VisualDhikr|

Hajjat-al-Wada`

View in graph
event

Hajjat-al-Wada`

حجة الوداع

Hajjat al-Wada`, or the Farewell Hajj, represents the singular pilgrimage undertaken by Prophet Muhammad to Mecca in 632 CE (10 AH). More than a prescribed ritual, which Allah commanded when He instructed [proclaim to the people the Hajj [pilgrimage]; they will come to you on foot and on every lean camel], this event was a pivotal moment in Islamic history. It served as a profound culmination of his prophetic mission and a final, compassionate address to his community. During this sacred journey, he delivered his historic Farewell Sermon (Khutbat al-Wada`), an address brimming with essential guidance for humanity. He emphasized the sanctity of life and property, the importance of justice and equality, and the brotherhood of all Muslims, reminding them that [indeed, the believers are brothers]. The sermon underscored the finality of his prophethood and the completeness of Allah's message, famously proclaiming, [This day I have perfected for you your religion and completed My favor upon you and have approved for you Islam as religion]. This declaration, revealed during the Hajj, signifies the full establishment of the Islamic way of life. The Farewell Hajj thus serves as a timeless blueprint for Muslim conduct, reinforcing core Islamic values and ensuring the enduring legacy of the Prophet's teachings and the unity of the Muslim Ummah.

Hadith 6 traditions

Sahih al-Bukhari 28:33sahih

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهم ـ أَنَّ امْرَأَةً، ح‏.‏

Narrated Ibn `Abbas:A woman from the tribe of Khath'am came in the year (of ,Hajjat-al-Wada` of the Prophet (ﷺ) ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My father has come under Allah's obligation of performing Hajj but he is a very old man and cannot sit properly on his Mount. Will the obligation be fulfilled if I perform Hajj on his behalf?" The Prophet (ﷺ) replied in the affirmative

ہم سے ابوعاصم نے ابن جریج سے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے ابن شہاب نے، ان سے سلیمان بن یسار نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے فضل بن عیاض رضی اللہ عنہم نے کہ ایک خاتون۔۔۔ ( حدیث نمبر 1854 دیکھیں)

Sahih al-Bukhari 28:37sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَقْبَلْتُ وَقَدْ نَاهَزْتُ الْحُلُمَ، أَسِيرُ عَلَى أَتَانٍ لِي، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ يُصَلِّي بِمِنًى، حَتَّى سِرْتُ بَيْنَ يَدَىْ بَعْضِ الصَّفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ نَزَلْتُ عَنْهَا فَرَتَعَتْ، فَصَفَفْتُ مَعَ النَّاسِ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَقَالَ يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِمِنًى فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ‏.‏

Narrated `Abdullah bin `Abbas:I came riding on my she-ass and had (just) then attained the age of puberty. Allah's Messenger (ﷺ) was praying at Mina. I passed in front of a part of the first row and then dismounted from it, and the animal started grazing. I aligned with the people behind Allah's Messenger (ﷺ) (The sub-narrator added that happened in Mina during the Prophet's Hajjat-al-Wada)

ہم سے اسحٰق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، ان سے ان کے بھتیجے ابن شہاب زہری نے بیان کیا، ان سے ان کے چچا نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے، خبر دی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا میں اپنی ایک گدھی پر سوار ہو کر ( منیٰ میں آیا ) اس وقت میں جوانی کے قریب تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں کھڑے نماز پڑھا رہے تھے۔ میں پہلی صف کے ایک حصہ کے آگے سے ہو کر گزرا پھر سواری سے نیچے اتر آیا اور اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لوگوں کے ساتھ صف میں شریک ہو گیا، یونس نے ابن شہاب کے واسطہ سے بیان کیا کہ یہ حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ کا واقعہ ہے۔

Sahih al-Bukhari 77:145sahih

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، أَوْ مُحَمَّدٌ عَنْهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، سَمِعَ عُرْوَةَ، وَالْقَاسِمَ، يُخْبِرَانِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ بِذَرِيرَةٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، لِلْحِلِّ وَالإِحْرَامِ‏.‏

Narrated `Aisha:During Hajjat-al-Wada`, I perfumed Allah's Messenger (ﷺ) with Dharira with my own hands, both on his assuming Ihram and on finishing it

ہم سے عثمان بن ہشیم نے بیان کیا یا محمد بن یحییٰ دیلی نے، انہیں عثمان بن ہشیم نے (امام بخاری رحمہ اللہ کو شک ہے) ان سے ابن جریج نے انہوں نے کہا مجھ کو عمر بن عبداللہ بن عروہ بن شہر نے خبر دی، انہوں نے عروہ اور قاسم دونوں سے سنا، وہ دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے تھے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر احرام کھولنے اور احرام باندھنے کے وقت اپنے ہاتھ سے ذریرہ ( ایک قسم کی مرکب ) خوشبو لگائی تھی۔

