VisualDhikr|

Afternoon Prayer

View in graph
event

Afternoon Prayer

صلاة العصر

Salat al-Asr, the Afternoon Prayer, is a cherished moment for Muslims worldwide, representing the third of the five daily obligatory prayers. Performed in the late afternoon, it offers a vital pause for spiritual reflection and reconnection with Allah amidst the day's activities. This prayer serves as a profound reminder to maintain one's focus on the Divine amidst worldly engagements, embodying the Quranic command that [indeed, prayer has been decreed upon the believers a book of specified times]. Its timing, from mid-afternoon until just before sunset, provides a unique window for devotion. Many scholars identify Asr as the specially emphasized "middle prayer" mentioned in the Quran, urging believers to [maintain with care the prayers and [in particular] the middle prayer]. Observing Asr is a fundamental pillar of faith, a beautiful practice that helps individuals fulfill the call to [exalt [Him] with praise of your Lord before the rising of the sun and before its setting], refreshing the spirit before the day concludes.

Hadith 51 traditions

Sahih Muslim 2:7sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَهُوَ بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ عِنْدَ الْعَصْرِ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا لَوْلاَ آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ فَيُصَلِّي صَلاَةً إِلاَّ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاَةِ الَّتِي تَلِيهَا ‏"‏ ‏.‏

Humran. the freed slave of 'Uthman. said:I heard from 'Uthman b. 'Affan and he was in the courtyard of the mosque, when the Mu'adhdhin (announcer of the prayer) came to him at the time of afternoon prayer. So the ('Uthman) called for the ablution water and performed ablution and then said: By Allah, I am narrating to you a hadith. If there were not a verse in the Book of Allah, I would have never narrated it to you. I heard Allah's Messenger (ﷺ) say: If a Muslim performs ablution and does it well and offers prayer, all his (sins) daring the period from one prayer to another would be pardoned by Allah

جریر نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ بن زبیر ) سے ، انہوں نے حضرت عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے آزادکردہ غلام حمران سےروایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ مسجد کے آنگن میں تھے اور عصر کے وقت ان کے پاس مؤذن آیا تو انہوں نے وضو کے لیے پانی منگایا ، وضوکیا ، پھر فرمایا : اللہ کی قسم! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں ، اگر کتاب اللہ کی ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں نہ سناتا ، میں نے رسول اللہ ﷺ سےسنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’ جومسلمان وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے ، پھر نماز پڑھے تو اس کے وہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جو اس نماز اور اگلی نماز کے درمیان ہوں گے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 2:13sahih

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، قَالَ كُنْتُ أَضَعُ لِعُثْمَانَ طَهُورَهُ فَمَا أَتَى عَلَيْهِ يَوْمٌ إِلاَّ وَهُوَ يُفِيضُ عَلَيْهِ نُطْفَةً ‏.‏ وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ انْصِرَافِنَا مِنْ صَلاَتِنَا هَذِهِ - قَالَ مِسْعَرٌ أُرَاهَا الْعَصْرَ - فَقَالَ ‏"‏ مَا أَدْرِي أُحَدِّثُكُمْ بِشَىْءٍ أَوْ أَسْكُتُ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ خَيْرًا فَحَدِّثْنَا وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَطَهَّرُ فَيُتِمُّ الطُّهُورَ الَّذِي كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَيُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ إِلاَّ كَانَتْ كَفَّارَاتٍ لِمَا بَيْنَهَا ‏"‏ ‏.‏

Humran b. Aban reported:I used to fetch water for 'Uthman for his purification. Never was there a day that he did not take a bath with a small quantity of water. And Uthman said: The Messenger of Allah (ﷺ) at the time of our returning from our prayer told us (certain things pertaining to purification). Mis'ar said: I find that it was afternoon prayer. He said: I do not know whether I should tell you a thing or keep quiet. We said: Messenger of Allah, tell us if it is good and if it is otherwise, Allah and His Apostle know better. Upon this he said: A Muslim who purifies (himself) and completes purification as enjoined upon him by Allah and then offers the prayers, that will be expiation (of his sins he committed) between these (prayers)

مسعر نےابو صخرہ جامع بن شداد سے روایت کی ، انہو ں نے کہا : میں نےحمران بن ابان سے سنا ، انہوں نےکہا : میں عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے غسل اور وضو کے لیے پانی رکھا کرتا تھا اور کوئی دن ایسا نہ آتا کہ وہ تھوڑا سا ( پانی ) اپنے اوپر نہ بہا لیتے ( ہلکا سا غسل نہ کر لیتے ، ایک دن ) عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اس نماز سے ( مسعر کا قول ہے : میرا خیال ہے کہ عصر کی نماز مراد ہے ) سلام پھیرنے کے بعد ہم سے گفتگو فرمائی ، آپ نے فرمایا : ’’میں نہیں جانتا کہ ایک بات تم سے کہہ دوں یا خاموش رہوں؟ ‘ ‘ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول!اگر بھلائی کی بات ہے تو ہمیں بتا دیجیے ، اگر کچھ اور ہے تو اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ رسو ل اللہﷺنے فرمایا : ’’جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور جو وضو اللہ نے اس کے لیے فرض قرار دیا ہے اس کو مکمل طریقے سے کرتا ہے پھر یہ پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے تو یقیناً یہ نمازیں ان گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی جو ان نمازوں کے درمیان کے اوقات میں سرزد ہوئے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 2:37sahih

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ رَجَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَاءٍ بِالطَّرِيقِ تَعَجَّلَ قَوْمٌ عِنْدَ الْعَصْرِ فَتَوَضَّئُوا وَهُمْ عِجَالٌ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ لَمْ يَمَسَّهَا الْمَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ ‏"‏ ‏.‏

Abdullah b. 'Amr reported:We returned from Mecca to Medina with the Messenger of Allah (ﷺ), and when we came to some water on the way, some of the people were in a hurry at the time of the afternoon prayer and performed ablution hurriedly; and when we reached them, their heels were dry, no water had touched them. The Prophet (ﷺ) said: Woe to (dry) heels, because of Hell-fire. Make your ablution thorough

جریر نے منصور سے ، انہوں نے ہلال بن یساف سے ، انہوں نے ابو یحییٰ ( مصدع ، الاعرج ) سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ سے مدینہ واپس آئے ۔ راستے میں جب ہم ایک پانی ( والی منزل ) پر پہنچے تو عصر کے وقت کچھ لوگوں نے جلدی کی ، وضو کیا تو جلدی میں تھے ، ہم ان تک پہنچے تو ان کی ایڑیاں اس طر ح نظر آ رہی تھیں کہ انہیں پانی نہیں لگا تھا ، رسول اللہ ﷺ نے ( آکر ) فرمایا : ’’ ( ان ) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے ۔ وضو اچھی طرح کیا کرو ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 2:39sahih

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، - قَالَ أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، - عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ تَخَلَّفَ عَنَّا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ سَافَرْنَاهُ فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ حَضَرَتْ صَلاَةُ الْعَصْرِ فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا فَنَادَى ‏ "‏ وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏

Abdullah b. Amr reported:The Messenger of Allah (ﷺ) lagged behind us on a journey. We travelled (back) and be took him; and then came the time of the afternoon prayer, and as we were going to wipe our feet he (the Holy Prophet) called out: Woe to the heels because of Hell-fire

یوسف بن ماہک نے حضرت عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : ایک سفر کے دوران میں نبی کریم ﷺ ہم سے پیچھے رہ گئے ، آپ ہمارے پاس پہنچے تو عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا ، ہم ( میں سے کچھ لوگ ) اپنے پاؤں پر ( جلدی میں ) ہاتھ پھیرنے لگے تو آپ نے بلند آواز سے فرمایا : ’’ ( ان ) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 4:49sahih

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الظُّهْرِ - أَوِ الْعَصْرِ - فَقَالَ ‏"‏ أَيُّكُمْ قَرَأَ خَلْفِي بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلاَّ الْخَيْرَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا ‏"‏ ‏.‏

lmrin b. Husain reported:The Messenger of Allah (may peace beupon him) led us In Zuhr or 'Asr prayer (noon or the afternoon prayer). (On concluding it) he said: Who recited behind me (the verses): Sabbih Isma Rabbik al-a'la (Glorify the name of thy Lord, the Most High)? There upon a person said: It was I, but I in- tended nothing but goodness. I felt that some one of you was disputing with me in it (or he was taking out from my tongue what I was reciting), said the Prophet (ﷺ)

