Sahih al-Bukhari 65:52sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ كَانَتْ لِي أُخْتٌ تُخْطَبُ إِلَىَّ. وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ،. حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ أُخْتَ، مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا، فَتَرَكَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، فَخَطَبَهَا فَأَبَى مَعْقِلٌ، فَنَزَلَتْ {فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ}.
Narrated Al-Hasan:The sister of Ma'qil bin Yasar was divorced by her husband who left her till she had fulfilled her term of 'Iddat (i.e. the period which should elapse before she can Remarry) and then he wanted to remarry her but Ma'qil refused, so this Verse was revealed:-- "Do not prevent them from marrying their (former) husbands
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا، کہا ہم سے عباد بن راشد نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میری ایک بہن تھیں۔ ان کو ان کے اگلے خاوند نے نکاح کا پیغام دیا۔ ( دوسری سند ) اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے امام حسن بصری نے اور ان سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ ( تیسری سند ) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا اور ان سے امام حسن بصری نے کہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی تھی لیکن جب عدت گزر گئی اور طلاق بائن ہو گئی تو انہوں نے پھر ان کے لیے پیغام نکاح بھیجا۔ معقل رضی اللہ عنہ نے اس پر انکار کیا، مگر عورت چاہتی تھی تو یہ آیت نازل ہوئی «فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن» کہ ”تم انہیں اس سے مت روکو کہ وہ اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کریں۔“
Sahih al-Bukhari 67:66sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، {فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ} قَالَ حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ قَالَ زَوَّجْتُ أُخْتًا لِي مِنْ رَجُلٍ فَطَلَّقَهَا، حَتَّى إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا جَاءَ يَخْطُبُهَا، فَقُلْتُ لَهُ زَوَّجْتُكَ وَفَرَشْتُكَ وَأَكْرَمْتُكَ، فَطَلَّقْتَهَا، ثُمَّ جِئْتَ تَخْطُبُهَا، لاَ وَاللَّهِ لاَ تَعُودُ إِلَيْكَ أَبَدًا، وَكَانَ رَجُلاً لاَ بَأْسَ بِهِ وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُرِيدُ أَنَّ تَرْجِعَ إِلَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الآيَةَ {فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ} فَقُلْتُ الآنَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ.
Narrated Al-Hasan:concerning the Verse: 'Do not prevent them' (2.232) Ma'qil bin Yasar told me that it was revealed in his connection. He said, "I married my sister to a man and he divorced her, and when her days of 'Idda (three menstrual periods) were over, the man came again and asked for her hand, but I said to him, 'I married her to you and made her your bed (your wife) and favored you with her, but you divorced her. Now you come to ask for her hand again? No, by Allah, she will never go back to you (again)!' That man was not a bad man and his wife wanted to go back to him. So Allah revealed this Verse: 'Do not prevent them.' (2.232) So I said, 'Now I will do it (let her go back to him), O Allah's Messenger (ﷺ)."So he married her to him again
ہم سے احمد بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد حفص بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے حسن بصری نے آیت «فلا تعضلوهن» کی تفسیر میں بیان کیا کہ مجھ سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی میں نے اپنی ایک بہن کا نکاح ایک شخص سے کر دیا تھا۔ اس نے اسے طلاق دے دی لیکن جب عدت پوری ہوئی تو وہ شخص ( ابوالبداح ) میری بہن سے پھر نکاح کا پیغام لے کر آیا۔ میں نے اس سے کہا کہ میں نے تم سے اس کا ( اپنی بہن ) کا نکاح کیا اسے تمہاری بیوی بنایا اور تمہیں عزت دی لیکن تم نے اسے طلاق دیدی اور اب پھر تم نکاح کا پیغام لے کر آئے ہو۔ ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اب میں تمہیں کبھی اسے نہیں دوں گا۔ وہ شخص ابوالبداح کچھ برا آدمی نہ تھا اور عورت بھی اس کے یہاں واپس جانا چاہتی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فلا تعضلوهن» کہ ”تم عورتوں کو مت روکو“ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اب میں کر دوں گا۔ بیان کیا کہ پھر انہوں نے اپنی بہن کا نکاح اس شخص سے کر دیا۔
