلاَمِهِ. قَالَ لاَ أَنْزِلُ حَتَّى يُقْتَلَ. قَالَ إِنَّمَا جِيءَ بِهِ لِذَلِكَ فَانْزِلْ. قَالَ مَا أَنْزِلُ حَتَّى يُقْتَلَ فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ، كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ أَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا. قَالَ فَكَيْفَ تَقْرَأُ أَنْتَ يَا مُعَاذُ قَالَ أَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ فَأَقُومُ وَقَدْ قَضَيْتُ جُزْئِي مِنَ النَّوْمِ، فَأَقْرَأُ مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي، فَأَحْتَسِبُ نَوْمَتِي كَمَا أَحْتَسِبُ قَوْمَتِي.
Narrated Abu Burda:Allah's Messenger (ﷺ) sent Abu Musa and Mu`adh bin Jabal to Yemen. He sent each of them to administer a province as Yemen consisted of two provinces. The Prophet (ﷺ) said (to them), "Facilitate things for the people and do not make things difficult for them (Be kind and lenient (both of you) with the people, and do not be hard on them) and give the people good tidings and do not repulse them. So each of them went to carry on his job. So when any one of them toured his province and happened to come near (the border of the province of) his companion, he would visit him and greet him. Once Mu`adh toured that part of his state which was near (the border of the province of) his companion Abu Musa. Mu`adh came riding his mule till he reached Abu Musa and saw him sitting, and the people had gathered around him. Behold! There was a man tied with his hands behind his neck. Mu`adh said to Abu Musa, "O `Abdullah bin Qais! What is this?" Abu Musa replied. "This man has reverted to Heathenism after embracing Islam." Mu`adh said, "I will not dismount till he is killed." Abu Musa replied, "He has been brought for this purpose, so come down." Mu`adh said, "I will not dismount till he is killed." So Abu Musa ordered that he be killed, and he was killed. Then Mu`adh dismounted and said, "O `Abdullah (bin Qais)! How do you recite the Qur'an ?" Abu Musa said, "I recite the Qur'an regularly at intervals and piecemeal. How do you recite it O Mu`adh?" Mu`adh said, "I sleep in the first part of the night and then get up after having slept for the time devoted for my sleep and then recite as much as Allah has written for me. So I seek Allah's Reward for both my sleep as well as my prayer (at night)
Sahih al-Bukhari 64:370sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا مُوسَى وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ وَبَعَثَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى مِخْلاَفٍ قَالَ وَالْيَمَنُ مِخْلاَفَانِ ثُمَّ قَالَ " يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا ". فَانْطَلَقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى عَمَلِهِ، وَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِذَا سَارَ فِي أَرْضِهِ كَانَ قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ أَحْدَثَ بِهِ عَهْدًا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَسَارَ مُعَاذٌ فِي أَرْضِهِ قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ أَبِي مُوسَى، فَجَاءَ يَسِيرُ عَلَى بَغْلَتِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ، وَإِذَا هُوَ جَالِسٌ، وَقَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ، وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ قَدْ جُمِعَتْ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، أَيَّمَ هَذَا قَالَ هَذَا رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلاَمِهِ. قَالَ لاَ أَنْزِلُ حَتَّى يُقْتَلَ. قَالَ إِنَّمَا جِيءَ بِهِ لِذَلِكَ فَانْزِلْ. قَالَ مَا أَنْزِلُ حَتَّى يُقْتَلَ فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ، كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ أَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا. قَالَ فَكَيْفَ تَقْرَأُ أَنْتَ يَا مُعَاذُ قَالَ أَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ فَأَقُومُ وَقَدْ قَضَيْتُ جُزْئِي مِنَ النَّوْمِ، فَأَقْرَأُ مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي، فَأَحْتَسِبُ نَوْمَتِي كَمَا أَحْتَسِبُ قَوْمَتِي.
Narrated Abu Burda:Allah's Messenger (ﷺ) sent Abu Musa and Mu`adh bin Jabal to Yemen. He sent each of them to administer a province as Yemen consisted of two provinces. The Prophet (ﷺ) said (to them), "Facilitate things for the people and do not make things difficult for them (Be kind and lenient (both of you) with the people, and do not be hard on them) and give the people good tidings and do not repulse them. So each of them went to carry on his job. So when any one of them toured his province and happened to come near (the border of the province of) his companion, he would visit him and greet him. Once Mu`adh toured that part of his state which was near (the border of the province of) his companion Abu Musa. Mu`adh came riding his mule till he reached Abu Musa and saw him sitting, and the people had gathered around him. Behold! There was a man tied with his hands behind his neck. Mu`adh said to Abu Musa, "O `Abdullah bin Qais! What is this?" Abu Musa replied. "This man has reverted to Heathenism after embracing Islam." Mu`adh said, "I will not dismount till he is killed." Abu Musa replied, "He has been brought for this purpose, so come down." Mu`adh said, "I will not dismount till he is killed." So Abu Musa ordered that he be killed, and he was killed. Then Mu`adh dismounted and said, "O `Abdullah (bin Qais)! How do you recite the Qur'an ?" Abu Musa said, "I recite the Qur'an regularly at intervals and piecemeal. How do you recite it O Mu`adh?" Mu`adh said, "I sleep in the first part of the night and then get up after having slept for the time devoted for my sleep and then recite as much as Allah has written for me. So I seek Allah's Reward for both my sleep as well as my prayer (at night)
Sahih al-Bukhari 64:371sahih
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ، فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْرِبَةٍ تُصْنَعُ بِهَا، فَقَالَ " وَمَا هِيَ ". قَالَ الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ. فَقُلْتُ لأَبِي بُرْدَةَ مَا الْبِتْعُ قَالَ نَبِيذُ الْعَسَلِ، وَالْمِزْرُ نَبِيذُ الشَّعِيرِ. فَقَالَ " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ". رَوَاهُ جَرِيرٌ وَعَبْدُ الْوَاحِدِ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ.
Narrated Abi Burda:That Abu Musa Al-Ash`ari said that the Prophet (ﷺ) had sent him to Yemen and he asked the Prophet (ﷺ) about certain (alcoholic) drink which used to be prepared there The Prophet (ﷺ) said, "What are they?" Abu Musa said, "Al-Bit' and Al-Mizr?" He said, "Al-Bit is an alcoholic drink made from honey; and Al-Mizr is an alcoholic drink made from barley." The Prophet (ﷺ) said, "All intoxicants are prohibited
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے، ان سے شیبانی نے، ان سے سعید بن ابی بردہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان شربتوں کا مسئلہ پوچھا جو یمن میں بنائے جاتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ وہ کیا ہیں؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ”بتع“ اور ”مزر“ ( سعید بن ابی بردہ نے کہا کہ ) میں نے ابوبردہ ( اپنے والد ) سے پوچھا ”بتع“ کیا چیز ہے؟ انہوں نے بتایا کہ شہد سے تیاری کی ہوئی شراب اور ”مزر“ جَو سے تیار کی ہوئی شراب۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز پینا حرام ہے۔ اس کی روایت جریر اور عبدالواحد نے شیبانی سے کی ہے اور انہوں نے ابوبردہ سے کی ہے۔
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَدَّهُ أَبَا مُوسَى، وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ " يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا ". فَقَالَ أَبُو مُوسَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا بِهَا شَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ الْمِزْرُ، وَشَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ الْبِتْعُ. فَقَالَ " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ". فَانْطَلَقَا فَقَالَ مُعَاذٌ لأَبِي مُوسَى كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَعَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا. قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ، فَأَحْتَسِبُ نَوْمَتِي كَمَا أَحْتَسِبُ قَوْمَتِي، وَضَرَبَ فُسْطَاطًا، فَجَعَلاَ يَتَزَاوَرَانِ، فَزَارَ مُعَاذٌ أَبَا مُوسَى، فَإِذَا رَجُلٌ مُوثَقٌ، فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالَ أَبُو مُوسَى يَهُودِيٌّ أَسْلَمَ ثُمَّ ارْتَدَّ. فَقَالَ مُعَاذٌ لأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ. تَابَعَهُ الْعَقَدِيُّ وَوَهْبٌ عَنْ شُعْبَةَ. وَقَالَ وَكِيعٌ وَالنَّضْرُ وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. رَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ.
Narrated Abu Burda:That the Prophet (ﷺ) sent his (i.e. Abu Burda's) grandfather, Abu Musa and Mu`adh to Yemen and said to both of them "Facilitate things for the people (Be kind and lenient) and do not make things difficult (for people), and give them good tidings, and do not repulse them and both of you should obey each other." Abu Musa said, "O Allah's Prophet! In our land there is an alcoholic drink (prepared) from barley called Al-Mizr, and another (prepared) from honey, called Al-Bit"' The Prophet (ﷺ) said, "All intoxicants are prohibited." Then both of them proceeded and Mu`adh asked Abu Musa, "How do you recite the Qur'an?" Abu Musa replied, "I recite it while I am standing, sitting or riding my riding animals, at intervals and piecemeal." Mu`adh said, "But I sleep and then get up. I sleep and hope for Allah's Reward for my sleep as I seek His Reward for my night prayer." Then he (i.e. Mu`adh) pitched a tent and they started visiting each other. Once Mu`adh paid a visit to Abu Musa and saw a chained man. Mu`adh asked, "What is this?" Abu Musa said, "(He was) a Jew who embraced Islam and has now turned apostate." Mu`adh said, "I will surely chop off his neck
Sahih al-Bukhari 64:372sahih
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَدَّهُ أَبَا مُوسَى، وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ " يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا ". فَقَالَ أَبُو مُوسَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا بِهَا شَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ الْمِزْرُ، وَشَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ الْبِتْعُ. فَقَالَ " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ". فَانْطَلَقَا فَقَالَ مُعَاذٌ لأَبِي مُوسَى كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَعَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا. قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ، فَأَحْتَسِبُ نَوْمَتِي كَمَا أَحْتَسِبُ قَوْمَتِي، وَضَرَبَ فُسْطَاطًا، فَجَعَلاَ يَتَزَاوَرَانِ، فَزَارَ مُعَاذٌ أَبَا مُوسَى، فَإِذَا رَجُلٌ مُوثَقٌ، فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالَ أَبُو مُوسَى يَهُودِيٌّ أَسْلَمَ ثُمَّ ارْتَدَّ. فَقَالَ مُعَاذٌ لأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ. تَابَعَهُ الْعَقَدِيُّ وَوَهْبٌ عَنْ شُعْبَةَ. وَقَالَ وَكِيعٌ وَالنَّضْرُ وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. رَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ.
Narrated Abu Burda:That the Prophet (ﷺ) sent his (i.e. Abu Burda's) grandfather, Abu Musa and Mu`adh to Yemen and said to both of them "Facilitate things for the people (Be kind and lenient) and do not make things difficult (for people), and give them good tidings, and do not repulse them and both of you should obey each other." Abu Musa said, "O Allah's Prophet! In our land there is an alcoholic drink (prepared) from barley called Al-Mizr, and another (prepared) from honey, called Al-Bit"' The Prophet (ﷺ) said, "All intoxicants are prohibited." Then both of them proceeded and Mu`adh asked Abu Musa, "How do you recite the Qur'an?" Abu Musa replied, "I recite it while I am standing, sitting or riding my riding animals, at intervals and piecemeal." Mu`adh said, "But I sleep and then get up. I sleep and hope for Allah's Reward for my sleep as I seek His Reward for my night prayer." Then he (i.e. Mu`adh) pitched a tent and they started visiting each other. Once Mu`adh paid a visit to Abu Musa and saw a chained man. Mu`adh asked, "What is this?" Abu Musa said, "(He was) a Jew who embraced Islam and has now turned apostate." Mu`adh said, "I will surely chop off his neck
Sahih al-Bukhari 64:374sahih
حَدَّثَنِي حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ " إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْكُمْ صَدَقَةً، تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ {طَوَّعَتْ} طَاعَتْ وَأَطَاعَتْ لُغَةٌ، طِعْتُ وَطُعْتُ وَأَطَعْتُ.