ابو عوانہ نے قتادہ سے ، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی ، پھر فرمایا : ’’ تم میں سے کس نے میرے پیچھے ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ پڑھی؟ ‘ ‘ تو ایک آدمی نے کہا : میں نے ، اور خیر کے سوا اس سے میں اورکچھ نہیں چاہتا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ’’مجھے علم ہو گیا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس ( یعنی قراءت ) میں الجھا رہا ہے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 4:174sahih

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ الْحَجَّاجِ، - يَعْنِي الصَّوَّافَ - عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِنَا فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطَوِّلُ الرَّكْعَةَ الأُولَى مِنَ الظُّهْرِ وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ ‏.‏

Abu Qatada reported:The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer and recited in the first two rak'ahs of the noon and afternoon prayers Surat al-Fitiha and two (other) surahs. And he would sometimes recite loud enough for us the verses. He would prolong the first rak'ah more than the second. And he acted similarly in the morning prayer

حجاج صواف نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ اور ابو سلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں ( ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد ایک سورت ) پڑھتے اور کبھی کبھار ہمیں کوئی آیت سنا دیتے ۔ ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری رکعت مختصر کرتے اور صبح کی نماز میں بھی ایسا ہی کرتے ۔

Sahih Muslim 4:175sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ‏.‏

Abu Qatada reported it on the authority of his father:The Messenger of Allah (ﷺ) would recite in the first two rak'ahs of the noon and afternoon prayers the opening chapter of the Book and another surah. He would sometimes recite loud enough to make audible to us the verse and would recite in the last two rak'ahs Surat al-Faitiha (only)

(حجاج کے بجائے ) ہمام اور ابان بن یزید نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبیﷺ ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ( سے ہر رکعت میں ) سورۃ فاتحہ اور ایک سورت پڑھتے اور کبھی کبھار ہمیں بھی کوئی آیت سنا دیتے اور آخری دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھا کرتے تھے ۔

Sahih Muslim 4:176sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، - عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كُنَّا نَحْزِرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ قَدْرَ قِرَاءَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ قِيَامِهِ فِي الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَفِي الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ الم تَنْزِيلُ وَقَالَ قَدْرَ ثَلاَثِينَ آيَةً ‏.‏

Abu Sa'id al-Khudri reported:We used to estimate how long Allah's Messenger (ﷺ) stood in the noon and afternoon prayers, and we estimated hat he stood in the first two rak'ahs of the noon prayer as long as it takes to recite Alif Lam Mim, Tanzil, i. e. as-Sajda. We estimated that he stood half that time in the last two rak'ahs; that he stood in the first two of the afternoon as long as he did in the last two at noon; and in the last two of the afternoon prayer about half that time. Abu Bakr in his narration has made no mention of Alif Lam Mim, Tanzil, but said: As long as it takes to recite thirty verses

یحییٰ بن یحییٰ اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے ہشیم سے ، انہوں نے منصور سے ، انہوں نے ولید بن مسلم سے ، انہوں نے ابو صدیق ( ناجی ) سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ر وایت کی ، انہوں نے کہا : ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہﷺ کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے تو ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ ﴿الم 0 تنزيل﴾ ( السجدہ ) کی قراءت کے بقدر لگایا اور اس کی آخری دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ اس سے نصف کے بقدر لگایا اور ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ لگایا کہ وہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر تھا اور عصر کی دو رکعتوں کا قیام اس سے آدھا تھا ۔ امام مسلم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے استادہ ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں ﴿الم 0 تنزيل﴾ ( کا نام ) ذکر نہیں کیا ، انہوں نے کہا : تیس آیات کےبقدر

Sahih Muslim 4:191sahih

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِـ ‏{‏ اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى‏}‏ وَفِي الْعَصْرِ نَحْوَ ذَلِكَ وَفِي الصُّبْحِ أَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏

Jabir b. Samura reported:The Apostle of Allah (ﷺ) used to recite in the noon prayer:" By the night when it envelopes" (xcii.), and in the afternoon like this, but he prolonged the morning prayer as compared to that (noon and afternoon prayers)

عبد الرحمن بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں ﴿واليل اذا يغشى﴾ ( اور رات کی قسم جب چھا جائے ) پڑھتے ، عصر میں بھی ایسی ہی کوئی سورت پڑھتے اور فجر کی نماز میں اس سے لمبی ( سورت پڑھتے ۔)

Sahih Muslim 5:131sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي ثَلاَثِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَكَانَ فِي يَدَيْهِ طُولٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَذَكَرَ لَهُ صَنِيعَهُ ‏.‏ وَخَرَجَ غَضْبَانَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى النَّاسِ فَقَالَ ‏ "‏ أَصَدَقَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ فَصَلَّى رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ‏.‏

Imran b. Husain reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said the afternoon prayer and gave the salutation. at the end of three rak'ahs and then went into his house. A man called al-Khirbaq, who bad long aims, got up and went to him, and addressed him as Messenger of Allah and mentioned to him what he had done. He came out angrily trailing his mantle, and when he came to the people he said: Is this man telling the truth? They said: Yes. He then said one rak'ah and then gave salutation and then performed two prostrations and then gave salutation

اسماعیل بن ابراہیم نے خالد ( حذاء ) سے ، انھوں نے ابو قلابہ سے ، انھوں نے ابو مہلب سے اور انھوں نے حضرت عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نےعصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعات پر سلام پھیر دیا ، پھر اپنے گھر تشریف لے گئے تو ایک آدمی جسے خرباق کہا جاتا تھا اور اس کے ہاتھ لمبے تھے ، وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہواا ور آپ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! پھر آپ ﷺ سے جو ( سہو ) ہوا تھا اس کا آپ کے سامنے تذکرہ کیا ، آپ غصے کی حالت میں ، چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے حتی کہ لوگوں کے پا س آ پہنچے اور پوچھا : ’’ کیا یہ سچ کہہ رہا ہے ؟ ‘ ‘ لوگوں نے کہا : جی ہاں ! توآپ نے ایک رکعت پڑھائی ، پھر سلام پھیرا ، پھر سہو کے دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ۔

Sahih Muslim 5:208sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، وَعَنِ الأَعْرَجِ، حَدَّثُوهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ ‏"‏ ‏

Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who finds one rak'ah at dawn before the rising of the sun, he in fact finds the dawn prayer. and he who finds one rak'ah of the afternoon prayer before sunset, he in fact finds the afternoon prayer

امام مالک نےزید بن اسلم سے روایت کی ، انھیں عطاء بن یسار ، بسربن سعید اور اعرج نے حدیث بیان کی ، ان سب نےحضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے سورج نکلنے سے پہلے صبح کی ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے صبح ( کی نماز ) پالی اورجس نے سورج کے غروب ہونے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے عصر ( کی نماز ) پالی ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:210sahih

وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح قَالَ وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، - وَالسِّيَاقُ لِحَرْمَلَةَ - قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ سَجْدَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَوْ مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ فَقَدْ أَدْرَكَهَا ‏"‏ ‏.‏ وَالسَّجْدَةُ إِنَّمَا هِيَ الرَّكْعَةُ ‏.‏

A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who finds a prostration before sunset or at dawn (prayer) before the rising (of the sun) he in fact finds that (prayer), and prostration implies a rak'ah

معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے ، اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اسی طرح روایت کی جس طرح امام مالک نے زید بن اسلم سے روایت کی ۔

Sahih Muslim 5:211sahih

وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْفَجْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ ‏"‏ ‏.‏

Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who finds (gets) a rak'ah of the afternoon (prayer) before the setting of the sun, he in fact gets (the full prayer), and he who gets a rak'ah of the morning (prayer) before the rising of the sun he in fact gets (the full prayer)

عبداللہ بن مبارک نے معمر سے ، انھوں نے ابن طاوس سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ( عبداللہ ) بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے سورج کے غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز میں سے ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے ( نماز ) پالی اور جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے ( نماز ) پالی ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:213sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ نَزَلَ فَصَلَّى إِمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ ‏.‏ فَقَالَ سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ‏"‏ ‏.‏ يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ‏.‏

Ibn Shibab reported:'Umar b. 'Abd al-'Aziz deferred the afternoon prayer somewhat and 'Urwa said to him: Gabriel came down and he led the Messenger of Allah (ﷺ) in prayer. 'Umar said to him: O 'Urwa, are you aware of what you are saying? Upon this he ('Urwa) said: I heard Bashir b. Abu Mas'ud say that he heard Abu Mas'ud say that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Gabriel came down and acted as my Imam, then I prayed with him, then I prayed with him, then I prayed with him. then I prayed with him. then I prayed with him. reckoning with his fingers five times of prayer