Sahih Muslim 17:42sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ، الأَعْلَى عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، أَنَّ أَبَا عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيَّ، حَدَّثَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ يَوْمَ حُنَيْنٍ سَرِيَّةً . بِمَعْنَى حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْهُنَّ فَحَلاَلٌ لَكُمْ وَلَمْ يَذْكُرْ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported that Allah's Apostle (ﷺ) sent a small army. The rest of the hadith is the same except this that he said:Except what your right hands possess out of them are lawful for you; and he did not mention" when their 'idda period comes to an end
عبدالاعلی نے ہمیں سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے ابوخلیل سے روایت کی کہ ابوعلقمہ ہاشمی نے حدیث بیان کی ، انہیں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک سریہ بھیجا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) یزید بن زریع کی حدیث کے ہم معنی ہے لیکن انہوں نے کہا : سوائے ان ( لونڈیوں ) کے جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہوں ، وہ تمہارے لیے حلال ہیں ۔ اور انہوں نے " جب ان کی عدت پوری ہو جائے " کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔ ( اس سریہ میں جو کنیزیں ہاتھ آئیں یہ واقعہ ان کے بارے میں ہے)
Sahih Muslim 18:45sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ، طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلُهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَىْءٍ . فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ " . فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ " تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي " . قَالَتْ فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلاَ يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتَقِهِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لاَ مَالَ لَهُ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ " . فَكَرِهْتُهُ ثُمَّ قَالَ " انْكِحِي أُسَامَةَ " . فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ .
Fatima bint Qais reported that Abu 'Amr b. Hafs divorced her absolutely when he was away from home, and he sent his agent to her with some barley. She was displeased with him and when he said:I swear by Allah that you have no claim on us. she went to Allah's Messenger (ﷺ) and mentioned that to him. He said: There is no maintenance due to you from him, and he commanded her to spend the 'Idda in the house of Umm Sharik, but then said: That is a woman whom my companions visit. So better spend this period in the house of Ibn Umm Maktum, for he is a blind man and yon can put off your garments. And when the 'Idda is over, inform me. She said: When my period of 'Idda was over, I mentioned to him that Mu'awiya b. Abu Sufyan and Jahm had sent proposal of marriage to me, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: As for Abu Jahm, he does not put down his staff from his shoulder, and as for Mu'awiya, he is a poor man having no property; marry Usama b. Zaid. I objected to him, but he again said: Marry Usama; so I married him. Allah blessed there in and I was envied (by others)
اسود بن سفیان کے مولیٰ عبداللہ بن یزید نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ ( حتمی ، تیسری طلاق ) دے دی ، اور وہ خود غیر حاضر تھے ، ان کے وکیل نے ان کی طرف سے کچھ جَو ( وغیرہ ) بھیجے ، تو وہ اس پر ناراض ہوئیں ، اس ( وکیل ) نے کہا : اللہ کی قسم! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، اور یہ بات آپ کو بتائی ۔ آپ نے فرمایا : " اب تمہارا خرچ اس کے ذمے نہیں ۔ " اور آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں عدت گزاریں ، پھر فرمایا : " اس عورت کے پاس میرے صحابہ آتے جاتے ہیں ، تم ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزر لو ، وہ نابینا آدمی ہیں ، تم اپنے ( اوڑھنے کے ) کپڑے بھی اتار سکتی ہو ۔ تم جب ( عدت کی بندش سے ) آزاد ہو جاؤ تو مجھے بتانا ۔ " جب میں ( عدت سے ) فارغ ہوئی ، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم رضی اللہ عنہم دونوں نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوجہم تو اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں اتارتا ، اور رہا معاویہ تو وہ انتہائی فقیر ہے ، اس کے پاس کوئی مال نہیں ، تم اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لو ۔ " میں نے اسے ناپسند کیا ، آپ نے پھر فرمایا : " اسامہ سے نکاح کر لو ۔ " تو میں نے ان سے نکاح کر لیا ، اللہ نے اس میں خیر ڈال دی اور اس کی وجہ سے مجھ پر رشک کیا جانے لگا
Sahih Muslim 18:50sahih
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاَثِ تَطْلِيقَاتٍ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَسْتَفْتِيهِ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى فَأَبَى مَرْوَانُ أَنْ يُصَدِّقَهُ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا وَقَالَ عُرْوَةُ إِنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ.
