Ruku' (Bowing in Prayer)
الركوع
Bowing, known as *rukūʿ* in Arabic, is a profound act of reverence and humility central to Islamic worship, particularly within the daily ritual prayers (*ṣalāt*). It involves bowing from the waist, with hands resting on the knees, signifying complete submission to Allah's majesty and greatness. This physical posture is a powerful expression of acknowledging one's servitude and dependence on the Creator, embodying a spirit of awe and glorification. The Quran highlights the importance of *rukūʿ*, often mentioning it alongside prostration (*sujūd*) and the establishment of prayer. For instance, believers are commanded to [establish prayer and give zakah and bow with those who bow], emphasizing its communal aspect and integral role in worship. Even Maryam (Mary), mother of Prophet Isa (Jesus), was divinely instructed, [O Mary, be devoutly obedient to your Lord and prostrate and bow with those who bow]. This act underscores a universal principle of devotion across prophetic traditions. *Rukūʿ* serves as a moment of quiet contemplation and glorification of God, a physical testament to the spiritual surrender that defines a Muslim's relationship with their Lord, leading to success and well-being, as believers are urged to [bow and prostrate and worship your Lord and do good that you may succeed].
Quran 1 verse
يَٰمَرْيَمُ ٱقْنُتِى لِرَبِّكِ وَٱسْجُدِى وَٱرْكَعِى مَعَ ٱلرَّٰكِعِينَ
Yaa Maryamuq nutee li Rabbiki wasjudee warka'ee ma'ar raaki'een
O Mary, be devoutly obedient to your Lord and prostrate and bow with those who bow [in prayer]."
مریم اپنے پروردگار کی فرمانبرداری کرنا اور سجدہ کرنا اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنا
Commentary
Hadith 77 traditions
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ. وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The Imam is to be followed. Say the Takbir when he says it; bow if he bows; if he says 'Sami`a l-lahu liman hamidah', say, ' Rabbana wa laka l-hamd', prostrate if he prostrates and pray sitting altogether if he prays sitting
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ابوالزناد نے مجھ سے بیان کیا اعرج کے واسطہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ. وَرَفَعَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَرَوَاهُ ابْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَيُّوبَ وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ مُخْتَصَرًا.
Narrated Nafi`:Whenever Ibn `Umar started the prayer with Takbir, he used to raise his hands: whenever he bowed, he used to raise his hands (before bowing) and also used to raise his hands on saying, "Sami`a l-lahu liman hamidah", and he used to do the same on rising from the second rak`a (for the 3rd rak`a). Ibn `Umar said: "The Prophet (ﷺ) used to do the same
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے نافع سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز میں داخل ہوتے تو پہلے تکبیر تحریمہ کہتے اور ساتھ ہی رفع یدین کرتے۔ اسی طرح جب وہ رکوع کرتے تب اور جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تب بھی ( رفع یدین کرتے ) دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے اور جب قعدہ اولیٰ سے اٹھتے تب بھی رفع یدین کرتے۔ آپ نے اس فعل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا۔ ( کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔)
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَا هُنَا وَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَىَّ رُكُوعُكُمْ وَلاَ خُشُوعُكُمْ، وَإِنِّي لأَرَاكُمْ وَرَاءَ ظَهْرِي ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "You see me facing the Qibla; but, by Allah, nothing is hidden from me regarding your bowing and submissiveness and I see you from behind my back
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے ابوالزناد سے بیان کیا، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ، کیا تم سمجھتے ہو کہ میرا منہ ادھر ( قبلہ کی طرف ) ہے۔ اللہ کی قسم تمہارا رکوع اور تمہارا خشوع مجھ سے کچھ چھپا ہوا نہیں ہے، میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا رہتا ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَقِيمُوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِي ـ وَرُبَّمَا قَالَ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي ـ إِذَا رَكَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ ".
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "Perform the bowing and the prostrations properly. By Allah, I see you from behind me (or from behind my back) when you bow or prostrate
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکوع اور سجود پوری طرح کیا کرو۔ اللہ کی قسم! میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا رہتا ہوں یا اس طرح کہا کہ پیٹھ پیچھے سے جب تم رکوع کرتے ہو اور سجدہ کرتے ہو ( تو میں تمہیں دیکھتا ہوں ) ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى صَلاَةَ الْكُسُوفِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ " قَدْ دَنَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوِ اجْتَرَأْتُ عَلَيْهَا لَجِئْتُكُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِهَا، وَدَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ أَىْ رَبِّ وَأَنَا مَعَهُمْ فَإِذَا امْرَأَةٌ ـ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ ـ تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ قُلْتُ مَا شَأْنُ هَذِهِ قَالُوا حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، لاَ أَطْعَمَتْهَا، وَلاَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ ". قَالَ نَافِعٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ " مِنْ خَشِيشِ أَوْ خُشَاشِ الأَرْضِ ".
Narrated Asma' bint Abi Bakr:The Prophet (ﷺ) once offered the eclipse prayer. He stood for a long time and then did a prolonged bowing. He stood up straight again and kept on standing for a long time, then bowed a long bowing and then stood up straight and then prostrated a prolonged prostration and then lifted his head and prostrated a prolonged prostration. And then he stood up for a long time and then did a prolonged bowing and then stood up straight again and kept on standing for a long time. Then he bowed a long bowing and then stood up straight and then prostrated a prolonged prostration and then lifted his head and went for a prolonged prostration. On completion of the prayer, he said, "Paradise became so near to me that if I had dared, I would have plucked one of its bunches for you and Hell became so near to me that I said, 'O my Lord will I be among those people?' Then suddenly I saw a woman and a cat was lacerating her with its claws. On inquiring, it was said that the woman had imprisoned the cat till it died of starvation and she neither fed it nor freed it so that it could feed itself
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں نافع بن عمر نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے اسماء بنت ابی بکر سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گہن کی نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہوئے تو دیر تک کھڑے رہے پھر رکوع میں گئے تو دیر تک رکوع میں رہے۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو دیر تک کھڑے ہی رہے۔ پھر ( دوبارہ ) رکوع میں گئے اور دیر تک رکوع کی حالت میں رہے اور پھر سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا اور دیر تک سجدہ میں رہے۔ پھر سر اٹھایا اور پھر سجدہ کیا اور دیر تک سجدہ میں رہے پھر کھڑے ہوئے اور دیر تک کھڑے ہی رہے۔ پھر رکوع کیا اور دیر تک رکوع میں رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے۔ پھر ( دوبارہ ) رکوع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک رکوع کی حالت میں رہے۔ پھر سر اٹھایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں چلے گئے اور دیر تک سجدہ میں رہے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ جنت مجھ سے اتنی نزدیک ہو گئی تھی کہ اگر میں چاہتا تو اس کے خوشوں میں سے کوئی خوشہ تم کو توڑ کر لا دیتا اور مجھ سے دوزخ بھی اتنی قریب ہو گئی تھی کہ میں بول پڑا کہ میرے مالک میں تو اس میں سے نہیں ہوں؟ میں نے وہاں ایک عورت کو دیکھا۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ مجھے خیال ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے بتلایا کہ اس عورت کو ایک بلی نوچ رہی تھی، میں نے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ جواب ملا کہ اس عورت نے اس بلی کو باندھے رکھا تھا تاآنکہ بھوک کی وجہ سے وہ مر گئی، نہ تو اس نے اسے کھانا دیا اور نہ چھوڑا کہ وہ خود کہیں سے کھا لیتی۔ نافع نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے یوں کہا کہ نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے وغیرہ کھا لیتی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ كَانَ أَنَسٌ يَنْعَتُ لَنَا صَلاَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ يُصَلِّي وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ حَتَّى نَقُولَ قَدْ نَسِيَ.
Narrated Thabit:Anas used to demonstrate to us the prayer of the Prophet (ﷺ) and while demonstrating, he used to raise his head from bowing and stand so long that we would say that he had forgotten (the prostration)
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے ثابت بنانی سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ انس رضی اللہ عنہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ بتلاتے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ ہم سوچنے لگتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ رُكُوعُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَسُجُودُهُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ.
Narrated Al-Bara':The bowing, the prostrations, the period of standing after bowing and the interval between the two prostrations of the Prophet (ﷺ) used to be equal in duration
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حکم سے بیان کیا، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع، سجدہ، رکوع سے سر اٹھاتے وقت اور دونوں سجدوں کے درمیان کا بیٹھنا تقریباً برابر ہوتا تھا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يُرِينَا كَيْفَ كَانَ صَلاَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَذَاكَ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلاَةٍ، فَقَامَ فَأَمْكَنَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَمْكَنَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَنْصَتَ هُنَيَّةً، قَالَ فَصَلَّى بِنَا صَلاَةَ شَيْخِنَا هَذَا أَبِي بُرَيْدٍ. وَكَانَ أَبُو بُرَيْدٍ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الآخِرَةِ اسْتَوَى قَاعِدًا ثُمَّ نَهَضَ.
Narrated Aiyub:Abu Qilaba said, "Malik bin Huwairith used to demonstrate to us the prayer of the Prophet (ﷺ) at times other than that of the compulsory prayers. So (once) he stood up for prayer and performed a perfect Qiyam (standing and reciting from the Holy Qur'an) and then bowed and performed bowing perfectly; then he raised his head and stood straight for a while." Abu Qilaba added, "Malik bin Huwairith in that demonstration prayed like this Sheikh of ours, Abu Yazid." Abu Yazid used to sit (for a while) on raising his head from the second prostration before getting up
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے ابوقلابہ سے کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمیں ( نماز پڑھ کر ) دکھلاتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے اور یہ نماز کا وقت نہیں تھا۔ چنانچہ آپ ( ایک مرتبہ ) کھڑے ہوئے اور پوری طرح کھڑے رہے۔ پھر جب رکوع کیا اور پوری طمانیت کے ساتھ سر اٹھایا تب بھی تھوڑی دیر سیدھے کھڑے رہے۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ مالک رضی اللہ عنہ نے ہمارے اس شیخ ابویزید کی طرح نماز پڑھائی۔ ابویزید جب دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو پہلے اچھی طرح بیٹھ لیتے پھر کھڑے ہوتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ صَلاَةٍ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ وَغَيْرِهَا فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ، فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. ثُمَّ يَقُولُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ. قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ. حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الْجُلُوسِ فِي الاِثْنَتَيْنِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلاَةِ، ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنْ كَانَتْ هَذِهِ لَصَلاَتَهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا.
Narrated Abu Bakr bin `Abdur Rahman Ibn Harith bin Hisham and Abu Salama bin `Abdur Rahman:Abu Huraira used to say Takbir in all the prayers, compulsory and optional -- in the month of Ramadan or other months. He used to say Takbir on standing for prayer and on bowing; then he would say, "Sami`a l-lahu liman hamidah," and before prostrating he would say "Rabbana wa laka lhamd." Then he would say Takbir on prostrating and on raising his head from the prostration, then another Takbir on prostrating (for the second time), and on raising his head from the prostration. He also would say the Takbir on standing from the second rak`a. He used to do the same in every rak`a till he completed the prayer. On completion of the prayer, he would say, "By Him in Whose Hands my soul is! No doubt my prayer is closer to that of Allah's Messenger (ﷺ) than yours, and this was His prayer till he left this world
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، انہوں نے زہری سے، انہوں نے کہا کہ مجھ کو ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تمام نمازوں میں تکبیر کہا کرتے تھے۔ خواہ فرض ہوں یا نہ ہوں۔ رمضان کا مہینہ ہو یا کوئی اور مہینہ ہو، چنانچہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے، رکوع میں جاتے تو تکبیر کہتے۔ پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے اور اس کے بعد «ربنا ولك الحمد» سجدہ سے پہلے، پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو «الله أكبر» کہتے۔ پھر سجدہ سے سر اٹھاتے تو «الله أكبر» کہتے۔ پھر دوسرا سجدہ کرتے وقت «الله أكبر» کہتے۔ اسی طرح سجدہ سے سر اٹھاتے تو «الله أكبر» کہتے۔ دو رکعات کے بعد قعدہ اولیٰ کرنے کے بعد جب کھڑے ہوتے تب بھی تکبیر کہتے اور آپ ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہونے تک۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرماتے کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تم میں سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ ہوں۔ اور آپ اسی طرح نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔
قَالاَ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ. يَدْعُو لِرِجَالٍ فَيُسَمِّيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَيَقُولُ " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ ". وَأَهْلُ الْمَشْرِقِ يَوْمَئِذٍ مِنْ مُضَرَ مُخَالِفُونَ لَهُ.