لیث نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز نےعصر کی نمازمیں کچھ تاخیر کردی تو عروہ نے ان سے کہا : بات یوں ہے کہ جبریل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نازل ہوئے اور امام بن کر رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھائی ۔ تو عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ان سے کہا : اے عروہ ! جان لیں ( سمجھ لیں ) آپ کیا کہہ رہے ہیں ! انھوں نے کہا : میں نے بشیر بن ابی مسعود سے سنا ، وہ کہتے تھے : میں نے ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، انھوں نے کہا ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ نے فرما رہے تھے : ’’جبرئیل اترے اور انھوں نے ( نمازمیں ) میری امامت کی ، میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی ۔ ‘ ‘ وہ اپنی انگلیوں سے پانچ نمازیں شمار کرتے تھے ۔

Sahih Muslim 5:215sahih

قَالَ عُرْوَةُ وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ ‏.‏

Urwah (also) said:'A'isha?, the wife of the Apostle (ﷺ) narrated it to me that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say the afternoon prayer, when the light of the sun was there in her apartment before it went out (of it)

زہر ی سے امام مالک کی سابقہ سند ہی سے روایت ہے کہ عروہ نے کہاے : مجھے نبی اکرم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز ( اس وقت ) پڑھتے کہ دھوپ ان کے حجرے میں ہوتی ، ( حجرے میں سے ) دھوپ باہر نکلنے سے پہلے ۔ ( مغربی دیوار کا سایہ حجرے کے دروازے تک نہ پہنچا ہوتا ۔)

Sahih Muslim 5:216sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي لَمْ يَفِئِ الْفَىْءُ بَعْدُ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لَمْ يَظْهَرِ الْفَىْءُ بَعْدُ ‏.‏

A'isha reported:The Apostle of Allah (ﷺ) said the afternoon" prayer as the sun shone in my apartment, and the afternoon shadow did not extend further. Abu Bakr said: The afternoon shadow did not appear to extend further

ابوبکر بن ابی شبیہ اور عمرو ناقد نے حدیث سنائی ، عمرو نے کہا : سفیان نے ہمیں زہری سے حدیث سنائی ، انھوں نے عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ عصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج میرےحجرے میں چمک رہا ہوتا تھا ، ابھی ( صحن کے مشرق حصے میں ) سایہ نہ پھیلاہوتا تھا ۔ ابو بکر نے ( معنی کے وضاحت کرتے ہوئے ) کہا : ابھی ( مشرق کی طرف ) سایہ ظاہر نہ ہوا ہوتا تھا ۔

Sahih Muslim 5:217sahih

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا لَمْ يَظْهَرِ الْفَىْءُ فِي حُجْرَتِهَا ‏.‏

A'isha, the wife of the Apostle (ﷺ), said that the Messenger of Allah (ﷺ) said the afternoon prayer (at the time) when the sun shone in her apartment and its shadow did not extend beyond her apartment

یونس ابن شہاب سے روایت کی ، کہا مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ مجھے نبی اکرم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ نے خبر دی کہ رسو ل اللہ ﷺ عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جبکہ دھوپ ان کےحجرے میں ہوتی ( مشرق کی طرف پھیلتا ) سایہ ان کے حجرے میں نہ پھیلا ہوتا ۔

Sahih Muslim 5:218sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ وَاقِعَةٌ فِي حُجْرَتِي ‏.‏

A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said the afternoon prayer (at a time) when the (light) of the sun was there in my apartment

ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسو ل اللہ ﷺ عصر کی نماز پڑھتے اور دھوپ میرے حجرے میں پڑ رہی ہوتی تھی

Sahih Muslim 5:219sahih

حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا صَلَّيْتُمُ الْفَجْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ قَرْنُ الشَّمْسِ الأَوَّلُ ثُمَّ إِذَا صَلَّيْتُمُ الظُّهْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَحْضُرَ الْعَصْرُ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْمَغْرِبَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَسْقُطَ الشَّفَقُ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏

It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that the Prophet (ﷺ) said:"When you pray Fajr, its time is until the first part of the sun appears. When you pray Zuhr, its time is until 'Asr comes. When you pray 'Asr, its time is until the sun turns yellow. When you pray Maghrib, its time is until the twilight has disappeared. When you pray 'Isha, its time is until half of the night has passed

معاذ بن ہشام نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے ابو ایوب سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےروایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’جب تم فجر کی نماز پڑھو تو سورج کاپہلا کنارہ نمودار ہونے تک اس کا وقت ہے ، پھر جب تم ظہر پڑھو تو عصر ہونے تک اس کا وقت ہے اور جب تم عصر پڑھو تو سورج کے زرد ہونے تک اس کا وقت ہے اور جب تم مغرب پڑھو تو شفق ( سرخی ) کے ختم ہونے تک اس کا وقت ہے اور جب تم عشاء پڑھو تو آدھی رات ہونے تک اس کا وقت ہے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:220sahih

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، - وَاسْمُهُ يَحْيَى بْنُ مَالِكٍ الأَزْدِيُّ وَيُقَالُ الْمَرَاغِيُّ وَالْمَرَاغُ حَىٌّ مِنَ الأَزْدِ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَقْتُ الظُّهْرِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَسْقُطْ ثَوْرُ الشَّفَقِ وَوَقْتُ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ وَوَقْتُ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ ‏"‏ ‏.‏

Abdullah b. 'Amr reported the Apostle (ﷺ) saying:The time of the noon prayer (lasts) as long as it is not afternoon, and the time of the afternoon prayer (lasts) as long as the sun does not turn pale and the time of the evening prayer (lasts) as long as the spreading appearance of the redness above the horizon after sunset does not sink down, and the, time of the night prayer (lasts) by midnight and the time of the morning prayer (lasts) as long as the sun dots not rise

معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعب نے قتادہ سے ، انھوں نے ابو ایوب سے حدیث سنائی ۔ ابو ایوب کا نام یحییٰ بن مالک ازدی ہے ۔ ان کو مراغی بھی کہا جاتا ہے اور مراغ قبیلہ ازدہی کی ایک شاخ ہے ۔ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ظہر کا وقت تب تک ہےجب تک عصر کا وقت شروع نہ ہو ، اور عصر کا وقت ہے جب تک سورج زرد نہ ہو ، اور مغرب کا وقت ہے جب تک شفق غروب نہ ہو ، اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے اور فجر کا وقت ہے جب تک سورج طلوع نہ ہو ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:222sahih

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الأَوْسَطِ وَوَقْتُ صَلاَةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلاَةِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَىْ شَيْطَانٍ ‏"‏ ‏.‏

Abdullah b. 'Amr reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: The time of the noon prayer is when the sun passes the meridian and a man's shadow is the same (length) as his height, (and it lasts) as long as the time for the afternoon prayer has not come; the time for the afternoon prayer is as long as the sun has not become pale; the time of the evening prayer is as long as the twilight has not ended; the time of the night prayer is up to the middle of the average night and the time of the morning prayer is from the appearance of dawn, as long as the sun has not risen; but when the sun rises, refrain from prayer for it rises between the horns of the devil

ہمام نے ہمیں حدیث بیان کی ( کہا ) : ہمیں قتادہ نے اوب ایوب سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ ظہر کا وقت ( شروع ہوتا ہے ) جب سورج ڈھل جائے اور آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو ( جانے تک ) ، جب تک عصر کا وقت نہیں ہو جاتا ( رہتا ہے ) اور عصر کا وقت ( ہے ) جب تک سورج زرد نہ ہو جائے اور مغر بکا وقت ( ہے ) جب تک سرغی غائب نے ہو جائے اور عشاء کی نماز کا وقت رات کے پہلے نصف تک ہے اور صبح کی نماز کا وقت طلوع فجر سے اس وقت تک ( ہے ) جب تک سورج طلوع نہیں ہوتا ، جب سورج طلوع ہو نے لگے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:223sahih

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَزِينٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ - عَنِ الْحَجَّاجِ، - وَهُوَ ابْنُ حَجَّاجٍ - عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ فَقَالَ ‏ "‏ وَقْتُ صَلاَةِ الْفَجْرِ مَا لَمْ يَطْلُعْ قَرْنُ الشَّمْسِ الأَوَّلُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَيَسْقُطْ قَرْنُهَا الأَوَّلُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مَا لَمْ يَسْقُطِ الشَّفَقُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏