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) said to Mu`adh bin Jabal when he sent him to Yemen, "You will come to the people of Scripture, and when you reach them, invite them to testify that none has the right to be worshipped except Allah and that Muhammad is His Apostle. And if they obey you in that, then tell them that Allah has enjoined on them five prayers to be performed every day and night. And if they obey you in that, then tell them that Allah has enjoined on them Sadaqa (i.e. Zakat) to be taken from the rich amongst them and given to the poor amongst them. And if they obey you in that, then be cautious! Don't take their best properties (as Zakat) and be afraid of the curse of an oppressed person as there is no screen between his invocation and Allah
مجھ سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں زکریا بن اسحاق نے، انہیں یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابومعبد نافذ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا ( حاکم بنا کر بھیجتے وقت انہیں ) ہدایت فرمائی تھی کہ تم ایک ایسی قوم کی طرف جا رہے ہو جو اہل کتاب یہودی اور نصرانی وغیرہ میں سے ہیں۔ اس لیے جب تم وہاں پہنچو تو پہلے انہیں اس کی دعوت دو کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اگر اس میں وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے روزانہ ان پر پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں، جب یہ بھی مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ کو بھی فرض کیا ہے، جو ان کے مالدار لوگوں سے لی جائے گی اور انہیں کے غریبوں میں تقسیم کر دی جائے گی۔ جب یہ بھی مان جائیں تو ( پھر زکوٰۃ وصول کرتے وقت ) ان کا سب سے عمدہ مال لینے سے پرہیز کرنا اور مظلوم کی آہ سے ہر وقت ڈرتے رہنا کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ سورۃ المائدہ میں جو «طوعت» کا لفظ آیا ہے اس کا وہی معنی ہے جو «طاعت» اور «أطاعت» کا ہے جیسے کہتے ہیں «طعت وطعت وأطعت.» سب کا معنی ایک ہی ہے۔
Sahih al-Bukhari 64:375sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، أَنَّ مُعَاذًا ـ رضى الله عنه ـ لَمَّا قَدِمَ الْيَمَنَ صَلَّى بِهِمِ الصُّبْحَ فَقَرَأَ {وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلاً} فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لَقَدْ قَرَّتْ عَيْنُ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ. زَادَ مُعَاذٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَرَأَ مُعَاذٌ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ سُورَةَ النِّسَاءِ فَلَمَّا قَالَ {وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلاً} قَالَ رَجُلٌ خَلْفَهُ قَرَّتْ عَيْنُ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ.
Narrated `Amr bin Maimuin:When Mu`adh arrived at Yemen, he led them (i.e. the people of Yemen) in the Fajr prayer wherein he recited: 'Allah took Abraham as a Khalil.' A man amongst the people said, "(How) glad the mother of Abraham is!" (In another narration) `Amr said, "The Prophet (ﷺ) sent Mu`adh to Yemen and he (led the people) in the Fajr prayer and recited: 'Allah took Abraham as a Khalil. A man behind him said, "(How) glad the mother of Abraham is
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب وہ یمن پہنچے تو یمن والوں کو صبح کی نماز پڑھائی اور نماز میں آیت «واتخذ الله إبراهيم خليلا» کی قرآت کی تو ان میں سے ایک صاحب ( نماز ہی میں ) بولے کہ ابراہیم کی والدہ کی آنکھ ٹھنڈی ہو گئی ہو گی۔ معاذ بن معاذ بغوی نے شعبہ سے، انہوں نے حبیب سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے عمرو بن میمون سے اس حدیث میں صرف اتنا بڑھایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو یمن بھیجا وہاں انہوں نے صبح کی نماز میں سورۃ نساء پڑھی جب اس آیت پر پہنچے «واتخذ الله إبراهيم خليلا» تو ایک صاحب جو ان کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے کہا کہ ابراہیم کی والدہ کی آنکھ ٹھنڈی ہو گئی ہو گی۔
Sahih al-Bukhari 64:376sahih
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ. بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ ثُمَّ بَعَثَ عَلِيًّا بَعْدَ ذَلِكَ مَكَانَهُ فَقَالَ مُرْ أَصْحَابَ خَالِدٍ، مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ أَنْ يُعَقِّبَ مَعَكَ فَلْيُعَقِّبْ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُقْبِلْ. فَكُنْتُ فِيمَنْ عَقَّبَ مَعَهُ، قَالَ فَغَنِمْتُ أَوَاقٍ ذَوَاتِ عَدَدٍ.
Narrated Al-Bara:Allah's Messenger (ﷺ) sent us to Yemen along with Khalid bin Al-Walid. Later on he sent `Ali bin Abi Talib in his place. The Prophet (ﷺ) said to `Ali, "Give Khalid's companions the choice of either staying with you (in Yemen) or returning to Medina." I was one of those who stayed with him (i.e. `Ali) and got several Awaq (of gold from the war booty)
مجھ سے احمد بن عثمان بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف بن اسحاق بن ابی اسحاق نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن بھیجا، بیان کیا کہ پھر اس کے بعد ان کی جگہ علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے انہیں ہدایت کی کہ خالد کے ساتھیوں سے کہو کہ جو ان میں سے تمہارے ساتھ یمن میں رہنا چاہے وہ تمہارے ساتھ پھر یمن کو لوٹ جائے اور جو وہاں سے واپس آنا چاہے وہ چلا آئے۔ براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو یمن کو لوٹ گئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے غنیمت میں کئی اوقیہ چاندی کے ملے تھے۔
Sahih al-Bukhari 64:379sahih
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ قَالَ جَابِرٌ أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ. زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ قَالَ جَابِرٌ فَقَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رضى الله عنه بِسِعَايَتِهِ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بِمَ أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ ". قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ ". قَالَ وَأَهْدَى لَهُ عَلِيٌّ هَدْيًا.
Narrated 'Ata:Jabir said, "The Prophet (ﷺ) ordered `Ali to keep the state of Ihram." Jabir added, "Ali bin Abi Talib returned (from Yemen) when he was a governor (of Yemen). The Prophet (ﷺ) said to him, 'With what intention have you assumed the state of Ihram?' `Ali said, "I have assumed Ihram with an intention as that of the Prophet." Then the Prophet (ﷺ) said (to him), 'Offer a Hadi and keep the state of Ihram in which you are now.' `Ali slaughtered a Hadi on his behalf
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے کہ عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے ( جب وہ یمن سے مکہ آئے ) فرمایا تھا کہ وہ اپنے احرام پر باقی رہیں۔ محمد بن بکر نے ابن جریج سے اتنا بڑھایا کہ ان سے عطاء نے بیان کیا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا علی رضی اللہ عنہ اپنی ولایت ( یمن ) سے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ علی! تم نے احرام کس طرح باندھا ہے؟ عرض کیا کہ جس طرح احرام آپ نے باندھا ہو۔ فرمایا پھر قربانی کا جانور بھیج دو اور جس طرح احرام باندھا ہے، اسی کے مطابق عمل کرو۔ بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قربانی کے جانور لائے تھے۔
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، أَنَّهُ ذَكَرَ لاِبْنِ عُمَرَ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، فَقَالَ أَهَلَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ، وَأَهْلَلْنَا بِهِ مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً ". وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَدْىٌ، فَقَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنَ الْيَمَنِ حَاجًّا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بِمَ أَهْلَلْتَ فَإِنَّ مَعَنَا أَهْلَكَ ". قَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ " فَأَمْسِكْ، فَإِنَّ مَعَنَا هَدْيًا ".
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) assumed the state of Ihram for Umra and Hajj, and we too assumed it for Hajj with him. When we arrived at Mecca, the Prophet (ﷺ) said, "Whoever does not possess a Hadi should regard his Ihram for Umra only." The Prophet (ﷺ) had a Hadi with him. `Ali bin Abi Talib came to us from Yemen with the intention of performing Hajj. The Prophet (ﷺ) said (to him), "With what intention have you assumed the Ihram, for your wife is with us?" `Ali said, "I assumed the Ihram with the same intention as that of the Prophet (ﷺ) ." The Prophet (ﷺ) said, "Keep on the state of Ihram, as we have got the Hadi
Sahih al-Bukhari 64:380sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، أَنَّهُ ذَكَرَ لاِبْنِ عُمَرَ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، فَقَالَ أَهَلَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ، وَأَهْلَلْنَا بِهِ مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً ". وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَدْىٌ، فَقَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنَ الْيَمَنِ حَاجًّا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بِمَ أَهْلَلْتَ فَإِنَّ مَعَنَا أَهْلَكَ ". قَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ " فَأَمْسِكْ، فَإِنَّ مَعَنَا هَدْيًا ".
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) assumed the state of Ihram for Umra and Hajj, and we too assumed it for Hajj with him. When we arrived at Mecca, the Prophet (ﷺ) said, "Whoever does not possess a Hadi should regard his Ihram for Umra only." The Prophet (ﷺ) had a Hadi with him. `Ali bin Abi Talib came to us from Yemen with the intention of performing Hajj. The Prophet (ﷺ) said (to him), "With what intention have you assumed the Ihram, for your wife is with us?" `Ali said, "I assumed the Ihram with the same intention as that of the Prophet (ﷺ) ." The Prophet (ﷺ) said, "Keep on the state of Ihram, as we have got the Hadi
Sahih al-Bukhari 64:382sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، قَالَ قَالَ لِي جَرِيرٌ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ". وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ يُسَمَّى الْكَعْبَةَ الْيَمَانِيَةَ، فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ، وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ، وَكُنْتُ لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ فِي صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ " اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ". فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَكَسَرَهَا وَحَرَّقَهَا، ثُمَّ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ جَرِيرٍ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ. قَالَ فَبَارَكَ فِي خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ.
Narrated Qais:Jarir said to me, The Prophet (ﷺ) said to me, "Won't you relieve me from Dhu-l-Khalasa?" And that was a house (in Yemen belonging to the tribe of) Khatham called Al-Ka`ba Al Yamaniya. I proceeded with one-hundred and-fifty cavalry from Ahmas (tribe) who were horse riders. I used not to sit firm on horses, so the Prophet (ﷺ) stroke me over my chest till I saw the mark of his fingers over my chest, and then he said, 'O Allah! Make him (i.e. Jarir) firm and one who guides others and is guided on the right path." So Jarir proceeded to it dismantled and burnt it, and then sent a messenger to Allah's Messenger (ﷺ). The messenger of Jarir said (to the Prophet), "By Him Who sent you with the Truth, I did not leave that place till it was like a scabby camel." The Prophet (ﷺ) blessed the horses of Ahmas and their men five times
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعد قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا، کہا مجھ سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم مجھے ذوالخلصہ سے کیوں نہیں بےفکر کرتے؟ یہ قبیلہ خثعم کا ایک بت خانہ تھا۔ اسے کعبہ یمانیہ بھی کہتے تھے۔ چنانچہ میں ڈیڑھ سو قبیلہ احمس کے سواروں کو لے کر روانہ ہوا۔ یہ سب اچھے شہسوا ر تھے۔ مگر میں گھوڑے کی سواری اچھی طرح نہیں کر سکتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا یہاں تک کہ میں نے آپ کی انگلیوں کا اثر اپنے سینے میں پایا۔ پھر آپ نے دعا کی کہ اے اللہ! اسے گھوڑے کا اچھا سوار بنا دے اور اسے راستہ بتلانے والا اور خود راستہ پایا ہوا بنا دے۔ پھر وہ اس بت خانے کی طرف روانہ ہوئے اور اسے ڈھا کر اس میں آگ لگا دی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اطلاع بھیجی۔ جریر کے ایلچی نے آ کر عرض کیا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، میں اس وقت تک آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے نہیں چلا جب تک وہ خارش زدہ اونٹ کی طرح جل کر ( سیاہ ) نہیں ہو گیا۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے گھوڑوں اور لوگوں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فرمائی۔
Sahih al-Bukhari 64:385sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ كُنْتُ بِالْبَحْرِ فَلَقِيتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ذَا كَلاَعٍ وَذَا عَمْرٍو، فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ ذُو عَمْرٍو لَئِنْ كَانَ الَّذِي تَذْكُرُ مِنْ أَمْرِ صَاحِبِكَ، لَقَدْ مَرَّ عَلَى أَجَلِهِ مُنْذُ ثَلاَثٍ. وَأَقْبَلاَ مَعِي حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ رُفِعَ لَنَا رَكْبٌ مِنْ قِبَلِ الْمَدِينَةِ فَسَأَلْنَاهُمْ فَقَالُوا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ وَالنَّاسُ صَالِحُونَ. فَقَالاَ أَخْبِرْ صَاحِبَكَ أَنَّا قَدْ جِئْنَا وَلَعَلَّنَا سَنَعُودُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَرَجَعَا إِلَى الْيَمَنِ فَأَخْبَرْتُ أَبَا بَكْرٍ بِحَدِيثِهِمْ قَالَ أَفَلاَ جِئْتَ بِهِمْ. فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ قَالَ لِي ذُو عَمْرٍو يَا جَرِيرُ إِنَّ بِكَ عَلَىَّ كَرَامَةً، وَإِنِّي مُخْبِرُكَ خَبَرًا، إِنَّكُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا كُنْتُمْ إِذَا هَلَكَ أَمِيرٌ تَأَمَّرْتُمْ فِي آخَرَ، فَإِذَا كَانَتْ بِالسَّيْفِ كَانُوا مُلُوكًا يَغْضَبُونَ غَضَبَ الْمُلُوكِ وَيَرْضَوْنَ رِضَا الْمُلُوكِ.