And Abu Huraira said, "When Allah's Messenger (ﷺ) raised his head from (bowing) he used to say "Sami`a l-lahu liman hamidah, Rabbana wa laka l-hamd." He Would invoke Allah for some people by naming them:"O Allah! Save Al-Walid bin Al-Walid and Salama bin Hisham and `Aiyash bin Abi Rabi`a and the weak and the helpless people among the faithful believers O Allah! Be hard on the tribe of Mudar and let them suffer from famine years like that of the time of Joseph." In those days the Eastern section of the tribe of Mudar was against the Prophet
ابوبکر اور ابوسلمہ دونوں نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سر مبارک ( رکوع سے ) اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده، ربنا ولك الحمد» کہہ کر چند لوگوں کے لیے دعائیں کرتے اور نام لے لے کر فرماتے۔ یا اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور تمام کمزور مسلمانوں کو ( کفار سے ) نجات دے۔ اے اللہ! قبیلہ مضر کے لوگوں کو سختی کے ساتھ کچل دے اور ان پر قحط مسلط کر جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں آیا تھا۔ ان دنوں پورب والے قبیلہ مضر کے لوگ مخالفین میں تھے۔
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، رَأَى رَجُلاً لاَ يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَلاَ سُجُودَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ مَا صَلَّيْتَ ـ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ ـ وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ سُنَّةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Abu Wail:Hudhaifa said, "I saw a person not performing his bowing and prostrations perfectly. When he completed the prayer, I told him that he had not prayed." I think that Hudhaifa added (i.e. said to the man), "Had you died, you would have died on a tradition other than that of the Prophet Muhammad (ﷺ)
ہم سے صلت بن محمد بصریٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے واصل سے بیان کیا، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع اور سجدہ پوری طرح نہیں کرتا تھا۔ جب وہ نماز پڑھ چکا تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ تو نے نماز ہی نہیں پڑھی۔ ابووائل نے کہا کہ مجھے یاد آتا ہے کہ حذیفہ نے یہ فرمایا کہ اگر تم مر گئے تو تمہاری موت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق پر نہیں ہو گی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ.
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) used to say frequently in his bowing and prostrations "Subhanaka l-lahumma Rabbana wa bihamdika, Allahumma ghfir li" (Exalted [from unbecoming attributes] Are you O Allah our Lord, and by Your praise [do I exalt you]. O Allah! Forgive me). In this way [??] he was acting on what was explained to him in the Holy Qur'an
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، سفیان ثوری سے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے منصور بن معتمر نے مسلم بن صبیح سے بیان کیا، انہوں نے مسروق سے، ان سے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ اور رکوع میں اکثر یہ پڑھا کرتے تھے۔ «سبحانك اللهم ربنا وبحمدك، اللهم اغفر لي» ( اس دعا کو پڑھ کر ) آپ قرآن کے حکم پر عمل کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ كَانَ سُجُودُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَرُكُوعُهُ، وَقُعُودُهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ.
Narrated Al-Bara':The time taken by the Prophet (ﷺ) in prostrations, bowing, and the sitting interval between the two prostrations was about the same
ہم سے محمد بن عبدالرحیم صاعقہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواحمد محمد بن عبداللہ زبیری نے کہا کہ ہم سے مسعر بن کدام نے حکم عتیبہ کوفی سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ، رکوع اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی مقدار تقریباً برابر ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ إِنِّي لاَ آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِنَا. قَالَ ثَابِتٌ كَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَكُمْ تَصْنَعُونَهُ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ. وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ.
Narrated Thabit:Anas said, "I will leave no stone unturned in making you offer the prayer as I have seen the Prophet (ﷺ) making us offer it." Anas used to do a thing which I have not seen you doing. He used to stand after the bowing for such a long time that one would think that he had forgotten (the prostrations) and he used to sit in-between the prostrations so long that one would think that he had forgotten the second prostration
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے ثابت سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا تھا بالکل اسی طرح تم لوگوں کو نماز پڑھانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا ہوں۔ ثابت نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک ایسا عمل کرتے تھے جسے میں تمہیں کرتے نہیں دیکھتا۔ جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں اور اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھتے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ،. وَحَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَيَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْنَا صَلاَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ أَنَا كُنْتُ أَحْفَظَكُمْ لِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَيْتُهُ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ اسْتَوَى حَتَّى يَعُودَ كُلُّ فَقَارٍ مَكَانَهُ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلاَ قَابِضِهِمَا، وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ، فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَلَسَ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى، وَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الأُخْرَى وَقَعَدَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ. وَسَمِعَ اللَّيْثُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ وَيَزِيدُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَلْحَلَةَ وَابْنُ حَلْحَلَةَ مِنَ ابْنِ عَطَاءٍ. قَالَ أَبُو صَالِحٍ عَنِ اللَّيْثِ كُلُّ فَقَارٍ. وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ كُلُّ فَقَارٍ.
Narrated Muhammad bin `Amr bin `Ata':I was sitting with some of the companions of Allah's Messenger (ﷺ) and we were discussing about the way of praying of the Prophet. Abu Humaid As-Sa`idi said, "I remember the prayer of Allah's Messenger (ﷺ) better than any one of you. I saw him raising both his hands up to the level of the shoulders on saying the Takbir; and on bowing he placed his hands on both knees and bent his back straight, then he stood up straight from bowing till all the vertebrate took their normal positions. In prostrations, he placed both his hands on the ground with the forearms away from the ground and away from his body, and his toes were facing the Qibla. On sitting In the second rak`a he sat on his left foot and propped up the right one; and in the last rak`a he pushed his left foot forward and kept the other foot propped up and sat over the buttocks
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے خالد سے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو بن عطاء نے بیان کیا (دوسری سند) اور کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، اور ان سے یزید بن ابی حبیب اور یزید بن محمد نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو بن عطاء نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر ہونے لگا تو ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تم سب سے زیادہ یاد ہے میں نے آپ کو دیکھا کہ جب آپ تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک لے جاتے، جب آپ رکوع کرتے تو گھٹنوں کو اپنے ہاتھوں سے پوری طرح پکڑ لیتے اور پیٹھ کو جھکا دیتے۔ پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس طرح سیدھے کھڑے ہو جاتے کہ تمام جوڑ سیدھے ہو جاتے۔ جب آپ سجدہ کرتے تو آپ اپنے ہاتھوں کو ( زمین پر ) اس طرح رکھتے کہ نہ بالکل پھیلے ہوئے ہوتے اور نہ سمٹے ہوئے۔ پاؤں کی انگلیوں کے منہ قبلہ کی طرف رکھتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور جب آخری رکعت میں بیٹھتے بائیں پاؤں کو آگے کر لیتے اور دائیں کو کھڑا کر دیتے پھر مقعد پر بیٹھتے۔ لیث نے یزید بن ابی حبیب سے اور یزید بن محمد بن حلحلہ سے سنا اور محمد بن حلحلہ نے ابن عطاء سے، اور ابوصالح نے لیث سے «كل فقار مكانه» نقل کیا ہے اور ابن مبارک نے یحییٰ بن ایوب سے بیان کیا انہوں نے کہا کہ مجھ سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا کہ محمد بن عمرو بن حلحلہ نے ان سے حدیث میں «كل فقار» بیان کیا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ أَقَنَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي الصُّبْحِ قَالَ نَعَمْ. فَقِيلَ لَهُ أَوَقَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ قَالَ بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا.
Narrated Muhammad bin Seereen:Anas was asked, "Did the Prophet (ﷺ) recite Qunut in the Fajr prayer?" Anas replied in the affirmative. He was further asked, "Did he recite Qunut before bowing?" Anas replied, "He recited Qunut after bowing for some time (for one month)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے ان سے محمد بن سیرین نے، انہوں نے کہا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں پھر پوچھا گیا کہ کیا رکوع سے پہلے؟ تو آپ نے فرمایا کہ رکوع کے بعد تھوڑے دنوں تک۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْقُنُوتِ،. فَقَالَ قَدْ كَانَ الْقُنُوتُ. قُلْتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ قَالَ قَبْلَهُ. قَالَ فَإِنَّ فُلاَنًا أَخْبَرَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ. فَقَالَ كَذَبَ، إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا ـ أُرَاهُ ـ كَانَ بَعَثَ قَوْمًا يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ زُهَاءَ سَبْعِينَ رَجُلاً إِلَى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ دُونَ أُولَئِكَ، وَكَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَهْدٌ فَقَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ.
Narrated `Asim:I asked Anas bin Malik about the Qunut. Anas replied, "Definitely it was (recited)". I asked, "Before bowing or after it?" Anas replied, "Before bowing." I added, "So and so has told me that you had informed him that it had been after bowing." Anas said, "He told an untruth (i.e. "was mistaken," according to the Hijazi dialect). Allah's Messenger (ﷺ) recited Qunut after bowing for a period of one month." Anas added, "The Prophet (ﷺ) sent about seventy men (who knew the Qur'an by heart) towards the pagans (of Najd) who were less than they in number and there was a peace treaty between them and Allah's Messenger (ﷺ) (but the Pagans broke the treaty and killed the seventy men). So Allah's Messenger (ﷺ) recited Qunut for a period of one month asking Allah to punish them
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ دعائے قنوت ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ) پڑھی جاتی تھی۔ میں نے پوچھا کہ رکوع سے پہلے یا اس کے بعد؟ آپ نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے۔ عاصم نے کہا کہ آپ ہی کے حوالے سے فلاں شخص نے خبر دی ہے کہ آپ نے رکوع کے بعد فرمایا تھا۔ اس کا جواب انس نے یہ دیا کہ انہوں نے غلط سمجھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد صرف ایک مہینہ دعائے قنوت پڑھی تھی۔ ہوا یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ میں سے ستر قاریوں کے قریب مشرکوں کی ایک قوم ( بنی عامر ) کی طرف سے ان کو تعلیم دینے کے لیے بھیجے تھے، یہ لوگ ان کے سوا تھے جن پر آپ نے بددعا کی تھی۔ ان میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان عہد تھا، لیکن انہوں نے عہد شکنی کی ( اور قاریوں کو مار ڈالا ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ( رکوع کے بعد ) قنوت پڑھتے رہے ان پر بددعا کرتے رہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ يَقُولُ " اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ ". وَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ". قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ هَذَا كُلُّهُ فِي الصُّبْحِ.
Narrated Abu Huraira;:Whenever the Prophet (ﷺ) lifted his head from the bowing in the last rak`a he used to say: "O Allah! Save `Aiyash bin Abi Rabi`a. O Allah! Save Salama bin Hisham. O Allah! Save Walid bin Walid. O Allah! Save the weak faithful believers. O Allah! Be hard on the tribes of Mudar and send (famine) years on them like the famine years of (Prophet) Joseph ." The Prophet (ﷺ) further said, "Allah forgive the tribes of Ghifar and save the tribes of Aslam." Abu Az-Zinad (a sub-narrator) said, "The Qunut used to be recited by the Prophet (ﷺ) in the Fajr prayer
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سر مبارک آخری رکعت ( کے رکوع ) سے اٹھاتے تو یوں فرماتے «اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة، اللهم أنج سلمة بن هشام، اللهم أنج الوليد بن الوليد، اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين، اللهم اشدد وطأتك على مضر، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف» کہ یا اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے۔ یا اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے۔ یا اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے۔ یا اللہ! بےبس ناتواں مسلمانوں کو نجات دے۔ یا اللہ! مضر کے کافروں کو سخت پکڑ۔ یا اللہ! ان کے سال یوسف علیہ السلام کے سے سال کر دے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غفار کی قوم کو اللہ نے بخش دیا اور اسلم کی قوم کو اللہ نے سلامت رکھا۔ ابن ابی الزناد نے اپنے باپ سے صبح کی نماز میں یہی دعا نقل کی۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ مَا أَنْبَأَ أَحَدٌ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الضُّحَى غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا، فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، فَمَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلاَةً أَخَفَّ مِنْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ.
Narrated Ibn Abu Laila:Only Um Hani told us that she had seen the Prophet (ﷺ) offering the Duha (forenoon prayer). She said, "On the day of the conquest of Mecca, the Prophet (ﷺ) took a bath in my house and offered eight rak`at. I never saw him praying such a light prayer but he performed perfect prostration and bowing
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے، انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی نے یہ خبر نہیں دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہاں ام ہانی رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر غسل کیا تھا اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھی تھیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اتنی ہلکی پھلکی نماز پڑھتے نہیں دیکھا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ پوری طرح کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، يَقُولُ مَا حَدَّثَنَا أَحَدٌ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَى غَيْرَ أُمِّ هَانِئٍ فَإِنَّهَا قَالَتْ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فَلَمْ أَرَ صَلاَةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ.
Narrated `Abdur Rahman bin Abi Laila:Only Um Hani narrated to me that she had seen the Prophet (ﷺ) offering the Duha prayer. She said, "On the day of the conquest of Mecca, the Prophet (ﷺ) entered my house, took a bath and offered eight rak`at (of Duha prayers. I had never seen the Prophet (ﷺ) offering such a light prayer but he performed bowing and prostrations perfectly
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلی سے سنا، وہ کہتے تھے کہ مجھ سے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے سوا کسی ( صحابی ) نے یہ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ صرف ام ہانی رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور پھر آٹھ رکعت ( چاشت کی ) نماز پڑھی۔ تو میں نے ایسی ہلکی پھلکی نماز کبھی نہیں دیکھی۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ پوری طرح ادا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ عَنِ الْقُنُوتِ. قَالَ قَبْلَ الرُّكُوعِ. فَقُلْتُ إِنَّ فُلاَنًا يَزْعُمُ أَنَّكَ قُلْتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ، فَقَالَ كَذَبَ. ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ـ قَالَ ـ بَعَثَ أَرْبَعِينَ أَوْ سَبْعِينَ ـ يَشُكُّ فِيهِ ـ مِنَ الْقُرَّاءِ إِلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَعَرَضَ لَهُمْ هَؤُلاَءِ فَقَتَلُوهُمْ، وَكَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَهْدٌ، فَمَا رَأَيْتُهُ وَجَدَ عَلَى أَحَدٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ.