Sahih al-Bukhari 86:14sahih

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ أَبِي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ‏"‏ أَلاَ أَىُّ شَهْرٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمُ حُرْمَةً ‏"‏‏.‏ قَالُوا أَلاَ شَهْرُنَا هَذَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلاَ أَىُّ بَلَدٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمُ حُرْمَةً ‏"‏‏.‏ قَالُوا أَلاَ بَلَدُنَا هَذَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلاَ أَىُّ يَوْمٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمُ حُرْمَةً ‏"‏‏.‏ قَالُوا أَلاَ يَوْمُنَا هَذَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ حَرَّمَ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ، إِلاَّ بِحَقِّهَا، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ ‏"‏‏.‏ ـ ثَلاَثًا كُلُّ ذَلِكَ يُجِيبُونَهُ أَلاَ نَعَمْ ـ قَالَ ‏"‏ وَيْحَكُمْ ـ أَوْ وَيْلَكُمْ ـ لاَ تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"‏‏.‏

Narrated `Abdullah:Allah's Apostle said in Hajjat-al-Wada`, "Which month (of the year) do you think is most sacred?" The people said, "This current month of ours (the month of Dhull-Hijja)." He said, "Which town (country) do you think is the most sacred?" They said, "This city of ours (Mecca)." He said, "Which day do you think is the most sacred?" The people said, "This day of ours." He then said, "Allah, the Blessed, the Supreme, has made your blood, your property and your honor as sacred as this day of yours in this town of yours, in this month of yours (and such protection cannot be slighted) except rightfully." He then said thrice, "Have I conveyed Allah's Message (to you)?" The people answered him each time saying, 'Yes." The Prophet (ﷺ) added, 'May Allah be merciful to you (or, woe on you)! Do not revert to disbelief after me by cutting the necks of each other

مجھ سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم عاصم بن محمد نے بیان کیا، ان سے واقد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے سنا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا ”ہاں تم لوگ کس چیز کو سب سے زیادہ حرمت والی سمجھتے ہو؟“ لوگوں نے کہا کہ اپنے اسی مہینہ کو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں، کس شہر کو تم سب سے زیادہ حرمت والا سمجھتے ہو؟“ لوگوں نے جواب دیا کہ اپنے اسی شہر کو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”ہاں، کس دن کو تم سب سے زیادہ حرمت والا خیال کرتے ہو؟“ لوگوں نے کہا کہ اپنے اسی دن کو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اب فرمایا ”پھر بلاشبہ اللہ نے تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتوں کو حرمت والا قرار دیا ہے، سوا اس کے حق کے، جیسا کہ اس دن کی حرمت اس شہر اور اس مہینہ میں ہے۔ ہاں! کیا میں نے تمہیں پہنچا دیا۔“ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ہر مرتبہ صحابہ نے جواب دیا کہ جی ہاں، پہنچا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”افسوس میرے بعد تم کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔“

Sahih al-Bukhari 87:8sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ‏ "‏ اسْتَنْصِتِ النَّاسَ، لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"‏‏.‏ رَوَاهُ أَبُو بَكْرَةَ وَابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated Abu Zur'a bin `Amr bin Jarir:The Prophet (ﷺ) said during Hajjat-al-Wada`, "Let the people be quiet and listen to me. After me, do not become disbelievers, by striking (cutting) the necks of one another

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے علی بن مدرک نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے سنا، ان سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے دن فرمایا ”لوگوں کو خاموش کرا دو , ( پھر فرمایا ) تم میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے۔“ اس حدیث کی روایت ابوبکر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے۔

Sahih al-Bukhari 92:31sahih

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَدِّهِ، جَرِيرٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ‏"‏ اسْتَنْصِتِ النَّاسَ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"‏‏.‏

Narrated Jarir:The Prophet (ﷺ) said to me during Hajjat-al-Wada`, "Let the people keep quiet and listen." Then he said (addressing the people), "Beware! Do not renegade as disbelievers after me by striking (cutting) the necks of one another

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے علی بن مدرک نے بیان کیا، کہا میں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے سنا، ان سے ان کے دادا جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا کہ لوگوں کو خاموش کر دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن مارنے لگ جاؤ۔“

A detailed scholarly analysis for this topic is not yet available. Get in touch to request one.

Related Topics