Sahih al-Bukhari 2:21sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ " تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ ".
Narrated 'Abdullah bin 'Amr: A person asked Allah's Messenger (ﷺ), "What (sort of) deeds in or (what qualities of) Islam are good?" He replied, "To feed (the poor) and greet those whom you know and those whom you don't know
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے ابوالخیر سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو کھانا کھلائے اور ہر شخص کو سلام کرے خواہ اس کو تو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔
Sahih al-Bukhari 2:25sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح. قَالَ وَحَدَّثَنِي بِشْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتِ {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ}.
Narrated 'Abdullah: When the following Verse was revealed: "It is those who believe and confuse not their belief with wrong (worshipping others besides Allah.)" (6:83), the companions of Allah's Messenger (ﷺ) asked, "Who is amongst us who had not done injustice (wrong)?" Allah revealed: "No doubt, joining others in worship with Allah is a great injustice (wrong) indeed
ہمارے سامنے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے (اسی حدیث کو) بشر نے بیان کیا، ان سے محمد نے، ان سے شعبہ نے، انہوں نے سلیمان سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب سورۃ الانعام کی یہ آیت اتری جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں گناہوں کی آمیزش نہیں کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو بہت ہی مشکل ہے۔ ہم میں کون ایسا ہے جس نے گناہ نہیں کیا۔ تب اللہ پاک نے سورۃ لقمان کی یہ آیت اتاری «إن الشرك لظلم عظيم» کہ بیشک شرک بڑا ظلم ہے۔
Sahih al-Bukhari 2:41sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ عَنِ الْمُرْجِئَةِ،، فَقَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ".
Narrated 'Abdullah: The Prophet (ﷺ) said, "Abusing a Muslim is Fusuq (an evil doing) and killing him is Kufr (disbelief)
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے زبید بن حارث سے، کہا میں نے ابووائل سے مرجیہ کے بارے میں پوچھا، (وہ کہتے ہیں گناہ سے آدمی فاسق نہیں ہوتا) انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینے سے آدمی فاسق ہو جاتا ہے اور مسلمان سے لڑنا کفر ہے۔
Sahih al-Bukhari 2:44sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سُفْيَانَ، أَنَّ هِرَقْلَ، قَالَ لَهُ سَأَلْتُكَ هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ، فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ، وَكَذَلِكَ الإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ. وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ، فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ، وَكَذَلِكَ الإِيمَانُ حِينَ تُخَالِطُ بَشَاشَتُهُ الْقُلُوبَ، لاَ يَسْخَطُهُ أَحَدٌ.
Narrated 'Abdullah bin 'Abbas: I was informed by Abu Sufyan that Heraclius said to him, "I asked you whether they (followers of Muhammad) were increasing or decreasing. You replied that they were increasing. And in fact, this is the way of true Faith till it is complete in all respects. I further asked you whether there was anybody, who, after embracing his (the Prophets) religion (Islam) became displeased and discarded it. You replied in the negative, and in fact, this is (a sign of) true faith. When its delight enters the heart and mixes with them completely, nobody can be displeased with it
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے صالح بن کیسان سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، ان کو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی، ان کو ابوسفیان بن حرب نے کہ ہرقل ( روم کے بادشاہ ) نے ان سے کہا۔ میں نے تم سے پوچھا تھا کہ اس رسول کے ماننے والے بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں۔ تو نے جواب میں بتلایا کہ وہ بڑھ رہے ہیں۔ ( ٹھیک ہے ) ایمان کا یہی حال رہتا ہے یہاں تک کہ وہ پورا ہو جائے اور میں نے تجھ سے پوچھا تھا کہ کوئی اس کے دین میں آ کر پھر اس کو برا جان کر پھر جاتا ہے؟ تو نے کہا۔ نہیں، اور ایمان کا یہی حال ہے۔ جب اس کی خوشی دل میں سما جاتی ہے تو پھر اس کو کوئی برا نہیں سمجھ سکتا۔
Sahih al-Bukhari 3:12sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُذَكِّرُ النَّاسَ فِي كُلِّ خَمِيسٍ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوَدِدْتُ أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ. قَالَ أَمَا إِنَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْ ذَلِكَ أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، وَإِنِّي أَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ كَمَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَخَوَّلُنَا بِهَا، مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا.
Narrated Abu Wail:`Abdullah used to give a religious talk to the people on every Thursday. Once a man said, "O Aba `Abdur-Rahman! (By Allah) I wish if you could preach us daily." He replied, "The only thing which prevents me from doing so, is that I hate to bore you, and no doubt I take care of you in preaching by selecting a suitable time just as the Prophet (ﷺ) used to do with us, for fear of making us bored
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ان سے جریر نے منصور کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابووائل سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ ( ابن مسعود ) رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کے دن لوگوں کو وعظ سنایا کرتے تھے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمٰن! میں چاہتا ہوں کہ تم ہمیں ہر روز وعظ سنایا کرو۔ انہوں نے فرمایا، تو سن لو کہ مجھے اس امر سے کوئی چیز مانع ہے تو یہ کہ میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ کہیں تم تنگ نہ ہو جاؤ اور میں وعظ میں تمہاری فرصت کا وقت تلاش کیا کرتا ہوں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس خیال سے کہ ہم کبیدہ خاطر نہ ہو جائیں، وعظ کے لیے ہمارے اوقات فرصت کا خیال رکھتے تھے۔
Sahih al-Bukhari 3:17sahih
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ضَمَّنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ ".
Narrated Ibn `Abbas:Once the Prophet (ﷺ) embraced me and said, "O Allah! Bestow on him the knowledge of the Book (Qur'an)
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث نے، ان سے خالد نے عکرمہ کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( سینے سے ) لگا لیا اور دعا دیتے ہوئے فرمایا کہ ”اے اللہ اسے علم کتاب ( قرآن ) عطا فرمائیو“۔
Sahih al-Bukhari 3:18sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى حِمَارٍ أَتَانٍ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الاِحْتِلاَمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِمِنًى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَىْ بَعْضِ الصَّفِّ وَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ، فَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يُنْكَرْ ذَلِكَ عَلَىَّ.
Narrated Ibn `Abbas:Once I came riding a she-ass and had (just) attained the age of puberty. Allah's Messenger (ﷺ) was offering the prayer at Mina. There was no wall in front of him and I passed in front of some of the row while they were offering their prayers. There I let the she-ass loose to graze and entered the row, and nobody objected to it
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ میں ( ایک مرتبہ ) گدھی پر سوار ہو کر چلا، اس زمانے میں، میں بلوغ کے قریب تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کے سامنے دیوار ( کی آڑ ) نہ تھی، تو میں بعض صفوں کے سامنے سے گزرا اور گدھی کو چھوڑ دیا۔ وہ چرنے لگی، جب کہ میں صف میں شامل ہو گیا ( مگر ) کسی نے مجھے اس بات پر ٹوکا نہیں۔
Sahih al-Bukhari 3:30sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ بِهَا. فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ أَرْضَعْتِنِي وَلاَ أَخْبَرْتِنِي. فَرَكِبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ ". فَفَارَقَهَا عُقْبَةُ، وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ.
Narrated `Abdullah bin Abi Mulaika:`Uqba bin Al-Harith said that he had married the daughter of Abi Ihab bin `Aziz. Later on a woman came to him and said, "I have suckled (nursed) `Uqba and the woman whom he married (his wife) at my breast." `Uqba said to her, "Neither I knew that you have suckled (nursed) me nor did you tell me." Then he rode over to see Allah's Messenger (ﷺ) at Medina, and asked him about it. Allah's Messenger (ﷺ) said, "How can you keep her as a wife when it has been said (that she is your foster-sister)?" Then `Uqba divorced her, and she married another man
ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہیں عبداللہ نے خبر دی، انہیں عمر بن سعید بن ابی حسین نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے عقبہ ابن الحارث کے واسطے سے نقل کیا کہ عقبہ نے ابواہاب بن عزیز کی لڑکی سے نکاح کیا تو ان کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے عقبہ کو اور جس سے اس کا نکاح ہوا ہے، اس کو دودھ پلایا ہے۔ نہ تو نے کبھی مجھے بتایا ہے۔ ( یہ سن کر ) عقبہ نے کہا، مجھے نہیں معلوم کہ تو نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ تو نے کبھی مجھے بتایا ہے۔ تب عقبہ سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کس طرح ( تم اس لڑکی سے رشتہ رکھو گے ) حالانکہ ( اس کے متعلق یہ ) کہا گیا تب عقبہ بن حارث نے اس لڑکی کو چھوڑ دیا اور اس نے دوسرا خاوند کر لیا۔
Sahih al-Bukhari 3:35sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ فَقَالَ مَنْ أَبِي فَقَالَ " أَبُوكَ حُذَافَةُ ". ثُمَّ أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ " سَلُونِي ". فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم نَبِيًّا، فَسَكَتَ.
Narrated Anas bin Malik:One day Allah's Messenger (ﷺ) came out (before the people) and `Abdullah bin Hudhafa stood up and asked (him) "Who is my father?" The Prophet (ﷺ) replied, "Your father is Hudhafa." The Prophet (ﷺ) told them repeatedly (in anger) to ask him anything they liked. `Umar knelt down before the Prophet (ﷺ) and said thrice, "We accept Allah as (our) Lord and Islam as (our) religion and Muhammad as (our) Prophet." After that the Prophet (ﷺ) became silent
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہیں انس بن مالک نے بتلایا کہ ( ایک دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو عبداللہ بن حذافہ کھڑے ہو کر پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حذافہ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باربار فرمایا کہ مجھ سے پوچھو، تو عمر رضی اللہ عنہ نے دو زانو ہو کر عرض کیا کہ ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں ( اور یہ جملہ ) تین مرتبہ ( دہرایا ) پھر ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔
Sahih al-Bukhari 3:67sahih
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، سُلَيْمَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَا أَنَا أَمْشِي، مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي خَرِبِ الْمَدِينَةِ، وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ مَعَهُ، فَمَرَّ بِنَفَرٍ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ تَسْأَلُوهُ لاَ يَجِيءُ فِيهِ بِشَىْءٍ تَكْرَهُونَهُ. فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَنَسْأَلَنَّهُ. فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، مَا الرُّوحُ فَسَكَتَ. فَقُلْتُ إِنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ. فَقُمْتُ، فَلَمَّا انْجَلَى عَنْهُ، قَالَ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتُيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً}. قَالَ الأَعْمَشُ هَكَذَا فِي قِرَاءَتِنَا.
Narrated `Abdullah:While I was going with the Prophet (ﷺ) through the ruins of Medina and he was reclining on a date-palm leaf stalk, some Jews passed by. Some of them said to the others: Ask him (the Prophet) about the spirit. Some of them said that they should not ask him that question as he might give a reply which would displease them. But some of them insisted on asking, and so one of them stood up and asked, "O Abul-Qasim ! What is the spirit?" The Prophet (ﷺ) remained quiet. I thought he was being inspired Divinely. So I stayed till that state of the Prophet (while being inspired) was over. The Prophet (ﷺ) then said, "And they ask you (O Muhammad) concerning the spirit --Say: The spirit -- its knowledge is with my Lord. And of knowledge you (mankind) have been given only a little
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، ان سے عبدالواحد نے، ان سے اعمش سلیمان بن مہران نے ابراہیم کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے علقمہ سے نقل کیا، انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے کھنڈرات میں چل رہا تھا اور آپ کھجور کی چھڑی پر سہارا دے کر چل رہے تھے، تو کچھ یہودیوں کا ( ادھر سے ) گزر ہوا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ سے روح کے بارے میں کچھ پوچھو، ان میں سے کسی نے کہا مت پوچھو، ایسا نہ ہو کہ وہ کوئی ایسی بات کہہ دیں جو تمہیں ناگوار ہو ( مگر ) ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم ضرور پوچھیں گے، پھر ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا، اے ابوالقاسم! روح کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار فرمائی، میں نے ( دل میں ) کہا کہ آپ پر وحی آ رہی ہے۔ اس لیے میں کھڑا ہو گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( وہ کیفیت ) دور ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( قرآن کی یہ آیت جو اس وقت نازل ہوئی تھی ) تلاوت فرمائی ” ( اے نبی! ) تم سے یہ لوگ روح کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ کہہ دو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔ اور تمہیں علم کا بہت تھوڑا حصہ دیا گیا ہے۔“ ( اس لیے تم روح کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے ) اعمش کہتے ہیں کہ ہماری قرآت میں «وما اوتوا» ہے۔ ( «وما اوتيتم» ) نہیں۔
Sahih al-Bukhari 4:4sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ صَلَّى ـ وَرُبَّمَا قَالَ اضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ ـ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى. ثُمَّ حَدَّثَنَا بِهِ سُفْيَانُ مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ لَيْلَةً، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا ـ يُخَفِّفُهُ عَمْرٌو وَيُقَلِّلُهُ ـ وَقَامَ يُصَلِّي فَتَوَضَّأْتُ نَحْوًا مِمَّا تَوَضَّأَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ـ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ عَنْ شِمَالِهِ ـ فَحَوَّلَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ صَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ، فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ الْمُنَادِي فَآذَنَهُ بِالصَّلاَةِ، فَقَامَ مَعَهُ إِلَى الصَّلاَةِ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. قُلْنَا لِعَمْرٍو إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَنَامُ عَيْنُهُ وَلاَ يَنَامُ قَلْبُهُ. قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ رُؤْيَا الأَنْبِيَاءِ وَحْىٌ، ثُمَّ قَرَأَ {إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ}.
Narrated Kuraib:Ibn `Abbas said, "The Prophet (ﷺ) slept till he snored and then prayed (or probably lay till his breath sounds were heard and then got up and prayed)." Ibn `Abbas added: "I stayed overnight in the house of my aunt, Maimuna, the Prophet (ﷺ) slept for a part of the night, (See Fath-al-Bari page 249, Vol. 1), and late in the night, he got up and performed ablution from a hanging water skin, a light (perfect) ablution and stood up for the prayer. I, too, performed a similar ablution, then I went and stood on his left. He drew me to his right and prayed as much as Allah wished, and again lay and slept till his breath sounds were heard. Later on the Mu'adh-dhin (call maker for the prayer) came to him and informed him that it was time for Prayer. The Prophet (ﷺ) went with him for the prayer without performing a new ablution." (Sufyan said to `Amr that some people said, "The eyes of Allah's Messenger (ﷺ) sleep but his heart does not sleep." `Amr replied, "I heard `Ubaid bin `Umar saying that the dreams of Prophets were Divine Inspiration, and then he recited the verse: 'I (Abraham) see in a dream, (O my son) that I offer you in sacrifice (to Allah)." (37.102) (See Hadith No)
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے عمرو کے واسطے سے نقل کیا، انہیں کریب نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور کبھی ( راوی نے یوں ) کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے۔ پھر خراٹے لینے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اس کے بعد نماز پڑھی۔ پھر سفیان نے ہم سے دوسری مرتبہ یہی حدیث بیان کی عمرو سے، انہوں نے کریب سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ وہ کہتے تھے کہ ( ایک مرتبہ ) میں نے اپنی خالہ ( ام المؤمنین ) میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری، تو ( میں نے دیکھا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے۔ جب تھوڑی رات باقی رہ گئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے سے ہلکا سا وضو کیا۔ عمرو اس کا ہلکا پن اور معمولی ہونا بیان کرتے تھے اور آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، تو میں نے بھی اسی طرح وضو کیا۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ پھر آ کر آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا اور کبھی سفیان نے «عن يساره» کی بجائے «عن شماله» کا لفظ کہا ( مطلب دونوں کا ایک ہی ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پھیر لیا اور اپنی داہنی جانب کر لیا۔ پھر نماز پڑھی جس قدر اللہ کو منظور تھا۔ پھر آپ لیٹ گئے اور سو گئے۔ حتیٰ کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی۔ پھر آپ کی خدمت میں مؤذن حاضر ہوا اور اس نے آپ کو نماز کی اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ ( سفیان کہتے ہیں کہ ) ہم نے عمرو سے کہا، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی تھیں، دل نہیں سوتا تھا۔ عمرو نے کہا میں نے عبید بن عمیر سے سنا، وہ کہتے تھے کہ انبیاء علیہم السلام کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔ پھر ( قرآن کی یہ ) آیت پڑھی۔ ”میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔“
Sahih al-Bukhari 4:6sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ بِلاَلٍ ـ يَعْنِي سُلَيْمَانَ ـ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، فَمَضْمَضَ بِهَا وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، فَجَعَلَ بِهَا هَكَذَا، أَضَافَهَا إِلَى يَدِهِ الأُخْرَى، فَغَسَلَ بِهِمَا وَجْهَهُ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَرَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى حَتَّى غَسَلَهَا، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً أُخْرَى، فَغَسَلَ بِهَا رِجْلَهُ ـ يَعْنِي الْيُسْرَى ـ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ.
Narrated `Ata' bin Yasar:Ibn `Abbas performed ablution and washed his face (in the following way): He ladled out a handful of water, rinsed his mouth and washed his nose with it by putting in water and then blowing it out. He then, took another handful (of water) and did like this (gesturing) joining both hands, and washed his face, took another handful of water and washed his right forearm. He again took another handful of water and washed his left forearm, and passed wet hands over his head and took another handful of water and poured it over his right foot (up to his ankles) and washed it thoroughly and similarly took another handful of water and washed thoroughly his left foot (up to the ankles) and said, "I saw Allah's Messenger (ﷺ) performing ablution in this way
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے روایت کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابوسلمہ الخزاعی منصور بن سلمہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابن بلال یعنی سلیمان نے زید بن اسلم کے واسطے سے خبر دی، انہوں نے عطاء بن یسار سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ ( ایک مرتبہ ) انہوں نے ( یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ) وضو کیا تو اپنا چہرہ دھویا ( اس طرح کہ پہلے ) پانی کے ایک چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی دیا۔ پھر پانی کا ایک اور چلو لیا، پھر اس کو اس طرح کیا ( یعنی ) دوسرے ہاتھ کو ملایا۔ پھر اس سے اپنا چہرہ دھویا۔ پھر پانی کا دوسرا چلو لیا اور اس سے اپنا داہنا ہاتھ دھویا۔ پھر پانی کا ایک اور چلو لے کر اس سے اپنا بایاں ہاتھ دھویا۔ اس کے بعد اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر پانی کا چلو لے کر داہنے پاؤں پر ڈالا اور اسے دھویا۔ پھر دوسرے چلو سے اپنا پاؤں دھویا۔ یعنی بایاں پاؤں اس کے بعد کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
Sahih al-Bukhari 4:22sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ وَلَكِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ أَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْغَائِطَ، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ، فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ، وَالْتَمَسْتُ الثَّالِثَ فَلَمْ أَجِدْهُ، فَأَخَذْتُ رَوْثَةً، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ " هَذَا رِكْسٌ ". وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ.