Narrated `Asim:I asked Anas about the Qunut (i.e. invocation in the prayer). Anas said, "It should be recited before bowing." I said, "So-and-so claims that you say that it should be recited after bowing." He replied, "He is mistaken." Then Anas narrated to us that the Prophet (ﷺ) invoked evil on the tribe of Bani-Sulaim for one month after bowing. ' Anas Further said, "The Prophet (ﷺ) had sent 40 or 70 Qaris (i.e. men well versed in the knowledge of the Qur'an) to some pagans, but the latter struggled with them and martyred them, although there was a peace pact between them and the Prophet (ﷺ) I had never seen the Prophet so sorry and worried about anybody as he was about them (i.e. the Qaris)
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت بن یزید نے بیان کیا، ہم سے عاصم احول نے، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے دعا قنوت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے ہونی چاہئے، میں نے عرض کیا کہ فلاں صاحب ( محمد بن سیرین ) تو کہتے ہیں کہ آپ نے کہا تھا کہ رکوع کے بعد ہوتی ہے، انس رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا تھا کہ انہوں نے غلط کہا ہے۔ پھر انہوں نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعا قنوت کی تھی۔ اور آپ نے اس میں بنو سلیم کے قبیلوں کے حق میں بددعا کی تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر قرآن کے عالم صحابہ کی ایک جماعت، راوی کو شک تھا، مشرکین کے پاس بھیجی تھی، لیکن بنو سلیم کے لوگ ( جن کا سردار عامر بن طفیل تھا ) ان کے آڑے آئے اور ان کو مار ڈالا۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاہدہ تھا۔ ( لیکن انہوں نے دغا دی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی معاملہ پر اتنا رنجیدہ اور غمگین نہیں دیکھا جتنا ان صحابہ کی شہادت پر آپ رنجیدہ تھے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنَ الْعَرَبِ.
Narrated Anas:Allah's Messenger (ﷺ) said Al-Qunut for one month after the posture of Bowing, invoking evil upon some 'Arab tribes
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد ایک مہینہ تک قنوت پڑھی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے چند قبائل ( رعل و ذکوان وغیرہ ) کے لیے بددعا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ الْقُنُوتِ، فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ نَعَمْ. فَقُلْتُ كَانَ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ قَالَ قَبْلَهُ. قُلْتُ فَإِنَّ فُلاَنًا أَخْبَرَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ بَعْدَهُ، قَالَ كَذَبَ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا، أَنَّهُ كَانَ بَعَثَ نَاسًا يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ، وَهُمْ سَبْعُونَ رَجُلاً إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَهْدٌ قِبَلَهُمْ، فَظَهَرَ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ كَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَهْدٌ، فَقَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ.
Narrated `Asim Al-Ahwal:I asked Anas bin Malik regarding Al-Qunut during the prayer. Anas replied, "Yes (Al-Qunut was said by the Prophet (ﷺ) in the prayer)." I said, "Is it before Bowing or after Bowing?" Anas replied, "(It was said) before (Bowing)." I said, "So-and-so informed me that you told him that it was said after Bowing." Anas replied, "He was mistaken, for Allah's Messenger (ﷺ) said Al-Qunut after Bowing for one month. The Prophet (ﷺ) had sent some people called Al-Qurra who were seventy in number, to some pagan people who had concluded a peace treaty with Allah's Messenger (ﷺ) . But those who had concluded the treaty with Allah's Messenger (ﷺ) violated the treaty (and martyred all the seventy men). So Allah's Apostle said Al-Qunut after Bowing (in the prayer) for one month, invoking evil upon them
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن احول بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز میں قنوت کے بارے میں پوچھا کہ قنوت رکوع سے پہلے ہے یا رکوع کے بعد؟ انہوں نے کہا کہ رکوع سے پہلے۔ میں نے عرض کیا کہ فلاں صاحب نے آپ ہی کا نام لے کر مجھے بتایا کہ قنوت رکوع کے بعد۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انہوں نے غلط کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد صرف ایک مہینے تک قنوت پڑھی۔ آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کو جو قاریوں کے نام سے مشہور تھی جو ستر کی تعداد میں تھے، مشرکین کے بعض قبائل کے یہاں بھیجا تھا۔ مشرکین کے ان قبائل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان صحابہ کے بارے میں پہلے حفظ و امان کا یقین دلایا تھا لیکن بعد میں یہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کی اس جماعت پر غالب آ گئے ( اور غداری کی اور انہیں شہید کر دیا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر رکوع کے بعد ایک مہینے تک قنوت پڑھی تھی اور اس میں ان مشرکین کے لیے بددعا کی تھی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ يَقُومُ الإِمَامُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، وَطَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ مِنْ قِبَلِ الْعَدُوِّ، وُجُوهُهُمْ إِلَى الْعَدُوِّ، فَيُصَلِّي بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ يَقُومُونَ، فَيَرْكَعُونَ لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ فِي مَكَانِهِمْ، ثُمَّ يَذْهَبُ هَؤُلاَءِ إِلَى مَقَامِ أُولَئِكَ فَيَرْكَعُ بِهِمْ رَكْعَةً، فَلَهُ ثِنْتَانِ، ثُمَّ يَرْكَعُونَ وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَحْيَى، سَمِعَ الْقَاسِمَ، أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلٍ، حَدَّثَهُ قَوْلَهُ.
Narrated Sahl bin Abi Hathma:(describing the Fear prayer): The Imam stands up facing the Qibla and one batch of them (i.e. the army) (out of the two) prays along with him and the other batch faces the enemy. The Imam offers one rak`a with the first batch, then they themselves stand up alone and offer one bowing and two prostrations while they are still in their place, and then go away to relieve the second batch, and the second batch comes (and takes the place of the first batch in the prayer behind the Imam) and he offers the second rak`a with them. So he completes his two-rak`at and then the second batch bows and prostrates two prostrations (i.e. complete their second rak`a and thus all complete their prayer). (This hadith has also been narrated through two other chains by Sahl b. Abi Hathma)
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے ‘ ان سے قاسم بن محمد نے ‘ ان سے صالح بن خوات نے ‘ ان سے سہل بن ابی حثمہ نے بیان کیا کہ ( نماز خوف میں ) امام قبلہ رو ہو کر کھڑا ہو گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ نماز میں شریک ہو گی۔ اس دوران میں مسلمانوں کی دوسری جماعت دشمن کے مقابلہ پر کھڑی ہو گی۔ انہیں کی طرف منہ کیے ہوئے۔ امام اپنے ساتھ والی جماعت کو پہلے ایک رکعت نماز پڑھائے گا ( ایک رکعت پڑھنے کے بعد پھر ) یہ جماعت کھڑی ہو جائے گی اور خود ( امام کے بغیر ) اسی جگہ ایک رکوع اور دو سجدے کر کے دشمن کے مقابلہ پر جا کر کھڑی ہو جائے گی۔ جہاں دوسری جماعت پہلے سے موجود تھی۔ اس کے بعد امام دوسری جماعت کو ایک رکعت نماز پڑھائے گا۔ اس طرح امام کی دو رکعتیں پوری ہو جائیں گی اور یہ دوسری جماعت ایک رکوع اور دو سجدے خود کرے گی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، مَا أَخْبَرَنَا أَحَدٌ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَى غَيْرَ أُمِّ هَانِئٍ، فَإِنَّهَا ذَكَرَتْ أَنَّهُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، قَالَتْ لَمْ أَرَهُ صَلَّى صَلاَةً أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ.
Narrated Ibn Abi Laila:None informed us that he saw the Prophet (ﷺ) offering the Duha (i.e. forenoon) prayer, except Um Hani who mentioned that the Prophet (ﷺ) took a bath in her house on the day of the Conquest (of Mecca) and then offered an eight rak`at prayer. She added, "I never saw the Prophet (ﷺ) offering a lighter prayer than that prayer, but he was performing perfect bowing and prostrations
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو نے ‘ ان سے ابن ابی لیلیٰ نے کہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے سوا ہمیں کسی نے یہ خبر نہیں دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی ‘ انہی نے کہا کہ جب مکہ فتح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر غسل کیا اور آٹھ رکعت نماز پڑھی۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے اتنی ہلکی نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پھر بھی اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ پوری طرح کرتے تھے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ، رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ".
Narrated 'Aishah (ra):The Prophet (ﷺ) used to say in his bowings and prostrations, "Subhanaka Allahumma Rabbanã wa bihamdika, Allãhumma ighfirli" (Glorified be You, O Allah, our Lord! All the praises are for You. O Allah, forgive me)
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے منصور نے ‘ ان سے ابوالضحیٰ نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدہ میں یہ پڑھتے تھے «سبحانك اللهم، ربنا وبحمدك، اللهم اغفر لي» ۔
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِنَ الْفَجْرِ يَقُولُ " اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَفُلاَنًا ". بَعْدَ مَا يَقُولُ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ". فَأَنْزَلَ اللَّهُ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ} إِلَى قَوْلِهِ {فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ}. رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
Narrated Salim's father:That he heard Allah's Messenger (ﷺ) on raising his head from the bowing in the last rak`a in the Fajr prayer, saying, "O Allah, curse such-and-such person and such-and-such person, and such-and-such person," after saying, "Allah hears him who sends his praises to Him, O our Lord, all praise is for You." So Allah revealed:--"Not for you (O Muhammad) (but for Allah) is the decision, verily they are indeed wrongdoers
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ سے سالم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھا کر یہ بددعا کی۔ ”اے اللہ! فلاں، فلاں اور فلاں کافر پر لعنت کر۔ یہ بددعا آپ نے «سمع الله لمن حمده» اور «ربنا ولك الحمد» کے بعد کی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «ليس لك من الأمر شىء» ”آپ کو اس میں کوئی دخل نہیں۔“ آخر آیت «فإنهم ظالمون» تک۔ اس روایت کو اسحاق بن راشد نے زہری سے نقل کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ عَلَى أَحَدٍ أَوْ يَدْعُوَ لأَحَدٍ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ، فَرُبَّمَا قَالَ إِذَا قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ ". يَجْهَرُ بِذَلِكَ وَكَانَ يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلاَتِهِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ " اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا ". لأَحْيَاءٍ مِنَ الْعَرَبِ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ} الآيَةَ.
Narrated Abu Huraira:Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to invoke evil upon somebody or invoke good upon somebody, he used to invoke (Allah) after bowing (in the prayer). Sometimes after saying, "Allah hears him who sends his praises to Him, all praise is for You, O our Lord," he would say, "O Allah. Save Al-Walid bin Al-Walid and Salama bin Hisham, and `Aiyash bin Abu Rabi`a. O Allah! Inflict Your Severe Torture on Mudar (tribe) and strike them with (famine) years like the years of Joseph." The Prophet (ﷺ) used to say in a loud voice, and he also used to say in some of his Fajr prayers, "O Allah! Curse so-and-so and so-and-so." naming some of the Arab tribes till Allah revealed:--"Not for you (O Muhammad) (but for Allah) is the decision
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی پر بددعا کرنا چاہتے یا کسی کے لیے دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد کرتے «سمع الله لمن حمده، اللهم ربنا لك الحمد» کے بعد۔ بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا بھی کی ”اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! مضر والوں کو سختی کے ساتھ پکڑ لے اور ان میں ایسی قحط سالی لا، جیسی یوسف علیہ السلام کے زمانے میں ہوئی تھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے یہ دعا کرتے اور آپ نماز فجر کی بعض رکعت میں یہ دعا کرتے۔ اے اللہ، فلاں اور فلاں کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔ عرب کے چند خاص قبائل کے حق میں آپ ( یہ بددعا کرتے تھے ) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی «ليس لك من الأمر شىء» کہ ”آپ کو اس امر میں کوئی دخل نہیں۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، سَمِعَ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ تَصْنَعُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ " أَفَلاَ أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ". فَلَمَّا كَثُرَ لَحْمُهُ صَلَّى جَالِسًا فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ، فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ.
Narrated Aisha:The Prophet (ﷺ) used to offer prayer at night (for such a long time) that his feet used to crack. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Why do you do it since Allah has forgiven you your faults of the past and those to follow?" He said, "Shouldn't I love to be a thankful slave (of Allah)?' When he became old, he prayed while sitting, but if he wanted to perform a bowing, he would get up, recite (some other verses) and then perform the bowing
ہم سے حسن بن عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہیں حیوہ نے خبر دی، انہیں ابوالاسود نے، انہوں نے عروہ سے سنا اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز میں اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ کے قدم پھٹ جاتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ اتنی زیادہ مشقت کیوں اٹھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا پھر میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں۔ عمر کے آخری حصہ میں ( جب طویل قیام دشوار ہو گیا تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر رات کی نماز پڑھتے اور جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہو جاتے ( اور تقریباً تیس یا چالیس آیتیں اور پڑھتے ) پھر رکوع کرتے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ". يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ.
