Minor Sins
الصغائر
In Islamic tradition, sins are broadly categorized into major (*kabā'ir*) and minor (*ṣaghā'ir*) categories, a distinction that speaks to Allah's profound mercy and justice. Minor sins, or *ṣaghā'ir*, refer to transgressions that are generally considered less severe than major sins, which often carry explicit warnings or prescribed punishments in the Quran and Sunnah. The Quran beautifully acknowledges this distinction, promising believers: [“If you avoid the major sins which you are forbidden, We will remove from you your lesser sins and admit you to a noble entrance [into Paradise].”] This verse offers immense hope and encourages believers to strive diligently to avoid grave transgressions. While seemingly "minor," Islamic teachings emphasize that these sins should not be taken lightly. Neglecting them can lead to accumulation, making them weighty over time, or they can even pave the way to major sins. The Prophet Muhammad (peace be upon him) reportedly warned against underestimating minor sins, likening them to small pebbles that, when gathered, can form a significant mound. Fortunately, Allah's mercy is vast; many minor sins are believed to be expiated through sincere repentance and consistent good deeds, a concept affirmed by verses like [“And those who, when they commit an immorality or wrong themselves, remember Allah and ask forgiveness for their sins — and who can forgive sins except Allah? — and do not persistently repeat what they have done while they know.”] This approach encourages continuous self-reflection and a hopeful pursuit of spiritual purity, reminding us that Allah desires ease for His servants.
Quran 1 verse
إِن تَجْتَنِبُوا۟ كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا
In tajtaniboo kabaaa'ira maa tunhawna 'anhu nukaffir 'ankum saiyiaatikum wa nudkhilkum mudkhalan kareemaa
If you avoid the major sins which you are forbidden, We will remove from you your lesser sins and admit you to a noble entrance [into Paradise].
اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے
Commentary
Hadith 5 traditions
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمْ أَرَ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ. حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ ذَلِكَ لاَ مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ، وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ كُلَّهُ وَيُكَذِّبُهُ ".
Narrated Ibn `Abbas:I have not seen a thing resembling 'lamam' (minor sins) than what Abu Huraira 'narrated from the Prophet who said "Allah has written for Adam's son his share of adultery which he commits inevitably. The adultery of the eyes is the sight (to gaze at a forbidden thing), the adultery of the tongue is the talk, and the inner self wishes and desires and the private parts testify all this or deny it
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن طاؤس نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے زیادہ صغیرہ گناہوں سے مشابہ میں نے اور کوئی چیز نہیں دیکھی۔ ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جو باتیں بیان کی ہیں وہ مراد ہیں ) ۔ مجھ سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ابن طاؤس نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے کوئی چیز صغیرہ گناہوں سے مشابہ اس حدیث کے مقابلہ میں نہیں دیکھی جسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے معاملہ میں زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے جس سے وہ لامحالہ دوچار ہو گا پس آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، دل کا زنا یہ ہے کہ وہ خواہش اور آرزو کرتا ہے پھر شرمگاہ اس خواہش کو سچا کرتی ہے یا جھٹلا دیتی ہے۔
حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ ذَلِكَ لاَ مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ، وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ، وَيُكَذِّبُهُ ". وَقَالَ شَبَابَةُ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Ibn `Abbas:I did not see anything so resembling minor sins as what Abu Huraira said from the Prophet, who said, "Allah has written for the son of Adam his inevitable share of adultery whether he is aware of it or not: The adultery of the eye is the looking (at something which is sinful to look at), and the adultery of the tongue is to utter (what it is unlawful to utter), and the innerself wishes and longs for (adultery) and the private parts turn that into reality or refrain from submitting to the temptation
مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ابن طاؤس نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ یہ جو «لمم» کا لفظ قرآن میں آیا ہے تو میں «لمم» کے مشابہ اس بات سے زیادہ کوئی بات نہیں جانتا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے زنا کا کوئی نہ کوئی حصہ لکھ دیا ہے جس سے اسے لامحالہ گزرنا ہے، پس آنکھ کا زنا ( غیرمحرم کو ) دیکھنا ہے، زبان کا زنا غیرمحرم سے گفتگو کرنا ہے، دل کا زنا خواہش اور شہوت ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق کر دیتی ہے یا اسے جھٹلا دیتی ہے۔ اور شبابہ نے بیان کیا کہ ہم سے ورقاء نے بیان کیا، ان سے ابن طاؤس نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر اس حدیث کو نقل کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولاً الْجَنَّةَ وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا رَجُلٌ يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ وَارْفَعُوا عَنْهُ كِبَارَهَا . فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ ذُنُوبِهِ فَيُقَالُ عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا وَعَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا . فَيَقُولُ نَعَمْ . لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنْكِرَ وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كِبَارِ ذُنُوبِهِ أَنْ تُعْرَضَ عَلَيْهِ . فَيُقَالُ لَهُ فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً . فَيَقُولُ رَبِّ قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لاَ أَرَاهَا هَا هُنَا " . فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ .
Abu Dharr reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:I know the last of the inhabitants of Paradise to enter it and the last of the inhabitants of Hell to come out of it. He is a man who would be brought on the Day of Resurrection and it will be said: Present his minor sins to him, and withhold from him his serious sins. Then the minor sins would be placed before him, and it would be said: On such and such a day you did so and so and on such and such a day you did so and so. He would say: Yes. It will not be possible for him to deny, while he would be afraid lest serious sins should be presented before him. It would be said to him: In place of every evil deed you will have a good deed. He will say: My Lord! I have done things I do not see here. I indeed saw the Messenger of Allah laugh till his front teeth were exposed
محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے معرور بن سوید سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نےکہا کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ میں اہل جنت میں سے سب کے بعد جنت میں جانے والے اور اہل دوزخ میں سب سے آخر میں اس سے نکلنے والے کو جانتا ہوں ، وہ ایک آدمی ہے جسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا : اس کے سامنے اس کے چھوٹے گنا ہ پیش کرو اور اس کے بڑے گناہ اٹھا رکھو ( ایک طرف ہٹادو ۔ ) تو اس کے چھوٹے گناہ اس کے سامنے لائے جائیں گے اور کہا جائے گا : فلاں فلاں دن تو نے فلاں فلاں کام کیے اور فلاں فلاں دن تو نے فلاں فلاں کام کیے ۔ وہ کہے گا : ہاں ، وہ انکار نہیں کر سکے گا اور وہ اپنے بڑے گناہوں کے پیش ہونے سے خوفزدہ ہوگا ، ( اس وقت ) اسے کہا جائے گا : تمہارے لیے ہر برائی کے عوض ایک نیکی ہے ۔ تو وہ کہے گا : اے میرے رب ! میں نے بہت سے ایسے ( برے ) کام کیے جنہیں میں یہاں نہیں دیکھ رہا ۔ ‘ ‘ میں ( ابو ذر ) نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک نمایاں ہو گئے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، يُحَدِّثُ أَبَا بُرْدَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فِي إِمَارَةِ بِشْرٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى فَالصَّلوَاتُ الْمَكْتُوبَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ " . هَذَا حَدِيثُ ابْنِ مُعَاذٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ غُنْدَرٍ فِي إِمَارَةِ بِشْرٍ وَلاَ ذِكْرُ الْمَكْتُوبَاتِ .