Fatima bint Qais (Allah be pleased with her) reported that she had been married to Abu 'Amr b. Hafs b. al-Mughira and he divorced her with three pronouncements. She stated that she went to Allah's Messenger (ﷺ) asking him about abandoning that house. He commanded her to move to the house of Ibn Umm Maktum, the blind. Marwan refused to testify the divorced woman abandoning her house (before the 'Idda was over). 'Urwa said that 'A'isha objected to (the words of) Fatima bint Qais
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے انہیں خبر دی کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ وہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں ، انہوں نے اسے تینوں طلاقوں میں سے آخری طلاق بھی دے دی ، ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے گھر سے باہر نکلنے کے بارے میں فتویٰ پوچھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ نابینا ( صحابی ) ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر منتقل ہو جائیں ۔ مروان نے ( جب وہ مدینے کا عامل تھا ) اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ مطلقہ عورت کے اپنے گھر سے نکلنے کے بارے میں ان کی ( بات کی ) تصدیق کرے ۔ اور عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے سامنے اس بات کو قبول کرنے سے انکار کر دیا
Sahih Muslim 18:53sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، وَحُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ، وَأَشْعَثُ، وَمُجَالِدٌ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ وَدَاوُدُ كُلُّهُمْ عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهَا فَقَالَتْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ . فَقَالَتْ فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ - قَالَتْ - فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةً وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ .
Sha'bi reported:I visited Fatima bint Qais and asked her about the verdict of Allah's Messenger (ﷺ) about (board and lodging during the 'Idda) and she said that her husband divorced her with an irrevocable divorce. She (further. said): I contended with him before Allah's Messerger (ﷺ) about lodging and maintenance allowance, and she said: He did not provide me with any lodging or maintenance allowance, and he commanded me to spend the 'Idda in the house of Ibn Umm Maktum
زہیر بن حرب نے مجھے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ہشیم نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں سیار ، حصین ، مغیرہ ، اشعث ، مجالد ، اسماعیل بن ابی خالد اور داود سب نے شعبی سے خبر دی ۔ ۔ البتہ داود نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ انہوں نے کہا : میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے متعلق دریافت کیا جو ان کے بارے میں تھا ۔ انہوں نے کہا : ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے دیں ، کہا : تو میں رہائش اور خرچ کے لیے اس کے ساتھ اپنا جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی ۔ کہا : تو آپ نے مجھے رہائش اور خرچ ( کا حق ) نہ دیا ، اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنی عدت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر گزاروں
Sahih Muslim 18:55sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، أَبُو الْحَكَمِ حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَأَتْحَفَتْنَا بِرُطَبِ ابْنِ طَابٍ وَسَقَتْنَا سَوِيقَ سُلْتٍ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْمُطَلَّقَةِ، ثَلاَثًا أَيْنَ تَعْتَدُّ قَالَتْ طَلَّقَنِي بَعْلِي ثَلاَثًا فَأَذِنَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَعْتَدَّ فِي أَهْلِي
Sha'bi reported:We visited Fatima bint Qais and she served us fresh dates and a drink of barley flour, and I asked her: Where should a woman who has been divorced by three pronouncements, spend the period of her 'Idda. She said: My husband divorced me with three pronouncements, and Allah's Apostle (ﷺ) permitted me to spend my 'Idda period with my family (with my parents)
قرہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں سیار ابوالحکم نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، انہوں نے ابن طاب کی تازہ کھجوروں سے ہماری ضیافت کی ، اور ہمیں عمدہ جَو کے ستو پلائے ، اس کے بعد میں نے ان سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا جسے تین طلاقیں دی گئی ہوں کہ وہ عدت کہاں گزارے گی؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دی کہ میں اپنے گھرانے میں عدت گزاروں ۔ ( ابن مکتوم ان کے عزیز تھے)
Sahih Muslim 18:57sahih
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ، رُزَيْقٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلاَثًا فَأَرَدْتُ النُّقْلَةَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَاعْتَدِّي عِنْدَهُ " .
