Day of Nahr
يوم النحر
The Day of Nahr, meaning "Day of Sacrifice," is a pivotal and spiritually rich day in the Islamic calendar, observed annually on the 10th of Dhul Hijjah. It stands as the most significant day of the Hajj pilgrimage, during which pilgrims perform the ritual animal sacrifice (udhiyah or qurbani) after completing other rites like the stoning of the Jamarat. This profound act commemorates Prophet Ibrahim's unparalleled submission to Allah's command, as beautifully recounted in the Quran, when he was willing to sacrifice his beloved son. Instead, Allah mercifully [ransomed him with a great sacrifice]. Beyond the Hajj, the Day of Nahr marks the global commencement of Eid al-Adha, the "Festival of Sacrifice." Muslims worldwide who can afford it are encouraged to offer a sacrifice, sharing the meat with family, friends, and especially the less fortunate, embodying the spirit of communal solidarity and generosity. The Quran reminds believers that [for every nation We have appointed a ritual sacrifice] and that [their meat will not reach Allah, nor will their blood, but what reaches Him is piety from you]. Thus, the Day of Nahr is not merely a ritual, but a deep spiritual experience fostering gratitude, selflessness, and reaffirming one's profound devotion to Allah.
Hadith 51 traditions
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، ذَكَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَعَدَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَأَمْسَكَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ ـ أَوْ بِزِمَامِهِ ـ قَالَ " أَىُّ يَوْمٍ هَذَا ". فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ. قَالَ " أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ". قُلْنَا بَلَى. قَالَ " فَأَىُّ شَهْرٍ هَذَا ". فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ. فَقَالَ " أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ ". قُلْنَا بَلَى. قَالَ " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا. لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَإِنَّ الشَّاهِدَ عَسَى أَنْ يُبَلِّغَ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ ".
Narrated `Abdur-Rahman bin Abi Bakra's father:Once the Prophet (ﷺ) was riding his camel and a man was holding its rein. The Prophet (ﷺ) asked, "What is the day today?" We kept quiet, thinking that he might give that day another name. He said, "Isn't it the day of Nahr (slaughtering of the animals of sacrifice)" We replied, "Yes." He further asked, "Which month is this?" We again kept quiet, thinking that he might give it another name. Then he said, "Isn't it the month of Dhul-Hijja?" We replied, "Yes." He said, "Verily! Your blood, property and honor are sacred to one another (i.e. Muslims) like the sanctity of this day of yours, in this month of yours and in this city of yours. It is incumbent upon those who are present to inform those who are absent because those who are absent might comprehend (what I have said) better than the present audience
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے بشر نے، ان سے ابن عون نے ابن سیرین کے واسطے سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے نقل کیا، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ وہ ( ایک دفعہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص نے اس کی نکیل تھام رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا آج یہ کون سا دن ہے؟ ہم خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم سمجھے کہ آج کے دن کا آپ کوئی دوسرا نام اس کے نام کے علاوہ تجویز فرمائیں گے ( پھر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا آج قربانی کا دن نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا، بیشک۔ ( اس کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم ( اس پر بھی ) خاموش رہے اور یہ ( ہی ) سمجھے کہ اس مہینے کا ( بھی ) آپ اس کے نام کے علاوہ کوئی دوسرا نام تجویز فرمائیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا، بیشک۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تو یقیناً تمہاری جانیں اور تمہارے مال اور تمہاری آبرو تمہارے درمیان اسی طرح حرام ہیں جس طرح آج کے دن کی حرمت تمہارے اس مہینے اور اس شہر میں ہے۔ پس جو شخص حاضر ہے اسے چاہیے کہ غائب کو یہ ( بات ) پہنچا دے، کیونکہ ایسا ممکن ہے کہ جو شخص یہاں موجود ہے وہ ایسے شخص کو یہ خبر پہنچائے، جو اس سے زیادہ ( حدیث کا ) یاد رکھنے والا ہو۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ فِي تِلْكَ الْحَجَّةِ فِي مُؤَذِّنِينَ يَوْمَ النَّحْرِ نُؤَذِّنُ بِمِنًى أَنْ لاَ يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ. قَالَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثُمَّ أَرْدَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا، فَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ بِبَرَاءَةَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَأَذَّنَ مَعَنَا عَلِيٌّ فِي أَهْلِ مِنًى يَوْمَ النَّحْرِ لاَ يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ.
Narrated Abu Huraira:On the Day of Nahr (10th of Dhul-Hijja, in the year prior to the last Hajj of the Prophet (ﷺ) when Abu Bakr was the leader of the pilgrims in that Hajj) Abu Bakr sent me along with other announcers to Mina to make a public announcement: "No pagan is allowed to perform Hajj after this year and no naked person is allowed to perform the Tawaf around the Ka`ba. Then Allah's Messenger (ﷺ) sent `Ali to read out the Surat Bara'a (at-Tauba) to the people; so he made the announcement along with us on the day of Nahr in Mina: "No pagan is allowed to perform Hajj after this year and no naked person is allowed to perform the Tawaf around the Ka`ba
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے میرے بھائی ابن شہاب نے اپنے چچا کے واسطہ سے، انہوں نے کہا مجھے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس حج کے موقع پر مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یوم نحر ( ذی الحجہ کی دسویں تاریخ ) میں اعلان کرنے والوں کے ساتھ بھیجا۔ تاکہ ہم منیٰ میں اس بات کا اعلان کر دیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کر سکتا اور کوئی شخص ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکتا۔ حمید بن عبدالرحمٰن نے کہا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ وہ سورۃ برات پڑھ کر سنا دیں اور اس کے مضامین کا عام اعلان کر دیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے ساتھ نحر کے دن منیٰ میں دسویں تاریخ کو یہ سنایا کہ آج کے بعد کوئی مشرک نہ حج کر سکے گا اور نہ بیت اللہ کا طواف کوئی شخص ننگے ہو کر کر سکے گا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَضْحَى بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَالَ " مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَإِنَّهُ قَبْلَ الصَّلاَةِ، وَلاَ نُسُكَ لَهُ ". فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ خَالُ الْبَرَاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنِّي نَسَكْتُ شَاتِي قَبْلَ الصَّلاَةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ، وَأَحْبَبْتُ أَنْ تَكُونَ شَاتِي أَوَّلَ مَا يُذْبَحُ فِي بَيْتِي، فَذَبَحْتُ شَاتِي وَتَغَدَّيْتُ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الصَّلاَةَ. قَالَ " شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّ عِنْدَنَا عَنَاقًا لَنَا جَذَعَةً هِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ شَاتَيْنِ، أَفَتَجْزِي عَنِّي قَالَ " نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ".
Narrated Al-Bara' bin `Azib:The Prophet (ﷺ) delivered the Khutba after offering the prayer on the Day of Nahr and said, "Whoever offers the prayer like us and slaughters like us then his Nusuk (sacrifice) will be accepted by Allah. And whoever slaughters his sacrifice before the `Id prayer then he has not done the sacrifice." Abi Burda bin Niyar, the uncle of Al-Bara' said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have slaughtered my sheep before the `Id prayer and I thought today as a day of eating and drinking (not alcoholic drinks), and I liked that my sheep should be the first to be slaughtered in my house. So I slaughtered my sheep and took my food before coming for the prayer." The Prophet (ﷺ) said, "The sheep which you have slaughtered is just mutton (not a Nusuk)." He (Abu Burda) said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have a young she-goat which is dearer to me than two sheep. Will that be sufficient as a Nusuk on my behalf? "The Prophet (ﷺ) said, "Yes, it will be sufficient for you but it will not be sufficient (as a Nusuk) for anyone else after you
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے، آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کی نماز کے بعد خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی اس کی قربانی صحیح ہوئی لیکن جو شخص نماز سے پہلے قربانی کرے وہ نماز سے پہلے ہی گوشت کھاتا ہے مگر وہ قربانی نہیں۔ براء کے ماموں ابو بردہ بن نیار یہ سن کر بولے کہ یا رسول اللہ! میں نے اپنی بکری کی قربانی نماز سے پہلے کر دی میں نے سوچا کہ یہ کھانے پینے کا دن ہے میری بکری اگر گھر کا پہلا ذبیحہ بنے تو بہت اچھا ہو۔ اس خیال سے میں نے بکری ذبح کر دی اور نماز سے پہلے ہی اس کا گوشت بھی کھا لیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہاری بکری گوشت کی بکری ہوئی۔ ابوبردہ بن نیار نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے اور وہ مجھے گوشت کی دو بکریوں سے بھی عزیز ہے، کیا اس سے میری قربانی ہو جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں لیکن تمہارے بعد کسی کی قربانی اس عمر کے بچے سے کافی نہ ہو گی۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ عَجَّلَهُ لأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَىْءٍ ". فَقَامَ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ. قَالَ " اجْعَلْهَا مَكَانَهَا ـ أَوْ قَالَ اذْبَحْهَا ـ وَلَنْ تَجْزِيَ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ".
Narrated Al-Bara':The Prophet (ﷺ) delivered the Khutba on the day of Nahr (`Id-ul-Adha) and said, "The first thing we should do on this day of ours is to pray and then return and slaughter (our sacrifices). So anyone who does so he acted according to our Sunna; and whoever slaughtered before the prayer then it was just meat that he offered to his family and would not be considered as a sacrifice in any way. My uncle Abu Burda bin Niyar got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I slaughtered the sacrifice before the prayer but I have a young she-goat which is better than an older sheep." The Prophet (ﷺ) said, "Slaughter it in lieu of the first and such a goat will not be considered as a sacrifice for anybody else after you
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے زبید سے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس دن سب سے پہلے ہمیں نماز پڑھنی چاہیے پھر ( خطبہ کے بعد ) واپس آ کر قربانی کرنی چاہیے جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق کیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا تو یہ ایک ایسا گوشت ہو گا جسے اس نے اپنے گھر والوں کے لیے جلدی سے تیار کر لیا ہے، یہ قربانی قطعاً نہیں۔ اس پر میرے ماموں ابوبردہ بن نیار نے کھڑے ہو کر کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے تو نماز کے پڑھنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا۔ البتہ میرے پاس ایک سال کی ایک پٹھیا ہے جو دانت نکلی بکری سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بدلہ میں اسے سمجھ لو یا یہ فرمایا کہ اسے ذبح کر لو اور تمہارے بعد یہ ایک سال کی پٹھیا کسی کے لیے کافی نہیں ہو گی۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أَضْحًى إِلَى الْبَقِيعِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَقَالَ " إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِنَا فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نَبْدَأَ بِالصَّلاَةِ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ وَافَقَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ شَىْءٌ عَجَّلَهُ لأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَىْءٍ ". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ذَبَحْتُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ. قَالَ " اذْبَحْهَا، وَلاَ تَفِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ".