Abdullah b. 'Amr b. al-'As reported:The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about the times of prayers. He said: The time for the morning prayer (lasts) as long as the first visible part of the rising sun does not appear and the time of the noon prayer is when the sun declines from the zenith and there is not a time for the afternoon prayer and the time for the afternoon prayer is so long as the sun does not become pale and its first visible part does not set, and the time for the evening prayer is that when the sun disappears and (it lasts) till the twilight is no more and the time for the night prayer is up to the midnight

حجاج نے جو حجاج اسلمی کے بیٹے ہیں ، قتادہ سے ، انھوں نے ابو ایوب سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے نمازوںکے اوقات کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : فجر کی نماز کا وقت اس وقت تک ہےجب تک سورج کا پہلا کنارہ نہ نکلے ، اور ظہر کا وقت ہے جب سورج آسمان کی درمیان سے مغرب کی طرف ڈھل جائے یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو جائے اور عصر کی نماز کا وقت ہے جب تک سورج زرد نہ ہو جائے اور اس کا ( غروب ہونے والا ) پہلا کنارہ ڈوبنے لگے ، اور مغرب کی نماز کا وقت تب ہے جب سورج غروب ہو جائےجو سرخی غائب ہونے تک رہتا ہے اور عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:225sahih

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَزْرَقِ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَجُلاً سَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَةِ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الْيَوْمَيْنِ فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَلَمَّا أَنْ كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِي أَمَرَهُ فَأَبْرَدَ بِالظُّهْرِ فَأَبْرَدَ بِهَا فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي كَانَ وَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ بَعْدَ مَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ وَصَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَقْتُ صَلاَتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ ‏"‏ ‏.‏

Sulaiman b. Buraida narrated it on the authority of his father that a person asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the time of prayer. Upon this he said:Pray with us these two, meaning two days. When the sun passed the meridian, he gave command to Bilal who uttered the call to prayer. Then he commanded him and pronounced Iqama for noon prayer (Then at the time of the afternoon prayer) he again commanded and Iqama for the afternoon prayer was pronounced when the sun was high, white and clear. He then commanded and Iqama for the evening prayer was pronounced, when the sun had set. He then commanded him and the Iqama for the night prayer was pronounced when the twilight had disappeared. He then commanded him and the Iqama for the morning prayer was pronounced, when the dawn had appeared. When it was the next day, he commanded him to delay the noon prayer till the extreme heat had passed and he did so, and he allowed it to be delayed till the extreme heat had passed. He observed the afternoon prayer when the sun was high, delaying it beyond the time he had previously observed it. He observed the evening prayer before the twilight had vanished; he observed the night prayer when a third of the night had passed; and he observed the dawn prayer when there was clear daylight. He (the Holy Prophet) then said: Where is the man who inquired about the time of prayer? He (the inquirer) said: Messenger of Allah, here I am. He (the Holy Prophet) said: The time for your prayer is within the limits of what you have seen

سیدنا بریدہ ؓ نے کہا : کہ نبی ﷺ سے ایک شخص نے نماز کا وقت پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم دو روز ہمارے ساتھ نماز پڑھو “ ۔ پھر جب آفتاب ڈھل گیا سیدنا بلال ؓ کو حکم دیا ، انہوں نے اذان دی ، پھر حکم دیا ، انہوں نے اقامت کہی ، پھر عصر پڑھی اور سورج بلند تھا سفید صاف پھر حکم دیا تو اقامت کہی مغرب کی جب آفتاب ڈوب گیا ، پھر حکم دیا تو اقامت کہی عشاء کی جب شفق ڈوب گئی ، پھر حکم دیا اقامت کہی فجر کی جب فجر طلوع ہوئی ، پھر جب دوسرا دن ہوا ، حکم کیا تو ظہر ٹھنڈے وقت پڑھی اور بہت ٹھنڈے وقت پڑھی اور عصر پڑھی اور سورج بلند تھا مگر روز اول سے ذرا تاخیر کی اور مغرب پڑھی شفق ڈوبنے سے پہلے اور عشاء پڑھائی تہائی رات کے بعد اور فجر پڑھی جب خوب روشنی ہو گئی ۔ پھر فرمایا : ” وہ سائل کہاں ہے جو نماز کا وقت پوچھتا تھا ؟ “ ، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں حاضر ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” یہ جو دونوں وقت تم نے دیکھا ان کے بیچ میں تمہاری نماز کا وقت ہے ۔ “

Sahih Muslim 5:242sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ ‏.‏

Anas b. Malik reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray the afternoon prayer when the sun was high and bright, then one would go off to al-'Awali and get there while the sun was still high. Ibn Qutaiba made no mention of" one would go off to al-'Awali

قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا : لیث نے ہمیں ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ انھوں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ عصرکی نماز ( ایسے وقت میں ) پڑھتے تھے جب سورج بلند اور زندہ ( روشنی میں کمی کے بغیر ) ہوتا تھا ، عوالی کی طرف جانے والا ( عصر پڑھ کر ) چلتا اور عوالی ( مدینہ کے بالائی حصے کی بستیوں میں ) پہنچتا تو سورج ابھی بلند ہوتا تھا ۔ یہ بستیاں مدینہ سے دو تا آٹھ میل کی میل کی مسافت پر تھیں ۔ قتیبہ نے ( اپنی حدیث میں ) عوالی پہنچنے کا ذکر نہیں کیا ۔

Sahih Muslim 5:243sahih

وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، ‏.‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ بِمِثْلِهِ سَوَاءً ‏.‏

This hadith that the Messenger of Allah (ﷺ) used to offer the afternoon prayer like the one narrated above has been transmitted by Anas b. Malik by another chain of transmitters

عمرو نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز پڑھتے تھے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) بالکل ( اوپرکی روایت ) کے مطابق ہے ۔

Sahih Muslim 5:245sahih

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَخْرُجُ الإِنْسَانُ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَيَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ ‏.‏

Anas b. Malik reported:We used to offer the afternoon prayer (at such a time) that a person would go to Bani 'Amr b. Auf and he would find them busy offering the afternoon prayer

اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت اسن بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ، کہا ہم عصر کی نماز پڑھتے ، پھر ایک انسان بنو عمرو بن عوف کے محلے ( قباء میں ) جاتا تو انھیں عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پاتا ۔

Sahih Muslim 5:246sahih

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ قَالَ أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ فَقُلْنَا لَهُ إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ ‏.‏ قَالَ فَصَلُّوا الْعَصْرَ ‏.‏ فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ تِلْكَ صَلاَةُ الْمُنَافِقِ يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَىِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا لاَ يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلاَّ قَلِيلاً ‏"‏ ‏.‏

Ala' b. 'Abd al-Rahman reported that they came to the house of Anas b. Malik in Basra after saying the noon prayer. His (Anas) house was situated by the side of the mosque. As revisited him he (Anas) said:Have you said the afternoon prayer? We said to him: It is just a few minutes before that we finished the noon prayer. He said: Offer the afternoon prayer. So we stood up and said our prayer. And when we completed it, he said: I have heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: This is how the hypocrite prays: he sits watching the sun, and when it is between the horns of devil, he rises and strikes the ground four times (in haste) mentioning Allah a little during it

علاء بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ وہ نماز ظہر سے فارغ ہو کر حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ہاں بصرہ میں ان کے گھر حاضر ہوئے ، ان کا گھر مسجد کے پہلو میں تھا ، جب ہم ان کی خدمت میں پہنچے تو انھوں نے پوچھا : کیا تم لوگوں نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے ؟ ہم نے ان سے عرض کی : ہم تو ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر لوٹے ہیں ۔ انھوں نے فرمایا : تو عصر پڑھ لو ۔ ہم نے اٹھ کر ( عصر کی ) نماز پڑھ لی ، جب ہم فارغ ہوئے تو انھوں نےکہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ’’ یہ منافق کی نماز ہے ، وہ بیٹھا ہوا سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ ( جب وہ زرد پڑ کر ) شیطان کے دو سنگوں کے درمیان چلا جاتا ہے تو کھڑا ہو کر اس ( نماز ) کی چار ٹھونگیں مار دیتا ہے اور اس میں اللہ کو بہت ہی کم یاد کرتا ہے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:247sahih

وَحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ، يَقُولُ صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَقُلْتُ يَا عَمِّ مَا هَذِهِ الصَّلاَةُ الَّتِي صَلَّيْتَ قَالَ الْعَصْرُ وَهَذِهِ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله تعالى عليه وسلم الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ ‏.‏

