VisualDhikr|

Digging the Trench

View in graph
event

Digging the Trench

حفر الخندق

The Digging of the Trench (حفر الخندق) marks a pivotal moment of crisis and communal resilience in early Islamic history, preceding the Battle of the Trench (also known as the Battle of the Confederates or Ghazwat al-Ahzab). In the fifth year after the Hijra, a formidable coalition of Meccan idolaters and other tribes marched against Medina, aiming to crush the nascent Muslim community. Faced with an overwhelming enemy, the Prophet Muhammad, upon counsel, initiated the unprecedented strategy of digging a massive defensive trench around the vulnerable parts of Medina. This was an arduous undertaking that saw the entire Muslim community, including the Prophet himself, working tirelessly through hunger and hardship. It was a profound display of unity and leadership, where everyone contributed to the common defense. The Quran vividly describes the intense fear and anxiety that gripped the believers, [when they came upon you from above you and from below you, and when eyes swerved and hearts reached the throats]. Yet, amidst this immense pressure, it also highlights the unwavering faith of those who, [when they saw the confederates, said, "This is what Allah and His Messenger had promised us, and Allah and His Messenger spoke the truth." And it increased them only in faith and submission]. Ultimately, through this collective effort and divine intervention, [Allah averted the believers from the fighting, with their [full] rage]. This event remains a powerful testament to the spirit of sacrifice, strategic thinking, and profound reliance on God in the face of existential threats.

Hadith 12 traditions

Sahih al-Bukhari 56:50sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْخَنْدَقِ فَإِذَا الْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ عَبِيدٌ يَعْمَلُونَ ذَلِكَ لَهُمْ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ النَّصَبِ وَالْجُوعِ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ‏.‏ فَقَالُوا مُجِيبِينَ لَهُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا

Narrated Anas:Allah's Messenger (ﷺ) went towards the Khandaq (i.e. Trench) and saw the Emigrants and the Ansar digging in a very cold morning as they did not have slaves to do that for them. When he noticed their fatigue and hunger he said, "O Allah! The real life is that of the Here-after, (so please) forgive the Ansar and the Emigrants." In its reply the Emigrants and the Ansar said, "We are those who have given a pledge of allegiance to Muhammad that we will carry on Jihad as long as we live

سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسحاق نے بیان کیا ‘ ان سے حمید نے بیان کیا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدان خندق کی طرف تشریف لے گئے ( غزوہ خندق کے شروع ہونے سے کچھ پہلے جب خندق کی کھدائی ہو رہی تھی ) ‘ آپ نے دیکھا کہ مہاجرین اور انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین سردی کی سختی کے باوجود صبح ہی صبح خندق کھودنے میں مصروف ہیں ‘ ان کے پاس غلام بھی نہیں تھے جو ان کی اس کھدائی میں مدد کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تھکن اور بھوک کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ”اے اللہ! زندگی تو پس آخرت ہی کی زندگی ہے پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔“ یعنی درحقیقت جو مزہ ہے آخرت کا ہے مزہ۔۔۔ بخش دے انصار اور پردیسیوں کو اے اللہ۔۔۔ صحابہ نے اس کے جواب میں کہا ”ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اس وقت تک جہاد کرنے کا عہد کیا ہے جب تک ہماری جان میں جان ہے۔“ اپنے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بیعت ہم نے کی جب تلک ہے زندگی۔۔۔ لڑتے رہیں گے ہم سدا۔

Sahih al-Bukhari 56:51sahih

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَعَلَ الْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ حَوْلَ الْمَدِينَةِ، وَيَنْقُلُونَ التُّرَابَ عَلَى مُتُونِهِمْ وَيَقُولُونَ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الإِسْلاَمِ مَا بَقِينَا أَبَدًا وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُجِيبُهُمْ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّهُ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُ الآخِرَهْ فَبَارِكْ فِي الأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ‏.‏

Narrated Anas:The Emigrants and the Ansar started digging the trench around Medina carrying the earth on their backs and saying, "We are those who have given a pledge of allegiance to Muhammad that we will carry on Jihad as long as we live." The Prophet (ﷺ) kept on replying, "O Allah, there is no good except the good of the Hereafter; so confer Your Blessings on the Ansar and the Emigrants

ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( جب تمام عرب کے مدینہ منورہ پر حملہ کا خطرہ ہوا تو ) مدینہ کے اردگرد مہاجرین و انصار خندق کھودنے میں مشغول ہو گئے ‘ مٹی اپنی پشت پر لاد لاد کر اٹھاتے اور ( یہ رجز ) پڑھتے جاتے ”ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اس وقت تک جہاد کے لیے بیعت کی ہے جب تک ہماری جان میں جان ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس رجز کے جواب میں یہ دعا فرماتے ”اے اللہ! آخرت کی خیر کے سوا اور کوئی خیر نہیں ‘ پس تو انصار اور مہاجرین کو برکت عطا فرما۔

Sahih al-Bukhari 56:53sahih

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَحْزَابِ يَنْقُلُ التُّرَابَ وَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ، وَهُوَ يَقُولُ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا‏.‏ فَأَنْزِلِ السَّكِينَةَ عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا‏.‏ إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا‏.‏

Narrated Al-Bara:On the day (of the battle) of Al-Ahzab (i.e. clans) I saw the Prophet (ﷺ) carrying earth, and the earth was covering the whiteness of his `Abdomen. And he was saying, "Without You (O Allah!) we would have got no guidance, nor given in charity, nor prayed. So please bless us with tranquility and make firm our feet when we meet our enemies. Indeed (these) people have rebelled against (oppressed) us but never shall we yield if they try to bring affliction upon us

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ احزاب ( خندق ) کے موقع پر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی ( خندق کھودنے کی وجہ سے جو نکلتی تھی ) خود ڈھو رہے تھے۔ مٹی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کی سفیدی چھپ گئی تھی اور یہ شعر کہہ رہے تھے «لولا أنت ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا‏.‏ فأنزل السكينة علينا وثبت الأقدام إن لاقينا‏.‏ إن الألى قد بغوا علينا إذا أرادوا فتنة أبينا‏.‏» ”اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور ہم نہ صدقہ دیتے، اور نہ نماز پڑھتے، پس تو ہم پر سکینت نازل فرما، اور جب ہم دشمن سے مقابلہ کریں، تو ہمیں ثابت قدم رکھ، بے شک ان لوگوں نے ہم پر ظلم کیا ہے، جب یہ کوئی فساد کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کی بات میں نہیں آتے۔“

Sahih al-Bukhari 63:22sahih

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَنَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَى أَكْتَادِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ ‏"‏‏.‏

Narrated Sahl:Allah's Messenger (ﷺ) came to us while we were digging the trench and carrying out the earth on our backs. Allah's Messenger (ﷺ) then said, "O Allah ! There is no life except the life of the Hereafter, so please forgive the Emigrants and the Ansar

مجھ سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم خندق کھود رہے تھے اور اپنے کندھوں پر مٹی اٹھا رہے تھے۔ اس وقت آپ نے یہ دعا فرمائی «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فاغفر للمهاجرين والأنصار‏ ‏‏.» ”اے اللہ! آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی حقیقی زندگی نہیں، پس انصار اور مہاجرین کی تو مغفرت فرما۔“

Sahih al-Bukhari 64:142sahih

حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْخَنْدَقِ، وَهُمْ يَحْفِرُونَ، وَنَحْنُ نَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَى أَكْتَادِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَهْ، فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ ‏"‏‏.‏

Narrated Sahl bin Sa`d:We were with Allah's Messenger (ﷺ) in the Trench, and some were digging the trench while we were carrying the earth on our shoulders. Allah's Messenger (ﷺ) said, 'O Allah! There is no life except the life of the Hereafter, so please forgive the Emigrants and the Ansar

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خندق میں تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم خندق کھود رہے تھے اور مٹی ہم اپنے کاندھوں پر اٹھا اٹھا کر نکال رہے تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فاغفر للمهاجرين والأنصار» ”اے اللہ! آخرت کی زندگی ہی بس آرام کی زندگی ہے۔ پس تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔“

Sahih al-Bukhari 64:143sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ، سَمِعْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْخَنْدَقِ، فَإِذَا الْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ عَبِيدٌ يَعْمَلُونَ ذَلِكَ لَهُمْ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ النَّصَبِ وَالْجُوعِ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ ‏"‏ فَقَالُوا مُجِيبِينَ لَهُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا

Narrated Anas:Allah's Messenger (ﷺ) went out towards the Khandaq (i.e. Trench) and saw the Emigrants and the Ansar digging the trench in the cold morning. They had no slaves to do that (work) for them. When the Prophet saw their hardship and hunger, he said, 'O Allah! The real life is the life of the Hereafter, so please forgive Ansar and the Emigrants." They said in reply to him, "We are those who have given the Pledge of allegiance to Muhammad for to observe Jihad as long as we live