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) went out to answer the call of nature and asked me to bring three stones. I found two stones and searched for the third but could not find it. So I took a dried piece of dung and brought it to him. He took the two stones and threw away the dung and said, "This is a filthy thing
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے ابواسحاق کے واسطے سے نقل کیا، ابواسحاق کہتے ہیں کہ اس حدیث کو ابوعبیدہ نے ذکر نہیں کیا۔ لیکن عبدالرحمٰن بن الاسود نے اپنے باپ سے ذکر کیا، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رفع حاجت کے لیے گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ میں تین پتھر تلاش کر کے آپ کے پاس لاؤں۔ لیکن مجھے دو پتھر ملے۔ تیسرا ڈھونڈا مگر مل نہ سکا۔ تو میں نے خشک گوبر اٹھا لیا۔ اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر ( تو ) لے لیے ( مگر ) گوبر پھینک دیا اور فرمایا یہ خود ناپاک ہے۔ ( اور یہ حدیث ) ابراہم بن یوسف نے اپنے باپ سے بیان کی۔ انہوں نے ابواسحاق سے سنا، ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا۔
Sahih al-Bukhari 4:40sahih
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَتِ الْكِلاَبُ تَبُولُ وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ.
And narrated Hamza bin 'Abdullah:My father said. "During the lifetime of Allah's Apostle, the dogs used to urinate, and pass through the mosques (come and go), nevertheless they never used to sprinkle water on it (urine of the dog)
احمد بن شبیب نے کہا کہ ہم سے میرے والد نے یونس کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابن شہاب سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے کہا مجھ سے حمزہ بن عبداللہ نے اپنے باپ (یعنی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے واسطے سے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتے مسجد میں آتے جاتے تھے لیکن لوگ ان جگہوں پر پانی نہیں چھڑکتے تھے۔
Sahih al-Bukhari 4:59sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّئُونَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَمِيعًا.
Narrated 'Abdullah bin 'Umar:"During the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) men and women used to perform ablution together
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو مالک نے نافع سے خبر دی، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورت اور مرد سب ایک ساتھ ( ایک ہی برتن سے ) وضو کیا کرتے تھے۔ ( یعنی وہ مرد اور عورتیں جو ایک دوسرے کے محرم ہوتے ) ۔
Sahih al-Bukhari 4:77sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، وَقُتَيْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَرِبَ لَبَنًا، فَمَضْمَضَ وَقَالَ " إِنَّ لَهُ دَسَمًا ". تَابَعَهُ يُونُسُ وَصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) drank milk, rinsed his mouth and said, "It has fat
ہم سے یحییٰ بن بکیر اور قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، وہ عقیل سے، وہ ابن شہاب سے، وہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، پھر کلی کی اور فرمایا اس میں چکنائی ہوتی ہے۔ اس حدیث میں عقیل کی یونس اور صالح بن کیسان نے زہری سے متابعت کی ہے۔
Sahih al-Bukhari 4:106sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ ح قَالَ وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ، وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ، إِذْ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَيُّكُمْ يَجِيءُ بِسَلَى جَزُورِ بَنِي فُلاَنٍ فَيَضَعُهُ عَلَى ظَهْرِ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ فَانْبَعَثَ أَشْقَى الْقَوْمِ فَجَاءَ بِهِ، فَنَظَرَ حَتَّى إِذَا سَجَدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَضَعَهُ عَلَى ظَهْرِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَأَنَا أَنْظُرُ، لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا، لَوْ كَانَ لِي مَنْعَةٌ. قَالَ فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ وَيُحِيلُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ لاَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، حَتَّى جَاءَتْهُ فَاطِمَةُ، فَطَرَحَتْ عَنْ ظَهْرِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ". ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ إِذْ دَعَا عَلَيْهِمْ ـ قَالَ وَكَانُوا يُرَوْنَ أَنَّ الدَّعْوَةَ فِي ذَلِكَ الْبَلَدِ مُسْتَجَابَةٌ ـ ثُمَّ سَمَّى " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ، وَعَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ". وَعَدَّ السَّابِعَ فَلَمْ يَحْفَظْهُ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ عَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَرْعَى فِي الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ.
Narrated `Abdullah:While Allah's Messenger (ﷺ) was prostrating (as stated below). Narrated `Abdullah bin Mas`ud: Once the Prophet (ﷺ) was offering prayers at the Ka`ba. Abu Jahl was sitting with some of his companions. One of them said to the others, "Who amongst you will bring the Abdominal contents (intestines, etc.) of a camel of Bani so and so and put it on the back of Muhammad, when he prostrates?" The most unfortunate of them got up and brought it. He waited till the Prophet (ﷺ) prostrated and then placed it on his back between his shoulders. I was watching but could not do any thing. I wish I had some people with me to hold out against them. They started laughing and falling on one another. Allah's Messenger (ﷺ) was in prostration and he did not lift his head up till Fatima (Prophet's daughter) came and threw that (camel's Abdominal contents) away from his back. He raised his head and said thrice, "O Allah! Punish Quraish." So it was hard for Abu Jahl and his companions when the Prophet invoked Allah against them as they had a conviction that the prayers and invocations were accepted in this city (Mecca). The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! Punish Abu Jahl, `Utba bin Rabi`a, Shaiba bin Rabi`a, Al-Walid bin `Utba, Umaiya bin Khalaf, and `Uqba bin Al Mu'it [??] (and he mentioned the seventh whose name I cannot recall). By Allah in Whose Hands my life is, I saw the dead bodies of those persons who were counted by Allah's Messenger (ﷺ) in the Qalib (one of the wells) of Badr
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا مجھے میرے باپ (عثمان) نے شعبہ سے خبر دی، انہوں نے ابواسحاق سے، انہوں نے عمرو بن میمون سے، انہوں نے عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ شریف میں سجدہ میں تھے۔ ( ایک دوسری سند سے ) ہم سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف نے اپنے باپ کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں۔ ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے ان سے حدیث بیان کی کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے نزدیک نماز پڑھ رہے تھے اور ابوجہل اور اس کے ساتھی ( بھی وہیں ) بیٹھے ہوئے تھے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ تم میں سے کوئی شخص ہے جو قبیلے کی ( جو ) اونٹنی ذبح ہوئی ہے ( اس کی ) اوجھڑی اٹھا لائے اور ( لا کر ) جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جائیں تو ان کی پیٹھ پر رکھ دے۔ یہ سن کر ان میں سے ایک سب سے زیادہ بدبخت ( آدمی ) اٹھا اور وہ اوجھڑی لے کر آیا اور دیکھتا رہا جب آپ نے سجدہ کیا تو اس نے اس اوجھڑی کو آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا ( عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں ) میں یہ ( سب کچھ ) دیکھ رہا تھا مگر کچھ نہ کر سکتا تھا۔ کاش! ( اس وقت ) مجھے روکنے کی طاقت ہوتی۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے اور ( ہنسی کے مارے ) لوٹ پوٹ ہونے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں تھے ( بوجھ کی وجہ سے ) اپنا سر نہیں اٹھا سکتے تھے۔ یہاں تک کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور وہ بوجھ آپ کی پیٹھ سے اتار کر پھینکا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا پھر تین بار فرمایا۔ یا اللہ! تو قریش کو پکڑ لے، یہ ( بات ) ان کافروں پر بہت بھاری ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بددعا دی۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ وہ سمجھتے تھے کہ اس شہر ( مکہ ) میں جو دعا کی جائے وہ ضرور قبول ہوتی ہے پھر آپ نے ( ان میں سے ) ہر ایک کا ( جدا جدا ) نام لیا کہ اے اللہ! ان ظالموں کو ضرور ہلاک کر دے۔ ابوجہل، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کو۔ ساتویں ( آدمی ) کا نام ( بھی ) لیا مگر مجھے یاد نہیں رہا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ جن لوگوں کے ( بددعا کرتے وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لیے تھے، میں نے ان کی ( لاشوں ) کو بدر کے کنویں میں پڑا ہوا دیکھا۔
Sahih al-Bukhari 5:6sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَمَيْمُونَةَ كَانَا يَغْتَسِلاَنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ كَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ يَقُولُ أَخِيرًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى أَبُو نُعَيْمٍ.
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) and Maimuna used to take a bath from a single pot
ہم سے ابونعیم نے روایت کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو کے واسطہ سے بیان کیا، وہ جابر بن زید سے، وہ عبداللہ بن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور میمونہ رضی اللہ عنہا ایک برتن میں غسل کر لیتے تھے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ ابن عیینہ اخیر عمر میں اس حدیث کو یوں روایت کرتے تھے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انہوں نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے اور صحیح وہی روایت ہے جو ابونعیم نے کی ہے۔
Sahih al-Bukhari 5:41sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ اسْتَفْتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهْوَ جُنُبٌ قَالَ " نَعَمْ، إِذَا تَوَضَّأَ ".
Narrated `Abdullah:`Umar asked the Prophet (ﷺ) "Can anyone of us sleep while he is Junub?" He replied, "Yes, if he performs ablution
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے نافع سے، وہ عبداللہ بن عمر سے، کہا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا ہم جنابت کی حالت میں سو سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں لیکن وضو کر کے۔
Sahih al-Bukhari 6:34sahih
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رُخِّصَ لِلْحَائِضِ أَنْ تَنْفِرَ، إِذَا حَاضَتْ. وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ فِي أَوَّلِ أَمْرِهِ إِنَّهَا لاَ تَنْفِرُ. ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ تَنْفِرُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ لَهُنَّ.
Narrated Ibn `Abbas:A woman is allowed to leave (go back home) if she gets menses (after Tawaf-Al-Ifada). Ibn `Umar formerly used to say that she should not leave but later on I heard him saying, "She may leave, since Allah's Messenger (ﷺ) gave them the permission to leave (after Tawaf-Al-Ifada)
Sahih al-Bukhari 7:13sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى أَرَأَيْتَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِذَا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدْ، مَاءً كَيْفَ يَصْنَعُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ يُصَلِّي حَتَّى يَجِدَ الْمَاءَ. فَقَالَ أَبُو مُوسَى فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِقَوْلِ عَمَّارٍ حِينَ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " كَانَ يَكْفِيكَ " قَالَ أَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِذَلِكَ. فَقَالَ أَبُو مُوسَى فَدَعْنَا مِنْ قَوْلِ عَمَّارٍ، كَيْفَ تَصْنَعُ بِهَذِهِ الآيَةِ فَمَا دَرَى عَبْدُ اللَّهِ مَا يَقُولُ فَقَالَ إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذَا لأَوْشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَى أَحَدِهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَدَعَهُ وَيَتَيَمَّمَ. فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ فَإِنَّمَا كَرِهَ عَبْدُ اللَّهِ لِهَذَا قَالَ نَعَمْ.
Narrated Shaqiq bin Salama:I was with `Abdullah and Abu Musa; the latter asked the former, "O Abu `Abdur-Rahman! What is your opinion if somebody becomes Junub and no water is available?" `Abdullah replied, "Do not pray till water is found." Abu Musa said, "What do you say about the statement of `Ammar (who was ordered by the Prophet (ﷺ) to perform Tayammum). The Prophet (ﷺ) said to him: "Perform Tayammum and that would be sufficient." `Abdullah replied, "Don't you see that `Umar was not satisfied by `Ammar's statement?" Abu- Musa said, "All right, leave `Ammar's statement, but what will you say about this verse (of Tayammum)?" `Abdullah kept quiet and then said, "If we allowed it, then they would probably perform Tayammum even if water was available, if one of them found it (water) cold." The narrator added, "I said to Shaqiq, "Then did `Abdullah dislike to perform Tayammum because of this?" He replied, "Yes
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا کہ کہا ہم سے میرے والد حفص بن غیاث نے، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شقیق بن سلمہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) اور ابوموسیٰ اشعری کی خدمت میں تھا، ابوموسیٰ نے پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کسی کو غسل کی حاجت ہو اور پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے۔ عبداللہ نے فرمایا کہ اسے نماز نہ پڑھنی چاہیے۔ جب تک اسے پانی نہ مل جائے۔ ابوموسیٰ نے کہا کہ پھر عمار کی اس روایت کا کیا ہو گا جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تھا کہ تمہیں صرف ( ہاتھ اور منہ کا تیمم ) کافی تھا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تم عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھتے کہ وہ عمار کی اس بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ پھر ابوموسیٰ نے کہا کہ اچھا عمار کی بات کو چھوڑو لیکن اس آیت کا کیا جواب دو گے ( جس میں جنابت میں تیمم کرنے کی واضح اجازت موجود ہے ) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ صرف یہ کہا کہ اگر ہم اس کی بھی لوگوں کو اجازت دے دیں تو ان کا حال یہ ہو جائے گا کہ اگر کسی کو پانی ٹھنڈا معلوم ہوا تو اسے چھوڑ دیا کرے گا۔ اور تیمم کر لیا کرے گا۔ ( اعمش کہتے ہیں کہ ) میں نے شقیق سے کہا کہ گویا عبداللہ نے اس وجہ سے یہ صورت ناپسند کی تھی۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔
Sahih al-Bukhari 7:14sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى لَوْ أَنَّ رَجُلاً أَجْنَبَ، فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا، أَمَا كَانَ يَتَيَمَّمُ وَيُصَلِّي فَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ {فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذَا لأَوْشَكُوا إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا الصَّعِيدَ. قُلْتُ وَإِنَّمَا كَرِهْتُمْ هَذَا لِذَا قَالَ نَعَمْ. فَقَالَ أَبُو مُوسَى أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ، فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ هَكَذَا ". فَضَرَبَ بِكَفِّهِ ضَرْبَةً عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ نَفَضَهَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهَا ظَهْرَ كَفِّهِ بِشِمَالِهِ، أَوْ ظَهْرَ شِمَالِهِ بِكَفِّهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَفَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ وَزَادَ يَعْلَى عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى فَقَالَ أَبُو مُوسَى أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَنِي أَنَا وَأَنْتَ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ بِالصَّعِيدِ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا ". وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ وَاحِدَةً
Narrated Al-A`mash:Shaqiq said, "While I was sitting with `Abdullah and Abu Musa Al-Ash`ari, the latter asked the former, 'If a person becomes Junub and does not find water for one month, can he perform Tayammum and offer his prayer?' (He replied in the negative). Abu Musa said, 'What do you say about this verse from Sura "Al-Ma'ida": When you do not find water then perform Tayammum with clean earth? `Abdullah replied, 'If we allowed it then they would probably perform Tayammum with clean earth even if water were available but cold.' I said to Shaqiq, 'You then disliked to perform Tayammum because of this?' Shaqiq said, 'Yes.' (Shaqiq added), "Abu Musa said, 'Haven't you heard the statement of `Ammar to `Umar? He said: I was sent out by Allah's Messenger (ﷺ) for some job and I became Junub and could not find water so I rolled myself over the dust (clean earth) like an animal does, and when I told the Prophet (ﷺ) of that he said, 'Like this would have been sufficient.' The Prophet (ﷺ) (saying so) lightly stroked the earth with his hand once and blew it off, then passed his (left) hand over the back of his right hand or his (right) hand over the back of his left hand and then passed them over his face.' So `Abdullah said to Abu- Musa, 'Don't you know that `Umar was not satisfied with `Ammar's statement?' " Narrated Shaqiq: While I was with `Abdullah and Abu Musa, the latter said to the former, "Haven't you heard the statement of `Ammar to `Umar? He said, "Allah's Messenger (ﷺ) sent you and me out and I became Junub and rolled myself in the dust (clean earth) (for Tayammum). When we came to Allah's Apostle I told him about it and he said, 'This would have been sufficient,' passing his hands over his face and the backs of his hands once only
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہمیں ابومعاویہ نے خبر دی اعمش سے، انہوں نے شقیق سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا سے کہا کہ اگر ایک شخص کو غسل کی حاجت ہو اور مہینہ بھر پانی نہ پائے تو کیا وہ تیمم کر کے نماز نہ پڑھے؟ شقیق کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ وہ تیمم نہ کرے اگرچہ وہ ایک مہینہ تک پانی نہ پائے ( اور نماز موقوف رکھے ) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ پھر سورۃ المائدہ کی اس آیت کا کیا مطلب ہو گا ”اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی پر تیمم کر لو۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما بولے کہ اگر لوگوں کو اس کی اجازت دے دی جائے تو جلد ہی یہ حال ہو جائے گا کہ جب ان کو پانی ٹھنڈا معلوم ہو گا تو وہ مٹی سے تیمم ہی کر لیں گے۔ اعمش نے کہا میں نے شقیق سے کہا تو تم نے جنبی کے لیے تیمم اس لیے برا جانا۔ انہوں نے کہا ہاں۔ پھر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا آپ کو عمار کا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ قول معلوم نہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے لیے بھیجا تھا۔ سفر میں مجھے غسل کی ضرورت ہو گئی، لیکن پانی نہ ملا۔ اس لیے میں مٹی میں جانور کی طرح لوٹ پوٹ لیا۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لیے صرف اتنا کرنا کافی تھا۔ اور آپ نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر ایک مرتبہ مارا پھر ان کو جھاڑ کر بائیں ہاتھ سے داہنے کی پشت کو مل لیا یا بائیں ہاتھ کا داہنے ہاتھ سے مسح کیا۔ پھر دونوں ہاتھوں سے چہرے کا مسح کیا۔ عبداللہ نے اس کا جواب دیا کہ آپ عمر کو نہیں دیکھتے کہ انہوں نے عمار کی بات پر قناعت نہیں کی تھی۔ اور یعلیٰ ابن عبید نے اعمش کے واسطہ سے شقیق سے روایت میں یہ زیادتی کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں عبداللہ اور ابوموسیٰ کی خدمت میں تھا اور ابوموسیٰ نے فرمایا تھا کہ آپ نے عمر سے عمار کا یہ قول نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور آپ کو بھیجا۔ پس مجھے غسل کی حاجت ہو گئی اور میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا۔ پھر میں رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صورت حال کے متعلق ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں صرف اتنا ہی کافی تھا اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا ایک ہی مرتبہ مسح کیا۔
Sahih al-Bukhari 8:42sahih
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ نَحْوَهُ.
