narrator

Sulaiman

سليمان

Hadith 20 traditions

Sahih al-Bukhari 10:248sahih

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيَّ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ، مَرَّ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ، فَأَمَّهُمْ وَصَفُّوا عَلَيْهِ‏.‏ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَمْرٍو مَنْ حَدَّثَكَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ‏.‏

Narrated Sulaiman Ash-Shaibani:I heard Ash-Shu`bi saying, "A person who was accompanying the Prophet (ﷺ) passed by a grave that was separated from the other graves told me that the Prophet (ﷺ) once led the people in the (funeral) prayer and the people had aligned behind him. I said, "O Aba `Amr! Who told you about it?" He said, "Ibn `Abbas

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے سلیمان شیبانی سے سنا، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی جو ( ایک مرتبہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک اکیلی الگ تھلگ ٹوٹی ہوئی قبر پر سے گزر رہے تھے وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھے ہوئے تھے۔ سلیمان نے کہا کہ میں نے شعبی سے پوچھا کہ ابوعمرو آپ سے یہ کس نے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔

Sahih al-Bukhari 64:69sahih

حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ بَدْرٍ ‏ "‏ مَنْ يَنْظُرُ مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ ‏"‏‏.‏ فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَدَ، فَقَالَ آنْتَ أَبَا جَهْلٍ قَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ سُلَيْمَانُ هَكَذَا قَالَهَا أَنَسٌ‏.‏ قَالَ أَنْتَ أَبَا جَهْلٍ قَالَ وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ قَالَ سُلَيْمَانُ أَوْ قَالَ قَتَلَهُ قَوْمُهُ‏.‏ قَالَ وَقَالَ أَبُو مِجْلَزٍ قَالَ أَبُو جَهْلٍ فَلَوْ غَيْرُ أَكَّارٍ قَتَلَنِي‏.‏

Narrated Anas:Allah's Messenger (ﷺ) said on the day of Badr, "Who will go and see what has happened to Abu Jahl?" Ibn Mas`ud went and saw him struck by the two sons of 'Afra and was on the point of death . Ibn Mas`ud said, "Are you Abu Jahl?" Abu Jahl replied, "Can there be a man more superior to the one whom you have killed (or as Sulaiman said, or his own folk have killed.)?" Abu Jahl added, "Would that I had been killed by other than a mere farmer

مجھ سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، کہا ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی کے دن فرمایا ”کون دیکھ کر آئے گا کہ ابوجہل کے ساتھ کیا ہوا؟ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس کے لیے روانہ ہوئے اور دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے قتل کر دیا ہے اور اس کی لاش ٹھنڈی ہونے والی ہے۔ انہوں نے پوچھا، ابوجہل تم ہی ہو؟ ابن علیہ نے بیان کیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا تھا کہ تو ابوجہل ہے؟ اس پر اس نے کہا، کیا اس سے بھی بڑا کوئی ہو گا جسے تم نے آج قتل کر دیا ہے؟ سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ یا اس نے یوں کہا، ”جسے اس کی قوم نے قتل کر دیا ہے؟ ( کیا اس سے بھی بڑا کوئی ہو گا ) کہا کہ ابومجلز نے بیان کیا کہ ابوجہل نے کہا، کاش! ایک کسان کے سوا مجھے کسی اور نے مارا ہوتا۔

Sahih al-Bukhari 85:18sahih

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ قَضَى فِينَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النِّصْفُ لِلاِبْنَةِ وَالنِّصْفُ لِلأُخْتِ‏.‏ ثُمَّ قَالَ سُلَيْمَانُ قَضَى فِينَا‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated Al-Aswad:Mu`adh bin Jabal gave this verdict for us in the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ). One-half of the inheritance is to be given to the daughter and the other half to the sister. Sulaiman said: Mu`adh gave a verdict for us, but he did not mention that it was so in the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ)

ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے سلیمان اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے اور ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہمارے درمیان یہ فیصلہ کیا تھا کہ آدھا بیٹی کو ملے گا اور آدھا بہن کو۔ پھر سلیمان نے جو اس حدیث کو روایت کیا تو اتنا ہی کہا کہ معاذ نے ہم کنبہ والوں کو یہ حکم دیا تھا یہ نہیں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں۔

Sahih Muslim 1:201sahih

وَحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ‏ "‏ ثَلاَثَةٌ لاَ يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلاَ يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ‏"‏ ‏.‏