Narrated Jarir:While I was at Yemen, I met two men from Yemen called Dhu Kala and Dhu `Amr, and I started telling them about Allah's Messenger (ﷺ). Dhu `Amr said to me, "If what you are saying about your friend (i.e. the Prophet) is true, then he has died three days ago." Then both of them accompanied me to Medina, and when we had covered some distance on the way to Medina, we saw some riders coming from Medina. We asked them and they said, "Allah's Messenger (ﷺ) has died and Abu Bakr has been appointed as the Caliph and the people are in a good state.' Then they said, "Tell your friend (Abu Bakr) that we have come (to visit him), and if Allah will, we will come again." So they both returned to Yemen. When I told Abu Bakr their statement, he said to me, "I wish you had brought them (to me)." Afterwards I met Dhu `Amr, and he said to me, "O Jarir! You have done a favor to me and I am going to tell you something, i.e. you, the nation of 'Arabs, will remain prosperous as long as you choose and appoint another chief whenever a former one is dead. But if authority is obtained by the power of the sword, then the rulers will become kings who will get angry, as kings get angry, and will be delighted as kings get delighted
مجھ سے عبداللہ بن ابی شیبہ عبسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( یمن سے واپسی پر مدینہ آنے کے لیے ) میں دریا کے راستے سے سفر کر رہا تھا۔ اس وقت یمن کے دو آدمیوں ذوکلاع اور ذوعمرو سے میری ملاقات ہوئی میں ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کرنے لگا اس پر ذوعمرو نے کہا: اگر تمہارے صاحب ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) وہی ہیں جن کا ذکر تم کر رہے ہو تو ان کی وفات کو بھی تین دن گزر چکے۔ یہ دونوں میرے ساتھ ہی ( مدینہ ) کی طرف چل رہے تھے۔ راستے میں ہمیں مدینہ کی طرف سے آتے ہوئے کچھ سوار دکھائی دئیے، ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں۔ آپ کے خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ منتخب ہوئے ہیں اور لوگ اب بھی سب خیریت سے ہیں۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ اپنے صاحب ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) سے کہنا کہ ہم آئے تھے اور ان شاءاللہ پھر مدینہ آئیں گے یہ کہہ کر دونوں یمن کی طرف واپس چلے گئے۔ پھر میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کی باتوں کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا کہ پھر انہیں اپنے ساتھ لائے کیوں نہیں؟ بہت دنوں بعد خلافت عمری میں ذوعمرو نے ایک مرتبہ مجھ سے کہا کہ جریر! تمہارا مجھ پر احسان ہے اور تمہیں میں ایک بات بتاؤں گا کہ تم اہل عرب اس وقت تک خیر و بھلائی کے ساتھ رہو گے جب تک تمہارا طرز عمل یہ ہو گا کہ جب تمہارا کوئی امیر وفات پا جائے گا تو تم اپنا کوئی دوسرا امیر منتخب کر لیا کرو گے۔ لیکن جب ( امارت کے لیے ) تلوار تک بات پہنچ جائے تو تمہارے امیر بادشاہ بن جائیں گے۔ بادشاہوں کی طرح غصہ ہوا کریں گے اور انہیں کی طرح خوش ہوا کریں گے۔
Sahih al-Bukhari 64:391sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَتَى نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا. فَرِيءَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ فَجَاءَ نَفَرٌ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ " اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ". قَالُوا قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ.
Narrated `Imran bin Hussein:A delegation from Banu Tamim came to the Prophet (ﷺ) . The Prophet (ﷺ) said, "Accept the good tidings, O Banu Tamim!" They said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You have given us good tidings, so give us (something)." Signs of displeasure appeared on his face. Then another delegation from Yemen came and he said (to them), "Accept the good tidings, for Banu Tamim refuses to accept them." They replied, "We have accepted them, O Allah's Messenger (ﷺ)
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ان سے ابوصخرہ نے، ان سے صفوان بن محرز مازنی نے اور ان سے عمران بن حصین نے بیان کیا کہ بنو تمیم کے چند لوگوں کا ( ایک وفد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔“ وہ کہنے لگے کہ بشارت تو آپ ہمیں دے چکے، کچھ مال بھی دیجئیے۔ ان کے اس جواب پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناگواری کا اثر دیکھا گیا، پھر یمن کے چند لوگوں کا ایک ( وفد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے بشارت نہیں قبول کی، تم قبول کر لو۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم کو بشارت قبول ہے۔
Sahih al-Bukhari 64:407sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي، مِنَ الْيَمَنِ، فَمَكَثْنَا حِينًا مَا نُرَى ابْنَ مَسْعُودٍ وَأُمَّهُ إِلاَّ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ، مِنْ كَثْرَةِ دُخُولِهِمْ وَلُزُومِهِمْ لَهُ.
Narrated Abu Musa:My brother and I came from Yemen (to Medina) and remained for some time, thinking that Ibn Masud and his mother belonged to the family of the Prophet (ﷺ) because of their frequent entrance (upon the Prophet) and their being attached to him
مجھ سے عبداللہ بن محمد اور اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابواسحاق عمرو بن عبداللہ نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ میں اور میرے بھائی ابورحم یا ابوبردہ یمن سے آئے تو ہم ( ابتداء میں ) بہت دنوں تک یہ سمجھتے رہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ ام عبداللہ رضی اللہ عنہما دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں کیونکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں رات دن بہت آیا جایا کرتے تھے اور ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا کرتے تھے۔
Sahih al-Bukhari 64:409sahih
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرَةَ، جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيُّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، قَالَ جَاءَتْ بَنُو تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ ". قَالُوا أَمَّا إِذْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا. فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ". قَالُوا قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ.
Narrated `Imran bin Husain:The people of Banu Tamim came to Allah's Messenger (ﷺ), and he said, "Be glad (i.e. have good tidings). O Banu Tamim!" They said, "As you have given us good tidings then give us (some material things)." On that the features of Allah's Messenger (ﷺ) changed (i.e. he took it ill). Then some people from Yemen came, and the Prophet (ﷺ) said (to them) "Accept good tidings as Banu Tamim have not accepted them." They said, "We accept them, O Allah's Messenger (ﷺ)
مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا۔ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصخرہ جامع بن شداد نے بیان کیا، کہا ہم سے صفوان بن محرز مازنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنو تمیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ نے ہمیں بشارت دی ہے تو کچھ روپے بھی عنایت فرمائیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پھر یمن کے کچھ اشعری لوگ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے بشارت قبول نہیں کی، یمن والو! تم قبول کر لو۔ وہ بولے ہم نے قبول کی یا رسول اللہ۔
Sahih al-Bukhari 64:410sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الإِيمَانُ هَا هُنَا ". وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْيَمَنِ " وَالْجَفَاءُ وَغِلَظُ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ، عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الإِبِلِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ ".
Narrated Abu Masud:The Prophet (ﷺ) beckoned with his hand towards Yemen and said, "Belief is there." The harshness and mercilessness are the qualities of those farmers etc, who are busy with their camels and pay no attention to the religion (is towards the east) from where the side of the head of Satan will appear; those are the tribes of Rabi`a and Mudar
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان تو ادھر ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کیا اور بےرحمی اور سخت دلی اونٹ کی دم کے پیچھے پیچھے چلانے والوں میں ہے، جدھر سے شیطان کے دونوں سینگ نکلتے ہیں ( یعنی مشرق ) قبیلہ ربیعہ اور مضر کے لوگوں میں۔
Sahih al-Bukhari 64:411sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَأَلْيَنُ قُلُوبًا، الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلاَءُ فِي أَصْحَابِ الإِبِلِ، وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ ". وَقَالَ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The people of Yemen have come to you and they are more gentle and soft-hearted. Belief is Yemenite and Wisdom is Yemenite, while pride and haughtiness are the qualities of the owners of camels (i.e. bedouins). Calmness and solemnity are the characters of the owners of sheep
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان نے، ان سے ذکوان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے یہاں اہل یمن آ گئے ہیں، ان کے دل کے پردے باریک، دل نرم ہوتے ہیں، ایمان یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمن کی اچھی ہے اور فخر و تکبر اونٹ والوں میں ہوتا ہے اور اطمینان اور سہولت بکری والوں میں۔ اور غندر نے بیان کیا اس حدیث کو شعبہ سے، ان سے سلیمان نے، انہوں نے ذکوان سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
Sahih al-Bukhari 64:412sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْفِتْنَةُ هَا هُنَا، هَا هُنَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Belief is Yemenite while afflictions appear from there (the east) from where the side of the head of Satan will appear
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے ابن بلال نے، ان سے ثور بن زید نے، ان سے ابوالغیث (سالم) نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان یمن کا ہے اور فتنہ ( دین کی خرابی ) ادھر سے ہے اور ادھر ہی سے شیطان کے سر کا کونا نمودار ہو گا۔
Sahih al-Bukhari 64:413sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، أَضْعَفُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The people of Yemen have come to you, and they are more soft hearted and gentle hearted people. The capacity for understanding religion is Yemenite and Wisdom is Yemenite
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے یہاں اہل یمن آئے ہیں جو نرم دل رقیق القلب ہیں، دین کی سمجھ یمن والوں میں ہے اور حکمت بھی یمن کی ہے۔
Sahih al-Bukhari 64:485sahih
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لَهُ مَتَى هَاجَرْتَ قَالَ خَرَجْنَا مِنَ الْيَمَنِ مُهَاجِرِينَ، فَقَدِمْنَا الْجُحْفَةَ، فَأَقْبَلَ رَاكِبٌ فَقُلْتُ لَهُ الْخَبَرَ فَقَالَ دَفَنَّا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مُنْذُ خَمْسٍ. قُلْتُ هَلْ سَمِعْتَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ أَخْبَرَنِي بِلاَلٌ مُؤَذِّنُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ فِي السَّبْعِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ.
Narrated Ibn Abu Habib:Abu Al-Khair said, "As-Sunabihi asked (me), 'When did you migrate?' I (i.e. Abu Al-Khair) said, 'We went out from Yemen as emigrants and arrived at Al-Juhfa, and there came a rider whom I asked about the news. The rider said: We buried the Prophet (ﷺ) five days ago." I asked (As-Sunabihi), 'Did you hear anything about the night of Qadr?' He replied, 'Bilal, the Mu'adh-dhin of the Prophet (ﷺ) informed me that it is on one of the seven nights of the last ten days (of Ramadan)
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، انہیں عمرو بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے عبدالرحمٰن بن عسیلہ صنابحی سے، جناب ابوالخیر نے ان سے پوچھا تھا کہ تم نے کب ہجرت کی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہم ہجرت کے ارادے سے یمن چلے، ابھی ہم مقام جحفہ میں پہنچے تھے کہ ایک سوار سے ہماری ملاقات ہوئی۔ ہم نے ان سے مدینہ کی خبر پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو پانچ دن ہو چکے ہیں میں نے پوچھا تم نے لیلۃ القدر کے بارے میں کوئی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن بلال رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرہ کے سات دنوں میں ( ایک طاق رات ) ہوتی ہے۔
Sahih al-Bukhari 68:52sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ وَأَشَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ " الإِيمَانُ هَا هُنَا ـ مَرَّتَيْنِ ـ أَلاَ وَإِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ ".
Narrated Abu Masud:The Prophet (ﷺ) pointed with his hand towards Yemen and said twice, "Faith is there," and then pointed towards the East, and said, "Verily, sternness and mercilessness are the qualities of those who are busy with their camels and pay no attention to their religion, where the two sides of the head of Satan will appear," namely, the tribes of Rabl'a and Muqar
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ برکتیں ادھر ہیں۔ دو مرتبہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ) ہاں اور سختی اور قساوت قلب ان کی کرخت آواز والوں میں ہے جہاں سے شیطان کی دونوں سینگیں طلوع ہوتی ہیں یعنی ربیعہ اور مضر میں۔
Sahih al-Bukhari 68:86sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلاَ نَكْتَحِلَ، وَلاَ نَطَّيَّبَ، وَلاَ نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا، إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ، وَكُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ.
Narrated Um 'Atiyya:We were forbidden to mourn for more than three days for a dead person, except for a husband, for whom a wife should mourn for four months and ten days (while in the mourning period) we were not allowed to put kohl in our eyes, nor perfume our-selves, nor wear dyed clothes, except a garment of 'Asb (special clothes made in Yemen). But it was permissible for us that when one of us became clean from her menses and took a bath, she could use a piece of a certain kind of incense. And it was forbidden for us to follow funeral processions
مجھ سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے حفصہ نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہمیں اس سے منع کیا گیا کہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ منائیں سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن کی عدت تھی۔ اس عرصہ میں ہم نہ سرمہ لگاتے نہ خوشبو استعمال کرتے اور نہ رنگا کپڑا پہنتے تھے۔ البتہ وہ کپڑا اس سے الگ تھا جس کا ( دھاگا ) بننے سے پہلے ہی رنگ دیا گیا ہو۔ ہمیں اس کی اجازت تھی کہ اگر کوئی حیض کے بعد غسل کرے تو اس وقت اظفار کا تھوڑا سا عود استعمال کر لے اور ہمیں جنازہ کے پیچھے چلنے کی بھی ممانعت تھی۔
Sahih al-Bukhari 77:30sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قُلْتُ لَهُ أَىُّ الثِّيَابِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ الْحِبَرَةُ.
Narrated Qatada:I asked Anas, "What kind of clothes was most beloved to the Prophet?" He replied, "The Hibra (a kind of Yemenese cloth)
ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح کا کپڑا زیادہ پسند تھا بیان کیا کہ حبرۃ کی سبز یمنی چادر۔
Sahih al-Bukhari 77:31sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ أَحَبُّ الثِّيَابِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَلْبَسَهَا الْحِبَرَةَ.
Narrated Anas bin Malik:The most beloved garment to the Prophet (ﷺ) to wear was the Hibra (a kind of Yemenese cloth)
مجھ سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معاذ دستوائی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام کپڑوں میں یمنی سبز چادر پہننا بہت پسند تھی۔
Sahih al-Bukhari 77:68sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا. قَالَ مَا هِيَ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُكَ لاَ تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ، وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى كَانَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ. فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَمَّا الأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمَسُّ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْبُغُ بِهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا وَأَمَّا الإِهْلاَلُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ.