Narrated 'Abdullah bin Malik: Ibn Buhaina, "When the Prophet (ﷺ) prayed, he used to separate his arms from his body so widely that the whiteness of his armpits was visible
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا مجھ سے حدیث بیان کی بکر بن مضر نے جعفر سے، وہ ابن ہرمز سے، انہوں نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو اپنے بازوؤں کے درمیان اس قدر کشادگی کر دیتے کہ دونوں بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی تھی اور لیث نے یوں کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے اسی طرح حدیث بیان کی۔
Sahih al-Bukhari 8:52sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لاَ أَدْرِي زَادَ أَوْ نَقَصَ ـ فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ قَالَ " وَمَا ذَاكَ ". قَالُوا صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا. فَثَنَى رِجْلَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَلَمَّا أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَالَ " إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ لَنَبَّأْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَلْيَتَحَرَّى الصَّوَابَ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ يُسَلِّمْ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ".
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) prayed (and the sub-narrator Ibrahim said, "I do not know whether he prayed more or less than usual"), and when he had finished the prayers he was asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Has there been any change in the prayers?" He said, "What is it?' The people said, "You have prayed so much and so much." So the Prophet (ﷺ) bent his legs, faced the Qibla and performed two prostration's (of Sahu) and finished his prayers with Taslim (by turning his face to right and left saying: 'As-Salamu `Alaikum- Warahmat-ullah'). When he turned his face to us he said, "If there had been anything changed in the prayer, surely I would have informed you but I am a human being like you and liable to forget like you. So if I forget remind me and if anyone of you is doubtful about his prayer, he should follow what he thinks to be correct and complete his prayer accordingly and finish it and do two prostrations (of Sahu)
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے، کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ ابراہیم نے کہا مجھے نہیں معلوم کہ نماز میں زیادتی ہوئی یا کمی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ! کیا نماز میں کوئی نیا حکم آیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاؤں پھیرے اور قبلہ کی طرف منہ کر لیا اور ( سہو کے ) دو سجدے کئے اور سلام پھیرا۔ پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اگر نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہوتا تو میں تمہیں پہلے ہی ضرور کہہ دیتا لیکن میں تو تمہارے ہی جیسا آدمی ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔ اس لیے جب میں بھول جایا کروں تو تم مجھے یاد دلایا کرو اور اگر کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو اس وقت ٹھیک بات سوچ لے اور اسی کے مطابق نماز پوری کرے پھر سلام پھیر کر دو سجدے ( سہو کے ) کر لے۔
Sahih al-Bukhari 8:127sahih
وَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ، مِنْ أَبِي فَلَمْ أَحْفَظْهُ، فَقَوَّمَهُ لِي وَاقِدٌ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ، يَقُولُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، كَيْفَ بِكَ إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ بِهَذَا ".
Narrated `Abdullah:That Allah's Messenger (ﷺ) said, "O `Abdullah bin `Amr! What will be your condition when you will be left with the sediments of (worst) people?" (They will be in conflict with each other)
اور عاصم بن علی نے کہا، ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا کہ میں نے اس حدیث کو اپنے باپ محمد بن زید سے سنا۔ لیکن مجھے حدیث یاد نہیں رہی تھی۔ تو میرے بھائی واقد نے اس کو درستی سے اپنے باپ سے روایت کر کے مجھے بتایا۔ وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمرو تمہارا کیا حال ہو گا جب تم برے لوگوں میں رہ جاؤ گے اس طرح ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں کر کے دکھلائیں ) ۔
Sahih al-Bukhari 8:145sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُرْكَزُ لَهُ الْحَرْبَةُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا.
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) used to get a Harba planted in front of him (as a Sutra) and pray behind it
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ کے واسطے سے بیان کیا، کہا مجھے نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے برچھا گاڑ دیا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف نماز پڑھتے تھے۔
Sahih al-Bukhari 8:153sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، كَانَ إِذَا دَخَلَ الْكَعْبَةَ مَشَى قِبَلَ وَجْهِهِ حِينَ يَدْخُلُ، وَجَعَلَ الْبَابَ قِبَلَ ظَهْرِهِ، فَمَشَى حَتَّى يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ الَّذِي قِبَلَ وَجْهِهِ قَرِيبًا مِنْ ثَلاَثَةِ أَذْرُعٍ، صَلَّى يَتَوَخَّى الْمَكَانَ الَّذِي أَخْبَرَهُ بِهِ بِلاَلٌ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِيهِ. قَالَ وَلَيْسَ عَلَى أَحَدِنَا بَأْسٌ إِنْ صَلَّى فِي أَىِّ نَوَاحِي الْبَيْتِ شَاءَ.
Narrated Nafi':Whenever 'Abdullah entered the Ka'bah, he used to go ahead leaving the door of the Ka'bah behind him. He would proceed on till the remaining distance between him and the opposite wall was about three cubits. Then he would offer prayer there where the Prophet (ﷺ) had offered Salat, as Bilal informed me. Ibn 'Umar said, "It does not matter for any of us to offer prayers at any place inside the Ka'bah
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوضمرہ انس بن عیاض نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا انہوں نے نافع سے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کعبہ میں داخل ہوتے تو سیدھے منہ کے سامنے چلے جاتے۔ دروازہ پیٹھ کی طرف ہوتا اور آپ آگے بڑھتے جب ان کے اور سامنے کی دیوار کا فاصلہ قریب تین ہاتھ کے رہ جاتا تو نماز پڑھتے۔ اس طرح آپ اس جگہ نماز پڑھنا چاہتے تھے جس کے متعلق بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کو بتایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہیں نماز پڑھی تھی۔ آپ فرماتے تھے کہ بیت اللہ میں جس کونے میں ہم چاہیں نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
Sahih al-Bukhari 9:2sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ـ هُوَ ابْنُ عَبَّادٍ ـ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِنَّا مِنْ هَذَا الْحَىِّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَلَسْنَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلاَّ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِشَىْءٍ نَأْخُذْهُ عَنْكَ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا. فَقَالَ " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الإِيمَانِ بِاللَّهِ ـ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا إِلَىَّ خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُقَيَّرِ وَالنَّقِيرِ ".
Narrated Ibn `Abbas:"Once a delegation of `Abdul Qais came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "We belong to such and such branch of the tribe of Rabi'ah and we can only come to you in the sacred months. Order us to do something good so that we may take it from you and also invite to it those whom we have left behind (at home)." So he said, "I order you to do four things and forbid you from four things: To believe in Allah" - and then he explained it to them "to testify that none has the right to be worshipped but Allah and that I am Allah's Messenger (ﷺ), to establish the prayers (at the stated times), to pay the Zakat (obligatory charity), to hand me the Khumus (fifth) if you acquire spoils of war. And I forbid from (using) Dubba, Hantam, Muqaiyyar, and Naqir (all these were utensils used for the preparation of alcoholic drinks)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عباد بن عباد بصریٰ نے، اور یہ عباد کے لڑکے ہیں، ابوجمرہ (نصر بن عمران) کے ذریعہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ ہم اس ربیعہ قبیلہ سے ہیں اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسی بات کا ہمیں حکم دیجیئے، جسے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھ لیں اور اپنے پیچھے رہنے والے دوسرے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دے سکیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں، پہلے اللہ پر ایمان لانے کا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اور دوسرے نماز قائم کرنے کا، تیسرے زکوٰۃ دینے کا، اور چوتھے جو مال تمہیں غنیمت میں ملے، اس میں سے پانچواں حصہ ادا کرنے کا اور تمہیں میں تونبڑی حنتم، قسار اور نقیر کے استعمال سے روکتا ہوں۔ ( نوٹ: یہ تمام برتن شراب بنانے کے لیے استعمال ہوتے تھے ) ۔
Sahih al-Bukhari 9:6sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، يَقُولُ حَدَّثَنَا صَاحِبُ، هَذِهِ الدَّارِ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ " الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا ". قَالَ ثُمَّ أَىُّ قَالَ " ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ". قَالَ ثُمَّ أَىُّ قَالَ " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي.
Narrated `Abdullah:I asked the Prophet (ﷺ) "Which deed is the dearest to Allah?" He replied, "To offer the prayers at their early stated fixed times." I asked, "What is the next (in goodness)?" He replied, "To be good and dutiful to your parents" I again asked, "What is the next (in goodness)?" He replied, 'To participate in Jihad (religious fighting) in Allah's cause." `Abdullah added, "I asked only that much and if I had asked more, the Prophet (ﷺ) would have told me more
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے کہا کہ مجھے ولید بن عیزار کوفی نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوعمر و شیبانی سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے اس گھر کے مالک سے سنا، (آپ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کر رہے تھے) انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا، پھر پوچھا، اس کے بعد، فرمایا والدین کے ساتھ نیک معاملہ رکھنا۔ پوچھا اس کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تفصیل بتائی اور اگر میں اور سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور زیادہ بھی بتلاتے۔ ( لیکن میں نے بطور ادب خاموشی اختیار کی ) ۔
Sahih al-Bukhari 9:20sahih
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ـ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ـ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِالْمَدِينَةِ سَبْعًا وَثَمَانِيًا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ. فَقَالَ أَيُّوبُ لَعَلَّهُ فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ. قَالَ عَسَى.
Narrated Ibn `Abbas:"The Prophet (ﷺ) prayed eight rak`at for the Zuhr and `Asr, and seven for the Maghrib and `Isha prayers in Medina." Aiyub said, "Perhaps those were rainy nights." Anas said, "May be
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا عمرو بن دینار سے۔ انہوں نے جابر بن زید سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں رہ کر سات رکعات ( ایک ساتھ ) اور آٹھ رکعات ( ایک ساتھ ) پڑھیں۔ ظہر اور عصر ( کی آٹھ رکعات ) اور مغرب اور عشاء ( کی سات رکعات ) ایوب سختیانی نے جابر بن زید سے پوچھا شاید برسات کا موسم رہا ہو۔ جابر بن زید نے جواب دیا کہ غالباً ایسا ہی ہو گا۔
Sahih al-Bukhari 9:34sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّمَا بَقَاؤُكُمْ فِيمَا سَلَفَ قَبْلَكُمْ مِنَ الأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلاَةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ، أُوتِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ عَجَزُوا، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، ثُمَّ أُوتِيَ أَهْلُ الإِنْجِيلِ الإِنْجِيلَ فَعَمِلُوا إِلَى صَلاَةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ عَجَزُوا، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، ثُمَّ أُوتِينَا الْقُرْآنَ فَعَمِلْنَا إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ، فَأُعْطِينَا قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، فَقَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ أَىْ رَبَّنَا أَعْطَيْتَ هَؤُلاَءِ قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، وَأَعْطَيْتَنَا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، وَنَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلاً، قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ مِنْ شَىْءٍ قَالُوا لاَ، قَالَ فَهْوَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ ".
Narrated Salim bin `Abdullah:My father said, "I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'The period of your stay as compared to the previous nations is like the period equal to the time between the `Asr prayer and sunset. The people of the Torah were given the Torah and they acted (upon it) till midday then they were exhausted and were given one Qirat (of gold) each. And then the people of the Gospel were given the Gospel and they acted (upon it) till the `Asr prayer then they were exhausted and were given one Qirat each. And then we were given the Qur'an and we acted (upon it) till sunset and we were given two Qirats each. On that the people of both the scriptures said, 'O our Lord! You have given them two Qirats and given us one Qirat, though we have worked more than they.' Allah said, 'Have I usurped some of your right?' They said, 'No.' Allah said: "That is my blessing I bestow upon whomsoever I wish
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تم سے پہلے کی امتوں کے مقابلہ میں تمہاری زندگی صرف اتنی ہے جتنا عصر سے سورج ڈوبنے تک کا وقت ہوتا ہے۔ توراۃ والوں کو توراۃ دی گئی۔ تو انہوں نے اس پر ( صبح سے ) عمل کیا۔ آدھے دن تک پھر وہ عاجز آ گئے، کام پورا نہ کر سکے، ان لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر انجیل والوں کو انجیل دی گئی، انہوں نے ( آدھے دن سے ) عصر تک اس پر عمل کیا، اور وہ بھی عاجز آ گئے۔ ان کو بھی ایک ایک قیراط ان کے عمل کا بدلہ دیا گیا۔ پھر ( عصر کے وقت ) ہم کو قرآن ملا۔ ہم نے اس پر سورج کے غروب ہونے تک عمل کیا ( اور کام پورا کر دیا ) ہمیں دو دو قیراط ثواب ملا۔ اس پر ان دونوں کتاب والوں نے کہا۔ اے ہمارے پروردگار! انہیں تو آپ نے دو دو قیراط دئیے اور ہمیں صرف ایک ایک قیراط۔ حالانکہ عمل ہم نے ان سے زیادہ کیا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا، تو کیا میں نے اجر دینے میں تم پر کچھ ظلم کیا۔ انہوں نے عرض کی کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہ ( زیادہ اجر دینا ) میرا فضل ہے جسے میں چاہوں دے سکتا ہوں۔
Sahih al-Bukhari 9:41sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَالِمٌ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً صَلاَةَ الْعِشَاءِ ـ وَهْىَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ ـ ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ " أَرَأَيْتُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لاَ يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ ".
Narrated `Abdullah:"One night Allah's Messenger (ﷺ) led us in the `Isha' prayer and that is the one called Al-`Atma [??] by the people. After the completion of the prayer, he faced us and said, "Do you know the importance of this night? Nobody present on the surface of the earth tonight will be living after one hundred years from this night." (See Hadith No)
ہم سے عبدان عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں یونس بن یزید نے خبر دی زہری سے کہ سالم نے یہ کہا کہ مجھے (میرے باپ) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی۔ یہی جسے لوگ «عتمه» کہتے ہیں۔ پھر ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اس رات کو یاد رکھنا۔ آج جو لوگ زندہ ہیں ایک سو سال کے گزرنے تک روئے زمین پر ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
Sahih al-Bukhari 10:14sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَعَبْدِ الْحَمِيدِ، صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ وَعَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ فِي يَوْمٍ رَدْغٍ، فَلَمَّا بَلَغَ الْمُؤَذِّنُ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ. فَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ الصَّلاَةُ فِي الرِّحَالِ. فَنَظَرَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ فَعَلَ هَذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ وَإِنَّهَا عَزْمَةٌ.
Narrated `Abdullah bin Al-Harith:Once on a rainy muddy day, Ibn `Abbas delivered a sermon in our presence and when the Mu'adhdhin pronounced the Adhan and said, "Haiyi `ala-s-sala(t) (come for the prayer)" Ibn `Abbas ordered him to say 'Pray at your homes.' The people began to look at each other (surprisingly). Ibn `Abbas said. "It was done by one who was much better than I (i.e. the Prophet (ﷺ) or his Mu'adh-dhin), and it is a license
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے ایوب سختیانی اور عبدالحمید بن دینار صاحب الزیادی اور عاصم احول سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن حارث بصریٰ سے، انہوں نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک دن ہم کو جمعہ کا خطبہ دیا۔ بارش کی وجہ سے اس دن اچھی خاصی کیچڑ ہو رہی تھی۔ مؤذن جب «حى على الصلاة» پر پہنچا تو آپ نے اس سے «الصلاة في الرحال» کہنے کے لیے فرمایا کہ لوگ نماز اپنی قیام گاہوں پر پڑھ لیں۔ اس پر لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اسی طرح مجھ سے جو افضل تھے، انہوں نے بھی کیا تھا اور اس میں شک نہیں کہ جمعہ واجب ہے۔
Sahih al-Bukhari 10:67sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ، وَلاَ يَعْجَلْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ ". وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُوضَعُ لَهُ الطَّعَامُ وَتُقَامُ الصَّلاَةُ فَلاَ يَأْتِيهَا حَتَّى يَفْرُغَ، وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ قِرَاءَةَ الإِمَامِ.
Narrated Nafi`:Ibn `Umar said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'If the supper is served for anyone of you and the Iqama is pronounced, start with the supper and don't be in haste (and carry on eating) till you finish it." If food was served for Ibn `Umar and Iqama was pronounced, he never came to the prayer till he finished it (i.e. food) in spite of the fact that he heard the recitation (of the Qur'an) by the Imam (in the prayer)
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ابواسامہ حماد بن اسامہ سے، انہوں نے عبیداللہ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کا شام کا کھانا تیار ہو چکا ہو اور تکبیر بھی کہی جا چکی ہو تو پہلے کھانا کھا لو اور نماز کے لیے جلدی نہ کرو، کھانے سے فراغت کر لو۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے کھانا رکھ دیا جاتا، ادھر اقامت بھی ہو جاتی لیکن آپ کھانے سے فارغ ہونے تک نماز میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ آپ امام کی قرآت برابر سنتے رہتے تھے۔
Sahih al-Bukhari 10:76sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَعُهُ قِيلَ لَهُ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ". قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، إِذَا قَرَأَ غَلَبَهُ الْبُكَاءُ. قَالَ " مُرُوهُ فَيُصَلِّي " فَعَاوَدَتْهُ. قَالَ " مُرُوهُ فَيُصَلِّي، إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ ". تَابَعَهُ الزُّبَيْدِيُّ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى الْكَلْبِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ. وَقَالَ عُقَيْلٌ وَمَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَمْزَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Hamza bin `Abdullah:My father said, "When Allah's Messenger (ﷺ) became seriously ill, he was told about the prayer. He said, 'Tell Abu Bakr to lead the people in the prayer.' `Aisha said, 'Abu Bakr is a softhearted man and he would be overpowered by his weeping if he recited the Qur'an.' He said to them, 'Tell him (Abu Bakr) to lead the prayer. The same reply was given to him. He said again, 'Tell him to lead the prayer. You (women) are the companions of Joseph
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یونس بن یزید ایلی نے ابن شہاب سے بیان کیا، انہوں نے حمزہ بن عبداللہ سے، انہوں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے لیے کہا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ ابوبکر کچے دل کے آدمی ہیں۔ جب وہ قرآن مجید پڑھتے ہیں تو بہت رونے لگتے ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان ہی سے کہو کہ نماز پڑھائیں۔ دوبارہ انہوں نے پھر وہی عذر دہرایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ان سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔ تم تو بالکل صواحب یوسف کی طرح ہو۔ اس حدیث کی متابعت محمد بن ولید زبیدی اور زہری کے بھتیجے اور اسحاق بن یحییٰ کلبی نے زہری سے کی ہے اور عقیل اور معمر نے زہری سے، انہوں نے حمزہ بن عبداللہ بن عمر سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
Sahih al-Bukhari 10:102sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنِّي لأَقُومُ فِي الصَّلاَةِ أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلاَتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ ". تَابَعَهُ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَبَقِيَّةُ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ.