Bishr b. Khalid has narrated this hadith on the authority of Sulaiman with the same chain of transmitters with this addition:Allah shall neither speak nor look at nor absolve then, and there is a tormenting punishment for them

(سفیان کے بجائے ) شعبہ نے سلیمان بن اعمش سے یہی روایت انہی کی سند سے بیان کی کہ آپﷺ نے فرمایا : ’’ تین ( لوگوں ) سے اللہ گفتگو نہیں کرے گا ، نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 1:223sahih

وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏ لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ‏}‏ وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏

This hadith is also transmitted by Ahmad b. Sa'id, Habban, Sulaiman b. Mughira on the authority of Anas who said:When the verse was revealed:" Do not raise your voice louder than the voice of the Apostle," no mention was made of Sa'd b, Mu'adh in it

(جعفر بن سلیمان کے بجائے ) سلیمان بن مغیرہ نے ثابت ( بنانی ) سے نقل کرتے ہوئے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث روایت کی کہ جب یہ آیت اتری : ﴿ لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ ﴾..... انہوں نے بھی سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کا ذکر نہیں کیا ۔

Sahih Muslim 2:138sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنِ الْمَنِيِّ، يُصِيبُ ثَوْبَ الرَّجُلِ أَيَغْسِلُهُ أَمْ يَغْسِلُ الثَّوْبَ فَقَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَغْسِلُ الْمَنِيَّ ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ فِي ذَلِكَ الثَّوْبِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْغَسْلِ فِيهِ ‏.‏

Amr b. Maimun said:I asked Sulaiman b. Yasar whether the semen that gets on to the garment of a person should be washed or not. He replied: A'isha told me: The Messenger of Allah (ﷺ) washed the semen, and then went out for prayer in that very garment and I saw the mark of washing on it

محمد بن بشر نے عمرو بن میمون سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے آدمی کے کپڑے کو لگ جانےوالی منی کے بارے میں پوچھا کہ انسان اس جگہ کو دھوئے یا ( پورے ) کپڑے کو دھوئے؟ تو انہوں نے ( سلیمان بن یسار ) نے کہا : مجھے عائشہ ؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ ( کپڑے سے ) منی کو دھوتے ، پھر اسی کپڑے میں نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور میں اس میں دھونے کا نشان دیکھ رہی ہوتی ۔

Sahih Muslim 2:144sahih

حَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ وَكَانَ الآخَرُ لاَ يَسْتَنْزِهُ عَنِ الْبَوْلِ أَوْ مِنَ الْبَوْلِ ‏"‏ ‏.‏

This hadith is transmitted from A'mash by Abmad b. Yusuf al-Azdi, Mu'alla b. Asad, Abd al-Wahid, Sulaiman with the same chain of transmitters but for the words:" The other did not keep himself safe from being defiled by urine

عبدالواحدنے اسی سند سے سلیمان اعمش سے مذکورہ بالا حدیث روایت کی ، سوائے اس کے کہ کہا : اور دوسرا پیشاب ( اپنے کے بغیر ) کی طرف سے ( بچنے کا اہتمام نہیں عبدالواحد کرتا ۔)

Sahih Muslim 4:67sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ قَتَادَةَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ قَتَادَةَ مِنَ الزِّيَادَةِ ‏"‏ وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ‏"‏ ‏.‏ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ ‏"‏ فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏ ‏.‏ إِلاَّ فِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ وَحْدَهُ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ أَبُو بَكْرِ ابْنُ أُخْتِ أَبِي النَّضْرِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ مُسْلِمٌ تُرِيدُ أَحْفَظَ مِنْ سُلَيْمَانَ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ فَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ هُوَ صَحِيحٌ يَعْنِي وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ‏.‏ فَقَالَ هُوَ عِنْدِي صَحِيحٌ ‏.‏ فَقَالَ لِمَ لَمْ تَضَعْهُ هَا هُنَا قَالَ لَيْسَ كُلُّ شَىْءٍ عِنْدِي صَحِيحٍ وَضَعْتُهُ هَا هُنَا ‏.‏ إِنَّمَا وَضَعْتُ هَا هُنَا مَا أَجْمَعُوا عَلَيْهِ ‏.‏