Narrated Al-Bara':The Prophet (ﷺ) went towards Al-Baqi (the graveyard at Medina) on the day of Id-ul-Adha and offered a two-rak`at prayer (of `Id-ul-Adha) and then faced us and said, "On this day of ours, our first act of worship is the offering of prayer and then we will return and slaughter the sacrifice, and whoever does this concords with our Sunna; and whoever slaughtered his sacrifice before that (i.e. before the prayer) then that was a thing which he prepared earlier for his family and it would not be considered as a Nusuk (sacrifice.)" A man stood up and said, "O, Allah's Messenger (ﷺ)! I slaughtered (the animal before the prayer) but I have a young she-goat which is better than an older sheep." The Prophet (ﷺ) said to him, "Slaughter it. But a similar sacrifice will not be sufficient for anybody else after you
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے زبید نے، ان سے شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے دن بقیع کی طرف تشریف لے گئے اور دو رکعت عید کی نماز پڑھائی۔ پھر ہماری طرف چہرہ مبارک کر کے فرمایا کہ سب سے مقدم عبادت ہمارے اس دن کی یہ ہے کہ پہلے ہم نماز پڑھیں پھر ( نماز اور خطبے سے ) لوٹ کر قربانی کریں۔ اس لیے جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق کیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا تو وہ ایسی چیز ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے کھلانے کے لیے جلدی سے مہیا کر دیا ہے اور اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس پر ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے تو پہلے ہی ذبح کر دیا۔ لیکن میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے اور وہ دوندی بکری سے زیادہ بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیر تم اسی کو ذبح کر لو لیکن تمہارے بعد کسی کی طرف سے ایسی پٹھیا جائز نہ ہو گی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْحَرُ أَوْ يَذْبَحُ بِالْمُصَلَّى.
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) used to Nahr or slaughter sacrifices at the Musalla (on `Id-ul-Adha)
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے کثیر بن فرقد نے نافع سے بیان کیا، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ ہی میں نحر اور ذبح کیا کرتے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَالَ " مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَنَسَكَ نُسْكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ". فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلاَةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ وَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ". قَالَ فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ جَذَعَةٍ، هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ، فَهَلْ تَجْزِي عَنِّي قَالَ " نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ".
Narrated Al-Bara' bin `Azib:On the day of Nahr Allah's Messenger (ﷺ) delivered the Khutba after the `Id prayer and said, "Anyone who prayed like us and slaughtered the sacrifice like we did then he acted according to our (Nusuk) tradition of sacrificing, and whoever slaughtered the sacrifice before the prayer, then that was just mutton (i.e. not sacrifice)." Abu Burda bin Niyar stood up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! By Allah, I slaughtered my sacrifice before I offered the (Id) prayer and thought that today was the day of eating and drinking (non-alcoholic drinks) and so I made haste (in slaughtering) and ate and also fed my family and neighbors." Allah's Messenger (ﷺ) said, "That was just mutton (not a sacrifice)." Then Abu Burda said, "I have a young she-goat and no doubt, it is better than two sheep. Will that be sufficient as a sacrifice for me?" The Prophet (ﷺ) replied, "Yes. But it will not be sufficient for anyone else (as a sacrifice), after you
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوالاحوص سلام بن سلیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے منصور بن معتمر نے بیان کیا کہ ان سے عامر شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے ہماری طرح کی نماز پڑھی اور ہماری طرح کی قربانی کی، اس کی قربانی درست ہوئی۔ لیکن جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو وہ ذبیحہ صرف گوشت کھانے کے لیے ہو گا۔ اس پر ابوبردہ بن نیار نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی میں نے تو نماز کے لیے آنے سے پہلے قربانی کر لی میں نے یہ سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے۔ اسی لیے میں نے جلدی کی اور خود بھی کھایا اور گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہرحال یہ گوشت ( کھانے کا ) ہوا ( قربانی نہیں ) انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک بکری کا سال بھر کا بچہ ہے وہ دو بکریوں کے گوشت سے زیادہ بہتر ہے۔ کیا میری ( طرف سے اس کی ) قربانی درست ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مگر تمہارے بعد کسی کی طرف سے ایسے بچے کی قربانی کافی نہ ہو گی۔
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ خَطَبَ فَأَمَرَ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ أَنْ يُعِيدَ ذَبْحَهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِيرَانٌ لِي ـ إِمَّا قَالَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ، وَإِمَّا قَالَ بِهِمْ فَقْرٌ ـ وَإِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ الصَّلاَةِ وَعِنْدِي عَنَاقٌ لِي أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ. فَرَخَّصَ لَهُ فِيهَا.
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) offered the prayer on the day of Nahr and then delivered the Khutba and ordered that whoever had slaughtered his sacrifice before the prayer should repeat it, that is, should slaughter another sacrifice. Then a person from the Ansar stood up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! because of my neighbors (he described them as being very needy or poor) I slaughtered before the prayer. I have a young she-goat which, in my opinion, is better than two sheep." The Prophet (ﷺ) gave him the permission for slaughtering it as a sacrifice
ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن نماز پڑھ کر خطبہ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا اسے دوبارہ قربانی کرنی ہو گی۔ اس پر انصار میں سے ایک صاحب اٹھے کہ یا رسول اللہ! میرے کچھ غریب بھوکے پڑوسی ہیں یا یوں کہا وہ محتاج ہیں۔ اس لیے میں نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا البتہ میرے پاس ایک سال کی ایک پٹھیا ہے جو دو بکریوں کے گوشت سے بھی زیادہ مجھے پسند ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ جُنْدَبٍ، قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ ذَبَحَ فَقَالَ " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ أُخْرَى مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ ".
Narrated Jundab:On the day of Nahr the Prophet (ﷺ) offered the prayer and delivered the Khutba and then slaughtered the sacrifice and said, "Anybody who slaughtered (his sacrifice) before the prayer should slaughter another animal in lieu of it, and the one who has not yet slaughtered should slaughter the sacrifice mentioning Allah's name on it
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے، ان سے جندب نے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیا پھر قربانی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو تو اسے دوسرا جانور بدلہ میں قربانی کرنا چاہیے اور جس نے نماز سے پہلے ذبح نہ کیا ہو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْغَدِ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ بِمِنًى " نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ ". يَعْنِي ذَلِكَ الْمُحَصَّبَ، وَذَلِكَ أَنَّ قُرَيْشًا وَكِنَانَةَ تَحَالَفَتْ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَوْ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَنْ لاَ يُنَاكِحُوهُمْ، وَلاَ يُبَايِعُوهُمْ حَتَّى يُسْلِمُوا إِلَيْهِمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ سَلاَمَةُ عَنْ عُقَيْلٍ وَيَحْيَى بْنُ الضَّحَّاكِ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ وَقَالاَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَشْبَهُ.
Narrated Abu Huraira:On the Day of Nahr at Mina, the Prophet (ﷺ) said, "Tomorrow we shall stay at Khaif Bani Kinana where the pagans had taken the oath of Kufr (heathenism)." He meant (by that place) Al-Muhassab where the Quraish tribe and Bani Kinana concluded a contract against Bani Hashim and Bani `Abdul-Muttalib or Bani Al-Muttalib that they would not intermarry with them or deal with them in business until they handed over the Prophet (ﷺ) to them
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے زہری نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ گیارہویں کی صبح کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں تھے تو یہ فرمایا تھا کہ کل ہم خیف بنی کنانہ میں قیام کریں گے جہاں قریش نے کفر کی حمایت کی قسم کھائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد محصب سے تھی کیونکہ یہیں قریش اور کنانہ نے بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب یا ( راوی نے ) بنوالمطلب ( کہا ) کے خلاف حلف اٹھایا تھا کہ جب تک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالہ نہ کر دیں، ان کے یہاں شادی بیاہ نہ کریں گے اور نہ ان سے خرید و فروخت کریں گے۔ اور سلامہ بن روح نے عقیل اور یحییٰ بن ضحاک سے روایت کیا، ان سے امام اوزاعی نے بیان کیا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی، انہوں نے ( اپنی روایت میں ) بنو ہاشم اور بنوالمطلب کہا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ بنوالمطلب زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ، قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، وَلاَ نَرَى إِلاَّ الْحَجَّ، حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ يَحِلُّ. قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقِيلَ ذَبَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَزْوَاجِهِ. قَالَ يَحْيَى فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ. فَقَالَ أَتَتْكَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ.
Narrated `Amra:I heard `Aisha saying, "We set out (from Medina) along with Allah's Messenger (ﷺ) five days before the end of Dhul-Qa'da with the intention of performing Hajj only. When we approached Mecca, Allah's Apostle ordered those who had no Hadi along with them to finish the Ihram after performing Tawaf of the Ka`ba, (Safa and Marwa). `Aisha added, "Beef was brought to us on the Day of Nahr and I said, 'What is this?' Somebody said, 'The Prophet (ﷺ) has slaughtered (cows) on behalf of his wives
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن ہلال نے بیان کیا، کہا مجھ سے عمرہ نے بیان کیا، کہا میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ ہم مدینہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ذی قعدہ کے پانچ دن باقی رہ گئے تھے، ہمارا ارادہ صرف حج ہی کا تھا، پھر جب مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ بیت اللہ کا طواف کر کے حلال ہو جائیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ پھر ہمارے پاس بقر عید کے دن گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس وقت معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے۔ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میں نے اس حدیث کا قاسم بن محمد سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ عمرہ نے تم سے ٹھیک ٹھیک حدیث بیان کر دی ہے۔ ( ہر دو احادیث سے مقصد باب ظاہر ہے ) کہ قربانی کا گوشت کھانے اور بطور توشہ رکھنے کی عام اجازت ہے، خود قرآن مجید میں «فكلوا منها» کا صیغہ موجود ہے کہ اسے غرباء مساکین کو بھی تقسیم کرو اور خود بھی کھاؤ۔
وَقَالَ لَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ طَافَ طَوَافًا وَاحِدًا، ثُمَّ يَقِيلُ ثُمَّ يَأْتِي مِنًى ـ يَعْنِي يَوْمَ النَّحْرِ ـ. وَرَفَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ.