Narrated `Abdullah bin 'Abi Qatada:My father said, "The Prophet (ﷺ) said, 'When I stand for prayer, I intend to prolong it but on hearing the cries of a child, I cut it short, as I dislike to trouble the child's mother
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ ابوقتادہ حارث بن ربعی سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نماز دیر تک پڑھنے کے ارادہ سے کھڑا ہوتا ہوں۔ لیکن کسی بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز کو ہلکی کر دیتا ہوں، کیونکہ اس کی ماں کو ( جو نماز میں شریک ہو گی ) تکلیف میں ڈالنا برا سمجھتا ہوں۔ ولید بن مسلم کے ساتھ اس روایت کی متابعت بشر بن بکر، بقیہ بن ولید اور ابن مبارک نے اوزاعی کے واسطہ سے کی ہے۔
Sahih al-Bukhari 10:157sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أُمَّ الْفَضْلِ سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ {وَالْمُرْسَلاَتِ عُرْفًا} فَقَالَتْ يَا بُنَىَّ وَاللَّهِ لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ السُّورَةَ، إِنَّهَا لآخِرُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ.
Narrated Ibn `Abbas:(My mother) Umu-l-Fadl heard me reciting "Wal Mursalati `Urfan" (77) and said, "O my son! By Allah, your recitation made me remember that it was the last Sura I heard from Allah's Messenger (ﷺ). He recited it in the Maghrib prayer
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ام فضل رضی اللہ عنہا ( ان کی ماں ) نے انہیں «والمرسلات عرفا» پڑھتے ہوئے سنا۔ پھر کہا کہ اے بیٹے! تم نے اس سورت کی تلاوت کر کے مجھے یاد دلایا۔ میں آخر عمر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں یہی سورت پڑھتے ہوئے سنتی تھی۔
Sahih al-Bukhari 10:167sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ، فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ. فَقَالُوا مَا لَكُمْ فَقَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ. قَالُوا مَا حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلاَّ شَىْءٌ حَدَثَ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا، فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ فَانْصَرَفَ أُولَئِكَ الَّذِينَ تَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ بِنَخْلَةَ، عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهْوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلاَةَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَهُ فَقَالُوا هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ. فَهُنَالِكَ حِينَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ وَقَالُوا يَا قَوْمَنَا {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا * يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا} فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم {قُلْ أُوحِيَ إِلَىَّ} وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ.
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) set out with the intention of going to Suq `Ukaz (market of `Ukaz) along with some of his companions. At the same time, a barrier was put between the devils and the news of heaven. Fire commenced to be thrown at them. The Devils went to their people, who asked them, "What is wrong with you?" They said, "A barrier has been placed between us and the news of heaven. And fire has been thrown at us." They said, "The thing which has put a barrier between you and the news of heaven must be something which has happened recently. Go eastward and westward and see what has put a barrier between you and the news of heaven." Those who went towards Tihama came across the Prophet at a place called Nakhla and it was on the way to Suq `Ukaz and the Prophet (ﷺ) was offering the Fajr prayer with his companions. When they heard the Qur'an they listened to it and said, "By Allah, this is the thing which has put a barrier between us and the news of heaven." They went to their people and said, "O our people; verily we have heard a wonderful recital (Qur'an) which shows the true path; we believed in it and would not ascribe partners to our Lord." Allah revealed the following verses to his Prophet (Sura 'Jinn') (72): "Say: It has been revealed to me." And what was revealed to him was the conversation of the Jinns
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے ابوبشر سے بیان کیا، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ چند صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف گئے۔ ان دنوں شیاطین کو آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر انگارے ( شہاب ثاقب ) پھینکے جانے لگے تھے۔ تو وہ شیاطین اپنی قوم کے پاس آئے اور پوچھا کہ بات کیا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا ہے اور ( جب ہم آسمان کی طرف جاتے ہیں تو ) ہم پر شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں۔ شیاطین نے کہا کہ آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کی کوئی نئی وجہ ہوئی ہے۔ اس لیے تم مشرق و مغرب میں ہر طرف پھیل جاؤ اور اس سبب کو معلوم کرو جو تمہیں آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کا سبب ہوا ہے۔ وجہ معلوم کرنے کے لیے نکلے ہوئے شیاطین تہامہ کی طرف گئے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عکاظ کے بازار کو جاتے ہوئے مقام نخلہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ نماز فجر پڑھ رہے تھے۔ جب قرآن مجید انہوں نے سنا تو غور سے اس کی طرف کان لگا دئیے۔ پھر کہا، اللہ کی قسم! یہی ہے جو آسمان کی خبریں سننے سے روکنے کا باعث بنا ہے۔ پھر وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور کہا قوم کے لوگو! ہم نے حیرت انگیز قرآن سنا جو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ اس لیے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی «قل أوحي إلى» ( آپ کہیئے کہ مجھے وحی کے ذریعہ بتایا گیا ہے ) اور آپ پر جنوں کی گفتگو وحی کی گئی تھی۔
Sahih al-Bukhari 10:168sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَرَأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِيمَا أُمِرَ، وَسَكَتَ فِيمَا أُمِرَ {وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا} {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ}.
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) recited aloud in the prayers in which he was ordered to do so and quietly in the prayers in which he was ordered to do so. "And your Lord is not forgetful." "Verily there was a good example for you in the ways of the Prophet
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے عکرمہ سے بیان کیا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جن نمازوں میں بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنے کا حکم ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں بلند آواز سے پڑھا اور جن میں آہستہ سے پڑھنے کا حکم ہوا تھا ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے پڑھا اور تیرا رب بھولنے والا نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔
Sahih al-Bukhari 10:225sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قُلْنَا السَّلاَمُ عَلَى جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ، السَّلاَمُ عَلَى فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ. فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلاَمُ، فَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ. فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمُوهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ".
Narrated Shaqiq bin Salama:`Abdullah said, "Whenever we prayed behind the Prophet (ﷺ) we used to recite (in sitting) 'Peace be on Gabriel, Michael, peace be on so and so. Once Allah's Messenger (ﷺ) looked back at us and said, 'Allah Himself is As-Salam (Peace), and if anyone of you prays then he should say, at-Tahiyatu li l-lahi wa ssalawatu wa t-taiyibat. As-salamu `alalika aiyuha n-Nabiyu wa rahmatu l-lahi wa barakatuh. Assalamu `alaina wa `ala `ibadi l-lahi s-salihin. (All the compliments, prayers and good things are due to Allah; peace be on you, O Prophet, and Allah's mercy and blessings [be on you]. Peace be on us an on the pious subjects of Allah). (If you say that, it will reach all the subjects in the heaven and the earth). Ash-hadu al-la ilaha illa l-lah, wa ash-hadu anna Muhammadan `Abduhu wa Rasuluh. (I testify that there is no Deity [worthy of worship] but Allah, and I testify that Muhammad is His slave and His Apostle
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے شقیق بن سلمہ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو کہتے ( ترجمہ ) سلام ہو جبرائیل اور میکائیل پر سلام ہو فلاں اور فلاں پر ( اللہ پر سلام ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اللہ تو خود ”سلام“ ہے۔ ( تم اللہ کو کیا سلام کرتے ہو ) اس لیے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو یہ کہے «التحيات لله، والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» تمام آداب بندگی، تمام عبادات اور تمام بہترین تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ آپ پر سلام ہو اے نبی اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہم پر سلام اور اللہ کے تمام صالح بندوں پر سلام۔ جب تم یہ کہو گے تو تمہارا سلام آسمان و زمین میں جہاں کوئی اللہ کا نیک بندہ ہے اس کو پہنچ جائے گا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔
Sahih al-Bukhari 10:228sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الأَعْمَشِ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّلاَةِ قُلْنَا السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ عِبَادِهِ، السَّلاَمُ عَلَى فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقُولُوا السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ. فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلاَمُ، وَلَكِنْ قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ. فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ فِي السَّمَاءِ أَوْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُو ".
Narrated `Abdullah:When we prayed with the Prophet (ﷺ) we used to say, "Peace be on Allah from His slaves and peace be on so and so." The Prophet (ﷺ) said, "Don't say As-Salam be on Allah, for He Himself is As-Salam, but say, at-tahiyatu li l-lahi wa s-salawatu wa t-taiyibat. As-salamu `alaika aiyuha n-Nabiyu wa rahmatu l-lahi wa barakatuh. As-salamu `alaina wa `ala `ibadi l-lahi s-salihin. (If you say this then it will reach all the slaves in heaven or between heaven and earth). Ash-hadu al la-ilaha illa l-lah, wa ash-hadu anna Muhammadan `Abduhu wa Rasuluh.' Then select the invocation you like best and recite it." (See Hadith No)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے اعمش سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے شقیق نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے فرمایا کہ ( پہلے ) جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم ( قعدہ میں ) یہ کہا کرتے تھے کہ اس کے بندوں کی طرف سے اللہ پر سلام ہو اور فلاں پر اور فلاں پر سلام ہو۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نہ کہو کہ ”اللہ پر سلام ہو“ کیونکہ اللہ تو خود سلام ہے۔ بلکہ یہ کہو «التحيات لله، والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» آداب بندگان اور تمام عبادات اور تمام پاکیزہ خیراتیں اللہ ہی کے لیے ہیں آپ پر اے نبی سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ کے صالح بندوں پر سلام ہو اور جب تم یہ کہو گے تو آسمان پر اللہ کے تمام بندوں کو پہنچے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان اور زمین کے درمیان تمام بندوں کو پہنچے گا «أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اس کے بعد دعا کا اختیار ہے جو اسے پسند ہو کرے۔
Sahih al-Bukhari 10:243sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ شَيْئًا مِنْ صَلاَتِهِ، يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَنْصَرِفَ إِلاَّ عَنْ يَمِينِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَثِيرًا يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ.
Narrated `Abdullah:You should not give away a part of your prayer to Satan by thinking that it is necessary to depart (after finishing the prayer) from one's right side only; I have seen the Prophet (ﷺ) often leave from the left side
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے سلیمان سے بیان کیا، ان سے عمارہ بن عمیر نے، ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی نماز میں سے کچھ بھی شیطان کا حصہ نہ لگائے اس طرح کہ داہنی طرف ہی لوٹنا اپنے لیے ضروری قرار دے لے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر بائیں طرف سے لوٹتے دیکھا۔
Sahih al-Bukhari 10:264sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. " إِذَا اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَةُ أَحَدِكُمْ فَلاَ يَمْنَعْهَا ".
Narrated Salim bin `Abdullah:My father said, "The Prophet (ﷺ) said, 'If the wife of any one of you asks permission (to go to the mosque) do not forbid her
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے زہری نے، ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر نے، ان سے ان کے باپ نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کی بیوی ( نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں آنے کی ) اس سے اجازت مانگے تو شوہر کو چاہیے کہ اس کو نہ روکے۔
Sahih al-Bukhari 11:51sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْغَسِيلِ، قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ صَعِدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمِنْبَرَ وَكَانَ آخِرَ مَجْلِسٍ جَلَسَهُ مُتَعَطِّفًا مِلْحَفَةً عَلَى مَنْكِبَيْهِ، قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ بِعِصَابَةٍ دَسِمَةٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ إِلَىَّ ". فَثَابُوا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ هَذَا الْحَىَّ مِنَ الأَنْصَارِ يَقِلُّونَ، وَيَكْثُرُ النَّاسُ، فَمَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَطَاعَ أَنْ يَضُرَّ فِيهِ أَحَدًا أَوْ يَنْفَعَ فِيهِ أَحَدًا، فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيِّهِمْ ".
Narrated Ibn `Abbas:Once the Prophet (ﷺ) ascended the pulpit and it was the last gathering in which he took part. He was covering his shoulder with a big cloak and binding his head with an oily bandage. He glorified and praised Allah and said, "O people! Come to me." So the people came and gathered around him and he then said, "Amma ba'du." "From now onward the Ansar will decrease and other people will increase. So anybody who becomes a ruler of the followers of Muhammad and has the power to harm or benefit people then he should accept the good from the benevolent amongst them (Ansar) and overlook the faults of their wrong-doers
ہم سے اسماعیل بن ابان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن غسیل عبدالرحمٰن بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے۔ منبر پر یہ آپ کی آخری بیٹھک تھی۔ آپ دونوں شانوں سے چادر لپیٹے ہوئے تھے اور سر مبارک پر ایک پٹی باندھ رکھی تھی۔ آپ نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا لوگو! میری بات سنو۔ چنانچہ لوگ آپ کی طرف کلام مبارک سننے کے لیے متوجہ ہو گئے۔ پھر آپ نے فرمایا «امابعد» ! یہ قبیلہ انصار کے لوگ ( آنے والے دور میں ) تعداد میں بہت کم ہو جائیں گے پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا جو شخص بھی حاکم ہو اور اسے نفع و نقصان پہنچانے کی طاقت ہو تو انصار کے نیک لوگوں کی نیکی قبول کرے اور ان کے برے کی برائی سے درگزر کرے۔
Sahih al-Bukhari 11:52sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ يَقْعُدُ بَيْنَهُمَا.
Narrated `Abdullah Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) used to deliver two Khutbas and sit in between them
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے نافع سے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( جمعہ میں ) دو خطبے دیتے اور دونوں کے بیچ میں بیٹھتے تھے۔ ( خطبہ جمعہ کے بیچ میں یہ بیٹھنا بھی مسنون طریقہ ہے ) ۔
Sahih al-Bukhari 15:3sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا رَأَى مِنَ النَّاسِ إِدْبَارًا قَالَ " اللَّهُمَّ سَبْعٌ كَسَبْعِ يُوسُفَ ". فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَىْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ وَالْجِيَفَ، وَيَنْظُرَ أَحَدُهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى الدُّخَانَ مِنَ الْجُوعِ، فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ تَأْمُرُ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَبِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا، فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ} إِلَى قَوْلِهِ {عَائِدُونَ * يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى} فَالْبَطْشَةُ يَوْمَ بَدْرٍ، وَقَدْ مَضَتِ الدُّخَانُ وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ وَآيَةُ الرُّومِ.
Narrated Masruq:We were with `Abdullah and he said, "When the Prophet (ﷺ) saw the refusal of the people to accept Islam he said, "O Allah! Send (famine) years on them for (seven years) like the seven years (of famine during the time) of (Prophet) Joseph." So famine overtook them for one year and destroyed every kind of life to such an extent that the people started eating hides, carcasses and rotten dead animals. Whenever one of them looked towards the sky, he would (imagine himself to) see smoke because of hunger. So Abu Sufyan went to the Prophet (ﷺ) and said, "O Muhammad! You order people to obey Allah and to keep good relations with kith and kin. No doubt the people of your tribe are dying, so please pray to Allah for them." So Allah revealed: "Then watch you For the day that The sky will bring forth a kind Of smoke Plainly visible ... Verily! You will return (to disbelief) On the day when We shall seize You with a mighty grasp. (44.10-16) Ibn Mas`ud added, "Al-Batsha (i.e. grasp) happened in the battle of Badr and no doubt smoke, Al-Batsha, Al-Lizam, and the verse of Surat Ar-Rum have all passed
ہم سے امام حمیدی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے سلیمان اعمش نے، ان سے ابوالضحی نے، ان سے مسروق نے، ان سے عبداللہ بن مسعود نے (دوسری سند) ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے منصور بن مسعود بن معتمر سے بیان کیا، اور ان سے ابوالضحی نے، ان سے مسروق نے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کفار قریش کی سرکشی دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی «اللهم سبع كسبع يوسف» کہ اے اللہ! سات برس کا قحط ان پر بھیج جیسے یوسف علیہ السلام کے وقت میں بھیجا تھا چنانچہ ایسا قحط پڑا کہ ہر چیز تباہ ہو گئی اور لوگوں نے چمڑے اور مردار تک کھا لیے۔ بھوک کی شدت کا یہ عالم تھا کہ آسمان کی طرف نظر اٹھائی جاتی تو دھویں کی طرح معلوم ہوتا تھا آخر مجبور ہو کر ابوسفیان حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ لوگوں کو اللہ کی اطاعت اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ اب تو آپ ہی کی قوم برباد ہو رہی ہے، اس لیے آپ اللہ سے ان کے حق میں دعا کیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس دن کا انتظار کر جب آسمان صاف دھواں نظر آئے گا آیت «انکم عائدون» تک ( نیز ) جب ہم سختی سے ان کی گرفت کریں گے ( کفار کی ) سخت گرفت بدر کی لڑائی میں ہوئی۔ دھویں کا بھی معاملہ گزر چکا ( جب سخت قحط پڑا تھا ) جس میں پکڑ اور قید کا ذکر ہے وہ سب ہو چکے اسی طرح سورۃ الروم کی آیت میں جو ذکر ہے وہ بھی ہو چکا۔
Sahih al-Bukhari 19:16sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً، فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ. قُلْنَا وَمَا هَمَمْتَ قَالَ هَمَمْتَ أَنْ أَقْعُدَ وَأَذَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Abu-Wail:`Abdullah said, "One night I offered the Tahajjud prayer with the Prophet (ﷺ) and he kept on standing till an ill-thought came to me." We said, "What was the ill-thought?" He said, "It was to sit down and leave the Prophet (standing)
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے اعمش سے بیان کیا، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ رات کو نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میرے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہو گیا۔ ہم نے پوچھا کہ وہ غلط خیال کیا تھا تو آپ نے بتایا کہ میں نے سوچا کہ بیٹھ جاؤں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دوں۔
Sahih al-Bukhari 19:25sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَقِيلَ مَا زَالَ نَائِمًا حَتَّى أَصْبَحَ مَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ. فَقَالَ " بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ ".