Fatima bint Qais (Allah be pleased with her) reported:My husband divorced me with three pronouncements. I decided to move (from his house to another place). So I came to Allah's Messenger (ﷺ), and he said: Move to the house of your cousin 'Amr b. Umm Maktum and spend your period of 'Idda there
یحییٰ بن آدم نے ہمیں خبر دی ، ( کہا : ) عمار بن رُزیق نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دیں تو میں نے ( وہاں سے ) نقل مکانی کا ارادہ کیا ۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، تو آپ نے فرمایا : " تم اپنے چچا زاد عمرو بن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جاؤ ، اور ان کے ہاں عدت گزارو
Sahih Muslim 18:60sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي، الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ الْعَدَوِيِّ قَالَ سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، تَقُولُ إِنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلاَثًا فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةً قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي " . فَآذَنْتُهُ فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ وَأَبُو جَهْمٍ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لاَ مَالَ لَهُ وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ وَلَكِنْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ " . فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا أُسَامَةُ أُسَامَةُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " طَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ خَيْرٌ لَكِ " . قَالَتْ فَتَزَوَّجْتُهُ فَاغْتَبَطْتُ .
Fatima bint Qais (Allah be pleased with her) reported that her husband divorced her with three, pronouncements and Allah's Messenger (ﷺ) made no provision for her lodging and maintenance allowance. She (further said):Allah's Messenger (ﷺ) said to me: When your period of 'Idda is over, inform me. So I informed him. (By that time) Mu'awiya, Abu Jahm and Usama b. Zaid had given her the proposal of marriage. Allah's Messenger (ﷺ) said: So far as Mu'awiya is concerned, he is a poor man without any property. So far as Abu Jahm is concerned, he is a great beater of women, but Usama b. Zaid... She pointed with her hand (that she did not approve of the idea of marrying) Usama. But Allah's Messenger (may peace be upon himn) said: Obedience to Allah and obedience to His Messenger is better for thee. She said: So I married him, and I became an object of envy
وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے ابوبکر بن ابوجہم بن سخیر عدوی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رہائش دی نہ خرچ ۔ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : " جب ( عدت سے ) آزاد ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا " سو میں نے آپ کو اطلاع دی ۔ معاویہ ، ابوجہم اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے ان کی طرف پیغام بھیجا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " معاویہ تو فقیر ہے اس کے پاس مال نہیں ہے ، اور رہا ابوجہم تو وہ عورتوں کو بہت مارنے والا ہے ، البتہ اسامہ بن زید ہے ۔ " انہوں نے ( ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ) ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا : اسامہ! اسامہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا : " اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے بہتر ہے ۔ " کہا : تو میں نے ان سے شادی کر لی ، اس کے بعد مجھ پر رشک کیا جانے لگا
Sahih Muslim 18:61sahih
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ، أَبِي الْجَهْمِ قَالَ سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، تَقُولُ أَرْسَلَ إِلَىَّ زَوْجِي أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِطَلاَقِي وَأَرْسَلَ مَعَهُ بِخَمْسَةِ آصُعِ تَمْرٍ وَخَمْسَةِ آصُعِ شَعِيرٍ فَقُلْتُ أَمَا لِي نَفَقَةٌ إِلاَّ هَذَا وَلاَ أَعْتَدُّ فِي مَنْزِلِكُمْ قَالَ لاَ . قَالَتْ فَشَدَدْتُ عَلَىَّ ثِيَابِي وَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " كَمْ طَلَّقَكِ " . قُلْتُ ثَلاَثًا . قَالَ " صَدَقَ لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ . اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ تُلْقِي ثَوْبَكِ عِنْدَهُ فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ فَآذِنِينِي " . قَالَتْ فَخَطَبَنِي خُطَّابٌ مِنْهُمْ مُعَاوِيَةُ وَأَبُو الْجَهْمِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مُعَاوِيَةَ تَرِبٌ خَفِيفُ الْحَالِ وَأَبُو الْجَهْمِ مِنْهُ شِدَّةٌ عَلَى النِّسَاءِ - أَوْ يَضْرِبُ النِّسَاءَ أَوْ نَحْوَ هَذَا - وَلَكِنْ عَلَيْكِ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ " .
Fatima bint Qais (Allah be pleased with her) reported:My husband Abu 'Amr b. Hafs b. al-Mughira sent 'Ayyish b. Abu Rabi'a to me with a divorce, and he also sent through him five si's of dates and five si's of barley. I said: Is there no maintenance allowance for me but only this, and I cannot even spend my 'Idda period in your house? He said: No. She said: I dressed myself and came to Allah's Messenger (ﷺ). He said: How many pronouncements of divorce have been made for you? I said: Three. He said what he ('Ayyish b. Abu Rabi'a) had stated was true. There is no maintenance allowance for you. Spend 'Idda period in the house of your cousin, Ibn Umm Maktum. He is blind and you can put off your garment in his presence. And when you have spent your Idda period, you inform me. She said: Mu'awiya and Abu'l-Jahm (Allah be pleased with them) were among those who had given me the proposal of marriage. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Mu'awiya is destitute and in poor condition and Abu'l-Jahm is very harsh with women (or he beats women, or like that), you should take Usama b. Zaid (as your husband)
عبدالرحمٰن نے ہمیں سفیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوبکر بن ابی جہم سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں : میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ نے عیاش بن ابی ربیعہ کو میری طلاق کا پیغام دے کر بھیجا اور اس کے ساتھ پانچ صاع کھجوریں اور پانچ صاع جَو بھی بھیجے ۔ میں نے کہا : کیا میرے لیے صرف یہی خرچ ہے؟ کیا میں تم لوگوں کے گھر میں عدت نہیں گزاروں گی؟ اس نے جواب دیا : نہیں ۔ انہوں نے کہا : میں نے اپنے کپڑے سمیٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے پوچھا : " وہ تمہیں کتنی طلاقیں دے چکے ہیں؟ " میں نے جواب دیا : تین ۔ آپ نے فرمایا : " اس نے سچ کہا ، تمہارے لیے خرچ نہیں ہے ۔ اپنے چچا زاد عمرو بن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو ، وہ نابینا ہیں تم ان کے ہاں اپنا اوڑھنے کا کپڑا اتار سکو گی ۔ جب تمہاری عدت ختم ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا ۔ " انہوں نے ( آکر ) کہا : مجھے کئی لوگوں نے نکاح کا پیغام بھیجا ہے ، ان میں معاویہ اور ابوجہم بھی ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " معاویہ تو فقیر اور مفلوک الحال ہے ، اور رہے ابوجہم تو وہ عورتوں پر بہت سختی کرتے ہیں ۔ ۔ یا وہ عورتوں کو مارتے ہیں ، یا اس طرح کی کوئی اور بات کہی ۔ ۔ البتہ تم اسامہ بن زید کو قبول کر لو
Sahih Muslim 18:69sahih
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ طُلِّقَتْ خَالَتِي فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " بَلَى فَجُدِّي نَخْلَكِ فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا " .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported:My maternal aunt was divorced, and she intended to pluck her dates. A person scolded her for having come out (during the period of 'Idda). She came to Allah's Prophet (may peace be upon him.) and he said: Certainly you can pluck (dates) from your palm trees, for perhaps you may give charity or do an act of kindness
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میری خالہ کو طلاق ہو گئی ، انہوں نے ( دورانِ عدت ) اپنی کھجوروں کا پھل توڑنے کا ارادہ کیا ، تو ایک آدمی نے انہیں ( گھر سے ) باہر نکلنے پر ڈانٹا ۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تو آپ نے فرمایا : " کیوں نہیں ، اپنی کھجوروں کا پھل توڑو ، ممکن ہے کہ تم ( اس سے ) صدقہ کرو یا کوئی اور اچھا کام کرو
Sahih Muslim 18:70sahih