Abu Umama b. Sahl reported:We offered the noon prayer with Umar b. 'Abd al-'Aziz. We then set out till we came to Anas b. Malik and found him busy in saying the afternoon prayer. I said to him: O uncle! which is this prayer that you are offering? He said: It is the afternoon prayer and this is the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) that we offered along with him

حضرت ابو اامامہ بن سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بیان کرتے ہیں : ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی ، پھر ہم باہر نکلے اور انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے انھیں حاصر کی نماز پڑھتے ہوئے پایا ، میں نے پوچھا : چچا جان! یہ کون سی نماز ہےجو آپ نے پڑھی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : عصر کی ہے ، اور یہی رسول اللہ ﷺ کی نماز ہے جو ہم آپ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے ۔

Sahih Muslim 5:248sahih

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ مُوسَى بْنَ سَعْدٍ الأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَصْرَ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَهَا ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ تُنْحَرْ فَنُحِرَتْ ثُمَّ قُطِّعَتْ ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا ثُمَّ أَكَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ ‏.‏ وَقَالَ الْمُرَادِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏

Anas b. Malik reported:The Messenger of Allah (ﷺ) led us in the afternoon prayer. When he completed it, a person from Bani Salama came to him and said: Messenger of Allah, we intend to slaughter our came and we are desirous that you should also be present there (on this occasion). He (the Holy Prophet) said: Yes. He (the person) went and we also went along with him and we found that the camel had not been slaughtered yet. Then it was slaughtered, and it was cut into pieces and then some of those were cooked, and then we ate (them) before the setting of the sun. This hadith has also been narrated by another chain of transmitters

عمرو بن سواد عامری ، محمد بن سلمہ مرادی اور احم د بن عیسیٰ نےہمیں حدیث بیان کی ۔ اس سب کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ عمرو نے کیا : ہمیں خبر دی اور باقی دونوں نے کہا : ہمیں حدیث سنائی ابن وہب نے ، کہا : مجھے عمرو بن حارث نے یزید بن ابی حبیب سے خبر دی کہ موسیٰ بن سعد انصاری نےانھیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حفص بن عبید اللہ سے اورانھوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھا ئی تو جب آپ فارغ ہوئے ، آپ کے پاس بنو سلمہ کا ایک آدمی آیا اور کہا : اللہ کے رسول ! ہم اپنا اونٹ نحر کرنے کا اردہ رکھتے ہیں ۔ اور ہم چاہتے ہیں آپ بھی اس موقع پر موجود ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اچھا ۔ ‘ ‘ آپ نکل پڑے ، ہم بھی آپ کے ساتھ چل پڑے ، ہم نے دیکھا ، اونٹ ابھی ذبح نہیں کیا گیا تھا ، اسے ذبح کیا گیا ، پھر اس کا گوشت کاٹا گیا ، پھر اس میں سے کچھ پکایا گیا ، پھر ہم نے سورج غروب ہونے سے پہلے ( اسے ) کھا لیا ۔ مرادی کا قول ہے کہ ہمیں یہ حدیث ابن وہب نے ابن لہیعہ اورعمروبن حارث دونوں سے روایت کرتے ہوئے سنائی ۔

Sahih Muslim 5:249sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشَرَ قِسَمٍ ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ مَغِيبِ الشَّمْسِ ‏.‏

Rafi' b. Khadij reported:We used to say the afternoon prayer with the Messenger of Allah (ﷺ), and then the camel was slaughtered and ten parts of it were distributed; then it was cooked and then we ate this cooked meat before the sinking of the sun

ہمیں ولید بن مسلم نےحدیث سنائی ، کہا : اوزاعی نےہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو نجاشی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نےحضرت رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز عصر پڑھتے ، پھر اونٹ ذبح کیا جاتا ، اس کے دس حصے کیے جاتے ، پھر ہم اسے پکاتے اور سورج کےغروب ہونے سے پہلے ہم اچھی طرح پکا ہوا گوشت کھا لیتے ۔

Sahih Muslim 5:251sahih

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الَّذِي تَفُوتُهُ صَلاَةُ الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ ‏"‏ ‏.‏

Ibn Umar reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said:He who misses the afternoon prayer, it is as though he has been deprived of his family and his property

نافع نے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص کی نماز عصر رہ گئی تو گیا اس کے اہل وعیال اور اس کا مال تباہ وبرباد ہو گئے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:253sahih

وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ فَاتَتْهُ الْعَصْرُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ ‏"‏ ‏.‏

Abdullah relates on the authority of his father. He who missed his afternoon prayer it is as though he was deprived of his family and property

عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سالم بن عبداللہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص کی عصر کی نماز رہ گئی تو گویا اس کے ہل وعیال اور اسکا مال بتاہ و برباد ہو گئے ۔ ‘ ‘

Sahih Muslim 5:293sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ الْحَجَّاجُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا يُؤَخِّرُهَا وَأَحْيَانًا يُعَجِّلُ كَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدِ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ وَإِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ وَالصُّبْحَ كَانُوا أَوْ - قَالَ - كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ ‏.‏

Muhammad b. 'Amr b. al-Hasan b. 'All reported:When Hajjaj came to Medina we asked Jabir b. Abdullah (about the timings of prayer as observed by the Holy Prophet). He said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray afternoon prayer in the midday heat; the afternoon prayer when the sun was bright; the evening prayer when the sun had completely set; and as for the night prayer, he sometimes delayed and sometimes (observed it) at earlier hours. When he found them (his Companions) assembled (at earlier hours) he (prayed) early. and when he saw them coming late, he delayed the (prayer). and the morning prayer the Messenger of Allah (ﷺ) observed in the darkness before dawn

محمد بن جعفر غندر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، انھوں نے سعد بن ابراہیم سے اور انھوں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی ( بن ابی طالب ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : جب حجاج مدینہ منورہ آیا ( اور تاخیر سے نمازیں پڑھنے لگا ) تو ہم نے ( نماز کےاوقات کے بارے میں ) جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے پوچھا ، انھوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نما دوپہر کو ( زوال کے فورا بعد ) پڑھتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج بالکل صاف ( اور روشن ہوتا ) تھا اور مغرب کی نماز سورج غروب ہوتے ہی پڑھتے اور عشاء کی نماز کو کبھی مؤخر کرتے اور کبھی جلدی ادا کرتے ، جب آپ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے ارو جب انھیں دیکھتے کہ دیر کر دی ہے تو تاخیر کر دیتے ۔ اور صبح ( کی نماز ) یہ لوگ ۔ ۔ یا کہا : نبی ﷺ اندھیرے میں پڑھتے تھے ۔

Sahih Muslim 6:12sahih

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏

Anas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said four rak'ahs in the noon prayer while at Medina, but he offered two rak'ahs in the afternoon prayer at Dhu'l-Hulaifa

ابو قلابہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کی چار رکعات پڑھیں اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں پڑھیں ۔

Sahih Muslim 6:13sahih

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏

Anas b. Malik is reported to have said:I observed four rak'ahs in the noon prayer with the Messenger of Allah (ﷺ) at Medina, and said two rak'ahs in the afternoon prayer at Dhu'l-Hulaifa

محمد بن منکدر اور ابراہیم بن میسرہ دونوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں ظہر کی چار رکعات پڑھیں اور آ پ کے ساتھ ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں پڑھیں ۔

Sahih Muslim 6:52sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ‏.‏

Ibn 'Umar reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) was in a state of hurry on a journey, he combined the sunset and 'Isha' prayers

امام مالک ؒ نے نافع سے اور ا نھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرلیتے ۔

Sahih Muslim 6:56sahih

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، - يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ - عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ ‏.‏

Anas b. Malik reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) set out on a journey before the sun declined (from the meridian), he delayed the noon prayer till the afternoon prayer, and then dismounted (his ride) and combined them (noon and afternoon prayers), but if the sun had declined before his setting out on a journey, he observed the noon prayer and then mounted (the ride)

مفضل بن فضالہ نے عقیل سے ، انھوں نے ابن شہاب سے اور انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو اس وقت تک موخر فرماتے کہ عصر کا وقت ہوجاتا ، پھر آپ ( سواری سے ) اترتے ، دونوں نمازوں کوجمع کرتے ، اور اگر آپ کے کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ کر سوار ہوتے ۔

Sahih Muslim 6:57sahih

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ الْمَدَايِنِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي السَّفَرِ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا ‏.‏