Qatada has narrated a hadith like this with another chain of transmitters. In the hadith transmitted by Jarir on the authority of Sulaiman, Qatada's further words are:When (the Qur'an) is recited (in prayer), you should observe silence, and (the following words are) not found in the hadith narrated by anyone except by Abu Kamil who heard it from Abu 'Awina (and the words are): Verily Allah vouchsafed through the tongue of the Messenger of Allah (ﷺ) this: Allah listens to him who praises Him. Abu Ishaq (a student of Imam Muslim) said: Abu Bakr the son of Abu Nadr's sister has (critically) discussed this hadith. Imam Muslim said: Whom can you find a more authentic transmitter of hadith than Sulaiman? Abu Bakr said to him (Imam Muslim): What about the hadith narrated by Abu Huraira, i.e. the hadith that when the Qur'an is recited (in prayer) observe silence? He (Abu Bakr again) said: Then, why have you not included it (in your compilation)? He (Imam Muslim) said: I have not included in this every hadith which I deem authentic; I have recorded only such ahadith on which there is an agreement (amongst the Muhaddithin apart from their being authentic)

ابو اسامہ نے سعید بن ابی عروبہ سے حدیث بیان کی ، نیز معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، اسی طرح جریر نے سلیمان تیمی سے خبر دی ، ان سب ( ابن ابی عروبہ ، ہشام اور سلیمان ) نے قتادہ سے اسی ( سابقہ ) حدیث کے مانند روایت کی ، البتہ قتادہ سے سلیمان اور ان سے جریر کی بیان کردہ حدیث میں یہ اضافہ ہے : ’’ جب امام پڑھے تو تم غور سے سنو ۔ ‘ ‘ اور ابو عوانہ کے شاگرد کامل کی حدیث کے علاوہ ان میں سے کسی کی حدیث میں : ’’اللہ عزوجل نے اپنے نبیﷺ کی زبان سے فرمایا ہے : ’’ اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد کی ۔ ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ہیں ۔ ابو اسحاق نے کہا : ابو نضر کے بھانجے ابو بکر نے اس حدیث کے متعلق بات کی تو امام مسلم نے کہا : آپ کو سلیمان سے بڑا حافظ چاہیے؟ اس پر ابو بکر نے امام مسلم سے کہا : ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی حدیث؟ پھر ( ابو بکر نے ) کہا : وہ صحیح ہے ، یعنی ( یہ اضافہ کہ ) جب امام پڑھے تو تم خاموش رہو ۔ امام مسلم نے ( جوابا ) کہا : وہ میرے نزدیک بھی صحیح ہے ۔ تو ابو بکر نے کہا : آپ نے اسے یہاں کیوں نہ رکھا ( درج کیا ) ؟ ( امام مسلم نے جواباً ) کہا : ہر وہ چیز جو میرے نزدیک صحیح ہے ، میں نے اسے یہاں نہیں رکھا ۔ یہاں میں نے صرف ان ( احادیث ) کو رکھا جن ( کی صحت ) پر انہوں ( محدثین ) نے اتفاق کیا ہے ۔

Sahih Muslim 5:49sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ جَعَلَ يَفْتِكُ عَلَىَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَىَّ الصَّلاَةَ وَإِنَّ اللَّهَ أَمْكَنَنِي مِنْهُ فَذَعَتُّهُ فَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا تَنْظُرُونَ إِلَيْهِ أَجْمَعُونَ - أَوْ كُلُّكُمْ - ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ‏.‏ فَرَدَّهُ اللَّهُ خَاسِئًا ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ‏.‏

Abu Huraira reported that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying:A highly wicked one amongst the Jinn escaped yesternight to interrupt my prayer, but Allah gave me power over him, so I seized him and intended to tie him to one of the pillars of the mosque in order that you, all together or all, might look at him, but I remembered the supplication of my brother Sulaiman:" My Lord, forgive me, give me such a kingdom as will not be possible for anyone after me" (Qur'an, xxxvii)

اسحاق بن ابراہیم اور اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں محمد نے ، جو ابن زیاد ہے ، حدیث سنائی ، انھوں نے کہا ، میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ گزشتہ رات ایک سرکش جن مجھ پر حملے کرنے لگا تا کہ میری نماز توڑ دے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے میرے قابو میں کر دیا تو میں نے زور سے اس کا گلا گھونٹا اور یہ ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب دیکھ سکو ، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد آگیا : ‘ ‘ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو ’’ ( تو میں نے اسے چھوڑ دیا ) اور اللہ نے اس ( جن ) کو رسوا کر کے لوٹا دیا ۔ ’’ ابن منصور نے کہا : شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی ۔