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالَ حَرْمَلَةُ حَدَّثَنَا وَقَالَ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، - حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَاهُ، كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ أَنْ يَدْخُلَ، عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الأَسْلَمِيَّةِ فَيَسْأَلَهَا عَنْ حَدِيثِهَا وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ اسْتَفْتَتْهُ فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ أَنَّ سُبَيْعَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ ابْنِ خَوْلَةَ وَهُوَ فِي بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَىٍّ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهْىَ حَامِلٌ فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ - رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ - فَقَالَ لَهَا مَا لِي أَرَاكِ مُتَجَمِّلَةً لَعَلَّكِ تَرْجِينَ النِّكَاحَ إِنَّكِ وَاللَّهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ . قَالَتْ سُبَيْعَةُ فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ جَمَعْتُ عَلَىَّ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَفْتَانِي بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي وَأَمَرَنِي بِالتَّزَوُّجِ إِنْ بَدَا لِي . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَلاَ أَرَى بَأْسًا أَنْ تَتَزَوَّجَ حِينَ وَضَعَتْ وَإِنْ كَانَتْ فِي دَمِهَا غَيْرَ أَنْ لاَ يَقْرَبُهَا زَوْجُهَا حَتَّى تَطْهُرَ .
Ubaidullah b. 'Abdullah b. 'Utba (b. Mas'ud) reported that his father wrote to Umar b. 'Abdullah b al Arqam al-Zuhri that he would go to Subai'ah bint al-Hirith al-Aslamiyya (Allah be pleased with her) and ask her about a verdict from him which Allah's Messenger (ﷺ) gave her when she had asked that from him (in regard to the termination of 'Idda at the birth of a child) 'Umar b. Abdullah wrote to 'Abdullah b. 'Utba informing him that Subai'ah had told him that she had been married to Sa'd b. Khaula and he belonged to the tribe of Amir b. Lu'ayy, and was one of those who participated in the Battle of Badr, and he died in the Farewell Pilgrimage and she had been in the family way at that time. And much time had not elapsed that she gave birth to a child after his death and when she was free from the effects of childbirth she embellished herself for those who had to give proposals of marriage. Abd al-Sunabil b. Ba'kak (from Banu 'Abd al-Dar) came to her and said:What is this that I see you embellished; perhaps you are inclined to marry, By Allah, you cannot marry unless four months and ten days (of 'Idda are passed). When he said that. I dressed myself, and as it was evening I came to Allah's Messenger (ﷺ) and asked him about it, and he gave me a religious verdict that I was allowed to marry when I had given birth to a child and asked me to marry if I so liked. Ibn Shihab said: I do not find any harm fur her in marrying when she has given birth to a child even when she is bleeding (after the birth of the child) except that her husband should not go near her until she is purified
ابن شہاب سے روایت ہے ، ( انہوں نے کہا : ) مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو حکم دیتے ہوئے لکھا کہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں ، اور ان سے ان کے واقعے کے بارے میں اور ان کے فتویٰ پوچھنے پر جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا اس کے بارے میں پوچھیں ۔ چنانچہ عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کو خبر دیتے ہوئے لکھا کہ سبیعہ نے انہیں بتایا ہے کہ وہ سعد بن خولہ کی بیوی تھیں ، وہ بنی عامر بن لؤی میں سے تھے اور وہ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے تھے ۔ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر ، فوت ہو گئے تھے جبکہ وہ حاملہ تھیں ۔ ان کی وفات کے بعد زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ انہوں نے بچے کو جنم دیا ۔ جب وی اپنے نفاس سے پاک ہوئیں تو انہوں نے نکاح کا پیغام دینے والوں کے لیے ( کہ انہیں ان کی عدت سے فراغت کا پتہ چل جائے کچھ ) بناؤ سنگھار کیا ۔ بنو عبدالدار کا ایک آدمی ۔ ۔ ابوالسنابل بن بعکک ۔ ۔ ان کے ہاں آیا تو ان سے کہا : کیا بات ہے میں آپ کو بنی سنوری دیکھ رہا ہوں؟ شاید آپ کو نکاح کی امید ہے؟ اللہ کی قسم! آپ نکاح نہیں کر سکتیں حتی کہ آپ پر چار مہینے دس دن گزر جائیں ۔ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے کہا : جب اس نے مجھے یہ بات کہی تو شام کے وقت میں نے اپنے کپڑے سمیٹے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس کے بارے میں دریافت کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فتویٰ دیا کہ میں اسی وقت حلال ہو چکی ہوں جب میں نے بچہ جنا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، اگر میں مناسب سمجھوں تو مجھے شادی کرنے کا حکم دیا ۔ ابن شہاب نے کہا : میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ وضع حمل کے ساتھ ہی ، چاہے وہ اپنے ( نفاس کے ) خون میں ہو ، عورت نکاح کر لے ، البتہ اس کا شوہر اس کے پاک ہونے تک اس کے قریب نہ جائے
Sahih Muslim 18:71sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَابْنَ، عَبَّاسٍ اجْتَمَعَا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُمَا يَذْكُرَانِ الْمَرْأَةَ تُنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِدَّتُهَا آخِرُ الأَجَلَيْنِ . وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَدْ حَلَّتْ . فَجَعَلاَ يَتَنَازَعَانِ ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي - يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ - فَبَعَثُوا كُرَيْبًا - مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ فَجَاءَهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ إِنَّ سُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ وَإِنَّهَا ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ .
Abu Salama b. 'Abd al-Rahman and Ibn 'Abbas. (Allah be pleased with them) got together in the house of Abu Huraira (Allah be pleased with him) and began to discuss about the woman who gave birth to a child a few nights after the death of her husband. Ibn 'Abbas (Allah be pleased with then) ) said:Her 'Idda is that period which is longer of the two (between four months and ten days and the birth of the child, whichever is longer). AbuSalama, however said: Her period of 'Idda is over (with the birth of the child), and they were contending with each other over this issue, whereupon Abu Huraira (Allah be pleased with him) said: I subscribe (to the view) held by my nephew (i. e. Abu Salama). They sent Kuraib (the freed slave of Ibn 'Abbas) to Umm Salama to ask her about it. He came (back) to them and informed them that Umm Salama (Allah be pleased with her) said that Subai'ah al-Aslamiyya gave birth to a child after the death of her husband when the few flights (had hardly) passed and she made mention of that to Allah's Messenger (ﷺ) and he commanded her to marry
عبدالوہاب نے کہا : میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا ، ( انہوں نے کہا : ) مجھے سلیمان بن یسار نے خبر دی کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابن عباس رضی اللہ عنہم دونوں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہاں اکٹھے ہوئے اور وہ دونوں اس عورت کا ذکر کرنے لگے جس کا اپنے شوہر کی وفات سے چند راتوں کے بعد نفاس شروع ہو جائے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اس کی عدت دو وقتوں میں سے آخر والا ہے ۔ ابوسلمہ نے کہا : وہ حلال ہو چکی ہے ۔ وہ دونوں اس معاملے میں بحث کرنے لگے ، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اپنے بھتیجے ۔ ۔ یعنی ابوسلمہ ۔ ۔ کے ساتھ ہوں ۔ اس کے بعد انہوں نے اس مسئلے کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام کریب کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا ۔ وہ ( واپس ) ان کے پاس آیا تو انہیں بتایا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے : سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی وفات سے چند راتوں کے بعد بچہ جنا تھا ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے انہیں نکاح کرنے کا حکم دیا تھا