Narrated `Abdullah:A person was mentioned before the Prophet (ﷺ) and he was told that he had kept on sleeping till morning and had not got up for the prayer. The Prophet (ﷺ) said, "Satan urinated in his ears
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوالاحوص سلام بن سلیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے منصور بن معتمر نے ابووائل سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر آیا کہ وہ صبح تک پڑا سوتا رہا اور فرض نماز کے لیے بھی نہیں اٹھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا ہے۔
Sahih al-Bukhari 19:33sahih
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ،. وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَبْدَ اللَّهِ، لاَ تَكُنْ مِثْلَ فُلاَنٍ، كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ ". وَقَالَ هِشَامٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، مِثْلَهُ. وَتَابَعَهُ عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ،.
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-`As:Allah's Messenger (ﷺ) said to me, "O `Abdullah! Do not be like so and so who used to pray at night and then stopped the night prayer
ہم سے عباس بن حسین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مبشر بن اسماعیل حلبی نے، اوزاعی سے بیان کیا (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں امام اوزاعی نے خبر دی کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبداللہ! فلاں کی طرح نہ ہو جانا وہ رات میں عبادت کیا کرتا تھا پھر چھوڑ دی۔ اور ہشام بن عمار نے کہا کہ ہم سے عبدالحمید بن ابوالعشرین نے بیان کیا، ان سے امام اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن حکم بن ثوبان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے، اسی طرح پھر یہی حدیث بیان کی، ابن ابی العشرین کی طرح عمرو بن ابی سلمہ نے بھی اس کو امام اوزاعی سے روایت کیا۔
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ حَفِظْتُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَشْرَ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي بَيْتِهِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ، وَكَانَتْ سَاعَةً لاَ يُدْخَلُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيهَا. حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَطَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ.
Narrated Ibn 'Umar: I remember ten Rakat of Nawafil from the Prophet, two Rakat before the Zuhr prayer and two after it; two Rakat after Maghrib prayer in his house, and two Rakat after 'Isha' prayer in his house, and two Rakat before the Fajr prayer and at that time nobody would enter the house of the Prophet. Hafsa told me that the Prophet (ﷺ) used to offer two Rakat after the call maker had made the Adhan and the day had dawned
Sahih al-Bukhari 19:58sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ حَفِظْتُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَشْرَ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي بَيْتِهِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ، وَكَانَتْ سَاعَةً لاَ يُدْخَلُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيهَا. حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَطَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ.
Narrated Ibn 'Umar: I remember ten Rakat of Nawafil from the Prophet, two Rakat before the Zuhr prayer and two after it; two Rakat after Maghrib prayer in his house, and two Rakat after 'Isha' prayer in his house, and two Rakat before the Fajr prayer and at that time nobody would enter the house of the Prophet. Hafsa told me that the Prophet (ﷺ) used to offer two Rakat after the call maker had made the Adhan and the day had dawned
Sahih al-Bukhari 19:63sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اجْعَلُوا فى بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلاَتِكُمْ وَلاَ تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا ". تَابَعَهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ أَيُّوبَ.
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Offer some of your prayers in your houses and do not make them graves
ہم سے عبدالاعلی بن حماد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی اور عبیداللہ بن عمر نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھروں میں بھی کچھ نمازیں پڑھا کرو اور انہیں بالکل قبریں نہ بنا لو ( کہ جہاں نماز ہی نہ پڑھی جاتی ہو ) وہیب کے ساتھ اس حدیث کو عبدالوہاب ثقفی نے بھی ایوب سے روایت کیا ہے۔
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ـ هُوَ الدَّوْرَقِيُّ ـ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ لاَ يُصَلِّي مِنَ الضُّحَى إِلاَّ فِي يَوْمَيْنِ يَوْمَ يَقْدَمُ بِمَكَّةَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَقْدَمُهَا ضُحًى، فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ، وَيَوْمَ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يَأْتِيهِ كُلَّ سَبْتٍ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَرِهَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهُ حَتَّى يُصَلِّيَ فِيهِ. قَالَ وَكَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَزُورُهُ رَاكِبًا وَمَاشِيًا. قَالَ وَكَانَ يَقُولُ إِنَّمَا أَصْنَعُ كَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابِي يَصْنَعُونَ، وَلاَ أَمْنَعُ أَحَدًا أَنْ يُصَلِّيَ فِي أَىِّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، غَيْرَ أَنْ لاَ تَتَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلاَ غُرُوبَهَا.
Narrated Nafi`:Ibn `Umar never offered the Duha prayer except on two occasions: (1) Whenever he reached Mecca; and he always used to reach Mecca in the forenoon. He would perform Tawaf round the Ka`ba and then offer two rak`at at the rear of Maqam Ibrahim. (2) Whenever he visited Quba, for he used to visit it every Saturday. When he entered the Mosque, he disliked to leave it without offering a prayer. Ibn `Umar narrated that Allah's Messenger (ﷺ) used to visit the Mosque of Quba (sometime) walking and (sometime) riding. And he (i.e. Ibn `Umar) used to say, "I do only what my companions used to do and I don't forbid anybody to pray at any time during the day or night except that one should not intend to pray at sunrise or sunset
Sahih al-Bukhari 20:4sahih
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ـ هُوَ الدَّوْرَقِيُّ ـ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ لاَ يُصَلِّي مِنَ الضُّحَى إِلاَّ فِي يَوْمَيْنِ يَوْمَ يَقْدَمُ بِمَكَّةَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَقْدَمُهَا ضُحًى، فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ، وَيَوْمَ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يَأْتِيهِ كُلَّ سَبْتٍ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَرِهَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهُ حَتَّى يُصَلِّيَ فِيهِ. قَالَ وَكَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَزُورُهُ رَاكِبًا وَمَاشِيًا. قَالَ وَكَانَ يَقُولُ إِنَّمَا أَصْنَعُ كَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابِي يَصْنَعُونَ، وَلاَ أَمْنَعُ أَحَدًا أَنْ يُصَلِّيَ فِي أَىِّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، غَيْرَ أَنْ لاَ تَتَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلاَ غُرُوبَهَا.
Narrated Nafi`:Ibn `Umar never offered the Duha prayer except on two occasions: (1) Whenever he reached Mecca; and he always used to reach Mecca in the forenoon. He would perform Tawaf round the Ka`ba and then offer two rak`at at the rear of Maqam Ibrahim. (2) Whenever he visited Quba, for he used to visit it every Saturday. When he entered the Mosque, he disliked to leave it without offering a prayer. Ibn `Umar narrated that Allah's Messenger (ﷺ) used to visit the Mosque of Quba (sometime) walking and (sometime) riding. And he (i.e. Ibn `Umar) used to say, "I do only what my companions used to do and I don't forbid anybody to pray at any time during the day or night except that one should not intend to pray at sunrise or sunset
Sahih al-Bukhari 20:5sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ كُلَّ سَبْتٍ مَاشِيًا وَرَاكِبًا. وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ يَفْعَلُهُ.
Narrated `Abdullah bin Dinar:Ibn `Umar said, "The Prophet (ﷺ) used to go to the Mosque of Quba every Saturday (sometimes) walking and (sometimes) riding." `Abdullah (Ibn `Umar) used to do the same
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتہ کو مسجد قباء آتے پیدل بھی ( بعض دفعہ ) اور سواری پر بھی اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے۔
Sahih al-Bukhari 20:6sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَأْتِي قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا. زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ.
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) used to go to the Mosque of Quba (sometimes) walking and sometimes riding. Added Nafi` (in another narration), "He then would offer two rak`at (in the Mosque of Quba)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، اور ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا کہ مجھ سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قباء آتے کبھی پیدل اور کبھی سواری پر۔ ابن نمیر نے اس میں یہ زیادتی کی ہے کہ ہم سے عبیداللہ بن عمیر نے بیان کیا اور ان سے نافع نے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
Sahih al-Bukhari 21:2sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا وَقَالَ " إِنَّ فِي الصَّلاَةِ شُغْلاً ".
Narrated `Abdullah:We used to greet the Prophet (ﷺ) while he was praying and he used to answer our greetings. When we returned from An-Najashi (the ruler of Ethiopia), we greeted him, but he did not answer us (during the prayer) and (after finishing the prayer) he said, "In the prayer one is occupied (with a more serious matter)
ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( پہلے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے اور ہم سلام کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جواب دیتے تھے۔ جب ہم نجاشی کے یہاں سے واپس ہوئے تو ہم نے ( پہلے کی طرح نماز ہی میں ) سلام کیا۔ لیکن اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا بلکہ نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ نماز میں آدمی کو فرصت کہاں۔
Sahih al-Bukhari 21:3sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ.
Narrated `Abdullah:The same as No. 290. from the Prophet
Sahih al-Bukhari 21:17sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَتَغَيَّظَ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ وَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ قِبَلَ أَحَدِكُمْ، فَإِذَا كَانَ فِي صَلاَتِهِ، فَلاَ يَبْزُقَنَّ ـ أَوْ قَالَ ـ لاَ يَتَنَخَّمَنَّ ". ثُمَّ نَزَلَ فَحَتَّهَا بِيَدِهِ. وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْزُقْ عَلَى يَسَارِهِ.
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) saw some sputum on the wall facing the Qibla of the mosque and became furious with the people of the mosque and said, "During the prayer, Allah is in front of everyone of you and so he should not spit (or said, 'He should not expectorate')." Then he got down and scratched the sputum with his hand. Ibn `Umar said (after narrating), "If anyone of you has to spit during the prayer, he should spit to his left
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ مسجد میں قبلہ کی طرف رینٹ دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں موجود لوگوں پر بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے ہے اس لیے نماز میں تھوکا نہ کرو، یا یہ فرمایا کہ رینٹ نہ نکالا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور خود ہی اپنے ہاتھ سے اسے کھرچ ڈالا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب کسی کو تھوکنا ضروری ہو تو اپنی بائیں طرف تھوک لے۔
Sahih al-Bukhari 21:20sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنْتُ أُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ فَيَرُدُّ عَلَىَّ، فَلَمَّا رَجَعْنَا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ وَقَالَ " إِنَّ فِي الصَّلاَةِ شُغْلاً ".
Narrated `Abdullah:I used to greet the Prophet (ﷺ) while he was in prayer and he would return my greeting, but when we returned (from Ethiopia) I greeted the Prophet (while he was praying) but he did not return the greeting, and (after finishing the prayer) he said, "In the prayer one is occupied (with a more serious matter)
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن فضیل نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ( ابتداء اسلام میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں ہوتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیتے تھے۔ مگر جب ہم ( حبشہ سے جہاں ہجرت کی تھی ) واپس آئے تو میں نے ( پہلے کی طرح نماز میں ) سلام کیا۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا ( کیونکہ اب نماز میں بات چیت وغیرہ کی ممانعت نازل ہو گئی تھی ) اور فرمایا کہ نماز میں اس سے مشغولیت ہوتی ہے۔
Sahih al-Bukhari 22:3sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا فَقِيلَ لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ " وَمَا ذَاكَ ". قَالَ صَلَّيْتَ خَمْسًا. فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ.
Narrated' `Abdullah:Once Allah's Messenger (ﷺ) offered five rak`at in the Zuhr prayer, and somebody asked him whether there was some increase in the prayer. Allah's Messenger (ﷺ) said, "What is that?" He said, "You have offered five rak`at." So Allah's Messenger (ﷺ) performed two prostrations of Sahu after Taslim
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر میں پانچ رکعت پڑھ لیں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا نماز کی رکعتیں زیادہ ہو گئی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا بات ہے؟ کہنے والے نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کے بعد دو سجدے کئے۔
Sahih al-Bukhari 23:2sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ ". وَقُلْتُ أَنَا مَنْ مَاتَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ.
Narrated `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Anyone who dies worshipping others along with Allah will definitely enter the Fire." I said, "Anyone who dies worshipping none along with Allah will definitely enter Paradise
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے باپ حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شقیق بن سلمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس حالت میں مرے کہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتا تھا تو وہ جہنم میں جائے گا اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو اس حال میں مرا کہ اللہ کا کوئی شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں جائے گا۔
Sahih al-Bukhari 23:30sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ لَمَّا تُوُفِّيَ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ، وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ، فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَمِيصَهُ فَقَالَ " آذِنِّي أُصَلِّي عَلَيْهِ ". فَآذَنَهُ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ جَذَبَهُ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ أَلَيْسَ اللَّهُ نَهَاكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ " أَنَا بَيْنَ خِيرَتَيْنِ قَالَ {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ} ". فَصَلَّى عَلَيْهِ فَنَزَلَتْ {وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا}
Narrated Ibn `Umar:When `Abdullah bin Ubai (the chief of hypocrites) died, his son came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Please give me your shirt to shroud him in it, offer his funeral prayer and ask for Allah's forgiveness for him." So Allah's Messenger (ﷺ) gave his shirt to him and said, "Inform me (When the funeral is ready) so that I may offer the funeral prayer." So, he informed him and when the Prophet intended to offer the funeral prayer, `Umar took hold of his hand and said, "Has Allah not forbidden you to offer the funeral prayer for the hypocrites? The Prophet (ﷺ) said, "I have been given the choice for Allah says: '(It does not avail) Whether you (O Muhammad) ask forgiveness for them (hypocrites), or do not ask for forgiveness for them. Even though you ask for their forgiveness seventy times, Allah will not forgive them. (9.80)" So the Prophet (ﷺ) offered the funeral prayer and on that the revelation came: "And never (O Muhammad) pray (funeral prayer) for any of them (i.e. hypocrites) that dies
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے کہا کہ مجھ سے نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی ( منافق ) کی موت ہوئی تو اس کا بیٹا ( عبداللہ صحابی ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! والد کے کفن کے لیے آپ اپنی قمیص عنایت فرمائیے اور ان پر نماز پڑھئے اور مغفرت کی دعا کیجئے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص ( غایت مروت کی وجہ سے ) عنایت کی اور فرمایا کہ مجھے بتانا میں نماز جنازہ پڑھوں گا۔ عبداللہ نے اطلاع بھجوائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے پکڑ لیا اور عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع نہیں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اختیار دیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے ”تو ان کے لیے استغفار کر یا نہ کر اور اگر تو ستر مرتبہ بھی استغفار کرے تو بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا“ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ اس کے بعد یہ آیت اتری ”کسی بھی منافق کی موت پر اس کی نماز جنازہ کبھی نہ پڑھانا“۔
Sahih al-Bukhari 23:31sahih
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ بَعْدَ مَا دُفِنَ فَأَخْرَجَهُ، فَنَفَثَ فِيهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ.
Narrated Jabir:The Prophet (ﷺ) came to (the grave of) `Abdullah bin Ubai after his body was buried. The body was brought out and then the Prophet (ﷺ) put his saliva over the body and clothed it in his shirt
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عبداللہ بن ابی کو دفن کیا جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبر سے نکلوایا اور اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور اپنی قمیص پہنائی۔
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ ـ رضى الله عنه ـ بِمَكَّةَ وَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا، وَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهم ـ وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا ـ أَوْ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا. ثُمَّ جَاءَ الآخَرُ، فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ أَلاَ تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ". فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَدْ كَانَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ، ثُمَّ حَدَّثَ قَالَ صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ سَمُرَةٍ فَقَالَ اذْهَبْ، فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلاَءِ الرَّكْبُ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ادْعُهُ لِي. فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ فَقُلْتُ ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَلَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْكِي يَقُولُ وَاأَخَاهُ، وَاصَاحِبَاهُ. فَقَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَىَّ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ فَقَالَتْ رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ، وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ اللَّهَ لَيُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ. وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ". وَقَالَتْ حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ {وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى}. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عِنْدَ ذَلِكَ وَاللَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَاللَّهِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ شَيْئًا.
Narrated `Abdullah bin 'Ubaidullah bin Abi Mulaika:One of the daughters of `Uthman died at Mecca. We went to attend her funeral procession. Ibn `Umar and Ibn `Abbas were also present. I sat in between them (or said, I sat beside one of them. Then a man came and sat beside me.) `Abdullah bin `Umar said to `Amr bin `Uthman, "Will you not prohibit crying as Allah's Messenger (ﷺ) has said, 'The dead person is tortured by the crying of his relatives.?" Ibn `Abbas said, "`Umar used to say so." Then he added narrating, "I accompanied `Umar on a journey from Mecca till we reached Al-Baida. There he saw some travelers in the shade of a Samura (A kind of forest tree). He said (to me), "Go and see who those travelers are." So I went and saw that one of them was Suhaib. I told this to `Umar who then asked me to call him. So I went back to Suhaib and said to him, "Depart and follow the chief of the faithful believers." Later, when `Umar was stabbed, Suhaib came in weeping and saying, "O my brother, O my friend!" (on this `Umar said to him, "O Suhaib! Are you weeping for me while the Prophet (ﷺ) said, "The dead person is punished by some of the weeping of his relatives?" Ibn `Abbas added, "When `Umar died I told all this to Aisha and she said, 'May Allah be merciful to `Umar. By Allah, Allah's Messenger (ﷺ) did not say that a believer is punished by the weeping of his relatives. But he said, Allah increases the punishment of a non-believer because of the weeping of his relatives." Aisha further added, "The Qur'an is sufficient for you (to clear up this point) as Allah has stated: 'No burdened soul will bear another's burden.' " (35.18). Ibn `Abbas then said, "Only Allah makes one laugh or cry." Ibn `Umar did not say anything after that
Sahih al-Bukhari 0:0sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ ـ رضى الله عنه ـ بِمَكَّةَ وَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا، وَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهم ـ وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا ـ أَوْ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا. ثُمَّ جَاءَ الآخَرُ، فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ أَلاَ تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ". فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَدْ كَانَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ، ثُمَّ حَدَّثَ قَالَ صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ سَمُرَةٍ فَقَالَ اذْهَبْ، فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلاَءِ الرَّكْبُ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ادْعُهُ لِي. فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ فَقُلْتُ ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَلَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْكِي يَقُولُ وَاأَخَاهُ، وَاصَاحِبَاهُ. فَقَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَىَّ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ فَقَالَتْ رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ، وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ اللَّهَ لَيُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ. وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ". وَقَالَتْ حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ {وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى}. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عِنْدَ ذَلِكَ وَاللَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَاللَّهِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ شَيْئًا.