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق فزاری نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ فرمایا کہ مہاجرین اور انصار سردی میں صبح سویرے ہی خندق کھود رہے ہیں۔ ان کے پاس غلام نہیں تھے کہ ان کے بجائے وہ اس کام کو انجام دیتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس مشقت اور بھوک کو دیکھا تو دعا کی «اللهم إن العيش عيش الآخرة. فاغفر للأنصار والمهاجره» ”اے اللہ! زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے۔ پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کے جواب میں کہا «نحن الذين بايعوا محمدا *** على الجهاد ما بقينا أبدا» ہم ہی ہیں جنہوں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جہاد کرنے کے لیے بیعت کی ہے۔ جب تک ہماری جان میں جان ہے۔

Sahih al-Bukhari 64:144sahih

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَعَلَ الْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ حَوْلَ الْمَدِينَةِ، وَيَنْقُلُونَ التُّرَابَ عَلَى مُتُونِهِمْ وَهُمْ يَقُولُونَ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الإِسْلاَمِ مَا بَقِينَا أَبَدَا قَالَ يَقُولُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يُجِيبُهُمُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنَّهُ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُ الآخِرَهْ، فَبَارِكْ فِي الأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ ‏"‏‏.‏ قَالَ يُؤْتَوْنَ بِمِلْءِ كَفَّى مِنَ الشَّعِيرِ فَيُصْنَعُ لَهُمْ بِإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ تُوضَعُ بَيْنَ يَدَىِ الْقَوْمِ، وَالْقَوْمُ جِيَاعٌ، وَهْىَ بَشِعَةٌ فِي الْحَلْقِ وَلَهَا رِيحٌ مُنْتِنٌ‏.‏

Narrated Anas:Al-Muhajirun (i.e. the Emigrants) and the Ansar were digging the trench around Medina and were carrying the earth on their backs while saying, "We are those who have given the pledge of allegiance to Muhammad for Islam as long as we live." The Prophet (ﷺ) said in reply to their saying, "O Allah! There is no goodness except the goodness of the Hereafter; so please grant Your Blessing to the Ansar and the Emigrants." The people used to bring a handful of barley, and a meal used to be prepared thereof by cooking it with a cooking material (i.e. oil, fat and butter having a change in color and smell) and it used to be presented to the people (i.e. workers) who were hungry, and it used to stick to their throats and had a nasty smell

ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمر عقدی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مدینہ کے گرد مہاجرین و انصار خندق کھودنے میں مصروف ہو گئے اور مٹی اپنی پیٹھ پر اٹھانے لگے۔ اس وقت وہ یہ شعر پڑھ رہے تھے «نحن الذين بايعوا محمدا *** على الأسلام ما بقينا أبدا» ہم نے ہی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے اسلام پر بیعت کی ہے جب تک ہماری جان میں جان ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللهم إنه لا خير إلا خير الآخرة. فبارك في الأنصار والمهاجره» ”اے اللہ! خیر تو صرف آخرت ہی کی خیر ہے۔ پس انصار اور مہاجرین کو تو برکت عطا فرما۔“ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مٹھی جَو آتا اور ان صحابہ کے لیے ایسے روغن میں جس کا مزہ بھی بگڑ چکا ہوتا ملا کر پکا دیا جاتا۔ یہی کھانا ان صحابہ کے سامنے رکھ دیا جاتا۔ صحابہ بھوکے ہوتے۔ یہ ان کے حلق میں چپکتا اور اس میں بدبو ہوتی۔ گویا اس وقت ان کی خوراک کا بھی یہ حال تھا۔