Narrated Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) used to say very often in bowing and prostration (during his prayers), Subhanka Allahumma Rabbana wa bihamdika; Allahumma ighfirli," according to the order of the Qur'an
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( سورۃ الفتح نازل ہونے کے بعد ) اپنے رکوع اور سجدوں میں بکثرت یہ دعا پڑھتے تھے «سبحانك اللهم ربنا وبحمدك، اللهم اغفر لي» یعنی ”پاک ہے تیری ذات، اے اللہ! اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تعریف ہے، اے اللہ! میری مغفرت فرما دے۔“ قرآن مجید کے حکم مذکور پر اس طرح آپ عمل کرتے تھے۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ ".
Narrated Anas bin Malik:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Perform the bowing and the prostration properly (with peace of mind), for, by Him in Whose Hand my soul is, I see you from behind my back when you bow and when you prostrate
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ رکوع اور سجدہ پورے طور پر ادا کیا کرو۔ اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اپنی کمر کے پیچھے سے تم کو دیکھ لیتا ہوں جب رکوع اور سجدہ کرتے ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ فَدَعَا بِطَهُورٍ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلاَةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَخُشُوعَهَا وَرُكُوعَهَا إِلاَّ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ " .
Amr b Sa'id b al-As reported:I was with Uthman, and he called for ablution water and said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) say: When the time for a prescribed prayer comes, if any Muslim performs ablution well and offers his prayer with humility and bowing, it will be an expiation for his past sins, so long as he has not committed a major sin; and this applies for all times
اسحاق بن سعيد نے عمرو بن سعید بن عاص نے اپنے والد ( سعید بن عمرو ) سے اور انہوں نے اپنے والد ( عمرو بن سعید ) سے روایت کی ، انہو ں نے کہا : میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ، انہوں نے وضو کاپانی منگایااور کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’کوئی مسلمان نہیں جس کی فرض نماز کا وقت ہو جائے ، پھر وہ اس کے لیے اچھی طرح وضو کرے ، اچھی طرح خشوع سے اسے ادا کرے اور احسن انداز سے رکوع کرے ، مگر وہ نماز اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو گی جب تک وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا اور یہ بات ہمیشہ کے لیے کی ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ لِلصَّلاَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَلاَ يَفْعَلُهُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ .
Ibn Umar reported that the Messenger of Allah (ﷺ), when he stood up for prayer, used to raise his hands apposite the shoulders and then recited takbir (Allah-o-Akbar), and when he was about to bow he again did like it and when he raised himself from the ruku' (bowing posture) he again did like it, but he did not do it at the time of raising his head from prostration
ابن جریج نے ابن شہاب سے اور انہوں نے سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ حضرت ابن عمرؓ نے کہا : رسول اللہﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے حتیٰ کہ آپ کے کندھوں کے سامنے آ جاتے ، پھر اللہ اکبر کہتے ، پھر جب رکوع کرنا چاہتے تو یہی کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا کرتے اور جب سجدے سے اپنا سر اٹھاتے توایسا نہ کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّهُ رَأَى مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ إِذَا صَلَّى كَبَّرَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَفْعَلُ هَكَذَا .
Abu Qilaba reported that he saw Malik b. Huwairith raising his hands at the beginning of prayer and raising his hands before kneeling down, and raising his hands after lifting his head from the state of kneeling, and he narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) used to do like this
ابو قلابہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، جب وہ نماز پڑھتے تو اللہ اکبر کہت پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع کرنا چاہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور انہوں نے بتایا کہ رسول اللہﷺ ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَقَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " . فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ .
Malik b. Huwairith reported:The Messenger of Allah (ﷺ) raised his hands apposite his ears at the time of reciting the takbir (i. e. at the time of beginning the prayer) and then again raised his hands apposite the ears at the time of bowing and when he lifted his head after bowing he said: Allah listened to him who praised Him, and did like it (raised his hands up to the ears)
۔ ابوعوانہ نے قتادہ سے ، انہوں نے نصر بن عاصم سے اور انہوں نے حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ جب اللہ اکبر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کے برابر لے جاتے اور جب رکوع کرتے تو ( پھر ) اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کے برابر لے جاتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سمع الله لمن حمده کہتے اور ایسا ہی کرتے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاَةً بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Abu Salama reported:Abu Huraira led prayer for them and recited takbir when he bent and raised himself (in ruku' and sujud) and after completing (the prayer) he said: By Allah I say prayer which has the best resemblance with the prayer of the Prophet (ﷺ) amongst you
ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے تو جب بھی وہ جھکتے اور ( سر اور جسم کو اوپر ) اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر جب سلام پھیرا تو کہا : اللہ کی قسم! میں نماز میں تم سب کی نسبت رسول اللہﷺ سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُولُ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " . حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ " رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " . ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الصَّلاَةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الْمَثْنَى بَعْدَ الْجُلُوسِ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاَةً بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Abu Huraira reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) got up for prayer, he would say the takbir (Allah-o-Akbar) when standing, then say the takbir when bowing. then say:" Allah listened to him who praised him," when coming to the erect position after bowing, then say while standing:" To Thee, our Lord, be the praise", then recite the takbir when getting down for prostration, then say the takbir on raising his head, then say the takbir on prostrating himself, then say the takbir on raising his head. He would do that throughout the whole prayer till he would complete it, and he would say the takbir when he would get up at the end of two rak'as after adopting the sitting posture. Abu Huraira said: My prayer has the best resemblance amongst you with the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ)
ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا : مجھے ابن شہاب نے ابو بکر بن عبد الرحمن سے روایت بیان کی ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کھڑے ہوتے ہوئے تکبیر کہتے ، پھر رکوع کرتے ہوئے تکبیر کہتے ، پھر جب رکوع سے کمر اٹھاتے تو سمع الله لمن حمده کہتے ، پھر قیام کی حالت میں ربنا ولك الحمد کہتے ، پھر جب سجدہ کرنے کے لیے جھکتے تو تکبیر کہتے ، پھر جب اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے ، پھر ( دوسرا ) سجدہ کرتے وقت تکبیر کہتے ، پھر جب ( سجدے سے ) اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے ، آپ پوری نماز میں اسی طرح کرتے یہاں تک کہ اس کو مکمل کر لیتے اور جب دو رکعتوں سے بیٹھنے کے بعد اٹھتے تو ( اس وقت بھی ) تکبیر کہے ۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے : میں نماز میں تم سب کی نسبت رسول اللہﷺ کے ساتھ زیادہ مشابہ ہوں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَا هُنَا فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَىَّ رُكُوعُكُمْ وَلاَ سُجُودُكُمْ إِنِّي لأَرَاكُمْ وَرَاءَ ظَهْرِي " .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do you find me seeing towards the Qibla only? By Allah, your bowing and your prostrating are not hidden from my view. Verily I see them behind my back
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’کیا تم سمجھتے ہو کہ میرا رخ ادھر ( سامنے ) ہی ہے؟ اللہ کی قسم! مجھ پر نہ تمہارا رکوع مخفی ہے اور نہ تمہارا سجدہ ، یقینا میں تمہیں اپنے پیچھے بھی دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَقِيمُوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِي - وَرُبَّمَا قَالَ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي - إِذَا رَكَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ " .
Anas b. Malik reported. The Messenger of Allah (ﷺ) said:Perform bowing and prostration well. By Allah, I see you even if you are behind me, or he said: (I see you) behind my back when you bow or prostrate
۔ شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے کہ نبیﷺ نے فرمایا : ’’ رکوع اور سجدہ پوری طرح کیا کرو ، اللہ کی قسم! میں تمہیں اپنے پیچھے ( بھی ) دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘ ( بلکہ ) غالباً آپ نے اس طرح فرمایا : ’’ جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو تو میں تمہیں اپنی پیٹھ پیچھے بھی دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ " . وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ " إِذَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ " .
Anas reported:The Apostle of Allah (ﷺ) said: Complete the bowing and prostration well. By Allah, I see you behind my back as to how you bow and prostrate or when you bow and prostrate
قتادہ سے ( شعبہ کے بجائے دستوائی والے ) ہشام اور سعید نے اپنی اپنی سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’ رکوع اور سجدہ کو مکمل کرو ، اللہ کی قسم! جب بھی تم رکوع کرتے ہو اور جب بھی تم سجدہ کرتے ہو تو میں اپنی پیٹھ پیچھے تمہیں دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘ اور سعید کی روایت میں ( إذا ما ركعتم وإذا ما سجدتم کے بجائے ) إذا ركعتم وسجدتم ’’جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو ۔ ‘ ‘ کے الفاظ ہیں ۔ یعنی سعید کی روایت میں اذا کے بعد دونوں جگہ ما کا لفظ نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَاللَّفْظُ، لأَبِي بَكْرٍ قَالَ ابْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلاَ تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَلاَ بِالسُّجُودِ وَلاَ بِالْقِيَامِ وَلاَ بِالاِنْصِرَافِ فَإِنِّي أَرَاكُمْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي - ثُمَّ قَالَ - وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " . قَالُوا وَمَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ " .
Anas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) one day led us in the prayer. and when he completed the Prayer he turned his face towards us and said: 0 People, I am your Imam, so do not precede me in bowing and prostration and in standing and turning (faces, i. e. In pronouncing salutation), for I see you in front of me and behind me, and then said: By Him in Whose hand Is the life of Muhammad, if you could see what I see, you would have laughed little and wept much more. They said: What did you see, Messenger of Allah? He replied: (I saw) Paradise and Hell
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھانے کے فوراً ہی بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”لوگو! میں تمہارا امام ہوں۔ اس لئے مجھ سے پہلے رکوع، سجدہ، قومہ اور سلام نہ پھیرو۔ میں آگے اور پیچھے سے تم کو دیکھتا ہوں۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو چیزیں میں دیکھتا ہوں اگر تم انہیں دیکھ لو تو ہنسو کم اور روؤ زیادہ“، لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ ارشاد ہوا ”میں نے جنت اور دوزخ دیکھی ہے۔“
وَحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، - قَالَ حَامِدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، - عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ رَمَقْتُ الصَّلاَةَ مَعَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ فَرَكْعَتَهُ فَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ رُكُوعِهِ فَسَجْدَتَهُ فَجَلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فَسَجْدَتَهُ فَجَلْسَتَهُ مَا بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالاِنْصِرَافِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ .
Al-Bara' b. 'Azib reported:I noticed the prayer of Muhammad (ﷺ) and saw his Qiyam (standing), his bowing, and then going back to the standing posture after bowing, his prostration, his sitting between the two prostrations, and his prostration and sitting between salutation and going away, all these were nearly equal to one another
ہلال بن ابی حمید نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے محمدﷺ کی معیت میں ( پڑھی جانے والی ) نماز کو غور سے دیکھا تو میں نے آپ کے قیام ، رکوع ، رکوع کے بعد اعتدال اور آپ کے سجدے ، دونوں سجدوں کے درمیان جلسے ( بیٹھنا ) اور آپ کے دوسرے سجدے اور اس کے بعد سلام اور رخ پھیرنے کے درمیان وقفے کو تقریبا برابر پایا ۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ إِنِّي لاَ آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِنَا . قَالَ فَكَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لاَ أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ انْتَصَبَ قَائِمًا حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ . وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ مَكَثَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ .
Thabit reported it on the authority of Anas:While leading you in prayer I do not shorten anything in the prayer. I pray as I saw the Messenger of Allah (ﷺ) leading us. He (Thabit) said: Anas used to do that which I do not see you doing; when he lifted his head from bowing he stood up (so long) that one would say: He has forgotten (to baw down in prostration). And when he lifted his head from prostration, he stayed in that position, till someone would say: He has forgotten (to bow down in prostration for the second sajda)
۔ خلف بن ہشام نے حماد بن زید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ثابت سے اور انہوں نے کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں تمہیں ایسی نماز پڑھانے میں کوتاہی نہیں کرتا ، جیسی میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ( کہ وہ ) ہمیں پڑھاتے تھے ۔ ثابت نے کہا : انس رضی اللہ عنہ ایک ایسا کام کیا کرتے تھے جو میں تمہیں کرتے ہوئے نہیں دیکھتا ۔ جب وہ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا کہ وہ بھول گئے ہیں اور جب وہ سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو ٹھہرے رہتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا : وہ بھول گئے ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَفَعَ ظَهْرَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ " .
(Abdullah b ) Ibn Abi Aufa reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) raised his back from the rukd' he pronounced: Allah listened to him who praised Him. O Allah! our Lord! unto Thee be praise that would fill the heavens and the earth and fill that which will please Thee besides them
اعمش نے عبید بن حسن سے اور انہوں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺجب رکوع سے اپنی پشت اٹھاتے تو کہتے ، ’’ اللہ نے سن لی جس نے اس کی حمد کی ، اے اللہ ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف وتوصیف ہے آسمان بھر ، زمین بھر اور ان کے سوا جو تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ أَلاَ وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ " .
Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) drew aside the curtain (of his apartment) and (he saw) people in rows (saying prayer) behind Aba Bakr. And he said: Nothing remains of the glad tidings of apostlehood, except good visions which a Muslim sees or someone is made to see for him. And see that I have been forbidden to recite the Qur'an in the state of bowing and prostration. So far as Ruk'u is concerned, extol in it the Great and Glorious Lord, and while prostrating yourselves be earnest in supplication, for it is fitting that your supplications should be answered
سعید بن منصور ، ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی کہ مجھے سلیمان بن سحیم نے خبر دی ، انہوں نے ابراہیم بن عبد اللہ بن معبد سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے ( دروازے کا ) پردہ اٹھایا ( اس وقت ) لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف بستہ تھے ۔ آپ نے فرمایا : ’’لوگو! نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں جو مسلمان خود دیکھے گا یا اس کے لیے کسی دوسرے کو ) دکھایا جائے گا ۔ خبردار رہو! بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ، جہاں تک رکوع کا تعلق ہے اس میں اپنے رب عزوجل کی عظمت وکبریائی بیان کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے اس میں خوب دعا کرو ، ( یہ دع اس ) لائق ہے کہ تمہارے حق میں قبول کر لی جائے ۔ ‘ ‘ امام مسلم کے اساتذہ میں سے ایک استاد ابو بکر بن ابی شیبہ نے حدیث یبان کرتے ہوئے ( ’’مجھے سلیمان نے خبر دی ‘ ‘ کے بجائے ) سلیمان سے روایت ہے ، کہا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا .
Ali b. Abi Talib reported:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade me to recite (the Qur'an) in a state of bowing and prostration
۔ ابن شہاب زہری نے کہا : مجھے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین نے حدیث سنائی کہ ان کے والد نے ان سے بیان کیا ، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہﷺ نے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ، - يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ - حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ .
Ali b. Abi Talib reported:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade to recite the Qur'an, while I am in the state of bowing and prostration
ولید بن کثیر سے روایت ہے کہ مجھے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین نے اپنے والد سے بیان کیا ، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے رسول اللہﷺ نے ، جب میں رکوع یا سجدے میں ہوں ، قرآن پڑھنے سے روکا ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَلاَ أَقُولُ نَهَاكُمْ .
Ali b. Abi Talib reported:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade me from the recitation (of the Qur'an) in bowing and prostration and I do not say that he forbade you
زید بن اسلم نے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے رسول اللہﷺ نے رکوع اور سجدے میں ( قرآن کی ) قراءت کرنے سے منع کیا ۔ میں ( یہ ) نہیں کہتا : تمہیں منع کیا ۔ ( حضرت علی نے اپنے حوالےا سے جو سنا وہی بتایا ۔ پچھلی احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ حکم سب کے لیے ہے ۔)
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَانِي حِبِّي صلى الله عليه وسلم أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا .
Ali reported:My loved one (the Holy Prophet) forbade me that I should recite (the Qur'an) in a state of bowing and prostration
داؤد بن قیس نے کہا : مجھے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین نے اپنے والد ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میرے حبیبﷺ نے مجھے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ میں رکوع یا سجدے میں قرآن پڑھوں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، ح وَحَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ، وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو ح قَالَ وَحَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، - إِلاَّ الضَّحَّاكَ وَابْنَ عَجْلاَنَ فَإِنَّهُمَا زَادَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كُلُّهُمْ قَالُوا نَهَانِي عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِي رِوَايَتِهِمُ النَّهْىَ عَنْهَا فِي السُّجُودِ كَمَا ذَكَرَ الزُّهْرِيُّ وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ وَالْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ وَدَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ .
This hadith has been narrated by some other narrators, Ibn 'Abbas and others, and they all reported that 'Ali said:The Apostle of Allah (ﷺ) forbade me to recite the Qur'an while I am in a state of bowing and prostration, and in their narration (there is a mention of) forbiddance from that (recital) in the state of prostration as it has been transmitted by Zuhri, Zaid b. Aslam, al-Wahid b. Kathir, and Dawud b. Qais
نافع ، یزید بن ابی حبیب ، ضحاک بن عثمان ، ابن عجلان ، اسامہ بن زید ، محمد بن عمرو اور محمد بن اسحاق سب نے مختلف سندوں سے ابراہیم بن عبد اللہ حنین سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کی ، البتہ ان میں ضحاک اور ابن عجلان نے اضافہ کرتے ہوئے کہا : حضرت ابن عباس سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت علی سے ، انہوں نے رسول اللہﷺ سے روایت کی کہ آپ نے مجھے رکوع کی حالت میں قرآن کی قراءت سے روکا اور ان میں سے کسی نے اپنی روایت میں ( ابراہیم کے پچھلی روایتوں : 1076 ۔ 1079 میں مذکورہ شاگردوں ) زہری ، زید بن اسلم ، ولید بن کثیر اور داؤد بن قیس کی روایات کی طرح سجدے میں قراءت کرنے سے روکنے کا ذکر نہیں کیا
وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ، وَأَنَا رَاكِعٌ، . لاَ يَذْكُرُ فِي الإِسْنَادِ عَلِيًّا .
Ibn 'Abbas reported:I was forbidden to recite (the Qur'an) while I was bowing, and there is no mention of 'Ali in the chain of transmitters
عبد اللہ بن حنین نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : مجھے رکوع کی حالت میں قراءت سے منع کیا گیا ہے ۔ اس سند میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " . يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ .
A'isha reported:The Messenger of Allah (may peace be upon him') often said while bowing and prostrating himself:" Glory be to Thee, O Allah, our Lord, and praise be to Thee, O Allah, forgive me," thus complying with the (command in) the Qur'an
منصور نے ابو ضحیٰ ( مسلم بن صبیح القرشی ) سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : : رسول اللہﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں بکثرت ( یہ کلمات ) کہا کرتے تھے : ’’تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں اے میرے اللہ! ہمارے رب! تیری حمد کے ساتھ ، اے میرے اللہ! مجھے بخش دے ۔ ‘ ‘ آپ ( یہ کلمات ) قرآن مجید کی تاویل ( حکم کی تعمیل ) کے طور پر فرمایا کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، نَبَّأَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلاَئِكَةِ وَالرُّوحِ " .
A'isha reported that the Messenger of Allah (may peace he upon him) used to pronounce while bowing and prostrating himself:All Glorious, All Holy, Lord of the Angels and the Spirit
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے اور انہوں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں ( یہ کلمات ) کہتے تھے : ’’نہایت پاک ہے ، مقدس ہے فرشتوں اور روح ( جبریل علیہ السلام ) کا پروردگار ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، - يَعْنِي الأَحْمَرَ - عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَفْتِحُ الصَّلاَةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةَ بِـ { الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ وَلِكَنْ بَيْنَ ذَلِكَ وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ وَيَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلاَةَ بِالتَّسْلِيمِ . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِي خَالِدٍ وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ .
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) used to begin prayer with takbir (saying Allahu Akbar) and the recitation: "Praise be to Allah, the Lord of the Universe." When he bowed he neither kept his head up nor bent it down, but kept it between these extremes; when he raised his head after bowing he did not prostrate himself till he had stood erect; when he raised his head after prostration he did not prostrate himself again till he sat up. At the end of every two rak'ahs he recited the tahiyya; and he used to place his left foot flat (on the ground) and raise up the right; he prohibited the devil's way of sitting on the heels, and he forbade people to spread out their arms like a wild beast. And he used to finish the prayer with the taslim
محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو خالد احمر نے حسین معلم سے حدیث سنائی ، نیز اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ( الفاظ انہی کے ہیں ) ، ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ، کہا : ہمیں حسین معلم نے حدیث بیان کی ، انہوں نے بدیل بن میسرہ سے ، انہوں نے ابو جوزاء سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نماز کا آغاز تکبیر سے اور قراءت کا آغاز ﴿الحمد لله رب العالمين﴾ سے کرتے اور جب رکوع کرتے تو اپنا سر نہ پشت سے اونچا کرتے اور نہ اسے نیچے کرتے بلکہ درمیان میں رکھتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سجدے میں نہ جاتے حتیٰ کہ سیدھے کھڑے ہو جاتے اور جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو ( دوسرا ) سجدہ نہ کرتے حتیٰ کہ سیدھے بیٹھ جاتے ۔ اور ہر دو رکعتوں کے بعد التحیات پڑھتے اور اپنا بایاں پاؤں بچھا لیتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور شیطان کی طرح ( دونوں پنڈلیاں کھڑی کر کے ) پچھلے حصے پر بیٹھنے سے منع فرماتے اور اس سے بھی منع فرماتے اور اس سے بھی منع فرماتے کہ انسان اپنے بازو اس طرح بچھا دے جس طرح درندہ بچھاتا ہے ، اور نماز کا اختتام سلام سے کرتے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ فِي صَلاَةٍ شَهْرًا إِذَا قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " . يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَرَكَ الدُّعَاءَ بَعْدُ فَقُلْتُ أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ تَرَكَ الدُّعَاءَ لَهُمْ - قَالَ - فَقِيلَ وَمَا تَرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا
Abu Salama reported it on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) recited Qunut after ruku' in prayer for one mouth at the time of reciting (these words):" Allah listened to him who praised Him," and he said in Qunut:" 0 Allah! rescue al-Walid b. al-Walid; O Allah! rescue Salama b. Hisham; O Allah! rescue 'Ayyash b. Abu Rabi'a; O Allah! rescue the helpless amongst the Muslims; O Allah! trample Mudar severely; O Allah! cause them a famine like that (which was caused at the time) of Joseph." Abu Huraira (further) said: I saw that the Messenger of Allah (ﷺ) afterwards abandoned this supplication. I, therefore said: I see the Messenger of Allah (ﷺ) abandoning this blessing upon them. It was raid to him (Abu Huraira): Don't you see that (those for whom was blessing invoked by the Holy Prophet) have come (i. e. they have been rescued)?
ہمیں اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انھیں حدیث بیان کی کہ نبی ﷺ نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد قنوت ( عاجزی سے دعا ) کی ، جب آپ سمع اللہ لمن حمدہ کہہ لیتے ( تو ) اپنی قنوت میں یہ ( الفاظ ) کہتے : اے اللہ! ولید بن ولیدکو نجات دے ، اے اللہ عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے ، اے اللہ کمزور سمجھے جانے والے ( دوسرے ) مومنوں کو نجات عطا کر ، اے اللہ ! ان پر اپنے روندنے کو سخت تر کر اور اسے ان پر ، یوسف علیہ السلام کے ( زمانے کے ) قحط کے مانند کر دے ۔ ’’ مسجدوں اور نماز کی جگہوں کے احکام ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے یہ دعا چھوڑ دی ، میں نے ( ساتھیوں سے ) کہا : میں دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا چھوڑ دی ہے ۔ کہا : ( جواب میں ) مجھ سے کہا گیا ، تم انھیں دیکھتے نہیں ، ( جن کے لیے دعا ہوئی تھی ) وہ سب آچکے ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ قُلْتُ لأَنَسٍ هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ قَالَ نَعَمْ بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا .
Muhammad reported:I asked Anas whether the Messenger of Allah (ﷺ) observed Qunut in the dawn prayer. He said: Yes, (he did so) after the ruku', for a short while
محمد ( بن سیرین ) سے روایت ہے ، کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ نے ( کبھی ) صبح کی نماز میں قنو ت کی تھی؟ کہا : ہاں ، رکوع سے تھوڑی دیر بعد ۔
وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ مُعَاذٍ - حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَيَقُولُ " عُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
Anas b. Malik reported:The Messenger of Allah (ﷺ) observed Qunut for a month in the dawn prayer after ruku' and invoked curse upon Ri'l, Dhakwan, and said that 'Usayya had disobeyed Allah and His Apostle (ﷺ)
ابو مجلز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کو کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے تک صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت کی ، آپ رعل اور ذکوان کے خلاف بددعا فرماتے تھے اور کہتے تھے : ‘ ‘ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔ ’’
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ يَدْعُو عَلَى بَنِي عُصَيَّةَ .
Anas b. Malik reported that the Messenger of Allah (ﷺ) observed Qunut for a month in the dawn prayer after ruku' and invoked curse upon Bani Usayya
انس بن سیرین نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے تک نماز فجر میں رکوع کے بعد قنوت کی ، آپ بنو عصیہ کے خلاف بددعا کرتے رہے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ سَأَلْتُهُ عَنِ الْقُنُوتِ، قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ فَقَالَ قَبْلَ الرُّكُوعِ . قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ . فَقَالَ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَهْرًا يَدْعُو عَلَى أُنَاسٍ قَتَلُوا أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ .
Asim reported:I asked Anas whether Qunut was observed (by the Holy prophet) before ruku' or after ruku'. He replied: Before ruku'. I said: People conceive that the Messenger of Allah (ﷺ) observed Qunut after the ruku'. He said: The Messenger of Allah (ﷺ) observed Qunut (after the ruku' as the people conceive it) for a mouth invoking curse upon those persons who had killed men among his Companions who were called the reciter (of the Qur'an)
ابو معاویہ نے عاصم سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ان ( انس رضی اللہ عنہ ) سے قنو ت کے بارے میں پوچھا : رکوع سے پہلے ہے یا رکوع کے بعد؟ تو انھوں نے کہا : رکوع سے پہلے ۔ کہا : میں نے عرض کی : بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رکوع کے بعد قنوت کی ۔ تو انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے کی ، ان لوگوں کو خلاف بددعا فرماتے رہے جنھوں نے آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں کو قتل کیا تھا جنھیں قراء ( قرآن پڑھنے والے ) کہا جاتا تھا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ مَا أَخْبَرَنِي أَحَدٌ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَى إِلاَّ أُمُّ هَانِئٍ فَإِنَّهَا حَدَّثَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلاَةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ . وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ قَوْلَهُ قَطُّ .