Narrated `Abdullah bin 'Ubaidullah bin Abi Mulaika:One of the daughters of `Uthman died at Mecca. We went to attend her funeral procession. Ibn `Umar and Ibn `Abbas were also present. I sat in between them (or said, I sat beside one of them. Then a man came and sat beside me.) `Abdullah bin `Umar said to `Amr bin `Uthman, "Will you not prohibit crying as Allah's Messenger (ﷺ) has said, 'The dead person is tortured by the crying of his relatives.?" Ibn `Abbas said, "`Umar used to say so." Then he added narrating, "I accompanied `Umar on a journey from Mecca till we reached Al-Baida. There he saw some travelers in the shade of a Samura (A kind of forest tree). He said (to me), "Go and see who those travelers are." So I went and saw that one of them was Suhaib. I told this to `Umar who then asked me to call him. So I went back to Suhaib and said to him, "Depart and follow the chief of the faithful believers." Later, when `Umar was stabbed, Suhaib came in weeping and saying, "O my brother, O my friend!" (on this `Umar said to him, "O Suhaib! Are you weeping for me while the Prophet (ﷺ) said, "The dead person is punished by some of the weeping of his relatives?" Ibn `Abbas added, "When `Umar died I told all this to Aisha and she said, 'May Allah be merciful to `Umar. By Allah, Allah's Messenger (ﷺ) did not say that a believer is punished by the weeping of his relatives. But he said, Allah increases the punishment of a non-believer because of the weeping of his relatives." Aisha further added, "The Qur'an is sufficient for you (to clear up this point) as Allah has stated: 'No burdened soul will bear another's burden.' " (35.18). Ibn `Abbas then said, "Only Allah makes one laugh or cry." Ibn `Umar did not say anything after that
Sahih al-Bukhari 23:46sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ ـ رضى الله عنه ـ بِمَكَّةَ وَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا، وَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهم ـ وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا ـ أَوْ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا. ثُمَّ جَاءَ الآخَرُ، فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ أَلاَ تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ". فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَدْ كَانَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ، ثُمَّ حَدَّثَ قَالَ صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ سَمُرَةٍ فَقَالَ اذْهَبْ، فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلاَءِ الرَّكْبُ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ادْعُهُ لِي. فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ فَقُلْتُ ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَلَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْكِي يَقُولُ وَاأَخَاهُ، وَاصَاحِبَاهُ. فَقَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَىَّ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ فَقَالَتْ رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ، وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ اللَّهَ لَيُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ. وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ". وَقَالَتْ حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ {وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى}. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عِنْدَ ذَلِكَ وَاللَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَاللَّهِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ شَيْئًا.
Narrated `Abdullah bin 'Ubaidullah bin Abi Mulaika:One of the daughters of `Uthman died at Mecca. We went to attend her funeral procession. Ibn `Umar and Ibn `Abbas were also present. I sat in between them (or said, I sat beside one of them. Then a man came and sat beside me.) `Abdullah bin `Umar said to `Amr bin `Uthman, "Will you not prohibit crying as Allah's Messenger (ﷺ) has said, 'The dead person is tortured by the crying of his relatives.?" Ibn `Abbas said, "`Umar used to say so." Then he added narrating, "I accompanied `Umar on a journey from Mecca till we reached Al-Baida. There he saw some travelers in the shade of a Samura (A kind of forest tree). He said (to me), "Go and see who those travelers are." So I went and saw that one of them was Suhaib. I told this to `Umar who then asked me to call him. So I went back to Suhaib and said to him, "Depart and follow the chief of the faithful believers." Later, when `Umar was stabbed, Suhaib came in weeping and saying, "O my brother, O my friend!" (on this `Umar said to him, "O Suhaib! Are you weeping for me while the Prophet (ﷺ) said, "The dead person is punished by some of the weeping of his relatives?" Ibn `Abbas added, "When `Umar died I told all this to Aisha and she said, 'May Allah be merciful to `Umar. By Allah, Allah's Messenger (ﷺ) did not say that a believer is punished by the weeping of his relatives. But he said, Allah increases the punishment of a non-believer because of the weeping of his relatives." Aisha further added, "The Qur'an is sufficient for you (to clear up this point) as Allah has stated: 'No burdened soul will bear another's burden.' " (35.18). Ibn `Abbas then said, "Only Allah makes one laugh or cry." Ibn `Umar did not say anything after that
Sahih al-Bukhari 23:51sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ جِيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، قَدْ مُثِّلَ بِهِ حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ سُجِّيَ ثَوْبًا فَذَهَبْتُ أُرِيدُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْهُ فَنَهَانِي قَوْمِي، ثُمَّ ذَهَبْتُ أَكْشِفُ عَنْهُ فَنَهَانِي قَوْمِي، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُفِعَ فَسَمِعَ صَوْتَ صَائِحَةٍ فَقَالَ " مَنْ هَذِهِ ". فَقَالُوا ابْنَةُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو. قَالَ " فَلِمَ تَبْكِي أَوْ لاَ تَبْكِي فَمَا زَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ ".
Narrated Jabir bin `Abdullah:On the day of the Battle of Uhud, my father was brought and he had been mutilated (in battle) and was placed in front of Allah's Messenger (ﷺ) and a sheet was over him. I went intending to uncover my father but my people forbade me; again I wanted to uncover him but my people forbade me. Allah's Messenger (ﷺ) gave his order and he was shifted away. At that time he heard the voice of a crying woman and asked, "Who is this?" They said, "It is the daughter or the sister of `Amr." He said, "Why does she weep? (or let her stop weeping), for the angels had been shading him with their wings till he (i.e. the body of the martyr) was shifted away
ہم سے علی بن عبداللہ بن مدینی نے بیان کیا ‘ ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے محمد بن منکدر نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے فرمایا کہ میرے والد کی لاش احد کے میدان سے لائی گئی۔ ( مشرکوں نے ) آپ کی صورت تک بگاڑ دی تھی۔ نعش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی گئی۔ اوپر سے ایک کپڑا ڈھکا ہوا تھا ‘ میں نے چاہا کہ کپڑے کو ہٹاؤں۔ لیکن میری قوم نے مجھے روکا۔ پھر دوبارہ کپڑا ہٹانے کی کوشش کی۔ اس مرتبہ بھی میری قوم نے مجھ کو روک دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے جنازہ اٹھایا گیا۔ اس وقت کسی زور زور سے رونے والے کی آواز سنائی دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ عمرو کی بیٹی یا ( یہ کہا کہ ) عمرو کی بہن ہیں۔ ( نام میں سفیان کو شک ہوا تھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روتی کیوں ہیں؟ یا یہ فرمایا کہ روؤ نہیں کہ ملائکہ برابر اپنے پروں کا سایہ کئے رہے ہیں جب تک اس کا جنازہ اٹھایا گیا۔
Sahih al-Bukhari 23:52sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ".
Narrated `Abdullah:the Prophet (ﷺ) said, "He who slaps his cheeks, tears his clothes and follows the ways and traditions of the Days of Ignorance is not one of us
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہ ہم سے سفیان ثوری نے ‘ ان سے زبید یامی نے بیان کیا ‘ ان سے ابراہیم نخعی نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورتیں ( کسی کی موت پر ) اپنے چہروں کو پیٹتی اور گریبان چاک کر لیتی ہیں اور جاہلیت کی باتیں بکتی ہیں وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔
Sahih al-Bukhari 23:55sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ".
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "He who slaps the cheeks, tears the clothes and follows the tradition of the Days of Ignorance is not from us
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے عبداللہ بن مرہ نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ( کسی میت پر ) اپنے رخسار پیٹے ‘ گریبان پھاڑے اور عہد جاہلیت کی سی باتیں کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
Sahih al-Bukhari 23:56sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ".
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "He who slaps the cheeks, tears the clothes and follows the traditions of the Days of Ignorance is not from us
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ حفص نے اور ان سے اعمش نے اور ان سے عبداللہ بن مرہ نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو ( کسی کی موت پر ) اپنے رخسار پیٹے ‘ گریبان چاک کرے اور جاہلیت کی باتیں کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
Sahih al-Bukhari 23:104sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ، وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَكَانَ كَسَا عَبَّاسًا قَمِيصًا. قَالَ سُفْيَانُ وَقَالَ أَبُو هَارُونَ وَكَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَمِيصَانِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلْبِسْ أَبِي قَمِيصَكَ الَّذِي يَلِي جِلْدَكَ. قَالَ سُفْيَانُ فَيُرَوْنَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَلْبَسَ عَبْدَ اللَّهِ قَمِيصَهُ مُكَافَأَةً لِمَا صَنَعَ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ) came to `Abdullah bin Ubai (a hypocrite) after his death and he had been laid in his pit (grave). He ordered (that he be taken out of the grave) and he was taken out. Then he placed him on his knees and threw some of his saliva on him and clothed him in his (the Prophet's) own shirt. Allah knows better (why he did so). `Abdullah bin Ubai had given his shirt to Al-Abbas to wear. Abu Harun said, "Allah's Messenger (ﷺ) at that time had two shirts and the son of `Abdullah bin Ubai said to him, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Clothe my father in your shirt which has been in contact with your skin.' ' Sufyan added, "Thus people think that the Prophet (ﷺ) clothed `Abdullah bin Ubai in his shirt in lieu of what he (Abdullah) had done (for Al-`Abbas, the Prophet's uncle)
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ عمرو نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عبداللہ بن ابی ( منافق ) کو اس کی قبر میں ڈالا جا چکا تھا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر اسے قبر سے نکال لیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھ کر لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور اپنا کرتہ اسے پہنایا۔ اب اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ( غالباً مرنے کے بعد ایک منافق کے ساتھ اس احسان کی وجہ یہ تھی کہ ) انہوں نے عباس رضی اللہ عنہ کو ایک قمیص پہنائی تھی ( غزوہ بدر میں جب عباس رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے قیدی بن کر آئے تھے ) سفیان نے بیان کیا کہ ابوہارون موسیٰ بن ابی عیسیٰ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استعمال میں دو کرتے تھے۔ عبداللہ کے لڑکے ( جو مومن مخلص تھے رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے والد کو آپ وہ قمیص پہنا دیجئیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر کے قریب رہتی ہے۔ سفیان نے کہا لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کرتہ اس کے کرتے کے بدل پہنا دیا جو اس نے عباس رضی اللہ عنہ کو پہنایا تھا۔
Sahih al-Bukhari 23:130sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَبْرَيْنِ فَقَالَ " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ مِنْ كَبِيرٍ ـ ثُمَّ قَالَ ـ بَلَى أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَسْعَى بِالنَّمِيمَةِ، وَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ ". قَالَ ثُمَّ أَخَذَ عُودًا رَطْبًا فَكَسَرَهُ بِاثْنَتَيْنِ ثُمَّ غَرَزَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى قَبْرٍ، ثُمَّ قَالَ " لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) once passed by two graves and said, "They (the deceased persons in those graves) are being tortured not for a great thing to avoid." And then added, "Yes, (they are being punished for a big sin), for one of them used to go about with calumnies while the other never saved himself from being soiled with his urine." (Ibn `Abbas added): Then he took a green leaf of a date-palm) and split it into two pieces and fixed one piece on each grave and said, "May their punishment be abated till these (two pieces) get dry
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے مجاہد نے ‘ ان سے طاؤس نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو قبروں پر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں کے مردوں پر عذاب ہو رہا ہے اور یہ بھی نہیں کہ کسی بڑی اہم بات پر ہو رہا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! ان میں ایک شخص تو چغل خوری کیا کرتا تھا اور دوسرا پیشاب سے بچنے کے لیے احتیاط نہیں کرتا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہری ٹہنی لی اور اس کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کی قبروں پر گاڑ دیا اور فرمایا کہ شاید جب تک یہ خشک نہ ہوں ان کا عذاب کم ہو جائے۔
Sahih al-Bukhari 23:135sahih
حَدَّثَنَا حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهم ـ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَوْلاَدِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ " اللَّهُ إِذْ خَلَقَهُمْ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ ".
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) was asked about the children of (Mushrikeen) pagans. The Prophet (ﷺ) replied, "Since Allah created them, He knows what sort of deeds they would have done
ہم سے حبان بن موسیٰ مروزی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی ‘ انہیں ابوبشر جعفر نے ‘ انہیں سعید بن جبیر نے ‘ ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے نابالغ بچوں کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب انہیں پیدا کیا تھا اسی وقت وہ خوب جانتا تھا کہ یہ کیا عمل کریں گے۔
Sahih al-Bukhari 23:148sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ أَبُو لَهَبٍ ـ عَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ـ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ. فَنَزَلَتْ {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ} .
Narrated Ibn `Abbas.:Abu Lahab, may Allah curse him, once said to the Prophet (ﷺ), "Perish you all the day." Then the Divine Inspiration came: "Perish the hands of Abi Lahab! And perish he
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا اعمش سے ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیاکہ ابولہب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ سارے دن تجھ پر بربادی ہو۔ اس پر یہ آیت اتری «تبت يدا أبي لهب وتب» یعنی ٹوٹ گئے ہاتھ ابولہب کے اور وہ خود ہی برباد ہو گیا۔
Sahih al-Bukhari 24:1sahih
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مُعَاذًا ـ رضى الله عنه ـ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ " ادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ، تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) sent Mu`adh to Yemen and said, "Invite the people to testify that none has the right to be worshipped but Allah and I am Allah's Messenger (ﷺ), and if they obey you to do so, then teach them that Allah has enjoined on them five prayers in every day and night (in twenty-four hours), and if they obey you to do so, then teach them that Allah has made it obligatory for them to pay the Zakat from their property and it is to be taken from the wealthy among them and given to the poor
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا ‘ ان سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے بیان کیا، ان سے ابومعبد نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن ( کا حاکم بنا کر ) بھیجا تو فرمایا کہ تم انہیں اس کلمہ کی گواہی کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ لوگ یہ بات مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ لوگ یہ بات بھی مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر کچھ صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لے کر انہیں کے محتاجوں میں لوٹا دیا جائے گا۔
Sahih al-Bukhari 24:4sahih
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا الْحَىَّ مِنْ رَبِيعَةَ قَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلاَّ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِشَىْءٍ نَأْخُذُهُ عَنْكَ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا. قَالَ " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الإِيمَانِ بِاللَّهِ وَشَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ـ وَعَقَدَ بِيَدِهِ هَكَذَا ـ وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ ". وَقَالَ سُلَيْمَانُ وَأَبُو النُّعْمَانِ عَنْ حَمَّادٍ " الإِيمَانِ بِاللَّهِ شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ".
Narrated Ibn `Abbas:A delegation of the tribe of `Abdul Qais came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We are from the tribe of Rabi`a, and the infidels of the tribe of Mudar stand between us and you; so we cannot come to you except during the Sacred Months. Please order us to do something (religious deeds) which we may carry out and also invite to it our people whom we have left behind." The Prophet said, "I order you to do four things and forbid you four others: (I order you) to have faith in Allah, and confess that none has the right to be worshipped but Allah, (and the Prophet (ﷺ) gestured with his hand like this (i.e. one knot) and to offer prayers perfectly and to pay the Zakat, and to pay one-fifth of the booty in Allah's Cause. And I forbid you to use Dubba', Hantam, Naqir and Muzaffat (all these are the names of utensils used for preparing alcoholic drinks)
ہم سے حجاج بن منہال نے حدیث بیان کی ‘ کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوجمرہ نصر بن عمران ضبعی نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ آپ نے بتلایا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہم قبیلہ ربیعہ کی ایک شاخ ہیں اور قبیلہ مضر کے کافر ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان پڑتے ہیں۔ اس لیے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صرف حرمت کے مہینوں ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں ( کیونکہ ان مہینوں میں لڑائیاں بند ہو جاتی ہیں اور راستے پرامن ہو جاتے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلا دیجئیے جس پر ہم خود بھی عمل کریں اور اپنے قبیلہ کے لوگوں سے بھی ان پر عمل کرنے کے لیے کہیں جو ہمارے ساتھ نہیں آ سکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کی وحدانیت کی شہادت دینے کا ( یہ کہتے ہوئے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے ایک طرف اشارہ کیا۔ نماز قائم کرنا ‘ پھر زکوٰۃ ادا کرنا اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنے ( کا حکم دیتا ہوں ) اور میں تمہیں کدو کے تونبی سے اور حنتم ( سبز رنگ کا چھوٹا سا مرتبان جیسا گھڑا ) فقیر ( کھجور کی جڑ سے کھودا ہوا ایک برتن ) اور زفت لگا ہوا برتن ( زفت بصرہ میں ایک قسم کا تیل ہوتا تھا ) کے استعمال سے منع کرتا ہوں۔ سلیمان اور ابوالنعمان نے حماد کے واسطہ سے یہی روایت اس طرح بیان کی ہے۔ «الإيمان بالله شهادة أن لا إله إلا الله» یعنی اللہ پر ایمان لانے کا مطلب «لا إله إلا الله» کی گواہی دینا۔
Sahih al-Bukhari 24:52sahih
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَأَتَاهُنَّ وَمَعَهُ بِلاَلٌ نَاشِرَ ثَوْبِهِ فَوَعَظَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي، وَأَشَارَ أَيُّوبُ إِلَى أُذُنِهِ وَإِلَى حَلْقِهِ.