Sahih al-Bukhari 64:145sahih

حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَيْتُ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ إِنَّا يَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ فَعَرَضَتْ كُدْيَةٌ شَدِيدَةٌ، فَجَاءُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا هَذِهِ كُدْيَةٌ عَرَضَتْ فِي الْخَنْدَقِ، فَقَالَ ‏"‏ أَنَا نَازِلٌ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَامَ وَبَطْنُهُ مَعْصُوبٌ بِحَجَرٍ، وَلَبِثْنَا ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ لاَ نَذُوقُ ذَوَاقًا، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمِعْوَلَ فَضَرَبَ، فَعَادَ كَثِيبًا أَهْيَلَ أَوْ أَهْيَمَ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي إِلَى الْبَيْتِ‏.‏ فَقُلْتُ لاِمْرَأَتِي رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا، مَا كَانَ فِي ذَلِكَ صَبْرٌ، فَعِنْدَكِ شَىْءٌ قَالَتْ عِنْدِي شَعِيرٌ وَعَنَاقٌ‏.‏ فَذَبَحْتُ الْعَنَاقَ وَطَحَنَتِ الشَّعِيرَ، حَتَّى جَعَلْنَا اللَّحْمَ فِي الْبُرْمَةِ، ثُمَّ جِئْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَالْعَجِينُ قَدِ انْكَسَرَ، وَالْبُرْمَةُ بَيْنَ الأَثَافِيِّ قَدْ كَادَتْ أَنْ تَنْضَجَ فَقُلْتُ طُعَيِّمٌ لِي، فَقُمْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَجُلٌ أَوْ رَجُلاَنِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَمْ هُوَ ‏"‏‏.‏ فَذَكَرْتُ لَهُ، قَالَ ‏"‏ كَثِيرٌ طَيِّبٌ ‏"‏‏.‏ قَالَ ‏"‏ قُلْ لَهَا لاَ تَنْزِعُ الْبُرْمَةَ وَلاَ الْخُبْزَ مِنَ التَّنُّورِ حَتَّى آتِيَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ قُومُوا ‏"‏‏.‏ فَقَامَ الْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى امْرَأَتِهِ قَالَ وَيْحَكِ جَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ وَمَنْ مَعَهُمْ‏.‏ قَالَتْ هَلْ سَأَلَكَ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ ادْخُلُوا وَلاَ تَضَاغَطُوا ‏"‏‏.‏ فَجَعَلَ يَكْسِرُ الْخُبْزَ وَيَجْعَلُ عَلَيْهِ اللَّحْمَ، وَيُخَمِّرُ الْبُرْمَةَ وَالتَّنُّورَ إِذَا أَخَذَ مِنْهُ، وَيُقَرِّبُ إِلَى أَصْحَابِهِ ثُمَّ يَنْزِعُ، فَلَمْ يَزَلْ يَكْسِرُ الْخُبْزَ وَيَغْرِفُ حَتَّى شَبِعُوا وَبَقِيَ بَقِيَّةٌ قَالَ ‏"‏ كُلِي هَذَا وَأَهْدِي، فَإِنَّ النَّاسَ أَصَابَتْهُمْ مَجَاعَةٌ ‏"‏‏.‏

Narrated Jabir:We were digging (the trench) on the day of (Al-Khandaq ( i.e. Trench )) and we came across a big solid rock. We went to the Prophet (ﷺ) and said, "Here is a rock appearing across the trench." He said, "I am coming down." Then he got up, and a stone was tied to his belly for we had not eaten anything for three days. So the Prophet (ﷺ) took the spade and struck the big solid rock and it became like sand. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Allow me to go home." (When the Prophet (ﷺ) allowed me) I said to my wife, "I saw the Prophet (ﷺ) in a state that I cannot treat lightly. Have you got something (for him to eat?" She replied, "I have barley and a she goat." So I slaughtered the she-kid and she ground the barley; then we put the meat in the earthenware cooking pot. Then I came to the Prophet (ﷺ) when the dough had become soft and fermented and (the meat in) the pot over the stone trivet had nearly been well-cooked, and said, "I have got a little food prepared, so get up O Allah's Messenger (ﷺ), you and one or two men along with you (for the food)." The Prophet (ﷺ) asked, "How much is that food?" I told him about it. He said, "It is abundant and good. Tell your wife not to remove the earthenware pot from the fire and not to take out any bread from the oven till I reach there." Then he said (to all his companions), "Get up." So the Muhajirin (i.e. Emigrants) and the Ansar got up. When I came to my wife, I said, "Allah's Mercy be upon you! The Prophet came along with the Muhajirin and the Ansar and those who were present with them." She said, "Did the Prophet (ﷺ) ask you (how much food you had)?" I replied, "Yes." Then the Prophet (ﷺ) said, "Enter and do not throng." The Prophet (ﷺ) started cutting the bread (into pieces) and put the cooked meat over it. He covered the earthenware pot and the oven whenever he took something out of them. He would give the food to his companions and take the meat out of the pot. He went on cutting the bread and scooping the meat (for his companions) till they all ate their fill, and even then, some food remained. Then the Prophet (ﷺ) said (to my wife), "Eat and present to others as the people are struck with hunger

ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا، ان سے ان کے والد ایمن حبشی نے بیان کیا کہ میں جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھود رہے تھے کہ ایک بہت سخت قسم کی چٹان نکلی ( جس پر کدال اور پھاوڑے کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا اس لیے خندق کی کھدائی میں رکاوٹ پیدا ہو گئی ) صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے عرض کیا کہ خندق میں ایک چٹان ظاہر ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اندر اترتا ہوں۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور اس وقت ( بھوک کی شدت کی وجہ سے ) آپ کا پیٹ پتھر سے بندھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدال اپنے ہاتھ میں لی اور چٹان پر اس سے مارا۔ چٹان ( ایک ہی ضرب میں ) بالو کے ڈھیر کی طرح بہہ گئی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے گھر جانے کی اجازت دیجئیے۔ ( گھر آ کر ) میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ آج میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( فاقوں کی وجہ سے ) اس حالت میں دیکھا کہ صبر نہ ہو سکا۔ کیا تمہارے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہاں کچھ جَو ہیں اور ایک بکری کا بچہ۔ میں نے بکری کے بچہ کو ذبح کیا اور میری بیوی نے جَو پیسے۔ پھر گوشت کو ہم نے چولھے پر ہانڈی میں رکھا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آٹا گوندھا جا چکا تھا اور گوشت چولھے پر پکنے کے قریب تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے عرض کیا گھر کھانے کے لیے مختصر کھانا تیار ہے۔ یا رسول اللہ! آپ اپنے ساتھ ایک دو آدمیوں کو لے کر تشریف لے چلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کتنا ہے؟ میں نے آپ کو سب کچھ بتا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو بہت ہے اور نہایت عمدہ و طیب ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی بیوی سے کہہ دو کہ چولھے سے ہانڈی نہ اتاریں اور نہ تنور سے روٹی نکالیں میں ابھی آ رہا ہوں۔ پھر صحابہ سے فرمایا کہ سب لوگ چلیں۔ چنانچہ تمام انصار و مہاجرین تیار ہو گئے۔ جب جابر رضی اللہ عنہ گھر پہنچے تو اپنی بیوی سے انہوں نے کہا اب کیا ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تمام مہاجرین و انصار کو ساتھ لے کر تشریف لا رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کچھ پوچھا بھی تھا؟ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اندر داخل ہو جاؤ لیکن اژدہام نہ ہونے پائے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم روٹی کا چورا کرنے لگے اور گوشت اس پر ڈالنے لگے۔ ہانڈی اور تنور دونوں ڈھکے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا اور صحابہ کے قریب کر دیا۔ پھر آپ نے گوشت اور روٹی نکالی۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر روٹی چورا کرتے جاتے اور گوشت اس میں ڈالتے جاتے۔ یہاں تک کہ تمام صحابہ شکم سیر ہو گئے اور کھانا بچ بھی گیا۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جابر رضی اللہ عنہ کی بیوی سے ) فرمایا کہ اب یہ کھانا تم خود کھاؤ اور لوگوں کے یہاں ہدیہ میں بھیجو کیونکہ لوگ آج کل فاقہ میں مبتلا ہیں۔

Sahih al-Bukhari 64:148sahih

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْقُلُ التُّرَابَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى أَغْمَرَ بَطْنَهُ أَوِ اغْبَرَّ بَطْنُهُ يَقُولُ وَاللَّهِ لَوْلاَ اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ أَبَيْنَا أَبَيْنَا‏.‏

Narrated Al-Bara:The Prophet (ﷺ) was carrying earth on the day of Al-Khandaq till his `Abdomen was fully covered with dust, and he was saying, "By Allah, without Allah we would not have been guided, neither would we have given in charity, nor would we have prayed. So (O Allah), please send Sakina (i.e. calmness) upon us, and make our feet firm if we meet the enemy as the enemy have rebelled against us, and if they intend affliction, (i.e. want to frighten us and fight against us then we would not flee but withstand them)." The Prophet (ﷺ) used to raise his voice saying, "Abaina! Abaina! (i.e. would not, we would not)

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے ان سے ابواسحاق سبیعی نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خندق میں ( خندق کی کھدائی کے وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بطن مبارک غبار سے اٹ گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر یہ کلمات جاری تھے ”اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا۔ نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس تو ہمارے دلوں پر سکینت و طمانیت نازل فرما اور اگر ہماری کفار سے مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت قدمی عنایت فرما۔ جو لوگ ہمارے خلاف چڑھ آئے ہیں جب یہ کوئی فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی نہیں مانتے۔ «أبينا أبينا» ( ہم ان کی نہیں مانتے۔ ہم ان کی نہیں مانتے ) پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بلند ہو جاتی۔“