Anas reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) intended to combine two prayers on a journey, he delayed the noon prayer till came the early time of the afternoon prayer, and then combined the two

لیس بن سعد نے عقیل بن خالد سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جب دو نمازوں کو جمع کرنا چاہتے توظہر کو موخر کرتے حتیٰ کہ عصر کا اول وقت ہوجاتا ، پھر آپ دونوں نمازوں کو جمع کرتے ۔

Sahih Muslim 6:58sahih

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذَا عَجِلَ عَلَيْهِ السَّفَرُ يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ إِلَى أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ ‏.‏

Anas reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) had to set out on a journey hurriedly, he delayed the noon prayer to the earlier time for the afternoon prayer, and then he would combine them, and he would delay the sunset prayer to the time when the twilight would disappear and then combine it with the 'Isha' prayer

جابر بن اسماعیل نے بھی عقیل بن خالد سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے اول وقت تک موخر کردیتے ، پھر دونوں کو جمع کرلیتے اور مغرب کو موخر کرتے اور عشاء کے ساتھ اکٹھا کرکے پڑھتے جب شفق غائب ہوجاتی ۔

Sahih Muslim 6:59sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلاَ سَفَرٍ ‏.‏

Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) observed the noon and afternoon prayers together, and the sunset and Isha' prayers together without being in a state of fear or in a state of journey

امام مالک ؒ نے ابو زبیر سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کو اکھٹا پڑھا اور مغرب اور عشاء کو اکھٹا پڑھا کسی خوف اور سفر کے بغیر ۔

Sahih Muslim 6:60sahih

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَعَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ، جَمِيعًا عَنْ زُهَيْرٍ، - قَالَ ابْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، - حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلاَ سَفَرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ فَسَأَلْتُ سَعِيدًا لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ كَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ أَرَادَ أَنْ لاَ يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ ‏.‏

Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) observed the noon and afternoon prayers together in Medina without being in a state of fear or in a state of journey. (Abu Zubair said: I asked Sa'id [one of the narrators] why he did that. He said: I asked Ibn 'Abbas as you have asked me, and he replied that he [the Holy Prophet] wanted that no one among his Ummah should be put to [unnecessary] hardship

زہیر نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے سعید بن جبیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کو مدینہ میں کسی خوف اور سفر کے بغیر جمع کرکے پڑھا ۔ ابوزبیر نے کہا : میں نے ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد ) سعید سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ؤ نے ایسا کیوں کیاتھا؟انھوں نےجواب دیا : میں بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوا ل کیاتھا جیسے تم نے مجھ سے سوال کیا ہے تو انھوں نے کہا : آپ نے چاہا کہ اپنی امت کےکسی فرد کو تنگی اور دشواری میں نہ ڈالیں ۔

Sahih Muslim 6:61sahih

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا قُرَّةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاَةِ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ‏.‏ قَالَ سَعِيدٌ فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لاَ يُحْرِجَ أُمَّتَهُ ‏.‏

Ibn 'Abbas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) combined the prayers as he set on a journey in the expedition to Tabuk. He combined the noon prayer with the afternoon prayer and the sunset prayer with the 'Isha' prayer. Sa'id (one of the rawis) said to Ibn 'Abbas:What prompted him to do this? He said: He wanted that his Ummah should not be put to (unnecessary) hardship

قزہ بن خالد نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے حدیث بیا ن کی ، کہا : ہمیں سعید بن جبیر نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیا ن کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے دوران ایک سفر میں نمازوں کو جمع کیا ، ظہراورعصر کو اکھٹا پڑھا اور مغرب اور عشاء کو اکھٹا پڑھا ۔ سعید نے کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟انھوں نے کہا : آپ نے چاہا اپنی امت کو حرج ( اور تنگی ) میں نہ ڈالیں ۔

Sahih Muslim 6:62sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَامِرٍ عَنْ مُعَاذٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ‏.‏

Mu'adh reported:We set out with the Messenger of Allah (ﷺ) on the Tabuk expedition, and he observed the noon and afternoon prayers together and the sunset and 'Isha' prayers together

زہیر نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے ابو طفیل عامر سے حدیث سنائی اور انھوں نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ہم غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ( اس دوران میں ) آپ ظہر اور عصر اکھٹی پڑھتے رہے اور مغرب اور عشاء کو جمع کرتے رہے ۔

Sahih Muslim 6:63sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ أَبُو الطُّفَيْلِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ أَرَادَ أَنْ لاَ يُحْرِجَ أُمَّتَهُ ‏.‏

Mu'adh b. Jabal reported:The Messenger of Allah (ﷺ) combined in the expedition to Tabuk the noon prayer with the afternoon prayer and the sunset prayer with the 'Isha' prayer. He (one of the narrators) said: What prompted him to do that? He (Mu'adh) replied that he (the Holy Prophet) wanted that his Ummah should not be put to (unnecessary) hardship

قرہ بن خالد نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے حدیث بیا ن کی ، کہا : ہمیں عامر بن واثلہ ابو طفیل نے حدیث بیا ن کی ، کہا : ہمیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر ، عصر کو اور مغرب ، عشاء کو جمع کیا ۔ ( عامر بن واثلہ نے ) کہا : میں نے ( حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ) پوچھا : آپ نے ایسا کیوں کیا؟تو انھوں نے کہا : آپ نے چاہا کہ اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں ۔

Sahih Muslim 6:64sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلاَ مَطَرٍ ‏.‏ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ قَالَ كَىْ لاَ يُحْرِجَ أُمَّتَهُ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ قِيلَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لاَ يُحْرِجَ أُمَّتَهُ ‏.‏

Ibn 'Abbas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) combined the noon prayer with the afternoon prayer and the sunset prayer with the 'Isha' prayer in Medina without being in a state of danger or rainfall. And in the hadith transmitted by Waki' (the words are):" I said to Ibn 'Abbas: What prompted him to do that? He said: So that his (Prophet's) Ummah should not be put to (unnecessary) hardship." And in the hadith transmitted by Mu'awiya (the words are):" It was said to Ibn 'Abbas: What did he intend thereby? He said he wanted that his Ummah should not be put to unnecessary hardship

ابو معاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے روایت کی ، انھوں نے حبیب بن ثابت سے انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر ، عصر اور مغرب ، عشاء کو مدینہ میں کسی خوف اور بارش کے بغیر جمع کیا ۔ وکیع کی روایت میں ہے ( سعید نے ) کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے کہا : تاکہ اپنی امت کو دشواری میں مبتلا نہ کریں اور ابو معاویہ کی حدیث میں ہے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا چاہتے ہوئے ایسا کیا؟انھوں نے کہا : آپ نے چاہا اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں ۔

Sahih Muslim 6:361sahih

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ، بْنَ أَزْهَرَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلاَمَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقُلْ إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْهُمَا ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكُنْتُ أَصْرِفُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَنْهَا ‏.‏ قَالَ كُرَيْبٌ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ ‏.‏ فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ ‏.‏ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ ‏.‏ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا أَمَّا حِينَ صَلاَّهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَصَلاَّهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْمَعُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ - قَالَ - فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ‏ "‏ يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالإِسْلاَمِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ ‏"‏ ‏.‏

Kuraib, the freed slave of Ibn 'Abbas, reported that 'Abdullah b. 'Abbas, 'Abd al-Rahman b. Azhar, al-Miswar b. Makhrama sent him to 'A'isha, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), telling him to give her their greetings, and ask her about the two rak'ahs after the afternoon prayer, (for)" we have heard that you observe them whereas it has been conveyed to us that the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited their observance." Ibn 'Abbas said:I along with 'Umar b. al-Khattab dissuaded people to do so (to observe two rak'ahs of prayer). Kuraib said: I went to her ('A'isha) and conveyed to her the message with which I was sent. She said: (Better) ask Umm Salama. So I went to them (those who had sent him to Hadrat 'A'isha) and informed them about what she had said. They sent me back to Umm Salama with that with which I was sent to 'A'isha. Umm Salama said: I beard the Messenger of Allah (ﷺ) prohibiting them, and then afterwards I saw him observing them. And when he observed them (two rak'ahs) he had already observed the 'Asr prayer. Then he (the Holy Prophet) came, while there were with me ladies of Banu Haram, a tribe of the Ansar and he (the Holy Prophet) observed them (the two rak'ahs). I sent a slave-girl to him asking her to stand by his side and say to him that Umm Salama says: Messenger of Allah, I heard you prohibiting these two rak'ahs, whereas I saw you observing them; and if he (the Holy Prophet) points with his hand (to wait), then do wait. The slave-girl did like that. He (the Holy Prophet) pointed out with his hand and she got aside and waited, and when he had finished (the prayer) he said: Daughter of Abu Umayya. you have asked about the two rak'ahs after the 'Asr prayer. Some people of 'Abu al-Qais came to me for embracing Islam and hindered me from observing the two rak'ahs which come after the noon prayer. So those are the two I have been praying