Narrated Ibn `Abbas:I am a witness that Allah's Messenger (ﷺ) offered the Id prayer before delivering the sermon and then he thought that the women would not be able to hear him (because of the distance), so he went to them along with Bilal who was spreading his garment. The Prophet (ﷺ) advised and ordered them to give in charity. So the women started giving their ornaments (in charity). (The sub-narrator Aiyub pointed towards his ears and neck meaning that they gave ornaments from those places such as earrings and necklaces)
ہم سے مؤمل بن ہشام نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اسماعیل نے ایوب سے بیان کیا اور ان سے عطاء بن ابی رباح نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا اس وقت میں موجود تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز ( عید ) پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ عورتوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں پہنچی ‘ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس بھی آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے جو اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو وعظ سنایا اور ان سے صدقہ کرنے کے لیے فرمایا اور عورتیں ( اپنا صدقہ بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ) ڈالنے لگیں۔ یہ کہتے وقت ایوب نے اپنے کان اور گلے کی طرف اشارہ کیا۔
Sahih al-Bukhari 24:60sahih
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا ـ رضى الله عنه ـ عَلَى الْيَمَنِ قَالَ " إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ، فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، فَإِذَا فَعَلُوا، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهُمْ زَكَاةً {تُؤْخَذُ} مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ، وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ ".
Narrated Ibn `Abbas:When Allah's Messenger (ﷺ) sent Mu`adh to Yemen, he said (to him), "YOU are going to people of a (Divine) Book. First of all invite them to worship Allah (alone) and when they come to know Allah, inform them that Allah has enjoined on them, five prayers in every day and night; and if they start offering these prayers, inform them that Allah has enjoined on them, the Zakat. And it is to be taken from the rich amongst them and given to the poor amongst them; and if they obey you in that, take Zakat from them and avoid (don't take) the best property of the people as Zakat
ہم سے امیہ بن بسطام نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے زید بن زریع نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے روح بن قاسم نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن امیہ نے ‘ ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے ‘ ان سے ابومعبد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو ان سے فرمایا کہ دیکھو! تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ( عیسائی یہودی ) ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے انہیں اللہ کی عبادت کی دعوت دینا۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں ( یعنی اسلام قبول کر لیں ) تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ اسے بھی ادا کریں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض قرار دی ہے جو ان کے سرمایہ داروں سے لی جائے گی ( جو صاحب نصاب ہوں گے ) اور انہیں کے فقیروں میں تقسیم کر دی جائے گی۔ جب وہ اسے بھی مان لیں تو ان سے زکوٰۃ وصول کر۔ البتہ ان کی عمدہ چیزیں ( زکوٰۃ کے طور پر لینے سے ) پرہیز کرنا۔
Sahih al-Bukhari 24:68sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْنَبَ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ فَذَكَرْتُهُ لإِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ سَوَاءً، قَالَتْ كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ ". وَكَانَتْ زَيْنَبُ تُنْفِقُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَأَيْتَامٍ فِي حَجْرِهَا، قَالَ فَقَالَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيَجْزِي عَنِّي أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْكَ وَعَلَى أَيْتَامِي فِي حَجْرِي مِنَ الصَّدَقَةِ فَقَالَ سَلِي أَنْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. فَوَجَدْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ عَلَى الْبَابِ، حَاجَتُهَا مِثْلُ حَاجَتِي، فَمَرَّ عَلَيْنَا بِلاَلٌ فَقُلْنَا سَلِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَيَجْزِي عَنِّي أَنْ أُنْفِقَ عَلَى زَوْجِي وَأَيْتَامٍ لِي فِي حَجْرِي وَقُلْنَا لاَ تُخْبِرْ بِنَا. فَدَخَلَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ " مَنْ هُمَا ". قَالَ زَيْنَبُ قَالَ " أَىُّ الزَّيَانِبِ ". قَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ. قَالَ " نَعَمْ لَهَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ ".
Narrated `Amr bin Al-Harith:Zainab, the wife of `Abdullah said, "I was in the Mosque and saw the Prophet (ﷺ) saying, 'O women ! Give alms even from your ornaments.' " Zainab used to provide for `Abdullah and those orphans who were under her protection. So she said to `Abdullah, "Will you ask Allah's Messenger (ﷺ) whether it will be sufficient for me to spend part of the Zakat on you and the orphans who are under my protection?" He replied "Will you yourself ask Allah's Messenger (ﷺ) ?" (Zainab added): So I went to the Prophet and I saw there an Ansari woman who was standing at the door (of the Prophet (ﷺ) ) with a similar problem as mine. Bilal passed by us and we asked him, 'Ask the Prophet (ﷺ) whether it is permissible for me to spend (the Zakat) on my husband and the orphans under my protection.' And we requested Bilal not to inform the Prophet (ﷺ) about us. So Bilal went inside and asked the Prophet (ﷺ) regarding our problem. The Prophet (ﷺ) asked, "Who are those two?" Bilal replied that she was Zainab. The Prophet (ﷺ) said, "Which Zainab?" Bilal said, "The wife of `Abdullah (bin Mas`ud)." The Prophet said, "Yes, (it is sufficient for her) and she will receive a double reward (for that): One for helping relatives, and the other for giving Zakat
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ ان سے شقیق نے ‘ ان سے عمرو بن الحارث نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا نے۔ (اعمش نے) کہا کہ میں نے اس حدیث کا ذکر ابراہیم نحعی سے کیا۔ تو انہوں نے بھی مجھ سے ابوعبیدہ سے بیان کیا۔ ان سے عمرو بن حارث نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب نے ‘ بالکل اسی طرح حدیث بیان کی (جس طرح شقیق نے کی کہ) زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں مسجد نبوی میں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے ‘ صدقہ کرو ‘ خواہ اپنے زیور ہی میں سے دو۔ اور زینب اپنا صدقہ اپنے شوہر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور چند یتیموں پر بھی جو ان کی پرورش میں تھے خرچ کیا کرتی تھیں۔ اس لیے انہوں نے اپنے خاوند سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھئے کہ کیا وہ صدقہ بھی مجھ سے کفایت کرے گا جو میں آپ پر اور ان چند یتیموں پر خرچ کروں جو میری سپردگی میں ہیں۔ لیکن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم خود جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لو۔ آخر میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس وقت میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر ایک انصاری خاتون کو پایا۔ جو میری ہی جیسی ضرورت لے کر موجود تھیں۔ ( جو زینب ابومسعود انصاری کی بیوی تھیں ) پھر ہمارے سامنے سے بلال گذرے۔ تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیجئے کہ کیا وہ صدقہ مجھ سے کفایت کرے گا جسے میں اپنے شوہر اور اپنی زیر تحویل چند یتیم بچوں پر خرچ کر دوں۔ ہم نے بلال سے یہ بھی کہا کہ ہمارا نام نہ لینا۔ وہ اندر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ دو عورتیں مسئلہ دریافت کرتی ہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونوں کون ہیں؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا کہ زینب نام کی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون سی زینب؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! بیشک درست ہے۔ اور انہیں دو گنا ثواب ملے گا۔ ایک قرابت داری کا اور دوسرا خیرات کرنے کا۔
Sahih al-Bukhari 24:92sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبِّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ وَجَدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم شَاةً مَيِّتَةً أُعْطِيَتْهَا مَوْلاَةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَلاَّ انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا ". قَالُوا إِنَّهَا مَيْتَةٌ. قَالَ " إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) saw a dead sheep which had been given in charity to a freed slave-girl of Maimuna, the wife of the Prophet (ﷺ) . The Prophet (ﷺ) said, "Why don't you get the benefit of its hide?" They said, "It is dead." He replied, "Only to eat (its meat) is illegal
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا کی باندی کو جو بکری صدقہ میں کسی نے دی تھی وہ مری ہوئی دیکھی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اس کے چمڑے کو کیوں نہیں کام میں لائے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ تو مردہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حرام تو صرف اس کا کھانا ہے۔
Sahih al-Bukhari 24:96sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ " إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ ".
Narrated Abu Ma`bad:(the slave of Ibn `Abbas) Allah's Messenger (ﷺ) said to Mu`adh when he sent him to Yemen, "You will go to the people of the Scripture. So, when you reach there, invite them to testify that none has the right to be worshipped but Allah, and that Muhammad is His Apostle. And if they obey you in that, tell them that Allah has enjoined on them five prayers in each day and night. And if they obey you in that tell them that Allah has made it obligatory on them to pay the Zakat which will be taken from the rich among them and given to the poor among them. If they obey you in that, then avoid taking the best of their possessions, and be afraid of the curse of an oppressed person because there is no screen between his invocation and Allah
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں زکریا ابن اسحاق نے خبر دی ‘ انہیں یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے ‘ انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابومعبد نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن بھیجا ‘ تو ان سے فرمایا کہ تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں۔ اس لیے جب تم وہاں پہنچو تو پہلے انہیں دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے سچے رسول ہیں۔ وہ اس بات میں جب تمہاری بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ دن رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ دینا ضروری قرار دیا ہے ‘ یہ ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں پر خرچ کی جائے گی۔ پھر جب وہ اس میں بھی تمہاری بات مان لیں تو ان کے اچھے مال لینے سے بچو اور مظلوم کی آہ سے ڈرو کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔
Sahih al-Bukhari 25:23sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ رُئِيَ وَهُوَ فِي مُعَرَّسٍ بِذِي الْحُلَيْفَةِ بِبَطْنِ الْوَادِي قِيلَ لَهُ إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ. وَقَدْ أَنَاخَ بِنَا سَالِمٌ، يَتَوَخَّى بِالْمُنَاخِ الَّذِي كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُنِيخُ، يَتَحَرَّى مُعَرَّسَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ أَسْفَلُ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِبَطْنِ الْوَادِي، بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الطَّرِيقِ وَسَطٌ مِنْ ذَلِكَ.
Narrated Musa bin `Uqba:Salim bin `Abdullah's father said, "The Prophet (ﷺ) said that while resting in the bottom of the valley at Muarras in Dhul-Hulaifa, he had been addressed in a dream: 'You are verily in a blessed valley.' " Salim made us to dismount from our camels at the place where `Abdullah used to dismount, aiming at the place where Allah's Messenger (ﷺ) had rested and it was below the Mosque situated in the middle of the valley in between them (the residence) and the road
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سالم بن عبداللہ بن عمر نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے کہ معرس کے قریب ذوالحلیفہ کی بطن وادی ( وادی عقیق ) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب دکھایا گیا۔ ( جس میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا تھا کہ آپ اس وقت ”بطحاء مبارکہ“ میں ہیں۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ سالم نے ہم کو بھی وہاں ٹھہرایا وہ اس مقام کو ڈھونڈ رہے تھے جہاں عبداللہ اونٹ بٹھایا کرتے تھے یعنی جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اترا کرتے تھے۔ وہ مقام اس مسجد کے نیچے کی طرف میں ہے جو نالے کے نشیب میں ہے۔ اترنے والوں اور راستے کے بیچوں بیچ ( وادی عقیق مدینہ سے چار میل بقیع کی جانب ہے ) ۔
Sahih al-Bukhari 25:113sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنِ الصَّلاَةِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا.
Narrated `Abdullah:I heard the Prophet (ﷺ) forbidding the offering of prayers at the time of sunrise and sunset
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورج طلوع ہوتے اور غروب ہوتے وقت نماز پڑھنے سے روکتے تھے۔
Sahih al-Bukhari 25:126sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا طَافَ الطَّوَافَ الأَوَّلَ خَبَّ ثَلاَثًا وَمَشَى أَرْبَعًا، وَكَانَ يَسْعَى بَطْنَ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ. فَقُلْتُ لِنَافِعٍ أَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَمْشِي إِذَا بَلَغَ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ قَالَ لاَ. إِلاَّ أَنْ يُزَاحَمَ عَلَى الرُّكْنِ فَإِنَّهُ كَانَ لاَ يَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَلِمَهُ.
Narrated Nafi`:Ibn `Umar said, "When Allah's Messenger (ﷺ) performed the first Tawaf he did Ramal in the first three rounds and then walked in the remaining four rounds (of Tawaf of the Ka`ba), where as in performing Tawaf between Safa and Marwa he used to run in the midst of the rainwater passage," I asked Nafi`, "Did `Abdullah (bin `Umar) use to walk steadily on reaching the Yemenite Corner?" He replied, "No, unless people were crowded at the Corner; otherwise he would not leave it without touching it
ہم نے محمد بن عبید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عمر نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلا طواف کرتے تو اس کے تین چکروں میں رمل کرتے اور بقیہ چار میں معمول کے مطابق چلتے اور جب صفا اور مروہ کی سعی کرتے تو آپ نالے کے نشیب میں دوڑا کرتے تھے۔ عبیداللہ نے کہا میں نے نافع سے پوچھا، ابن عمر رضی اللہ عنہما جب رکن یمانی کے پاس پہنچتے تو کیا حسب معمول چلنے لگتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ البتہ اگر رکن یمانی پر ہجوم ہوتا تو حجر اسود کے پاس آ کر آپ آہستہ چلنے لگتے کیونکہ وہ بغیر چومے اس کو نہیں چھوڑتے تھے۔
Sahih al-Bukhari 25:143sahih
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ، عَامَ نَزَلَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ ـ رضى الله عنهما ـ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ كَيْفَ تَصْنَعُ فِي الْمَوْقِفِ يَوْمَ عَرَفَةَ فَقَالَ سَالِمٌ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ فَهَجِّرْ بِالصَّلاَةِ يَوْمَ عَرَفَةَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ صَدَقَ. إِنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السُّنَّةِ. فَقُلْتُ لِسَالِمٍ أَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ سَالِمٌ وَهَلْ تَتَّبِعُونَ فِي ذَلِكَ إِلاَّ سُنَّتَهُ
Ibn Shihab said:Salim said, "In the year when Al-Hajjaj bin Yusuf attacked Ibn Az-Zubair, the former asked 'Abdullah (Ibn 'Umar) what to do during the stay on the Day of 'Arafa (9th of Dhul-Hijjah). I said to him, "If you want to follow the Sunna (the legal way of the Prophet (ﷺ)) you should offer the Salat just after midday on the Day of the 'Arafa. 'Abdullah bin 'Umar said, 'He (Salim) has spoken the truth.' " They (the Companions of the Prophet (ﷺ)) used to offer the Zuhr and Asr prayer together according to the Sunna, I asked Salim, "Did Allah's Messenger (ﷺ) do that ?" Salim said, "And in doing that do you (people) follow anything else except his (ﷺ) Sunna?
لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے عقیل نے ابن شہاب سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی کہ حجاج بن یوسف جس سال عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑنے کے لیے مکہ میں اترا تو اس موقع پر اس نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ عرفہ کے دن وقوف میں آپ کیا کرتے تھے؟ اس پر سالم رحمہ اللہ بولے کہ اگر تو سنت پر چلنا چاہتا ہے تو عرفہ کے دن نماز دوپہر ڈھلتے ہی پڑھ لینا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سالم نے سچ کہا، صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ظہر اور عصر ایک ہی ساتھ پڑھتے تھے۔ میں نے سالم سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا؟ سالم نے فرمایا اور کس کی سنت پر اس مسئلہ میں چلتے ہو۔
Sahih al-Bukhari 25:155sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ حَجَّ عَبْدُ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ فَأَتَيْنَا الْمُزْدَلِفَةَ حِينَ الأَذَانِ بِالْعَتَمَةِ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَ رَجُلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ، وَصَلَّى بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ فَتَعَشَّى، ثُمَّ أَمَرَ ـ أُرَى رَجُلاً ـ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ـ قَالَ عَمْرٌو لاَ أَعْلَمُ الشَّكَّ إِلاَّ مِنْ زُهَيْرٍ ـ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا طَلَعَ الْفَجْرُ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ لاَ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ إِلاَّ هَذِهِ الصَّلاَةَ، فِي هَذَا الْمَكَانِ، مِنْ هَذَا الْيَوْمِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ هُمَا صَلاَتَانِ تُحَوَّلاَنِ عَنْ وَقْتِهِمَا صَلاَةُ الْمَغْرِبِ بَعْدَ مَا يَأْتِي النَّاسُ الْمُزْدَلِفَةَ، وَالْفَجْرُ حِينَ يَبْزُغُ الْفَجْرُ. قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُهُ.
Narrated `Abdur-Rahman bin Yazid:`Abdullah;- performed the Hajj and we reached Al-Muzdalifa at or about the time of the `Isha' prayer. He ordered a man to pronounce the Adhan and Iqama and then he offered the Maghrib prayer and offered two rak`at after it. Then he asked for his supper and took it, and then, I think, he ordered a man to pronounce the Adhan and Iqama (for the `Isha' prayer). (`Amr, a sub-narrator said: The intervening statement 'I think', was said by the sub-narrator Zuhair) (i.e. not by `Abdur-Rahman). Then `Abdullah offered two rak`at of `Isha' prayer. When the day dawned, `Abdullah said, "The Prophet never offered any prayer at this hour except this prayer at this time and at this place and on this day." `Abdullah added, "These two prayers are shifted from their actual times -- the Maghrib prayer (is offered) when the people reached Al-Muzdalifa and the Fajr (morning) prayer at the early dawn." `Abdullah added, "I saw the Prophet (ﷺ) doing that
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسحٰق عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے سنا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حج کیا، آپ کے ساتھ تقریباً عشاء کی اذان کے وقت ہم مزدلفہ میں بھی آئے، آپ نے ایک شخص کو حکم دیا اس نے اذان اور تکبیر کہی اور آپ نے مغرب کی نماز پڑھی، پھر دو رکعت ( سنت ) اور پڑھی اور شام کا کھانا منگوا کر کھایا۔ میرا خیال ہے ( راوی حدیث زہیر کا ) کہ پھر آپ نے حکم دیا اور اس شخص نے اذان دی اور تکبیر کہی عمرو ( راوی حدیث ) نے کہا میں یہی سمجھتا ہوں کہ شک زہیر ( عمرو کے شیخ ) کو تھا، اس کے بعد عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی۔ جب صبح صادق ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز ( فجر ) کو اس مقام اور اس دن کے سوا اور کبھی اس وقت ( طلوع فجر ہوتے ہی ) نہیں پڑھتے تھے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ صرف دو نمازیں ( آج کے دن ) اپنے معمولی وقت سے ہٹا دی جاتی ہیں۔ جب لوگ مزدلفہ آتے ہیں تو مغرب کی نماز ( عشاء کے ساتھ ملا کر ) پڑھی جاتی ہے اور فجر کی نماز طلوع فجر کے ساتھ ہی۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔
Sahih al-Bukhari 25:159sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ، مَوْلَى أَسْمَاءَ عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّهَا نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمْعٍ عِنْدَ الْمُزْدَلِفَةِ، فَقَامَتْ تُصَلِّي، فَصَلَّتْ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَتْ يَا بُنَىَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ لاَ. فَصَلَّتْ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَتْ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ نَعَمْ. قَالَتْ فَارْتَحِلُوا. فَارْتَحَلْنَا، وَمَضَيْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ، ثُمَّ رَجَعَتْ فَصَلَّتِ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا. فَقُلْتُ لَهَا يَا هَنْتَاهْ مَا أُرَانَا إِلاَّ قَدْ غَلَّسْنَا. قَالَتْ يَا بُنَىَّ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَذِنَ لِلظُّعُنِ.