Sahih al-Bukhari 64:150sahih

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يُحَدِّثُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الأَحْزَابِ، وَخَنْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَيْتُهُ يَنْقُلُ مِنْ تُرَابِ الْخَنْدَقِ حَتَّى وَارَى عَنِّي الْغُبَارُ جِلْدَةَ بَطْنِهِ، وَكَانَ كَثِيرَ الشَّعَرِ، فَسَمِعْتُهُ يَرْتَجِزُ بِكَلِمَاتِ ابْنِ رَوَاحَةَ، وَهْوَ يَنْقُلُ مِنَ التُّرَابِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا قَالَ ثُمَّ يَمُدُّ صَوْتَهُ بِآخِرِهَا‏.‏

Narrated Al-Bara:When it was the day of Al-Ahzab (i.e. the clans) and Allah's Messenger (ﷺ) dug the trench, I saw him carrying earth out of the trench till dust made the skin of his `Abdomen out of my sight and he was a hairy man. I heard him reciting the poetic verses composed by Ibn Rawaha while he was carrying the earth, "O Allah! Without You we would not have been guided, nor would we have given in charity, nor would we have prayed. So, (O Allah), please send Sakina (i.e. calmness) upon us and make our feet firm if we meet the enemy, as they have rebelled against us. And if they intend affliction (i.e. want to frighten us, and fight against us) then we would not (flee but withstand them)." The Prophet (ﷺ) would then prolong his voice at the last words

مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ان سے ابواسحاق سبیعی نے کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ خندق کھودتے ہوئے اس کے اندر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن مبارک کی کھال مٹی سے اٹ گئی تھی۔ آپ کے ( سینے سے پیٹ تک ) گھنے بالوں ( کی ایک لکیر ) تھی۔ میں نے خود سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے رجزیہ اشعار مٹی اٹھاتے ہوئے پڑھ رہے تھے۔ ”اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس ہم پر تو اپنی طرف سے سکینت نازل فرما اور اگر ہمارا آمنا سامنا ہو جائے تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما۔ یہ لوگ ہمارے اوپر ظلم سے چڑھ آئے ہیں۔ جب یہ ہم سے کوئی فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی نہیں سنتے۔“ راوی نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری کلمات کو کھینچ کر پڑھتے تھے۔

Sahih al-Bukhari 81:3sahih

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْخَنْدَقِ وَهْوَ يَحْفِرُ وَنَحْنُ نَنْقُلُ التُّرَابَ وَيَمُرُّ بِنَا فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَهْ، فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ‏.‏

Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`idi:We were in the company of Allah's Messenger (ﷺ) in (the battle of) Al-Khandaq, and he was digging the trench while we were carrying the earth away. He looked at us and said, "O Allah! There is no life worth living except the life of the Hereafter, so (please) forgive the Ansar and the Emigrants

ہم سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خندق کے موقع پر موجود تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خندق کھودتے جاتے تھے اور ہم مٹی کو اٹھاتے جاتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب سے گزرتے ہوئے فرماتے «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره،‏‏‏‏ فاغفر للأنصار والمهاجره» ”اے اللہ! زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے، پس تو انصار و مہاجرین کی مغفرت کر۔“ اس روایت کی متابعت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے۔

Sahih al-Bukhari 93:61sahih

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ وَالْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ ‏"‏ فَأَجَابُوا نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا

Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) went out on a cold morning while the Muhajirin (emigrants) and the Ansar were digging the trench. The Prophet (ﷺ) then said, "O Allah! The real goodness is the goodness of the Here after, so please forgive the Ansar and the Muhajirin." They replied, "We are those who have given the Pledge of allegiance to Muhammad for to observe Jihad as long as we remain alive

ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حمید نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سردی میں صبح کے وقت باہر نکلے اور مہاجرین اور انصار خندق کھود رہے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! خیر تو آخرت ہی کی خیر ہے۔ پس انصار و مہاجرین کی مغفرت کر دے۔“ اس کا جواب لوگوں نے دیا کہ ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی ہے ہمیشہ کے لیے جب تک وہ زندہ ہیں۔

A detailed scholarly analysis for this topic is not yet available. Get in touch to request one.

Related Topics