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، عبدالرحمان بن ازہر ، مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا کہ ہم سب کی طرف سے انھیں سلام عرض کرنا اور ان سے عصر کے بعد کی دو رکعت کے بارے میں پوچھنا اور کہنا کہ ہمیں خبر ملی ہے کہ آ پ یہ ( دو رکعتیں ) پڑھتی ہیں ۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہم تک یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے روکا ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مل کر لوگوں کو ان سے روکا کرتا تھا ۔ کریب نے کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان حضرات نے جو پیغام د ے کر مجھے بھیجا تھا میں نے ان تک پہنچایا ۔ انھوں نے جواب دیا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھو ۔ میں نکل کر ان حضرات کے پاس لوٹا اور انھیں ان کے جواب سے آگاہ کیا ۔ ان حضرات نے مجھے وہی پیغام دے کر حضرت اسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف بھیج دیا جس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجاتھا ، اس پر ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ آپ ان دو رکعتوں سے روکتے تھے ، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ، ہاں ، آپ نے جب یہ دو رکعتیں پڑھیں تھیں اس وقت آپ عصر کی نماز پڑھ چکے تھے ، پھر ( عصر پڑھ کر ) آپ ( میرے گھر میں ) داخل ہوئے جبکہ میرے پاس انصار کے قبیلے بنو حرام کے قبیلے کی کچھ عورتیں موجودتھیں ، آ پ نے یہ دو رکعتیں ادا ( کرنی شروع ) کیں تو میں نے آپ کے پاس خادمہ بھیجی اور ( اس سے ) کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جانب جا کر کھڑی ہوجاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں : میں آپ سے سنتی رہی ہوں کہ آپ ( عصر کے بعد ) ان دو رکعتوں سے منع فرماتے تھے اور اب میں آپ کو پڑھتے ہوئےدیکھ رہی ہوں؟اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ سے اشارہ فرمائیں تو پیچھے ہٹ ( کرکھڑی ہو ) جانا ۔ اس لڑکی نے ایسے ہی کیا ، آپ نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا ، وہ آپ سے پیچھے ہٹ ( کر کھڑی ہو ) گئی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیراتو فرمایا : " اے ابو امیہ ( حذیفہ بن مغیرہ مخزومی ) کی بیٹی!تم نے عصر کے بعد کی دورکعتوں کے بارے میں پوچھا ہے ، تو ( معاملہ یہ ہے کہ ) بنو عبدالقیس کے کچھ افراد اپنی قوم کے اسلام ( لانے کی اطلاع ) کے ساتھ میرے پاس آئے ، اور انھوں نے مجھے ظہر کی بعد کی دورکعتوں سے مشغول کردیا ، یہ وہی دو رکعتیں ہیں ۔

Sahih Muslim 6:366sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، - عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ التَّطَوُّعِ، بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ كَانَ عُمَرُ يَضْرِبُ الأَيْدِي عَلَى صَلاَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ وَكُنَّا نُصَلِّي عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ قَبْلَ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَّهُمَا قَالَ كَانَ يَرَانَا نُصَلِّيهِمَا ‏.‏ فَلَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا

Mukhtar b. Fulful said:I asked Anas b. Malik about the voluntary prayers after the afternoon prayer, and he replied: 'Umar struck hit hands on prayer observed after the 'Asr prayer and we used to observe two rak'ahs after the sun set before the evening prayer during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). I said to him: Did the Messenger of Allah (ﷺ) observe them? He said: He saw us observing them, but he neither commanded us nor forbade us to do so

مختار بن فلفل سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عصر کے بعد نفل نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عصر کے بعد نماز پڑھنے پر ہاتھوں پر مارتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےدور میں ہم سورج کے غروب ہوجانے کے بعد نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔ تو میں نے ان سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو رکعتیں پڑھیں؟انھوں نے کہا : آپ ہمیں پڑھتا دیکھتے تھے آپ نے نہ ہمیں حکم دیا اور نہ روکا ۔

Sahih Muslim 15:370sahih

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ شَىْءٍ، عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ قَالَ بِمِنًى ‏.‏ قُلْتُ فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ قَالَ بِالأَبْطَحِ - ثُمَّ قَالَ - افْعَلْ مَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ ‏.‏

Abd al-'Aziz b. Rufai' (Allah be pleased with him) said:I asked Anas b. Malik to tell me about something he knew about Allah's Messenger (ﷺ), viz. where he observed the noon prayer on Yaum al-Tarwiya. He said: At Mina. I said: Where did he observe the afternoon prayer on the Yaum an-Nafr? and he said: It was at al-Abtah. He then said: Do as your rulers do

عبد العزیز بن رفیع سے روایت ہے انھوں نے کہا میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا میں نے کہا : مجھے ایسی چیز بتا یئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی ہو ( اور یاد رکھی ہو ) آپ نے تر ویہ کے دن ( آٹھ ذوالحجہ کو ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی ؟ انھوں نے بتا یا منیٰ میں ۔ میں نے پو چھا : آپ نے ( منیٰ سے ) واپسی کے دن عصر کی نماز کہاں ادا کی ؟انھوں نے کہا اَبطح میں ۔ پھر کہا ( لیکن تم ) اسی طرح کرو جیسے تمھا رے امراء کرتے ہیں ۔

Sahih Muslim 18:28sahih

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ فَكَانَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ دَارَ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْهُنَّ فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ فَاحْتَبَسَ عِنْدَهَا أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَحْتَبِسُ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ فَقِيلَ لِي أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةً مِنْ عَسَلٍ فَسَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهُ شَرْبَةً فَقُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ ‏.‏ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَوْدَةَ وَقُلْتُ إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ فَإِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ فَقُولِي لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ لاَ ‏.‏ فَقُولِي لَهُ مَا هَذِهِ الرِّيحُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ الرِّيحُ - فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ ‏.‏ فَقُولِي لَهُ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ وَسَأَقُولُ ذَلِكَ لَهُ وَقُولِيهِ أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى سَوْدَةَ قَالَتْ تَقُولُ سَوْدَةُ وَالَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ لَقَدْ كِدْتُ أَنْ أُبَادِئَهُ بِالَّذِي قُلْتِ لِي وَإِنَّهُ لَعَلَى الْبَابِ فَرَقًا مِنْكِ فَلَمَّا دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ قَالَ ‏"‏ سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ ‏.‏ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَىَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَى صَفِيَّةَ فَقَالَتْ بِمِثْلِ ذَلِكَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ أَسْقِيكَ مِنْهُ قَالَ ‏"‏ لاَ حَاجَةَ لِي بِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ تَقُولُ سَوْدَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ ‏.‏ قَالَتْ قُلْتُ لَهَا اسْكُتِي ‏.‏

A'isha (Allah be pleased with her) reported Allah's Messenger (ﷺ) liked sweet (dish) and honey. After saying the afternoon prayer he used to visit his wives going close to them. So he went to Hafsa and stayed with her more than what was his usual stay. I ('A'isha) asked about that. It was said to me:A woman of her family had sent her a small vessel of honey as a gift, and she gave to Allah's Messenger (ﷺ) from that a drink. I said: By Allah, we would also contrive a device for him. I mentioned that to Sauda, and said: When he (Allah's Apostle) would visit you and draw close to you, say to him: Allah's Messenger, have you taken maghafir? And he would'say to you: No. Then say to him: What is this odour? And Allah's Messenger (ﷺ) felt it very much that unpleasant odour should emit from him. So he would say to you: Hafsa has given me a drink of honey. Then you should say to him: The honey-bees might have sucked 'Urfut, and I would also say the same to him and. Safiyya, you should also say this. So when he (the Holy Prophet) came to Sauda, she said: By Him besides whom there is no god, it was under compulsion that I had decided to state that which you told me when he would be at a little distance at the door. So when Allah's Messenger (ﷺ) came near, she said: Messenger of Allah, did you eat Maghafir? He said: No. She (again) said: Then what is this odour? He said: Hafsa gave me honey to drink. She said: The honey-bee might have sucked 'Urfut. When he came to me I told him like this. He then visited Safiyya and she also said to him like this. When he (again) visited Hafsa, she said: Messenger of Allah, should I not give you that (drink)? He said: I do not need that. Sauda said: Hallowed be Allah, by Him we have (contrived) to make that (honey) unlawful for him. I said to her: Keep quiet

ابواسامہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیز اور شہد کو پسند فرماتے تھے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تو اپنی تمام ازواج کے ہاں چکر لگاتے اور ان کے قریب ہوتے ، ( ایسا ہوا کہ ) آپ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو ان کے ہاں آپ اس سے زیادہ ( دیر کے لیے ) رکے جتنا آپ ( کسی بیوی کے پاس ) رکا کرتے تھے ۔ ان ( حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ) کو ان کے خاندان کی کسی عورت نے شہد کا ( بھرا ہوا ) ایک برتن ہدیہ کیا تھا تو انہوں نے اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد پلایا ۔ میں نے ( دل میں ) کہا : اللہ کی قسم! ہم آپ ( کو زیادہ دیر قیام سے روکنے ) کے لیے ضرور کوئی حیلہ کریں گی ، چنانچہ میں نے اس بات کا ذکر حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے کیا ، اور کہا : جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ہاں تشریف لائیں گے تو تمہارے قریب ہوں گے ، ( اس وقت ) تم ان سے کہنا : اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟ وہ تمہیں جواب دیں گے ، نہیں! تو تم ان سے کہنا : یہ بو کیسی ہے؟ ۔ ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات انتیائی گراں گزرتی تھی کہ آپ سے بو محسوس کی جائے ۔ ۔ اس پر وہ تمہیں جواب دیں گے : مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا ، تو تم ان سے کہنا ( پھر ) اس کی مکھی نے عرفط ( بوٹی ) کا رس چوسا ہو گا ۔ میں بھی آپ سے یہی بات کہوں گی اور صفیہ تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی کہنا! جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے ، ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! آپ ابھی دروازے پر ہی تھے کہ میں تمہاری ملامت کے ر سے آپ کو بلند آواز سے وہبات کہنے ہی لگی تھی جو تم نے مجھ سے کہی تھی ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریب ہوئے تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" نہیں ۔ "" انہوں نے کہا : تو یہ بو کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا ۔ "" انہوں نے کہا : پھر اس کی مکھی نے عرفط کا رس چوسا ہو گا ۔ اس کے بعد جب آپ میرے ہاں تشریف لائے ، تو میں نے بھی آپ سے یہی بات کہی ، پھر آپ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے ، تو انہوں نے بھی یہی بات کہی ، اس کے بعد آپ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ( دوبارہ ) تشریف لائے تو انہوں نے عرض کی : کیا آپ کو شہد پیش نہ کروں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" نہیں ، مجھے اس کی ضرورت نہیں ۔ "" ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : سودہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں ، سبحان اللہ! اللہ کی قسم! ہم نے آپ کو اس سے محروم کر دیا ہے ۔ تو میں نے ان سے کہا : خاموش رہیں ۔ ابواسحاق ابراہیم نے کہا : ہمیں حسن بن بشر بن قاسم نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ابواسامہ نے بالکل اسی طرح حدیث بیان کی

Sahih Muslim 43:5sahih

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَانَتْ صَلاَةُ الْعَصْرِ فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِوَضُوءٍ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ الإِنَاءِ يَدَهُ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ - قَالَ - فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ ‏.‏

Anas b. Malik reported:I saw Allah's Messenger (ﷺ) during the time of the afternoon prayer and the people asking for water for performing ablution which they did not find. (A small quantity) of water was brought to Allah's Messenger (ﷺ) and he placed his hand in that vessel and commanded people to perform ablution. I saw water spouting from his fingers and the people performing ablution until the last amongst them performed it

اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ عصر کا وقت آچکا تھا ، لوگوں نے وضو کا پانی تلاش کیا اور انھیں نہ ملا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا کچھ پانی لایاگیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور لوگوں کو اس پانی میں سے وضو کا حکم دیا ۔ کہا : تو میں نے د یکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پھوٹ رہا تھا اور لوگوں نے اپنے آخری آدمی تک ( اس سے ) وضو کرلیا ۔

Sahih Muslim 43:10sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، - وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ، عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَكَانَ يَجْمَعُ الصَّلاَةَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمًا أَخَّرَ الصَّلاَةَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ ذَلِكَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يُضْحِيَ النَّهَارُ فَمَنْ جَاءَهَا مِنْكُمْ فَلاَ يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ ‏"‏ ‏.‏ فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلاَنِ وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَىْءٍ مِنْ مَاءٍ - قَالَ - فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالاَ نَعَمْ ‏.‏ فَسَبَّهُمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ - قَالَ - ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنَ الْعَيْنِ قَلِيلاً قَلِيلاً حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَىْءٍ - قَالَ - وَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهِ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ أَوْ قَالَ غَزِيرٍ - شَكَّ أَبُو عَلِيٍّ أَيُّهُمَا قَالَ - حَتَّى اسْتَقَى النَّاسُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَى مَا هَا هُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا ‏"‏ ‏.‏

Mu'adh b. Jabal reported that he went along with Allah's Apostle (ﷺ) in the expedition of Tabuk and he (the Holy Prophet) combined the prayers. He offered the noon and afternoon prayers together and the sunset and night prayers together and on the other day he deferred the prayers; he then came out and offered the noon and afternoon prayers together. He then went in and (later on) came out and then after that offered the sunset and night prayers together and then said:God willing, you would reach by tomorrow the fountain of Tabuk and you should not come to that until it is dawn, and he who amongst you happens to go there should not touch its water until I come. We came to that and two persons (amongst) us reached that fountain ahead of us. It was a thin flow of water like the shoelace. Allah's Messenger (ﷺ) asked them whether they had touched the water. They said: Yes. Allah's Apostle (ﷺ) scolded them, and he said to them what he had to say by the will of God. The people then took water of the fountain in their palms until it became somewhat significant and Allah's Messenger (ﷺ) washed his hands and his face too in it, and then, took it again in that (fountain) and there gushed forth abundant water from that fountain, until all the people drank to their fill. He then said: Mu'adh, it is likely that if you live long that you see what is here filled with gardens

ہمیں ابو علی حنفی نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں مالک بن انس نے ابو زبیر مکی سے حدیث بیان کی کہ ابو طفیل عامر بن واثلہ نے انھیں خبردی ، انھیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا ، کہا : کہ ہم غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس سال نکلے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں دو نمازوں کو جمع کرتے تھے ۔ پس ظہر اور عصر دونوں ملا کر پڑھیں اور مغرب اور عشاء ملا کر پڑھیں ۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دیر کی ۔ پھر نکلے اور ظہر اور عصر ملا کر پڑھیں پھر اندر چلے گئے ۔ پھر اس کے بعد نکلے تو مغرب اور عشاء ملا کر پڑھیں اس کے بعد فرمایا کہ کل تم لوگ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تبوک کے چشمے پر پہنچو گے اور دن نکلنے سے پہلے نہیں پہنچ سکو گے اور جو کوئی تم میں سے اس چشمے کے پاس جائے ، تو اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے جب تک میں نہ آؤں ۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ہم اس چشمے پر پہنچے اور ہم سے پہلے وہاں دو آدمی پہنچ گئے تھے ۔ چشمہ کے پانی کا یہ حال تھا کہ جوتی کے تسمہ کے برابر ہو گا ، وہ بھی آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں آدمیوں سے پوچھا کہ تم نے اس کے پانی میں ہاتھ لگایا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا کہا ( اس لئے کہ انہوں نے حکم کے خلاف کیا تھا ) اور اللہ تعالیٰ کو جو منظور تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سنایا ۔ پھر لوگوں نے چلوؤں سے تھوڑا تھوڑا پانی ایک برتن میں جمع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اور منہ اس میں دھویا ، پھر وہ پانی اس چشمہ میں ڈال دیا تو وہ چشمہ جوش مار کر بہنے لگا اور لوگوں نے ( اپنے جانوروں اور آدمیوں کو ) پانی پلانا شروع کیا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے معاذ! اگر تیری زندگی رہی تو تو دیکھے گا کہ یہاں جو جگہ ہے وہ گھنے باغات سے لہلہااٹھے گی ۔

A detailed scholarly analysis for this topic is not yet available. Get in touch to request one.