Sahih Muslim 12:81sahih

وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، ح وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - كِلاَهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ ‏"‏ مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ فَيَضَعُهَا فِي حَقِّهَا ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ ‏"‏ فَيَضَعُهَا فِي مَوْضِعِهَا ‏"‏ ‏.‏

This hadith has been narrated through another chain of transmitters with a change of words. In the hadith transmitted Rauh (the words are):" Out of the honest earning and its spending at what is its (due) right" ; and in the hadith transmitted by Sulaiman (the words are):" And its spending at its proper place

روح بن قاسم اور سلیما ن بن بلال دو نوں نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ ( مذکور ہ با لا ) حدیث بیان کی ، روح کی حدیث میں ہے ۔ من الكسب الطيب فيضعها في حقها ( حلال کمائی سے صدقہ کرتا ہے پھر اس کو وہاں لگا تا ہے جہاں اس کا حق ہے ) اور سلیمان کی حدیث میں ہے فيضعها في موضعها ( اور اسے اس کی جگہ پر خرچ کرتا ہے)

Sahih Muslim 13:100sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ - رضى الله عنها - عَنِ الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا أَيَصُومُ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلاَمٍ ثُمَّ يَصُومُ ‏.‏

Sulaiman b. Yasar reported that he asked Umm Salama whether a person (who gets up) in the morning in a state of junub should observe fast. She said:The Messenger of Allah (ﷺ) (at times) got up in the morning in a state of junub, not because of sexual dreams (but on account of intercourse at night), and then observed fast

احمد بن عثمان نوفلی ، ابو عاصم ، ابن جریج ، محمد بن یوسف ، حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا کہ وہ جنبی حالت میں صبح کرتاہے تو کیا وہ آدمی روزہ رکھ سکتا ہے؟حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی حالت میں بغیر احتلام کے صبح کرتے پھر آپ روزہ رکھتے ۔

Sahih Muslim 15:180sahih

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ، بْنُ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ ‏.‏

This hadith has been transmitted on the authority of Sulaiman (but with a slight modification of words)

سفیان اورشعبہ دونوں نے سلیمان تیمی سے اسی سندکے ساتھ ان دونوں ( مروان اور یحییٰ ) کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ہے ۔ ( البتہ ) سفیان کی حدیث میں ہے : حج میں تمتع ( کے بارے میں دریافت کیا ۔)

Sahih Muslim 27:32sahih

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي الرَّبِيعِ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ لِسُلَيْمَانَ سِتُّونَ امْرَأَةً فَقَالَ لأَطُوفَنَّ عَلَيْهِنَّ اللَّيْلَةَ فَتَحْمِلُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ فَتَلِدُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ غُلاَمًا فَارِسًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلاَّ وَاحِدَةٌ فَوَلَدَتْ نِصْفَ إِنْسَانٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ كَانَ اسْتَثْنَى لَوَلَدَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ غُلاَمًا فَارِسًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏

Abu Huraira reported that (Hadrat) Sulaiman had sixty wives. He (one day) said:I will visit each one of them every night, and every one of them will become pregnant and give birth to a male child who will be a horseman and fight in the cause of Allah. But (it so happened) that none of them became pregnant except one, but she gave birth to an incomplete child. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Had he said Insha' Allah (if God so wills), then every one of them would have given birth to a child who would have been a horseman and fought in the cause of Allah

محمد ( بن سیرین ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت سلیمان علیہ السلام کی ساٹھ بیویاں تھیں ، انہوں نے کہا : ( واللہ ) آج رات میں ان سب کے پاس جاؤں گا تو ان میں سے ہر بیوی حاملہ ہو گی اور ہر بیوی ( ایک شہسوار ) بچے کو جنم دے گی ، جو اللہ کی راہ میں لڑائی کرے گا ۔ تو ایک کے سوا ان میں سے کوئی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ادھورے ( ناقص الخلقت ) بچے کو جنم دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر وہ ان شاءاللہ کہتے تو ان میں سے ہر بیوی شہسوار بچے کو جنم دیتی جو اللہ کی راہ میں لڑائی کرتا