Narrated Nafi' that Ibn 'Umar (ra) performed only one Tawaf. He would take an afternoon nap and then return to Mina. That was on the day of Nahr (slaughtering)
اور ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے صرف ایک طواف الزیارۃ کیا پھر سویرے سے منیٰ کو آئے، ان کی مراد دسویں تاریخ سے تھی، عبدالرزاق نے اس حدیث کا رفع ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ) بھی کیا ہے۔ انہیں عبیداللہ نے خبر دی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَفَضْنَا يَوْمَ النَّحْرِ، فَحَاضَتْ صَفِيَّةُ، فَأَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ. فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا حَائِضٌ. قَالَ " حَابِسَتُنَا هِيَ ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَاضَتْ يَوْمَ النَّحْرِ. قَالَ " اخْرُجُوا ". وَيُذْكَرُ عَنِ الْقَاسِمِ وَعُرْوَةَ وَالأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَفَاضَتْ صَفِيَّةُ يَوْمَ النَّحْرِ.
Narrated `Aisha:We performed Hajj with the Prophet (ﷺ) and performed Tawaf-al-ifada on the Day of Nahr (slaughtering). Safiya got her menses and the Prophet desired from her what a husband desires from his wife. I said to him, "O Allah's Messenger (ﷺ)! She is having her menses." He said, "Is she going to detain us?" We informed him that she had performed Tawaf-al-Ifada on the Day of Nahr. He said, "(Then you can) depart
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے اعرج نے انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہم نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کیا لیکن صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہی چاہا جو شوہر اپنی بیوی سے چاہتا ہے، تو میں نے کہا یا رسول اللہ! وہ حائضہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اس نے تو ہمیں روک دیا پھر جب لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! انہوں نے دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کر لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر چلے چلو۔ قاسم، عروہ اور اسود سے بواسطہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت ہے کہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا نے دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُسْأَلُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى، فَيَقُولُ " لاَ حَرَجَ ". فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ. قَالَ " اذْبَحْ، وَلاَ حَرَجَ ". وَقَالَ رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ. فَقَالَ " لاَ حَرَجَ ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) was asked (as regards the ceremonies of Hajj) at Mina on the Day of Nahr and he replied that there was no harm. Then a man said to him, "I got my head shaved before slaughtering." He replied, "Slaughter (now) and there is no harm in it." (Another) man said, "I did the Rami (of the Jimar) after midday." The Prophet (ﷺ) replied, "There was no harm in it
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم نحر میں منیٰ میں مسائل پوچھے جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جاتے کہ کوئی حرج نہیں ، ایک شخص نے پوچھا تھا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے تو آپ نے اس کے جواب میں بھی یہی فرمایا کہ جاؤ قربانی کر لو کوئی حرج نہیں اور اس نے یہ بھی پوچھا کہ میں نے کنکریاں شام ہونے کے بعد ہی مار لی ہیں ، تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، شَهِدَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا. ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. وَأَشْبَاهَ ذَلِكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ ". لَهُنَّ كُلِّهِنَّ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ قَالَ افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ.
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-`As:I witnessed the Prophet (ﷺ) when he was delivering the sermon on the Day of Nahr. A man stood up and said, "I thought that such and such was to be done before such and such. I got my hair shaved before slaughtering." (Another said), "I slaughtered the Hadi before doing the Rami." So, the people asked about many similar things. The Prophet (ﷺ) said, "Do it (now) and there is no harm in all these cases." Whenever the Prophet (ﷺ) was asked about anything on that day, he replied, "Do it (now) and there is no harm in it
ہم سے سعید بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عیسیٰ بن طلحہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں تاریخ کو منیٰ میں خطبہ دے رہے تھے تو وہ وہاں موجود تھے۔ ایک شخص نے اس وقت کھڑے ہو کر پوچھا کہ میں اس خیال میں تھا کہ فلاں کام فلاں سے پہلے ہے پھر دوسرا کھڑا ہوا اور کہا کہ میرا خیال تھا کہ فلاں کام فلاں سے پہلے ہے، چنانچہ میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا، رمی جمار سے پہلے قربانی کر لی، اور مجھے اس میں شک ہوا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اب کر لو۔ ان سب میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح کے دوسرے سوالات بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے جواب میں یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اب کر لو۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ. أَىُّ يَوْمٍ هَذَا ". قَالُوا يَوْمٌ حَرَامٌ. قَالَ " فَأَىُّ بَلَدٍ هَذَا ". قَالُوا بَلَدٌ حَرَامٌ. قَالَ " فَأَىُّ شَهْرٍ هَذَا ". قَالُوا شَهْرٌ حَرَامٌ. قَالَ " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ". فَأَعَادَهَا مِرَارًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَوَصِيَّتُهُ إِلَى أُمَّتِهِ ـ " فَلْيُبْلِغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ".
Narrated `Ikrima:Ibn `Abbas said: "Allah's Messenger (ﷺ) delivered a sermon on the Day of Nahr, and said, 'O people! (Tell me) what is the day today?' The people replied, 'It is the forbidden (sacred) day.' He asked again, 'What town is this?' They replied, 'It is the forbidden (Sacred) town.' He asked, 'Which month is this?' They replied, 'It is the forbidden (Sacred) month.' He said, 'No doubt! Your blood, your properties, and your honor are sacred to one another like the sanctity of this day of yours, in this (sacred) town (Mecca) of yours, in this month of yours.' The Prophet (ﷺ) repeated his statement again and again. After that he raised his head and said, 'O Allah! Haven't conveyed (Your Message) to them'. Haven't I conveyed Your Message to them?' " Ibn `Abbas added, "By Him in Whose Hand my soul is, the following was his will (Prophet's will) to his followers:--It is incumbent upon those who are present to convey this information to those who are absent Beware don't renegade (as) disbelievers (turn into infidels) after me, Striking the necks (cutting the throats) of one another
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے فضل بن غزوان نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ دسویں تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں خطبہ دیا، خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا لوگو! آج کون سا دن ہے؟ لوگ بولے یہ حرمت کا دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا اور یہ شہر کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حرمت کا شہر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ مہینہ کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حرمت کا مہینہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس تمہارا خون تمہارے مال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جیسے اس دن کی حرمت، اس شہر اور اس مہینہ کی حرمت ہے، اس کلمہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار دہرایا اور پھر آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہا اے اللہ! کیا میں نے ( تیرا پیغام ) پہنچا دیا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا کہ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ وصیت اپنی تمام امت کے لیے ہے، لہٰذا حاضر ( اور جاننے والے ) غائب ( اور ناواقف لوگوں کو اللہ کا پیغام ) پہنچا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا دیکھو میرے بعد ایک دوسرے کی گردن مار کر کافر نہ بن جانا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ،، وَرَجُلٌ، أَفْضَلُ فِي نَفْسِي مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ " أَتَدْرُونَ أَىُّ يَوْمٍ هَذَا ". قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ. قَالَ " أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ". قُلْنَا بَلَى. قَالَ " أَىُّ شَهْرٍ هَذَا ". قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ. فَقَالَ " أَلَيْسَ ذُو الْحَجَّةِ ". قُلْنَا بَلَى. قَالَ " أَىُّ بَلَدٍ هَذَا ". قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ. قَالَ " أَلَيْسَتْ بِالْبَلْدَةِ الْحَرَامِ ". قُلْنَا بَلَى. قَالَ " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ. أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ ". قَالُوا نَعَمْ. قَالَ " اللَّهُمَّ اشْهَدْ، فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ، فَلاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ".
Narrated Abu Bakra:The Prophet (ﷺ) delivered to us a sermon on the Day of Nahr. He said, "Do you know what is the day today?" We said, "Allah and His Apostle know better." He remained silent till we thought that he might give that day another name. He said, "Isn't it the Day of Nahr?" We said, "It is." He further asked, "Which month is this?" We said, "Allah and His Apostle know better." He remained silent till we thought that he might give it another name. He then said, "Isn't it the month of Dhul-Hijja?" We replied: "Yes! It is." He further asked, "What town is this?" We replied, "Allah and His Apostle know it better." He remained silent till we thought that he might give it another name. He then said, "Isn't it the forbidden (Sacred) town (of Mecca)?" We said, "Yes. It is." He said, "No doubt, your blood and your properties are sacred to one another like the sanctity of this day of yours, in this month of yours, in this town of yours, till the day you meet your Lord. No doubt! Haven't I conveyed Allah's message to you? They said, "Yes." He said, "O Allah! Be witness. So it is incumbent upon those who are present to convey it (this information) to those who are absent because the informed one might comprehend it (what I have said) better than the present audience, who will convey it to him. Beware! Do not renegade (as) disbelievers after me by striking the necks (cutting the throats) of one another
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، ان سے قرہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ایک اور شخص نے جو میرے نزدیک عبدالرحمٰن سے بھی افضل ہے یعنی حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں تاریخ کو منیٰ میں خطبہ سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا لوگو! معلوم ہے آج یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں۔ ہم بولے ہاں ضرور ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ مہینہ کون سا ہے؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے لیے۔ آپ اس مرتبہ بھی خاموش ہو گئے اور ہمیں خیال ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینہ کا نام کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟ ہم بولے کیوں نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ شہر کون سا ہے؟ ہم نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح خاموش ہو گئے کہ ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا شہر نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی کیوں نہیں ضرور ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بس تمہارا خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینہ اور اس شہر میں ہے، تاآنکہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ کہو کیا میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! تو گواہ رہنا اور ہاں! یہاں موجود غائب کو پہنچا دیں کیونکہ بہت سے لوگ جن تک یہ پیغام پہنچے گا سننے والوں سے زیادہ ( پیغام کو ) یاد رکھنے والے ثابت ہوں گے اور میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی ( ناحق ) گردنیں مارنے لگو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى " أَتَدْرُونَ أَىُّ يَوْمٍ هَذَا ". قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَقَالَ " فَإِنَّ هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ، أَفَتَدْرُونَ أَىُّ بَلَدٍ هَذَا ". قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ " بَلَدٌ حَرَامٌ، أَفَتَدْرُونَ أَىُّ شَهْرٍ هَذَا ". قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ " شَهْرٌ حَرَامٌ ـ قَالَ ـ فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ". وَقَالَ هِشَامُ بْنُ الْغَازِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ وَقَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ بِهَذَا، وَقَالَ " هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الأَكْبَرِ "، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ اشْهَدْ ". وَوَدَّعَ النَّاسَ. فَقَالُوا هَذِهِ حَجَّةُ الْوَدَاعِ.