Narrated `Abdullah:(the slave of Asma') During the night of Jam', Asma' got down at Al-Muzdalifa and stood up for (offering) the prayer and offered the prayer for some time and then asked, "O my son! Has the moon set?" I replied in the negative and she again prayed for another period and then asked, "Has the moon set?" I replied, "Yes." So she said that we should set out (for Mina), and we departed and went on till she threw pebbles at the Jamra (Jamrat-Al-`Aqaba) and then she returned to her dwelling place and offered the morning prayer. I asked her, "O you! I think we have come (to Mina) early in the night." She replied, "O my son! Allah's Messenger (ﷺ) gave permission to the women to do so
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید بن قطان نے، ان سے ابن جریج نے بیان کیا کہ ان سے اسماء کے غلام عبداللہ نے بیان کیا کہ ان سے اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما نے کہ وہ رات ہی میں مزدلفہ پہنچ گئیں اور کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگیں، کچھ دیر تک نماز پڑھنے کے بعد پوچھا بیٹے! کیا چاند ڈوب گیا؟ میں نے کہا کہ نہیں، اس لیے وہ دوبارہ نماز پڑھنے لگیں کچھ دیر بعد پھر پوچھا کیا چاند ڈوب گیا؟ میں نے کہا ہاں، انہوں نے کہا کہ اب آگے چلو ( منی کو ) چنانچہ ہم ان کے ساتھ آگے چلے، وہ ( منی میں ) رمی جمرہ کرنے کے بعد پھر واپس آ گئیں اور صبح کی نماز اپنے ڈیرے پر پڑھی میں نے کہا جناب! یہ کیا بات ہوئی کہ ہم نے اندھیرے ہی میں نماز پڑھ لی۔ انہوں نے کہا بیٹے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اس کی اجازت دی ہے۔
Sahih al-Bukhari 25:162sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى صَلاَةً بِغَيْرِ مِيقَاتِهَا إِلاَّ صَلاَتَيْنِ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَصَلَّى الْفَجْرَ قَبْلَ مِيقَاتِهَا.
Narrated `Abdullah:I never saw the Prophet (ﷺ) offering any prayer not at its stated time except two; he prayed the Maghrib and the `Isha' together and he offered the morning prayer before its usual time
ہم سے عمرو بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمارہ نے عبدالرحمٰن بن یزید سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ دو نمازوں کے سوا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور کوئی نماز بغیر وقت نہیں پڑھتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھیں اور فجر کی نماز بھی اس دن ( مزدلفہ میں ) معمول کے وقت سے پہلے ادا کی۔
Sahih al-Bukhari 25:163sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ إِلَى مَكَّةَ، ثُمَّ قَدِمْنَا جَمْعًا، فَصَلَّى الصَّلاَتَيْنِ، كُلَّ صَلاَةٍ وَحْدَهَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ، وَالْعَشَاءُ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، قَائِلٌ يَقُولُ طَلَعَ الْفَجْرُ. وَقَائِلٌ يَقُولُ لَمْ يَطْلُعِ الْفَجْرُ. ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلاَتَيْنِ حُوِّلَتَا عَنْ وَقْتِهِمَا فِي هَذَا الْمَكَانِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، فَلاَ يَقْدَمُ النَّاسُ جَمْعًا حَتَّى يُعْتِمُوا، وَصَلاَةَ الْفَجْرِ هَذِهِ السَّاعَةَ ". ثُمَّ وَقَفَ حَتَّى أَسْفَرَ، ثُمَّ قَالَ لَوْ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَاضَ الآنَ أَصَابَ السُّنَّةَ. فَمَا أَدْرِي أَقَوْلُهُ كَانَ أَسْرَعَ أَمْ دَفْعُ عُثْمَانَ ـ رضى الله عنه ـ فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ.
Narrated `Abdur-Rahman bin Yazid:I went out with `Abdullah to Mecca and when we proceeded to Jam', he offered the two prayers (the Maghrib and the `Isha') together, making the Adhan and Iqama separately for each prayer. He took his supper in between the two prayers. He offered the Fajr prayer as soon as the day dawned. Some people said, "The day had dawned (at the time of the prayer)," and others said, "The day had not dawned." `Abdullah then said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'These two prayers have been shifted from their stated times at this place only (at Al-Muzdalifa); first: The Maghrib and the `Isha'. So the people should not arrive at Al-Muzdalifa till the time of the `Isha' prayer has become due. The second prayer is the morning prayer which is offered at this hour.' " Then `Abdullah stayed there till it became a bit brighter. He then said, "If the chief of the believers hastened onwards to Mina just now, then he had indeed followed the Sunna." I do not know which proceeded the other, his (`Abdullah's) statement or the departure of `Uthman . `Abdullah was reciting Talbiya till he threw pebbles at the Jamrat-Al- `Aqaba on the Day of Nahr (slaughtering) (that is the 10th of Dhul-Hijja)
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے ( حج شروع کیا ) پھر جب ہم مزدلفہ آئے تو آپ نے دو نمازیں ( اس طرح ایک ساتھ ) پڑھیں کہ ہر نماز ایک الگ اذان اور ایک الگ اقامت کے ساتھ تھی اور رات کا کھانا دونوں کے درمیان میں کھایا، پھر طلوع صبح کے ساتھ ہی آپ نے نماز فجر پڑھی، کوئی کہتا تھا کہ ابھی صبح صادق نہیں ہوئی اور کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ ہو گئی۔ اس کے بعد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا یہ دونوں نمازیں اس مقام سے ہٹا دی گئیں ہیں، یعنی مغرب اور عشاء، مزدلفہ میں اس وقت داخل ہوں کہ اندھیرا ہو جائے اور فجر کی نماز اس وقت۔ پھر عبداللہ اجالے تک وہیں مزدلفہ میں ٹھہرے رہے اور کہا کہ اگر امیرالمؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ اس وقت چلیں تو یہ سنت کے مطابق ہو گا۔ ( حدیث کے راوی عبدالرحمٰن بن یزید نے کہا ) میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ الفاظ ان کی زبان سے پہلے نکلے یا عثمان رضی اللہ عنہ کی روانگی پہلے شروع ہوئی، آپ دسویں تاریخ تک جمرہ عقبہ کی رمی تک برابر لبیک پکارتے رہے۔
Sahih al-Bukhari 25:172sahih
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهم ـ لأَبِيهِ أَقِمْ، فَإِنِّي لاَ آمَنُهَا أَنْ سَتُصَدُّ عَنِ الْبَيْتِ. قَالَ إِذًا أَفْعَلَ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ قَالَ اللَّهُ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} فَأَنَا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عَلَى نَفْسِي الْعُمْرَةَ. فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، قَالَ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَقَالَ مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلاَّ وَاحِدٌ. ثُمَّ اشْتَرَى الْهَدْىَ مِنْ قُدَيْدٍ، ثُمَّ قَدِمَ فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا، فَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا.
Narrated Nafi`:`Abdullah (bin `Abdullah) bin `Umar said to his father, "Stay here, for I am afraid that it (affliction between Ibn Az-Zubair and Al-Hajjaj) might prevent you from reaching the Ka`ba." Ibn `Umar said, "(In this case) I would do the same as Allah's Messenger (ﷺ) did, and Allah has said, 'Verily, in Allah's Messenger (ﷺ), you have a good example (to follow).' So, I make you, people, witness that I have made `Umra compulsory for me." So he assumed Ihram for `Umra. Then he went out and when he reached Al- Baida', he assumed Ihram for Hajj and `Umra (together) and said, "The conditions (requisites) of Hajj and `Umra are the same." He, then brought a Hadi from Qudaid. Then he arrived (at Mecca) and performed Tawaf (between Safa and Marwa) once for both Hajj and `Umra and did not finish the Ihram till he had finished both Hajj and `Umra
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سے کہا (جب وہ حج کے لیے نکل رہے تھے) کہ آپ نہ جائیے کیوں کہ میرا خیال ہے کہ ( بدامنی کی وجہ سے ) آپ کو بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا جائے گا۔ انہوں نے فرمایا کہ پھر میں بھی وہی کام کروں گا جو ( ایسے موقعہ پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے“ میں اب تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کر لیا ہے، چنانچہ آپ نے عمرہ کا احرام باندھا، انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ نکلے اور جب بیداء پہنچے تو حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا اور فرمایا کہ حج اور عمرہ دونوں تو ایک ہی ہیں اس کے بعد قدید پہنچ کر ہدی خریدی پھر مکہ آ کر دونوں کے لیے طواف کیا اور درمیان میں نہیں بلکہ دونوں سے ایک ہی ساتھ حلال ہوئے۔
Sahih al-Bukhari 25:186sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ الْحَجَّ عَامَ حَجَّةِ الْحَرُورِيَّةِ فِي عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ـ رضى الله عنهما ـ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ، وَنَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ. فَقَالَ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} إِذًا أَصْنَعَ كَمَا صَنَعَ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَوْجَبْتُ عُمْرَةً. حَتَّى كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ قَالَ مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلاَّ وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي جَمَعْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَةٍ. وَأَهْدَى هَدْيًا مُقَلَّدًا اشْتَرَاهُ حَتَّى قَدِمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ، وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَوْمِ النَّحْرِ، فَحَلَقَ وَنَحَرَ وَرَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَهُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ بِطَوَافِهِ الأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ كَذَلِكَ صَنَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Nafi`:Ibn `Umar intended to perform Hajj in the year of the Hajj of Al-Harawriya during the rule of Ibn Az-Zubair. Some people said to him, "It is very likely that there will be a fight among the people, and we are afraid that they might prevent you (from performing Hajj)." He replied, "Verily, in Allah's Messenger (ﷺ) there is a good example for you (to follow). In this case I would do the same as he had done. I make you witness that I have intended to perform `Umra." When he reached Al-Baida', he said, "The conditions for both Hajj and `Umra are the same. I make you witness that I have intended to perform Hajj along with `Umra." After that he took a garlanded Hadi (to Mecca) which he bought (on the way). When he reached (Mecca), he performed Tawaf of the Ka`ba and of Safa (and Marwa) and did not do more than that. He did not make legal for himself the things which were illegal for a Muhrim till it was the Day of Nahr (sacrifice), when he had his head shaved and slaughtered (the sacrifice) and considered sufficient his first Tawaf (between Safa and Marwa), as a (Sa`i) for his Hajj and `Umra both. He then said, "The Prophet (ﷺ) used to do like that
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے عہد خلافت میں حجۃ الحروریہ کے سال حج کا ارادہ کیا تو ان سے کہا گیا کہ لوگوں میں باہم قتل و خون ہونے والا ہے اور ہم کو خطرہ اس کا ہے کہ آپ کو ( مفسد لوگ حج سے ) روک دیں، آپ نے جواب میں یہ آیت سنائی کہ ”تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔“ اس وقت میں بھی وہی کام کروں گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کر لیا ہے، پھر جب آپ بیداء کے بالائی حصہ تک پہنچے تو فرمایا کہ حج اور عمرہ تو ایک ہی ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ عمرہ کے ساتھ میں نے حج کو بھی جمع کر لیا ہے، پھر آپ نے ایک ہدی بھی ساتھ لے لی جسے ہار پہنایا گیا تھا۔ آپ نے اسے خرید لیا یہاں تک کہ آپ مکہ آئے تو بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کی، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کیا جو چیزیں ( احرام کی وجہ سے ان پر ) حرام تھیں ان میں سے کسی سے قربانی کے دن تک وہ حلال نہیں ہوئے، پھر سر منڈوایا اور قربانی کی وجہ یہ سمجھتے تھے کہ اپنا پہلا طواف کر کے انہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا طواف پورا کر لیا ہے پھر آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔
Sahih al-Bukhari 25:188sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ كَانَ يَنْحَرُ فِي الْمَنْحَرِ. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ مَنْحَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Nafi`:`Abdullah (bin `Umar), used to slaughter (his sacrifice) at the Manhar. ('Ubaidullah, a sub-narrator said, "The Manhar of Allah's Messenger (ﷺ)
ہم سے اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بیان کیا، انہوں نے خالد بن حارث سے سنا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نحر کرنے کی جگہ نحر کرتے تھے، عبیداللہ بن بتایا کہ مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نحر کرنے کی جگہ سے تھی۔
Sahih al-Bukhari 25:189sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ يَبْعَثُ بِهَدْيِهِ مِنْ جَمْعٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، حَتَّى يُدْخَلَ بِهِ مَنْحَرُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَعَ حُجَّاجٍ فِيهِمُ الْحُرُّ وَالْمَمْلُوكُ.
Narrated Nafi`:Ibn `Umar used to send his Hadi from Jam' (to Mina) in the last third of the night with the pilgrims amongst whom there were free men and slaves, till it was taken into the Manhar (slaughtering place) of the Prophet (ﷺ)
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی قربانی کے جانوروں کو مزدلفہ سے آخر رات میں منیٰ بھجوا دیتے، یہ قربانیاں جن میں حاجی لوگ نیز غلام اور آزاد دونوں طرح کے لوگ ہوتے، اس مقام میں لے جاتے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نحر کیا کرتے تھے۔
Sahih al-Bukhari 25:191sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَتَى عَلَى رَجُلٍ، قَدْ أَنَاخَ بَدَنَتَهُ يَنْحَرُهَا، قَالَ ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً، سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ شُعْبَةُ عَنْ يُونُسَ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ.
Narrated Ziyad bin Jubair:I saw Ibn `Umar passing by a man who had made his Badana sit to slaughter it. Ibn `Umar said, "Slaughter it while it is standing with one leg tied up as is the tradition of Muhammad
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے زیاد بن جبیر نے کہ میں نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک شخص کے پاس آئے جو اپنا اونٹ بٹھا کر نحر کر رہا تھا، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسے کھڑا کر اور باندھ دے، پھر نحر کر کہ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ شعبہ نے یونس سے بیان کیا کہ مجھے زیادہ نے خبر دی۔
Sahih al-Bukhari 25:207sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ حَلَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَطَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ.
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) and some of his companions got their heads shaved and some others got their hair cut short
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے، ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے اصحاب نے سر منڈوایا تھا لیکن بعض نے کتروایا بھی تھا۔
Sahih al-Bukhari 25:225sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ رَمَى عَبْدُ اللَّهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا، فَقَالَ وَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ بِهَذَا.
Narrated `Abdur-Rahman bin Yazid:`Abdullah, did the Rami from the middle of the valley. So, I said, "O, Abu `Abdur-Rahman! Some people do the Rami (of the Jamra) from above it (i.e. from the top of the valley)." He said, "By Him except whom none has the right to be worshipped, this is the place from where the one on whom Surat-al-Baqara was revealed (i.e. Allah's Messenger (ﷺ)) did the Rami
محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابراہیم نے اور ان سے عبدالرحمٰن بن زید نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وادی کے نشیب ( بطن وادی ) میں کھڑے ہو کر کنکری ماری تو میں نے کہا، اے ابوعبدالرحمٰن! کچھ لوگ تو وادی کے بالائی علاقہ سے کنکریاں مارتے ہیں، اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہی ( بطن وادی ) ان کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے ( رمی کرتے وقت ) جن پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی تھی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ عبداللہ بن ولید نے بیان کیا کہ ان سے سفیان ثوری نے اور ان سے اعمش نے یہی حدیث بیان کی۔
Sahih al-Bukhari 25:226sahih
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَ��ْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى جَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ، وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ، وَرَمَى بِسَبْعٍ، وَقَالَ هَكَذَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ صلى الله عليه وسلم.
Narrated `Abdur-Rahman bin Yazid:When `Abdullah, reached the big Jamra (i.e. Jamrat-ul-Aqaba) he kept the Ka`ba on the left side and Mina on his right side and threw seven pebbles (at the Jamra) and said, "The one on whom Surat-al- Baqara was revealed (i.e. the Prophet) had done the Rami similarly
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نحعی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمرہ کبریٰ کے پاس پہنچے تو کعبہ کو اپنے بائیں طرف کیا اور منیٰ کو دائیں طرف، پھر سات کنکریوں سے رمی کی اور فرمایا کہ جن پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی تھی صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے بھی اسی طرح رمی کی تھی۔ ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) ۔
Sahih al-Bukhari 27:3sahih
حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ بَعْضَ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَهُ لَوْ أَقَمْتَ. بِهَذَا.
Narrated Nafi`:Some of the sons of `Abdullah told him (i.e. `Abdullah) if he had stayed (and not performed Hajj that year)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ان سے نافع نے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کے کسی بیٹے نے ان سے کہا تھا کاش آپ اس سال رک جاتے ( تو اچھا ہوتا اسی اوپر والے واقعہ کی طرف اشارہ ہے ) ۔
Sahih al-Bukhari 27:7sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَدْرٍ، شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ، قَالَ وَحَدَّثَ نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، وَسَالِمًا، كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ فَقَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُعْتَمِرِينَ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بُدْنَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ.
Narrated Nafi`:That `Abdullah and Salim said to `Abdullah bin `Umar, "(You should not go for Hajj this year)." `Abdullah bin `Umar replied, "We set out with the Prophet (to Mecca for performing `Umra) and the infidels of Quraish prevented us from reaching the Ka`ba. Allah's Messenger (ﷺ) slaughtered his Budn (camels for sacrifice) and got his head shaved
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابوبدر شجاع بن ولید نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے معمر بن محمد عمری نے بیان کیا اور ان سے نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ اور سالم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گفتگو کی، ( کہ وہ اس سال مکہ نہ جائیں ) تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھ کر گئے تھے اور کفار قریش نے ہمیں بیت اللہ سے روک دیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کو نحر کیا اور سر منڈایا۔