Sahih Muslim 27:33sahih

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ نَبِيُّ اللَّهِ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى سَبْعِينَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ تَأْتِي بِغُلاَمٍ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ أَوِ الْمَلَكُ قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏.‏ فَلَمْ يَقُلْ وَنَسِيَ ‏.‏ فَلَمْ تَأْتِ وَاحِدَةٌ مِنْ نِسَائِهِ إِلاَّ وَاحِدَةٌ جَاءَتْ بِشِقِّ غُلاَمٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَلَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏.‏ لَمْ يَحْنَثْ وَكَانَ دَرَكًا لَهُ فِي حَاجَتِهِ ‏"‏ ‏.‏

Abu Huraira reported Allah's Prophet (ﷺ) as saying that Sulaiman b. Dawud, the Messenger of Allah, observed:I will have an intercourse with seventy wives during the night; all of them will give birth to a male child who will fight in the cause of Allah. His companion or the ang I said to him: Say," If God wills." But he (Hadrat Sulaimin) did not say so, and he forgot it. And none of his wives gave birth to a child, but one who gave birth to a premature child. Allah's Messenger (ﷺ) said: Had he said Insha' Allah (if God so will). he would not have failed and his desire would have been materialised

ہشام بن حجیر نے طاوس سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اللہ کے نبی سلیمان بن داود علیہ السلام نے کہا : ( واللہ ) آج رات میں ستر عورتوں کے پاس جاؤں گا ، وہ سب ایک ایک بچے کو جنم دیں گی جو اللہ کی راہ میں لڑائی کرے گا ۔ تو ان سے ان کے کسی ساتھی یا فرشتے نے کہا : ان شاءاللہ کہیں ۔ انہوں نے نہ کہا ، انہیں بھلا دیا گیا ، ان کی عورتوں میں سے ایک عورت کے سوا کسی نے بچے کو جنم نہ دیا ، اس نے بھی ادھورے بچے کو جنم دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر وہ ان شاءاللہ کہتے تو قسم تشنہ تکمیل نہ رہتی اور یہ ( قسم ) ان کی ضرورت ( اپنی اولاد کے ذریعے سے جہاد فی سبیل اللہ ) کی تکمیل کا سبب بھی بن جاتی

Sahih Muslim 27:35sahih

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ لأُطِيفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى سَبْعِينَ امْرَأَةً تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلاَمًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏.‏ فَقِيلَ لَهُ قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏.‏ فَلَمْ يَقُلْ ‏.‏ فَأَطَافَ بِهِنَّ فَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ إِلاَّ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏.‏ لَمْ يَحْنَثْ وَكَانَ دَرَكًا لِحَاجَتِهِ ‏"‏ ‏.‏

Abu Huraira reported that Sulaiman b. Dawud said:I will certainly have intercourse with seventy wives during the night, and every wife amongst them will give birth to a child, who will fight in the cause of Allah. It was said to him: Say:" Insha' Allah" (God willing), but he did not say so and forgot it. He went round them but none of them give birth to a child except one woman and that too was an incomplete person. Upon this Allah's Messenger (ﷺ) said: If he had said" Insha' Allah." he would not have failed, and his desire must have been fulfilled

طاوس کے بیٹے نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام نے کہا : آج رات میں ستر عورتوں کے پاس چکر لگاؤں گا ، ان میں سے ہر عورت ( بیوی یا کنیز ) ایک بچے کو جنم دے گی جو اللہ کی راہ میں لڑائی کرے گا ۔ تو ان سے کہا گیا : ان شاءاللہ کہئے ۔ انہوں نے نہ کہا ( انہیں بھلا دیا گیا ) ۔ وہ ان کے پاس گئے تو ان میں سے صرف ایک عورت نے ادھے انسان کو جنم دیا ۔ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر وہ ان شاءاللہ کہہ لیتے تو قسم تشنہ تکمیل نہ رہتی اور یہ ( قسم ) ان کے دل کی حاجت پوری ہونے کا ذریعہ بھی بن جاتی

Sahih Muslim 27:36sahih

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً كُلُّهَا تَأْتِي بِفَارِسٍ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏.‏ فَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏.‏ فَطَافَ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلاَّ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ فَجَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏.‏ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُونَ ‏"‏ ‏.‏

Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying that Sulaiman b. Dawud (once) said:I will go round in the night to my ninety wives, and every one of them will give birth to a child (who will grow up) as a horseman and fight in the cause of Allah His companions said to him: Say" Insha' Allah." but he did not say Inshii' Allah. He went round all of them but none of them became pregnant but one, and she gave birth to a premature child. And by Him in Whose hand is the life of Muhammad, if he had said, Insha' Allah (his wives would have given birth to the children who would all have grown up into horsemen and fought in the way of Allah)