Narrated Ibn `Umar:At Mina, the Prophet (ﷺ) said, "Do you know what is the day today?" The people replied, "Allah and His Apostle know it better." He said, "It is the forbidden (sacred) day. And do you know what town is this?" They replied, "Allah and His Apostle know it better." He said, "This is the forbidden (Sacred) town (Mecca). And do you know which month is this?" The people replied, "Allah and His Apostle know it better." He said, "This is the forbidden (sacred) month." The Prophet (ﷺ) added, "No doubt, Allah made your blood, your properties, and your honor sacred to one another like the sanctity of this day of yours in this month of yours in this town of yours." Narrated Ibn `Umar: On the Day of Nahr (10th of Dhul-Hijja), the Prophet (ﷺ) stood in between the Jamrat during his Hajj which he performed (as in the previous Hadith) and said, "This is the greatest Day (i.e. 10th of Dhul-Hijjah)." The Prophet (ﷺ) started saying repeatedly, "O Allah! Be Witness (I have conveyed Your Message)." He then bade the people farewell. The people said, "This is Hajjat-al-Wada
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم کو عاصم بن محمد بن زید نے خبر دی، انہیں ان کے باپ نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں فرمایا کہ تم کو معلوم ہے! آج کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا دن ہے اور یہ بھی تم کو معلوم ہے کہ یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا شہر ہے اور تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ کون سا مہینہ ہے، لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا مہینہ ہے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا خون! تمہارا مال اور عزت ایک دوسرے پر ( ناحق ) اس طرح حرام کر دی ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینہ اور اس شہر میں ہے۔ ہشام بن غاز نے کہا کہ مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں دسویں تاریخ کو جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ دیکھو! یہ ( «يوم النحر» ) حج اکبر کا دن ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمانے لگے کہ اے اللہ! گواہ رہنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر چونکہ لوگوں کو رخصت کیا تھا۔ ( آپ سمجھ گئے کہ وفات کا زمانہ آن پہنچا ) جب سے لوگ اس حج کو حجۃ الوداع کہنے لگے۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ، فَقَالَتْ مَا أُرَانِي إِلاَّ حَابِسَتَكُمْ. قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَقْرَى حَلْقَى أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ ". قِيلَ نَعَمْ. قَالَ " فَانْفِرِي ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَزَادَنِي مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ نَذْكُرُ إِلاَّ الْحَجَّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ النَّفْرِ حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " حَلْقَى عَقْرَى، مَا أُرَاهَا إِلاَّ حَابِسَتَكُمْ ". ثُمَّ قَالَ " كُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ". قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ " فَانْفِرِي ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. إِنِّي لَمْ أَكُنْ حَلَلْتُ. قَالَ " فَاعْتَمِرِي مِنَ التَّنْعِيمِ ". فَخَرَجَ مَعَهَا أَخُوهَا، فَلَقِينَاهُ مُدَّلِجًا. فَقَالَ " مَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا ".
Narrated `Aisha:Safiya got her menses on the night of Nafr (departure from Hajj), and she said, "I see that I will detain you." The Prophet (ﷺ) said, "Aqra Halqa! Did she perform the Tawaf on the Day of Nahr (slaughtering)?" Somebody replied in the affirmative. He said, "Then depart." (Different narrators mentioned that) `Aisha said, "We set out with Allah's Apostle (from Medina) with the intention of performing Hajj only. When we reached Mecca, he ordered us to finish the Ihram. When it was the night of Nafr (departure), Safiya bint Huyay got her menses. The Prophet (ﷺ) said, "Halqa Aqra! I think that she will detain you," and added, "Did you perform the Tawaf (Al-Ifada) on the Day of Nahr (slaughtering)?" She replied, "Yes." He said, "Then depart." I said, "O Allah's Apostle! I have not (done the Umra)." He replied, "Perform `Umra from Tan`im." My brother went with me and we came across the Prophet (ﷺ) in the last part of the night. He said, "Wait at such and such a place
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ، فَقَالَتْ مَا أُرَانِي إِلاَّ حَابِسَتَكُمْ. قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَقْرَى حَلْقَى أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ ". قِيلَ نَعَمْ. قَالَ " فَانْفِرِي ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَزَادَنِي مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ نَذْكُرُ إِلاَّ الْحَجَّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ النَّفْرِ حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " حَلْقَى عَقْرَى، مَا أُرَاهَا إِلاَّ حَابِسَتَكُمْ ". ثُمَّ قَالَ " كُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ". قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ " فَانْفِرِي ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. إِنِّي لَمْ أَكُنْ حَلَلْتُ. قَالَ " فَاعْتَمِرِي مِنَ التَّنْعِيمِ ". فَخَرَجَ مَعَهَا أَخُوهَا، فَلَقِينَاهُ مُدَّلِجًا. فَقَالَ " مَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا ".
Narrated `Aisha:Safiya got her menses on the night of Nafr (departure from Hajj), and she said, "I see that I will detain you." The Prophet (ﷺ) said, "Aqra Halqa! Did she perform the Tawaf on the Day of Nahr (slaughtering)?" Somebody replied in the affirmative. He said, "Then depart." (Different narrators mentioned that) `Aisha said, "We set out with Allah's Apostle (from Medina) with the intention of performing Hajj only. When we reached Mecca, he ordered us to finish the Ihram. When it was the night of Nafr (departure), Safiya bint Huyay got her menses. The Prophet (ﷺ) said, "Halqa Aqra! I think that she will detain you," and added, "Did you perform the Tawaf (Al-Ifada) on the Day of Nahr (slaughtering)?" She replied, "Yes." He said, "Then depart." I said, "O Allah's Apostle! I have not (done the Umra)." He replied, "Perform `Umra from Tan`im." My brother went with me and we came across the Prophet (ﷺ) in the last part of the night. He said, "Wait at such and such a place
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ فِيمَنْ يُؤَذِّنُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى لاَ يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ. وَيَوْمُ الْحَجِّ الأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ، وَإِنَّمَا قِيلَ الأَكْبَرُ مِنْ أَجْلِ قَوْلِ النَّاسِ الْحَجُّ الأَصْغَرُ. فَنَبَذَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّاسِ فِي ذَلِكَ الْعَامِ، فَلَمْ يَحُجَّ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُشْرِكٌ.
Narrated Abu Huraira:Abu Bakr, on the day of Nahr (i.e. slaughtering of animals for sacrifice), sent me in the company of others to make this announcement: "After this year, no pagan will be allowed to perform the Hajj, and none will be allowed to perform the Tawaf of the Ka`ba undressed." And the day of Al-Hajj-ul-Akbar is the day of Nahr, and its called Al-Akbar because the people call the `Umra Al-Hajj-ul-Asghar (i.e. the minor Hajj). Abu Bakr threw back the pagans' covenant that year, and therefore, no pagan performed the Hajj in the year of Hajj-ul-Wada` of the Prophets
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ( حجۃ الوداع سے پہلے والے حج کے موقع پر ) دسویں ذی الحجہ کے دن بعض دوسرے لوگوں کے ساتھ مجھے بھی منیٰ میں یہ اعلان کرنے بھیجا تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کرنے نہ آئے اور کوئی شخص بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر نہ کرے اور حج اکبر کا دن دسویں تاریخ ذی الحجہ کا دن ہے۔ اسے حج اکبر اس لیے کہا گیا کہ لوگ ( عمرہ کو ) حج اصغر کہنے لگے تھے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سال مشرکوں سے جو عہد لیا تھا اسے واپس کر دیا، اور دوسرے سال حجۃ الوداع میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو کوئی مشرک شریک نہیں ہوا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ـ رضى الله عنه ـ بَعَثَهُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَوْمَ النَّحْرِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ لاَ يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ.
Narrated Abu Huraira:That during the Hajj in which the Prophet (ﷺ) had made Abu Bakr As Siddiq as chief of the, Hajj before the Hajj-ul-Wida,' on the day of Nahr, Abu Bakr sent him along with a group of persons to announce to the people. "No pagan is permitted to perform Hajj after this year, and nobody is permitted to perform the Tawaf of the Ka`ba naked
ہم سے سلیمان بن داؤد ابوالربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا کہ ان سے زہری نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حجۃ الوداع سے پہلے جس حج کا امیر بنا کر بھیجا تھا، اس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے کئی آدمیوں کے ساتھ قربانی کے دن ( منیٰ ) میں اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک ( بیت اللہ ) کا حج کرنے نہ آئے اور نہ کوئی شخص بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَأَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ فِي تِلْكَ الْحَجَّةِ فِي مُؤَذِّنِينَ، بَعَثَهُمْ يَوْمَ النَّحْرِ يُؤَذِّنُونَ بِمِنًى أَنْ لاَ يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ. قَالَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثُمَّ أَرْدَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ بِبَرَاءَةَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَأَذَّنَ مَعَنَا عَلِيٌّ يَوْمَ النَّحْرِ فِي أَهْلِ مِنًى بِبَرَاءَةَ، وَأَنْ لاَ يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ.