Jami' b. Shaddad reported:I heard Humran b. Aban narrate to Abu Burda in this very mosque during the governorship of Bishr that 'Uthman b. Alfan said: The Messenger of Allah (ﷺ) observed: He who completed ablution as Allah, the Exalted, enjoined upon him, his obligatory prayers would be explatious (for his minor sins that he would commit) during (the interval) between them. This hadith is transmitted by Ibn Mu'adh, and in the hadith narrated by Ghundar, the words" during the governorship of Bishr" are omitted and there is no mention of the obligatory prayers
عبید اللہ بن معاذ نے اپنےوالد سے اور محمد بن مثنیٰ اورابن بشار نے محمد بن جعفر ( غندر ) سےروایت کی ، ان دونوں ( معاذ بن اور ابن جعفر ) نے کہا : ہمیں شعبہ نے جامع ابن شداد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے حمران بن ابان سے سنا ، وہ بشر کے دور امارات میں اس مسجد میں ابو بردہ رضی اللہ عنہ کو بتا رہے تھے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے اس طرح وضو کومکمل کیا جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے تو ( اس کی ) فرض نمازیں ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوں گی جو ان کے درمیان سرزد ہو ئے ۔ ‘ ‘ یہ ابن معاذ کی روایت ہے ، غندر کی حدیث میں بشر کے دور حکومت اور فرض نمازوں کا ذکر نہیں ہے ۔ [مخرمہ کےوالد بکیر ( بن عبد اللہ ) نے حمران ( مولیٰ عثمان ) سے روایت کی کہ ایک دن حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بہت اچھی طرح وضو کیا ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کودیکھا ، آپ نے بہت اچھی طرح وضوکیا ، پھر فرمایا : ’’جس نے اس طرح وضو کیا ، پھر مسجدکی طرف نکلا ، نماز ہی نے اسے ( جانے کے لیے ) کھڑا کیا تو اس کے گزرے ہوئے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبَانَ - قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ عُمَرَ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ مَا أَسْأَلَكُمْ عَنِ الصَّغِيرَةِ وَأَرْكَبَكُمْ لِلْكَبِيرَةِ سَمِعْتُ أَبِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ الْفِتْنَةَ تَجِيءُ مِنْ هَا هُنَا " . وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ " مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ " . وَأَنْتُمْ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ وَإِنَّمَا قَتَلَ مُوسَى الَّذِي قَتَلَ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ خَطَأً فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ { وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنَاكَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا} قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ سَالِمٍ لَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ .
Ibn Fudail reported on the authority of his father that he heard Salim b. `Abdullah b. `Umar as saying:O people of Iraq, how strange it is that you ask about the minor sins but commit major sins? I heard from my father `Abdullah b. `Umar, narrating that he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying while pointing his hand towards the east: Verily, the turmoil would come from this side, from where appear the horns of Satan and you would strike the necks of one another; and Moses killed a person from among the people of Pharaoh unintentionally and Allah, the Exalted and Glorious, said: "You killed a person but We relieved you from the grief and tried you with (many a) trial" (xx. 40). Ahmad b. `Umar reported this hadith from Salim, but he did not make a mention of the words: "I heard
عبداللہ بن عمر بن ابان ، واصل بن عبدالاعلیٰ اور احمد بن عمر وکیعی نے ہمیں حدیث بیان کی ، الفاظ ابن ابان کے ہیں ۔ انھوں نے کہا : ہمیں ابن فضیل نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے سالم بن عبداللہ بن عمرسے سنا ، کہہ رہے تھے : " اے عراق والو! میں تم سے چھوٹے گناہ نہیں پوچھتا نہ اس کو پوچھتا ہوں جو کبیرہ گناہ کرتا ہو میں نے اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ فتنہ ادھر سے آئے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا ، جہاں شیطان کے دونوں سینگ نکلتے ہیں ۔ اور تم ایک دوسرے کی گردن مارتے ہو ( حالانکہ مومن کی گردن مارنا کتنا بڑا گناہ ہے ) اور موسیٰ علیہ السلام فرعون کی قوم کا ایک شخص غلطی سے مار بیٹھے تھے ( نہ بہ نیت قتل کیونکہ گھونسے سے آدمی نہیں مرتا ) ، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”تو نے ایک خون کیا ، پھر ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور تجھ کو آزمایا جیسا آزمایا تھا“ ۔
A detailed scholarly analysis for this topic is not yet available. Get in touch to request one.