Abd al-Rahman b. Abu Laila reported:No one has ever narrated to me that he saw the Messenger of Allah (ﷺ) observing the forenoon prayer, except Umm Hani. She, however, narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) entered her house on the day of the Conquest of Mecca and prayed eight rak'ahs (adding): I never saw a shorter prayer than it except that he performed the bowing and prostration completely. But (one of the narrators) Ibn Bashshar in his narration made no mention of the word:" Never
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں شعبہ نے عمرو بن مرہ سے انھوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : مجھے ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سوا کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ۔ انھوں نے بتایا کہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تشریف لائے اور آپ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں ، میں نے آپ کو کبھی اس سے ہلکی نمازپڑھتے نہیں دیکھا ، ہاں آپ رکوع اور سجود مکمل طریقے سے کررہے تھے ۔ ابن بشار نے اپنی روایات میں قط ( کبھی ) کا لفظ بیان نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ، إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ، الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ الأَعْرَجِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاَةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ " وَجَّهْتُ وَجْهِي " . وَقَالَ " وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ " . وَقَالَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " . وَقَالَ " وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ " . وَقَالَ وَإِذَا سَلَّمَ قَالَ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ " . إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَلَمْ يَقُلْ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ .
A'raj reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) would start the prayer, he would pronounce takbir (Allah-o-Akbar) and then say:I turn my face (up to Thee), I am the first of the believers; and when he raised his head from ruku' he said: Allah listened to him who praised Him; O our Lord, praise be to Thee; and he said: He shaped (man) and how fine is his shape? And he (the narrator) said: When he pronounced salutation he said: O Allah, forgive me my earlier (sins), to the end of the hadith; and he did not say it between the Tashahhud and salutation (as mentioned above)
عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے اپنے چچا الماجثون ( یعقوب ) بن ابی سلمہ سے اور انھوں نے ( عبدالرحمان ) اعرج سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز فرماتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر د عا پڑھتے : وجهت وجهيي اس میں ( کے بجائے ) " انا من المسلمين " اور میں اطاعت وفرمانبرداری میں اولین ( مقام پر فائز ) ہوں " کے الفاظ ہیں اور کہا : جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو " سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد " کہتے اورصوره ( اس کی صورت گری کی ) کے بعد " فاحسن صوره " ( اس کو بہترین شکل وصورت عنایت فرمائی ) کے الفاظ کہے اور کہا جب سلام پھیرتے تو کہتے : " اللهم اغفرلي ما قدمت " اے اللہ! بخش دے جو میں نے پہلے کیا ۔ " حدیث کے آخر تک اور انھوں نے " تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان " کے الفاظ نہیں کہے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، ح. وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَإِنَّهُمَا لاَ يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَكَبِّرُوا وَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ إِنْ مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ " . وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ " .
A'isha reported that there was a solar eclipse in the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He stood up to pray and prolonged his stand very much. He then bowed and prolonged very much his bowing. He then raised his head and prolonged his stand much, but it was less than the (duration) of the first stand. He then bowed and prolonged bowing much, but it was less than the duration of his first bowing. He then prostrated and then stood up and prolonged the stand, but it was less than the first stand. He then bowed and prolonged his bowing, but it was less than the first bowing. He then lifted his head and then stood up and prolonged his stand, but it was less than the first stand. He then bowed and prolonged bowing and it was less than the first bowing. He then prostrated himself; then he turned about, and the sun had become bright, and he addressed the people. He praised Allah and landed Him and said:The sun and the moon are two signs of Allah; they are not eclipsed on account of anyones death or on account of anyone's birth. So when you see them, glorify and supplicate Allah, observe prayer, give alms. O Ummah of Muhammad, none is more indignant than Allah When His servant or maid commits fornication. O people of Muhammad, by Allah, if you knew what I know, you would weep much and laugh little
امام مالک بن انس اور عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد عروہ سے حدیث سنا ئی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زما نے میں سورج کو گرہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے لیے قیام فر ما یا اور بہت ہی لمبا قیام کیا ، پھر آپ نے رکو ع کیا تو انتہا ئی طویل رکوع کیا پھر آپ نے سر اٹھا یا تو انتہائی طویل قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے ( کچھ ) کم تھا پھر آپ نے ( دوبارہ ) رکو ع کیا تو بہت لمبا رکو ع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر آپ نے سجدے کیے پھر آپ کھڑے ہو گئے اور قیام کو لمبا کیا وہ پہلے قیام سے کم تھا پھر آپ نے رکوع کیا اور رکوع کو لمبا کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر آپ نے اپنا سر اٹھا یا اور قیا م کیا تو بہت لمبا قیام کیا جبکہ وہ پہلے قیام سے کم تھا پھر آپ نے رکوع کیا تو انتہائی طویل رکوع کیا لیکن وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر سجدے کیے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز سے فارغ ہو کر ) پلٹے تو سورج روشن ہو چکا تھا اور آپ نے لو گو ں سے خطا ب فر ما یا اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی ، پھر فر ما یا : "" بے شک سورج اور چاند اللہ تعا لیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں ان کو کسی کی مو ت یا زند گی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا جب تم انھیں ( اس حالت میں ) دیکھو تو اللہ کی بڑائی بیان کرو اللہ تعا لیٰ سے دعا مانگو نماز پڑھو اور صدقہ کرو اے اُمت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ئی نہیں جو ( اس بات پر ) اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت رکھنے والا ہو کہ اس کا بندہ یا اس کی باندی زنا کرے !اے اُمت محمد!اللہ کی قسم !اگر تم ان باتوں کو جان لو جن کو میں جا نتا ہوں ۔ تو تم بہت زیادہ روؤاور بہت کم ہنسو ۔ دیکھو !کیا میں نے ( پیغام ) اچھی طرح پہنچا دیا ؟ "" اور امام مالک کی روایت میں ہے : "" یقیناً سورج اور چاند اللہ تعا لیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ قَالَ الأَوْزَاعِيُّ أَبُو عَمْرٍو وَغَيْرُهُ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ، يُخْبِرُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ الشَّمْسَ، خَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَعَثَ مُنَادِيًا " الصَّلاَةَ جَامِعَةً " . فَاجْتَمَعُوا وَتَقَدَّمَ فَكَبَّرَ . وَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ .
A'isha reported that there was a solar eclipse during the lifetime of the Messenger of Allah (way peace be upon him) and he sent the announcer (to summon them) for congregational prayer. The people gathered together and he pronounced takbir and he observed four rak'ahs, in the form of two rak'ahs (i. e. he observed two qiyams and two ruku's in one rak'ah) and four prostrations
ابو عمرو اوزاعی اور ان کے علاوہ د وسرے ( راوی ، دونوں میں سے ہرایک ) نے کہا : میں نے ابن شہاب زہری سے سنا ، وہ عروہ سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دے رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کوگرہن لگ گیا تو آپ نے یہ اعلان کرنے والا ( ایک شخص ) بھیجاکہ " کہ نماز جمع کرنے والی ہے ۔ اس پر لوگ جمع ہوگئے ، آپ آگے بڑھے ، تکبیر تحریمہ کہی اور چار رکوعوں اور چار سجدوں کےساتھ دو رکعتیں پڑھیں ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي مَنْ، أُصَدِّقُ - حَسِبْتُهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ - أَنَّ الشَّمْسَ انْكَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ قِيَامًا شَدِيدًا يَقُومُ قَائِمًا ثُمَّ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ فِي ثَلاَثِ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ فَانْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ وَكَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ " . ثُمَّ يَرْكَعُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " . فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَكْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفًا فَاذْكُرُوا اللَّهَ حَتَّى يَنْجَلِيَا " .
Ata' reported:I heard 'Ubaid b. 'Umair say: It has been narrated to me by one whom I regard as truthful, (the narrator says: I can well guess that he meant 'A'isha) that the sun eclipsed during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) and he stood up (in prayer) for a rigorously long time. He then bowed and then stood up and then bowed and then stood up and then bowed, thus observing three ruku's in two rak'ahs and four prostrations. He then departed and the sun brightened. He pronounced" Allah is the Greatest" while bowing. He would then bow and say:" Allah listened to him who praised Him" while lifting up his head. He then stood up, and praised Allah and lauded Him, and then said: The sun and the moon do not eclipse on the death of anyone or on his birth. But both of them are among the signs of Allah with which Allah terrifies His servants. So when you see them under eclipse, remember Allah till they are brightened
ابن جریج نے کہا : میں نے عطاء ( بن ابی رباح ) کو کہتے ہوئے سنا : میں نے عبید بن عمیر سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھ سے اس شخص نے حدیث بیان کی جنھیں میں سچا سمجھتاہوں ۔ ( عطاء نے کہا : ) میرا خیال ہے ان کی مراد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تھی ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کوگرہن لگ گیا تو آپ نے بڑا پُر مشقت قیام کیا ۔ سیدھے کھڑے ہوتے ، پھر رکوع میں چلے جاتے ، پھرکھڑے ہوتے ۔ پھر رکوع کرتے ، پھر کھڑے ہوتے پھر رکوع کرتے ، دو رکعتیں ( تین ) تین رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھیں ، پھر آپ نے سلام پھیر ا تو سورج روشن ہوچکا تھا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو الله اكبرکہا کہتے اس کے بعد جب رکوع کرتے اور جب سر اٹھاتے تو " سمع الله لمن حمده " کہتے ۔ اسکے بعد آپ ( خطبہ کے لئے ) کھڑے ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " سورج اور چاند نہ کسی کی موت پر بےنور ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی کی زندگی پر بلکہ وہ اللہ کی نشانیاں ہیں ، ان کے ذریعے سے وہ اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے ، جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کو یاد کرو حتیٰ کہ وہ روشن ہوجائیں ۔
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ
This hadith is narrated thus on the authority of 'A'isha through another chain of transmitters:" The Messenger of Allah (ﷺ) observed six ruku's and four prostration in (two rak'ahs)
قتادہ نے عطاء بن ابی رباح سے ، انھوں نے عبید بن عمیر سے اور انھوں نے حضر ت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کسوف میں ) چھ رکوعوں اور چار سجدوں پر مشتمل نماز پڑھی ۔
وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَاكَ فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ثُمَّ قَالَ " إِنَّهُ عُرِضَ عَلَىَّ كُلُّ شَىْءٍ تُولَجُونَهُ فَعُرِضَتْ عَلَىَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا أَخَذْتُهُ - أَوْ قَالَ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا - فَقَصُرَتْ يَدِي عَنْهُ وَعُرِضَتْ عَلَىَّ النَّارُ فَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ . وَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَخْسِفَانِ إِلاَّ لِمَوْتِ عَظِيمٍ وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُرِيكُمُوهُمَا فَإِذَا خَسَفَا فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ " . وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ " وَرَأَيْتُ فِي النَّارِ امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً " . وَلَمْ يَقُلْ " مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ "
Jabir b. 'Abdullah reported:The sun eclipsed on one extremely hot day during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) prayed along with his Companions. He prolonged his qiyam (standing posture in prayer) till they (his Companions) began to fall down. He then observed a long ruku'. He raised his head (and stood up for long) and then observed a long ruku'. He then raised (his head and stood up) for a long time and then made two prostrations. He then stood up and did like this and thus he observed four ruku's and four prostrations (in two rak'ahs) and then said: All these things were brought to me in which you will be made to enter. Paradise was brought to me till (I was so close to it) that if I (had intended) to pluck a bunch (of grapes) out of it. I would have got it, or he (the Holy Prophet) said: I intended to get a bunch (out of that) but my hand could not reach it. Hell was also brought to me and I saw in it a woman belonging to the tribe of Israel who was tormented for a cat whom she had tied, but did not give it food nor set it free to eat the creatures of the earth; and I saw Abu Thumama 'Amr b. Malik who was dragging his intestines in Hell. They (the Arabs) used to say that the sun and the moon do not eclipse but on the death of some great person; but (in reality) both these (the sun and the moon) are among the signs of Allah which are shown to you; so when there is an eclipse, observe prayer till it (the sun or the moon) brightens. This hadith has been narrated by Hisham with the same chain of transmitters except this" I saw a dark woman with a tail stature and loud voice," but he made no mention of" from among Bani Israel