Narrated Humaid bin `Abdur-Rahman:Abu Huraira said, "During that Hajj (in which Abu Bakr was the chief of the pilgrims) Abu Bakr sent me along with announcers on the Day of Nahr ( 10th of Dhul-Hijja) in Mina to announce: "No pagans shall perform, Hajj after this year, and none shall perform the Tawaf around the Ka`ba in a naked state." Humaid bin `Abdur Rahman added: Then Allah's Messenger (ﷺ) sent `Ali bin Abi Talib (after Abu Bakr) and ordered him to recite aloud in public Surat Bara'a. Abu Huraira added, "So `Ali, along with us, recited Bara'a (loudly) before the people at Mina on the Day of Nahr and announced; "No pagan shall perform Hajj after this year and none shall perform the Tawaf around the Ka`ba in a naked state
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے (کہا) اور مجھے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس حج کے موقع پر ( جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امیر بنایا تھا ) مجھے بھی اعلان کرنے والوں میں رکھا تھا، جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم نحر میں اس لیے بھیجا تھا کہ اعلان کر دیں کہ آئندہ سال سے کوئی مشرک حج کرنے نہ آئے اور کوئی شخص بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر نہ کرے۔ حمید بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ پھر اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے سے بھیجا اور انہیں سورۃ برات کے احکام کے اعلان کرنے کا حکم دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، چنانچہ ہمارے ساتھ علی رضی اللہ عنہ نے بھی یوم نحر ہی میں سورۃ برات کا اعلان کیا اور اس کا کہ آئندہ سال سے کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی ننگے ہو کر طواف کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ فِي تِلْكَ الْحَجَّةِ فِي الْمُؤَذِّنِينَ، بَعَثَهُمْ يَوْمَ النَّحْرِ يُؤَذِّنُونَ بِمِنًى أَنْ لاَ يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ. قَالَ حُمَيْدٌ ثُمَّ أَرْدَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ بِبَرَاءَةَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَأَذَّنَ مَعَنَا عَلِيٌّ فِي أَهْلِ مِنًى يَوْمَ النَّحْرِ بِبَرَاءَةَ، وَأَنْ لاَ يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ.
Narrated Humaid bin `Abdur Rahman:Abu Huraira said, "Abu Bakr sent me in that Hajj in which he was the chief of the pilgrims along with the announcers whom he sent on the Day of Nahr to announce at Mina: "No pagan shall perform Hajj after this year, and none shall perform the Tawaf around the Ka`ba in a naked state." Humaid added: That the Prophet (ﷺ) sent `Ali bin Abi Talib (after Abu Bakr) and ordered him to recite aloud in public Surat-Baraa. Abu Huraira added, "So `Ali, along with us, recited Bara'a (loudly) before the people at Mina on the Day of Nahr and announced "No pagan shall perform Hajj after this year and none shall perform the Tawaf around the Ka`ba in a naked state
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھ کو حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حج کے موقع پر ( جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امیر بنایا تھا ) مجھ کو ان اعلان کرنے والوں میں رکھا تھا جنہیں آپ نے یوم نحر میں بھیجا تھا۔ منیٰ میں یہ اعلان کرنے کے لیے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کرنے نہ آئے اور نہ کوئی شخص بیت اللہ کا طواف ننگا ہو کر کرے۔ حمید نے کہا کہ پھر پیچھے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ سورۃ برات کا اعلان کر دیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے ساتھ منیٰ کے میدان میں دسویں تاریخ میں سورۃ برات کا اعلان کیا اور یہ کہ کوئی مشرک آئندہ سال سے حج کرنے نہ آئے اور نہ کوئی بیت اللہ کا طواف ننگا ہو کر کرے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْفِرَ إِذَا صَفِيَّةُ عَلَى باب خِبَائِهَا كَئِيبَةً، فَقَالَ لَهَا " عَقْرَى ـ أَوْ حَلْقَى ـ إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ". قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ " فَانْفِرِي إِذًا ".
Narrated `Aisha:When Allah's Messenger (ﷺ) decided to leave Mecca after the Hajj, he saw Safiyya, sad and standing at the entrance of her tent. He said to her, "Aqr (or) Halq! You will detain us. Did you perform Tawaf-al- Ifada on the day of Nahr? She said, "Yes." He said, "Then you can depart
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجۃ الوداع میں ) کوچ کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمہ کے دروازے پر غمگین کھڑی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ «عقرى» یا ( فرمایا راوی کو شک تھا ) «حلقى» معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمیں روک دو گی، کیا تم نے قربانی کے دن طواف کر لیا ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْفِرَ إِذَا صَفِيَّةُ عَلَى باب خِبَائِهَا كَئِيبَةً، فَقَالَ لَهَا " عَقْرَى ـ أَوْ حَلْقَى ـ إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ". قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ " فَانْفِرِي إِذًا ".
Narrated `Aisha:When Allah's Messenger (ﷺ) decided to leave Mecca after the Hajj, he saw Safiyya, sad and standing at the entrance of her tent. He said to her, "Aqr (or) Halq! You will detain us. Did you perform Tawaf-al- Ifada on the day of Nahr? She said, "Yes." He said, "Then you can depart
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجۃ الوداع میں ) کوچ کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمہ کے دروازے پر غمگین کھڑی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ «عقرى» یا ( فرمایا راوی کو شک تھا ) «حلقى» معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمیں روک دو گی، کیا تم نے قربانی کے دن طواف کر لیا ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ ". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ ـ وَذَكَرَ جِيرَانَهُ ـ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ. فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَلاَ أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لاَ، ثُمَّ انْكَفَأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، وَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا.
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said on the day of Nahr, "Whoever has slaughtered his sacrifice before the prayer, should repeat it (slaughter another sacrifice)." A man got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This is a day on which meat is desired." He then mentioned his neighbors saying, "I have a six month old ram which is to me better than the meat of two sheep." The Prophet (ﷺ) allowed him to slaughter it as a sacrifice, but I do not know whether this permission was valid for other than that man or not. The Prophet (ﷺ) then went towards two rams and slaughtered them, and then the people went towards some sheep and distributed them among themselves
ہم سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن علیہ نے خبر دی، انہیں ایوب نے، انہیں محمد بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے اس پر ایک صاحب نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ وہ دن ہے جس میں گوشت کھانے کی خواہش ہوتی ہے پھر انہوں نے اپنے پڑوسیوں کا ذکر کیا اور ( کہا کہ ) میرے پاس ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ ہے جس کا گوشت دو بکریوں کے گوشت سے بہتر ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی ہے یا نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف مڑے اور انہیں ذبح کیا پھر لوگ بکریوں کی طرف بڑھے اور انہیں تقسیم کر کے ( ذبح کیا ) ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، سَمِعْتُ جُنْدَبَ بْنَ سُفْيَانَ الْبَجَلِيَّ، قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ ".
Narrated Jundab bin Sufyan Al-Bajali:I witnessed the Prophet (ﷺ) on the Day of Nahr. He said, "Whoever slaughtered the sacrifice before offering the `Id prayer, should slaughter another sacrifice in its place; and whoever has not slaughtered their sacrifice yet, should slaughter now
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسود بن قیس نے بیان کیا، کہا میں نے جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ قربانی کے دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ کرے اور جس نے قربانی ابھی نہ کی ہو وہ کرے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَرْدَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ يَوْمَ النَّحْرِ خَلْفَهُ عَلَى عَجُزِ رَاحِلَتِهِ، وَكَانَ الْفَضْلُ رَجُلاً وَضِيئًا، فَوَقَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلنَّاسِ يُفْتِيهِمْ، وَأَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ وَضِيئَةٌ تَسْتَفْتِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، وَأَعْجَبَهُ حُسْنُهَا، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ إِلَيْهَا، فَأَخْلَفَ بِيَدِهِ فَأَخَذَ بِذَقَنِ الْفَضْلِ، فَعَدَلَ وَجْهَهُ عَنِ النَّظَرِ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ " نَعَمْ ".
Narrated `Abdullah bin `Abbas:Al-Fadl bin `Abbas rode behind the Prophet (ﷺ) as his companion rider on the back portion of his she camel on the Day of Nahr (slaughtering of sacrifice, 10th Dhul-Hijja) and Al-Fadl was a handsome man. The Prophet (ﷺ) stopped to give the people verdicts. In the meantime, a beautiful woman From the tribe of Khath'am came, asking the verdict of Allah's Messenger (ﷺ). Al-Fadl started looking at her as her beauty attracted him. The Prophet (ﷺ) looked behind while Al-Fadl was looking at her; so the Prophet (ﷺ) held out his hand backwards and caught the chin of Al-Fadl and turned his face (to the owner sides in order that he should not gaze at her. She said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The obligation of Performing Hajj enjoined by Allah on His worshipers, has become due (compulsory) on my father who is an old man and who cannot sit firmly on the riding animal. Will it be sufficient that I perform Hajj on his behalf?" He said, "Yes
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں سلیمان بن یسار نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو قربانی کے دن اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا۔ وہ خوبصورت گورے مرد تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو مسائل بتانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اسی دوران میں قبیلہ خثعم کی ایک خوبصورت عورت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھنے آئی۔ فضل بھی اس عورت کو دیکھنے لگے۔ اس کا حسن و جمال ان کو بھلا معلوم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر دیکھا تو فضل اسے دیکھ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے لے جا کر فضل کی ٹھوڑی پکڑی اور ان کا چہرہ دوسری طرف کر دیا۔ پھر اس عورت نے کہا: یا رسول اللہ! حج کے بارے میں اللہ کا جو اپنے بندوں پر فریضہ ہے وہ میرے والد پر لاگو ہوتا ہے، جو بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اور سواری پر سیدھے نہیں بیٹھ سکتے۔ کیا اگر میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو ان کا حج ادا ہو جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ہو جائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَرْدَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ يَوْمَ النَّحْرِ خَلْفَهُ عَلَى عَجُزِ رَاحِلَتِهِ، وَكَانَ الْفَضْلُ رَجُلاً وَضِيئًا، فَوَقَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلنَّاسِ يُفْتِيهِمْ، وَأَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ وَضِيئَةٌ تَسْتَفْتِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، وَأَعْجَبَهُ حُسْنُهَا، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ إِلَيْهَا، فَأَخْلَفَ بِيَدِهِ فَأَخَذَ بِذَقَنِ الْفَضْلِ، فَعَدَلَ وَجْهَهُ عَنِ النَّظَرِ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ " نَعَمْ ".