ورقاء نے ابوزناد سے ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام نے کہا : آج رات میں نوے عورتوں کے پاس جاؤں گا ان میں سے ہر عورت ایک شہسوار بچے کو جنم دے گی جو ( بڑا ہو کر ) اللہ کی راہ میں لڑائی کرے گا ۔ تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا : ان شاءاللہ کہیں ۔ انہوں نے ان شاءاللہ نہ کہا ۔ وہ ان سب کے پاس گئے تو ان میں سے ایک عورت کے سوا کوئی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی آدھے بچے کو جنم دیا ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! اگر وہ ان شاءاللہ کہہ دیتے تو وہ سب گھوڑوں پر سوار ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کرتے

Sahih Muslim 28:9sahih

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا وَقَالَ، حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسُلَيْمَانُ، بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقَرَّ الْقَسَامَةَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ‏.‏

Sulaiman b. Yasar, the freed slave of Maimuna, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), narrated from one of the Ansari Companions of Allah's Messenger (ﷺ) that Allah's Messenger (ﷺ) retained (the practice) of Qasama as it was in the pre-Islamic days

یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمان اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام سلیمان بن یسار نے انصار میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسامہ کو اسی صورت پر برقرار رکھا جس پر وہ جاہلیت میں تھی

Sahih Muslim 28:11sahih

وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَاهُ عَنْ نَاسٍ، مِنَ الأَنْصَارِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ ‏.‏

This hadith has been narrated on the authority of Abu Salama b. 'Abd al-Rahman and Sulaiman b. Yasar

صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمان اور سلیمان بن یسار نے انصار کے کچھ لوگوں سے خبر دی اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی جس طرح ابن جریج کی حدیث ہے

Sahih Muslim 33:218sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ لَهُ نَاتِلُ أَهْلِ الشَّامِ أَيُّهَا الشَّيْخُ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ ‏.‏ قَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لأَنْ يُقَالَ جَرِيءٌ ‏.‏ فَقَدْ قِيلَ ‏.‏ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ ‏.‏ قَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ عَالِمٌ ‏.‏ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوَ قَارِئٌ ‏.‏ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ ‏.‏ وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلاَّ أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ قَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ هُوَ جَوَادٌ ‏.‏ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ ‏"‏ ‏.‏

It has been narrated on the authority of Sulaiman b. Yasar who said:People dispersed from around Abu Huraira, and Natil, who was from the Syrians. said to him: O Shaikh, relate (to us) a tradition you have heard from the Messenger of Allah (ﷺ). He said: Yes. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: The first of men (whose case) will be decided on the Day of Judgment will be a man who died as a martyr. He shall be brought (before the Judgment Seat). Allah will make him recount His blessings (i. e. the blessings which He had bestowed upon him) and he will recount them (and admit having enjoyed them in his life). (Then) will Allah say: What did you do (to requite these blessings)? He will say: I fought for Thee until I died as a martyr. Allah will say: You have told a lie. You fought that you might be called a" brave warrior". And you were called so. (Then) orders will be passed against him and he will be dragged with his face downward and cast into Hell. Then will be brought forward a man who acquired knowledge and imparted it (to others) and recited the Qur'an. He will be brought And Allah will make him recount His blessings and he will recount them (and admit having enjoyed them in his lifetime). Then will Allah ask: What did you do (to requite these blessings)? He will say: I acquired knowledge and disseminated it and recited the Qur'an seeking Thy pleasure. Allah will say: You have told a lie. You acquired knowledge so that you might be called" a scholar," and you recited the Qur'an so that it might be said:" He is a Qari" and such has been said. Then orders will be passed against him and he shall be dragged with his face downward and cast into the Fire. Then will be brought a man whom Allah had made abundantly rich and had granted every kind of wealth. He will be brought and Allah will make him recount His blessings and he will recount them and (admit having enjoyed them in his lifetime). Allah will (then) ask: What have you done (to requite these blessings)? He will say: I spent money in every cause in which Thou wished that it should be spent. Allah will say: You are lying. You did (so) that it might be said about (You):" He is a generous fellow" and so it was said. Then will Allah pass orders and he will be dragged with his face downward and thrown into Hell