Narrated Sa`id Al-Maqburi:'Ubai bin Juraij said to `Abdullah Ben `Umar, "I see you doing four things which are not done by your friends." Ibn `Umar said, "What are they, O Ibn Juraij?" He said, "I see that you do not touch except the two Yemenite corners of the Ka`ba (while performing the Tawaf): and I see you wearing the Sabtiyya shoes; and I see you dyeing (your hair) with Sufra; and I see that when you are in Mecca, the people assume the state of Ihram on seeing the crescent (on the first day of Dhul-Hijja) while you do not assume the state of Ihram till the Day of Tarwiya (8th Dhul Hijja)." `Abdullah bin `Umar said to him, "As for the corners of the Ka`ba, I have not seen Allah's Messenger (ﷺ) touching except the two Yemenite corners, As for the Sabtiyya shoes, I saw Allah's Messenger (ﷺ) wearing leather shoes that had no hair, and he used to perform the ablution while wearing them. Therefore, I like to wear such shoes. As regards dyeing with Sufra, I saw Allah's Messenger (ﷺ) dyeing his hair with it, so I like to dye (my hair) with it. As regards the crescent (of Dhul-Hijja), I have not seen Allah's Messenger (ﷺ) assuming the state of Ihram till his she-camel set out (on the 8th of Dhul-Hijja)
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے مقبری نے، ان سے عبید بن جریج نے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میں آپ کو چار ایسی چیزیں کرتے دیکھتا ہوں جو میں نے آپ کے کسی ساتھی کو کرتے نہیں دیکھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ابن جریج! وہ کیا چیزیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ( خانہ کعبہ کے ) کسی کونے کو طواف میں ہاتھ نہیں لگاتے صرف دو ارکان یمانی ( یعنی صرف رکن یمانی اور حجر اسود ) کو چھوتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ صاف زین کے چمڑے کا جوتا پہنتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا کپڑا زرد رنگ سے رنگتے ہیں یا زرد خضاب لگاتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا کہ جب مکہ میں ہوتے ہیں تو سب لوگ تو ذی الحجہ کا چاند دیکھ کر احرام باندھ لیتے ہیں لیکن آپ احرام نہیں باندھتے بلکہ ترویہ کے دن ( 8 ذی الحجہ کو ) کو احرام باندھتے ہیں۔ ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ خانہ کعبہ کے ارکان کے متعلق جو تم نے کہا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ صرف حجر اسود اور رکن یمانی کو چھوتے دیکھا۔ صاف تری کے چمڑے کے جوتوں کے متعلق جو تم نے پوچھا تو میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی چمڑے کا جوتا پہنتے تھے جس میں بال نہیں ہوتے تھے اور آپ اس کو پہنے ہوئے وضو کرتے تھے اس لیے میں بھی پسند کرتا ہوں کہ ایسا ہی جوتا استعمال کروں۔ زرد رنگ کے متعلق تم نے جو کہا ہے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے خضاب کرتے یا کپڑے رنگتے دیکھا ہے اس لیے میں بھی اس زرد رنگ کو پسند کرتا ہوں اور رہا احرام باندھنے کا مسئلہ تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی وقت احرام باندھتے جب اونٹ پر سوار ہو کر جانے لگتے۔
Sahih al-Bukhari 78:151sahih
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ لَهُمَا " يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا ". قَالَ أَبُو مُوسَى يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ يُصْنَعُ فِيهَا شَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ، يُقَالُ لَهُ الْبِتْعُ، وَشَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ، يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ".
Narrated Abu Musa:that when Allah's Messenger (ﷺ) sent him and Mu`adh bin Jabal to Yemen, he said to them, "Facilitate things for the people (treat the people in the most agreeable way), and do not make things difficult for them, and give them glad tidings, and let them not have aversion (i.e. to make the people hate good deeds) and you should both work in cooperation and mutual understanding, obey each other." Abu Musa said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We are in a land in which a drink named Al Bit' is prepared from honey, and another drink named Al-Mizr is prepared from barley." On that, Allah's Messenger (ﷺ) said, "All intoxicants (i.e. all alcoholic drinks) are prohibited
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں سعید بن ابی بردہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ان کے دادا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) اور معاذ بن جبل کو ( یمن ) بھیجا تو ان سے فرمایا کہ ( لوگوں کے لیے ) آسانیاں پیدا کرنا، تنگی میں نہ ڈالنا، انہیں خوشخبری سنانا، دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں اتفاق سے کام کرنا، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسی سر زمین میں جا رہے ہیں جہاں شہد سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے «بتع» کہا جاتا ہے اور جَو سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے «مزر.» کہا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔
Sahih al-Bukhari 81:168sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ (إِنَّ قَدْرَ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَصَنْعَاءَ مِنَ الْيَمَنِ، وَإِنَّ فِيهِ مِنَ الأَبَارِيقِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ).
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The width of my Lake-Fount is equal to the distance between Aila (a town in Sham) and Sana' (the capital of Yemen) and it has as many (numerous) jugs as the number of stars of the sky
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے حوض کی لمبائی اتنی ہو گی جتنی ایلہ اور یمن اور شہر صنعاء کے درمیان کی لمبائی ہے۔ اور وہاں اتنی بڑی تعداد میں پیالے ہوں گے جتنی آسمان کے ستاروں کی تعداد ہے۔“
Sahih al-Bukhari 81:179sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَذَكَرَ الْحَوْضَ فَقَالَ " كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَصَنْعَاءَ ".
Narrated Haritha bin Wahb:I heard the Prophet (ﷺ) mentioning the Lake-Fount (Al-Kauthar), saying, "(The width of the Lake-Fount) is equal to the distance between Medina and Sana' (capital of Yemen)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے حرمی بن عمارہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے معبد بن خالد نے بیان کیا، انہیں نے حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حوض کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ( وہ اتنا بڑا ہے ) جتنی مدینہ اور صنعاء کے درمیان دوری ہے۔
Sahih al-Bukhari 83:21sahih
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُضِيفٌ ظَهْرَهُ إِلَى قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ يَمَانٍ إِذْ قَالَ لأَصْحَابِهِ " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ". قَالُوا بَلَى. قَالَ " أَفَلَمْ تَرْضَوْا أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ". قَالُوا بَلَى. قَالَ " فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ".
Narrated `Abdullah bin Masud:While Allah's Messenger (ﷺ) was sitting, reclining his back against a Yemenite leather tent he said to his companions, "Will you be pleased to be one-fourth of the people of Paradise?" They said, 'Yes.' He said "Won't you be pleased to be one-third of the people of Paradise" They said, "Yes." He said, "By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, I hope that you will be one-half of the people of Paradise
مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، کہا کہ میں نے عمرو بن میمون سے سنا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یمنی چمڑے کے خیمہ سے پشت لگائے ہوئے بیٹھے تھے تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کیا تم اس پر خوش ہو کہ تم اہل جنت کے ایک چوتھائی رہو؟ انہوں نے عرض کیا، کیوں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تم اہل جنت کے ایک تہائی حصہ پاؤ۔ صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھے تم ہی ہو گے۔
Sahih al-Bukhari 85:11sahih
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، شَيْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ أَتَانَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ بِالْيَمَنِ مُعَلِّمًا وَأَمِيرًا، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ رَجُلٍ، تُوُفِّيَ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ وَأُخْتَهُ، فَأَعْطَى الاِبْنَةَ النِّصْفَ وَالأُخْتَ النِّصْفَ.
Narrated Al-Aswad bin Yazid:Mu`adh bin Jabal came to us in Yemen as a tutor and a ruler, and we (the people of Yemen) asked him about (the distribution of the property of ) a man who had died leaving a daughter and a sister. Mu`adh gave the daughter one-half of the property and gave the sister the other half
مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالنضر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ شیبان نے بیان کیا، ان سے اشعث بن ابی الشعثاء نے، ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں یمن میں معلم و امیر بن کر تشریف لائے۔ ہم نے ان سے ایک ایسے شخص کے ترکہ کے بارے میں پوچھا جس کی وفات ہوئی ہو اور اس نے ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑی ہو اور اس نے اپنی بیٹی کو آدھا اور بہن کو بھی آدھا دیا ہو۔
Sahih al-Bukhari 91:49sahih
فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ أَنَّهُ وُضِعَ فِي يَدَىَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَفُظِعْتُهُمَا وَكَرِهْتُهُمَا، فَأُذِنَ لِي، فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ ". فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ الَّذِي قَتَلَهُ فَيْرُوزٌ بِالْيَمَنِ، وَالآخَرُ مُسَيْلِمَةُ.
Narrated `Abdullah bin `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping, two golden bangles were put in my two hands, so I got scared (frightened) and disliked it, but I was given permission to blow them off, and they flew away. I interpret it as a symbol of two liars who will appear." 'Ubaidullah said, "One of them was Al-`Ansi who was killed by Fairuz at Yemen and the other was Musailama (at Najd)
تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھ سے کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو سونے کے کنگن میرے ہاتھ میں رکھے گئے ہیں تو مجھے اس سے تکلیف پہنچی اور ناگوار ہوئی پھر مجھے اجازت دی گئی اور میں نے ان پر پھونک ماری اور وہ دونوں اڑ گئے۔ میں نے اس کی تعبیر لی کہ دو جھوٹے پیدا ہوں گے۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک تو العنسی تھا جسے یمن میں فیروز نے قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ۔
Sahih al-Bukhari 92:45sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ ذَكَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا ". قَالُوا وَفِي نَجْدِنَا. قَالَ " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَفِي نَجْدِنَا فَأَظُنُّهُ قَالَ فِي الثَّالِثَةَ " هُنَاكَ الزَّلاَزِلُ وَالْفِتَنُ، وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ".
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! Bestow Your blessings on our Sham! O Allah! Bestow Your blessings on our Yemen." The People said, "And also on our Najd." He said, "O Allah! Bestow Your blessings on our Sham (north)! O Allah! Bestow Your blessings on our Yemen." The people said, "O Allah's Apostle! And also on our Najd." I think the third time the Prophet (ﷺ) said, "There (in Najd) is the place of earthquakes and afflictions and from there comes out the side of the head of Satan
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! ہمارے ملک شام میں ہمیں برکت دے، ہمارے یمن میں ہمیں برکت دے۔“ صحابہ نے عرض کیا اور ہمارے نجد میں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”اے اللہ ہمارے شام میں برکت دے، ہمیں ہمارے یمن میں برکت دے۔“ صحابہ نے عرض کی اور ہمارے نجد میں؟ میرا گمان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا ”وہاں زلزلے اور فتنے ہیں اور وہاں شیطان کا سینگ طلوع ہو گا۔“
Sahih al-Bukhari 93:20sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ قُرَّةَ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَهُ وَأَتْبَعَهُ بِمُعَاذٍ.
Narrated Abu Musa:that the Prophet (ﷺ) sent him and sent Mu`adh after him (as rulers to Yemen)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قرہ نے، ان سے حمید بن ہلال نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیجا تھا اور ان کے ساتھ معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی بھیجا تھا۔
Sahih al-Bukhari 93:36sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَبِي وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ عَلَى الْيَمَنِ فَقَالَ " يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا ". فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى إِنَّهُ يُصْنَعُ بِأَرْضِنَا الْبِتْعُ. فَقَالَ " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ". وَقَالَ النَّضْرُ وَأَبُو دَاوُدَ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَوَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Abu Burda:The Prophet (ﷺ) sent my father and Mu`adh bin Jabal to Yemen and said (to them), "Make things easy for the people and do not put hurdles in their way, and give them glad tiding, and don't let them have aversion (i.e. to make people to hate good deeds) and you both should work in cooperation and mutual understanding" Abu Musa said to Allah's Messenger (ﷺ), "In our country a special alcoholic drink called Al- Bit', is prepared (for drinking)." The Prophet (ﷺ) said, "Every intoxicant is prohibited
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمرو عقدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی بردہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ) اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور ان سے فرمایا کہ آسانی پیدا کرنا اور تنگی نہ کرنا اور خوشخبری دینا اور نفرت نہ دلانا اور آپس میں اتفاق رکھنا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ہمارے ملک میں شہد کا نبیذ ( تبع ) بنایا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ نضر بن شمیل، ابوداؤد طیالسی، یزید بن ہارو اور وکیع نے شعبہ سے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ان کے دادا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی۔
Sahih al-Bukhari 97:1sahih
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ.
Narrated Ibn 'Abbas (ra):The Prophet (ﷺ) sent Mu'adh to Yemen
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے بیان کیا، ان سے ابومعبد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا۔
Sahih al-Bukhari 97:2sahih
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ لَمَّا بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُعَاذًا نَحْوَ الْيَمَنِ قَالَ لَهُ " إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَى أَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ تَعَالَى فَإِذَا عَرَفُوا ذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، فَإِذَا صَلُّوا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ غَنِيِّهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فَقِيرِهِمْ، فَإِذَا أَقَرُّوا بِذَلِكَ فَخُذْ مِنْهُمْ وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ ".