اسماعیل ابن علیہ نے ہشام دستوائی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے جابر بن عبداللہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک انتہائی گرم دن سورج کوگرہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کے ساتھ نمازپڑھی ، آپ نے ( اتنا ) لمبا قیام کیا کہ کچھ لوگ گرنے لگے ، پھر آپ نے رکوع کیا اوراے لمبا کیا ، پھر ( رکوع سے ) سر اٹھایا اور لمبا ( قیام ) کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر رکوع کیا اور لمبا کیا ۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( رکوع سے ) سر اٹھایا اور ( اس قیام کو لمبا ) کیا ، پھر دو سجدے کیے ، پھر آپ ( دوسری رکعت کے لئے ) اٹھے اور اسی طرح کیا ، اس طرح چار رکوع اورچار سجدے ہوگئے ، پھر آپ نے فرمایا : بلاشبہ مجھ پر ہر وہ چیز ( حشر نشر ، پل صراط ، جنت اور دوزخ ) جس میں سے تم گزروگے ، پیش کی گئی ، میرے سامنے جنت پیش کی گئی حتیٰ کہ اگر میں اس میں سے ایک گچھے کو لینا چاہتا تو اسے پکڑ لیتا ۔ یا آپ نے ( یوں ) فرمایا : میں نے ایک گچھہ لیناچاہا تو میرا ہاتھ اس تک نہ پہنچا ، اور میرے سامنے جہنم پیش کی گئی تو میں نے اس میں بنی اسرائیل کی ایک عورت دیکھی جسے اپنی بلی ( کے معاملے ) میں عذاب دیا جارہا تھا ۔ اس نے اسے باندھ دیا نہ اسے کچھ کھلایا ( پلایا ) نہ اسے چھوڑا ہی کہ وہ زمین کے چھوٹے موٹے جاندار پرندے وغیرہ کھالیتی ۔ اور میں نے ابو ثمامہ عمرو ( بن عامر ) بن مالک ( جس کالقب لحی تھا اور خزاعہ اس کی اولاد میں سے تھا ) کو دیکھا کہ وہ آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہاتھا ، لوگ کہا کرتے تھےکہ سورج اور چاند کسی عظیم شخصیت کی موت پر ہی بے نور ہوتے ہیں ، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ۔ جو وہ تمھیں دیکھاتا ہے ، جب انھیں گرہن لگے تو اس وقت تک نماز پڑھتے رہو کہ وہ ( گرہن ) چھٹ جائے ۔
وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَاكَ فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ثُمَّ قَالَ " إِنَّهُ عُرِضَ عَلَىَّ كُلُّ شَىْءٍ تُولَجُونَهُ فَعُرِضَتْ عَلَىَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا أَخَذْتُهُ - أَوْ قَالَ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا - فَقَصُرَتْ يَدِي عَنْهُ وَعُرِضَتْ عَلَىَّ النَّارُ فَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ . وَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَخْسِفَانِ إِلاَّ لِمَوْتِ عَظِيمٍ وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُرِيكُمُوهُمَا فَإِذَا خَسَفَا فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ " . وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ " وَرَأَيْتُ فِي النَّارِ امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً " . وَلَمْ يَقُلْ " مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ "
Jabir b. 'Abdullah reported:The sun eclipsed on one extremely hot day during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) prayed along with his Companions. He prolonged his qiyam (standing posture in prayer) till they (his Companions) began to fall down. He then observed a long ruku'. He raised his head (and stood up for long) and then observed a long ruku'. He then raised (his head and stood up) for a long time and then made two prostrations. He then stood up and did like this and thus he observed four ruku's and four prostrations (in two rak'ahs) and then said: All these things were brought to me in which you will be made to enter. Paradise was brought to me till (I was so close to it) that if I (had intended) to pluck a bunch (of grapes) out of it. I would have got it, or he (the Holy Prophet) said: I intended to get a bunch (out of that) but my hand could not reach it. Hell was also brought to me and I saw in it a woman belonging to the tribe of Israel who was tormented for a cat whom she had tied, but did not give it food nor set it free to eat the creatures of the earth; and I saw Abu Thumama 'Amr b. Malik who was dragging his intestines in Hell. They (the Arabs) used to say that the sun and the moon do not eclipse but on the death of some great person; but (in reality) both these (the sun and the moon) are among the signs of Allah which are shown to you; so when there is an eclipse, observe prayer till it (the sun or the moon) brightens. This hadith has been narrated by Hisham with the same chain of transmitters except this" I saw a dark woman with a tail stature and loud voice," but he made no mention of" from among Bani Israel
اسماعیل ابن علیہ نے ہشام دستوائی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے جابر بن عبداللہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک انتہائی گرم دن سورج کوگرہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کے ساتھ نمازپڑھی ، آپ نے ( اتنا ) لمبا قیام کیا کہ کچھ لوگ گرنے لگے ، پھر آپ نے رکوع کیا اوراے لمبا کیا ، پھر ( رکوع سے ) سر اٹھایا اور لمبا ( قیام ) کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر رکوع کیا اور لمبا کیا ۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( رکوع سے ) سر اٹھایا اور ( اس قیام کو لمبا ) کیا ، پھر دو سجدے کیے ، پھر آپ ( دوسری رکعت کے لئے ) اٹھے اور اسی طرح کیا ، اس طرح چار رکوع اورچار سجدے ہوگئے ، پھر آپ نے فرمایا : بلاشبہ مجھ پر ہر وہ چیز ( حشر نشر ، پل صراط ، جنت اور دوزخ ) جس میں سے تم گزروگے ، پیش کی گئی ، میرے سامنے جنت پیش کی گئی حتیٰ کہ اگر میں اس میں سے ایک گچھے کو لینا چاہتا تو اسے پکڑ لیتا ۔ یا آپ نے ( یوں ) فرمایا : میں نے ایک گچھہ لیناچاہا تو میرا ہاتھ اس تک نہ پہنچا ، اور میرے سامنے جہنم پیش کی گئی تو میں نے اس میں بنی اسرائیل کی ایک عورت دیکھی جسے اپنی بلی ( کے معاملے ) میں عذاب دیا جارہا تھا ۔ اس نے اسے باندھ دیا نہ اسے کچھ کھلایا ( پلایا ) نہ اسے چھوڑا ہی کہ وہ زمین کے چھوٹے موٹے جاندار پرندے وغیرہ کھالیتی ۔ اور میں نے ابو ثمامہ عمرو ( بن عامر ) بن مالک ( جس کالقب لحی تھا اور خزاعہ اس کی اولاد میں سے تھا ) کو دیکھا کہ وہ آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہاتھا ، لوگ کہا کرتے تھےکہ سورج اور چاند کسی عظیم شخصیت کی موت پر ہی بے نور ہوتے ہیں ، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ۔ جو وہ تمھیں دیکھاتا ہے ، جب انھیں گرہن لگے تو اس وقت تک نماز پڑھتے رہو کہ وہ ( گرہن ) چھٹ جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّاسُ إِنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ . فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ بَدَأَ فَكَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَقَرَأَ قِرَاءَةً دُونَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَقَرَأَ قِرَاءَةً دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ أَيْضًا ثَلاَثَ رَكَعَاتٍ لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلاَّ الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِي بَعْدَهَا وَرُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ ثُمَّ تَأَخَّرَ وَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ خَلْفَهُ حَتَّى انْتَهَيْنَا - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى انْتَهَى إِلَى النِّسَاءِ - ثُمَّ تَقَدَّمَ وَتَقَدَّمَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى قَامَ فِي مَقَامِهِ فَانْصَرَفَ حِينَ انْصَرَفَ وَقَدْ آضَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَإِنَّهُمَا لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِمَوْتِ بَشَرٍ - فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ مَا مِنْ شَىْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلاَّ قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلاَتِي هَذِهِ لَقَدْ جِيءَ بِالنَّارِ وَذَلِكُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ فَإِنْ فُطِنَ لَهُ قَالَ إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي . وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ بِهِ وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا ثُمَّ جِيءَ بِالْجَنَّةِ وَذَلِكُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِي وَلَقَدْ مَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لاَ أَفْعَلَ فَمَا مِنْ شَىْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلاَّ قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلاَتِي هَذِهِ " .
Jabir reported that the sun eclipsed during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) on that very day when Ibrahim (the Prophet's son) died. The Apostle of Allah (ﷺ) stood up and led people in (two rak'ahs of) prayer with six ruku's and four prostrations. He commenced (the prayer) with takbir (Allah-o-Akbar) and then recited and prolonged his recital. He then bowed nearly the (length of time) that he stood up. He then raised his head from the ruku' and recited but less than the first recital. He then bowed (to the length of time) that he stood up. He then raised his head from the ruku' and again recited but less than the second recital. He then bowed (to the length of time) that he stood up. He then lifted his head from the ruku'. He then fell in prostration and observed two prostrations. He stood up and then bowed, observing six ruku's like it, without (completing) the rak'ah in them, except (this difference) that the first (qiyam of ruku') was longer than the later one, and the ruku' was nearly (of the same length) as prostration. He then moved backward and the rows behind him also moved backward till we reached the extreme (Abu Bakr said:till he reached near the women) He then moved forward and the people also moved forward along with him till he stood at his (original) place (of worship). He then completed the prayer as it was required to complete and the sun brightened and he said: O people! verily the sun and the moon are among the signs of Allah and they do not eclipse at the death of anyone among people (Abu Bakr said: On the death of any human being). So when you see anything like it (of the nature of eclipse), pray till it is bright. There is nothing which you have been promised (in the next world) but I have seen it in this prayer of mine. Hell was brought to me as you saw me moving back on account of fear lest its heat might affect me; and I saw the owner of the curved staff who dragged his intestines in the fire, and he used to steal (the belongings) of the pilgrims with his curved staff. If he (the owner of the staff) became aware, he would say: It got (accidentally) entangled in my curved staff, but if he was unaware of that, he would take that away. I also saw in it (in Hell) the owner of a cat whom she had tied and did not feed her nor set her free so that she could eat the creatures of the earth, till the cat died of starvation. Paradise was brought to me, and it was on that occasion that you saw me moving forward till I stood at my place (of worship). I stretched my hand as I wanted to catch hold of its fruits so that you may see them. Then I thought of not doing it. Nothing which you have been promised was there that I did not see in this prayer of mine
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہم سے عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ، نیز محمد بن عبداللہ نمیر نے حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ دونوں کے لفظ ملتے جلتے ہیں ۔ کہا : ہمیں میرے والد ( عبداللہ بن نمیر ) نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبدالملک نے عطاء سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ، جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیتے ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے ، سورج گرہن ہوگیا ، ( بعض ) لوگوں نے کہا : سورج کو گرہن حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موت کی بنا پر لگا ہے ۔ ( پھر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو چھ رکوعوں ، چار سجدوں کے ساتھ ( دو رکعت ) نماز پڑھائی ۔ آغاز کیاتو اللہ اکبر کہا ، پھرقراءت کی اور طویل قراءت کی ، پھر جتنا قیام کیا تھا تقریباً رکوع کیا ، پھر رکوع سے ا پنا سر اٹھایا اور پہلی قراءت سےکچھ کم قراءت کی ، پھر ( اس ) قیام جتنا رکوع کیا ، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور دوسری قراءت سے کچھ کم قراءت کی ، پھر ( اس ) قیام جتنا رکوع کیا ، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا ، پھر سجدے کے لئے جھکے اور دو سجدے فرمائے ، پھر کھڑے ہوئے اور ( اس دوسری ر کعت میں بھی ) تین رکوع کیے ، ان میں سے ہر پہلا رکوع بعد والے رکوع سے زیادہ لمباتھا اور آپ کا رکوع تقریباً سجدے کے برابر تھا ، پھرآپ پیچھے ہٹے تو آپ کے پیچھے والی صفیں بھی پیچھے ہٹ گئیں حتیٰ کہ ہم لوگ آخر ( آخری کنارے ) تک پہنچ گئے ۔ ابو بکر ( ابن ابی شیبہ ) نے کہا : حتیٰ کہ آپ عور توں کی صفوں کے قر یب پہنچ گئے ۔ پھر آپ آگے بڑھے اور آپ کے ساتھ لوگ بھی ( صفوں میں ) آگے بڑھ آئے حتیٰ کہ آپ ( واپس ) اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے پھر جب آپ نے نماز سے سلام پھیرا ، اس وقت سورج اپنی اصلی حالت پر آچکا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " لوگو!سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہی ہیں اور بلا شبہ ان دونوں کو ، لوگوں میں سے کسی کی موت پر گرہن نہیں لگتا ۔ ابو بکر ( بن ابی شیبہ ) نے " کسی بشر کی موت پر " کہا ۔ پس جب تم کوئی ایسی چیز دیکھو تو اس وقت تک نماز پڑھو جب تک کہ یہ زائل ہوجائے ، کوئی چیز نہیں جس کا تم سے وعدہ کیاگیا ہے مگر میں نے اسے اپنی اس نماز میں دیکھ لیاہے ۔ آگ ( میرے سامنے ) لائی گئی اور یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں اس ڈر سے پیچھے ہٹا ہوں کہ اس کی لپٹیں مجھ تک نہ پہنچیں ۔ یہاں تک کہ میں نے اس آگ میں مڑے ہوئے سرے والی چھڑی کے مالک کو دیکھ لیا ، وہ آگ میں اپنی انتڑیاں کھینچ رہا ہے ۔ وہ اپنی اس مڑے ہوئے سرے والی چھڑی کے زریعے سے حاجیوں کی ( چیزیں ) چوری کرتا تھا ۔ اگر اس ( کی چوری ) کا پتہ چل جاتا تو کہہ دیتا : یہ چیز میری لاٹھی کے ساتھ اٹک گئی تھی ، اور اگر پتہ نہ چلتا تووہ اسے لے جاتا ۔ یہاں تک کہ میں نے اس ( آگ ) میں بلی والی اس عورت کو بھی دیکھا جس نے اس ( بلی ) کو باندھ رکھا ، نہ خود اسے کچھ کھلایااور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے اس چھوٹے موٹے جاندار اور پرندے کھا لیتی ، حتیٰ کہ وہ ( بلی ) بھوک سے مر گئی ، پھر جنت کو ( میرے سامنے ) لایاگیا اور یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے بڑھا حتیٰ کہ میں واپس اپنی جگہ پر آکھڑا ہوا ، میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور میں چاہتا تھا کہ میں اس کے پھل میں سے کچھ لے لوں تاکہ تم اسے دیکھ سکو ، پھر مجھ پر بات کھلی کہ میں ایسا نہ کروں ، کوئی ایسی چیز نہیں جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے مگر میں نے وہ اپنی اس نماز میں دیکھ لی ہے ۔
وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ قِيَامًا طَوِيلاً يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ وَزَادَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ أَسَنَّ مِنِّي وَإِلَى الأُخْرَى هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي .
Abu Juraij narrated this hadith with the same chain of transmitters (but with the addition of these words):" It was for a long duration that he (the Holy Prophet) observed qiyam and he would then observe ruku'. (The narrator also added) I (Asma') looked at a woman who was older than I, and at another who was weaker than I
یحیٰ اموی نے کہا : ہم سے ا بن جریج نے اسی سند کے ساتھ اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ۔ ( اس میں ) انھوں نے کہا : ( آپ نے ) طویل قیام کیا ، آپ قیام کرتے ، پھر رکو ع میں چلے جاتے ۔ اور اس میں یہ اضافہ کیا : میں ( بیٹھنے کا ارادہ کرتی تو ) ایسی عورت کو دیکھنے لگتی جو مجھ سے بڑھ کر عمر رسیدہ ہوتی اور کسی دوسری کو دیکھتی جو مجھ سے زیادہ بیمار ہوتی ( اور ان سے حوصلہ پا کر کھڑی رہتی ۔)
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ، بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ مَعَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً قَدْرَ نَحْوِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلاً وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدِ انْجَلَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا ثُمَّ رَأَيْنَاكَ كَفَفْتَ . فَقَالَ " إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ " . قَالُوا بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " بِكُفْرِهِنَّ " . قِيلَ أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ قَالَ " بِكُفْرِ الْعَشِيرِ وَبِكُفْرِ الإِحْسَانِ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ " .
Ibn 'Abbas reported:There was an eclipse of the sun during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah, (ﷺ) prayed accompanied by the people. He stood for a long time, about as long as it would take to recite Surah al-Baqara; then he bowed for a long time; then he raised his head and stood for a long time, but it was less than the first qiyam. He then bowed for a long time but for a shorter while than the first. He then prostrated and then stood for a long time, but it was less than the first qiyam. He then bowed for a long time, but it was less than the first bowing. He then raised (his head) and stood for a long time, but it was less than the first qiyam. He then bowed for a long time but it was less than the first bowing. He then observed prostration, and then he finished, and the sun had cleared (by that time). He (the Holy Prophet) then said: The sun and moon are two signs from the signs of Allah. These two do not eclipse on account of the death of anyone or on account of the birth of anyone. So when you see that, remember Allah. They (his Companions) said: Messenger of Allah, we saw you reach out to something, while you were standing here, then we saw you restrain yourself. He said: I saw Paradise and reached out to a bunch of its grapes; and had I taken it you would have eaten of it as long as the world endured. I saw Hell also. No such (abominable) sight have I ever seen as that which I saw today; and I observed that most of its inhabitants were women. They said: Messenger of Allah, on what account is it so? He said: For their ingratitude or disbelief (bi-kufraihinna). It was said: Do they disbelieve in Allah? He said: (Not for their disbelief in God) but for their ingratitude to their husbands and ingratitude to kindness. If you were to treat one of them kindly for ever, but if she later saw anything (displeasing) in you, she would say: I have never seen any good in you
حفص بن میسرہ نے کہا : زید بن اسلم نے مجھے عطاء بن یسار سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی ، انھوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگ گیا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کی معیت میں لوگوں نے نماز پڑھی ۔ آپ نے بہت طویل قیام کیا ، سورہ بقرہ کے بقدر ، پھر آپ نے بہت طویل رکوع کیا ، پھر آپ نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے کم تھا ، پھر آپ نے طویل رکوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر آپ نے سجدے کیے ، پھر آپ نے طویل قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے کچھ کم تھا ، پھر آپ نے طویل ر کوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر آپ نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا اور وہ اپنے سے پہلے والے قیام سے کم تھا ، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا اور وہ پہلے کے رکوع سے کم تھا ، پھر آپ نے سجدے کیے ، پھر آپ نے سلام پھیرا تو سورج روشن ہوچکا تھا ۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : " سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیوں میں سےنشانیاں ہیں ، وہ کسی کی موت پر گرہن زدہ نہیں ہوتے اور نہ کسی کی زندگی کے سبب سے ( انھیں گرہن لگتاہے ) جب تم ( ان کو ) اس طرح دیکھ تو اللہ کا زکر کرو ( نماز پڑھو ۔ ) " لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ نے اپنے کھڑےہونے کی اس جگہ پر کوئی چیز لینے کی کوشش کی ، پھرہم نے دیکھاکہ آپ رک گئے ۔ آپ نے فرمایا : " میں نے جنت دیکھی اور میں نے اس میں سے ایک گچھہ لینا چاہا اور اگر میں اس کو پکڑ لیتا تو تم ر ہتی دنیا تک اس میں سے کھاتے رہتے ( اور ) میں نے جہنم دیکھی ، میں نے آج جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا اور میں نے اہل جہنم کی اکثریت عورتوں کی دیکھی ۔ " لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ( یہ ) کس وجہ سے؟آپ نے فرمایا : " ان کے کفر کی وجہ سے ۔ " کہا گیا : کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟آپ نے فرمایا : " رفیق زندگی کا کفران ( ناشکری ) کرتی ہیں ۔ اوراحسان کا کفران کر تی ہیں ۔ اگر تم ان میں سے کسی کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک کرتے رہو پھر وہ تم سے کسی دن کوئی ( ناگوار ) بات دیکھے تو کہہ دے گی : تم سے میں نے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ . وَعَنْ عَلِيٍّ مِثْلُ ذَلِكَ .
Ibn 'Abbas reported:When there was a solar eclipse the Messenger of Allah (way peace be upon him) observed eight ruku's and four prostrations (in two rak'ahs). This has been narrated by 'Ali also
اسماعیل ابن علیہ نے سفیان سے ، انھوں نے حبیب بن ابی ثابت سے ، انھوں نے طاوس سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب سورج کو گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سجدوں کے ساتھ آٹھ رکوع کیے ۔ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اسی کے مانند روایت کی گئی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى، - عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفٍ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ . قَالَ وَالأُخْرَى مِثْلُهَا .
Ibn 'Abbas reported:The Apostle of Allah (ﷺ) observed prayer while it was (solar) eclipse. He recited (the Qur'an in qiyam) and then bowed. He again recited and again bowed. He again recited and again bowed and again recited and again bowed, and then prostrated; and the second (rak'ah) was like this
یحییٰ نے سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں حبیب نے طاوس سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے کسوف ( کے دوران ) میں نماز پڑھائی ، قراءت کی پھر رکوع کیا ، پھر قرءات کی ، پھر رکوع کیا ، پھر قراءت کی ۔ پھر رکوع کیا ۔ پھر قراءت کی ۔ پھر رکوع کیا ۔ پھر سجدے کئے ۔ کہا : دوسری ( رکعت ) بھی اسی طرح تھی ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، - وَهُوَ شَيْبَانُ النَّحْوِيُّ - عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ح . وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، بْنُ سَلاَّمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ خَبَرِ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نُودِيَ بِـ { الصَّلاَةَ جَامِعَةً } فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ثُمَّ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ مَا رَكَعْتُ رُكُوعًا قَطُّ وَلاَ سَجَدْتُ سُجُودًا قَطُّ كَانَ أَطْوَلَ مِنْهُ .
Amr b. al-'As reported:When the sun eclipsed during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ), they (the people) were called to congregational prayers. The Messenger of Allah (ﷺ) observed two ruku's in one rak'ah. He then stood and observed two ruku's in (the second) rak'ah. The sun then became bright, and 'A'isha said; Never did I observe, ruku' and prostration longer than this (ruku' and prostration)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں گرہن ہواتو " الصلواة جامعة " ( کے الفاظ کے ساتھ ) اعلان کیاگیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کیے ، پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوگئے اور ایک رکعت میں دو رکوع کیے ، پھر سورج سے گرہن زائل کردیا گیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے نہ کبھی ایسا رکوع کیا اور نہ کبھی ایسا سجدہ کیا جو اس سے زیادہ لمبا ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَقَامَ يُصَلِّي بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ فِي صَلاَةٍ قَطُّ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ هَذِهِ الآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لاَ تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ " . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْعَلاَءِ كَسَفَتِ الشَّمْسُ وَقَالَ " يُخَوِّفُ عِبَادَهُ " .
Abu Musa reported:The sun eclipsed during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He stood in great anxiety fearing that it might be the Doomsday, till he came to the mosque. He stood up to pray with prolonged qiyam, ruku', and prostration which I never saw him doing in prayer; and then he said: These are the signs which Allah sends, not on account of the death of anyone or life of any one, but Allah sends them to frighten thereby His servants. So when you see any such thing, hasten to remember Him, supplicate Him and beg pardon from Him, and in the narration transmitted by Ibn 'Ala the words are:" The sun eclipsed"."" He frightens His servants
ابو عامر اشعری عبداللہ بن براد اور محمد بن علاء نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے برید سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو بردہ سے اور انھوں نے ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا تو آپ تیزی سے اٹھے ، آپ کو خوف لاحق ہوا کہ مبادا قیامت ( آگئی ) ہو ، یہاں تک کہ آپ مسجد میں تشریف لے آئے اور آپ کھڑے ہوئے بہت طویل قیام ، رکوع اورسجدے کے ساتھ نماز پڑھتے رہے ، میں نے کبھی آپ کو نہیں دیکھا تھا کہ کسی نماز میں ( آپ نے ) ایسا کیا ہو ، پھر آپ نے فرمایا : " یہی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے ۔ یہ کسی کی موت یا زندگی کی بناء پر نہیں ہوتیں ، بلکہ اللہ ان کو بھیجتا ہے تاکہ ان کے زریعے سے اپنے بندوں کو ( قیامت سے ) خوف دلائے ، اس لئے جب تم ان میں سے کوئی نشانی دیکھو تو جلد از جلد اس کے ذکر ، دعا اور استغفار کی طرف لپکو ، " ابن علاء کی ر وایت میں " خسفت الشمس " کے بجائے ) كسفت الشمس ( سورج کو گرہن لگا ) کے الفاظ ہیں ( معنی ایک ہی ہے ) اور انھوں نے ( يخوف بها عباده ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے کے بجائے ) يخوف عباده ( اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے ) کہا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ .
Ali b. Abu Talib reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade wearing of silk and yellow clothes, and the gold ring, and the reciting of the Qur'an in the ruku' (state of kneeling in prayer)
نافع نے ابرا ہیم بن عبد اللہ حنین سے انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قس ( علاقے ) کے بنے ہو ئے ( ریشمی کپڑے ) اور گیروے رنگ کے کپڑے پہننےسے ، سونے کی انگوٹھی پہننے سے اور رکوع میں قرآن مجید پرھنے سے منع فرما یا ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ نَهَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْقِرَاءَةِ وَأَنَا رَاكِعٌ وَعَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ وَالْمُعَصْفَرِ .
Ali b. Abu Talib reported:Allah's Apostle (ﷺ) forbade me to recite the Qur'an while I am in ruku; and the wearing of gold and clothes dyed in saffron
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابرا ہیم بن عبد اللہ بن حنین نے حدیث بیان کی ان کے والد نے انھیں حدیث سنا ئی کہ انھوں نے حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جب میں رکو ع کر رہا ہوں ۔ قرآن مجید پڑھنے سے اور ( عمومی حالت میں ) سونا اور گیروے رنگ کا لباس پہننے سے منع فرما یا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ وَعَنْ لِبَاسِ الْقَسِّيِّ وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَعَنْ لِبَاسِ الْمُعَصْفَرِ .
Ali b. Abu Talib reported:Allah's Messenger (ﷺ) forbade me to use gold rings. to wear silk clothes and to recite the Qur'an in ruku' and sajda (prostration), and to wear yellow garments
معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابرا ہیم بن عبد اللہ حنین سے انھوں نے اپنے والد حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننےسے ریشم کے کپڑے پہننے سے رکو ع اور سجود میں قرآن مجید پڑھنے سے اور گیروے رنگ کا لبا س پہننے سے منع فرما یا ۔
A detailed scholarly analysis for this topic is not yet available. Get in touch to request one.