خالد بن حارث نے کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے یونس بن یوسف نے سلیمان بن یسار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ( جمگھٹے کے بعد ) لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے چھٹ گئے تو اہل شام میں سے ناتل ( بن قیس جزامی رئیس اہل شام ) نے ان سے کہا : شیخ! مجھے ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ، کہا : ہاں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " قیامت کے روز سب سے پہلا شخص جس کے خلاف فیصلہ آئے گا ، وہ ہو گا جسے شہید کر دیا گیا ۔ اسے پیش کیا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی ( عطا کردہ ) نعمت کی پہچان کرائے گا تو وہ اسے پہچان لے گا ۔ وہ پوچھے گا تو نے اس نعمت کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہے گا : میں نے تیری راہ میں لڑائی کی حتی کہ مجھے شہید کر دیا گیا ۔ ( اللہ تعالیٰ ) فرمائے گا تو نے جھوٹ بولا ۔ تم اس لیے لڑے تھے کہ کہا جائے : یہ ( شخص ) جری ہے ۔ اور یہی کہا گیا ، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اس آدمی کو منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا اور وہ آدمی جس نے علم پڑھا ، پڑھایا اور قرآن کی قراءت کی ، اسے پیش کیا جائے گا ۔ ( اللہ تعالیٰ ) اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا ، وہ پہچان کر لے گا ، وہ فرمائے گا : تو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہے گا : میں نے علم پڑھا اور پڑھایا اور تیری خاطر قرآن کی قراءت کی ، ( اللہ ) فرمائے گا : تو نے جھوٹ بولا ، تو نے اس لیے علم پڑھا کہ کہا جائے ( یہ ) عالم ہے اور تو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ کہا جائے : یہ قاری ہے ، وہ کہا گیا ، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا ، اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا حتی کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا ۔ اور وہ آدمی جس پر اللہ نے وسعت کی اور ہر قسم کا مال عطا کیا ، اسے لایا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا ، وہ پہچان لے گا ۔ اللہ فرمائے گا : تم نے ان میں کیا کیا؟ کہے گا : میں نے کوئی راہ نہیں چھوڑی جس میں تمہیں پسند ہے کہ مال خرچ کیا جائے مگر ہر ایسی راہ میں خرچ کیا ۔ اللہ فرمائے گا : تم نے جھوٹ بولا ہے ، تم نے ( یہ سب ) اس لیے کیا تاکہ کہا جائے ، وہ سخی ہے ، ایسا ہی کہا گیا ، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا ، تو اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا ، پھر آگ میں ڈال دیا جائے گا ۔

Sahih Muslim 34:40sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ لَيَالِيَ خَيْبَرَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ وَقَعْنَا فِي الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ فَانْتَحَرْنَاهَا فَلَمَّا غَلَتْ بِهَا الْقُدُورُ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِ اكْفَئُوا الْقُدُورَ وَلاَ تَأْكُلُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا - قَالَ - فَقَالَ نَاسٌ إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ ‏.‏ وَقَالَ آخَرُونَ نَهَى عَنْهَا أَلْبَتَّةَ ‏.‏

Sulaiman Shaibini reported:I heard Abdullah b. Abu Aufa say: We were smitten with hunger during the nights of Khaibar. On the Day of Khaibar, we fell upon domestic asses and we slaughtered them, and when our earthen pots boiled with them, the announcer of Allah's Messenger (ﷺ) made an annoancement that the earthen pots should be turned over, and nothing should be eaten of the flesh of the domestic asses. Some of the people said that Allah's Messenger (ﷺ) had forbidden (the use of this flesh) for one-fifth (due to the State) has not been paid, while others said: He prohibited it for ever

عبدالواحد بن زیاد نے کہا : ہمیں سلیمانی شیبانی نے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : جنگ خیبر کی راتوں میں ہم بھوک کاشکار ہوگئے ۔ جب خیبر کی جنگ کا دن آیا تو ہم پالتو گدھوں پر ٹوٹ پڑے جب ہماری ہانڈیاں ان کے گوشت ابلنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کردیا کہ ہانڈیاں الٹ دو ، پالتو گدھوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ ۔ اس وقت بعض لوگوں ( صحابہ ) نے کہا کہ ان سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ ان کا خمس نہیں نکالا گیا اور بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قطعی طور پر منع کیا ہے ۔

A detailed scholarly analysis for this topic is not yet available. Get in touch to request one.

Related Topics