Sahih Muslim 54:148sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ أَبُو عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَأَتْحَفَتْنَا بِرُطَبٍ يُقَالُ لَهُ رُطَبُ ابْنِ طَابٍ وَأَسْقَتْنَا سَوِيقَ سُلْتٍ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْمُطَلَّقَةِ، ثَلاَثًا أَيْنَ تَعْتَدُّ قَالَتْ طَلَّقَنِي بَعْلِي ثَلاَثًا فَأَذِنَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَعْتَدَّ فِي أَهْلِي - قَالَتْ - فَنُودِيَ فِي النَّاسِ إِنَّ الصَّلاَةَ جِامِعَةً - قَالَتْ - فَانْطَلَقْتُ فِيمَنِ انْطَلَقَ مِنَ النَّاسِ - قَالَتْ - فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ مِنَ النِّسَاءِ وَهُوَ يَلِي الْمُؤَخَّرَ مِنَ الرِّجَالِ - قَالَتْ - فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ فَقَالَ " إِنَّ بَنِي عَمٍّ لِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَكِبُوا فِي الْبَحْرِ " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ قَالَتْ فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَهْوَى بِمِخْصَرَتِهِ إِلَى الأَرْضِ وَقَالَ " هَذِهِ طَيْبَةُ " . يَعْنِي الْمَدِينَةَ .
Al-Sha'bi reported:We visited Fatima b. Qais and she served us fresh dates which are called rutab and she also served us barley. I asked her about that woman in whose case three divorces had been pronounced as to how much time she should count as the waiting period. She said: My husband pronounced three divorces in my case and Allah's Messenger (ﷺ) permitted me to spend any waiting period in my family. (It was during this period) that announcement was made for the people to observe prayer in the bigger Mosque. I went there along with people and I was in the front row meant for women and it was adjacent to the last row of men and I heard Allah's Messenger (ﷺ) deliver sermon sitting on the pulpit. He said: The cousin of Tamim (Dari) sailed in the ocean. The rest of the hadith is the same but with this addition:" (I see) as if I am looking to Allah's Apostle (ﷺ) pointing his rod towards the land (and saying): It is Taiba, i. e. Medina
سیار ابو الحکم نے کہا : ہمیں شعبی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں گئے ، انھوں نے ہمیں تازہ کھجوروں کاتحفہ دیا جن کو ابن طاب کی تازہ کھجوریں کہا جاتا تھا اور جو کے ستو پلائے ، میں نے ان سے ا س عورت کے بارے میں پوچھا جس کو تین طلاقیں دی گئی ہوں کہ وہ عدت کہاں گزارے گی؟انھوں نے کہا : مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دی تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دی تھی کہ میں انے گھر والوں کے درمیان عدت گزار لوں ، ( حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : پھر ( عدت کے بعد ) لوگوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ نماز کی جماعت ہونے والی ہے ، میں بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ نماز کے لئے چل دی ، میں عورتوں کی پہلی صف میں تھی جو مردوں کی آخری صف کے پیچھے تھی ۔ انھوں نے کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ منبر پرخطبہ دے رہے تھے ، آپ نے فرمایا : " تمیم داری کے چچا کے بیٹے ( ان کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے رشتہ دار ) سمندر ( کے جہاز ) میں سوار ہوئے ۔ " اسکے بعد ( سیار نے پوری ) حدیث بیان کی اور اس میں مزید کہا کہ ( حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : ایسے لگتا ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی ہوں ، آپ نے اپنے عصا کو زمین کی طرف جھکایا اور فرمایا : " یہ طیبہ ہے ۔ " آپ کی مراد مدینہ سے تھی ۔