Narrated `Abdullah bin `Abbas:Al-Fadl bin `Abbas rode behind the Prophet (ﷺ) as his companion rider on the back portion of his she camel on the Day of Nahr (slaughtering of sacrifice, 10th Dhul-Hijja) and Al-Fadl was a handsome man. The Prophet (ﷺ) stopped to give the people verdicts. In the meantime, a beautiful woman From the tribe of Khath'am came, asking the verdict of Allah's Messenger (ﷺ). Al-Fadl started looking at her as her beauty attracted him. The Prophet (ﷺ) looked behind while Al-Fadl was looking at her; so the Prophet (ﷺ) held out his hand backwards and caught the chin of Al-Fadl and turned his face (to the owner sides in order that he should not gaze at her. She said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The obligation of Performing Hajj enjoined by Allah on His worshipers, has become due (compulsory) on my father who is an old man and who cannot sit firmly on the riding animal. Will it be sufficient that I perform Hajj on his behalf?" He said, "Yes
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں سلیمان بن یسار نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو قربانی کے دن اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا۔ وہ خوبصورت گورے مرد تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو مسائل بتانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اسی دوران میں قبیلہ خثعم کی ایک خوبصورت عورت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھنے آئی۔ فضل بھی اس عورت کو دیکھنے لگے۔ اس کا حسن و جمال ان کو بھلا معلوم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر دیکھا تو فضل اسے دیکھ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے لے جا کر فضل کی ٹھوڑی پکڑی اور ان کا چہرہ دوسری طرف کر دیا۔ پھر اس عورت نے کہا: یا رسول اللہ! حج کے بارے میں اللہ کا جو اپنے بندوں پر فریضہ ہے وہ میرے والد پر لاگو ہوتا ہے، جو بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اور سواری پر سیدھے نہیں بیٹھ سکتے۔ کیا اگر میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو ان کا حج ادا ہو جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ہو جائے گا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، أَوْ مُحَمَّدٌ عَنْهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ إِذْ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ كُنْتُ أَحْسِبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا. ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ أَحْسِبُ كَذَا وَكَذَا لِهَؤُلاَءِ الثَّلاَثِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ " لَهُنَّ كُلِّهِنَّ يَوْمَئِذٍ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ قَالَ " افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ ".
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-As:While the Prophet (ﷺ) was delivering a sermon on the Day of Nahr (i.e., 10th Dhul-Hijja-Day of slaughtering the sacrifice), a man got up saying, "I thought, O Allah's Messenger (ﷺ), such-and-such a thing was to be done before such-and-such a thing." Another man got up, saying, "O Allah's Messenger (ﷺ)! As regards these three (acts of Hajj), thought so-and-so." The Prophet (ﷺ) said, "Do, and there is no harm," concerning all those matters on that day. And so, on that day, whatever question he was asked, he said, "Do it, do it, and there is no harm therein
ہم سے عثمان بن الہیثم نے بیان کیا یا ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی نے عثمان بن الہیثم سے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے کہا کہ میں نے ابن شہاب سے سنا، کہا کہ مجھ سے عیسیٰ بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمرو بن العاص نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حجۃ الوداع میں ) قربانی کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! میں فلاں فلاں ارکان کو فلاں فلاں ارکان سے پہلے خیال کرتا تھا ( اس غلطی سے ان کو آگے پیچھے ادا کیا ) اس کے بعد دوسرے صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فلاں فلاں ارکان حج کے متعلق یونہی خیال کرتا تھا ان کا اشارہ ( حلق، رمی اور نحر ) کی طرف تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یونہی کر لو ( تقدیم و تاخیر کرنے میں ) آج ان میں سے کسی کام میں کوئی حرج نہیں ہے۔ چنانچہ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس مسئلہ میں بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ کر لو کوئی حرج نہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ " لاَ حَرَجَ ". قَالَ آخَرُ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ. قَالَ " لاَ حَرَجَ ". قَالَ آخَرُ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ " لاَ حَرَجَ ".
Narrated Ibn `Abbas:A man said to the Prophet (while he was delivering a sermon on the Day of Nahr), "I have performed the Tawaf round the Ka`ba before the Rami (throwing pebbles) at the Jamra." The Prophet (ﷺ) said, "There is no harm (therein)." Another man said, "I had my head shaved before slaughtering (the sacrifice)." The Prophet (ﷺ) said, "There is no harm." A third said, "I have slaughtered (the sacrifice) before the Rami (throwing pebbles) at the Jamra." The Prophet (ﷺ) said, "There is no harm
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، میں نے رمی کرنے سے پہلے طواف زیارت کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ تیسرے نے کہا کہ میں نے رمی کرنے سے پہلے ہی ذبح کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ أَبِي حُرَّةَ الأَسْلَمِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، نَذَرَ أَنْ لاَ، يَأْتِيَ عَلَيْهِ يَوْمٌ إِلاَّ صَامَ، فَوَافَقَ يَوْمَ أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ. فَقَالَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ، لَمْ يَكُنْ يَصُومُ يَوْمَ الأَضْحَى وَالْفِطْرِ، وَلاَ يَرَى صِيَامَهُمَا.
Narrated `Abdullah bin `Umar:that he was asked about a man who had vowed that he would fast all the days of his life then the day of `Id al Adha or `Id-al-Fitr came. `Abdullah bin `Umar said: You have indeed a good example in Allah's Messenger (ﷺ). He did not fast on the day of `Id al Adha or the day of `Id-al-Fitr, and we do not intend fasting on these two days
ہم سے محمد بن ابوبکر مقدمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حکیم بن ابی حرہ اسلمی نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ان سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے نذر مانی ہو کہ کچھ مخصوص دنوں میں روزے رکھے گا۔ پھر اتفاق سے انہیں دنوں میں بقر عید یا عید کے دن پڑ گئے ہوں؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقر عید اور عید کے دن روزے نہیں رکھتے تھے اور نہ ان دنوں میں روزے کو جائز سمجھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ كُلَّ يَوْمِ ثَلاَثَاءَ أَوْ أَرْبِعَاءَ مَا عِشْتُ، فَوَافَقْتُ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ النَّحْرِ. فَقَالَ أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنُهِينَا أَنْ نَصُومَ يَوْمَ النَّحْرِ. فَأَعَادَ عَلَيْهِ فَقَالَ مِثْلَهُ، لاَ يَزِيدُ عَلَيْهِ.
Narrated Ziyad bin Jubair:I was with Ibn `Umar when a man asked him, "I have vowed to fast every Tuesday or Wednesday throughout my life and if the day of my fasting coincided with the day of Nahr (the first day of `Id-al- Adha), (What shall I do?)" Ibn `Umar said, "Allah has ordered the vows to be fulfilled, and we are forbidden to fast on the day of Nahr." The man repeated his question and Ibn `Umar repeated his former answer, adding nothing more
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ذریع نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے زیادہ بن جبیر نے بیان کیا کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ میں نے نذر مانی ہے کہ ہر منگل یا بدھ کے دن روزہ رکھوں گا۔ اتفاق سے اسی دن کی بقر عید پڑ گئی ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور ہمیں بقر عید کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ اس شخص نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا تو آپ نے پھر اس سے صرف اتنی ہی بات کہی اس پر کوئی زیادتی نہیں کی۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدَبٍ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ صَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ ".
Narrated Jundab:That he witnessed the Prophet (ﷺ) on the Day of Nahr. The Prophet (ﷺ) offered prayer and then delivered a sermon saying, "Whoever slaughtered his sacrifice before offering prayer, should slaughter another animal in place of the first; and whoever has not yet slaughtered any, should slaughter a sacrifice and mention Allah's Name while doing so
ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے اور ان سے جندب رضی اللہ عنہ نے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا ”جس نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا تو اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح ابھی نہ کیا ہو تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، جَمِيعًا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، - قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى، - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ وَيَقُولُ " لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لاَ أَدْرِي لَعَلِّي لاَ أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ " .
Jabir (Allah be pleased with him) reported:I saw Allah's Apostle (ﷺ) flinging pebbles while riding his camel on the Day of Nahr, and he was saying: Learn your rituals (by seeing me performing them), for I do not know whether I would be performing Hajj after this Hajj of mine
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا آپ قربانی کے دن اپنی سواری پر ( سوار ہو کر ) کنکریاں مار رہے تھے اور فرما رہے تھے : تمھیں چا ہیے کہ تم اپنے حج کے طریقے سیکھ لو ، میں نہیں جا نتا شاید اس حج کے بعد میں ( دوبارہ ) حج نہ کر سکوں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، وَابْنُ، إِدْرِيسَ عَنِ ابْنِ، جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَأَمَّا بَعْدُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ .
Jabir (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) flung pebbles at jamra on the Day of Nahr after sunrise, and after that (i. e. on the 11th, 12th and 13th of Dhu'l-Hijja when the sun had declined)
ابو خالد احمر اورابن ادریس نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابوزبیر سے اورانھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن چاشت کے وقت جمرہ ( عقبہ ) کو کنکریاں ماریں اور اس کے بعد ( کے دنوں میں تمام جمروں کو ) اس وقت جب سورج ڈھل گیا ۔
وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ مَا كُنْتُ أَحْسِبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا لِهَؤُلاَءِ الثَّلاَثِ قَالَ " افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ " .
Abdullah b. Amr b. al-'As (Allah be pleased with them) reported:As Allah's Apostle. (ﷺ) was delivering sermon on the Day of Nahr, a man stood up before him and said: Messenger of Allah, I did not know that such and such (rite was to be performed) before such and such (rite). Then another man came and said: Messenger of Allah, I thought that such and such (rite) should precede such and such (rite), and then another man came and said: Messenger of Allah, I had thought that such and such was before such and such, and such and such (is the sequence) of the three (rites, viz. throwing of pebbles, sacrificing of animal and shaving of one's head). He said to all these three: Do now (if you have not observed the cequence) ; there is no harm in it
عیسیٰ نے ہمیں ابن جریج سے خبر دی کہا میں نے ابن شہاب سے سنا کہہ رہے تھے عیسیٰ بن طلحہ نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا مجھے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن راص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اس دورا ن میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قر بانی کے دن خطبہ دے رہے تھے کو ئی آدمی آپ کی طرف ( رخ کر کے ) کھڑا ہوا اور کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نہیں سمجھتا تھا کہ فلا ں کا فلاں سے پہلے ہے پھر کو ئی اور آدمی آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرا خیال تھا کہ فلا ں کا م فلا ں فلاں سے پہلے ہو گا ( انھوں نے ) ان تین کا موں ( سر منڈوانے رمی اور قر بانی کے بارے میں پو چھا تو ) آپ نے یہی فر ما یا : " ( اب ) کر لو کو ئی حرج نہیں ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ . فَقَالَ " ارْمِ وَلاَ حَرَجَ " وَأَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ . قَالَ " ارْمِ وَلاَ حَرَجَ " . وَأَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ إِنِّي أَفَضْتُ إِلَى الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ . قَالَ " ارْمِ وَلاَ حَرَجَ " . قَالَ فَمَا رَأَيْتُهُ سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ قَالَ " افْعَلُوا وَلاَ حَرَجَ " .
Abdullah b. 'Amr b. al-As (Allah be pleased with them) said:As Allah's Messenger (may peace be'upon him) was standing near the jamra, a person came to him on the Day of Nahr and said: Messenger of Allah, I got (my head shaved) before throwing pebbles, whereupon he (the Holy Prophet) said: Throw pebbles (now) ; there is no harm in it. Another man (then) came and said: I have sacrificed before throwing the stones. He said: Throw stones (now) and there is no harm. Another came to him and said: I have observed the circumambulation of Ifada of the House before throwing pebbles. He said: Throw pebbles (now) ; there is no harm in it, He (the narrator) said: I did not see that he (the Holy Prophet) was asked about anything on that day, but he said: Do, and there is no harm in it
محمد بن ابی حفصہ نے ہمیں زہری سے خبر دی انھوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انھوں نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جب آپ کے پاس قر بانی کے دن ایک آدمی آیا آپ جمرہ عقبہ کے پاس رکے ہو ئے تھے ۔ اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے رمی کر نے سے پہلے سر منڈوالیا ہے آپ نے فر ما یا : " ( اب رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ ایک اور آدمی آیا ۔ وہ کہنے لگا : میں نے رمی سے پہلے قر با نی کر لی ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " ( اب ) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں پھر آپ کے پاس ایک اور آدمی آیا اور کہا میں نے رمی سے پہلے طواف افاضہ کر لیا ؟ ہے ؟فر ما یا : " ( اب ) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ کہا : میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ اس دن آپ سے کسی بھی چیز ( کی تقدیمو تا خیر ) کے بارے میں سوال کیا گیا ہو مگر آپ نے یہی فر ما یا : " کر لو کو ئی حرج نہیں ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى . قَالَ نَافِعٌ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفِيضُ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي الظُّهْرَ بِمِنًى وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَعَلَهُ .
Ibn Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) observed the circumambulation of Ifada on the Day of Nabr (10th of Dhu'l-Hijja), and then came back and observed the noon prayer at Mina. Nafi' (one of the narrators) said that Ibn Umar used to observe the circumambulation of Ifada on the Day of Nahr, and then return and observe the noon prayer at Mina, and mentioned that Allah's Apostle (ﷺ) did that
نا فع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قر بانی کے دن طواف افاضہ کیا ۔ پھر واپس آکر ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی ۔ نافع نے کہا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قربانی کے دن طواف افاضہ کرتے پھر واپس آتے ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کرتے اور بیان کیا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ عَائِشَةَ بَقَرَةً يَوْمَ النَّحْرِ .
Jabir reported that Allah's Messenger (ﷺ) sacrificed a cow on behalf of 'A'isha on the Day of Nahr (10th of Dhu'l-Hijja)
ہمیں یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے ابن جریج سے حدیث بیان کی انھوں نے ابو زبیر سے انھوں نے جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : قر بانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( اور دیگر امہارت المومنین ) کی طرف سے ایک گا ئے ذبح کی ۔
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، - لَعَلَّهُ قَالَ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرَادَ مِنْ صَفِيَّةَ بَعْضَ مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ . فَقَالُوا إِنَّهَا حَائِضٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " وَإِنَّهَا لَحَابِسَتُنَا " . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ زَارَتْ يَوْمَ النَّحْرِ . قَالَ " فَلْتَنْفِرْ مَعَكُمْ " .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Messenger (ﷺ) inclined to do with Safiyyah what a man feels inclined to do with his wife. They said:Messenger of Allah, she has entered the state of menses, whereupon he said: (Well) she is going to detain us. They (his wives) said: Messenger of Allah, she performed Tawaf Ziyara (Tawaf Ifada) on the Day of Nahr. Thereupon he said: Then she should proceed along with you
ابو سلمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایسا کو ئی کا م چا ہا جو ایک آدمی اپنی بیوی سے چا ہتا ہے تو سب ( ازواج ) نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ حائضہ ہیں آپ نے فر ما یا : " تو ( کیا ) یہ ہمیں ( کو چ ) کرنے سے ) روکنے والی ہیں ؟ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !انھوں نے قر بانی کے دن طواف زیارت ( طواف افاضہ ) کر لیا تھا آپ نے فر ما یا : " تو وہ بھی تمھارے ساتھ کو چ کر یں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْفِرَ إِذَا صَفِيَّةُ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً حَزِينَةً . فَقَالَ " عَقْرَى حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا " . ثُمَّ قَالَ لَهَا " أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ " . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ " فَانْفِرِي " .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:When Allah's Apostle (ﷺ) decided to march (for return journey), he found Safiyyah at the door of her tent, sad and downcast. He remarked. Barren, shaven-head, you are going to detain us, and then said: Did you perform Tawaf Ifada on the Day of Nahr? She replied in the affirmative, whereupon he said: Then march on
حکم نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب روانگی کا رادہ کیا تو اچا نک ( دیکھا کہ ) حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر دل گیراور پر یشان کھڑی تھیں آپ نے فر ما یا : " تمھا را نہ کو ئی بال نہ بچہ ! ( پھر بھی ) تم ہمیں ( یہیں ) روکنے والی ہو ۔ پھر آپ نے ان سے پو چھا : " کیا تم نے قر بانی کے دن طواف افاضہ کیا تھا ؟انھوں نے جواب دیا : جی ہاں آپ نے فر ما یا : " تو ( پھر ) چلو ۔ ( یعنی ان کے پاس جا کر ان سے بھی پو چھا اور تصدیق کی)
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح . وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُونَ فِي النَّاسِ يَوْمَ النَّحْرِ لاَ يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ يَوْمُ النَّحْرِ يَوْمُ الْحَجِّ الأَكْبَرِ . مِنْ أَجْلِ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported:Abu Bakr Siddiq (Allah be pleased with him) sent me during Hajj before the Farewell Pilgrimage for which Allah's Messenger (ﷺ) had appointed him an Amir, among a group of people whom he had ordered to make announcement to the people on the Day of Nahr:" After this year no polytheist may perform the Pilgrimage and no naked person may circumambulate the House." Ibn Shihab stated that Humaid b. Abd al-Rahman said that according to this narration of Abu Huraira (Allah be pleased with him) the day of Hajj al-Akbar (Great Hajj) is this Day of Nahr (10th of Dhu'l-Hijja)
عمرو ( بن حارث ) نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمان ( بن عوف ) سے خبردی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز بونس ( بن یزید ایلی ) نے ابن شہاب سے اسی سندکے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے اس حج میں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع سے پہلے انھیں امیر بنایا تھا ، ایک چھوٹی جماعت کے ساتھ روانہ کیا کہ وہ لوگ قربانی کے دن لوگوں میں ( یہ ) اعلان کریں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ کوئی برہنہ شخص بیت اللہ کا طواف کرے گا ۔ ابن شہاب نے کہا : حمید بن عبدالرحمان ( بن عوف ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی بنا پر کہاکرتے تھے : قربانی کا دن ہی حج اکبر کا دن ہے ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ قَعَدَ عَلَى بَعِيرِهِ وَأَخَذَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ فَقَالَ " أَتَدْرُونَ أَىَّ يَوْمٍ هَذَا " . قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ . فَقَالَ " أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ " . قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " فَأَىُّ شَهْرٍ هَذَا " . قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ " . قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " فَأَىُّ بَلَدٍ هَذَا " . قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ - قَالَ - حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ . قَالَ " أَلَيْسَ بِالْبَلْدَةِ " . قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ " . قَالَ ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا وَإِلَى جُزَيْعَةٍ مِنَ الْغَنَمِ فَقَسَمَهَا بَيْنَنَا .
Abu Bakra reported that when it was that day (the 10th of Dhu'l-Hijja) he mounted his camel and a person caught its nosestring, whereupon he said:Do you know which day is this? They said: Allah and His Messenger know best. (The Prophet [may peace be upon him] kept silent) until we thought that he would give that another name. He said: Is it not the day of Nahr (Sacrifice) (10th of Dhu'l- Hijja)? We said: Allah's Messenger, yes. He (again) said: Which month is it? We said: Allah and His Messenger knows best. He said: Is it not Dhu'l-Hijja? We said: Allah's Messenger, yes. He said: Which city is this? We said: Allah and His Messenger know best. He (the narrator) said (that the Prophet kept silent until we thought that he would give it another name besides its (original) name. He said: Is it not Balda (the city of Mecca)? We said: Yes, Allah's Messenger. He (then) said: Verily your blood (lives) and your property and your honour are as sacred unto you as sacred is this day of yours, in this month of yours, in this city of yours. Let him who is present convey it to one who is absent. He then turned his attention towards two multicoloured (black and white) rams and slaughtered them, and two goats, and distributed them amongst us
یزید بن زریع نے کہا : ہمیں عبداللہ بن عون نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب وہ دن تھا ، ( جس کا آگے ذکر ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر بیٹھے اور ایک انسان نے اس کی لگام پکڑ لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ "" لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ۔ حتی کہ ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کے نام کے سوا اسے کوئی اور نام دیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا یہ قربانی کا دن نہیں؟ "" ہم نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! فرمایا : یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ، فرمایا : "" کیا یہ ذوالحجہ نہیں؟ "" ہم نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" یہ کون سا شہر ہے؟ "" ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ۔ کہا : ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کے ( معروف ) نام کے سوا اسے کوئی اور نام دیں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا یہ البلدہ ( حرمت والا شہر ) نہیں؟ "" ہم نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بلاشبہ تمہارے خوب ، تمہارے مال اور تمہاری ناموس ( عزتیں ) تمہارے لیے اسی طرح حرمت والے ہیں جس طرح اس شہر میں ، اس مہینے میں تمہارا یہ دن حرمت والا ہے ، یہاں موجود شخص غیر موجود کو یہ پیغام پہنچا دے ۔ "" کہا : پھر آپ دو چتکبرے ( سفید و سیاہ ) مینڈھوں کی طرف مڑے ، انہیں ذبح کیا اور بکریوں کے گلے کی طرف ( آئے ) اور انہیں ہمارے درمیان تقسیم فرمایا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، وَعَنْ رَجُلٍ، آخَرَ هُوَ فِي نَفْسِي أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا قُرَّةُ بِإِسْنَادِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ - وَسَمَّى الرَّجُلَ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ " أَىُّ يَوْمٍ هَذَا " . وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ غَيْرَ أَنَّهُ لاَ يَذْكُرُ " وَأَعْرَاضَكُمْ " . وَلاَ يَذْكُرُ ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ وَمَا بَعْدَهُ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ " كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " .
This hadith has been narrated on the authority of Abu Bakra through another chain of transmitters (and the words are):" Allah's Messenger (ﷺ) addressed us on the day of Nahr (Sacrifice) and said: What day is this? And the rest of the hadith is the same except that he did not make mention of" your honour," and also did not make mention of this: He then turned his attention towards two rams and what follows, and in a hadith (the words pertaining to sacred- ness are recorded in this way):" Like the sacredness of this day of yours, in this month of yours, in this city of yours to the day when you will meet your Lord. Behold, have I not conveyed (the Message of God)? They said: Yes. He said: O Allah, bear witness
یحییٰ بن سعید نے کہا : ہمیں قرہ بن خالد نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں محمد بن سیرین نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے اور ایک اور آدمی سے ، جو میرے خیال میں عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے افضل ہے ، حدیث بیان کی ، نیز ابو عامر عبدالملک بن عمرو نے کہا : ہمیں قرہ نے یحییٰ بن سعید کی ( مذکورہ ) سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ ۔ اور انہوں ( ابو عامر ) نے اس آدمی کا نام حمید بن عبدالرحمان بتایا ( یہ بصرہ کے فقیہ ترین راوی ہیں ) ۔ ۔ انہوں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن خطبہ دیا اور پوچھا : " یہ کون سا دن ہے؟ " ۔ ۔ اور انہوں ( قرہ ) نے ابن عون کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے " عزت و ناموس " کا تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی : " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف مڑے " اور اس کے بعد والا حصہ بیان کیا ۔ انہوں نے ( اپنی ) حدیث میں کہا : " جیسے تمہارے اس شہر میں ، تمہارے اس مہینے میں تمہارا یہ دن اس وقت تک قابل احترام ہے جب تم اپنے رب سے ملو گے ۔ سنو! کیا میں نے ( اللہ کا پیغام ) پہنچا دیا؟ " لوگوں نے کہا : جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ! گواہ رہنا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ خَالَهُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ، ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ النَّبِيُّ، صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَكْرُوهٌ وَإِنِّي عَجَّلْتُ نَسِيكَتِي لأُطْعِمَ أَهْلِي وَجِيرَانِي وَأَهْلَ دَارِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعِدْ نُسُكًا " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ . فَقَالَ " هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ وَلاَ تَجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
Al-Bara' b. 'Azib reported that his maternal'uncle Abu Burda b. Niyar sacrificed his animal earlier than the Prophet (ﷺ) had sacrificed. Thereupon he said:Apostle of Allah, it is the day of meat and it is not desirable (to have longing for it and not to make use of it immediately), so I hastened in offering my animal as a sacrifice, so that I might feed my family and neighbours and my kith and kin. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Offer again your sacrifice. He said: Messenger of Allah, I have a small milch goat of less than one year, and that is better than two dry goats (from which only) meat (can be acquired). Thereupon he said: That is better than the two animals of sacrifice on your behalf, and the sacrifice of a goat, of less than six months shall not be accepted as a sacrifice on behalf of anyone after your (sacrifice)
ہشیم نے داود سے ، انھوں نے ( عامر ) شعبی سے ، انھوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ان کے ماموں حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذبح کرنے سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کردیا اور کہنے لگے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ وہ دن ہے جس میں گوشت سے دل بھر جاتاہے ۔ ( اور اس کی چاہت باقی نہیں ر ہتی ) اور میں نے اپنے بچوں ، ہمسایوں اور گھروالوں ( کو کھلانے ) کےلیے قربانی کا جانور جلدی ذبح کردیاہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی اور ( جانور ) ذبح کرو ۔ " انھوں نےکہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک سالہ دودھ پیتی ( کھیری ) بکری ہے ۔ وہ گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ تمہاری بہترین قربانی ہے ( تم اسی کی قربانی کرلو ) اور تمہارے بعد کسی کی طرف سے بھی ایک سالہ بکری کی قربانی کافی نہیں ہوگی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، بْنِ عَازِبٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ " لاَ يَذْبَحَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يُصَلِّيَ " . قَالَ فَقَالَ خَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَكْرُوهٌ . ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ هُشَيْمٍ .
Al-Bara' b. 'Azib reported:Allah's Messenger (ﷺ) delivered an address on the day (of Nahr) in which he said: None of you should offer sacrifice of animals until he has completed the ('Id) prayer. Thereupon my maternal uncle said: Messenger of Allah, it is the day of meat, so it is not desirable (to keep my family in the state of longing). The rest of the hadith is the same
ابن ابی عدی داؤد سے ، انھوں نے ( عامر ) شعبی سے اور انھوں نے حضرت ابراء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا اور فرما یا : " کو ئی شخص بھی نماسز سے پہلے ہر گز ( قربانی کا جا نور ) ذبح نہ کرے ۔ " تو میرے ماموں نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ ایسا دن ہے جس میں گوشت سے دل بھر جا تا ہے ۔ پھر ہشیم کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، كِلاَهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي يَوْمِ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلاَةِ . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .
al-Bara' b. 'Azib reported:Allah's Messenger (ﷺ) addressed us on the day of Nahr after the ('Id) prayer. The rest of the hadith is the same
منصور نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت برا ء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن کے بعد ہمیں خطبہ دیا ، پھر ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، بْنُ عَازِبٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي يَوْمِ نَحْرٍ فَقَالَ " لاَ يُضَحِّيَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يُصَلِّيَ " . قَالَ رَجُلٌ عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ قَالَ " فَضَحِّ بِهَا وَلاَ تَجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
Al-Bara' b. 'Azib reported:Allah's Messenger (ﷺ) addressed us on the day of Nahr and said: None should sacrifice the animal unless he has completed the ('Id) prayer. A person said: I have a milch goat of less than one year, better than two fat goats. Thereupon he said: Sacrifice it, and no goat of less than a year of age will be accepted as sacrifice after you
عاصم احول نے شعبی سے روایت کی ، کہا : مجھے حضرت برا ء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنا ئی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن خطبہ دیا اور فرما یا : " کو ئی شخص نماز پڑھنے سے پہلے قربانی نہ کرے ۔ " ایک شخص نے کہا : میرے پاس ایک سالہ دودھ پینے والی ( کھیری ) بکری ہے جو گوشت والی دوبکریوں سے بہترہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم اس کی قربانی کردو ، تمھا رے بعد ایک سالہ بکری کسی کے لیے کا فی نہ ہو گی ۔
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ . وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَدَّقَهُ قَالَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ أَفَأَذْبَحُهَا قَالَ فَرَخَّصَ لَهُ فَقَالَ لاَ أَدْرِي أَبَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لاَ قَالَ وَانْكَفَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا فَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا . أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا .
Anas (b. Malik) reported Allah's Messenger (ﷺ) having said on the day of Nahr (Sacrifice):He who slaughtered (the animal as a sacrifice) before the ('Id) prayer. should repeat it (i. e. offer another animal). Thereupon a person stood up and said: Messenger of Allah, that is the day when meat is much desired, and he also made a mention of the need of his neighbour, and perhaps Allah's Messenger (ﷺ) attested it. He (the person who had sacrificed the animal before the 'Id prayer) said: I have a goat of less than one year of age with me and I like it more than two fleshy goats; should I offer it as a sacrifice? He permitted him to do so. He (the narrator) said: I do not know whether this permission was granted to anyone else besides him or not. Allah's Messenger (ﷺ) then turned towards two rams. and he slaughtered them, and the people' came to the goats and got them distributed amongst themselves (for offering them as sacrifice)
اسماعیل بن ابرا ہیم ( ابن علیہ ) نے ایوب سے ، انھوں نے محمد ( بن سیرین ) سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فر ما یا : " جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے وہ پھر اسے کرے ۔ " تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ایسا دن ہے کہ اس میں گوشت کی خواہش ہو تی ہے ۔ اس نے اپنے ہمسایوں کی ضرورت مندی کا بھی ذکر کیا ۔ ( ایسا لگا ) جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی تصدیق کی ہو ۔ اس نے ( مزید ) کہا : اور میرے پاس ایک سالہ بکری ہے وہ مجھے گو شت والی دوبکریوں سے زیادہ پسند ہے کیا میں اسے ذبح کردوں ؟کہا : آپ نے اسے اس کی اجازت دے دی ۔ ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : مجھے معلوم نہیں کہ آپ کی دی ہو ئی رخصت اس ( شخص ) کے علاوہ دوسروں کے لیے بھی ہے یا نہیں ؟پھر ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کا رخ کیا اور ان کو ذبحفر ما یا ۔ لوگ کھڑے ہو کر بکریوں کے ایک چھوٹے سے ریوڑ کی طرف متوجہ ہو ئے اور اس کو آپس میں تقسیم کرلیا ۔ ۔ ۔ یا کہا : اس کے حصے کر لیے ۔ ۔ ۔ ۔
A detailed scholarly analysis for this topic is not yet available. Get in touch to request one.