Narrated Ibn `Abbas:When the Prophet (ﷺ) sent Mu`adh to Yemen, he said to him, "You are going to a nation from the people of the Scripture, so let the first thing to which you will invite them, be the Tauhid of Allah. If they learn that, tell them that Allah has enjoined on them, five prayers to be offered in one day and one night. And if they pray, tell them that Allah has enjoined on them Zakat of their properties and it is to be taken from the rich among them and given to the poor. And if they agree to that, then take from them Zakat but avoid the best property of the people
اور مجھ سے عبداللہ بن محمد بن ابی الاسود نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فضل بن العلاء نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن امیہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن محمد بن صیفی نے بیان کیا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابومعبد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو ان سے فرمایا کہ تم اہل کتاب میں سے ایک قوم کے پاس جا رہے ہو۔ اس لیے سب سے پہلے انہیں اس کی دعوت دینا کہ وہ اللہ کو ایک مانیں ( اور میری رسالت کو مانیں ) جب وہ اسے سمجھ لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ نے ایک دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ نماز پڑھنے لگیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں زکوٰۃ فرض کی ہے، جو ان کے امیروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں کو لوٹا دی جائے گی۔ جب وہ اس کا بھی اقرار کر لیں تو ان سے زکوٰۃ لینا اور لوگوں کے عمدہ مال لینے سے پرہیز کرنا۔
Sahih al-Bukhari 97:46sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ إِنِّي عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَهُ قَوْمٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ " اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ ". قَالُوا بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا. فَدَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ " اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ". قَالُوا قَبِلْنَا. جِئْنَاكَ لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ وَلِنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الأَمْرِ مَا كَانَ. قَالَ " كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَىْءٌ قَبْلَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَىْءٍ ". ثُمَّ أَتَانِي رَجُلٌ فَقَالَ يَا عِمْرَانُ أَدْرِكْ نَاقَتَكَ فَقَدْ ذَهَبَتْ فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُهَا، فَإِذَا السَّرَابُ يَنْقَطِعُ دُونَهَا، وَايْمُ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّهَا قَدْ ذَهَبَتْ وَلَمْ أَقُمْ.
Narrated `Imran bin Hussain:While I was with the Prophet (ﷺ) , some people from Bani Tamim came to him. The Prophet (ﷺ) said, "O Bani Tamim! Accept the good news!" They said, "You have given us the good news; now give us (something)." (After a while) some Yemenites entered, and he said to them, "O the people of Yemen! Accept the good news, as Bani Tamim have refused it. " They said, "We accept it, for we have come to you to learn the Religion. So we ask you what the beginning of this universe was." The Prophet (ﷺ) said "There was Allah and nothing else before Him and His Throne was over the water, and He then created the Heavens and the Earth and wrote everything in the Book." Then a man came to me and said, 'O `Imran! Follow your she-camel for it has run away!" So I set out seeking it, and behold, it was beyond the mirage! By Allah, I wished that it (my she-camel) had gone but that I had not left (the gathering)
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے جامع بن شداد نے، ان سے صفوان بن محرز نے اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ آپ کے پاس بنو تمیم کے کچھ لوگ آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔ انہوں نے اس پر کہا کہ آپ نے ہمیں بشارت دے دی، اب ہمیں بخشش بھی دیجئیے۔ پھر آپ کے پاس یمن کے کچھ لوگ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اہل یمن! بنو تمیم نے بشارت نہیں قبول کی تم اسے قبول کرو۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قبول کر لی۔ ہم آپ کے پاس اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور تاکہ آپ سے اس دنیا کی ابتداء کے متعلق پوچھیں کہ کس طرح تھی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تھا اور کوئی چیز نہیں تھی اور اللہ کا عرش پانی پر تھا۔ پھر اس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور لوح محفوظ میں ہر چیز لکھ دی ( عمران بیان کرتے ہیں کہ ) مجھے ایک شخص نے آ کر خبر دی کہ عمران اپنی اونٹنی کی خبر لو وہ بھاگ گئی ہے۔ چنانچہ میں اس کی تلاش میں نکلا۔ میں نے دیکھا کہ میرے اور اس کے درمیان ریت کا چٹیل میدان حائل ہے اور اللہ کی قسم میری تمنا تھی کہ وہ چلی ہی گئی ہوتی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں سے نہ اٹھا ہوتا۔
Sahih al-Bukhari 97:59sahih
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ـ أَوْ أَبِي نُعْمٍ شَكَّ قَبِيصَةُ ـ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ بُعِثَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِذُهَيْبَةٍ فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةٍ. وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَعَثَ عَلِيٌّ وَهْوَ بِالْيَمَنِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا، فَقَسَمَهَا بَيْنَ الأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي مُجَاشِعٍ، وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ، وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلاَثَةَ الْعَامِرِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلاَبٍ، وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْلِ الطَّائِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ، فَتَغَضَّبَتْ قُرَيْشٌ وَالأَنْصَارُ فَقَالُوا يُعْطِيهِ صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا قَالَ " إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ ". فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، نَاتِئُ الْجَبِينِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اتَّقِ اللَّهَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " فَمَنْ يُطِيعُ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُهُ فَيَأْمَنِّي عَلَى أَهْلِ الأَرْضِ، وَلاَ تَأْمَنُونِي ". فَسَأَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ـ قَتْلَهُ أُرَاهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ ـ فَمَنَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الإِسْلاَمِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الأَوْثَانِ، لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:When `Ali was in Yemen, he sent some gold in its ore to the Prophet. The Prophet (ﷺ) distributed it among Al-Aqra' bin H`Abis Al-Hanzali who belonged to Bani Mujashi, 'Uyaina bin Badr Al-Fazari, 'Alqama bin 'Ulatha Al-`Amiri, who belonged to the Bani Kilab tribe and Zaid AI-Khail at-Ta'i who belonged to Bani Nabhan. So the Quraish and the Ansar became angry and said, "He gives to the chiefs of Najd and leaves us!" The Prophet (ﷺ) said, "I just wanted to attract and unite their hearts (make them firm in Islam)." Then there came a man with sunken eyes, bulging forehead, thick beard, fat raised cheeks, and clean-shaven head, and said, "O Muhammad! Be afraid of Allah! " The Prophet (ﷺ) said, "Who would obey Allah if I disobeyed Him? (Allah). He trusts me over the people of the earth, but you do not trust me?" A man from the people (present then), who, I think, was Khalid bin Al- Walid, asked for permission to kill him, but the Prophet (ﷺ) prevented him. When the man went away, the Prophet said, "Out of the offspring of this man, there will be people who will recite the Qur'an but it will not go beyond their throats, and they will go out of Islam as an arrow goes out through the game, and they will kill the Muslims and leave the idolators. Should I live till they appear, I would kill them as the Killing of the nation of 'Ad
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نعم یا ابونعم نے۔۔۔ قبیصہ کو شک تھا۔۔۔ اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ سونا بھیجا گیا تو آپ نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا۔ اور مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، ان سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں سفیان نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے، انہیں ابن ابی نعم نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے کچھ سونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن بدری فزاری، علقمہ بن علاثہ العامری اور زید الخیل الطائی میں تقسیم کر دیا۔ اس پر قریش اور انصار کو غصہ آ گیا اور انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نجد کے رئیسوں کو تو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک مصلحت کے لیے ان کا دل بہلاتا ہوں۔ پھر ایک شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، پیشانی ابھری ہوئی تھی، داڑھی گھنی تھی، دونوں کلے پھولے ہوئے تھے اور سر گٹھا ہوا تھا۔ اس مردود نے کہا: اے محمد! اللہ سے ڈر۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں بھی اس ( اللہ ) کی نافرمانی کروں گا تو پھر کون اس کی اطاعت کرے گا؟ اس نے مجھے زمین پر امین بنایا ہے اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے۔ پھر حاضرین میں سے ایک صحابی خالد رضی اللہ عنہ یا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے قتل کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ پھر جب وہ جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کے صرف لفظ پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اس طرح نکال کر پھینک دئیے جائیں گے جس طرح تیر شکاری جانور میں سے پار نکل جاتا ہے، وہ اہل اسلام کو ( کافر کہہ کر ) قتل کریں اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے اگر میں نے ان کا دور پایا تو انہیں قوم عاد کی طرح نیست و نابود کر دوں گا۔
Sahih Muslim 1:29sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، - عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ رُبَّمَا قَالَ وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مُعَاذًا، - قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ . فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ " .
It is reported on the authority of Ibn 'Abbas that Mu'adh said:The Messenger of Allah sent me (as a governor of Yemen) and (at the time of departure) instructed me thus: You will soon find yourself in a community one among the people of the Book, so first call them to testify that there is no god but Allah, that I (Muhammad) am the messenger of Allah, and if they accept this, then tell them Allah has enjoined upon them five prayers during the day and the night and if they accept it, then tell them that Allah has made Zakat obligatory for them that it should be collected from the rich and distributed among the poor, and if they agree to it don't pick up (as a share of Zakat) the best of their wealths. Beware of the supplication of the oppressed for there is no barrier between him and Allah
بن ابی شیبہ ، ابو کریب اور اسحاق بن ابراہیم سب نے وکیع سے حدیث سنائی ۔ ابو بکر نے کہا : وکیع نے ہمیں زکریا بن اسحاق حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے ابو معبد سے حدیث سنائی ، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ابو بکر اور انہوں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( ابوبکرنے کہا : بعض اوقات وکیع کہا ) ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا اور فرمایا : ’’تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو ، انہیں اس کی گواہی دینے کی دعوت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اگر وہ اس میں ( تمہاری ) اطاعت کریں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں ۔ اگر وہ اسے مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر صدقہ ( زکاۃ ) فرض کیا ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لیا جائے گا اور ان کے مجتاجوں کوواپس کیا جائے گا ، پھر اگر وہ اس بات کو قبول کر لیں تو ان کے بہترین مالوں سے احتراز کرنا ( زکاۃ میں سب سے اچھا مال وصول نہ کرنا ۔ ) اور مظلوم کی بددعا س ےبچنا کیونکہ اس ( بددعا ) کے اور اللہ کے درمیان کو ئی حجاب نہیں ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim 1:31sahih
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ - عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ " إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ فَإِذَا فَعَلُوا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ " .
It is narrated on the authority of Ibn 'Abbas that when the Messenger of Allah (ﷺ) sent Mu'adh towards Yemen (as governor) he said to him:Verily you would reach a community of the people of the Book, the very first thing to which you should call them is the worship of Allah, may His Glory be Magnificent, and when they become fully aware of Allah, instruct them that He has enjoined five prayers on them during the day and the night, and when they begin observing it, then instruct them that verily Allah has made Zakat obligatory for them which would be collected from the wealthy amongst them and distributed to their needy ones, and when they submit to it, then collect it from them and avoid (the temptation) of selecting the best (items) of their riches
اسماعیل بن امیہ نے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی سے ، انہوں نے ابو معبد سے ا ور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب رسول اللہ ﷺ نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا : ’’تم ایک قوم کے پاس جاؤ گے ( جو ) اہل کتاب ہیں ۔ تو سب سے پہلی بات جس کی طرف تمہیں ان کو دعوت دینی ہے ، اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے ۔ جب وہ وہ اللہ کو پہچان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں ۔ جب وہ اس پر عمل پیرا ہو جائیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے ( مالداروں کے ) اموال سے لے کر ان کے فقراء کودی جائے گی ۔ جب وہ اس کو مان لیں تو ان سے ( زکاۃ ) لینا اور ان کے زیادہ قیمتی اموال سے احتراز کرنا ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim 1:88sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ سَمِعْتُ قَيْسًا، يَرْوِي عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ أَشَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ فَقَالَ " أَلاَ إِنَّ الإِيمَانَ هَا هُنَا وَإِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الإِبِلِ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ " .
It is narrated on the authority of Ibn Mas'ud that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) pointed towards Yemen with his hand and said:Verily Iman is towards this side, and harshness and callousness of the hearts is found amongst the rude owners of the camels who drive them behind their tails (to the direction) where emerge the two horns of Satan, they are the tribes of Rabi'a and Mudar
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : نبی اکرم ﷺ نے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : ’’ دیکھو ! ایمان ادھر ہے ۔ اور شقاوت اور سنگ لی اونٹوں کی دموں کی جڑوں کے پاس چیخنے والوں ربیعہ اور مضر میں ہے ، جس کی طرف سے شیطان کے دو سینگ نمودار ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim 1:89sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْفِقْهُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " .
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah observed:There have come the people of Yemen; they are tender of hearts, the belief is that of the Yemenites, the understanding (of the faith) is that of the Yemenites and sagacity is that of the Yemenites
ایوب نے کہا : ہمیں محمد ( ابن سیرین ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اہل یمن آئے ہیں ۔ یہ لوگ بہت زیادہ نرم دل ہیں ۔ ایمان یمنی ہے ، فقہ یمنی ہے اور دانائی ( بھی ) یمنی ہے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim 1:91sahih
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَضْعَفُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً الْفِقْهُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed: There came to you the people from Yemen; they are tender of hearts and mild of feelings, the understanding is Yemenite, the sagacity is Yemenite
صالح نے اعرج سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسو ل ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تمہارے پاس یمنی لوگ آئے ہیں ، وہ زیادہ کمزور دل اور سینوں میں زیادہ رقت رکھنے والے ہیں ۔ فقہ یمنی ہے اور حکمت ( بھی ) یمنی ہے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim 1:93sahih
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْكُفْرُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَالْفَخْرُ وَالرِّيَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْوَبَرِ " .
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed:The belief is among the Yemenites, and the unbelief is towards the East, and tranquillity is among those who rear goats and sheep, and pride and simulation is among the uncivil and rude owners of horses and camels
علاء ( بن عبدالرحمان الجہنی ) نے اپنے والد سے ، انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ایمان یمن سے ہے ، کفر مشرق کی طرف سے ، سکون و اطمینان بھیڑ بکریاں پالنے والوں میں اور فخرو ریا شور شرابے کے عادی گھوڑے پالنے والوں اور اونی خیموں کے باسی ، چلانے والوں میں ہے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim 1:95sahih
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ " الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " .
The same hadith has been narrated by Zuhri with the same chain of authorities with the addition:The belief is among the Yemenites, the sagacity is that of the Yemenites
شعیب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت کی اور ( آخرمیں یہ ) اضافہ کیا : ’’ ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے
Sahih Muslim 1:96sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَأَضْعَفُ قُلُوبًا الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ السَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلاَءُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ قِبَلَ مَطْلِعِ الشَّمْسِ " .
Abu Huraira said:I heard the Prophet (may peace and blessings be upon him) saying: There came the people of Yemen, they are tender of feelings and meek of hearts. The belief is that of the Yemenites, the sagacity is that of the Yemenites, the tranquillity is among the owners of goats and sheep, and pride and conceitedness is among the uncivil owners of the camels, the people of the tents in the direction of sunrise
سعید بن مسیت نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے نبی اکرمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ اہل یمن آئے ہیں ، ان کے دل ( دوسروں سے ) زیادہ نرم ہیں اور مزاجوں میں زیادہ رقت ہے ۔ ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے ۔ سکون ، بھیڑ بکریاں پالنے والوں میں ہے اور فخر و تکبر اونی خیموں کے باسی ، چیخنے چلانے والے لوگوں میں ، جو سورج طلوع ہونے تک کی سمت میں ( رہتے ہیں ۔ ) ‘ ‘
Sahih Muslim 1:97sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَلْيَنُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ رَأْسُ الْكُفْرِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ " .
It is reporter on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed:There came the people of Yemen who are soft of hearts, tender in feelings: the belief is that of the Yemenites, the sagacity is that of the Yemenites and the summit of unbelief is towards the East
ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں ۔ وہ دلوں کے زیادہ نرم اور مزاجوں میں زیادہ رقت رکھنے والے ہیں ۔ ایمان یمنی ہے ، حکمت بھی یمن سے ہے اور کفر کا مرکز مشرق کی طرف کی طرف ہے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim 1:219sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ رِيحًا مِنَ الْيَمَنِ أَلْيَنَ مِنَ الْحَرِيرِ فَلاَ تَدَعُ أَحَدًا فِي قَلْبِهِ - قَالَ أَبُو عَلْقَمَةَ مِثْقَالُ حَبَّةٍ وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ - مِنْ إِيمَانٍ إِلاَّ قَبَضَتْهُ " .
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Verily Allah would make a wind to blow from the side of the Yemen more delicate than silk and would spare none but cause him to die who, in the words of Abu 'Alqama, has faith equal to the weight of a grain; while Abdul-'Aziz said: having faith equal to the weight of a dust particle
عبدالعزیز بن محمد اور ابو علقمہ فروی نے کہا : ہمیں صفوان بن سلیم نے عبد اللہ بن سلمان کے واسطے سے ان کےوالد ( سلمان ) سے حدیث سنائی ، انہو ں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ یمن سے ایک ہوا بھیجے گا جو ریشم سےزیادہ نرم ہو گی اور کسی ایسے شخص کو نہ چھوڑے گی جس کے دل میں ( ابو علقمہ نے کہا : ایک دانے کے برابر اور عبد العزیز نے کہا : ایک ذرے کے برابر بھی ) ایمان ہو گا مگر اس کی روح قبض کر لے گی ۔ ‘ ‘ ( ایک ذرہ بھی ہو لیکن ایمان ہوتو نفع بخش ہے ۔)
Sahih Muslim 12:189sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ، الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ بَعَثَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْيَمَنِ بِذَهَبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا - قَالَ - فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ بَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ وَالأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ وَزَيْدِ الْخَيْلِ وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ بْنُ عُلاَثَةَ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ كُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِهَذَا مِنْ هَؤُلاَءِ - قَالَ - فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ " أَلاَ تَأْمَنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ يَأْتِينِي خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً " . قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ نَاشِزُ الْجَبْهَةِ كَثُّ اللِّحْيَةِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ مُشَمَّرُ الإِزَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ . فَقَالَ " وَيْلَكَ أَوَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ " . قَالَ ثُمَّ وَلَّى الرَّجُلُ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ أَضْرِبُ عُنُقَهُ فَقَالَ " لاَ لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ يُصَلِّي " . قَالَ خَالِدٌ وَكَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ وَلاَ أَشُقَّ بُطُونَهُمْ " . قَالَ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُقَفٍّ فَقَالَ " إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ رَطْبًا لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ - قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ - لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ " .
Abu Said al-Khudri reported:'Ali b. Abu Talib sent to the Messenger of Allah (ﷺ) from Yemen some gold alloyed with clay in a leather bag dyed in the leaves of Mimosa flava. He distributed it among four men. 'Uyaina b. Hisna, Aqra' b. Habis and Zaid al-Khail, and the fourth one was either Alqama b. 'Ulatha or 'Amir b. Tufail. A person from among his (Prophet's) Companions said: We had a better claim to this (wealth) than these (persons). This (remark) reached the Messenger of Allah (ﷺ) upon which he said: Will you not trust me, whereas I am a trustee of Him Who is in the heaven? The news come to me from the heaven morning and evening. Then there stood up a person with deep sunken eyes, prominent cheek bones, and elevated forehead, thick beard, shaven head, tucked up loincloth, and he said: Messenger of Allah, fear Allah. He (the Holy Prophet) said: Woe to thee. Do I not deserve most to fear Allah amongst the people of the earth? That man then returned. Khalid b. Walid then said: Messenger of Allah, should I not strike his neck? Upon this he (the Holy Prophet) said: Perhaps he may be observing the prayer. Khalid said: How many observers of prayer are there who profess with their tongue what is not in their heart? Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: I have not been commanded to pierce through the hearts of people, nor to split their bellies (insides). He again looked at him and he was going back. Upon this he (the Holy Prophet) said: There would arise a people from the progeny of this (man) who would recite the Qur'an glibly, but it would not go beyond their throats; they would (hurriedly) pass through (the teachings of their) religion just as the arrow passes through the prey. I conceive that he (the Holy Prophet) also said this: If I find them I would certainly kill them as were killed the (people of) Thamud
عبدالواحد نے عمارہ بن قعقاع سے ر وایت کی ، انھوں نے کہا : ہمیں عبدالرحمان بن نعیم نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت علی بن ابی طالب نے یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رنگے ہوئے ( دباغت شدہ ) چمڑے میں ( خام ) سونے کا ایک ٹکڑا بھیجاجسے مٹی سے الگ نہیں کیاگیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار افراد : عینیہ بن حصن ، اقرع بن حابس ، زید الخیل اور چوتھے فرد علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل کے درمیان تقسیم کردیا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ایک آدمی نے کہا : ہم اس ( عطیے ) کے ان لوگوں کی نسبت زیادہ حق دار تھے ۔ کہا : یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟حالانکہ میں اس کا امین ہوں جو آسمان میں ہے ، میرے پاس صبح وشام آسمان کی خبر آتی ہے ۔ " ( ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : گھنی داڑھی ، ابھرے ہوئے رخساروں ، دھنسی ہوئی آنکھوں ، نکلی ہوئی پیشانی ، منڈھے ہوئے سر والا اور پنڈلی تک اٹھے تہبند والا ایک شخص کھڑا ہوا ، اس نے کہا : اےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے ڈریئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تجھ پر افسوس ، کیا میں تمام اہل زمین سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے کا حقدار نہیں ہوں! " پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چل دیا ۔ توخالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ نماز پڑھتا ہو ۔ " خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : کتنے ہی نمازی ہیں جو زبان سے ( وہ بات ) کہتے ہیں ( کلمہ پڑھتے ہیں ) جو ان کے دلوں میں نہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ لوگوں کے دلوں میں سوراخ کروں اور نہ یہ کہ ان کے پیٹ چاک کروں ۔ " پھر جب وہ پشت پھیر کر جارہاتھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا : " یہ حقیقت ہے کہ اس کی اصل سے ایسے لوگ نکلیں گے جو اللہ کی کتاب کو بڑی تراوٹ سے پڑھیں گے ( لیکن ) لیکن وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گی ، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر نشانہ بنائے جانے والے شکار سے نکلتا ہے ۔ " ( ابو سعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میر اخیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر میں نے ان کو پالیا تو انھیں اس طرح قتل کروں گا جس طرح ثمود قتل ہوئے تھے ۔
Sahih Muslim 15:13sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، وَقُتَيْبَةُ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ . قَالَ " فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمِنْ أَهْلِهِ وَكَذَا فَكَذَلِكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا " .
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) specified Dhu'l-Hulaifa, for the people of Medina; Juhfa for the people of Syria; Qarn al-Manazil, for the people of Najd; Yalamlam for the people of Yemen (the Mawaqit) and those (Mawaqit) are also meant for those who live at these (places) and for those too who come from without towards them for the sake of Hajj or 'Umra. And those who live within them (within the bounds of these places) or in the suburbs of Mecca or within Mecca, they should enter upon the state of Ihram at these very places
عمرو بن دینا ر نے طاوس سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ شام والوں کے لیے جحفہ نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والو ں کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا اور فر ما یا : " یہ ( چاروں میقات ) ان جگہوں ( پر رہنے والے ) اور وہاں نہ رہنے والے ۔ وہاں تک پہنچنے والے ایسے لوگوں کے لیے ہیں جو حج اور عمرے کا ارادہ کریں اور جوان ( مقامات ) کے اندر ہو وہ اپنے گھر ہی سے احرام باندھ لے جو اس سے زیادہ حرم کے قریب ہو وہ اسی طرح کرے حتی کہ مکہ والے مکہ ہی سے احرا م باندھیں
Sahih Muslim 15:14sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَّتَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ . وَقَالَ " هُنَّ لَهُمْ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ " .
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) specified Dhu'l-Hulaifa for the people of Medina; Juhfa for the people of Syria, Qarn al-Manazil for the people of Najd, Yalamlam for the people of Yemen (as their respective Mawaqit), and he also said:These are (Mawaqit) of them too (who live there) and everyone who comes from outside (through) their (directions) for the sake of Hajj and 'Umra and for those who live within (those bounds their Miqat is that) from which they commenced (their journey), and for the people of Mecca, Mecca itself is (the Miqat)
وہیب نے کہا : ہمیں عبد اللہ بن طاوس نے اپنے والد سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ شام والوں کے لیے جحفہ نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والوں کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا اور فر ما یا : " یہ ( مقامات ) وہاں کے باشندوں اور ہر آنے والے ایسے شخص کے لیے ( میقات ) ہیں جو دوسرے علاقوں سے وہاں پہنچے اور حج و عمرے کا ارادہ رکھتا ہو ۔ اور جو کو ئی ان ( مقامات ) سے اندر ہو وہ اسی جگہ سے ( احرا م ) باندھ لے ) جہاں سےوہ چلے حتیٰ کہ مکہ والے مکہ ہی سے ( احرام باند ھیں ۔)
Sahih Muslim 15:15sahih
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَأَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ " .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said:The people of Medina should enter upon the state of Ihram at Dhu'l-Hulaifa, and people of Syria at Juhfa, and people of Najd at Qarn (al-Manazil), and 'Abdullah (further) said: It has reached me that the Messenger of Allah (ﷺ) also caid: The people of Yemen should enter upon the state of Ihram at Yalamlam
نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" مدینہ والے ذوالحلیفہ سے شام والے جحفہ سے اور نجد والے قرن المنازل سے ( احرام باند ھ کر ) تلبیہ کہیں ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : مجھے یہ بات بھی پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" یمن والے یلملم سے ( احرام باندھ کر ) تلبیہ کہں ۔
Sahih Muslim 15:169sahih
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَنِي إِلَى الْيَمَنِ قَالَ فَوَافَقْتُهُ فِي الْعَامِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا مُوسَى كَيْفَ قُلْتَ حِينَ أَحْرَمْتَ " . قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ إِهْلاَلاً كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ " هَلْ سُقْتَ هَدْيًا " . فَقُلْتُ لاَ . قَالَ " فَانْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ . ثُمَّ أَحِلَّ " . ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ .
Abu Musa (Allah be pleased with him) reported:The Messenger of Allah (May peace be upon im) had sent me to Yemen and I came back In the year in which he (the Holy Prophet) performed the (Farewell) Pilgrimage. Allah's Messenger (may peace be upon, him) said to me: Abu Musa, what did you ' say when you entered into the state of Ihram? I said: At thy beck and call; my (Ihram) is that of the Ihram of Allah's Apostle (May peace be upon him). He said: Have you brought the sacrificial animals? I said: No. Thereupon he said: Go and circumambulate the House, and (run) between al-Safa' and al-Marwa and then put off Ihram. The rest of the hadith is the same
ابو عمیس نے ہمیں قیس بن مسلم سے خبر دی ، انھوں نے طارق بن شہاب سے ، انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجاتھا ، پھر میری آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سال ملاقات ہوئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج ادا فرمایا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : " ابو موسیٰ! " تم نے کون سا تلبیہ پکارا ہے؟ ( حج کا ، عمرے کا ، یا دونوں کا؟ ) " میں نے عرض کی : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم والا تلبیہ پکارا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم قربانی ساتھ لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر کے احرام کھول ڈالو ۔ آگے ( ابو عمیس نے ) شعبہ اور سفیان ہی کی طرح حدیث بیان کی ۔
Sahih Muslim 15:170sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدُ حَتَّى لَقِيَهُ بَعْدُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ عُمَرُ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ فَعَلَهُ وَأَصْحَابُهُ وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعْرِسِينَ بِهِنَّ فِي الأَرَاكِ ثُمَّ يَرُوحُونَ فِي الْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ .
Abu Musa, (Allah be pleased with him) reported that he used to deliver religious verdict in favor of Hajj Tamattu'. A person said to him:Exercise restraint in delivering some of your religious verdicts, for you do not know what the Commander of Believers has introduced in the rites (of Hajj) after you (when you were away in Yemen). He (Abu Musa, ) met him (Hadrat Umar) subsequently and asked him (about it), whereupon 'Umar said: I know that Allah's Apostle (May peace be upon him) and also his Companions did that (observed Tamattu'), but I do not approve that the married persons should have intercourse with their wives under the shade of the trees, and then set out for Hajj with water trickling down from their heads
ابراہیم بن ابی موسیٰ نے حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ وہ حج تمتع ( کرنے ) کافتویٰ دیاکرتے تھے ، ایک شخص نے ان سے کہا : اپنےبعض فتووں میں زرا رک جاؤ ، تم نہیں جانتے کہ اب امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مناسک ( حج ) کے متعلق کیا نیا فرمان جاری کیا ہے ۔ بعد میں ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوئی تو ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے دریافت کیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ( حکم صادر ) کیا ، اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ( اس پرعمل ) کیا ، لیکن مجھے یہ بات ناگوارمعلوم ہوئی کہ لوگ عرفات کے پاس وادی عرفہ کے قریب اراک مقام میں ( یا پیلو کے درختوں کی اوٹ میں ) اپنی عورتوں کےساتھ لطف اندوز ہوتے رہیں ۔ پھر جب وہ ( آٹھ ذوالحجہ یوم الترویہ کی ) صبح حج کے لئے چلیں تو ( غسل جنابت کریں اور ) ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو
Sahih Muslim 15:234sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ مَرْوَانَ الأَصْفَرِ، عَنْ أَنَسٍ، - رضى الله عنه - أَنَّ عَلِيًّا، قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بِمَ أَهْلَلْتَ " . فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ " لَوْلاَ أَنَّ مَعِيَ الْهَدْىَ لأَحْلَلْتُ " .
Anas (Allah be pleased with him) reported that 'Ali (Allah be pleased with him) came from the Yemen, and the Apostle (ﷺ) said:With (what intention) have you put on Ihram? He said: I have put on Ibram in accordance with the intention with which Allah's Apostle (ﷺ) has put on Ibram, whereupon he (the Holy Prophet) said: Had there not been the sacrificial animals with me, I would have put off Ihram (after performing 'Umra)
(عبد الرحمٰن ) بن مہدی نے ہمیں حدیث سنا ئی ( کہا ) مجھے سلیم بن حیا ن نے مروان اصغر سے حدیث سنا ئی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) یمن سے مکہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : " تم نے کیا تلبیہ پکا را ؟انھوں نے جواب دیا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیے کے مطا بق تلبیہ پکا را ۔ آپ نے فرمایا : " اگر میرے پاس قربانی نہ ہو تی تو میں ضرور احلال ( احرا م سے فراغت ) اختیا ر کر لیتا ۔
Sahih Muslim 15:439sahih
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْبَيْتَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ فَلَمَّا فَتَحُوا كُنْتُ فِي أَوَّلِ مَنْ وَلَجَ فَلَقِيتُ بِلاَلاً فَسَأَلْتُهُ هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ.
Salim narrated on the authority of his father (Allah be pleased with him) that Allah's Messenger (ﷺ) entered the House along with Usama b. Zaid, Bilal and Uthman b. Talha. They closed the door from within, and, as they opened it, I was the first to get into it and meet Bilal, and I asked him:Did Allah's Messenger (ﷺ) observe prayer in it? He said: Yes, he observed prayer between these two Yemenite pillars (pillars situated towards the side of Yemen)
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی انھوں نے سالم سے انھوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں دا خل ہو ئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسامہ بن زید بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھوں نے اپنے پیچھے دروازہ بند کر لیا جب انھوں نے دروازہ کھو لا تو میں سب سے پہلا شخص تھا جو ( کعبہ میں ) داخل ہوا میں بلا ل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور ان سے پو چھا : کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز ادا کی ؟ انھوںنے جواب دیا : ہاں آپ نے دو یمنی ستونوں کے در میان نماز ادا کی ۔
Sahih Muslim 15:568sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُفْتَحُ الشَّامُ فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ يُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ يُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ " .
Sufyan b. Abd Zuhair reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Syria will be conquered and some people will go out of Medina along with their families driving their camels. and Medina is better for them if they were to know it. Then Yemen will be conquered and some people will go out of Medina along with their families driving their camels, and Medina is better for them if they were to know it. Then Iraq will be conquered and some people will go out of it along with their families driving their camels, and Medina is better for them if they were to know it
وکیع نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شام فتح کرلیا جائے گا تو کچھ لوگ انتہائی تیزی سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل وعیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے ، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں ۔ پھر یمن فتح ہوگا تو کچھ لوگ تیز رفتاری سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل وعیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے ، حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں ، پھر عراق فتح ہوگا تو کچھ تیزی سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل وعیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں ۔
Sahih Muslim 15:569sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ، بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ يُفْتَحُ الشَّامُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ يُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ " .
Sufyan b. Abu Zuhair heard Allah's Messenger (ﷺ) say:Yemen will be conquered and some people will go away (to that country) driving their camels and carrying their families on them and those who are under their authority, while Medina is better for them if they were to know it. Then Syria will be conquered and some people will go away driving their camels along with them and carrying their families with them and those who are under their authority, while Medina is better for theni if they were to know it. Thtn lraq will be conquered and some people will go away (to that country) driving their camels and carrying their families with them and those who are under their authority. while Medina is better for them if they were to know it
ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، ( کہا : ) مجھے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے خبر دی ، انھوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ یمن فتح ہو گا تو کچھ لوگ مدینہ سے اپنے اونٹوں کو ہانکتے ہوئے اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ نکلیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہو گا ، کاش وہ جانتے ہوتے ۔ پھر شام فتح ہو گا اور مدینہ کی ایک قوم اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ ، اونٹوں کو ہانکتے ہوئے نکلے گی اور مدینہ ان کے لئے بہتر ہو گا ، کاش وہ جانتے ۔ پھر عراق فتح ہو گا اور مدینہ کی ایک قوم اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ اپنے اونٹوں کو ہانکتے ہوئے نکلے گی حالانکہ مدینہ ان کے حق میں بہتر ہو گا ، کاش وہ جانتے ۔
Sahih Muslim 18:48sahih
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيَّ طَلَّقَهَا ثَلاَثًا ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ لَهَا أَهْلُهُ لَيْسَ لَكِ عَلَيْنَا نَفَقَةٌ . فَانْطَلَقَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فِي نَفَرٍ فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَقَالُوا إِنَّ أَبَا حَفْصٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا فَهَلْ لَهَا مِنْ نَفَقَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَتْ لَهَا نَفَقَةٌ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ " . وَأَرْسَلَ إِلَيْهَا " أَنْ لاَ تَسْبِقِينِي بِنَفْسِكِ " . وَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهَا " أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ يَأْتِيهَا الْمُهَاجِرُونَ الأَوَّلُونَ فَانْطَلِقِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى فَإِنَّكِ إِذَا وَضَعْتِ خِمَارَكِ لَمْ يَرَكِ " . فَانْطَلَقَتْ إِلَيْهِ فَلَمَّا مَضَتْ عِدَّتُهَا أَنْكَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ
Abu Salama reported that Fatima bint Qais, the sister of al-Dahhak b. Qais informed him that Abu Hafs b. Mughira al-Makhzumi divorced her three times and then he proceeded on to the Yemen. The members of his family said to her:There is no maintenance allowance due to you from us. Khalid b. Walid along with a group of persons visited Allah's Messenger (ﷺ) in the house of Maimuna and they said: Abu Hafs has divorced his wife with three pronouncements; is there any maintenance allowance due to her? Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: No maintenance allowance is due to her, but she is required to spend the 'Idda; and he sent her the message that she should not be hasty in making a decision about herself and commanded her to move to the house of Umm Sharik, and then sent her the message that as the first immigrants (frequently) visit the house of Umm Sharik, she should better go to the house of Ibn Umm Maktum, the blind, (and further said: In case you put off your head-dress, he (Ibn Umm Makhtum) will not see you. So she went to his house, and when the 'Idda was over, Allah's Messenger (ﷺ) married her to Usama b. Zaid b. Haritha
یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے ، ( کہا : ) مجھے ابوسلمہ نے خبر دی کہ ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ ابوحفص بن مغیرہ مخزومی نے اسے تین طلاقیں دے دیں ، پھر یمن کی طرف طلا گیا ، تو اس کے عزیز و اقارب نے اسے کہا : تمہارا خرچ ہمارے ذمے نہیں ہے ۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ چند ساتھیوں کے ہمراہ آئے ، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ابوحفص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں ، کیا اس ( کی سابقہ بیوی ) کے لیے خرچہ ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس کے لیے خرچہ نہیں ہے جبکہ اس کے لیے عدت ( گزارنا ) ضروری ہے ۔ " اور آپ نے اس کی طرف پیغام بھیجا : " اپنے بارے میں مجھ سے ( مشورہ کرنے سے پہلے ) سبقت نہ کرنا ۔ " اور اسے حکم دیا کہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے ہاں منتقل ہو جائے ، پھر اسے پیغام بھیجا : " ام شریک کے ہاں اولین مہاجرین آتے ہیں ، تم ابن مکتوم اعمیٰ کے ہاں چلی جاؤ ، جب ( کبھی ) تم اپنی اوڑھنی اتارو گی تو وہ تمہیں نہیں دیکھ سکیں گے ۔ " وہ ان کے ہاں چلی گئیں ، جب ان کی عدت پوری ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہا سے کر دیا
Sahih Muslim 18:52sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ - قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ، الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، خَرَجَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْيَمَنِ فَأَرْسَلَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ بِتَطْلِيقَةٍ كَانَتْ بَقِيَتْ مِنْ طَلاَقِهَا وَأَمَرَ لَهَا الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِنَفَقَةٍ فَقَالاَ لَهَا وَاللَّهِ مَا لَكِ نَفَقَةٌ إِلاَّ أَنْ تَكُونِي حَامِلاً . فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ لَهُ قَوْلَهُمَا . فَقَالَ " لاَ نَفَقَةَ لَكِ " . فَاسْتَأْذَنَتْهُ فِي الاِنْتِقَالِ فَأَذِنَ لَهَا . فَقَالَتْ أَيْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ " إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " . وَكَانَ أَعْمَى تَضَعُ ثِيَابَهَا عِنْدَهُ وَلاَ يَرَاهَا فَلَمَّا مَضَتْ عِدَّتُهَا أَنْكَحَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مَرْوَانُ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ يَسْأَلُهَا عَنِ الْحَدِيثِ فَحَدَّثَتْهُ بِهِ فَقَالَ مَرْوَانُ لَمْ نَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلاَّ مِنِ امْرَأَةٍ سَنَأْخُذُ بِالْعِصْمَةِ الَّتِي وَجَدْنَا النَّاسَ عَلَيْهَا . فَقَالَتْ فَاطِمَةُ حِينَ بَلَغَهَا قَوْلُ مَرْوَانَ فَبَيْنِي وَبَيْنَكُمُ الْقُرْآنُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { لاَ تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ} الآيَةَ قَالَتْ هَذَا لِمَنْ كَانَتْ لَهُ مُرَاجَعَةٌ فَأَىُّ أَمْرٍ يَحْدُثُ بَعْدَ الثَّلاَثِ فَكَيْفَ تَقُولُونَ لاَ نَفَقَةَ لَهَا إِذَا لَمْ تَكُنْ حَامِلاً فَعَلاَمَ تَحْبِسُونَهَا
Ubaidullah b. 'Abdullah b. 'Utba reported that 'Amr b. Hafs b. al-Mughira set out along with 'Ali b. Abi Talib (Allah be pleased with him) to the Yemen and sent to his wife the one pronouncement of divorce which was still left from the (irrevocable) divorce; and he commanded al-Harith b. Hisham and 'Ayyash b. Abu Rabi'a to give her maintenance allowance. They said to her:By Allah, there is no maintenance allowance for you, except in case you are pregnant. She came to Allah's Apostle (may peace he upon him) and mentioned their opinion to him, whereupon he said: There is no maintenance allowance for you. Then she sought permission to move (to another place), and he (the Holy Prophet) permitted her. She said: Allah's Messenger, where (should I go)? He said: To the house of Ibn Umm Maktum and, as he is blind, she could put off her garmeqts in his presence and he would not see her. And when her 'Idda was over. Allah's Apostle (ﷺ) married her to Usama b. Zaid. Marwan (the governor of Medina) sent Qabisa b. Dhuwaib in order to ask her about this hadith, and she narrated it to him, whereupon Marwan said: We have not heard this hadith but from a woman. We would adopt a safe (path) where we found the people. Fatima said that when these words of, Marwan were conveyed to her. There is between me and you the word of Allah, the Exalted and Majestic: Do" not turn them out" of their houses. She asserted: This is in regard to the revocable divorce what new (turn can the event take) after three pronouncements (separation between irrevocable). Why do you say there is no maintenance allowance for her if she is not pregnant? Then on what ground do you restrain her?
معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت کی کہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن کی جانب گئے اور اپنی بیوی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو اس کی ( تین ) طلاقوں میں سے جو طلاق باقی تھی بھیج دی ، اور انہوں نے ان کے بارے میں ( اپنے عزیزوں ) حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ سے کہا کہ وہ انہیں خرچ دیں ، تو ان دونوں نے ان ( فاطمہ ) سے کہا : اللہ کی قسم! تمہارے لیے کوئی خرچ نہیں الا یہ کہ تم حاملہ ہوتی ۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ کو ان دونوں کی بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے لیے خرچ نہیں ( بنتا ۔ ) " انہوں نے آپ سے نقل مکانی کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی ۔ انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول! کہاں؟ فرمایا : " ابن ام مکتوم کے ہاں ۔ " وہ نابینا تھے ، وہ ان کے سامنے اپنے ( اوڑھنے کے ) کپڑے اتارتیں تو وہ انہیں دیکھ نہیں سکتے تھے ۔ جب ان کی عدت پوری ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کر دیا ۔ اس کے بعد مروان نے اس حدیث کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے قبیصہ بن ذؤیب کو ان کے پاس بھیجا تو انہوں نے اسے یہ حدیث بیان کی ، اس پر مروان نے کہا : ہم نے یہ حدیث صرف ایک عورت سے سنی ہے ، ہم تو اسی مقبول طریقے کو تھامے رکھیں گے جس پر ہم نے تمام لوگوں کو پایا ہے ۔ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو مروان کی یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا : میرے اور تمہارے درمیان قرآن فیصل ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : " تم انہیں ان کے گھروں سے مت نکالو ۔ " آیت مکمل کی ۔ انہوں نے کہا : یہ آیت تو ( جس طرح اس کے الفاظ ( لَعَلَّ ٱللَّـهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًا ) ( الطلاق 1 : 65 ) سے ظاہر ہے ) اس ( شوہر ) کے لیے ہوئی جسے رجوع کا حق حاصل ہے ، اور تیسری طلاق کے بعد از سر نو کون سی بات پیدا ہو سکتی ہے؟ اور تم یہ بات کیسے کہتے ہو کہ اگر وہ حاملہ نہیں ہے تو اس کے لیے خرچ نہیں ہے؟ پھر تم اسے روکتے کس بنا پر ہو
Sahih Muslim 32:7sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَهُ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ " يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا وَتَطَاوَعَا وَلاَ تَخْتَلِفَا " .
It has also been narrated by Sa'd b. Abu Burda through his father through his grandfather that the Prophet of Allah (ﷺ) sent him and Mu'adh (on a mission) to the Yemen, and said (by way of advising them):Show leniency (to the people) ; don't be hard upon them; give them glad tidings (of Divine favours in this world and the Hereafter) ; and do not create aversion. Work in collaboration and don't be divided
شعبہ نے سعید بن ابی بردہ سے ، انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا ( حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا : " تم دونوں آسانی پیدا کرنا ، مشکل میں نہ ڈالنا ، خوشخبری دینا ، دور نہ بھگانا ، آپس میں اتفاق رکھنا ، اختلاف نہ کرنا
Sahih Muslim 32:52sahih
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ وَرَافَقَنِي مَدَدِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِنَحْوِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ عَوْفٌ فَقُلْتُ يَا خَالِدُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ .
It has been narrated on the authority of Auf b. Malik al-Ashja'i who said:I joined the expedition that marched under Zaid b. Haritha to Muta, and I received reinformcement from the Yemen. (After this introduction), the narrator narrated the tradition that had gone before except that in his version Auf was reported to have said (to Khalid): Khalid, didn't you know that the Messenger of Allah (way peace be upon him) had decided In favour of giving the booty (sized from an enemy) to one who killed him? He (Khalid) said: Yes. but I thought it was too much
صفوان بن عمرو نے عبدالرحمان بن جبیر بن نفیر سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں غزوہ موتہ میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جانے والوں کے ساتھ روانہ ہوا ، یمن سے مدد کے لیے آنے والا ایک آدمی بھی میرا رفیق سفر ہوا ۔ ۔ ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی طرح حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے حدیث میں کہا : عوف رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے کہا : خالد! کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلب ( مقتول کے سازوسامان ) کا فیصلہ قاتل کے حق میں کیا تھا؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں! لیکن میں نے اسے زیادہ خیال کیا
Sahih Muslim 36:36sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُخْلَطَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا وَأَنْ يُخْلَطَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا وَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ جُرَشَ يَنْهَاهُمْ عَنْ خَلِيطِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ .
Ibn 'Abbas reported that Allah's Apostle (ﷺ) forbade the mixing of dates and grapes together, and mixing of unripe dates and ripe dates together (for preparing Nabidh), and he wrote to the people of Jurash (in Yemen) forbidding them to prepare the mixture of dates and grapes
علی بن مسہر نے ہمیں شیبانی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حبیب سے انھوں نے سعید بن جبیر سے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نبیذ بنا نے کے لیے ) خشک کھجوروں اور کشمش کو باہم ملا نے اور کچی اور خشک کھجوروں کو باہم ملا نے سے منع فرما یا اور آپ نے اہل جرش کی طرف لکھا اور اس بات سے منع کیا کہ وہ خشک کھجوروں اورکشمش کو ملا کر مشروب بنائیں ۔
Sahih Muslim 36:89sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَهُ مِنْ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَهُ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُمَا " بَشِّرَا وَيَسِّرَا وَعَلِّمَا وَلاَ تُنَفِّرَا " . وَأُرَاهُ قَالَ " وَتَطَاوَعَا " . قَالَ فَلَمَّا وَلَّى رَجَعَ أَبُو مُوسَى فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَهُمْ شَرَابًا مِنَ الْعَسَلِ يُطْبَخُ حَتَّى يَعْقِدَ وَالْمِزْرُ يُصْنَعُ مِنَ الشَّعِيرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ مَا أَسْكَرَ عَنِ الصَّلاَةِ فَهُوَ حَرَامٌ " .
Abu Burda reported on the authority of his grandfather that Allah's Messenger (ﷺ) sent him and Mu'adh b. Jabal to Yemen and said to them:Give good tidings to the (people). and make things easy (for them), teach (them), and do not repel (them) ; and I think he also said: Cooperate cheerfully with each other. When he (the Holy Prophet) turned his back, Abu Musa returned to him and said: Allah's Messenger, they (the people of Yemen) have a drink which is (made) from honey and which is prepared by cooking it until it coagulates, and Mizr is prepared from barley, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Every intoxicant that detains you from prayer is forbidden
عمرو نے سعد بن ابی بردہ سے سنا انھوں نے اپنے والد ( ابو بردہ عامر بن ابی موسیٰ ) کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن بھیجا اور فرما یا : " تم دونوں لوگوں کو ( اچھے اعمال کے انعام کی ) خوش خبری سنانا اور ( معاملا ت کو ) آسان بنا نا ( دین ) سیکھانا اور متنفر نہ کرنا " میرا خیال ہے کہ انھوں نے یہ بھی روایت کیا آپ نے فرما یا : " دونوں ایک دوسرے سے موافقت سے رہنا ۔ " جب ( اجازت لے کر ) ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیچھے کی طرف مڑے تو کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ان کا شہد سے بنا یا ہو ایک مشروب ہے جسے پکا یا جا تا ہے یہاں تک کہ وہ گا ڑھا ہو جا تا ہے اور ( ایک مشروب ) مزرہے جسے جوسے تیار کیا جا تا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ہر وہ چیز جو نماز سے مد ہوش کردے وہ حرام ہے ۔
Sahih Muslim 36:90sahih
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي خَلَفٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو - عَنْ زَيْدِ بْنِ، أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ " ادْعُوَا النَّاسَ وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا وَيَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا " . قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنَا فِي شَرَابَيْنِ كُنَّا نَصْنَعُهُمَا بِالْيَمَنِ الْبِتْعُ وَهُوَ مِنَ الْعَسَلِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ وَالْمِزْرُ وَهُوَ مِنَ الذُّرَةِ وَالشَّعِيرِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أُعْطِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ بِخَوَاتِمِهِ فَقَالَ " أَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ أَسْكَرَ عَنِ الصَّلاَةِ " .
Abu Burda reported on the authority of his father:Allah's Messenger (ﷺ) sent me and Mu'adh to Yemen saying: Call people (to the path of righteousness) and give good tidings to the (people), and do not repel them, make things easy for them and do not make things difficult. I (Burda) said: Allah's Messenger, give us a religious verdict about two kinds of drinks which we prepare in Yemen. One is Bit' which is prepared from honey; it is a fermented Nabidh and is strong and turns into wine, and (the second is) Mizr which is prepared from millet and barley. Thereupon, Allah's Messenger (ﷺ), who had been gifted with the most eloquent and pithy expressions, said: I forbid you from every intoxicant that keeps you away from prayer
زید بن ابی انیسہ نے سعید بن ابی بردہ سے روایت کی ، کہا : ہمیں حضرت ابو بردہ نے اپنے والد سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن کی جانب بھیجا آپ نے فرما یا : " لوگوں کو ( اسلام کی ) دعوت دینا ان کو خوشخبری دینا اور متنفر نہ کرنا ۔ معاملا ت کو آسان بنا نا اور لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالنا ۔ انھوں نے کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کو دومشروبوں کے بارے میں شریعت کا حکم بتا ئیے جنھیں ہم یمن میں تیار کرتے تھے ۔ ایک بتع ہے جو شہد سے تیار کیا جا تا ہے ۔ اسے برتنوں میں ڈالا جا تا ہے حتی کی وہ گاڑھا ہو جا تا ہے اور ایک مزرہے وہ مکئی اور جو سے تیار کیا جا تا ہےاسے برتنوں میں ڈالا جا تا ہے حتی کہ اس میں شدت پیدا ہو جا تی ہے ۔ انھوں نے کہا : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بات کے خبصورت خاتمے سمیت جامع کلمات عطا کیے گئے تھے ۔ آپ نے فرما یا : " میں ہر اس نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں جو نماز سے مدہوش کردے ۔ ( جس کی زیادہ مقدار مدہوش کردے اس کی قلیل ترین مقدار بھی حرام ہے ۔)
Sahih Muslim 36:91sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ عُمَارَةَ بْنِ، غَزِيَّةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَدِمَ مِنْ جَيْشَانَ - وَجَيْشَانُ مِنَ الْيَمَنِ - فَسَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَوَمُسْكِرٌ هُوَ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ إِنَّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ " عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ " .
Jabir reported that a person came from Jaishan, a town of Yemen, and he asked Allah's Apostle (ﷺ) about the wine which was drunk in their land and which was prepared from millet and was called Mizr. Allah's Messenger (ﷺ) asked whether that was intoxicating. He said:Yes. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Every intoxicant is forbidden. Verily Allah the Exalted and Majestic, made a covenant to those who drank intoxicants to make their drink Tinat al-Khabal. They said: Allah's Messenger, what is Tinat a]-Khabal? He said: It is the sweat of the denizens of Hell or the discharge of the denizens of Hell
ابو زبیر نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص جیشان سے آیا جیشان یمن میں ہے اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی سر زمین کے ایک مشروب کے متعلق سوال کیا جس کو مکئی سے بنا یا جا تا تھا اس کا نام مزر تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا : کیا وہ نشہ آور ہے؟ اس نے کہا : جی ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ہرنشہ آور چیز حرام ہے بلا شبہ اللہ عزوجل کا ( اپنے اوپر یہ ) عہد ہے کہ جو شخص نشہ آور مشروب پیے گا وہ اس کو طینۃ الخبال کیا ہے؟ آپ نے فرما یا : " جہنمیوں کا پسینہ یا ( فرمایا : ) جہنمیوں کا نچوڑ ۔